2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 2:217–218

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیْهِ١ؕ قُلْ قِتَالٌ فِیْهِ كَبِیْرٌ١ؕ وَ صَدٌّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ كُفْرٌۢ بِهٖ وَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ۗ وَ اِخْرَاجُ اَهْلِهٖ مِنْهُ اَكْبَرُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ وَ الْفِتْنَةُ اَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ١ؕ وَ لَا یَزَالُوْنَ یُقَاتِلُوْنَكُمْ حَتّٰى یَرُدُّوْكُمْ عَنْ دِیْنِكُمْ اِنِ اسْتَطَاعُوْا١ؕ وَ مَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَیَمُتْ وَ هُوَ كَافِرٌ فَاُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:217 in the Quran reader

آپ سے شہر حرام کے بارے میں سوال کرتے ہیں، آپ فرما دیجئے کہ اس میں جنگ کرنا بڑا جرم ہے، اور اللہ کی راہ سے روکنا اور اس کے ساتھ کفر کرنا اور مسجد حرام کے ساتھ کفر کرنا اور اہل مسجد حرام کو وہاں سے نکالنا اللہ کے نزدیک اس سے بڑا گناہ ہے اور فتنہ پردازی قتل کرنے سے بڑا کر جرم ہے اور کافر لوگ برابر تم سے جنگ کرتے رہیں گے۔ یہاں تکہ کہ تمہیں پھیر دیں گے تمہارے دین سے اگر ان سے ہو سکے اور جو شخص تم میں سے اپنے دین سے پھر جائے پھر حالت کفر میں مرجائے، سو دنیا و آخرت میں ایسے لوگوں کے اعمال اکارت ہوجائیں گے اور یہ لوگ دوزخ والے ہیں، وہ اس میں ہیمشہ رہیں گے

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۙ اُولٰٓئِكَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:218 in the Quran reader

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا یہ لوگ اللہ کے رحمت کی امید رکھتے ہیں، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے

(1) ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، طبرانی، بیہقی نے اپنی سنن میں صحیح سند کے ساتھ جندب بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک لشکر روانہ فرمایا اور ان کے اوپر ابو عبیدہ بن جراح یا عبیدہ بن حارث ؓ کو (امیر بنا کر) بھیجا۔ جب وہ جانے لگے تو غلبہ عشق سے رسول اللہ ﷺ کی طرف دیکھ کر رونے لگے اور بیٹھ گئے۔ آپ نے پھر ان کی جگہ عبد اللہ بن جحش کو بھیجا۔ اور اس کو ایک خط لکھ کردیا اور حکم فرمایا کہ اس کو نہ پڑھنا یہاں تک کہ فلاں مقام پر پہنچ جاؤ۔ اور (یہ بھی) فرمایا کہ اپنے اصحاب میں سے کسی کو اپنے ساتھ چلنے پر مجبور نہ کرنا۔ جب انہوں نے خط کو پڑھا تو لفظ آیت ” انا للہ وانا الیہ راجعون “ پڑھا۔ اور کہا ہم نے سنا اور اطاعت کی اللہ اور اس کے رسول کی پھر اپنے ساتھیوں کو خبر دی اور ان پر خط پڑھا (ان میں سے) دو آدمی واپس لوٹ گئے اور باقی ان کے ساتھ چلتے رہے۔ اور لشکر ابن حضرمی سے ملا اور اس کو قتل کر ڈالا اور وہ نہیں جانتے تھے کہ یہ دن یکم رجب ہے یا جماد الثانی کی آخری تاریخ ہے مشرکوں نے مسلمانوں سے کہا تم نے شہر حرام میں قتل کیا اللہ تعالیٰ نے اتارا لفظ آیت ” یسئلونک عن الشھر الحرام قتال فیہ “ (الآیہ) ان کے بعض لوگوں نے کہا اگر انہیں گناہ نہیں ہوگا تو ان کے لئے اس جہاد کا اجر بھی نہیں ہوگا۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی لفظ آیت ” ان الذین امنوا والذین ھاجروا وجھدوا فی سبیل اللہ، اولئک یرجعون رحمت اللہ، واللہ غفور رحیم (218) “ (2) البزار نے حضرت ابن عباس ؓ سے لفظ آیت ” یسئلونک عن الشھر الحرام قتال فیہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے عبید اللہ بن فلاں کو ایک سریہ میں بھیجا وہ لوگ بطن مخلہ میں عمرو بن الحضرمی سے ملے اور آگے حدیث کو (اسی طرح) ذکر فرمایا۔ (3) ابن جریر وابن ابی حاتم نے حضرت عباس ؓ سے روایت کیا کہ مشرکین نے رسول اللہ ﷺ کو روکا اور شہرحرام میں ان کو مسجد حرام سے واپس لوٹا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اگلے سال شہر حرام میں اپنے نبی ﷺ پر (مکہ) فتح فرما دیا تو مشرکوں نے رسول اللہ ﷺ پر شہر حرام میں قتال کرنے پر عیب لگایا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” قل قتال فیہ کبیر، وصد عن سبیل اللہ وکفر بہ والمسجد الحرام، واخراج اہلہ منہ اکبر عند اللہ “ محمد ﷺ نے ایک لشکر روانہ فرمایا وہ لوگ عمر وبن الحضرمی سے ملے جو طائف سے آرہے تھے۔ جمادی الآخری کی آخری رات میں یا رجب کی پہلی رات میں اصحاب محمد ؓ نے گمان کیا کہ یہ جمادی (الثانی) کی رات ہے اور وہ رجب کی پہلی رات تھی۔ انہیں کوئی دھیان نہ رہا اور ان میں سے ایک آدمی نے اس کو (یعنی عمرو ابن حضرمی کو) قتل کردیا۔ اور اس کے پاس جو کچھ تھا سب لوٹ لیا مشرکین نے اس بات کی عار دلانے کے لئے آدمی بھیجے اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” یسئلونک عن الشھر الحرام قتال فیہ، قل قتال فیہ کبیر “ اور اس کے علاوہ اس سے بڑے (گناہ) ہیں لفظ آیت ” وصد عن سبیل اللہ وکفربہ والمسجد الحرام “ اور مسجد حرام کے رہنے والوں کو اس سے نکالنا بڑا (گناہ) ہے جو اصحاب محمد ؓ سے سرزد ہوا اور شرک اس سے زیادہ سخت گناہ ہے۔ (4) ابن اسحاق کلبی، اسد ابو صالح نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت لفظ آیت ” یسئلونک عن الشھر الحرام قتال فیہ “ عمرو بن الحضرمی کے واقعہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ (5) ابن منذر اور ابن عساکر نے عکرمہ کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے صفوان بن بیضاء ؓ کو عبد اللہ بن جحش ؓ کے لشکر میں بھیجا ابواء سے پہلے انہوں نے مال غنیمت کو پایا اور ان کے بارے میں یہ آیت لفظ آیت ” یسئلونک عن الشھر الحرام قتال فیہ “ نازل ہوئی۔ اشہر حرام میں قتال کا حکم (6) ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر بھیجا وہ سات آدمی تھے اور ان پر عبد اللہ بن جحش اسدی (امیر) تھے اور ان میں سے عمار بن یاسر۔ ابو حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ، سعد بن ابی وقاص، عتبہ بن غزوان سلمی (جو) بنو نوفل کے حلیف (یعنی اتحادی) تھے یا سہیل بن بیضاء عامر بن فہیرہ، واقد بن عبد اللہ یار بوعی جو عمر بن الخطاب کے حلیف تھے اور آپ ﷺ نے ہاتھ ابن جحش کو ایک خط دیا اور ان کو حکم فرمایا کہ اس خط کو نہ پڑھیں۔ جب تک ملل کے بطن میں نہ اتریں جب وہ ملل کے بطن میں اترے تو انہوں نے خط کو کھولا ملل (ایک جگہ کا نام) اس میں یہ تھا کہ تم چلتے جاؤ۔ یہاں تک کہ بطن نخلہ میں اترو اور اپنے ساتھیوں سے کہو جو شخص فوت کا ارادہ رکھتا ہو اس کے چاہئے کہ وہ ساتھ چلے اور چاہئے کہ وصیت کر دے۔ بلاشبہ میں بھی وصیت کرنے والا اور رسول اللہ ﷺ کے حکم کو نافذ کرنے والا ہوں۔ وہ چل پڑے اور ان سے سعد بن ابی وقاص عتبہ بن غزوان پیچھے رہ گئے ان کی سواریاں گم ہوگئیں ابن جحش (رح) بطن نخلہ تک چلے۔ اچانک وہاں حکم بن کیسان، عبد اللہ بن مغیرہ بن عثمان اور عمرو حضرمی کو پایا انہوں نے آپس میں قتال کیا اور حکم بن کیسان، عبد اللہ بن المغیرہ کو قیدی بنا لیا۔ مغیرہ بھاگ گیا اور انہوں نے عمرو حضرمی کو قتل کردیا یون کہ اس نے واقد بن عبد اللہ کو قتل کیا تھا۔ یہ پہلی غنیمت تھی جو اصحاب محمد ﷺ کو غنیمت ملی۔ جب وہ مدینہ منورہ کی طرف قیدیوں اور غنیمت کے اموال لے کر آئے مشرکوں نے کہا کہ محمد ﷺ یہ دعوی کرتے ہیں کہ وہ اللہ کی اطاعت کرتے ہیں اور پہلے شخص ہیں جس نے شہر حرام کو حلال کرلیا۔ تو (اس پر) اللہ تعالیٰ نے اتارا۔ لفظ آیت ” یسئلونک عن الشھر الحرام قتال فیہ، قل قتال فیہ کبیر “ نہیں حلال ہے جو کچھ تم نے کیا اے مشرکین کی جماعت (یہ کام) بہت بڑا (گناہ ہے) شہر حرام میں قتل کرنے سے۔ جب تم نے اللہ کے ساتھ کفر کیا اور محمد ﷺ کو اس سے روکا۔ ” والفتنۃ “ اور وہ شرک بڑا گناہ ہے اللہ تعالیٰ کے نزدیک شہر حرام میں قتل کرنے سے یہی قول ہے (اللہ تعالیٰ کا) لفظ آیت ’ وصد عن سبیل اللہ وکفربہ “ (7) الفریابی، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ بنو تمیم میں سے ایک آدمی کو نبی اکرم ﷺ نے ایک لشکر میں بھیجا۔ ابن حضرمی (وہاں سے) گزرا جو طائف سے شراب اٹھا کر مکہ مکرمہ کی طرف لے جا رہا تھا۔ اس آدمی نے اس کو تیر مال کر قتل کردیا۔ قریش اور محمد ﷺ کے درمیان ایک معاہدہ تھا اور (قریش کے آدمی کو جمادی الآخر کے آخری دن یا رجب کے پہلے دن میں قتل کیا تھا لیکن قریش نے کہا شہر حرام میں قتل کیا گیا حالانکہ ہمارے ساتھ معاہدہ بھی ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری لفظ آیت ” قل قتال فیہ کبیر “ (الآیہ) فرماتے ہیں کہ اللہ کا انکار کرنا اور بتوں کی عبادت کرنا یہ بڑا (گناہ) ہے ابن حضرمی کے قتل سے۔ (8) عبد بن حمید اور ابن جریر نے ابو مالک الغفاری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے عبد اللہ بن جحش ؓ کو بھیجا۔ وہ مشرکین کے کچھ لوگوں سے بطن نخلہ میں ملے اور مسلمانوں نے یہ خیال کیا کہ آج جمادی الآخری کا آخری دن ہے 58 اور وہ رجب کا پہلا دین تھا۔ مسلمانوں نے ابن حضرمی کو قتل کردیا مشرکوں نے کہا کیا تم یہ نہیں کہتے تھے کہ شہر حرام اور بلاد حرام میں جنگ حرام ہے۔ اور تم نے شہر حرام میں قتل کردیا تو (اس پر) اللہ تعالیٰ نے اتارا۔ لفظ آیت ” یسئلونک عند الشھر الحرام قتال فیہ “ الی قولہ ” اکبر عند اللہ “ یعنی جس کا تم نے ارتکاب کیا ہے وہ حضرمی کے قتل سے بڑا جرم ہے۔ ” والفتنۃ “ جس پر تم جمے ہوئے ہو۔ یعنی شرک پر لفظ آیت ” اکبر من القتل “ (یہ قتل سے بہت بڑا گناہ ہے) (9) بیہقی نے دلائل میں زہری عروہ (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں میں سے ایک لشکر بھیجا اور ان پر عبد اللہ بن جحش اسدی ؓ کو امیر بنایا۔ یہ لوگ چلے یہاں تک کہ (وادی) نخلہ میں اترے۔ وہاں انہوں نے عمرو بن حضرمی کو پایا جو شہر حرام کے آخری دن میں قریش کے ایک تجارتی قافلہ میں تھے ابھی شہر حرام کے شروع ہونے میں ایک دن باقی تھا۔ مسلمان ان سے لڑ پڑے ان سے ایک کہنے والے نے کہا یہ دشمنوں کی جماعت ہے اور غنیمت کا مال ہے کہ تم کو اللہ کی طرف سے عطا کیا گیا ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ یہ دن شہر حرام میں سے ہے یا نہیں ؟ اور ایک کہنے والے نے کہا آج کے دن کو ہم شہر حرام سے شمار کرتے ہیں ہم کسی لالچ کے لئے اس کا حلال نہیں کرتے اور آخر ان لوگوں کا کام غالب ہوا جنہوں نے دنیا کے سامان کا ارادہ کیا انہوں نے ابن حضرمی کو باندھ دیا اور اس کو قتل کر رکے اس کے قافلہ کو مال غنیمت بنا لیا۔ یہ بات جب کفار کو پہنچی اور ابن حضرمی پہلے قتل ہونے والے تھے جو مسلمان اور مشرکین کے درمیان قتل ہوئے۔ کفار قریش کا ایک وفد سوار ہو کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں مدینہ منورہ آیا اور مکہنے لگے کیا آپ نے شہر حرام میں قتال کو حلال کرلیا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری۔ لفظ آیت ” یسئلونک عن الشھر حرام قتال فیہ، قل قتال فیہ کبیر وصد عن سبیل اللہ “ آخر تک اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان فرمایا کہ شہر حرام میں قتال کرنا حرام ہے جیسے اور بندوں کو اللہ کے راستے سے روکنا ان کو عذاب دینا قید کرنا۔ تاکہ وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف ہجرت کر جائیں۔ اور ان کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنا اور مسلمانوں کو مسجد حرام سے روکنا حج وعمرہ میں اور اس میں نماز پڑھنے میں۔ اور مسجد حرام کے رہنے والوں کو وہاں سے نکالنا جو مسلمانوں کو مسجد حرام سے روکنا حج عمرہ میں اور اس میں نماز پڑھنے میں۔ اور مسجد حرام کے رہنے والوں سے نکالنا جو مسلمان وہاں رہنے والے تھے۔ اور ان کو دین کے بارے میں فتنہ میں ڈالنا یہ سب مسلمانوں کے جرم سے بڑے گناہ ہیں۔ اور ہم کو یہ بات بھی پہنچی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ابن حضرمی (کے قتل ہوجانے پر) دیت فرمائی۔ اور شہر حرام کو اسی طرح حرام قرار دیا جیسے تھا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری۔ لفظ آیت ” براءۃ من اللہ ورسولہ “ (سورۃ توبہ آیت 1) (10) عبد الرزاق، ابو داؤد نے الناسخ میں ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے زہری اور مقسم (رح) (دونوں حضرات) سے روایت کیا کہ واقد بن عبد اللہ ؓ عمرو بن حضرمی سے رجب کی پہلی رات میں ملے اور انہوں نے یہ خیال کرتے ہوئے کہ آج جمادی الآخری (کی رات) ہے اس کو قتل کردیا تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری۔ لفظ آیت ” یسئلونک رن الشھر الحرام قتال فیہ، قل قتال فیہ کبیر “ (الآیہ) زہری ؓ نے فرمایا کہ نبی اکرم ﷺ نے شھر حرام میں قتال کو حرام فرما دیا تھا یہ بات ہم کو پہنچی اور بعد میں حلال فرما دیا تھا۔ (11) ابن اسحاق، ابن جریر، ابن ابی حاتم، بیہقی نے یزین بن رومان کے طریق سے عروہ (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے عبد اللہ بن جحش ؓ کو نخلہ کی طرف بھیجا اور ان سے فرمایا وہیں رہنا یہاں تک کہ تم قریش کی خبریں ہمارے پاس لے آؤ اور ان کو قتال کا حکم نہ فرمایا کیونکہ یہ (واقعہ) شھر حرام میں تھا۔ اور ان کی روانگی کا علم ہونے سے پہلے ان کو خط لکھا (جس میں) فرمایا تو اور تیرے ساتھیوں میں سے کسی ایک کو اپنے ساتھ چلنے پر مجبور نہ کرنا جب وہ دو دن چل چکے تو انہوں نے خط کو کھولا تو اس میں یہ لکھا تھا تم چلتے رہو یہاں تک کہ (وادی) نخلہ میں اتر جاؤ ان قریش کی خبریں ہمارے پاس پہنچانا جو تم کو ان کی طرف سے میسر آئیں۔ خط پڑھنے کے بعد انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا ہم نے حکم الہٰی کو سنا اور اس کی اطاعت کی جو شخص تم میں سے شہادت میں رغبت رکھتا ہو وہ میرے ساتھ چلے میں رسول اللہ ﷺ کے حکم پر چلنے والا ہوں۔ اور جو شخص تم میں سے شہادت کو ناپسند کرے اس کو چاہئے کہ لوٹ جائے کیونکہ رسول الہ ﷺ نے مجھے تم میں سے کسی کو بھی مجبور کرنے پر منع فرمایا ہے۔ پوری قوم اس کے ساتھ چلی یہاں تک کہ جب وہ وادی نجران میں تھے تو سعد بن ابی وقاص اور عتبہ بن غزوان کے اونٹ گم ہوگئے وہ ان کو تلاش کرتے ہوئے پیچھے رہ گئے۔ باقی سب صحابہ چلتے رہے یہاں تک کہ (وادی) نخلہ میں اترے ان کے پاس سے عمرو بن حضرمی، حکم بن کیسان، عثمان اور مغیرہ بن عبد اللہ گزرے ان کے ساتھ تجارت کا سامان تھا۔ طائف سے چمڑے اور زیتون کا تیل لے کر آرہے تھے۔ جب صحابہ ؓ نے ان کو دیکھا تو واقد بن عبد اللہ نے ان کے سامنے آئے اور وہ اپنے سر کا حلق کرائے ہوئے تھے۔ جب اس کا حلق کئے ہوئے دیکھا تو عمار ؓ نے کہا تم پر ان کی طرف سے کوئی ڈر نہیں ہے اور قوم نے ارادہ کیا کہ ان کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب بھی تھے۔ اور وہ جمادی الاآخری کا آخریء دن تھا۔ تو انہوں نے (آپس میں) کہا اگر تم ان کو قتل کرو گے اور تم ان کو شہر حرام میں ضرور قتل کرو گے اور اگر تم ان کو چھوڑ دو گے تو یہ لوگ اس رات میں حرم مکہ میں داخل ہو کر تم سے محفوظ ہوجائیں گے۔ تو صحابہ ان کے قتل پر جمع ہوگئے۔ واقد بن عبد اللہ تمیمی ؓ نے عمرو بن حضرمی کو تیر مارا اور اس کو قتل کردیا اور عثمان بن عبد اللہ اور حکم بن کیسان کو قیدی بنا لیا اور مغیرہ بھاگ گیا اور ان کو عاجز کردیا۔ انہوں نے اونٹوں کے قافلہ کو ہانکا اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے آئے۔ آپ نے ان سے فرمایا اللہ کی قسم ! میں نے تم کو شھر حرام میں قتال کرنے کا حکم دیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے قیدیوں کو اور اونٹوں کے قافلہ کو ٹھہرایا اور اس میں سے کوئی چیز نہیں لی۔ جب ان کو رسول اللہ ﷺ نے صحابہ سے ارشاد فرمایا بہت پریشان ہوئے۔ اور انہوں نے گمان کیا کہ وہ ہلاک ہوگئے اور مسلمانوں میں سے ان کے بھائیوں نے سختی کا معاملہ کیا۔ قریش نے کہا جب ان کے پاس یہ معاملہ پہنچا کہ محمد ﷺ نے حرام خون بہا دیا۔ اور مال لے لیا لوگوں کو قیدی بنا لیا اور شہر حرام کو حلال کرلیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری۔ لفظ آیت ” یسئلونک عن الشھر الحرام قتال فیہ “ (الآیہ) جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے اونٹوں کے قافلے کو لے لیا۔ اور قیدیوں سے فدیہ قبول کیا۔ مسلمانوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا ہم جنگ کی خواہش کیا کریں تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری لفظ آیت ” ان الذین امنوا والذین ھاجروا وجھدوا فی سبیل اللہ، اولئک یرجون رحمت اللہ “ اور صحابہ کرام ؓ آٹھ تھے اور نویں ان کے امیر عبد اللہ بن جحش تھے۔ (12) ابن جریر نے ربیع (رح) سے لفظ آیت ” یسئلونک عن الشھر الحرام قتال فیہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ (اس کا مطلب یہ ہے) آپ اسے اس میں قتال کرنے کے بارے میں پوچھتے ہیں اور اسی طرح پڑھتے تھے۔ ” عن قتال فیہ “ (13) ابن ابی داؤد نے المصاحف میں اعمش (رح) سے روایت کیا کہ عبد اللہ ؓ کی قرأت میں یوں تھا لفظ آیت ” یسئلونک عند الشھر الحرام عن قتال فیہ “ (14) ابن ابی داؤد (رح) سے روایت کیا کہ عکرمہ ؓ اس حرف کو یوں پڑھتے تھے ” قتل فیہ “ (15) عطاء بن میسرہ (رح) سے روایت کیا کہ شہر حرام میں قتال کو حلال کردیا گیا (جس کا ذکر) سورة برأۃ میں ہے۔ لفظ آیت ” فلا تظلموا فیہن انفسکم وقاتلوا المشرکین کافۃ “ (سورۃ التوبہ آیت 26) (16) ابن ابی حاتم نے سفیان ثوری (رح) سے روایت کیا کہ ان سے اس آیت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا یہ شی (یعنی حکم) منسوخ ہے اب شہر حرام میں قتال کرنے میں کچھ حرج نہیں ہے۔ (17) النحاس نے الناسخ میں جو یبر سے انہوں نے ضحاک سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اس آیت ” یسئلونک عن الشھر الحرام قتال فیہ “ سے مراد فی شہر حرام ہے (اور) ” قل قتال فیہ کبیر “ یعنی بڑا (گناہ) ہے۔ ان مہینوں میں قتال کرنا منع تھا۔ یہاں تک کہ آیت سیف نے (جو) سورة برأۃ میں ہے اس کو منسوخ کردیا (یعنی) لفظ آیت ” فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم “ اشہر الحرام میں اور اور اس کے علاوہ سب مہینوں میں قتال کو حلال کردیا گیا۔ (18) ابن المنذر نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ اس آیت ” والفتنۃ اکبر من القتل “ میں فتنہ سے مراد شرک ہے۔ (19) عبد بن حمید، ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولا یزالون یقاتلونکم “ سے مراد کفار قریش ہیں۔؂ (20) ابن ابی حاتم نے ربیع بن انس (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” اولئک یرجعون (رح) “ سے مراد اس امت کے بہترین لوگ ہیں پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو اہل رجاء سے شمار کیا کیونکہ جس نے امید کی اس نے طلب کیا۔ اور جو شخص ڈر گیا وہ بھاگ گیا۔ (21) عبد بن حمید نے قتادہ (رح) نے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ یہ اس امت کے بہترین لوگ ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کو اہل رجا بنا دیا جیسا کہ تم سنتے ہو۔
Ayah 2:219

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ١ؕ قُلْ فِیْهِمَاۤ اِثْمٌ كَبِیْرٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ١٘ وَ اِثْمُهُمَاۤ اَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا١ؕ وَ یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَ١ؕ۬ قُلِ الْعَفْوَ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَۙ Open ayah 2:219 in the Quran reader

وہ آپ سے شراب اور جوئے کے بارے میں سوال کرتے ہیں، آپ فرما دیجئے کہ ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لئے منافع ہیں، اور ان کا گناہ ان کے نفع سے بڑا ہے، اور وہ آپ سے سوال کرتے ہیں کیا خرچ کریں، آپ فرما دیجئے کہ جو زائد ہو وہ خرچ کردیں اللہ ایسے ہی بیان فرماتا ہے آیات، تاکہ تم فکر کرو

شراب اور جوئے کی حرمت (1) ابن ابی شیبہ، احمد، عبد بن حمید، ابو داؤد، ترمذی (انہوں نے اس کو صحیح کہا ہے) نسائی، ابو یعلی، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، النحاس نے الناسخ میں، ابو الشیخ، ابن مردویہ، حاکم (انہوں نے اسے صحیح کہا ہے) بیہقی اور المقدس میں المختارہ میں حضرت عمر ؓ سے روایت کیا کہ اے اللہ ! ہمارے لئے شراب کے بارے میں واضح اور شافی حکم نازل فرمائیے کیونکہ وہ شراب مال اور عقل (دونوں) کو لے جاتی ہے۔ تو یہ آیت ” یسئلونک عند الخمر والمیسر “ نازل ہوئی جو سورة بقرہ میں ہے۔ حضرت عمر ؓ کو بلایا گیا اور ان پر (یہ آیت) پڑھی گئی۔ انہوں نے (پھر) عرض کیا اے اللہ ! شراب کے بارے میں ہمارے لئے پڑھی گئی۔ انہوں نے (پھر) عرض کیا اے اللہ ! شراب کے بارے میں ہمارے لئے ایسا واضح اور شافی حکم نازل فرمائیے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ لفظ آیت ” یایھا الذین امنوا لا تقربوا الصلوۃ وانتم سکاری “ جو سورة نساء میں ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے یہ اعلان فرما دیا۔ جب نماز کھڑی ہو تو نشے والا آدمی نماز کے قریب نہ آئے حضرت عمر ؓ کو بلایا گیا اور ان پر (یہ آیت) پڑھی گئی۔ انہوں نے ّ پھر) عرض کیا اے اللہ ! شراب کے بارے میں ہمارے لئے کوئی واضح اور شافی بیان نازل فرمائیے۔ تو یہ آیت جو سورة مائدہ میں ہے نازل ہوئی۔ حضرت عمر ؓ کو بلایا اور ان پر یہ آیت پڑھی گئی۔ جب لفظ آیت ” فہل انتم فنتھون “ پر پہنچے۔ تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا ” انتھینا انتھینا “ یعنی ہم رک گئے ہم باز آگئے۔ (2) ابن ابی حاتم نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا کہ ہم شراب پیا کرتے تھے (جب) یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” یسئلونک عن الخمر والمیسر “ (الآیہ) تو ہم نے کہا ہم اس میں سے وہ پیتے ہیں جو ہم کو نفع دیتا ہے (پھر یہ آیت جو) مائدہ میں ہے نازل ہوئی (یعنی) لفظ آیت ” انما الخمر والمیسر “ (الآیہ) تو ہم نے کہا اے اللہ ہم (شراب پینے سے) باز آگئے۔ (3) الخطیب نے اپنی تاریخ میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ جب سورة بقرہ نازل ہوئی اور اس میں شراب کے حرام ہونے کا حکم نازل ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے ہم کو اس سے روک دیا۔ (4) ابن ابی حاتم نے سعید بن مسیب (رح) سے روایت کیا کہ خمر کو خمر اس لئے کہا جاتا ہے کیونکہ عمدہ حصہ صاف ہوتا ہے اور اس کا گدلا حصہ گھٹیا ہوتا ہے۔ (5) ابوعبیدہ بخاری نے ابو داؤد میں، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ میسر قمار یعنی (جوا) ہے۔ (6) عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا میسر جوا ہے اور اس کو میسر اس لئے کہا گیا کیونکہ عربوں کا قول ہے۔ ” ایسر جزورا “ اس نے اونٹوں کو ذبح کرکے ٹکڑے ٹکڑے کیا یہ تیرے اس حصول کی طرح سے ہے یہ تیرے اس جھول کی طرح ہے۔ (7) ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم اور النحاس نے الناسخ میں حضرت ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” یسئلونک عن الخمر والمیسر “ کے بارے میں روایت کیا کہ میسر جوا ہے۔ زمانہ جاہلیت میں ایک آدمی اپنے مال اور اپنے اہل و عیال کو داؤ پر لگا دیتا تھا ان میں سے جو غالب آجاتا تھا وہ اس کا مال اور اس کے اہل و عیال لے جاتا تھا۔ اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول لفظ آیت ” قل فیہما اثم کبیر “ یعنی اس کے پینے کے وقت جو کچھ دین میں سے نقصان ہوتا ہے (وہ بہت زیادہ ہے) لفظ آیت ” و منافع للناس “ یعنی اس بارے میں جو ان کو پینے کے وقت اس کی لذت اور فرحت پہنچتی ہے۔ لفظ آیت ” واثمھما اکبر من نفعھا “ (اور) جو اس میں بڑا گناہ ہوا یہ اس کی لذت اور فرحت سے کہیں زیادہ ہے۔ جب اس کو پینے میں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” لا تقربوا الصلاۃ وانتم سکاری “ تو وہ اس کو نماز کے وقت نہیں پیتے تھے۔ جب عشاء پڑھ لیتے تھے تو پھر اس کو پیتے تھے۔ وہ ظہر کی نماز کو نہ آتے تھے یہاں کہ تک ان سے نشہ نہ چلا جاتا تھا۔ پھر کچھ مسلمانوں نے شراب پی تو ایک دوسرے سے جھگڑنے لگے۔ اور ایسی باتیں کرتے تھے جو اللہ تعالیٰ کو پسند نہ ہوتی تھیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اتارا لفظ آیت ” انما الخمر والمیسر والانصاب “ (الآیہ) پس شراب کو حرام کردیا گیا اور اس سے روک دیا گیا۔ (8) ابن ابی حاتم اور بیہقی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اس آیت لفظ آیت ” یسئلونک عن الخمر “ (کے حکم) کو اس آیت لفظ آیت ” انما الخمر والمیسر “ (المائدہ آیت 9) نے منسوخ کردیا۔ (9) عبد بن حمید، ابن جریر نے مجاہد (رح) سے اس آیت لفظ آیت ” قل فیہما اثم کبیر “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ پہلی آیت ہے کہ جس سے شراب کی برائی بیان کی گئی اور لفظ آیت ” و منافع للناس “ سے مراد ہے اس کی قیمت اور (اس سے) جو وہ (لذت) اور سرور پاتے تھے۔ (10) ابن جریر، ابن ابی حاتم نے حجرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” قل فیہما اثم کبیر و منافع للناس “ سے مراد ہے حرام ہونے سے پہلے ان دونوں کے منافع اور حرام ہونے کے بعد ان دونوں کا گناہ۔ وأما قولہ تعالیٰ : ” ویسئلونک ماذا ینفقون، قل العفو “ ترجمہ : اور وہ آپ سے سوال کرتے ہیں کیا خرچ کریں ؟ آپ فرما دیجئے جو زائد ہو۔ (11) ابن اسحاق، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب اللہ کے راستہ میں خرچ کرنے کا حکم دیا گیا تو صحابہ میں سے ایک جماعت نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی اور عرض کیا ہم نہیں جانتے یہ نفقہ کیا ہے۔ جیسے ہمارے مالوں میں سے حکم دیا گیا ہم اس میں سے خرچ کریں تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری لفظ آیت ” ویسئلونک ما ذا ینفقون، قل العفو “ اور اس سے پہلے ان میں سے ایک شخص (اتنا زیادہ) خرچ کردیتا تھا یہاں تک کہ (پھر) کوئی چیز نہ پاتا تھا صدقہ کرنے اور کھانے کے لئے تو اس پر صدقہ کیا جاتا تھا۔ (12) ابن ابی حاتم نے ابان سے انہوں نے یحییٰ کے طریق سے روایت کیا ہے کہ معاذ بن جبل اور ثعلبہ ؓ سے روایت کیا کہ دونوں حضرات رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! ہمارے غلام ہیں اور گھروالے ہیں ہم اپنے مالوں میں سے کیا خرچ کریں تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری لفظ آیت ” ویسئلونک ما ذا ینفقون، قل العفو “ (13) ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی ھاتم اور النحاس نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ویسئلونک ما ذا ینفقون “ میں ” العفو “ سے مراد وہ مال ہے جو تمہارے مالوں میں واضح نہ ہو اور یہ حکم زکوٰۃ کے فرض ہونے سے پہلے کا ہے۔ (14) امام وکیع، سعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، النحاس، طبرانی اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ویسئلونک ما ذا ینفقون، قل العفو “ سے مراد وہ مال ہے جو اپنے اہل و عیال سے بچ جائے اور دوسرے لفظ میں بچا ہوا اہل و عیال (کے اخراجات) میں ہے۔ (15) ابن المنذر نے عطا بن دینار الھذلی (رح) سے روایت کیا کہ عبد الملک بن مروان (رح) نے سعید جبیر ؓ کو خط لکھا اور ان سے ” عفو “ کے بارے میں پوچھا انہوں نے فرمایا عفو تین طریقوں پر ہے جیسے گناہوں پر تجاوز کرنا۔ نفقہ میں میانہ روی کرنا اور ان دونوں کا ذکر لفظ آیت ” ویسئلونک ما ذا ینفقون، قل العفو “ میں ہے۔ اور لوگوں کے درمیان احسان عفو کرنا۔ اس کا ذکر اس آیت میں ہے ” الا ان یعفون او یعفوا الذی بیدہ عقدۃ النکاح “ (البقرہ آیت 237) (16) عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ ” قل العفو “ میں ” العفو “ کا حکم دیا تاکہ ایسا نہ ہو کہ مال خرچ کر دے پھر خود تو لوگوں سے سوال کرنے بیٹھ جائے۔ (17) عبد بن حمید نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ ” قل العفو “ سے مراد ہے ” الفضل “ یعنی بچا ہوا (ضرورت سے) (18) عبد بن حمید نے ابن ابی نجیح سے طاؤس (رح) سے روایت کیا کہ ” عفو “ سے مراد ہے ہر چیز سے آسان حصہ پھر راوی نے کہا کہ مجاہد (رح) یوں فرمایا کرتے تھے کہ ” العفو “ سے مراد فرضی صدقہ (یعنی زکوۃ) ہے۔ (19) ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے ” قل العفو “ کے بارے میں روایت کیا کہ ” العفو “ کے حکم میں کوئی معلوم مقدار فرض نہیں ہے۔ پھر فرمایا لفظ آیت ” خذالعفو وامر بالعرف “ (الاعراف آیت 199) پھر اس کے بعد مقرر فرائض نازل ہوئے۔ (20) ابن جریر نے سدی (رح) سے ” قل العفو “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس کو زکوٰۃ نے منسوخ کردیا۔ (21) بخاوی و نسائی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : افضل صدقہ وہ ہے جو مالداری کو چھوڑ جائے۔ اور اوپر والا ہاتھ بہتر ہے نیچے والے ہاتھ سے، اور تم اخراجات میں ان سے ابتداء کرو جو تمہاری عیال میں ہیں۔ بیوی کہتی ہے۔ یا مجھے کھانا دے یا مجھے طلاق دے دے اور غلام کہتا ہے مجھے کھلاؤ اور مجھ کو عامل بناؤ اور بیٹا کہتا ہے مجھ کو کھلاؤ تو مجھ کو کس کے لئے چھوڑے گا۔ (22) ابن خزیمہ نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا بہترین صدقہ وہ ہے کہ جس سے مالداری باقی رہے۔ اور اوپر والا ہاتھ بہتر ہے نیچے والے ہاتھ سے اور تم اخراجات میں ان سے ابتدا کرو جو تمہاری عیال میں ہیں۔ بیوی کہتی ہے مجھ پر خرچ کر یا مجھ کو طلاق دے دے اور تیرا غلام کہتا ہے مجھ پر خرچ کر یا مجھے بیچ دے اور تیرا بیٹا کہتا ہے کس کی طرف تو مجھ کو سپرد کرتا ہے۔ بہترین صدقہ جو ضروری خرچ کے علاوہ ہو (23) بخاری، مسلم، ابو داؤد، نسائی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سب سے بہتر صدقہ وہ ہے جو اپنی واجبی اور لازمی ضروریات کو پورا کرنے کے بعد اور تم ان لوگوں پر خرچ کرنے کی ابتدا کرو جو تمہاری عیال میں ہوں (24) ابو داؤد، نسائی، ابن جریر، ابن حبان، حاکم (انہوں نے اسے صحیح کہا ہے) حجرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے صدقہ کا حکم فرمایا تو ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ ! میرے پاس ایک دینار ہے آپ نے فرمایا اپنی ذات پر خرچ کر۔ (پھر) اس نے کہا میرے پاس دوسرا دینار بھی ہے۔ آپ نے فرمایا اپنے بیٹے پر خرچ کر۔ (پھر) اس نے کہا میرے پاس (اور) دینار بھی ہے۔ آپ نے فرمایا اپنی بیوی پر خرچ کر (پھر) اس نے کہا میرے پاس (اور) دینار بھی ہے۔ آپ نے فرمایا اپنے خادم پر خرچ کر (پھر) اس نے کہا میرے پاس (اور) دینار بھی ہے آپ نے فرمایا تو اپنے حالات کے اعتبار سے زیادہ سمجھنے والا ہے (جہاں مناسب جانے خرچ کر) ۔ (25) ابن سعد، ابو داؤد، حاکم (انہوں نے اسے صحیح کہا ہے) جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے اچانک ایک آدمی آیا دوسرے لفظ میں أبو حصین سلمی ؓ آئے۔ (اور) کبوتری کے انڈے کے برابر سونا لے آئے۔ اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میں نے یہ (سونا) کان میں سے پایا آپ اس کو لے لیجئے۔ یہ صدقہ ہے میں اس کے علاوہ کسی چیز کا مالک نہیں ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے اعراض فرمایا پھر وہ آپ کے پیچھے آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے اس سے لے کر اتنے زور سے پھینکا۔ اگر وہ اسے لگ جاتا تو زخمی کردیتا۔ (پھر) آپ نے فرمایا تم میں سے کوئیُ نی سب ملکیت لے کر آتا ہے اور کہتا ہے کہ صدقہ ہے۔ پھر لوگوں کا راستہ روک کر بیٹھ جاتا ہے۔ بہترین صدقہ وہ ہے جو اپنے واجبی اور لازمی ضروریات کو پورا کرنے کے بعد ہو اور تم ان لوگوں پر خرچ کرنے کی ابتداء کرو جو تمہاری عیال میں ہوں۔ (26) بخاری و مسلم نے حکیم بن حزام ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ اور تم ان لوگوں پر خرچ کرنے کی ابتداء کرو جو تمہاری عیال میں ہوں گے اور بہترین صدقہ وہ ہے جو اپنی واجبی اور لازمی ضروریات کو پورا کرنے کے بعد ہو۔ اور جو شخص اپنے آپ کو سوال سے پاک رکھنا چاہتا ہے اللہ تعالیٰ اسے پاک رکھتا ہے۔ اور جو شخص لوگوں سے غنی ہوتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کو مستغنی رکھتا ہے۔ (27) مسلم و نسائی نے حضرت جابر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی سے فرمایا اپنی ذات سے شروع کر اور اس پر خرچ کر اگر کوئی چیز بچ جائے تو وہ تیرے اہل و عیال کے لئے ہے۔ اگر تیرے اہل سے بھی کوئی چیز بچ جائے تو وہ تیرے رشتہ داروں کے لئے ہے۔ اگر کوئی چیز تیرے رشتہ داروں سے بھی بچ جائے تو وہ اسی طرح اور اسی طرح (دوسرے غریب لوگوں پر خرچ کر) ۔ (28) ابو یعلی اور حاکم نے حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہاتھ تین قسم کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ سب سے اونچا ہے۔ اور دینے والے کا ہاتھ اس کے ریب ہے۔ اور مانگنے والے کا ہاتھ نیچے ہے قیامت کے دن تک اور تو سوال کرنے سے اور (دوسروں سے) طلب کرنے سے جہاں تک ہو سکے۔ اگر تو خیر (یعنی مال) دیا گیا تو اس کا تیرے اوپر اظہار ہونا چاہئے۔ اور تو ان لوگوں پر خرچ کرنے کی ابتداء کر جو تیری عیال میں ہیں اور بچے ہوئے مال میں سے کچھ صدقہ اور گزارہ کے لائق روزی پر تم کو ملامت نہیں کیا جائے گا۔ (29) ابو داؤد، ابن حبان، حاکم (انہوں نے اس کو صحیح کہا ہے) نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا نبی اکرم ﷺ نے لوگوں کو کپڑا صدقہ کرنے کا حکم فرمایا تو لوگوں نے کپڑے ڈال دئیے۔ پھر اس آدمی کو اس میں سے دو کپڑوں کا حکم فرمایا پھر آپ ﷺ نے صدقہ کی ترغیب دی۔ وہ آدمی آیا اور اس نے بھی دو کپڑوں میں سے ایک کو رکھ دیا آپ نے اس کو زور سے پکڑا اور فرمایا کہ اپنا کپڑا لے لو۔ (31) ابو داؤد، نسائی، حاکم نے عبد اللہ بن عمرو ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا آدمی کے لئے یہ گناہ (اس کی ہلاکت کے لئے) کافی ہے کہ جن لوگوں کا کھلانا اس کے ذمہ ہے۔ انسان ان کو ضائع کر دے۔ (32) البزار نے سعد بن أبی وقاص ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اوپر والا ہاتھ (یعنی دینے والا) نیچے والے ہاتھ (یعنی لینے والا) سے بہتر ہے۔ اور تو ان لوگوں پر خرچ کرنے کی ابتداء کر جو تیری عیال میں ہیں۔ اپنے اہل و عیال پر خرچ کرنا (33) احمد، مسلم، ترمذی نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ابن آدم ! اپنے بچے ہوئے مال کا خرچ کر دے یہ تیرے لئے بہتر ہے۔ اگر تو اس کو روکے گا تو تیرے لئے شر ہوگا۔ اور تو ملامت نہیں کیا جائے گا بقدر کفایت روزی پر اور تو ان لوگوں پر خرچ کرنے کی ابتداء کر جو تیری عیال میں ہیں۔ اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ (34) ابن عدی اور بیہقی نے الشعب میں عبد الرحمن بن عوف ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے عوف کے بیٹے تو مالدار لوگوں میں سے ہے تو ہرگز جنت میں داخل نہ ہوگا مگر آہستہ آہستہ گھسٹتے ہوئے اس لئے تو اللہ تعالیٰ کو قرض دے تاکہ وہ تیرے قدموں کو تیرے لئے آزاد کر دے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا چیز قرضہ دوں ؟ آپ نے فرمایا بری ہوجا ان سب چیزوں سے جن میں تو نے شام کی ہے (یعنی صدقہ کر دے) عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا سارا مال (صدقہ کر دوں ؟ ) آپ ﷺ نے فرمایا ہاں ! وہ نکلے اور اس بات کا ارادہ کر رہے تھے۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) تشریف لائے اور فرمایا ابن عوف کو حکم کرو کہ مہمان کی مہمان نوازی کرے، مساکین کو کھانا کھلائے، سائل کو عطا کرے اور ان لوگوں پر خرچ کرنے کی ابتداء کرے جو اس کی عیال میں ہیں جب وہ یہ کام کرے گا تو سب کا تزکیہ ہوجائے گا۔ اس مال میں سے جو اس کے پاس ہے۔ (35) بیہقی نے الشعب میں رکب مصری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خوشخبری ہے اس شخص کے لئے جس نے بغیر کسی کمزوری کے تواضح اختیار کی اور بغیر کسی ذات اور مسکنت کے عاجزی کا اظہار کیا۔ اور ایسا مال خرچ کیا جو اس نے گناہ کے ذریعہ نہیں کمایا تھا۔ اور مسکین اور حقیر لوگوں پر رحم کیا۔ اور پاک دامن اور حکمت والوں کے ساتھ میل جول رکھا (اور) خوشخبری ہے اس شخص کے لئے جس نے اپنے نفس میں تواضح اختیار کی اور اس کی کمائی پاکیزہ ہے اور اس کا باطن صحیح ہے۔ اور اس کا ظاہر اچھا ہے۔ اور اپنے شر سے لوگوں کو دور رکھا اور اپنے مال میں سے زائد مال کو خرچ کردیا۔ اور اپنی باتوں میں فضول باتوں سے رک گیا۔ (36) البزار نے حضرت ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! نماز کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا (یہ تو) پورا عمل ہے (پھر) اس نے عرض کیا یا رسول اللہ میں آپ سے صدقہ کے بارے میں پوچھتا ہوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا یہ عجیب چیز ہے (پھر) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں نے اپنے دل میں افضل عمل کو یا اس کی خبر کو چھوڑ دیا فرمایا وہ کون سا عمل ہے میں نے عرض کیا وہ روزہ ہے آپ ﷺ نے فرمایا یہ بہتر ہے لیکن ایسا نہیں میں نے پھر عرض کیا یا رسول اللہ ! کون سا صدقہ (کروں) آپ نے فرمایا کھجور (پھر) میں نے عرض کیا گر میں یہ نہ کرسکوں فرمایا تو اچھے ککلمات (کہو) میں نے عرض کیا اگر میں نہ کرسکوں (پھر) فرمایا تو ارادہ کرتا رہے کہ اپنے اندر خیر میں سے کوئی چیز نہ چھوڑے۔ (37) احمد، مسلم، ترمذی، نسائی، (ابن ماجہ نے ابو قلابہ سے انہوں نے ابی اسماء سے ثوبان ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا افضل دینار وہ ہے جو آدمی اپنے ساتھیوں پر اللہ کے راستہ میں خرچ کرتا ہے ابو قلابہ نے کہا کہ اپنے عیال پر خرچ کرنے کی ابتداء کرے پھر ابو قلابہ نے کہا کون سا آدمی اجر کے لحاظ سے اس آدمی سے بڑا ہوسکتا ہے جو اپنی چھوٹی اولاد پر خرچ کرتا ہے وہ ان کو مانگنے سے بچاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں یہ اس کے ساتھ نفع دیتا ہے۔ اور ان کی مدد فرماتا ہے۔ (38) مسلم و نسائی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ دینار جو تو نے اللہ کے راستہ میں خرچ کیا اور وہ دینار جو تو نے کسی گردن کو آزاد کرنے میں کرچ کیا اور وہ دینار جو تو نے کسی مسکین پر صدقہ کیا اور وہ دینار جو تو نے اپنے اہل و عیال پر خرچ کیا۔ اس میں سب سے زیادہ اجر وہ دینا ہے جو تو نے اپنے اہل و عیال پر خرچ کیا۔ (39) بیہقی نے شعب الایمان میں جریر ضبی (رح) سے روایت کیا کہ ایک دیہاتی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا۔ مجھے ایسا عمل بتائیے جس مجھے جنت میں داخل کر دے اور آگ سے دور کر دے آپ نے فرمایا تو (ہمیشہ) انصاف کی بات کہ اور زائد مال کسی کو دے دے اس نے کہا یہ عمل بہت سخت ہے میں اس کی طاقت نہیں رکھتا کہ ہر وقت انصاف کی باتیں کہوں اور نہ اس بات کی طاقت رکھتا ہوں کہ اپنے زائد مال (دوسروں کو) دے دوں۔ آپ نے (پھر) فرمایا لوگوں کو کھانا کھلاؤ اور سلام کو پھیلاؤ۔ اس نے کہا کہ قسم یہ تو بھی (حکم) سخت ہے آپ نے (پھر) فرمایا کیا تیرے پاس اونٹ ہیں اس نے کہا ہاں اپنے اونٹ اور مشکیزہ کو دیکھ اپنے گھر والوں کو پلا وہ ایک دن چھوڑ کر پیتے ہیں شاید تیرا اونٹ ہلاک نہ ہوجائے اور تیرا مشکیرہ پھٹ نہ جائے یہاں تک کہ تیرے لئے جنت واجب ہوجائے وہ تکبیر کہتے ہوئے چلا گیا پھر وہ بعد میں شہید ہوگیا تھا۔ (40) ابن سعد نے طارق بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آیا آپ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تم لوگ صدقہ کرو بلاشبہ صدقہ تمہارے لئے بہتر ہے اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ اور خرچ کرنا شروع کر ان لوگوں سے جو تیرے عیال میں ہیں۔ (جیسے) تیری ماں، تیرا باپ، تیری بہن، اور تیرا بھائی پھر تیرے قریبی (رشتہ دار) ہیں اور پھر جو تیرے قرینی رشتہ دار ہیں۔ (41) مسلم نے خیثمہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم عبد اللہ بن عمرو ؓ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اچانک اس کا خزانچی آیا وہ داخل ہو کر جو ان کا (غلام) تھا آپ نے (اس سے) پوچھا کیا تو نے غلاموں کی خوراک دیدی اس نے کہا نہیں فرمایا جاؤ اور ان کو کھانا دے دو کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آدمی کے گناہ گار ہونے کے لئے یہ کافی ہے کہ ان سے کھانا روکے جن کا وہ مالک ہے۔ وأما قولہ تعالیٰ : ” کذلک یبین اللہ لکم الایت “ (42) ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے العظمہ میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” کذلک یبین اللہ لکم الایت لعلکم تتفکرون “ یعنی تم غور و فکر کرو دنیا میں اور آخرت میں یعنی دنیا کے زائل اور اس کی فنا ہونے کے بارے میں اور آخرت کے آنے اور اس کے باقی رہنے کے بارے میں۔ (43) عبد الرزاق نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” لعلکم تتفکرون “ یعنی تم دنیا اور آخرت کے بارے میں غوروفکر کرو پھر فرمایا تاکہ تم جان لو آخرت کی فضیلت کو دنیا پر۔ (44) عبد بن حید، ابن ابی حاتم نے صعق بن حزان تمیمی (رح) سے روایت کیا کہ میں حضرت حسن ؓ کے پاس حاضر ہوا تو انہوں نے سورة بقرہ میں سے یہ آیت ” لعلکم تتفکرون “ یعنی دنیا میں اور آخرت میں غوروفکر کرو پھر فرمایا اللہ کی قسم جس نے دنیا میں غور کیا اس نے جان لیا کہ دنیا مصیبت کا گھر ہے پھر فنا ہونے کا گھر ہے اور اس نے جان لیا کہ آخرت کی حاجت کے لئے دنیا کی حاجت چھوڑ دیتے ہیں۔
Ayah 2:220

فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْیَتٰمٰى١ؕ قُلْ اِصْلَاحٌ لَّهُمْ خَیْرٌ١ؕ وَ اِنْ تُخَالِطُوْهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَعْنَتَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 2:220 in the Quran reader

دنیا میں اور آخرت میں، اور وہ آپ سے سوال کرتے ہیں یتیموں کے بارے میں، آپ فرما دیجئے کہ اصلاح کرنا ان کے لئے بہتر ہے اور اگر ان کا خرچ آپس میں ملا تو وہ تمہارے بھائی ہیں۔ اور اللہ جانتا ہے کہ تم میں مفسد کون ہے اور اللہ چاہتا تو تم کو مشقت میں ڈال دیتا، بیشک اللہ غالب ہے حکمت والا ہے

یتیم کے ساتھ اچھا سلوک کرنا (1) امام ابو داؤد، نسائی، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، ابن مردویہ، حاکم (انہوں نے اسے صحیح کہا ہے) اور بیہقی نے سنن میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب (یہ آیت) اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی لفظ آیت ” ولا تقربوا مال الیتیم الا بالتی ہی احسن “ (الاسراء آیت 34) (اور) ” ان الذین یاکلون اموال الیتمی “ تو جس کے پاس کوئی یتیم تھا۔ تو اس نے کھانے کا وپنے کھانے سے اور اس کے پینے کو اپنے پینے سے الگ کردیا۔ پس یتیم کے کھانے میں سے جو بچ جاتا تو وہ دوبارہ اسے خود کھا لیتا۔ یا وہ خراب ہوجاتا تو اس کو پھینک دیا جاتا۔ یہ معاملہ صحابہ ؓ پر گراں گزرا تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس بات کا ذکر کیا تو اس پر اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری لفظ آیت ” ویئلونک عن الیتمی، قل اصلاح لہم خیر، وان تخالطوھم فاخوانکم “ (پھر) انہوں نے ان کے کھانے کو اپنے کھانے کے ساتھ اور ان کے پینے کو اپنے پینے کے ساتھ ملا لیا۔ (2) عبد بن حمید نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ جب یتامی کے بارے میں جو حکم نازل ہوا تو لوگ ان سے الگ ہوگئے نہ ان کے ساتھ کھاتے تھے نہ ان کے ساتھ پیتے تھے۔ اور نہ ان کو اپنے ساتھ ملاتے تھے (پھر) اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی ” ویسئلونک عن الیتمی “ (الآیہ) تو لوگوں نے ان کو کھانے میں اور اس کے علاوہ دوسری چیزوں میں اپنے ساتھ ملا لیا۔ (3) عبد بن حمید، ابن الانباری، النحاس نے قتادہ (رح) سے لفظ آیت ” یسئلونک عن الیتمی “ کے بارے میں روایت کیا کہ جب اس سے پہلے وہ آیت لفظ آیت ” ولا تقربوا مال الیتیم الا بالتی ہی احسن “ (سورۃ) جو بنی اسرائیل میں ہے نازل ہوئی تو لوگ ان (یتامی) کو اپنے کھانے اور اس کے علاوہ دوسری چیزوں میں اپنے ساتھ نہ ملاتے تھے۔ تو یہ حکم ان کو بہت گزاں گزرا پھر اللہ تعالیٰ نے رخصت (کا حکم) نازل فرمایا۔ لفظ آیت ” وان تخالطوہم فاخوانکم “۔ (4) عبد بن حمید نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ آیت ” ان الذین یاکلون اموال الیتمی ظلما “ (النساء آیت 10) نازل ہوئی تو لوگ رک گئے اور یتامی کو اپنے کھانے اور مالوں میں شریک نہ کرتے تھے۔ یہاں تک یہ آیت نازل ہوئی۔ ” ویسئلونک عن الیتمی، قل اصلاح لہم خیر “ (الآیہ) (5) ابن المنذر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ گھر والوں کے پاس ان کی پرورش میں کچھ یتیم بچے بھی ہوتے تھے۔ اور یتیم کا ایک بکریوں کا گلہ ہوتا تھا اور یتیموں کا جو خادم ہوتا تھا تو اس کو اپنی بکریوں چرانے کے لئے بھیجتے تھے۔ یا یتیموں کا کھانا ہوتا تھا۔ اور گھر والوں کا خادم ہوتا تھا۔ تو وہ اپنے خادم کو کھانا تیار کرنے کا حکم دیتے تھے یا کھانا گھر والوں کا ہوتا تھا اور خادم یتیموں کا ہوتا تھا وہ لوگ یتیموں کے خادم کو کھانا تیار کرنے کا حکم کرتے تھے اور سب اکٹھے مل کر کھانا کھانے بیٹھ جاتے تھے جب یہ آیت نازل ہوئی ” ان الذین یاکلون اموال الیتمی ظلما “ تو ان لوگوں نے کہا کہ یہ لازمی حکم ہے اور ان یتیموں کا علیحدہ کردیا اور ہر چیز جو ان کے (مالوں کے) ساتھ ملی ہوئی تھی الگ کردی۔ اور یہ حکم ان پر بھاری ہوا تو رسول اللہ ﷺ کی طرف انہوں نے شکایت کی اور کہنے لگے کہ بکریاں باقی بچی ہیں۔ ان کو کوئی چرانے والا نہیں اور ان کے لئے کوئی کھانا پکانے والا نہیں۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمہاری بات کو سن لیا ہے۔ انشاء اللہ تمہیں جواب عنایت فرمائیں گے تو یہ آیت ” یسئلونک عن الیتمی “ نازل ہوئی اور یہ بھی نازل ہوا۔ ” وان خفتم الا تقسطوا فی الیتمی “ (النساء آیت 3) پس لوگ چار کاموں پر منحصر ہوگئے۔ فرمایا جیسے تم ڈرتے ہو کہ یتامی کے بارے میں انصاف نہ کرسکو گے اور ان کو اپنے ساتھ ملانے میں تنگی محسوس کی یہاں تک کہ تم نے ان کے بارے میں سوال کیا۔ تو تم نے سب عورتوں میں انصاف کرنے کے بارے میں کیوں سوال نہ کیا۔ (6) عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” وان تخالطوھم “ سے مراد ہے آپس میں میل ملاپ کرنا (یعنی) وہ تمہارے دودھ سے پیئے اور تم اس کے دودھ سے پیؤ اور رہ تیرے پیالے سے کھائے اور تم اس کے پیالے میں سے کھاؤ اور تم اس کے پھلوں میں سے کھاؤ۔ لفظ آیت ” اللہ یعلم المفسد من المصلح “ وہ (یعنی اللہ تعالیٰ ) جانتے ہیں کہ کون تم میں سے یتیم کا مال جان بوجھ کر کھاتا ہے۔ اس (کے کھانے) سے حرج محسوس کرتا ہے اور اس (یتیم) کی اصلاح کی کوئی پرواہ نہیں کرتا لفظ آیت ” ولوشاء اللہ لاعنتکم “ وہ فرماتے ہیں کہ اگر وہ چاہتے تو تمہارے لئے وہ بھی وہ حلال نہ فرماتے۔ جو تم کو میسر آتا ہے اور جس کا تم قصد نہیں کرتے۔ (7) ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ” ان الذین یاکلون اموال الیتامی ظلما “ (الآیہ) تو مسلمانوں نے اس بات کو ناپسند کیا کہ یتیموں کو اپنے ساتھ ملائیں اور انہوں نے کسی چیز میں بھی ان کو اپنے ساتھ ملانے سے حرج محسوس کیا پھر انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی لفظ آیت ” قل اصلاح لہم خیر، وان تخالطوھم فاخوانکم، واللہ یعلم المفسد من المصلح، ولو شاء اللہ لاعنتکم “ فرمایا وہ تمہیں منع کردیتا اور تم پر تنگی کرتا لیکن اس نے تم پر وسعت اور آسانی فرمائی۔ (8) ابن ابی حاتم نے حجرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس طرح پڑھتے تھے لفظ آیت ” وان تخالطوھم فاخوانکم “ (9) ابن جریر نے ابن زید (رح) سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” واللہ یعلم المفسد من الصلح “ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ جانتے ہیں جب اپنے مال کو اس (یتیم) کے مال سے ملاتے ہو۔ کیا تم اس کے مال کی اصلاح کا ارادہ کرتے ہو یا تم اس کا بگاڑنا چاہتے ہو۔ اور اس کو ناحق کھانا چاہتے ہو۔ (10) عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولو شاء اللہ لاعنتکم “ سے مراد ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو یتیموں کا مال جو تم کو ملا ہے۔ اس کو تمہارے لئے ہلاکت کا باعث بنا دیتا۔ (11) عبد بن حمید نے قیادہ (رح) سے لفظ آیت ” ولو شاء اللہ لاعنتکم “ کے بارے میں روایت کیا کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو تمہیں مصیبت میں دال دیتا پھر تم نہ فریضہ ادا کرسکتے اور نہ تم حق کو قائم کرسکتے۔ (12) امام وکیع، عبد بن حمید نے اسود (رح) سے روایت کیا کہ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ میں یتیم کے کھانے کو اپنے کھانے کے ساتھ ملاتی ہوں اور اس کے پینے کو اپنے پینے کے ساتھ ملاتی ہوں اور اس بات کو ناپسند کرتی ہوں کہ میرے پاس یتیم کا کھانا عیب کی طرح ہو۔