2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 2:194

اَلشَّهْرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَ الْحُرُمٰتُ قِصَاصٌ١ؕ فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَیْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَیْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى عَلَیْكُمْ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 2:194 in the Quran reader

حرمت والا مہینہ حرمت والے مہینہ کے عوض اور حرمتیں معاوضہ کی چیزیں ہیں، سو جو شخص تم پر کوئی زیادتی کرے تو اس پر اتنی ہی زیادتری کرو جتنی زیادتی اس نے تم پر کی ہے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور یقین کرو کہ اللہ ڈرنے والوں کے ساتھ ہے

(1) امام بکاری نے نافع (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی ابن عمر ؓ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ آپ کو کس چیز نے اس بات پر آمادہ کیا کہ ایک سال حج کرو اور ایک سال عمرہ اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد چھوڑ دو اور آپ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں کتنی رغبت دلائی ہے انہوں نے فرمایا اے میرے بھائی کے بیٹے اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔ ایمان لانا اللہ پر اور اس کے رسول پر پانچ نمازیں (پڑھنا) رمضان کے روزے رکھنا زکوٰۃ ادا کرنا اور بیت اللہ کا حج کرنا اس شخص نے کہا کیا آپ نے نہیں سنا جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ذکر فرمایا لفظ آیت ” وان طایفتن من المؤمنین اقتتلوا فاصلحوا بینھما “ (الحجرات آیت 9) (اور) لفظ آیت ” وقتلوہم حتی لاتکون فتنۃ “ (پھر) فرمایا ہم نے رسول اللہ ﷺ میں (ایسا ہی) کیا (اس وقت) اسلام تھوڑا تھا اور ایک آدمی اپنے دین کے بارے میں آزمائش میں مبتلا کیا جاتا تھا تو لوگ اسے قتل کردیتے یا اسے عذاب دیتے۔ یہاں تک کہ اسلام پھیل گیا اب کوئی فتنہ نہیں رہا۔ (2) ابن ابی حاتم نے ابو ظبیان (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی حضرت سعد ؓ کے پاس آیا اور کہا کیا آپ قتال کے لئے نہیں نکلے یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے حضرت سعد ؓ نے فرمایا میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ قتال کرچکا یہاں تک کہ فتنہ نہیں رہا لیکن تو اور ذوالبطین یہ چاہتے ہو کہ میں قتال کروں یہاں تک کہ (دوبارہ) فتنہ ہوجائے۔ (3) ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے ہجرت کے چھٹے سال میں عمرہ کا سفر فرمایا اور مشرکوں نے آپ کو (مکہ شہر میں) داخل ہونے اور بیت اللہ تک پہنچنے سے روک دیا اور آپ کو آپ کے ساتھ مسلمانوں کو ذوالقعد میں روک دیا جو رحمت والا مہینہ تھا یہاں تک کہ آپس میں اگلے سال (مکہ شہر) میں داخل ہونے کا فیصلہ ہوا پھر آپ اور آپ کے ساتھ مسلمانوں میں سے اگلے سال (معاہدہ کے مطابق مکہ شہر میں) داخل ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اسی واقعہ کو بیان فرمایا اور یہ آیت نازل فرمائی لفظ آیت ” الشھر الحرام بالشھر الحرام والحرمت قصاص “۔ (4) الواحدی نے الکلبی سے انہوں نے ابو صالح سے انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت صلح حدیبیہ کے بارے میں نازل ہوئی اور یہ اس وجہ سے کہ رسول اللہ ﷺ جب بیت اللہ سے روک دئیے گئے پھر مشرکوں نے آپ سے اس بات پر صلح کرلی کہ آئندہ سال آپ عمرہ کے لئے آئیں گے جب آئندہ سال آیا تو آپ نے اور آپ کے صحابہ نے عمر قضا کی تیاری کی اور اس بات کا خوف بھی تھا کہ قریش اس وعدہ کو پورا نہ کریں گے اور ان کو مسجد حرام سے روک دیں گے۔ اور ان سے قتال کریں گے اور صحابہ کرام ؓ نے حرمت والے مہینہ میں اس سے قتال کرنے کو ناپسند کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس پر (یہ آیت) اتاریں۔ احرام سے نکلنے کا طریقہ حلق یا قصر ہے (5) ابن جریر، ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب نے ذوالقعدہ میں عمرہ کا احرام باندھا اور ان کے ساتھ قربانی کے جانور بھی تھے یہاں تک کہ جب یہ لوگ حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تو مشرکوں نے ان کو روک دیا تو رسول اللہ ﷺ نے (آئندہ سال) لوٹ کر آنے پر ان سے صلح کرلی (اور یہ طے پایا) کہ آئندہ سال آپ لوگ آئیں دن مکہ مکر مہ میں رہیں اور آپ کے ساتھ مکہ والوں میں سے کوئی نہیں جائے گا (یہ معاہدہ طے ہوجانے کے بعد) رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب نے حدیبیہ میں اپنے جانوروں کو ذبح کردیا اور بالوں کا حلق یا قصر کرالیا جب آئندہ سال آیا تو آپ اپنے صحابہ کے ساتھ (دوبارہ) تشریف لائے اور ذوالقعدہ میں مکہ میں داخ (رح) ہوگئے۔ (سب نے) عمرہ ادا کیا اور (معاہدہ کے مطابق) تین دن (مکہ میں) قیام فرمایا اور مشرکین اس بات پر فخر کرتے تھے جب انہوں نے ان کو (گزشتہ سال) حدیبیہ میں روک دیا تھا اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے میں وہی مہینہ عطا فرمایا اور آپ کو مکہ میں داخل فرما دیا اسی مہینہ میں جس میں انہوں نے آپ کو روک دیا تھا اور فرمایا لفظ آیت ” الشھر الحرام بالشھر الحرام والحرمت قصاص “۔ (6) عبد بن حمید، ابن جریر نے مجاہد (رح) سے لفظ آیت ” الشھر الحرام بالشھر الحرام والحرمت قصاص “ کے بارے میں روایت کیا کہ قریش نے رسول اللہ ﷺ کو حدیبیہ کے دن ذوالقعدہ میں بلد حرام سے روک دینے پر فخر کیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے آئندہ سال آپ کو مکہ میں داخل فرما دیا آپ نے اپنا عمرہ قضا کیا اور حدیبیہ کے موقع پر جو وہ حائل ہوتے تھے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اس کے بدلہ آئندہ سال دے دیا۔ (7) عبد بن حمید، ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب ذوالقعدہ میں عمرہ کے لئے تشریف لائے اور ان کے ساتھ قربانی کے جانور تھے یہاں تک کہ جب یہ لوگ حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تو مشرکوں نے ان کو روک دیا تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے (اس بات پر) صلح کرلی کہ اس سال واپس چلے جائیں گے یہاں تک کہ آئندہ سال عمرہ کریں گے اور تین رات مکہ مکرمہ میں رہیں گے اور ہتھیار لے کر مکہ داخل نہ ہوں گے۔ اور اہل مکہ میں کوئی بھی آپ کے ساتھ (باہر) نہ نکلے گگا (معاہدہ کے بعد) سب نے قربانی کے جانور حدیبیہ ہی میں ذبح کر دئیے اور حلق یا قصر بھی کروایا یہاں تک کہ جب آئندہ سال آی اتو نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب ذوالقعدہ میں پھر عمرہ کے لئے تشریف لائے یہاں تک کہ (معاہدہ کے مطابق) مکہ میں داخل ہوئے اور تین راتیں رہے اور مشرکین نے اس بات پر فکر کیا جب انہوں نے حدیبیہ کے دن آپ کو واپس لوٹا دیا تھا اللہ تعالیٰ نے اس سال کے بدلے آئندہ سال ذوالقعدہ میں آپ ﷺ کو مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کی سعادت عطا فرمائی۔ جس میں انہوں نے واپس لوٹا دیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” الشھر الحرام بالشھر الحرام والحرمت قصاص “۔ (8) ابن جریر اور النحاس نے الناسخ میں روایت کیا کہ میں نے عطا (رح) سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” الشھر الحرام بالشھر الحرام والحرمت قصاص “ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ حدیبیہ کا دن تھا کہ رسول اللہ ﷺ کو بیت الحرام سے روک دیا گیا جب کہ آپ نے عمرہ کا احرام باندھا ہوا تھا (پھر) رسول اللہ ﷺ آئندہ سال عمرہ کا احرام باندھ کر مکہ میں داخل ہوئے پس شہر حرام میں عمرہ پہلے شہر الحرام کے عمرہ کا بدل ہے۔ عمرۃ والقضاء کا تذکرہ (9) بیہقی نے دلائل میں عروہ اور ابن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ حدیبیہ کے سال کے (بعد) آئندہ سال (ہجرت کے) ساتویں سال ذوالقعد میں عمرہ کا احرام باندھ کر (مدینہ منورہ سے) نکلے۔ اور یہ وہ مہینہ تھا جس میں مشرکوں نے آپ کو مسجد حرام سے روک دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس عمرہ کے بارے میں نازل فرمایا لفظ آیت ” الشھر الحرام بالشھر الحرام والحرمت قصاص “ رسول اللہ نے اس حرمت والے مہینہ میں عمرہ ادا فرمایا جس میں آپ کو روک دیا گیا تھا۔ (10) أبو داؤد نے الناسخ میں، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے سنن میں حضرت ابن عباس ؓ سے (ان آیات) لفظ آیت ” فمن عتدی علیکم فاعتدوا علیہ بمثل ما عتدی علیکم “ (اور) ” وجزوا سیءۃ سیءۃ مثلہا “ (شوری آیت 40) ” ولمن انتصر بعد ظلمہ فاولئک ما علیہم من سبیل “ (شوری آیت 41) (اور) ” وان عاقبتم فعاقبوا بمثل ما عوقبتم بہ “ (سورۃ النحل آیت 67) کے بارے میں روایت کیا کہ یہ تمام آیات مکہ میں نازل ہوئیں۔ اور مسلمان ان دنوں تھوڑے تھے اور ان کو ایسی طاقت حاصل نہ تھی جو مشرکین کو مغلوب کرسکتے اور مشرکین ان (مسلمانوں) کو گالیاں دیتے تھے اور تکلیف پہنچاتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم فرمایا کہ جو شخص ان سے بدلہ لینا چاہے تو اتنا ہی بدلہ لے جتنا اس کو تکلیف دی گئی یا صبر کرے یا معاف کر دے۔ جب رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے سلطان بنا کر آپ کو عزت عطا فرمائی (یعنی قوت عطا فرمائی) اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم فرمایا کہ اپنے مظالم اپنے سلطان (یعنی رسول اللہ ﷺ کی طرف لے جائیں اور اہل جاہلیت کی طرف بعض، بعض پر زیادتی نہ کرے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” ومن قتل مظلوما فقد جعلنا لولیہ سلطنا “ (الآیہ) یعنی سلطان اس (مظلوم) کی مدد کرے گا یہاں تک کہ وہ ظالم سے انصاف لے کر دے گا اور جس شخص نے بادشاہ کے علاوہ اپنی ذات کا بدلہ خود ہی لے لیا تو گناہ گار ہے اور زیادتی کرنے والا ہے اور وہ جاہلیت کے عمل کی طرح عمل کرنے والا ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم پر راضی نہ ہوا۔ (11) ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فمن اعتدی علیکم فاعتدوا علیہ “ سے مراد ہے کہ ان (مشرکوں) سے قتال کرو اس حرمت والے مہینہ اور اس حرمت والے شہر میں جیسا کہ وہ تم سے قتال کر رہے ہیں۔ حرمت والے مہینے کا احترام (12) امام احمد، ابن جریر، النحاس نے الناسخ میں حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ حرمت والے مہینہ میں (دشمن سے) جنگ نہیں کرتے تھے مگر جب جنگ کی جاتی تھی تو پھر آپ بھی جنگ کرتے تھے (پھر) جب حرمت والے مہینے آجاتے تو آپ ٹھہر جاتے (یعنی جنگ ختم فرما دیتے) یہاں تک کہ وہ مہینے گزر جاتے۔
Ayah 2:195

وَ اَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ١ۛۖۚ وَ اَحْسِنُوْا١ۛۚ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 2:195 in the Quran reader

اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور نہ ڈالو اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں، اور خوبی کے ساتھ کام کیا کرو، بیشک اللہ تعالیٰ خوبی کے ساتھ کام کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے

(1) امام وکیع، سفیان بن عینیہ، سعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے حضرت حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولا تلقوا بایدیکم الی التھلکۃ “ سے مراد ہے کہ اللہ کے راستہ میں غربت اور افلاس کے ڈر سے خرچ کرنا چھوڑ دینا۔ (2) امام وکیع، عبد بن حمید، بیہقی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا کہ لفظ آیت ” ولا تلقوا بایدیکم الی التھلکۃ “ سے مراد ہے اللہ کے راستہ میں خرچ کرنے کو چھوڑ دینا خرچ کو اگرچہ کھجور کا آدھا ٹکڑا کیوں نہ ہو۔ (3) الفریابی، ابن جریر، ابن المنذر نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ” التھلکۃ “ یہ نہیں ہے کہ آدمی اللہ کے راستہ میں قتل ہوجائے بلکہ اللہ کے راستہ میں خرچ کرنے سے رک جائے۔ (4) عبد بن حمید، ابن جریر نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت لفظ آیت ” ولا تلقوا بایدیکم الی التھلکۃ “ اللہ کے راستہ میں خرچ کرنے کے بارے میں نازل ہوئی۔ (5) امام وکیع اور عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت لفظ آیت ” ولا تلقوا بایدیکم الی التھلکۃ “ اللہ کے راستہ میں خرچ کرنے کے بارے میں نازل ہوئی۔ (6) ابن جریر، ابن ابی حاتم نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا کہ ایک قوم اللہ کے راستہ میں چلتی تھی ان میں سے ایک آدمی زاد راہ لیتا تھا اور وہ افضل آدمی تھا توشہ کے لحاظ سے دوسرے سے اور وہ اپنے توشے سے خشک چیز خرچ کرتا تھا۔ یہاں تک کہ اس کے توشے سے کوئی ایسی چیز باقی نہ رہتی تھی جس کے ساتھ وہ اپنے ساتھی کی غم خواری اور مدد کرتا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) لفظ آیت ” وانفقوا فی سبیل اللہ ولا تلقوا بایدیکم الی التھلکۃ “ نازل فرمائی۔ (7) ابن جریر نے حسن (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ لوگ سفر کرتے تھے اور (سفر میں خرچ کرنے سے) کنجوسی کرتے تھے۔ اور اپنے مالوں سے خرچ نہیں کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم فرمایا کہ وہ اپنی جگہوں میں اللہ کے راستے میں خرچ کریں۔ (8) عبد بن حمید اور بیہقی نے الشعب میں حسن (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” بایدیکم الی التھلکۃ “ سے مراد نخل ہے۔ (9) ابن جریر، ابن ابی حاتم نے زید بن اسلم (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ لوگ بغیر نفقہ کے ان جنگی مہموں میں نکلتے تھے جن کو رسول اللہ ﷺ روزانہ فرما دیتے تھے پھر یا تو ان کا زادراہ ختم ہوجاتا تھا یا چلنے سے عاجز آجاتے پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خرچ کرنے کا حکم فرمایا ان چیزوں میں سے جو اللہ تعالیٰ نے ان کو رزق عطا فرمایا اور (فرمایا) نہ ڈالو اپنے ہاتھوں کو (یعنی اپنے آپ کو) ہلاکت میں اور ” التھلکۃ “ یہ ہے کہ لوگ بھوک پیاس اور چلنے کی وجہ سے ہلاک ہوجائیں اور اس شخص کے بارے میں فرمایا جس کے ہاتھ میں فضل ہے (یعنی جس کے پاس اضافی مال ہے) لفظ آیت ” واحسنوا، ان اللہ یحب المحسنین “ (اور نیکی کرو یعنی غریبوں پر خرچ کرو بیشک اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ (10) عبد بن حمید، ابو یعلی، ابن جریر، البغوی نے معجم میں، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابن عباس، ابن حاتم اور طبرانی نے ضحاک بن ابی جبرہ (رح) سے روایت کیا کہ انصار اللہ کے راستہ میں خرچ کرتے تھے اور صدقہ کرتے تھے۔ ایک دفعہ قحط پڑگیا تو ان کے خیالات بدل گئے اور وہ خرچ کرنے سے رک گئے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اتارا۔ لفظ آیت ” وانفقوا فی سبیل اللہ ولا تلقوا بایدیکم الی التھلکۃ “۔ (11) سفیان بن عینیہ اور عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وانفقوا فی سبیل اللہ ولا تلقوا بایدیکم الی التھلکۃ “ سے مراد ہے کہ تم کو محتاجی یا غریبی کا خوف خرچ کرنے سے نہ روک دے۔ فتح قسطنطنیہ کا تذکرہ (12) عبد بن حمید، ابو داؤد، ترمذی (انہوں نے اس کو صحیح کہا ہے) نسائی، ابو یعلی، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، حاکم (انہوں نے اسے صحیح کہا ہے) طبرانی، ابن مردویہ، بیہقی نے السنن میں اسلم ابو عمران (رح) سے روایت کیا کہ ہم قسطنطنیہ میں تھے اور مصر والوں پر عقبہ بن عامر ؓ گورنر تھے اور شام والوں پر فضالہ بن عبید ؓ گورنر تھے۔ رومیوں میں سے ایک بہت بڑا لشکر (لڑائی کے لئے) نکلا ہم نے بھی ان (سے لڑنے) کے لئے صف بنائی۔ مسلمانوں میں سے ایک آدمی نے رومیوں کے لشکر پر حملہ کیا اور ان میں گھس گیا لوگ چیخنے لگے اور کہنے لگے سبحان اللہ ! اس نے اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں ڈال دیا یا رسول اللہ ﷺ کے صحابی حضرت ابو ایوب ؓ کھڑے ہوئے اور فرمایا اے لوگو ! تم نے اس آیت کی یہ تاویل کی ہے بلاشبہ یہ آیت ہمارے درمیان انصار کی جماعت کے بارے میں نازل ہوئی۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو عزت دی اور مسلمانوں کے مددگار زیادہ ہوگئے تو لوگ چپکے چپکے آپس میں کہنے لگے۔ بلاشبہ ہمارے مال ضائع ہوچکے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے اسلام کو عزت عطا فرمائی اور اس کے مددگار بہت ہیں۔ اگر ہم اپنے مالوں کے درمیان رہیں اور ہم اپنے مالوں کی دیکھ بھال کریں تو اس میں سے جو کچھ ضائع ہوچکا ہے اس کی اصلاح کریں (تو ہمارے لئے بہتر ہوگا) تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر (یہ آیت) نازل فرمائی اور ہم پر رد فرمایا جو کچھ ہم نے کہا تھا لفظ آیت ” وانفقوا فی سبیل اللہ ولا تلقوا بایدیکم الی التھلکۃ “ یعنی مالوں کی دیکھ بھال اس کی اصلاح کی جائے اور جہاد کو چھوڑ دیا جائے یہ تہلکہ ہے۔ (13) امام وکیع، سفیان بن عینیہ، الفریابی، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، حاکم (انہوں نے اسے صحیح کہا ہے) اور بیہقی نے حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت کیا کہ ان سے پوچھا گیا کہ لفظ آیت ” ولا تلقوا بایدیکم الی التھلکۃ “ سے کیا وہ شخص مراد ہے جو دشمن سے مقابلہ کرے پھر ان سے لڑتے ہوئے شہید ہوجائے ؟ انہوں نے فرمایا نہیں لیکن اس سے مراد وہ شخص ہے جو گناہ کرتا رہتا ہے اور اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالتا ہے اور کہتا تھا کہ اللہ تعالیٰ میری کبھی بھی مغفرت نہیں فرمائے گا۔ (14) عبد بن حمید، ابن المنذر، ابن مردویہ، طبرانی اور بیہقی نے الشعب میں نعمان بن بشیر ؓ سے روایت کیا کہ ایک شخص گناہ کرتا رہتا تھا کہ اللہ تعالیٰ میری کبھی مغفرت نہیں فرمائیں گے تو اس پر اللہ تعالیٰ نے اتارا لفظ آیت ” ولا تلقوا بایدیکم الی التھلکۃ “ (15) وکیع، عبد بن حمید، ابن جریر نے عبیدہ سلمانی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولا تلقوا بایدیکم الی التھلکۃ “ سے مراد ہے القنوط یعنی مایوسی، نا امیدی۔ (16) ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” التھلکۃ “ سے مراد اللہ کا عذاب ہے۔ (17) ابن ابی حاتم نے عبد الرحمن بن اسود بن عبد یغوث (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا کہ انہوں نے دمشق کا محاصرہ کیا۔ (ہم میں سے) ایک آدمی کے اکیلے ہی دشمن کی طرف جلدی کی۔ اس پر مسلمانوں نے عیب لگایا (اور) اس بات کو وہ لوگ عمرو بن عاص رضی ال ؛ لہ عنہ کے پاس لے گئے انہوں نے اس آدمی کو بلا بھیجا اور واپس لوٹا دیا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت ” ولا تلقوا بایدیکم الی التھلکۃ “۔ (18) ابن جریر (رح) صحابہ میں سے ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں کہ ” واحسنوا “ سے مراد ہے فرائض کو ادا کرو۔ عبد بن حمید نے ابو اسحاق (رح) سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ (19) عبد بن حمید اور ابن جریر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واحسنوا، ان اللہ یحب المحسنین “ سے مراد ہے اللہ تعالیٰ سے اچھا گمان رکھو۔