2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 2:44

اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَ اَنْتُمْ تَتْلُوْنَ الْكِتٰبَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 2:44 in the Quran reader

کیا تم لوگوں کو بھلائی کا حکم کرتے ہو اور اپنی جانوں کو بھول جاتے ہو حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو تو کیا تم سمجھ نہیں رکھتے

(1) امام عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” اتامرون الناس بالبر وتنسون انفسکم “ سے وہ اہل کتاب مراد ہے جو لوگوں کو نیکی کا حکم کرتے تھے اور اپنے آپ کو بھول جاتے تھے حالانکہ وہ کتاب کی تلاوت کرتے تھے لیکن اس سے نفع نہیں اٹھاتے تھے جو اس کے اندر احکام ہیں (یعنی اس پر عمل نہیں کرتے تھے) ۔ (2) امام ثعلبی اور واحدی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہود مدینہ کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ان میں سے ایک آدمی تھا جو سسرالی اور نسبتی رشتہ داروں اور اس شخص سے جو اس کے اور ان کے درمیان مسلمانوں میں سے رضاعت کا رشتہ تھا کہا کرتا تھا اس دین پر قائم رہ جس پر تو ہے اور اس پر بھی جو یہ آدمی تجھ کو اس کا حکم کرتا ہے اور وہ اس آدمی سے مراد لیتے تھے حضرت محمد ﷺ کی ذات مبارک۔ کیونکہ اس کا حکم حق ہے اور (یہودی) لوگوں کو اس بات کا حکم کرتے تھے اور (خود) ایسا نہیں کرتے تھے (یعنی اسلام قبول نہیں کرتے تھے) ۔ (3) امام ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” اتامرون الناس بالبر “ سے مراد ہے دین محمد ﷺ میں داخل ہوتا۔ لفظ آیت ” وانتم تتلون الکتب “ حالانکہ تم اس کتاب کو پڑھتے ہو لفظ آیت ” افلا تعقلون “ کیا تم نہیں سمجھتے ہو (یعنی) ان کو اس برے اخلاق سے منع فرمایا۔ (4) امام ابن اسحاق، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ تم لوگوں کو تورات کے عہد اور نبوت کے انکار سے روکتے ہو حالانکہ تم خود میرے رسول کی تصدیق کے عہد کا انکار کرتے ہو جو اس تورات کے اندر موجود ہے۔ (5) امام عبد الرزاق، ابن ابی شیبہ، ابن جریر اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابو قلابہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں ابو الدرداء ؓ سے روایت فرمایا کہ کوئی آدمی ہر فقہ حاصل نہیں کرسکتا یہاں تک کہ وہ لوگوں سے اللہ کی ذات کے بارے میں لوگوں پر ناراض ہو۔ پھر وہ اپنی ذات کی طرف لوٹتا ہے۔ (یعنی اپنے کردار پر نظر کرتا ہے) تو وہ اللہ تعالیٰ کے لیے اپنے اوپر زیادہ نفرت کرنے والا ہوتا ہے۔ (6) امام وکیع، ابن ابی شیبہ، احمد، عبد بن حمید، البزار، ابن ابی داؤد نے البعث میں، ابن المنذر، ابن حیان، ابو نعیم نے الحلیہ میں، ابن مردویہ اور بیہقی نے الشعب میں حضرت انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا معراج کی رات میں میں نے کئی مردوں کو دیکھا کہ جن کے ہونٹ آگ کی کینچیوں سے کاٹے جا رہے ہیں جب وہ کٹ جاتے ہیں تو پھر اپنی پہلی حالت پر لوٹ آتے۔ میں نے جبرئیل سے پوچھا یہ کون لوگ ہیں انہوں نے بتایا کہ یہ آپ کی امت کے خطلب حضرات ہیں جو لوگوں کو نیکی کا حکم کرتے تھے اور اپنے آپ کو بھول جاتے تھے حالانکہ وہ کتاب یعنی قرآن کو پڑھتے تھے کیا وہ ( اس بات کو) نہیں سمجھتے تھے۔ (7) امام احمد، بخاری، مسلم نے اسامہ بن زید ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ایک آدمی قیامت کے دن لایا جائے گا اور اس کو دوزخ میں ڈالا جائے گا اس کی انتڑیاں باہر نکل آئیں گی اور وہ ان کی گرد اس طرح گھومے گا جیسے گدھا اپنی چکی کے گرد گھومتا ہے اس کے گرد دوزخ والے چکر لگائیں گے اے فلاں تجھ کو کیا ہوا (یہ عذاب) تجھ کو کیسے پہنچا کیا تو ہم کو نیکی کا حکم نہیں کرتا تھا اور برائی سے نہیں روکتا تھا ؟ وہ کہے گا میں تم کو نیکی کا حکم کرتا تھا اور خود عمل نہیں کرتا تھا اور تم کو برائی سے روکتا تھا اور (خود) اس کو کرلیتا تھا۔ جنتی و دوزخیوں کے آپس کا مکالمہ (8) حضرت الخطیب نے اقتضاء العلم بالعمل میں اور ابن النجار نے تاریخ الخطوات میں جابر ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا جنت والے دوزخ والوں پر (جھانکیں گے) اور ان سے پوچھیں گے تم کیوں دوزخ میں داخل ہوئے حالانکہ ہم تمہارے ہی تعلیم کی وجہ سے جنت میں داخل ہوئے وہ کہنے لگے ہم تمہیں (نیک کام کا) حکم کرتے تھے مگر خود عمل نہیں کرتے تھے۔ (9) امام طبرانی اور الخطیب نے اقتضاء العلم بالعمل میں اور ابن عساکر نے ضعیف سند کے ساتھ ولید بن عقبہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جنت والے دوزخ والوں پر جھانکیں گے اور ان سے پوچھیں گے تم آگ میں کیوں داخل ہوئے اللہ کی قسم ہم تمہاری ہی تعلیم سے جنت میں داخل ہوئے وہ کہیں گے ہم (دوسروں کو) کہتے تھے مگر خود عمل نہیں کرتے تھے۔ (10) امام عبد الرحمن نے زوائد الزہد میں ولید بن عقبہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لوگوں کو خطبہ دیا اور اپنے خطبہ میں فرمایا حکم دینے والے دوزخ میں جائیں گے اور ان کی اطاعت کرنے والے جنت میں داخل ہوں گے تو جنتی پوچھیں گے جبکہ حکم دینے والے آگ میں ہوں گے تم کس طرح آگ میں داخل ہوئے حالانکہ ہم جنت میں تمہاری اطاعت سے داخل ہوئے تو وہ لوگ جواب دیں گے ہم ہم تم کو کچھ چیزوں کا حکم کرتے تھے مگر ہم خود اس کی مخالفت کرتے تھے۔ (11) امام ابن ابی شیبہ نے شعبی (رح) سے روایت کیا ایک قوم جنت میں جھانکے گی ایسی قوم پر جو آگ میں ہوگی (اور) جنت والے ان سے پوچھیں گے تم لوگ آگ میں کس طرح پہنچے تم تو وہ عمل کرتے تھے جو تم ہم کو بتاتے تھے (اس لئے ہم جنت میں پہنچ گئے) دوزخ والے جواب دیں گے کہ ہم تم کو بتاتے تھے مگر خود اس پر عمل نہیں کرتے تھے۔ (12) امام ابن المبارک نے الزہد میں شعبی (رح) سے روایت کیا کہ جنت والے جھانکیں گے دوزخ والوں پر اور پوچھیں گے کس عمل نے تم کو آگ میں داخل کیا حالانکہ ہم تو تمہاری تعلیم و تربیت کی وجہ سے جنت میں داخل ہوئے۔ دوزخ والے جواب دیں گے ہم تم کو نیکی کا حکم کرتے تھے مگر خود نیکی نہیں کرتے تھے۔ (13) امام طبرانی، خطیب نے الاقتضاء میں اور الاصبہانی نے الترغیب میں جید سند کے ساتھ جندب بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اس عالم کی مثال جو لوگوں کو خیر سکھاتا ہے اور خود اس پر عمل نہیں کرتا مانند اس چراغ کے ہے جو لوگوں کو روشنی پہنچاتا ہے اور اپنے آپ کو جلا دیتا ہے۔ (14) امام ابن ابی شیبہ اور عبد اللہ بن احمد نے زوائد الزہد میں جندب بجلی (رح) سے روایت کیا کہ مثال اس شخص کی جو لوگوں کو نصیحت کرتا ہے اور اپنے آپ کو بھول جاتا ہے مانند اس چراغ کے ہے جو دوسروں کو روشنی پہنچاتا ہے اور اپنے آپ کو جلا ڈالتا ہے۔ (15) امام طبرانی اور الخطیب نے الاقتضاء میں ابو برزہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مثال اس شخص کی جو لوگوں کو تعلیم دیتا ہے اور اپنے آپ کو بھول جاتا ہے مانند اس فتیلہ کے ہے جو لوگوں کو روشنی پہنچاتا ہے اور اپنے آپ کو جلا ڈالتا ہے۔ (16) حضرت ابن قانع نے اپنی معجم میں الخطیب نے الاقتضاء میں سلیک ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جب عالم علم سکھاتا ہو اور (خود) اس پر عمل نہ کرتا ہو اس چراغ کی مانند ہے جو لوگوں کو روشنی پہنچاتا ہے اور اپنے آپ کو جلا دیتا ہے۔ (17) الاصبہانی نے الترغیب میں ضعیف سند کے ساتھ ابو امامہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا برے عالم کو قیامت کے دن لایا جائے گا اور اس کو جہنم میں پھینک دیا جائے تو وہ اپنے قصب کے گرد گھومے گا میں نے کہا قصب کیا چیز ہے ؟ تو انہوں نے کہا معدہ انتڑیاں (وہ اپنی آنتوں کے گرد اس طرح گھومے گا) جس طرح گدھا چکی کے گرد گھومتا ہے۔ اس سے کہا جائے گا ہائے افسوس تو اس مصیبت میں کیوں گرفتار ہوا حالانکہ ہم نے تیری وجہ سے ہدایت پائی تو وہ کہے گا میں تمہاری مخالفت کرتا تھا جس سے تم کو روکتا تھا۔ (18) امام طبرانی نے ضعیف سند کے ساتھ ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص لوگوں کو کسی قول یا عمل کی طرف بلاتا ہے اور خود اس پر عمل نہیں کرتا تو وہ برابر اللہ کے غصہ کے سایہ میں رہتا ہے یعنی ناراضگی میں یہاں تک کہ اس برائی سے رک جائے یا عمل کرنے لگ جائے جو اس نے کہا (نیک عمل کے بارے میں) یا جس کی طرف اس نے (لوگوں کو نیکی کی طرف) بلایا۔ (19) امام ابن مردویہ، بیہقی نے شعب الایمان میں اور ابن عساکر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا اور کہنے لگا اے ابن عباس ؓ ! میں ارادہ کرتا ہوں کہ میں نیکی کا حکم کروں اور برائی سے روکوں انہوں نے فرمایا کیا میں اس طرح تبلیغ کا حق ادا کروں گا ابن عباس ؓ نے فرمایا میں امید رکھتا ہوں (پھر) انہوں نے فرمایا اگر تو اس بات سے نہیں ڈرا کہ تجھے اللہ کی کتاب میں سے تین آیات رسوا نہ کردیں تو ضرور ایسا کر عرض کیا وہ کون سی آیات ہیں فرمایا اللہ تعالیٰ کا قول ہے لفظ آیت ” اتامرون الناس بالبر وتنسون انفسکم “ کیا تو نے یہ آیت سمجھ لی ہے اس نے کہا نہیں پھر فرمایا دوسری آیات جو اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے لفظ آیت ” لم تقولون مالا تفعلون کبر مقتا عند اللہ ان تقولوا مالا تفعلون “ کیا یہ آیت تو نے سمجھ لی ہے تو اس نے کہا نہیں (پھر) فرمایا تیسری آیت جو نیک بندے شعیب (علیہ السلام) کا قول ہے لفظ آیت ” ما ارید ان اخالفکم الی ما انھکم عنہ “ (سورۃ ہود) کیا یہ آیت تو نے سمجھ لی ہے اس نے کہا نہیں پھر فرمایا پہلے اپنے آپ سے شروع کر (یعنی پہلے اپنی ذات کو ” امر بالمعروف ونہی عن المنکر “ کر) ۔ (20) امام ابن المبارک نے الزہد میں اور بیہقی نے شعب الایمان میں شعبی (رح) سے روایت کیا کہ خطیب نے دنیا میں خطبہ دیا ہے تو عنقریب اللہ تعالیٰ اس کا خطبہ پیش فرمائیں گے جو بھی اس نے اس خطبہ سے ارادہ کیا ہوگا۔ (21) امام ابن سعد، ابن ابی شیبہ اور احمد نے الزہد میں ابو درداء ؓ سے روایت کیا کہ ہلاکت ہے اس شخص کے لیے جو کچھ بھی نہیں جانتا اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو اس کو علم عطا فرماتے اس شخص کے لیے سات مرتبہ ہلاکت ہے جو علم رکھتا ہے اور عمل نہیں کرتا۔ (22) امام احمد نے الزہد میں عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ہلاکت ہے اس شخص کے لیے جو نہیں جانتا اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو اس کو علم عطا فرماتے اور جو شخص جانتا ہے پھر عمل نہیں کرتا تو اس کے لیے سات مرتبہ ہلاکت ہے۔
Ayah 2:45

وَ اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ١ؕ وَ اِنَّهَا لَكَبِیْرَةٌ اِلَّا عَلَى الْخٰشِعِیْنَۙ Open ayah 2:45 in the Quran reader

اور مدد چاہو صبر اور نماز کے ساتھ، اور بلاشبہ نماز ضرور دشوار ہے مگر خشوع والوں پر۔

(1) امام عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واستعینوا بالصبر والصلوۃ “ سے مراد ہے کہ یہ دونوں (یعنی صبر اور نماز) اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد کرنے والے ہیں لہٰذا ان دونوں سے مدد حاصل کرو۔ (2) امام ابن الانباری نے کتاب العزاء میں اور ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ صبر بندہ کی طرف سے اعتراف ہے اللہ کے لیے جو اس کو مصیبت پہنچی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں ثواب کی امید کا مظاہرہ ہوتا ہے اور کبھی ایک آدمی جزع فزع کرتا ہے حالانکہ وہ سخت مزاج ہوتا ہے اس سے صرف صبر ہی کو دیکھا جاتا ہے۔ صبر کے درجات (3) امام ابن ابی حاتم نے حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ صبر دو ہیں ایک صبر ہے مصیبت کے وقت جو اچھا ہے اور اس سے زیادہ اچھا وہ صبر ہے جو اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں (سے بچنے) پر صبر ہو۔ (4) امام ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ صبر دو دروازوں میں ہے اللہ کی رضا کے لیے رک جانا ان چیزوں میں جو زیادہ محبوب ہیں اگرچہ وہ بھاری ہوں نفسوں پر اور جسموں پر اور اللہ کی رضا کے لیے رک جانا ان چیزوں سے جو ناپسندیدہ ہیں اگرچہ ان کی طرف خواہشات مائل ہوں سو جس شخص کا حال اسی طرح کا ہو تو وہ صابرین میں سے ہوگا اور جن پر انشاء اللہ تعالیٰ سلام بھیجا جائے گا۔ (5) حضرت ابن ابی الدنیا نے کتاب الصبر میں ابو الشیخ نے الشواب میں اور دیلمی نے مسند الفردوس میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا صبر کی تین قسمیں ہیں۔ مصیبت پر صبر کرنا، اطاعت پر صبر کرنا اور معصیت (سے بچنے) پر صبر کرنا۔ رسول اللہ ﷺ کی نصیحت (6) امام احمد، عبد بن حمید، ترمذی ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں اور الاسماء والصفات میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سواری پر بیٹھا ہوا تھا آپ نے فرمایا اے لڑکے میں تجھ کو ایسے کلمات نہ بتاؤں جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ تجھ کو نفع دے میں نے عرض کیا کیوں نہیں (ضرور بتائیے) فرمایا اللہ تعالیٰ کی حفاظت کر وہ تیری حفاظت کرے گا تو اللہ تعالیٰ حفاظت کر تو اس کو اپنے سامنے پائے گا تو اللہ تعالیٰ کو خوشحالی میں پہچان وہ تجھ کو تکلیف و شدت میں پہچانے گا۔ اور تو جان لے کہ جو تجھے تکلیف پہنچی ہے وہ تجھ سے نہیں چوک سکتی تھی۔ اور جو تکلیف تجھ سے چوک گئی وہ تجھ کو نہیں پہنچ سکتی تھی اگر ساری مخلوق تجھ کو کوئی چیز دینے پر اکھٹی ہوجائے اور اللہ تعالیٰ نہ چاہیں (کہ وہ چیز تجھے ملے) تو ساری مخلوق وہ چیز دینے پر قادر نہ ہوگی۔ اور اگر وہ لوگ تجھ سے کوئی چیز روکنا چاہیں اور اللہ تعالیٰ تجھ کو دینا چاہے تو اس کو روکنے پر قادر نہ ہوں گے بلاشبہ قلم (لکھ کر) خشک ہوچکا ہے جو کچھ قیامت تک ہونے والا ہے جب تو سوال کرے تو اللہ سے سوال کر اور جب تو مدد چاہے تو اللہ تعالیٰ سے مدد مانگ۔ اور جب تو حفاظت طلب کرے تو اللہ سے حفاظت طلب کر اور عمل کر اللہ کے لیے شکر کے ساتھ یقین کرتے ہوئے اور تو جان لے کہ شکر کرنا ناپسندیدہ چیزوں پر خیر کثیر (کا باعث) ہے اور بلاشبہ مدد صبر کے ساتھ ہے اور خوشی، رنج کے ساتھ ہے اور تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔ (7) امام دار قطنی نے الافراد میں، ابن مردویہ، بیہقی میں سہل بن سعد ساعدی ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عبد اللہ بن عباس ؓ سے فرمایا کیا میں تجھ کو ایسے کلمات نہ بتاؤں جن سے تو نفع حاصل کرے۔ عرض کیا یا رسول اللہ ضرور بتائیے فرمایا اللہ تعالیٰ کی حفاظت کر اللہ تعالیٰ تیری حفاظت کرے گا اللہ تعالیٰ کے حقوق کی حفاظت کر تو اس کو اپنے سامنے پائے گا تو اللہ تعالیٰ کو خوشحالی میں پہچان شہرت میں تجھ کو پہچانے گا جب تو سوال کرے تو اللہ تعالیٰ سے سوال کر جب تو مدد مانگے تو اللہ تعالیٰ سے مدد مانگ قلم خشک ہوچکا ہے جو کچھ ہونے والا ہے۔ اگر بندے ارادہکریں کہ تجھ کو کسی چیز کا نفع پہنچائیں اور اللہ تعالیٰ نے تیرے مقدر میں نہیں لکھا تو وہ لوگ تجھے وہ چیز دینے پر قادر نہ ہوں گے اور اگر لوگ کسی چیز کے ساتھ تجھ کو تکلیف پہنچانا چاہیں اور اللہ تعالیٰ نے تیری تقدیر نہیں لکھی تو لوگ تجھے وہ تکلیف پہچانے پر قادر نہ ہوں گے اگر تو یقین کرتے ہوئے سچائی کے ساتھ اللہ کے لیے عمل کرسکے تو ایسا ضرور کر اگر تو طاقت نہیں رکھتا تو ناپسندیدہ چیز پر صبر کرنے میں خیر کثیر ہے۔ اور تو جان لے کہ (اللہ کی) مدد صبر کے ساتھ ہے اور خوشی رنج کے ساتھ ہے اور تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔ (8) حضرت حکیم ترمذی نے نوادر الاصول میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں ایک دن رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سواری پر بیٹھا ہوا تھا آپ نے فرمایا کیا میں تجھ کو ایسی باتیں نہ بتاؤں جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ تجھ کو نفع دے گا میں نے عرض کیا ضرور بتائیے فرمایا لازم پکڑ علم کو کیونکہ علم مومن کا دوست ہے اور علم مؤمن کا وزیر ہے عقل مؤمن کی رہنما ہے عمل اس کی قیمت ہے شفقت اس کا باپ ہے اور نرمی اس کا بھائی اور صبر اس کا لشکر کا امیر ہے۔ (9) امام بیہقی نے شعب الایمان میں اور الخرائطی نے کتاب الشکر میں حضرت انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ایمان کے آدھے آدھے دو حصے ہیں آدھا حصہ صبر میں ہے اور آدھا حصہ لشکر میں ہے۔ (10) امام بیہقی نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا صبر نصف ایمان ہے اور یقین پورا ایمان ہے۔ (11) امام سعد بن منصور، عبد بن حمید، طبرانی اور بیہقی نے ابن مسعود ؓ سے موقوفا اسی طرح روایت کیا ہے اور بیہقی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث روایت کے لحاظ سے محفوظ ہے۔ (12) امام بیہقی نے حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ ایمان چار ستونوں پر (قائم) ہے صبر، عدل، یقین اور جہاد۔ (13) امام ابن ابی شیبہ اور بیہقی نے جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کون سا ایمان افضل ہے ؟ فرمایا صبر اور طبیعت کی نرمی پھر پوچھا گیا کون سے مؤمنین کا یمان کامل ہے ؟ فرمایا جو اخلاق کے لحاظ سے اچھے ہوں۔ (14) امام بیہقی نے عبداللہ بن عبید بن عمیر سے روایت کیا کہ وہ اپنے والد اور دادا سے روایت کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اچانک آپ کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے پوچھا یا رسول اللہ ! ایمان کیا ہے آپ نے فرمایا صبر اور نرمی اختیار کرنا (پھر) اس نے عرض کیا کون سا اسلام افضل ہے آپ نے فرمایا کہ جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان سلامت رہیں (پھر) عرض کیا کون سی ہجرت افضل ہے ؟ فرمایا جو برائی کو چھوڑ دے (پھر) عرض کیا کون سا جہاد افضل ہے فرمایا جو شخص اپنے خون کو بہا دے اور جس کے گھوڑے (یعنی اپنی جان اور اپنے گھوڑے کو اللہ کے راستے میں قربان کر دے) (پھر) عرض کیا کون سا صدقہ افضل ہے ؟ فرمایا تنگدست کی محنت (یعنی وہ تنگدست آدمی جس کے پاس کوئی مال نہ ہو اور وہ محنت کرکے صدقہ کرے) (پھر) عرض کیا کون سی نماز افضل ہے فرمایا کہ جس میں قیام لمبا ہو۔ (15) امام احمد اور بیہقی نے عبادہ بن صامت ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ ! کون سا عمل افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا صبر اور نرمی اختیار کرنا اس نے (پھر) کہا میں تو اس سے افضل کا ارادہ کرتا ہوں (یعنی اس سے بھی افضل عمل کا پوچھنا چاہتا ہوں) آپ نے فرمایا اللہ کو نہ الزام دو کسی چیز کے بارے میں اس کے فیصلے سے۔ (16) امام بیہقی نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ ایمان صبر اور نرمی اختیار کرنے کا نام ہے اور (صبر) اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں سے بچنا اور اللہ تعالیٰ کے فرائض کو ادا کرنا ہے۔ (17) امام ابن ابی شیبہ نے کتاب الایمان میں اور بیہقی نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ صبر کا درجہ ایمان میں ایسا ہے جیسے سر کا درجہ جسم میں جب سر کاٹ دیا جائے تو باقی جسم بدبودار ہوجاتا ہے اور جس شخص میں صبر نہیں اس کا کوئی ایمان نہیں۔ (18) امام ابن ابی الدنیا اور بیہقی نے حضرت حسن ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اپنے آپ کو دنیا کے غموں میں داخل کر دے اور صبر کے ساتھ اس سے نکل جا اور چاہئے کہ تجھ کو (تیرا علم) روک دے لوگوں کو تکلیف پہنچانے سے۔ (19) امام بیہقی نے براء بن عازب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص نے دنیا میں اپنی خواہش کو پورا کیا تو یہ چیز آخرت میں اس کے اور اس کی خواہش کے درمیان حائل ہوجائے گی۔ اور جس نے اپنی آنکھوں کو خوشحال لوگوں کی زیب وزینت کی طرف بڑھایا تو وہ آسمان کے بادشاہ کی نظر میں ذلیل ہوگا اور جس نے تنگ رزق پر صبر کیا تو اللہ تعالیٰ اس کو فردوس میں ٹھہرائیں گے جہاں چاہیں گے۔ (20) امام احمد، ترمذی، ابن ماجہ اور بیہقی نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ شخص کامیاب ہوگیا جو مسلمان ہوگیا اور اس کا رزق بقدر ضرورت تھا اس نے اس پر صبر کیا۔ (21) امام بیہقی نے ابو حویرث ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا خوشخبری ہے اس شخص کے لیے جس کو اللہ تعالیٰ اتنا رزق دے جو کافی ہوجائے اور وہ اس پر صبر کرے۔ تنہائی میں عبادت کرنا (22) امام بیہقی نے عسعس ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی گم ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے بارے میں پوچھا وہ (جب) آیا تو اس نے کہا یا رسول اللہ میرا ارادہ ہے کہ میں اس پہاڑ (کے دامن) میں آجاؤں اور اکیلا ہو کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کروں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے کسی کے لئے اسلام کی کسی جگہ میں ناپسندیدہ کام پر ایک لمحہ کے لیے صبر کرنا چالیس سال تک اکیلے بیٹھ کر عبادت کرنے سے بہتر ہے۔ (23) امام بیہقی نے عسعس کے طریق سے ابو حاضر اسدی ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی گم ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے بارے میں پوچھا آپ سے کہا گیا کہ وہ اکیلا ہو کر عبادت کر رہا ہے۔ آپ نے اسے بلوا بھیجا وہ جب آگیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا کہ خبردار مسلمانوں کی جگہوں میں سے کسی جگہ میں اکیلے بیٹھ کر عبادت کرنا ساٹھ سال تک عبادت کرنے سے افضل ہے آپ نے تین بار ایسا فرمایا۔ (24) امام بخاری نے الادب میں ترمذی اور ابن ماجہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ مسلمان جو لوگوں سے مل جل کر رہتا ہے اور ان کی تکلیفوں پر صبر کرتا ہے اس مسلمان سے بہتر ہے جو لوگوں کے ساتھ مل جل کر نہیں رہتا اور ان کی تکلیفوں پر صبر نہیں کرتا۔ (25) امام بیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں سے کون اس بات کو خوش رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا جہنم کی گرمی سے بچا لیں پھر فرمایا خبردار بلاشبہ جنت کا عمل اونچی جگہ پر خزانہ کیا گیا ہے (اس کو) تین مرتبہ آپ نے ارشاد فرمایا (پھر فرمایا) خبردار بلاشبہ دوزخ کا عمل آسان کیا گیا شہوت کی وجہ سے تین مرتبہ آپ نے فرمایا اور نیک بخت وہ ہے جو فتنوں سے بچا لیا جائے اور جو آزمائش میں ڈالا گیا پھر اس نے صبر کیا ہائے افسوس ہائے افسوس۔ (26) امام بیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جن گھر والوں نے بامشقت میں صبر کیا تین دن تو اللہ تعالیٰ ان کو (ضرور) رزق عطا فرمائے گا۔ (27) حکیم ترمذی نے نوادر الاصول میں ابن عمر ؓ سے اسی طرح حدیث نقل کی ہے۔ (28) امام بیہقی نے ایک دوسرے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو بھوکا ہوا یا محتاج ہوگیا اور اس نے لوگوں سے اس (حال) کو چھپایا تو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ اس کو سال بھر کا حلال رزق عطا فرمائے۔ (29) امام بیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جس مؤمن متقی سے اللہ تعالیٰ تین دن تک دنیا روک لیں اور وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں راضی رہے بغیر کسی گھبراہٹ کے اس کے لیے جنت واجب ہے۔ (30) امام بیہقی نے شریح (رح) سے روایت کیا کہ مجھے کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو میں اس پر اللہ تعالیٰ کی چار مرتبہ حمد بیان کرتا ہوں اور میں اس لئے حمد بیان کرتا ہوں کہ اس سے بڑی مصیبت میں مبتلا نہیں کیا۔ اور اس کی حمد کرتا ہوں کیونکہ اس نے مجھے اس مصیبت پر صبر عطا فرمایا۔ (پھر یوں کہا) اور میں اس کی حمد کرتا ہوں کہ اس نے مجھے (مصیبت پر) لفظ آیت ” اناللہ وانا الیہ راجعون “ پڑھنے کی توفیق دی کیونکہ اس میں ثواب کی امید رکھتا ہوں اور میں اس کی حمد کرتا ہوں کہ اس نے اس (مصیبت) کو میرے دین میں نہیں پہنچائی۔ (31) امام ابن ابی الدینا اور بیہقی نے حضرت حسن ؓ سے روایت کیا ایک دن رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے اور ارشاد فرمایا کیا کوئی تم میں سے ایسا آدمی ہے جو یہ چاہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو بغیر سیکھے علم عطا فرما دے اور بغیر ہدایت کے ہدایت عطا فرما دے اور کیا تم میں ایسا آدمی ہے جو یہ چاہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے اندھے پن کو دور کر دے اور اس کو بصیر بنا دے (پھر فرمایا) خبردار جس شخص نے دنیا سے بےرغبتی اختیار کی اور اپنی امیدوں کو کم کردیا تو اللہ تعالیٰ اس کو بغیر سیکھے علم عطا فرمائیں گے اور بغیر رہنمائی کے ہدایت عطا فرمائیں گے (پھر فرمایا) خبردار بلاشبہ تمہارے بعد ایسی قوم ہوگی کہ جن کے لیے بادشاہی بغیر قتل و غارت اور ظلم کے قائم نہیں رہے گی اور ان کی مالداری بغیر بخل اور فخر کے قائم نہیں رہے گی اور محبت نہیں ملے گی مگر دین میں سے جرم کرنے خواہشات کی پیروی کرنے سے (پھر فرمایا) خبردار جو کوئی تم میں سے اس زمانہ کو پائے تو فقیری پر صبر کرے حالانکہ وہ مالداری پر بھی قادر ہو اور بغض پر صبر کرے حالانکہ وہ محبت کے حاصل کرنے پر قادر ہے اور ذلت پر صبر کرے حالانکہ وہ عزت پر بھی قادر ہے اور یہ سب کچھ وہ اللہ کی رضا مندی کے لیے برداشت کرے تو اللہ تعالیٰ اس کو پچاس صدیقین کا ثواب عطا فرمائیں گے۔ (32) امام احمد نے الزہد میں اور بیہقی نے حضرت حسن ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا افضل ایمان صبر اور نرمی اختیار کرنا ہے۔ (33) امام مالک، احمد، بخاری، مسلم ابوداؤ، ترمذی، نسائی، اور بیہقی نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو سوال کرنے سے بچنا چاہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو سوال سے بچا دیتا ہے اور جو مستغنی ہونا چاہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو مستغنیٰ بنا دیتا ہے اور صبر کرنا چاہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو صبر کی توفیق عطا فرما دیتے ہیں اور کوئی شخص صبر سے بڑھ کر بہتر اور زیادہ وسیع (نعمت) عطا نہیں کیا گیا۔ (34) امام احمد نے الزہد میں حضرت عمر ؓ سے روایت کیا کہ ہم نے اپنی بہترین زندگی صبر میں پائی۔ (35) امام ابو نعیم نے الحلیہ میں روایت کیا کہ میمون بن مہران (رح) فرماتے ہیں کہ صبر کے بغیر انسان کو کوئی بڑی نعمت نہیں پاتا۔ وما قولہ وتعالیٰ : والصلوۃ۔ ترجمہ : نماز پڑھنا۔ (1) امام ابن جریر نے ابو العالیہ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واستعینوا بالصبر والصلوۃ “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے لیے نماز پڑھنا مقصود ہے اور جان لو کہ یہ دونوں (یعنی صبر اور نماز) اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں سے ہیں۔ (2) امام احمد، ابو داؤد اور ابن جریر نے حضرت حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کو جب کوئی اہم معاملہ پیش آجاتا تو آپ (فورا) نماز کی طرف متوجہ ہوجاتے۔ (3) امام ابن ابی الدنیا اور ابن عساکر نے ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ جس رات ہوا چلتی تو مسجد رسول اللہ ﷺ کی پناہ کی جگہ ہوتی تھی یہاں تک کہ ہوا رک جاتی تھی اور جب آسمان میں سورج یا چاند گرہن ہوجاتا تھا تو آپ نماز کی پناہ لیتے (یعنی نماز میں مشغول ہوجاتے) (4) احمد، نسائی اور ابن حیان نے صہیب ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ انبیاء (علیہم السلام) کو جب کوئی خوف لاحق ہوتا تو نماز کی طرف پناہ لیتے (یعنی نماز میں مشغول ہوجاتے) (5) سعید بن منصور، ابن المنذر، ابن جریر اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ ایک سفر میں چل رہے تھے ان کو ان کے بیٹے کی موت کی اطلاع دی گئی (یہ سن کر) وہ سواری سے اتر آئے اور دو رکعت نماز پڑھی پھر لفظ آیت ” اناللہ وانا الیہ راجعون “ پڑھا اور فرمایا ہم نے وہی (عمل) کیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ہم کو حکم فرمایا یعنی ” واستعینوا بالصبر والصلوۃ “۔ (6) سعید بن منصور، ابن المنذر، حاکم، بیہقی نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ان کو اپنے بھائی کی موت کی اطلاع دی گئی جبکہ وہ سفر میں تھے انہوں نے لفظ آیت ” اناللہ وانا الیہ راجعون “ پڑھا اور راستے سے ایک طرف کو ہٹ کر دو رکعت نماز پڑھی جن میں جلوس (یعنی قعدہ) کو لمبا فرمایا پھر کھڑے ہوئے اور اپنی سواری کی طرف چلے اور وہ یہ پڑھ رہے تھے لفظ آیت ” واستعینوا بالصبر والصلوۃ، وانھا لکبیرۃ الا علی الخشعین “۔ حضرت عبادہ بن صامت ؓ کی وصیت (7) امام بیہقی نے شعب الایمان میں عبادہ بن محمد بن عبادہ بن صامت سے روایت ہے کہ جب عبادہ (ابن صامت) ؓ کی وفات ہوئی تو انہوں نے فرمایا کہ کسی انسان پر تم میں سے مجھ پر رونا جائز نہیں جب میری جان نکل جائے تو تم لوگ اچھی طرح وضو کرنا پھر چاہئے کہ تم میں سے ہر شخص مسجد میں داخل ہو کر نماز پڑھے پھر اس کے بندوں اور اپنے لئے استغفار کرے کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ہے لفظ آیت ” واستعینوا بالصبر والصلوۃ “ پھر مجھے میری قبر کی طرف جلدی لے جانا۔ (8) امام عبد الرزاق نے المصنف میں اور بیہقی نے معمر سے اور انہوں نے زہری سے انہوں نے حمید بن عبد الرحمن بن عوف ؓ سے وہ اپنی والدی ام کلثوم بنت عقبہ ؓ سے روایت کرتے ہیں اور وہ پہلے ہجرت کرنے والوں میں سے تھیں وہ لفظ آیت ” واستعینوا بالصبر والصلوۃ “ کے بارے میں فرماتی ہیں کہ عبد الرحمن بن عبد الرحمن پر غشی طاری ہوئی تو لوگوں نے گمان کیا کہ ان کی بیوی ام کلثوم ؓ مسجد کی طرف تشریف لے گئیں تاکہ صبر اور نماز سے مدد حاصل کریں جس کا حکم دیا گیا ہے جب ان کو افاقہ ہوا تو فرمانے لگے کیا ابھی مجھ پر غشی طاری تھی عرض کیا ہاں ! فرمایا تم نے سچ کہا ہے میرے پاس دو فرشتے آئے تھے اور مجھ سے کہا ہمارے ساتھ چلو تاکہ ہم عزیز امین (یعنی اللہ تعالیٰ ) سے تیرا فیصلہ کرائیں دوسرے فرشتے نے کہا لوٹ جاؤ کیونکہ یہ ان لوگوں میں سے ہے جن کے لیے سعادت وقت سے لکھی جا چکی ہے جب کہ یہ اپنی ماؤں کے بیٹوں میں تھے ان کے بیٹے ان سے لطف اٹھاتے رہے جتنا وقت اللہ تعالیٰ نے چاہا (پھر) وہ (یعنی عبد الرحمن بن عبد الرحمن) ایک ماہ زندہ رہے اور (پھر) وفات پاگئے۔ (9) امام بیہقی نے الشعب میں مقاتل بن حیان (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واستعینوا بالصبر والصلوۃ “ سے مراد ہے کہ آخرت کی طلب پر مدد حاصل کرو فرائض اور نماز (کی ادائیگی) پر صبر کرتے ہوئے اور نماز کی حفاظت کرو اور اس کو اپنے اوقات میں ادا کرو اور اس میں تلاوتکرو رکوع سجود تکبیر تشہد اور نبی اکرم ﷺ پر درود پڑھو اور اس کا ہر رکن اچھے طریقے سے ادا کرو یہ اس (نماز) کا قائم کرنا اور پورا کرنا ہے لفظ آیت ” ونھا لکبیرۃ الا علی الخسعین “ سے مراد ہے کہ تیرا پھرجانا بیت المقدس سے کعبہ کی طرف یہ منافقین اور یہود پر بھاری ہے لفظ آیت ” الال علی الخشعین “ مگر تواضح انکساری اختیار کرنے والوں پر (بھاری نہیں ہے) (10) امام ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وانھا لکبیرۃ “ سے مراد ہے بھاری۔ (11) ابن جریر نے ابن زید سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وانھا لکبیرۃ “ (یعنی یہ بات مشرکوں پر بھاری ہے) کیونکہ مشرکوں نے کہا کہ اے محمد ﷺ اللہ کی قسم تو ہم کو بڑے کام کی طرف چلاتا ہے پھر کہا کہ نماز اور اللہ پر ایمان لانے کی طرف (یہ دونوں کام ہمارے لئے بھاری ہیں) ۔ (12) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” الا علی الخشعین “ سے مراد ہے کہ تصدیق کرنے والے اس چیز کی جس کو اللہ تعالیٰ نے اتارا۔ (13) امام عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” الا علی الخشعین “ سے مراد ہے سچے ایمان والے۔ (14) امام ابن جریر نے ابو العالیہ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” الا علی الخشعین “ سے مراد ہے خائفین یعنی اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے۔
Ayah 2:46

الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ اَنَّهُمْ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ۠ Open ayah 2:46 in the Quran reader

جو یقین رکھتے ہیں کہ بیشک وہ اپنے رب سے ملاقات کرنے والے ہیں اور یہ کہ وہ اس کی طرف لوٹنے والے ہیں

(1) امام ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ہر (لفظ) ظن قرآن میں یقین کے معنی میں ہے (2) امام ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ جو آخرت کے ظن میں سے ہے سو وہ علم کے معنی میں ہے۔ (3) امام ابن جریر نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وانھم الیہ رجعون “ سے مراد ہے کہ وہ اس بات کا یقین رکھتے ہیں کہ وہ قیامت کے دن اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔
Ayah 2:47

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَنِّیْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:47 in the Quran reader

اے بنی اسرائیل تم میرے احسانوں کو یاد کرو جو میں نے تم پر کئے اور اس بات کو کہ میں نے تم کو فضیلت دی جہانوں پر

(1) امام ابن المنذر نے ابن ابی حاتم ؓ سے روایت کیا کہ حضرت عمر ؓ جب بھی یہ آیت لفظ آیت ” اذکروا نعمتی التی انعمت علیکم “ تلاوت کرتے تھے تو یہ فرماتے تھے کہ وہ قوم گزر چکی اب تم مراد ہو۔ (2) امام ابن جریر نے سفیان بن عینیہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” اذکروا نعمتی “ سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کے جو تم پر احسانات ہیں اور اس کے دنوں کو جو تمہیں عطا فرماتے ہیں ان کو یاد کرو۔ (3) عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” یبنی اسراء یل اذکروا نعمتی التی انعمت علیکم “ سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی وہ نعمتیں جو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر شمار فرمائیں یا جو ان کے علاوہ ہیں ان کے لیے پتھر سے چشمے جاری فرمائے ان پر من او سلوی کو اتارا اور ان کو فرعون والوں کی عبادت سے نجات دی۔ (4) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وانی فضلتکم علی العلمین “ سے مراد ہے کہ اس جہاں پر فضیلت دئیے گئے جس میں وہ تھے اور ہر زمانہ کے لیے (علیحدہ) جہاں ہوتا ہے۔ (5) امام عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وانی فضلتکم علی العلمین “ سے مراد ہے کہ ان لوگوں پر انہیں فضلیت دی کہ جن کے درمیان وہ تھے۔ (6) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وانی فضلتکم علی العلمین “ سے مراد ہے اس زمانہ میں جو لوگ تھے ان پر ان کو فضیلت دی کیونکہ ان کو بادشاہی پیغمبر اور کتابیں عطا کیں اور بلاشبہ ہر زمانہ کے لیے ایک عالم ہوتا ہے۔
Ayah 2:48

وَ اتَّقُوْا یَوْمًا لَّا تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْئًا وَّ لَا یُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَّ لَا یُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ Open ayah 2:48 in the Quran reader

اور ڈرو اس دن سے جس دن کوئی بھی شخص کسی کی طرف سے بھی کچھ ادائیگی نہیں کرے گا اور نہ کسی شخص کی طرف سے کوئی سفارش قبول کی جائے گی اور نہ کسی شخص کی طرف سے کوئی معاوضہ لیا جائے گا، اور نہ ان لوگوں کی مدد کی جائے گی

(1) امام حاکم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے ابی بن کعب ؓ کے سامنے لفظ آیت ” واتقوا یوما لا تجزی نفس عن نفس “ میں لا تجزی کو تاء کے ساتھ پڑھا (اور) لفظ آیت ” ولا تقبل منھا شفاعۃ “ میں لا تقبل کو تاء کے ساتھ پڑھا۔ لفظ آیت ” ولا یؤخذ منھا عدل “ میں لا یؤخذ کو یاء کے ساتھ پڑھا۔ (2) امام ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” لا تجزی نفس عن نفس “ سے مراد ہے کہ کوئی مومن شخص کسی کافر شخص کو کوئی فائدہ یا نفع نہیں پہنچائے گا ذرا بھی۔ (3) امام ابن جریر نے عمر بن قیس ملائی (رح) سے روایت کیا کہ اور انہوں نے بنو امیہ کے ایک آدمی سے روایت کیا ہے جو اہل شام میں سے تھے جس کی اچھی تعریف کی گئی وہ فرماتے ہیں کہ پوچھا گیا یا رسول اللہ ! عدل کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا فدیہ۔ (4) امام ابن جریر، ابن المنذر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولا یؤخذ منھا عدل “ میں عدل سے مراد ہے فدیہ۔ (5) امام ابن ابی داؤد نے المصاحف میں اعمش (رح) سے روایت کیا کہ ہماری قرأت میں (سورۃ بقرہ) میں سے پچاس آیات سے پہلے لفظ آیت ” ولا یقبل منھا شفاعۃ “ کی جگہ ” لا یؤخذ “ ہے۔
Ayah 2:49

وَ اِذْ نَجَّیْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ Open ayah 2:49 in the Quran reader

اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی وہ تم کو سخت ترین تکلیفیں پہنچاتے تھے۔ تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ چھوڑ دیتے تھے اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے بڑا امتحان تھا

(1) امام ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کاہنوں نے فرعون سے کہا اس سال میں ایسا لڑکا پیدا ہونے والا ہے جو تیری بادشاہی کو ختم کر دے گا تو فرعون نے ہر ہزار عوتوں پر سو آدمیوں کو اور ہر سو پر دس آدمیوں کو اور ہر دس پر ایک آدمی کو مقرر کردیا اور ان سے کہہ دیا کہ شہر میں ہر حاملہ عورت کو دیکھو جب اس کا لڑکا پیدا ہو تو اس کو ذبح کر دو اور اگر لڑکی پیدا ہو تو اس کو چھوڑ دو اور وہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے لفظ آیت ” یذبحون ابناء کم ویستحیون نساء کم “ (الآیہ) (2) امام ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” یسومونکم سوء العذاب “ (الآیہ) سے مراد ہے کہ فرعون ان کا چار سو سال سے بادشاہ تھا۔ کاہنوں نے اس سے کہا کہ اس سال عنقریب مصر میں ایک لڑکا پیدا ہوگا کہ تیری ہلاکت اس کے ہاتھ سے ہوگی تو اس (فرعون) نے مصر کی عورتوں میں دائیاں بھیج دیں جب کوئی لڑکا جنتی تھی تو اس کو فرعون کے پاس لایا جاتا وہ اس کو قتل کردیتا اور لڑکیوں کو چھوڑ دیتا۔ (3) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” بلاء من ربکم عظیم “ میں بلاء کا معنی ہے نعمۃ۔ (4) امام وکیع نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وفی ذلکم بلاء من ربکم عظیم “ کا معنی یہ ہے کہ تمہارے رب کی طرف سے عظیم نعمت ہے۔
Ayah 2:50

وَ اِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ الْبَحْرَ فَاَنْجَیْنٰكُمْ وَ اَغْرَقْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ Open ayah 2:50 in the Quran reader

اور جب ہم نے تمہاری وجہ سے سمندر کو پھاڑ دیا پھر ہم نے تم کو نجات دے دی، اور آل فرعون کو ہم نے غرق کردیا اس حال میں کہ تم دیکھ رہے تھے

(1) امام عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واذ فرقنا بکم البحر فانجینکم واغرقنا ال فرعون “ سے مراد ہے اللہ تعالیٰ نے سمندر کو ان کے لیے پھاڑ دیا یہاں تک کہ خشک راستہ بن گیا جس میں وہ چل رہے تھے لفظ آیت ” فانجینکم واغرقنا ال فرعون “ یعنی ان کے دشمن کو اللہ تعالیٰ نے غرق کردیا یہ انعام ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ ان کو جتا رہا ہے تاکہ وہ شکر کریں اور اس کے حق کو پہچانیں۔ (2) امام احمد، بخاری، مسلم، نسائی اور بیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے یہودیوں کو دیکھا کہ وہ یوم عاشوراء کا روزہ رکھتے ہیں آپ نے ان سے فرمایا یہ دن کونسا ہے جس میں تم روزہ رکھتے ہو انہوں نے کہا یہ وہ نیک دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دی تھی تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اس دن کا روزہ رکھا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہم تم سے زیادہ حق دار ہیں موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں آپ نے روزہ رکھا اور (صحابہ کو) روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔ ہرقل کے سوالات کے جوابات (3) امام طبرانی اور ابو نعیم نے الحلیہ میں سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ ہرقل نے حضرت معاویہ ؓ کو لکھا اور (ان کو) کہا اگر ان کے اندر نبوت میں سے کوئی علم باقی ہے تو مجھے ان سوالوں کا جواب دو اور ان کو لکھا بحیرہ کے بارے میں قوس کے بارے میں اور زمین کا وہ ٹکڑا جس کو سورج ایک گھنٹہ کے لیے پہنچتا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ جب حضرت معاویہ ؓ کے پاس یہ خط اور قاصد آیا تو انہوں نے کہا کہ ان (سوالات) کے بارے میں کس سے پوچھوں کون ان کا جواب دے گا ؟ حاضرین نے کہا ابن عباس ؓ ہیں حضرت معاویہ ؓ نے ہرقل کا خط لپیٹ کر اس کو ابن عباس ؓ کے پاس بھیج دیا۔ انہوں نے اس کا جواب لکھا کہ قوس زمین والوں کے لیے غرق ہونے سے امان دینا اور بحیرہ آسمان کا وہ دروازہ ہے جہاں سے آسمان پھٹے گا اور زمین کا وہ ٹکڑا جس کو ایک گھنٹہ کے لیے سورج پہنچتا ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں سے سمندر پھٹ گیا تھا (اور بنی اسرائیل آسانی سے گزر گئے تھے) (4) امام ابو یعلی اور ابن مردویہ نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا بنی اسرائیل کے لیے عاشوراء کے دن سمندر پھٹ گیا تھا۔
Ayah 2:51

وَ اِذْ وٰعَدْنَا مُوْسٰۤى اَرْبَعِیْنَ لَیْلَةً ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 2:51 in the Quran reader

اور جب وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے چالیس رات کا پھر تم لوگوں نے ان کے بعد بچھڑے کو معبود بنا لیا اور تم ظلم کرنے والے تھے

(1) امام ابن جریر نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا وہ فرماتے ہیں لفظ آیت ” واذ وعدنا موسیٰ اربعین لیلۃ “ سے مراد ہے ذی القعدہ (کا مہینہ) اور دس دن ذی الحجہ کے (یہ اس آیت کا واقعہ) ہے جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے ساتھیوں کو پیچھے چھوڑا اور (اپنے بھائی) ہارون (علیہ السلام) کو ان پر خلیفہ بنایا وہ طور پر چالیس راتیں ٹھہرے اور ان پر تورات تختیوں پر لکھی ہوئی اتاری گئی (پھر) رب تعالیٰ نے ان کے قریب سرگوشی کرتے ہوئے اور ان سے کلام فرمایا اور انہوں نے قلم کے چلنے کی آواز سنی اور ہم کو یہ بات (بھی) پہنچی ہے کہ ان کو چالیس راتوں میں آپ کو کوئی حدث لاحق نہ ہوا یہاں تک کہ آپ طور سے اتر آئے۔ وما قولہ تعالیٰ : ثم اتخذتم۔ (2) امام ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ بنی اسرائیل کے اس بچھڑے کا نام جن کی وہ پوجا کرتے تھے یہوب تھا۔
Ayah 2:52

ثُمَّ عَفَوْنَا عَنْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:52 in the Quran reader

پھر ہم نے اس کے بعد تم سے درگزر کردیا تاکہ تم شکر ادا کرو

(1) ابن جریر نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ثم عفونا عنکم من بعد ذلک لعلکم تشکرون “ سے مراد ہے کہ بچھڑے کی پوجا کرنے کے بعد ہم نے تم کو معاف کردیا۔
Ayah 2:53

وَ اِذْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ الْفُرْقَانَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ Open ayah 2:53 in the Quran reader

اور جب ہم نے موسیٰ کو کتاب اور فیصلہ کرنے والی چیز دے دی تاکہ تم ہدایت پاؤ

(1) امام عبد بن حمید اور ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واذا اتینا موسیٰ الکتب والفرقان “ کہ کتاب سے مراد فرقان ہے حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے والی ہے۔ (2) امام ابن جریر اور ابن المنذر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” فرقان “ تورات، انجیل، زبور اور فرقان کا جامع اسم ہے۔
Ayah 2:54

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اِنَّكُمْ ظَلَمْتُمْ اَنْفُسَكُمْ بِاتِّخَاذِكُمُ الْعِجْلَ فَتُوْبُوْۤا اِلٰى بَارِئِكُمْ فَاقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ عِنْدَ بَارِئِكُمْ١ؕ فَتَابَ عَلَیْكُمْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:54 in the Quran reader

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم بیشک تم نے بچھڑے کو معبود بنا کر اپنی جانوں پر ظلم کیا۔ لہٰذا تم اپنے پیدا کرنے والے کی بارگاہ میں توبہ کرو، سو اپنی جانوں کو قتل کرو یہ تمہارے لئے بہتر ہے تمہارے پیدا کرنے والے کے نزدیک، پھر اس نے تمہاری توبہ قبول فرمائی، بیشک وہ بہت زیادہ توبہ قبول فرمانے والا ہے، اور نہایت رحم کرنے والا ہے

(1) ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اپنے رب کا یہ حکم دیا کہ تم اپنی جانوں کو قتل کرو تو وہ لوگ جنہوں نے بچھڑے کی پوجا کی تھی وہ گوٹ مار کر بیٹھ گئے اور وہ لوگ کھڑے ہوگئے جنہوں نے بچھڑے کی پوجا کی تھی اور انہوں نے اپنے ہاتھوں میں خنجر اٹھالئے۔ شدید اندھیرا ان پر چھا گیا اور وہ ایک دوسرے کو قتل کرنے لگے۔ جب ان سے اندھیرا ختم ہوا تو ستر ہزار افراد قتل ہوچکے تھے ہر ایک ان میں سے جو قتل ہوا یہ اس کی توبہ تھی اور جو باقی بچ گیا تھا اس کے لیے بھی یہی توبہ تھی۔ (2) امام ابن ابی حاتم نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت کیا کہ قوم نے موسیٰ (علیہ السلام) سے پوچھا ہماری توبہ کس طرح ہوگی ؟ انہوں نے فرمایا کہ تم ایک دوسرے کو قتل کرو (یعنی جنہوں نے بچھڑے کی پوجا نہیں کی وہ ان کو قتل کریں جنہوں نے پوجا کی ہے) تو انہوں نے چھریاں اٹھالیں اور ہر ایک آدمی نے اپنے بھائی اپنے باپ اور اپنے بیٹے کو قتل کرنا شروع کردیا اللہ کی قسم وہ قتل کرنے کی کوئی پرواہ نہیں کرتا تھا کہ وہ کس کو قتل کر رہا ہے۔ یہاں تک کہ ستر ہزار ان میں سے قتل ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ ان کو حکم کرو کہ اپنے ہاتھوں کو اوپر اٹھالیں (یعنی قتل کرنا چھوڑ دیں) وہ شخص بخشا گیا جو قتل ہوچکا اور اس شخص کی توبہ قبول ہوچکی جو باقی ہے۔ (3) امام عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا وہ فرماتے ہیں کہ لفظ آیت ” انکم ظلمتم انفسکم “ (الآیہ) سے مراد ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے قوم کو سخت آزمائش کا حکم فرمایا تو وہ لوگ کھڑے ہوگئے اور پھر یوں ایک دوسرے کے گلے کاٹنے لگے اور بعض بعض کو قتل کرنے لگا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ سزا پوری ہوگئی اور جب وہ اس حد کو پہنچ گئے تو ان ہاتھوں سے چھریاں نیچے گرگئیں اور وہ قتل کرنے سے رک گئے اللہ تعالیٰ نے اس پر عمل کو ان میں سے زندہ کے لیے توبہ قرار دیا اور مقتول کے لئے شہادت قرار دیا۔ (4) امام احمد نے الزہد میں اور ابن جریر نے زھری (رح) سے روایت کیا کہ جب بنی اسرائیل کو اپنی جانوں کے قتل کرنے کا حکم دیا گیا تو وہ میدان کی طرف نکلے ان کے ساتھ موسیٰ (علیہ السلام) بھی تھے انہوں نے تلواریں چلائیں اور خنجر مارنے لگے اور موسیٰ (علیہ السلام) اپنے ہاتھوں کو اوپر اٹھائے ہوئے تھے یہاں تک کہ انہوں نے ایک دوسرے کو فنا کردیا انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ہمارے لئے دعا فرمائیے اور انہوں نے آپ کے بازوؤں کو پکڑ لیا اور ان کے قتل ہونے کا سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ کو قبول فرمایا تو ان کے ہاتھوں کو روک دیا۔ ان سب نے ہتھیار ڈال دئیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور نبی اسرائیل اس قتل و قتال پر جو ان میں ہوا (بہت) غمگین ہوئے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کس چیز پر آپ غمگین ہو رہے ہیں ؟ جو تم میں سے قتل ہوا وہ میرے نزدیک زندہ ہے اور رزق دیا جاتا ہے اور جو باقی ہے اس کی توبہ قبول کرلی گئی اس بات سے موسیٰ (علیہ السلام) اور نبی اسرائیل خوش ہوگئے۔ (5) الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” الی بارکم “ کا مطلب بتائیے انہوں نے فرمایا اس کا معنی ” خلقکم “ (یعنی تمہارا پیدا کرنے والا) انہوں نے پھر عرض کیا کیا اس معنی کو عرب جانتے ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے تبع (شاعر) کا قول نہیں سنا۔ شھدت علی احمد أنہ رسول من اللہ باری النسم ترجمہ : میں گواہی دیتا ہوں احمد ﷺ کی کیونکہ وہ روحوں کے پیدا کرنے والے اللہ کے رسول ہیں۔ (6) امام ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” الی بارئکم “ کا معنی ہے ” خلقکم “ اور تمہارا خالق (پیدا کرنے والا) (7) امام عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ حکم دیا کہ ایک دوسرے کو خنجروں کے ساتھ قتل کرو انہوں نے ایسا ہی کیا پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی۔
Ayahs 2:55–56

وَ اِذْ قُلْتُمْ یٰمُوْسٰى لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى نَرَى اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْكُمُ الصّٰعِقَةُ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ Open ayah 2:55 in the Quran reader

اور جب تم نے کہا اے موسیٰ ! ہم ہرگز تمہاری تصدیق نہ کریں گے۔ جب تک کہ ہم اللہ کو علانیہ طور پر دیکھ لیں، سو پکڑ لیا تم کو کڑک نے اور حال یہ تھا کہ تم آنکھوں سے دیکھ رہے تھے

ثُمَّ بَعَثْنٰكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:56 in the Quran reader

پھر ہم نے تم کو زندہ اٹھا دیا تمہاری موت کے بعد، تاکہ تم شکر ادا کرو

(1) امام ابن جریر، ابن المنذر، اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” حتی نری اللہ جھرۃ “ کا مطلب ہے علانیہ (یعنی اعلانیہ طور پر دیکھنا) (2) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ربیع بن انس (رح) عنہ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واذ قلتم یموسی لن نؤمن لک حتی نری اللہ جھرۃ “ سے مراد وہ ستر آدمی ہیں جن کو موسیٰ (علیہ السلام) نے (طور پر لے جانے کے لیے) چنا تھا۔ لفظ آیت ” فاخذتکم الصعقۃ “ یعنی وہ سب (عذاب کی وجہ سے) مرگئے۔ ” ثم بعثنکم من بعد موتکم “ موت کے بعد پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو زندہ فرما دیا تاکہ وہ اپنی (زندگی کی) موت کو پورا کریں۔ (3) امام عبد بن حمید اور ابن جریر نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ وہ قوم سزا دی گئی اللہ تعالیٰ نے سزا دیتے ہوئے ان کو موت دے سی پھر ان کو زندہ فرما دیا تاکہ وہ اپنی زندگی کی مدت کو پورا کریں۔ (4) امام الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” فاخذتکم الصعقۃ “ کے بارے میں بتائیے انہوں نے فرمایا اس سے مراد ہے عذاب اور اس کی اصل ہے موت عرض کیا اس معنی کو عرب والے جانتے ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے عبید بن ربیعہ کا یہ شعر نہیں سنا۔ وقد کنت اخشی علیک الحتوف وقد کنت امنک الصاعقۃ ترجمہ : اور مجھ کو تجھ پر موت کا ڈر ہے جبکہ میں تیرے متعلق عذاب کے نازل ہونے سے مامون ہوں۔
Ayah 2:57

وَ ظَلَّلْنَا عَلَیْكُمُ الْغَمَامَ وَ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى١ؕ كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمُوْنَا وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 2:57 in the Quran reader

اور ہم نے تم پر بادلوں کا سایہ کیا، اور ہم نے تمہارے اوپر من اور سلوی نازل کیا، جو کچھ ہم نے تم کو دیا اس سے پاکیزہ چیزیں کھاؤ، اور انہوں نے ہمارا کوئی نقصان نہیں کیا، لیکن اپنی جانوں کا نقصان کیا کرتے تھے

(1) ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وظللنا علیم الغمام “ سے مراد ہے جس بادل سے بنی اسرائیل پر سایہ کیا گیا اس سے ٹھنڈا اور پاکیزہ بادل وہ ہوگا جس میں قیامت کے دن اللہ کا حکم آئے گا قیامت کے دن آئے گا اور یہ وہی بادل ہے جس میں بدر کے دن فرشتے اترے تھے اور یہ بادل ان کے ساتھ میدان تیسہ میں رہا تھا۔ (2) حضرت وکیع، عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وظللنا علیکم الغمام “ سے مراد یہ وہ بادل نہیں ہوتا جس میں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تشریف لائیں گے اور یہ صرف ان (بنی اسرائیل) کے لیے تھا۔ (3) حضرت ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وظللنا علیکم الغمام “ سے مراد وہ سفید بادل ہے جس میں پانی نہیں ہے۔ (4) امام عبد بن حمید نے ابو مجلز (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وظللنا علیکم الغمام “ سے مراد وہ بال ہے جس نے ان پر میدان تیسہ میں سایہ کیا تھا۔ (5) امام عبد بن حمید، ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وظللنا علیکم الغمام “ (الآیہ) سے وہ بادل مراد ہے جو جنگل میں تھا اس بادل نے ان پر دھوپ سے سایہ کیا تھا اور ان کو (اللہ تعالیٰ نے) من اور سلوی کھلایا۔ جب وہ جنگل کی طرف نکلے (اور) من ان پر برف کے گرنے کی طرح ان کی جگہوں پر گرتا تھا جو برف سے زیادہ سفید تھا طلوع فجر سے گرنا شروع ہوتا اور طلوع شمس تک باقی تھا۔ اور ہر آدمی اتنی مقدار میں لے لیتا تھا جو اس کو ایک دن کے لیے کافی ہوتا تھا اگر وہ زیادہ لے لیتا تو وہ خراب ہوجاتا اور اس کے پاس باقی نہ رہتا تھا۔ یہاں تک کہ جب چھٹا دن (یعنی) جمہ کا دن ہوتا تھا تو جمعہ اور ساتویں دن کی خوراک لیتے تھے اور یہ ان کے پاس باقی رہتی تھا تاکہ جب عید کا دن ہو تو روزی کی طلب کا معاملہ ان کی زندگی کو بےقرار نہ کر دے اور یہ سب حالات جنگل میں تھے۔ (6) عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ ” المن “ ایک ایسی چیز تھی جس کو اللہ تعالیٰ نے ان پر شبنم کی مانند گاڑے شیرہ کی طرح اتاری تھی اور ” السلوی “ چڑیا سے بڑا پرندہ تھا۔ (7) امام وکیع، عبد بن حمید، ابن جریر ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” المن “ ایک گوند تھی اور ” السلوی “ ایک پرندہ تھا۔ (8) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (جب) انہوں نے کہا اے موسیٰ یہاں ہمارے لئے پانی کا کیا ہوگا اور کھانا کہاں سے آئے گا ؟ تو اللہ تعالیٰ نے ان پر من کو نازل فرمایا اور وہ ترنجبین کے درخت پر گرتا تھا۔ (9) عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے وھب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ ان سے پوچھا گیا کہ من کیا چیز ہے ؟ انہوں نے فرمایا جوار، چھنے ہوئے آٹے کی طرح نرم روٹی۔ (10) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ربیع بن انس (رح) سے روایت کیا کہ ” المن “ ایک پینے کی چیز تھی جو ان پر شہد کی مانند نازل ہوتی تھی وہ اس کو پانی میں ملا لیتے تھے پھر اس کو پیتے تھے۔ (11) امام ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ من ان پر رات کو درختوں پر نازل ہوتی تھی۔ وہ صبح کو اس کی طرف جاتے تھے اور اس میں سے جتنا چاہتے تھے کھالیتے تھے اور سلوی کی مانند ایک پرندہ تھا اس میں جتنا چاہتے کھالیتے تھے (12) امام ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” المن “ وہ چیز تھی جو آسمان سے درختوں پر نازل ہوتی تھی لوگ اس میں سے کھاتے تھے اور سلوی ایک بٹیر تھی۔ (13) امام احمد، بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور ابن ابی حاتم نے سعید بن زید ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ” الکمأۃ من “ میں سے ہے اس کا پانی آنکھوں کے لیے شفا ہے۔ احمد اور ترمذی نے ابوہریرہ ؓ کی حدیث سے اسی طرح روایت کیا نسائی نے جابر بن عبد اللہ ابو سعید خدری اور ابن عباس ؓ سے اسی طرح روایت کیا۔ (14) امام ابن جریر نے حضرت ابن مسعود اور دوسرے صحابہ ؓ سے روایت کیا کہ سلویٰ بٹیر کے مشابہ ایک پرندہ تھا۔ (15) امام عبد بن حمید اور ابو الشیخ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ بٹیر وہی سلوی ہے۔ (16) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ سلویٰ چڑیا کی طرح ایک پرندہ تھا جس کو جنوب والی ہوا اکھٹا کرکے اس پر لاتی تھی اور آدمی اس میں سے ذبح کرلیتا تھا جتنا اس کو دن کے لیے کافی ہوتا تھا اگر وہ اس سے زائد ذبح کرتا تو وہ (گوشت) خراب ہوجاتا تھا اور اس کے پاس باقی نہ رہتا تھا یہاں تک کہ جب چھٹا دن (یعنی) جمعہ کا دن ہوتا تو وہ چھٹے اور ساتویں دن کا کھانا جمع کرلیتے تھے جو ان کو کافی ہوجاتا۔ (17) حضرت سفیان بن عینیہ اور ابن ابی حاتم نے وہب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ بنو اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) سے گوشت سے کم چیز کھلاؤں گا جو زمین میں جانا جاتا ہے (اللہ تعالیٰ نے) ان پر ایسی ہوا چلائی جس نے سلویٰ یعنی بٹیر کو ان کے گھروں کے پاس پھیلا دیا ایک میل لمبائی میں اور ایک میل چوڑائی میں اور بلندی میں نیزہ کی مقدار پر تھا اگر وہ کل کے لیے جمع کرتے تو گوشت بدبودار ہوجاتا۔ (18) امام عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے وھب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ ان سے سلویٰ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ کبوتر کے برابر موٹا پرندہ تھا جو ان کے پاس آجاتا تھا اور وہ اس سے ایک ہفتہ سے دوسرے ہفتہ تک (کی ضرورت) کے لیے لے لیتے تھے۔ (19) امام ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” وما ظلمونا “ سے مراد ہے کہ ہم ظلم کرنے سے بہت بلند ہیں۔ (20) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولکن کانوا انفسھم یظلمون “ سے مراد ہے ” یضربون “ یعنی وہ (اپنے آپ کو) مار تے تھے میں یظلمون کا مطلب ینصرون ہے یعنی اپنے آپ کو نقصان پہنچاتے تھے۔