Ayahs 2:31–33(1) امام الفریابی، ابن سعد، ابن جریر، ابن ابی حاتم، حاکم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آدم اس لئے نام رکھا گیا کیونکہ وہ سطح زمین سے پیدا کئے گئے جس میں سرخ سفید اور سیاہ اجزاء تھے۔ اسی وجہ سے لوگوں کے رنگ بھی مختلف ہیں ان میں سرخ، سفید، سیاہ، اچھے اور برے (سب) ہیں۔
(2) عبد بن حمید نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو سطح زمین سے پیدا فرمایا۔ سرخ، سفید اور کالی مٹی سے۔
آدم کی وجہ تسمیہ
(3) ابن سعد، عبد بن حمید اور ابن جریر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ تم جانتے ہو آدم کیوں نام رکھا گیا اس لئے کہ سطح زمین سے پیدا کئے گئے۔
(4) ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وعلم ادم الاسماء کلھا “ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو پیالہ ہانڈی اور ہر چیز کا نام سکھا دیا یہاں تک کہ پھسکی یا پاد (یعنی وہ ہوا جو دبر کے راستے سے خارج ہوتی ہے) اس کا نام بھی بتادیا، اور گندگی کے کپرے کا نام بھی بتادیا۔
(5) امام وکیع اور ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وعلم ادم الاسماء کلھا “ سے مراد یہ ہے کہ (اللہ تعالیٰ نے) ان کو ہر چیز کا نام سکھا دیا یہاں تک کہ پیالہ، پلیٹ، اور پھسکی اور غلیظ کیڑے کا نام بھی بتادیا۔ پھسکی وہ ہوا ہے جو دبر سے تھوڑی سی اور بغیر آواز کے خارج ہوتی ہے اور پاد وہ ہوا ہے جو دبر سے زیادہ مقدار میں اور آواز کے ساتھ خارج ہوتی ہے۔
(6) امام وکیع اور ابن جریر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وعلم اسم الاسماء کلھا “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ہر چیز کے نام سکھا دئیے یہاں تک کہ اونٹ، گائے اور بکری (کے نام بھی) ۔
(7) عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وعلم ادم الاسماء کلھا “ سے مراد ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا (ان سب کے نام سکھا دئیے) ۔
(8) امام دیلمی نے ابو رافع ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میرے لئے میری امت کی مٹی اور پانی میں مثال پیش کی گئی۔ میں نے بھی وہ تمام اسماء جان لئے جیسے آدم (علیہ السلام) نے جان لئے تھے۔
(9) وکیع نے تاریخ میں ابن عساکر اور دیلمی نے عطیہ بن یسر ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وعلم ادم الاسماء کلھا “ سے مراد ہے اللہ تعالیٰ نے ان ناموں میں سے ہزار پیشوں کے نام بھی بتا دئیے ذریت سے کہو اگر تم دنیا (اس کی طلب) سے صبر نہ کرو تو دنیا کو ان پیشوں کے ذریعہ طلب کرو اور اس کو دین کے ذریعہ طلب نہ کرو کیونکہ دین مجھ اکیلے کے لئے خالص ہے۔ ہلاکت ہے اس شخص کے لئے جو دنیا کو دین کے ذریعہ طلب کرتا ہے بربادی ہے اس کے لئے۔
(10) ابن جریر نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وعلم ادم الاسماء کلہا “ کہ اسماء سے مراد تمام اولاد کے اسماء ہیں۔ ” ثم عرضہم “ یعنی پکڑے ان کو ان کی پیٹھ سے (یعنی آدم (علیہ السلام) کی پیٹھ میں سے ان کی ساری اولاد کو نکالا) ۔
(11) امام ابن جریر نے ربیع بن انس (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وعلم ادم الاسماء “ سے مراد ہے فرشتوں کے نام۔
(12) عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وعلم ادم الاسماء “ سے مراد ہے کہ آدم (علیہ السلام) کو اس کی (تمام) مخلوق کے نام سکھائے گئے پھر فرمایا جو فرشتے نہیں جانتے وہ بھی بتادیا۔ پس آدم (علیہ السلام) نے ہر چیز کا نام لیا اور ہر چیز کو اس کی جنس کی طرف منسوب کیا۔
حضرت آدم (علیہ السلام) کو ناموں کی تعلیم
(13) امام ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وعلم ادم الاسماء “ سے مراد ہے اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو تمام نام سکھا دئیے اور یہ نام تھے جن کو لوگ آپس میں جانتے ہیں (جیسے) انسان، جانور، زمین، سمندر، نرم، پہاڑ اور گدھا اور اس قسم کی دوسری چیزیں اور اس کے علاوہ میں سے۔ لفظ آیت ” ثم عرضہم علی الملئکۃ “ یعنی ان سب چیزوں کے نام فرشتوں پر پیش کئے جو مخلوق کی قسموں میں سے آدم (علیہ السلام) کو سکھائے تھے۔ ” فقال انبؤنی “ یعنی مجھ کو بتاؤ ” ان کنتم صدقین “ اگر تم جانتے ہو تو میں (پھر) زمین میں خلیفہ نہیں بناؤں گا۔ ” قالوا سبحنک “ اللہ کے لئے پاکی بیان کرتے ہوئے اس بات سے کہ ان کے علاوہ کوئی غیب کو نے ہم تیری بارگاہ میں رجوع کرتے ہیں۔ ” لاعلم لنا “ ہمیں اس طرح کا علم نہیں ہے جیسے تو نے آدم (علیہ السلام) کو سکھایا۔ غیب کے علم سے برأت ظاہر کرتے ہوئے ” الا ما علمتنا “ جیسے آپ نے آدم (علیہ السلام) کو سکھایا (اس کا ہم کو علم نہیں) ۔
(14) ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” ثم عرضہم “ سے مراد ہے پھر نام والوں کو فرشتوں پر پیش کیا گیا۔
(15) امام ابن جریر نے حضرت مجاہد کے واسطے سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمانے لگے فرشتوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ جس مخلوق کو پیدا کرنے والا ہے جو ہم سے زیادہ عزت والی ہوگی اور نہ ہم سے زیادہ جاننے والی ہوگی۔ پس اس وجہ سے وہ آدم (علیہ السلام) کی پیدائش کے ذریعہ آزمائش میں ڈالے گئے۔
(16) امام ابن جریر نے قتادہ اور حسن (رح) سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمانے لگے تو فرشتوں نے آپس میں آہستہ آہستہ باتیں کیں اور کہنے لگے اللہ تعالیٰ ہرگز ایسی مخلوق کو پیدا نہیں فرمائیں گے جو اس کے نزدیک ہم سے زیادہ عزت والی ہو اور ہم سے زیادہ علم رکھتی ہو۔ جب (اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو) پیدا فرما دیا تو فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم فرمایا تو کہنے لگے کہ (اللہ تعالیٰ نے) آدم (علیہ السلام) کو ہم پر فضیلت دی ہے اور انہوں نے جان لیا کہ وہ اس سے بہتر نہیں ہیں کہنے لگے اگر ہم اس سے بہتر ہوئے تو ہم اس سے زیادہ جاننے والے ہیں اس لئے کہ ہم اس سے (پیدائش میں) پہلے ہیں لفظ آیت ” وعلم ادم الاسماء کلہا “ (پھر آدم (علیہ السلام) کو سارے نام سکھا دئیے) یعنی ہر چیز کا نام انہوں نے جان لیا۔ ہر چیز کا نام رکھ دیا، گنا اور پھر ان کو ایک امت (یعنی فرشتوں) پر پیش کیا گیا (اسی کو فرمایا) ” ثم عرضہم علی الملئکۃ، فقال انبؤنی باسماء ھولاء ان کنتم صدقین “ پھر (جب نام نہ بتاسکے) تو پھر توبہ کی طرف گھبرائے اور کہنے لگے لفظ آیت ” سبحنک لاعلم لنا “ (اے اللہ آپ کی ذات پاک ہے ہم نہیں جانتے) ۔
(17) امام ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” انک انت العلیم الحکیم “ میں العلیم سے مراد ہے وہ ذات جو اپنے علم میں کامل ہو اور ” الحکیم “ سے مراد وہ ذات ہے جو اپنے حکم میں کامل ہو۔
(18) امام ابن جریر نے حضرت ابن مسعود اور بعض صحابہ ؓ سے روایت کیا کہ ” ان کنتم صدقین “ سے مراد ہے (اگر تم اس بات میں سچے ہو) کہ بنی آدم زمین میں فساد کریں گے اور خون بہائیں گے۔ اور لفظ آیت ” واعلم ما تبدون “ سے مراد ان کا یہ قول ہے۔ لفظ آیت ” قالوا اتجعل فیہا من یفسد فیہا “ اور ” وما کنتم تکتمون “ یعنی جو ابلیس نے اپنے دل میں تکبر کو چھپایا (اللہ تعالیٰ اس کو جانتے ہیں) ۔
(19) امام عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واعلم ما تبدون وما کنتم تکتمون “ سے مراد ہے کہ جو ابلیس نے (اپنے دل میں) سجدہ کرنے سے انکار کو چھپایا ہوا تھا (اللہ تعالیٰ اس کو بھی جانتے تھے) ۔
(20) امام ابن جریر نے حضرت ابن عباس (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واعلم ما تبدون “ سے مراد ہے کہ جو تم ظاہر کرتے ہو۔ (اور) ” وما کنتم تکتمون “ سے مراد ہے کہ میں چھپی ہوئی باتوں کو بھی جانتا ہوں جس طرح علانیہ باتوں کو جانتا ہوں۔
(21) امام ابن جریر نے حضرت قتادہ و حسن (رح) سے روایت کیا کہ (اللہ تعالیٰ کا) یہ فرمانا ” ما تبدون “ سے مراد ان کا قول لفظ آیت ” قالوا اتجعل فیہا “ ہے۔ اور ” وما کنتم تکتمون “ سے مراد ہے یعنی ان کے بعض کا بعض کو یہ کہنا کہ ہم اس (آدم) سے بہتر ہیں اور زیادہ جاننے والے ہیں۔
فرشتوں کی مخفی بات
(22) عبد بن حمید اور ابن جریر نے مہدی بن میمون (رح) سے روایت کیا کہ میں نے حسن (رح) سے سنا کہ انہوں نے حسن بن دینار (رح) سے پوچھتے ہوئے کہا اے ابو سعید (یہ ان کی کنیت ہے) کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں بتائے جو انہوں نے فرشتوں سے فرمایا لفظ آیت ” واعلم ما تبدون وما کنتم تکتمون “ کون سی چیز فرشتوں نے چھپائی ؟ انہوں نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا تو فرشتوں نے عجب مخلوق دیکھی گویا کہ ان کے ذہنوں میں کچھ خیال آیا وہ ایک دسرے سے سرگوشیاں کرنے لگے بعض نے کہا کہ تم اس مخلوق سے کیوں پریشان ہو اللہ تعالیٰ ہم سے (بڑھ کر) کوئی عزت والی مخلوق پیدا نہیں کرے گا۔ یہی بات تھی جو انہوں نے (دلوں میں) چھپا رکھی تھی۔
Ayah 2:34(1) ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے رایت کیا کہ ” اسجدوا لادم “ سے مراد ہے کہ سجدہ آدم (علیہ السلام) کے لئے تھا اور اطاعت اللہ کے لیے تھی۔
فرشتوں کا سجدہ تعظیمی
(2) ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ فرشتوں کو (اللہ تعالیٰ نے) حکم فرمایا کہ سجدہ کرو تو سب نے اس (آدم کے لئے) سجدہ کیا اس عزت کی وجہ سے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے آدم کو عزت بخشی۔
ّ (3) ابن عاکر نے ابراہیم مزنی (رح) سے روایت کیا کہ آدم (علیہ السلام) سے فرشتوں کے سجدہ کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو کعبہ کی طرح بنا دیا تھا۔
(4) ابو الشیخ نے العظمہ میں محمد بن جعفر مخزومی (رح) سے روایت کیا کہ فرشتوں کا آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنا اشارہ کے ساتھ تھا۔
(5) ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ضمرہ (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ایسے شخص سے سنا جو اس بات کا تذکرہ کر رہا تھا کہ جب فرشتوں کو آدم (علیہ السلام) کے لئے سجدہ کرنے کا حکم ہوا تو فرشتوں میں سب سے پہلے سجدہ کرتے ہوئے گر پڑنے والے حضرت اسرافیل (علیہ السلام) تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے میں قرآن شریف کو ان کی پیشانی پر لکھ دیا۔
(6) امام ابن عساکر نے عمر بن عبد العزیز (رح) سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو آدم (علیہ السلام) کے لئے سجدوں کا حکم فرمایا تو سب سے پہلے ان کے لئے اسرافیل (علیہ السلام) سجدہ کرنے والے تھے۔ اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید ان کی پیشانی پر لکھ دیا۔
(7) عبد بن حمید ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واذا قلنا للملئکۃ اسجدوا لادم “ میں سجدہ آدم کے لئے تھا اور اطاعت اللہ کے لئے تھی۔ اور فرشتوں کے دشمن ابلیس نے اس بات پر حسد کیا جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عزت دی تھی کہنے لگا میں آگ سے ہوں اور یہ مٹی سے ہے، تکبر سے گناہ شروع ہوا۔ اللہ کے دشمن نے آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے تکبر کیا۔
(8) ابن ابی الدنیا نے مکاید الشیطان میں، ابن ابی حاتم اور ابن الانباری نے کتاب الاضداد میں بیہقی نے الشعب میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابلیس کا نام عزازیل تھا۔ اور چار پروں والے فرشتوں میں سے زیادہ عزت والا تھا۔ پھر اس کے بعد وہ ابلیس ہوگیا۔
(9) ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم اور ابن الانباری نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابلیس اس لئے نام رکھا گیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو ہر خیر سے مایوس کردیا (اور) وہ اس سے (بالکل ہی) مایوس ہوگیا۔
(10) ابن اسحاق نے المبتداء میں ابن جریر اور ابن الانباری نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابلیس گناہ کا ارتکاب کرنے سے پہلے فرشتوں میں سے تھا اس کا نام عزازیل تھا وہ زمین کے رہنے والوں میں سے تھا۔ اور فرشتوں میں سب سے زیادہ عبادت گزار تھا اور ان سے زیادہ علم رکھنے والا تھا۔ پس اسی بات نے اس کو کبر کی طرف بلایا اور یہ فرشتوں کے ایسے قبیلہ میں سے تھا جس کو جن کہا جاتا تھا۔
(11) ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ ابلیس کا نام حرث تھا۔
(12) امام وکیع، ابن المنذر، اور بیہقی نے الشعب میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابلیس جنت کے داروغوں میں سے تھا اور آسمان دنیا کے کام کی تدبیر کرتا تھا۔
(13) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سعید بن مسیب (رح) سے روایت کیا کہ ابلیس آسمان دنیا کے فرشتوں کا سردار تھا۔
(14) حضرت ابن عباس (رح) سے روایت کیا کہ ابلیس معزز فرشتوں اور ان کے بڑے قبیلہ میں سے تھا اور وہ جنات کا داروغہ تھا اور وہ آسمان دنیا اور زمین کا بادشاہ تھا۔ جب اس نے آسمان والوں پر اپنی بادشاہت اور عظمت کو دیکھا تو اس بات نے اس کے دل میں تکبر کو چھپایا جس کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا۔ جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو آدم (علیہ السلام) کے لئے سجدوں کا حکم فرمایا تو اس کا تکبر باہر نکل آیا جو چھپایا ہوا تھا۔
(15) امام ابن جریر اور ابن الانباری نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک مخلوق کو پیدا فرمایا اور اس سے فرمایا لفظ آیت ” اسجدوا لادم “ انہوں نے کہا وہ ایسا نہیں کریں گے تو اللہ تعالیٰ نے آگ کو بھیجا جس نے ان کو جلا ڈالا پھر ان کو پیدا فرمایا اور حکم فرمایا لفظ آیت ” اسجدوا لادم “ کہنے لگے ہاں (ہم سجدہ کریں گے) اور ابلیس ان لوگوں میں تھا جنہوں نے آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا۔
(16) امام ابن جریر اور ابو الشیخ نے العظمہ میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو پیدا فرمایا (اور پھر ان سے) فرمایا میں مٹی سے انسان پیدا کرنے والا ہوں۔ جب میں اس کو پیدا کرلوں تو تم اس کو سجدہ کرلینا انہوں نے کہا ایسا نہیں کریں گے (پھر) اللہ تعالیٰ نے ان پر آگ بھیج دی جس نے ان کو جلا ڈالا۔ پھر دوسرے فرشتوں کو پیدا فرمایا اور ان سے فرمایا مٹی سے انسان پیدا کرنے والا ہوں جب میں اس کو پیدا کرلوں تو تم اس کو سجدہ کرلینا انہوں نے انکار کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر آگ کو بھیج کر ان کو جلا دیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اور فرشتوں کو پیدا فرمایا اور ان سے فرمایا میں مٹی سے انسان پیدا کرنے والا ہوں جب میں اس کو پیدا کر چکوں تو تم اس کو سجدہ کرلینا۔ انہوں نے عرض کیا ہم نے (آپ کا حکم) سن لیا اور ہم اطاعت کریں گے سوائے ابلیس کے کہ یہ پہلے کافروں میں سے تھا۔ (اس نے انکار کردیا) ۔
(17) امام ابن ابی حاتم نے محمد بن عامر مکی (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اپنے نور سے پیدا فرمایا اور جنات کو آگ سے پیدا فرمایا اور جانوروں کو پانی سے اور آدم کو مٹی سے پیدا فرمایا پھر اطاعت کو فرشتوں میں رکھ دیا اور معصیت کو جن اور انسانوں میں رکھ دیا۔
مختلف مخلوقات کی مادہ تخلیق
(18) محمد بن نصر نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے آدم کو سجدے کا حکم فرمایا تو اس نے سجدہ کیا اللہ تعالیٰ نے فرمایا تیرے لئے جنت ہے اور اس کے لئے بھی جس نے تیری اولاد میں سے سجدہ کیا۔ اور ابلیس کو سجدے کا حکم فرمایا اس نے سجدہ کرنے سے انکار کردیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا تیرے لئے آگ ہے۔ اور اس کے لئے بھی جس نے تیری اولاد میں سے سجدہ کرنے سے انکار کیا۔
(19) حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ابلیس موسیٰ (علیہ السلام) سے ملا اور کہنے لگا اے موسیٰ تو وہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت کے لئے چن لیا اور تجھ سے کلام فرمایا جب تو نے توبہ کی اور میں بھی توبہ کرنے کا ارادہ کرتا ہوں میرے لئے اپنے رب سے سفارش فرماے ئے کہ وہ میری توبہ قبول کرلے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا ہاں (میں سفارش کروں گا) موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب سے دعا فرمائی تو فرمایا اے موسیٰ تو نے اپنا کام پورا کردیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) ابلیس سے ملے اور اس سے کہا تجھ کو حکم دیا گیا ہے کہ تو آدم (علیہ السلام) کی قبر کو سجدہ کر تو تیری توبہ قبول کرلی جائے گی۔ (یہ سن کر) تکبر کرنے لگا اور غصہ ہوا۔ اور کہنے لگا میں نے اس کو زندگی میں سجدہ نہیں کیا اب میں اس کے مرنے کے بعد اس کو سجدہ کردوں۔ پھر ابلیس نے کہا اے موسیٰ ! مجھ پر تیرا حق ہے جو تو نے اپنے رب کے پاس میری سفارش کی تھی تو مجھے تین جگہ میں یاد کرنا میں تجھ کو ان میں ہلاک نہیں کروں گا۔ جب غصہ ہو تو مجھے یاد کرنا کیونکہ میں تیرے اندر خون کی طرح چلتا ہوں اور جب تو جنگ کرے (تو اس وقت مجھے یاد کرنا) کیوں کہ میں ابن آدم کے پاس آتا ہوں جب وہ جنگ میں ہوتا ہے میں اس کو اس کی اولاد اور اس کی بیوی کو یاد دلاتا ہوں یہاں تک کہ وہ واپس لوٹ جاتا ہے۔ اور کسی غیر محرم عورت کے ساتھ (علیحدہ) مت بیٹھو کیونکہ میں اس کی طرف سے تجھے پیغام پہنچانے والا ہوں۔
(20) امام ابن المنذر نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا کہ جب نوح (علیہ السلام) کشتی میں سوار ہوئے تو ان کے پاس ابلیس آیا۔ نوح (علیہ السلام) نے اس سے کہا تو کون ہے ؟ اس نے کہا میں ابلیس ہوں فرمایا تو کیوں آیا ؟ کہنے لگا میں اس لئے آیا ہوں کہ آپ اپنے رب سے پوچھئے کہ میرے لئے توبہ کی کوئی صورت ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیج۔ کہ اس کی توبہ یہ ہے کہ وہ آدم (علیہ السلام) کی قبر پر آئے اور اس کو سجدہ کرے۔ ابلیس کہنے لگا میں نے اس کی زندگی میں اس کو سجدہ نہیں کیا اب مرنے کے بعد اس کو سجدہ کروں ؟ (یہ نہیں ہوسکتا) پھر فرمایا اس نے تکبر کیا اور کافروں میں ہوگیا۔
(21) امام ابن المنذر نے مجاہد سے انہوں نے جنادہ بن ابی امیہ سے روایت کیا کہ سب سے پہلی غلطی حسد تھی ابلیس نے آدم (علیہ السلام) پر (اس بات سے) حسد کیا کہ اس کو سجدہ کرے جب اس کا حکم کیا گیا تھا۔ پھر اس حسد نے اس کو گناہ پر آمادہ کیا۔
(22) امام ابن ابی حاتم نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ابلیس کی پیدائش کو کفر اور گمراہی پر شروع کیا پھر وہ فرشتوں جیسے عمل کرتا رہا پھر وہ اسی کفر کی طرف لوٹ گیا جس سے اس کی پیدائش ہوتی تھی۔ (اسی لئے) اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور وہ کافروں میں تھا۔ لفظ آیت ” وکان من الکفرین “۔
(23) امام ابن المنذر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وکان من الکفرین “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو کافر پیدا فرمایا تھا کہ وہ ایمان لانے کی استطاعت نہیں رکھتا تھا۔
Ayah 2:35(1) امام طبرانی، ابن ابی شیبہ، ابو الشیخ نے العظمہ میں ابن مردویہ نے حضرت ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ آپ مجھے بتائیے کیا آدم (علیہ السلام) انبیاء میں سے تھے ؟ آپ نے فرمایا ہاں ! نبی (اور) رسول تھے جن سے اللہ تعالیٰ نے بالمشابہ بات کی، اور ان سے فرمایا لفظ آیت ” یادم اسکن انت وزوجک الجنۃ “ (اے آدم تو اور تیری بیوی جنت میں رہے) ۔
(2) امام ابن ابی شیبہ اور طبرانی نے حضرت ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ ! انبیاء میں سے پہلے کون تھا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا آدم (علیہ السلام) ۔ میں نے عرض کیا کیا وہ نبی تھے ؟ آپ آپ نے فرمایا ہاں جو (اللہ تعالیٰ سے براہ راست) کلام کئے گئے تھے۔ میں نے عرض کیا پھر کون (نبی تھے) ؟ آپ نے فرمایا نوح (علیہ السلام) اور ان دونوں کے درمیان دس آباء تھے۔
(3) امام احمد، بخاری نے اپنی تاریخ میں، البزار اور بیہقی نے الشعب میں حضرت ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! سب سے پہلے نبی کون تھے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا حضرت آدم (علیہ السلام) تھے میں نے پوچھا کیا وہ نبی تھے ؟ فرمایا ہاں ! وہ نبی تھے۔ جو (براہ راست) کلام کئے گئے تھے۔ میں نے (پھر) عرض کیا یا رسول اللہ کتنے رسول تھے آپ نے فرمایا تین سو پندرہ بہت بڑی جماعت تھی۔
(4) امام عبد بن حمید اور الآجری نے الاربعین میں حضرت ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! رسولوں میں پہلے کون تھے ؟ آپ نے فرمایا آدم (علیہ السلام) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا وہ (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) بھیجے ہوئے نبی تھے ؟ آپ نے فرمایا ہاں ! اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا اور اپنی روح میں سے اس میں پھونکا اور ان کو (اپنے) سامنے ٹھیک بنا دیا۔
انبیاء (علیہم السلام) کی تعداد
(5) امام ابنی ابی حاتم، ابن حبان، طبرانی، حاکم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابو امامہ باہلی ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ ! کیا آدم (علیہ السلام) نبی تھے۔ آپ نے فرمایا ہاں۔ وہ (اللہ تعالیٰ سے براہ راست) کلام کئے گئے تھے۔ پوچھا ان کے اور نوح (علیہ السلام) کے درمیان کتنی مدت تھی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا دس صدیاں (پھر) اس نے کہا نوح اور ابراہیم (علیہما السلام) کے درمیان کتنی مدت تھی ؟ آپ نے فرمایا دس صدیاں پھر اس نے پوچھا یا رسول اللہ ! کتنے انبیاء تھے ؟ آپ نے فرمایا ایک لاکھ چوبیس ہزار (پھر) اس نے پوچھا یا رسول اللہ ! ان میں رسول کتنے تھے ؟ آپ نے فرمایا تین سو پندرہ بہت بڑی جماعت تھی۔
(6) امام احمد، ابن المنذر، طبرانی، ابن مردویہ نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ ابوذر ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! نبیوں میں کون پہلے تھے ؟ آپ نے فرمایا آدم۔ عرض کیا۔ کیا آدم (علیہ السلام) نبی تھے ؟ فرمایا ہاں وہ نبی تھے جو کلام کئے گئے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا پھر اس میں اپنی روح کو پھونکا پھر ان سے بالمشافہ فرمایا اے آدم ! میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! گنتی میں کتنے انبیاء ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا ایک لاکھ چوبیس ہزار ان میں سے تین سو پندرہ رسول تھے جو بہت بڑی جماعت تھی۔
(7) امام ابن ابی الدنیا نے کتاب الشکر میں، حکیم ترمذی نے نوادر الاصول میں بیہقی نے الشعب میں، ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں حسن (رح) سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے رب ! آدم (علیہ السلام) تیرے احسان کا شکر کیسے ادا کرسکتے تھے آپ نے اس کو اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا اور پھر ان میں اپنی روح کو پھونکا۔ اور ان کو اپنی جنت میں ٹھہرایا پھر فرشتوں کو ان کے لئے سجدہ کرنے کا حکم فرمایا اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے موسیٰ اس نے یہ تمام احسانات میری طرف سے جان لئے اور ان پر میری حمد کی تو یہ (حمد کرنا) شکر ہوگیا جو میں نے اس کی طرف احسانات کئے۔
(8) امام ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو جمعہ کے دن پیدا فرمایا اور ان کو جمعہ کے دن جنت میں داخل فرمایا اور ان کو جنات الفردوس میں رکھا۔
(9) امام عبد حمید، حاکم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آدم (علیہ السلام) جنت میں نماز عصر سے غروب آفتاب تک کے وقت کی مقدار ٹھہرے رہے۔
(10) امام عبد الرزاق، ابن المنذر، ابن مردویہ، بیہقی نے الاسماء والصفات میں اور ابن عساکر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو جمعہ کو عصر کے دن کے بعد سطح زمین سے پیدا فرمایا پھر اس کا نام آدم رکھا۔ پھر اس کی طرف (یعنی ان سے) عہد لیا جب وہ بھول گئے تو ان کا نام انسان رکھا۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا پس قسم ہے اللہ کی اس دن سورج غروب نہیں ہوا یہاں تک کہ ان کو جنت سے زمین کی طرف اتار گیا۔
(11) الفریابی، احمد نے الزہد میں، عبد بن حمید اور ابن المنذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آدم (علیہ السلام) جنت میں دن کے کچھ وقت رہے۔ یہ وقت دنیا کے دنوں کے حساب سے ایک سو تیس سال بنتے ہیں۔
(12) امام احمد نے الزہد میں سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آدم (علیہ السلام) جنت میں ظہر اور عصر کے درمیانی وقت کی مقدار رہے
(13) عبداللہ نے زوائد میں موسیٰ بن عقبہ ؓ سے روایت کیا کہ آدم (علیہ السلام) جنت میں چوتھائی دن رہے۔ اور یہ وقت ڈھائی گھنٹے ہے۔ اور یہ ڈھائی سو سال بنتے ہیں اور جنت میں سو سال روتے رہے۔
واما قولہ ” وزوجک “۔
(14) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے الاسماء میں والصفات میں اور ابن عساکر نے سدی سے، ابی مالک اور ابی صالح سے انہوں نے ابن عباس ؓ ، ابن مسعود اور دوسرے صحابہ ؓ سے روایت کیا کہ جب آدم (علیہ السلام) نے جنت میں سکونت اختیار کی، تو وحشت محسوس کی۔ ان کی کوئی بیوی نہیں تھی کہ اس کی طرف سکونت حاصل کرتے۔ جب ایک رات سو کر اٹھے تو اچانک ان کے سر کے پاس ایک عورت بیٹھی ہوئی تھی جس کو اللہ تعالیٰ نے ان کی پسلی سے پیدا فرمایا تھا۔ اس سے پوچھا تو کون ہے ؟ کہنے لگی عورت ہوں کہنے لگے تجھے کیوں پیدا کیا گیا ؟ کہنے لگی تاکہ میری طرف سکونت حاصل کرے۔ فرشتوں نے کہا اے آدم اس عورت کا نام کیا ہے ؟ فرمایا حوا کہنے لگے اس کا نام حوا کیوں رکھا گیا فرمایا اس لئے کہ یہ زندہ (آدمی) سے پیدا کی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” یادم اسکن انت وزوجک الجنۃ “ (تو اور تیری بیوی جنت میں ٹھہرو) ۔
(15) سفیان بن عینیہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آدم (علیہ السلام) سو گئے تو حوا کو ان کی پسلیوں سے پیدا کیا گیا جب جاگے تو اس کو دیکھ کر فرمایا تو کون ہے ؟ کہنے لگی میں اسا ہوں سریانی زبان میں بتایا کہ میں عورت ہوں۔
(16) امام بخاری اور مسلم نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا عورتوں کے متعلق مجھ سے خیر کی وصیت قبول کرو بلاشبہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی اور پسلی کا ٹیڑھا حصہ اس کا سر ہے اور تم اس کو سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے تو تم اس کو توڑ ڈالو گے۔ اور اگر اس کو چھوڑ دو گے تو اس کو اس حال میں چھوڑو کہ اس میں ٹیڑھا پن ہوگا۔ پس تم مجھ سے عورتوں کے متعلق خیر کی وصیت قبول کرو۔
ماں حواء نام رکھنے کی وجہ
(17) حضرت ابن سعد اور ابن عساکر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان کا نام حوا اس لئے رکھا گیا کیونکہ وہ ہر زندہ انسان کی ماں ہے۔
(18) حضرت ابو الشیخ اور ابن عساکر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان کا نام مرأۃ (یعنی عورت) اس لئے رکھا گیا کیونکہ وہ المرء (یعنی مرد) سے پیدا کی گئی۔ اور ان کا نام حوا اس لئے رکھا گیا کیونکہ وہ ہر زندہ انسان کی ماں ہے۔
ابلیس کا سجدہ کی جگہ سے بھاگنا
(19) امام اسحاق بن بشیر اور ابن عساکر نے عطاء (رح) سے روایت کیا کہ جب فرشتوں نے آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کیا تو (وہاں سے) ابلیس پیٹھ پھیر کر بھاگ گیا اور وہ کبھی کبھی پیچھے مڑ کر دیکھتا تھا اس بات کو دیکھنے کے لئے کہ اس کے علاوہ کسی اور نے بھی اپنے رب کی نافرمانی کی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے دوسرے فرشتوں کو بچا لیا پھر اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) سے فرمایا اے آدم کھڑے ہوجاؤ اور ان فرشتوں کو سلام کرو۔ وہ کھڑے ہوئے اور ان کو سلام کیا۔ انہوں نے اس (سلام) کا جواب دیا۔ پھر فرشتوں پر نام پیش کئے گئے اور اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا تم یہ گمان کرتے تھے کہ تم اس (آدم) سے زیادہ جاننے والے ہو تو لفظ آیت ” نبؤنی باسماء ھولاء ان کنتم صدقین (31) قالوا سبحنک “ بلاشبہ علم آپ کی طرف سے ہے اور آپ کے لئے ہے۔ اور ہمارے پاس کوئی علم نہیں مگر جو کچھ آپ نے ہم کو سکھایا۔ جب انہوں نے اس بات کا اقرار کیا تو پھر فرمایا لفظ آیت ” یادم انبءھم باسماءھم “ (ان کو ان چیزوں کے نام بتلا) آدم (علیہ السلام) نے کہا یہ اونٹنی ہے یہ اونٹ ہے، یہ گائے ہے، یہ دنبہ ہے، یہ بکری ہے، یہ گھوڑا ہے، اور یہ میرے رب کی مخلوق میں سے ہے۔ پس ہر چیز جس کا نام آدم (علیہ السلام) نے لیا قیامت کے دن تک وہی اس کا نام رہے گا۔ اور انہوں نے ہر چیز کا نام لینا شروع کیا جب ان کے سامنے سے گزرتی تھی یہاں تک کہ گدھا آخری تھا جو آپ کے سامنے سے گزرا۔ گدھا ان کی پیٹھ کے پیچھے سے آیا آدم (علیہ السلام) نے اسے کہا : اے گدھے آگے سے آ۔ فرشتوں نے جان لیا کہ آدم (علیہ السلام) اللہ کے نزدیک زیادہ عزت والے اور ہم سے زیادہ جاننے والے ہیں۔ پھر ان کے رب نے ان سے فرمایا اے آدم جنت میں داخل ہوجاؤ۔ اور وہاں عزت اور آرام کی زندگی بسر کرو۔ وہ جنت میں داخل ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو حضرت حوا کی پیدائش سے پہلے اس درخت سے منع فرما دیا۔ آدم (علیہ السلام) جنت میں کسی مخلوق سے مانوس نہ تھے۔ اور نہ اس کے پاس ٹھہرے تھے۔ اور جنت میں کوئی چیز اس کی ہم شکل نہیں تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر نیند ڈال دی اور یہ ان کی پہلی نیند تھی۔ (پھر) ان کی بائیں جانب کی پسلی سے حضرت حوا کو پیدا فرمایا۔ جب آدم (علیہ السلام) نیند سے بیدار ہوئے اور اٹھ کر بیٹھے تو حضرت حوا کی طرف دیکھا جو ان کے ہم شکل اچھی صورت میں تھی۔ اور ہر عورت کی ایک پسلی مرد کی نسبت زیادہ ہوتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو ہر چیز کے نام سکھا دئیے۔ ان کے پاس فرشتے آئے ان کو مبارک باد دی اور سلام کیا۔ فرشتوں نے کہا اے آدم یہ کون ہے ؟ انہوں نے فرمایا یہ عورت ہے پھر ان سے پوچھا اس کا نام کیا ہے انہوں نے فرمایا حوا پھر اس سے کہا کہ اس کا نام حوا کیوں رکھا گیا انہوں نے فرمایا اس لئے کہ وہ زندہ (آدمی) سے پیدا کی گئی۔ پھر ان دونوں میں اللہ تعالیٰ کی روح پھونکی گئی۔ پس انسان جو کسی چیز پر رحمت کرتا ہے وہ اس کی رحمت کے فضل میں سے ہے۔
(20) امام ابن ابی حاتم نے اشعث حدانی سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ حضرت حوا (علیہما السلام) جنت کی عورتوں میں سے تھیں اور جب وہ حاملہ ہوتیں مذکر سے یا مؤنث سے تو بچہ ان کے پیٹ میں دکھائی دیتا تھا۔
(21) امام ابن عبدی اور ابن عساکر ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کرتے ہیں فرماتے ہیں کہ جب آدم کو پیدا فرمایا اور ان کے لئے ان کی بیوی کو بھی پیدا فرمایا تو آدم (علیہ السلام) کی طرف ایک فرشتہ بھیجا اور ان کو جماع کا حکم فرمایا انہوں نے ایسا ہی کیا جب وہ (جماع سے) فارغ ہوئے۔ حوا (علیہما السلام) نے ان سے کہا اے آدم یہ خوشبو ہے ہم اس سے زیادہ کریں۔
وما قولہ تعالیٰ : وکلا منھا رغدا۔
(22) امام ابن جریر اور ابن عساکر نے حضرت ابن مسعود اور بعض صحابہ ؓ سے روایت کیا کہ ” الرغد “ سے مراد ہے ھنیئی یعنی خوشگوار مبارک۔
(23) ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” الرغد “ سے مراد ہے سعۃ المعیشۃ یعنی کشادہ گزران۔
(24) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وکلا منھا رغدا حیث شئتما “ سے مراد ہے کہ تم دونوں ان سے جتنا چاہو کھاؤ تم پر کوئی حساب نہیں۔
اما قولہ تعالیٰ : ” ولا تقربا ھذا الشجرۃ “۔
(25) امام ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور ابن عساکر نے کئی طرق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ درخت جس سے اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو منع فرمایا تھا وہ سنبلہ تھا۔ اور دوسرے لفظ میں وہ گیہوں تھا۔
(26) ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے وھب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ وہ درخت جس سے اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو منع فرمایا تھا گندم کا تھا لیکن اس میں سے ایک دانہ جنت میں (ایسے تھا) جیسے گائے کے دو گردے۔ مکھن سے زیادہ نرم اور شہد سے زیادہ میٹھا۔
(27) امام وکیع، عبد ابن حمید، ابن جریر، اور ابو الشیخ نے ابو مالک غفاری (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولا تقربا ھذہ الشجرۃ “ سے گندم کا درخت مراد ہے۔
(28) عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جس درخت سے آدم (علیہ السلام) کو منع کیا گیا تھا وہ انگور تھا۔
ابن مسعود ؓ نے اسی طرح روایت کیا ہے۔
آزمائش والا درخت
(29) امام ابن جریر نے حضرت ابن مسعود سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ حضرت وکیع، ابن سعد، ابن جریر اور ابو الشیخ نے جعدہ بن ہیرہ سے روایت کیا کہ وہ درخت جس کے ساتھ آدم (علیہ السلام) کو آزمائش میں ڈالا گیا تھا وہ انگور تھا۔ اور اس کے بعد اس کی اولاد کے لئے بھی آزمائش بن گیا اور اس میں سے آدم (علیہ السلام) نے جو کھایا تھا۔
(30) امام ابن جریر (رح) ابن عباس ؓ سے بیان کرتے ہیں کہ وہ بادام تھا۔ میں نے کہا اسی طرح قدیم نسخہ میں ہے اور میرے نزدیک الکرم (انگور) سے اس کو تبدیل کیا گیا۔
(31) امام ابو الشیخ نے ابن جریر (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولا تقربا ھذہ الشجرۃ “ کے بارے میں جو بات مجھے پہنچتی ہے کہ وہ انجیر ہے۔
(32) ابن جریر (رح) بعض صحابہ ؓ سے رایت کرتے ہیں کہ وہ انجیر مراد ہے۔
(33) ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ وہ انجیر مراد ہے۔
(34) ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولا تقربا ھذا الشجرۃ “ سے مراد کھجور ہے۔
(35) ابو الشیخ نے یزید بن عبد اللہ قسیط (رح) سے روایت کیا کہ وہ لیموں تھا۔
(36) احمد نے الزہد میں شعیب حیائی (رح) سے روایت کیا کہ وہ درخت جس سے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم اور حوا (علیہما السلام) کو منع کیا تھا وہ گندم کے مشابہ تھا جس کو رعۃ کہا جاتا ہے۔ اور ان کا لباس نور کا تھا۔
(37) امام ابن ابی حاتم نے اور ابو الشیخ نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ وہ درخت ایسا تھا کہ جو وہ کھاتا ہے اس کو پاخانہ لگ جاتا ہے اور جنت میں پاخانہ نہیں ہونا چاہئے۔
(38) حضرت ابن ابی حاتم نے حضرت قتادہ (رح) سے روایت کیا لفظ آیت ” ولا تقربا ھذہ الشجرۃ “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو آزمایا تھا اس سے پہلے فرشتوں کو آزمایا گیا تھا۔ اور ہر مخلوق کو آزمائش میں ڈالا گیا۔ (اور) اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے کوئی چیز ایسی نہیں چھوڑی مگر اس کو اطاعت کے ساتھ آزمایا۔ آدم (علیہ السلام) برابر آزمائش میں مبتلا رہے یہاں تک کہ اس چیز میں واقع ہوگئے جس سے منع کیا گیا تھا۔
(39) امام عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو آزمایا اور ان کو جنت میں ٹھہرایا اس میں سے جہاں سے چاہتے خوب اچھی طرح کھاتے۔ اور ایک درخت سے منع فرمایا کہ اس میں سے نہ کھائیں مگر اس (درخت) کے قریب پہنچے۔ یہ آزمائش ان کے ساتھ برابر رہی یہاں تک کہ اس چیز میں واقع ہوگئے جس سے منع کیا گیا تھا۔ اس وقت ان کی شرم گاہ ظاہر ہوگئی۔ حالانکہ آپ شرم گاہ کی طرف دیکھتے بھی نہ تھے پھر آدم (علیہ السلام) کو زمین پر اتارا گیا۔