Ayah 2:80(1) امام ابن اسحاق، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، طبرانی اور الواحدی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہود کہا کرتے تھے کہ اس دنیا کی مدت سات ہزار سال ہے۔ اور ہم ہر ہزار سال بدلہ میں ایک دن آگ میں عذاب دئیے جائیں گے اس طرح یہ سات دن بنتے ہیں۔ پھر عذاب ختم ہوجائے گا تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی لفظ آیت ” وقالوا لن تمسنا النار “ سے لے کر ” ہم فیہا خلدون “ تک۔
جہنم کا عذاب دائمی ہے
(2) امام ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے اور الواحدی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ اہل کتاب نے اپنی کتابوں میں جہنم کے دونوں کناروں کے درمیان چالیس کا فاصلہ پایا تو کہنے لگے کہ دوزخ والے ہرگز عذاب نہیں دئیے جائیں مگر چالیس دنوں کی مقدار جب قیامت کا دن ہوگا تو ان کو آگ کو لگام دی جائے گی اور وہ ان میں چلیں گے یہاں تک کہ سقر تک پہنچ جائیں گے جس میں زقوم کا درخت ہے اور وہ اس مقام پر معین دنوں میں سے دن کے آخر میں پہنچیں گے۔ ان سے جہنم کے چوکیدار کہیں گے اے اللہ کے دشمنو ! تم نے گمان کیا تھا کہ تم ہرگز جہنم میں عذاب نہیں دئیے جاؤ گے مگر معین دنوں میں اب وہ گنتی کے دن گزر چکے اور ہمیشہ ہمیشہ کا سلسلہ باقی ہے پھر اس کی بلندی پر چڑھیں گے اور اپنے چہروں کے بل گریں گے۔
(3) امام ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ بلاشبہ یہود نے کہا ہم کو آگ لگے گی مگر وہی چالیس دن کی مدت کے لیے جس میں بچھڑے کی عبادت کی تھی۔
(4) عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے عکرمہ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ ایک دن یہود اکٹھے ہو کر نبی اکرم ﷺ سے جھگڑنے لگے اور کہنے لگے کہ ہم کو ہرگز آگ نہیں لگے مگر چند دن گنتی کے اور انہوں نے چالیس دنوں کا نام لیا۔ پھر ہم سے پیچھے آنے والے لوگ اس میں جلیں گے۔ اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ کی طرف اشارہ کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے سروں پر اپنے ہاتھ مبارک کو لوٹاتے ہوئے فرمایا تم جھوٹ کہتے ہو تم ہی لوگ ہمیشہ کے لیے آگ میں رہو گے۔ ہم تمہاری جگہ پر انشاء اللہ تعالیٰ کبھی بھی نہیں آئیں گے اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” وقالوا لن تمسسنا النار الا ایاما معدودۃ “ جس سے وہ چالیس رات مراد لیتے تھے۔
(5) ابن جریر نے زید بن اسلم سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے یہود سے فرمایا میں تم سے پوچھتا ہوں اللہ کی قسم کے ساتھ اور اس تورات کی قسم کے ساتھ جو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر طور سینا کے دن اتاری وہ دوزخ والے کون ہیں ؟ جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے تورات میں اتارا۔ تو انہوں نے کہا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان پر سخت غصہ ہوا پس ہم آگ میں چالیس دن رہیں گے پھر ہم نکل جائیں گے اور اس میں تم ہی پیچھے رہو گے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم جھوٹ کہتے ہو اللہ کی قسم ہم تمہاری جگہ پر ہرگز نہیں آئیں گے اس پر اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کی بات کی تصدیق اور ان کی بات کی تکذیب کے لیے یہ آیات اتاری لفظ آیت ” وقالوا لم تمسنا النار “ سے لے کر ” ہم فیہا خلدون “ تک۔
(6) امام احمد، بخاری، دارمی نسائی اور بیہقی نے دلائل میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب خیبر فتح ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ کو ایک بکری ہدیہ دی گئی جس میں زہر تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہاں جتنے یہودی ہیں سب کو جمع کرو آپ نے ان سے فرمایا تمہارا باپ کون ہے ؟ انہوں نے کہا فلاں آدمی ہے۔ انہوں نے کہا آپ نے فرمایا تم نے جھوٹ بولا بلکہ تمہارا باپ فلاں آدمی ہے۔ انہوں نے کہا آپ نے سچ فرمایا اور اچھی بات کی۔ پھر ان سے آپ نے فرمایا اگر میں تم سے کچھ پوچھوں تو تم مجھے سچ مچ بتاؤ گے ؟ انہوں نے کہا اے ابو القاسم ہاں ضرور اور اگر آپ سے جھوٹ بولیں گے تو آپ ہمارے جھوٹ کو پہچان لیں گے۔ جیسا کہ آپ نے ہمارے باپ کے بارے میں پہچان لیا۔ آپ نے ان سے پوچھادوزخ والے کون ہیں ؟ کہنے لگے ہم اس میں تھوڑے دنوں کے لیے ہوں گے۔ پھر تم لوگ ہماری جگہ پر آؤ گے۔ آپ نے ان سے فرمایا دفعہ ہوجاؤ اللہ کی قسم ہم کبھی بھی تمہاری جگہ پر آگ میں نہیں آئیں گے۔
(7) عبد بن حمید اور ابن جریر نے مجاہد سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” قل اتخذتم عند اللہ عھدا “ میں عہد سے پکا وعدہ ہے یعنی کیا تم نے اللہ تعالیٰ سے پکا وعدہ لے لیا تھا اس بات کا جیسا کہ تم کہتے ہو۔
(8) ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ جب یہود نے یہ کہا جو کچھ انہوں نے کہا کہ از خود انہوں نے دوزخ میں چند دن رہنے کا عقیدہ بنا لیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ سے فرمایا لفظ آیت ” قل اتخذتم عند اللہ عھدا “ آپ ان سے فرمائیے کیا تم نے اللہ تعالیٰ سے اس کے متعلق کوئی وعدہ لیا ہے۔ یا فرمایا عہد سے مراد لا الہ الا اللہ ہے یعنی کیا تم نے لا الہ الا اللہ کہا اور تم نے شرک کیا اور تم نے اللہ تعالیٰ کا انکار نہیں کیا اگر تم اس کلمہ کو کہہ چکے ہو تو پھر میں اب کی امید کرسکتا ہوں اور اگر تم نے اس کو یعنی الا الہ الا اللہ کو نہیں کہا تھا تو پھر اللہ تعالیٰ کے متعلق وہ بات کیوں کہتے ہو جو تم نہیں جانتے۔
(9) عبد بن حمید نے قتادہ سے روایت کیا ہے کہ فرماتے ہیں کہ لفظ آیت ” قل اتخذتم عنداللہ “ سے مراد ہے کہ تمہارے گمان کے مطابق تم کو آگ نہیں لگے گی مگر چند دن گنتی کے۔ پھر فرماتے ہیں کہ اگر تم نے اللہ تعالیٰ سے کوئی وعدہ لیا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کی ہرگز خلاف ورزی نہیں کریں گے۔ ” ام تقولون علی اللہ مالا تعلمون “ کیا تم خود اپنی طرف سے اللہ تعالیٰ کے متعلق وہ بات کہتے ہو جو تم نہیں جانتے ہو فرمایا ” قال القوم “ قوم نے جھوٹ اور باطل بات کہی اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے متعلق ایسی بات کہی جس کو وہ نہیں جانتے۔
Ayahs 2:81–82(1) حضرت ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” بلی من کسب “ سے مراد شرک ہے۔
(2) ابن ابی حاتم نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واحاطت بہ خطیئتہ “ کا مطلب یہ ہے کہ شرک نے اس کو گھیر لیا۔
(3) ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” بلی من کسبت سیءۃ “ سے مراد ہے کہ جس شخص نے تمہارے برے اعمال کی طرف عمل کیا اور اس چیز کا انکار کیا جس کا تم نے انکار کیا یہاں تک کہ اس کے کفر نے اس کو گھیر لیا۔ (یعنی کفر کی وجہ سے اس کی کوئی نیکی باقی نہیں رہی) ۔ لفظ آیت ” والذین امنوا وعملوا الصلحت اولئک اصحب الجنۃ ھم فیہا خلدون “ یعنی وہ شخص جو اس چیز پر ایمان لایا جس کے ساتھ تم نے انکار کیا تھا اور اپنے دین میں جو چیز تم نے چھوڑ دی تھی اس پر اس نے عمل کیا سو ان کے لیے جنت ہے جس میں ہمیشہ رہیں گے اللہ تعالیٰ ان کو خبر دے رہے ہیں کہ بلاشبہ ثواب اور عذاب خیر اور شر کے ساتھ ہے جو اس کے کرنے والوں پر ہمیشہ رہے گا اور کبھی بھی ختم نہیں ہوگا۔
(4) عبد بن حمید، ابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” واحاطت بہ خطیئتہ “ سے مراد گناہ کبیرہ ہے جو دوزخ والوں کے لئے عذاب کا موجب ہے۔
(5) امام وکیع اور ابن جریر نے حسن سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ لفظ آیت ” واحاطت بہ خطیئتہ “ کے بارے میں پوچھا گیا کہ ” خطیئتہ “ سے کیا مراد ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ تم لوگ قرآن کو پڑھو سو ہر وہ آیت جس پر اللہ تعالیٰ کا آگ کا وعدہ ہے وہ خطیئتہ ہے
(6) عبد بن حمید اور ابن جریر نے مجاہد سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” واحاطت بہ خطیئتہ “ سے مراد ہے اس کے گناہ اس کے دل کو گھیر لیں گے۔ اور جب بھی وہ گناہ کرتا ہے جو وہ اوپر اٹھتا ہے یہاں تک کہ دل کو ڈھانک لیتا ہے حتی کہ مٹھی کی طرح اس کا دل بند ہوجاتا ہے۔ پھر فرمایا اور ” خطیئتہ “ ہر وہ گناہ ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے آگ کا وعدہ فرمایا ہے۔
(7) ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید اور ابن جریر نے ربیع بن خیثم سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” احاطت بہ خطیئتہ “ سے مراد ہے وہ شخص جو تو بہ سے پہلے اپنی خطاؤں پر مرجائے۔
(8) امام وکیع، ابن جریر نے اعمش سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” واحاطت بہ خطیئتہ “ سے مراد ہے جو شخص اپنے گناہ کے ساتھ مرجائے (یعنی بغیر توبہ کئے) ۔
بنی اسرائیل سے عہد لیا گیا
Ayah 2:83(1) ابن اسحاق، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ لفظ آیت ” واذا اخذنا میثاق بنی اسرائیل “ سے مراد ہے ” میثاقکم “ یعنی تمہارا وعدہ۔
(2) امام ابن جریر نے ابو العالیہ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ لفظ آیت ” واذا اخذنا میثاق بنی اسرائیل “ (الآیہ) سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے پکا وعدہ لیا تھا کہ وہ خالص اسی کی عبادت کریں گے اور اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہیں کریں گے۔
(3) امام عبد بن حمید نے قتادہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” واذا اخذنا میثاق بنی اسرائیل “ یعنی جو وعدہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے لیا سو تم سنو جو قوم سے وعدہ لیا گیا تھا کہ لفظ آیت ” لا تعبدون الا اللہ وبالوالدین احسانا “ (یعنی اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کریں) ۔
(4) امام عبد بن حمید نے عیسیٰ بن عمر سے روایت کیا ہے کہ اعمش نے فرمایا کہ لفظ آیت ” لا تعبدون الا اللہ “ یا کے ساتھ پڑھتے ہیں اس لئے کہ ہم آخری آیت کو ” ثم تولوا “ پڑھتے ہیں اور تم پڑھتے ہو ” ثم تولیتم “ سو تم اس کو ” لاتعبدون “ پڑھو۔
(5) امام ابن جریر نے ضحاک کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وقولوا للناس حسنا “ سے مراد ہے۔ ” الامر بالمعروف والنھی عن المنکر “ اور ان کو ” لا الہ الا اللہ “ کا حکم کرو جنہوں نے ابھی تک یہ کلمہ نہیں پڑھا۔
(6) امام ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وقولوا للناس حسنا “ سے مراد ہے الامر بالمعروف والنھی عن المنکر (نیکی کا حکم کرو اور برائی سے روکو)
(7) امام بیہقی نے شعب الایمان میں علی ابن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وقولوا للناس حسنا “ سے مراد ہے یعنی سب لوگوں سے اچھی بات کہو۔
(8) عبد بن حمید اور ابن جریر نے عطاء اور ابو جعفر سے روایت کیا فرماتے ہیں کہ لفظ آیت ” وقولوا للناس حسنا “ سے مراد ہے کہ سب لوگوں کو اچھی بات کہو۔
(9) سعید بن منصور، ابن المنذر نے عبد المالک بن سلیمان سے روایت کیا فرماتے ہیں کہ زید بن ثابت ؓ لفظ آیت ” وقولوا للناس حسنا “ پڑھا کرتے تھے اور ابن مسعود ؓ بھی ” وقولوا للناس حسنا “ پڑھا کرتے تھے۔
(10) ابن اسحاق، ابن جریر، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ” ثم تولیتم “ سے مراد ہے یعنی تم نے یہ سب کچھ چھوڑ دیا۔
(11) امام ابن جریر (رح) نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ثم تولیتم “ سے مراد ہے تم نے میری اطاعت سے اعراض کیا ” الا قلیلا منکم “ اور وہ لوگ جن کو میں نے اپنی اطاعت کے لیے چن لیا۔ (وہ تم میں سے تھوڑے ہیں)
Ayahs 2:84–86(1) امام عبد بن حمید نے عاصم سے روایت کیا فرماتے ہیں کہ ” لا تسفکون دماء کم “ تا پر نصب، اور فا پر کسرہ اور کاف پر رفع کے ساتھ روایت کیا ہے۔
(2) عبد بن حمید نے طلحہ بن مصرف سے روایت کیا ہے کہ ” تسفکون “ میں فا پر رفع کے ساتھ پڑھتے تھے۔
(3) ابن جریر نے ابو العالیہ سے لفظ آیت ” واذ اخذنا میثاقکم لا تسفکون دماء کم “ الآیہ کا یہ مطلب بیان کیا ہے ہم نے ان سے عہد لیا کہ تم ایک دوسرے کو قتل نہ کرو گے لفظ آیت ” ولا یخرجون انفسکم من دیارکم “ یعنی بعض تمہارا بعض کو گھر سے نہ نکالے گا۔ پھر تم نے اس وعدہ کا اقرار کیا اور تم خود ہی گواہی بھی دیتے ہو۔
(4) امام ابن اسحاق، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ثم اقررتم وانتم تشھدون “ یعنی جو میں نے تم سے وعدہ لیا تھا وہ حق ہے۔ ” ثم انتم ھولاء تقتلون انفسکم “ یعنی اے شرک کرنے والو تم نے مشرکوں کو قتل کیا یہاں تک کہ تم نے اپنے خونوں کے ساتھ بہایا۔ لفظ آیت ” وتخرجون فریقا منکم من دیارھم “ یعنی تم ان کو ان کے گھروں سے نکالتے ہو۔ لفظ آیت ” تظھرون علیہم بالاثم والعدون “ اور یہ واقعہ ہوا جب اوس اور خزرج کے درمیان لڑائی تھی تو بنو فینقاع خزرج کے ساتھ نکلے اور نضیر اور قریظہ (یہودیوں کے دو قبیلے) اوس کے ساتھ نکلے اور فریقین میں سے ہر ایک نے اپنے بھائیوں کے خلاف اپنے اتحادیوں کی مدد کی یہاں تک کہ انہوں نے خونوں کو بہایہا۔ جب لڑائی ختم ہوگئی تو انہوں نے اپنے قیدیوں کے فدئیے دئیے تورات کے فرمان کی تصدیق کرتے ہوئے لفظ آیت ” وان یاتوکم اسری تفدوھم “ اور تم نے جان لیا کہ یہ بات تمہارے دین میں سے تم پر فرض ہے ” وھو محرم “ اور وہ تم پر حرام ہے۔ تمہاری کتاب میں ” اخراجھم “ یعنی ان کا نکالنا۔ لفظ آیت ” افتؤمنون ببعض الکتب وتکفرون ببعض “ تم بعض کتاب پر ایمان لاتے ہو اور بعض کا انکار کرتے ہو کیا تم فدیہ دیتے ہو ان کو چھڑانے کے لیے ایمان لاتے ہوئے اس کتاب کے ساتھ اور ان کو گھروں سے نکالتے ہو کفر کرتے ہوئے اس کتاب کے ساتھ۔
(5) امام ابن جریر نے ابو العالیہ سے روایت کیا ہے کہ عبد اللہ بن سلام ؓ جالوت قوم کے سردار پر کوفہ میں گزرے اور وہ ان عورتوں کی طرف سے فدیہ دے رہا تھا جن سے عربوں نے جماع نہیں کیا تھا اور جن سے عربوں نے جماع کیا تھا ان کا فدیہ نہیں دے رہا تھا عبد اللہ بن سلام ؓ نے فرمایا کیا تیری کتاب میں یہ لکھا ہوا نہیں ہے تو ان سب عورتوں کی طرف سے فدیہ دو ۔
(6) امام سعید بن منصور نے ابراہیم نخعی سے روایت کیا فرماتے ہیں کہ لفظ آیت ” وان یاتوکم اسری تفدوھم “ پڑھتے تھے۔
(7) امام سعید بن منصور نے حسن (رح) سے روایت کیا فرماتے ہیں کہ وہ ” اسری تفدوھم “ پڑھتے تھے۔
(8) امام ابن ابی داؤد نے المصاحف میں اعمش سے روایت کیا ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ ہماری قرأت میں لفظ آیت ” وان یاتوکم اسری تفدوہم “ ہے۔
(9) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن المنذر اور ابن ابی ھاتم نے ابو عبد الرحمن سلمی سے روایت کیا ہے کہ اس آیت کا پہلا حصہ عام ہے اور اس کا آخری حصہ خاص ہے اور یہ آیت پڑھی لفظ آیت ” ویوم القیمۃ یردون الی اشد العذاب، وما اللہ بغافل عما تعلمون “۔
(10) امام ابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا فرماتے ہیں کہ لفظ آیت ” اولئک الذین اشتروا الحیوۃ الدنیا بالاخرۃ “ کا معنی نقل کیا ہے کہ انہوں نے دنیا کے قلیل کو آخرت کے کثیر پر پسند کیا۔
Ayah 2:87(1) امام ابن ابی حاتم نے ابو مالک سے روایت کیا فرماتے ہیں کہ ” وقفینا “ سے مراد ہے ہم نے ان کے پیچھے بھیجے۔
(2) امام ابن عساکر نے جو یبر سے ضحاک کے سلسلہ سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولقد اتینا موسیٰ الکتب “ سے مراد ہے کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات اکٹھی ایک ہی مرتبہ مفصل اور محکم عطا فرمائی۔ ” وقفینا من بعدہ بالرسل “ پھر موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد یکے بعد دیگرے یہ رسول بھیجے۔ اشمویل بن بابل، مشتانیل، شعیابن امصیا، جزقیل، ارمیا بن حلقیا، اور وہ خضر (علیہم السلام) ہیں اور داؤد بن ایشا اور وہ ابو سلیمان ہیں اور مسیح عیسیٰ بن مریم (علیہم السلام) ان رسولوں کو اللہ تعالیٰ نے بھیجا اور موسیٰ بن عمر ان کے بعد امت کے لیے ان کو منتخب فرمایا اور ان سے اس بات کا پکا وعدہ لیا کہ محمد ﷺ کی صفات اور ان کی امت کی صفات کو اپنی امتوں کی طرف پہنچاؤ گے۔
قولہ تعالیٰ : واتینا عیسیٰ ابن مریم البینت۔
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات
(3) ابن جریر، ابن اسحاق نے ابن ابی حاتم سے روایت کیا کہ بینات سے مراد وہ ہے معجزات ہیں جو آپ کے ہاتھ پر ظاہر ہوئے۔ مثلاً مردوں کو زندہ کرنا اور مٹی سے ان کا پرندہ کی شکل بنانا اور بیماروں کو صحت یاب کرنا اور غیب کی کثرت سے خبریں دینا۔ اور انجیل کے ساتھ ان پر تورات کے احکام لوٹانا جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف بیان فرما دیا تھا۔
قولہ تعالیٰ : وایدنہ بروح القدس۔
(4) امام ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ ” وایدنہ “ سے مراد ہے ہم نے اس کو قوت دی تھی (روح القدس کے ساتھ) ۔
(5) ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ روح القدس سے مراد وہ اسم ہے جس سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) مردوں کو زندہ کیا کرتے تھے۔
(6) امام ابن ابی حاتم نے مجاہد سے روایت کیا فرماتے ہیں کہ القدس سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔
(7) ابن ابی حاتم نے ربیع ابن انس سے روایت کیا فرماتے ہیں کہ قدس سے مراد ” رب تعالیٰ “ ہیں۔
(8) ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا فرماتے ہیں کہ قدس کا معنی ہے پاک۔
(9) ابن جریر نے سدی سے روایت کیا فرماتے ہیں کہ قدس سے مراد برکت ہے۔
(10) ابن ابی حاتم نے اسماعیل بن ابی خالد سے روایت کیا فرماتے ہیں کہ لفظ آیت ” وایدنہ بروح القدس “ یعنی جبرئیل (علیہ السلام) نے ان کی مدد کی۔
(11) ابن ابی حاتم نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا فرماتے ہیں کہ روح القدس سے جبرئیل (علیہ السلام) مراد ہیں۔
(12) ابو الشیخ نے العظمہ میں حضرت جابر ؓ سے روایت کیا فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ روح القدس سے جبرائیل (علیہ السلام) مراد ہیں۔
(13) امام ابن سعید، احمد، بخا ری، ابو داؤد، اور تر مذی حضرت عا ئشہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت حسان کے لیے مسجد میں منبر رکھوایا اور وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے (مشرکین کے ہجو کی) مدافعت کرتے تھے اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے اللہ حسان کی روح القدس (یعنی جبرائیل علیہ السلام) کے ذریعہ مدد فرما جیسا کہ وہ اپنے نبی کی طرف سے اشعار کے ذریعہ مدافعت کرتے ہیں۔
(14) امام ابن حبان نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ روح القدس یعنی جبرئیل (علیہ السلام) نے میرے دل میں یہ بات پھونک دی ہے کہ کوئی جان ہرگز نہیں مرے گی حتی کہ اپنے رزق کو پورا نہ کرے سو تم اللہ سے ڈرو رزق کا طلب کرنے میں عمدہ طریقہ اختیار کرو۔
(15) امام الزبیر بن بکار نے احبار مدینہ میں حضرت حسن ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا روح القدس یعنی جبرئیل کی بات میں سے یہ بھی ہے کہ ہرگز زمین کو یہ اجازت نہیں دی گئی کہ وہ آپ ﷺ کے جسم کو کھائے۔
قولہ تعالیٰ : ففریقا کذبتم وفریقا تقتلون (87)
(16) امام ابن ابی حاتم نے حضرت جبیر سے روایت کیا کہ ” فریقا “ سے مراد جماعت ہے۔
Ayah 2:88(1) ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ دل کو پلٹ جانے کی وجہ سے قلب کہا جاتا ہے کیونکہ یہ مختلف کیفیات میں بدلتا رہتا ہے۔
(2) امام طبرانی نے الاوسط میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ دل آپ اس طرح پڑھا کرتے تھے لفظ آیت ” وقالوا قلوبنا غلف “ تشدید کے ساتھ یہودی کہتے تھے کہ تم کس طرح ہم کو سکھاتے ہو ہمارے دل حکمت کے لیے غلاف نہیں یعنی حکمت کے لیے برتن ہیں۔
(3) ابن جریر ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وقالوا قلوبنا غلف “ یعنی ہمارے دل علم سے بھرے ہوئے ہیں اس لیے ہمیں محمد ﷺ کے علم کی کوئی ضرورت نہیں اور نہ اس کے علاوہ کسی اور علم کی۔
(4) عبد بن حمید اور ابن جریر نے حضرت عطیہ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وقالوا قلوبنا غلف “ یعنی یہ وہ ایسے دل ہیں جن پر مہریں لگی ہوئی ہیں۔
(5) وکیع نے عکرمہ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وقالوا قلوبنا غلف “ یعنی دلوں پر مہر ہے۔
(6) امام ابن جریر نے مجاہد سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وقالوا قلوبنا غلف “ یعنی دلوں پر پردہ ہے۔
(7) عبد بن حمید اور ابن جریر نے قتادہ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وقالوا قلوبنا غلف “ یعنی انہوں نے کہا کہ ہمارے دل نہیں سمجھتے۔
دل کی چار قسمیں
(8) ابن ابی شیبہ اور ابن ابی الدنیا نے کتاب الاخلاص میں ابن جریر نے حضرت حذیفہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ دل چار قسم کے ہیں وہ دل جو ڈھکا ہوا ہوتا ہے کہ یہ دل منافق کا ہے۔ اور وہ جو صاف ہوتا ہے جس میں مثل چراغ کے ایمان کی روشنی ہے اور یہ دل مؤمن کا ہے۔ اور وہ دل جس میں ایمان اور نفاق دونوں ہیں سو ایمان کی مثال ایسے درخت کی ہے جس کو پاک پانی بڑھاتا ہے اور نفاق کی مثال پھوڑے کی سی ہے جس کو پیپ اور خون بڑھاتا ہے۔ سو دونوں فاسد مادوں میں سے جو مادہ غالب آتا ہے وہ دوسرے کو ہلاک کردیتا ہے۔
(9) امام عاصم نے حضرت حذیفہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ دلوں پر فتنہ پیش کیا جاتا ہے سو جو دل اس کا انکار کردیتا ہے اس دل میں ایک سفید داغ پیدا ہوجاتے ہیں اور جو دل اس کا انکار نہیں کرتا اس کو قبول کرلیتا ہے۔ تو اس دل میں ایک سیاہ داغ پیدا ہوجاتا ہے کہ پھر دلوں پر دوسرا فتنہ پیش کیا جاتا ہے اگر اس دل نے پھر انکار کردیا جس نے پہلے بھی انکار کیا تھا تو اس دل میں ایک اور سفید داغ پیدا ہوجاتا ہے اور اگر دل نے انکار نہ کیا تو پھر مزید سیاہ داغ لگ جاتا ہے۔ پھر اور فتنہ پیش کیا جاتا ہے اگر اس دل نے پھر انکار کردیا تو سفیدی شدید ہوجاتی ہے۔ اس کو کبھی بھی کوئی فتنہ ضرر نہیں پہنچا سکتا۔ اور اگر اس نے پہلے دونوں مرتبہ انکار نہ کیا تو وہ کالا ہوجاتا ہے۔ اور الٹا ہوجاتا ہے اور جھک جاتا ہے۔ پھر ایسا دل حق کو نہیں پہچانتا اور نہ کسی گناہ کا انکار کرتا ہے۔
(10) امام ابن ابی شیبہ نے کتاب الایمان میں اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت علی ؓ سے روایت کیا ہے کہ بلاشبہ ایمان دل میں ایک مختصر سفیدی میں حاضر ہوتا ہے جب ایمان زیادہ ہوتا ہے تو سفید بھی زیادہ ہوجاتا ہی اور نفاق بھی دل میں چھوٹی سی سیاہی کی طرح ظاہر ہوتا ہے۔ جب نفاق زیادہ ہوتا جاتا ہے تو سیاہی بھی زیادہ ہوتی جاتی ہے۔ جب نفاق مکمل ہوجاتا ہے تو سارا دل سیاہ ہوجاتا ہے۔ اور اللہ کی قسم اگر تم مؤمن کے دل کو چیر کر دیکھو تو اس کو سفید پاؤ گے اور تم منافق کے دل کو چیر کر دیکھو تو اس کو سیاہ پاؤ گے۔
(11) امام احمد نے جید سند کے ساتھ حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دل چار قسم کے ہوتے ہیں ایک وہ دل ہے جو صاف ہوتا رہتا ہے اس میں چراغ کی طرح کوئی چیز روشن ہوتی ہے اور دوسرا وہ دل ہے جو غلاف میں لپٹا ہوا ہوتا ہے۔ اور تیسرا وہ دل جو اندھا کیا ہوا اور چوتھا وہ دل ہے جو ڈھکا ہوا ہوتا ہے وہ دل جو صاف ہوتا ہے وہ مؤمن کا دل ہے اس کو چراغ ہے جس میں اس کی روشنی ہے اور جو دل غلاف چڑھا ہوا ہے وہ دل کافر کا ہے اور جو دل اوندھا کیا ہوا ہے وہ دل ایسے منافق کا ہے جو کافر ہے جو حق بات پہچانتا ہے پھر بھی انکار کرتا ہے اور جو دل ڈھکا ہوا ہے اس دل میں ایمان بھی ہے اور نفاق بھی ہے۔ اور اس میں ایمان کی مثال ایسی سبزی کی طرح ہے جس کو پاک پانی بڑھاتا ہے اور اس میں نفاق کی مثال اس پھوڑے کی سے ہے جس کو پیپ اور خون بڑھاتا ہے پھر ان دونوں فاسد مادوں میں سے جس نے دوسرے پر غلبہ کرلیا وہ اس پر غالب ہوگیا سلمان فارسی سے اسی طرح موقوف روایت ہے۔
واما قو لہ تعالیٰ : فقلیلا ما یؤمنون۔
(12) امام عبد الرز اق اور ابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فقلیلا ما یؤمنون “ سے مراد ہے کہ ان میں سے بہت تھوڑے سے لوگ ایمان لاتے ہیں۔
Ayah 2:89(1) امام عبد بن حمید اور ابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ولما جاء ھم کتب من عند اللہ “ یعنی وہ قرآن جب ان کے پاس آیا لفظ آیت ” مصدق لما معھم “ (یعنی تورات اور انجیل کی بھی تصدیق کرنے والا جو ان کے پاس ہے)
واما قولہ تعالیٰ : وکانوا من قبل یسفتحون :
(2) امام ابن اسحاق ابن جریر، ابن المنذر، ابراہیم اور بیہقی نے دلائل میں عاصم بن عمر بن قتادہ انصاری سے روایت کیا ہے کہ مجھ سے ہمارے شیوخ نے بیان کیا کہ عربوں میں سے کوئی آدمی رسول اللہ ﷺ کی شان کو ہم سے زیادہ جاننے والا نہیں تھا۔ ہمارے ساتھ یہود رہتے تھے۔ اور وہ اہل کتاب تھے اور ہم بت پرست تھے اور جب ہم ان کو کوئی ناپسندیدہ چیز پہنچاتے تو وہ کہتے ایک نبی عنقریب آنے والا ہے اور تحقیق اس کا زمانہ لمبا ہوچکا ہے ہم اس کی تابعداری کریں گے اور ہم ان کے ساتھ ہو کر تم سے قوم عاد اور قوم ارم کی طرح قتل کریں گے جب اللہ تعالیٰ نے اپنا رسول بھیج دیا تو ہم نے ان کی تابعداری کی اور انہوں نے اس کا انکار کیا تو ہمارے بارے میں اور ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ لفظ آیت ” وکانوا من قبل یستفتحون علی الذین کفروا “ ساری آیت۔
(3) بیہقی نے دلائل میں سدی کے طریق سے ابو ملک اور ابو صالح کے واسطہ سے حضرت ابن عباس ؓ ، مرہ اور ابن مسعود ؓ اور دوسرے صحابہ ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ عرب لوگ جب یہود کے پاس سے گزرتے تھے تو وہ انہیں تکلیف پہنچاتے اور وہ محمد ﷺ کا ذکر تورات میں پڑھتے تھے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے کہ وہ اس نبی ﷺ کو بھیج دیں تاکہ ہم ان کے ساتھ مل کر عرب سے جنگ کریں گے۔ پھر جب محمد ﷺ ان کے پاس آگئے تو انہوں نے ان کا انکار کردیا جب وہ بنی اسرائیل میں سے نبی نہ ہوئے۔
(4) امام ابو نعیم نے دلا ئل میں عطاء اور ضحاک کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہو دی بنی قریظہ اور نضیر محمد ﷺ کی بعثت سے پہلے اللہ تعالیٰ سے آپ ﷺ وسیلہ سے دشمنوں پر فتح مانگتے تھے۔ کافروں کے خلاف مدد طلب کرتے ہوئے یوں کہتے تھے۔
اللہم انا نستنصرک بحق النبی الامی الا نصرتنا علیہم
اے اللہ ! ہم تجھ سے نبی امی کے طفیل مدد طلب کرتے ہیں عربوں پر تو ہماری مدد فرما۔
سو وہ اس دعا کی وجہ سے مدد کئے جاتے تھے۔ لفظ آیت ” فلما جاء ھم ما عرفوا “ یعنی جب انہوں نے محمد ﷺ کی آمد کو جان لیا اور اس میں ان کو کوئی شک نہ رہا ” کفر وابہ “ تو انہوں نے انکار کردیا۔
(5) امام ابو نعیم نے دلائل میں الکلبی کے طریق سے ابو صالح کے واسطہ سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ مدینہ کے یہودی نبی اکرم ﷺ کی آمد سے پہلے جب مشرکین عرب کے قبائل اسد، غطفان، جیہنہ اور عذرہ سے لڑتے تھے تو نبی اکرم ﷺ کے طفیل ان پر اللہ تعالیٰ سے فتح اور مدد مانگتے تھے اور اس طرح دعا مانگتے تھے۔
اللہم ربنا انصرنا علیہم باسم نبیک وکتابک الذی تنزل علیہ الذی وعدتنا انک باعثہ فی اخر الزمان۔
ترجمہ : اے اللہ ہماری ان پر مدد فرما اپنے نبی کے نام کے ساتھ اور اپنی کتاب کے ساتھ جس کو تو ان پر اتارے گا جس کا آپ نے ہم سے وعدہ فرمایا کہ بیشک آپ اس کو آخری زمانہ میں بھیجیں گے۔
(6) عبد بن حمید، ابن جریر نے ابو نعیم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ یہودی کفار عرب پر اللہ تعالیٰ سے محمد ﷺ کے وسیلہ سے فتح طلب کرتے ہیں۔ اور کہتے تھے اللہ اس نبی کو بھیج دے جس کو ہم تورات میں پاتے ہیں تاکہ وہ ان کافروں کو عذاب سے اور ان کو قتل کرے جب اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو بھیج دیا تو وہ کافر ہوگئے جب انہوں نے دیکھا کہ آپ ﷺ عربوں میں مبعوث ہوئے تو ان کا انکار عرب لوگوں پر حسد کی وجہ سے تھا حالانکہ وہ جانتے تھے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔
یہود کا نبی برحق کو ماننے سے انکار
(7) امام حاکم اور بیہقی نے دلائل میں ضعیف سند کے ساتھ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ خیبر کے یہود، غطفان والوں سے لڑتے تھے اور جب کبھی بھی جنگ میں شکست کا اندیشہ ہوجاتا تو یہ دع مانگتے :
اللہم انا نسئلک بحق محمد النبی الامی الذی وعدثنا ان نخرجہ لنا فی اکر الزمان الانصرتنا علیہم۔
ترجمہ : اے اللہ ہم آپ سے محمد نبی امی کے طفیل سوال کرتے ہیں جس کا آپ نے ہم سے وعدہ فرمایا کہ تو اس کو آخری زمانہ میں بھیجے گا۔ ان پر ہماری مدد فرما۔
جب اس دعا کے ساتھ دشمن سے مقابلہ کرتے تو غطفان کو شکست دے دیتے پھر جب نبی اکرم ﷺ کی بعثت ہوگئی تو انہوں نے ان کو ماننے سے انکار کردیا اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ لفظ آیت ” وکانوا من قبل یستفتحون علی الذی کفروا، فلما جاء ھم ما عرفوا کفروا بہ “ یعنی وہ آپ کے واسطے کے ساتھ فتح طلب کرتے تھے اے محمد ! الی قولہ فلعنۃ اللہ علی الکفرین۔
(8) امام ابن اسحاق، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم اور ابو نعیم نے دلائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہودی آپ کی بعثت سے پہلے اوس اور خزرج پر رسول اللہ کے طفیل اللہ تعالیٰ سے فتح کو مانگتے تھے جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو عرب میں مبعوث فرما دیا تو وہ منکر ہوگئے اس بات سے کہ انکار کردیا جو وہ آپ کے بارے میں کہا کرتے تھے۔ ان یہودیوں کو معاذ بن جبل، بشیر بن براء اور داؤد بن سلمہ نے کہا کہ اے یہود کے گروہ ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اسلام لے آؤ تم ہم پر محمد ﷺ کے طفیل مددطلب کیا کرتے تھے۔ اور ہم مشرک تھے۔ اور ہم کو یہ خبر دیا کرتے تھے کہ وہ نبی مبعوث ہونے والا ہیں۔ اور تم ہم سے ان کی صفات بیان کیا کرتے تھے۔ تو اس پر بنی نضیر کے ایک آدمی سلام بن مشکم نے کہا کہ ہمارے پاس کوئی چیز ایسی نہیں آئی جس کو ہم پہچان سکیں یہ وہ نہیں ہیں جن کا ہم تم سے ذکر کیا کرتے تھے۔ تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی لفظ آیت ” ولما جاء ھم کتب من عند اللہ “ (الآیہ (۔
(9) امام احمد، ابن قانع، طبرانی، ابو نعیم اور نیہقی نے دلائل میں سلمہ بن سلامہ بن وقش ؓ (جو اہل بدر میں سے تھے) سے روایت کیا ہے کہ بنی اشہل میں سے ایک یہودی ہمارا پڑوسی تھا۔ وہ ایک دن رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے اپنے گھر سے ہمارے پاس آیا۔ تھوڑا سا آگے چلا یہاں تک کہ بنی اشہل کی مجلس پر آکر کھڑا ہوگیا۔ سلمہ نے کہا کہ میں ان دنوں نو عمر تھا اور مجھ پر ایک چادر تھی جو میں اپنے گھر کے صحن میں اوڑھ کر لیٹ جاتا تھا۔ اس یہودی نے دوبارہ اٹھنے کا، قیامت کا، حساب کا، میزان کا اور جنت کا اور دوزخ کا ذکر کیا۔ اور کہا یہ آگ شرک والے اور بتوں والوں کے لیے ہوگی جو موت کے بعد اٹھنے کو نہیں مانتے انہوں نے اس سے کہا تیرا بیڑا غرق ہو اے فلانے ! کیا تو خیال کرتا ہے کہ لوگ اپنی موت کے بعد اس گھر کی طرف اٹھائے جائیں گے جس میں جنت اور دوزخ ہے وہ اس میں اپنے اعمال کا بدلہ دئیے جائیں گے ؟ اس نے کہا ہاں ! اور قسم ہے اس ذات کی جس کے ساتھ قسم کھائی جاتی ہے وہ اس بات کو پسند کرے گا کہ اس آخرت والی آگ کے بدلہ میں دنیا میں آگ کا بڑا تنور ہو وہ اس کو گرم کریں گے پھر اس میں اسے داخ کریں اور پھر وہ اس پر مٹی لگا کر بند کردیں۔ تاکہ وہ اس کل والی آخرت کی آگ سے نجات پالے وہ لوگ اس سے کہنے لگے کہ تیرا بیڑا غرق ہو اس کی کیا نشانی ہے اس نے کہا ان شہروں میں نبی مبعوث ہونے والا ہے اور اس نے اپنے ہاتھ سے مکہ اور یمن کی طرف اشارہ کیا انہوں نے کہا کہ ہم اس کو کب دیکھیں گے اس نے کہا اور میری طرف دیکھا میں ان لوگوں میں سے نوعمر تھا کہنے لگا کہ یہ لڑکا اپنی عمر میں اس نبی کو پالے گا۔ سلمہ نے کہا اللہ کی قسم ایک رات اور دن نہیں گزرا تھا حتی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو بھیج دیا اور وہ اب ہمارے درمیان ہیں۔ ہم ان پر ایمان لے آئے اور اس یہودی نے سرکشی اور حسد کی وجہ سے ان کا انکار کردیا۔ ہم نے کہا اے فلانے ! ہلاکت ہو تیرے لئے کیا تو وہ نہیں ہے جو تو نے ہم کو ایسی ایسی بات کہی تھی کہنے لگا کیوں نہیں اور یہ وہ (نبی) نہیں ہیں۔
(10) ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وکانوا من قبل یستفتحون علی الذین کفروا “ اہل کتاب محمد ﷺ کے خروج کے طفیل مشرکین عرب پر اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرتے تھے پھر جب اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو بھیج دیا اور انہوں نے دیکھا کہ وہ تو ان کے علاوہ عربوں میں سے ہیں تو انہوں نے ان کا انکار کردیا اور ان کے ساتھ حسد کرنے لگے۔
(11) امام عبد بن حمید اور ابن جریر نے حضرت سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فلما جاء ھم ما عرفوا کفروا بہ “ یعنی یہ آیت یہود کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے محمد ﷺ کو پہچان لیا کہ آپ نبی ہیں اور پھر بھی آپ ﷺ کی نبوت کا انکار کردیا۔
Ayah 2:90(1) امام عبد بن حمید اور ابن جریر نے قتادہ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” اشتروا بہ “ الآیہ سے مراد یہود ہیں۔ جنہوں نے کتاب کا جو اللہ تعالیٰ نے اتاری اور محمد ﷺ کا انکار کیا زیادتی کرتے ہوئے اور عربوں کے ساتھ حسد کرتے ہوئے۔ لفظ آیت ” فباء و بغضب علی غضب “ یعنی اللہ نے ان پر دو مرتبہ غصہ فرمایا ایک مرتبہ انجیل اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے انکار کی وجہ سے اور دوسری مرتبہ قرآن اور محمد ﷺ کا انکار کرنے کی وجہ سے۔
(2) امام الطستی نے اپنے مسائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ارزق نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” بئسما اشتروا بہ انفسھم “ الآیہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا اس کا مطلب ہے کہ بڑی ہے وہ چیز جس کے بدلہ میں انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ دیا اس طرح سے کہ انہوں نے اپنے آخرت کے حصہ کو تھوڑی دنیا کے لالچ میں بیچ دیا۔ عرض کیا کیا عرب لوگ اس معنی کو جانتے ہیں۔ فرمایا ہاں کیا تو نے شاعر کا یہ قول نہیں سنا۔
یعطی بھا ثمنا فیمنعھا ویقول صاحبھا الاتشتری
ترجمہ : یعنی اس کے بدلہ ان کو پیسے دیتا ہے حالانکہ وہ اس کو روکتا ہے اس کا مالک کہتا ہے کیا تو نہیں خریدتا۔
(3) امام ابن اسحاق، ابن جریر، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” بغیا ان تنزل اللہ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے علاوہ دوسری قوم میں سے نبی کو پیدا فرما دیا۔ ” فباء بغضب “ وہ اس نبی کے انکار کی وجہ سے پے در پے غضب کے مستحق ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ کا غصہ تھا اس وجہ سے کہ انہوں نے تورات میں جو کچھ آپ ﷺ کے بارے میں صفات تھیں ان کو ضائع کردیا۔
(4) امام ابن جریر نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” فباء بغضب علی غضب “ یعنی ان کا عیسیٰ (علیہ السلام) اور محمد ﷺ کے انکار کی وجہ سے پے در پے غضب کے مستحق ہوگئے۔
(5) امام ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” فباء وبغضب علی غضب “ نبی اکرم ﷺ کے خروج سے پہلے تورات میں ردو بدل کردیا تھا ” علی غضب “ نبی اکرم ﷺ کے بارے میں ان کا انکار کرنا اور جو کتاب آپ اللہ کی طرف سے لے آئے اس کا انکار کرنے کی وجہ سے پے در پے غضب کے مستحق ہوگئے۔
Ayahs 2:91–92(1) امام ابن جریر نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ویکفرون بما ورآء ہ “ یعنی جو کچھ اس تورات کے بعد ہے ان سب کا انکار کرتے ہیں۔
(2) امام ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ویکفرون بما ورآء ہ “ وہ قرآن کا انکار کرتے ہیں۔
Ayah 2:93(1) عبد الرزاق اور ابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واشربوا فی قلوبھم العجل بکفرہم “ یعنی اس بچھڑے کی محبت کو انہوں نے پیا۔ یہاں تک کہ وہ محبت ان کے دلوں میں رچ گئی۔
Ayahs 2:94–95(1) ابن جریر نے ابو العالیہ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وقالوا لن یدخل الجنۃ الا من کان ھودا ونصری “ اور انہوں نے کہا ” نحن ابناء اللہ واحباء ہ “ المائدہ تو اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری لفظ آیت ” قل ان کانت لکم الدار الاخرۃ عند اللہ خالصۃ من دون الناس فتمنوا الموت ان کنتم صدقین “ لیکن انہوں نے موت کی تمنا نہیں کی۔
یہود کے زعم باطل کی تردید
(2) امام بیہقی نے دلائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ اے محمد ﷺ ان کو فرما دیجئے لفظ آیت ” ان کانت لکم الدار الاخرۃ “ یعنی جنت جیسا کہ تم گمان کرتے ہو۔ ” خالصۃ من دون الناس “ یعنی مؤمنین کے علاوہ خالص تمہارے لئے ہے۔ لفظ آیت ” فتمنوا الموت ان کنتم صدقین “ کیونکہ وہ جنت خالص تمہارے لئے ہے مؤمنین کے علاوہ اب موت کی تمنا کرو تاکہ جلدی سے پہنچ جاؤ۔ اس کو رسول ﷺ نے فرمایا کہ اگر تم اپنی بات میں سچے ہو تو کہو اے اللہ ! ہم کو موت دے دے۔ تاکہ ہم جلدی جنت میں پہنچ جائیں۔ سو قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے تم میں سے ایک آدمی بھی ایسا نہیں کہے گا مگر وہ گلے میں اپنی تھوک نگلنے کی وجہ سے مرجائے گا۔ انہوں نے ایسا کہنے سے انکار کردیا اور جو کچھ ان کو کہا گیا تھا کہ موت کی تمنا کرو اس کو انہوں نے ناپسند کیا تو اس پر آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” ولن یتمنوہ ابدا بما قدمت ایدیہم “ یعنی جو کچھ انہوں نے اپنے ہاتھوں سے برے اعمال کئے تھے ” واللہ علیم بالظلمین “ اور اللہ ظالموں کو جانتے ہیں۔ اس لئے وہ ہرگز اس بات کی تمنا نہیں کریں گے رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کے نازل ہونے کے وقت فرمایا اللہ کی قسم وہ کبھی بھی اس کی تمنا نہیں کریں گے۔
(3) ابن اسحاق، ابن جریر، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” فتمنوا الموت “ یعنی دونوں فریقوں میں سے جو فریق جھوٹا ہے اس پر موت کی دعا کرو تو یہود نے ایسا کرنے سے انکار کردیا اور وہ اس دن اس کی تمنا کرلیتے تو ایک یہودی بھی زمین پر زندہ نہ رہتا۔
(4) امام ابن جریر (رح) نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” قل ان کانت لکم الدار الاخرۃ “ یعنی جنت خالصہ۔ یعنی خاص تمہارے لئے ہے ” فتمنوا الموت “ یعنی تم اللہ تعالیٰ سے موت کا سوال کرو ” ولن یتمنوہ ابدا “ وہ ہرگز تمنا نہیں کریں گے اس لئے کہ وہ جانتے تھے کہ وہ جھوٹے ہیں ” بما قدمت “ یعنی گزشتہ اعمال کی وجہ سے وہ ایسا نہیں کریں گے۔
(5) امام عبد الرزاق، ابن جریر، ابن المنذر اور ابو نعیم نے دلائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اگر یہودی موت کی تمنا کرتے تو وہ مرجاتے۔
(6) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اگر وہ موت کی تمنا کرتے تو ان میں سے ہر ایک کا گلہ تھوک کی وجہ سے گھٹ جاتا۔
(7) امام احمد، بخاری، مسلم، نسائی، ترمذی، ابن مردویہ اور ابو نعیم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر یہودی موت کی تمنا کرلیتے تو مرجاتے اور اپنا ٹھکانہ آگ میں دیکھتے۔
Ayah 2:96(1) امام ابن ابی حاتم اور حاکم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ولتجدنھم احرص الناس علی حیوۃ “ یعنی یہود ” من الذین اشرکوا “ یعنی عجمی لوگ۔
(2) امام ابن اسحاق، ابن جریر، ابن ابی حاتم نے حضرت عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ولتجدنھم احرص الناس علی حیوۃ “ یعنی یہود ” من الذین اشرکوا “ سے مراد مشرک ہیں اس لئے کہ مشرک موت کے بعد اٹھنے کی تمنا نہیں رکھتا اور وہ لمبی زندگی کو پسند کرتا ہے اور یہودی اس رسوائی کو جانتے ہیں جو آخرت میں ان کو ہوگی جو کچھ انہوں نے دنیا میں کیا۔ اور وہ جانتے ہیں۔ ” وما ھو بمزحزحہ “ یعنی اس کو بچانے والا۔
(3) سعید بن منصور ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن المنذر اور حاکم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” یود احدھم لو یعمر الف سنۃ “ یعنی یہ عجمی لوگوں کی بات ہے کہ جب ان میں سے کوئی چھینک مارتا ہے تو کہتا کہ وہ ہزار سال یعنی ہزار سال زندہ رہے۔ روایت صحیح ہے۔
(4) ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ” وما ھو بمزحزحہ “ یعنی وہ لوگ جنہوں نے جبرئیل (علیہ السلام) سے دشمنی کی۔