2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 2:135

وَ قَالُوْا كُوْنُوْا هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى تَهْتَدُوْا١ؕ قُلْ بَلْ مِلَّةَ اِبْرٰهٖمَ حَنِیْفًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 2:135 in the Quran reader

اور انہوں نے کہا کہ ہوجاؤ یہودی یا نصرانی تم ہدایت پا جاؤ گے، آپ فرمائیے بلکہ ابراہیم کی ملت کا اتباع کرو جو پوری طرح حق ہی کی طرف تھے اور مشرکین میں سے نہ تھے۔

(1) ابن اسحاق، ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (یہود کے بڑے عالم) عبد اللہ بن سوریا أعور نے نبی اکرم ﷺ سے کہا جس دین پر ہم ہیں صرف وہی ہدایت ہے۔ اے محمد ! ہماری اتباع کریں تو آپ ہدایت پاجائیں گے نصاری نے بھی اسی طرح کہا (پھر) اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی لفظ آیت ” وقالوا کونوا ھودا ونصری تھتدوا “ (الآیہ) ۔ واما قولہ : حنیفا : (2) ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” حنیفا “ سے مراد ہے حاجا یعنی حج کرنے والا۔ (3) ابن ابی حاتم نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا انہوں نے فرمایا کہ حنیف سے مراد ہے مستقیم (سیدھا) ۔ (4) ابن جریر، ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” حنیفا “ سے مراد ہے متبعا یعنی تابعداری کرنے والا۔ (5) ابن ابی حاتم نے خصیف (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا کہ حنیف سے مراد ہے مخلص۔ (6) ابن ابی حاتم نے أبو قلابہ (رح) سے روایت کیا کہ حنیف وہ ہے جو اول سے آخر تک تمام رسولوں پر ایمان لے آئے۔ (7) ابن المنذر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ قرآن مجید جو لفظ آیت ” حنیفا مسلما “ اور حنفاء مسلمین آیا ہے اس کا مطلب ہے ” حجاجا “ حج کرنے والے۔ (8) امام احمدنے أبو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے آسان دین حنیف کے ساتھ بھیجا گیا۔ (9) امام بخاری نے الادب المفرد اور ابن المنذر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کون سا دین اللہ کی طرف زیادہ محبوب ہیں آپ نے فرمایا سیدھا اور آسان دین۔ (10) ابو الضریس نے الغرائب میں اور حاکم نے تاریخ میں ابو موسیٰ المدنی نے الصحابہ میں اور ابن عساکر نے سعید بن عبد اللہ بن مالک خزاعی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا سب سے زیادہ محبوب دین اللہ کے نزدیک سیدھا اور آسان دین ہے۔
Ayah 2:136

قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰى وَ مَاۤ اُوْتِیَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۚ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ١ۖ٘ وَ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 2:136 in the Quran reader

تم لوگ کہو ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جو نازل کیا گیا ابراہیم اور اسمعیل اور اسحاق اور یعقوب پر، اور ان کی اولاد پر اور اس پر بھی جو عطا کیا گیا موسیٰ کو اور عیسیٰ کو اور جو کچھ عطا کیا گیا دیگر انبیاء کو ان کے رب کی طرف سے، ہم ان میں سے کسی کے درمیان تفریق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے فرمانبردار ہیں۔

(1) ابن ابی حاتم نے معقل بن یسار ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ایمان لاؤ تم تورات، زبور، انجیل پر، اور چاہئے کہ قرآن تمہاری گنجائش رکھتا ہے (2) امام احمد، مسلم ابو داؤد، نسائی اور بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ (نماز) فجر کی پہلی رکعت میں (سورۃ) بقرہ کی یہ آیت لفظ آیت ” قولوا امنا باللہ وما انزل الینا “ کی تلاوت کرتے تھے اور دوسری رکعت میں لفظ آیت ” امنا باللہ، واشھد بانا مسلمون (52) “ تلاوت فرماتے تھے۔ (3) امام حاکم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ اکثر فجر کی پہلی رکعت میں لفظ آیت ” قولوا امنا باللہ وما انزل الینا وما انزل الی ابرہم “ اور دوسری رکعت میں لفظ آیت ” قل یاہل الکتب تعالوا الی کلمۃ “ سے تلاوت فرماتے تھے۔ انبیاء (علیہم السلام) کے نام بچوں کو یاد کروانا (4) امام وکیع نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ اپنی عورتوں، اپنی اولاد اور اپنے خادموں کو ان انبیاء کے نام سکھاؤ جن کے نام کو کتاب اللہ میں لیا گیا ہے تاکہ وہ ان پر ایمان لے آئیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم فرمایا ہے کہ لفظ آیت ” قولوا امنا باللہ وما انزل الینا “ الی قولہ ” ونحن لہ مسلمون “ تک۔ (5) ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ الاسباط سے مراد ہے یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹے اور وہ بارہ تھے ان میں سے ہر ایک سے امت کا ایک گروہ پیدا ہوا۔ (6) ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ الاسباط سے مراد ہے یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹے یوسف، بنیامین، روبیل، یہودا، شمعون، لاوی، دان، قھات، کوذ اور بالیوق ہیں۔ (7) امام طبرانی أبو نعیم اور ابن عساکر نے عبد اللہ بن عبد الشمالی ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا اگر میں قسم کھالوں تو میں بیر ہوجاؤں گا (اپنی قسم سے) کہ میری امت کے پہلے گروہ کے جنت میں جانے سے پہلے دس سے کچھ اوپر انسان جنت میں جائیں گے ابراہیم، اسمعیل، اسحق، یعقوب اور ان کے قبیلے موسیٰ اور عیسیٰ بن مریم علیہم السلام۔
Ayah 2:137

فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَاۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ فَقَدِ اهْتَدَوْا١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا هُمْ فِیْ شِقَاقٍ١ۚ فَسَیَكْفِیْكَهُمُ اللّٰهُ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُؕ Open ayah 2:137 in the Quran reader

سو اگر وہ ایمان لے آئیں ان چیزوں پر جن پر تم ایمان لائے تو وہ ہدایت پاجائیں گے اور اگر وہ روگردانی کریں تو بس وہ مخالفت ہی میں لگے ہوئے ہیں پس عنقریب اللہ آپ کی طرف سے ان کے لئے کافی ہوگا اور وہ سمیع ہے علیم ہے۔

(1) ابن جریر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یوں نہ کہو لفظ آیت ” فان امنو بمثل امنتم بہ “ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا کوئی مثل نہیں۔ لیکن تم یوں کہو لفظ آیت ” فان امنوا بالذی امنتم بہ “ (یعنی اگر وہ ایمان لائیں اس ذات کے ساتھ جیسا کہ تم اس ذات کے ساتھ ایمان لائے ہو) ۔ (نوٹ) حضرت ابن عباس ؓ کی قرأت میں لفظ مثل زائد ہے اس لئے انہوں نے یہ فرمایا کہ یوں کہو لفظ آیت ” فان امنو بالذی امنتم بہ “ مگر ہماری قرأت میں بمثل کا باء زائد ہے۔ جیسے لفظ آیت ” جزاء سیءۃ بمثلہا “ میں باء زائد ہے اب آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ اگر وہ تمہارے ایمان لانے کی طرح ایمان لائیں۔ (2) ابن ابی داؤد نے المصاحف میں خطیب نے اپنی تاریخ میں أبو جمرہ (رح) سے روایت کیا کہ حضرت ابن عباس ؓ یوں پڑھا کرتے تھے لفظ آیت ” فان امنو بالذی امنتم بہ “۔ (3) ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فانما فی شقاق “ میں شقاق سے مراد فراق ہے۔ (4) امام حاکم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں بیٹھا ہوا تھا اچانک حضرت عثمان ؓ تشریف لائے تو ان کو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اے عثمان ! تو قتل کیا جائے گا اس حال میں کہ تو سورة بقرہ پڑھ رہا ہوگا اور تیرے خون کا قطرہ لفظ آیت ” فسیکفیکہم اللہ “ پر گرے گا۔ ذھبی (رح) نے مختصر مستدرک میں فرمایا ہے کہ یہ خالص جھوٹ ہے اور اس کی سند میں احمد بن محمد بن عبد الحمید جعفی ہے جو متہم بالکذب ہے۔ حضرت عثمان غنی ؓ کی شہادت کا واقعہ (5) ابن ابی داؤد نے المصاحف میں ابو القاسم، بن بشران نے امالی میں، ابو نعیم نے المعرفہ میں اور ابن عساکر نے ابو سعید مولی بنو أسد (رح) سے روایت کیا کہ جب مصری حضرت عثمان ؓ پر حملہ آور ہوئے تو ان کے آگے قرآن مجید رکھا ہوا تھا انہوں نے ان کے ہاتھوں پر تلوار ماری تو خون اس آیت ” فسیکفیکہم اللہ، وھو السمیع العلیم “ پر گرا انہوں نے اپنے ہاتھ کو پھیلاتے ہوئے فرمایا اللہ کی قسم یہ پہلا ہاتھ ہے جس نے مفصل سورتیں لکھیں تھیں۔ (6) ابن ابی حاتم نے نافع بن ابو نعیم (رح) سے روایت کیا کہ بعض خلفاء کی طرف حضرت عثمان بن عفان ؓ والا قرآن مجید بھیجا گیا میں نے ان سے کہا لوگ کہتے ہیں کہ ان کا یہ قرآن ان کی گود میں تھا جب ان کو قتل کیا گیا تو خون اس آیت لفظ آیت ” فسیکفیکہم اللہ، وھو السمیع العلیم “ پر واقع ہوگیا۔ نافع نے فرمایا کہ میں اپنی آنکھوں سے اس آیت پر خون کو دیکھا جو میرے آگے رکھا گیا تھا۔ (7) عبد اللہ بن احمد نے زوائد میں عمرہ بنت ارطاۃ عدویہ (رح) سے روایت کیا کہ میں حضرت عائشہ ؓ کے ساتھ اسی سال جس میں حجرت عثمان شہید کئے گئے مکہ کی طرف روانہ ہوئے ہم مدینہ منورہ سے گزرے اور ہم نے وہ قرآن دیکھا جو ان کے شہید ہونے کے وقت ان کی گود میں تھا۔ تو ان کے خون کا پہلا قطرہ اس آیت ” فسیکفیکہم اللہ، وھو السمیع العلیم “ پر گرا۔ عمرۃ نے فرمایا کہ ان کے (قتل کرنے والوں) میں سے کوئی آدمی بھی صحیح موت نہیں مرا (بلکہ کسی نہ کسی عذاب میں مبتلا ہو کر مرا) ۔
Ayah 2:138

صِبْغَةَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ صِبْغَةً١٘ وَّ نَحْنُ لَهٗ عٰبِدُوْنَ Open ayah 2:138 in the Quran reader

ہم کو اللہ تعالیٰ نے رنگ دیا ہے اور وہ کون ہے جس کو رنگ دینا اللہ تعالیٰ کے رنگ دینے سے اچھا ہو اور ہم اسی کی عبادت کرنے والے ہیں۔

(1) ابن جریر و ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” صبغۃ اللہ “ سے مراد وہ فطرت ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو پیدا فرمایا۔ (2) عبد بن حمید، ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا انہوں نے فرمایا کہ لفظ آیت ” صبغۃ اللہ “ سے مراد وہ فطرت ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو پیدا فرمایا۔ (3) ابن مردویہ اور الضیاء میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا بنی اسرائیل نے کہا اے موسیٰ ! کیا تیرا رب رنگ کرتا ہے ؟ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ ان کے رب نے ان کو آواز دی اے موسیٰ ! وہ لوگ آپ سے سوال کرتے ہیں کہ تیرا رب رنگ کرتا ہے ان سے کہو ہاں ! میں (مختلف) رنگ کرتا ہوں لال، سفیدا ور کالا اور سارے رنگ میرے رنگوں میں سے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر اس آیت کو نازل فرمایا لفظ آیت ” صبغۃ اللہ، ومن احسن من اللہ صبغۃ “۔ اس حدیث کو ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے العظمہ میں ابن عباس ؓ سے موقوف نقل کیا ہے۔ (4) عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ یہودی نے اپنے بیٹوں کو یہودی رنگ کرتے تھے اور نصاری اپنے بیٹوں کو نصاری رنگ کرتے تھے اور بلاشبہ اللہ کا رنگ اسلام ہے اور کوئی رنگ اللہ تعالیٰ کے اسلام والے رنگ سے بہتر اور پاکیزہ نہیں ہے اور وہ (رنگ) اللہ تعالیٰ کا دین ہے جس کے ساتھ نوح (علیہ السلام) اور ان کے بعد دوسرے انبیاء کو بھیجا۔ (5) ابن النجار نے تاریخ بغداد میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” صبغۃ اللہ، ومن احسن من اللہ صبغۃ “ سے سفید رنگ مراد ہے۔
Ayahs 2:139–141

قُلْ اَتُحَآجُّوْنَنَا فِی اللّٰهِ وَ هُوَ رَبُّنَا وَ رَبُّكُمْ١ۚ وَ لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١ۚ وَ نَحْنُ لَهٗ مُخْلِصُوْنَۙ Open ayah 2:139 in the Quran reader

آپ فرمائیے کیا تم ہم سے اللہ کے بارے میں حجت کرتے ہو حالانکہ وہ ہمارا رب ہے اور تمہارا رب ہے اور ہمارے لئے ہیں عمل ہمارے اور تمہارے لئے ہیں عمل تمہارے اور ہم اللہ تعالیٰ کے لئے اخلاص والے ہیں۔

اَمْ تَقُوْلُوْنَ اِنَّ اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطَ كَانُوْا هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى١ؕ قُلْ ءَاَنْتُمْ اَعْلَمُ اَمِ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهَادَةً عِنْدَهٗ مِنَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:140 in the Quran reader

کیا تم کہتے ہو کہ بیشک ابراہیم اور اسمعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد یہودی تھے یا نصرانی تھے، آپ فرما دیجئے کیا تم زیادہ جاننے والے ہو یا اللہ زیادہ جاننے والا ہے، اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جس نے چھپایا اس گواہی کو جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے پاس موجود ہے، اور اللہ تعالیٰ ان کاموں سے بیخبر نہیں ہے جنہیں تم کرتے ہو۔

تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ١ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ لَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ١ۚ وَ لَا تُسْئَلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 2:141 in the Quran reader

وہ ایک جماعت تھی جو گزر چکی ان کے لئے وہ ہے جو انہوں نے عمل کیا اور تمہارے لئے وہ ہے جو تم نے عمل کیا اور تم پر اس چیز کا سوال نہ ہوگا جو وہ کرتے تھے۔

(1) ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” قل اتحاجوننا “ سے مراد ہے ” اتخاصمونا “ یعنی کیا ہم سے جھگڑا کرتے ہو۔ (2) ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” قل اتحاجوننا “ سے مراد ہے ” قل اتحاجوننا “ یعنی تم ہم سے جھگڑتے ہو۔ (3) عبد بن حمید، ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ومن اظلم ممن کتم شھادۃ عندہ من اللہ “ میں یہودیوں کا وہ قول مراد ہے جو انہوں نے ابراہیم اور اسماعیل (علیہما السلام) کے بارے میں کہا تھا کہ وہ یہودی اور نصرانی تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا اگر تمہارے پاس کوئی شہادت ہے تو مجھ سے وہ شہادت نہ چھپاؤ۔ اور تحقیق اللہ تعالیٰ جانتے ہیں کہ وہ جھوٹے ہیں۔ (4) عبد بن حمید، ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ومن اظلم ممن کتم شھادۃ “ (الآیہ) میں وہ اہل کتاب مراد ہیں جنہوں نے اسلام کو چھپایا اور وہ جانتے ہیں کہ وہ اللہ کا دین ہے اور انہوں نے یہودیت اور نصرانیت کو اپنایا اور محمد ﷺ کی ذات صفات کو چھپالیا حالن کہ وہ جانتے ہیں کہ وہ اللہ کے رسول ہیں۔ (5) ابن جریر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ وہ فظ آیت ” ومن اظلم ممن کتم شھادۃ عندہ من اللہ “ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ (اس) قوم کے پاس اللہ کی طرف سے یہ شہادت موجود تھی کہ بلاشبہ اس کے تمام انبیاء یہودیت اور نصرانیت سے بری ہیں (6) ابن جریر نے قتادہ اور ربیع رحمہما اللہ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” تلک امۃ قدخلت “ میں امت سے مراد ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب (علیہم السلام) اور ان کے اسباط مراد ہیں۔ (7) ابن ابی حاتم، ابن مردویہ نے ابو الملیح (رح) سے روایت کیا کہ چالیس سے سو تک یا اس سے زیادہ افراد کو امت کہتے ہیں۔
Ayah 2:142

سَیَقُوْلُ السُّفَهَآءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلّٰىهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِیْ كَانُوْا عَلَیْهَا١ؕ قُلْ لِّلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ١ؕ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 2:142 in the Quran reader

عنقریب کہیں گے بیوقوف لوگ کس چیز نے پھیر دیا ان کو ان کے اس قبلہ سے جس پر وہ تھے، آپ فرما دیجئے اللہ ہی کے لیے مشرق اور مغرب ہے، وہ ہدایت دیتا ہے جس کو چاہے سیدھے راستہ کی طرف۔

(1) ابن سعد، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، بخاری، مسلم، ابو داؤد، ) الناسخ میں) ترمذی، نسائی، ابن جریر، ابن حبان اور بیہقی نے سنن میں براء بن عازب ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو انصار میں سے اپنے ننہیال کے ہاں قیام کیا اور آپ نے سولہ یا سترہ مہینے بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھی۔ اور آپ اس بات کو پسند فرماتے تھے کہ ہمارا قبلہ بیت اللہ کی طرف ہوجائے اور آپ نے اس (بیت اللہ) کی طرف سب سے پہلے عصر کی نماز پڑھی اور آپ کے ساتھ دوسرے لوگوں نے بھی نماز پڑھی اور ان میں سے ایک آدمی جس نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی تھی دوسری مسجد والوں پر گزرا جبکہ وہ رکوع کی حالت میں تھے تو اس (آدمی) نے کہا کہ میں اللہ کی قسم کے ساتھ یہ گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ کعبہ کی طرف نماز پڑھی ہے۔ وہ لوگ نماز ہی میں بیت اللہ کی طرف گھوم گئے۔ پھر ان کو یہ پریشانی ہوئی (اور کہنے لگے) کہ جو آدمی پہلے قبلہ پر تھے (نماز پڑھتے ہوئے) اس قبلہ کی طرف گھومنے سے پہلے اور وہ وہ لوگ جو شہید کر دئیے گئے (ان کا کیا بنے گا) ہم نہیں جانتے تھے کہ ہم ان کے بارے میں کیا کہیں گے تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی لفظ آیت ” وما کان اللہ لیضیع ایمانکم ان اللہ بالناس لروؤف رحیم “ (بقرہ آیت 143) ۔ بیت المقدس سے بیت اللہ کی طرف رخ کا حکم (2) امام ابن اسحاق، عبد بن حمید، ابن ابی حاتم نے حضرت براء ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے تھے اور اللہ کے حکم کے انتظار میں اکثر آسمان کی طرف دیکھتے رہتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) نازل فرمائی لفظ آیت ” قد نری تقلب وجھک فی السماء فلنولینک قبلۃ ترضھا فول وجھک شطر المسجد الحرام “ (اس آیت کے اترنے کے بعد) مسلمانوں میں سے کچھ لوگوں نے کہا کہ ہم اس بات کو جاننا چاہتے ہیں کہ ہم میں سے جو شخص بیت اللہ کی طرف رخ کرنے سے پہلے مرگیا یا ہماری ان نمازوں کا کیا بنے گا جو ہم نے بیت المقدس کی طرف پڑھی ہیں تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی لفظ آیت ” وما کان اللہ لیضیع ایمانکم “ لوگوں میں سے کچھ بیوقوفوں نے کہا اور وہ اہل کتاب ہیں کس چیز نے ان کو قبلہ سے پھیر دیا جس پر وہ پہلے تھے تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” سیقول السفھاء من الناس “ سے لے کر آخری آیت تک۔ (3) امام ترمذی، نسائی، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، دار قطنی اور بیہقی نے حضرت براء ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے بیت المقدس کی طرف سولہ یا سترہ مہینہ نماز پڑھی اور آپ کعبہ کی طرف نماز پڑھنے کو پسند فرماتے تھے اور آپ اپنے سر مبارک کو آسمان کی طرف اٹھاتے تھے تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی لفظ آیت ” قد نری تقلب وجھک۔۔ “ (الآیہ) (اس پر) آپ نے کعبہ کی طرف اپنا رخ فرما لیا لوگوں میں سے نادان یعنی یہود نے کہا کس چیز نے ان لوگوں کو ان کے قبلہ سے پھیر دیا جس پر وہ پہلے تھے۔ تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” قل للہ المشرق والمغرب، یھدی من یشاء الی صراط مستقیم “۔ (4) ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے اور النحاس نے الناسخ میں اور امام بیہقی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سب سے پہلے قرآن مجید میں قبلہ کا منسوخ ہونا نازل ہوا اور یہ اس وجہ سے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی تو وہاں زیادہ تر یہودی رہتے تھے اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس کی طرف رخ کرنے کا حکم فرمایا تو یہودی خوش ہوگئے۔ رسول اللہ ﷺ نے دس سے کچھ اور مہینے بیت المقدس کی طرف رخ فرمایا اور آپ ابراہیم (علیہ السلام) کے قبلہ کو (یعنی بیت اللہ کو) پسند فرماتے تھے اور آپ پر اللہ تعالیٰ نے (یہ حکم) نازل فرمایا لفظ آیت ” قد نری تقلب وجھک، الی قولہ فولوا وجوہکم شطرہ “ یعنی اس کی طرف (رخ کرلیجئے) تو اس پر یہودی شک کرنے لگے اور کہنے لگے کہ ان لوگوں کو کس چیز نے ان کے قبلہ سے پھیر دیا جس پر یہ لوگ تھے ؟ تو اس پر اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی لفظ آیت ” قل للہ المشرق والمغرب، یھدی من یشاء الی صراط مستقیم “۔ (5) ابن ابی شیبہ، ابو داؤد (الناسخ میں) النحاس اور بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے مکہ مکرمہ میں بیت المقدس کی طرف نمازیں پڑھیں۔ اس حال میں کہ کعبہ شریف بھی آپ کے آگے ہوتا تھا اور مدینہ منورہ تشریف لے جانے کے بعد بھی آپ نے سولہ مہینے تک (بیت المقدس کی طرف نماز پڑھی) پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو کعبہ شریف کی طرف پھیر دیا۔ (6) ابو داؤد نے الناسخ میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سب سے پہلے قرآن مجید میں قبلہ شریف کا حکم منسوخ ہوا۔ کیونکہ محمد ﷺ بیت المقدس چٹان کی طرف رخ کرتے تھے (نماز میں) اور یہ یہود کا بھی قبلہ تھا۔ آپ نے سترہ مہینے اس کی طرف رخ فرمایا تاکہ یہودی ایمان لے آئیں آپ کا اتباع کرلیں اور تاکہ عرب کے ان پڑھ لوگوں کو بھی اس کی دعوت دیں (پھر) اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” قل للہ المشرق والمغرب فاینما تولوا فثم وجہ اللہ “ اور فرمایا لفظ آیت ” قد نری تقلب وجھک فی السماء “ (الآیہ) ابن جریر نے عکرمہ (رح) مرسلا روایت کیا۔ بیت اللہ کا قبلہ بنائے جانے کی خواہش (7) ابو داؤد نے الناسخ میں أبو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے بیت المقدس کی طرف نظر فرمائی اور جبرائیل سے فرمایا کہ میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے یہود کے قبلہ کے علاوہ (دوسرے) قبلہ کی طرف پھیر دے۔ جبرائیل نے ان سے فرمایا کہ میں بھی آپ کی طرح ایک بندہ ہوں اور میں کسی چیز کا کوئی اختیار نہیں رکھتا سوائے اس کے جو میں حکم کیا جاتا ہوں۔ اپنے رب سے دعا کریں اور اسی سے سوال کریں۔ رسول اللہ ﷺ اپنی نظر آسمان کی طرف لگائے رکھتے تھے اس امید میں کہ جبرائیل (علیہ السلام) وہ حکم لے کر آئیں گے جو میں نے سوال کیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی۔ لفظ آیت ” قد نری تقلب وجھک فی السماء “ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ آسمان کی طرف نظر لگائے رکھتے ہیں اس حکم کے بارے میں جس کا آپ سوال کرتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” فول وجھک شطر المسجد الحرام “ فرمایا اپنے چہرہ کو نماز میں مسجد حرام کی طرف پھیر لیجئے۔ لفظ آیت ” وحیثما کنتم “ یعنی زمین میں (آپ جہاں بھی ہوں) ” فولوا وجوہکم “ یعنی نماز میں (اپنا چہرہ پھیر لیں) ” شطرہ “ یعنی کعبہ کی طرف روایت مرسل ہے۔ (8) ابن اسحاق، ابن جریر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے دلائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قبلہ شام سے کعبہ کی طرف رجب میں تبدیل ہوا تھا جبکہ رسول اللہ ﷺ کے مدینہ منورہ میں تشریف آوری کو سترہ مہینے گزر چکے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کے پاس (یہودیوں کے بڑے لوگ) رفاعہ بن قیس، قروم بن عمرو، کعب بن اشرف، نافع بن ابی نافع، حجاج بن عمرو، حلیف، کعب بن اشرف، ربیع بن ابی الحقیق، کنانہ بن أبی الحقیق آئے کہنے لگے اے محمد ! کس بات نے آپ کو اس قبلہ سے پھیر دیا جس پر آپ پہلے تھے اور آپ گمان کرتے ہیں کہ آپ ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت اور اس کے دین پر ہیں۔ اپنے قبلہ کی طرف لوٹ آئے جس پر آپ (پہلے) تھے تو ہم آپ کا اتباع کریں گے اور آپ کی تصدیق کریں گے حالانکہ وہ لوگ آپ کو اپنے دین سے ہٹانا چاہتے تھے (اتباع کرنا نہیں چاہتے تھے) اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” سیقول السفھاء من الناس “ إلی قولہ : ” الا لنعلم من یتبع الرسول من ینقلب علی عقبیہ “ پھر فرمایا لفظ آیت ” وان کانت لکبیرۃ الا علی الذین ھدی اللہ “ یعنی یہ حکم اگرچہ بہت بھاری ہے لیکن ان لوگوں پر نہیں جن کو اللہ تعالیٰ ثابت قدم رکھیں لفظ آیت ” وما کان اللہ لیضیع ایمانکم “ یعنی تمہاری نماز پہلے قبلہ کی طرف اور تمہارا تصدیق کرنا اپنے نبی کا اور (پھر) خاص کر تمہارا اتباع کرنا دوسرے قبلہ کی طرف کسی چیز کو اللہ تعالیٰ ضائع نہیں فرمائے گا اور ان تمام چیزوں کا اجر عطا فرمائے گا۔ لفظ آیت ” ان اللہ بالناس لرؤوف الرحیم الی قولہ فلا تکونن من الممترین “ تک۔ (9) امام وکیع، عبد بن حمید، ابو داؤد (الناسخ میں) نسائی، ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے حضرت براء ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” سیقول السفھاء من الناس “ سے مراد یہود ہیں۔ (10) امام ابو داؤد نے الناسخ میں مجاہد کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قرآن مجید میں پہلا نسخ قبلہ کا ہے۔ پھر پہلی نماز کا۔ (11) امام طبرانی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ بیت المقدس کی طرف سولہ مہینے تک نماز پڑھتے رہے پھر بعد میں قبلہ بدل گیا۔ مدینہ منورہ میں سولہ یا سترہ سال قبلہ بیت المقدس رہا (12) امام بیہقی نے دلائل میں زہری (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے مکہ مکرمہ سے نکلنے کے سولہویں مہینے کے شروع میں رجب (کے مہینے) میں مسجد حرام کی طرف قبلہ کو پھیر دیا گیا اور رسول اللہ ﷺ بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے ہوئے اپنے چہرہ کو آسمان کی طرف اٹھاتے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے (یہ حکم) نازل فرما دیا کہ اپنے چہرہ کو مسجد حرام کی طرف پھیر لیجئے (پھر فرمایا) لفظ آیت ” سیقول السفھاء من الناس “ تو بیوقوف لوگ یعنی یہود نے یہ کہنا شروع کردیا کہ اس شخص (یعنی رسول اللہ ﷺ کو اپنے شہر کی طرف اور اپنے باپ کے گھر کی طرف منسوب ہونا اچھا لگا ہے اور ان کو کیا ہوا کہ کبھی ایک طرف رخ کرتے ہیں اور کبھی دوسری طرف رخ کرتے ہیں اور صحابہ میں سے کچھ لوگوں نے کہا کہ ان لوگوں کا کیا ہوگا جو ہم میں سے مرگئے اور وہ بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے تھے اور مشرکین خوش ہوئے اور کہنے لگے کہ محمد ﷺ پر قبلہ کا معاملہ مشتبہ ہوگیا اور قریب ہے کہ وہ تمہارے دین پر آجائے تو اس پر اللہ تعالیٰ نے ان آیات کو نازل فرمایا۔ (13) ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ جب نبی اکرم ﷺ نے مسجد حرام کی طرف رخ فرمایا اس بارے میں لوگوں میں اختلاف ہوگیا اور وہ لوگ مختلف نظریات رکھتے تھے منافقوں نے کہا ان کو کیا ہوا کہ یہ لوگ ایک زمانہ تک ایک قبلہ پر تھے پھر اس کو چھوڑ دیا اور دوسری طرف رخ پھیرلیا اور مسلمانوں نے کہا کہ کاش ہم اپنے بھائیوں کے بارے میں جان لیتے کہ جو مرگئے اور وہ بیت المقدس کی طرف نمازیں پڑھتے تھے۔ کہا اللہ تعالیٰ نے ان کی نمازیں قبول فرمالی ہیں یا نہیں ؟ اور یہودیوں نے کہا کہ محمد ﷺ کو اپنے باپ کے شہر اور اپنی پیدائش کی جگہ کی طرف شوق ہوگیا ہے (اس لئے قبلہ اسی طرف بدل لیا) اگر وہ ہمارے قبلہ پر ثابت قدم رہتا تو ہم امید کرسکتے تھے کہ وہ ہمارا ساتھی ہے جس کا ہم انتظار کر رہے تھے اور مکہ کے مشرکین سے کہا کہ محمد ﷺ پر اپنا دین خلط ملط (یعنی مشکوک) ہوگیا اس لئے تمہارے قبلہ کی طرف متوجہ ہوئے ہیں اور اس بات کو اس نے جان لیا ہے کہ تم اس سے زیادہ ہدایت والے ہو اور عنقریب تمہارے دین میں داخل ہوجائیں گے تو اللہ تعالیٰ نے منافقین کے بارے میں نازل فرمایا لفظ آیت ” سیقول السفھاء من الناس “ سے لے کر ” الا علی الذین ھدی اللہ “ تک۔ دوسرے دو گروہوں کے بارے میں اس کے بعد والی آیات کو نازل فرمایا۔ (14) امام مالک، ابو داؤد (الناسخ میں) ، ابن جریر اور بیہقی نے دلائل میں سعید بن مسیب (رح) سے روایت کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ آنے کے بعد سولہ مہینے بیت المقدس کی طرف نماز پڑھی۔ پھر قبلہ کو کعبہ کی طرف پھیر دیا گیا بدر (کی لڑائی) سے دو ماہ پہلے۔ (15) ابن عدی اور بیہقی نے السنن اور دلائل میں سعید بن مسیب (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے سعد بن ابی وقاص ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ آنے کے بعد سولہ مہینے بیت المقدس کی طرف نماز پڑھی پھر مسجد حرام کی طرف پھیر دئیے گئے بدر (کی لڑائی) سے دو ماہ پہلے۔ (16) امام أبو داؤد نے الناسخ میں سعید بن عبد العزیز (رح) سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے بیت المقدس کی طرف نماز پڑھی۔ ربیع الاول کے مہینے سے لے کر جماد الآخر تک۔ (17) ابن جریر نے سعید بن مسیب (رح) نے فرمایا کہ انصار نے نبی اکرم ﷺ کو مدینہ منورہ تشریف لانے سے پہلے تین حج تک قبلہ اول کی طرف نماز پڑھی اور نبی اکرم ﷺ نے مدینہ منورہ آنے کے بعد سولہ مہینے قبلہ اول کی طرف نماز پڑھی۔ (18) ابن جریر نے معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے مدینہ منورہ آنے کے بعد سولہ مہینے قبلہ اول کی طرف نماز پڑھی۔ (19) ابن جریر نے معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے میدنہ منورہ آنے کے بعد تیرہ مہینے بیت المقدس کی طرف نماز پڑھی۔ (20) البزار اور ابن جریر نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے نو یا دس مہینے بیت المقدس کی طرف نماز پڑھی۔ اس درمیان کہ آپ مدینہ منورہ میں ظہر کی نماز پڑھ رہے تھے اور بیت المقدس کی طرف دورکعتیں پڑھ چکے تھے کہ آپ نے اپنے چہرہ کو کعبہ کی طرف پھیر دیا بیوقوف لوگ کہنے لگے کہ کس بات نے ان کو ان کے قبلہ سے پھیر دیا جس پر پہلے وہ تھے۔ (21) امام بخاری نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا کہ میرے علاوہ کوئی اور باقی نہیں ہے جس نے دو قبلوں کی طرف نماز پڑھی ہو۔ (22) ابو داؤد (الناسخ میں) ابو یعلی اور بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ اور ان کے صحابہ بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے تھے جب یہ آیت نازل ہوئی۔ لفظ آیت ” فول وجھک شطر المسجد الحرام “۔ بنوسلمہ کے پاس سے ایک آدمی گزرا اور اس نے ان کو آواز دی اور وہ لوگ فجر کی نماز کے رکوع میں تھے کہ بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھ رہے تھے۔ خبردار قبلہ کعبہ کی طرف تبدیل ہوچکا ہے دو مرتبہ اس نے کہا (یہ آواز سن کر) وہ لوگ رکوع ہی کی حالت میں کعبہ کی طرف پھرگئے۔ (23) امام مالک، عبد بن حمید، بخاری، مسلم، ابو داؤد نے (الناسخ میں) اور نسائی نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ اس درمیان کہ لوگ قبا میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے ایک آنے والا آیا اس نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ پر اس رات قرآن نازل ہوا ہے۔ اور ان کو حکم کیا گیا ہے کہ کعبہ کا استقبال کریں اس لئے تم بھی اس کا استقبال کرو (پہلے) ان کے چہرے شام کی طرف تھے پھر وہ کعبہ کی طرف گھوم گئے۔ تحویل قبلہ کے موقع پر امتحان (24) زبیر بن بکار نے اخبار مدینہ میں عثمان بن عبد الرحمن ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے تھے تو قبلہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے انتظار میں رہتے تھے اور رسول اللہ ﷺ اہل کتاب کے کاموں میں سے بعض ایسے کام کرلیتے تھے جن کا آپ کو نہ حکم دیا گیا تھا اور نہ اس سے منع کیا گیا تھا۔ اس درمیان کہ رسول اللہ ﷺ اپنی مسجد میں ظہر کی نماز پڑھ رہے تھے دو رکعتیں پڑھ چکے تھے اچانک جبرائیل نازل ہوئے اور ان کو بیت اللہ کی طرف نماز پڑھنے کا اشارہ فرمایا اور جبرائیل (علیہ السلام) نے بھی بیت اللہ کی طرف نماز پڑھی اور اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی لفظ آیت ” قد نری تقلب وجھک فی السماء، فلنولینک قبلۃ ترضھا، فول وجھک شطر المسجد الحرام، وحیث ما کنتم فولوا وجوھکم شطرہ “۔ ” وان الذین اوتوا الکتب لیعلمون انہ الحق من ربھم، وما اللہ بغافل عما یعملون “ تو منافقوں نے اس پر کہا کہ محمد ﷺ کو اپنی سرزمین (یعنی مکہ) اور اپنی قوم (یعنی قریش) کی طرف شوق ہوگیا ہے (اس لئے اس طرف رخ کرلیا ہے) اور مشرکین نے کہا کہ محمد ﷺ نے ارادہ کیا کہ ہم کو اپنا قبلہ اور وسیلہ بنا دیں اور اس بات کو اس نے جان لیا کہ ہمارا دین زیادہ ہدایت والا ہے ان کے دین سے اور یہودیوں نے مؤمنین سے کہا تم لوگ مکہ کی طرف کیوں پھرگئے اور تم نے اس قبلہ کو چھوڑ دیا جو موسیٰ ، یعقوب اور سب انبیاء (علیہم السلام) کا قبلہ تھا۔ اللہ کی قسم ! تم فتنہ میں مبتلا کئے گئے ہو اور ایمان والوں نے کہا کہ ہمارے اور ان کے قبلہ کا ایک حکم ہے یا نہیں ؟ تو اس پر اللہ جل شانہ نے یہ آیت نازل فرمائی لفظ آیت ” سیقول السفھاء من الناس ما ولہم عن قبلتھم التی کانوا علیہا “ الی قولہ ” ایمانکم، ان اللہ بالناس لرؤوف رحیم “ تک۔ (25) عبد بن حمید اور ابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ قبلہ (کے بدلنے) میں (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) آزمائش تھی انصار نے کعبہ کی طرف دو سال نماز پڑھی نبی اکرم ﷺ کے تشریف لانے سے پہلے اور نبی اکرم ﷺ نے مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد سولہ مہینے بیت المقدس کی طرف نماز پڑھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو کعبہ بیت الحرام کی طرف رخ کرنے کا حکم فرمایا۔ اس بارے میں لوگوں نے کہا کس چیز نے ان کو ان کے قبلہ سے پھیر دیا جن پر پہلے وہ تھے اس آدمی کو (یعنی نبی اکرم ﷺ کو اپنی پیدائش کی جگہ کا شوق ہوگیا (اس لئے اس کی طرف رخ کرلیا اللہ جل شانہ نے فرمایا لفظ آیت ” علیہا، قل للہ المشرق والمغرب “ اور لوگوں میں سے کچھ لوگوں نے کہا کہ قبلہ بیت الحرام کی طرف پھیر دیا گیا اور ہمارے ان اعمال کا کیا بنے گا جو ہم نے قبلہ اول کی طرف کئے گئے تھے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” وما کان اللہ لیضیع ایمانکم “ اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزماتے ہیں جس چیز سے چاہیں اپنے حکم میں سے ایک حکم کے بعد دوسرے حکم سے تاکہ وہ جان لیں کہ کون اس کی اطاعت کرنے والا ہے ان میں سے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے اور ان میں سے ہر ایک مقبول ہے اور کسی درجات میں ایمان باللہ، اخلاص اور اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کو تسلیم کرنے میں۔ (26) ابن سعد، ابن ابی شیبہ نے عمارہ بن اوس انصاری ؓ سے روایت کیا کہ ہم نے عشاء کی دو نمازیں (یعنی مغرب اور عشاء) میں سے ایک نماز پڑھ رہے تھے ابھی ہم نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک آدمی نے مسجد کے دروازے پر کھڑے ہوئے آواز دی کہ نماز کعبہ کی طرف واجب ہوگئی ہے تو ہمارے امام نے کعبہ کی طرف رخ پھیرلیا اور (ان کے ساتھ) عورتوں اور بچوں نے بھی۔ (27) ابن ابی شیبہ اور البزار نے أنس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ کا منادی آیا کہ قبلہ بیت اللہ کی طرف پھیر دیا گیا ہے امام دو رکعتیں پڑھا چکا تھا تو سب لوگ گھوم گئے اور باقی دو رکعتیں کعبہ کی طرف ادا کیں۔ (28) ابن سعد نے محمد بن عبد اللہ بن جحش ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ دو قبلوں کی طرف نماز پڑھی۔ بیت اللہ کی طرف قبلہ پھیر دیا گیا اور ہم ظہر کی نماز پڑھ رہے تھے رسول اللہ ﷺ ہمارے ساتھ کعبہ کی طرف پھرگئے اور ہم آپ کے ساتھ پھرگئے۔ (29) ابن ابی حاتم نے أبو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” یھدی من یشاء الی صراط مستقیم “ سے مراد ہے کہ ان کو شہادت اور گمراہیوں اور فتنہ سے نکلنے کی جگہ کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ (30) امام احمد اور بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اہل کتاب ہمارے ساتھ کسی چیز پر اتنا حسد نہیں کرتے جتنا ہم جمعہ (کے دن) پر حسد کرتے ہیں جس کی اللہ تعالیٰ نے ہم کو ہدایت دی اور وہ اس سے بھٹک گئے اور اس قبلہ پر (حسد کرتے ہیں) جس کی اللہ تعالیٰ نے ہم کو ہدایت دی اور وہ اسے گم کر بیٹھے اور جو ہم امام کے پیچھے آمین کہتے ہیں اس پر بھی وہ ہم سے حسد کرتے ہیں۔ (31) امام طبرانی نے عثمان بن حنیف ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ مکہ سے آنے سے پہلے لوگوں کو صرف اللہ پر ایمان لانے کے قول کی طرف اور بغیر عمل کے (صرف) اس کی تصدیق کے بارے میں بلاتے تھے۔ اور بیت المقدس کی طرف تھا۔ منہ کرنے کی طرف دعوت دیتے تھے۔ جب ہماری طرف ہجرت فرمائی (یعنی مدینہ منورہ کی طرف) اور فرائض نازل ہوئے تو مدینہ کو منسوخ کردیا اور بیت الحرام نے بیت المقدس کو منسوخ کردیا تو ایمان قول اور عمل دونوں پر مشتمل ہوگیا۔ (32) البزار اور طبرانی نے عمرو بن عوف ؓ سے روایت کیا کہ مدینہ منورہ آنے کے بعد ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سترہ مہینے تک بیت المقدس کی طرف نماز پڑھی پھر قبلہ کعبہ کی طرف پھیر دیا گیا۔
Ayah 2:143

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ وَ یَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْكُمْ شَهِیْدًا١ؕ وَ مَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِیْ كُنْتَ عَلَیْهَاۤ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یَّتَّبِعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ یَّنْقَلِبُ عَلٰى عَقِبَیْهِ١ؕ وَ اِنْ كَانَتْ لَكَبِیْرَةً اِلَّا عَلَى الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:143 in the Quran reader

اور جس قبلہ پر آپ تھے اسے ہم نے مقرر نہیں کیا مگر اس لئے کہ ہم جان لیں کون اتباع کرتا ہے رسول کا اس سے ممتاز ہو کر جو پیچھے لپٹ جاتا ہے اپنے الٹے پاؤں، اور بیشک یہ قبلہ بدلنا بھاری بات ہے مگر ان لوگوں پر جن کو اللہ نے ہدایت دی اور اللہ ایسا نہیں ہے کہ ضائع کرے تمہارے ایمان کو، بیشک اللہ لوگوں کے ساتھ بڑا مشفق مہربان ہے

(1) سعید بن منصور، احمد، ترمذی، نسائی (انہوں نے اسے صحیح کہا ہے) ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابن حبان الاسماعیلی نے (اپنی صحیح میں) اور حاکم (انہوں نے اسے صھیح کہا ہے) نے ابو سعید ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ لفظ آیت ” وکذلک جعلنکم امۃ وسطا “ میں وسطا کا معنی ہے عدل انصاف کرنے والی۔ (2) ابن جریر نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا لفظ آیت ” وکذلک جعلنکم امۃ وسطا “ کا مطلب ہے عدلا یعنی انصاف کرنے والی۔ (3) ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” جعلنکم امۃ وسطا “ سے مراد ہے کہ تم کو انصاف کرنے والی امت بنایا ہے۔ امت وسط امت محمدیہ ﷺ ہے (4) امام ابن سعد نے قاسم بن عبدالرحمن سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے ابن عمر ؓ سے پوچھا تم کون ہو ؟ انہوں نے فرمایا تم لوگ کیا کہتے ہو ؟ اس نے کہا ہم یہ کہتے ہیں کہ تم سبط ہو اور تم کہتے ہو کہ تم وسط ہو۔ ابن عمر نے فرمایا سبحان اللہ ! سبط بنی اسرائیل میں تھا اور امت وسط محمد ﷺ کی ساری امت ہے۔ (5) امام احمد، عبد بن حمید، بخاری، ترمذی، نسائی، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابو سعید ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نوح (علیہ السلام) کو قیامت کے دن بلایا جائے گا ان سے کہا جائے گا کیا تم نے (اللہ کا پیغام اپنی امت کو) پہنچا دیا تھا وہ جواب دیں گے ہاں (پہنچا دیا تھا) ان کی قوم کو بلا کر ان سے پوچھا جائے گا کیا نوح (علیہ السلام) نے تم کو اللہ کا پیغام پہنچا دیا تھا۔ وہ کہیں گے ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا اور نہ اس کے علاوہ کوئی اور آیا۔ نوح (علیہ السلام) سے کہا جائے گا تیرا گواہ کون ہے ؟ وہ فرمائیں گے محمد ﷺ اور ان کی امت اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” وکذلک جعلنکم امۃ وسطا “ فرمایا الوسط سے مراد ہے العدل یعنی انصاف کرنے والی نے پھر تم کو بلایا جائے گا تم نوح (علیہ السلام) کی تبلیغ کی گواہی دوں گے اور میں تم پر گواہی دوں گا۔ (6) سعید بن منصور، احمد، نسائی، ابن ماجہ اور بیہقی نے البعث والمنثور میں ابو سعید ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک نبی کو قیامت کے دن لایا جائے گا اور اس کے ساتھ صرف ایک آدمی ہوگا (پھر) ایک اور نبی کو لایا جائے گا اس کے ساتھ دو آدمی ہوں گے اور اس سے زیادہ بھی ہوں گے اس کی قوم کو بلایا جائے گا ان سے پوچھا جائے گا کیا اس (نبی) نے تم کو اللہ کا پیغام پہنچایا تھا وہ کہیں گے نہیں۔ پھر اس نبی سے پوچھا جائے گا کیا تم نے اپنی قوم کو (اللہ کا پیغام) پہنچایا تھا وہ فرمائیں گے ہاں۔ (پھر) ان سے کہا جائے گا تیرے لئے کون گواہی دے گا۔ وہ فرمائیں گے محمد ﷺ اور ان کی امت محمد ﷺ اور ان کی امت کا بلایا جائے گا ان سے پوچھا جائے گا کیا اس نبی نے اپنی قوم کو اللہ کا پیغام پہنچا دیا تھا وہ کہیں گے ہاں ! (پہنچا دیا تھا) ان سے پوچھا جائے گا تمہیں کیسے علم ہے ؟ وہ کہیں گے ہمارے پاس نبی ﷺ تشریف لائے تھے اور انہوں نے ہم کو بتایا تھا کہ (سب) رسولوں نے (اپنی اپنی قوم کو) اللہ کا پیغام پہنچا دیا تھا۔ اسی لئے فرمایا لفظ آیت ” وکذلک جعلنکم امۃ وسطا “ فرمایا وسط سے مراد عدلا یعنی انصاف کرنے والی لفظ آیت ” لتکونوا شھداء علی الناس ویکون الرسول علیکم شھیدا “۔ (7) ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ نے جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا میں اور میری امت قیامت کے دن ایک ٹیلے پر مخلوق کو دیکھ رہے ہوں گے۔ لوگوں میں سے کوئی بھی ایسا نہ ہوگا جو یہ تمنا کرنا ہوگا کہ وہ ہم میں سے ہوتا اور ہر نبی کو اس کی قوم جھٹلائے گی تو ہم اس بات کو گواہی دیں گے کہ انہوں نے اپنے رب کا پیغام (اپنی امت کو) پہنچا دیا تھا۔ (8) ابن جریر نے ابو سعید ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وکذلک جعلنکم امۃ وسطا لتکونوا شھداء علی الناس “ (اس بات کی گواہی دیں گے) کہ رسولوں نے (اللہ کا پیغام) پہنچا دیا تھا اور لفظ آیت ” ویکون الرسول علیکم شھیدا “ (اور رسول بھی گواہی دیگا) جو کچھ تم نے عمل کیا ہوگا۔ عام مسلمانوں کی شہادت سے جنت کی بشارت (9) ابن المنذر اور حاکم (انہوں نے اس کو صحیح بھی کہا ہے) حضرت جابر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نبو سلمہ کے ایک جنازہ میں حاضر تھے اور میں آپ کے پہلو میں تھا ان کے بعض نے کہا للہ کی قسم یا رسول اللہ ! یہ اچھا آدمی تھا پاکدامن اور مسلمان تھا اور انہوں نے اس کی خیر کے ساتھ تعریف کی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم ایسا کہتے ہو عرض کیا یا رسول اللہ ! جو ہمارے لئے ظاہر ہے (ہم وہی کہتے ہیں) اور اللہ تعالیٰ رازوں کو زیادہ جاننے والے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” وجبت “ (اس پر جنت واجب ہوگئی) راوی نے کہا ہم آپ کے ساتھ تھے بنو حارثہ یا بنو عبد الاشھل کے ایک آدمی کے جنازہ میں ایک آدمی نے کہا بہت برا آدمی تھا جو کچھ ہم نے جانا یہ فحش کلام تھا ایسا تھا ویسا تھا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم ایسا کہتے ہو عرض کیا یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ رازوں کو جاننے والے ہیں ہم وہی کہتے ہیں جو ظاہر ہوتا ہے آپ نے فرمایا ” وجبت ‘ (اس پر دوزخ واجب ہوگئی) پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ لفظ آیت ” وکذلک جعلنکم ومۃ وسطا لتکونوا شھداء علی الناس “۔ (10) امام الطیالسی، احمد، بخاری، مسلم، نسائی اور حکیم ترمذی نے نوادر الاصول میں حضرت انس ؓ سے روایت کیا کہ وہ ایک جنازہ کے پاس سے گزرے اس میت کی بہت تعریف کی گئی نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تین مرتبہ فرمایا ” وجبت وجبت وجبت “ پھر ایک جنازہ سے گزرے لوگوں نے اس کی برائی بیان کی نبی اکرم ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا ” وجبت “ (واجب ہوگئی) پھر آپ نے فرمایا جس کی تم نے اچھی تعریف کی اس کے لئے جنت واجب ہوگئی اور جس کی تم نے برائی بیان کی اس کے لئے جہنم واجب ہوگئی۔ تم لوگ زمین میں اللہ کے گواہ ہو (تین مرتبہ فرمایا) ۔ ترمذی نے زیادہ کیا کہ پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ لفظ آیت ” وکذلک جعلنکم ومۃ وسطا لتکونوا شھداء علی الناس “۔ (11) ابن ابی شیبہ، احمد، بخاری، ترمذی، نسائی نے حضرت عمر ؓ سے روایت کیا کہ ان کے پاس سے ایک جنازہ گزرا میت کی خیر کے ساتھ تعریف کی گئی عمر ؓ نے فرمایا واجب ہوگئی واجب ہوگئی۔ پھر دوسرا جنازہ گزرا اس کی برائی بیان کی گئی حضرت عمر ؓ نے فرمایا واجب ہوگئی۔ ابو الاسود نے عرض کیا کیا چیز واجب ہوگئی ؟ انہوں نے فرمایا میں نے ویسا ہی کہا جیسے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس مسلمان کے لئے کوئی شخص خیر کی گواہی دے دیں۔ اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل فرما دیں گے ہم نے عرض کیا اگر تین مسلمان گواہی دیں آپ نے فرمایا اور تین (کا بھی یہی حکم ہے) پھر ہم نے عرض کیا اگر دو مسلمان گواہی دیں آپ نے فرمایا اور دو (کا بھی یہی حکم ہے) پھر ایک کے بارے میں ہم نے سوال نہیں کیا۔ (12) امام احمد، ابن ماجہ، طبرانی، البغوی، حاکم (فی الکنی) دار قطنی (فی الطراد) حاکم (فی المستدرک) اور بیہقی (فی السنن) ابو زھیر ثقفی ؓ سے روایت کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ عنقریب تم جان لوگے اپنے اچھے لوگوں کو اپنے برے لوگوں میں سے صحابہ نے عرض کیا وہ کس طرح یا رسول اللہ ؟ آپ نے فرمایا اچھی تعریف کے ساتھ اور بری تعریف کے ساتھ تم زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔ (13) ابن جریر، ابن ابی حاتم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک جنازہ نبی اکرم ﷺ کے پاس لایا گیا آپ نے اس پر نماز پڑھی لوگوں نے (میت کے بارے میں کہا) اچھا آدمی تھا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا واجب ہوگئی۔ (یعنی جنت واجب ہوگئی) (پھر) دوسرا جنازہ لایا گیا لوگوں نے کہا یہ برا آدمی تھا۔ آپ نے فرمایا واجب ہوگئی (یعنی دوزخ واجب ہوگئی) ابی کعب ؓ نے عرض کیا آپ کے اس ارشاد کا کیا مطلب ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” لتکونوا شھداء علی الناس “ (کہ تم لوگوں پر گواہ ہو) ۔ (14) امام احمد، ابو یعلی، ابن حبان، حاکم، ابو نعیم نے الحلیہ میں بیہقی نے شعب الایمان میں اور الضیاء نے المختارہ میں حضرت انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو کوئی مسلمان مرتا ہے اور اس کے پڑوس کے گھروں کے چار آدمی اس بات کی گواہی دے دیں کہ وہ اس کے بارے میں خیر کے سوا کچھ نہیں جانتے۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تمہاری شہادت اس کے بارے میں قبول کرتی ہے۔ اور اس کے وہ گناہ بھی معاف کر دئیے گئے ہیں جن کو تم نہیں جانتے۔ (15) ابن ابی شیبہ، ہناد، ابن جریر، طبرانی نے سلمہ بن اکوع ؓ سے روایت کیا کہ انصار میں سے ایک آدمی کا جنازہ نبی اکرم ﷺ کے پاس سے گزرا۔ اس کی خیر کے ساتھ تعریف کی گئی تو آپ نے فرمایا واجب ہوگئی۔ پھر دوسرا جنازہ آپ کے پاس سے گزرا اس کی برائی بیان کی گئی تو آپ نے فرمایا واجب ہوگئی۔ عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا چیز واجب ہوگئی آپ نے فرمایا کہ آسمان میں فرثتے اللہ کے گواہ ہیں اور تم زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔ (16) الخطیب نے اپنی تاریخ میں انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو کوئی سلمان مرتا ہے اور اس کے قریبی پڑوسی میں سے دو آدمی گواہی دیتے ہوئے کہتے ہیں اے اللہ ! ہم اس کے بارے میں خیر کے سوا کچھ نہیں جانتے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتے ہیں تم گواہ ہوجاؤ کہ میں نے ان کی گواہی کو قبول کرلیا اور ان گناہوں کو بھی معاف کردیا جن کو وہ نہیں جانتے تھے۔ (17) الفریابی، سعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن ابی حاتم نے حضرت کعب ؓ سے روایت کیا کہ اس امت کو تین چیزیں عطا کی گئی ہیں جو سوائے انبیاء کے کسی کو نہیں دی گئیں۔ نبی کو کہا جاتا ہے تبلیغ کرو کوئی حرج نہیں اور تو اپنی قوم پر گواہ ہے اور تو دعا کر تیری دعا قبول کروں گا اور اس امت کو بھی یہی کہا گیا لفظ آیت ” وجعل علیکم فی الدین من حرج “ (اور اس نے دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی) اور فرمایا لفظ آیت ” لتکونوا شھداء علی الناس “ (تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہوجاؤ) اور فرمایا لفظ آیت ” ادعونی استجب لکم “ (مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعا کو قبول کروں گا) ۔ (18) ابن جریر نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ امتیں قیامت کے دن کہیں گی اللہ کی قسم اس امت کے لوگ سارے کے سارے انبیاء ہوں گے جب اللہ تعالیٰ کی عنایات اور نوازشات کو دیکھیں گے۔ امت محمدیہ کی انبیاء (علیہم السلام) کے حق میں گواہی (19) ابن المبارک نے الزہد میں اور ابن جریر نے حبان بن ابی جبلہ (رح) سے روایت کیا کہ جو اپنی بات کو رسول اللہ ﷺ کی طرف نسبت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے بندوں کو جمع فرائیں گے تو سب سے پہلے اسرافیل کو بلایا جائے گا۔ اس کا رب اس سے پوچھے گا میرے عہد کے ساتھ کیا کیا گیا ؟ کیا تو نے میرا عہد پہنچا دیا تھا ؟ وہ عرض کریں گے ہاں اے میرے رب میں نے جبرائیل کو پہنچا دیا تھا۔ پھر جبرائیل کو بلایا جائے گا ان سے پوچھا جائے گا کیا اسرافیل نے تجھے میرا عہد پہنچایا تھا وہ عرض کریں گے ہاں تو اسرافیل بری ہوجائے گا پھر جبرئیل سے پوچھا جائے گا کیا تو نے میرا عہد پہنچا دیا تھا ؟ وہ عرض کریں گے ہاں میں نے رسولوں کو عہد پہنثا دیا تھا (پھر) رسولوں کو بلایا جائے گا۔ ان سے کہا جائے گا کیا جبرئیل نے تم کو میدا عہد پہنچا دیا تھا۔ وہ عرض کریں گے ہاں ! تو جبرائیل کو بھی چھوڑ دیا جائے گا۔ پھر رسولوں سے پوچھا جائے گا کیا تم نے میرا عہد پہنچا دیا تھا وہ عرض کریں گے ہاں ! ہم نے آپ کا پیغام امتوں کو پہنچا دیا تھا پھر امتوں کو بلایا جائے گا اور ان سے پوچھا جائے گا کیا رسولوں نے میرا عہد تم کو پہنچا دیا تھا ان میں بعض امتیں جھوٹ بولیں گی اور بعض سچ بولیں گی۔ رسول کہیں گے ان پر ہمارے گواہ (موجود) ہیں پوچھا جائے گا وہ کون ہیں ؟ وہ کہیں گے محمد ﷺ کی امت۔ پھر امت محمد ﷺ کو بلایا جائے گا اور ان سے پوچھا جائے گا کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ امتوں کو میرا پیغام پہنچا دیا گیا تھا ؟ وہ عرض کریں گے ہاں ! (دوسری) امتیں کہیں گی اے ہمارے رب یہ ہمارے اوپر کسی طرح گواہی دے رہے ہیں جنہوں نے ہمارا دور نہیں پایا ؟ اللہ تعالیٰ (امت محمدیہ) سے فرمائیں گے تم کس طرح ان پر گواہی دے رہے ہو حالانکہ تم نے ان کو نہیں پایا۔ وہ عرض کریں گے اے ہمارے رب آپ نے ہمارے پاس رسول کا بھیجا اور ہمارے اوپر کتاب نازل ہوئی اور اس میں (پہلی امتوں کے) قصے بیان فرمائے کہ رسولوں نے پیغام پہنچا دیا تھا سو ہم نے اس کے مطابق گواہی دی ہے جو آپ نے ہمیں بتایا تھا رب تعالیٰ فرمائیں گے تم نے سچ کہا اسی وجہ (اللہ تعالیٰ نے) فرمایا لفظ آیت ” وکذلک جعلنکم امۃ وسطا “ الوسط سے مراد ہے العدل یعنی انصاف والی۔ لفظ آیت ” وکذلک جعلنکم امۃ وسطا لتکونوا شھداء علی الناس “ (تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہوجاؤ اور رسول ﷺ بھی تم پر گواہ ہوجائیں) ۔ (20) ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ کے طریق سے أبی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت ” لتکونوا شھداء علی الناس “ کے بارے میں فرمایا کہ قیامت کے دن تم لوگوں پر گواہ ہوگے نوح (علیہ السلام) پر، قوم ھود پر، قوم صالح پر اور قوم شعیب پر اور امت محمدیہ پر گواہی دے گا کہ ان کے رسولوں نے ان کو (اللہ کا پیغام) پہنچا دیا تھا اور وہ لوگ اپنے رسولوں کو جھٹلائیں گے۔ أبو العالیہ (رح) نے فرمایا کہ ابی کی قرأت میں یوں ہے ” لتکونوا شھداء علی الناس یوم القیمۃ “۔ (21) ابن ابی حاتم نے عطا (رح) سے اس آیت ” ویکون الرسول علیکم شھیدا “ کے ماتحت روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ گواہی دیں گے کہ وہ ایمان لائے تھے جب ان کے پاس حق پہنچا اور انہوں نے اس کو قبول کیا تھا اور اس کی تصدیق کی تھی۔ (22) عبد بن حمید نے عبید بن عمیر (رح) سے روایت کیا کہ اللہ کی اجازت سے ایک نبی تشریف لائے گا جبکہ اس کے ساتھ کوئی ایک امتی بھی نہ ہوگا امت محمدیہ ﷺ اس کے حق میں گواہی دے گی کہ اس نبی نے اپنی امت کو (اللہ کا پیغام) پہنچا دیا تھا۔ (23) عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ کہا جائے گا اے نوح ! کیا تو نے پیغام نہیں پہنچا دیا تھا ؟ وہ عرض کریں گے ہاں ! اے میرے رب اللہ تعالیٰ فرمائیں گے جون تیرے لئے گواہی دے گا وہ عرض کریں گے اے میرے رب احمد اور اس کی امت (یعنی محمد ﷺ کی امت) پھر فرمایا جب بھی کسی نبی کو بلایا جائے گا اس کی قوم اس کو جھٹلائے گی تو یہ امت (یعنی امت محمدیہ) اس کے لئے پیغام پہنچانے کی گواہی دے گی۔ جب اس امت سے سوال ہوگا تو نہیں پوچھا جائے گا ان کے بارے میں مگر اس کے نبی سے۔ (24) حکیم ترمذی نے نوادر الاصول میں حبان بن ابو جبلہ (رح) سے روایت کیا مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ امت محمدیہ کو اللہ تعالیٰ کے سامنے ایک ٹیلہ پر بلند کیا جائے گا وہ رسولوں کے حق میں ان کی امتوں کے خلاف پیغام پہنچا دینے کی گواہی دے گی اور ان میں سے وہ شخص گواہی دے گا کہ اس کے دل میں اپنے سلمان بھائی کے بارے کینہ نہ ہوگا۔ (25) امام مسلم، ابو داؤد، ترمذی نے ابو داؤد ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن (دنیا میں) بہت زیادہ لعنت کرنے والے نہ گواہ ہوں گے اور نہ سفارش کرنے والے ہیں گے۔ وأما قولہ تعالیٰ : ” وما جعلنا القبلۃ التی کنت علیہا “ الآیہ (26) ابن جریر نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وما جعلنا القبلۃ التی کنت علیہا “ میں قبلہ سے مراد بیت المقدس ہے۔ لفظ آیت ” الا لنعلم من یتبع الرسول “ یعنی ان کو آزمایا گیا تاکہ (اس بات کو) جان لیں کہ کون اس کے حکم کی فرمانبرداری کرتا ہے۔ (27) ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے سنن میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” الا لنعلم “ کا مطلب ہے تاکہ یقین والوں کو شک والوں سے ممتاز کر دے لفظ آیت ” وان کانت لکبیرۃ “ یعنی اس (قبلہ) کا پھیرنا شک کرنے والوں پر (بھاری ہے) ۔ (28) ابن جریر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ لوگوں میں سے بعض وہ لوگ جو اسلام لے آئے تھے وہ (اسلام سے) پھرگئے اور کہنے لگے کہ قبلہ کبھی یہاں اور کبھی وہاں (یعنی کبھی ادھر اور کبھی ادھر) ۔ (29) عبد بن حمید، ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وان کانت لکبیرۃ “ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ان کو بیت المقدس سے کعبہ کی طرف پھرجانے کا حکم دیا گیا تھا (یہ حکم ان پر بھاری تھا) ۔ (30) امام وکیع، الفریابی، الطیالسی، احمد، عبد بن حمید، ترمذی، ابن جریر، ابن المنذر، ابن حبان، طبرانی اور حاکم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا جب رسول اللہ ﷺ نے قبلہ کی طرف رخ فرمایا تو صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ان لوگوں کا کیا بنے گا جو مرگئے ہیں اور وہ بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے تھے تو اس پر اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” وما کان اللہ لیضیع ایمانکم “۔ بیت المقدس کی طرف رخ کرکے پڑھی ہوئی نمازیں (31) سعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم نے حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وما کان اللہ لیضیع ایمانکم “ سے مراد ہے کہ تمہاری نمازیں بیت المقدس کی طرف (پڑھی جانے والی اللہ تعالیٰ ان کے اجر کو ضائع نہیں فرمائیں گے) ۔ (32) ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وما کان اللہ لیضیع ایمانکم “ سے مراد ہے کہ وہ نماز جو تم نے قبلہ کی تبدیلی سے پہلے پڑھی ہے وہ ضائع ہوگئی اور ایمان والے لوگ اس بات سے ڈرتے تھے کہ جو ان میں سے بیت المقدس کی طرف نمازیں پڑھ کر وفات پاگئے ہیں۔ شاید کہ وہ نمازیں قبول نہ ہوں گی (تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی) لفظ آیت ” وما کان اللہ لیضیع ایمانکم “۔ (33) ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ ” رؤوف “ سے مراد ہے رؤوف بکم یعنی وہ تمہارے ساتھ بہت ہی مہربانی کرنے والا ہے۔