2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 2:256

لَاۤ اِكْرَاهَ فِی الدِّیْنِ١ۙ۫ قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ١ۚ فَمَنْ یَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى١ۗ لَا انْفِصَامَ لَهَا١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:256 in the Quran reader

نہیں ہے زبردستی دین میں، ظاہر ہوچکی ہے ہدایت گمراہی سے ممتاز ہوکر، سو جو شخص منکر ہو طاغوت اور ایمان لائے اللہ پر تو بیشک اس نے مضبوط حلقہ پکڑ لیا، جو ٹوٹنے والا نہیں ہے اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔

(1) ابو داؤد، نسائی، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، النحاس نے اپنی ناسخ میں، ابن مندہ نے غرائب شعبہ میں ابن حبان، ابن مردویہ اور بیہقی نے اپنی سنن میں اور الضیاء نے المختارہ میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (زمانہ اسلام سے پہلے) انصار کی ایک عورت تھی۔ جس کے بچے مرجاتے تھے۔ تو وہ نذر مان لیتی تھی۔ اگر اس کا بچہ زندہ رہا تو اسے یہودی بنادوں گی۔ جب یہود کا قبیلہ نبو نضیر جلا وطن کیا گیا تو ان میں انصار کے بیٹے بھی تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے بیٹوں کو نہیں چھوڑیں گے۔ (یعنی ہم ان کو نہیں جانے دیں گے) ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ لفظ آیت ” لا اکراہ فی الدین “ نازل فرمائی۔ (2) سعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن جریر ابن المنذر اور بیہقی نے سعید بن جبیر (رح) سے لفظ آیت ” لا اکراہ فی الدین “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت خاص طور پر انصار کے بارے میں نازل ہوئی۔ (اسلام سے پہلے) ان میں سے ایک عورت جس کا بچہ مرجاتا تھا وہ یہ نذر مان لیتی تھی کہ اگر میرا لڑکا پیدا ہوا تو اسے یہودی بنا دوں گی۔ اس سے وہ بچے کی عمر کے لمبے ہوجانے کو چاہتی تھی۔ (جب) اسلام آیا تو وہ (بچے) ان (یہودیوں) میں سے تھے۔ جب یہودیوں کا قبیلہ بنو نضیر کو جلا وطن کیا گیا تو انصار نے کہا یا رسول اللہ ہمارے بیٹے اور ہمارے بھائی ان میں (موجود) ہیں (ان کا ہم کیا کریں) ۔ رسول اللہ ﷺ اس پر خاموش رہے تو یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” لا اکراہ فی الدین “ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمہارے آدمیوں کو اختیار دیا گیا ہے اگر وہ تمہیں اختیار کریں تو وہ تم میں سے ہیں اگر وہ ان کو اختیار کریں تو وہ ان میں سے ہیں۔ تو انہوں نے ان کو ان کے ساتھ جلا وطن کردیا۔ اسلام میں زبردستی نہیں (3) شعبی (رح) سے روایت کیا کہ انصار میں سے کوئی عورت ایسی ہوتی تھی جس کے بچے زندہ نہیں رہتے تھے، تو اس نے نذر مان لی کہ اگر اس کا بچہ زندہ رہا تو وہ اس کو اہل کتاب (یعنی یہودی) کے ساتھ ان کے دین پر کر دے گی۔ جب اسلام آیا تو انصار کے بیٹوں کی ایک جماعت ان کے دین پر تھی۔ تو انہوں نے کہا کہ ہم نے ان کو یہود کے دین پر چھوڑا تھا کیونکہ ہم اس وقت ان کے دین کو اپنے دین سے افضل سمجھتے تھے۔ اور (جب) اللہ تعالیٰ اسلام کو لے آئے تو وہ ان کو مجبور کرنے لگے (کہ اسلام کی طرف آجائیں) تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” لا اکراہ فی الدین “ جب ان کے درمیان فیصلہ فرمایا گیا (اور) رسول اللہ ﷺ نے بنو نضیر کو جلا وطن فرما دیا۔ تو جو شخص مسلمان نہ ہوا تو وہ ان کے ساتھ مل گیا اور جو باقی رہ گیا وہ اسلام لے آیا۔ (5) عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر نے وجہ آخر سے مجاہد (رح) سے روایت کیا قبیلہ بنو نضیر نے قبیلہ اوس کے کئی مردوں کو دودھ پلایا تھا، جب نبی اکرم ﷺ نے (قبیلہ) بنو نضیر کی جلاوطنی کا حکم فرمایا تو قبیلہ اوس میں سے ان کے بیٹوں نے کہا ہم بھی ان کے ساتھ جائیں گے اور ان کا دین اختیار کریں گے۔ ان لڑکوں کے سر پرستوں نے ان کو روکا اور ان کو اسلام پر مجبور کیا تو ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ لفظ آیت ” لا اکراہ فی الدین “۔ (6) ابن جریر نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ انصار کے لوگوں نے قبیلہ بنو نضیر میں دودھ پیا تھا۔ جب ان کو جلا وطن کیا گیا تو انصار نے اپنے ان لوگوں کو اپنے دین اسلام کے قبول کرنے کا ارادہ کیا۔ تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ لفظ آیت ” لا اکراہ فی الدین “۔ (7) ابن اسحق، ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت لفظ آیت ” لا اکراہ فی الدین “ انصار کے قبیلہ سالم بن عوف میں سے ایک آدمی کے بارے میں نازل ہوئی جس کا نام حصین تھا اس کے دو بیٹے نصرانی تھے لیکن وہ خود مسلمان تھا انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کیا میرے دونوں بیٹے نصرانیت کے سوا کسی دین کو مانتے ہی نہیں کیا میں جبر کر کے ان کو مسلمان بنالوں تو اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (8) عبد بن حمید نے عبداللہ بن عبیدہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ قبیلہ بنو سالم بن عوف کے انصاریوں میں سے ایک آدمی کے دو بیٹے نبی اکرم ﷺ کی بعثت سے پہلے نصرانی بن گئے تھے وہ دونوں نصرانیوں کی ایک جماعت کے ساتھ غلہ لے کر مدینہ منورہ آئے ان کے باپ نے ان دونوں کو دیکھا اور دونوں سے جھگڑا کیا کہ اللہ کی قسم میں تم دونوں کو نہیں چھوڑوں گا یہاں تک کہ تم دونوں مسلمان ہوجاؤ انہوں نے مسلمان بننے سے انکار کردیا وہ جھگڑا لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس پہنچے (اور) ان کے باپ نے کہا یا رسول اللہ ! میرا بعض (یعنی میری اولاد) آگ میں داخل ہوجائے اور میں دیکھتا رہوں اس پر اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی لفظ آیت ” لا اکراہ فی الدین “ تو باپ نے ان کا راستہ چھوڑ دیا۔ ابو الحصین کے دو بیٹوں کا واقعہ (9) ابو داؤد نے اپنی ناسخ میں ابن جریر اور ابن المنذر نے سدی (رح) سے لفظ آیت ” لا اکراہ فی الدین “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت انصار میں سے ایک آدمی کے بارے میں نازل ہوئی جس کو ابو الحصین کہا جاتا ہے اس کے دو بیٹے تھے شام کے تاجر زیتون کا تیل بیچنے کے لئے مدینہ منورہ آئے جب وہ تیل بیچ چکے تو واپس جانے کا ارادہ کیا تو ان کے پاس ابو الحصین کے بیٹے آئے انہوں نے ان کو نصرانی مذہب کی دعوت دی دونوں نصرانی بن گئے اور ان کے ساتھ شام چلے گئے ان کا باپ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا میرے بیٹے نصرانی بن گئے ہیں اور دونوں نکل گئے ہیں میں ان کو (واپس) لے آؤں ؟ آپ نے فرمایا لفظ آیت ” لا اکراہ فی الدین “ اور ان دنوں اہل کتاب سے لڑنے کا حکم نہیں ہوا تھا اور فرمایا اللہ تعالیٰ ان دونوں کو (اپنی رحمت سے) دور کر دے یہ دونوں شخص ایسے ہیں جنہوں نے سب سے پہلے کفر کیا تھا ابو الحصین کو بہت پریشانی ہوئی انہیں نبی اکرم ﷺ نے اپنے بیٹوں کی تلاش کی اجازت نہ دی تو یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” فلا وربک لا یؤمنون حتی یحکموک فیما شجر بینہم “ (النساء نمبر 40) لفظ آیت ” لا اکراہ فی الدین “ کا حکم بعد میں منسوخ ہوگیا اور اہل کتاب والوں سے سورة براۃ میں لڑنے کا حکم فرمایا گیا۔ (10) ابن جریر، ابن ابی حاتم نے حضرت عباس ؓ سے روایت کیا لفظ آیت ” لا اکراہ فی الدین قد تبین الرشد من الغی “ کا حکم اس وقت ہوا جب لوگ اسلام میں داخل ہوئے اور اہل کتاب نے جزیہ دیا۔ (11) عبد بن حمید، ابو داؤد نے اپنی ناسخ میں اور ابن جریر نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ عرب والوں کا کوئی دین نہیں تھا اس لئے ان کو تلوار کے ذریعہ دین پر مجبور کیا گیا اور یہودیوں کو نصاری کو اور مجوسیوں کو مجبور نہیں کیا گیا جب انہوں نے جزیہ دیا۔ (12) سعید بن منصور نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ ”“ اس سے مراد ہے کہ اہل کتاب کو اسلام پر مجبور نہ کیا جائے۔ (13) سعید بن منصور، ابن ابی شیبہ، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے وسق رومی سے روایت کیا ہے کہ میں حضرت عمر بن خطاب ؓ کا غلام تھا مجھ سے وہ فرماتے تھے اسلام لے آ بلاشبہ اگر تو مسلمان ہوگیا تو میں مسلمانوں کی امانتوں پر تجھ کو لگا دوں گا کیونکہ میں ان کی امانتوں پر اس شخص کو نہیں لگا سکتا جو مسلمانوں میں سے نہ ہو تو میں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کردیا عمر ؓ نے مجھ سے فرمایا لفظ آیت ” لا اکراہ فی الدین “۔ (14) النحاس نے اسلم (رح) سے روایت کیا کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب ؓ کو نصرانی بوڑھی عورت سے یہ فرماتے ہوئے سنا مسلمان ہوجا سلامت رہے گی۔ اس نے انکار کردیا تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا : اے اللہ ! تو گواہ ہوجا پھر یہ آیت تلاوت فرمائی لفظ آیت ” لا اکراہ فی الدین “۔ (15) ابن المنذر ابن ابی حاتم نے سلیمان بن موسیٰ ؓ سے روایت کیا کہ اس آیت کے حکم کو (اس آیت) لفظ آیت ” جاھد الکفار والمنفقین “ نے منسوخ کردیا۔ (16) سعید بن منصور، ابن المنذر نے حمید اعرج (رح) سے روایت کیا کہ وہ پڑھتے تھے لفظ آیت ” قد تبین الرشد “ اور یہ فرماتے تھے کہ میری قرأت مجاہد (رح) کی قرات پر ہے۔ (17) سعید بن منصور، ابن جریر، ابن ابی حاتم نے حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ طاغوت سے مراد شیطان ہے۔ (18) ابن جریر، ابن ابی حاتم نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ ان سے طواغیت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا وہ کا ھن جن پر شیاطین اترتے ہیں۔ (19) ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ طاغوت سے کا ھن مراد ہے۔ (20) ابن جریر نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ طاغوت سے ساحر مراد ہے۔ (21) ابن جریر ابن المنذر ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ طاغوت سے مراد وہ شیطان ہے جو انسانی صورت میں ہوتا ہے لوگ اس کی طرف فیصلے لے جاتے ہیں اور وہ ان کے معاملات کا مالک ہوتا ہے۔ (22) ابن ابی حاتم نے مالک بن انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ طاغوت سے مراد وہ (شیاطین) ہیں جن کی عبادت کی جاتی ہے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر۔ (23) ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فقد استمسک بالعروۃ الوثقی “ سے مراد لفظ آیت لا الہ الا اللہ ہے۔ (24) ابن جریر ابن المنذر ابن ابی حاتم نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فقد استمسک بالعروۃ الوثقی “ سے، قرآن مراد ہے۔ (25) سفیان بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” بالعروۃ الوثقی “ سے ایمان مراد ہے اور سفیان (رح) نے فرمایا کہ اس سے اخلاص کا کلمہ مراد ہے۔ اسلام کی مضبوط کڑی (26) بخاری ومسلم نے عبداللہ بن سلام ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں ایک خواب دیکھا میں نے دیکھا گویا کہ میں ایک سبز باغ میں ہوں اس کے درمیان میں لوہے کا ستون ہے اس کا نچلا حصہ زمین میں ہے اور اوپر والا حصہ آسمان میں ہے، اس کے سر پر زنجیر ہے، مجھ سے کہا گیا اس پر چڑھ جاؤ میں اس کے اوپر چڑھ گیا یہاں تک کہ میں نے اس زنجیر کو پکڑ لیا میں نے اس زنجیر کو مضبوط پکڑے رکھا میری آنکھ کھلی تو وہ میرے ہاتھ میں تھا میں رسول اللہ ﷺ کو یہ خواب بیان کیا آپ نے فرمایا وہ باغ اسلام کا باغ تھا اور وہ ستون تھا اور وہ عدوہ لفظ آیت ” بالعروۃ الوثقی “ ہے (پھر آپ ﷺ نے فرمایا) تو مرتے دم تک اسلام پر رہے گا۔ (27) ابن عساکر نے ابو داؤد ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان لوگوں کی اقتداء کرو جو میرے بعد ہوں گے (یعنی) ابوبکر عمر ؓ کی کیونکہ وہ دونوں اللہ تعالیٰ کی لمبی رسی ہیں جو شخص ان دونوں کو پکڑے گا تو اس نے عروۃ وثقی کو پکڑ لیا جو ٹوٹنے والا نہیں۔ (28) ابن المنذر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ تقدیر توحید کا نظام ہے جس شخص نے تقدیر سے انکار کیا تو اس کا تقدیر کا انکار کرنا توحید میں نقصان ہے جب اللہ کو ایک مانا اور اس کی تقدیر پر ایمان لے آئے تو یہ لفظ آیت ” العروۃ الوثقی “ ہے یعنی مضبوط کڑا۔ (29) ابن المنذر ابن ابی حاتم نے معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا کہ ان سے لفظ آیت ” لا انفصام لھا “ کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا جنت میں داخلہ کے علاوہ اس کا ٹوٹنا نہیں ہے۔
Ayah 2:257

اَللّٰهُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۙ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْلِیٰٓئُهُمُ الطَّاغُوْتُ١ۙ یُخْرِجُوْنَهُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَى الظُّلُمٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ Open ayah 2:257 in the Quran reader

اللہ ولی ہے ان لوگوں کا جو ایمان لائے، وہ ان کو نکالتا ہے اندھیروں سے نور کی طرف، اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ان کے اولیاء شیاطین ہیں وہ ان کو نکالتے ہیں، نور سے اندھیروں کی طرف، یہ لوگ دوزخ والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

(1) ابن المنذر والطبرانی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” اللہ ولی الذین امنوا یخرجہم من الظلمت الی النور “ سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کا انکار کیا تھا اور محمد ﷺ پر ایمان لائے (اور) لفظ آیت ” والذین کفروا اولیۂ م الطاغوت یخرجونہم من النور الی الظمت “ سے وہ لوگ مراد ہے جو عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے تھے پھر جب محمد ﷺ مبعوث ہوئے تو ان کے ساتھ کفر کیا (یعنی ان کو ماننے سے انکار کردیا) ۔ (2) ابن جریر وابن المنذر، ابن ابی حاتم نے مجاہد اور علقمہ سے اسی طرح روایت کیا ہے لفظ آیت ” یخرجونہم من النور الی الظلمت “ سے مراد ہے گمراہی سے ہدایت کی طرف (ان کو نکالا) (اور) لفظ آیت ” یخرجونہم من النور الی الظلمت “ سے مراد ہے کہ (اس کو) ہدایت سے گمراہی کی طرف نکالا۔ (3) عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” یخرجونہم من النور الی الظلمت “ سے مراد ہے کہ (اس کو) ہدایت سے گمراہی کی طرف نکالا۔ (4) ابن جریر نے ضحاک (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کے ظلمات سے مراد کفر ہے اور نور سے مراد ایمان ہے (5) ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا ہے کہ ظلمات اور نور سے کفر اور ایمان مراد ہے۔ (6) ابن ابی حاتم نے موسیٰ بن عبیدہ، انہوں نے ایوب بن خالد (رح) سے روایت کیا کہ اہل ہوا (یعنی خواہشات پر چلنے والے) اٹھیں گے اور فتنے نکالیں گے سو جس کی خواہش ایمان ہوگی، اس کا فتنہ سفید اور روشن ہوگا اور جس کی خواہش کفر ہوگی اس کا فتنہ کالا سیاہ ہوگا۔ پھر یہ (مذکورہ) آیت پڑھی واللہ اعلم۔
Ayah 2:258

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْ حَآجَّ اِبْرٰهٖمَ فِیْ رَبِّهٖۤ اَنْ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ١ۘ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّیَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۙ قَالَ اَنَا اُحْیٖ وَ اُمِیْتُ١ؕ قَالَ اِبْرٰهٖمُ فَاِنَّ اللّٰهَ یَاْتِیْ بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَاْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِیْ كَفَرَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۚ Open ayah 2:258 in the Quran reader

کیا آپ نے اس شخص کو نہیں دیکھا جس نے ابراہیم پر حجت بازی کی ان کے رب کے بارے میں اس وجہ سے کہ اللہ نے اس کو حکومت دی تھی، جب ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا میرا رب کہا مرا رب وہ ہے جو زندہ فرماتا ہے اور موت دیتا ہے، اس نے کہا میں زندہ کرتا ہوں اور موت دیتا ہوں، ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا سو بلا شبہ اللہ لاتا ہے سورج کو پورب سے تو اس کو لے آ پچھم سے، پس حیرانی میں پڑگیا وہ شخص جو کفر اختیار کئے ہوئے تھا اور قوم ظالمین کو ہدایت نہیں دیتا۔

(1) الطیالسی اور ابن ابی حاتم نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ وہ شخص جس نے ابراہیم (علیہ السلام) سے اپنے رب کے بارے میں جھگڑا کیا تھا وہ نمرود بن کنعان تھا۔ نمرود پر مچھروں کا عذاب مسلط ہوا (2) ابن جریر نے مجاہد، قتادہ ربیع اور سدی رحمہم اللہ سے اسی کے مثل روایت نقل کی ہے۔ (3) عبدالرزاق، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ نے العظمہ میں زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ زمین میں سب سے پہلا جابر نمرود تھا۔ اور لوگ اس سے کھانا وصول کرتے تھے۔ (ایک مرتبہ) ابراہیم (علیہ السلام) بھی دوسرے لوگوں کے ساتھ کھانا لینے کے لئے نکلے۔ جب لوگ اس کے پاس سے گزرتے تو وہ پوچھتا تمہارا رب کون ہے ؟ لوگ کہتے کہ تو ہمارا رب ہے، جب ابراہیم (علیہ السلام) گزرے تو اس نے کہا تیرا رب کون ہے ؟ انہوں نے فرمایا میرا رب وہ ہے جو زندہ کرتا ہے۔ اور مارتا ہے اس نے کہا میں بھی زندہ کرتا ہوں اور مارتا ہوں، (پھر) ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا : بلا شبہ اللہ تعالیٰ سورج کو لاتے ہیں مشرق سے تولے آ اس کو مغرب سے تو وہ کافر حیرانی میں پڑگیا۔ اور ان کو بغیر کھانے کے واپس لوٹا دیا۔ ابراہیم (علیہ السلام) اپنے گھر کی طرف واپس لوٹے (راستے میں) ریت کے ایک ڈھیر پر گزرے تو جو خاکستری رنگ کا تھا، (دل میں) کہنے لگے کیا میں اس میں سے کیوں نہ لے لوں۔ (اگر) میں اس (ریت) کو اپنے گھر والوں کے پاس لے جاؤں گا تو ان کا دل خوش ہوجائے گا جب میں ان پر داخل ہوں گا، چناچہ اس (ریت) میں سے لے کر اپنے گھر والوں کے پاس آگئے۔ اپنا سامان رکھا اور سو گئے۔ ان کی بیوی اس کے سامان کی طرف آئی اس کو کھولا تو وہ بہت ہی عمدہ کھانا تھا، جو کسی نے کبھی دیکھا ہو، اس میں ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے انہوں نے کھانا تیار کیا اور ان کے قریب رکھ دیا اور اس زمانہ میں ان کے گھر والوں کے کے پاس کوئی کھانا نہ تھا، انہوں نے پوچھا یہ کہاں سے آیا ؟ بیوی نے کہا یہ وہ کھانا ہے جو آپ لائے ہیں، پہچان گئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رزق دیا ہے اور (اس پر) اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جابر کی طرف ایک فرشتہ بھیجا کہ مجھ پر ایمان لے آئے۔ اور میں تجھ کو اپنے ملک پر چھوڑ دوں گا، (یعنی تیری حکومت قائم رہے گی) کیا میرے علاوہ کوئی رب ہے ؟ اس نے انکار کردیا۔ پھر وہ فرشتہ دوسری دفعہ آیا اس کو پھر یہی بات کہی تو اس نے انکار کردیا۔ پھر وہ تیسری مرتبہ آیا اس نے انکار کردیا پھر اس سے فرشتہ نے کہا اپنی فوج کو تین دن تک جمع کرے۔ جبار (یعنی نمرود) نے اپنی فوج کو جمع کیا، پھر اللہ تعالیٰ نے فرشتہ کو حکم فرمایا کہ اس پر مچھروں کا دروازہ کھول دے، سورج نکلا تو نہیں دکھائی دیتا تھا مچھروں کی وجہ سے۔ اللہ تعالیٰ نے ان مچھروں کو ان پر مسلط کردیا جو اس کے لشکروں کا گوشت کھا گئے اور ان کے خون کو چوس لیا، صرف ہڈیاں باقی رہ گئیں اور بادشاہ اسی طرح رہا اس کو کوئی تکلیف نہ پہنچی اللہ تعالیٰ نے اس پر ایک مچھر کو بھیجا جو اس کے ناک کے نتھنے میں داخل ہوگیا اس کے سر میں وہ چار سو سال تک ٹھہرارہا اس کا سر ہتھوڑوں سے کو ٹا جاتا تھا اور لوگوں میں سب سے زیادہ رحم کرنے والا وہ آدمی ہوتا تھا جو اپنے دونوں ہاتھوں کو اکٹھا کر کے اس کے سر کو مارتا تھا وہ چار سو سال تک (لوگوں پر) ظلم کرنے والا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اس کو چار سو سال تک عذاب دیا جیسے اس کی بادشاہی رہی (اتنا ہی اس کو عذاب ملا) پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو موت دی اور یہ وہ آدمی تھی جس نے ایک محل آسمان کی طرف بنوایا تھا (پھر) اللہ تعالیٰ نے اسے اکھیڑ پھینکا۔ (4) ابن المنذر نے ابن جریج کے طریق سے ابن عباس ؓ سے لفظ آیت ” الم تر الی الذی حاج ابرہم “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ نمرود بن کنعان تھا جس نے ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ مناظرہ کیا تھا۔ لوگ گمان کرتے تھے کہ یہ پہلا آدمی تھا جو زمین میں بادشاہ بنا تھا۔ اس کے پاس دو آدمی لائے گئے ان میں سے ایک کو قتل کردیا گیا اور دوسرے کو چھوڑ دیا گیا۔ اور کہنے لگا میں زندہ کرتا ہوں اور مارتا ہوں۔ اور اس نے کہا کہ میں اس طرح زندہ کرتا ہوں یعنی جس کو چاہتا ہوں قتل کردیتا ہوں۔ (5) عبد بن حمید، ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم یہ بیان کیا کرتے تھے کہ وہ بادشاہ تھا جس کو نمرود بن کنعان کہا جاتا تھا، وہ پہلا بادشاہ تھا جس نے زمین میں ظلم کیا، اور اس نے بابل شہر میں محل بنوایا تھا ہم کو یہ بیان کیا گیا کہ اس نے دو آدمیوں کو بلوایا ان میں سے ایک کو قتل کردیا اور دوسرے کو زندہ چھوڑ دیا۔ اور کہنے لگا میں زندہ کرتا ہوں جس کو چاہتا ہوں اور قتل کردیتا ہوں جس کو چاہتا ہوں۔ چار بڑے بادشاہ (6) عبد بن حمید، ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” قال انا احی وامیت “ سے مراد ہے کہ نمرود نے کہا میں قتل کردیتا ہوں جس کو چاہتا ہوں اور زندہ کردیتا ہوں جس کو چاہتا ہوں یعنی اس کو زندہ چھوڑ دیتا ہوں۔ اور اس کو قتل نہیں کرتا ہوں۔ اور فرمایا زمین کے بادشاہ اس کے مشرق کے اور اس کے مغرب کے چار آدمی رہے ہیں دو مؤمن تھے دو کافر تھے۔ سلیمان بن داؤد اور ذوالقرنین دونوں مومن بادشاہ تھے۔ اور بخت نصر اور نمرود بن کنعان دونوں کافر بادشاہ تھے۔ ان کے علاوہ پوری زمین کا کوئی بادشاہ نہیں بنا (7) ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) آگ میں سے نکل آئے تو ان کو بادشاہ کے پاس لے جایا گیا، اس سے پہلے وہ اس کے پاس نہیں گئے تھے، اس نے آپ سے بات کی اور کہا تیرا رب کون ہے ؟ آپ نے فرمایا میرا رب وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے، نمرود نے کہا میں بھی زندہ کرتا ہوں اور مارتا ہوں، (جیسے) میں چار آدمیوں کو گھر میں داخل کرتا ہوں وہ نہ کھاتے ہیں نہ پیتے ہیں یہاں تک کہ جب وہ بھوک سے ہلاک ہونے کے قریب آتے ہیں (پھر ان میں سے) دو کو میں کھلاتا ہوں اور پلاتا ہوں لہٰذا وہ دونوں زندہ رہتے ہیں اور دو کو میں اس طرح بھوکا رکھتا ہوں تو وہ دونوں مرجاتے ہیں۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے جان لیا کہ وہ اسی طرح کرتا ہے (پھر) اس سے فرمایا میرا رب سورج کو مشرق سے لاتا ہے اور تو اس کو مغرب سے لے آ تو (یہ بات سن کر) وہ کافر حیرانی میں پڑگیا۔ اور کہنے لگا یہ شخص پاگل ہے اس کو نکال دو ۔ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اس نے اپنے جنون کی وجہ سے تمہارے معبودوں پر اتنی جرات کی کہ اس کو توڑ دیا۔ (اسی لیے) اس کو آگ نے نہیں کھایا بادشاہ کو خوف ہوا کہ قوم کے سامنے کہیں ابراہیم اسے رسوا نہ کریں۔ (8) ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واللہ لا یھدی القوم الظلمین “ سے مراد ہے (اللہ تعالیٰ قوم کو ہدایت نہیں فرماتے) ایمان کی طرف۔
Ayah 2:259

اَوْ كَالَّذِیْ مَرَّ عَلٰى قَرْیَةٍ وَّ هِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا١ۚ قَالَ اَنّٰى یُحْیٖ هٰذِهِ اللّٰهُ بَعْدَ مَوْتِهَا١ۚ فَاَمَاتَهُ اللّٰهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهٗ١ؕ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ١ؕ قَالَ لَبِثْتُ یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ١ؕ قَالَ بَلْ لَّبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانْظُرْ اِلٰى طَعَامِكَ وَ شَرَابِكَ لَمْ یَتَسَنَّهْ١ۚ وَ انْظُرْ اِلٰى حِمَارِكَ وَ لِنَجْعَلَكَ اٰیَةً لِّلنَّاسِ وَ انْظُرْ اِلَى الْعِظَامِ كَیْفَ نُنْشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوْهَا لَحْمًا١ؕ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهٗ١ۙ قَالَ اَعْلَمُ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:259 in the Quran reader

یا اس شخص کی طرح سے جو گزرا ایک بستی پر اور وہ اس حال میں تھی کہ چھتوں پر اس کی دیواریں گری پڑی تھیں، یہ شخص کہنے لگا کہ اللہ کیونکر زندہ فرمائے گا اس بستی کو اس کی موت کے بعد، پس اللہ تعالیٰ نے اس کو سو سال تک مردہ رکھا پھر اسے اٹھا دیا، اس سے سوال فرمایا کہ تو کتنے عرصہ تک ٹھہرا رہا۔ اس نے کہا کہ میں ایک دن یا ایک دن سے کم ٹھہرا ہوں، فرمایا بلکہ تو سو سال تک ٹھہرا رہا ہے، سو تو دیکھ لے اپنے کھانے کو اور پینے کی چیز کو وہ سڑی گلی نہیں ہے اور دیکھ لے اپنے گدھے کو، اور تاکہ ہم تجھے نشانی بنا دیں لوگوں کے لئے اور دیکھ ہڈیوں کی طرف ہم ان کو کیسے جوڑ دیتے ہیں پھر ان پر گوشت پہنا دیتے ہیں، سو جب اس پر یہ سب کچھ ظاہر ہوگیا تو کہنے کہ میں جانتا ہوں کہ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

(1) عبد بن حمید، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، حاکم (اور اس نے اس کو صحیح کہا) اور بیہقی نے شعب میں حضرت علی ابن ابی طالب ؓ سے لفظ آیت ” او کالذی مر علی قریۃ “ کے بارے میں روایت کیا کہ (ایک دن) اللہ کے نبی عزیر (علیہ السلام) اپنے شہر سے نکلے اور وہ نوجوان تھے ایک بستی پر گزرے جس کی چھتیں گری ہوئی تھی۔ (دیکھ کر) فرمایا اللہ تعالیٰ ان بستی والوں کو کس طرح زندہ فرمائیں گے ان کی موت کے بعد پس حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے سو سال تک موت دے دی، پھر انہیں دوبارہ زندہ کیا کہ پہلے ان کی آنکھوں کو پیدا فرمایا تو آپ اپنی ہڈیوں کی طرف دیکھنے لگے کہ وہ ایک دوسرے سے جڑنے لگیں۔ پھر ان پر گوشت چڑھایا گیا، پھر اس میں روح پھونکی گئی اور ان سے پوچھا گیا کتنی مدت (یہاں) رہے تو انہوں نے فرمایا ایک دن یا دن کا کچھ حصہ اللہ پاک نے فرمایا بلکہ تو سو سال رہا۔ (پھر) وہ جب اپنے شہر میں آئے اور ان کا پڑوسی جو موچی تھا اور جوانی کی حالت میں اس کو چھوڑ گئے تھے وہ بوڑھا ہوچکا تھا۔ (2) اسحاق بن بشر، الخطیب، ابن عساکر نے عبداللہ بن سلام ؓ سے روایت کیا کہ عزیر (علیہ السلام) وہ بندے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے سو سال تک موت دی پھر جن کو زندہ فرمایا۔ (3) ابن جریر ابن عساکر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عزیر بن سرو خا (علیہ السلام) وہی ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرمایا لفظ آیت ” او کالذی مر علی قریۃ “ (4) ابن جریر نے عکرمہ، قتادہ، سلیمان بن بریدہ وضحاک اور سدی رحمہم اللہ سے اسی کی مثل نقل کیا ہے۔ عزیر (علیہ السلام) کا واقعہ (5) اسحاق بن بشر ابن عساکر نے حضرت ابن عباس کعب حسن اور وھب (رح) سے اور بعض کی روایت بعض سے زیادہ ہے کہ عزیر (علیہ السلام) نیک بندے اور حکیم تھے ایک دن وہ اپنی زمین کی طرف نکلے جس کی دیکھ بھال کرتے تھے جب واپس لوٹے تو ایک دن ویران جگہ پر پہنچے جب دوپہر کا وقت تھا اور ان کو گرمی محسوس ہوئی وہ اپنے گدھے پر اس ویران جگہ میں داخل ہوگئے اپنے گدھے سے اترے ان کے پاس ایک ٹوکری تھی جس میں انجیر تھا اور دوسری میں انگور تھے وہ اس ویران جگہ کے سائے میں اترے اور ایک پیالہ نکالا اور اس میں انگوروں کو نچوڑا پھر سوکھی روٹی نکالی جو ان کے پاس تھی اس روٹی کو پیالے میں ڈالا تاکہ یہ بھیگ جائے اور آپ کھا سکیں پھر اپنی گدی کے بل لیٹ گئے اور دیوار کے ساتھ ٹیک لگا لی پھر ان گھروں کی چھتوں کی طرف دیکھا اور جو کچھ ان میں تھا اس کو بھی دیکھا اور وہ گھر اپنی چھتوں پر گرے ہوئے تھے حالانکہ اس کے رہنے والے ہلاک ہوچکے تھے۔ اور بوسیدہ ہڈیوں کو دیکھ کر فرمایا لفظ آیت ” انی یحی ھذہ اللہ بعد موتھا “ (یعنی اللہ تعالیٰ ان کو موت کے بعد ان کو کیسے زندہ فرمائیں گے) اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو زندہ فرمائیں گے) لیکن اس کو بڑے تعجب سے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے ملک الموت کو بھیج کر ان کی روح کو قبض فرما لیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو چار سو سال تک موت میں رکھا، جب ان کو سو سال ہوگئے تو بنی اسرائیل میں کئی تبدیلیاں ہوگئی تھیں (پھر) اللہ تعالیٰ نے عزیر (علیہ السلام) کے پاس ایک فرشتے کو بھیجا اس نے ان کے دل کو بنایا تاکہ اس کے ذریعہ ہر چیز کو سمجھ لیں، اور آنکھوں کو بنایا تاکہ ان کے ساتھ دیکھ سکیں کہ اللہ تعالیٰ کس طرح مردوں کو زندہ فرماتے ہیں۔ اس نے آپ کے دوسرے اعضاء مکمل کرلیے اور آپ یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے، پھر ان کی ہڈیوں کو گوشت، کھال اور بال پہنائے گئے، پھر ان میں روح پھونکی گئی تو وہ ہر چیز کو دیکھ رہے تھے۔ پھر وہ اٹھ کر بیٹھ گئے۔ تو فرشتے نے کہا (یہاں) کتنی مدت رہے۔ انہوں نے فرمایا ایک دن۔ اس وجہ سے کہ آپ دن کے شروع میں دوپہر کے وقت سوئے تھے۔ اور دن کے آخر میں ابھی سورج غروب نہیں ہوا تھا اٹھے تھے۔ پھر کہا یا دن کا کچھ حصہ (یہاں سویا ہوں گا) اور مجھے ایک دن پورا نہیں ہوا۔ فرشتے نے ان سے کہا بلکہ آپ سو سال (یہاں) لیٹے رہے۔ اب آپ اپنے کھانے اور پینے کی طرف دیکھ لیں۔ یعنی خشک روٹی اور انگوروں کا رس جو پیالے میں تھا یہ دونوں چیزیں اپنی حالت پر پڑی ہیں نہ انگوروں کے رس میں کوئی تغیر ہوا اور نہ خشک روٹی میں کوئی تبدیلی آئی۔ اسی کو فرمایا لفظ آیت ” لم یتسنۃ “۔ یعنی لفظ آیت ” لم یتغیر “ (کہ ان میں کوئی تغیر نہیں ہوا) اور اسی طرح انجیر اور انگور بھی اپنی حالت پر تھے (کوئی ان میں تبدیلی نہیں آئی تھی) گویا آپ نے دل میں ان سب باتوں کو عجیب سمجھا، فرشتے نے کہا آپ نے میری بات کو عجیب سمجھا ذرا آپ اپنے گدھے کی طرف دیکھئے۔ جب گدھے کی طرف دیکھا تو اس کی ہڈیاں بوسیدہ ہوچکی تھی، کھوکھلی ہوچکی تھیں فرشتے نے گدھے کی ہڈیوں کو آواز دی ان ہڈیوں نے آواز کو سنا تو ہر طرف سے اکٹھی ہونی شروع ہوئیں، فرشتے نے ہڈیوں کو جوڑ دیا۔ عزیر (علیہ السلام) دیکھ رہے تھے، اور پھر فرشتے نے ان ہڈیوں کے رگیں اور پٹھے بنائے پھر ان پر گوشت چڑھایا پھر اس پر کھا اور بالوں کو اگایا پھر اس میں فرشتے نے روح پھونک دی۔ تو گدھا اپنے سر اور کان کو آسمان کی طرف اٹھائے اور ہینگتے ہوئے کھڑا ہوگیا۔ اسی کو فرمایا لفظ آیت ” وانظر الی حمارک ولنجعلک ایۃ للناس وانظر الی العظام کیف ننشزھا ثم نکسوھا لحما “ یعنی اپنے گدھے کی ہڈیوں کی طرف دیکھئے سب اپنی جگہ پر جڑ گئی ہیں یہاں تک کہ جب ہڈیوں کا ڈھانچہ تیار ہوگیا تو فرمایا دیکھو کس طرح ہم اس کو گوشت پہناتے ہیں (پھر فرمایا) لفظ آیت ” فلما تبین لہ قال اعلم ان اللہ علی کل شیء قدیر “ یعنی اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہیں مردوں کو زندہ کرنے وغیرہ میں۔ وہ اپنے گدھے پر سوار ہو کر اپنے محلہ میں آئے۔ لوگوں نے ان کو نہ پہچانا اور نہ انہوں نے لوگوں کو پہچانا اور انہوں نے اپنے گھر کو بھی نہ پہچانا آپ چلتے چلتے اپنے گھر کے پاس پہنچے، وہاں ایک اپاہج اندھی بڑھیا بیٹھی ہوئی تھی جس کی عمر ایک سو بیس سال تھی اور وہ ان کی لونڈی تھی، جب عزیر (علیہ السلام) وہاں سے نکلے تو وہ بیس سال کی تھی۔ اس وقت وہ ان کو پہچانتی اور سمجھتی تھی، عزیر (علیہ السلام) نے اس سے فرمایا اور اے بڑھیا، کیا یہ گھر عزیر کا ہے، اس نے کہا ہاں اور رونے لگی اور کہا اتنے سال میں کوئی ایسا شخص نہیں جس نے عزیر کا ذکر کیا ہوا اور لوگ عزیر کو بھول گئے، انہوں نے فرمایا میں عزیر ہوں، اس نے کہا سبحان اللہ عزیر کو تو ہم سو سال سے گم کرچکے ہیں، اس کا کہیں ہم نے ذکر نہیں سنا، انہوں نے پھر فرمایا میں عزیر ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو سو سال تک موت دی، پھر مجھ کو زندہ فرما دیا، بڑھیا نے کہا عزیر ایسا آدمی تھا، جس کی دعا قبول کی جاتی تھی، وہ مریض کے لئے اور مصیبت والے کے لئے عافیت اور شفاء کی دعا کرتا تھا میرے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ میری آنکھیں لوٹ آئیں اور میں تجھ کو دیکھ لوں، اگر تو عزیر ہے تو میں تجھ کو پہچان لوں گی، انہوں نے اپنے رب سے دعا کی اور اپنے ہاتھ کو اس کی آنکھوں پر پھیرا۔ تو اس کی آنکھیں ٹھیک ٹھاک ہوگئیں، انہوں نے (پھر) اس کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا اللہ کے حکم سے کھڑی ہوجا، اللہ تعالیٰ نے اس کی ٹانگیں ٹھیک کردیں اور وہ صحیح طور پر کھڑی ہوگئی، گویا رسی کھل گئی اس نے آپ کو دیکھا اور کہنے لگی میں گواہی دیتی ہو بلاشبہ تو عزیر ہے۔ وہ عورت نبی اسرائیل کے محلہ کی طرف گئی۔ وہ لوگ اپنی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ان میں ایک شیخ عزیر (علیہ السلام) کے بیٹے بھی تھے جن کی عمر ایک سو اٹھارہ سال تھی، اور وہ ان کے پوتے بھی بوڑھے تھے وہ بھی مجلس میں (موجود) تھے۔ عورت نے ان کو آواز دی۔ اور کہا یہ عزیر (علیہ السلام) تمہارے پاس آچکے ہیں۔ انہوں نے اس عورت کی بات کو جھٹلایا۔ وہ عورت کہنے لگی میں فلاں عورت تمہاری باندی ہوں۔ انہوں نے میرے لئے اپنے رب سے دعا کی تو میری آنکھیں لوٹ آئیں اور میری ٹانگیں بھی ٹھیک ہوگئیں۔ اور ان کا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سو سال تک ان کو موت دی پھر ان کو زندہ فرما دیا، لوگ اٹھ کھڑے ہوئے ان کی طرف متوجہ ہو کر دیکھنا شروع کیا ان کے بیٹے نے کہا میرے والد کے دونوں کندھوں کے درمیان ایک سیاہ علامت تھی، ان کے کندھوں کو کھولا گیا تو وہ عزیر ہی نکلے۔ نبی اسرائیل نے کہا ہمارے درمیان کوئی بھی تورات کا حافظ نہیں تھا، ان احادیث کا جو ہم کو عزیر (علیہ السلام) کے علاوہ دوسروں نے بیان کیں اور بخت نصر نے تو رات کو جلا دیا تھا، اس میں کوئی چیز باقی نہ رہی سوائے اس کے جو لوگوں نے یاد کرلی تھی پس آپ ہمارے لئے تورات کو لکھ دیجئے۔ آپ کے والد ” سروخانے “ بخت نصر کے دور میں تورات کو دفن کردیا تھا ایک ایسی جگہ میں جو سوائے عزیر (علیہ السلام) کے کوئی نہیں جانتا تھا۔ عزیر (علیہ السلام) ان کو ساتھ لے کر اس جگہ پر گئے اس کو کھودا اور تورات کو نکالا کتاب کے اوراق بوسیدہ ہوچکے تھے اور لکھائی مٹ چکی تھی آپ ایک سایہ کے نیچے بیٹھ گئے اور نبی اسرائیل بھی ان کے اردگرد بیٹھے تو آپ نے تورات کو نئے سرے سے لوگوں کے لئے لکھا آسمان سے دو ستارے نازل ہوئے اور ان کے پیٹ میں داخل ہوگئے (ان کی برکت سے) تورات (پھر سے) یاد ہوگئی اور انہوں نے بنی اسرائیل کو لکھوا دی اس وجہ سے یہودیوں نے کہا عزیر (علیہ السلام) اللہ کا بیٹا ہے اسی قول کی وجہ سے ستاروں کا اترنا اور تورات کی تجدید اور بنی اسرائیل کے لئے آپ کا قیام تھا اور آپ نے حزقیل کے دور میں عراق کی زمین میں ان کے لئے تورات لکھی تھی اور وہ بستی جس میں ان کی وفات ہوئی اس کو سابر آباد کہا جاتا ہے۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ لفظ آیت ” ولنجعلک ایۃ للناس “ یعنی بنی اسرائیل کے لئے آپ کو نشانی بنایا کیونکہ آپ چالیس سال کی عمر میں وصال فرما گئے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو جوان اٹھایا جیسا کہ آپ موت کے دن تھے۔ (5) فریابی عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے عبداللہ بن عبید بن عمیر ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” او کالذی مر علی قریۃ “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ گذرنے والے نبی تھے جن کا نام ارومیا تھا۔ (6) عبدالرزاق، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ نے العظمہ میں وہب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ جب بیت المقدس کو کھنڈر بنا دیا گیا اور کتابوں کو جلا دیا گیا اور ایک پہاڑ کے کونے میں کھڑے ہو کر فرمایا لفظ آیت ” انی یحی ہذہ اللہ بعد موتھا “ اللہ تعالیٰ نے ان کو سو سال تک موت دے دی پھر اس کو زندہ کیا اور پہلی حالت پر آباد کیا۔ آپ ہڈیوں کی طرف دیکھ رہے تھے کہ کس طرح ایک دوسرے کے ساتھ جڑتی ہیں پھر ہڈیوں کی طرف دیکھا کہ ان کو پٹھے اور گوشت کیسے پہنایا جاتا ہے (پھر فرمایا) لفظ آیت ” فلما تبین لہ قال اعلم ان اللہ علی کل شیء قدیر “ (یعنی جب ان پر ظاہر ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے) پھر فرمایا لفظ آیت ” فانظر الی طعامک وشرابک لم یتسنہ “ اپنے کھانے اور پینے کی طرف دیکھو کہ وہ خراب نہیں ہوا اور ان کا کھانا انجیر تھے ایک ٹوکری میں پانی تھا مٹکے میں۔ (7) ابن جریر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ ” او کالذی مر علی قریۃ “ میں قریۃ سے مراد بیت المقدس ہے عزیر (علیہ السلام) اس کے پاس سے گذرے جب بخت نصر نے اس کو ویران کردیا تھا۔ (8) قتادہ، ضحاک اور ربیع سے اس طرح مروی ہے۔ (9) ابن ابی حاتم نے جیسا کہ محمد بن سلیمان السیاری سے روایت کیا کہ میں نے اہل شام میں سے ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے سو سال تک موت دی پھر اس کو اٹھایا اس کا نام حز قیل بن بوزا تھا۔ (10) اسحاق بن بشر، اور ابن عساکر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ عزیر (علیہ السلام) اور بخت نصر کا معاملہ دور عرصہ میں تھا۔ (ا 1) اسحاق اور ابن عساکر نے عطاء بن ابی رباح (رح) سے روایت کیا کہ عزیر (علیہ السلام) اور بخت نصر کا قصہ عیسیٰ اور سلیمان (علیہما السلام) کے درمیان پیش آیا۔ (12) اسحاق بن بشر اور ابن عساکر نے وھب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ عزیر (علیہ السلام) اور بخت نصر کا قصہ عیسیٰ اور سلیمان (علیہما السلام) کے درمیان پیش آیا۔ (13) ابن جریر، ابن المنذر نے بن جریج کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” خاویۃ “ سے مراد خراب ہے یعنی ویران۔ (14) ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” خاویۃ “ سے مراد ہے کہ اس میں کوئی نہیں (رہتا) تھا۔ (15) ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” علی عروشھا “ سے مراد ہے اس کی چھتیں۔ (16) ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” خاویۃ علی عروشھا “ سے مراد ہے کہ وہ گری ہوئی تھی اپنی چھتوں پر۔ (17) ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” انی یحی ھذہ اللہ بعد موتھا “ سے مراد ہے کہ ویران ہونے کے بعد یہ بستی کس طرح آباد ہوگی۔ (18) سعید بن منصور، عبد بن حمید اور بیہقی نے بعث میں حسن (رح) سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” فاماتہ اللہ ماءۃ عام ثم بعثہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ ہم کو ذکر کیا گیا کہ ان کو چاشت کے وقت موت دی گئی اور سورج غروب ہونے سے پہلے ان کو پھر زندہ کیا گیا، سب سے پہلے اس کے اعضاء میں سے ان کی آنکھوں کو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا تاکہ وہ ان دونوں آنکھوں کے ساتھ ہڈیوں کی طرف دیکھے کہ کس طرح اپنی جگہ پر جڑتی ہیں۔ (19) ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (پہلے) انہوں نے فرمایا میں ایک دن ٹھہرا پھر تو جہ کی پھر کچھ باقی حصہ سورج کا دیکھا تو فرمایا میں دن کا کچھ حصہ رہا۔ (20) ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ وہ کھانا جو ان کے ساتھ تھا ایک چھوٹی ٹوکری انجیر کی تھی اور پینے کے لئے ایک مشکیزہ میں انگور کا شیرہ تھا۔ (21) مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ان کا کھانا انجیر کی ایک چھوٹی ٹوکری تھی اور پینے کے لئے ایک گھڑا شراب کا تھا۔ (22) ابو یعلی، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم اور ابن عساکر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” لم یتسنہ “ سے مراد ہے لفظ آیت لم یتغیر یعنی متغیر ہوا۔ لفظ آیتلم یتسنہ کا معنی (23) الطستی نے اپنے مسائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے اس سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” لم یتسنہ “ کے بارے میں سوال کیا، تو انہوں نے فرمایا کہ اس سے مراد ہے کہ اس میں کئی سالوں سے کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، انہوں نے عرض کیا، کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں، کیا تو نے شاعر کا یہ قول نہیں سنا۔ لفظ آیت طاب منہ العطعم والریح معا لن تراہ یتغیر من اسن ترجمہ : اس کا ذائقہ اور خوشبو دونوں اچھی ہیں، ہرگز تو اس میں کسی قسم کا تغیر۔ (24) عبد بن حمید ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” لم یتسنہ “ سے مراد ہے کہ وہ بدبودار نہیں ہوا۔ (25) ابن راھویہ نے اپنی مسند میں ابو عبید نے فضائل میں، عبدد بن حمید، ابن جریر، ابن الانباری نے مصاحف میں ھانی البربری (رح) (جو حضرت عثمان کے آزاد کردہ غلام ہیں) سے روایت کیا کہ جب حضرت عثمان ؓ نے مصاحف لکھوائے تو ان کو تین آیات میں شک ہوا، تو انہوں نے ان (آیات) کو بکری کے کندے میں لکھا اور مجھے یہ دے کر ابی بن کعب اور زید بن ثابت ؓ کے پاس بھیجا۔ میں ان دونوں کے پاس گیا اور ابی بن کعب ؓ کو میں نے وہ آیات پیش کیں انہوں نے اس کو پڑھا اور اس طرح لکھا ہوا تھا لفظ آیت ” لا تبدیل للخلق ذلک الدین القیم “ (الروم آیت 3) انہوں نے اپنے ہاتھ سے ایک لام کو مٹا دیا اور اس کو یوں لکھا لفظ آیت ” لا تبدیل لخلق اللہ “ اور اس میں یہ بھی پایا (دوسری آیت) لفظ آیت ” فانظر الی طعامک وشرابک لم یتسنن “ انہوں نے نون کو مٹا دیا اور یوں لکھا لفظ آیت ” لم یتسنہ “ اور اس میں پڑھا (تیسری آیت) لفظ آیت ” فأمھل الکفرین “ انہوں نے الف کو مٹا دیا اور اس کو لکھا لفظ آیت ” فمھل “ اور پھر اس میں زید بن ثابت ؓ نے بھی دیکھا پھر میں اس کو لے کر (دوبارہ) حضرت عثمان ؓ کے پاس آیا تو انہوں نے اسی طرح سب مصاحب میں لکھوا دیا۔ (26) ابو عبید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن الانباری نے ھانی (رح) سے روایت کیا ہے کہ میں پیغام پہنچانے والا تھا، حضرت عثمان ؓ اور زید بن ثابت ؓ کے درمیان۔ زید نے فرمایا عثمان ؓ سے پوچھو لفظ آیت ” لم لیتسن “ ہے یا لفظ آیت ” لم یتسنہ “ ہے حضرت عثمان ؓ نے فرمایا اس میں لفظ آیت ” ھا “ کو زیادہ کر دو ۔ (27) سفیان بن عینیہ اور ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے لفظ آیت ” ولنجعلک ایۃ للناس “ کے بارے میں روایت کیا آپ لوگوں کے لئے نشانی اس طرح تھی کہ آپ ایک سو چالیس سال کے تھے اور جوان تھے۔ اور آپ کے پوتے سو سال کے بوڑھے تھے۔ (28) ابن ابی حاتم نے ابن مسعود ؓ سے اسی طرح روایت کی ہے۔ (29) ابن جریر المنذر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” کیف ننشزھا “ سے مراد ہے لفظ آیت ” نخرجھا “ یعنی ہم ان کو کیسے نکالیں گے۔ (30) ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” لم یتسنہ “ سے مراد ہے کہ سو سال کے بعد بھی کھانا خراب نہ ہوا۔ (حالانکہ) کھانا اور پینا اس سے (بہت) کم مدت میں خراب ہوجاتا ہے۔ پھر فرمایا لفظ آیت ” وانظر الی العظام کیف ننشزھا “ ان ہڈیوں کی طرف دیکھو ہم کس طرح اس سے ڈھانچہ تیار کرتے ہیں۔ (31) حاکم نے (اور اس نے اس کو صحیح کہا) زید بن ثابت ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (یوں) پڑھا لفظ آیت ” کیف ننشزھا “ زا کے ساتھ۔ (32) الفریانی ابن منصور اور مسدد، عبد بن حمید اور ابن المنذر نے زید بن ثابت ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس طرح پڑھا کرتے تھے لفظ آیت ” کیف ننشزھا “ زا کے ساتھ۔ اور زید ؓ نے اس پر اپنے مصحف میں نقطہ ڈالا تھا۔ (33) ابی بن کعب رض اللہ عنہ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” کیف ننشزھا “ کو زاء کے ساتھ لکھا ہے۔ (34) الفریابی سعید بن منصور، عبد بن حمید نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس طرح پڑھتے تھے لفظ آیت ” ننشرھا “ را کے ساتھ۔ را کے ساتھ۔ (35) ابن المنذر نے عطا بن ابی رباح (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس طرح پڑھتے تھے لفظ آیت ” ننشرھا “ را کے ساتھ۔ (36) عبد بن حمید نے حسن (رح) سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ (37) ابن جریر نے سدی سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” کیف ننشزھا “ سے مراد ہے کہ (کس طرح) ہم ان کو حرکت دیتے ہیں۔ (38) ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” کیف ننشزھا “ سے مراد ہے کہ کس طرح ہم ان کو کیسے زندہ کرتے ہیں۔ (39) عبدالرزاق عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا لفظ آیت ” فلما تبین لہ قال اعلم “ پھر فرمایا کہ ان کو یہ کہا گیا تھا۔ (40) سعید بن منصور اور ابن المنذر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس طرح پڑھتے تھے لفظ آیت ” قال اعلم “ اور وہ کہتے تھے ابراہیم (علیہ السلام) سے کوئی افضل نہیں تھا اللہ تعالیٰ نے (خود) فرمایا لفظ آیت ” اعلم ان اللہ علی کل شیء قدیر “ یعنی کہ بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ (41) ابن جریر نے ہارون (رح) سے روایت کیا کہ ابن مسعود ؓ کی قرات میں یوں لفظ آیت ” قیل اعلم ان اللہ “ یعنی امر کا صیغہ تھا۔ (42) ابن ابی داؤد نے المصاحف میں اعمش (رح) سے روایت کہ حضرت عبداللہ ؓ کی قرات میں یوں تھا لفظ آیت ” قیل اعلم “۔
Ayah 2:260

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اَرِنِیْ كَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰى١ؕ قَالَ اَوَ لَمْ تُؤْمِنْ١ؕ قَالَ بَلٰى وَ لٰكِنْ لِّیَطْمَئِنَّ قَلْبِیْ١ؕ قَالَ فَخُذْ اَرْبَعَةً مِّنَ الطَّیْرِ فَصُرْهُنَّ اِلَیْكَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلٰى كُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ یَاْتِیْنَكَ سَعْیًا١ؕ وَ اعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 2:260 in the Quran reader

اور جب کہا ابراہیم نے کہ اے میرے رب آپ مجھے دکھا دیجئے مردوں کو کس طرح زندہ فرماتے ہیں، فرمایا کیا تم کو یقین نہیں ہے ؟ عرض کیا یقین ہے لیکن اس غرض سے سوال کرتا ہوں کہ میرا قلب مطمئن ہوجائے، فرمایا سو تم لے لو چار پرندے پھر ان کو اپنے سے ہلالو پھر ہر پہاڑ پر ان میں سے ایک ایک حصہ رکھ دو پھر ان کو بلاؤ وہ تمہارے پاس دوڑتے ہوئے چلے آئیں گے اور جان لو کہ بلاشبہ اللہ عزیز ہے حکیم ہے۔

(1) ابن ابی حاتم وابو الشیخ نے العظمہ میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) ایک مردہ آدمی پر گزرے کہتے ہیں کہ وہ حبشی تھا جو ساحل سمندر پر پڑا ہوا تھا۔ پھر انہوں نے دیکھا کہ سمندر کے جانور اسے نوچ رہے ہیں درندے اور پرندے بھی اسے کھا رہے ہیں، ابراہیم (علیہ السلام) نے اس (میت) کے پاس (کھڑے ہو کر) عرض کیا اے میرے رب یہ سمندر، جانور درندے، پرندے کہ انسان کو کھا رہے ہیں پھر یہ بھی مرجائیں گے اور چھپ جائیں گے۔ پھر آپ ان کو زندہ فرمائیں گے۔ مجھے دکھائیے کس طرح آپ مردوں کو زندہ فرمائیں گے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے ابراہیم کیا تجھے یقین نہیں ہے کہ میں مردوں کو زندہ کروں گا ؟ عرض کیا مجھے یقین ہے، یہ اس لئے عرض کیا کہ میرا دل مطمئن ہوجائے اور میں تیری نشانیوں میں سے دیکھ لوں اور میں جان لوں کہ تو میری دعا قبول فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : چار پرندے لے لو اور ان کو سدھاو جیسے سدھایا جاتا ہے اور پرندے جو انہوں نے لیے وہ یہ تھے، بطخ، شتر مرغ، مرغ اور مور۔ آپ نے ان کے دو مختلف حصے کیے پھر چار پہاڑوں پر آئے اور ہر پہاڑ پر دو مختلف حصے رکھ دئیے، اسی کو اللہ تعالیٰ نے لفظ آیت ” ثم اجعل علی کل جبل منہن جزء ا “ پھر ایک طرف کو ہوگئے اور ان پرندوں کے سر آپ کے قدموں کے نیچے تھے پھر ان کو اللہ تعالیٰ کے اسم اعظم کے ساتھ پکارا تو ہر آدھا اپنے آدھنے کے پیچھے چلا گیا اور ہر پر اپنے جسم کی طرف چلا گیا پھر بغیر سروں کے اڑتے ہوئے آئے ان کے قدموں کی طرف اور وہ اپنے سروں کو طلب کر رہے تھے اپنی گردنوں کے ساتھ انہوں نے اپنے قدموں کو اٹھایا تو ہر پرندے نے اپنی گردن اپنے سر پر رکھ لی اور اسی طرح پرندہ بن گیا جیسے تھا، پھر فرمایا لفظ آیت ” واعلم ان اللہ عزیز “ یعنی قدرت رکھنے والا ہے ہر چیز پر جس کو چاہے اور لفظ آیت ” حکیم “ یعنی اپنے ارادے کو پکارنے والا ہے۔ الرال سے مراد شتر مرغ کا بچہ ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا امتحان (2) عبد بن حمید، ابن جریر نے قتادہ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ (3) ابن جریر نے حضرت ابن جریج سے انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ اس درمیان ابراہیم (علیہ السلام) راستے پر جا رہے تھے اچانک ایک مردہ گدھا پڑا ہوا تھا، اس پر درندے اور پرندے اس کے گوشت کو نوچ رہے تھے، اور اس کی ہڈیاں باقی رہ گئی تھیں، آپ تعجب کرتے ہوئے کھڑے ہوگئے، پھر فرمایا اے میرے رب ! میں جانتا ہوں کہ تو ضرور اس کو جمع کرے گا ان درندوں اور پرندوں کے پیٹوں سے، اے میرے رب مجھ دکھائیے کہ آپ کس طرح مردوں کو زندہ فرمائیں گے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا تجھے یقین نہیں ؟ عرض کیا کیوں نہیں یقین ہے لیکن صرف کسی بات کی خبر دیکھنے کے برابر نہیں ہوتا۔ (4) ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے رب سے سوال کیا کہ مجھ کو دکھائیے کس طرح آپ مردوں کو زندہ فرماتے ہیں، اور یہ اس وقت انہوں نے اپنے رب سے دعا فرمائی، جب ان کو اپنی قوم سے تکلیفیں پہنچی تھیں، اور یوں فرمایا اے میرے رب ! مجھے دکھائیے کہ کس طرح آپ مردوں کو زندہ فرماتے ہیں ؟۔ (5) ابن جریر، اور ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو خلیل بنایا، تو املک الموت نے (اللہ تعالیٰ سے) اجازت مانگی کہ وہ ابراہیم (علیہ السلام) کو اس بات کی خوشخبری دے آئے اس کو اجازت دے دی گئی، وہ ابراہیم کے پاس آئے اور ان کے گھر میں داخل ہوگئے، ابراہیم سب لوگوں سے زیادہ غیرت مند تھے جب گھر سے باہر جاتے تو دروازہ بند کر جاتے جب واپس آئے تو گھر میں ایک آدمی کو پایا تو اس کو پکڑنے کیلئے اس کی طرف کود پڑے اور اس سے کہا کس نے تجھ کو اجازت دی میرے گھر میں داخل ہونے کے لئے ؟ ملک الموت نے کہا مجھ کو اس گھر کے رب نے اجازت دی ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا تو نے سچ کہا اور پہچان گئے کہ وہ ملک الموت ہے۔ پوچھا تو کون ہے ؟ اس نے کہا میں ملک الموت ہوں، میں آپ کے پاس یہ خوشخبری سنانے کے لیے آیا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنا خلیل بنا لیا ہے۔ انہوں نے (یہ سن کر) اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی اور اس سے فرمایا : اے ملک الموت ! مجھ کو دکھا کس طرح تو کافروں کی روحوں کو قبض کرتا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا اے ابراہیم آپ اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کیوں نہیں (میں طاقت رکھتا ہوں) ملک الموت نے کہا (ذرا) چہر پھیر لیجئے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے چہرہ پھیرلیا پھر دیکھا تو ایک ایسا سیاہ شخص ہے جس کا سر آسمان کو پہنچا ہوا تھا اور اس کے منہ سے آگ کے شعلے نکل رہے تھے، اس کے جسم کے بالوں میں سے ہر بال ایک آدمی کی صورت میں تھا کہ جس کے منہ سے اور کانوں سے آگ کے شعلے نکل رہے تھے، ابراہیم (علیہ السلام) بےہوش ہوگئے پھر (جب) افاقہ ہوا تو ملک الموت اپنی پہلی صورت میں آچکے تھے، پھر ابراہیم نے فرمایا اے ملک الموت اگر کافر کو اس کی موت کے وقت کوئی اور مصیبت رنج نہ پہنچے تو تیری صورت ہی (اس کی مصیبت کے لیے) کافی ہے (پھر فرمایا) اب مجھے وہ صورت دکھاؤ کہ کس طرح تم مؤمنین کی روحوں کو قبض کرتے ہو ؟ ملک الموت نے کہا چہرہ پھیر لیجئے ابراہیم نے چہرہ پھیرلیا پھر متوجہ ہوئے تو دیکھا کہ ایک نہایت حسین چہرے والا نوجوان ہے، جس کی نہایت عمدہ خوشبو ہے اور سفید کپڑوں میں ہے (دیکھ کر) فرمایا اے ملک الموت ! اگر مومن اپنی موت کے وقت اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک اور عزت واکرام کو نہ پائے تو تیری (یہ خوبصورت) شکل ہی اس کی جگہ کافی ہے ملک الموت چلے گئے اور ابراہیم اپنے رب سے دعا کرنے کے لئے کھڑے ہو کر فرمانے لگے اے میرے رب ! مجھ کو دکھایئے کس طرح آپ مردوں کو زندہ کرتے ہیں، یہاں تک کہ میں جان لوں کہ میں آپ کا خلیل ہوں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا تجھے یقین نہیں ؟ عرض کیا کیوں نہیں لیکن یہ اس لئے عرض کیا ہے تاکہ تیرے خلیل ہونے پر دل مطمئن ہوجائے۔ (6) سعید بن منصور، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے الاسماء والصفات، سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولکن لیطمئن قلبی “ سے مراد دوستی ہے تاکہ دوست کے ساتھ دل مطمئن ہوجائے۔ (7) ابن جریر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولکن لیطمئن قلبی “ سے مراد ہے میں نے (اس بات کو) جان لیا کہ تو میری دعا کو قبول فرمائے گا جب میں تجھ سے دعا کروں گا، اور تو مجھے عطا فرمائے گا جب میں تجھ سے سوال کروں گا۔ (8) سعید بن منصور، ابن جریر، ابن المنذر، بیہقی نے فی الشعب میں، مجاہد و ابراہیم رحمۃ اللہ علیہما دونوں سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولکن لیطمئن قلبی “ سے مراد ہے کہ میرے ایمان کو تقویت مل جائے۔ (9) عبد بن حمید، بخاری، مسلم، ابن ماجہ، ابن جریر، ابن مردویہ، اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہم زیادہ حق دار ہیں شک کرنے میں ابراہیم (علیہ السلام) سے جب انہوں نے فرمایا تھا لفظ آیت ” رب ارنی کیف تحی الموتی قال اولم تؤمن ؟ قال لفظ آیت ” بلی ولکن لیطمئن قلبی “ اور اللہ تعالیٰ نے لوط (علیہ السلام) پر رحم فرمائے وہ رکن شدید (یعنی مضبوط سہارے) کی طرف پناہ لیتے تھے اور اگر میں جیل میں اتنا رہتا جتنا یوسف (علیہ السلام) جیل میں رہے تو میں بلانے والے کے بلانے کو قبول کرلیتا۔ (10) عبد الرزاق، ابن جریر نے ایوب (رح) سے روایت کیا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے اس آیت لفظ آیت ” ولکن لیطمئن قلبی “ کے بارے میں فرمایا کہ میرے نزدیک قرآن میں کوئی آیت اس سے زیادہ امید افزا نہیں۔ (11) عبد بن حمید ابن جریر ابن المنذر، ابن ابی حاتم حاکم نے (اور اس کو صحیح کہا) کہ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے پوچھا کون سی قرآن میں ایسی آیت ہے جو زیادہ امید افزا ہو تو انہوں نے فرمایا، اللہ تعالیٰ کا قول ہے لفظ آیت ” یعبادی الذین اسرفوا علی انفسہم لا تقنطوا من رحمۃ اللہ “ ابن عباس ؓ نے فرمایا لیکن میں کہتا ہوں اللہ تعالیٰ کا قول ابراہیم کے لئے لفظ آیت ” اولم تؤمن قال بلی “ زیادہ امید افزا ہے۔ اللہ تعالیٰ ابراہیم کی طرف سے بلی کے قول سے راضی ہوگئے یہ اس لیے کہ شیطان دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے۔ (12) ابن ابی حاتم نے حنش کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فخذ اربعۃ من الطیر “ سے یہ چار پرندے مراد ہیں : سارس، مور، مرغ اور کبوتر۔ (13) عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا چار پرندے یہ تھے، مرغ، مور، کوا اور کبوتر۔ (14) سعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے شعب میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فصرہن “ سے مراد ہے لفظ آیت ” قطعہن “ یعنی ان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا۔ (15) ابن جریر، ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فصرہن “ یہ نبطی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی ہے لفظ آیت ” شققہن “ یعنی ان کو چیرنا پھاڑنا۔ (16) ابن جریر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فصرہن “ نبطی زبان میں لفظ آیت ” قطعہن “ کے معنی میں ہے یعنی ان کو ریزہ ریزہ کردو۔ (17) عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فصرہن “ یہ کلمہ حبشی زبان کا ہے جس کا معنی ہے کہ ان کو ریزہ ریزہ کردو اور ان کے خونوں کو اور ان کے پروں کو خلط ملط کر دو ۔ (18) ابن جریر، ابن ابی حاتم نے العوفی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا لفظ آیت ” فصرہن “ سے مراد ہے کہ ان کو مضبوطی سے باندھ کر ان کو ذبح کرلو۔ (19) عبد بن حمید، ابن المنذر نے وھب (رح) سے روایت کیا کہ کوئی لغت ایسی نہیں جو قرآن میں نہ ہو۔ (یعنی ہر لغت کے الفاظ قرآن مجید میں موجود ہیں) کہا گیا، رومی زبان کا کون کا سا لفظ ہے آپ نے فرمایا لفظ آیت ” فصرہن “ یعنی لفظ آیت ” قطعہن “ ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دو ۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا مشاہدہ (20) سعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے البعث میں ابو جمرہ کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فصرہن الیک “ سے مراد ہے ان کے پر کاٹ دو پھر ان کے چار چار ٹکڑے ٹکڑے کر دو ہر چوتھائی کو زمین کی مختلف جگہوں میں رکھ دو (پھر فرمایا) لفظ آیت ” ثم ادعہن یاتینک سعیا “ (پھر ان کو بلاؤ وہ آپ کے پاس دوڑتے ہوئے آئیں گے) فرمایا یہ مثال ہے کہ اسی طرح اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ فرمائیں گے۔ (21) عبد بن حمید، ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ حکم دیا گیا چار پرندے لے لو، ان کو ذبح کر دو اور (پھر) ان کے گوشت ان کے پروں اور ان کے خونوں کو آپس میں خلط ملط کر دو پھر ان کو علیحدہ علیحدہ چار پہاڑوں پر رکھ دو ۔ (22) ابن جریر نے عطا (رح) سے روایت کیا لفظ آیت ” فصرہنا لیک “ سے مراد ہے کہ ان کو ایک دو سرے کے ساتھ ملا دو ۔ (23) ابن ابی حاتم نے طاؤس کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کو سات پہاڑوں پر رکھا ان کے سروں کو اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا پھر آپ دیکھتے رہے کہ ایک قطرہ دوسرے سے جڑ رہا ہے اور ایک پر (دوسرے) پر سے جڑ رہا ہے، یہاں تک کہ وہ زندہ ہوگئے اس حال میں کہ ان کے سر نہیں تھے، پس وہ اپنے اپنے سروں کی طرف آئے اور ان میں داخل ہوگئے۔ (24) ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ثم ادعہن “ سے مراد ہے کہ ابراہیم نے ان کو اس طرح سے بلایا لفظ آیت ” باسم الہ ابراہیم تعالین “ ابراہیم کے معبود کے نام کے ساتھ آجاؤ) ۔ (25) ابن جریر نے ربیع (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” یاتینک سعیا “ سے مراد ہے کہ وہ قدموں پر دوڑتے ہوئے آئیں گے۔ (26) ابن المنذر نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ (ابراہیم (علیہ السلام) نے چار پرندے) پکڑے، مرغ، مور کوا اور کبوتر، انہوں نے ان کے سروں کو، ان کی ٹانگوں کو اور ان کے پروں کو کاٹ دیا، پھر پہاڑوں کے پاس آئے چار پہاڑوں پر گوشت، خون اور پر رکھ دئیے پھر آواز دی گئی اے ٹکڑے ٹکڑے کی ہوئی ہڈیوں بکھرے ہوئے گوشتون کاٹی ہوئی آنتوں اکٹھی ہوجاؤ (کیونکہ) اللہ تعالیٰ ارادہ فرماتے ہیں کہ تمہاری روحیں تمہارے اندر لوٹا دیں (یہ حکم سنتے ہی) ایک ہڈی دوسری ہڈی کی طرف کود پڑی اور ایک پر دوسرے پر کی طرف اڑا اور ہر خون کا قطرہ دوسرے قطرے کی طرف چلا، یہاں تک کہ ہر پرندہ کا خون اس کا گوشت اور اس کے پر اکٹھے ہوگئے پھر اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف وحی فرمائی، کہ تو نے مجھ سے سوال کیا تھا کہ میں کس طرح مردوں کو زندہ کروں گا، بلاشبہ میں نے زمین کو پیدا کیا اور اس میں چار ہوائیں پیدا کیں، شمال، صبا، جنوب اور دبور، یہاں تک کہ جب قیامت کا دن ہوگا ایک پھونکنے والا صور پھونکے گا تو جو کچھ زمین میں ہیں قتل کیے ہوئے اور (دوسرے) مردے اکٹھے ہوجائیں گے، جیسا کہ یہ چار پرندے چار پہاڑوں سے اکٹھے ہوگئے، پھر یہ آیت تلاوت فرمائی۔ لفظ آیت ” ما خلقکم ولا بعثکم الا کنفس واحدۃ “ (لقمان آیت 28) ۔ (27) بیہقی نے شعب میں حسن ؓ سے لفظ آیت ” رب ارنی کیف تحی الموتی “ کے بارے میں روایت کیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) اس بات پر یقین کرنے والے تھے کہ بلا شبہ اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ فرمائیں گے، لیکن صرف (کسی بات کی) خبر ہونا آنکھوں سے دیکھنے کی طرح نہیں ہوتا (اس لیے اس کا سوال فرمایا) اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا چار پرندے لے لو ان کو ذبح کر کے ان کے پر اکھیڑ دو پھر ان کا ہر عضو کاٹ دو پھر ان کو آپس میں خلط ملط کر دو ، پھر ان کے چار حصے بنا لو اور ہر حصہ ایک ایک پہاڑ پر رکھ دو ، پھر ان سے دور کھڑے ہوجاؤ (اور دیکھتے رہو) ہر عضو دوڑ کر اپنے دوسرے عضو کی طرف گیا یہاں تک کہ پورا جسم بن گیا، جیسے ذبح کرنے سے پہلے تھے (پھر ان کے پاس دوڑتے ہوئے آگئے) ۔ (28) بیہقی نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فصرہن الیک “ سے مراد ہے کہ ان (پرندوں) کے پروں کو اور ان کے گوشتوں کو اکھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دو ۔ (29) بیہقی نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ اس سے مراد ہے ان کے ٹکڑے ٹکڑے کردو پھر ان کو خلط ملط کر دو ۔