Ayah 2:205(1) عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واذا تولی سعی فی الارض “ سے مراد ہے کہ وہ زمین پر فساد برپا کرتا ہے ” ومہلک الحرث “ یعنی زمین کی کھیتی کو تباہ کرتا ہے ” والنسل “ یعنی انسان اور حیوان ہر چیز کی نسل کو ہلاک کرتا ہے۔
(2) ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واذا تولی سعی فی الارض “ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ زمین میں ظلم اور زیادتی کرتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ اس وجہ سے آسمان سے بارش کو روک لیتے ہیں اور بارش کے رک جانے کی وجہ سے کھیتی اور حیوان ہلاک ہوجاتے ہیں لفظ آیت ” واللہ لا یحب الفساد “ پھر مجاہدین نے (یہ آیت) پڑھی لفظ آیت ” ظھر الفساد فی البر والبحر بما کسبت ایدی الناس “ (الروم آیت 41)
گناہ سے زمین میں فساد پھیلتا ہے
(3) امام وکیع الفریابی، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے لفظ آیت ” ویہلک الحرث والنسل “ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا حرث سے مراد کھیتی ہے اور نسل سے مراد ہو جانور کی نسل۔
(4) ابن جریر، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ نسل سے ہر جانور اور انسان کی نسل مراد ہے۔
(5) الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ارزق نے ان سے پوچھا کہ مجھے ” الحرث والنسل “ کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے فرمایا کہ نسل سے مراد پرندے اور چوپائے ہیں عرض کیا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے شاعر کا یہ شعر نہیں سنا ؟
کھولہم خیرا الکھول ونسلہم کنسل الملوک لاثبور ولا تجزی
ترجمہ : جیسے ان کے ادھیڑ عمر کے لوگ بہترین ادھیڑ عمر والے ہیں اور ان کی نسل کے لوگ جیسے بادشاہوں کی نسل ہوتی ہے کہ نہ ہلاک ہوتے ہیں اور نہ رسوال ہوتے ہیں۔
(6) ابن ابی شیبہ نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ جس قوم کے پاس نعلین نہ ہوں تو موزے پہن لے۔ پوچھا گیا کہ ان کو کاٹ دے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فساد کو پسند نہیں فرماتے۔
Ayah 2:206(1) امام وکیع، ابن المنذر، طبرانی اور بیہقی نے الشعب میں حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ آدمی اپنے بھائی سے کہے ” اتق اللہ “ یعنی اللہ سے ڈر تو وہ (جواب میں) کہتا ہے تو اپنے نفس کا خیال کر کیا تو مجھے حکم کرتا ہے ؟
(2) ابن المنذر بیہقی نے الشعب میں سفیان (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے مالک بن مغول (رح) سے کہا تو صرف اللہ سے ڈر تو اس نے تواضع اختیار کرتے ہوئے اپنی گالوں کو زمین پر رکھ دیا۔
(3) احمد والدیلمی نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے حضرت عمر بن خطاب ؓ سے کہا اللہ سے ڈرو وہ آدمی (جب) چلا گیا تو حضرت عمر نے فرمایا ہمارے درمیان خیر نہ ہوگی اگر ہم کو یہ نہ کہے اور ان کے درمیان بھی خیر نہ ہوگی اگر وہ ہمارے لئے یہ نہ کہیں۔
(4) ابن المنذر حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولبئس المھاد “ سے مراد ہے برا ہے وہ جو انہوں نے اپنے نفسوں کے لئے بچھونا بچھایا۔
Ayah 2:207(1) ابن مردویہ نے حضرت صہب ؓ سے روایت کیا کہ جب میں نے ہجرت کا ارادہ کیا مکہ سے نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں مجھ سے قریش نے کہا اے صہب تو ہماری طرف آیا تھا اور تیرے لئے کوئی مال نہیں تھا۔ اب تو جا رہا ہے۔ اور تیرے پاس مال ہے اللہ کی قسم ! ہرگز ایسا نہیں ہوگا۔ میں نے اس سے کہا تم مجھ کو بتاؤ اگر میں تم کو اپنے مال دے دوں۔ کیا تم میرا راستہ چھوڑ دو گے۔ انہوں نے کہا ہاں ! میں نے ان لوگوں کو اپنا مال دے دیا اور انہوں نے میرا راستہ چھوڑ دیا میں نکلا اور مدینہ منورہ آگیا جب میرے اس سودے کی خبر نبی اکرم ﷺ کو پہنچی تو آپ نے فرمایا ” ریح البیع صھیب “ صہیب کو اس سودے میں نفع ہوا۔ دو مرتبہ آپ نے ایسا فرمایا۔
(2) ابن سعد، الحرث بن ابی اسامہ نے اپنی سند میں، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے، ابو نعیم نے الحلیہ میں اور ابن عساکر نے سعید بن مسیب (رح) سے روایت کیا کہ صہیب ؓ ہجرت کرتے ہوئے نبی اکرم ﷺ کی طرف چل پڑے۔ قریش میں سے ایک گروہ اس کے پیچھے لگ گیا وہ اپنی سواری سے نیچے اترے اور اپنے ترکش میں جو کچھ تھا اس کو خالی کردیا۔ (ان سے) فرمایا اے قریش کی جماعت ! تم جانتے ہو کہ میں تم میں سے زیادہ تیر اندازی کرنے والا ہوں۔ ایک آدمی ہوں اور اللہ کی قسم ! تم میری طرف نہیں پہنث سکو گے یہاں تک کہ میں اپنی ترکش کے سارے تیر ماروں گا پھر اپنی تلوار سے ماروں گا جب تک میرے ہاتھوں میں طاقت ہے۔ پھر تم کرلینا جو کچھ تم چاہو۔ اگر تم چاہو تو اپنا مال اور خزانہ تم کو مکہ میں بتادیتا ہوں اور تم میرا راستہ چھوڑ دو انہوں نے کہا ہاں (یہ ٹھیک ہے) جب یہ نبی اکرم ﷺ کے پاس پہنچے۔ تو آپ نے ” ربح البیع “ سودا نفع بخش ہے سودا نفع بخش ہے اور (یہ آیت) نازل ہوئی لفظ آیت ” ومن الناس من یشری نفسہ ابتغاء مرضات اللہ، واللہ رء وف بالعباد “
(3) طبرانی اور ابن عساکر نے ابن جریج (رح) سے لفظ آیت ” ومن الناس من یشتری نفسہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت صہیب بن سنان اور ابوذر ؓ کے بارے میں نازل ہوئی۔
(4) ابن جریر اور طبرانی نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت ” ومن الناس من تشری نفسہ “ (الآیہ) صہیب بن سنان ؓ ، ابوذر غفاری اور جنذب بن سکن ؓ جو ابوذر ؓ کے خاندان کے فرد تھے۔ ان کے بارے میں نازل ہوئی۔ ابوذر ؓ ان میں سے بچ نکلے۔ اور نبی اکرم ﷺ کے پاس پہنچے جب یہ ہجرت میں تھے تو (رات میں) نبی اکرم ﷺ کے پاس پہنچے۔ جب یہ سفر ہجرت میں تھے تو (راستہ میں) کافر ان کو آڑے آگئے اور وہ لوگ مرا لظہران میں تھے۔ تو آپ ان سے بھاگ کر آگئے یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس پہنچ گئے۔ اور صہیب ؓ کو ان کے خاندان والوں نے پکڑ لیا تو انہوں نے ان میں سے اپنے مال کا فدیہ دیا پھر ہجرت کرتے ہوئے نکل کھڑے ہوئے تو ان کو (پھر) قنفاز بن عمیر بن جدعان نے پالیا تو بقیہ مال ان سے لے لیا اور ان کا راستہ چھوڑ دیا۔
صہیب بن سنان ؓ کی تجارت آخرت
(5) طبرانی حاکم بیہقی نے دلائل میں اور ابن عساکر نے صہیب ؓ سے روایت کیا کہ جب نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ کی طرف تشریف لے گئے تو میں نے بھی جانے کا ارادہ کیا تو مجھ کو قریش کے دو جوانوں نے روک لیا۔ پھر میں (موقعہ پاکر) نکلا بعد اس کے جب میں رات کا سفر کر رہا تھا کچھ لوگ ان (کافروں) میں سے مل گئے تاکہ وہ مجھے واپس لوٹا دیں۔ میں نے ان سے کہا اگر میں تم کو (کچھ) اوقیہ سونے کا دے دوں تو تم میرا راستہ چھوڑ دو گے ؟ انہوں نے ایسا کرلیا۔ تو میرے دروازہ کی چوکھٹ کے نیچے گھڑا کھودو اس کے نیچے رواتی (سونے) کی موجود ہیں اور میں نکلا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس قبا شریف میں پہنچ گیا وہاں سے آپ کے جانے سے پہلے۔ جب آپ نے مجھے دیکھا اے یحییٰ کے باپ ! (تیری) تجارت بڑی منافع بخش ہے۔ پھر یہ آیت تلاوت فرمائی۔
(6) ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ اس آیت ” ومن الناس من یشری نفسہ “ سے مراد مہاجر انصار ہیں۔
(7) امام وکیع، الفریابی، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم نے مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت کیا کہ ہم ایک غزوہ میں تھے۔ ایک آدمی آیا اور وہ لڑنے لگا یہاں تک کہ اس کو قتل کردیا گیا لوگوں نے کہا کہ اس نے اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں ڈال دیا اس بارے میں انہوں نے حضرت عمر ؓ کو دیکھا تو حضرت عمر نے جواب دیا۔ ایسا نہیں ہے جیسے کہ ان لوگوں نے کہا بلکہ وہ ان لوگوں میں سے ہے۔ جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” ومن الناس من یشری نفسہ ابتغاء مرضات اللہ “
(8) عبد بن حمید، ابن جریر نے محمد بن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ ہشام بن عامر (رح) نے (دشمن کی) صف پر حملہ کیا یہاں تک کہ اس کو پھاڑ دیا۔ تو لوگوں نے کہا انہوں نے اپنے ہاتھوں کو (ہلاکت میں) ڈال دیا تو ابوہریرہ ؓ نے فرمایا لفظ آیت ” ومن الناس من یشری نفسہ ابتغاء مرضات اللہ “
(9) بیہقی نے سنن میں مدرکہ بن عوف احمسی (رح) سے روایت کیا کہ وہ حضرت عمر ؓ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے لوگوں نے ایک آدمی کے بارے میں ذکر کیا کہ جس نے جنگ میں اپنی جان کو خریدا وہ میرا ماموں تھا لوگوں نے گمان کیا کہ اس نے اپنی جان کو ہلکات میں ڈالا۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا ان لوگوں نے جھوٹ کہا بلکہ وہ ان میں سے ہیں جنہوں نے دنیا کے بدلہ میں آخرت کو خرید کیا۔
(10) ابن عساکر نے کلبی سے انہوں نے ابو صالح سے حضرت ابن عباس ؓ نے اس آیت لفظ آیت ” ومن الناس من یشری نفسہ ابتغاء مرضات اللہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت صہب ؓ اور صحابہ کی اس جماعت کے بارے میں نازل ہوئی جن کو مکہ والوں نے پکڑا اور ان کو تکلیفیں دیں تاکہ وہ اللہ کے ساتھ شرک کرنے کی طرف لوٹ آئیں۔ ان (صحابہ) میں عمار امیہ، سمیہ، ابو یاسر، بلال خباب اور عباس مولی حویطب بن عبد العزی ؓ تھے۔
(11) طبرانی، ابو نعیم نے الحلیہ میں اور ابن عساکر نے صہیب ؓ سے روایت کیا کہ مشرکین نے جب رسول اللہ ﷺ کا گھیراؤ کیا پھر غار پر آگئے اور پھر پیٹھ پھیر کر چلے گئے۔ تو آپ نے فرمایا صہیب ! اور میرے لئے صہیب نہیں ہے۔ جب رسول اللہ ﷺ نے (مدینہ کی طرف) نکلنے کا ارادہ فرمایا تو ابوبکر ؓ کو دو یا تین مرتبہ صہیب ؓ کے پاس بھیجا، انہوں نے اس کو نماز میں پایا تو ابوبکر نے نبی اکرم ﷺ سے عرض کیا میں نے اس کو نماز پڑھتے ہوئے پایا۔ میں نے اس بات کو ناپسند فرمایا کہ ان کی نماز کاٹ دوں۔ آپ نے فرمایا تو نے اچھا کیا۔ اور (پھر) دونوں اسی رات (مدینہ منورہ کی طرف) چل پڑے۔ جب صبح ہوئی تو آپ گھر سے نکلے اور ام رومان زرجہ ابوبکر ؓ کے پاس آئے انہوں نے فرمایا میں تجھے یہاں کیوں دیکھ رہی ہوں۔ اور تیرے دونوں بھائی جا چکے ہیں اور دونوں نے تیرے لئے اپنے توشہ میں کوئی چیز رکھی ہے َ صہیب نے فرمایا میں نکلا یہاں تک کہ اپنی بیوی ام عمرو کے پاس داخل ہوا میں نے اپنی تلوار۔ اپنا ترکش اور اپنی کمان لی یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس مدینہ منورہ آگیا۔ میں نے آپ کو اور ابوبکر ؓ کو اکٹھے بیٹھے ہوئے پایا۔ جب مجھ کو ابوبکر ؓ نے دیکھا میری طرف آئے اور مجھے اس آیت کی خوشخبری دی جو میرے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ اور پھر میرے ہاتھوں کو پکڑا میں نے کچھ ملاوٹ کا اظہار کیا انہوں نے عذر پیش کیا۔ اور مجھ کو رسول اللہ ﷺ نے منافع کی خوشخبری سنائی۔ اور فرمایا اے أوب یحییٰ تیرا سودا نفع بخش ہے۔
(12) ابن ابی خیثمہ اور ابن عساکر نے مصہب بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا کہ صہیب ؓ روم سے بھاگے اور ان کے ساتھ بہت مال تھا۔ وہ مکہ مکرمہ میں اترے تو عبد اللہ بن جدعان سے ان کا معاہدہ ہوا اور اس نے آپ کو حلف دیا اور روم والوں نے صہیب بن رضوی کو پکڑ لیا۔ جب نبی اکرم ﷺ نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تو صہیب ان کے ساتھ مل گئے قریش نے ان سے کہا اسے اہل و عیال اور مال نہیں ملے گا تو انہوں نے اپنا مال ان کو دے دیا نبی اکرم ﷺ نے فرمایا بہت نفع بخش سودا ہوا ہے۔ اور اس بارے میں آیت نازل ہوئی۔ لفظ آیت ” ومن الناس من یشری نفسہ ابتغاء مرضات اللہ “ اور ان کے بھائی مالک بن سنان ؓ تھے۔
(13) حاکم نے حضرت ابن عباس ؓ سے فرمایا کہ میں حضرت عمر ؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اچانک ان کے پاس ایک خط آیا کہ کوفہ والوں میں سے کچھ لوگوں نے قرآن اس طرح سے پڑھا عمر ؓ نے تکبیر کہی۔ میں نے کہا انہوں نے اختلاف کیا ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا تو نے کس چیز سے پہچانا۔ انہوں نے یہ آیت پڑھی۔ لفظ آیت ” ومن الناس من یعجبک قولہ فی الحیوۃ الدنیا “ (الایتین) جب وہ ایسا کریں گے تو صاحب القرآن انہیں برداشت نہیں کرے گا۔ پھر میں نے (یہ آیت) پڑھی لفظ آیت ” واذا قیل لہ اتق اللہ اخذتم العزۃ بالاثم فحسبہ جھنم ولبئس المھاد “ اور ” ومن الناس من یشری نفسہ ابتغاء مرضات اللہ “ حضرت عمر ؓ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تو نے سچ کہا۔
(14) حاکم نے عبد اللہ بن عبید بن عمیر (رح) سے فرمایا اس درمیان کہ حضرت ابن عباس ؓ حضرت عمر ؓ کے ساتھ تھے۔ اور وہ اس کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ میں قرآن کو دیکھتا ہوں کہ قرآن لوگوں میں پھیل چکا ہے۔ میں نے کہا اے امیر المؤمنین میں اس بات کو پسند نہیں کرتا فرمایا کیوں ؟ میں نے کہا اس لئے کہ جب وہ قرآن پڑھیں گے تو ایک دوسرے پر غالب آنے کی کوشش کریں گے اور جب ایسا ہوگا تو اختلاف کریں گے اور جب وہ اختلاف کریں گے تو ایک دوسرے کی گردنوں کو ماریں گے (یعنی ان کو قتل کریں گے) حضرت عمر ؓ نے فرمایا اگر میرے بس میں ہوتا تو میں لوگوں سے چھپا دیتا۔
جان و مال اللہ کی رضا کے لئے خرچ کرنا
(15) ابن جریر نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ حضرت ابن عباس ؓ نے اس آیت کو حضرت عمر ؓ کے پاس پڑھا۔ اور فرمایا کہ دو آدمی آپس میں لڑ پڑے۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا کس لئے ؟ انہوں نے فرمایا اے امیر المؤمنین میں دیکھتا ہوں یہاں کچھ ایسے لوگ ہیں جب ان سے ڈرنے کا حکم کیا جاتا ہے تو ان کو گناہ کا غرور پکڑ لیتا ہے۔ اور میں دیکھتا ہوں کہ کچھ وہ ہیں جو اپنی جان کو خریدتے ہیں اللہ کی رضا مندی کے لئے وہ اس بات کو لے کر کھڑا ہوتا ہے اور دوسرے کو حکم دیتا ہے اللہ سے ڈرنے کا جب وہ اس کی بات کو قبول نہیں کرتا اور اسے گناہ کا غرور گھیر لیتا ہے۔ اور دوسرا کہتا ہے کہ میں نے اپنی جان کو اللہ کی رضا کے لئے بیچ دیا ہے اور پھر اس سے لڑ پڑتا ہے کہ وہ دونوں آپس میں لڑ پڑے (یہ سن کر) حضرت عمر ؓ نے فرمایا اے ابن عباس ! اللہ تجھے ہمیشہ خوش رکھے۔
(16) عبد بن حمید نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے جب یہ آیت تلاوت فرمائی۔ لفظ آیت ” ومن الناس من یعجبک “ سے لے کر لفظ آیت ” ومن الناس من یشری نفسہ “ تک تو فرمایا دو آدمیوں نے آپس میں لڑائی کی
(17) امام وکیع، عبد بن حمید، بخاری نے تاریخ میں، ابن جرار نے ابن ابی حاتم، اور الخطیب نے حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے یہ آیت تلاوت کرکے فرمایا کہ رب کعبہ کی قسم ! دو آدمیوں نے آپس میں لڑائی کی۔
(18) وکیع، عبد بن حمید، ابن جریر نے صالح بن ابی خلیل (رح) سے روایت کیا کہ حضرت عمر ؓ نے ایک انسا کو یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا لفظ آیت ” واذا قیل لہ اتق اللہ “ سے لے کر لفظ آیت ” ومن الناس من یشری نفسہ ابتغاء مرضات اللہ “ تک تو انہوں نے فرمایا لفظ آیت ” ان للہ وانا الیہ راجعون “ ایک آدمی کھڑا ہوا جو نیکی کا حکم کرتا ہے اور برائی سے روکتا ہے پھر وہ قتل کردیا جاتا ہے۔
(19) ابن جریر اور ابن المنذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت اس مسلمان کے حق میں نازل ہوئی جو کافر سے ملا اور اس سے کہا لا الہ الا اللہ کہہ لے گار تو اس کو کہہ لے گا تو مجھ سے اپنے خون اور اپنے مال کو بچا لے گا مگر ان دونوں کے حق کے ساتھ (یعنی شریک کی وجہ سے یہ دونوں چیزیں تجھ سے لی جاسکتی ہیں) اس کافر نے یہ کہنے سے انکار کردیا۔ مسلمان نے کہا اللہ کی قسم ! میں ضرور بیچ دوں گا اپنی جان کو اللہ کے لئے (یہ کہہ کر وہ آگے بڑھا (اور) اس سے لڑنے لگا یہاں تک کہ وہ قتل کردیا گیا۔
Ayahs 2:208–209اسلام میں مکمل داخل ہونا
(1) ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” یایھا الذین امنوا ادخلوا فی السلم کافۃ “ کہ انہوں نے ” کافۃ “ کو نصب کے ساتھ پڑھا یعنی اہل کتاب کے ایمان والے لوگ جبکہ وہ اللہ پر ایمان کے ساتھ تھے مضبوطی سے پکڑے ہوئے تو رات پر بعض حکم اور شرائع کو جو ان کے بارے میں نازل ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ محمد ﷺ کے دین کی شریعت میں مکمل طور پر داخل ہوجاؤ اور اس میں سے کوئی چیز نہ چھوڑو اور کافی ہے تمہارا ایمان لانا تورات کے ساتھ اور جو کچھ اس میں ہے۔
(2) ابن جریر نے عکرمہ (رح) عنہ سے لفظ آیت ” یایھا الذین امنوا ادخلوا فی السلم کافۃ “ کے بارے میں روایت کیا کہ آیت ثعلبہ، عبد اللہ بن سلام، ابن یامین، اسد و اسید کعب کے بیٹے سعید بن عمرو، قیس بن زید کے بارے میں نازل ہوئی یہ سب لوگ یہود میں سے تھے۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! ہفتہ کا وہ دن ہے ہم اس کی تعظیم کیا کرتے تھے اب بھی آپ ہم کو اجازت دیں کہ ہم اس میں اپنی عبادت کیا کریں اور تورات اللہ کی کتاب ہے اگر آپ ہم کو اجازت دیں تو ہم رات کے وقت کھڑے ہو کر اس کی تلاوت کیا کریں۔ تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
(3) ابن جریر نے ابن جریج کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ادخلوا دی السلم “ یعنی اے اہل کتاب (اسلام میں داخل ہوجاؤ) ” کافۃ “ یعنی پورے کے پورے۔
(4) ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” السلم “ سے مراد ہے طاقت (اور) ” کافۃ “ سے مراد ہے پورے۔
(5) ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” السلم “ سے مراد اسلام (اور) ” زلل “ سے مراد ہے اسلام کا چھوڑ دینا۔
(6) ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فان زللتم من بعد ما جاء تکم البینت “ سے مراد ہے کہ اگر تم گمراہ ہوگئے بعد اس کے کہ تمہارے پاس محمد ﷺ آچکے۔
(7) ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فاعلموا ان اللہ عزیز حکیم “ سے مراد ہے کہ جب وہ انتقام لینا چاہیں تو اپنے انتقام لینے میں وہ غالب ہیں اور اپنے کام میں حکمت والے ہیں۔
Ayah 2:210(1) ابن مردویہ نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اللہ اولین و آخرین کو دن قیامت مقرر وقت پر جمع فرمائیں گے۔ ان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی آسمان کی طرف وہ فیصلہ کے منتظر ہوں گے اور اللہ تعالیٰ نزول فرمائیں گے بادلوں کے سایہ میں عرش سے کرسی پر (اپنی شان کے لائق)
(2) ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ نے العظمہ میں عبد اللہ بن عمرو ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا (اللہ تعالیٰ ) اتریں گے ان کے اور ان کی مخلوق کے درمیان ستر ہزار حجاب ہوں گے۔ ان میں سے کچھ نور، ظلمت اور پانی کے ہوں گے اس ظلمت میں پانی آواز دے گا کہ جس سے دل دہل جائیں گے۔
(3) عبد بن حمید، ابو یعلی، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ دن قیامت بادلوں کے سایہ میں تشریف لائیں گے تو سارے پردے کٹ چکے ہوں گے۔
(4) عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے لفظ آیت ” فی ظلل من الغمام “ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ بادل ہوگا اور وہ بنی اسرائیل کے لئے ان کے تیہ کے میدان میں آیا تھا اس میں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تشریف لائیں گے اس میں فرشتے بھی آئیں گے۔
(5) ابن جریر، دیلمی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا بادلوں کے پردے ہیں اس میں اللہ تعالیٰ فرشتوں کے ساتھ پوشیدہ ہو کر تشریف لائیں گے اور اس آیت میں لفظ آیت ” ہل ینظرون الا ان یاتیہم اللہ فی ظلل من الغمام “ اسی کی طرف اشارہ ہے۔
(6) ابو عبیدہ ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ ابی بن کعب ؓ کی قرأت اس طرح تھی لفظ آیت ” ہل ینظرون الا ان یاتیہم اللہ فی ظلل من الغمام “ فرمایا کہ فرشتے آئیں گے بادلوں کے سائے میں اور یہ اس قول کی طرح ہے لفظ آیت ” ویوم تشقق السماء بالغمام ونزل الملئکۃ تنزیلا “
(7) ابن جریر، ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فی ظلل من الغمام “ سے مراد ہیں پردے اور والملائکۃ سے مراد ہے کہ فرشتے اس کے گرد ہوں گے۔
(8) ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ بادلوں کے سایہ میں ان کے پاس آئیں گے اور ان کے پاس فرشتے آئیں گے موت کے وقت۔
(9) عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ ” وقضی الامر “ سے راد ہے جب قیامت قائم ہوگی۔
Ayah 2:211(1) عبد بن حمید، ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ نبی اسرائیل سے یہودی مراد ہیں۔ لفظ آیت ” کم اتینھم من ایۃ بینۃ “ وہ نشانیاں جو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ذکر فرمائیں اور جو نہیں ذکر فرمائیں لفظ آیت ” کم اتینتم من ایۃ بینۃ “ یعنی جو اس (نعمت) کا انکار کرے گا۔
(2) ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو واضح نشانیاں عطا فرمائیں تھیں موسیٰ (علیہ السلام) کا عصا اور ان کا ہاتھ چمکنا اور ان کے لئے دریا کو پھاڑ دینا۔ اور ان کے دشمن کا غرق کردینا۔ اور وہ (یعنی بنی اسرائیل) اس کو دیکھ رہے تھے۔ اور ان پر بادل کا سایہ کرنا اور ان پر من اور سلویٰ کا نازل کرنا لفظ آیت ” کم اتینھم من ایۃ بینۃ “ اور جس نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کو بدل دیا تو گویا اس نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناشکری کی۔
Ayah 2:212(1) ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” زین للذین کفروا الحیوۃ الدنیا “ سے مراد ہے کہ وہ کافر دنیا طلب کرتے ہیں جس کو تلاش کرتے ہیں۔ لفظ آیت ” ویسخرون من الذین امنوا “ اور مسلمان جو آخرت کی طلب کرتے ہیں تو وہ ان سے مذاق کرتے ہیں ابن جریر (رح) نے فرمایا میں اس کو عکرمہ (رح) سے گمان کرتا ہوں کافروں نے کہا اگر محمد ﷺ نبی ہوتے تو اس کی اتباع ہمارے سردار اور اشرف کرتے۔ اللہ کی قسم اس کی اتابع نہیں کی مگر غریب لوگوں نے جیسے ابن مسعود ؓ اور اس کے ساتھی۔
دنیا کی حرص و لالچ قابل مذمت ہے
(2) ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” زین للذین کفروا الحیوۃ الدنیا “ سے مراد ہے کہ کافروں کے ارادے ان کی حرص اور ان کی طلب اور ان کی نیت لفظ آیت ” ویسخرون من الذین امنوا “ اور وہ کہتے ہیں۔ کہ وہ لوگ (یعنی ایمان والے) کسی چیز پر نہیں (یعنی کسی دین پر نہیں) مذاق کرتے ہوئے (پھر فرمایا) لفظ آیت ” والذین اتقوا فوقھم یوم القیمۃ “ اور قیامت کے دن متقی ان سے بلند ہوں گے۔
(3) عبد الرزاق نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” والذین اتقوا فوقھم “ سے مراد ہے کہ جنت میں مسلمان ان سے بلند ہوں گے۔
(4) ابن ابی حاتم نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ میں نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں پوچھا لفظ آیت ” واللہ یرزق من یشاء بغیر حساب “ تو انہوں نے فرمایا کہ اس کی تفسیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پر نہیں ہے کوئی نگرانی کرنے والا اور نہ کوئی ان سے حساب لینے والا۔
(5) ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے ” بغیر حساب “ کے بارے میں روایت کیا کہ رب تعالیٰ کا محاسبہ نہ ہوگا۔
(6) میمون بن مہران (رح) سے روایت کیا کہ ” بغیر حساب “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے آسودہ زندگی (یعنی اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے فراوانی عطا فرماتا ہے)
(7) ربیع بن انس (رح) نے ” بغیر حساب “ کے بارے میں فرمایا جس کو مال کے کم ہوجانے کا خوف ہو وہ حساب کے ساتھ خرچ کرتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے خزانے خرچ کرنے سے کم نہیں ہوتے۔
Ayah 2:213(1) ابن ابی حاتم، ابو یعلی، طبرانی نے صحیح سند کے ساتھ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” کان الناس امۃ واحدۃ “ سے مراد ہے سارے لوگ اسلام پر تھے۔
(2) البزار ابن المنذر، ابن ابی حاتم، حاکم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے درمیان دس صدیاں تھیں۔ سب کے سب سچے دین پر تھے۔ پھر انہوں نے آپس میں اختلاف کیا تو اللہ تعالیٰ نے دوسرے نبیوں کو بھیجا۔ (اور) فرمایا کہ اسی طرح عبد اللہ (ابن مسعود) کی قرأت میں ہے لفظ آیت ” کان الناس امۃ واحدۃ فاختلفوا “
(3) ابن جریر، ابن ابی حاتم نے ابی ابن کعب ؓ سے روایت کیا کہ (لوگ) ایک امت تھے جب آدم (علیہ السلام) پر پیش کئے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اسلام پر پیدا فرمایا اور سب نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کا امور (اور لوگ) ایک امت یعنی مسلمان تھے۔ پھر آدم (علیہ السلام) کے بعد انہوں میں اختلاف شروع ہوا۔ (یعنی مختلف مذہب بن گئے)
(4) عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” کان الناس امۃ واحدۃ “ میں الناس سے مراد آدم (علیہ السلام) ہیں۔
(5) ابن جریرابن ابی حاتم (رح) نے ابی ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس (آیت) کو یوں پڑھا کرتے تھے لفظ آیت ” کان الناس امۃ واحدۃ فبعث اللہ النبین “ کہ اللہ تعالیٰ نے رسول بھیجے کتاب نازل فرمایا۔ اختلاف کے بعد (اسی کو فرمایا) لفظ آیت ” وما احتلف فیہ الا الذین اوتوہ “ یعنی بنی اسرائیل (جو) کتاب اور علم دیئے گئے۔” بغیا بینھم “ یعنی دنیا کو طلب کیا اور اس کی جھوٹی جاہ و حشمت کو حاصل کرنے کی خاطر آپس میں اختلاف کیا۔ (پھر) ان کے بعض نے بعض پر بغاوت کی اور ایک دوسرے کی گردنین کاٹیں۔ لفظ آیت ” فھدی اللہ الذین امنوا “ یعنی اللہ تعالیٰ نے اختلاف کے وقت ان کو ہدایت دی کہ وہ بیشک کھڑے ہوئے اس دین پر جو رسول لے کر آئے وہ اختلاف سے پہلے بھی وہ اللہ کی توحید اور اس کی عبادت پر قا ئم رہے۔ اور اس کا کوئی شریک نہیں بنایا۔ نماز قائم کرتے تھے۔ اختلاف کو چھوٹ دیا۔ اور قیامت کے دن قوموں کے خلاف گو اہی دیں گے۔ قوم نوح، قوم عادم، قوم صالح، قوم شعیب اور آل فر عون پر اور کہیں گے کہ ان کے رسولوں نے ان کو (اللہ کا پیغام) پہنچایا تھا لیکن انہوں نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا تھا۔
(6) ابن جریر، ابن ابی حاتم نے العو فی کے طر یق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” کان الناس امۃ واحدۃ “ کہ لوگ پہلے کفر پر تھے۔
امت محمدیہ ﷺ دخول جنت میں اول ہوں گی
(7) عبد الرزاق، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے اس آیت ” فھدی اللہ الذین امنوا لما اختلفوا فیہ من الحق باذنہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہم اول ہیں اور آخر (بھی) ہیں۔ اول ہوں گے قیامت کے دن اور اول ہوں گے لوگوں سے پہلے جنت میں داخل ہونے کے لحاظ سے ان لوگوں سے جو ہم سے پہلے کتاب دئیے گئے اور ہم ان کے بعد کتاب دئیے گئے (پھر) ہم کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت عطا فرمائی۔ جب لوگوں نے حق کے بارے میں اختلاف کیا۔ سو آج یہ وہ دن ہے جس کے متعلق لوگوں کا اختلاف ہوا اور ہم کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت عطا فرمائی۔ لوگ اس میں ہمارے تابع ہیں۔ کل یہود کے لئے ہے اور پرسوں نصاری کے لئے ہے۔ وہ صحیح (بخاری) میں ہے بغیر آیت کے۔
(8) ابن ابی حاتم نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آدم اور نوح (علیہ السلام) کے درمیان دس انبیاء تھے (اللہ تعالیٰ نے) آدم (علیہ السلام) سے لوگوں کو پھیلایا پھر ان میں انبیاء بھیجے خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے۔
(9) عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو بتایا گیا کہ آدم (علیہ السلام) اور نوح (علیہ السلام) کے درمیان دس نسلیں تھیں سب لوگ ہدایت اور سچے دین پر تھے پھر اس کے بعد انہوں نے اختلاف کیا تو اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کو بھیجا۔ وہ پہلے رسول تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے زمین والوں کی طرف بھیجا جب لوگوں میں اختلاف ہوگیا تھا اور حق کو چھوڑ چکے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو بھیجا اپنی کتابوں کو نازل فرمایا جس کے ذریعے وہ مخلوق پر حجت قائم کرتے تھے۔
(10) ابن ابی حاتم نے زید بن اسلم (رح) سے لفظ آیت ” فھدی اللہ الذین امنوا لما اختلفوا فیہ من الحق باذنہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ انہوں نے جمعہ کے دن میں اختلاف کیا یہود نے ہفتہ کے دن کو لے لیا اور نصاری نے اتوار کے دن کو لے لیا اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ (علیہ السلام) کو جمعہ کے دن کی ہدایت عطا فرمائی (پھر) انہوں نے قبلہ کے بارے میں اختلاف کیا نصاری نے مشرق کی طرف رخ کرلیا۔ یہود نے بیت المقدس کی طرف رخ کرلیا اور اللہ تعالیٰ کے امت محمدیہ ﷺ کو قبلہ کی ہدایت عطا فرمائی پھر انہوں نے نماز کے بارے میں اختلاف کیا ان میں سے بعض وہ تھے جو رکوع کرتے تھے اور سجدہ نہ کرتے تھے اور بعض ان میں سے سجدہ کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے امت محمد ﷺ ہر مسئلہ میں حق کا راستہ دکھایا (پھر) انہوں نے روزہ میں اختلاف کیا۔ ان میں سے بعض نے دن کو روزہ رکھا اور بعض نے بعض کھانوں کا روزہ رکھا اللہ تعالیٰ نے امت محمد ﷺ کو اس میں حق کا راستہ دکھایا (پھر) انہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں اختلاف کیا۔ یہود نے ان کے بارے میں جھوٹ بولا اور ان کی ماں پر بڑا بہتان باندھنے لگے اور نصاری نے ان کو خدا اور خدا کا بیٹا بنا دیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے امت محمد ﷺ کو اس بارے میں حق کی ہدایت عطا فرمائی۔
(11) ابن جریر، ابن المنذر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ ابن مسعود ؓ کی قرأت میں یوں ہے لفظ آیت ” فھدی اللہ الذین امنوا لما اختلفوا فیہ “ فرمایا کہ انہوں نے اسلام کے بارے میں اختلاف کیا۔
(12) ابن جریر نے ربیع (رح) سے روایت کیا کہ ابی بن کعب ؓ کی قرأت میں یوں ہے لفظ آیت ” فھدی اللہ الذین امنوا لما اختلفوا فیہ من الحق باذنہ، واللہ یھدی من یشاء الی صراط مستقیم “ ابو العالیہ (رح) فرمایا کرتے تھے کہ اس آیت میں (اللہ تعالیٰ نے) ان کو شہادت اور گمراہیوں اور فتنوں سے نکلنے کا راستہ بتایا ہے۔
Ayah 2:214(1) عبد الرزاق، ابن جریر، ابن المنذر نے قتادہ (رح) سے لفظ آیت ” ام حسبتم “ (الآیہ) کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت یوم احزاب میں نازل ہوئی۔ اس دن نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب ؓ (دشمن کی طرف سے) مصیبت اور گھیراؤ میں مبتلا ہوئے۔
اللہ تعالیٰ مخلص بندوں کا امتحان لیتا ہے
(2) ابن ابی حاتم، ابن المنذر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے مؤمن کو خبر دی کہ دنیا مصیبت کا گھر ہے اور وہ ان کو اس میں مبتلا کرے گا اور ان کو بتایا گیا کہ اسی طرح دوسرے انبیاء اور ان کے برگزیدہ لوگوں کے ساتھ بھی ایسا کیا گیا تاکہ ان کے نفسوں کو پاک کردیا جائے۔ پھر فرمایا لفظ آیت ” مستھم الباساء والضراء “ اس سے مراد فتنہ ہے اور ” والضراء “ سے مراد بیماری ہے۔ ” وزلزلوا “ (اور جھنجھوڑے گئے) یعنی فتنوں اور لوگوں کی اذیتوں کی وجہ سے جھنجھوڑے گئے۔
(3) امام احمد، بخاری، ابو داؤد اور نسائی نے خباب بن ارت ؓ سے روایت کیا کہ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا آپ ہمارے لئے مدد طلب نہیں فرماتے کیا آپ ہمارے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا نہیں فرماتے ؟ آپ نے فرمایا بلاشبہ وہ لوگ جو تم سے پہلے تھے ان میں سے کسی آدمی کے سر کی مانگ پر آرہ رکھ دیتا تھا جو اس کے قدموں تک پہنچ جاتی تھی۔ یہ (امتحان) بھی اس کو اپنے دین سے نہیں پھیرتا تھا اور لوہے کی کنگھی کے ساتھ اس کی کنگھی کی جاتی تھی اس کے خون اور اس کی ہڈیوں کے درمیان اور یہ امتحان بھی اس کو اپنے دین سے نہ پھیرتا پھر فرمایا اللہ کی قسم ! یہ کام مکمل ہوگا (یعنی اسلام غالب آئے گا) یہاں تک کہ ایک سوار ضعاء سے حضرموت تک چلے گا وہ (راستہ میں) اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرے گا اور اسے بھیڑیا کا خوف ہوگا اپنی بکریوں پر ڈاکوؤں اور چوروں کا نہیں لیکن تم جلدی کرتے ہو۔
(4) ابن جریر، ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے لفظ آیت ” ولما یاتکم مثل الذین خلوا “ کے بارے میں روایت کیا کہ مسلمانوں کو احزاب کے دن انتہائی تکلیف پیش آئی یہاں تک کہ ان سے کہنے والوں (یعنی منافقوں) نے کہا لفظ آیت ” وعدنا اللہ ورسولہ الاغرورا “ (کہ ہم سے اللہ اور اس کے رسول نے دھوکہ کیا)
(5) عبد بن حمید، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے لفظ آیت ” مثل الذین خلوا “ کے بارے میں روایت کیا کہ ان لوگوں کا طریقہ جو تم سے پہلے گزر چکے لفظ آیت ” مستھم الباساء والضراء وزلزلوا حتی یقول الرسول “ (کہ ان کو سختی اور تکلیف پہنچی) اور بلا دئیے گئے یہاں تکہ کہ رسول اور جو ان کے ساتھ ایمان لائے گئے وہ بھول اٹھے حالانکہ وہ نبی سب سے بہتر اور سب سے زیادہ صبر کرنے والا اور اللہ تعالیٰ کو ان میں سے زیادہ جاننے والا تھا۔ لفظ آیت ” متی نصر اللہ، الا ان نصر اللہ قریب “ کہ اللہ کی مدد کب ہوگی خبردار اللہ کی مدد قریب ہے۔ اور یہ ان کا کہنا مصیبت اور شدید تکلیف کہ وجہ سے تھا۔ کہ تم سے پہلے اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام اور مؤمنین کو بھی ایسی شدید تکلیف سے آزمایا تاکہ اہل اطاعت اہل معصیت سے ممتاز ہوجائیں۔
(6) حاکم نے ابو مالک ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ تم کو مصیبت کے ساتھ آزماتا ہے اور وہ اس کو خوب جانتا ہے۔ جیسا کہ تم اپنے سونے کی آگ سے آزماتے ہو۔ ان میں سے بعض خالص سونے کی طرح نکلے گا۔ سو یہ وہ شخص ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اس کی برائیوں سے نجات دی ہوگی۔ اور بعض ان میں سے وہ ہیں جو کالے سونے کی طرح نکلتے ہیں یہ وہ ہیں جن کو اللہ نے فتنہ میں ڈال دیا۔
Ayah 2:215مال خرچ کرنے کے مصارف
(1) ابن جریر، ابن ابی حاتم نے سعدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” یسئلونک ماذا ینفقون “ سے مراد ہے کہ جس دن یہ آیت نازل ہوئی۔ اس دن زکوٰۃ (فرض) نہیں تھی۔ یہ وہ نفقہ تھا جو آدمی اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے۔ اور یہ صدقہ وہ ہے جو آدمی اس کو صدقہ کرتا ہے زکوٰۃ (کے حکم) نے اس کو منسوخ کردیا۔
(2) ابن جریر، ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ ایمان والوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ اپنے مالوں کو کہاں خرچ کریں ؟ تو یہ آیت نازل ہوئی۔ لفظ آیت ” یسئلونک ماذا ینفقون، قل ما انفقتم من خیر “ (الآیہ) یہ نفقہ نفلی تھا۔ اور زکوٰۃ ان سب کے علاوہ ہے۔
(3) ابن المنذر نے ابن حبان (رح) سے روایت کیا کہ عمرو بن جموع ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا کہ ہم اپنے مالوں میں سے کیا خرچ کریں اور کہاں خرچ کریں ؟ (یہ آیت) نازل ہوئی لفظ آیت ” یسئلونک ماذا ینفقون “ (الآیہ) یعنی ان لوگوں کے لئے مالوں کے خرچ کرنے کی جگہیں بنا دیں۔
(4) عبد بن حمید، ابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ان لوگوں نے نفقہ کا ارادہ کیا اور نبی اکرم ﷺ سے پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی لفظ آیت ” ما انفقتم من خیر “ (الآیہ) ۔
(5) عبد بن حمیدنے مجاہد (رح) سے لفظ آیت ” یسئلونک ماذا ینفقون “ کے بارے میں روایت کیا کہ انہوں نے سوال کیا کہ ان کے لئے اس بارے میں کیا حکم ہے تو فرمایا لفظ آیت ” قل ما انفقتم من خیر فللوالدین والاقربین “ (الآیہ) یعنی اے ابن آدم یہاں اپنی محنت اور کوشش کو صرف مال کے لئے ادھر ادھر نہ جا اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو نہ چھوڑ دے۔
(6) دارمی، البزار، ابن المنذر اور طبرانی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے کسی قوم کو محمد ﷺ کے صحابہ سے بہتر نہیں دیکھا۔ انہوں نے (آپ سے) سارے مسائل دریافت کئے۔ یہاں تک کہ آپ (اس دنیا سے) تشریف لے گئے وہ سب (سوالات) قرآن مجید میں ہیں ان میں سے بعض یہ ہیں۔
لفظ آیت ” یسئلونک عن الخمر والمیسر “ (بقرہ آیت 219) اور ” یسئلونک عن الشھر الحرام “ (البقرہ آیت 217) (اور) ” یسئلونک عن الیتمی “ (البقرہ آیت 220) (اور) ” یسئلونک عن المحیض “ (البقرہ آیت 222) (اور) ” یسئلونک عن الانفال “ (اور) ” یسئلونک ماذا ینفقون “ (البقرہ 225) صحابہ کرام آپ سے سوال نہیں کرتے ہیں مگر ان چیزوں میں سے جو ان کو نفع دیتی تھیں۔