Ayah 2:189چاند کا فائدہ اوقات کی پہچان ہے
(1) ابن عساکر نے ضعیف سند کے ساتھ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” یسئلونک عن الاہلۃ “ معاذ بن جبل اور ثولبہ بن غنمہ ؓ کے بارے میں نازل ہوئی اور یہ دونوں آدمی انصار میں سے ہیں انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! چاند کو کیا ہے ظاہر ہوتا ہے تو دھاگے کی مثل باریک ہوتا ہے پھر بڑھتا جاتا ہے یہاں تک کہ بڑا ہو کر گول ہوجاتا ہے پھر برابر گھٹتا رہتا ہے اور باریک ہوجاتا ہے یہاں تک کہ پہلے کی طرح ہوجاتا ہے۔ کیوں ایک حالت پر نہیں رہتا تو (اس پر یہ آیت) نازل ہوئی لفظ آیت ” یسئلونک عن الاہلۃ، قل ہی مواقیت للناس “ یہ لوگوں کی قرض کی ادائیگی، ان کے روزے کی عید، ان کی عورتوں کی عدت اور ان شرطوں کے لئے جس کی کوئی مدت مقرر ہوتی ہے ان سب چیزوں کے وقت کے تعین کے لئے گھٹتا بڑھتا رہتا ہے۔
(2) عبد بن حمید، ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لوگوں نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا چاند کیوں بنایا گیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری لفظ آیت ” یسئلونک عن الاہلۃ “ (الآیہ) تو اس کو بنا دیا گیا مسلمانوں کے روزوں کے لئے ان کے افطار کے لئے ان کے مناسک حج کے لئے اور ان کی عورتوں کی عدت (کی گنتی) کے لئے اور اپنے قرضوں کا وقت مقرر کرنے کے لئے اور اللہ تعالیٰ خوب جانے ہیں جو ان کی تخلیق میں مصلحت ہے۔
(3) ابن ابی حاتم نے أبو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ ہمیں بتایا گیا کہ صحابہ کرام نے نبی اکرم ﷺ سے عرض کیا۔ چاند کیوں پیدا کیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے (آیت) نازل فرمائی لفظ آیت ” یسئلونک عن الاہلۃ “ (الآیہ) اللہ تعالیٰ نے اس کو بنا دیا مسلمانوں کے روزوں کے اوقات کے لئے ان کے افطار کے لئے ان کے مناسک حج کے لئے ان کی عورتوں کی عدت کی تعین کے لئے اور قرض کی ادائیگی کے وقت کو بیان کرنے کے لئے۔
ابن جریر نے ربیع بن انس (رح) سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
(4) ابن جریر، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے اسی طرح روایت کیا ہے لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے چاند کے بارے میں پوچھا تو یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” یسئلونک عن الاہلۃ، قل ہی مواقیت للناس “ کہ لوگ اس کے ذریعے اپنے قرض کی ادائیگی کا وقت اور اپنی عورتوں کی عدت کو اور اپنے حج کے وقت کو متعین کرسکیں۔
(5) عبد بن حمید نے مجاہد (رح) نے لفظ آیت ” یسئلونک عن الاہلۃ، قل ہی مواقیت للناس “ کے بارے میں روایت کیا کہ چاند تمہارے حج کے لئے تمہارے روزوں کے لئے اور تمہارے قرضوں کی ادائیگی کے لئے اور تمہاری عورتوں کی عدت (کی گنتی معلوم) کے لئے بتایا گیا۔
(6) امام الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق نے ان سے پوچھا کہ آپ مجھ کو اس آیت ” مواقیت للناس “ کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے فرمایا ان کی عورتوں کی عدت معلوم کرنے کے لئے، ان کے قرض کی ادائیگی اور لوگوں کی شرطوں کے وقت کے تعین کے لئے ہیں پھر انہوں نے کہا کیا عرب کے لوگ (اس معنی) سے واقف ہیں فرمایا ہاں تو نے شاعر کا قول شعر سنا وہ کہتا ہے :
والشمس تجری علی وقت مسخرۃ اذا قضت سفرا اسقتبک سفرا
ترجمہ : سورج چاند چلتا ہے مقرر کئے ہوئے وقت پر۔ جب ایک سفر ختم کرلیتا ہے تو (فورا) نیا سفر شروع کردیتا ہے۔
(7) امام حاکم (انہوں نے اسے صحیح کہا ہے) بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے چاند کو لوگوں کے اوقات (جاننے کے لئے) بنایا پس تم چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطار کرو اگر تم پر بادل چھا جائیں تو تیس دنوں کی گنتی پوری کرلو۔
(8) احمد، طبرانی، ابن عدی، دار قطنی نے ضعیف سند کے ساتھ طلق بن علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے چاند کو لوگوں کے اوقات (معلوم کرنے) کے لئے بنایا جب تم پہلی کا چاند دیکھو تو روزے رکھو اور جب تم (شوال کا چاند) دیکھو تو افطار کرلو جب تم پر بادل چھا جائیں تو تیس کی گنتی پوری کرلو۔
وأما قولہ تعالیٰ : ” ولیس البر بان تاتوا البیوت “ (الآیہ)
(9) وکیع، بخاری اور ابن جریر نے حضرت براء ؓ سے روایت کیا کہ جب زمانہ جاہلیت میں احرام باندھتے تو اپنے گھر کے پچھواڑے سے داخل ہوتے تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی لفظ آیت ” ولیس البر بان تاتوا البیوت من ظھورھا ولکن البر من اتقی، واتوا البیوت من ابوابھا “۔
(10) امام الطیالسی، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی المنذر، ابن ابی حاتم نے حضرت براء ؓ سے روایت کیا کہ انصار جب حج کرکے لوٹے تھے تو اپنے گھروں میں پیچھے سے داخل ہوتے تھے انصار میں سے ایک آدمی آیا وہ اپنے دروازے سے (گھر میں داخل ہوگیا اس پر اعتراض کیا گیا (کہ تو نے ایسا کیوں کیا ؟ ) تو یہ آیت نازل ہوئی۔
(11) ابن ابی حاتم اور حاکم (انہوں نے اسے صحیح کہا ہے) نے ابن جابر (رح) سے روایت کیا کہ قریش کو حمس کہتے تھے وہ لوگ احرام کی حالت میں دروازوں سے داخل ہوتے تھے اور (اس کے برعکس) انصار اور دوسرے عرب کے لوگ احرام میں دروازوں سے داخل نہ ہوتے تھے۔ اس درمیان کہ رسول اللہ ﷺ ایک باغ میں تھے آپ اس کے دروازے سے نکلے اور آپ کے ساتھ قطبہ بن عامر انصاری بھی نکلا تو (دوسرے) لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ! قطبہ بن عامر فاجر آدمی ہے وہ بھی آپ کے ساتھ دروازے سے نکلا ہے آپ ﷺ نے اس سے فرمایا کس چیز نے تجھے ایسا کرنے پر آمادہ کیا اس نے کہا میں نے آپ کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا تو میں نے بھی ایسا ہی کیا جیسے آپ نے کیا آپ ﷺ نے فرمایا میں تو احمس شخص ہوں اس انصاری نے کہا بیشک میرا دین تیرا دین ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” لیس البر بان تاتوا البیوت من ظھورھا “ (الآیہ)
(12) ابن جریر، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اہل مدینہ میں سے کچھ لوگ ایسے تھے جب ان میں سے کسی کو دشمن سے کسی چیز کا خوف ہوتا تو احرام باندھ کر امن حاصل کرلیتا تھا جب احرام باندھ لیتا تھا تو اپنے گھر کے دروازے سے داخل نہ ہوتا تھا اور اپنے گھر کے پیچھے سے سوراخ کرلیتا تھا (اس سے داخل ہوتا جب رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہ آدمی اس طرح محرم تھا رسول اللہ ﷺ ایک باغ میں اس کے دروازے سے داخل ہوئے تو یہ محرم بھی آپ کے ساتھ داخل ہوگیا ایک آدمی نے اس کو پیچھے سے آواز دی اے فلانے تو محرم ہے تو لوگوں کے ساتھ دروازے سے داخل ہوگیا اس نے کہا یا رسول اللہ ! اگر آپ محرم ہیں تو میں بھی محرم ہوں اگر آپ احمس ہیں تو میں بھی احمس ہوں تو اس پر اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” لیس البر بان تاتوا البیوت من ظھورھا “ (اور تمام مسلمانوں کے لئے دروازوں سے داخل ہونے کو حلال فرما دیا) ۔
(13) عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر نے قیس بن جبیر النہشلی (رح) سے روایت کیا کہ جب لوگ احرام باندھتے تو کسی باغ یا کسی گھر میں اس کے دروازوں سے داخل نہ ہوتے تھے اور احمس (قریش) کے لوگ اپنے گھروں کے دروازوں سے داخل ہوتے تھے رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب گھر میں (دروازہ) سے داخل ہوتے تو ایک آدمی انصار میں سے جس کو رفاعہ بن تابوت کہا جاتا تھا وہ آیا اور دیوار پھاند گیا پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا جب آپ گھر کے دروازے سے باہر تشریف لائے تو آپ کے ساتھ رفاعہ بھی (باہر) آگیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تجھے کس چیز نے اس پر آمادہ کیا کہنے لگا یا رسول اللہ ! میں نے آپ کو دروازے سے نکلتے دیکھا تو میں بھی نکل آیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں تو احمس ہوں (اس لئے دروازہ سے آیا) اس نے کہا اگر آپ احمسی آدمی ہیں تو بلاشبہ دین ہمارا ایک ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” لیس البر۔۔ “ (الآیہ)
(14) ابن جریر نے زہری (رح) سے روایت کیا کہ انصار میں سے کچھ لوگ جب عمرہ کا احرام باندھتے تھے تو کوئی چیز ان کے اور آسمان کے درمیان حائل نہ ہوتی تھی جس سے وہ ڈرتے تھے اور ایک آدمی عمرہ کا تلبیہ پڑھتا ہوا گھر سے نکلتا تھا اور (پھر) اس کو کوئی حاجت پیش آجاتی تھی تو وہ لوٹ آتا تھا اور گھر کے دروازہ سے داخل نہ ہوتا تھا تاکہ اس کے اور آسمان کے درمیان کوئی چیز حائل نہ ہوجائے۔ (اس لئے) وہ دیوار کو پیچھے سے کھول لیتا تھا پھر اپنے حجرہ میں کھڑے ہو کر اپنی ضرورت کا حکم کرتا تھا تو اس کے گھر میں سے اس کی طرف (لوگ) آتے تھے (اور اس کی ضرورت کو پوری کرتے تھے) یہاں تک کہ ہم کو یہ بات پہنچی کہ رسول اللہ ﷺ حدیبیہ کے عمرہ کے زمانہ میں آپ حجرہ مبارک میں داخل ہوئے تو انصار کے قبیلہ بنو سلمہ میں سے ایک آدمی بھی آپ کے پیچھے اندر آگیا نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا میں تو احمس ہوں اور احمس اس بات کی (یعنی دروازہ سے داخل ہونے کی) کوئی پرواہ نہیں کیا کرتے انصاری نے کہا میں بھی احمس ہوں اور میں آپ کے دین پر ہوں اس پر اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” ولیس البر۔۔ “ (الآیہ) ۔
واتوا البیوت من ابوابھا کا شان نزول
(15) ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ عرب کے بعض لوگ جب حج کرتے تھے تو اپنے گھروں میں دروازوں سے داخل نہ ہوتے تھے (اور) پیچھے دیوار میں سوراخ کرکے داخل ہوتے تھے۔ جب رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع والا حج ادا فرمایا تو (واپسی پر گھر کے قریب) پیدال چل رہے تھے اور آپ کے ساتھ ایک آدمی تھا ان لوگوں میں سے جو مسلمان تھا جب رسول اللہ ﷺ گھر کے دروازے پر پہنچے تو وہ آدمی آپ کے پیچھے رک گیا اور داخل ہونے سے انکار کردیا کہنے لگا یا رسول اللہ ! میں احمسی ہوں اور جو لوگ ایسا کرتے تھے (یعنی دروازوں سے داخل نہ ہوتے تھے) ان کو احمس کہا جاتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں بھی احمس ہوں پس تو داخل ہوجا وہ آدمی بھی داخل ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری لفظ آیت ” واتوا البیوت من ابوابھا “۔
(16) سعید بن منصور نے ابراہیم بخفی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ زمانہ جاہلیت کے لوگوں میں سے جب کوئی آدمی اپنے بعض دوستوں کے گھروں میں سے کسی کے گھر یا اپنے چچا کے بیٹے کے گھر آتا تھا تو بالوں کے بنے ہوئے ان گھروں کو پیچھے سے اٹھا کر اندر داخل ہوتا تھا تو اس سے لوگوں کو منع کیا گیا اور ان کو حکم دیا گیا کہ گھروں میں ان کے دروازوں سے آؤ۔ پھر سلام بھی کرو۔
(17) ابن ابی حاتم نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا کہ آدمی جب اعتکاف کرتا تھا تو اپنے گھر میں گھر کے دروازہ سے داخل نہ ہوتا تھا تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری لفظ آیت ” ولیس البر۔۔ “ (الآیہ)
(18) ابن ابی حاتم نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ یثرب والے جب اپنی عید سے واپس لوٹتے تو گھروں کے پیچھے سے داخل ہوتے تھے اور وہ اس کو نیکی تصور کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی۔
(19) عبد بن حمید نے حسن (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ زمانہ جاہلیت میں ایک آدمی کسی کام کے کرنے کا ارادہ کرتا تھا تو اس سے رک جاتا تھا (پھر) وہ اپنے گھر میں دروازہ کی جانب سے نہ آتا تھا۔ یہاں تک کہ اس کام کو نہ کر گزرتا تھا جس کا اس نے ارادہ کیا تھا۔
Ayah 2:190(1) امام آدم بن ابی ایاس نے اپنی تفسیر میں اور ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وقاتلوا فی سبیل اللہ الذین یقاتلونکم “ سے مراد محمد ﷺ کے اصحاب ہیں جن کو کافروں سے لڑنے کا حکم دیا گیا۔
(2) ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولا تعتدوا “ سے مراد ہے کہ تم قتل نہ کرو عورتوں بچوں اور بوڑھوں کو اور نہ اس کو جو صلح کرنا چاہے اور اپنے ہاتھ کو (لڑائی سے) روک دے اگر تم نے ایسا کیا (یعنی ان کو قتل کیا) تو تم نے زیادتی کی۔
(3) ابن ابی شیبہ، بخاری اور مسلم نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ بعض لڑائیوں میں ایک عورت مقتولہ پائی گئی تو رسول اللہ ﷺ نے عورتوں اور بچوں کے قتل کرنے سے منع فرمایا۔
(4) ابن ابی شیبہ نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا کہ ہم نے لوگوں کو جنگ کے لئے بلایا تو ہم نے مدینہ منورہ کے قریب پڑاؤ کیا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ پمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا اللہ کے نام لے کر چلو اور اللہ کی رضا کے لئے دشمن سے جنگ کرنا۔ بوڑھے اور چھوٹے بچے کو اور عورت کو قتل نہ کرنا اور مال غنیمت میں خیانت نہ کرنا۔
(5) امام وکیع، ابن ابی شیبہ نے یحییٰ بن یحییٰ الغسانی (رح) سے روایت کیا کہ میں نے حضرت عمر بن عبد العزیز (رح) کو لکھا اور ان سے اس آیت لفظ آیت ” وقاتلوا فی سبیل اللہ الذین یقاتلونکم ولا تعتدوا، ان اللہ لا یحب المعتدین “ کے بارے میں پوچھا انہوں نے مجھ کو لکھا کہ یہ (آیت) ان عورتوں اور بچوں کے بارے میں ہے جن کی طرف سے تیرے لئے جنگ جائز نہیں ہوئی۔
Ayah 2:191مسجد حرام میں قتال کب جائز ہے
(1) ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے لفظ آیت ” واقتلوھم حیث ثقفتموھم “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے اللہ تعالیٰ نے مشرکین مراد لئے ہیں۔
(2) الطستی، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق نے اسن سے ” ثقفتموہم “ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس سے مراد ہے ” وجدتموھم “ (یعنی تم جہاں ان کو پاؤ) پھر انہوں نے پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں تو انہوں نے فرمایا ہاں کیا تو نے حسان ؓ کا شعر نہیں سنا :۔
فاما یثقفن بنی لوی جذیمۃ ان قتلہم دواء
ترجمہ : اگر بنو لوئی، حذیمہ کو تم پالو تو ان کا قتل کرنا بھی دوا ہے۔
(3) ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” والفتنۃ اشد من القتل “ کہ اس آیت میں فتنہ سے مراد شرک ہے اور وہ اشد ہے۔
(4) ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” والفتنۃ اشد من القتل “ سے مراد فتنہ ہے جس پر تم قائم ہو اور وہ قتل سے بڑا ہے۔
(5) امام ابن حمید، ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” والفتنۃ اشد من القتل “ سے مراد ہے کہ مؤمن کا بتوں کی عبادت کی طرف لوٹنا ہے اور یہ اس سے زیادہ سخت ہے کہ وہ حق کی سربلندی کے لئے شہید ہوجائے۔
(6) عبد بن حمید نے ابوبکر بن عباس کے طریق سے حضرت عاصم (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولا تقتلوہم عند المسجد الحرام حتی یقتلوکم فیہ، فان قتلوکم “ میں (تقتلوھم یقتلوہم اور قتلوکم) سب الف کے ساتھ ہیں باب مفاعلہ سے ہیں اور ” فاقتلوہم “ ان کے آخر میں بغیر الف کے (یعنی یہ مجرد باب نصر ینصر سے ہے) ۔
(7) عبد بن حمید نے ابو الاحوص (رح) سے روایت کیا کہ میں نے أبو اسحاق کو ان سب کو بغیر الف کے پڑھتے ہوئے سنا ہے۔
(8) عبد بن حمید نے اعمش (رح) سے روایت کیا کہ حضرت عبد اللہ ؓ کے اصحاب سب کو بغیر الف کے پڑھتے تھے۔
(9) ابن ابی شیبہ، ابو داؤد نے الناسخ میں اور ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولا تقتلوہم عند المسجد الحرام حتی یقتلوکم فیہ “ سے مراد ہے کہ یم خود مسجد حرام کے پاس قتال شروع نہ کریں۔ پھر یہ آیت بعد میں منسوخ کردی گئی اور فرمایا لفظ آیت ” وقتلوہم حتی لا تکون فتنۃ “ یعنی ان سے قتال کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے۔
(10) ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابو داؤد، ابو داؤد، النحاس نے الناسخ میں قتادہ (رح) سے ان دونوں آیتوں لفظ آیت ” ولا تقاتلوہم عند المسجد الحرام “ اور ” ویسئلونک عن الشھر الحرام قتال فیہ قال قتال فیہ کبیر “ کے بارے میں روایت کیا کہ ان دونوں آیتوں (کے حکم) کو سورة برأۃ کی آیتوں لفظ آیت ” فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموہم “ اور ” قاتلوا المشرکین کافۃ کما یقتلونکم کافۃ “ نے منسوخ کردیا۔
(11) ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” فان انتھوا “ سے مراد ہے ” فان تابوا “ یعنی اگر وہ توبہ کرلیں۔
Ayah 2:192(آیت نمبر 185 کا بقیہ حاشیہ)
(81) ابن ابی شیبہ، مسلم نے جابر بن سمرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ عاشورہ کے دن کا روزہ رکھنے کا حکم فرماتے تھے اور اس پر ہم کو آمادہ فرماتے تھے اور آپ اپنی طرف سے اس کی ترغیب بھی دیتے تھے۔ جب رمضان فرض کیا گیا پھر ہم کو نہ تو (عاشورہ کے روزہ کا) حکم دیا گیا اور نہ ہم کو منع کیا گیا اور نہ ہم کو اس کی ترغیب دی۔
(82) عبد بن حمید، ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فمن شھد منکم الشھر فلیصمہ “ سے مراد ہے کہ جو گھر میں ٹھہرا ہوا ہو۔
(83) عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فمن شھد منکم الشھر فلیصمہ “ سے مراد ہے کہ جو شخص شہر میں مقیم ہوتا ہے سفر کی حالت میں اس کو چاہئے کہ روزے رکھے۔
(84) عبد بن حمید نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فمن شھد منکم الشھر فلیصمہ “ سے مراد وہ شخص ہے جو مقیم ہے۔
(85) وکیع، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ جس شخص نے رمضان کو اس حال میں پایا کہ وہ مقیم تھا پھر اس نے سفر اختیار کرلیا تو اس پر روزے لازم ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت ” فمن شھد منکم الشھر فلیصمہ “۔
(86) سعید بن منصور نے حضرت ابن عمر ؓ سے لفظ آیت ” فمن شھد منکم الشھر فلیصمہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ جس شخص نے رمضان (کے مہینہ) کو اپنے اہل و عیال میں پایا پھر اس نے سفر کا ارادہ کیا تو اس کو چاہئے کہ روزے رکھے۔
(87) دار قطنی نے ضعیف سند کے ساتھ جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جو شخص رمضان کے مہینہ کا ایک دن کا روزہ نہ رکھے اپنے گھر پر موجود ہوتے ہوئے اس کو چاہئے کہ ایک اونٹ کی قربانی کرے اگر اس کو نہ پائے تو اس کو چاہئے کہ تیس صاع کھجوروں کے مسکینوں کو کھلائے۔
وأما قولہ تعالیٰ : ” ومن کان مریضا او علی سفر فعدۃ من ایام اخر “:
(88) ابن جریر نے حسن اور ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا کہ جب مریض کھڑے ہو کر نماز نہ پڑھ سکے تو وہ روزے نہ رکھے۔
(89) ابن ابی شیبہ نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ سفر میں روزہ رکھنا نماز کی طرح سے ہے جب روزہ نہ رکھا جائے تو قصر کرے۔ اور روزہ رکھے تو پوری نماز پڑھے۔ (پوری نماز پڑھے تو روزہ بھی رکھے)
(90) سفیان بن عینیہ، ابن سعد، عبد بن حمید، ابو داؤد، ترمذی، ابن ماجہ، ابن جریر اور بیہقی سنن میں انس بن مالک قشیری ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مسافر سے روزہ اور آدھی نماز ساقط کردی ہے اور حمل والی عورت اور دودھ پلانے والی عورت سے بھی روزہ ساقط کردیا ہے۔
(91) ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا (اس میں) آسانی بھی ہے اور تنگی بھی ہے تو اللہ کی طرف سے آسانی کو لے لو۔
(92) امام مالک، شافعی، عبد بن حمید، بخاری، مسلم، ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ حمزہ سلمی ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا اگر تو چاہے تو روزہ رکھ لے اور اگر چاہے تو نہ رکھ۔
(93) دار قطنی نے حمزہ بن عمروا سلمی ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں سفر میں روزہ رکھنے کی طاقت پاتا ہوں کیا مجھ کو روزہ رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔
(94) امام احمد نے عبد بن حمید اور مسلم (رح) سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں نقل کیا ہے کہ اگر تو روزہ رکھنا چاہے تو روزہ رکھ لے اور اگر تو نہ رکھنا چاہے تو نہ رکھ۔
(95) عبد بن حمید، دار قطنی نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے ہر کام کیا آپ نے (سفر میں) روزہ بھی رکھا اور نہ بھی رکھا اور آپ نے سفر میں نماز پوری پڑھی اور قصر بھی کی۔
(96) خطیب نے کتاب التلخیص میں معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا کہ سفر میں رخصت کی آیت نازل ہونے کے بعد بھی نبی اکرم ﷺ نے روزہ رکھا۔
(97) عبد بن حمید نے ابو عیاض ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے رمضان میں سفر فرمایا تو لوگوں میں یہ آواز لگائی کہ جو شخص چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے ابو عیاض ؓ سے پوچھا گیا کہ نبی اکرم ﷺ نے کیسے کیا تھا ؟ تو انہوں نے کہا کہ آپ نے روزہ رکھا تھا اور آپ اس بات کے زیادہ حق دار تھے۔
(98) عبد بن حمید نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سفر میں روزہ رکھنے والے اور روزہ نہ رکھنے والے کسی پر میں عیب نہیں لگاتا۔
سفر کے دوران روزے رکھنا
(99) عبد بن حمید نے سعید بن مسیب اور عامر (رح) سے روایت کیا کہ دونوں حضرات اس بات پر متفق ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب رمضان میں سفر کرتے تھے اور روزہ رکھنے والے روزہ رکھتے تھے اور نہ رکھنے والے بھی ہوتے تھے روزہ نہ رکھنے والے روزہ رکھنے پر اور روزہ رکھنے والے روزہ نہ رکھنے والوں پر عیب نہیں لگاتے تھے۔
(100) امام مالک، شافعی، عبد بن حمید، بکاری، ابو داؤد نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ ہم نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ رمضان میں سفر کیا ہم میں سے بعض نے روزہ رکھا اور بعض نے نہ رکھا (لیکن) روزہ رکھنے والے نے روزہ نہ رکھنے والے پر اور روزہ نہ رکھنے والے نے روزہ رکھنے والے پر عیب نہیں لگایا۔
(101) امام مسلم، ترمذی، نسائی نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ ہم نے رمضان کے مہینہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر کیا ہم میں سے روزہ رکھنے والا بھی تھا اور نہ رکھنے والا بھی تھا روزہ نہ رکھنے والے نے روزہ رکھنے والے پر اور روزہ رکھنے والے نے روزہ نہ رکھنے والے پر کوئی اعتراض نہیں کیا (یعنی کسی نے کسی کو برا نہیں کہا) اور وہ جانتے تھے کہ جس نے طاقت پائی روزہ رکھ لیا یہ بھی اچھا ہے اور جس نے کمزوری پائی اس نے نہ رکھا یہ بھی اچھا ہے۔
(102) ابن ابی شیبہ، ابو داؤد، نسائی نے جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں۔
(103) ابن ابی شیبہ، احمد، عبد بن حمید، نسائی، ابن ماجہ، حاکم (انہوں نے اسے صحیح کہا ہے) نے کعب بن عاصم اشعری ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا سفر میں روزہ رکھنا نیکی سے نہیں ہے۔
(104) عبد بن حمید نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ میں رمضان میں سفر کی حالت میں روزہ نہ رکھوں میرے نزدیک زیادہ پسند ہے اس سے کہ میں روزہ رکھ لوں۔
(105) عبد بن حمید نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ سفر میں روزہ نہ رکھنا صدقہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر صدقہ فرمایا ہے۔
(106) عبد بن حمید نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ان سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا یہ رخصت آسمان سے نازل ہوئی ہے اگر تم چاہو تو اس کو واپس کردو۔
(107) عبد بن حمید نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ان میں سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا اگر تو صدقہ کرلے اور وہ واپس کردیا جائے تو تجھ کو غصہ نہیں آئے گا، (اس طرح) یہ بھی صدقہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے تم پر صدقہ کیا ہے۔
(108) نسائی، ابن ماجہ، ابن جریر نے عبد الرحمن بن عوف ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سفر میں رمضان کا روزہ رکھنے والا حضر میں روزہ نہ رکھنے والے کی طرح ہے۔
(109) ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سفر میں روزہ رکھنے والا سفر میں روزہ نہ رکھنے والے کی طرح ہے۔
(110) ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا سفر میں روزہ نہ رکھنا ضروری ہے۔
(111) عبد بن حمید نے محرز بن ابی ہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے سفر میں روزہ رکھا جب وہ واپس آئے تو ابوہریرہ ؓ نے روزہ قضا کرنے کا حکم فرمایا۔
(112) عبد بن حمید نے عبد اللہ عامر بن ربیعہ رحمہم اللہ سے روایت کیا کہ حضرت عمر ؓ نے نہیں اس شخص کو جس نے سفر میں روزہ رکھا تھا حکم فرمایا کہ وہ روزہ کو لوٹالے (یعنی دوبارہ رکھ لے) ۔
(113) وکیع، عبد بن حمید نے عامر بن عبد العزیز (رح) سے روایت کیا کہ ان سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا اگر تجھ پر آسانی ہو تو روزہ رکھ لو اور ایک روایت میں ہے اگر آسانی ہو (اور تکلیف نہ ہو) تو روزہ رکھ لو اور اگر مشکل ہو تو روزہ نہ رکھو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” یرید اللہ بکم الیسر ولا یریدبکم العسر “۔
سفر میں روزہ رکھنا افضل ہے
(114) عبد بن حمید، نسائی، ابن جریر نے خیثمہ (رح) سے روایت کیا کہ میں نے انس بن مالک ؓ سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا روزہ رکھ لے میں نے کہا اس آیت کا مطلب کیا ہے ؟ لفظ آیت ” فعدۃ من ایام اخر “ (یعنی دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرو) تو انہوں نے جواب دیا یہ آیت ان دنوں نازل ہوئی جب ہم بھوکے سفر کرتے تھے اور سواریوں سے بھوکے ہی اترتے تھے اور آج ہم سیر ہو کر سفر کرتے ہیں اور پیٹ بھر کر (سواریوں سے) اترتے ہیں۔
(115) ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا کہ جو شخص روزہ نہ رکھے یہ رخصت ہے اور جو روزہ رکھ لے یہ افضل ہے۔
(116) عبد بن حمید نے ابراہیم سعید بن جبیر اور مجاہد سے روایت کیا کہ یہ تینوں حضرات سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اگر چاہو تو روزہ نہ رکھو اور گار چاہو تو روزہ رکھ لو اور روزہ رکھنا افضل ہے۔
(117) عبد بن حمید نے العوام کے طریق سے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ سفر میں روزہ رکھتے بھی تھے اور نہ بھی رکھتے تھے اور آپ کے اصحاب کو دیکھا گیا کہ وہ روزہ رکھتے تھے اور آپ فرماتے تھے تم لوگ کھاؤ میں (اس حال میں) ہوتا ہوں کہ میرا رب مجھ کو کھلاتا ہے اور پلاتا ہے (راوی) عوام نے کہا کہ میں نے مجاہد سے پوچھا اس بارے میں تیری کیا رائے ؟ تو انہوں نے فرمایا رمضان میں روزہ رکھنا افضل ہے غیر رمضان میں روزہ رکھنے سے۔
(118) عبد بن حمید نے ابو البختری کے طریق سے روایت کیا ہے کہ عبیدہ (رح) سے روایت کیا ایک آدمی نے سفر کیا جبکہ اس نے رمضان کے پہلے روزے رکھے تھے تو اس کو چاہئے کہ باقی دنوں میں بھی روزے رکھ لے پھر یہ آیت پڑھی لفظ آیت ” فمن شھد منکم الشھر فلیصمہ “ اور بتایا کہ ابن عباس ؓ فرماتے تھے جو شخص چاہے روزہ رکھ لے اور جو شخص چاہے نہ رکھے۔
(119) عبد بن حمید نے محمد بن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ ہے کہ میں نے عبیدہ (رح) سے پوچھا کیا میں رمضان میں سفر کروں ؟ انہوں نے فرمایا نہیں۔
سفر میں رمضان کے روزے رکھنا افضل ہے
(120) عبد بن حمید نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ جب آدمی رمضان کو پالے تو سفر پر نہ نکلے۔ اگر وہ نکلے اور وہ رمضان کے پہلے روزے رکھ چکا ہے تو اس کو چاہئے کہ سفر میں بھی روزے رکھے کیونکہ رمضان میں اس کی قضا کرنا میرے نزدیک زیادہ محبوب ہے غیر رمضان میں قضا کرنے سے۔
(121) عبد بن حمید نے ابو مجلز (رح) سے روایت کیا کہ جب رمضان آجائے تو کوئی آدمی ہرگز سفر نہ کرے اگر وہ انکار کرے اس بات سے کہ وہ سفر کرے گا تو اس کو چاہئے کہ روزہ رکھے۔
(122) عبد بن حمید نے عبد الرحمن بن قاسم (رح) سے روایت کیا کہ ابراہیم بن محمد (رح) حضرت عائشہ ؓ کے پاس آئے ان کو سلام کیا اور یہ رمضان کا مہینہ تھا حضرت عائشہ ؓ نے پوچھا کہاں کا ارادہ ہے ؟ عرض کیا عمرہ کا تو انہوں نے فرمایا تو بیٹھا رہا یہاں تک کہ یہ مہینہ داخل ہوگیا (یعنی رمضان کا مہینہ شروع ہوگیا ہے) لہٰذا اب سفر نہ کر عرض کیا میرے ساتھی اور میرے اہل و عیال (سفر میں) نکل چکے ہیں تو انہوں نے فرمایا اور اگر ہو کے تو ان کو واپس بلالو پھر ٹھہرے رہوں یہاں تک کہ رمضان کا مہینہ گزر جائے۔
(123) عبد بن حمید نے ام دردہ ؓ سے روایت کیا کہ میں حضرت عائشہ ؓ کے پاس تھی میرے پاس ایک قاصد آیا اور یہ رمضان کا مہینہ تھا مجھ سے حضرت عائشہ نے فرمایا یہ کون ہے ؟ میں نے کہا میرے بھائی کا قاصد ہے وہ سفر پر جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا (گھر سے) نہ نکلو یہاں تک کہ (رمضان کا) مہینہ ختم ہوجائے اگر رمضان کا مہینہ راستے میں آجائے تو میں وہیں قیام کرلوں۔
(124) عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ رمضان میں آدمی کے سفر کرنے میں کوئی حرج نہیں اور اگر چاہے تو روزہ نہ رکھے۔
(125) عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے رمضان (کے مہینہ) کو قید نہیں بنایا (کہ آدمی گھر میں قید رہے اور سفر نہ کرے) ۔
(126) عبد بن حمید نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ جس شخص نے رمضان کا مہینہ پالیا اس کو سفر کرنے میں کوئی حرج نہیں پھر اس میں کوئی حرج نہیں کہ روزہ نہ رکھے۔
(127) عبد بن حمید وأبو داؤد نے سنان بن علمہ بن محبق ھذلی سے وہ اپنے والد ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کے پاس سواری ہو جو اسے ایسی جگہ میں پہنچاتی ہو جہاں انسان کھانے سے سیر ہوسکتا ہے اور اس کو رمضان آجائے تو روزہ رکھے۔
(128) ابن سعد نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے میری امت کے مریض اور مسافر پر روزہ نہ رکھنے کا صدقہ فرمایا۔
(129) طبرانی نے انس بن مالک سے اور انہوں نے (قبیلہ) لعب میں سے ایک آدمی سے روایت کیا کہ ہم پر رسول اللہ ﷺ کے شہسواروں نے حملہ کیا تو میں آپ کے پاس پہنچا آپ کھانا تناول فرما رہے تھے آپ نے فرمایا بیٹھ جا ہمارے اس کھانے میں سے کھالے۔ میں نے عرج کیا یا رسول اللہ ! میں روزہ دار ہوں آپ ﷺ نے فرمایا بیٹھ جا میں تجھ کو نماز اور روزہ کے بارے میں بتاتا ہوں اللہ تعالیٰ نے مسافر کے لئے آدھی نماز معاف کردی ہے اور مسافر سے اور مریض سے اور حاملہ عورت سے روزہ معاف کردیا ہے۔
(130) ابن ابی شیبہ نے عکرمہ (رح) سے لفظ آیت ” فعدۃ من ایام اخر “ کے تحت نقل کیا اگر مسافر چاہے تو حضر میں روزے ملا کر رکھ لے یا متفرق کرکے رکھ لے۔
(131) ابن المنذر، ابن ابی حاتم، بیہقی نے سنن میں حضرت ابن عباس ؓ سے قضاء رمضان کرکے رکھ لے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت ” فعدۃ من ایام اخر “ یہ دوسرے ایام میں گنتی پوری کرے۔
(132) ابن ابی شیبہ، دار قطنی نے حضرت ابن عباس ؓ سے قضاء رمضان کے بارے میں روایت فرمایا جیسا تو چاہے روزہ رکھ لے ابن عمر ؓ نے فرمایا جیسے تو نے افطار کئے ویسے رکھ۔
(133) امام مالک، وابن ابی شیبہ نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رمضان کے مہینہ کی (قضا روزے لگاتار رکھے جو شخص مرض یا سفر کی وجہ سے روزہ نہ رکھ سکا۔
قضا روزے رکھنا
(134) سعید بن منصور اور بیہقی نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے رمضان کے قضا روزوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت ” فعدۃ من ایام اخر “ جب گنتی پوری ہو تو پھر متفرق رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔
(135) ابن ابی شیبہ، دار قطنی، بیہقی نے ابو عبیدہ بن جراح ؓ سے روایت کیا کہ قضاء رمضان کے روزے متفرق رکھنے کے بارے میں پوثھا گیا تو انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے تم کو روزہ نہ رکھنے کے بارے میں اجازت اس لئے نہیں دی اور وہ اس کے قضا کرنے میں تم پر مشقت ڈالے سو تم گنتی کو پورا کرلو اور جیسے چاہو کرو۔
(136) دار قطنی نے رافع بن خدیج ؓ سے روایت کیا کہ گنتی کو پورا کرو اور جیسے چاہو روزے رکھو۔
(137) ابن ابی شیبہ، دار قطنی نے معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا کہ ان سے قضاء رمضان کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا گنتی کو پورا کرو یعنی جیسے چاہو روزے رکھو۔
(138) دار قطنی نے عمرو بن عاص ؓ سے روایت کیا کہ قضاء رمضان کے روزے میں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” فعدۃ من ایام اخر “۔
(139) امام وکیع، ابن ابی حاتم نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک عورت نے سوال کیا کہ میں رمضان کے روزوں کو کس طرح قضا کروں ؟ انہوں نے فرمایا جیسے تو چاہے روزے رکھ اور گنتی پوری کر لفظ آیت ” فانما یرید اللہ بکم الیسر ولا یریدبکم العسر “۔
(140) ابن المنذر، دار قطنی، بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ (یہ آیت اسی طرح) نازل ہوئی لفظ آیت ” فعدۃ من ایام اخر متشابعت “ (پھر) ” متشابعات “ (کا لفظ) ختم کردیا گیا بیہقی (رح) نے فرمایا کہ یہ لفظ منسوخ کردیا گیا اس حدیث کو دار قطنی نے صحیح کہا۔
قضاء کے روزے متواتر رکھنا ضروری نہیں
(141) دار قطنی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص پر رمضان کے (قضا) روزے ہوں تو اس کو چاہئے متواتر روزے رکھے اور ان میں متفرق نہ کرے۔
(142) دار قطنی نے عبد اللہ بن عمر و ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ سے رمضان کے قضا روزوں کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا لگاتار روزے رکھے اور اگر جدا جدا کرکے رکھے تو بھی کافی ہوجائیں گے۔
(143) دار قطنی نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے رمضان کے قضا روزوں کے بارے میں فرمایا اگر چاہو تو متفرق رکھو اور اگر چاہو تو لگاتار رکھو۔
(144) ابن ابی شیبہ، امام دار قطنی نے ابن عباس ؓ سے اسی طرح روایت کیا محمد بن منکدر سے روایت ہے کہ مجھ کو رسول اللہ ﷺ کی طرف سے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ سے رمضان تک قضاء روزے متفرق طور پر رکھنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا وہ تیری مرضی ہے مثلا کسی پر قرضہ ہو اور وہ ایک ایک دو یا دو درہم کرکے ادا کرے تو قرضہ ادا نہیں ہوجائے گا ؟ (یقیناً ہوجائے گا) اللہ تعالیٰ زیادہ حق دار ہیں کہ اس کو قبول فرمائیں اور مغفرت بھی فرما دیں۔
(145) ابن جریر، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” یرید اللہ بکم الیسر ولا یریدیکم العسر “ میں ” الیسر “ سے مراد سفر میں روزہ نہ رکھنا ہے اور عسر سے مراد سفر میں روزہ رکھنا ہے۔
(146) ابن مردویہ نے محجن بن ادرع ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو نماز پڑھتے دیکھا اور آپ نے ایک لمحہ کے لئے اسے دیکھا۔ پھر فرمایا کیا تو نے اس کو دیکھا کہ وہ سچی نماز پڑھ رہا ہے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ تو اہل مدینہ میں سب سے زیادہ نماز پڑھنے والا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا اس کو نہ سنا ورنہ تو اس کو ہلاک کر دے گا اور آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس امت کے ساتھ آسانی کا ارادہ فرمایا ہے اور تنگی کا ارادہ نہیں۔
(147) امام احمد نے أعرج ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا بلاشبہ تمہارا بہترین دین وہ ہے جو آسان ہو بلاشبہ تمہارا بہترین دین وہ ہے جو آسان ہے۔
(148) ابن سعد، احمد، ابو یعلی، طبرانی، ابن مردویہ نے عروہ تمیمی ؓ سے روایت کیا ہے کہ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کیا ہم پر اس (دین) میں کچھ حرج ہے ؟ آپ نے فرمایا اے لوگو ! اللہ کا دین آسان ہے تین دفعہ آپ نے اسی طرح ارشاد فرمایا۔
(149) البزار نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آسانی پیدا کرو تنگی پیدا نہ کرو، نرمی پیدا کرو اور نفرت نہ دلاؤ۔
(150) امام احمد نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ دین مضبوط ہے اس میں نرمی کے ساتھ لوگوں کو داخل کرو۔
(151) البزار نے حضرت جابر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ دین مضبوط ہے اس میں نرمی کے ساتھ داخل کرو تیزی سے دوڑنے والا نہ تو زمین کا سفر طے کرتا ہے۔
(152) احمد نے ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اسلام نرم اور (مطیع گھوڑے کی طرح ہے اس پر سوار نہیں ہوتا مگر جو نرم طبیعت ہو۔
(153) امام بخاری، نسائی، بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا دین آسان ہے اور ہرگز کوئی دین نہیں آئے گا مگر دین (اسلام) اس پر غالب آجائے گا (ہر کام میں) میانہ روی اختیار کرو اور اللہ کو قرب حاصل کرو اور (لوگوں کو) خوشخبری دو ۔ اور مدد طلب کرو صبح و شام اور رات کے کچھ وقت میں۔
(154) امام طیالسی، احمد، بیہقی نے بریدہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا اور ہم آپ کے ساتھ اکٹھے چلتے رہے اچانک ایک آدمی ہمارے سامنے نماز پڑھ رہا تھا (اور) کثرت سے رکوع اور سجدے کر رہا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تو اس کو ریا کار خیال کرتا ہے میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں آپ نے میرا ہاتھ چھوڑ دیا اور فرمایا تم اپنے اوپر اعتدال کا راستہ لازم کرلو سو جو شخص اس دین پر غالب آنے کی کوشش کرتا ہے یہ دین اس پر غالب آجاتا ہے۔
دین میں داخل ہونے کی ترغیب
(155) بیہقی نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا یہ دین مضبوط ہے پس اس میں لوگوں کو نرمی کے ساتھ داخل کرو اور اس کے بندوں کی طرف اللہ کی عبادت کو ناپسندیدہ نہ بنا دو کیونکہ تیز دوڑنے والا نہ سفر طے کرتا ہے اور نہ سواری کو باقی رکھتا ہے۔
(156) بیہقی نے عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ دین مضبوط ہے سو اس میں لوگوں کو نرمی کے ساتھ داخل کرو اور اپنے رب کی عبادت کو اپنی ذات کے نزدیک مبغوض نہ بنادو کیونکہ تیز دوڑنے والا نہ سفر طے کرتا ہے اور نہ سواری کو باقی رکھتا ہے۔ پس اس آدمی کی طرح عمل نہ کر جو خیال کرتا ہے کہ وہ کبھی نہیں مرے گا تو ڈرجا ایسا ڈرنا کہ تو (اس بات کا) خوف کرتا ہو کہ توکل مرجائے گا۔
(157) طبرانی اور بیہقی نے سہل بن ابی امام (رح) سے روایت کیا کہ اور وہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنی جانوں پر سختی نہ کرو کیونکہ تم سے پہلے لوگ اپنی جانوں پر سختی کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوگئے اور ان کے باقی لوگوں کو تم گرجا گھروں اور نصاری کے عبادت خانوں میں پاؤں گے۔
(158) بیہقی نے معبد جہنی (رح) کے طریق سے بعض صحابہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا علم افضل ہے عمل سے۔ بہترین اعمال درمیانی درجہ کے ہیں اللہ کا دین سختی اور غلو کے درمیان ہے۔ نیکی دو چیزوں کے درمیان ہے اس کو نہیں پاتا ہے مگر اللہ کی مدد سے اور بہت برا چلنا تیز چلنا ہے۔
(159) ابن عبید اور بیہقی نے اسحاق بن سوید (رح) سے روایت کیا کہ عبد اللہ بن مطرف نے بتکلف عبادت کی تو اس کو مطرف نے کہا اے عبد اللہ ! علم افضل ہے عمل سے اور نیکی دو چیزوں کے درمیان ہے اور بہترین کام درمیانی درجہ کے ہیں اور بہت برا چلنا، تیز چلنا ہے۔
(160) ابو عبید اور بیہقی نے تمیم داری (رح) سے روایت کیا کہ اپنے دین میں سے اپنے لئے کچھ حاصل کرلو اور اپنی ذات میں سے اپنے دین کچھ حاصل کرلو یہاں تک کہ تیرے ذریعہ (اللہ کا) حکم قائم رہے (ایسی) عبادت پر جس کی تو طاقت رکھتا ہے۔
(161) بیہقی نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ تو یہ پسند فرماتے ہیں کہ تو اس کی رخصت پر عمل کرے جیسے وہ پسند کرتا ہے کہ تو اس کے فرائض پر عمل کرے۔
ّ (162) البزار و الطبرانی وابن حبان نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ یہ پسند فرماتے ہیں کہ تو اس کی رخصت پر عمل کرے۔ جیسے وہ پسند فرماتا ہے کہ تو اس کے فرائض پر عمل کرے۔
(163) احمد، البزار، ابن خزیمہ، ابن حبان، طبرانی فی الاوسط اور بیہقی نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ یہ پسند فرماتے ہیں کہ اس کی رخصت پر عمل کرے۔ جس طرح وہ ناپسند کرتا ہے کہ تو اس کی نافرمانی کرے۔
(164) بخاری نے الادب المفرد میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ سے پوچھا گیا اللہ تعالیٰ کو کون سا دین پسند ہے ؟ آپ نے فرمایا جو سیدھا اور آسان ہو (یعنی دین اسلام) ۔
(165) الطبرانی نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے کہا کہ میں سفر میں روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جو اللہ تعالیٰ کی رخصت کو قبول نہیں کرتا اس کو عرفات کے پہاڑوں کے برابر گناہ ہوگا۔
(166) الطبرانی نے عبد اللہ بن یزید بن ادیم (رح) سے روایت کیا ہے کہ مجھ سے ابو درداء، واثلہ بن اسقع ابو امامہ اور انس بن مالک ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند فرماتے ہیں کہ ان کی رخصت کو قبول کیا جائے جیسے بندہ اپنے رب کی مغفرت کو پسند کرتا ہے۔
(167) احمد نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے میری ٹھوڑی کو اپنے کندھے پر رکھا تاکہ میں حبشی لوگوں کا کھیل دیکھ لوں یہاں تک کہ میں دیکھتے دیکھتے تھک گئی اور ان کے (دیکھنے سے ہٹ گئی) اور حضرت عائشہ ؓ نے کہا کہ اس دن آپ ﷺ نے فرمایا یہود جانتے ہیں کہ ہمارے دین میں وسعت ہے (تنگی نہیں ہے) یعنی میں سیدھا اور آسان دین دیکر بھیجا گیا ہوں۔
(168) ترمذی نے نوارد الاصول میں حضرت حسن (رح) سے روایت کیا کہ بلاشبہ اللہ کا دین غلو سے نیچے اور کوتاہی سے بلند ہے۔
(169) عبد الرزاق نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ طعن نہ کرو اس شخص پر جس نے سفر میں روزہ رکھا اور جس نے نہیں رکھا اور اس میں سے اپنے لئے آسانی اختیار کر۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” یرید اللہ بکم الیسر ولا یریدبکم العسر “۔
(170) عبد الرزاق نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ تجھ پر لازم ہے کہ آسانی کو اختیار کر کیونکہ اللہ تعالیٰ صرف آسانی کا ادارہ فرماتے ہیں۔
(171) ابن ابی حاتم نے ربیع (رح) سے لفظ آیت ” ولتکملوا العدۃ “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے رمضان (کے روزوں) کی تعداد پوری کرو۔
پورے مہینے کے روزے فرض ہیں
(172) ابو داؤد، نسائی، ابن المنذر، دار قطنی نے اپنی سنن میں حضرت حذیقہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رمضان کے مہینہ سے پہلے روزے نہ رکھو یہاں تک کہ تم چاند دیکھ لو یا تیس دن پورے کرلو پھر روزے رکھو یہاں تک کہ عید کا چاند دیکھ لو یا تیس دن پورے کرلو۔
(173) امام ابو داؤد، ترمذی، نسائی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رمضان کے مہینے سے پہلے ایک یا دو روزے نہ رکھو مگر یہ کہ کوئی ایسا دن آجائے جس میں تم نفلی روزہ پہلے رکھتے ہو۔ اور روزہ نہ رکھو یہاں تک کہ چاند کو دیکھ لو پھر روزے رکھو اگر اس کے آگے بادل حائل ہوجائے تو تیس کی گنتی پوری کرلو پھر عید کرو۔
(174) بخاری، مسلم اور نسائی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا چاند دیکھ کر افطار کرو اگر مطلع ابر آلود ہوجائے تو گنتی پوری کرلو اور دوسرے لفظ میں یوں ہے تیس کی گنتی پوری کرلو۔
(175) دار قطنی نے رافع بن خدیج ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رمضان کے لئے شعبان کی گنتی پوری کرو اور مہینے کو ایک روزہ کے ساتھ بھی آگے نہ بڑھاؤ۔ جب تم (رمضان کا چاند) دیکھ لو تو روزے رکھو اور جب تم (شوال کا چاند) دیکھ لوتو افطار کرو اگر تم پر بادل چھا جائے تو تیس دونوں کی گنتی پوری کرکے پھر افطار کرلو۔ بلاشبہ مہینہ اس طرح اور اس طرح اور اس طرح ہوتا ہے اور آپ نے تیسری مرتبہ میں اپنے انگوٹھے کو بند فرما لیا۔
(176) دار قطنی نے عبد الرحمن بن زید بن خطاب (رح) سے روایت کیا ہم نے نبی اکرم ﷺ کے صحابہ سے صحبت اختیار کی تو انہوں نے ہم سے یہ بیان فرمایا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطار کرو اگر تم پر بادل چھا جائیں تو تیس دن شمار کرو اگر دو انصاف والے گواہی دیدیں تو روزے رکھو اور افطار کرو اور قربانی کرو۔
(177) دار قطنی نے ابو مسعود انصاری ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے رمضان کے تیس روزے پورے کرنے کے لئے صبح کو روزہ رکھا پھر دو دیہاتی آئے اور انہوں نے لا الہ الا اللہ کے ساتھ گواہی دی کہ انہوں نے کل چاند دیکھا تھا تو آپ نے سب کو (روزہ) افطار کرنے کا حکم فرما دیا۔
(178) ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولتکملوا العدۃ “ سے مراد ہے کہ مریض اور مسافر نے جو روزے نہیں رکھے تھے ان کی گتنی پوری کرلیں۔
(179) ابن المنذر نے ابن ابی حاتم اور مروزی (رح) سے روایت کیا کہ وہ عیدین کی کتاب میں زید بن اسلم ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ لفظ آیت ” ولتکبروا اللہ علی ما ھدکم “ سے مراد ہے کہ تم لوگ عید الفطر کے دن تکبیریں کہو۔
(180) ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مسلمانوں پر حق ہے کہ جب وہ شوال کا چاند دیکھیں تو وہ اللہ کی بڑائی بیان کریں (یعنی تکبیریں کہیں) یہاں تک کہ اپنی عید سے فارغ ہوجائیں اس لئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت ” ولتکبروا العدۃ ولتکبروا اللہ “۔
(181) طبرانی نے معجم صغیر میں حضرت انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنی عیدوں کو تکبیروں کے ساتھ مزین کرو۔
(182) المروزی، دار قطنی، بیہقی نے سنن میں ابو عبد الرحمن سلمی ؓ سے روایت کیا کہ (ہم لوگ) عید الفطر میں عید الاضحی سے زیادہ تکبیروں میں شدت کرتے تھے۔
(183) ابن ابی شیبہ نے المصنف میں زہری (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ (اپنے گھر سے) عید الفطر کے دن (جب عید کی نماز کے لئے) تشریف لے جاتے تھے تو (راستہ میں) تکبیر پڑھتے جاتے تھے یہاں تک کہ عید گاہ میں پہنچ جاتے نماز ادا فرما لیتے جب آپ نماز ادا فرما لیتے تھے تکبیر ختم فرما دیتے۔
(184) بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت نافع بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اونچی آواز سے تہلیل اور تکبیر کہتے ہوئے عیدین کی طرف تشریف لے جاتے تھے۔
(185) ابن ابی شیبہ نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ سنت طریقہ میں سے ہے کہ عید کے دن تکبیر کہی جائے۔
(186) سعید بن منصور، ابن ابی شیبہ، المروزی نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ وہ یوں تکبیر کہا کرتے تھے ” اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ وللہ اکبر وللہ الحمد “۔
(187) ابن ابی شیبہ، المروزی، بیہقی نے سنن میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ یوں تکبیر کہا کرتے تھے ” اللہ اکبر اللہ اکبر کبیرا اللہ اکبر وللہ الحمد اللہ اکبر واجل علی ما ھدانا “ (یعنی اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے، بہت بڑا ہے، اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے اور اللہ کے لئے سب تعریفیں ہیں، اللہ تعالیٰ سے سب سے بڑا ہے اور طاقتور ہے۔
(188) امام بیہقی نے ابو عثمان نہدی (رح) سے روایت کیا کہ حضرت عثمان ؓ ہم کو تکبیر سکھایا کرتے تھے :
اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر کبیرا اللہم انت الاعلی وأجل من ان یکون بک صاحبۃ أو یکون لک ولد أو یکون لک شریک فی الملک أو تکون لک ولی من الذل وکبرہ تکبیرا اللہم اغفرلنا اللہم ارحمنا
ترجمہ : اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ بڑا ہے، بہت بڑا ہے، اے اللہ ! تو سب سے اعلیٰ طاقتور ہے اس بات سے کہ تیری بیوی ہو، اس سے بات سے کہ تیرا لڑکا ہو، اس بات سے کہ تیرے ملک میں تیرا کوئی شریک ہو، یا اس بات سے کہ تیرا کوئی مددگار ہو پھسلنے سے (یعنی تو ان سب چیزوں سے پاک ہے) اور اس کی بڑائی بیان کرو تکبیر کہتے ہوئے۔ اے اللہ ! ہماری مغفرت فرما اور ہم پر رحم فرما۔
Ayah 2:193(1) ابن جریر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے دلائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وقتلوہم حتی لا تکون فتنۃ “ سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا اور ” یکون الدین “ سے مراد ہے کہ توحید خالص اللہ کے لئے ہوجائے۔
(2) عبد بن حمید، ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وقتلوہم حتی لا تکون فتنۃ “ سے مراد شرک ہے (اور) لفظ آیت ” فان انتھوا فلا عدوان الا علی الظلمین “ سے مراد ہے کہ تم قتال نہ کرو مگر جو تم سے قتال کرتے ہیں۔
(3) عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم، النحاس نے ناسخ میں اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (یہ آیت) لفظ آیت ” ولا تقاتلوہم عند المسجد الحرام حتی یقاتلونکم فیہ “ یہ حکم اس طرح تھا یہاں تک کہ منسوخ کردیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” وقتلوہم حتی لا تکون فتنۃ “ یعنی (فتنہ سے مراد ہے شرک لفظ آیت ” ویکون الدین للہ “ یعنی جب تک کہ ” لا الہ الا اللہ “ نہ کہا جائے اس پر رسول اللہ ﷺ نے قتال فرمایا اور اسی کی طرف (لوگوں کو) بلایا اور ہم کو یہ بیان کیا گیا کہ نبی اکرم ﷺ فرمایا کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے مجھ کو یہ حکم فرمایا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں۔ یہاں تک لوگ ” لا الہ اللہ “ کہنے لگیں (اور) لفظ آیت ” فان انتھوا فلا عدوان الا علی الظلمین “ سے مراد ہے کہ بلاشبہ ظالم وہ ہے جس نے ” لا الہ الا اللہ “ کہنے سے انکار کردیا اس سے قتال کیا جائے یہاں تک کہ وہ ” لا الہ الا اللہ “ کہہ لے۔
(4) ابن جریر نے ربیع (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ویکون الدین للہ “ سے مراد ہے (اس وقت تک ان سے قتال کرو) یہاں تک کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے۔
(5) ابن جریر نے عکرمہ سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا کہ لفظ آیت ” فلا عدوان الا علی الظلمین “ سے مراد وہ لوگ ہیں جو ” لا الہ الا اللہ “ کہنے سے انکار کریں۔
مسلمان کا خون بہانا حرام ہے
(6) امام بخاری، ابو الشیخ، ابن مردویہ نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ان کے پاس دو آدمی آئے ابن الزبیر کے فتنہ کے دور میں اور کہنے لگے لوگوں نے فساد کیا ہے اور آپ حضرت عمر ؓ کے بیٹے اور نبی اکرم ﷺ کے ساتھی ہیں کس چیز نے آپ کو باہر نکلنے سے روکا ہے ؟ انہوں نے فرمایا مجھے اس بات نے روکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میرے بھائی کا خون حرام کردیا ہے وہ کہنے لگے کیا اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا ؟ لفظ آیت ” وقتلوہم حتی لا تکون فتنۃ “ حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا ہم نے قتال کیا یہاں تک کہ فتنہ نہ رہا اور دین خالص اللہ کے لئے ہوگیا اور تم یہ چاہتے ہو کہ قتال کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی رہے اور دین غیر اللہ کے لئے ہوجائے۔