Ayahs 2:159–160(1) ابن اسحاق، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ معاذ بن جبل ؓ نے پوچھا جو نبو سلمہ کے بھائی ہیں اور سعد بن معاذ ؓ نے جو بنو اشہل کے بھائ ہیں اور خارجہ بن زید ؓ نے جو حرث بن خزرج کے بھائی ہیں۔ انہوں نے یہود کے بڑے علماء کی ایک جماعت سے بعض وہ مسائل پوچھے جو تورات میں تھے انہوں نے ان مسائل کو چھپا دیا اور ان کے بتانے سے انکار کردیا ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اتارا لفظ آیت ” ان الذین یکتمون ما انزلنا من البینت والھدی “۔
(2) عبد بن حمید، ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ان الذین یکتمون ما انزلنا من البینت والھدی “ سے مراد اہل کتاب ہیں۔
(3) ابن سعد، عبد بن حمید، ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ان الذین یکتمون ما انزلنا من البینت والھدی “ سے مراد اہل کتاب ہیں جنہوں نے اسلام کو چھپایا حالانکہ وہ اللہ کا دین ہے اور محمد ﷺ کو چھپایا حالانکہ وہ لفظ آیت ” یجدونہ مکتوبا عندھم فی التوراۃ والانجیل “ (اس کو اپنے پاس لکھا ہوا پاتے ہیں تورات میں اور انجیل میں) لفظ آیت ” یلعنھم اللہ ویلعنھم “ (اور لعنت کرتے ہیں ان پر لعنت کرنے والے) یعنی اللہ تعالیٰ کے فرشتوں اور ایمان لانے والوں میں سے (ان پر لعنت کرتے ہیں) ۔
(4) ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ وہ اہل کتاب تھے جنہوں نے محمد ﷺ اور آپ کی صفات کو چھپایا حالانکہ وہ اپنے پاس کو لکھا ہوا پاتے تھے (محض) حسد اور سرکشی کرتے ہوئے۔
(5) ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ وہ فرماتے ہیں کہ یہود میں سے ایک شخص تھا جبکہ انصار میں سے اس کا ایک دوست تھا جس کو ثعلبہ بن غنمہ کہا جاتا تھا۔ اس نے اپنے دوست سے پوچھا کہ تم محمد ﷺ کو اپنے پاس (یعنی اپنی کتابوں میں لکھا ہوا) پاتے ہو ؟ اس نے (جھوٹ بولتے ہوئے) کہا نہیں۔
(6) عبد بن حمید نے عطا (رح) سے اس آیت لفظ آیت ” اولئک یلعنھم اللہ ویلعنھم اللعنون “ کے بارے میں روایت کیا کہ ” اللعنون “ سے مراد جن انسان اور ہر جانور ہے۔
(7) سعید بن منصور، ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ویلعنھم اللعنون “ سے مراد ہے کہ جب جانوروں کو خشک سالی پہنچ جائے (یعنی چارہ وغیرہ بارش نہ ہونے سے کم ہوجائے) تو وہ بنی آدم کے گنہگاروں پر بددعا کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کے گناہوں کی وجہ سے ہم سے بارش روک لی گئی۔
(8) عبد الرزاق اور عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ویلعنھم اللعنون “ سے مراد ہے کہ جانوروں پر جب قحط سالی سخت ہوجائے تو کہتے ہیں کہ بنی آدم کے نافرمان لوگوں کی وجہ سے ہے بنی آدم کے ان نافرمان لوگوں پر اللہ تعالیٰ لعنت کرے
(9) عبد بن حمید، ابن جریر، ابو نعیم نے الحلیہ میں اور بیہقی نے شعب الایمان میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ویلعنھم اللعنون “ سے مراد ہے کہ زمین کے جانور بچھو اور گبریلا (سیاہ بھنورا) کہتے ہیں کہ ان (بنی آدم) کے گناہوں کی وجہ سے ہم سے بارش روک دی گئی (پھر) ان پر لعنت کرتے ہیں۔
(10) عبد بن حمید، ابن جریر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ویلعنھم اللعنون “ سے مراد ہے کہ ہر چیز ان پر لعنت کرتی ہے حتی کہ کیڑے اور بچھو بھی کہتے ہیں کہ بنی آدم کے گناہوں کی وجہ سے ہم سے بارش روک لی گئی۔
(11) عبد بن حمید نے ابو جعفر (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ویلعنھم اللعنون “ سے مراد ہے کہ ہر چیز ان پر لعنت کرتی ہے یہاں تک کہ کیڑے بھی۔
کافر پر موت کے بعد لعنت
(12) ابن ماجہ، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے براء بن عازب ؓ سے روایت کیا کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک جنازہ پر تھے آپ نے فرمایا کہ کافر کو اس کی آنکھوں کے درمیان دو ضربیں لگائی جاتی ہیں سوائے انسانوں اور جنوں کے ہر جانور اس کی آواز کو سنتا ہے اس کی آواز کو سن کر جانور اس پر لعنت کرتا ہے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” ویلعنھم اللعنون “ یعنی زمین کے جانور بھی ان پر لعنت کرتے ہیں۔
(13) ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ویلعنھم اللعنون “ کے بارے حضرت براء بن حازب ؓ نے فرمایا کہ جب کافر جب اپنی قبر میں رکھا جاتا ہے اس کے پاس ایک جانور آتا ہے گویا اس کی آنکھیں تانبے کی ہانڈیاں ہیں اس کے پاس لوہے کے دو گرز ہوتے ہیں وہ اس کو اس کے کندھوں کے درمیان مارتا ہے جس سے وہ چیختا ہے کہ جو کوئی اس کی آواز کو سنتا ہے اس پر لعنت بھیجتا ہے اور انسانوں اور جنوں کے علاوہ ہر چیز اس کی آواز کو سنتی ہے۔
(14) ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ویلعنھم اللعنون “ سے مراد ہے کہ کافر جب اپنے گڑھے میں رکھا جاتا تو اس کو ہتھوڑے سے مارا جاتا ہے وہ چیختا ہے انسان اور جن کے علاوہ ہر چیز اس کی آواز کو سنتی ہے اور جو چیز اس کی چیخ کو سنتی ہے تو اس پر لعنت کرتی ہے۔
(15) بیہقی نے شعب الایمان میں عبد الوہاب بن عطا (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ان الذین یکتمون “ کے بارے میں، میں نے کلبی (رح) کو فرماتے ہوئے سنا کہ اس سے مراد یہود ہیں پھر فرمایا کہ جو آدمی کسی چیز کو لعنت کرتا ہے اور وہ اس کا اہل نہیں ہوتا تو یہودی پر لعنت لوٹ آئی ہے۔ لفظ آیت ” ویلعنھم اللعنون “ سے یہی مراد ہے۔
(16) امام بیہقی نے شعب الایمان میں محمد بن مروان کے طریق سے روایت کیا ہے کہ مجھے کلبی نے ابو صالح سے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ایک شخص جو اپنے ساتھی کو کسی مسئلہ میں لعنت کرتا ہے تو وہ لعنت جلدی سے آسمان کی طرف اٹھ جاتی ہے اگر وہ لعنت اس آدمی کو اس کا اہل نہیں پاتی جس کے لئے لعنت کی گئی ہو تو وہ لعنت کہنے والے کے پاس لوٹ آتی ہے اور اس کو بھی اس کا اہل نہیں پاتی تو پھر وہ لعنت یہود کی طرف چلی جاتی ہے اسی کو فرمایا لفظ آیت ” ویلعنھم اللعنون “ پھر ان میں سے جو آدمی توبہ کرلیتا ہے تو اس سے لعنت اٹھالی جاتی ہے۔ اور جو باقی ہوتے ہیں اس پر قائم رہتی ہے۔ انہی کے بارے میں فرمایا لفظ آیت ” الا الذین تابوا “ (الآیہ)
(17) عبد بن حمید، ترمذی، ابن ماجہ اور حاکم نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس سے کوئی علمی بات پوچھی گئی جو اس کے پاس تھی پھر اس نے اس کو چھپالیا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو آگ کی لگام دے گا۔
علم دین چھپانے پر وعید
(18) ابن ماجہ نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جس سے علم کی بات پوچھی گئی پھر اس کو اس نے چھپا دیا تو قیامت کے دن اس کو آگ کی لگام پہنائی جائے گی۔
(19) ابن ماجہ اور المرھبی نے فضل العلم میں ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے اس علم کو چھپایا جس سے اللہ تعالیٰ لوگوں کو نفع پہنچاتے ہیں دین کے معاملہ میں تو اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن آگ کی لگام پہنائیں گے۔
(20) ابن ماجہ نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب اس امت کے آخری لوگ اپنے پہلے والے لوگوں پر لعنت کریں گے پس جس نے حدیث کو چھپایا تو تحقیق اس نے اس بات کو چھپایا جس کو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا۔
(21) امام طبرانی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس بندہ کو اللہ تعالیٰ نے علم عطا فرمایا پھر اس نے اس کو چھپایا تو اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اس نے آگ کی لگام پہنی ہوئی ہوگی۔
(22) ابو یعلی اور طبرانی نے صحیح سند کے ساتھ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس سے کوئی علم کی بات پوچھی گئی اور اس نے چھپالی تو وہ قیامت کے دن آگ کی لگام پہنے ہوئے آئے گا۔
طبرانی نے ابن عمر اور ابن عمر ؓ سے اس طرح روایت کیا۔
(23) طبرانی نے الاوسط میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ شخص جو علم حاصل کرتا ہے پھر اس کو بیان نہیں کرتا اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو خزانہ جمع کرتا ہے اور اس میں سے خرچ نہیں کرتا ہے۔
(24) ابن ابی شیبہ اور احمد نے الزہد میں سلمان ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا وہ علم جو بیان نہ کیا جائے وہ اس خزانے کی طرح ہے جس میں سے خرچ نہ کیا جائے۔
(25) ابن سعد، عبد بن حمید، بخاری، ابن ماجہ، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم اور حاکم نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ اگر یہ آیت لفظ آیت ” ان الذین یکتمون ما انزلنا من البینت والھدی “ سے لے کر لفظ آیت ” اللاعنون “ تک قرآن میں نہ ہوتی تو میں کسی کے سامنے کچھ بیان نہ کرتا پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی۔
(26) ابو داؤد نے اپنی ناسخ میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ان الذین یکتمون ما انزلنا من البینت والھدی “ الی قولہ ” اللاعنون “ تک پھر اس آیت کے حکم سے لفظ آیت ” الا الذین تابوا واصلحوا وبینوا “ مستثنی ہے۔
(27) عبد بن حمید نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” الا الذین تابوا واصلحوا وبینوا “ سے مراد ہے کہ یہ کفارہ ہے اس کے لئے۔
(28) عبد بن حمید اور ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” الا الذین تابوا واصلحوا “ سے مراد ہے کہ وہ جو ان کے پاس اللہ تعالیٰ سے آیا اس کو بیان کیا اور انہوں نے اس کو نہ چھپایا اور نہ اس کا انکار کیا۔
(29) ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” اتوب علیہم “ کا مطلب یہ ہے کہ میں ان سے تجاوز کروں گا۔
واما قولہ تعالیٰ : ” وانا التواب “
(30) سعید بن منصور، ابن ابی حاتم، ابو نعیم نے الحلیہ میں ابو زرعہ بن جریر ؓ سے روایت کیا کہ سب سے پہلے جو چیز لکھی گئی تھی وہ یہ تھی لفظ آیت ” انا التواب اتوب علی من تاب “ میں بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا ہوں اور میں اس کی توبہ قبول کروں گا جو توبہ کرے گا۔
Ayahs 2:161–162(1) ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ؤبو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ کافر کو روکا جائے گا قیامت کے دن پھر اللہ تعالیٰ اس پر لعنت فرمائیں گے پھر فرشتے اس پر لعنت کریں گے پھر سب لوگ اس پر لعنت کریں گے۔
(2) عبد بن حمید، ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” اولئک علیہم لعنۃ اللہ والملئکۃ والناس اجمعین “ میں الناس سے مراد سارے ایمان والے (لعنت کریں گے) ۔
(3) ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ وہ مؤمن آپس میں لعنت کرتے ہیں اور دو کافر لعنت کریں گے دو مؤمن آپس میں لعنت کرتے ہیں اور دو کافر لعنت کرتے ہیں پس ایک ان دونوں میں سے کہتا ہے اللہ ظالم پر لعنت کرے مگر یہ کہ وہ لعنت لوٹ آتی ہے کافر پر کیونکہ وہ ظالم ہے اس لئے مخلوق میں ہر ایک اس پر لعنت کرتا ہے۔
(4) عبد بن حمید نے جریر بن حازم (رح) سے روایت کیا کہ میں حضرت حسن ؓ کو یوں پڑھتے ہوئے سنا لفظ آیت ” اولئک علیہم لعنۃ اللہ والملئکۃ والناس اجمعین “۔
(5) ابن جریر نے أبو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” خلدین فیہا “ سے مراد ہے کہ وہ جہنم میں اور لعنت میں ہمیشہ رہیں گے۔ اور لفظ آیت ” ولاہم ینظرون “ سے مراد ہے کہ انہیں مہلت نہیں دی جائے کہ وہ عذر پیش کرسکیں۔
(6) ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولاہم ینظرون “ سے مراد ہے لفظ آیت ” لا یؤخرون “ یعنی ان کو مؤخر نہیں کیا جائے گا۔
Ayah 2:163(1) ابن ابی شیبہ، احمد، دارمی، ابو داؤد، ترمذی، (ترمذی نے صحیح کہا ہے) ابن ماجہ، ابو مسلم الکجی نے السنن میں، ابن الضریس، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے شعب الایمان میں اسماء بنت یزید بن السکن ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ان دو آیتوں میں ہے لفظ آیت ” والہکم الہ واحد، لا الہ الا ھو الرحمن الرحیم “ اور ” الم اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم “۔
(2) دیلمی نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا سرکش جنات پر ان (دو ) آیات سے سخت کوئی چیز نہیں جو سورة بقرہ میں ہیں لفظ آیت ” الہکم الہ واحد “ (دو آیتیں)
(3) ابن عساکر نے ابراہیم بن وثمہ (رح) سے روایت کیا کہ وہ آیات جن کے ذریعہ جنوں کو دور کیا جاتا ہے اور جو شخص روزانہ ان کو پڑھے تو اس سے جنون کا مرض دور ہوجائے گا (وہ آیات یہ ہیں) لفظ آیت ” والہکم الہ واحد “ (الآیہ) آیۃ الکرسی، سورة بقرہ کی آخری آیات لفظ آیت ” وان ربکم اللہ “ سے لے کر ” المحسنین “ تک اور سورة حشر کی آخری آیات ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ یہ آیات عرش کے کناروں پر لکھی ہوئی ہیں اور یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ اپنے بچوں کے لیے یہ آیات لکھ دیا کرو ان کو گھبراہٹ اور جنون کی وجہ سے۔
Ayah 2:164آسمان و زمین کی تخلیق میں نشانی قدرت
(1) ابن ابی حاتم و ابن مردویہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قریش نے نبی اکرم ﷺ سے کہا کہ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا فرما دیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے لئے صفا (پہاڑ) کو سونے کا بنا دے تاکہ ہم اس کے ذریعہ اپنے دشمنوں سے قوت حاصل کریں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی بھیجی میں ان کو یہ چیز عطا کروں اور ان کے لئے صفا کو سونے کا بنا دوں گا۔ اور اگر اس کے بعد انہوں نے کفر کیا تو ایسا عذاب دوں گا کہ جہان والوں میں سے کسی کو ایسا عذاب نہیں دوں گا۔ آپ نے اللہ تعالیٰ سے فرمایا اے میرے رب ! مجھ کو اور میری قوم کو ان کے حال پر چھوڑ دیجئے میں ان کو ہر روز بلاتا رہوں گا (پھر) اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نال زفرمائی لفظ آیت ” ان فی خلق السموت والارض واختلاف الیل والنھار والفلک التی تجری فی البحر “ اور وہ کس طرح آپ سے صفا کے بارے میں سوال کرتے ہیں حالانکہ وہ صفا سے بھی زیادہ بڑی بڑی نشانیوں کو دیکھ چکے ہیں۔
(2) عبد بن حمید وابن جریر، سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ قریش نے یہود سے سوال کیا کہ ہم کو بتاؤ جو موسیٰ (علیہ السلام) تمہارے پاس نشانیاں لے کر آئے تھے ؟ انہوں نے ان کو بتایا کہ وہ مادر زاد اندھے کو بینا کردیتے تھے اور برص کی بیامری والے کو ٹھیک کردیتے تھے۔ اور مردوں کو زندہ کردیتے تھے اللہ کے حکم سے۔ قریش نے نبی اکرم ﷺ سے عرض کیا کہ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا فرما دیں کہ ہمارے لئے صفا کو سونے کا بنا دے تاکہ ہم اس سے یقین حاصل کریں اور ہم اس کے ذریعہ اپنے دشمنوں میں قوت بھی حاصل کریں نبی اکرم ﷺ نے اپنے رب سے سوال فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ میں تم کو یہ چیز عطا کروں گا۔ لیکن اگر اس کے بعد انہوں نے جھٹلایا تو ایسا عذاب ان کو دوں گا کہ جہان والوں میں سے کسی کو ایسا نہ دوں گا۔ آپ نے عرض کیا چھوڑ دیجئے مجھے بھی اور میری قوم کو بھی میں ان کو ہر روز دعوت دیتا رہوں گا (پھر) اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں لفظ آیت ” ان فی خلق السموات والارض “ (الآیہ) یعنی آسمان اور زمین کو پیدا فرمایا اور رات اور دن کے آنے جانے میں بڑی نشانیاں ہے اس سے کہ میں صفا کو سونے کا بنا دوں۔
نشانی سے عبرت کے لئے عقل کی ضرورت ہے
(3) امام وکیع، الفریابی، آدم بن ایاس، سعید بن منصور، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ نے العظمہ میں اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابو الضحی (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ آیت لفظ آیت ” الہکم الہ واحد “ نازل ہوئی تو مشرکین نے تعجب کیا اور کہنے لگے کہ محمد ﷺ کہتے ہیں لفظ آیت ” الہکم الہ واحد “ تو ہمارے پاس کوئی دلیل لے آئے اگر وہ ہے سچ بولنے والوں میں سے تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” ان فی خلق السموات والارض “ (الآیہ) وہ فرماتے ہیں کہ ان آیات میں بھی (نشانیاں ہیں) لفظ آیت ” لایت لقوم یعقلون “ (اس قوم کے لئے جو عقل رکھتی ہے) ۔
(4) ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ پر مدینہ منورہ میں (یہ آیت) نازل ہوئی لفظ آیت ” والہکم الہ واحد، لا الہ الا ھو الرحمن الرحیم “ تو (اس پر) مکہ کے قریش نے کہا ایک معبود لوگوں کے لئے کیسے کافی ہوگا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائیں۔ لفظ آیت ” ان فی خلق السموت والارض “ (الآیہ) وہ فرماتے ہیں کہ ان آیات میں بھی (نشانیاں ہیں) لفظ آیت ” لایت لقوم یعقلون “ (اس قوم کے لئے جو عقل رکھتی ہے) ۔
(4) ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ پر مدینہ منورہ میں (یہ آیت) نازل ہوئی لفظ آیت ” والھکم الہ واحد، لا الہ الا ھو الرحمن الرحیم “ تو (اس پر) مکہ کے قریش نے کہا ایک معبود لوگوں کے لئے کیسے کافی ہوگا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائیں۔ لفظ آیت ” ان فی خلق السموت والارض “ سے ” لقوم یعقلون “ تک اس سے انہوں نے جان لیا بیشک وہ ایک ہی خدا ہے اور وہ ہر چیز کا خدا ہے اور ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے۔
وأما قولہ : واختلاف اللیل والنھار۔
(5) ابو الشیخ نے العظمہ میں سلیمان ؓ سے روایت کیا کہ رات پر ایک فرشتہ مقر رہے جس کو شراہیل کہا جاتا ہے جب رات کا وقت قریب آتا ہے تو وہ فرشتہ ایک سیاہ موتی لے کر اس کو مغرب کی جانب لٹکا دیتا ہے جب سورج اس کی طرف دیکھتا ہے تو پہلک جھپکنے سے بھی زیادہ جلدی غائب ہوجاتا ہے اور سورج کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ غائب نہ ہو یہاں تک کہ موتی کو نہ دیکھے جب سورج غروب ہوجاتا ہے تو رات آجاتی ہے۔ وہ موتی برابر لٹکا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ دوسرے فرشتہ سفید موتی لے کر آتا ہے جس کو برابیل کہتے ہیں وہ طلوع ہونے کی جانب اس کو لٹکا دیتا ہے جب شراہیل مطلع کو دیکھتا ہے تو اس کی طرف وہ موتی لٹکا دیتا ہے اور سورج جب اس سفید موتی کو دیکھتا ہے تو طلوع ہوجاتا ہے اور اس کو یہ حکم کیا گیا ہے کہ طلوع نہ ہو جب تک کہ اس موتی کو نہ دیکھے جب سورج طلوع ہوتا ہے تو دن ہوجاتا ہے
وأما قولہ : والفلک التی تجری فی البحر :
(6) ابن ابی حاتم نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ ” فلک “ سے مراد کشتی ہے۔
وأما قولہ : وبث فیہا من کل دابۃ :
(7) ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وبث فیہا من کل دابۃ “ سے مراد ہے کہ اس نے مخلوق کو پھیلایا۔
(8) امام حاکم نے حضرت جابر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ باہر نکلنے کو کم کردو جب پاؤں کی آواز رک جائے (یعنی رات کو جب لوگ چلنا بند کریں) کیونکہ اللہ تعالیٰ رات کو اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہتے ہیں پھیلا دیتے ہیں۔
وأما قولہ : وتصریف الریح :
(9) عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وتصریف الریح “ سے مراد ہے کہ جب (اللہ تعالیٰ ) چاہیں ہواؤں کو بادل کے لئے رحمت بنا دیتا ہے اور رحمت سے پہلے بشارت بنا دیتا ہے اور جب چاہتا ہے ان ہواؤں کو عذاب بنا دیتا ہے اور اس کو بےفائدہ بنا دیتا ہے۔ جو درختوں کو بار دار نہیں کرتی۔
(10) ابن ابی حاتم نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ قرآن میں ” الریاح “ کا معنی رحمت ہے اور قرآن میں ” الریح “ کا معنی عذاب ہے۔
(11) ابن ابی شیبہ، حاکم اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ ہوا کو برانہ ہو کیونکہ وہ رحمن کے سانس سے ہے اس لئے فرمایا لفظ آیت ” وتصریف الریاح والسحاب المسخر “ لیکن تم اس طرح دعا کیا کرو۔
اللہم ان نسئلک من خیر ھذہ الریح وخیر ما فیہا وخیر ما ارسلت بہ
ترجمہ : اے اللہ ہم آپ سے اس ہوا کا خیر کا سوال کرتے ہیں اور جو اس میں خیر ہے اور جس خیر کے ساتھ یہ بھیجی گئی ہے ہم اس کا بھی سوال کرتے ہیں۔
ونعوذبک من شرھا وشرما ارسلت بہ
ترجمہ : اور ہم آپ سے اس کے شر سے پناہ مانگتے ہیں جس شر کے ساتھ یہ بھیجی گئی ہے۔
(12) ابن ابی حاتم نے عبد اللہ بن شداد بن ھاد (رح) سے روایت کیا کہ ہوا اللہ کی روح میں سے ہے جب تم اس کو دیکھو تو اللہ تعالیٰ سے اس کی خیر کا سوال کرو اور اس کے شر سے اللہ سے پناہ مانگو۔
(13) ابن ابی حاتم نے عبدہ (رح) سے روایت کیا اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہوائیں رحمت ہیں اور اس میں سے بعض عذاب بھی ہیں جب تم ہواؤں کی آواز کو سنو تو کہو :
اللہم اجعلہا ریاح رحمۃ ولا یجعلھا ریاح عذاب
ترجمہ : اے اللہ ہواؤں کو رحمت بنا دے اور ہواؤں کو عذاب نہ بنا۔
(14) ابو الشیخ نے العظمہ میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ پانی اور ہوا اللہ تعالیٰ کے لشکروں میں سے دو لشکر ہیں اور ہوا اللہ تعالیٰ کا بڑا لشکر ہے۔
(15) ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ہوا کے دو پر ہیں اور ایک دم ہے۔
(16) ابو عبید ابن ابی الدنیا نے کتاب المطر میں ابن المنذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے العظمہ میں ابن عمرو ؓ نے فرمایا کہ ہوائیں آٹھ ہیں چار اس میں سے رحمت ہیں اور چار عذاب ہیں رحمت (والی ہوائیں) یہ ہیں ناشرات، مبشرات، مرسلات اور زاریات اور عذاب (والی ہوئیں) یہ ہیں قعیم، صرصر اور یہ دونوں خشکی میں ہوتی ہیں۔ اور عاصف اور قاصف یہ دونوں سمندر میں ہوتی ہیں۔
ہواؤں کی آٹھ قسمیں ہیں
(17) ابن ابی الدنیا اور ابو الشیخ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ہوائیں آٹھ ہیں۔ چار (باعث) رحمت ہیں اور چار (باعث) عذاب ہیں۔ رحمت (والی ہوئیں) یہ ہیں : منشرات، مبشرات، مرسلات اور رخاء اور عذاب (والی ہوئیں) یہ ہیں عاصف، قاصف اور یہ دونوں سمندر میں ہوتی ہیں اور عقیم اور صرصر یہ دونوں خشکی میں ہوتی ہیں۔
(18) ابو الشیخ نے عیسیٰ بن ابی عیسیٰ خیاط (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ ہوائیں سات ہیں : صبا، دبور، جنوب، شمال، خروق، نکباء اور ریح القائم صبا مشرق سے آتی ہے۔ دبور : مغرب سے آتی ہے۔ جنوب : قبلہ کے بائیں طرف سے آتی ہے۔ شمال : قبلہ کے دائیں طرف سے آتی ہے۔ نکباء صبا اور جنوب کے درمیان ہوتی ہے خروق : شمال اور دبور کے درمیان ہوتی ہے اور ریح القائم مخلوق کے سانس ہیں۔
(19) اب الشیخ نے حضرت حسن (رح) سے روایت کیا کہ ہواؤں کو کعبہ کے اوپر رکھا گیا۔ جب تو ان کے جاننے کا ارادہ کرے تو کعبہ کے دروازہ کی طرف اپنی پیٹھ کی ٹیک لگائے تو شمال تیرے شمال سے ہوگی۔ اور یہ اس طرف سے ہے جس میں پتھر لگا ہوا ہے۔ اور جنوب تیری داہنی طرف سے ہوگی اور یہ بھی اس طرف سے ہے جس میں حجر اسود لگا ہوا ہے۔ اور صبا تیرے سامنے ہوگی اور یہ باب کعبہ کے سامنے سے آتی ہے اور دبور کعبہ شریف کے پیچھے سے آتی ہے۔
(20) ابن ابی حاتم نے حسین بن علی جعفی (رح) سے روایت کیا کہ میں نے اسرائیل بن یونس سے پوچھا کہ ریح (یعنی ہوا) کے یہ نام کیوں ہیں ؟ انہوں نے فرمایا قبلہ کے اوپر ہیں جو قبلہ کے شمال ہے اس کا نام شمال ہے جنوب میں ہے اس کا نام جنوب ہے اور صبا وہ ہے جو کعبہ کے سامنے سے آتی ہے اور دبور وہ ہے جو اس کے پیچھے سے آتی ہے۔
(21) ابن ابی حاتم، ابو الشیخ نے ضمرہ بن حبیب (رح) سے روایت کیا کہ دبور، ریح العربیہ ہے قبول شرقیہ ہے شمال جنوبہ ہے یمان قبلہ ہے اور نکباء چاروں جوانب سے آتی ہے۔
(22) اب الشیخ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ شمال وہ ہے جو جدی (قطب کے پاس سے ایک ستارہ کا نام ہے) کے درمیان (سے آتی ہے) اور دبور وہ ہے جو سورج کے مغرب سے لے کر سہیل ستارہ تک چلتی ہے۔
(23) ابو الشیخ نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنوب (ہوا) جنت کی ہواؤں میں سے ہے۔
(24) ابن جریر، ابو الشیخ، ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنوب کی ہوا جنت میں سے ہے اور یہ درختوں کو بار دار کرتی ہے۔ اور اس میں لوگوں کے لئے بہت سے مانفع ہیں اور شمال (ہوا) آگ میں سے نکلتی ہے پھر جنت سے گزرتی ہے پھر اس کو ایک جھونکا جنت میں سے لگتا ہے تو وہ ٹھنڈی ہوجاتی ہے۔
(25) ابن ابنی شیبہ اسحاق بن راہو یہ نے اپنی اپنی سند میں اور ابو الشیخ، البزار اور بخاری نے اپنی تاریخ میں ابوذر ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے جنت میں سات سال کے فاصلہ کے ساتھ ہوا کے بعد ہوا کو پیدا فرمایا اس کے آگے ایک بند دروازہ ہے۔ اور تمہارے پاس ہوا اس دروازہ کے شگاف کے درز میں سے آتی ہے اگر یہ دروازہ کھول دیا جائے تو جو کچھ آسمان اور زمین کے درمیان ہے وہ اڑ جائے اور یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک أزیب ہے اور تمہارے نزدیک جنوب ہے۔
(26) ابو الشیخ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جنوب تمام ہواؤں کی سردار ہے اس کا نام اللہ تعالیٰ کے نزدیک أزیب ہے۔ اور اس کے ساتھ دروازے ہیں اور یہ ہوا ان دروازوں کی دراڑوں میں سے آتی ہے اگر اس میں سے ایک دروازہ کھول دیا جائے تو جو کچھ آسمان و زمین کے درمیان ہے وہ بکھر جائے گا۔
(27) ابو الشیخ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ شمال (ہوا) زمین کا نمک ہے۔ اگر شمال نہ ہوتی تو زمین بدبودار ہوجاتی۔
(28) عبد اللہ بن احمد بن حنبل نے زوائد الزہد میں ابو الشیخ نے العظمہ میں کعب ؓ سے روایت کیا کہ اگر لوگوں سے تین دن ہوا کو روک دیا جائے تو آسمان و زمین کے درمیان میں جو کچھ ہے بدبودار ہوجائے۔
(29) ابن ابی حاتم نے عبد اللہ بن مبارک (رح) سے روایت کیا کہ ہوا کا ایک پر ہے اور چاند پانی کے غلاف کی طرف پناہ لیتا ہے۔
ہوا کے ٹھہرنے کا مقام
(30) ابو الشیخ نے عثمان اعرج (رح) سے روایت کیا کہ ہواؤں کے ٹھہرنے کی جگہیں حاملین عرش فرشتوں کے پاؤں کے نیچے ہیں ہوا پھرتی ہے تو وہ سورج کی گاڑی پر پڑتی ہے اور فرشتے اس کے کھینچنے پر مقرر ہیں پھر وہ سورج کی گاڑی سے سمندر میں واقع ہوتی ہے۔ پھر سمندر میں ہوتی ہے تو پہاڑوں کی چوٹیوں پر واقع ہوتی ہے۔ پھر پہاڑوں کی چوٹیوں سے ابھر کر خشکی میں واقع ہوتی ہے۔ اور شمال (ہوا) جنت عدن سے گزرتی ہے تو وہاں سے اس کی عمدہ خوشبو کو لے لیتی ہے پھر شمال اکیلی سات ستاروں کی کرسی سے مغرب کی طرف آتی ہے دبور اکیلی سورج کے غروب ہونے کی جگہ سے مطلع شمس تک اور سات ستاروں کی کرسی تک پہنچتی ہے یہ ایک دوسرے کی حد میں داخل نہیں ہوتیں۔
(31) امام شافعی، ابن ابی شیبہ، احمد، ابو داؤد، نسائی ابن ماجہ اور بیہقی نے سنن میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ مکہ کے راستے میں ہم کو ہوا نے آلیا اور حضرت عمر ؓ حج کی ادائیگی پر تھے ہوا سخت ہوگئی تو حضرت عمر ؓ نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا تم کو ہوا کے بارے میں کیا پہنچا ہے ؟ (یعنی ہوا کے بارے میں کوئی ارشاد نبوی ہے) ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ میں نے عرض کیا میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ہوا اللہ کی روح ہے یہ رحمت اور عذاب لاتی ہے اس کو برا نہ کہو اور اللہ تعالیٰ سے اس کی خیر کا سوال کرو اور اس کے شر سے پناہ مانگو۔
(32) امام شافعی نے صفوان بن سلیم ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہوا کو برا نہ کہو اور اللہ تعالیٰ سے اس کے شر سے پناہ مانگو۔
(33) بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے ہوا پر لعنت کی نبی اکرم ﷺ نے اس کو فرمایا ہوا کو لعنت نہ کرو کیونکہ وہ (اللہ کی طرف سے) حکم دی جاتی ہے۔ اور جو آدمی کسی چیز پر لعنت کرتا ہے جو لعنت کی مستحق نہیں ہوتی تو لعنت اسی پر لوٹ آتی ہے۔
(34) امام شافعی، ابو الشیخ، بیہقی نے معرفہ میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب بھی ہوا چلتی مگر نبی اکرم ﷺ اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ جاتے اور یہ دعا فرماتے :
” اللہم اجعلھا رحمۃ ولا اجعلہا عذابا “
ترجمہ : اے اللہ اس کو رحمت بنا دے اس کو عذاب نہ بنا۔
” اللہم اجعلھا ریاحا ولا یجعلھا ریحا “
ترجمہ : اے اللہ اس کو رحمت بنا دے اور اس کو عذاب نہ بنا۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اللہ کی قسم اس کی تفسیر اللہ کی کتاب میں ہے۔
لفظ آیت ” علیہم ریحا صرصرا “ (القمر آیت 19)
لفظ آیت ” ارسلنا علیہم الریح العقیم “ (41) (النازعات آیت 41) اور فرمایا :
لفظ آیت ” وارسلنا الریح لواقح “ (الحجر آیت 23) (اور) لفظ آیت ” ان یرسل الریاح مبشرت “ (الروم آیت 46)
1: ہم نے ان پر تند ہوا بھیجی
2: ہم نے ان پر نفع سے خالی ہو بھیجی
3: اور ہم نے ہوائیں بادلوں کو بوجھل کرنے والی بھیجی
4: چلاتا ہے ہوائیں خوشخبری لانے والیاں۔
(35) امام ترمذی، نسائی، عبد اللہ بن احمد نے زوائد المسند میں ابی ابن کعب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہوا کو برانہ کہو کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی روح میں سے ہے۔ اور اللہ تعالیٰ سے اس کے خیر کا سوال کرو اور اس خیر کا جو اس کے اندر ہے اور اس کے خیر کا جس کے ساتھ یہ بھیجی گئی اور اللہ تعالیٰ سے اس کے شر سے پناہ مانگو اور اس شر سے جو اس کے اندر ہے اور اس شر سے جس کے ساتھ یہ بھیجی گئی۔
(36) ابن ابی شیبہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ہوا چلی تو لوگوں نے اس کو برا کہا ابن عباس ؓ نے فرمایا اس کو برا نہ کہو وہ رحمت کو لے کر آتی ہے اور عذاب کو لے کر آتی ہے لیکن تم یوں کہو :
” اللہم اجعلھا رحمۃ ولا اجعلہا عذابا “
ترجمہ : اے اللہ اس کو رحمت بنا دیجئے اور اس کو عذاب نہ بنائیے۔
(37) ابن ابی شیبہ اور ابو الشیخ نے حضرت عمر ؓ سے روایت کیا کہ جب ہوا چلتی اور گھومنے لگتی تو آپ فرماتے تکبیر کہو (یعنی تکبیر کو کثرت سے پڑھو) کیونکہ یہ اڑا کرلے جانے والی ہے۔
(38) ابن ابی شیبہ نے عبد الرحمن بن ابی یعلی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رات کو دن کو سورج کو چاند کو اور ہوا کو برا نہ کہو کیونکہ یہ بھیجی جاتی ہے کسی قوم پر عذاب بنا کر اور کسی قوم پر رحمت بنا کر بھیجی جاتی ہے۔
وأما قولہ تعالیٰ : والسحاب المسخرین السماء والارض۔
بادل بارش کی چھلنی ہے
(39) ابن ابی حاتم، ابو الشیخ نے العظمہ میں، بیہقی نے الاسماء والصفات میں اور ابن عساکر نے معاذ بن عبد اللہ بن حبیب جہنی (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس ؓ کو دیکھا کہ وہ کعب ؓ کی عورت کے بیٹے سے سوال کر رہے تھے تو نے حضرت کعب کو بادل کے بارے میں کچھ فرماتے ہوئے سنا عرض کیا ہاں میں نے ان کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بادل بارش کی چھلنی ہے اگر بادل نہ ہوتے تو پانی آسمان سے نازل ہوتا تو جس زمین پر واقع ہوتا اس کو خراب کردیتا اور میں نے حضرت کعب کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ زمین ایک سال کچھ اگاتی ہے اور آئندہ سال کچھ اگاتی ہے اور یہ بھی فرماتے ہوئے سنا کہ بیج نازل ہوتا ہے آسمان سے بارش کے ساتھ پھر وہ زمین سے اگ آتے ہیں حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ تو نے سچ کہا میں نے بھی اسی طرح حضرت کعب سے سنا ہے۔
(40) ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے حضرت عطا (رح) سے روایت کیا کہ بادل زمین سے اٹھتا ہے۔
(41) ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے خالد بن معدان (رح) سے روایت کیا کہ جنت میں ایک درخت ہے جو بادل کو پھل دیتا ہے کالا پھل اس میں سے وہ ہوتا ہے جس کو بارش اٹھاتی ہے اور وہ پک جاتا ہے اور بادل وہ ہوتا ہے جس کو بارش نہیں اٹھاتی اور وہ پکا ہوا نہیں ہوتا۔
(42) ابو الشیخ (رح) نے حضرت ابن عباس ؓ سے انہوں نے اواعمش سے روایت کیا کہ زمین نے کہا اے میرے رب ! مجھ کو پانی سے سیراب کر لیکن اس طرح تیز نہ ہو جس طرح آپ نے مجھ پر طوفان کے دن اتارا تھا اللہ پاک نے فرمایا عنقریب میں تیرے بادل کو چھلنی بنا دوں گا۔
(43) امام احمد، ابن ابی الدنیا نے کتاب المطر میں اور ابو الشیخ نے حضرت غفاری ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا بادل کو (جب) پیدا ہوتا ہے تو بہت بہت عمدہ کلام کرتا ہے اور بہتر عمدہ بنتا ہے۔
(44) ابو الشیخ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جب سمندر کی طرف سے ایک ابر اٹھے پھر شام کی طرف سے آئے تو وہ چشمہ ہے وہ عام طریقہ ہے یعنی بہت بارش ہے۔
(45) امام طبرانی نے الاوسط میں حضرت علی ؓ سے روایت کیا تمہارے رب کی سخت ترین مخلوق (دس چیزوں) میں ہے پہاڑ، لوہا جو پہاڑ کو تراش دیتا ہے۔ اور آگ جو لوہے کو کھا جاتی ہے۔ اور پانی آگ کو بجھا دیتا ہے۔ اور بادل جو آسمان اور زمین کے درمیان مسخر کئے گئے ہیں وہ پانی کو اٹھا لیتے ہیں اور ہوا بادلوں کو (ایک جگہ سے دوسری جگہ) منتقل کردیتی ہے اور انسان اپنے ہاتھ کے ذریعہ ہوا سے بچاؤ کرتا ہے اور اس میں اپنی حاجت کو جاتا ہے اور نشہ انسان پر غالب آجاتا ہے اور نیند نشہ پر غالب آجاتی ہے اور غم روک دیتا ہے نیند کو اور اللہ تعالیٰ کی سخت ترین مخلوق دل کا روگ ہے۔
(46) ابو الشیخ نے حضرت حسن (رح) سے روایت کیا کہ جب وہ بال کی طرف دیکھتے تھے تو فرماتے تھے اللہ کی قسم اس میں تمہارا رزق ہے لیکن تم اس سے اپنے گناہوں کی وجہ سے محروم ہوجاتے ہو۔
(47) ابن ابی شیبہ، ابو داؤد، نسائی اور ابن ماجہ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ آفاق میں کسی افق میں جب کسی گہرے بادل کو دیکھتے تو اس کام کو چھوڑ دیتے تھے جس میں مشغول ہوتے تھے آپ نماز شروع کردیتے یہاں تک کہ اس کی طرف متوجہ ہو کر یہ دعا فرماتے تھے۔
” اللہم انا نعوذبک من شرما ارسل بہ “
ترجمہ : اے اللہ ! ہم پناہ مانگتے ہیں آپ سے اس کے شر سے جس کے ساتھ یہ بھیجا گیا۔
اگر بارش ہوتی تو فرماتے ” اللہم سیبان فانعا “ (یعنی اے اللہ اس کو نفع بخش بنا دے)
دو مرتبہ یا تین مرتبہ ایسا فرماتے اور اگر اللہ تعالیٰ (آسمان) کھول دیتے اور بارش نہ ہوتی تو اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے۔
Ayahs 2:165–167(1) عبد بن حمید، ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ومن الناس من یتخذ من دون اللہ اندادا یحبونھم کحب اللہ “ سے مراد ہے کہ وہ نقصان پہنچاتے ہیں حق کو بتوں کے ذریعہ لفظ آیت ” والذین امنوا اشد حب اللہ “ سے مراد ہے مکہ کے کافروں کو جتنی اپنے (باطل) معبودوں سے محبت ہے۔ ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ سے اس سے زیادہ محبت ہے۔
(2) ابن جریر نے سدی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اندر سے مراد وہ لوگ ہیں جن کی وہ لوگ اطاعت کرتے تھے جیسے اللہ کی اطاعت کرتے ہیں جب (ان کو) حکم کیا جاتا ہے اور وہ لوگوں کی اطاعت کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہیں۔
(3) عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ومن الناس من یتخذ من دون اللہ اندادا “ میں ” اندادا “ مراد ہے شرکاء ” یحبونھم کحب اللہ “ یعنی ان (جھوٹے) معبودوں سے اس طرح محبت کرتے ہیں جیسے ایمان والے لوگ اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں لفظ آیت ” والذین امنوا اشد حبا للہ “ (جیسے) کافر جتنی اپنے بتوں سے محبت کرتے ہیں اسی طرح ایمان والے لوگ بھی اللہ تعالیٰ سے اس سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔
(4) عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” یحبونھم کحب اللہ “ یعنی وہ اپنے بتوں سے ایسی محبت کرتے ہیں جیسے اللہ کی محبت لفظ آیت ” والذین امنوا اشد حبا للہ “ یعنی کافر جو اپنے بتوں سے محبت کرتے ہیں ایمان والے لوگ اس سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں۔
ظالم قیامت کے روز اللہ کی قوت کا مشاہدہ کرے گا
(5) ابن جریر نے حضرت زبیر ؓ سے لفظ آیت ” ولو تری الذین ظلموا “ کے بارے میں روایت کیا کہ اے محمد ﷺ اگر آپ دیکھیں گے ان لوگوں کو جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا انہوں نے میرے علاوہ میرے شریک بنا دئیے ہیں اور ان سے ایسی محبت کرتے ہیں جیسے تم لوگ مجھ سے محبت کرتے ہو جب یہ قیامت کے دن میرے عذاب کو دیکھیں گے جس کو میں نے ان کے لیے تیار کر رکھا ہے تو جان لیں گے کہ ساری قوت میرے پاس ہے۔ ان کے شرکاء کے پاس نہیں ہے اور (جھوٹے) معبود ان کے کچھ بھی کام نہ آئیں گے اور نہ ان سے عذاب کو بنا سکیں گے تو ان پر نازل ہوگا اور میں ان کو یقین دلاؤں گا کہ میرا عذاب سخت ہے اس شخص کے لئے جو میرا انکار کرتا ہے اور میرے ساتھ کسی اور خدا کا دعوی کرتا ہے۔
(6) ابو نعیم نے الحلیہ میں جعفر بن محمد ﷺ سے روایت کیا ایک انگوٹھی میں لکھا ہوا تھا لفظ آیت ” ان القوۃ للہ جمیعا “۔
(7) عبد بن حمید، ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” اذ تبرا الذین اتبعوا “ سے مراد ہے کہ ان کے جابر لوگ ان کی قیادت کرنے والے جو شر اور شرک میں سردار تھے لفظ آیت ” من الذین اتبعوا “ یعنی ان کے پیچھے چلنے والے اور ضعیف لوگ۔
(8) ابن جریر نے سعدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” اذ تبرا الذین اتبعوا “ سے مراد وہ شیاطین ہیں جو انسانوں سے برأت کا اظہار کرتے ہیں۔
(9) عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم اور حاکم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وتقطعت بھم الاسباب “ میں ” الاسباب “ سے مراد ہے (ان کی) دوستی اور محبت (آپس میں ختم ہوجائے گی) ۔
(10) ابن جریر، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وتقطعت بھم الاسباب “ میں ” الاسباب “ سے مراد ہیں منازل۔
(11) ابن جریر، ابن المنذر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وتقطعت بھم الاسباب “ میں ” الاسباب “ سے مراد ہے ” الارحام “ یعنی (آپس کی) رشتہ داریاں۔
(12) امام وکیع، عبد بن حمید، ابن جریر، ابو نعیم نے الحلیہ میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وتقطعت بھم الاسباب “ سے مراد ہے ان کے درمیان (آپس میں) میل جول اور دوستی جو دنیا میں تھی (ختم ہوجائے گی)
(13) عبد بن حمید نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وتقطعت بھم الاسباب “ سے مراد ہے ان کے اعمال۔
(14) عبد بن حمید، ابن جریر نے ربیع (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وتقطعت بھم الاسباب “ سے مراد ہیں۔ اسباب المنازل۔
(15) عبد بن حمید، ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وتقطعت بھم الاسباب “ سے مراد ہے قیامت کے دن ندامت کے اسباب اور اسباب سے مراد ہے ان کے دنیا کے تعلقات ہیں جن کو وہ قائم رکھتے تھے اور جن کی وجہ سے آپس میں محبت کرتے تھے یہ اسباب قیامت کے دن دشمنی (کی شکل) بن جائیں گے اور وہ ایک دوسرے پر لعنت کریں گے۔
(16) عبد بن حمید، ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وقال الذین اتبعوا لو ان لنا کرۃ “ میں ” کرۃ “ کا معنی ہیں دنیا کی طرف لوٹنا۔
(17) ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” کذلک یریھم اللہ اعمالہم حسرات علیہم “ سے مراد ہے کہ ان کے برے اعمال قیامت کے دن ان کے لئے حسرت اور افسوس کا باعث بن جائیں گے۔
(18) ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وما ہم بخارجین من النار “ سے مراد ہے دوزخ کے اہل دوزخی ہی ہیں اور وہ دوزخ سے کبھی نہیں نکلیں گے۔
(19) ابن ابی حاتم نے اوزاعی (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ثابت بن معبد ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ دوزخ والے پہلے (دوزخ) سے نکلنے کی امید رکھتے تھے یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” وما ہم بخارجین من النار “ (یعنی وہ آگ سے نہیں نکالے جائیں گے) تو ان کی امیدیں ختم ہوگئیں۔
Ayahs 2:168–169(1) ابن مردویہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت نبی اکرم ﷺ کے پاس تلاوت کی گئی لفظ آیت ” یایھا الذین کلوا مما فی الارض حللا طیبا “ سعد بن ابی وقاص ؓ کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ میرے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے مستجاب الدعا بنا دے۔ آپ نے فرمایا اے سعد ! اپنے کھانے کو حلال کرلے تو مستجاب الدعا ہوجاؤ گے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد ﷺ کی جان ہے آدمی جب حرام لقمہ اپنے پیٹ میں ڈالتا ہے تو اس سے چالیس دن کی عبادت قبول نہیں کی جاتیں اور جو گوشت حرام اور سود سے پیدا ہوتا ہے وہ دوزخ کی آگ کا زیادہ مستحق ہے۔
(2) ابن جریر، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولا تتبعوا خطوت الشیطن “ سے اس کا عمل مراد ہے یعنی شیطان کے عمل کی تابعداری نہ کرو۔
(3) ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جو کام قرآن کے مخالف ہے تو وہ لفظ آیت ” خطوت الشیطن میں سے ہے۔
(4) عبد بن حمید، ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولا تتبعوا خطوت الشیطن “ سے مراد ہے اس کے قدم (کہ شیطان کے قدموں پر نہ چلو) ۔
(5) عبد بن حمید، ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا انہوں نے فرمایا لفظ آیت ” ولا تتبعوا خطوت الشیطن “ سے مراد ہے شیطان کے وسوسوں کی اتباع نہ کرو۔
(6) ابو الشیخ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” خطوت الشیطن “ سے مراد ہے شیطان کے آراستہ کئے ہوئے کاموں کی پیروی نہ کرو۔
(7) ابن ابی حاتم، ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ اللہ کی نافرمانی لفظ آیت ” خطوت الشیطن “ میں سے ہے۔
(8) عبد بن حمید نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ غصہ (کی حالت) میں جو قسم ہو یا نذر ہو وہ خطوات الشیطان میں سے ہے اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے۔
حلال چیز کو حرام کرنے کی قسم توڑنا واجب ہے
(9) عبد بن حمید، عبد الرزاق، سعید بن منصور، ابن ابی حاتم، طبرانی اور حاکم نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ان کے پاس سفید انگور اور نمک لایا گیا انہوں نے کھانا شروع کیا ایک شخص علیحدہ بیٹھا تھا ابن مسعود نے اس سے فرمایا اپنے ساتھی کو بھی دے دو اس نے کہا میں نہیں کھاتا فرمایا کیا تم روزے سے ہو ؟ کہا نہیں فرمایا پھر کیا بات ہے (کیوں نہیں کھاتے ہو) اس نے کہا میں نے انگور کھانے کو (اپنے اوپر) ہمیشہ کے لئے حرام کرلیا ہے ابن مسعود ؓ نے فرمایا یہ حرام کرنا لفظ آیت ” خطوت الشیطن “ میں سے ہے اس کو کھالو اور اپنی قسم کا کفارہ دو ۔
(10) عبد بن حمید، ابو الشیخ نے أبو مجلز (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولا تتبعوا خطوت الشیطن “ سے مراد ہے گناہوں کی نذریں ماننا۔
(11) عبد بن حمید نے عیسیٰ بن عبد الرحمن سلمی (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی حسن ؓ کے پاس آیا اور ان سے سوال کیا کہ میں بھی ان کے پاس بیٹھا ہوا تھا اس نے آپ سے پوچھا میں نے قسم کھائی ہے کہ میں ایسا ایسا نہ کروں تو مجھ پر گھٹنوں کے بل چل کر حج کرنا لازم ہے آپ نے فرمایا خطوات الشیطان میں سے ہے تو سواری پر حج کر اور اپنی قسم کا کفارہ دے۔
(12) عبد بن حمید نے عثمان بن غیاث (رح) سے روایت کیا کہ میں نے جابر بن زید ؓ سے روایت کیا کہ اس آدمی کے بارے میں پوچھا جس نے نذر مانی تھی کہ وہ اپنی ناک میں سونے کا ایک حلقہ ڈالے گا حضرت جابر ؓ نے فرمایا کہ یہ خطوات الشیطان میں سے ہے وہ آدمی ہمیشہ گناہ گار رہے گا اس کو چاہئے کہ وہ اپنی قسم کا کفارہ دے۔
(13) ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ شیطان کو شیطان اس لئے کہا جاتا ہے کہ کیونکہ ہنگامہ اور شرارت کو پسند کرتا ہے۔
(14) ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” انما یامرکم بالسوء والفحشاء “ سے مراد ہے گناہ اور والفحشاہ سے مراد ہے زنا (اور) لفظ آیت ” وان تقولوا علی اللہ مالا تعلمون “ سے مراد ہے کہ وہ بحائر، سوائب، وصائل اور حوامی کو حرام قرار دیتے تھے اور یہ گمان کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حرام قرار دیا ہے۔
بحائر : بحیرہ کی جمع ہے جو اونٹنی پانچ مرتبہ بیاہ چکی تھی اس کا کان چیر کر آزاد چھوڑ دیتے تھے۔
سوائب : سائبہ کی جمع ہے منت پر چھوڑتے ہوئے سانڈ اونٹ کا کہا جاتا ہے۔
وصائل : وصلۃ کی جمع ہے وہ اونٹنی ہوتی تھی جس کے پہلے گاب میں نر اور دوسرے گاب میں مادہ پیدا ہوتی تھی اگر تیسرے گاب میں بھی مادہ ہوتی تو بتوں کے نام پر اس کو آزاد چھوڑ دیتے تھے۔
حوامی : حام کی جمع ہے اس سے مراد وہ نر اونٹ ہے جس کے تخم سے دس بچے پیدا ہو چکتے تھے تو اس کو بتوں کے نام پر آزاد چھوڑ دیتے تھے۔
Ayah 2:170(1) ابن اسحاق، ابن جریر، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے یہودیوں کو اسلام کی طرف بلایا اور ان کو رغبت دلائی اور ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے اور اس کے انتقام سے ڈرایا تو رافع بن خارجہ مالک ابن عوف نے کہا اے محمد ! ہم اس چیز کی تابعداری کریں گے جس پر ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو پایا اور وہ لوگ ہم سے زیادہ جاننے والے اور ہم سے بہتر تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری لفظ آیت ” واذا قیل لہم اتبعوا ما انزل اللہ قالوا بل نتبع ما الفینا علیہ اباء نا “ (الآیہ)
(2) امام الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے لفظ آیت ” ما الفینا “ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا یعنی وجدنا (ہم نے پایا) عرض کیا عرب اس (معنی) سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے نابغۃ بن ذیبان کا قول نہیں سنا :
فحسبوہ فالقوہ کما زعمت تسعا وتسعین لم ینقص ولم یزد
ترجمہ : انہوں نے اس کو شمار کیا تو انہوں نے اس کو نناوے پایا اس میں کمی پیشی نہ تھی۔
(3) ابن جریر نے ربیع اور قتادہ (رح) دونوں سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” الفینا “ سے مراد ہے وجدنا یعنی ہم نے پایا۔
Ayah 2:171(1) ابن جریر، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ومثل الذین کفروا کمثل الذی ینعق بمالا یسمع “ سے مراد ہے جیسے مثال گائے گدھے اور بکری کی ہے اگر تو ان (جانوروں) کو کوئی بات کہے تو وہ نہیں جانتے سوائے اس کے کہ تو وہ آواز کو سنتے ہیں اسی طرح کفار ہیں کہ اگر تو ان کو خیر کا حکم کرے یا اس کو برائی سے روکے یا اس کی نصیحت کرے تو وہ کچھ نہیں سمجھتے سوائے اس کے کہ وہ صرف آواز کو سنتے ہیں۔
(2) ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اس آیت کے بارے میں اس کی مثال جانور کی طرح ہے جس کو تو بلاتا ہے وہ آواز کو سنتا ہے لیکن بات کو نہیں سمجھتا جو کچھ اس کے لئے کہا گیا۔ اسی طرح کافر آواز کو سنتا ہے مگر سمجھتا نہیں ہے۔
(3) امام الطستی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ امام الطیبی (رح) سے روایت کیا کہ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” کمثل الذی ینعق بمالا یسمع “ کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے منافقوں اور کافروں کی آواز کو جانوروں کی آواز کے مشابہ قرار دیا یعنی وہ (جانوروں کی طرح) کچھ نہیں سمجھتے انہوں نے عرض کیا کیا عرب اس معنی سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے بشر بن ابی حازم کا یہ معقولہ نہیں سنا :۔
کصم الکشح لم یغمز بنوس ولم ینعق بناحیۃ الریاق
ترجمہ : باریک پیٹ والا ہے کبھی کسی شدت اور تکلیف نے چھوا ہی نہیں اور وہ منہ سے کبھی بولا ہی نہیں۔
(4) عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” کمثل الذی ینعق بما لا یسمع “ سے مراد ہے کہ بکریاں چرانے والا لفظ آیت ” بما لا یسمع “ یعنی جانور لفظ آیت ” الا دعاء ونداء “ یعنی جیسے مثل اونٹ اور بکری کے وہ آواز کو سنتے ہیں مگر سمجھتے نہیں۔
(5) امام وکیع نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ینعق بما لایسمع الا دعاء ونداء “ سے مراد ہے کہ کافر کو چوپائے کے ساتھ تشبیہ دی ہے جو آواز کو سنتا ہے مگر سمجھتا نہیں۔
(6) ابن جریر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو عطا (رح) نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ وہ یہودی ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” ان الذین یکتمون ما انزل اللہ من الکتب “۔
الی قولہ : فما اصبرھم علی النار :
Ayah 2:172حلال غذا کھانے کی تاکید
(1) امام احمد، مسلم، ترمذی، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیشک اللہ پاک ہے اور وہ پاک (اور حلال مال) کو ہی قبول فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں کو جو حکم فرمایا ہے وہی مؤمنین کو بھی حکم فرمایا ہے چناچہ فرمایا لفظ آیت ” یایھا الرسل کلوا من الطیبت واعملوا صالحا، انی بما تعملون علیہم (المؤمنون) (اے رسولو ! پاک چیزیں کھاؤ اور نیک کام کرو بیشک جو تم عمل کرتے ہو میں اس کو جانتا ہوں) اور (مؤمنین کو خطاب کرتے ہوئے) فرمایا لفظ آیت ” یایھا الذین امنوا کلوا من طیبت ما رزقنکم “ کہ (اے ایمان والو ! جو پاک چیزیں ہم نے تم کو دی ہیں ان میں سے کھاؤ) اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے ایسے شخص کا ذکر فرمایا جو لمبا سفر کرکے آیا اس کے بال بکھرے ہوئے ہیں چہرہ پر گردوغبار ہے اور وہ اپنے ہاتھوں کو آسمان کی طرف بلند کرتے ہوئے (کہتا ہے) یا رب جبکہ اس کا کھانا حرام کا ہے پینا حرام کا ہے پہننا حرام کا ہے اور اس کو حرام کی غذا دی گئی ہے پس (اس حال میں) اس کی دعا کیسے قبول ہوگی۔
(2) ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” کلوا من الطیبت “ سے مراد ہے حلال میں سے۔
(3) ابن سعد (رح) سے روایت کیا کہ حضرت عمر بن عبد العزیز (رح) سے روایت کیا انہوں نے ایک دن فرمایا میں نے چنے کی دال کھائی تو میرے پیٹ میں ہوا بھر گئی بعض لوگوں نے ان سے کہا اے امیر المؤمنین اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتے ہیں لفظ آیت ” کلوا من طیبت ما رزقنکم “ حضرت عمر نے فرمایا دور ہوجا تو نے بات کو نہیں سمجھا اللہ تعالیٰ نے اس سے حلال کمائی مراد لی ہے اور اس سے پاکیزہ کھانا مراد نہیں لیا۔
(4) ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” یایھا الذین امنوا “ سے مراد ہے لفظ آیت ” الذین صدقوا “ یعنی جنہوں نے سچ بولا کہ تم لفظ آیت ” کلوا من طیبت ما رزقنکم “ یعنی رزق حلال میں سے کھاؤ جس کو ہم نے تمہارے لئے حلال کیا ہے لیکن تم نے خود اس کو حرام کیا تھا میں نے تم پر کھانے پینے کی چیزیں حرام نہیں کیں۔ ” واشکرو اللہ “ اللہ کا شکر ادا کرو ایسی تعریف کے ساتھ جس کا وہ اہل ہے ان نعمتوں پر جو اللہ تعالیٰ نے تم کو پاکیزہ رزق عطا فرمایا ہے۔
(5) عبد بن حمید نے ابو امیہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” یایھا الذین امنوا کلوا من طیبت ما رزقنکم “ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں حلال فرمائیں ہیں ان میں اولاد اور مال سے زیادہ کوئی چیز حلال اور پاک نہیں۔
(6) ابن ابی شیبہ، احمد اور مسلم نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس بندے سے راضی ہوتے ہیں جو کوئی لقمہ کھاتا ہے اور کوئی گھونٹ پیتا ہے تو اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے۔