Ayah 2:234(1) ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، انحاس، بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت ابن عباس ؓ سے لفظ آیت ” والذین یتوفون “ کے بارے میں روایت کیا کہ جب کوئی آدمی مرجاتا تھا اور اپنی بیوی کو چھوڑ جاتا تھا تو وہ عورت اپنے گھر میں ایک سال عدت گزارتی تھی اور مرنے والے کے مال میں سے (اس عورت) پر خرچ کیا جاتا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے (یہ حکم) اتارا لفظ آیت ” والذین یتوفون منکم ویذدون ازواجا یتربٓصن بانفسھن اربعۃ اشھر وعشرا “ تو چاہ ماہ اور دس دن عدت ہے اس عورت کی جس کا خاوند مرجائے اور اگر حاملہ ہو تو اس کی عدت بچہ پیدا ہونے تک ہے اور اس کی میراث کے بارے میں فرمایا لفظ آیت ” ولہن الربع مما ترکتم “ (النساء آیت 14) تو اس آیت میں عورت کی میراث کو بیان فرمایا اور وصیت اور نفقہ کو چھوڑ دیا (پھر فرمایا) لفظ آیت ” فاذا بلغن اجلہن فلا جناح علیکم “ یعنی جب عورت کو طلاق ہوجائے یا اس کا خاوند مرجائے تو پھر جب اس کی عدت گزر جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ اپنے آپ کو آراستہ بناؤ سنگھار اور دوسری شادی کے لئے اپنے آپ کو پیش کر اور یہ معروف طریقہ پر ہو۔
(2) عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ ان دس دنوں کو چار ماہ کی طرف ملا دیا گیا اس لئے کہ دس دنوں میں روح پھونکی جاتی ہے۔
(3) ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ میں نے سعید بن مسیب (رح) (تابعی) سے پوچھا کہ یہ دس دن اوپر کیوں ہیں تو انہوں نے فرمایا کہ اس میں روح پھونکی جاتی ہے۔
(4) ابن ابی حاتم نے ربیعہ اور یحییٰ بن سعید (رح) سے روایت کیا کہ ” وعشرا “ سے مراد دس راتیں ہیں۔
(5) ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) نے لفظ آیت ” فاذا بلغن اجلھن “ کے بارے میں فرمایا کہ جب عورت کی عدت گزر جائے۔
(6) ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) نے لفظ آیت ” فلا جناح علیکم “ کے بارے میں روایت کیا کہ یعنی اس میں عورت کے اولیاء کو خطاب ہے (کہ تم پر کوئی گناہ نہیں جو کچھ وہ عورتیں اپنی ذات کے بارے میں کریں)
(7) الفریابی، عبد بن حمید، بخاری، ابو داؤد، نسائی، ابن جریر، ابن ابی حاتم، حاکم بیہقی نے ابن ابی نجیح کے طریق سے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” والذین یتوفون منکم ویذرون ازواجا یتربصن بانفسھن اربعۃ اشھر وعشرا “ سے مراد ہے کہ یہ عدت عورت کے لئے اپنے خاوند کے گھر میں گزارنا واجب ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری لفظ آیت ” والذین یتوفون منکم ویذرون ازواجا، وصیۃ لازواجھم متاعا الی الحول غیر اخراج، فان خرجن فلا جناح علیکم فی ما فعلن فی انفسھن من معروف “ (البقرہ آیت 240) یعنی اللہ تعالیٰ نے عورت کے لئے بطور روایت کے پورا سال کردیا جس میں سات مہینے اور بیس راتیں وصیۃ کی ہیں عورت اگر چاہے تو اپنی وصیت (کی مدت) میں ٹھہری رہے اگر چاہے تو ثلی جائے اور وہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے لفظ آیت ” غیر اخراج “ اور عطا (رح) نے کہا کہ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اس آیت نے اپنی عدت خاوند کے گھر میں گزارنے کو منسوخ کردیا اب وہ جہاں چاہے عدت گزارے اور وہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے ” غیر اخراج “ عطا نے فرمایا اگر چاہے تو اپنے خاوند کے اہل کے پاس عدت گزارے اور اپنی وصیت میں ٹھہری رہے اور اگر چاہے تو چلی جائے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” فان خرجن فلا جناح علیکم فیما فعلن فی انفسھن “ عطا نے فرمایا پھر جب میراث (کا حکم) آیا تو سکونت منسوخ ہوگئی اب جہاں چاہے عدت گزارے اب اس کے لئے سکنی نہیں ہے۔
(8) عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس عورت کے لئے جس کا شوہر مرجائے خوشبو لگانا اور زیب وزینت کرنا ناپسند فرماتے تھے۔ اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” والذین یتوفون منکم ویذرون ازواجا یتربصن بانفسھن اربعۃ اشھر وعشرا “ اور ” فی بیوتکم “ (یعنی تمہارے گھروں میں رہیں نہیں فرمایا اس لئے عورت جہاں چاہے عدت گزارے۔
عدت وفات کہاں گزاری جائے
(9) امام مالک، عبدالرزاق، ابن سعد، ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ حاکم نے فریعہ بنت مالک بن سنان ؓ سے روایت کیا کہ جو ابوسعید خدری (رح) کی بہن تھیں۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور ان سے پوچھا کہ میں اپنے والدین کے گھر بنو خدرہ میں واپس چلی جاؤں گی۔ کیونکہ ان کا خاوند میرے غلاموں کو ڈھونڈنے کے لئے نکلا ہے جو بھاگ گئے تھے یہاں تک کہ ان کو قدوم (ایک جگہ کا نام) ان کے غلاموں نے ان کو قتل کردیا گیا۔ تو میں رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ میں اپنے گھر واپس چلی جاؤں کیونکہ میرے خاوند نے میرے کوئی مکان نہیں چھوڑا جو اس کی ملکیت ہو اور نہ نفقہ چھوڑا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہاں (چلی جاؤ) میں چلی یہاں تک کہ جب میں اپنے کمرے میں یا اپنی نماز پڑھنے کی جگہ میں تھی تو آپ نے مجھے بلانے کا حکم فرمایا (جب میں آگئی) تو آپ نے (پھر) پوچھا کہ تو نے کیا کہا تھا ؟ میں نے اپن قصہ لوٹایا جو میں نے اپنے خاوند کے بارے میں بتاتا تھا۔ تو آپ نے فرمایا اپنے گھر میں ٹھہری رہے یہاں تک کہ کتاب اپنی مدت کو پہنچ جائے۔ (یعنی عدت کی مدت پوری ہوجائے) کہنے لگی کہ میں نے اس میں چار ماہ دس دن اپنی عدت پوری کی۔ پھر کہنے لگی جب حضرت عثمان ؓ خلیفہ تھے تو انہوں نے مجھے بلوایا مجھ سے اس بارے میں سوال کیا تو میں نے ان کو پورا قصہ بتادیا۔ انہوں نے بھی اس کے مطابق فیصلہ فرمایا۔
(10) مالک، عبد الرزاق نے حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ وہ ان عورتوں کو جن کے خاوند وفات پاچکے ہوتے تھے مقام بیداء سے واپس کر دئیے تھے اور ابھی عدت میں ہوتی تھیں۔ آپ انہیں حج سے روکتے تھے۔
(11) مالک، عبد الرزاق نے حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ وہ عورت جس کا خاوند مرگیا ہو یا جس کو خاوند نے طلاق بائنہ دے دی ہو تو وہ اپنے گھر میں ہی رات گزارے۔
(12) مالک، عبد الرزاق، بخاری، مسلم، ابو داؤد، ترمذی، نسائی نے حمید بن نافع (رح) سے روایت کیا اور وہ زینب بنت ابی سلمہ ؓ سے روایت کیا کرتے ہیں کہ انہوں نے ان کو یہ تینوں احادیث بتائیں چانچہ حضرت زینب ؓ نے فرمایا کہ میں ام حبیبہ ؓ جو نبی اکرم ﷺ کی اہلیہ تھیں کے پاس آئیں جبکہ ان کا والد سفیان بن حرب وفات پا گیا تھا۔ انہوں نے زرد رنگ کی خوشبو منگوائی پھر لونڈی نے اس اس خوشبو میں تیل ملایا پھر ام حبیبہ ؓ نے اس کو پیٹ پر ملا فرمایا للہ کی قسم مجھے خوشبو کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا کسی عورت کے لئے حلال نہیں جو اللہ پر اور آخرت کے دن ایمان رکھتی ہو کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے مگر خاوند (کے مرنے) پر چار ماہ اور دس دن سوگ منائے۔ اور زینب نے فرمایا کہ میں زینب بنت جحش ؓ کے پاس آئی۔ جب اس کا بھائی عبد اللہ مرگیا۔ تو انہوں نے اس میں سے خوشبو لگائی پھر فرمایا اللہ کی قسم مجھے خوشبو کی کوئی حاجت نہیں سوائے اس کے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا منبر پر کہ کسی عورت کے لئے یہ حلال نہیں جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو کہ وہ میت پر تین راتوں سے اوپر سوگ منائے مگر خاوند پر چار ماہ دس دن سوگ منائے۔ اور زینب ؓ نے فرمایا میں نے اپنی والدی ام سلمہ ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ ! میری بیٹی کا خاوند فوت ہوگیا اور اس کی آنکھ میں تکلیف ہے کیا میں اس کو سرمہ لگا دوں ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نہیں۔ دو تین مرتبہ کے پوچھنے پر بھی آپ نے فرمایا نہیں پھر فرمایا اس کے لئے چار ماہ اور دس رن سوگ کے ہیں۔ اور زمانہ جاہلیت میں کوئی سال کے مکمل ہونے پر مینگنیاں پھینکی تھیں اور حمید نے کہا میں نے زینب سے پوچھا کہ سال کے مکمل ہونے پر مینگنیاں کیوں پھینکی تھی ؟ زینب نے فرمایا جب عورت کا خاوند فوت ہوجاتا تھا تو وہ ایک جھونپڑی میں داخل ہوجاتی تھی اور خراب کپڑے پہن لیتی تھی اور خوشبو نہ لگاتی تھیں یہاں تک کہ سال گزر جاتا تھا پھر کوئی جانور گدھا یا بکری یا پرندہ لایا جاتا تھا پھر وہ اس کے کمرے کے اندر داخل کیا جاتا۔ جب بھی کوئی چیز داخل کی جاتی تو وہ مرجاتی۔ پھر وہ عورت گھر سے نکلتی اور اس کو مینگنی یا (گوبر) دی جاتی وہ اس کو پھینکتی تھی اس کے بعد خوشبو وغیرہ لگانا چاہتی تھی تو اس کی طرف رجوع کرتی تھی۔
(13) مالک و مسلم نے صفیہ بنت عبید رحمہا اللہ سے اور وہ ام المؤمنین حضرت عائشہ و حفصہ ؓ سے روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی عورت کے لئے حلال نہیں جو اللہ پر اور دن آخرت پر ایمان رکھتی ہو کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے مگر خاوند (کے مرنے) پر چار ماہ اور دس دن سوگ منائے۔ نسائی اور ابن ماجہ حدیث صفیہ کو حفصہ سے روایت کیا اور حدیث عائشہ ؓ کو عروہ سے روایت کیا۔
(14) بخاری، مسلم، ابو داؤد، نسائی، ابن ماجہ نے ام عطیہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کسی عورت کے لئے حلال نہیں جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے مگر شوہر (کے مرنے) پر چار ماہ اور دس دن ہیں۔ اس وجہ سے وہ سرمہ نہ لگائے۔ رنگا ہوا کپڑا نہ پہنے مگر جو پہننے سے پہلے رنگا ہوا ہو۔ اور خوشبو نہ لگائے مھر جب حیض سے پاک ہو تو تھوڑا سا قسط یا اظفار خوشبو لگا سکتی ہے (قسط اور اظفار دونوں ایک قسم کی خوشبو ہیں)
(15) ابو داؤد اور نسائی نے ام سلمہ زوجۃ النبی ﷺ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جس عورت کا خاوند مرجائے وہ زعفران سے رنگا ہوا کپڑا اور گیرو سے رنگا ہوا کپڑا اور زیور اور خضاب اور سرمہ استعمال نہ کرے۔
(16) ابو داؤد، نسائی نے ام سلمہ ؓ سے روایت کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی جب ابو سلمہ وفات پاگئے تھے اور میں نے اپنی آنکھ میں سرمہ لگا لیا تھا آپ نے فرمایا ام سلمہ یہ کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا یہ صبر ہے یا رسول اللہ ! اس میں خوشبو نہیں ہے . آپ نے فرمایا یہ چہرہ کو خوبصورت بنا دیتا ہے اس کو رات کو لگا لیا کر۔ اور خوشبو اور مہندی کے ساتھ کنگھانہ کیا کر کیونکہ یہ خضاب ہے۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! پھر کس چیز سے کنگھی کیا کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا بیری کے پتوں کے ساتھ تو اپنے سر کو چھانک لیا کر
(17) مالک نے سعید بن مسیب اور سلیمان بن یسار رحمہا اللہ سے روایت کیا کہ باندی کی عدت جب اس کا خاوند مرجائے دو ماہ اور پانچ راتیں ہے۔
(18) مالک نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ام ولد کی عدت جب اس کا آقا مرجائے ایک حیض ہے۔
(19) مالک نے قاسم بن محمد (رح) سے روایت کیا کہ ام ولد کی عدت جب اس کے آقا مرجائے دو حیض ہے۔
(20) مالک نے قاسم بن محمد (رح) سے روایت کیا کہ یزید بن عبد المالک نے کہا کہ امہات الاولاد کے آقا فوت ہوجائیں تو ایک حیض یا دو حیض کے بعد ان کے نکاح کر دو اور دوسری عورتوں کے خاوند فوت ہوجائیں تو وہ چار ماہ اور دس دن عدت گزاریں۔ قاسم بن محمد نے کہا سبحان اللہ ! اللہ تعالیٰ کا اراشاد ہے لفظ آیت ” والذین یتوفون منکم ویذرون “ اور ام الولد آقا کی بیوی نہیں ہوتی۔
(21) احمد، ابو داؤد، ابن ماجہ، حاکم نے عمرو بن عاص ؓ سے روایت کیا کہ ہم پر ہمارے نبی کی سنت گڈمڈ نہ کرو۔ ام الولد کے بارے میں جب اس کا آقا فوت ہوجائے تو اس کی عدت چار ماہ اور دس دن ہے۔
Ayah 2:235عدت کے دوران دو سرے سے نکاح جائز نہیں
(1) وکیع، الفریابی، عبد الرزاق، سعید بن منصور، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، النجار، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، بیہقی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولا جناح علیکم فیما عرضتم بہ من خطبۃ النساء او اکننتم فی انفسکم “ میں تعریض سے مراد ہے کہ وہ کہے کہ میں نکاح کرنا چاہتا ہوں اور میں ایسی ایسی عورت کو پسند کرتا ہوں۔ اور عورتوں کی غرض سے اور میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے ایسی نیک عورت میسر فرمائیں لیکن اسے صراحۃ نکاح کا پیغام نہ دے۔
(2) ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ عورت کی عدت میں تعریض یہ ہے تو عدت گزرنے والی عورت سے یوں کہے اگر تیرا خیال ہو تو مجھ سے جلدی نہ کرنا اور میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میرے اور تیرے درمیان موافقت پیدا فرما دے اور اس طرح کی بات کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
(3) ابن ابی شیبہ، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولا جناح علیکم فیما عرضتم “ سے مراد ہے کہ یوں کہے میں تیرے بارے میں رغبت رکھتا ہوں۔ اور میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ میں تیری شادی کروں یہاں تک کہ وہ (عورت) اس بات کو جان لے کہ وہ اس سے شادی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ لیکن پختہ عہد نہ لے اور عقد نہ کرے۔
(4) مالک، شافعی، ابن ابی شیبہ، بیہقی نے عبد الرحمن بن قاسم (رح) سے روایت کیا اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” فلا جناح علیکم فیما عرضتم بہ من خطبۃ النساء “ کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ مرد عورت کو اس کی عدت میں یوں کہے۔ بلاشبہ تو مجھے کو بہت ہی عزیز ہے میں تیرے بارے میں رغبت رکھتا ہوں اور اللہ تعالیٰ تجھ سے خیر کو پیدا فرمائے یا رزق پیدا فرمائے یا اس طرح سے دوسری باتیں کرے۔
(5) ابن ابی شیبہ، ابن جریر نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ نکاح کی تعریض میں ہدیہ دینے میں کوئی حرج نہیں۔
(6) عبد بن حمید، ابن جریر نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” اواکننتم “ سے مراد ہے ” اسررتم “ یعنی تم چھپاتے ہو
عبد الرزاق نے ضحاک (رح) سے اسی طرح روایت کیا
(7) ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” او اکننتم فی انفسکم “ سے مراد ہے کہ داخل ہو کر اس کو سلام کرلے اور اگر چاہے تو اس کو ہدیہ دے اور بات نہ کرے۔
(8) وکیع، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” علم اللہ انکم ستذکرونھن “ یعنی اللہ نے جان لیا کہ تم ان کو نکاح کا پیغام دینے کا ذکر کرتے ہو۔
(9) ابن ابی شیبہ، ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” علم اللہ انکم ستنذکرونھن “ سے مراد ہے کہ اپنے دل میں اس عورت کا ذکر کرنا۔
(10) ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولکن لا تواعدوھن سرا “ سے مراد ہے کہ اس عورت کو یہ نہ کہے کہ میں عاشق ہوں (تجھ پر) اور مجھ سے وعدہ کر کہ میرے علاوہ تو کسی اور سے نکاح نہیں کرے گی۔
(11) ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولکن لا تواعدھن سرا “ سے مراد ہے زنا کرنا کوئی آدمی زنا کے لئے اس کے پاس جائے حالانکہ وہ اس کو نکاح کا پیغام پیش کرچکا ہو۔
عبد الرزاق نے حسن ابو مجلز اور نخعی رحمہم اللہ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
(12) امام طستی نے اپنی مسائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے نافع بن ازرق (رح) نے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” ولکن لا تواعدوھن سرا “ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا السر سے مراد ہے جماع کرنا عرض کیا کیا عرب کے لوگ اسی معنی سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے امری القیس کا یہ قول نہیں سنا۔
الا زعمت بسباسۃ الیوم اننی کبرت وان لا یحسن السر امثالی
ترجمہ : خبردار آج بساسہ یہ کہتی ہے کہ بوڑھا ہوگیا ہوں اور میرے جیسے لوگ جماع پر قادر نہیں ہوتے۔
(13) بیہقی نے مقاتل بن حیان سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ لفظ آیت ” لا تواعدوھن سرا “ کا معنی فحش کلام کرنا یعنی مراد اس کو اپنی طرف سے جماع کرنے کا اشارہ نہ کرے۔
(14) عبد الرزاق نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” لا تواعدوھن سرا “ سے مراد وہ شخص ہے کہ جو کسی عورت سے یہ پکا وعدہ لے کہ وہ اپنے آپ کو روکے رکھے اور کسی اور سے نکاح نہ کرے۔
(15) سفیان، ابن ابی شیبہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولکن لا تواعدوھن سرا “ سے مراد ہے کہ عورت کو نکاح کا پیغام اس کی عدت میں دے لفظ آیت ” الا ان تقولوا قولا معروفا “ ہاں مگر یوں کہے بلاشبہ تو خوبصورت ہے۔ تو اچھی شکل والی ہے۔ اور تجھ سے رغبت کی جاتی ہے۔
(16) عبد الرزاق، ابن المنذر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” الا ان تقولوا قولا معروفا “ سے مراد ہے کہ یوں کہے تو خوبصورت ہے تو خیر کی طرف ہے یا یہ کہ عورتیں میری ضرورت میں سے ہیں۔
(17) ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ لفظ آیت ” ولا تعزموا عقدۃ النکاح “ سے مراد ہے کہ عورتوں سے نکاح نہ کرو یہاں تک کہ کتاب اپنی مدت کو پہنچ جائے یعنی عدت ختم ہوجائے۔
مجاہد (رح) سے اسی طرح روایت ہے۔
(18) ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید نے ابو مالک ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولا تعزموا عقدۃ النکاح حتی یبلغ الکتب اجلہ “ سے مراد ہے کہ اس کی عدت میں اس سے وعدہ نہ کرو کہ میں تجھ سے نکاح کروں گا یہاں تک کہ تیری عدت گزر جائے۔
(19) ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واعلموا ان اللہ یعلم ما فی انفسکم فاحذروہ “ سے وعید مراد ہے۔
Ayah 2:236(1) ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، بیہقی نے سنن میں، حضرت علی ؓ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” لا جناح علیکم ان طلقتم النساء مالم تمسوھن او تقرضوا لھن فریضۃ “ میں المس سے مراد نکاح ہے اور فریضہ سے مراد مہر ” ومتعوھن “ کے بارے میں فرماتے ہیں جس نے کسی عورت سے شادی کی اور اس کے لئے مہر مقرر نہ کیا۔ پھر اس کو دخول سے پہلے طلاق دیدی تو اللہ تعالیٰ نے اس کو نفع پہنچانے کا حکم فرمایا اپنی تنگی اور اپنی مالداری کے لحاظ سے اگر وہ مالدار ہے تو اس کو خادم دینے کے ساتھ نفع پہنچائے اور اس طرح کوئی دوسرا نفع، اور اگر تنگدست ہے تو اس کو تین کپڑے دے یا اس طرح کی کوئی اور چیز۔
(2) ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے عکرمہ کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عتبہ طلاق میں اعلی ترین خادم کا دیتا ہے اور اسے کم چاندی ہے اور اس سے کم کپڑا ہے۔
(3) عبد الرزاق، ابن المنذر، بیہقی نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے ایک مالدار کو متعہ کا حکم فرمایا اور فرمایا تو اس کو اتنا (مال) دے اور تو اس کو اتنا پہنائے سو حساب لگایا گیا تو تیس درہم کی مقدار بنتا تھ۔
(4) عبد الرزاق عبد بن حمید نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ سب سے کم نفع پہنچانا تیس درہم ہے۔
(5) ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آدمی جب اپنی عورت کو مہر مقرر کرنے سے پہلے طلاق دیدے اور یہ بھی کہا گیا کہ دخول سے پہلے طلاق دیدے تو اس پر صرف متعہ واجب ہے۔
Ayah 2:237(1) ابن ابی داؤد نے المصاحف میں اعمش (رح) سے لفظ آیت ” وان طلقتموھن من قبل ان تمسوھن “ کے بارے میں روایت کیا کہ حضرت عبد اللہ بن ؓ کی قرأت میں یوں ہے لفظ آیت ” من قبل ان تجامعوھن “
(2) ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت ابن عباس ؓ سے لفظ آیت ” وان طلقتموھن من قبل ان تمسوھن “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے وہ آدمی مراد ہے جس نے ایک عورت سے شادی کی۔ اس کا مہر مقرر کیا پھر جماع سے پہلے اس کو طلاق دیدی (اور مس سے مراد جماع ہے) تو اس عورت کے لئے آدھا مہر ہے اور اس کے لئے اس سے زیادہ نہیں ہے مگر یہ کہ وہ لوگ خود معاف کردیں اور وہ عورت شادی شدہ ہے۔ اور وہ کنواری لڑکی جس کا نکاح اس کے باپ کے علاوہ کسی نے کیا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے یہ عفو بھی مقرر کیا ہے۔ اگر وہ چاہیں تو (مہر میں سے) معاف کردیں اور اگر چاہیں تو آدھا لے لیں لفظ آیت ” اویعفوا الذی بیدہ عقدہ النکاح “ اس سے مراد ہے کہ کنواری لڑکی کا باپ معاف کرے اور اللہ تعالیٰ نے باپ کو یہ اختیار دیا ہے اور لڑکی کے لئے اختیار نہیں جب کہ وہ اس حال میں طلاق دیدی گئی کہ وہ باپ کی پرورش میں تھی۔
ہمبستری سے پہلے طلاق کی صورت مہر و عدت کا مسئلہ
(3) ابن جریر، ابن المنذر، نحاس نے سعید بن مسیب (رح) سے روایت کیا کہ یہ اس عورت کے بارے میں ہے جس کو دخول سے پہلے طلاق دیدی گئی اور اس کے لئے مہر مقرر کردیا تھا تو اس کے لئے اس آیت میں اس کے لئے تھا جو سورة احزاب میں ہے۔ جب وہ آیت نازل ہوئی جو سورة بقرہ میں ہے تو اس کے لئے آدھا مہر مقرر کردیا گیا اور اس صورت میں اس کے لئے متعہ نہیں ہوگا تو (اس لحاظ سے) احزاب والی آیت (کا حکم) منسوخ کردیا گیا۔
(4) عبد بن حمید نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ ابوبکر ھذلی (رح) نے ان سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا جس نے اپنی بیوی کو دخول سے پہلے طالق دیدی کیا اس کے لئے متعہ ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ابوبکر نے کہا کیا متعہ (کے حکم) کو آیت لفظ آیت ” نصف ما فرضتم “ نے منسوخ نہیں کردیا حضرت حسن نے فرمایا اس کو کسی چیز نے منسوخ نہیں کیا۔
(5) بیہقی، شافعی سدید بن منصور نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے ایسے مرد کے بارے میں پوچھا گیا جس نے ایک عورت سے شادی کی تھی اور اس سے خلوت کی مگر اس سے جماع نہیں کیا پھر اس کو طلاق دیدی تو اس (عورت) کے لئے آدھا مہر ہوگا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت ” وان طلقتموھن من قبل ان تمسوھن وقد فرضتم لہن فریضۃ فنصف فرضتم “
(6) بیہقی نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ اس عورت کے لئے آدھا مہر ہے اگرچہ اس کی ٹانگوں کے در میں بھی بیٹھ گیا (اور جماع نہیں کیا)
(7) الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” الا ان یعفون او یعفوا الذی بیدہ عقدہ النکاح “ کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے فرمایا مگر یہ کہ عورت آدھا اپنا مہر چھوڑ دے جو اس کے لئے ہے۔ یا اس کا شوہر اس کو آدھا باقی بھی دیدے۔ وہ فرماتے تھے اور کہے یہ عورت میری ملکیت میں تھی اور میں نے اسے نکاح سے روکے رکھا۔ اس لئے باقی آدھا مہر بھی اس کو دے دے) عرض کیا کیا اس (مطلب) سے عرب واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا آپ نے زبیر بن ابی سلمہ کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔
حزما وبر اللالہ وشیمۃ تعفو علی خلق المسیی المفسد
ترجمہ : محتاط شخص اور اپنے معبود کے لئے نیکی کرنے والا اچھی خصلت والا برے اخلاق والے کو بھی معاف کردیا کرتا ہے۔
(8) ابن جریر، ابن ابی حاتم، طبرانی میں، بیہقی نے حسن سند کے ساتھ ابن عمرو ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا لفظ آیت ” الذی بیدہ عقدۃ النکاح “ سے مراد خاوند ہے۔
(9) وکیع، سفیان، الفریابی، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم، دار قطنی، بیہقی نے حجرت علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” الذی بیدہ عقدہ النکاح “ سے مراد خاوند ہے۔
(10) ابن ابی حاتم، بیہقی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” الذی بیدہ عقدہ النکاح “ سے مراد خاوند ہے۔
(11) ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، بیہقی نے کئی طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا انہوں نے فرمایا کہ لفظ آیت ” الذی بیدہ عقدہ النکاح “ سے مراد اس (عورت) کا باپ یا اس کا بھائی یا وہ شخص ہے جس کی اجازت کے بغیر نکاح نہ کرسکتی ہو۔
(12) شافعی نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ جب ان کے خاندان کی کسی عورت کو نکاح کا پیغام دیا جاتا تو وہ حاضر ہوتی تھیں اور جب نکاح کی گرہ باقی ہوتی۔ تو آپ عورت کے کسی رشتہ دار مرد کو کہتی تھیں کہ اس کا نکاح کر دو کیونکہ عورت خود نکاح کرنے کی اہل نہیں ہوتی۔ (کہ ذمہ دار نہیں ہوتی) ۔
(13) ابن ابی شیبہ (رح) نے سعید بن جبیر مجاہد ضحاک شریع، ابن المسیب، شعبی نافع اور محمد بن کعب رحمہم اللہ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” الذی بیدہ عقدہ النکاح “ سے خاوند مراد ہے۔
(14) ابن ابی شیبہ نے ابو بشیر (رح) سے روایت کیا کہ طاؤس اور مجاہد (رح) نے فرمایا لفظ آیت ” الذی بیدہ عقدہ النکاح “ سے ولی مراد ہے اور سعید بن جبیر (رح) نے فرمایا کہ اس سے خاوند مراد ہے اور ان دونوں نے ان سے اس بارے میں گفتگو کرتے رہتے یہاں تک کہ دونوں نے سعید کی تابعداری کرلی۔
(15) ابن ابی شیبہ (رح) نے عطا حسن، علقمہ اور زہری رحمہم اللہ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” الذی بیدہ عقدہ النکاح “ سے ولی مراد ہے۔
(16) عبد الرزاق، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، بیہقی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ معاف کرنے سے راضی ہوتا ہے اس لئے اس کا حکم فرمایا اگر عورت معاف کر دے۔ جیسے چاہے معاف کر دے اور اگر وہ بخل کرے تو اس عورت کا دل معاف کر دے جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے تو جائز ہے اگرچہ وہ عورت انکار کرتی رہے۔
(17) ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” الا ان یعفون “ سے عورتیں مراد ہیں لفظ آیت ” او یعفوا الذی بیدہ عقدہ النکاح “ سے والی مراد ہے۔
(18) عبد الرزاق نے ابن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ خاوند کا معاف کرنا یہ ہے کہ (آدھے کی بجائے) پورا مہر دیدے اور عورت کا معاف کرنا یہ ہے کہ وہ آدھا مہر چھوڑ دے۔
(19) عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وان تعفوا اقرب للتقوی “ سے مراد ہے کہ میاں بیوی میں سے تقوی کی طرف وہ قریب ہے جو معاف کر دے۔
(20) ابن ابی حاتم نے مقاتل (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وان تعفوا اقرب للتقوی “ یعنی اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت دونوں کو حکم فرمایا کہ معاف کرنے میں ایک دوسرے سے سبقت کریں اور عفو کرنے میں فضیلت ہے۔
(21) ابن المنذر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ ” وان تعفوا “ سے مراد ہے خاوند معاف کردیں۔
(22) وکیع، عبد بن حمید، ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولا تنسوا الفضل بینکم “ سے مراد ہے کہ اس معاملہ میں اور اس کے علاوہ دوسرے معاملات میں فضل کو نہ بھلو۔
(23) ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولا تنسوا الفضل بینکم “ سے معروف ہے یعنی آپس میں نیکی اور احسان کو نہ بھولو۔
(24) عبد بن حمید، ابن جریر نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ ان کو (آپس میں) احسان کرنے اور نیکی کرنے پر ابھار رہے ہیں اور اس میں ان کو رغبت دے رہے ہیں۔
(25) ابن ابی حاتم نے ابو وائل (رح) سے روایت کیا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنے غلام کی شادی کرے اس کی مدد کرے اس کو مکاتب بنائے تو اس کی مدد کرے۔ اور اس کی اور ابھی مثالیں عطیہ کی ہیں۔[
(26) ابن ابی حاتم نے عون بن عبد اللہ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولا تنسوا الفضل بینکم “ سے مراد ہے کہ جب تمہارے پاس کوئی سائل آئے اور اس کے پاس کوئی چیز ہے تو اس کے لئے دعا کر دے۔
(27) سعید بن منصور، احمد، ابو داؤد، ابن ابی حاتم الخرائطی نے مساقی الاخلاق میں، بیہقی نے سنن میں علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ عنقریب لوگوں پر سخت زمانہ آئے گا جس میں مالدار آدمی کنجوس ہوجائے گا اور سختی کرے گا اس مال میں جو اس کے ہاتھوں میں ہوگا اور احسان کرنے کو بھول جائے گا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اس سے منع کیا تھا فرمایا لفظ آیت ” ولا تنسوا الفضل بینکم “ (اور آپس میں احسان کرنے کو نہ بھولو)
ہمبستری سے پہلے طلاق میں آدھا مہر لازم ہے
(28) شافعی، عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، بیہقی نے محمد بن جبیر بن مطعم ؓ سے روایت کیا کہ اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک عورت سے نکاح کرلیا پھر اس کو دخول سے پہلے طلاق دیدی اور پورا مہر اس کو بھیج دیا (حالانکہ آدھا مہر دینا لازم تھا) ان کو یہ بات کہی گئی تو انہوں نے فرمایا میں صاحب فضل لوگوں میں سے ہوں۔
(29) مالک، شافعی، ابن ابی شیبہ، بیہقی نے نافع (رح) سے روایت کیا کہ عبید اللہ بن عمرو کی بیٹی اور اس کی ماں زید بن خطاب کی بیٹی تھی اور عبد اللہ عمرو کی بیٹی عبد اللہ بن عمر ؓ کے بیٹے کے نکاح میں تھی وہ اس حال میں فوت ہوگیا کہ اس کے ساتھ دخول بھی نہ ہوا اور اس کا مہر بھی مقرر نہ ہوا۔ اس کی ماں نے اس کا مہر طلب کیا تو حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا اس کے کوئی مہر نہیں۔ اور اگر اس کے لئے کوئی مہر بنتا ہو تو ہم اس کو نہ روکیں گے اور نہ ہم اس پر ظلم کریں گے لڑکی کی ماں نے اس بات کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ فیصلہ زید بن ثابت ؓ کے پاس گیا۔ انہوں نے فرمایا کہ اس کے لئے کوئی مہر نہیں ہے بلکہ اس کے لئے میراث ہوگی۔
(30) عبد الرزاق، ابن ابی شیبہ، احمد، ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، حاکم، بیہقی نے علقمہ (رح) سے روایت کیا کہ ابن مسعود ؓ کے پاس کچھ لوگ آئے اور کہنے لگے ایک آدمی نے ہم میں سے ایک عورت سے شادی کی۔ اس کے لئے مہر مقرر نہیں کیا اور اس سے جماع بھی نہیں کیا یہاں تک کہ مرگیا۔ انہوں نے فرمایا اس سے پہلے مجھ سے ایسا سخت سوال نہیں کیا گیا جب سے میں رسول اللہ ﷺ سے جدا ہوا ہوں۔ تم کسی اور کے پاس جاؤ وہ لوگ ایک ماہ تک آپ کے پاس آتے جاتے رہے پھر اس کے آخر میں ان کے پاس آئے اور کہا اگر ہم تجھ سے سوال نہ کریں تو اور ہم کس سے سوال کریں اور آپ اس شہر میں محمد ﷺ کے اصحاب میں آخری ہیں ہم آپ کے علاوہ کسی کو نہیں پاتے انہوں نے فرمایا میں یہ مسئلہ تمہیں اپنی رائے اور اجتہاد سے بتاتا ہوں۔ اگر وہ بات ٹھیک ہوئی تو اللہ وحدہ لاشریک کی طرف سے ہوگی اور اگر غلط ہوئی تو میری طرف سے ہوگی اللہ اور اس کا رسول اس سے بری ہے (پھر فرمایا) میری رائے یہ ہے کہ اس کو دوسری عورتوں کی طرح مہر ملے گا۔ اس مہر میں کمی یا زیادتی نہ ہوگی اور اس کے لئے میراث بھی ہوگی اور اس پر چار مال اور دس رن عدت بھی ہوگی۔ راوی نے فرمایا کہ لوگوں نے یہ اشجع قبیلہ کے لوگوں سے سن کر فیصلہ فرمایا تھا وہ لوگ کھڑے ہوگئے ان میں معقل ہیں یسار ؓ بھی تھے۔ سب نے کہا کہ ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے ایسے ہی فیصلہ فرمایا جیسے ہم میں سے ایک عورت کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ فرمایا تھا جس کو روع بنت واشق کہا جاتا تھا راوی نے فرمایا کہ حجرت عبد اللہ ؓ اتنا خوش ہوئے کہ پہلے اتنا خوش نہیں ہوئے تھے۔ سوائے اسلام لانے کے دن سے پھر فرمایا اے اللہ ! اگر یہ فیصلہ ٹھیک ہے تو یہ تیری توفیق سے ہے اور تیرا کوئی شریک نہیں۔
(31) سعید بن منصور، ابن ابی شیبہ، بیہقی نے حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ ان سے ایسی عورت کے بارے میں پوچھا گیا جس کا خاوند فوت ہوگیا ہو اور اس کا مہر مقرر نہیں ہوا کہ اس کے لئے میراث ہوگی اور اس پر عدت بھی ہوگی اور اس کے لئے مہر نہیں ہوگا۔ اور فرمایا ہم اللہ تعالیٰ کی کتاب کے مقابلہ میں اشجع کے اعرابی کا قول قبول نہیں کریں گے۔
(32) شافعی، بیہقی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے ایسی عورت کے بارے میں پوچھا گیا جس کا خاوند مرگیا اور اس کا مہر مقرر ہوچکا ہے۔ تو انہوں نے فرمایا اس کے لئے مہر اور میراث دونوں ہوں گے۔
(33) مالک، شافعی، ابن ابی شیبہ، بیہقی نے ابن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا جب پردے ڈال دئیے جاتے ہیں (یعنی میاں بیوی نے خلوت کرلی) تو (مرد پر) مہر واجب ہوجاتا ہے۔
(34) ابن ابی شیبہ، بیہقی نے احنف بن قیس (رح) سے روایت کیا کہ حضرت عمر و علی ؓ دونوں نے فرمایا کہ جب سے وہ ڈال دیا جائے اور دروازہ بند کردیا جائے تو عورت کے لئے پورا مہر ہوگا۔ اور اس پر عدت بھی ہوگی۔
(35) سعید بن منصور، ابن ابی شیبہ، دیلمی نے زراہ بن اوفی (رح) سے روایت کیا کہ خلفاء راشدین مہدیین ؓ نے فیصلہ فرمایا کہ جو دروازہ بند کر دے اور پردہ لٹکا دے تو مہر اور عدت واجب ہوجاتا ہے۔
(36) مالک، بیہقی نے زید بن ثابت ؓ سے روایت کیا کہ جب مرد عورت پر داخل ہوتا ہے اور پردے لٹکا دئیے جاتے ہیں تو مہر واجب ہوجاتا ہے۔
(37) بیہقی نے محمد بن ثوبان ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس آدمی نے (اپنی) عورت کا راز کھولا اور اس کی شرم گاہ کو اس نے دیکھ لیا تو آدمی پر مہر (دینا) واجب ہوگیا۔
Ayah 2:239(1) مالک، شافعی، عبد الرزاق، بخاری، ابن جریر، بیہقی نے نافع (رح) سے روایت کیا کہ ابن عمر ؓ سے خوف کی نماز کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا امام آگے کھڑا ہوجائے اور ایک جماعت لوگوں میں آجائے امام ان کو ایک رکعت پڑھائے اور ان میں سے ایک جماعت ہوگی ان کے اور دشمن کے درمیان وہ ابھی نماز نہ پڑھیں جب ان لوگوں نے اس کے ساتھ ایک رکعت پڑھ لی تو وہ پیچھے ہٹ جائیں ان لوگوں کی جگہ پر جنہوں نے نماز نہیں پڑھی اور (رکعت پڑھ کر) سلام نہ پھیریں اور وہ لوگ آگے آجائیں جنہوں نے نماز نہیں پڑھی۔ اور وہ امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھیں پھر امام سلام پھیر دے کیونکہ اس کی دو رکعت ہوری ہوگئیں۔ پھر دو جماعتوں میں سے ہر ایک جماعت اپنے طور پر کھڑی ہوجائے اور خود ہی ایک رکعت پڑھ لیں امام کے سلام پھیرنے کے بعد (اس طرح) دونوں جماعتوں میں سے ہر ایک دو رکعت پڑھیں۔ اگر اس سے زیادہ خوف ہو تو کھڑے کھڑے اپنے قدموں پر (اشارے سے) نماز پڑھ لیں یا سوار ہونے کی حالت میں یا چلتے ہوئے نماز پڑھیں قبلہ کی طرف رخ ہو یا نہ ہو۔ نافع (رح) نے فرمایا میں یہ خیال کرتا ہوں کہ حضرت ابن عمر ؓ نے طریقہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا ہے۔
(2) ابن ابی شیبہ، مسلم، نسائی، نافع کے طریق سے حضرت ابن حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے بعض دنوں میں خوف کی نماز پڑھی ہے ایک جماعت آپ کے پیچھے کھڑی تھی۔ (نماز پڑھنے کے لئے) اور ایک جماعت دشمن کے سامنے کھڑی تھی۔ جو لوگ آپ کے ساتھ تھے انہوں نے آپ کے ساتھ ایک رکعت پڑھی اور چلے گئے پھر دوسرے لوگ آئے ان کو آپ نے ایک رکعت پڑھائی پھر دونوں جماعتوں نے (مزید) ایک ایک رکعت سے اپنی نمازوں کی تکمیل کی اور یہ بھی فرمایا اگر خوف اس سے زیادہ ہو تو سواری پر یا کھڑے کھڑے اشارہ کے ساتھ نماز پڑھ لو۔
نماز خوف کا طریقہ
(3) ابن ماجہ نے نافع سے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے خوف کی نماز کے بارے میں فرمایا ایک جماعت امام کے ساتھ نماز پڑھتے ہوئے ایک سجدہ کرے گی ایک رکعت اور ان میں سے ایک جماعت دشمن کے سامنے ہوگی۔ پھر وہ جماعت چلی جائے گی جنہوں نے اپنے امیر کے ساتھ ایک رکعت پڑھ لی ہے پھر وہ ان کی جگہ چلے جائیں جنہوں نے نماز نہیں پڑھی وہ بھی اپنے امیر کے ساتھ سجدہ کریں (یعنی ایک رکعت پڑھیں ان کا امیر چلا جائے کیونکہ اس کی نماز پوری ہوگئی دو جماعتوں میں سے ہر ایک جماعت اپنی نماز کو پورا کرے گی (اپنے طور پر) ایک سجدہ کرتے ہوئے (یعنی ایک ایک رکعت اور پڑھتے ہوئے) اگر خوف اس سے زیادہ ہو تو چلتے ہوئے یا سوار ہو کر (اشارے سے) نماز پڑھیں۔
(4) البزار نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنگ کی نماز ایک رکعت ہے جس طرح بھی کوئی آدمی پڑھ لے گا اس کے لئے کافی ہوگی۔ اگر ایسا کرے گا تو دوبارہ نہیں پڑھے گا۔
(5) ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فان خفتم فرجالا اور کبانا “ سے مراد ہے کہ سوار ہونے والا اپنے جانور پر ہی نماز پڑھ لے اور پیدل آدمی اپنے قدموں پر (کھڑے کھڑے) نماز پڑھ لے۔ (پھر فرمایا لفظ آیت ” فاذا امنتم فاذکروا اللہ کما علمکم مالم تکونوا تعلمون “ یعنی جیسے تم کو سکھایا کہ سوار ہونے والا اپنی سواریوں پر نماز پڑھ لے اور پیدل اپنے قدموں پر (کھڑے کھڑے اشارہ سے) نماز پڑھ لے۔
(6) ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا کہ جنگ کی صورت میں اپنے سر کے اشارہ سے جس طرح اس کا چہرہ ہو نماز پڑھ لے۔ یہی اللہ تعالیٰ کا قول ہے لفظ آیت ” فرجالا اور کبانا “۔
(7) عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” فرجالا “ سے مراد ہے چلتے ہوئے ” اور کبانا “ سے محمد ﷺ کے صحابہ گھوڑوں پر تھے جنگ میں جب خوف واقع ہوجائے تو حکم ہوا کہ ہر رخ میں (جس میں آسانی ہو) نماز پڑھ لے خواہ کھڑے ہوئے یا سوار ہو کر جس طرح کو قدرت ہو اپنے سر کے اشارے سے یا زبان سے بات کرتے ہوئے نماز پڑھ لے۔
(8) عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے حلال کردیا ہے اگر تجھ کو خوف ہو تو سوار ہونے کی حالت میں نماز پڑھ لو اور اگر چلتے ہوئے اشارہ سے نماز پڑھ لو خواہ قبلہ کی طرف تیرا رخ ہو یا نہ ہو۔
(9) عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فان خفتم فرجالا اور کبانا “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ حکم دشمن کی موجودگی میں ہے۔ پیدل یا سوار ہو کر اشارہ کے ساتھ نماز پڑھ لیں جس طرح بھی ان کے چہرے ہوں ایک رکعت ہی تجھ کو کافی ہوگی۔
(10) ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ دو رکعت نماز پڑھے اگر یہ نہ ہوسکے تو ایک رکعت (پڑھ لے) اگر یہ بھی نہ ہوسکے تو تکبیر ہی کہہ لے جس طرح چہرہ ہو۔
(11) عبد بن حمید نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فان خفتم فرجالا اور کبانا “ سے مراد ہے ایک ایک رکعت کرکے (نماز پڑھ لے) ۔
نماز خوف پیادہ پڑھنا
(12) ابو داؤد نے عبید اللہ بن انیس ؓ سے روایت کیا کہ مجھ کو رسول اللہ ﷺ نے خالد بن سفیان ھذلی کی طرف بھیجا۔ اور وہ وادی عرفہ اور عرفات میں تھا آپ نے فرمایا جاؤ اور اس کو قتل کر دو ۔ عبد اللہ ؓ نے فرمایا کہ میں نے اس کو دیکھا تو عصر کی نماز کا وقت ہوچکا تھا۔ میں نے (دل میں) کہا کہ میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ میرے اور اس کے درمیان جو معاملہ ہے جس سے نماز میں تاخیر نہ ہوجائے۔ میں نے پیدل چلنا شروع کیا اس حال میں کہ میں اس کی طرف رخ کرتے ہوئے اشارہ سے نماز پڑھ رہا تھا جب میں اس کے قریب ہوا تو اس نے کہا تو کون ہے ؟ میں نے کہا میں عربی باشندہ ہوں مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ تو اس آدمی کے لئے جمع کر رہا ہے تو اس کے بارے میں تیرے پاس آیا ہو اس نے کہا میں اس خیال میں لگا ہوا ہوں میں کچھ دیر اس کے ساتھ چلا یہاں تک کہ جب اس نے مجھے موقع دیا تو میں نے اپنی تلوار کے ساتھ اس پر حملہ کردیا یہاں تک کہ وہ ٹھنڈا ہوگیا۔
(13) ابن ابی شیبہ نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فان خفتم فرجالا اور کبانا “ کے بارے میں فرمایا کہ جب جنگ کے دوران نماز کا وقت ہوجائے تو اشارہ سے پڑھ لے جس طرح بھی رخ ہو۔ (اور) سجدوں میں رکوع سے زیادہ جھک جائے۔
(14) عبد الرزاق نے قتادہ (رح) سے لفظ آیت ” فرجالا اور کبانا “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ حکم اس وقت ہے جب مقابلے میں ایک دوسرے کو تلوار سے مار رہے ہوں تو ایک ہی رکعت اشارہ سے پڑھ لے جس طرف بھی رخ ہو خواہ تم سوار ہو یا پیدل ہو یا دوڑ رہے ہو۔
(15) طیالسی، عبد الرزاق، ابن ابی شیبہ، احمد، عبد بن حمید، نسائی، ابو یعلی، بیہقی نے اپنی سنن میں ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ خندق کے دن ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے (جنگ کی وجہ سے) نماز ظہر، عصر، مغرب اور عشاء سے غافل ہوگئے یہاں تک کہ ہم نے اس کو کافی سمجھا اور یہ اللہ کا قول ہے لفظ آیت ” وکفی اللہ المؤمنین القتال “ (یعنی اللہ تعالیٰ نے مومنین کی جنگ میں پوری پوری مدد کی) ۔ (اس کے بعد) رسول اللہ ﷺ نے حضرت بلال ؓ کو حکم فرمایا کہ ہر نماز کے لئے اقامت کہو۔ اور یہ اس آیت لفظ آیت ” فان خفتم فرجالا اور کبانا “ کے نازل ہونے سے پہلے کا حکم ہے۔
(16) وکیع، ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” فاذا امنتم “ سے مراد ہے کہ جب تم سفر سے گھر کی طرف نکل جاؤ۔
(17) ابن جریر نے ابن زید (رح) سے اس آیت ” فاذا امنتم “ کے بارے میں روایت کیا کہ (اب) نماز پڑھو جیسے تم پر فرض کی گئی۔ جب خوف آجائے تو ان کے لئے رخصت ہے (جس طرح پڑھیں) ۔
Ayahs 2:240–241(1) بخاری، بیہقی نے سنن میں ابن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے عثمان بن عفان ؓ سے عرض کیا کہپ لفظ آیت ” والذین یتوفون منکم ویذرون ازواجا “ اس آیت (کے حکم) کو دوسری آیت نے منسوخ کردیا۔ پھر تم اس کو کیوں لکھتے ہو یا آپ اس کو کیوں نہیں چھوڑتے۔ حضرت عثمان ؓ نے فرمایا اے میرے بھتیجے میں اس کہ جگہ سے کسی چیز کو نہیں بدلتا۔
(2) ابن ابی حاتم نے عطاء سے حضرت ابن عباس ؓ سے لفظ آیت ” والذین یتوفون منکم “ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ عورت جس کا خاوند مرجاتا ہے۔ اس عورت کا نفقہ اور اس کی رہائش (خاوند کے) گھر ایک سال تک ہوتی تھی۔ پھر میراث والی آیت نے اس (آیت کے حکم) کو منسوخ کردیا۔ اب ان کے لئے چوتھائی یا آٹھواں حصہ مقرر کردیا گیا خاوند کے ترکہ میں سے۔
(3) ابن جریر نے عطا (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ عورت کی میراث اس کے خاوند (کے ترکہ میں) سے یہ ہوتی تھی کہ اگر عورت چاہے تو خاوند کے مرنے کے دن سے لے کر ایک سال تک اس کے گھر میں رہے۔ جیسا کہ فرمایا لفظ آیت ” فان خرجن فلا جناح علیکم “ پھر (یہ حکم) منسوخ ہوگیا اس میراث کی وجہ سے جو اللہ تعالیٰ نے (عورت کے لئے) مقرر فرما دی۔
(4) ابو داؤد، نسائی، بیہقی نے عکرمہ کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت لفظ آیت ” والذین یتوفون منکم ویذرون ازواجا، وصیۃ لازواجھم متاعا الی الحول غیر اخراج “ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو میراث والی آیت سے منسوخ فرما دیا۔ جس میں اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے چوتھائی یا آٹھواں حصہ مقرر فرما دیا۔ اور ایک سال کی مدت کو چار ماہ اور دس دن کے ساتھ منسوخ فرما دیا۔
(5) سعید بن منصور، ابن جریر، ابن المنذر، بیہقی نے ابن جریر (رح) سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ لوگوں کو خطبہ دینے کھڑے ہوئے اور ان کے لئے سورة بقرہ پڑھی اور اس میں (احکام) بیان فرمائے پھر جب اس آیت پر پہنچے۔ لفظ آیت ” ان ترک خیرا، الوصیۃ للوالدین والاقربین “ (البقرہ آیت 180) اور فرمایا یہ آیت منسوخ کردی گئی۔ پھر پڑھا یہاں تک کہ اس آیت پر پہنچے لفظ آیت ” والذین یتوفون منکم “ سے ” غیراخراج “ تک اور فرمایا یہ آیت منسوخ ہے پھر قرأت کی۔
(6) شافعی، عبد الرزاق نے جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا کہ وہ عورت جس کا خاوند مرجائے اب اس کے لئے کوئی نفقہ نہیں۔ اس کو میراث کافی ہے۔
(7) ابو داؤد نے الناسخ میں اور نسائی نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” والذین یتوفون منکم ویذرون ازواجا، وصیۃ لازواجھم متاعا الی الحول “ اس آیت کو منسوخ کردیا اس (دوسری) آیت نے (یعنی) ” والذین یتوفون منکم ویذرون ازواجا یتربصن بانفسھن اربعۃ اشھر وعشرا “۔
(8) ابن الانباری نے اعصاف میں زید بن اسلم (رح) سے اس آیت ” والذین یتوفون منکم ویذرون ازواجا وصیۃ لازواجھم “ کے بارے میں روایت کیا ہے عورت کے لئے اس کا خاوند ایک سال کا نفقہ اور گھر سے نہ نکالنے اور نہ (دوسری جگہ) شادی کرنے کی وصیت کرجاتا تھا۔ یہ حکم اس آیت ” والذین یتوفون منکم ویذرون ازواجا یتربصن بانفسھن اربعۃ اشھر وعشرا “ سے منسوخ ہوگیا (یعنی) اس دوسری آیت نے پہلی آیت کے حکم کو منسوخ کردیا اب ان پر چار ماہ اور دس دن ٹھہرنا (یعنی عدت گزارنا) فرض کردیا گیا۔ اور ان کے لئے چوتھائی یا آٹھواں حصہ مقرر کردیا گیا۔
(9) ابن الانباری نے زید بن اسلم سے انہوں نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ عورت کے لئے اس کا خاوند ایک سال کے نفقہ کی وصیت کرجاتا تھا جب تک کہ وہ نہ اس گھر سے نکلے اور نہ دوسرے خاوند سے شادی کرے۔ پھر یہ حکم منسوخ کردیا گیا۔ اور اس کے لئے اولاد نہ ہو تو ایک چوتھائی اور اولاد ہو تو آٹھواں حصہ مقرر کردیا گیا اور اس آیت ” یتربصن بانفسھن اربعۃ اشھر وعشرا “ نے ایک سال تک وصیت کرنے کا حکم بھی منسوخ کردیا۔
جس عورت کا شوہر مرجائے اس کا نفقہ
(10) ابن راہو یہ نے اپنی تفسیر میں مقاتل بن حبان (رح) سے روایت کیا کہ طائف والوں میں سے ایک آدمی مدینہ منورہ آیا اس کی اولاد میں بچے اور بچیاں تھیں اور اس کے ساتھ اس کے والدین اور اس کی بیوی بھی تھی وہ آدمی مدینہ منورہ میں مرگیا اس کی میراث کا مسئلہ نبی اکرم ﷺ کے پاس لے جایا گیا۔ آپ نے والدین کو اور اس کو دستور کے مطابق (اس کے ترکہ میں) عطا فرما دیا اور اس کی عورت کو کچھ بھی عطا نہ فرمایا سوائے اس کے کہ ان کو حکم دیا کہ خاوند کے ترکہ میں سے ایک سال تک اس پر خرچ کرتے رہیں اس بارے میں (یہ آیت) نازل ہوئی۔ ” والذین یتوفون منکم ویذرون ازواجا “ (الآیہ) ۔
(11) عبد بن حمید، ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے لفظ آیت ” فلا جناح علیکم فیما فعلن فی انفسھن من معروف “ کے بارے میں روایت کیا کہ عورت کا (دوسری جگہ) نکاح کرنا حلال ہے۔ اور پاکیزہ ہے (اور تم پر کوئی حرج نہیں) ۔
Ayah 2:242(1) ابن جریر نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ جب (یہ آیت) ” متاعا بالمعروف حقا علی المحسنین “ نازل ہوئی تو ایک آدمی نے کہا اگر میں احسان کروں گا۔ تو ایسا کرلوں گا اور اگر میں نے احسان کا ارادہ نہ کیا تو نہ کروں گا۔ تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی ” وللمطلقت متاع بالمعروف، حقا علی المتقین “
(2) ابن ابی حاتم نے سعید بن مسیب (رح) سے روایت کیا کہ اس آیت کے بعد والی آیت کو منسوخ کردیا (یعنی) لفظ آیت ” وان طلقتموھن من قبل ان تمسوھن وقد فرضتم لھن فریضۃ فنصف ما فرضتم “ (البقرہ آیت 237) نے ” وللمطلقات متاعا بالمعروف “ کو منسوخ کردیا۔
(3) عتاب بن خصیف (رح) نے لفظ آیت ” وللمطلقات متاع “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ فرائض سے پہلے کا حکم تھا۔
(4) مالک عبد الرزاق، شافعی، عبد بن حمید، النحاس نے (ناسخ میں) ابن المنذر، بیہقی نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ہر مطلقہ عورت کے لئے متعہ (یعنی تین کپڑے) ہیں مگر وہ عورت جس کو دخول پہلے طلاق دیدی گئی اور (اگر) اس کا مہر مقرر ہوچکا ہو تو اس کے لئے بطور متعہ آدھا مہر کافی ہے۔
(5) ابن المنذر نے حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ ہر مؤمنہ عورت جس کو طلاق دیدی گئی آزاد ہو یا باندی ہو اس کے لئے متعہ (یعنی کپڑے) ہے۔ اور (یہ آیت) پڑھی ” وللمطلقت متاع بالمعروف، حقا علی المتقین “
(6) بیہقی نے جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا کہ کہ حفص بن مغیرہ ؓ نے اپنی بیوی فاطمہ کو طلاق دیدی تو وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی تو آپ نے اس کے خاوند سے فرمایا اس کو کچھ سامان دیدو۔ اس نے کہا میرے پاس کوئی سامان نہیں جو میں اس کو دوں۔ آپ نے فرمایا سامان دینا ضروری ہے اگرچہ آدھا صاع کھجور ہی کیوں نہ ہو۔
(7) عبد بن حمید أبو العالیہ (رح) سے لفظ آیت ” وللمطلقت متاع بالمعروف، حقا علی المتقین “ کے بارے میں روایت کیا کہ ہر مطلقہ عورت کیلئے متعہ (کچھ سامان) دینا ہے۔
(8) عبد بن حمید یعلی بن حکیم (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے سعید بن جبیر (رح) سے پوچھا کیا ہر آدمی پر (مطلقہ عورت کو) متعہ دینا لازم ہے کوئی بھی ہو۔ انہوں نے فرمایا نہیں پھر پوچھا تو کس آدمی پر لازم ہے ؟ فرمایا متقین پر۔
(9) بیہقی نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو (قاضی) شریح کے پاس طلاق دی شریح نے اس سے فرمایا اس کو متعہ دے۔ عورت نے کہا میرے لئے اس پر کوئی متعہ (لازم) نہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” وللمطلقت متاع بالمعروف، حقا علی المتقین “ اور فرمایا ” وللمطلقات متاع بالمعروف حقا علی المحسنین “ اور یہ آدمی (یعنی میرا خاوند) ان لوگوں (یعنی متقین اور محسنین) میں سے نہیں ہے۔
(10) بیہقی نے شریح (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آدمی سے فرمایا جس نے اپنی عورت کو طلاق دیدی تھی کہ تو متقین میں سے پونے کا انکار نہ کر کہ تو محسنین میں سے ہونے کا انکار نہ کر۔
(11) شافعی نے جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا انہوں نے فرمایا مطلقہ عورت کا نفقہ جب وہ حرام ہوجائے تو (پھر) تو معروف طریقہ پر متعہ ہے۔