Ayah 2:173حرام جانوروں کا بیان
(1) امام احمد، ابن ماجہ، دار قطنی، حاکم اور ابن مردویہ نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہمارے لئے دو مروے اور دو خون حلال کر دئیے گئے مچھلی اور ٹڈی جگر اور تلی۔
(2) ابن المنذر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وما اہل “ سے مراد ہے ” ماذبح “ (جو غیر اللہ کے لئے ذبح کیا گیا ہو) ۔
(3) ابن جریر نے حجرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وما اہل بہ لغیر اللہ “ سے مراد ہے جو طواغیت کے لئے ذبح کیا گیا۔
(4) ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وما اہل “ سے مراد ہے جو غیر اللہ کے لئے ذبح کیا جائے۔
(5) ابن ابی حاتم نے أبو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وما اہل بہ لغیر اللہ “ سے مراد ہے جس پر غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو۔
(6) ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” فمن اضطر “ سے مراد ہے یعنی جو حرام چیز کے استعمال پر مجبور ہو لفظ آیت ” غیر باغ ولا عاد “ یعنی جو اس (حرام کردہ) چیز میں سے کھائے اور وہ مجبور ہو تو کوئی حرج نہیں اور جس نے اس (حرام کردہ) چیز کو کھالیا اور وہ مجبور نہیں ہے تو وہ باغی ہے اور حد سے تجاوز کرنے والا ہے۔
(7) ابن ابی حاتم اور ابن المنذر سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” غیر باغ “ سے مراد ہے کہ مردار کے کھانے میں حد سے تجاوز کرنے والا نہ ہو۔
مجبور شخص کے لئے رخصت
(8) سفیان بن عینیہ، آدم بن ایاس، سعید بن منصور، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور بیہقی نے المعرفہ میں اور السنن میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” غیر باغ ولا عاد “ سے مراد ہے کہ نہ بغاوت کرنے والا مسلمانوں پر اور نہ ہو ان پر زیادتی کرنے والا جو شخص نکلا اس حال میں کہ وہ قطع رحمی کرتے ہوئے یا ڈاکہ مارتے ہوئے یا زمین میں فساد کرتے ہوئے یا جماعت (مسلمین سے) اور آئمہ سے جدا ہوتے ہوئے یا اللہ کی نافرمانی کرتے ہوئے (گھر سے) نکلا ہو پھر وہ مردارر (کھانے) پر مجبور ہوجائے تو اس کے لئے حلال نہیں۔
(9) ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فمن اضطر غیر باغ ولا عاد “ سے مراد ہے کہ جو شخص ڈاکہ مارنے کا عادی ہو اس کے لئے رخصت نہیں لفظ آیت ” فمن اضطر غیر باغ ولا عاد فلا اثم علیہ “ یعنی اسکے کھانے میں (کوئی گناہ نہیں) جب اس کی طرف مجبور ہوجائے لفظ آیت ” ان اللہ غفور “ یعنی جس نے مجبوری کی حالت میں حرام کھایا (تو اللہ تعالیٰ ) اس کو بخشنے والے ہیں ” رحیم “ یعنی وہ اس بندے پر رحم کرنے والا ہے جب اس نے حالت مجبوری میں حرام کو حلال کردیا۔
(10) امام وکیع نے ابراہیم اور شعبی سے روایت کیا کہ جب مردار کی طرف مجبور ہوجائے تو اس میں سے اتنی مقدار کو کھالے جو اس کو کھڑا کر دے (یعنی چلنے کے قابل ہوجائے) ۔
(11) امام وکیع، عبد بن حمید، ابو الشیخ نے مسروق (رح) سے روایت کیا کہ جو شخص مردار (بہتا ہوا) خون اور سور کے گوشت کی طرف مجبور ہوجائے اور اس کو گند سمجھتے ہوئے چھوڑ دے اور نہ کھائے نہ پیئے پھر (اس حال میں) مرجائے تو دوزخ میں داخل ہوگا۔
(12) عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فمن اضطر غیر باغ ولا عاد “ سے مراد ہے جو مجبور ہو اور کھانے میں حد سے بڑھنے والا نہ ہو اور حلال سے حرام تک تجاوز کرنے والا نہ ہو تو تھوڑی سی مقدار حرام لے سکتا ہے۔
Ayah 2:174(1) ابن جریر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ان الذین یکتمون ما انزل اللہ من الکتب “ اور وہ آیت جو آل عمران میں ہے لفظ آیت ” ان الذین یکتمون اللہ من الکتب ویشترون بہ ثمنا قلیلا “ یہ آیتیں یہود کے بارے میں نازل ہوئیں۔
(2) ابن جریر نے سدی (رح) سے اس آیت نے بارے میں روایت کیا کہ انہوں نے محمد ﷺ کے اسم مبارک کو چھپایا اور اس پر لالچ کی بنیاد پر تھوڑا سا مال حاصل کیا۔
(3) ابن جریر نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ان الذین یکتمون ما انزل اللہ من الکتب “ سے مراد ہے کہ اس کتاب نے چھپایا جو اللہ تعالیٰ نے ان کی کتابوں میں حق اور ہدایت اور اسلام اور محمد ﷺ کی شان اور تعریف کے بارے میں نازل فرمایا تھا لفظ آیت ” اولئک ما یاکلون فی بطونھم الالنار “ یعنی جو وہ حق کے چھپانے پر اجرت لیتے ہیں وہ ان کے پیٹوں میں آگ ہے۔
(4) ثعلبی نے ضعیف سند کے ساتھ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے یہود کے سرداروں سے پوچھا محمد ﷺ کی بعثت سے پہلے تم تورات میں کیا پڑھتے ہو ؟ انہوں نے کہا ہم تورات میں پڑھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مسیح (علیہ السلام) کے بعد ایک نبی کو مبعوث فرمائیں گے جس کا نام محمد ﷺ ہوگا وہ زنا، شراب، کھیل کود کے آلات اور (ناحق) خون بہانے کو حرام کرے گا۔ جب اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو مبعوث فرما دیا اور وہ مدینہ تشریف لے آئے تو سرداروں نے یہود سے پوچھا کیا یہ وہ نبی ہے جس کو تم اپنی کتابوں میں پڑھتے ہو تو سرداروں کے مالوں میں لالچ کرتے ہوئے یہودیوں نے کہا یہ وہ نبی نہیں ہے تو سرداروں نے ان کو اموال دئیے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کو جھٹلانے کے لئے اس آیات کو نازل فرمایا۔
رسول اللہ ﷺ کی صفات تورات میں موجود تھی
(5) ثعلبی نے ضعیف سند کے ساتھ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت یہود کے سرداروں اور ان کے علماء کے بارے میں نازل ہوئی یہود کے علماء نچلے طبقہ کے لوگوں سے ہدایا اور نذرانے وصول کرتے تھے اور یہ امید رکھتے تھے کہ نبی ان میں سے مبعوث ہوگا جب اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو غیروں میں سے پیدا فرمایا تو انہیں اپنے نذرانوں کے ضیاع اور اپنی ریاست کے چلے جانے کا خوف ہوا تو انہوں نے محمد ﷺ کی صفات کو (اپنی کتابوں میں) بدل ڈالا اور دوسری صفات کو لوگوں کے سامنے پیش کیا اور کہنے لگے یہ نبی کی صفات ہیں جو آخری زمانہ میں تشریف لائیں گے اور جو نبی آیا ہے اس کی یہ صفات نہیں ہیں جب نیچے طبقہ کے لوگوں نے ان تبدیل شدہ صفات کی طرف دیکھا اور ان کو محمد ﷺ کی صفات کے مخالف پایا تو انہوں نے ان کی اتباع نہ کی اس پر اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” ان الذین یکتمون ما انزل اللہ من الکتب “۔
Ayahs 2:175–176(1) ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” اولئک الذین اشتروا الضللۃ بالھدی “ (الآیہ) سے مراد ہے کہ انہوں نے ہدایت پر گمراہی کو اور مغفرت پر عذاب کو ترجیح دی لفظ آیت ” فما اصبرھم علی النار “ وہ دوزخیوں والے عمل پر ان کی کیسی برأت ہے۔
(2) سفیان بن عبید، سعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابو نعیم نے الحلیہ میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فما اصبرھم علی النار “ یعنی اللہ کی قسم ! نہیں ہے ان کے لئے اس (آگ) پر صبر کرنا لیکن فرمایا کیسی جرأت ہے ان کی آگ پر۔
(3) ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فما اصبرھم “ یعنی کیسی جرأت ہے ان کی ایسے عمل پر جو ان کو آگ کی طرف قریب کرتا ہے۔
(4) ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فما اصبرھم علی النار “ یعنی استفہام کے طریقہ پر ہے کہ کیا چیز ہے جس نے ان کو آگ پر صبر دلایا۔ اور اللہ تعالیٰ کا قول لفظ آیت ” وان الذین اختلفوا فی الکتب “ سے مراد یہود و نصاری ہیں (اور) لفظ آیت ” لفی شقاق بعید “ سے مراد ہے دور کی عداوت میں (وہ لوگ پڑے ہوئے ہیں) ۔
(5) عبد بن حمید نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ دو شخص مجھ پر کتنے سخت ہیں جو جھگڑا کرتا ہے قرآن کے بارے میں (جیسے فرمایا) لفظ آیت ” ما یجادل فی ایت اللہ الا الذین کفروا “ (غافر آیت 4) اور لفظ آیت ” وان الذین اختلفوا فی الکتب لفی شقاق بعید “۔
Ayah 2:177اصول ایمان کا ذکر
(1) ابن ابی حاتم نے ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے ایمان کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے (یہ آیت) تلاوت فرمائی لفظ آیت ” لیس البر ان تولوا وجوھکم “ یہاں تک کہ اس (آیت) کی تلاوت سے فارغ ہوگئے پھر انہوں نے سوال کیا۔ پھر آپ نے اسی آیت کو تلاوت فرمایا اور فرمایا (کہ ایمان کی نشانی یہ بھی ہے) کہ جب تو کوئی نیک کام کرے تو اس کو تیرا دل پسند کرے اور جب تو کوئی برا کام کرے تو تیرا دل اس کو ناپسند کرے۔
(2) اسحاق بن راہو یہ نے اپنی سنن میں، عبد بن حمید اور ابن مردویہ نے قاسم بن عبد الرحمن (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی أبوذر ؓ کے پاس آیا اور کہا ایمان کیا ہے ؟ تو انہوں نے (یہ آیت) تلاوت فرمائی لفظ آیت ” لیس البر ان تولوا وجوھکم “ یہاں تک کہ اس کی تلاوت سے فارغ ہوگئے اس آدمی نے کہا کہ میں نے آپ سے نیکی کے بارے میں سوال کیا۔ حضرت ابوذر ؓ نے فرمایا ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور اس نے ایسا ہی سوال کیا جیسے تو نے مجھ سے سوال کیا تو آپ نے اس پر اسی آیت کو تلاوت فرمایا وہ آدمی اسی پر راضی نہ ہوا جیسے تو راضی نہیں ہوا رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا قریب ہوجا وہ قریب ہوگیا پھر آپ نے فرمایا کہ مؤمن بندہ جب کوئی نیک کام کرتا ہے تو اس کو خوشی ہوتی ہے اور اس کے ثواب کی امید رکھتے ہوئے اور جب کوئی برا کام کرتا ہے تو برائی اسے پریشان کرتی ہے اور وہ اس کی سزا سے ڈرتا ہے۔
(3) عبد الرزاق اور عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ حسن بن علی ؓ سے ایمان کے بارے میں پوچھا گیا شام سے آتے وقت تو انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی لفظ آیت ” لیس البر “ الخ (الآیہ)
(4) عبد الرزاق، ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ یہودی مغرب کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے تھے اور انصاری مشرق کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے تھے تو یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” لیس البر ان تولوا وجوھکم “ (الآیہ) ۔
(5) ابن جریر، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” لیس البر ان تولوا وجوھکم “ نماز کے متعلق ہے پھر فرمایا کہ یہ نیکی نہیں کہ تم نماز پڑھو اور تم کو علم نہ ہو اور یہ (اس وقت فرمایا) جب آپ مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت فرما کر آگئے تھے اور فرائض اور حدود (کے احکام) نازل ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے فرائض پر عمل کرنے کا حکم فرمایا۔
(6) ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت لفظ آیت ” لیس البر ان تولوا وجوھکم “ مدینہ منورہ میں نازل ہوئی نماز کے بارے میں (مطلب یہ ہے) کہ نماز پڑھنا ہی نیکی نہیں بلکہ نیکی وہ اللہ کی اطاعت ہے جو انسان کے دل میں ثابت ہوتی ہے۔
(7) عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر نے قتادہ (رح) سے یہ روایت کیا کہ لفظ آیت ” لیس البر۔۔ “ (الآیہ) کے بارے میں ہم کو ذکر کیا گیا کہ ایک آدمی نے نبی اکرم ﷺ سے نیکی کے بارے میں سوال کیا تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ آپ نے اس آدمی کو بلایا اور اس پر یہ آیت تلاوت فرمائی اور اس آدمی نے فرائض کو قبول کیا جب گواہی دی لفظ آیت ” ان لا الہ الا اللہ وان محمدا عبدہ ورسولہ “ کا اقرار کیا پھر اسی حالت پر اس کی موت آئی تو اس کے لئے خیر کی امید کی جاتی تھی اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” لیس البر ان تولوا وجوھکم قبل المشرق والمغرب “ یہود مغرب کی طرف رخ کرتے تھے اور نصاری مشرق کی طرف (پھر فرمایا) لفظ آیت ” ولکن البر من امن باللہ “ (الآیہ) (لیکن نیکی یہ ہے کہ تم اللہ پر ایمان لاؤ) ۔
(8) ابن جریر، ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ یہودی مغرب کی طرف اور نصاری مشرق کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے تھے (اس پر) آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” لیس البر ان تولوا وجوھکم “۔
(9) ابو عبید نے فضائل میں اور ثعلبی نے ہارون کے طریق سے حضرت ابن مسعود اور ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” لیس البر ان تولوا “ پڑھا۔
(10) امام وکیع، ابن ابی شیبہ، ابن المنذر نے ابو میسرہ (رح) سے روایت کیا کہ جس نے اس آیت پر عمل کیا تو اس نے ایمان کو کامل کرلیا (یعنی یہ آیت) لفظ آیت ” لیس البر۔۔ “ (الآیہ)
(11) عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” لیس البر ان تولوا وجوھکم قبل المشرق والمغرب ولکن البر “ (یعنی نیکی صرف مغرب اور مشرق کی طرف منہ کرنے میں نہیں بلکہ نیکی) اللہ تعالیٰ کی وہ اطاعت ہے جو دلوں میں ثابت ہوجائے۔
(12) ابن ابی داؤد نے المصاحف میں اعمش (رح) سے روایت کیا کہ ہماری قرأت میں لفظ آیت ” لیس البر ان تولوا “ کی بجائے لفظ آیت ” ولا تحسبن ان البر “ ہے۔
وأما قولہ : ولکن البر من امن باللہ والیوم الاخر والملئکۃ والکتب والنبین :
ترجمہ : لیکن نیکی یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور آخرت کے دن پر اور فرشتوں پر اور کتابوں پر اور نبیوں پر۔
(13) امام احمد، مسلم، أبو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، ابن ابی حاتم الآجری اشریقہ میں اور اللکائی نے السنۃ) میں ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ایک آدمی پیدال چلتے ہوئے آیا جس کے بال خوبصورت تھے اور کپڑے سفید تھے۔ صحابہ ؓ نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا ہم میں سے کوئی اس کو نہیں جانتا تھا کہ نہ وہ مسافر معلوم ہوتا تھا پھر اس نے کہا یا رسول اللہ ! میں آپ کے پاس آسکتا ہوں آپ نے فرمایا ہاں ! وہ آیا اور اپنے گھٹنے آپ کے گھٹنوں سے لگا لئے اور اپنی ہتھیلیوں کو اپنی رانوں پر رکھ لیا کہنے لگا اسلام کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا اسلام یہ ہے کہ لفظ آیت ” لا الہ الا اللہ “ کی گواہی دینا اور اس بات کی گواہی دینا کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا اور بیت اللہ کا حج کرنا (پھر) اس نے پوچھا ایمان کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا (ایمان یہ ہے کہ) تو اللہ پر، قیامت کے دن پر، فرشتوں پر، کتاب پر، نبیوں پر، جنت پر، دوزخ پر، موت کے بعد (پھر) اٹھنے پر اور اس کی ساری تقدیر پر ایمان لانا (پھر) اس نے کہا احسان کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا (احسان یہ ہے) کہ تو اللہ کے لئے اس طرح پر عمل کرلے گویا کہ تو اس کو دیکھ رہا ہے اگر تو اس کو نہیں دیکھ رہا تو بلاشبہ وہ تجھ کو دیکھ رہا ہے (پھر) اس نے پوچھا قیامت کب ہوگی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا (اس بارے میں) جس سے پوچھا گیا وہ سوال کرنے والے سے زیادہ جاننے والا نہیں (پھر) اس نے پوچھا اس کی نشانیاں کیا ہیں ؟ آپ نے فرمایا جب ننگے بدن ننگے پاؤں والے اور بکریاں چرانے والے بڑی عمارتوں میں ایک دوسرے پر فخر کریں گے اور باندیاں اپنی مالکوں کو جنیں گی (پھر وہ چلا گیا) آپ نے فرمایا اس شخص کو بلاؤ تلاش کے باوجود کچھ نظر نہ آیا پھر دو یا تین دن گزرے۔ تو فرمایا اے خطاب کے بیٹے ! کیا تو جانتا ہے یہ سائل کون تھا جو اس طرح اور اس طرح سوال کر رہا تھا میں نے عرض کیا اللہ اور اس کو رسول ہی خوب جانتے ہیں آپ نے فرمایا یہ جبرئیل (علیہ السلام) تھے تمہارے پاس (اس لئے) آئے تھے تاکہ تمہیں تمہارا دین سکھائیں۔
(14) امام احمد، البزار نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا رسول اللہ ﷺ ایک مجلس میں تشریف فرما تھے جبرئیل (علیہ السلام) تشریف لائے اور آپ کے سامنے آپ کے گھٹنوں پر اپنے ہاتھ کو رکھ کر بیٹھ گئے (پھر) عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے اسلام کے بارے میں بتائیے آپ ﷺ نے فرمایا کہ تو اپنے چہرے کو اللہ تعالیٰ کے لئے جھکا دے اور یہ کہ تو گواہی دے اس بات کی کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں (پھر) فرمایا اگر تو ایسا کرے گا تو مسلمان ہوجائے گا۔ انہوں نے (پھر) عرض کیا کہ ایمان کے بارے میں مجھے بتائیے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ایمان یہ ہے کہ تو ایمان لے آئے اللہ پر آخرت کے دن پر فرشتوں پر، کتاب پر، نبیوں پر، موت پر اور موت کے بعد زندہ ہونے پر اور تو ایمان لے آئے جنت پر دوزخ پر حساب پر میزان پر اور ہر اچھی اور بری تقدیر پر۔ (پھر) فرمایا اگر تو ایسا کرے گا تو ایمان دار ہوجائے گا (پھر) انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے احسان کے بارے میں بتائیے ؟ آپ نے فرمایا احسان یہ ہے کہ تو اللہ کے لئے ا طرح پر عمل کرے گویا تو اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے اگر تو اس کو نہیں دیکھ رہا تو بالشبہ وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔
جبرائیل (علیہ السلام) کے ایمان کے بارے میں سوالات
(15) امام البزار نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ اپنے اصحاب کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے جبکہ ایک آدمی جس کے لباس پر سفر کا کوئی اثر نہیں تھا لوگوں کے درمیان سے گزرتا ہوا رسول اللہ ﷺ کے آگے بیٹھ گیا اور اپنے ہاتھوں کو رسول اللہ ﷺ کے گھٹنوں پر رکھ دیا اور عرض کیا یا محمد ﷺ اسلام کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا لفظ آیت ” لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ وان محمد عبدہ ورسولہ “ کی گواہی دینا، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا، بیت اللہ کا حج کرنا اگر طاقت ہو۔ (پھر) اس نے عرض کیا اگر میں ایسا کرلوں تو میں مؤمن ہوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں اس نے کہا کہ آپ نے سچ فرمایا اس نے پوچھا اے محمد ﷺ احسان کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا اگر تو اس بات سے اللہ تعالیٰ سے ڈرے گویا کہ اس کو دیکھ رہا ہے اگر تو اس کو نہیں دیکھ رہا تو بلاشبہ وہ تجھ کو دیکھ رہا ہے۔ عرض کیا اگر میں ایسا کروں تو پھر میں محسن ہوجاؤں گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں اس نے کہا آپ نے سچ فرمایا (پھر) عرض کیا اے محمد ﷺ قیامت کب ہوگی ؟ آپ نے فرمایا جس سے پوچھا گیا ہے وہ سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا (اس کے بعد) اس آدمی نے پیٹھ پھیری اور چلا گیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس آدمی کو میرے پاس بلاؤ اس کے پیچھے جاؤ اور اس کو تلاش کرو صحابہ نے اس کو تلاش کیا مگر وہ نہ مل سکا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ جبرائیل (علیہ السلام) تھے تمہارے پاس تمہیں دین سکھانے آئے تھے۔
(16) ابن مردویہ، ابوہریرہ اور ابوذر ؓ دونوں حضرات سے روایت کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی ایسی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے جس میں آپ گوٹ مار کر بیٹھے تھے اچانک ایک آدمی آیا جو انتہائی خوبصورت تھا اس کی خوشبو لوگوں میں سب سے زیادہ عمدہ تھی اور لوگوں میں سب سے زیادہ صاف کپڑوں والا تھا، اس نے پوچھا اے محمد ﷺ اسلام کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ تو (صرف) اللہ کی عبادت کرے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے نماز قائم کرے زکوٰۃ ادا کرے بیت اللہ کا حج کرے رمضان کے روزے رکھے عرض کیا گر میں یہ (سارے کام) کو لوں تو میں مسلمان ہوجاؤں گا آپ نے فرمایا ہاں اس نے کہا آپ نے سچ فرمایا پھر اس نے عرض کیا یا محمد ﷺ مجھے ایمان کے بارے میں بتائیے ؟ آپ نے فرمایا ایمان لانا اللہ پر اس کے فرشتوں پر کتاب پر نبیوں پر اور اس کی ساری تقدیر پر اس نے کہا اگر میں یہ سارے کام کرلوں تو مؤمن ہوجاؤں گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں ! اس نے کہا کہ آپ نے سچ فرمایا۔
(17) امام احمد اور نسائی نے معاویہ ابن حیدہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کس چیز کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھیجا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا مجھے اللہ تعالیٰ نے اسلام کے ساتھ بھیجا ہے۔ میں نے عرض کیا اسلام کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ لفظ آیت ” لا الہ الا اللہ وان محمد عبدہ ورسولہ “ کی گواہی دینا نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا ہے۔
وأما قولہ تعالیٰ : ” واتی المال علی حبہ “۔
(18) ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واتی المال “ یعنی مال عطا کرنا ” علی حبہ “ یعنی مال کی محبت پر (مطلب یہ ہے کہ مال کی محبت ہوتے ہوئے بھی مال کو خرچ کرے)
صحت و تندرستی کے زمانہ میں صدقہ کی فضیلت
(19) ابن المبارک نے الدیلمی میں وکیع، سفیان بن عینیہ، عبد الرزاق الفریابی، سعید بن منصور، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، طبرانی، حاکم، ابن مردویہ اور بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واتی المال علی حبہ “ سے مراد ہے کہ وہ مال عطا کرے اس حال میں کہ وہ تندرست ہے اور اس مال کو حریص بھی ہو اس سے زندگی کی امید رکھتا ہو اور تنگدستی سے ڈرتا بھی ہو۔
حاتم نے ابن مسعود ؓ سے مرفوعا اسی طرح روایت کیا۔
(20) امام بیہقی نے شعب الایمان میں مطلب (رح) سے روایت کیا ہے کہ کہا گیا یا رسول اللہ لفظ آیت ” واتی المال علی حبہ “ کا کیا مطلب ہے ؟ ہم سب مال سے محبت کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تو اپنے مال کو وقت تک دے اور تیرا نفس (اس وقت) تجھ سے لمبی عمر کا اور تنگدستی کا خوف یاد دلا رہا ہو۔
(21) امام احمد، بخاری، مسلم، ابوداؤد، نسائی اور ابن حبان نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا افضل صدقہ یہ ہے کہ تو صدقہ کو اس حال میں کہ تو تندرست ہو (دینار میں ابھی) باقی رہنے کی امید رکھتا ہو فقر کا خوف ہو اور تنگدستی سے ڈرتا ہو اور تو صدقی کرنے میں دیر نہ کر یہاں تک کہ (تیری) موت قریب ہوجائے اور (سانس) حلق تک پہنچ جائے پھر تو کہے کہ فلاں کے لئے اتنا ہے اور فلاں کے لئے اتنا (صدقہ) ہے مگر اب تو فلاں وارث ہوچکا ہے۔
(22) امام احمد ابو داؤد، ترمذی، نسائی، حاکم، اور بیہقی نے حضرت أبو داؤد ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مثال اس شخص کو جو موت کے وقت خرچ کرتا ہے یا صدقہ کرتا ہے اس شخص کی طرح ہے جو ہدیہ کردیتا ہے جب اپنا پیٹ بھر چکا ہوتا ہے۔
أما قولہ تعالیٰ : ذوی القربی :
(23) ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ذوی القربی “ سے مراد قریبی رشتہ دار ہیں۔
(24) طبرانی اور حاکم اور بیہقی نے سنن میں ام کلثوم بنت عقبہ ابی معیظ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ سب سے بہتر صدقہ وہ ہے جو ایسے رشتہ دار کو دیا جائے جو دشمنی کی بنا پر اعراض کرنے والا ہے۔
(25) امام احمد، دارمی اور طبرانی نے حکیم بن حزام ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے صدقات کے بارے میں سوال کیا کہ کون سا صدقہ افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا ایسے رشتہ دار پر صدقہ کرنا افضل ہے جو اعراض کرنے والا ہے۔
(26) امام احمد، ابو داؤد، ابن حبان اور حاکم نے حضرت میمونہ ام المؤمنین ؓ سے روایت کیا کہ میں نے اپنی ایک لونڈی آزاد کردی تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اگر تو (یہ باندی) اپنے کسی ماموں کو دے دیتی تو تیرا بڑا اجر ہوتا۔
(27) الخطیب نے تالی التلخیص میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ حضرت میمونہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے ایک نابدی کے بارے میں اجازت لی جس کو وہ آزاد کر رہی تھیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس (باندی) کو اپنی بہن کو دے دو اور اس کے ساتھ اپنی بہن سے صلہ رحمہ کر تو یہ تیرے لئے بہتر ہے۔
(28) ابن المنذر نے فاطمہ بنت قیس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے پاس ایک مثقال سونے کا ہے (اس کو کہاں صدقہ کروں تو آپ ﷺ نے فرمایا اس کو اپنے قریبی رشتہ داروں میں خرچ کر۔
(29) ابن ابی شیبہ، احمد، ترمذی (انہوں نے اسھ حسن کہا ہے) نسائی، حاکم، ابن ماجہ اور بیہقی نے سنن میں سلمان بن عامر الضبی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی مسکین پر صدقہ کرنا ایک صدقہ کا ثواب ہے اور کسی ذی رحم (یعنی قریبی رشتہ دار) پر صدقہ کرنا دو صدقہ (کا ثواب ہے) ایک اجر صدقہ کا دوسرا صلی رحمی کا۔
(30) امام احمد، مسلم، بخاری، نسائی، ابن ماجہ نے حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی اہلیہ حضرت زینب ؓ سے روایت کیا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ کیا میرا اپنے خاوند اور ان یتیم بچوں پر خرچ کرنا جو میری گود میں ہیں صدقہ کے حکم میں ہوگا ؟ آپ نے فرمایا تیرے دو اجر ہیں۔ ایک صدقہ کا اجر اور دوسرا رشتہ داری کا اجر۔
(31) ابن ابی حاتم نے حجرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وابن السبیل “ سے مراد وہ مہمان ہے جو کسی مسلمان کے پاس ٹھہرتا ہے۔
(32) ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وابن السبیل “ وہ ہے جو تجھ پر گزرے اور وہ مسافر ہے۔
وأما قولہ تعالیٰ : ” والسائلین “۔
(33) ابن جریر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” والسائلین “ سے مراد وہ مسائل ہے جو تجھ سے سوال کرے۔
(34) امام احمد، ابو داؤد، ابن ابی حاتم نے حضرت حسین بن علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سائل کے لئے حق ہے اگرچہ وہ گھوڑے پر سوار ہو کر آئے۔
(35) ابن عدی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سائل کو دے دو اگرچہ وہ گھوڑے پر کیوں نہ ہو۔
(36) ابن ابی شیبہ نے سالم بن ابی جعد (رح) سے روایت کیا کہ عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) نے فرمایا سائل کے لئے حق ہے اگر وہ ایسے گھوڑے پر آئے جو چاندی کا طوق پہنے ہوئے ہو۔
(37) ابن سعد، ترمذی (انہوں نے اسے صحیح کہا ہے) ابن خزیمہ، ابن حبان نے عبد الرحمن بن عبید سے روایت کیا اور انہوں نے اپنی دادی ام بجید ؓ سے روایت کیا جو ان عورتوں میں سے تھیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی تھی انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مسکین میرے دروازے پر آکر کھڑا ہوجاتا ہے اور میں اس کے دینے کو کوئی چیز نہیں پاتی آپ نے فرمایا اگر تو جلے ہوئے کھر کے علاوہ کوئی چیز نہ پائے تو اس کو وہی دے دو اور ابن خزیمہ کے الفاظ یہ ہیں کہ اپنے سائل کو (خالی) نہ لوٹاؤ۔ اگرچہ ایک کھر ہی ہو۔
(38) سعید بن منصور، ابن سعد نے عمرو بن معاذ انصاری ؓ کے طریق سے ان کی دادی حوا سے روایت کیا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ سائل کو (خالی نہ لوٹاؤ) اگرچہ کھر جلا ہوا ہو (وہی اس کو دے دو ) ۔
(39) ابن ابی شیبہ نے حمید بن عبد الرحمن (رح) سے روایت کیا ہے کہ یہ کہا جاتا تھا سائل کو (کچھ دیکر) لوٹاؤ اگرچہ قطاۃ کے سر کے برابر (کوئی تھوڑی سی) چیز ہو۔ (قطاۃ) فاختہ کی قسم کا ایک پرندہ ہے۔
(40) ابو نعیم، ثعلبی، دیلمی اور خطیب نے مالک کے رواۃ سے کمزور سند کے ساتھ روایت کیا ہے حضرت ابن عمر ؓ سے مرفوع روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہدیہ مؤمن کے لئے وہ سائل ہے جو اس کے دروازہ پر ہو۔
فقیر اللہ کا ہدیہ ہے
(41) ابن شاہین ابن نجار نے اپنی تاریخ میں ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا میں تم کو اللہ تعالیٰ کے تحائف کے بارے میں نہ بتاؤں جو اپنی مخلوق کو عطا فرماتے ہیں ہم نے عرض کیا کیوں نہیں ضرور بتائیے۔ آپ نے فرمایا فقیر اللہ تعالیٰ کا ہدیہ ہے اس کو قبول کرے یا نہ کرے۔
قولہ تعالیٰ : وفی الرقاب۔
(42) ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے لفظ آیت ” وفی الرقاب “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے گردنوں کا چھڑانا یعنی غلاموں کو آزاد کرنا۔
وأما قولہ تعالیٰ : واقام الصلوۃ واتی الزکوۃ :
(43) ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واقام الصلوۃ “ یعنی پورا کیا اس نے فرض نمازوں کو لفظ آیت ” واتی الزکوۃ “ یعنی فرض زکوٰۃ کو ادا کیا۔
(44) امام ترمذی، ابن ماجہ، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابن عدی، دار قطنی، ابن مردویہ نے فاطمہ بنت قیس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا زکوٰۃ کے علاوہ بھی مال میں حق ہے پھر یہ آیت پڑھی لفظ آیت ” لیس البر ان تولوا وجوھکم “۔
(45) بخاری نے اپنی تاریخ میں حضرت أبو ہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ سے مال میں زکوٰۃ کے بعد دوسرے حق کے بارے میں پوچھا گیا آپ نے فرمایا ہاں زکوٰۃ اچھائی پر آمادہ کرتی ہے۔
(46) عبد بن حمید نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ ان سے پوچھا گیا کیا آدمی پر اس کے مال میں زکوٰۃ کے علاوہ بھی کوئی حق ہے فرمایا ہاں اور یہ آیت تلاوت فرمائی لفظ آیت ” واتی المال علی حبہ ذوی القربی اخرہ “ (الآیہ)
(47) عبد بن حمید نے ربیعہ بن کلثوم (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو میرے والد نے بیان کیا کہ مسلم بن یسار (رح) نے مجھ سے فرمایا کہ بلاشبہ نماز دو قسم کی ہے اور بلاشبہ زکوٰۃ دو قسم کی ہے۔ اللہ کی قسم یہ بات اللہ کی کتاب میں ہے میں تجھ پر قرآن کو پڑھتا ہوں میں نے عرض کیا پڑھیے پھر فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے لفظ آیت ” لیس البر ان تولوا وجوھکم “ إلی قولہ ” واتی المال علی حبہ ذوی القربی والیتمی والمسکین وابن السبیل “ اور پس جو اس حکم کے علاوہ ہے وہ سارا نقل (کے درجہ میں) ہے (اور) لفظ آیت ” واقام الصلوۃ “ فرض نماز کی دلیل ہے (اور) لفظ آیت ” واتی الزکوۃ “ یہ فرض زکوٰۃ ہے پس نماز اور زکوٰۃ دونوں فرض ہیں۔
وأما قولہ تعالیٰ : والموفون بعھدہم اذا عھدوا :
(48) ابن جریر، ابن ابی حاتم نے أبو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” والموفون بعھدھم اذا عھدوا “ سے مراد ہے جس شخص نے اللہ تعالیٰ کا کسی کو عہد دیا پھر اس کو توڑ ڈالا تو اللہ تعالیٰ اس سے انتقام لیں گے اور جس شخص نے نبی اکرم ﷺ کا ذمہ کردیا پھر اس کی خیانت کی تو نبی اکرم ﷺ قیامت کے دن اس سے جھگڑیں گے۔
(49) ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” والموفون بعھدہم اذا عھدوا “ سے مراد ہے جو وہ آپس میں اور لوگوں کے درمیان عہد کرتے ہیں تو پورا کرتے ہیں۔
وأما قولہ تعالیٰ : عھدوا، والصبرین فی الباساء والضراء وحین الباس :
(50) امام وکیع، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور حاتم نے حضرت ابن مسعود ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ لفظ آیت ” الباساء والضراء “ سے مراد ہے ہماری (اور) لفظ آیت ” وحین الباس “ سے مراد ہے لڑائی کے وقت۔
(51) عبد بن حمید، ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم یہ بیان کرتے تھے کہ لفظ آیت ” الباساء “ سے مراد مصیبت اور غربت ہے اور لفظ آیت ” والضراء “ سے مراد بیماری اور درد ہے۔ اور لفظ آیت ” وحین الباس “ سے مراد ہے جنگ کے میدانوں کا وقت۔
(52) امام والطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے لفظ آیت ” الباساء والضراء “ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا ” الباساء “ سے مراد ہے سرسری اور ” الضراء “ سے مراد ہے خشک سالی۔ عرض کیا کیا عرب اس (معنی) سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے زید بن عمرو کا قول نہیں سنا :
ان الا لہ عزیز واسع حکیم بکفہ الصر والبأساء والنعم
ترجمہ : بلاشبہ اللہ تعالیٰ غالب اور وسعت والا ہے خشک سالی اور نعمتوں کا سب اختیار اسی کے اختیار و قبضہ قدرت میں ہے۔
وأما قولہ تعالیٰ : ” اولئک الذین صدقوا “
(53) ابن ابی حاتم نے سعید بن جبر (رح) سے روایت کیا لفظ آیت ” اولئک “ سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے وہ کام کئے جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا (اور) وہ لوگ جنہوں نے سچ بولا۔
(54) ابن جریر نے ربیع (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” اولئک الذین صدقوا “ سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے ایمان کے ساتھ بات کی (اور) اس کی حقیقت عمل ہے اور انہوں نے اللہ پر سچ بولا (اور) حسن ؓ فرمایا کرتے تھے یہ ایمان کی بات ہے اور عمل کی حقیقت ہے کیونکہ اگر بات کے ساتھ عمل نہ ہو تو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔
(55) حکیم ترمذی نے ابو عامر اشعری ؓ سے روایت کیا کہ میں عرض کیا یا رسول اللہ نیکی کی تکمیل کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا تو پوشیدہ طور پر وہی عمل کرے جو تو ظاہری طور پر کرتا ہے۔
(56) ابن عساکر نے ابراہیم بن ابی شیبان (رح) سے روایت کیا کہ میں نے زید بن رفیع (رح) سے پوچھا میں نے کہا اے ابو جعفر آپ ان خوارج کے بارے میں جو لوگوں کو کافر کہتے ہیں کیا کہتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” لیس البر ان تولوا وجوھکم “ کو جھٹلایا ہے سو جو شخص ان (آیات) پر ایمان لے آئے گا وہ مؤمن ہوگا اور جو ان کا انکار کرے گا وہ کافر ہوگا۔
Ayah 2:178قصاص کا عمومی قانون
(1) ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ عربوں کے دو قبیلوں کی زمانہ جاہلیت میں اسلام سے پہلے تھوڑی سی بات پر جنگ چھڑی ہوئی تھی اور ان کے درمیان (ایک دوسرے کو) قتل اور زخمیوں کا سلسلہ جاری تھا یہاں تک کہ غلاموں اور عورتوں کو بھی قتل کیا تھا ان کی آپس میں صلح نہ ہوئی یہاں تک کہ (وہ سب لوگ) اسلام لے آئے (اور) ان قبیلوں میں سے ہر قبیلہ دوسرے سے مال اور جنگی تیاری میں آگے بڑھنے کی کوشش کرتا تھا اور انہوں نے قسمیں اٹھائی تھیں کہ وہ راضی نہ ہوں گے جب تک کہ غلام کا بدلہ میں آزاد کو قتل کرلیں اور ان میں سے عورت کے بدلہ میں مرد کو (قتل کرلیں، ان کے بارے میں یہ آیت) نازل ہوئی لفظ آیت ” یایھا الذین امنوا کتب علیکم القصاص فی القتلی، الحر بالحر والعبد بالعبد والانثی بالانثی “ اس وجہ سے پھر وہ لوگ مرد کو عورت کے بدلہ میں قتل کرتے تھے لیکن مرد کو مرد کے بدلہ میں عورت عورت کے بدلہ میں قتل کرتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے (یہ حکم) نازل فرمایا لفظ آیت ” ان النفس بالنفس “ (المائدہ 45) یعنی اللہ تعالیٰ نے نفس اور نفس سے کم میں جان بوجھ کر جرم کا ارتکاب کرنے میں آزاد لوگوں کے مردوں اور عورتوں کو قصاص میں برابر کردیا۔ اور قتل عمد میں غلاموں کو مردوں اور عورتوں کو برابر کردیا۔
(2) عبد بن حمید، ابن جریر نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ عرب کے دو قبیلوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ انہوں نے اندھا دھند قتال کیا رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ایک قبیلہ کہتا کہ ہم اپنے غلام کا بدلہ لیں گے اور ہم اپنی فلاں لونڈی کا بدلہ لیں گے (اس پر) اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” الحر ابحر والعبد بالعبد والانثی بالانثی “۔
(3) ابن جریر، ابن مردویہ سے ابو مالک ؓ سے روایت کیا کہ انصار کے قبیلوں کے درمیان لڑائی ہوتی تھی ان میں سے ایک قبیلہ کا دوسرے پر غلبہ تھا گویا کہ انہوں نے ایک دوسرے پر فضیلت کو طلب کیا۔ نبی اکرم ﷺ ان کے درمیان صلح کرانے کے لئے تشریف لائے تو یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” الحر بالھر والعبد بالعبد والانثی بالانثی “ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ لفظ آیت ” ان النفس بالنفس “۔
(4) ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم سے پہلے دیت (کا حکم) نہیں تھا یا (قتل کے بدلہ) قتل کرنا تھا یا معاف کردینا تھا یہ آیت اس قوم کے بارے میں نازل ہوئی جو اپنے علاوہ (دوسروں سے) زیادہ (تعداد میں) تھے۔ جب زیادہ لوگوں میں کوئی غلام قتل ہوجاتا تو وہ کہتے کہ ہم اس کے بدلہ میں آزاد کو قتل کریں گے اور جب ان میں سے کوئی عورت قتل کی جاتی تو وہ کہتے کہ ہم اس کے بدلہ میں مرد کو قتل کریں گے (اس پر) اللہ تعالیٰ نے حکم نازل فرمایا لفظ آیت ” الحر بالھر والعبد بالعبد والانثی بالانثی “
(5) عبد بن حمید، ابو داؤد نے الناسخ میں، ابو القاسم الزجاجی نے اپنی امالی میں اور امام بیہقی نے سنن میں قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ زمانہ جاہلیت میں ظلم و زیادتی اور شیطان کی اطاعت تھی جب کوئی قبیلہ تعداد میں زیادہ ہوتا تھا اور دوسری قوم کا غلام ان کے کسی غلام کو قتل کردیتا تھا تو یہ کہتے تھے کہ ہم اس کے بدلہ میں کسی آزاد کو قتل کریں گے اپنی فضیلت اور عزت کو ظاہر کرنے کے لئے اور جب ان کی عورت کو کوئی عورت قتل کردیتی تھی تو وہ کہتے تھے کہ ہم ہرگز اس کے بدلہ میں قتل نہیں کریں گے مگر مرد کو تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی لفظ آیت ” وکتبنا علیہم فیہا ان النفس بالنفس “۔
(6) امام النحاس نے اپنی ناسخ میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اس آیت لفظ آیت ” الحر بالحر والعبد بالعبد والانثی بالانثی “ کو ” وکتبنا علیہم فیہا ان النفس بالنفس “ کی آیت نے منسوخ کردیا۔
وأما قولہ تعالیٰ : ” فمن عفی لہ “
(7) عبد بن حمید، ابن جریر، حاکم اور بیہقی نے سنن میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فمن عفی لہ “ سے مراد وہ قتل عمد ہے کہ جس میں دیت کے ساتھ مقتول کے ورثاء کو راضی کرے۔ لفظ آیت ” فاتباع بالمعروف “ یعنی طالب اچھے انداز سے مطالبہ کرے لفظ آیت ” واداء الیہ باحسان “ یعنی مطلوب اچھے انداز میں ادائیگی کرے۔ لفظ آیت ” ذلک تخفیف من ربکم ورحمۃ “ یعنی یہ تخفیف اور رحمت ہے تمہارے رب کی طرف سے جو بنی اسرائیل پر نہ تھی۔
(8) ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فمن عفی لہ من اخیہ شیء “ سے مراد ہے خون کا استحقاق اور دیت لینے کے بعد اس کے بھائی کی طرف سے اسے کچھ معاف ہوجائے لفظ آیت ” فاتباع بالمعروف “ یعنی طالب اچھے انداز میں دیت کا مطالبہ کرے جب دیت کو قبول کرے لفظ آیت ” واداء الیہ باحسان “ یعنی قاتل کو چاہئے کہ وہ بھی اچھے طریقے سے ادا کرے کوئی تکلیف اور نقصان نہ پہنچائے۔ لفظ آیت ” ذلک تخفیف من ربکم ورحمۃ “ یعنی نرمی ہے تمہارے رب کی طرف سے۔
(9) عبد الرزاق، سعید بن منصور، ابن ابی شیبہ، بخاری، نسائی، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم النحاس نے الناسخ میں ابن حبان اور بیہقی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اسرائیل میں قصاص تھا اور دیت نہ تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لئے (حکم) فرمایا لفظ آیت ” کتب علیکم القصاص فی القتلی “ الی قولہ ” فمن فعی لہ من اخیہ شیء “ تو معاف کرنا یہ ہے کہ قتل عمد میں دیت کو قبول کرے لفظ آیت ” فاتباع بالمعروف واداء الیہ باحسان “ پھر طالب اچھے طریقے سے مطالبہ کرے اور مطلوب اچھے طریقے سے ادا کرے۔ لفظ آیت ” ذلک تخفیف من ربکم ورحمۃ “ جو احکام تم سے پہلی قوموں پر تھے ان میں تمہارے لئے تخفیف فرما دیں۔ لفظ آیت ” فمن اعتدی بعد ذلک “ یعنی دیت قبول کرنے کے بعد (پھر) قتل کر دے۔ لفظ آیت ” فلہ عذاب الیم “ (تو اس کے لئے درد ناک عذاب ہے)
(10) امام طبرانی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبو اسرائیل میں جب کوئی شخص عمدا قتل کیا جاتا تو ان کے لئے صرف قصاص ہوتا تھا (دیت نہ تھی) اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لئے دیت کو حلال فرمایا اور اس بات کا حکم فرمایا کہ طالب اچھے طریقے سے دیت کا مطالبہ کرے۔ اور مطلوب بھی اچھے طریقہ سے ادائیگی کرے لفظ آیت ” ذلک تخفیف من ربکم ورحمہ “ (یہ تخفیف ہے تمہارے رب کی طرف سے) ۔
(11) ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ بنی اسرائیل پر قتل (کے بدلہ) میں قصاص تھا ان کے درمیان دیت نہیں نہیں تھی جان کے بدلہ میں اور نہ زخم (کے بدلہ میں اور ان کے لئے صرف یہ حکم تھا لفظ آیت ” وکتبنا علیہم فیہا ان النفس بالنفس “ (الآیہ) پھر اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ پر تخفیف فرما دی اور قتل اور زخم میں دیت مقرر فرما دی اور وہ اللہ تعالیٰ کا قول لفظ آیت ” ذلک تخفیف من ربکم ورحمۃ “ سے بھی یہی مراد ہے۔
(12) ابن جریر، الزجاجی نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ” ورحمۃ “ سے مراد ہے وہ رحمت ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اس امت پر رحم فرمایا ان کی دیت کا کھانا عطا فرمایا اور ان کے لئے اس (دیت) کو حلال فرمایا اور ان سے پہلے کسی کے لئے یہ حلال نہیں تھی اور تورات والوں کے لئے صرف قصاص تھا یا معاف کردینا تھا ان کے درمیان ارش نہیں تھا اور انجیل والوں کے لئے صرف معاف کرنا تھا اسی کا ان کو حکم دیا گیا تھا اس امت کے لئے اللہ تعالیٰ نے قصاص عفو اور دیت کو مقرر فرما دیا اگر یہ امت چاہے تو ان کے لئے دیت حلال ہے اور اس سے پہلے کسی امت کے لئے ایسا نہیں تھا۔
مقتول کے ورثہ کو تین باتوں کا اختیار ہے
(13) عبد الرزاق، ابن ابی شیبہ، احمد ابی حاتم اور بیہقی نے ابن شریح خزاعی ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا جس کو قتل یا زخم کی مصیبت پہنچائی گئی ہو اس کو تین چیزوں میں سے ایک چیز کا اختیار ہے یا تو (قاتل سے) قصاص لے لے یا معاف کر دے یا دیت لے لے اگر اس نے چوتھی چیز کا ارادہ کیا تو اس کے ہاتھ روک لو اور جو اس کے بعد تجاوز کرے گا۔ اس کے لئے جہنم کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔
(14) ابن جریر اور قابن المنذر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فمن اعتدی بعد ذلک “ سے مراد ہے اگر اس نے دیت لینے کے بعد قتل کردیا۔ لفظ آیت ” فلہ عذاب الیم “ یعنی تو اس پر صرف قتل ہے۔ اور اس سے دیت قبول نہیں کی جائے گی اور ہم کو یہ بتایا گیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں اس آدمی کو معاف نہیں کروں گا جس نے دیت لینے کے بعد (قاتل) کو قتل کردیا۔
(15) امام وکیع، عبد بن حمید، ابن جریر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فمن اعتدی بعد ذلک فلہ عذاب الیم “ سے مراد ہے زمانہ جاہلیت میں جب کوئی آدمی کسی کو قتل کردیتا ہے تو اس کی قوم آتی اور اس کی طرف سے دیت پر صلح کرلیتی۔ پھر بھاگنے والا (یعنی قاتل) اپنے آپ کو امن ولا سمجھ کر باہر نکلتا تھا لیکن پھر اسے قتل کردیتے تھے اور اس کی طرف دیت پھینک دیتے تھے یہ تھی زیادتی۔
(17) ابن ابی شیبہ نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ جو آدمی دیت لینے کے بعد قتل کر دے تو اس کو قتل ہی کیا جائے گا کیا تو نے اللہ تعالیٰ کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا لفظ آیت ” فلہ عذاب الیم “۔
Ayah 2:179(1) عبد الرزاق اور ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولکم فی القصاص حیوۃ “ سے مراد ہے کہ اس میں تمہارے لئے نصیحت اور سزا ہے جب اس ظالم کو قصاص کا تصور ذہن میں آئے گا تو وہ قتل سے رک جائے گا۔
(2) عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس قصاص کو زندگی اور عزت بنایا عقل والوں کے لئے اور اس میں نصیحت ہے جاہلوں اور بیوقوفوں کے لئے کتنے آدمی ہیں جو قتل کا ارادہ کرتے ہیں اگر قصاص کا ڈر نہ ہوتا تو وہ اس (کام) میں واقع ہوجاتے لیکن اللہ تعالیٰ نے اس قصاص کے ذریعہ بعض کو بعض کے قتل سے روک دیا ہے اپنے بندوں کو اور جو کچھ اللہ تعالیٰ حکم فرماتے ہیں اس میں انسان کے لئے دنیا میں اور آخرت میں اصلاح ہوتی ہے اور جس کام سے اللہ تعالیٰ روکتے ہیں اس میں فساد ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ خوب جانتے ہیں اس چیز کو جس سے ان کی مخلوق کی اصلاح ہوتی ہے۔
(3) ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولکم فی القصاص حیوۃ “ سے مراد ہے کہ قصاص میں حیات ہے کیونکہ مقتول کے بدلے صرف قاتل ہی قتل ہوگا (کوئی اور نفس قتل نہیں ہوگا) ۔
(4) سفیان بن شیبہ نے مجاہد (رح) سے لفظ آیت ” ولکم فی القصاص حیوۃ “ سے مراد ہے کہ قصاص میں زندگی اس طرح سے ہے کہ ان کے بعض بعض کو قصاص کی وجہ سے روکتے ہیں۔
قصاص انسانی حیات کا ذریعہ ہے
(5) ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولکم فی القصاص حیوۃ یاولی الالباب “ سے مراد ہے کہ جس شخص میں سمجھ اور عقل ہے تو وہ قصاص کو یاد کرتا ہے اور قصاص کے خوف سے قتل کرنے سے رک جاتا ہے۔ لفظ آیت ” لعلکم تتقون “ تاکہ تم (ناحق) خون (بہانے) سے بچ جاؤ قصاص کے خوف سے۔
(6) عبد بن حمید، ابن ابی حاتم نے أبو الجواء (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا لفظ آیت ” ولکم فی القصاص حیوۃ “ یعنی قرآن کے حصے (جو تمہارے لئے عزت ہیں اور تمہارے لئے زندگی کا باعث ہیں) ۔
(7) امام آدم اور بیہقی نے اپنی سنن میں ؤبو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فمن اعتدی “ سے مراد ہے دیت لینے کے بعد قتل کردینا لفظ آیت ” ذلک تخفیف من ربکم ورحمۃ “ جب تم کو دیت دے دی گئی اور وہ تورات والوں کے لئے حلال نہیں تھی ان کے لئے قصاص تھا یا معاف کردینا اور انجیل والوں کے لئے معاف کردینا تھا اور اس کے علاوہ کچھ نہ تھا پس اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لئے قصاص دیت اور معاف کردینا (تینوں احکام) مقرر فرما دئیے۔ لفظ آیت ” ولکم فی القصاص حیوۃ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے قصاص کو زندگی فرمایا ہے کتنے آدمی ہیں جو قتل کرنے کا ارادہ کرتے ہیں مگر ان کو (قصاص میں) قتل ہوجانے کا خوف (اس کام سے) روک دیتا ہے۔
Ayahs 2:180–181(1) ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ان ترک خیرا “ میں خیر سے مراد مال ہے۔
(2) امام ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ان ترک خیرا “ میں خیر سے مراد مال کثیر ہے۔
(3) ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ قرآن مجید میں ہر جگہ خیر سے مراد مال ہے جیسے لفظ آیت ” ان ترک خیرا “ (العادیات آیت 8) ۔ ” انی احببت حب الخیر “ (ص آیت 32) ۔ ” ان علمتم فیہم خیرا “ (النور آیت 23) ۔
(4) عبد بن حمید نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ان ترک خیرا، الوصیۃ “ سے مراد ہے جس شخص نے ساٹھ درہم نہ چھوڑے اس نے (گویا) مال نہ چھوڑا۔
(5) امام عبد الرزاق، الفریابی، سعید بن منصور، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریہر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، حاکم اور بیہقی نے سنن میں عروہ (رح) سے روایت کیا کہ حضرت علی ؓ اپنے مولیٰ کے پاس تشریف لائے جو موت (کی حالت) میں تھے اور اس کے پاس سات سو یا چھ سو درہم تھے۔ اس نے علی ؓ سے پوچھا میں کیا وصیت نہ کروں ؟ فرمایا نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” ان ترک خیرا “ اور تم جو مال چھوڑ کر جا رہے ہو وہ مال کثیر نہیں ہے تو اپنے وارثوں کے لئے اپنے مال کو چھوڑ جاؤ۔
(6) سعید بن منصور، ابن ابی شیبہ، ابن المنذر اور بیہقی نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے کہا کہ میں وصیت کرنے کا ارادہ کرتا ہوں۔ انہوں نے فرمایا تیرے پاس کتنا مال ہے ؟ اس نے کہا تین ہزار۔ فرمایا تیری کتنی اولاد ہے ؟ اس نے کہا چار عدد انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت ” ان ترک خیرا “ اور تیرا یہ مال تھوڑا ہے۔ اس کو اپنی اولاد کے لئے چھوڑ دو یہ افضل ہے
(7) عبد الرزاق، سعید بن منصور اور بیہقی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اگر میت سات سو درہم چھوڑے تو وصیت نہ کرو۔
(8) عبد بن حمید ابو مجلز (رح) سے روایت کیا کہ وصیت اس شخص پر ہے جو زیادہ مال چھوڑ کر جائے۔
(9) عبد الرزاق اور عبد بن حمید نے زہری (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے وصیت کو حق قرار دیا ہے (مال) تھورا ہے یا زیادہ ہے۔
ہر مسلمان پر وصیت نامہ لکھنا ضروری ہے
(10) عبد بن حمید، بخاری اور مسلم نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کس مسلمان آدمی کو یہ حق نہیں ہے کہ اس پر تین راتیں گذر جائیں مگر اس کے پاس وصیت ہونی چاہئے ابن عمر ؓ نے فرمایا کہ مجھ پر تین راتیں کبھی ایسی نہیں گزریں مگر وصیت میرے پاس (لکھی ہوتی) تھی۔
(11) عبد الرزاق اور عبد بن حمید نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے لوگو ! اپنی جانوں کو اپنے رب سے خریدو کسی انسان کے لئے یہ نہیں ہونا چاہئے۔ کہ وہ کسی معاملہ میں اللہ کے حق سے بخل کرتا ہے یہاں تک کہ جب موت اس کے سامنے حاضر ہو تو اپنے مال کو ادھر اور ادھر تقسیم کرنے لگے پھر قتادہ (رح) فرماتے ہیں اے ابن آدم تیرے لئے ہلاکت ہے اللہ تعالیٰ سے ڈر اور برائیوں کو جمع نہ کر تیرا مال برا ہے زندگی میں اور برا ہے موت کے وقت، اپنے قریبی رشتہ داروں کو دیکھ جو محتاج ہیں اور وارث بھی نہیں بنتے ان کے لئے اپنے مال میں اچھے طریقے سے وصیت کر دے۔
(12) عبد الرزاق اور عبد بن حمید نے عبید اللہ بن عبد اللہ بن محمد قاضی البصرہ (رح) سے روایت کیا کہ جو آدمی وصیت کرے اور اس نے کچھ لوگ مقرر کئے تو ہم دیں گگے جو اس نے مقرر کئے اور اگر وہ اس طرح مقرر کرے جیسے اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے تو ہم اس کو دیں گے اس کے قریبی رشتہ داروں کو۔
(13) عبد الرزاق اور عبد بن حمید نے طاؤس (رح) سے روایت کیا کہ جس شخص نے قوم کے لئے وصیت کی اور ان کا نام لیا ہو اور محتاج قریبی رشتہ داروں کو چھوڑ دیا تو میں ان سے وہ مال چھین کر قریبی رشتہ داروں کو دوں گا۔
(14) عبد الرزاق، عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ جب کسی نے غیر رشتہ داروں کے لئے ایک ثلث کی وصیت کی تو جائز ہے ان کے لئے ثلث کا ثلث (یعنی کل مال کے تہائی کا تہائی) ۔ اور باقی دو ثلث اس کے رشتہ داروں کو دیا جائے۔
(15) سعید بن منصور، احمد، عبد بن حمید، ابو داؤد نے الناسخ میں، ابن جریر، ابن المنذر، حاکم اور بیہقی نے سنن میں محمد بن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ نے خطبہ دیا اور سورة بقر پڑھی اور ان (احکام) کو بیان فرمایا جو کچھ اس (سورۃ) میں ہیں۔ یہاں تک کہ اس آیت پر گزرے لفظ آیت ” ان ترک خیرا، الوصیۃ للوالدین والاقربین “ (پھر) فرمایا یہ آیت منسوخ ہے۔
(16) ابو داؤد، النحاس نے الناسخ میں ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے لفظ آیت ” للوالدین والاقربین “ کی وصیت کے بارے میں روایت کیا کہ آدمی کی اولاد باپ کی وارث ہوتی تھی اور والدین کے لیے وصیت ہوتی تھی اس (حکم) کو لفظ آیت ” للرجال نصیب مما ترک الولدان ولاقربون “ (الآیہ) نے منسوخ کردیا۔
(17) ابن جریر، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ والدین کے ساتھ ان کے علاوہ کوئی وارث نہ ہوتا تھا مگر قریبی رشتہ داروں کے لئے وصیت ہوتی تھی پھر اللہ تعالیٰ نے میراث کی آیت کو نازل فرمایا جس میں والدین کی میراث کو بیان فرمایا اور قریبی رشتہ داروں کے لئے ایک تہائی مال میں وصیت کو قائم رکھا۔
(18) ابو داؤد نے اپنی سنن میں اور ناسخ میں اور بیہقی نے حضرت ابن عباس ؓ سے لفظ آیت ” ان ترک خیرا الوصیۃ للوالدین والاقربین “ کے بارے میں روایت کیا کہ اسی طرح وصیت کا حکم قائم رہا یہاں تک کہ میراث کی آیت نے اس (حکم) کو منسوخ کردیا۔
(19) ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا جو وارث تھے ان کے لئے آیت میراث نے وصیت کو منسوخ کردیا اور جو قریبی رشتہ دار نہیں تھے ان کے لئے وصیت کے حکم کو منسوخ نہیں کیا۔ (یعنی ان کے لئے وصیت کرنا باقی رہا) ۔
(20) امام وکیع، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر اور بیہقی نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ان سے اس آیت لفظ آیت ” الوصیۃ للوالدین والاقربین “ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا آیت میراث نے اس کو منسوخ کردیا۔
(21) امام ابن جریر نے قتادہ سے روایت کیا ہے انہوں نے شریح (رح) سے روایت کیا کہ آدمی اپنے سارے مال کے بارے میں وصیت کردیتا تھا یہاں تک میراث کی آیات نازل ہوگئیں۔
(22) عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا فرماتے ہیں کہ میراث ہوتی تھی اولاد کے لئے اور وصیت والدین اور قربین کے لئے تھی اب وہ منسوخ ہوگئی۔
(23) عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا فرماتے ہیں کہ خیر سے مراد مال ہے اور (مال) کا اطلاق ہزار یا اس سے زائد رقم پر ہوتا ہے۔ اور والدین اور قریبی رشتہ داروں کے لئے وصیت کا حکم کیا گیا پھر والدین کے بارے میں وصیت کا حکم منسوخ کردیا گیا اور ہر میراث والے کا حصہ وصیت سے ختم کردیا جس کو میراث ملتی ہے اس کے لئے کوئی وصیت نہیں ہے سو اب وصیت ایسے رشتہ داروں کے لئے ہے جو وارث نہیں ہیں خواہ وہ قریبی ہوں یا نہ ہوں۔
وارث کے لئے وصیت کرنا جائز نہیں
(24) امام احمد، عبد بن حمید، ترمذی، ابن ماجہ، نسائی نے عمر و بن خارجہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنی سواری پر خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے لئے میراث میں اس کا حصہ تقسیم فرما دیا ہے اس لئے کسی وارث کے لئے وصیت کرنا جائز نہیں۔
(25) امام احمد، عبد بن حمید، بیہقی نے سنن میں أبو امامہ باہلی (رح) سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو حجۃ الوداع کے موقع پر اپنے خطبہ میں ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ہر حق والے کو اس کا حق دے دیا ہے (اس لئے) اب وارث کے لئے کوئی وصیت نہیں۔
(26) عبد بن حمید نے حضرت حسن ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا وارث کے لئے کوئی وصیت نہیں مگر یہ کہ دوسرے ورثاء اس کی اجازت دیں۔