Ayah 2:261(1) عبد بن حمید، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” مثل الذین ینفقون اموالہم فی سبیل اللہ کمثل حبۃ “ سے مراد ہے کہ ایک نیکی سات سو نیکی کے برابر کردی جاتی ہے۔
(2) ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ جو شخص اللہ کے راستہ میں خرچ کرے گا اس کے لئے اس کا اجر سات سو مرتبہ ہے۔
(3) ابن جریر نے ابن زید (رح) سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” واللہ واسع علیم “ کے بارے میں روایت کیا کہ لفظ آیت ” واسع “ سے مراد ہے کہ وہ اور زیادہ کرے گا اپنی وسعت میں اور عالم سے مراد ہے کہ وہ جاننے والا ہے اس شخص کو جس کے لئے زیادتی کرتے ہیں۔
(4) ابن جریر ابن ابی حاتم نے ربیع (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ جس شخص نے نبی کریم ﷺ سے ہجرت پر بیعت کی اور مدینہ منورہ میں آپ کے ساتھ رکے اور آپ کی اجازت کے بغیر کہیں نہیں گیا تو اس کی ایک نیکی سات سو گنا تک کردی جائے گی اور جس نے اسلام پر بیعت کی تو اس کی ایک نیکی دس کے برابر ہوگی۔
(5) ابن ماجہ نے اور ابن ابی حاتم نے عمران بن حصین ؓ سے روایت کیا کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے جہاد کے لئے اللہ کے راستہ میں پیسے بھیجے اور خود اپنے گھر میں مقیم رہا تو اسے رہ درہم کے بدلہ میں سات سو درہم کا ثواب ملے گا اور جس نے خود اللہ کے راستہ میں جہاد کیا اور اس کی رضا مندی میں خرچ بھی کیا تو اس کے ہر درہم کے بدلہ میں قیامت کے دن سات لاکھ درہم کا ثواب ملے گا پھر یہ آیت پڑھی لفظ آیت ” واللہ یضعف لمن یشاء “
(6) بخاری نے اپنی تاریخ میں انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اللہ کے راستہ میں خرچ کرنا سات سو گنا تک بڑھ جاتا ہے۔
(7) احمد، مسلم، نسائی، حاکم اور بیہقی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک آدمی نے نکیل والی ایک اونٹنی اللہ کے راستہ میں صدقہ کی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کے بدلہ میں تیرے لیے سات سو اونٹنیاں ہوں گی ہر ایک ان میں سے نکیل والی ہوگی
(8) احمد، ترمذی (اور اس کو حسن کہا) نسائی، ابن حبان، حاکم (اور اس کو صحیح کہا) اور بیہقی نے شعب میں خریم بن فارتک ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص نے اللہ تعالیٰ کے راستہ میں خرچ کیا اس کے لیے سات سو گنا تک (ثواب) لکھا جائے گا۔
اعمال کی سات قسمیں
(9) بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک اعمال سات قسم پر ہیں دو عمل ایسے ہیں جو (جنت یا دوزخ کو) واجب کرنے والے ہیں اور دو عمل ایسے ہیں کہ ان کے برابر ثواب ملتا ہے اور ایک عمل ایسا ہے کہ اس پر دس گناہ اجر ملتا ہے۔ اور ایک عمل ایسا ہے کہ اس پر سات سو گناہ اجر ملتا ہے اور ایک عمل ایسا ہے کہ اس کے کرنے والے کا ثواب اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، دو عمل واجب کرنے والے یہ ہیں، پہلا وہ شخص جو اس حال میں اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے کہ خالص اسی کی عبادت کرتا تھا، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا تھا، اس کے لیے جنت واجب ہوگئی، اور جو شخص اس حال میں اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے کہ اس کے ساتھ شریک ٹھہراتا ہو تو اس کے لیے جہنم واجب ہوگئی، اور جس شخص نے برا عمل کیا اسے اس کی مثل ملے گا اور جس شخص نے نیک کام کیا اس کے مثل اجر ملے گا، اور جس شخص نے ایسا نیک عمل کیا تو اس کو دس نیکیوں کا ثواب ملے گا، اور جس شخص نے اپنا مال اللہ کے راستہ میں خرچ کیا۔ تو اس کے ایک درہم کو سات سو درہم اور اس کے ایک دینار کو سات سو دینار میں بڑھا دیا جاتا ہے اور روزہ اللہ کے لیے ہیں اس کے عامل کا ثواب اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
(11) امام حاکم نے سعدی بن حاتم ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کون سا صدقہ افضل ہے ؟ فرمایا اللہ کے راستہ میں خادم کی خدمت یا خیمہ کا سایہ یا اللہ کے راستہ میں سواری مہیا کرنا ہے، (حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا) ۔
(12) الترمذی نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کون سا افضل صدقہ ہے اللہ کے راستہ میں سایہ کے لیے شامیانہ لگانا ہے، یا کسی خادم کو خدمت کے لیے اللہ کے راستہ میں دینا، یا اللہ کے راستے میں سواری کا مہیا کرنا۔
(13) بخاری، مسلم، ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے زید بن خالد جہنی ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے کسی مجاہد کا اللہ کے راستہ میں سامان تیار کیا تو اس نے جہاد کیا، یا کسی مجاہد کے اہل و عیال سے اچھا برتاؤ کیا تو اس نے بھی جہاد کیا۔
مجاہد کو سامان دینے کا اجر
(14) ابن ماجہ و بیہقی نے حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جس نے کسی مجاہد کے لیے سامان جہاد تیار کیا یہاں تک کہ وہ مکمل ہوگیا تو اس کے لیے اس کے برابر اجر ہوگا یہاں تک کہ مجاہد شہید ہوجائے یا واپس لوٹ آئے۔
(15) الطبرانی نے الاوسط میں زید بن ثابت ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکر م ﷺ نے فرمایا جس نے کسی مجاہد کا اللہ کے راستہ میں سامان تیار کیا اس کے لیے اس کے برابر اجر ہوگا اور جو شخص کسی مجاہد کے گھر میں پیچھے اس کے ساتھ رہا اور اس کے اہل و عیال پر خرچ کیا تو اس کے لیے بھی اس مجاہد کے برابر اجر ہوگا۔
(16) مسلم، ابو داؤد نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ بنو لحیان کی طرف (پیغام) بھیجا کہ ہر دو آدمیوں میں سے ایک آدمی (جہاد کے لیے) نکلے۔ پھر (گھر میں) بیٹھنے والے کے لیے کیا فرمایا کہ جو شخص نکلنے والے کے پیچھے اس کے گھر کی دیکھ بھال کرے تو اس کے لیے بھی اس مجاہد کے برابر اجر ہوگا۔
(17) احمد حاکم اور بیہقی نے سہیل بن حنیف ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے اللہ کے راستہ میں کسی مجاہد کی مدد کی یا مقروض کی تنگدستی میں مدد کی یا کسی مکاتب کی اس کی گردن چھڑانے میں مدد کی (قیامت کے دن) اللہ تعالیٰ اس کو اپنے سایہ میں جگہ عطا فرمائیں گے جس دن ان کے سایہ کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا۔
(18) ابن حبان، حاکم (نے اس کو صحیح کہا) اور بیہقی نے حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے کسی نمازی کے سر پر سایہ کیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس پر سایہ فرمائے گا اور جس نے اللہ کے راستہ میں کسی مجاہد کو سا ان دیا تو اس کے لیے اس کے برابر اجر ہوگا، اور جس نے اللہ کے لیے مسجد بنائی جس میں اللہ کے نام کا ذکر کیا جاتا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک محل جنت میں بنا دیں گے۔
(19) احمد، نسائی اور حاکم نے (اس کو صحیح کہا) اور بیہقی نے صعصعہ بن معاویہ (رح) سے روایت کیا کہ میں نے حضرت ابوذر ؓ سے عرض کیا کہ مجھ کو کوئی حدیث بیان فرمائیے تو انہوں نے کہا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جو مسلمان بندہ اللہ کے راستہ میں جوڑا (دو چیزیں) خرچ کرے گا، تو جنت کے دربان اس کا استقبال کریں گے اور ہر ایک اس کو اپنے (دروازہ) کی طرف بلائے گا میں نے عرض کیا (یہ دو چیزیں خرچ کرنا) کیسے ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا اگر کجاوہ ہے تو دو کجاوے اگر اونٹ ہے تو دو اونٹ اگر گائے ہے تو دو گائیں (اللہ کے راستہ میں خرچ کرے) ۔
(20) ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ لفظ آیت ” مثل الذین ینفقون اموالہم فی سبیل اللہ کمثل حبۃ “ سے مراد ہے کہ حج میں جہاد میں خرچ کرنا (ثواب میں) برابر ہے اور ایک درہم اللہ کے راستہ میں (خرچ کرنا) سات سو (درہم) کے برابر ہے۔
(21) احمد، الطبرانی نے الاوسط میں بیہقی نے اپنی سنن میں بریدہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا حج میں خرچ کرنا ایسا ہے جیسا اللہ کے راستہ میں خرچ کرنا اور ایک درہم (خرچ کرنا) سات سو درہم کے برابر ہے۔
(22) الطبرانی نے الاوسط میں انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا حج میں خرچ کرنا ایسا ہے جیسے اللہ کے راستہ میں خرچ کرنا، اور ایک درہم (خرچ کرنا) سات سو درہم کے برابر ہے۔
(23) ابو داؤد اور حاکم نے (اور اس کو صحیح کہا) معاذ بن انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نماز روزہ اور ذکر (کا ثواب) اللہ کے راستے میں خرچ کرنے پر سات سو گنا زیادہ کیے جائیں گے۔
Ayah 2:262خرچ کے بعد احسان نہ جتائے
(1) عبد بن حمید اور ابن جریر نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا اللہ تعالیٰ نے (اس بات کو) جان لیا کہ لوگ اپنے عطیات کا احسان جتلاتے ہیں (اللہ تعالیٰ نے) اس بات کو ناپسند فرمایا اور اس بارے میں پہلے ذکر فرمایا۔
(2) ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ بعض لوگ اپنے میں سے کسی مرد کو اللہ کے راستہ میں بھیجتے تھے یا کسی آدمی پر خرچ کرتے تھے اور اس کو نفقہ دیتے تھے پھر اسی پر احسان رکھتے تھے اور اس کو تکلیف دیتے تھے اور اس سے کہتے تھے میں نے اللہ کے راستہ میں اتنا خرچ کیا اس طرح اور اس طرح۔ اللہ کے نزدیک اس کا کوئی ثواب نہیں اور تکلیف دینا یہ ہے کہ کوئی شخص کسی کو کچھ دے اور پھر کہے کیا میں نے تجھ کو اتنا نہیں دیا تھا۔
(3) ابن المنذر اور حاکم نے (اس کو صحیح کہا) کہ ابن ابی شیبہ اور ابن المنذر انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے براء ابن عازب ؓ سے پوچھا اے براء ! تو کس طرح اپنی ماں پر خرچ کرتا ہے ؟ اور وہ اپنے اہل و عیال پر کشادگی (سے خرچ) کرنے والے تھے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! کون سا (خرچ کرنا) بہتر ہے ؟۔ آپ نے فرمایا بلاشبہ تیرا خرچ کرنا اپنی بیوی پر اپنی اولاد پر اور اپنے خادم پر صدقہ ہے، (اور خرچ کرنے کے بعد) ان پر احسان نہ جتانا اور تکلیف نہ دینا۔
(4) ابن ابی شیبہ اور ابن المنذر نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو کچھ تم اپنے اہل و عیال پر بغیر فضول خرچی کے اور بغیر بخل کے خرچ کروگے وہ اللہ کے راستہ میں ہے۔
(5) الطبرانی نے کعب بن عجرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک آدمی گذرا آپ کے اصحاب ؓ نے اس کی جلدی اور اس کے ہشاش بشاش ہونے کو دیکھا تو عرض کیا یا رسول اللہ ! کاش یہ اللہ کے راستہ میں مجاہد ہوتا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر اپنی چھوٹی اولاد کے لیے محنت مزدوری کرنے کے لیے نکلا ہے تو وہ اللہ کے راستہ میں ہے اور اگر اپنے بوڑھے والدین کے لیے محنت مزدوری کرے تو وہ اللہ کے راستہ میں ہے اور اگر وہ اپنی جان کے لیے محنت کرنے کو نکلا ہے تاکہ (دوسروں سے مانگنے سے) بچ جائے تو وہ اللہ کے راستہ میں ہے اور اگر وہ دکھاوے اور تفاخر کے اظہار کے لیے نکلا ہے تو وہ شیطان کے راستہ میں ہے۔
حلال روزی تلاش کرنے کی فضیلت
(6) عبدالرزاق نے المنصف میں ایوب ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نبی اکرم ﷺ کے سامنے گزرا ایک ٹیلے کے اوپر سے (اس کو دیکھ کر) صحابہ ؓ نے کہا کتنے عمدہ جسم والا انسان ہے ؟ کاش اس کا جسم اللہ کے راستہ میں ہوتا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا (کیا تمہار ایہ خیال ہے) کہ مقتول ہی صرف اللہ کی راہ ہوتا ہے ؟ پھر فرمایا جو شخص زمین میں نکلے تاکہ وہ (رزق) حلال طلب کرے اور وہ اس کے ذریعے سے اپنے اہل و عیال کی کفالت کرے تو وہ بھی اللہ کے راستہ میں ہے اور جو آدمی اس لیے نکلے تاکہ وہ حلال (رزق) طلب کرے اور اس کے ذریعہ اپنے اہل و عیال کی کفالت کرے تو وہ بھی اللہ کے راستہ میں ہے اور جو آدمی رزق حلال کی طلب میں نکلے تاکہ اس سے اپنی جان کی کفالت کرے تو وہ بھی اللہ راستہ میں ہے۔
(7) امام بیہقی نے الشعیب میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اپنے والدین کے لیے محنت کرتا ہے تو وہ بھی اللہ کے راستے میں ہے اور جو شخص اپنے اہل و عیال کے لیے محنت کرتا ہے تو وہ بھی اللہ کے راستہ میں ہے اور جو شخص اپنی جان کے لئے محنت کرتا ہے تاکہ (مانگنے سے) بچ جائے تو وہ بھی اللہ کے راستہ میں ہے اور جو شخص تکبر اور بڑائی اور مال کو بڑھانے کے لئے محنت کرتا ہے تو وہ شیطان کے راستہ میں ہے۔
(8) احمد، بیہقی نے اپنے سنن میں ابو عبیدہ بن جراح ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا جو شخص اپنے بچے ہوئے مال کو اللہ کے راستہ میں خرچ کرتا ہے تو اس کے لیے سات سو گنا (کا ثواب) ہے اور جو شخص اپنی جان پر اپنے اہل و عیال پر (خرچ کرتا ہے) یا کسی مریض کی عیادت کرتا ہے یا راستہ سے کسی تکلیف دینے والی چیز کو ہٹا دیتا ہے تو اسے ایک نیکی کے بدلہ میں دس گناہ ثواب ہے اور روزہ ڈھال ہے (گناہوں سے) جب تک کہ اس کو پھاڑ نہ دے اور اگر اللہ تعالیٰ نے اس کو اس کے جسم میں کسی تکلیف میں مبتلا کیا تو اس کے لیے (ثواب کا) حصہ ہے۔
(9) ابن ابی شیبہ، بخاری، مسلم ترمذی اور نسائی نے ابو مسعود بدری ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب آدمی اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے اور ثواب کی امید رکھتا ہے تو اس کے لیے صدقہ (کا ثواب) ہے۔
(10) بخاری ومسلم نے سعد بن وقاص ؓ سے روایت کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ تو ہرگز نہیں خرچ کرتا ایسا خرچ کرنا کہ جس سے تو اللہ کی رضا مندی چاہتا ہو مگر تو اس پر اجر دیا جائے گا یہاں تک کہ تو اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ دے گا تو اس کا بھی تجھے اجر ملے گا۔
(11) احمد نے مقدام بن معد یکرب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو تو اپنے نفس کو کھلاتا ہے تو تیرے لیے صدقہ ہے اور جو اپنی بیوی کو کھلاتا ہے وہ بھی تیرے لیے صدقہ ہے اور جو تو اپنے خادم کو کھلاتا ہے وہ بھی تیرے لیے صدقہ ہے۔
(12) الطبرانی نے ابو امامہ ؓ سے رویت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنی جان پر خرچ کرتا ہے تاکہ اس کے ذریعہ سوال سے محفوظ رہے تو یہ صدقہ ہے اور جو شخص اپنی بیوی پر اپنی اولاد پر اور اپنے گھر والوں پر خرچ کرتا تو یہ بھی صدقہ ہے۔
اہل و عیال پر خرچ کرنا بھی صدقہ ہے
(13) الطبرانی نے الاوسط میں جابر ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی اپنی جان پر اپنے اہل و عیال پر اپنی اولاد پر اپنے قریبی رشتہ داروں پر خرچ کرتا ہے تو یہ صدقہ ہے۔
(14) احمد اور ابو یعلی نے عمرو بن امیہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا کوئی آدمی اپنے اہل و عیال کو جو کچھ دیتا ہے تو یہ اس کے لیے صدقہ ہے۔
(15) احمد و طبرانی نے عرباض بن ساریہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا بلاشبہ آدمی اپنی بیوی کو پانی پلاتا ہے تو اس میں بھی (اس کے لیے) اجر ہے۔
(16) احمد طبرانی نے ام سلمہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جو شخص اپنی دو بیٹیوں یا اپنی دو بہنوں یا اپنی قرابت دار دو لڑکیوں پر خرچ کرے اور ان پر خرچ کرتے ہوئے ثواب کی امید رکھے یہاں تک کہ وہ دونوں کو غنی کر دے یا دونوں کو سوال سے روک دے تو وہ دونوں اس کے لیے آگ سے پردہ ہوں گی۔
(17) طبرانی اور بیہقی نے شعب میں عوف بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس مسلمان کی تین بیٹیاں ہوں وہ ان پر خرچ کرتا رہے یہاں تک کہ وہ اسے جدا ہوجائیں یا مرجائیں تو اس کے لیے آگ سے پردہ بن جائیں گی۔ ایک عورت نے کہا خواہ دو بیٹیاں ہوں فرمایا خواہ دو بیٹیاں ہوں وہ بھی آگ سے پردہ بن جائیں گی۔
(18) بخاری، مسلم اور ترمذی نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ میرے پاس ایک عورت آئی اس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں تھیں، وہ (کچھ) مانگ رہی تھی میرے پاس ایک کھجور کے سوا کچھ نہ تھا، میں نے وہی کھجور اس کو دے دی اس عورت نے اس کھجور کو دونوں بیٹیوں کے درمیان تقسیم کردیا، اور خود اس میں سے کچھ بھی نہ کھایا، پھر کھڑی ہوگئی اور چلی گئی، نبی اکرم ﷺ تشریف لائے تو میں نے آپ ﷺ کو یہ واقعہ سنایا آپ ﷺ نے فرمایا جس کو بیٹیاں دی گئیں پھر اس نے ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا تو اس کے لیے آگ سے پردہ ہوں گی۔
(19) مسلم نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ میرے پاس ایک مسکینہ عورت دو بچیوں کو اٹھا کرلے آئی، میں نے ان کو تین کھجوریں دیں تو اس نے ہر ایک کو ایک ایک کھجور دی اور ایک کھجور کو کھانے کے لیے اپنے منہ کی طرف اٹھایا، اس کی دونوں بیٹیوں نے اس کھجور کو بھی مانگا، اس عورت نے اس کھجور کے دو ٹکڑے کیے تاکہ ان دونوں کو کھلا دے، مجھے اس عورت کی یہ حالت دیکھ کر بڑا تعجب ہوا، جو کچھ اس نے کیا تھا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو بتایا تو آپ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے اس کے لیے جنت واجب کردی یا اس کو کھجور کے بدلے آگ سے نجات دے دی۔
(20) ابن ابی شیبہ، بخاری نے ادب میں، مسلم اور ترمذی نے انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جس آدمی نے اپنی دو بیٹیوں کی پرورش کی، یہاں تک کہ وہ بالغ ہوگئیں تو میں اور وہ جنت میں (ان دو انگلیوں کی طرح) اکٹھے داخل ہوں گے۔
بیٹیوں کی پرورش کا اجر
(21) ابن ابی شیبہ، ابن حبان نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس آدمی نے دو یا تین بیٹیوں کی پرورش کی، یا دو تین بہنوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ مرگئیں یا وہ خود ان کو چھوڑ کر مرگیا، تو میں اور وہ جنت میں ان دو انگلیوں کی طرح اکھٹے ہوں گے اور آپ نے شہادت کی انگلی اور وہ جو اس سے ملی ہوئی ہے دونوں کو (ملا کر) اشارہ فرمایا۔
(22) ابن ابی شیبہ، ابن ماجہ، ابن حبان اور حاکم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کسی مسلمان کی دو بیٹیاں ہوں اور وہ ان کی اچھی نگہبانی یا اچھا سلوک کرتا رہے وہ دونوں (بیٹیاں) اس کو جنت میں داخل کردیں گی۔
(23) البزار نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کسی مسلمان کی دو بیٹیاں ہوں اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہو، تو وہ دونوں (بیٹیاں) اس کو جنت میں داخل کردیں گی۔
(24) البزار نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے کسی ایک یتیم کی کفالت کی جو رشتہ دار نہیں تھا، تو میں اور وہ جنت میں اس طرح اکٹھے ہوں گے اور اپنی دوانگلیوں کو ملا کر اشارہ فرمایا اور جس نے اپنی تین بیٹیوں کے لیے کوشش کی (یعنی ان کی پرورش کی) تو وہ جنت میں ہوگا، اور اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے جو روزہ رکھنے اور قیام کرنے والا بھی ہو۔
(25) ابن ابی شیبہ، ابو داؤد، ترمذی ابن حبان نے ابن الحذری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص کی تین بیٹیاں ہوں یا تین بہنیں ہوں یا دو بیٹیاں ہوں یا دو بہنیں ہوں اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور دوسرے لفظ میں یوں ہے کہ ان کو ادب سکھائے اور ان کے ساتھ اچھا بر تاؤ کرے اور ان کا نکاح کرے تو اس کے لیے جنت ہے۔
(26) ابن ابی شیبہ، احمد، بخاری نے ادب میں، البزار، طبرانی نے اوسط میں بیہقی نے شعب میں جابر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کی تین لڑکیاں ہوں، ان کو اچھا ٹھکانہ دے، ان پر رحم کرے ان کی کفالت کرے ان پر خرچ کرے تو اس کے لیے یقیناً جنت واجب ہوگی، کہا گیا یا رسول اللہ ؟ اگر دو لڑکیاں ہوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اگر دو لڑکیاں ہوں (تو بھی یہی ملے گا) راوی نے کہا بعض لوگوں کا خیال ہے اگر کوئی ایک کے بارے میں پوچھتا تو آپ ایک کا بھی (یہی) حکم فرماتے۔
(27) ابن ابی شیبہ، حاکم اور بیہقی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جس کی تین بیٹیاں ہوں، پھر وہ ان کی تکالیف اور ان کی خوشیوں پر صبر کرے تو اللہ تعالیٰ پر اپنی رحمت کی وجہ سے اس کو جنت میں داخل فرما دیں گے اس آدمی نے (پھر) کہا یا رسول اللہ ﷺ اگر دو بیٹیاں ہوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا دو ہوں (تب بھی یہی خوشخبری ہے) اس آدمی نے (پھر) کہا یا رسول اللہ اگر ایک بیٹی ہو ؟ آپ نے فرمایا اور ایک ہو اس کے لیے بھی یہی خوشخبری ہے۔
(28) بخاری نے ادب میں اور بیہقی نے شعب میں عقبہ بن عامر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کسی کی تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان پر صبر کرے ان کو کھلائے، پلائے اور پہنائے اپنی پوری کوشش سے تو (قیامت کے دن) اس کے لیے آگ سے پردہ بن جائیں گی۔
Ayah 2:263(1) ابن ابی حاتم نے عمرو بن دینار (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی صدقہ زیادہ محبوب نہیں (اچھی) بات کہنے سے کیا تو نے اللہ تعالیٰ کا یہ قول نہیں سنا لفظ آیت ” قول معروف ومغفرۃ خیر من صدقۃ یتبعھا اذی “۔
(2) ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا افضل صدقہ یہ ہے کہ مسلمان آدمی علم حاصل کرے پھر وہ (دوسرے) اپنے مسلمان بھائی کو سکھائے۔
علم سیکھانا بڑا ہدیہ ہے
(3) مرہبی نے فضل العلم میں اور بیہقی نے شعب میں عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ کسی مسلمان نے اپنے بھائی کو حکمت کے کلمہ سے بڑھ کر کوئی ہدیہ نہیں دیا اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اس کو زیادہ ہدیہ دیتا ہے یا اس کو ہلاکت سے بچا دیتا ہے۔
(4) الطبرانی نے سمرہ بن جندب ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس علم سے بڑھ کر لوگ کوئی صدقہ نہیں کرسکتے جو وہ (علم پڑھ کر) پھیلاتا ہے۔
(5) الطبرانی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بہترین عطیہ وہ حق کا کلمہ ہے جس کو تو سنتا ہے پھر اس کو دوسرے مسلمان بھائی کی طرف لے جاتا ہے اس کو سکھاتا ہے۔
(6) ابن المنذر ضحاک رحمۃ اللہ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” قول معروف “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ اچھا جواب دینا ہے (جیسے) کہتا ہے یرحمک اللہ (اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم کرے لفظ آیت یرزقک اللہ (اللہ تعالیٰ تجھ کو رزق دے گا) اور سائل نہ ڈانٹے اور اس سے سخت کلامی نہ کرے۔
(7) ابن جریر نے علی کے طریقے سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا انہوں نے فرمایا غنی وہ ہے جو اپنے غنا میں کامل ہو اور حلیم وہ ہے جو اپنے حلم میں کامل ہو۔
Ayah 2:264(1) المنذر نے ضحاک (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا جو شخص (کچھ) خرچ کرتا ہے پھر اس کے ساتھ احسان جتاتا ہے یا اس شخص کو تکلیف پہنچاتا ہے جس کو اس نے مال دیا تھا تو اس کا اجر ضائع ہوگیا اللہ تعالیٰ نے اس کی مثال بیان فرمائی کہ جیسے مثال ایک پتھر کی ہے کہ جس پر مٹی ہو اور اس کو زور دار بارش پہنچ جائے تو اس پر مٹی کا ذرا بھی باقی نہی رہے گا اس طرح اللہ تعالیٰ اس شخص کے اجر کو ختم فرما دیتے ہیں جو صدقہ دے کر بھی احسان جتاتا ہے جیسا کہ بارش اس مٹی کو ختم کردیتی ہے۔
(2) ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ایمان والون سے فرمایا کہ اپنے صدقات کو احسان جتانے سے اور تکلیف پہنچانے سے ضائع نہ کرو ورنہ تمہارے صدقات باطل ہوجائیں گے جیسے ریا کاری والا صدقہ باطل ہوجاتا ہے اور اسی طرح وہ شخص جو اپنے مال کو لوگوں کے دکھاوے کے لیے خرچ کرتا ہے، ریا کاری اس کے صدقہ کو لے جاتی ہے، جیسا کہ یہ بارش اس پتھر سے مٹی کو لے جاتی ہے۔
(3) احمد نے زہد میں عبد اللہ بن ابی زکریا (رح) سے روایت کیا کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آدمی اپنے عمل میں سے کسی چیز کے ساتھ ریا کاری کرتا ہے تو اس سے پہلے والا (عمل) بھی ضائع ہوجاتا ہے۔
(4) ابن ابی شیبہ، احمد، ابن المنذر، بیہقی نے شعب میں ابی سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نہیں داخل ہوگا جنت میں احسان جتانے والا، عاق کرنے والا، ہمیشہ شراب پینے والا، جادو پر ایمان لانے والا (یعنی اس کو سچ جاننے والا ) ، اور کاہن (غیب کی خبریں بتانے والا) ہے۔
تین آدمی نظر رحمت سے محروم
(5) البزار اور حاکم نے (اس کو صحیح کہا ہے) حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تین آدمی ایسے ہیں کہ ان کی طرف اللہ تعالیٰ نظر نہیں فرمائیں گے اپنے والدین کی نافرمانی کرنے والا، ہمیشہ شراب پینے والا، اور احسان جتانے والا اور تین آدمی ایسے ہیں جو جنت میں داخل نہ ہوں گے اپنے والدین کی نافرمانی کرنے والا، دیوث اور وہ عورت جو مردوں کی شکل بنائے۔
(6) ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جنت میں احسان جتلانے والا داخل نہ ہوگا مجھ پر یہ بات بھاری ہوئی یہاں تک کہ میں نے اللہ کی کتاب میں احسان جتلانے والے کے بارے میں پایا لفظ آیت ” لا تبطلوا صدقتکم بالمن والاذی “۔
احسان جتا کر صدقہ باطل مت کرو
(7) ابن جریر اور ابن المنذر نے عمرو بن حریث ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی جہاد کرتا ہے، چوری نہیں کرتا، زنا نہیں کرتا، مال غنیمت میں خیانت نہیں کرتا، پھر بھی اس روزی کے ساتھ واپس نہیں لوٹتا جو کافی ہوجائے اس سے پوچھا گیا یہ کیوں ہوا ؟ انہوں نے فرمایا ایک آدمی اللہ کے راستہ میں نکلتا ہے جب اس کو اللہ کی طرف سے کوئی مصیبت پہنچتی ہے جس کا اس پر فیصلہ ہوتا ہے تو وہ لعنت بھیجتا ہے اپنے امام کو گالیاں دیتا ہے اور جہاد کے وقت پر لعنت کرتا ہے اور کہتا ہے میں اس کے ساتھ غزوہ میں کبھی بھی نہ لوٹوں گا۔ یہ اس پر گناہ ہے اور اس کے لیے (کوئی ثواب) نہیں ہے مثال اس نفقہ کی جو اللہ کے راستہ میں خرچ کرتا ہے پھر احسان جتاتا ہے یا تکلیف پہنچاتا ہے تو اس کی مثال اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں بیان فرمائی لفظ آیت ” یایھا الذین امنوا لا تبطلوا صدقتکم بالمن والاذی “ آیت کے ختم تک۔
(8) ابن جریر نے، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ صفوان سے مراد پتھر ہے (اور) لفظ آیت ” فتر کہ صلدا “ سے مراد ہے کہ اس کو اس طرح کردیا کہ اس پہ کچھ بھی باقی نہیں ہے۔
(9) ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” کمثل صفوان “ میں صفوان سے مراد چٹان ہے لفظ آیت ” کمثل صفوان “ یعنی اس کو اس طرح صاف کردیا کہ کوئی چیز اس پر باقی نہ رہی، اسی طرح قیامت کے دن منافق کا حال ہوگا کہ اپنے (نیک اعمال) میں سے کسی پر قادر نہ ہوگا جو کچھ اس نے دنیا میں کمایا تھا۔
(10) عبد بن حمید، ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وابل “ سے مراد بارش ہے۔
(11) عبد بن حمید اور ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وابل “ سے مراد شدید بارش ہے اور یہ وہ مثال ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کفار کے اعمال کے لیے بیان فرمائی۔ اور فرمایا لفظ آیت ” لا یقدرون علی شیء مما کسبوا “ یعنی یہ کفار اعمال سے صاف ہوں گے جیسے اس بارش نے اس پتھر کو بالکل صاف کردیا جیسے وہ (پہلے) تھا۔
(12) ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فتر کہ صلدا “ سے مراد ہے بارش نے اس کو خشک بنا دیا جس پر کچھ بھی نہیں اگتا۔
(13) الطستی نے اپنے مسائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے نافع بن ازرق (رح) نے ان سے صفوان کے بارے میں پوچھا کہ اس کا کیا مطلب ہے ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اس سے مراد صاف چکنا پتھر ہے۔ عرض کیا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں فرمایا ہاں ! کیا تو نے اوس بن حجر کا مقولہ نہیں سنا :
علی ظھر صفوان کأن متونہ عللن بدھن یزلق المتنزلا
ترجمہ : زمین پر میں سردار ہوں اور سردار کا بیٹا ہوں جس کے آباء کے لیے پتھر کی طرح مضبوطی کی بزرگی ہے۔
پھر انہوں نے عرض کیا مجھے لفظ آیت ” صلدا “ کے بارے میں بتائیے ؟ فرمایا اس سے مراد بھی چکنا پتھر ہے۔ عرض کیا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں ! کیا تو نے ابو طالب کا مقولہ نہیں سنا :
وانی لقوم وابن قوم لھا شم لا باء صدق مجدہم معقل صلد
ترجمہ : اور بلاشہ میں قبیلہ کا سردار ہوں اور ہاشمی قبیلہ کا بیٹا ہوں ان کے آباؤ اجداد سچے تھے (اور) ان کی بزرگی بلند پہاڑ کے پتھر کی طرح بلند تھی۔
Ayah 2:265(1) ابن ابی حاتم نے، ربیعہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا یہ مثال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ مومن کے عمل کی مثال بیان فرمائی۔
(2) مقاتل بن حیان (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ابتغاء مرضات “ سے مراد ہے ثواب کی امید رکھتے ہوئے (عمل کرے) ۔
(3) حسن ؓ سے روایت کیا کہ وہ نہیں ارادہ کرتے شہرت کا اور نہ دکھاوے گا۔
(4) عبد بن حمید اور ابن جریر نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ ” وتثبیتا من انفسہم “ سے مراد ہے تصدیق کرتے ہوئے اور یقین کرتے ہوئے۔
(5) ابن جریر نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وتثبیتا من انفسہم “ سے مراد ہے اپنے پاس سے یقین کرتے ہوئے۔
(6) عبد بن حمید، اور ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” تثبیتا “ سے مراد ہے کہ وہ یقین رکھتے ہیں جہاں اپنے مالوں سے خرچ کرتے ہیں۔
(7) عبد بن حمید اور ابن جریر اور ابن المنذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ جب کوئی آدمی صدقہ کا ارادہ کرتا تھا اگر وہ اللہ کی رضا کے لیے ہو تو اسے قائم رکھتا ہے اور اگر اس میں کوئی چیز ریا کاری (وغیرہ) میں سے ملی ہو تو (صدقہ کو) روک لیتا ہے۔
(8) ابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وتثبیتا من انفسہم “ سے نیت مراد ہے۔
(9) حاکم نے (اور اس نے اس کو صحیح کہا) حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا لفظ آیت ” بربوۃ “ را کے کسرہ کے ساتھ اور ربوہ سے مراد ہے زمین میں سے بلند حصہ۔
(10) ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ربوہ سے بلند ہموار زمین مراد ہے۔
(11) ابن جریر، ابن المنذر حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” جنۃ بربوۃ “ سے مراد وہ بلند جگہ ہے جس میں نہریں نہ چلتی ہوں۔
(12) ابن ابی حاتم نے مقاتل (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” اصابھا وابل “ سے مراد ہے کہ باغ کو بارش پہنچ گئی۔
(13) عطا خراسانی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وابل “ سے مراد ہے بہت تیز بارش۔
(14) عبد بن حمید ابن منذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فاتت اکلھا ضعفین “ سے مراد ہے کہ اس کے پھل میں دوگنا ہوتا ہے۔
(15) ابن جریر نے سعدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فاتت اکلھا ضعفین “ سے مراد ہے کہ جس طرح اس باغ کا پھل دوگنا ہوتا ہے اسی طرح اس خرچ کرنے والے کے لیے (اجر بھی) دوگنا ہوتا ہے۔
(16) ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فطل “ سے مراد شبنم ہے۔
(17) عبد بن حمید، ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فطل “ سے مراد پھوار ہے۔
(18) عبد بن حمید، ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” الطل “ سے مراد ہے بارش میں سے بوندا باندی، یعنی اس میں سے نرم بارش۔
(19) عبد بن حمید، ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” الطل “ سے مراد ہے بارش میں سے بوندا باندی یعنی بارش کے چھوٹے قطرے۔
(20) عبد بن حمید، ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ یہ وہ مثال ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کو مومن کے عمل کے لیے بیان فرمایا، فرماتے ہیں کہ مومن کبھی ثواب سے محروم نہیں ہوتا جیسے یہ باغ پھل دیتا ہے جس حال پر بھی ہو، اگر اس کو تیز بارش پہنچے اور اگر اس کو شبنم ہر حال میں پھل دیتا ہے۔
(21) عبد بن حمید، ابن ابی حاتم نے زید بن اسلم ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فان لم یصبھا وابل فطل “ سے مراد وہ مصر کی زمین ہے اگر اس کو شبنم پہنچے تو بڑھتا ہے اگر اس کو زور دار بارش پہنچے تو پھر دوگنا پھل دیتا ہے۔
Ayah 2:266(1) ابن المبارک نے زہد میں، عبد بن حمید، بخاری، ابن جریر، ابن ابی حاتم اور حاکم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ حضرت عمر ؓ نے ایک دن نبی اکرم ﷺ کے اصحاب سے پوچھا یہ آیت لفظ آیت ” ایود احدکم ان تکون لہ جنۃ “ کس کے بارے میں نازل ہوئی ؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا اللہ تعالیٰ ہی جاننے والے ہیں، (یہ جواب سن کر) حضرت عمر ؓ غضبناک ہوگئے اور فرمایا تم یوں کہو ہم جانتے ہیں یا نہیں جانتے ؟ ابن عباس ؓ نے فرمایا اے امیر المؤمنین ! میرے دل میں ایک خیال ہے حضرت عمر ؓ نے فرمایا یہ عمل کے لیے مثال بیان کرو اور اپنے آپ کو حقیر نہ سمجھو۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا (بس) عمل کے لیے حضرت عمر ؓ نے فرمایا اس غنی آدمی کے لیے (یہ مثال بیان فرمائی) جو اللہ کی اطاعت کے ساتھ عمل کرتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اس کے لیے شیطان بھیج دیتے ہیں تو وہ گناہ والے اعمال کرنے لگتا ہے یہاں تک کہ اپنے اعمال غرق کردیتا ہے۔
(2) عبد بن حمید اور ابن المنذر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا میں نے یہ آیت رات کو پڑھی جس نے مجھے جگائے رکھا لفظ آیت ” ایود احدکم ان تکون لہ جنۃ من نخیل واعناب “ انہوں نے ساری آیت پڑھی اور فرمایا اس سے کیا مراد ہے بعض صحابہ ؓ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ہی زیادہ جاننے والے ہیں حضرت عمر ؓ نے فرمایا میں جانتا ہوں کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہی زیادہ جاننے والے ہیں لیکن میں نے یہ سوال کیا اگر تم میں سے کسی کے پاس اس کا علم اور اس کے بارے میں کچھ سنا ہو تو وہ بتادے جو کچھ اس نے سنا سب صحابہ ؓ خاموش رہے حضرت عمر ؓ نے مجھے دیکھا اور چپکے چپکے کر رہا تھا آپ نے فرمایا اے میرے بھتیجے ! بیان کر اور اپنے آپ کو حقیر نہ سمجھ میں نے کہا اس سے مراد عمل ہے انہوں نے فرمایا اس سے مراد (کون سا) عمل ہے ؟ میں نے کہا جو چیز میری عقل میں ڈالی گئی میں نے اس کو کہہ دیا انہوں مجھے چھوڑ دیا اور اس کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا اے بھتیجے ! تو نے سچ کہا میری مراد بھی اس عمل سے ہے آدم کا بیٹا اس عمل کا محتاج ہے جو اس کو اس کی جنت کی طرف لے جائے جب اس کی عمر بڑی ہوجاتی ہے اور اس کے اہل و عیال کثیر ہوجاتے ہیں اور آدم کا بیٹا قیامت کے دن زیادہ محتاج ہوگا اپنے (نیک عمل کی طرف) اے بھتیجے ! تو نے سچ کہا۔
صدقہ باطل ہونے کی اچھی مثال ہے
(3) ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے اللہ تعالیٰ نے اچھی مثال بیان فرمائی ہے اور اللہ تعالیٰ کی ساری مثالیں اچھی ہیں فرمایا لفظ آیت ” ایود احدکم ان تکون لہ جنۃ من نخیل واعناب تجری من تحتھا الانھر لہ فیھا من کل الثمرات “ یعنی اس باغ کو اس نے جوانی میں تیار کیا اب اس کو پڑھاپا پہنچ گیا اور اس کی اولاد اس کی آخری عمر میں ضعیف (یعنی چھوٹی) ہے (کام کرنے کے قابل نہیں) اس (باغ) کو (اچانک) ایک بگولا پہنچا اس میں آگ تھی جس نے اس کو جلا ڈالا اب اس کے پاس طاقت نہیں کہ اس جیسا اور باغ لگائے نہ اس کی نسل میں ایسے افراد ہوں جن پر اس نے احسان کیا ہو کہ اس کے ساتھ مل کر اس کی نگرانی کریں اسی طرح کافر ہے جب قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی طرف پیش کیا جائے گا تو اس کے لیے کوئی نیک عمل نہ ہوگا کہ جس کی بنا پر اس کو توبہ کا موقع دیا جائے جیسا کہ اس (باغ والے) کے لیے (اب) کوئی طاقت نہیں کہ اس جیسا باغ (دوبارہ) لگا سکے فائدہ نہیں ہوا اور اس کی محنت ضائع ہوگی اس کے بڑھاپے کی محتاجی کے وقت جب کہ اس کی اولاد بھی ضعیف ہے۔
(4) ابن جریر نے سدی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ یہ دوسری مثال ریا کاری کے طور پر خرچ کرنے والے کے لیے ہے، وہ اپنے مال کو لوگوں کے دکھاوے کے لیے خرچ کرتا ہے، اس سے اس کا مال ضائع ہوجاتا ہے اور میں اللہ تعالیٰ اس کو اجر نہیں دیں گے، جب قیامت کا دن ہوگا وہ اپنے نفقہ (یعنی خرچ کیے ہوئے مال کے ثواب) کا محتاج ہوگا تو اس کو اس حال میں پائے گا کہ ریا کاری نے اس کو جلا ڈالا، اس کا خرچ کیا ہوا ضائع ہوگیا جیسا کہ اس آدمی کا اپنے باغ پر خرچ کیا ہوا ضائع ہوگیا، یہاں تک کہ جب وہ بڑھاپے کو پہنچ گیا اور اس کی اولاد بہت ہوگئی اور وہ اپنے باغ کا محتاج ہوا تو ایک ہوا آئی جس میں گرمی تھی اس نے اس کے باغ کو جلا ڈالا تو اس میں کچھ بھی اس نے (باقی) نہ پایا۔
(5) عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ یہ مثال اللہ کی اطاعت میں کوتاہی کرنے والے کی ہے یہاں تک کہ اس کو موت آگئی، اس کی مثال اس کی موت کے بعد ایسی ہے جیسے یہ مثال جب کہ اس کا باغ جل گیا اور وہ بوڑھا ہوچکا اس حال میں اب اس کی کوئی کفالت کرنے والا نہیں اور اس کی اولاد (ابھی) چھوٹی ہے، جو بھی اس کی کفالت کرنے والی نہیں ہے۔ اسی طرح (اللہ کی اطاعت میں) کوتاہی کرنے والا موت کے بعد ہر بات پر حسرت اور افسوس کا اظہار کرے گا۔
(6) ابن جریر نے ابن ابی ملیکہ ؓ سے روایت کیا کہ حضرت عمر ؓ نے یہ آیت تلاوت کرتے ہوئے فرمایا یہ مثال ہے اس انسان کے لیے جو نیک عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ جب اس کی آخری عمر ہوتی ہے تو نیک عمل کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے وہ اس وقت برے اعمال میں مشغول ہوجاتا ہے۔
(7) ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا یہ مثال بیان فرمائی انسان کے عمل کے لیے جو نیک عمل شروع کرتا ہے تو یہ اس کے لیے مثال جنت کی ہوتا ہے پھر اپنی آخری عمر میں بےکام کرتا ہے، اور وہ برائی میں لگ جاتا ہے یہاں تک کہ اسی پر اس کو موت آجاتی ہے (جیسے) وہ بگولہ جس میں آگ ہوتی ہے وہ اس کے باغ کو جلا دیتی ہے یہ مثال ان برے اعمال کی ہے جس پر اس کی موت آئی، اور وہ اسی برائی پر قائم ہوتا ہے۔
(8) عبد بن حمید نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی کتاب میں سے ایک آیت ایسی ہے کہ میں نے کسی کو نہیں پایا جو مجھے اس کے بارے میں بتاسکے، اور وہ یہ ہے لفظ آیت ” ایود احدکم ان تکون لہ جنۃ من نخیل واعناب “ یہاں تک کہ آیت (کے پڑھنے) سے فارغ ہوگئے ابن عباس ؓ نے فرمایا اے امیری المومنین ! بلاشبہ میں نے اپنے دل میں اس کے بارے میں کچھ پایا ہے حضرت عمر ؓ نے ان سے فرمایا اپنے آپ کو حقیر کیوں سمجھتے ہو ؟ تو انہوں نے فرمایا اے امیر المؤمنین یہ مثال بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا کوئی تم میں سے اس بات کو پسند کرتا ہے کہ وہ اپنی عمر میں اہل خیر اور اہل سعادت والے کرے، یہاں تک کہ جب اس کی عمر بڑی ہوجائے اور اس کی موت قریب ہوجائے اور اس کی ہڈیاں کمزور ہوجائیں اور اس کو نیک اعمال پر خاتمہ کی زیادہ ضرورت ہو پھر اس وقت یہ بدبخت لوگوں والے اعمال کرنے لگ جائے پس وہ اپنے اعمال کو خراب کر دے اور اس کی بداعمالیاں اس کے نیک اعمال کو جلا ڈالیں اس تفسیر نے حضرت عمر ؓ کے دل پر اثر کیا اور اس کو بہت پسند کیا۔
(9) طبرانی نے اوسط میں اور حاکم نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا فرمایا کرتے تھے :
اللہم اجعل اوسع رزقک علی عند کبر سنی و انقطاع عمری
ترجمہ : یعنی اے اللہ ! مجھ پر اپنے رزق کو وسیع کر دے میرے بڑھاپے کی عمر کے وقت اور میری عمر کے ختم ہونے کے وقت۔
(10) الفریابی، عبد بن حمید، ابو یعلیٰ ، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم اور حاکم نے (اس کو صحیح کہا) حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا لفظ آیت ” اعصار فیہ نار “ سے مراد ہے ایسی ہوا جو سموم (یعنی زہریلی) اور سخت ہو۔
(11) الطستی نے اپنے مسائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے نافع بن ازرق (رح) نے لفظ آیت ” اعصار “ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا اس سے سخت ہوا مراد ہے۔ انہوں نے عرض کیا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے شاعر کا یہ شعر نہیں سنا : لفظ آیت
فلہ فی آثارہن خوار وخفیف کانہ اعصار
ترجمہ : اس کے لیے ان کے پیچھے ایک آواز اور سر سراہٹ ہے گویا کہ وہ تیز آندھی ہے۔
(12) عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” کذلک یبین اللہ لکم الایت لعلکم تتفکرون “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ مثال بیان فرمائی اور اللہ تعالیٰ کی مثال کو سمجھو، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، لفظ آیت ” وتلک الامثال نضربھا للناس وما یعقلھا الا العلمون “ (العنکبوت آیت 43)