Ayahs 2:68–71(1) امام البزار نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر بنی اسرائیل کوئی معمولی گائے بھی لے لیتے تو ان کو کافی ہوجاتی یا (فرمایا) کہ ان کی طرف سے کافی ہوجاتی۔
(2) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا اگر بنی اسرائیل یوں نہ کہتے ” وانا انشاء اللہ لمھتدون “ (اور ہم انشاء اللہ ٹھیک پتہ لگالیں گے) تو کبھی ان کو گائے نہ ملتی۔ اگر وہ کوئی گائے بھی لے کر ذبح کرلیتے تو وہ ان کی طرف سے کافی ہوجاتی لیکن انہوں نے سختی اختیار کرلی اللہ تعالیٰ نے بھی ان پر سختی ڈال دی۔
(3) عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ وہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا اگر بنی اسرائیل کوئی معمولی سی گائے لے لیتے کہ اس کو ذبح کرلیتے تو ان کی طرف سے کافی ہوجاتی لیکن انہوں نے (خود میں) سختی اختیار کی اور اگر وہ لفظ آیت ” وانا انشاء اللہ لمھتدون “ نہ کہتے تو اس (گائے) کو کبھی نہ پاتے۔
(4) ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ان کو (یعنی بنی اسرائیل کو) معمولی گائے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تھا لیکن انہوں نے اپنے اوپر سختی کی تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان پر سختی فرمائی اور اگر وہ انشاء اللہ کہتے تو قیامت تک ان کے لئے گائے ظاہر نہ ہوتی۔
(5) ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ نبی اکرم ﷺ فرمایا کرتے تھے قوم (بنی اسرائیل) کو معمولی گائے (کے ذبح کرنے) کا حکم دیا گیا لیکن انہوں نے اپنی جانوں پر سختی کی تو ان پر بھی سختی کردی گئی اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد ﷺ کی جان ہے اگر وہ انشاء اللہ کہتے تو کبھی گائے ظاہر نہ ہوتی۔
(6) حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اگر (بنی اسرائیل) معمولی گائے لے کر اس کو ذبح کرلیتے تو ان کی طرف سے کافی ہوجاتا لیکن انہوں نے (خود ہی) سختی کی اور موسیٰ (علیہ السلام) کو دشواری میں ڈالا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر سختی فرما دی۔
(7) ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے متعدد طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” لا فارض ولا بکر عوان بین ذلک “ کے بارے میں روایت کیا کہ الفارض سے مراد بوڑھی اور البکر سے مراد چھوٹی اور العوان سے مراد آدھی عمر والی۔
(8) امام الطستی نے اپنے مسائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کہا کہ نافع بن ازرق ؓ نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ جل شانہ کے اس قول ” لافارض “ کے بارے میں بتلائیے (کہ اس سے کیا مراد ہے) انہوں نے فرمایا کہ اس سے مراد اس گائے سے ہے جو بڑی ہو اور بوڑھی ہو (پھر) عرض کیا گیا عرب لوگ بھی اس معنی سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے ایک شاعر کو نہیں سنا جو یہ کہتا ہے۔
لعمری قد اعطیت صیفک فارضا نساق الیہ ما تقوم علی رحل
ترجمہ : قسم ہے مجھے اپنی عمر کی کہ تحقیق تو نے اپنے مہمان کو بوڑھی گائے دی ہے اس کو تو وہ دی جاتی ہے جو اپنے قدموں پر (کھڑی ہوتی ہے) چلتی ہے۔
پھر عرض کیا کہ اللہ جل شانہ کے اس قول ” صفراء فاقع لونھا “ کے بارے میں بتلائیے فرمایا الفاقع سے مراد خالص پیلا رنگ عرض کیا کیا عرب لوگ بھی اس معنی سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے لبید بن ربیعہ کا قل نہیں سنا وہ کہتا ہے۔
سدما قلیلا عھدہ بالسیہ من فتحہ بین اصفر فاقع ودفان
ترجمہ : اس نے تھوڑا سا اپنے عہد کو اپنے دوست کے ساتھ روکے رکھا گہرے پہلے اور پوشیدہ چیز کے درمیان۔
(9) امام ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” الفارض “ سے مراد بڑی گائے اور ” البکر “ سے مراد چھوٹی گائے اور العنوان سے مراد آدھی عمر والی۔
(10) امام عبد بن حمید نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ وہ بکر پر خاموش رہنے کو پسند فرماتے تھے (یعنی ٹھہر جانے کو) لفظ آیت ” عوان بین ذلک “ پڑھتے تھے۔
(11) ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے ” عوان بین ذلک “ کے بارے میں روایت کیا کہ بڑی اور چھوٹی کے درمیان ہو کیونکہ وہ زیادہ قوی اور خوبصورت ہوتی ہے۔
(12) ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے لفظ آیت ” صفراء فاقع لونھا “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد سخت زرد رنگ ہے قریب ہے کہ جس کی زردی میں سے سفیدی نمودار ہوتی ہے۔
(13) امام ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ” صفراء “ سے مراد ہے کہ جس کے کھر زرد ہوں اور ” فاقع لونھا “ سے مراد ہے، خالص رنگ والی۔
(14) عبد الرزاق عبد بن حمید، اور ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ” فاقع لونھا “ سے مراد ہے صاف رنگ والی اور ” تسر الناظرین “ سے مراد ہے جو دیکھنے والوں کو خوش کرنے والی ہو (اچھی لگتی ہو) ۔
(15) ابن ابی حاتم، طبرانی، الخطیب اور دیلمی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جس شخص نے زرد رنگ کا جوتا پہنا وہ برابر خوشی میں رہے گا جب تک اس کو پہنے رہے گا۔ اور اسی لئے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ لفظ آیت ” صفراء فاقع لونھا تسر النظرین “ میں اشارہ نکلتا ہے۔
(16) سعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن جریر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” صفراء فاقع لونھا “ سے مراد ہے کالا رنگ یعنی گہرا کالا رنگ۔
(17) ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” ان الباقر تشبۃ علینا “ پڑھا ہے۔
(18) عبد بن حمید نے یحییٰ سے انہوں نے یعمر (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” ان الباقر تشبۃ علینا “ پڑھا ہے اور فرمایا بلاشبہ باقر زیادہ ہے بقر سے۔
(19) ابن ابی داؤد نے المصاحف میں اعمش (رح) سے روایت کیا کہ ہماری قرأت میں یوں ہے لفظ آیت ” ان البقر متشابہ “
(20) امام ابن جریر نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” انھا بقرۃ لا ذلول “ سے مراد ہے کہ اس سے کام نہ لیا گیا ہو ” تثیر الارض “ یعنی اس سے زمین نہ پھاڑی گئی ہو ” ولا تسقی الحرث “ یعنی اس نے کھیتی میں کام نہ کیا ہو ” مسلمۃ “ یعنی ہر عیب سے سلامت ہو۔
(21) عبد بن حمید، ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” لا ذلول تثیر الارض “ سے مراد ہے کہ اس کو ہل چلانے کے لیے مطیع نہ بنایا گیا ہو ” مسلمۃ “ یعنی وہ شبہ سے سلامت ہو۔ ” لا شیۃ فیہا “ یعنی نہ اس میں سفید داغ ہو اور نہ کالا داغ ہو۔
(22) ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” مسلمۃ “ سے مراد ہے کہ اس میں کوئی عیب نہ ہو۔
(23) امام ابن جریر نے عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ ” لاشیۃ فیہا “ سے مراد ہے کہ اس کا رنگ ایک ہو اس کے رنگ کے علاوہ دوسرا کوئی رنگ اس میں نہیں ہو۔
(24) عبد بن حمید، ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ” لا ذلول “ یعنی کام نے اس کا تابع نہ کیا ہو۔ مسلمۃ یعنی تمام عیو سے صحیح سالم ہو ” لاشیۃ فیہا “ یعنی اس میں سفید داغ نہ ہو ” قالوا الئن جئت بالحق “ کہنے لگے اب آپ نے ہمارے لئے حق کو بیان کیا ہے ” فذبحوھا وما کانوا یفعلون “۔
(25) امام ابن جریر نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فذبحوھا وما کانوا یفعلون “ انہوں نے ذبح کیا اور مہنگی ہونے کی وجہ سے (وہ ذبح کرنے والے نہ تھے) ۔
چالیس سال تک گائے ڈھونڈنا
(26) ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ بنی اسرائیل گائے کو چالیس سال تک ڈھونڈتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے یہ گائے ایک آدمی کے پاس پالی اور یہ گائے مالک کو بہت عزیز اور پیاری تھی وہ اس کی زیادہ سے زیادہ قیمت پیش کرتے رہے لیکن وہ لگاتار انکار کرتا رہا۔ یہاں تک کہ انہوں نے اس (گائے) کی کھال کو دیناروں سے بھر کر اس کو دے دی۔ پھر انہوں نے اس سے پوچھا کہ تجھے کس نے قتل کیا ہے اس نے کہا فلاں آدمی نے قتل کیا۔
(27) امام وکیع، ابن ابی حاتم نے حضرت عطا (رح) سے روایت کیا کہ گائے کو ذبح کرنا یا نحر کرنا برابر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ” فذبحوھا “ انہوں نے اس کو ذبح کیا۔
(28) وکیع، عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے حضرت مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ بنی اسرائیل کے لیے ذبح تھا اور تمہارے لئے نحر ہے۔ پھر یہ پڑھا ” فذبحوھا “ (اور) ” فصل لربک وانحر “۔
Ayah 2:72(1) عبد بن حمید، ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واذ قلتم نفسا فادرء تم فیہا “ یعنی تم نے اس بارے میں اختلاف کیا ” واللہ مخرج ما کنتم تکتمون “ (اور اللہ تعالیٰ نکلانے والے یعنی ظاہر کرانے والے ہیں) جو کچھ تم چھپاتے تھے۔
واما قولہ تعالیٰ : واللہ مخرج ما کنتم تکتمون۔
(2) ابن ابی حاتم اور بیہقی نے الشعب میں مسیب بن رافع (رح) سے روایت کیا کہ کسی آدمی نے سات کمروں کے اندر (چھپ کر) کوئی نیک کام کیا تو اللہ تعالیٰ اس کو ظاہر کرنے والا ہے۔ اور کسی آدمی نے سات کمروں میں چھپ کر کوئی برا کام کیا تو اللہ تعالیٰ اس کو بھی ظاہر کرنے والا ہے اور اس کی تصدیق اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ہے لفظ آیت ” واللہ مخرج ما کنتم تکتمون “۔
(3) امام احمد حاتم اور بیہقی نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ (رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر کوئی آدمی ایسی بند چٹان کے اندر کوئی عمل کرے جس میں نہ کوئی دروازہ ہو اور نہ روشندان ہو تو اللہ تعالیٰ اس کا یہ عمل لوگوں پر ظاہر کر دے گا خواہ کیسا ہی عمل ہو۔
ہر عمل کی چادر عمل کے مطابق ہے
(4) امام ابن ابی شیبہ، احمد اور بیہقی نے حضرت عثمان بن عفان ؓ سے روایت کیا کہ جو کوئی عمل کرے گا اللہ تعالیٰ اسے اس کے عمل کی چادر پہنائے گا اگر وہ عمل خیر کا تھا تو اس کے لیے خیر ہوگی اور اگر (وہ عمل) شرکا تھا تو اس کے لیے شر ہوگا۔
(5) امام بیہقی نے ایک اور طریق سے عثمان ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص کا کوئی نیک یا برا عمل چھپا ہوا ہوگا تو اللہ تعالیٰ اس میں سے ظاہر فرما دیں گے جس سے وہ پہچانا جائے گا۔
(6) امام ابو الشیخ اور بیہقی نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ سے پوچھا مؤمن کون ہے ؟ انہوں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں (پھر) فرمایا مؤمن وہ ہے جو نہیں مرتا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کے کانوں کو ان آوازوں سے بھر دیتا ہے۔ جس کو وہ پسند کرتا ہے اور ایک بندہ ایک ایسے کمرے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے جو ستر کمروں کے اندر ہے اور ہر کمرے کے اندر ایک لوہے کا دروازہ ہو تو اللہ تعالیٰ (پھر بھی) اس کو عمل کی (ایسی) چادر پہنائے گا یہاں تک کہ لوگ اس کا تذکرہ کریں گے۔ اور اسد کے عمل سے زیادہ اس کی تعریف کریں گے صحابہ نے عرض کیا کیسے اس کے عمل سے زیادہ اس کی تعریف ہوگی یا رسول اللہ ﷺ فرمایا اس لئے کہ متقی ایک سے زیادہ عمل کی طاقت رکھتا تو زیادہ عمل کرتا۔
پھر رسول اللہ ﷺ نے پوچھا کافر کون ہے ؟ انہوں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں (پھر) فرمایا کافر وہ ہے جو نہیں مرتا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کے کانوں کو ان آوازوں سے بھر دیتا ہے۔ جس کو وہ ناپسند کرتا ہتے اور اگر فاجر آدمی کسی ایسے کمرہ کے اندرونی حصہ میں برائی کرے جو ستر کمروں کے اندر ہو جس کا ہر دروازہ لوہے کا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو اس کے عمل کی چادر پہنائیں گے یہاں تک کہ لوگ (اس کی برائی میں) باتیں کریں گے ارور زیادتی بھی کریں گے صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ وہ کس لئے زیادہ کریں گے فرمایا اس لئے کہ فاجر اگر برائی میں زیادتی کرسکتا تو زیادہ کرتا۔
(7) حضرت ابن ابی عدی نے حضرت ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ ہر آدمی کو اس کے عمل کی چادر پہنانے والا ہے۔ (یعنی اس کے عمل کو طاہر کر دے گا) ۔
(8) امام بیہقی نے ثابت (رح) سے روایت کیا کہ یہ کہا جاتا ہے اگر ابن آدم ستر کمروں کے اندر کوئی خیر کا عمل کرے تو اللہ تعالیٰ اس کو اس کے عمل کی چادر پہنائے گا۔ یہاں تک کہ وہ اس کے ساتھ پہچانا جائے گا۔
(9) امام ابن ابی الدنیا اور بیہقی نے سعید بن مسیب (رح) سے روایت کیا کہ لوگ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے پردے میں اپنے اعمال کرتے ہیں جب اللہ تعالیٰ کسی بندہ کی رسوائی کا ارادہ فرماتے ہیں تو اس کو اپنی رحمت کے پردے سے نکال دیتے ہیں تو اس کا پردہ ظاہر ہوجاتا ہے۔
(10) ابن ابی الدنیا اور بیہقی نے ابو ادریس خولانی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو مرفوع روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کسی بندے کا پردہ چاک نہیں کرتے جس میں رائی کے دانے کے برابر بھی خیر ہو۔
(11) ابن ابی شیبہ نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ اگر بندہ اپنی عبادت کو اس طرح چھپائے جس طرح اپنے گناہ کو چھپاتا ہے تو اللہ تعالیٰ پھر بھی اس کو ظاہر کر دے گا۔
Ayah 2:73(1) وکیع، الفریابی، عبد بن حمید، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فقلنا اضربوہ ببعضھا “ سے مراد ہے کہ انہوں نے میت کو اس ہڈی سے مارا جو مونڈے کی کر کری ہڈی سے ملی ہوتی ہے۔
(2) عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ انہوں نے اس میت کو اس (گائے) کی ران کا گوشت مارا جب انہوں نے ایسا کہ تو اللہ تعالیٰ نے اس کو زندہ کردیا یہاں تک کہ اس نے ان کو اپنے قاتل کی خبر دی جس نے اس کو قتل کیا تھا۔ یہ بات کرنے کے بعد وہ (پھر) مرگیا۔
(3) امام وکیع اور ابن جریر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس میت کو اس (گائے) کی ران کے ساتھ مارا تو وہ زندہ ہوگیا اور اس نے اس بات کے علاوہ کوئی اور زائد بات نہیں کہ کہ مجھے فلاں نے قتل کیا ہے پھر وہ دوبارہ مرگیا۔
(4) عبد بن حمید اور ابن ھریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے گائے کی ران میت کو ماری تو وہ زنہ ہو کر کھڑا ہوگیا اور کہا کہ مجھے فلاں نے قتل کیا ہے پھر وہ مرگیا۔
(5) امام ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو کندھوں کے درمیان کا گوشت مارا۔
(6) امام ابن جریر نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو حکم فرمایا کہ (اس گائے) ہذی کو لے لو اور اس کے ساتھ مقتول کو مارو انہوں نے ایسا ہی کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی روح کو واپس لوٹا دیا اس نے اپنے قاتل کا نام بتایا پھر وہ مر دہ ہو کر لوٹ گیا جیسے کہ پہلے تھا۔
وأما قولہ تعالیٰ : کذلک یحی اللہ الموتی۔
والدہ کی فرمانبرداری کا صلہ
(7) عبد بن حمید اور ابو الشیخ نے العظمہ میں وھب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ بنی اسرائیل میں ایک نوجوان تھا جو اپنی والدہ کا فرمانبردار تھا اور وہ تہائی رات نماز پڑھتا تھا اور تہائی رات اپنی والدہ کے سر کے پاس بیٹھا رہتا تھا اور اس کو تسبیح، تہلیل، تکبر اور تمحید یاد دلاتا تھا۔ اور کہتا تھا اے میری ماں اگر تو رات کو کھڑی ہونے سے عاجز ہے تو اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کر یعنی اللہ اکبر کہہ کر اس کی تسبیح بیان کر یعنی سبحان اللہ کہہ اور اس کی تہلیل بیان کر یعنی لا الہ الا اللہ کہہ یہ دونوں عمل اس کی پوری زندگی کے معمول تھے جب صبح ہوتی تو پہاڑوں کی طرف آجاتا اور اپنی پیٹھ پر لکڑیاں اٹھا کر ان کو بازار میں بیچ دیتا اس قیمت میں سے ایک تہائی صدقہ کردیتا اور ایک تہائی اپنی عبادت کے لیے رکھ لیتا اور ایک تہائی اپنی ماں کو دے دیتا۔ اس کی ماں اس تہائی میں آدھی قیمت کھا لیتی اور آدھی قیمت صدقہ کردیتی۔ یہ عمل بھی ان کی پوری زندگی کا معمول تھا جب عرصہ دراز گزر گیا تو کہنے لگی اے میرے بیٹے تو جان لے کہ مجھے تیرے باپ کی میراث میں سے ایک گائے ملی تھی اور میں نے اس کی گردن پر مہر لگا کر اس کو میں اسماعیل، اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) کے خدا کے نام پر (جنگل میں) چھوڑ آئی تھی کہنے لگی میں عنقریب تجھے اس کا رنگ اور اس کی شکل و صورت بتاؤں گی جب تو گائے کے پاس جائے تو اسے ابراہیم، اسماعیل، اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) کے رب کے نام کے ساتھ بلانا کیونکہ وہ ایسا ہی کرے گی جیسے اس نے میرے ساتھ وعدہ کیا تھا اور کہنے لگی اس کی نشانی یہ ہے کہ وہ نہ بوڑھی ہے اور نہ جوان ہے وہ درمیان عمر کی ہے وہ گہرے زرد رنگ کی ہے جو دیکھنے والوں کو خوش کردیتی ہے (اچھی لگتی ہے) جب تو اس کی کھال کی طرف دیکھے گا تو تجھے ایسا معلوم ہوگا کہ سورج کی شعاعیں اس کی کھال میں سے نکل رہی ہیں اور اس پر کام نہیں کیا گیا اس پر ہل جوتے گئے اور نہ اس کے ذریعہ کھیتی کو پانی پلایا گیا صحیح سالم ہے اس میں کوئی عیب نہیں اور ایک رنگ والی ہے۔ جب تو اس کو دیکھے تو اس کی گردن سے پکڑنا وہ اسرائیل کے خدا کے حکم سے تیرے پیچھے چل آئے گی۔
نوجوان چلا اور اس نے اپنی والدہ کی وصیت کو یاد کیا اور جنگل میں دو یا تین دن چلتا رہا یہاں تک کہ ایک دن کی صبح کو اس نے زور سے پکار کر کہا اور ابراہیم، اسماعیل، اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) کے خدا کا واسطہ دے کر اس گائے کو بلایا ایک گائے اس کے پاس آگئی اور اس نے چرنے کو چھوڑ دیا اور اس نوجوان کے سامنے آکر کھڑی ہوگئی اس نے گردن سے پکڑا تو وہ گائے بول پڑی اور کہنے لگی اے اپنی والدہ سے حسن سلوک کرنے والے جواب مجھ پر سوار ہوجا بیشک یہ تجھ پر آسان ہوگا جو ان نے کہا میری والدہ نے مجھے تجھ پر سوار ہونے کا حکم نہیں فرمایا تھا لیکن اس نے تجھے ہانک کرلے آنے کا حکم دیا تھا مجھے یہ بات پسند ہے کہ میں ان کی بات کو پورا کروں پھر گائے نے کہا اسرائیل کے معبود کی قسم اگر تو مجھ پر قادر نہ ہوتا۔ سو تو چلا جا اے اپنی والدہ سے حسن سلوک کرنے والے جوان اگر تو اس پہاڑ کو حکم کرے کہ تیرے لئے جڑ سے اکھڑ جائے تو تیری والدہ کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور اپنے خدا کی اطاعت کرنے کی وجہ سے وہ ضرور جڑ سے اکھڑ جائے گا۔ وہ جو ان پڑا یہاں تک کہ جب وہ اپنے گھر سے ایک دن کی مسا فت پر تھا اللہ کے دشمن ابلیس اس کے سامنے آیا اور گائے چرانے والے کی شکل بنائے ہوئے تھا اور کہنے لگا اے جوان تو اس گائے کو کہاں سے لایا کاش کہ تو اس پر سوار ہوجاتا کیونکہ میں تجھ کو تھکا ہوا دیکھتا ہوں اور میں یہ بھی گمان کرتا ہوں کہ تو اس گائے کے علاوہ دنیا میں کسی مال کا مالک نہیں ہے میں تجھ کو مزدوری دوں گا جو تجھ کو نفع دے گی اور تجھے نقصان نہ دے گی میں گائے چرانے والوں میں سے ایک آدمی ہوں اور اپنے اہل و عیال کی ملاقات کا شوق ہوا میں نے اپنے بیلوں میں سے ایک بیل کو لیا اور اس پر اپنا کھانا اور اپنا سامان لادا یہاں تک کہ جب میں آدھے راستہ پر پہنچا تو میرے پیٹ میں درد ہوا اور میں نے اپنی حاجت پوری کرنے کے لیے چل دیا میرا بیل پہاڑ کے اندر بھاگ گیا اور مجھے چھوڑ دیا میں نے اس کو تلاش کیا مگر اس پر قادر نہ ہوا اب میں اپنی جان کے ہلاک ہونے پر ڈرتا ہوں کیونکہ میرے پاس نہ توشہ ہے نہ پانی ہے اگر تو مجھے اپنی گائے پر سوار کرلے اور مجھے چراگاہ تک پہنچا دے اور موت سے مجھے نجات دلادے تو میں اس کے بدلے دو گائے تجھ کو دوں گا جوان نے کہا بلاشہ آدم کی اولاد ایسی نہیں ہوئی کہ اس کو یقین قتل کر دے یا ان کو اس کے نفوس ہلاک کردیں اگر اللہ تعالیٰ نے تجھ سے یقین کو جان لیا تو تجھ کو بغیر زادراہ اور پانی کے پہنچا دے گا اور میں تجھ کو سوار نہیں کروں گا (کیونکہ) اس کا حکم نہیں دیا گیا۔ میں ایک بندہ مامور ہوں اگر میرے مالک کو پتہ چل گیا کہ میں نے اس گائے کے بارے میں نافرمانی کی ہے تو وہ مجھے ہلاک کر دے گا اور مجھے سخت سزا دے گا۔ میں تیری خواہش کو اپنے مالک کی خواہش پر ترجیح دینے والا نہیں ہوں اے آدمی ! سلامتی کے ساتھ چلا جا ابلیس نے کہا میں تجھ کو ہر قدم کے بدلے میں جو تو قدم میری منزل کی طرف اٹھائے گا ایک درہم دوں گا اور یہ بڑا مال ہوگا جس سے میں اسے گائے کے ذریعے موت سے بچ جاؤں گا جو ان نے کہا میرے مالک کے پاس زمین کا سونا اور چاندی ہے اگر تو اس (زمین) میں سے کوئی چیز دے گا تو یہ جان لے گا کہ یہ اس کے مال میں سے ہے لیکن تو مجھ کو آسمان کے سونے اور چاندی میں سے لا دے تو پھر میں کہوں گا کہ یہ تیرے مال میں سے نہیں ہے۔ ابلیس نے کہا کیا آسمان میں سونا اور چاندی ہے ؟ اور کیا کوئی آدمی اس کے لانے پر قادر نہیں ہوسکتا ہے ؟ جوان نے کہا کیا کوئی بندہ دو کام کرسکتا ہے جس کا حکم نہیں دیا گیا جیسا کہ آسمان کا سونا اور چاندی لانے کی تو طاقت نہیں رکھتا۔
ابلیس نے کہا میں تجھ کو اپنے کام میں سب سے زیادہ عاجز بندہ دیکھتا ہوں۔ جوان نے کہا عاجز وہ ہے جو اپنے رب کی نافرمانی کرے۔ ابلیس نے کہا کیا بات ہے میں تیرے پاس زادراہ اور پانی نہیں دیکھ رہا ہوں جوان نے کہا میرا زادراہ تقوی ہے اور میرا طعام گھاس ہے اور میرا پینا پہاڑوں کے چشموں میں سے ہے۔ ابلیس نے کہا کیا میں تجھ کو یہ کام نہ بتاؤں جو تیری رہنمائی کرے۔ جوان نے کہا اپنے نفس کو حکم کر میں انشاء اللہ ہدایت پر ہی ہوں۔ ابلیس نے کہا میں تجھ کو نصیحت قبول کرنے والا نہیں دیکھتا ہوں جوان نے کہا اپنے آپ کو نصیحت کرنے والا وہ شخص ہے جو اپنے مالک کی اطاعت کرے اور اس کے حق کو ادا کرے جو اس پر ہے اگر تو شیطان ہے تو میں تجھ سے اللہ کے واسطے پناہ مانگتا ہوں اور اگر تو آدمی ہے تو نکل جا تیری صحبت کی مجھے کوئی ضرورت نہیں۔ ابلیس (یہ سن کر) اس کے پاس تین لمحات اپنی جگہ پر ساکت کھڑا رہا اگر وہ نوجوان ابلیس کو سوار کرلیتا تو پھر جوان گائے پر کبھی قادر نہ ہوتا لیکن اللہ تعالیٰ نے شیطان کو اس سے روک دیا اس درمیان کہ جوان چل رہا تھا اچانک ایک پرندہ اڑتا ہوا اس کے آگے سے گزرا اور اس نے چھپٹا مار کر (جوان کے ہاتھ) سے گائے کو چھین لیا جو ان نے پکار کر کہا ابراہیم، اسحاق، اسمعیل اور یعقوب (علیہم السلام) کے معبود کا واسطہ تو میرے پاس آجا۔ گائے اس کے پاس آئی اور اس کے سامنے کھڑی ہوگئی اور کہنے لگی اے جوان ! کیا تو جانتا ہے اس پرندہ کو جو تیرے سامنے سے اڑا تھا ؟ وہ ابلیس اللہ کا دشمن تھا جس نے مجھ کو چھپٹا مار کر چھین لیا۔ جب تو نے اسرائیل کے معبود کے واسطے سے مجھے بلایا تو فرشتوں میں سے ایک فرشتہ نے آکر مجھے اس سے چھڑا دیا اور تیری طرف لوٹا دیا تیری والدہ کے ساتھ حسن سلوک اور اپنے رب کی اطاعت کی وجہ سے پس تو چلا جا اب تو سفر کرے گا انشاء اللہ اپنے گھر والوں کے پاس پہنچ جائے گا۔
جوان اپنی ماں کے پاس آگیا اور اس کو (ساری) خبر دی اس نے کہا اے میرے بیٹے میں تجھ کو رات اور دن اپنی پیٹھ پر لکڑیاں لادے ہوئے دیکھ کر بےقرار ہوتی تھی اس گائے کو لے کر بیچ دے اور اس کی قیمت لے کر اس کے ذریعہ اپنے آپ قوت اور راحت دے جوان نے پوچھا اس کا کتنے میں بیچ دوں ؟ ماں نے کہا میری رضا مندی کی شرط پر اس کو تین دینار میں بیچ دے جوان بازار کی طرف چلا اللہ تعالیٰ نے فرشتوں میں سے ایک فرشتہ کو اس کی طرف بھیجا تاکہ مخلوق اس کی قدرت کا کرشمہ دیکھ لے فرشتے نے جوان سے کہا جوان ! اس گائے کو کتنے میں بیچو گے ؟ اس نے کہا کہ میں اپنی والدہ کی رضا مندی کی شرط پر اس کو تین دینار میں بیچوں گا فرشتہ نے کہا تم چھ دینار لے لو اور اپنی والدہ سے مشورہ نہ کرو جوان نے کہا اگر تو مجھے اس کے برابر وزن دے تو میں اس کو نہ بیچوں گا یہاں تک کہ میں والدہ سے مشورہ کرلوں جو ان نکلا اور اپنی والدہ کو اس بیع کی خبر دی وہ کہنے لگی کہ میری رضا مندی کی شرط پر اس کو چھ دینار میں فروخت کرنا جوان چلا تو اس کے پاس (پھر) فرشتہ آیا اور پوچھا کیا کرو گے جوان نے کہا کہ میں اس کو اپنی والدہ کی رضا مندی کی شرط پر چھ دینار میں بیچوں گا فرشتہ نے کہا بارہ دینار لے لے اور اپنی والدہ سے مشورہ چھوڑ دے۔ جوان نے کہا نہیں (ایسا نہیں ہوسکتا)
پھر نوجوان اپنی ماں کی طرف گیا اس کی ماں نے کہا اے میرے بیٹے وہ فرشتہ تھا جو تیرے پاس آدمی کی شکل میں آیا تھا جب وہ تیرے پاس آئے تو اس سے کہہ میری والدہ تجھ کو سلام کہتی ہے کہ تو مجھے اس گائے کے بیچنے میں کتنی قیمت کا حکم دیتا ہے۔ فرشتہ نے کہا اے نوجوان ! تیری اس گائے کو موسیٰ بن عمران ایک مقتول کے لیے خریدیں گے جو بنی اسرائیل سے قتل ہوا ہے۔ اس کا مال بہت زیادہ تھا وہ اپنے باپ کا اکلوتا لڑکا تھا اس کا ایک بھائی تھا جس کے بہت سے بیٹے تھے اور وہ کہتے تھے کہ کس طرح ہم اس کو قتل کرکے اس کا مال لے لیں انہوں نے لڑکے کو اپنی منزل کی طرف بلایا اور اس کو قتل کر کے ان کے گھر کی جانب پھینک دیا گھر والوں نے صبح کے وقت اس لڑکے کو اپنے گھر کے دروازے کی طرف باہر پھینک دیا لڑکے کے چچا کے بیٹے آئے اور انہوں نے گھر والوں کو پکڑ لیا اور ان کو موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس لے گئے موسیٰ (علیہ السلام) نہیں جانتے تھے کہ کس طرح ان دونوں میں فیصلہ کریں اس وجہ سے کہ گھر والے لڑکے کے قتل سے بری ہیں سو یہ بات موسیٰ (علیہ السلام) پر بہت بھاری گزری اور انہوں نے اپنے رب سے دعا کی اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ گہرے سخت زرد رنگ کی گائے لے لو اور اس کو ذبح کر دو اس کا کچھ حصہ اس مقتول کو مارو انہوں نے اس نوجوان کی گائے (خریدنے) کا ارادہ کیا اور انہوں نے اس کو اس شرط پر خریدا کیہ اس کی کھال کو دیناروں سے بھر دیں گے۔ پھر انہوں نے اس کو ذبح کیا اور (مردہ) لڑکے کو اس کا گوشت مارا۔ تو وہ کھڑا ہوگیا اور ان کو بتایا کہ میرے چچا کے بیٹوں نے مجھے قتل کیا اور یہ گھر والے میرے قتل سے بری ہیں موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو پکڑا تو وہ کہنے لگے اے موسیٰ ! تو ہم سے مذاق کرتا ہے ہمارے چچا کا بیٹا مظلوم قتل کردیا گیا اور تحقیق انہوں نے (یعنی قتل کرنے والے نے) جان لیا تھا کہ وہ عنقریب رسوا ہوں گے۔ پھر انہوں نے گائے کی کھال کو لیا اور اس کو دیناروں سے بھر کر اس جوان کو دے دیا اس جوان نے دو ثلث بنی اسرائیل کے فقراء پر صدقہ کر دئیے اور ایک ثلث سے طاقت حاصل کی (یعنی اپنے استعمال میں لیا) ” کذلک یحی اللہ الموتی ویریکم ایتہ لعلکم تعقلون “۔
Ayah 2:741: امام عبدبن حمید اور ابن جریر نے قتا دہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ثم قست قلوبکم من بعد ذلک “ یعنی بعد اس کے کہ جب اللہ تعالیٰ نے مردوں کو زندہ کرکے ان کو دکھا دیا اور بعد اس کے کہ جب (اللہ تعالیٰ ) ان کو مقتول کے معاملہ میں (اس کو زندہ کرکے دکھایا لفظ آیت ” فہی کالحجارۃ او اشد قسوۃ “ (تو ان کے دل پتھر یا اس سے بھی زیادہ سخت ہوگئے) پھر اللہ تعالیٰ نے پتھر کی برأت کا اظہار فرمایا لیکن بدبخت شقی القلب انسان کی برأت کا اظہار نہیں فرمایا اور فرمایا لفظ آیت ” وان من الحجارۃ لما یتفجر منہ الانھر، وان منھا لما یشقق فیخرج منہ الماء، وان منھا لما یھبط من خشیۃ اللہ “ (یعنی پتھر تو پھر بھی نرم ہو کر پھٹ پڑتا ہے مگر ابن آدم نرم نہیں ہوتا) ۔
(2) امام ابن اسحاق، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وان من الحجارۃ “ (الآیہ) یعنی بعض پتھر تمہارے دلوں سے زیادہ نرم ہیں جب کہ تم کو حق کی طرف بالایا جاتا ہے (اور تم اسے قبول نہیں کرتے) ۔
(3) عبد بن حمید اور ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ہر پتھر سے پانی جاری ہوجاتا ہے یا پانی کی وجہ سے پھلتا ہے۔ یا پہاڑ کی بلندی سے گرتا ہے تو یہ سب اللہ کا خوف ہوتا ہے۔ اس کے متعلق قرآن نازل ہوا۔
(4) عبد بن حمید، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وان منھا لما یھبط من خشیۃ اللہ “ یعنی پتھر زمین پر آپڑتا ہے اگر بہت سے لوگ (اس کے گرانے پر) اکٹھے ہوجائیں تو نہیں گرا سکتے اور بیشک وہ البتہ اللہ کے خوف سے گرپڑتا ہے۔
Ayah 2:75(1) امام ابن اسحاق اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو اور اس کے ساتھ جو ایمان والے تھے ان کو (کافروں سے) ناامید کرتے ہوئے فرمایا لفظ آیت ” افتطمعون ان یؤمنوا لکم وقد کان فریق منھم یسمعون کلم اللہ “ (کیا تم اس بات پر امید رکھتے ہو کہ تمہارے لئے ایمان لائیں گے) ۔ یعنی انہوں نے تورات کو سنا تھا لیکن پھر بھی انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے اپنے رب کی روایت کے بارے میں سوال کیا پس اس گستاخی پر ان کو سخت کڑک نے پکڑ لیا۔
(2) عبد بن حمید، ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” افتطمعون ان یؤمنوا لکم ......“ (الآیہ) یعنی جو لوگ تورات میں تحریف کرتے تھے اور جو لوگ اس کو لکھتے تھے وہ ان میں سے علماء تھے اور وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی کتاب کو اپنی پیٹھوں کے پیچھے ڈال دیا یہ سب کے سب یہودی تھے۔
(3) ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” یسمعون کلم اللہ “ یعنی وہ تورات تھی جس کو وہ بدل ڈالتے تھے
Ayahs 2:76–77منافقین کی حالت
(1) ابن اسحاق ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واذا لقوا الذین امنوا قالوا امنا “ یعنی جب تمہارے ساتھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ سے اور خاص کر تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے باہم تنہائی میں ملتے ہیں تو کہنے لگتے ہیں کہ یہ بات عرب لوگوں کو بیان نہ کرو اس لئے کہ تم اس سے پہلے ان مسلمانوں کے ساتھ ملی عربوں پر فتح کو طلب کیا کرتے تھے جو ان میں سے تھے (یعنی قریش میں سے تھے) لفظ آیت ” لیحاجوکم بہ عند ربکم “ (تاکہ وہ مسلمان اپنے رب سے بطور حجت تمہارے بارے میں جھگڑا کریں) یعنی وہ اس بات کا اقرار کرتے تھے کہ یہ (سچے) نبی ہیں اور تحقیق تم نے یہ بھی جان لیا کہ ان کی اتباع کا تم سے وعدہ لیا گیا تھا اور یہ خود انہیں خبر بتاتا ہے کہ میں وہی نبی ہوں جن کا ان کو انتظار تھا اور ہم اپنی کتاب میں بھی ان کا تذکرہ پڑھتے ہیں پس تم ان کا انکار کرو اور ان کا اقرار نہیں کرو۔
(2) امام ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واذا لقوا الذین امنوا “ (الآیہ) یعنی یہ آیت یہود میں سے جو منافق تھے ان کے بارے میں ہے۔ وقولہ ” بما فتح اللہ علیکم “ کا مطلب ہے تمہاری جو عزت ہے وہ اس کے ذریعہ سے ہے۔
(3) عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ قریظہ کے دن نبی اکرم ﷺ ان کے قلعوں کے نیچے ٹھہرے اور فرمایا اے بندوں اور سوروں (خنزیر) کے بھائیو ! اور اپنے بتوں کی عبادت کرنے والو ! تو وہ لوگ کہنے لگے کہ اس کے متعلق محمد ﷺ کو کس نے خبر دی اور یہ معاملہ تمہاری طرف سے ظاہر ہوا ہے۔ لفظ آیت ” اتحدثونھم بما فتح اللہ علیکم “ کیا تم ان کے سامنے بیان کرتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا تاکہ ان کے لیے تمہارے خلاف یہ امر حجت بن جائے۔
(4) امام ابن جریر نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اس مدینہ شہر میں ہم پر مؤمن کے علاوہ ہرگز کوئی داخل نہ ہوگا تو اس پر یہود کے سرداروں نے (اپنے لوگوں سے) کہا کہ تم (جاکر) کہو ہم آپ پر ایمان لے آئے اور جب ہماری طرف لوٹو تو انکار کردینا۔ اور وہ لوگ صبح کو مدینہ منورہ آتے تھے اور عصر کے بعد ان کی طرف واپس لوٹ جاتے تھے اور یہی اللہ تعالیٰ کا قول ہے لفظ آیت ” وقالت طائفۃ من اہل الکتب امنوا بالذی انزل علی الذین امنوا وجہ النھار واکفروا اخرۃ لعلہم یرجعون (72) “ (آل عمران 72) اور وہ کہتے تھے جب مدینہ میں داخل ہوتے کہ ہم مسلمان ہیں تاکہ وہ رسول اللہ ﷺ کی خبر کو اور ان کے حکم کو جان لیں اور ایمان والے لوگ گمان کرتے تھے کہ وہ مؤمن ہیں اور وہ ان کو کہتے تھے کیا اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے تورات میں اس طرح اور اس طرح نہیں فرمایا ؟ اور وہ کہتے کیوں نہیں (اس طرح فرمایا) جب وہ اپنی قوم کی طرف واپس لوٹے ” اتحدثونھم بما فتح اللہ علیکم .....“ (الآیہ)
(5) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت یہود میں سے ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو ایمان لائے اور پھر منافق ہوگئے اور وہ عرب کے ایمان والے لوگوں کی وہ باتیں بیان کرتے تھے جن کی وجہ سے ان کو عذاب دیا گیا پھر وہ ایک دوسرے کو کہتے لفظ آیت ” اتحدثونھم بما فتح اللہ علیکم “ تم عذاب کے متعلق کیوں بتاتے ہو (کہ جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ان کو تم پر فتح عطا فرمائی تاکہ مسلمان کہیں گے ہم اللہ کی بارگاہ میں تم سے زیادہ محبوب ہیں اور تم سے اللہ کے نزدیک زیادہ عزت والے ہیں۔
توراۃ کے احکام میں یہودی علماء کی نحریف
(6) ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ یہود میں سے ایک عورت نے برا کام کیا وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور ان سے حکم کو طلب کرتے تھے رخصت کی امید رکھتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے ان کے عالم ابن صوریا کو بلایا اور اس سے فرمایا تو فیصلہ کر۔ اس نے کہا گدھے پر سوار کریں اور اس کے چہرہ کو گدھے کی دم کی طرف کریں رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا کیا تو نے اللہ کے حکم کے ساتھ فیصلہ کیا ہے ؟ اس نے کہا نہیں لیکن ہماری عورتیں خوبصورت تھیں اور ہمارے مرد ان کی طرف جلدی کرتے تھے اس لئے ہم نے حکم الٰہی کو بدل دیا اور اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” واذا خلا بعضھم الی بعض “ (الآیہ) ۔
(7) عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واذا لقوا الذین امنوا قالوا امنا “ یعنی انہوں نے کہا اور یہ ایمان کا دعوی کرنے والے یہودی تھے اور یہ لوگ جب ایمان والوں سے ملتے تھے تو کہتے تھے کہ ہم ایمان لے آئیں اور وہ یہ بات ان سے اس لئے کرتے تھے تاکہ وہ ان سے راضی رہیں اور جب ان کے بعض لوگ (اپنے) بعض لوگوں کے ساتھ علیحدگی میں ملتے تھے وہ ان کو ان باتوں کے بیان کرنے سے روکتے تھے جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے (مسلمانوں کو) ان پر فتح عطا فرمائی اور ان کے لیے بیان کی ان کی کتاب میں محمد ﷺ کے معاملہ میں ان کی رفعت کو اور ان کی نبوت کو اور انہوں نے کہا اگر تم نے ایسا کیا تو اس کے ذریعہ وہ اپنے رب کے پاس تم پر دلیل قائم کرلیں گے لفظ آیت ” اولا یعلمون ان اللہ یعلم ما یسرون وما یعلنون (77) “ یعنی جو کچھ وہ لوگ اپنے کام سے اور اپنی باتوں سے ظاہر کرتے ہیں جب وہ ایمان والوں کو ملتے ہیں۔ اور جو کچھ وہ لوگ محمد ﷺ کا انکار اور ان کی تکذیب کی باتوں کو چھپاتے ہیں جب ان کے بعض لوگ بعض لوگوں سے علیحدگی میں ملتے ہیں حالانکہ وہ (محمد ﷺ کے بارے میں) اپنی کتابوں میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔
(8) امام ابن جریر نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ ان کے انکار اور ان کی تکذیب کو (چھپاتے ہیں) اللہ تعالیٰ اس کو جانتا ہے ” وما یعلنون “ جو وہ ظاہر کرتے ہیں جب وہ ایمان والوں سے کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے (اللہ تعالیٰ اس کو بھی جانتا ہے) ۔
Ayah 2:78(1) امام ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” الامیون لا یعلمون “ سے مراد وہ قوم ہے جنہوں نے رسول کی تصدیق نہیں کی جس کو اللہ تعالیٰ نے بھیجا اور نہ کتاب کی تصدیق کی جس کو (اللہ تعالیٰ نے) اتارا اور انہوں نے اپنے ہاتھوں سے کتاب کو لکھا پھر اپنے گھٹیا درجہ کے جاہل لوگوں سے کہا کہ یہ (کتاب) اللہ کی طرف سے ہے فرمایا وہ اپنے ہاتھوں سے لکھتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو امیین فرمایا گیا وہ اللہ کی کتاب اور اس کے رسولوں کا انکار کرتے تھے۔
(2) امام ابن جریر نے ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ومنھم امیون لایعلمون الکتب “ سے مراد ان میں سے وہ لوگ ہیں جو اچھی طرح لکن نہ سکتے ہوں۔
(3) ابن اسحاق اور ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” ومنھم امیون لایعلمون الکتب “ سے مراد (وہ لوگ ہیں) جو نہیں جانتے کہ اس کتاب میں کیا ہے (اور) ” وان ہم الا یظنون “ سے مراد وہ لوگ ہیں جو آپ کی نبوت کا محض گمان کی وجہ سے انکار کرتے ہیں۔
(4) امام ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ومنھم امیون لایعلمون الکتب “ سے یہود میں سے وہ لوگ مراد ہیں جو کتاب میں سے کچھ نہ جانتے تھے اور جو کچھ کتاب اللہ میں سے ان کے بغیر محض گمان سے باتیں کرتے اور وہ کہتے تھے یہ کتاب اللہ سے ہے یہ ان کی چھوٹی امیدیں ہیں جو وہ لگائے بیٹھے ہیں۔
(5) امام ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” الا امانی “ سے مراد ہے الاحادیث یعنی سوائے باتوں کے۔
(6) ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ” الا امانی “ سے مراد ہے کہ وہ اپنے مونہوں سے جھوٹ بکتے ہیں۔
(7) عبد بن حمید اور ابن جریر نے مجاہد سے روایت کیا ہے کہ ” الا امانی “ سے مراد ہے ” الاکذبا “ یعنی جھوٹ ” وان ھم الا یظنون “ یعنی وہ جھوٹ بولتے ہیں۔
Ayah 2:79(1) وکیع، ابن المنذر اور نسائی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فویل للذین یکتبون الکتب بایدیھم “ اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی۔
(2) احمد، ہناد اور ابن سیرین نے الزہد میں عبد بن حمید ترمذی ابن ابی الدنیا فی صفۃ النار ابو یعلی، ابن جریر، ابن ابی حاتم طبرانی، ابن حبان حاکم، ابن مردویہ بیہقی نے البحث میں حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ” ویل “ جہنم میں ایک وادی ہے جس میں کافر چالیس سال تک اس کی تہہ تک پہنچنے سے پہلے گرتا رہے گا۔
(3) ابن جریر نے حضرت عثمان بن عفان ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا لفظ آیت ” فویل لہم مما کتبت ایدیہم “ میں ” ویل “ جہنم میں ایک پہاڑ ہے اور یہ آیت یہود کے بارے میں نازل ہوئی کیوں کہ انہوں نے تورات میں تحریف کی جو انہوں نے پسند کیا اس میں زیادہ کردیا اور جو وہ ناپسند کرتے تھے اس کو مٹا دیتے تھے اور انہوں نے محمد ﷺ کا نام مبارک بھی اس میں سے مٹا دیا۔
(4) ابن حجر نے سعد بن وقاص ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جہنم میں ایک پتھر ہے جس کو ایل کہا جاتا ہے اس پر قوم کے سربراہ لوگ چڑھیں گے اور اس سے اتریں گے۔
(5) امام حربی نے اپنے فوائد میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ مجھ کو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” ویحک عائشہ “ افسوس ہے تجھ پر اے عائشہ ! تو میں اس سے گھبرا گئی پھر آپ نے مجھ سے فرمایا حمیرا ! بلاشبہ ویحک یاویلک رحمت ہے تو اس سے مت گھبرا لیکن تو ویل (یعنی ہلاکت) سے ڈر۔
(6) ابو نعیم نے دلائل النبوۃ میں حضرت علی ؓ ابن ابی طالب سے روایت کیا کہ الوتح اور الویل دو دروازے ہیں سو ویح رحمت کا دروازہ ہے اور ویل عذاب کا دروازہ ہے۔
(7) سعید بن منصور، ابن المنذر، طبرانی اور بیہقی نے البعث میں حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ ویل جہنم میں ایک وادی ہے جس میں جہنم والوں کی پیپ بہتی ہے۔
ویل جہنم کی ایک وادی ہے
(8) عبد بن حمید، ابن ابی حاتم نے نعمان بن بشیر سے روایت کیا ہے کہ ویل جہنم میں ایک کشادہ وادی ہے۔
(9) ابن المبارک عن ابن جریر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے عطاء بن یسار سے روایت کیا ہے کہ ویل جہنم میں ایسی وادی ہے کہ جس میں اگر پہاڑ چلا دئیے جائیں تو وہ بھی گرمی کی شدت سے پگھل جائیں۔
(10) ھناد فی الذہد، عبد ابن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ویل جہنم کی تہہ میں بہنے والی پیپ ہے۔ اور دوسرے لفظ میں ویل جہنم میں ایک وادی ہے جس میں (دوزخیوں کا) پیپ ہوگا۔
(11) ابن ابی حاتم نے عمر مولی عفراہ سے روایت کیا ہے کہ جب تو اللہ تعالیٰ کو ” ویل “ فرماتے ہوئے سنے (ان کی کتاب میں) تو وہ آگ ہے۔
(12) ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” فویل للذین یکتبون الکتب “ (الآیہ) یہود کے وہ علماء مراد ہیں جنہوں نے نبی اکرم ﷺ کی صفات میں لکھا ہوا پایا کہ آپ سرمگین آنکھوں والے، گول چہرے والے گنگھریالے بالوں والے اور خوبصورت چہرے والے ہوں گے۔ جب انہوں نے ان (صفات) کو تورات میں پایا تو حسد اور سرکشی کی وجہ سے اس کو مٹا دیا۔ ان کے پاس قریش کی ایک جماعت آئی اور کہنے لگی کہ کیا تم تورات میں نبی امی کو پاتے ہو ؟ یہود کے علماء نے کہا کیوں نہیں ہم نے ان کو لمبے قد والے، نیلی آنکھوں والے اور سیدھے بالوں والے (لکھا ہوا) پایا ہے تو اس پر قریش نے انکار کردیا اور کہنے لگے کہ یہ ہم میں سے نہیں ہے۔
(13) امام بیہقی نے دلائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا فرماتے ہیں کہ تورات میں اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کی صفات کو بیان فرمایا جب رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو یہود کے علماء نے ان پر حسد کرتے ہوئے ان کی صفات کو اپنی کتاب میں تبدیل کردیا اور کہنے لگے کہ ان کی صفات کو ہم اپنے ہاں نہیں پاتے اور اپنے نچلے طبقہ کے لوگوں سے کہنے لگے کہ اس نبی کی یہ صفات نہیں ہیں کہ وہ اس طرح اور اس طرح (چیزوں کو) حرام کر دے گا جیسا کہ انہوں نے اس کو خود لکھا دیا تھا۔ اور جیسی صفات بیان کی گئی تھیں۔ ان کو بدل دیا جس سے لوگ شبہ میں پڑگئے اور یہود کے علماء نے اس لئے یہ حرکت کی تھی کہ انہیں یہ جاہل اور زیر اثر لوگ ان کو تورات کی حفاظت کی وجہ سے نذرانے پیش کرتے تھے۔ اور وہ لوگ اس بات سے ڈرتے تھے کہ یہ جاہل لوگ ایمان نہ لے آئیں تاکہ ان کی نذرانے بند نہ ہوجائیں۔
(14) امام عبد الرزاق نے المصنف میں بخاری، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے شعب الایمان حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ اے مسلمانوں کی جماعت تم کسی طرح اہل کتاب سے کسی چیز کے بارے میں سوال کرتے ہو اور تمہاری کتاب وہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ پر نازل فرمایا اس نے اللہ تعالیٰ کے متعلق بڑی واضح اور غیر مبہم باتیں بتائی ہیں جن میں کسی قسم کا التباس نہیں ہے۔ اور تحقیق اللہ تعالیٰ نے تم کو بتادیا کہ اہل کتاب نے اللہ کی کتاب کو بدل دیا اور اس میں تبدیلی کی ہے اور اپنے ہاتھوں سے کتاب لکھ کر کہنے لگے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے تاکہ اس کے ذریعہ پیسے وصول کریں کیا تم کو اس بات سے اس علم نے نہیں روکا جو تمہارے پاس آچکا ہے ان کے مسائل کے بارے میں اور اللہ کی قسم میں نے یہود میں سے کسی ایک کو بھی تم سے اس کتاب کے بارے میں پوچھتے ہوئے نہیں دیکھا جو تمہاری طرف نازل ہوئی۔
(15) امام ابن ابی حاتم نے سدی سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ یہود میں سے کچھ لوگ اپنے پاس سے کتاب لکھ کر عرب لوگوں کے ہاتھ فروخت کردیتے تھے اور ان کو یہ کہتے تھے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور ان سے تھوڑی قیمت وصول کرتے تھے۔
(16) عبد الرزاق، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے کچھ لوگ کتاب کو اپنے ہاتھوں سے لکھ لیتے تھے تاکہ لوگوں سے مال کھائیں اور کہتے تھے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے حالانکہ وہ اللہ کی طرف نہ ہوتی تھی۔
(17) ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ لفظ آیت ” لیشتروا بہ ثمنا قلیلا “ سے مراد ہے دنیاکا سامان اور ” وویل لہم مما یکسبون “ سے مراد وہ چیزیں ہیں جو وہ نچلے طبقہ اور ان کے علاوہ دوسرے لوگوں سے کھاتے تھے (ان کے لیے ہلاکت ہے) ۔
(18) امام عبد الرزاق، ابن ابی داؤد (نے المصاحف میں) اور ابن ابی حاتم نے ابراہیم نخعی سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ وہ اجرت کے ساتھ مصاحف کی کتابت ناپسند کرتے ہیں۔
(19) حضرت وکیع نے اعمش سے روایت کیا ہے کہ وہ مصاحف کو اجرت پر لکھنے کو ناپسند کرتے ہیں اور اس آیت کے ساتھ تاویل کرتے تھے لفظ آیت ” فویل للذین یکتبون الکتب بایدیہم، ثم یقولون ھذا من عند اللہ “۔
(20) امام وکیع اور ابن ابی داؤد نے محمد بن سیرین سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ وہ مصاحف کو بیچنے اور خریدنے کو ناپسند کرتے تھے۔
(21) امام وکیع اور ابن ابی داؤد نے ابو الضحی سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ میں نے مصاحف کی خریدو فروخت کے بارے میں کوفہ کے تین علماء سے پوچھا عبد اللہ بن یزید خطمی۔ مسروق بن اجدع اور شریح ان میں سے ہر ایک نے کہا کہ ہم اللہ کی کتاب کے لیے پیسے نہیں لیتے۔
(22) عبد الرزاق، ابو عبید، ابن ابی داؤد نے مطرف سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ میں تستر (ایک علاقہ کا نام ہے) کی فتح میں اشعری کے ساتھ حاضر ہوا۔ ہم نے دانیال میں سوس کو پایا اور ہم نے اس کے ساتھ کتان کی دو رسیاں اور ایک تابوت کو پایا۔ جس میں اللہ کی کتاب تھی اور سب سے پہلے جس آدمی نے اس پر حملہ کیا وہ بلعنبر سے تھا جس کا نام حرقوص تھا۔ اشعری نے اس کو دونوں رسیاں اور دو سو درہم دئیے اور ہمارے ساتھ ایک نصرانی مزدور تھا جس کا نام نعیم تھا۔ اس نے کہا کہ مجھ کو یہ تابوت اور جو کچھ اس میں ہے مجھے بیچ دو ۔ انہوں نے کہا اس میں سونا یا چاندی یا للہ کی کتاب ہے ؟ اس نے کہا اگرچہ اس میں اللہ کی کتاب ہو۔ انہوں نے کتاب کے بیچنے کو ناپسند کیا تو ہم نے اس کو تابوت دو درہم میں بیچ دیا اور کتاب اللہ اس کو ہبہ کردی۔ قتادہ ؓ نے فرمایا اس وجہ سے مصاحف کی بیع کو ناپسند کیا گیا اس لئے کہ اشعری اور اس کے ساتھیوں نے اس کتاب کے بیچنے کو مکروہ قرار دیا تھا۔
(23) ابن ابی داؤد نے قتادہ کے طریق سے زرارہ سے سعید بن المسیب اور حسن سے روایت کیا ہے کہ وہ مصاحف کو بیچنا ناپسند فرماتے تھے۔
قرآن کریم کی خریدو فروخت
(24) حضرت ابن ابی داؤد نے حماد بن ابو سلیمان سے روایت کیا ہے کہ ان سے مصاحف کے بیچنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ ابراہیم اس کی خریدو فروخت کو ناپسند فرماتے تھے۔
(25) امام ابن ابی داؤد نے سالم سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر جب اس شخص کے پاس آتے جو مصاحف بیچ رہا ہوتا تو آپ فرماتے کتنی بری تجارت ہے۔
(26) ابن ابی داؤد نے عبادہ بن نسی (رح) سے روایت کیا کہ حضرت عمر ؓ فرمایا کرتے تھے کہ مصاحف کو نہ بیچو نہ خرید کرو۔
(27) ابن ابی داؤد نے ابن سیرین (رح) اور ابراہیم دونوں حضرات سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ مصاحف کی خریدو فروخت کو ناپسند فرماتے تھے۔
(28) ابن ابی داؤد نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ وہ مصاحف کی خریدو فروخت کو ناپسند فرماتے تھے۔
(29) ابن ابی داؤد نے نافع کے طریق سے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ وہ فرماتے ہیں میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ مصاحف کی خریدو فروخت پر ہاتھ ٹوٹ جائیں۔
(30) عبد الرزاق ابن ابی داؤد نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا ہے کہ وہ فرماتے ہیں میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ مصاحف کی خریدو فروخت پر ہاتھ ٹوٹ جائیں۔
(31) ابن ابی داؤد نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ میں نے سالم بن عبد اللہ ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مصاحف کی تجارت سب سے بری ہے۔
(32) ابن ابی داؤد نے حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ وہ مصاحف کی خریدوفروخت کو ناپسند کرتے تھے۔
(33) عبد الرزاق، ابن ابی داؤد نے عبد اللہ بن شقیق عقیلی سے روایت کیا ہے کہ وہ مصاحف کی بیع کو ناپسند فرماتے تھے اور فرماتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب مصاحف کی خریدو فروخت میں سختی سے منع کرتے تھے اور اس کو بڑا گناہ سمجھتے تھے۔
(34) ابن ابی داؤد نے سعید بن المسیب سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ وہ مصاحف کے بیچنے کو سخت ناپسند فرماتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ تو اپنے بھائی کی کتاب (خریدنے) میں مدد کر یا اس کو ہبہ کر دے۔
(35) ابن ابی داؤد نے علی بن حسین ؓ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ مصاحف نہیں بیچے جاتے تھے اور ایک آدمی ورقہ لے کر میرے پاس آتا تھا اور کہتا کون ثواب کی خاطر مجھے یہ لکھ دے گا پھر دوسرا آدمی آتا وہ بھی لکھتا یہاں تک کہ مصحف پورا ہوجاتا۔
(36) ابن ابی داؤد، مسروق، علمقہ، عبد اللہ بن زید انصاری، شریح، عبادہ سے روایت کرتے ہیں کہ یہ حضرات مصاحف کی خریدوفروخت کو ناپسند کرتے اور کہتے تھے کہ ہم کتاب اللہ (لکھنے) پر اجرت نہیں لیتے۔
(37) ابن ابی داؤد نے ابراہیم سے اور انہوں نے اپنے اصحاب سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ یہ لوگ مصاحف کی خریدوفروخت کو ناپسند کرتے تھے۔
(38) ابو العالیہ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ وہ مصاحف کی خریدوفروخت کو ناپسند کرتے تھے اور مزید فرمایا کہ میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ جو لوگ مصاحف کو بیچتے ہیں اس کو مارا جائے۔
(39) امام ابن ابی داؤد نے ابن سیرین سے روایت کیا ہے کہ وہ مصحف کی فروخت کو اور اجرت کے ساتھ اس کی کتابت کو ناپسند کرتے تھے۔
(40) ابن ابی داؤد نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ عطاء نے فرمایا کہ ماضی میں مصاحف نہیں بیچے جاتے تھے یہ بدعت اب شروع ہوئی ہے وہ کعبہ کے قریب مصاحف کو لے کر حجر اسود کے پاس بیٹھے رہتے تھے۔ پھر ان میں سے کوئی ایک کسی لکھنے والے آدمی سے کہتا تھا جو طواف کر رہا تھا اے فلاں آدمی ! جب تو (طواف سے) فارغ ہوجائے تو میرے پاس آکر میرے لئے مصحف لکھ دینا۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ آدمی آکر کچھ حصے لکھ جاتا۔ اور اسی طرح کام ہوتا رہتا تھا۔ یہاں تک وہ اپنے مصحف سے فارغ ہوجاتا تھا۔
(41) ابن ابی داؤد نے عمرو بن مرہ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں پہلے زمانے میں لوگ جمع ہو کر دوسرے کا قرآن لکھتے تھے پھر وہ اجرت پر غلاموں کو لیتے جو ان کے لیے قرآن لکھتے پھر وہ غلام مصاحف لکھ کر بیچ دیتے تھے اور سب سے پہلے غلاموں نے ہی قرآن فروخت کئے۔
(42) امام ابو عبید اور ابن ابی داؤد نے عمران بن جریر سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ میں نے ابو مچلز سے مصاحف کی خریدوفروخت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ حضرت معاویہ ؓ کے زمانے میں بیچے گئے مگر تم ان کو نہ بیچو۔
(43) ابن ابی داؤد نے محمد بن سیرین سے روایت کیا ہے کہ اللہ کی کتاب کی شان خریدو فروخت سے بلند ہے۔
(44) امام ابن سعید بن حنظلہ سے روایت کیا کہ میں طاؤس کے ساتھ چل رہا تھا کہ ہم ایسی قوم پر گزرے جو مصاحف بیچ رہے تھے تو انہوں نے (یہ دیکھ کر) ” اناللہ وانا الیہ راجعون “ پڑھا۔
ان روایات کا ذکر جن میں مصاحف کی خریدوفروخت کی اجازت دی گئی
(45) امام ابن ابی داؤد نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ان سے مصاحف کی بیع کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اس میں کچھ حرج نہیں کیونکہ وہ اپنے ہاتھوں کی محنت کی اجرت لیتے ہیں۔
(46) امام ابن ابی داؤد نے ابن الحنفیہ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ مصاحف کی بیع کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کہ اس میں کچھ حرج نہیں کیونکہ وہ اوراق کو بیچتے ہیں۔
(47) عبد الرزاق، ابو عبید اور ابن ابی داؤد نے شعبی (رح) سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ مصاحف کی بیع میں کچھ حرج نہیں کیونکہ وہ اللہ کی کتاب کو نہیں بیچتے بلکہ وہ کاغذ اور اپنے ہاتھوں کی محنت کو بیچتے ہیں۔
(48) ابن ابی داؤد نے جعفر سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ مصاغف کے خریدنے میں کچھ حرج نہیں اس کی کتابت پر اجرت دی گئی ہوجاتی ہے۔
(49) عبد الرزاق، ابو عبید، ابن ابی داؤد نے مطر الوراق سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ مصاحف کی بیع کے بارے میں پوچھا گیا اس امت کے بہترین افراد امام حسن اور امام شعبی (رح) اس کی بیع میں کوئی حرج نہیں دیکھتے تھے۔
(50) ابن ابی داؤد نے حمید سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ بلاشبہ حسن مصاحف کی بیع کو ناپسند فرماتے تھے۔ مطر الوراق بھی اسی مسلک پر رہے یہاں تک اس کی اجازت دے دی۔
(51) ابن ابی داؤد نے حسن سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ مصاحف کی خریدوفروخت میں کچھ حرج نہیں اور اس کے اعراب لگانے پر اجرت لینے میں بھی کچھ حرج نہیں۔
(52) ابن ابی داؤد نے حکم سے روایت کیا ہے کہ مصاحف کی خریدو فروخت میں کچھ حرج نہیں دیکھتے تھے۔
(53) ابو عبدی، ابن ابی داؤد نے ابو موسیٰ بن نافع سے روایت کیا ہے کہ مجھ سے حضرت سعید بن جبیر نے فرمایا کیا مصحف کے متعلق مجھ پر تیرا کوئی معاوضہ ہے تو اس کے بدلے سامان خریدلے۔
(54) عبد الرزاق، ابو عبید اور ابن ابی داؤد نے کئی طرق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مصاحف کو خرید مگر اس کو نہ بیچ۔
(55) امام ابن ابی داؤد نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں مصاحف کے خریدنے میں اجازت دی گئی ہے اور اس کے بیچنے کو ناپسند کیا گیا ہے ابن ابی داؤد نے فرمایا کہ اس طرح انہوں نے اجازت دی گویا وہ اس کی سند ہے۔
(56) ابو عبید اور ابو داؤد نے حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ سے مصاحف کی بیع کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ اس کو خرید لو مگر بیچو نہیں۔
(57) ابن ابی داؤد نے سعید بن المسیب اور سعید بن جبیر ؓ سے بھی اسی طرح روایت کیا ہے۔
(58) عبد الرزاق نے حضرت ابن عمر ؓ سے بھی اسی طرح روایت کیا ہے۔