Ayah 2:103(1) ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ہر چیز قرآن میں جس کا ذکر ” لو “ کے ساتھ ہے کہ وہ ہمیشہ نہیں ہوگی۔
(2) عبد الرزاق اور ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ” لمثوبۃ “ سے مراد ہے ثواب۔
Ayah 2:104(1) ابن المبارک نے الزہد میں اور ابو عبید نے فضائل میں، سعید بن منصور نے سنن میں، احمد نے الزہد میں، ابن ابی حاتم، ابو نعیم نے الحلیہ میں اور بیہقی نے الشعب میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا اور آپ نے اس کو فرمایا میرے ساتھ عہد کر فرمایا جب تو اللہ تعالیٰ کو یہ فرماتے ہوئے سنے لفظ آیت ” یایھا الذین امنوا “ تو غور سے سن کیونکہ یا تو وہ خیر ہوگا جس کا حکم ہو رہا ہے یا وہ شر ہوگا جس سے روکا جا رہا ہے۔
(2) امام عبد الرزاق، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن المنذر، ابن ابی حاتم اور ابو نعیم نے الحلیہ میں خیثمہ ؓ سے روایت کیا کہ جو قرآن میں تم لوگ لفظ آیت ” یایھا الذین امنوا “ پڑھتے ہو وہ تورات میں ” یایھا المسکین “ ہے۔
(3) امام عبد بن حمید اور ابو الشیخ نے خثیمہ ؓ سے روایت کیا کہ جو قرآن میں لفظ آیت ” یایھا الذین امنوا “ ہے وہ تورات اور انجیل میں ” یایھا المسکین “ ہے۔
(4) امام ابو نعیم نے دلائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ” راعنا “ (کا لفظ) یہود کی زبان میں بری گالی ہے۔ یہودی رسول اللہ ﷺ کے لیے خفیہ طور پر ایسا کہتے تھے۔ جب آپ کے صحابہ ؓ کو یہود نے یہ الفاظ بولتے ہوئے سنا تو وہ اعلانیہ طور پر کہنے لگے یہود یہ الفاظ استعمال کرتے تھے پھر آپس میں سنتے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
(5) امام ابو نعیم نے دلائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا لفظ آیت ” لا تقولوا راعنا “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ (لفظ) یہود کی زبان میں گالی تھا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” انظرنا “ کہا کرو جس کا معنی ہے ” اسمعنا “ یعنی ہمیں اپنی بات سنائیے پھر اس آیت کے نازل ہونے کے بعد ایمان والوں سے کہتے تھے کہ جس شخص کو تم یہ الفاظ بولتے ہوئے سنو تو اس کی گردن اڑا دو اس کے بعد یہود باز آگئے۔
(6) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم، طبرانی نے حضرت ابن عباس ؓ سے لفظ آیت ” لا تقولوا راعنا “ کے تحت روایت کیا کہ وہ لوگ (یعنی صحابہ کرام) نبی اکرم ﷺ کے بارے میں ” ارعنا سمعک “ کہتے تھے۔ یعنی ہمارے لئے رعایت فرمائیے جیسے تم کہتے ہو ” اعطنا “ ہم کو عطا فرمائیے۔
(7) امام ابن جریر، ابن المنذر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ یہود میں دو آدمیوں مالک بن صیف اور رفاعہ بن زید جب نبی اکرم ﷺ سے ملاقات کرتے تھے تو (یوں) کہتے تھے ” راعنا سمعک واسمع غیر مستمع “ (یعنی ہماری طرف توجہ فرمائیے ہماری بات سنیئے اور کبھی نہ سنو مسلمانوں نے یہ سمجھا کہ یہ کوئی ایسا جملہ ہے جس سے اہل کتاب اپنے انبیاء کی تعظیم کرتے ہیں تو انہوں نے بھی نبی اکرم صلی اللہ کو یہ (الفاظ) کہہ دئیے اس پر اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری لفظ آیت ” یایھا الذین امنوا لا تقولوا راعنا “ (اے ایمان والوں ! راعنا نہ کہو) ۔
(8) امام ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے ابو صحر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب تشریف لے جاتے مؤمنین میں سے جس کو کوئی حاجت ہوتی تھی وہ آپ کو پکار کر کہتا ” ارعنا سمعک “ (یعنی ہماری رعایت فرمائیے اور میری طرف توجہ فرمائیے) تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے لیے یہ بھی کہنا پسند نہ فرمایا اور ان کو حکم فرمایا کہ ” انظرنا “ کہا کرو تاکہ وہ ان الفاظ کے ساتھ اس کے رسول کی عزت کریں اور اس کا احترام کریں۔
یہود کی شرارت سے حفاظت
(9) عبد بن حمید، ابن جریر اور ابو نعیم نے دلائل میں قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” لا تقولوا راعنا “ میں ” راعنا “ یہودی بطور مذاق کے کہا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے لیے اس کو ناپسند فرمایا کہ تم بھی ان کی طرح کہو۔
(10) ابن جریر اور ابو نعیم نے دلائل میں عطیہ (رح) سے لفظ آیت ” لا تقولوا راعنا “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہودیوں میں سے کچھ لوگ ” راعنا سمعک “ کہا کرتے تھے یہاں تک کہ مسلمانوں میں سے بھی کچھ لوگوں نے ایسا کہا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اس بات کو ناپسند فرمایا جو یہودیوں نے کہا۔
(11) ابن جریر اور ابن اسحاق نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” لا تقولوا راعنا “ اور ” ارعنا سمعک “ (یعنی ہماری رعایت فرمائیے اور میری طرف توجہ فرمائیے)
(12) عبد بن حمید اور ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” لا تقولوا راعنا “ یعنی ” خلافا “ یعنی خلاف نہ کہو۔
(13) ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” لا تقولوا راعنا “ یعنی یہ نہ کہو کہ آپ ہماری بات سنیں ہم آپ کی بات سنتے ہیں بلکہ کہو ” انظرنا “ یعنی ہم کو سمجھائیے اور ہم کو بیان کیجئے۔
(14) امام ابن جریر نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ عرب کی مشرک جب ایک دوسرے سے بات کرتے تو کہتے تھے ” ارعنی سمعک “ (یعنی میری رعایت فرمائیے تو اس سے ان کو منع کردیا گیا۔
(15) عبد بن حمید، ابن جریرم البحاس نے اپنی ناسخ میں عطا (رح) سے ” لا تقولوا راعنا “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ لغت زمانہ جاہلیت میں انصار میں تھی (پھر) اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسا کہنے سے منع فرما دیا اور فرمایا لفظ آیت ” قولوا انظرنا واسمعوا “ یعنی تم ” انظرنا “ اور ” واسمعوا “ کہو۔
(16) ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ” راعنا “ پڑھا اور فرمایا کہ ” الرعن “ ان کی مذاق والی بات میں سے ہے۔
(17) ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ ” واسمعوا “ سے مراد ہے کہ سنو تم جو کچھ تمہارے لئے کہا جائے۔
(18) ابو نعیم نے الحلیہ میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس آیت میں لفظ آیت ” یایھا الذین امنوا “ نازل ہوا اس کی اصل میرے اوپر ہے۔ ابو نعیم (رح) (راوی حدیث) نے فرمایا کہ میں نے حدیث ابن ابی خثیمہ ؓ کے علاوہ باقی سب مرفوع احادیث لکھی ہیں جبکہ لوگ اس کو مرفوع جانتے ہیں۔
Ayah 2:105(1) ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واللہ یختص برحمتہ من یشاء “ میں رحمت سے مراد قرآن اور سلام ہے۔
Ayahs 2:106–107(1) امام ابن ابی حاتم، حاکم (فی الکنی) ابن عدی اور ابن عساکر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان (آیات) میں سے جو نبی اکرم ﷺ پر رات کو نازل ہوئیں پھر دن کے وقت بھلا دی گئیں تو اس پر اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت نازل) فرمائی لفظ آیت ” ما ننسخ من ایۃ او ننسھا نأت بخیر منھا او مثلہا “۔
(2) امام طبرانی نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ انصار میں سے دو آدمیوں نے ایک سورت پڑھی جس کو رسول اللہ ﷺ نے پڑھائی تھی اور یہ دونوں حضرات اس (سورت) کو پڑھا کرتے تھے ایک رات یہ دونوں نماز پڑھنے کھڑے ہوئے اور اس سورت کو پڑھنا چاہا تو ایک حرف پڑھنے پر بھی قادر نہ ہوئے۔ صبح سویرے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ یہ سورت ان سورتوں میں سے ہے جو منسوخ کردی گئیں یا بھلا دی گئیں پس وہ اس کو بھول گئے زہری اس آیت کو (یوں) پڑھا کرتے تھے لفظ آیت ” ما ننسخ من ایۃ اوننسھا “ نون خفیفہ ضمہ کے ساتھ۔
(3) امام بخاری، نسائی، ابن الانباری نے المصاحف میں حاکم اور بیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا ہم میں سے سب سے زیادہ قاری ابی ؓ ہیں اور بہتر فیصلہ کرنے والے علی ؓ ہیں۔ اور ہم ابی ؓ کی قرأت میں سے کوئی چیز چھوڑتے ہیں اور یہ اس وجہ سے کہ ابی ؓ کہتے ہیں کہ کسی چیز کو نہ چھوڑوں گا جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” ما ننسخ من ایۃ اوننسھا “ (جو آیت ہم منسوخ کردیتے ہیں یا بھلا دیتے ہیں) ۔
(4) امام عبد الرزاق، سعید بن منصور، ابو داؤد نے اپنی الناسخ میں، ان کے بیٹے نے المصاحف میں، نسائی، ابن جریر، ابن المنذر اور حاکم نے سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت کیا کہ وہ لفظ آیت ” ماننسخ من ایۃ اوننسھا “ پڑھتے تھے ان سے کہا گیا کہ سعید بن المسیب نے ” ننسھا “ پڑھا ہے تو حضرت سود نے فرمایا کہ قرآن مسیب یا آل مسیب پر نازل نہیں ہوا اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” سنقرئک فلا تنسی “ (ہم خود آیت کو پڑھوائیں گے) پس آپ نہ بھولیں گے ” واذکر ربک اذا نسیت “ (یاد کرو اپنے رب کو جب تو بھول جائے) ۔
قرآن میں نسخے کا ذکر
(5) امام ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کہ لفظ آیت ” ما ننسخ من ایۃ اوننسھا “ کا معنی ہے ہم جو آیت تبدیل کردیتے ہیں یا اس کو چھوڑ دیتے ہیں (اور) ہم اس کو نہیں بدلتے ” نأت بخیر او مثلہا “ یعنی ہم ایسی آیت لائیں گے جس میں تمہارے لئے زیادہ نفع ہوگا اور اس میں تمہارے لئے نرمی ہوگی۔
(6) امام ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ حضرت عمر ؓ نے ہم کو خطبہ دیا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ لفظ آیت ” ما ننسخ من ایۃ اوننسھا “ یعنی ہم اس کو مؤخر کردیتے ہیں۔
(7) امام ابن الانباری نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ” اوننسھا “ پڑھا۔
(8) امام ابو داؤد نے اپنی ناسخ میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ابی ؓ کی قرأۃ میں لفظ آیت ” ماننسخ من ایۃ او نسک “ ہے۔
(9) آدم بن ابی ایاس، ابو داؤد نے الناسخ میں، ابن جریر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ اور انہوں نے عبد اللہ بن مسعود ؓ کے اصحاب سے روایت کیا کہ (اس آیت) لفظ آیت ” ماننسخ من ایۃ “ کا مطلب یہ ہے کہ ہم اس کے خد کو ثابت رکھتے ہیں اور ہم اس کے حکم کو بدل دیتے ہیں ” اوننسھا “ یعنی ہم اپنے پاس اس کو روک لیتے ہیں۔
(10) حضرت آدم، ابن جریر اور بیہقی نے عبید بن عمر اللیثی (رح) سے لفظ آیت ” ماننسخ من ایۃ او ننسھا “ کا یہ معنی مروی ہیں کہ ہم اس کو چھوڑ دیتے ہیں (اور) ہم اس آیت کو ان کے پاس سے اوپر اٹھا لیتے ہیں۔
(11) عبد بن حمید اور ابن المنذر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ حضرت ابن مسعود ؓ کی قرأت میں یوں ہے لفظ آیت ” ماننسخ من ایۃ اوننسخھا “۔
(12) عبد بن حمید ابو داؤد، ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ایک آیت دوسری آیت کو منسوخ کرتی تھی اللہ کا نبی ایک آیت اور سورت اور سورت کا وہ حصہ جو اللہ تعالیٰ چاہتے تھے پھر وہ اٹھالی جاتی تھی اور اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو (وہ سورت) بھلا دیتے تھے اسی کو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر بیان فرمایا لفظ آیت ” ماننسخ من ایۃ او ننسھا نأت بخیر منھا او مثلہا “ یعنی اس آیت میں تخفیف بھی ہے رخصت بھی ہے۔ امر ہے اور نہی بھی ہے۔
(13) ابو داؤد نے ناسخ میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” ماننسخ من ایۃ اوننسھا نأت بخیر منھا اور مثلہا الم تعلم ان اللہ علی کل شیء قدر “ پھر فرمایا ” واذ بدلنا ایۃ مکان ایۃ (النحل 10) (جب ہم بدلتے ہیں ایک آیت کو دوسری آیت کی جگہ) اور فرمایا ” یمحوا اللہ ما یشاء ویثبت “ (الرعد آیت 39) (اللہ تعالیٰ مٹاتا ہے جو چاہتا ہے اور باقی رکھتا ہے جو چاہتا ہے) ۔
(14) ابو داؤد اور ابن جریر نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ماننسخ من ایۃ اوننسھا “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کچھ امور قرآن مجید میں اتارتا ہے پھر ان کو اٹھا لیتا ہے اور فرمایا ” تات بخیر منھا او مثلہا “ (یعنی ہم اس سے بہتر یا اس کے مثل دوسرا حکم لے آتے ہیں)
(15) ابن جریر نے حسن ؓ سے ” اوننسھا “ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں تمہارے نبی ﷺ کو قرآن پڑھاتا ہوں پھر میں ان کو بھلا دیتا ہوں۔ سو (اب کوئی) چیز قرآن میں ایسی نہیں ہے جس کو منسوخ کردیا گیا ہو اور تم اس کو پڑھتے ہو۔
(16) ابو داؤد نے اپنی کتاب الناسخ میں ابن المنذر ابن الانباری نے المصاحف میں، ابوذر البردوی نے فضائل میں ابو امامہ بن سہل بن حنیف ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی کو ایک سورت یاد تھی وہ رات کو تہجد میں اس کو پڑھنے لگا تو اس پر قادر نہ ہوا (یعنی اس سورت کو نہ پڑھ سکا) پھر دوسرا آدمی اس سورت کو پڑھنے کے لیے کھڑا ہوا تو وہ بھی قادر نہ ہوا اور پھر تیسرا آدمی کھڑا ہوا وہ بھی نہ پڑھ سکا صبح سویرے یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور صورت حال بیان کی اور ان کو یہ بات بتائی تو آپ نے فرمایا گزشتہ رات وہ سورت منسوخ کردی گئی۔
(17) امام ابو داؤد نے الناسخ میں، بیہقی نے دلائل میں ایک دوسرے طریق سے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ انصار میں سے ایک جماعت جو رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے تھے۔ انہوں نے ان کو بتایا کہ ایک آدمی آدھی رات کو تہجد کے لیے کھڑا ہوا اور اس نے ایک سورة کو پڑھنے کا ارادہ کیا جو اس نے یاد کر رکھی تھی مگر وہ سوائے بسم اللہ الرحمن الرحیم کے کچھ بھی پڑھنے پر قادر نہ ہوا اسی طرح دوسرے صحابہ کے ساتھ بھی یہ واقعہ پیش آیا۔ وہ لوگ صبح سویرے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اس سورة کے بارے میں پوچھنے کے لیے حاضر ہوئے۔ آپ کچھ دیر خاموش رہے ان کو کوئی جواب نہ دیا پھر فرمایا گزشتہ رات (وہ سورت) منسوخ کردی گئی اور ان کے سینوں سے بھی منسوخ کردی گئی اور ہر اس چیز سے مٹا دی گئی جس میں وہ لکھی ہوئی تھی۔
(18) امام ابن سعد، احمد، بخاری، مسلم، ابو داؤد (فی الناسخ) ابن الضریس، ابن جریر، ابن المنذر، ابن حیان اور بیہقی نے دلائل میں حضرت انس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں قرآن میں نازل فرمایا جو بئر معونہ کے مقام پر شہید کر دئیے گئے جس کی ہم تلاوت کرتے تھے۔ یہ ان تک کہ (یہ آیت) بعد میں منسوخ کردی گئی اور وہ یہ آیت تھی ” ان بلغو قومنا انا فدلقینا عنا وارضانا “ (کہ ہماری قوم کو یہ بات پہنچا دو ہم نے اپنے رب سے ملاقات کرلی اور ہم سے راضی ہوگئے اور ہم اس سے۔
(19) امام مسلم، ابن مردویہ، ابو نعیم نے الحلبیہ میں اور بیہقی نے دلائل میں ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت کیا کہ ہم ایسی سورة پڑھا کرتے تھے کہ ہم اس کو لمبائی اور شدت میں (سورۃ) برأۃ کے مشابہ قرار دیتے تھے پھر میں اس کو بھول گیا سوائے اس حصہ کہ جس کو میں نے اس میں سے یاد کرلیا تھا (اور وہ یہ تھا) اگر ابن آدم کے لیے مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری وادی کی تلاش کرے گا۔ اور اس کا پیٹ نہیں بھرے گا مگر مٹی سے۔ اور ہم ایک ایسی سورة پڑھتے تھے جس کو ہم مسبحات میں سے ایک سورة کے مشابہ قرار دیتے تھے (المسبحات وہ سورتیں ہیں جن کے شروع میں سن یا فسخ آتا ہے۔ جس کا اول یوں تھا ” سبح للہ ما فی السموت “ مگر ہم وہ بھول گئے۔ سوائے اس کے جس کو میں نے اس سے یاد کرلیا تھا۔ (اور وہ یہ تھا) ” یایھا الذین امنوا لم تقولون مالا تفعلون “ سو (اس بات کی) گواہی تمہاری گردنوں میں لکھی جائے گی اور تم سے قیامت کے دن اس کے بارے میں پوچھا جائے گا۔
(20) ابو عبید نے فضائل میں اور ابن الضر یس نے ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت کیا کہ سورة برأت کی طرح ایک سخت سورة نازل ہوئی پھر وہ اٹھالی گئی اور میں نے اس میں سے یاد کرلیا تھا (جو یہ تھا) ” ان اللہ مؤید ھذا الذین باقوام لا خلاف لہم “ (بلاشبہ اللہ تعالیٰ عنقریب اس دین کی ایسی قوم سے مدد فرمائے گا کہ جن کے لیے کوئی حصہ نہ ہوگا۔ (یعنی آخرت میں)
اور ابن ضریس (رح) سے یہ الفاظ منقول ہیں ” لیؤیدون اللہ ھذا الذین برجال ما لہم فی الاخرۃ من خلاق ولو ان لابن آدم وادیین من مال لتمنی وادیا ثالثا ولا یملا ضوف ابن آدم الا التراب الامن تاب فیتوب الہ علیہ واللہ غفور الرحیم “ (ضرور ضرور اللہ تعالیٰ اس دین کی ایسے آدمیوں سے مدد لیں گے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے اور اگر ابن آدم کے پاس دو وادیاں مال کی ہوں تو وہ تیسری وادی کی تمنا کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہیں)
(21) امام ابو عبید احمد الطبرانی نے الاوسط میں اور بیہقی نے الشعب میں ابو واقد اللیثمی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کی طرف جب وحی آتی تھی تو ہم آپ کے پاس آتے تھے اور ہم وہ سیکھ لیتے جو آپ کی طرف وحی آتی تھی۔ ایک دن میں آپ کے پاس حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ہم نے مال کو نازل کیا نماز کو قائم کرنے کے لیے اور زکوٰۃ ادا کرنے کے لیے۔ اور اگر ابن آدم کے پاس ایک وادی (مال کی) ہو تو وہ اس بات کو محبوب رکھے گا کہ اس کے ساتھ دوسری وادی بھی ہو اور اگر اس کے پاس دو وادیاں (مال کی) ہوں تو وہ اس بات کو محبوب رکھے گا کہ ان کے ساتھ تیسری وادی بھی ہو۔ ابن آدم کا پیٹ نہیں بھرے گا مگر مٹی سے اور اللہ تعالیٰ توبہ قبول فرماتے ہیں اس شخص کی جو توبہ کرتا ہے۔
(22) ابو داؤد، احمد، ابو یعلی اور طبرانی نے زید بن ارقم ؓ سے فرمایا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں یوں پڑھا کرتے تھے کہ اگر ابن آدم کے پاس دو دوایاں سونے اور چاندی کی ہوں تو وہ تیسری (وادی) کو طلب کرے گا اور ابن آدم کا پیٹ نہیں بھرے گا مگر مٹی سے اور اللہ تعالیٰ توبہ قبول فرماتے ہیں اس شخص کی جو توبہ کرتا ہے۔
(23) ابو عبید اور احد نے جابر بن عبد اللہ ؓ سء روایت کیا کہ ہم یوں پڑھتے تھے۔ اگر ابن آدم کو ایک وادی مال سے بھری ہوئی مل جائے تو وہ اس بات کو محبوب رکھے گا کہ اسی طرح کی ایک اور وادی بھی مل جائے۔ اور ابن آدم کا پیٹ نہیں بھرے گا۔ مگر مٹی سے اور اللہ تعالیٰ توبہ قبول فرماتے ہیں اس شخص کی جو توبہ کرتا ہے۔
حرص کی مذمت
(24) ابو عبید بخاری، مسلم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا اگر ابن آدم کے پاس ایک وادی مال کی بھری ہوئی ہو تو وہ اس بات کو محبوب رکھے گا کہ اسی طرح کی ایک اور وادی بھی مل جائے۔ ابن آدم کی آنکھ نہیں بھرے گی مگر مٹی سے اور اللہ تعالیٰ توبہ قبول فرماتے ہیں اس شخص کی جو توبہ کرتا ہے۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا میں نہیں جانتا کہ یہ بات قرآن میں سے ہے یا نہیں۔
(25) البزار اور ابن الضریس نے حضرت بریدہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو نماز میں یہ پڑھتے ہوئے سنا (جس کا ترجمہ یہ ہے) اگر ابن آدم کے لئے ایک وادی سونے کی ہو تو وہ دوسری وادی کو تلاش کرے گا اگر اس کو دوسری (وادی) بھی دے دی جائے تو وہ تیسری کو تلاش کرے گا۔ ابن آدم کا پیٹ نہیں بھرے گا۔ مگر مٹی سے اور اللہ تعالیٰ توبہ قبول فرماتے ہیں اس شخص کی جو توبہ کرتا ہے۔
(26) ابن الانباری نے حضرت ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ ابن ابی کعب کی قرأۃ میں یوں منقول ہے (جس کا ترجمہ یہ ہے) اگر ابن آدم کو ایک وادی مال کی دے دی جائے تو وہ دوسری اور تیسری وادی کی تلاش کرے گا اگر اس کو دو وادیاں مال کی دے دی جائیں تو وہ تیسری کی تلاش کرے گا اور ابن آدم کا پیٹ نہیں بھرے گا مگر مٹی سے اور اللہ تعالیٰ توبہ قبول فرماتے ہیں اس شخص کی جو توبہ کرتا ہے۔
قرآن کریم میں رجم کا حکم
(27) امام ابن الضریس نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ہم یوں پڑھا کرتے تھے ” لاترعبوا من اباء کم مانہ کفریکم وان کفرا بکم ان ترغبوا عن اباء کم “ (جس کا ترجمہ یہ ہے) اور اپنے آباء سے بےرغبت نہ ہوجاؤ کیونکہ یہ تمہارے لئے کفر ہے اگر تمہارا کفر یہ ہے کہ تم آباء سے اعراض کرو۔
(29) عبد الرزاق احمد اور ابن حبان نے حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب کو اتارا اور آیۃ الرجم بھی اس میں اتاری گئی۔ (اس وجہ سے) انہوں نے رجم کیا اور ہم نے بھی ان کے بعد رجم کیا پھر فرمایا ہم اس طرح پڑھا کرتے تھے (جس کا ترجمہ یہ ہے) اپنے آباء سے بےرغبت نہ ہوجانا کیونکہ یہ تمہارے لئے کفر ہے اور تمہارا کفر یہ ہے کہ تم اپنے آباء سے بےرغبت ہوجاؤ۔
(30) امام الطیالسی، ابو عبید اور طبرانی نے حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ ہم پڑھا کرتے تھے کہ ” لا ترغبوا عن آباء کم فأنہ کفربکم “ کہ اپنے آباء سے بےرغبت نہ ہوجاؤ کیونکہ یہ تمہارے لئے کفر ہے پھر انہوں نے زید بن ثابت ؓ سے پوچھا کیا اسی طرح ہے اے زید انہوں نے فرمایا ہاں !
(31) امام ابن عبد اللہ نے التمہید میں عدی بن عدی میں میرین قزوہ اپنے دادا عمر بن قزوہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ عمر بن خطاب ؓ نے ابی ؓ سے فرمایا کیا ہم اللہ کی کتاب میں سے یہ آیت نہیں پڑھا کرتے تھے لفظ آیت ” ان انتفاء کم من ابائکم کفربکم “ (تمہارا والدین سے نفی کرنا کفر ہے) انہوں نے کہا ہاں ضرور پڑھا کرتے تھے پھر فرمایا کیا ہم یہ آیت نہیں پڑھا کرتے تھے۔
” الولد للفراش وللعاھر والحجر “ (بچہ صاحب فراش (شوہر، ماں باپ) کا ہے اروزانی کے لیے پتھر (رجم کی سزا) ہیں) یہ اس کتاب سے تھا جو ہم سے گم ہوچکی ہے۔ بی نے فرمایا کہا کیوں نہیں (واقعی یہ اس کتاب میں تھا) ۔
(32) ابو عبید ابن الضریس ابن الانباری نے مسور بن مخرمہ (رح) سے روایت کیا کہ حضرت عمر ؓ نے عبد الرحمن بن عوف ؓ سے پوچھا کیا تو نے اس (اللہ کی کتاب میں) یہ بھی پڑھا ہے۔ جو ہم پر اتارا گیا ” ان جاھدو کما جاھدتم اول مرۃ “ (تم اس طرح جہاد کرو جس طرح تم نے پہلی مرتبہ جہاد کیا تھا) ہم اس آیت کو نہیں پاتے۔ انہوں نے جواب دیا قرآن میں سے یہ حصہ ساقط کردیا گیا۔
(33) ابو عبید، ابن الضریس ابن الانباری نے المصاحف میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ہرگز تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ میں نے سارا قرآن لے لیا اس کو کیا معلوم ہے کہ سارا قرآن کیا ہے ؟ اس میں سے بہت سارا قرآن منسوخ کردیا گیا لیکن یوں کہنا چاہئے کہ میں نے لے لیا جو کچھ اس میں سے ظاہر ہے۔
(34) ابن ابی شیبہ نے المصنف میں ابن الانباری اور بیہقی نے دلائل میں عبیدہ سلیمانی (رح) سے روایت کیا کہ وہ قرأت جو رسول اللہ ﷺ آخری سال وصال میں پیش کی گئی یہ وہی قرأت ہے جس کو لوگ پڑھتے ہیں اور جس کو حضرت عثمان نے لوگوں کے لیے جمع فرمایا۔
(35) ابن الانباری، ابن اشتہ نے المصاحف میں ابن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہر سال رمضان المبارک میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ (قرآن مجید کا) دور فرمایا کرتے تھے۔ لیکن اس سال میں جس میں آپ کی وفات ہوئی دو مرتبہ دور فرمایا اور یہ کہ ہماری یہ قرأت اس آخری دور والی قرأت ہے۔
(36) ابن الانباری نے ابو ظبیان (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو ابن عباس ؓ نے فرمایا دو قرأتوں میں سے کون سی قرأت کو تم پہلی شمار کرتے ہو ہم نے کہا عبد اللہ ؓ کی قرأت اور ہمارے قرأت وہی آخری ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جبرائیل (علیہ السلام) ہر سال رمضان میں ایک مرتبہ مجھ سے قرآن مجید کا دور کیا کرتے تھے اور آخری سال میں انہوں نے دو مرتبہ دور کیا۔ اور حضرت عبد اللہ ؓ نے اس کی گواہی دی جو منسوخ ہوئی اور جو بدل گیا۔
(37) ابن الانباری نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو ابن عباس ؓ نے فرمایا دو قرأتوں میں سے کون سی قرأت تم اول شمار کرتے ہو ہم نے کہا عبد اللہ کی قرأت انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ جبرائیل (علیہ السلام) کے ساتھ ایک مرتبہ قرأن مجید کا دور کیا کرتے تھے اور آخری سال انہوں نے دو مرتبہ دور کیا اور عبد اللہ ؓ کی قرأت ان کی آخری قرأت ہے۔
(38) ابن الانباری نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جبرائیل (علیہ السلام) سال میں ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ قرآن مجید کا دور کیا کرتے تھے اور آخری سال میں انہوں نے دو مرتبہ دور کیا سو میں نے نبی اکرم ﷺ سے اس ان سے قرآن کو لیا تھا (یعنی قرآن سیکھا تھا)
(39) ابن الانباری نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ اگر میں جانتا کہ کوئی شخص اس آخری مرتبہ سننے میں مجھ سے تاخیر والا ہے۔ تو میں اس کی طرف سفر کرتا۔
(40) حاتم نے حضرت سمرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کو قرآن مجید تین مرتبہ پیش کیا گیا۔ صحابہ فرماتے ہیں کہ ہماری یہ قرأت آخری مرتبہ پیش کرنے والی قرأت کے مطابق ہے۔
ناسخ و منسوخ کا علم ضروری ہے
(41) ابو جعفر النحاس نے اپنی کتاب الناسخ میں ابو البختری (رح) سے روایت کیا کہ حضرت علی بن ابی طالب ؓ ایک مسجد میں داخل ہوئے وہاں ایک آدمی (لوگوں کو) ڈرا رہا تھا۔ آپ نے فرمایا یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا کہ ایک آدمی لوگوں کو وعظ و نصیحت کر رہا ہے آپ نے فرمایا یہ آدمی لوگوں کو وعظ و نصیحت نہیں کر رہا بلکہ یہ کہہ رہا ہے کہ میں فلاں فلاں ہوں سو مجھ کو پہچان لو حضرت علی نے اس کو بلایا پھر اس سے پوچھا کیا تو ناسخ اور منسوخ کو جانتا ہے ؟ اس نے کہا نہیں ! آپ ؓ نے فرمایا ہماری مسجد سے نکل جا اور اس میں وعظ و نصیحت نہ کر۔
(42) ابو داؤد البحاس و المنصور میں اور بیہقی نے السنن میں ابو عبید الرحمن سلمی (رح) سے روایت کیا کہ حضرت علی بن ابی طالب ؓ ایک مرتبہ ایک آدمی کے قریب سے گزرے جو وعظ و نصیحت کر رہا تھا حضرت علی ؓ نے پوچھا کیا تو ناسخ اور منسوخ کے احکام کو جانتا ہے 1 اس نے کہا نہیں حضرت علی ؓ نے فرمایا تو خود بھی ہلاک ہوا اور دوسروں کا بھی تو نے ہلاک کیا۔
(43) البحاس طبرانی نے ضحاک بن مزاحم (رح) سے روایت کیا کہ حضرت ابن عباس ؓ ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو واقعات بیان کر رہا تھا آپ نے اس کو اپنے پاؤں سے ٹھوکر ماری اور فرمایا کیا تو ناسخ و منسوخ کو جانتا ہے ؟ اس نے کہا نہیں آپ نے (اس سے) فرمایا تو خود بھی ہلاک ہوا اور دوسروں کو بھی تو نے ہلاک کیا۔
(44) دارمی نے اپنی سنن میں اور النحاس نے حضرت حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ تین آدمیوں میں سے ایک آدمی کو فتوی دینا چاہئے ایک وہ آدمی جو قرآن کے ناسخ اور منسوخ کو جانتا ہو اور وہ حضرت عمر ؓ ہیں۔ دوسرا وہ قاضی جس کو قضا سے چھٹکارا نہ ہو تیسرا احمق معکف میں پہلے دو آدمیوں میں سے نہیں ہوں اور میں اس کا ناپسند کرتا ہوں کہ تیسرا ہوجاؤں۔
Ayahs 2:108–110(1) ابن اسحاق، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رفع بن حریملہ اور دھب بن زید نے رسول اللہ ﷺ سے کہا اے محمد 1 ہمارے لئے کتاب لے آئیے جو ہم پر آسمان سے نازل کریں اور ہم اس کو پڑھیں۔ یا ہمارے لئے نہریں جاری کردہ تو ہم آپ کی تابعداری کرلیں گے اور ہم آپ کی تصدیق بھی کریں گے تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں نازل فرمایا لفظ آیت ” ام تریدون ان تسئلوا رسولکم “ الی قولہ ” سواء السبیل “ اور حئی بن اخطب اور ابو یاسر بن أخطب یہود میں سے زیادہ سخت تھے جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو عرب میں سے بھیجا تو وہ عربوں سے انتہائی حسد کرتے تھے اور لوگوں کو اسلام سے مرتد کرنے کی پوری کوشش کرتے تھے ان دونوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی لفظ آیت ” ود کثیر من اہل الکتاب .....“ (الآیہ)
(2) ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے أبو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ ! کاش ہمارے کفارات بھی بنی اسرائیل کے کفارات کی طرح ہوتے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو کچھ تم دئیے گئے ہو وہ بہتر ہے بنی اسرائیل میں سے جب کوئی خطا کرلیتا تھا تو اپنے دروازہ پر اس کو اور اس کے کفارہ کو لکھا ہوا پاتا تھا اگر اس کا کفارہ ادا کرتا تو اس کی رسوائی صرف دنیا میں ہوتی اور اگر اس کا کفارہ ادا نہ کرتا تھا تو اس کے لیے آخرت میں رسوائی کا باعث بنتا اور اللہ تعالیٰ نے اس سے بہتر تم کو احکامات عطا فرمائے ہیں جس کو فرمایا لفظ آیت ” ومن یعمل سوءا او یظلم نفسہ “ (سورۃ النساء) اور پانچوں نمازیں اور ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک یہ کفارات ہیں (یعنی گناہوں کو مٹانے والے ہیں) جتنے گناہ ان کے درمیان ہوئے اس پر اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی لفظ آیت ” ام تریدون ان تسئلوا رسولکم “ (الآیہ) ۔
(3) ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ عرب کے لوگوں نے محمد ﷺ سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو ان کے سامنے لے آئے اور ہم ان کو کھلم کھلا دیکھ لیں تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
(4) عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ قریش نے محمد ﷺ سے مطالبہ کیا کہ ان کے لیے صفا (پہاڑی) کو سونے کا بنا دیجئے۔ آپ نے فرمایا ہاں (ایسا ہوجائے گا) اور وہ بنی اسرائیل کے دستر خوان کی طرح ہوگا اگر تم نے پھر انکار کیا (تو فورا عذاب آجائے گا تو انہوں نے اپنے مطالبہ سے رجوع کیا اور واپس لوٹ گئے تو اس پر اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” ام یریدون ان تسئلوا رسولکم کما سئل موسیٰ من قبل “ کہ وہ اللہ تعالیٰ کو کھلم کھلا دیکھیں گے اس مطالبہ سے وہ دستبردار ہوگئے۔
(5) امام ابن جریر نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ومن یتبدل الکفر بالایمان “ یعنی خوشحالی کو شدت سے بدل دینا۔
(6) ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فقد ضل سواء السبیل “ یعنی سیدھے راستے سے ہٹ جانا۔
(7) ابو داؤد، ابن المنذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے دلائل میں کعب بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب مدینہ میں تشریف لائے تو مدینہ کے مشرکوں اور یہودیوں نے آپ کو اور آپ کے اصحاب کو سخت تکلیفیں دیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اور مسلمانوں کو اس پر صبر کرنے اور درگزر کرنے کا حکم فرمایا ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” ولتسمعن من الذین اوتوا الکتب من قبلکم ومن الذین اشرکوا اذی کثیرا “ (اور یقیناً تم سنو کے ان سے جن کو کتاب دی گئی تم سے پہلے اور ان لوگوں نے جنہوں نے شرک کیا بہت سی تکلیفیں دینے والی باتیں اور اگر تم صبر کرو اور تقوی اختیار کرو تو بیشک یہ بڑی ہمت کا کام ہے) (آل عمران آیت 287) اور ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” ودکثیر من اہل الکتب لویردونکم من بعد ایمانکم کفارا حسدا “ (الآیہ)
رسول اللہ ﷺ کا عفو و کرم
(8) امام بکاری، مسلم، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، طبرانی، بیہقی نے دلائل میں اسامہ بن زید ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب مشرکین اور اہل کتاب کو معاف کردیتے تھے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم فرمایا اور ان کی تکلیف پر صبر کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” ولتسمعن من الذین اوتوا الکتب من قبلکم ومن الذین اشرکوا اذی کثیرا “ (آل عمران آیت 186) اور فرمایا لفظ آیت ” ود کثیر من اہل کتاب لم یردونکم من بعد ایمانکم کفارا، حسدا من عند انفسہم من بعد ما تبین لہم الحق، فاعفوا حتی یأتی اللہ بامرہ “ اور رسول اللہ ﷺ ان کو معافی دیتے رہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کو اس کا حکم فرمایا تھا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس کے بارے میں قتل کرنے کی اجازت فرمائی اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعہ قریش کے سرداروں کو قتل کردیا۔
(9) عبد الرزاق اور ابن جریر نے زہری اور قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ودکثیر من اہل الکتب “ سے مراد کعب بن اشرف ہے۔
(10) امام ابن جریر نے ربیع بن انس (رح) سے روایت کیا لفظ آیت ” حسدا من عند انفسھم “ سے مراد ہے (ان کا یہ حسد) ان کے اپنے نفسوں سے تھا لفظ آیت ” من بعد ما تبین لہم الحق “ یعنی ان کے لیے یہ بات ظاہر ہوگئی کہ محمد ﷺ کے رسول ہیں۔
(11) عبد بن حمید اور ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” من بعد ما تبین لہم الحق “ یعنی بعد اس کے جب ان پر یہ بات ظاہر ہوگئی کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں انہوں نے اپنے پاس تورات اور انجیل میں ان کی تعریف کو ان کے کام کو اور ان کی نبوت کو لکھا ہوا پایا۔ اور اس کے بعد ان کے لیے یہ ظاہر ہوچکا کہ اسلام اللہ کا دین ہے جس کو محمد ﷺ لے کر آئے ” فاعفوا واصفحوا “ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم فرمایا کہ ان کو معاف کردو اور ان سے درگزر کرو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے حکم کو لے آئیں پھر اللہ تعالیٰ نے سورة برأت میں نازل فرمایا اور آپ کو حکم کرتے ہوئے فرمایا لفظ آیت ” قاتلوا الذین لا یؤمنون باللہ “ (الآیہ) یعنی اس آیت نے (علم والی آیت کو) منسوخ کردیا اور اللہ تعالیٰ نے اس میں اہل کتاب سے قتال کا حکم فرمایا یہاں تک کہ وہ اسلام لے آئیں یا جزیہ ادا کریں۔
(12) ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کے یہ دونوں قول ” فاعفوا واصفحوا “ اور ” واعرض عن المشرکین “ اور اس طرح کے قول جن میں مشرکین کے بارے میں عفو (یعنی درگزر کرنے کا حکم تھا۔ وہ سب اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” قاتلوا الذین لا یؤمنون باللہ “ (توبہ آیت 29) (جو اللہ پر ایمان نہیں لاتا اس سے جنگ کرو) اور لفظ آیت ” فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم “ (توبہ آیت 15) (مشرکین کو جہاں پاؤ قتل کرو) سے منسوخ کردیا۔
(13) ابن جریر اور النحاس نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ یہ قول ” فاعفوا واصفحوا “ (اب) منسوخ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” قاتلوا الذین لایؤمنون باللہ ولا بالیوم الاخر “ سے۔
(14) ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وما تقدموا لانفسکم من خیر “ سے مراد ہے جو تم دنیا میں خیر والے اعمال کرو گے۔
(15) ابن جریر، ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” تجدوہ عند اللہ “ سے مراد ہے کہ اس کا ثواب تم (اللہ تعالیٰ کے ہاں) پاؤ گے۔
Ayahs 2:111–112(1) ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وقالوا لن یدخل الجنۃ الا من کان ھودا ونصری “ یعنی یہود نے کہا کہ یہود کے علاوہ ہرگز کوئی جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ اور نصاری نے کہا کہ نصاری کے علاوہ ہرگز کوئی جنت میں داخل نہ ہوگا۔ ” تلک امانیہم “ یعنی یہ ان کی جھوٹی امیدیں ہیں جو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے ناحق لگا رکھی ہیں۔ لفظ آیت ” قل ھاتوا برھانکم “ یعنی اپنی حجت کو (لے آؤ) ” ان کنتم صدقین “ اگر تم سچے ہو جیسا کہ تم کہتے ہو لفظ آیت ” بلی، من اسلم وجھہ للہ “ یعنی جس نے (اپنے اعمال کو) خالص اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے کرلیا۔
(2) ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” من اسلام وجھہ للہ “ یعنی جس نے اپنے دین کو خالص (اللہ کے لیے) کرلیا۔
Ayah 2:113یہود و نصاریٰ کا جھگڑا
(1) ابن اسحاق، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب بجران کے نصاری رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے تو یہود کے علماء بھی آپ کے پاس آگئے اور رسول اللہ ﷺ کے پاس آکر جھگڑنے لگے۔ رافع بن حریملہ نے کہا کہ تم کسی چیز (یعنی کسی دین) پر نہیں ہو اور اس نے عیسیٰ (علیہ السلام) اور انجیل کا انکار کیا۔ اہل نجران میں سے ایک آدمی نے یہود سے کہا تم بھی کسی چیز (یعنی کسی دین) پر نہیں ہو اور اس طرح اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کا انکار کیا۔ اور تورات کا بھی انکار کیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری لفظ آیت ” وقالت الیھود لیست النصری علی شیء، وقالت النصری لیست الیھود علی شیء، وہم یتلون الکتب “ یعنی ہر ایک اپنی کتاب میں تصدیق کر پڑھتا ہے۔ جس کا وہ انکار کر رہا ہے۔
(2) ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وقالت الیھود لیست النصری علی شیء “ (الآیہ) میں وہ اہل کتاب مراد ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے عہد میں تھے۔
(3) عبد بن حمید اور ابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” وقالت الیھود لیست النصری علی شیء “ کے بارے میں فرمایا کیوں نہیں پہلے نصاری ایک دین پر تھے لیکن بعد میں انہوں نے بدعات ایجاد کیں اور آپس میں متفرق ہوگئے
(4) ابن جریر نے ابن جریح (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عطا (رح) سے عرض کیا یہ کون لوگ ہیں جو نہیں جانتے ؟ انہوں نے فرمایا یہ وہ امتیں ہیں جو یہود و نصاری سے پہلے تھیں۔
(5) امام ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” کذلک قال الذین لایعلمون “ سے وہ عرب مراد ہیں جنہوں نے کہا کہ محمد ﷺ کسی دین پر نہیں۔
Ayah 2:114(1) ابن اسحاق اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قریش نے نبی اکرم ﷺ کو مسجد حرام میں کعبہ کے پاس نماز پڑھنے سے منع کیا تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” ومن اظلم ممن منع مسجد للہ “ (الآیہ)
(2) ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ومن اظلم ممن منع مسجد اللہ “ سے مراد نصاری ہیں۔
(3) عبد بن حمید اور ابن جریر نے مجاہد (رح) تعالیٰ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ومن اظلم ممن منع مسجد اللہ ان یذکر فیہا اسمہ “ سے مراد نصاری ہیں جو بیت المقدس میں تکلیف دینے والی چیزیں ڈال دیتے تھے اور لوگوں کو اس میں نماز پڑھنے سے روکتے تھے۔
(4) ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ومن اظلم ممن منع مسجد اللہ ان یذکر “ (الآیہ) سے وہ رومی مراد ہیں جو بخت نصر (کے ساتھ) بیت المقدس پر غالب آگئے تھے۔ اور لفظ آیت ” لفظ آیت ” اولئک ما کان لہم ان یدخلوھا الا خائفین “ سے مراد یہ ہے کہ زمین میں کوئی رومی ایسا نہیں ہے جو آج بھی اس بات سے ڈرتا ہوا داخل نہ ہو کہ اس کی گردن نہ مار دی جائے۔ اور جزیہ کے ادا کرنے سے وہ ڈرائے گئے پس وہ جزیہ ادا کرتا ہے۔ اور لفظ آیت ” لہم فی الدنیا خزی “ سے مراد یہ ہے کہ دنیا میں ان کی رسوائی نہ ہوئی کہ جب (مسلمان بادشاہ) مہدی کا دور حکومت تھا۔ اور اس نے قسطنطنیہ کو فتح کیا اور ان کو قتل کیا یہ ان کی رسوائی ہوئی۔
(5) عبد بن حمید اور ابن جریر نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے تحت روایت فرماتے ہیں کہ وہ اللہ کے دشمن رومی ہیں یہودیوں کے بغض نے ان کو اس بات پر آمادہ کیا کہ انہوں نے بخت نصربا مجوسی کی بیت المقدس کی تخریب پر مدد کی تھی۔
(6) ابن ابی حاتم نے حضرت کعب ؓ سے روایت کیا کہ نصاری نے جب بیت المقدس پر غلبہ حاصل کیا تو اس کو جلا ڈالا جب اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو مبعوث فرمایا تو ان پر یہ (آیت) نازل فرمائی۔ لفظ آیت ” ومن اظلم ممن منع مساجد اللہ ان یذکر فیہا اسمہ وسعی فی خرابھا “ (الآیہ) پھر زمین پر کوئی نصرانی ایسا نہیں تھا جو بیت المقدس میں ڈرتا ہوا داخل ہوتا۔
(7) ابن جریر نے ابن زید (رح) سے روایت کیا فرماتے ہیں کہ یہ وہ مشرک ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کو حدیبیہ کے دن اللہ کے گھر سے روکا (عمرہ سے روکا) ۔
(8) ابن ابی شیبہ نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ مشرکین کے لیے مسجد میں داخل ہونا جائز نہیں مگر ڈرتے ہوئے۔
(9) عبد الرزاق اور ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا فرماتے ہیں کہ لفظ آیت ” لہم فی الدنیا خزی “ سے مراد یہ ہے کہ وہ ذلیل ہو کر اپنے سے جزیہ دیتے ہیں (یہ ان کی دنیا میں رسوائی ہے) ۔
(10) احمد اور بخاری نے بسر بن ارطاۃ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا فرمایا کرتے تھے لفظ آیت ” اللہم احسن عامتبنا فی الامور کلہا واجرنا من خزی الدنیا و عذاب الاخرۃ “ اے اللہ ! ہمارے سب کاموں کا اچھا انجام فرما اور ہماری دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے بچا لے۔
Ayah 2:115(1) ابو عبید نے الناسخ والمنسوخ میں، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، حاتم (انہوں نے اسے صحیح بھی کہا ہے) اور بیہقی نے السنن میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے سب سے پہلے جو ہمارے لئے قرآن میں سے منسوخ کیا گیا وہ قبلہ کی سمت تھی ان حکموں میں جو ہمارے لئے ذکر کئے گئے اور اللہ تعالیٰ خوب جانتے ہیں قبلہ کے حال کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” وللہ المشرق والمغرب فاینما تولوا فثم وجہ اللہ “ رسول اللہ ﷺ نے بیت المقدس کی طرف رخ فرمایا اور نماز پڑھی اور بیت عتیق (یعنی خانہ کعبہ) کو چھوڑ دیا پھر اللہ تعالیٰ نے (قبلہ کو) بیت عتیق کی طرف پھیر دیا اور پہلے حکم کو منسوخ فرما دیا اور فرمایا لفظ آیت ” ومن حیث خرجت فول وجہک “ (الآیہ) ۔
تحویل قبلہ کا حکم
(2) ابن المنذر نے حضرت ابن مسعود اور دوسرے صحابہ ؓ سے اس آیت لفظ آیت ” وللہ المشرق والمغرب، فاینما تولوا فثم وجہ اللہ “ کے تحت روایت کیا کہ لوگ بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے تھے جب نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ تقریبا اٹھارہ مہینے بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے رہے۔ اور جب آپ نماز پڑھتے تھے تو اپنا سر مبارک آسمان کی طرف اٹھاتے تھے اور اللہ کے حکم کا انتظار کرتے پھر اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس کے قبلہ کو منسوخ فرما دیا اور کعبہ کو قبلہ بنا دیا۔
(3) ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، مسلم، ترمذی، نسائی، ابن جریر، ابن المنذر، النحاس نے والمنسوخ طبرانی اور بیہقی نے اپنی سنن میں حجرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ اپنی سواری پر نفل پڑھا کرتے تھے جس طرح سواری کا رخ ہوتا تھا۔ پھر حضرت ابن عمر ؓ نے (دلیل کے طور پر) یہ آیت پڑھی لفظ آیت ” فاینما تولوا فثم وجہ اللہ “ اور حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا یہ آیت اس (نفلی) نماز کے بارے میں نازل ہوئی۔
(4) ابن جریر نے ابن ابی حاتم، دار قطنی، حاکم (انہوں نے اسے صحیح کہا ہے) نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت ” فاینما تولوا فثم وجہ اللہ “ اتاری گئی تاکہ تم نفل نماز اپنی سواری پر پڑھ لو جدھر تمہاری سواری کا رخ ہو۔
(5) امام بکاری اور بیہقی نے جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو غزوہ انمار میں اپنی سواری پر مشرق کی طرف نفل نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
(6) ابن ابی شیبہ، بخاری، بیہقی نے جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ اپنی سواری پر مشرق کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے تھے جب آپ فرض نماز پڑھنے کا ارادہ فرماتے تھے تو سواری سے نیچے اتر کر قبلہ رخ ہو کر نماز بڑھتے تھے۔
(7) ابن ابی شیبہ، ابو داؤد اور بیہقی نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ جب سفر فرماتے تھے اور نفل نماز پڑھنے کا ارادہ فرماتے تھے تو اپنی اونٹنی کو قبلہ رخ فرما کر تکبیر کہتے تھے پھر نماز پڑھ لیتے تھے جس طرف بھی اونٹنی اپنا رخ کرلیتی تھی۔
(8) ابو داؤد الطیالسی، عبد بن حمید، ترمذی (انہوں نے اس کو ضعیف کہا ہے) (ابن ماجہ، ابن جریر، ابن ابی حاتم العقیلی) (انہوں نے اس کو ضعیف کہا ہے) دارقطنی ابو نعیم (الحلیہ میں) اور بیہقی نے السنن میں عامر بن ربیعہ ؓ سے روایت کیا کہ ہم ایک اندھیری رات میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے ایک منزل پر اترے۔ ایک آدمی نے پتھر اٹھائے اور نماز کی جگہ بنائی پھر ہم نے اس میں نماز پڑھی جب صبح ہوئی تو ہم کو معلوم ہوا کہ ہم نے قبلہ کے علاوہ دوسرے رخ پر نماز پڑھی تھی ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم نے اس رات کو غیر قبلہ کی طرف نماز پڑھی تھی تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ” وللہ المشرق والمغرب “ (الآیہ) تو آپ نے فرمایا تمہاری نماز ہوگئی (یعنی ٹھیک ہوگئی اب لوٹانے کی ضرورت نہیں)
(9) دارقطنی، ابن مردویہ بیہقی نے حضرت جابر عبد اللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر روانہ فرمایا جس میں میں بھی تھا اندھیرا چھا گیا تو ہم قبلہ (کی سمت) کو نہ پہچان سکے ہم میں سے کچھ نے کہا کہ قبلہ شمال کی جانب ہے۔ انہوں نے اسی طرف نماز پڑھ لی اور نشاندہی کے لیے لکیر کھینچ دیں اور ہمارے بعض ساتھیوں نے کہا کہ قبلہ جنوب کی طرف ہے انہوں نے بھی اسی طرح نماز پڑھ لی اور لکیر کھینچ دی جب صبح ہوئی اور سورج نکل آیا تو یہ بات ظاہر ہوئی کہ وہ خطوط غیر قبلہ کی طرف تھے جب ہم سفر سے واپس لوٹے تو ہم نے نبی ﷺ سے سوال کیا تو آپ خاموش ہوگئے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری لفظ آیت ” وللہ المشرق والمغرب “ (الآیہ)
(10) سعید بن منصور اور ابن المنذر نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ ایک قوم پر قبلہ کی سمت گم ہوگئی۔ ان میں سے ہر آدمی نے ایک جانب کی طرف نماز پڑھ لی۔ پھر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور یہ بات ان کو بتائی تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی لفظ آیت ” فاینما تولوا فثم وجہ اللہ “۔
(11) امام مردویہ نے الضعیف سند کے ساتھ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر بھیجا۔ کہر (یعنی دھند) ہوجانے کی وجہ سے وہ قبلہ کی سمت ان کو معلوم نہ ہوسکی تو انہوں نے غیر قبلہ کی طرف نماز پڑھ لی۔ جب سورج نکلا تو ان پر یہ بات ظاہر ہوئی کہ انہوں نے قبلہ کے علاوہ (دوسرے رخ پر) نماز پڑھی۔ وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان کو اپنا حال بیان کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری لفظ آیت ” وللہ المشرق والمغرب “ (الآیہ)
(12) ابن جریر، ابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے ہم سے فرمایا کہ تمہارا بھائی یعنی نجاشی مرگیا اس کی نماز جنازہ پڑھو۔ تو صحابہ نے عرض کیا کہ ہم نے ایک ایسے آدمی پر نماز پڑھی ہے جو مسلمان نہیں تھا ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے اتارا لفظ آیت ” وان من اہل الکتب لم یؤمن باللہ “ (الآیہ) کہ وہ قبلہ کی طرف نماز نہیں پڑھتا تھا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری لفظ آیت ” وللہ المشرق والمغرب “ الآیہ۔
(13) ابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” ادعونی استجب لکم “ (المؤمن آیت 60) تو صحابہ نے عرض کیا کس طرف منہ کرکے (دعا کریں) تو یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” فاینما تولوا فثم وجہ اللہ “۔
(14) ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فاینما تولوا فثم وجہ اللہ “ سے مراد ہے کہ ادھر نبی اللہ تعالیٰ کی سمت ہے۔ جس طرف بھی مشرق یا مغرب کی طرف کرلو (وہیں اللہ تعالیٰ کو پاؤ گے) ۔
(15) ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ترمذی بیہقی نے اپنی سنن میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فثم وجہ اللہ “ سے مراد ہے قبلہ اللہ سے جہاں بھی تم ہو مشرق میں یا مغرب میں اس کی طرف منہ کرلو۔
(16) عبد بن حمید اور ترمذی نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت ” فثم وجہ اللہ “ منسوخ ہے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے ” فول وجھک شطر المسجد الحرام “ (البقرہ آیت 149) نے اس کو منسوخ کردیا۔
(17) ابن ابی شیبہ، ترمذی (انہوں نے اسے صحیح کہا) اور ابن ماجہ سے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مشرق اور مغرب کے درمیان قبلہ ہے۔
(18) ابن ابی شیبہ اور بیہقی نے ابن عمر ؓ سے اسی طرح روایت کیا کہ حضرت عمر ؓ سے روایت کیا کہ مشرق اور مغرب کے درمیان قبلہ ہے جب تم بیت اللہ کی طرف رخ کرلو۔