Ayahs 2:243–244(1) وکیع، الفریابی، ابن جریر، ابن المنذر، حاکم نے سعید بن جبیر کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے (اس آیت) ” الم تر الی الذین خرجوا من دیارھم وھم الوف حذر الموت “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ لوگ چار ہزار تھے جو طاعون (کے ڈر) سے نکلے تھے اور کہنے لگے ہم ایسی زمین میں جائیں گے جس میں موت نہیں آئے گی یہاں تک کہ وہ لوگ ایسی جگہ پر نہ تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا مرجاؤ (تو مرگئے) پھر انبیاء میں سے ایک نبی ان پر گزرے اور اپنے رب سے دعا کی کہ ان کو زندہ فرما دیجئے۔ تاکہ وہ آپ کی عبادت کریں تو اللہ تعالیٰ نے ان کو زندہ فرما دیا۔
(2) عبد بن حمید، ابن ابی حاتم نے عکرمہ کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ یہ لوگ چار ہزار تھے اور ایسی بستی کے رہنے والے تھے جس کو داوردون کہا جاتا ہے جو طاعون کی وجہ سے (اپنے گھروں سے) بھاگ نکلے تھے۔
موت کے خوف سے بھاگنا جائز نہیں
(3) ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے اسباط سے انہوں نے سدی سے ابو مالک (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ یہ ایک بستی تھی جس کو داوردون کہا جاتا تھا۔ اور یہ واسط (شہر) کے قریب ان میں طاعون کی بیماری پھوٹ پڑی۔ ایک جماعت وہیں رہی اور ایک جماعت بھاگ نکلی۔ جو لوگ بستی میں رہ گئے تھے ان میں موت واقع ہوگئی (اور وہ سب مرگئے) اور جو لوگ بھاگ گئے تھے وہ سلامت رہے۔ جب طاعون کی بیماری ختم ہوگئی تو یہ لوگ ان کی طرف لوٹ آئے اور ان لوگوں نے کہا جو باقی رہ گئے تھے ہمارے بھائی ہم سے زیادہ دور اندیش تھے اگر ہم ایسا کرلیتے جیسا انہوں نے کیا تھا۔ تو ہم سلامت رہے اور اگر ہم باقی رہے طاعون کے واقع ہونے تک تو ہم ضرور ایسا ہی کریں گے جیسا انہوں نے کیا۔ پھر طاعون اگلے سال واقع ہوگیا تو وہ سب وہاں سے (پھر) نکل گئے وہ لوگ بھاگ گئے تھے اور وہ لوگ جو ٹھہر گئے اور یہ جگہ دو پہاڑوں کے درمیان تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف دو فرشتوں کو بھیجا۔ ایک فرشتہ وادی کے اوپر والے حصہ اور دوسرا اس کے نیچے تھا۔ انہوں نے آواز لگائی (تم سب لوگ) مرجاؤ۔ تو وہ سب مرگئے۔ اور اس حال میں رہے جب تک اللہ پاک نے چاہا۔ پھر ان کے پاس سے ایک نبی گزرے جن کو حز قیل کہا جاتا تھا۔ انہوں نے کثیر تعداد میں ہڈیاں دیکھیں تو تعجب کرتے ہوئے ٹھہر گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی ان کو آواز دی کہ اے ہڈیو ! اللہ تعالیٰ تم کو حکم دیتا ہے کہ تم اکھٹی ہوجاؤ (یہ اعلان سنتے ہی) وادی کے اوپر اور نیچے کے حصہ سے ہڑیاں اکھٹی ہوگئیں یہاں تک کہ بعض ہڈی بعض سے جڑ گئی اور جسم کی ہڈی اپنے جسم سے جڑ گئی۔ تو ہڈیوں سے جسم بن گئے نہ ان پر گوشت تھا اور نہ خون تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی ان کو آواز دو کہ اے ہڈیو ! اللہ تعالیٰ تم کو حکم دیتا ہے۔ کہ اپنا گوشت پہن لو تو سب ہڈیوں پر گوشت چڑھ گیا پھر اللہ تعالیٰ نے حزقیل کی طرف وحی بھیجی کہ ان کو آواز دو اے جسمو ! اللہ تعالیٰ تم کو حکم دیتا ہے کہ کھڑے ہوجاؤ تو وہ زندہ ہو کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ وہ اپنے شہروں کی طرف لوٹے اور اس طرح سے کھڑے ہوئے کہ کوئی کپڑے پہنے ہوئے نہ تھے مگر یہ کہ ان پر بوسیدہ کفن تھا۔ اس زمانہ کے لوگوں نے ان کو پہچان لیا کہ یہ لوگ مرچکے تھے (پھر زندہ ہو کر آئے ہیں) یہ لوگ رہتے رہے یہاں تک کہ اس کے بعد ان کو موت آئی۔ اساط نے کہا اور منصور سے مجاہد سے روایت کیا کہ جب وہ اٹھائے گئے تو ان کی زبان پر تھا لفظ آیت ” سبحانک اللہم ربنا وبحمدک لا الہ الا انت “
(4) ابن ابی حاتم نے سعید بن عبد العزیز (رح) سے اللہ تعالیٰ اس قول لفظ آیت ” الم ترالی الذین خرجوا من دیارھم “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ لوگ اذرعات میں سے تھے۔
(5) ابو صالح (رح) نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ یہ لوگ نو ہزار تھے۔
(6) عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” الم ترالی الذین خرجوا من دیارھم وہم الوف حذر الموت “ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے موت سے بھاگنے کو ناپسند فرمایا اس لئے ان کو سزا کے طور پر موت دیدی پھر بقیہ عمریں پوری کرنے کے لئے ان کو اٹھایا گیا تاکہ وہ اپنی مدت کو پورا کرلیں اگر ان کی مدت پوری ہوچکی ہوتی تو پھر موت کے بعد نہ اٹھائے جاتے۔
(7) ابن جریر نے اشعت بن اسلم بصری (رح) سے روایت کیا کہ ہمارے درمیان حضرت عمر ؓ نماز پڑھ رہے تھے اور دو یہودی جو ان کے پیچھے تھے ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کیا یہ وہی ہے ؟ جب حضرت عمر ؓ نے جوتا پہنا تو فرمایا تو بتا تم میں سے ایک کا اپنے ساتھی سے کہنا کیا یہ وہی ہے ؟ اس کا کیا مطلب ہے ؟ تو انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی کتاب میں پایا کہ دو سینگ لوہے کے حضرت حزقیل (علیہ السلام) کو دئیے گئے تھے جس سے وہ اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کیا کرتے تھے حضرت عمر ؓ نے فرمایا ہم اللہ کی کتاب میں حزقیل (علیہ السلام) کا نام نہیں پاتے۔ اور نہ ہم ان کا اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کردینے کو پاتے ہیں مگر صرف عیسیٰ (علیہ السلام) نے زندہ کیا تھا۔ تو انہوں نے کہا کیا آپ نے اللہ کی کتاب میں یہ نہیں پایا لفظ آیت ” ورسلا لم نقصصہم علیک “ (النساء آیت 264) حضرت عمر ؓ نے فرمایا کیوں نہیں اس کو پاتے ہیں) پھر انہوں نے کہا مردوں کو زندہ کرنے کے بارے میں ہم آپ سے بیان کریں گے کہ نبی اسرائیل میں ایک وبا واقع ہوئی۔ ان میں سے ایک قوم نکل کھڑی ہوئی یہاں تک کہ جب وہ ایک میل کے فاصلے پر تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو موت دیدی پھر ان پر دیوار بنائی گئی یہاں تک کہ جب ان کی ہڈیاں بوسیدہ ہوگئیں تو اللہ تعالیٰ نے حزقیل (علیہ السلام) کو بھیجا انہوں نے کھڑے ہو کر ان پر کچھ پڑھا جو اللہ تعالیٰ نے چاہا ان سے فرمایا پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو زندہ کردیا اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ نازل فرمایا لفظ آیت ” الم ترالی الذین خرجوا من دیارھم وہم الوف حذر الموت “
نبی اسرائیل کی ایک جماعت کا واقعہ
(8) ابن جریر، ابن ابی حاتم نے ھلال بن سیاف (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ یہ لوگ بنی اسرائیل کی ایک قوم تھی ان میں جب طاعون واقع ہوا تو ان کے مالدار اور ان کے عزت والے لوگ (بستی سے) نکل گئے۔ اور ان کے غریب اور نچلے طبقے کے لوگ ٹھہر گئے جو ٹھہرے ہوئے تھے ان میں بھی کئی مرگئے لیکن جو بھاگ گئے تھے انہیں کچھ بھی نہ ہوا۔ پھر ایک سال میں انہوں نے کہا اگر ہم بھی ایسا ہی کرلیتے جیسے انہوں نے کہا تو ہم بھی نجات پالیتے سب نے اپنا چھوڑ دیا تو (اللہ تعالیٰ نے) ان پر موت بھیج دی اور وہ بوسیدہ ہڈیاں بن گئے۔ ایک بستی والے ان کے پاس آئے اور ان (بوسیدہ ہڈیوں) کو ایک جگہ جمع کیا ان کے پاس سے ایک نبی گزرے اور عرض کیا اے میرے رب ! اگر آپ چاہیں تو ان کو زندہ فرما دیں یہ تیرے شہروں کو آباد کریں گے اور تیری عبادت کریں گے تو اللہ تعالیٰ نے (ان سے) فرمایا اس طرح اس طرح کہو تو انہوں نے اسی طرح کہا پھر ہڈیوں کی طرف دیکھا تو (آپس میں) جڑ گئیں۔ پھر پڑھی تو اچانک ہڈیوں پر گوشت پہن لیا پھر کلام کیا تو وہ اچانک کھڑے ہوگئے اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور تکبیر پڑھنے لگے۔ پھر ان سے کہا گیا لفظ آیت ” وقاتلوا فی سبیل اللہ واعلموا ان اللہ سمیع علیم “
(9) عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر نے حضرت حسن ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ وہ ایسی قوم تھی جو طاعون سے بھاگ گئی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی مدت سے پہلے ان کو موت دیدی بطور سزا اور ناراضگی کے پھر ان کو زندہ فرما دیا تاکہ وہ اپنی باقی عمریں پوری کریں۔
(10) ابن جریر نے وھب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ کالب بن یوحنا کو جب اللہ نے یوشع کے بعد ان کی روح قبض کرلی۔ تو نبی اسرائیل میں حز قیل کو بوزی (قبیلہ) میں سے خلیفہ بنایا اور وہ ایک بڑھیا کے بیٹے تھے۔ اور وہ بڑھیا کے بیٹے اس لئے مشہور ہوئے کیونکہ اس بڑھیا نے اللہ تعالیٰ سے بیٹے کا سوال کیا تھا جبکہ وہ بوڑھی تھی تو اللہ تعالیٰ نے اس کو بیٹا عطا فرمایا انہوں نے اس قوم کے لئے دعا کی تھی جس کا ذکر اللہ نے اپنی کتاب میں بیان کرتے ہوئے فرمایا لفظ آیت ” الم تر الی الذین خرجوا من دیارھم “
(11) عبد بن حمید نے وھب (رح) سے روایت کیا کہ ایک زمانہ میں بنی اسرائیل کو سخت مصیبت پہنچی انہوں نے اس مصیبت پر شکایت کی اور کہنے لگے کاش کہ ہمیں موت آجائے تو ہم اس مصیبت سے راحت پاتے۔ اللہ تعالیٰ نے حزقیل (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ تیری قوم مصیبت سے چیخ رہی ہے۔ اور انہوں نے یہ خیال کیا ہے کہ اگر وہ مرجائے تو راحت پالیتے۔ موت میں ان کے لئے کون سی راحت ہے ؟ کیا اس کا یہ خیال ہے کہ میں ان کی موت کے بعد ان کو دوبارہ اٹھانے پر قادر نہیں ہوں گا۔ (اس کے بعد) وہ اس طرح اور اس طرح جبانہ کی طرف چلے اس میں چار ہزار افراد تھے۔ وھب نے فرمایا کہ یہ وہ لوگ تھے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” الم ترالی الذین خرجوا من دیارھم وھم الوف حذر الموت “ حزقیل (علیہ السلام) کو حکم ہوا اٹھو اور ان کو آواز دو اور ان کی ہڈیاں بکھر چکی تھیں جن کو پرندوں اور جانوروں نے جدا کردیا تھا۔ حزقیل (علیہ السلام) نے آواز لگائی اے ہڈیو ! اللہ تعالیٰ تم کو حکم فرماتے ہیں کہ تم جمع ہوجاؤ ان میں سے ہر انسان کی ہڈیاں ساتھ ساتھ اکٹھی ہوگئیں پھر انہوں نے فرمایا اے ہڈیو ! اللہ تعالیٰ تم کو حکم فرماتے ہیں کہ پٹھے اور عقب پیدا کرو پس پٹھوں اور عقب کے ساتھ ان میں سختی اور صلابت پیدا ہوگئی۔ پھر حزقیل (علیہ السلام) نے آواز لگائی اے ہڈیو ! اللہ تعالیٰ تم کو حکم فرماتے ہیں کہ تم گوشت پہن لوتو (سب ہڈیوں نے) گوشت پہن لیا اور گوشت کے بعد کھال بھی پہن لی اس طرح وہ (پورے پورے) جسم بن گئے۔ پھر حزقیل (علیہ السلام) نے تیسری مرتبہ آواز لگائی۔ اور فرمایا اے روحو ! اللہ تعالیٰ تم کو حکم فرماتے ہیں کہ اپنے جسموں میں لوٹ آؤ۔ تو وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے کھڑے ہوگئے (اور) انہوں نے (مل کر) تکبیر کہی ایک آدمی کی تکبیر کی طرح۔
(12) ابن جریر، ابن ابی حاتم نے العوفی کے طریق سے روایت کیا کہ حضرت ابن عباس ؓ نے لفظ آیت ” الم ترالی الذین خرجوا من دیارھم وھم الوف حذر الموت “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ لوگ بہت تعداد میں ہیں اللہ کے راستے میں جہاد کرنے سے فرار ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو موت دیدی یہاں تک کہ ہر اس آدمی کو موت کا ذائقہ چکھایا جو اس میں سے فرار ہوا تھا پھر ان کو زندہ فرمایا اور ان کو اپنے دشمنوں سے جہاد کرنے کا حکم فرمایا اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” وقاتلوا فی سبیل اللہ واعلموا ان اللہ سمیع علیم “ اور یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اپنے نبی سے کہا تھا لفظ آیت ” ابعث لنا ملکا نقاتل فی سبیل اللہ “ (البقرہ آیت 246) ۔
(13) ابن جریر، ابن المنذر نے ابن جریج کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ یہ لوگ چالیس ہزار تھے اور آٹھ ہزار کو محفوظ رکھا۔ اور ان کے جسم میں ہوا داخل ہوگئی تھی اور ان کے جسموں میں بدبو پیدا ہوگئی تھی۔ آج بھی یہود کے اس قبیلہ میں یہ بدبو پائی جاتی ہے۔ یہ لوگ جہاد فی سبیل اللہ سے بھاگ گئے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کو موت دیدی پھر ان کو زندہ کردیا اور پھر ان کو جہاد کا حکم فرمایا اسی لئے اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے۔ لفظ آیت ” وقاتلوا فی سبیل اللہ “۔
(14) ابن جریر نے ابن زید (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ یہ لوگ طاعون سے بھاگ گئے تھے۔ اور وہ ہزاروں تھے اور فرقت نے انہیں اس طرح نکالا تھا جیسے کہ لڑائی اور قتال کے لئے نکلتے ہیں۔ اور ان کے دل جمع تھے۔ جب وہ زندگی کی تلاش کے لئے نکلے تو اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا مرجاؤ۔ اور ایک آدمی ان کے پاس سے گزرا اور وہ ظاہر ہونے والی ہڈیاں تھیں۔ وہ دیکھ کر ٹھہر گیا اور کہنے لگا لفظ آیت ” قال انی یحی ھذہ اللہ بعد موتھا، فاما اللہ ماءۃ عام “ (البقرہ آیت 259)
(15) بخاری، نسائی نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے طاعون کے بارے میں سوال کیا۔ آپ نے مجھے بتایا کہ وہ ایک عذاب ہے۔ اللہ تعالیٰ جس پر چاہتے ہیں بھیجتے ہیں اور ایمان والوں کے لئے رحمت بنایا ہے۔ وہ آدمی کسی ایسے شہر میں ٹھہرتا ہے جس میں طاعون پھیل چکا ہوتا ہے۔ اور وہ اپنے شہر میں ٹھہرا رہا صبر کرتے ہوئے ثواب کی امید رکھتے ہوئے اور وہ اس بات کو جانتے ہوئے کہ یہ بیماری اس کو نہیں پہنچے گی مگر جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے لکھ دیا ہے۔ تو اس کو شہید جیسا اجر ملے گا۔
طاعون والی جگہ کے بارے میں حکم
(16) احمد، بخاری، مسلم، ابو داؤد، نسائی نے عبد الرحمن بن عوف ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو طاعون کے بارے میں یہ فرماتے ہوئے سنا جب تم سنو کہ فلاں زمین (یعنی فلاں جگہ) پھیل چکا ہے تو وہاں نہ جاؤ۔ اور جب ایسی زمین میں واقع ہوجائے کہ تم وہاں رہتے ہو تو وہاں سے باہر نکلو۔
(17) سیف نے فتوح میں شرحبیل بن حسنہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب کسی زمین میں طاعون واقع ہوجائے اور تم وہیں رہو وہاں سے مت نکلو کیونکہ موت تمہاری گردنوں میں ہے اور جب کسی اور زمین میں واقع ہوجائے تو اس میں داخل نہ ہو کیونکہ (یہ بیماری) دلوں کو جلا دیتی ہے۔
(18) عبد بن حمید نے ام ایمن ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے بعض اہل و عیال کے بارے میں یہ وصیت فرماتے ہوئے سنا کہ اگر لوگوں کو وبائی امراض پہنچ جائیں اور تو ان میں موجود ہو۔ تو ثابت قدم رہ۔
(19) احمد، ابن الدنیا نے کتاب الطواعین میں، ابو یعلی اور طبرانی نے الاوسط میں ابن عدی نے الکامل میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری امت فنا نہ ہوگی مگر طعن اور طاعون میں نے عرض کیا یا رسول اللہ اس طعن کو تو ہم جانتے ہیں۔ مگر طاعون کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ ایک غدہ ہے اونٹ کے غدہ کی طرح ہے۔ (جس سے آدمی مرجاتا ہے) وہاں ٹھہرنے والا شہید کی طرح ہے۔ اور اس (جگہ) سے بھاگ جانے والا جنگ سے بھاگ جانے والے کی طرح ہے۔
(20) احمد، عبد بن حمید، البزار، ابن خزیمہ اور طبرانی نے جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” الذی یقرض اللہ فرضا حسنا “ (بقرہ 245) کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے اہل اسلام اللہ تعالیٰ کو قرضہ دو اپنے مالوں میں سے وہ تم کو کئی گناہ زیادہ کرکے دے گا۔ ابن وحداح ؓ نے آپ سے عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے دو مال ہیں ایک مال عالیہ میں ہے اور دوسرا مال بنو ظفر میں ہے۔ اپنے مال کے اندازہ لگانے والے کو بھیجے تاکہ ان میں سے بہترین مال پر قبضہ کرے۔ رسول اللہ ﷺ نے فروہ بن عمر ؓ سے فرمایا جاؤ اور ان دونوں میں سے جس کو بہتر دیکھیں اس کو چھوڑ دو اور دوسرے پر قبضہ کرلو۔ وہ گئے اور اس نے اسے بتایا تو انہوں نے (یعنی ابن وحداح نے فرمایا میں اپنے مال میں سے برا مال اپنے رب کو قرضہ نہیں دینا چاہتا۔ لیکن میں اپنے رب کو بڑھیا مال قرض میں دوں گا جس کا میں مالک ہوں میں دنیا کے فقر سے نہیں ڈرتا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے میرے رب ابن وحداح ؓ کو جنت میں کھجور کے ایسے درخت عنایت فرما جن کا میوہ آسانی سے توڑا جاسکتا ہے۔
قرضہ حسنہ کی عجب مثال
(21) ابن سعد نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی سے کھجور قرض مانگی۔ اس نے قرض نہ دیا اور کہا اگر آپ نبی ہوتے تو قرض نہ مانگتے۔ پھر آپ نے ابو الدحداح ؓ کے پاس (اپنے قاصد کو) بھیجا تاکہ ان سے قرض مانگے۔ ابو الدحداح نے فرمایا اللہ کی قسم ! آپ مجھ سے زیادہ حقدار ہیں میرے مال کے میری اولاد سے اور میری ذات سے بیشک وہ (یعنی رسول اللہ ﷺ مالک ہیں۔ اس میں سے لے لے جو تو چاہے اور ہمارے لئے چھوڑ دے جو تو چاہے۔ جب الودحداح ؓ وفات پاگئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے میرے رب ! ابو الدحداح کو جنت میں کھجور کے ایسے درخت عنایت فرما جن کا میوہ آسانی سے توڑا جاسکتا ہو۔
(22) ابن اسحاق، ابن المنذر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت ” من ذالذی یقرض اللہ قرضا حسنا “ (البقرہ آیت 245) ثابت بن دحداح ؓ کے بارے میں نازل ہوئی جب انہوں نے اپنے مال کا صدقہ کیا۔
(23) عبد بن حمید، ابن ابی حاتم نے حضرت عمر بن خطاب ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” من ذالذی یقرض اللہ قرضا حسنا “ (البقرہ آیت 245) کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت اللہ تعالیٰ کے راستہ میں خرچ کرنے کے بارے میں نازل ہوئی
(24) عبد بن حمید، ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ نبی اکرم ﷺ کے زمانہ میں جب ایک آدمی نے اس آیت کو سنا تو اس نے کہا میں اللہ تعالیٰ کو قرض دیتا ہوں۔ (پھر) اس نے اپنے بہترین مال کا صدقہ کردیا۔
(25) ابن جریر نے سدی (رح) سے لفظ آیت ” فیضعفہ لہ اضعافا کثیرۃ “ (البقرہ آیت 245) کے بارے میں روایت کیا کہ اس تضعیف (یعنی دو گناہ کردینے) کو کوئی نہیں جانتا کہ کتنا گنا مال زیادہ کیا جائے گا۔
(26) احمد، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے ابو عثمان النھدی (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو ابوہریرہ ؓ کی طرف سے یہ حدیث پہنچی کہ انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے مؤمن بندے کے لئے ایک نیکی کے بدلہ میں ایک لاکھ نیکیاں لکھ دیتے ہیں میں نے اس سال حج کیا اور میں نے حج کرنے کا ارادہ نہیں کیا تھا مگر اس لئے تاکہ میں ان سے (یعنی ابوہریرہ ؓ) سے ملاقات کروں اس حدیث کے بارے میں (چنانچہ) میں نے ابوہریرہ سے ملاقات کی اور ان کو (یہ حدیث) بتائی۔ تو انہوں نے فرمایا ایسا نہیں ہے۔ جس نے تجھ کو بیان کیا اس نے (حدیث کو) یاد نہیں کیا بلکہ میں نے یہ کہا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ مؤمن بندے کو ایک نیکی کے بدلہ میں دو لاکھ نیکیاں لکھتے ہیں پھر ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا طاعون سے بھاگنے والا جنگ سے بھاگ جانے والے کی طرح ہے اور اس میں (یعنی طاعون میں) صبر کرنے والا جنگ میں صبر کرنے والے کی طرح ہے۔
Ayah 2:245(1) سعید بن منصور، ابن سعد، البزار، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم حکیم ترمذی نے نوادر الاصول میں طبرانی اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت ” من ذا الذی یقرض اللہ قرضا حسنا فیضعفہ لہ “ نازل ہوئی تو ابو الدحداح انصاری ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا اللہ تعالیٰ ہم سے قرض لینے کا ارادہ فرماتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں اے ابو الدحداح۔ اس نے عرض کیا یا رسول اللہ مجھے اپنا ہاتھ دیجئے۔ آپ نے اپنا ہاتھ مبارک دے دیا تو اس نے کہا میں اپنے رب کو اپنا باغ قرض دیتا ہوں اور وہ باغ بھی جس میں چھ سو کھجوروں کے درخت ہیں اور اس میں ام الدحداح بھی ہے اور اس کے بچے بھی (رہتے ہیں) ابو الدحداح ؓ آئے اور آواز لگائی اے دحداح کی ماں اس نے کہا لبیک میں حاضر ہوں کیا کہتے ہو ؟ پھر کہا یہاں سے نکل جاؤ میں (یہ باغ) اپنے رب عزوجل کو قرضہ دے چکا ہوں۔
(2) عبد الرزاق و ابن جریر نے زید بن اسلم ؓ سے روایت کیا کہ جب (یہ آیت) ” من ذا الذی یقرض اللہ قرضا حسنا “ نازل ہوئی تو ابو الدحداح ؓ نبی اکرم ﷺ کی خدمت عالی میں حاضر ہوئے اور عرض کیا اے اللہ کے نبی ﷺ بتائیے کیا ہمارا رب ہم سے قرضہ مانگ رہے ہیں۔ ان مالوں میں سے جو انہوں نے ہم کو عطا فرمائے ہیں۔ میرے دو باغ ہیں ایک عالیہ میں اور دوسرا سافلہ میں۔ اور ان میں سے جو بہتر ہے صدقہ کرتا ہوں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ابن وحداح کے لئے جنت میں ایسے کھجور ہیں جن سے پھل آسانی سے توڑا جاسکتا ہے۔
امام طبرانی نے الاوسط بن زید بن اسلم نے اپنے والد سے اور انہوں نے عمر بن خطاب ؓ سے اسی طرح روایت کیا۔
(3) ابن مردویہ نے، زہد بن اسلم سے انہوں نے عطاء بن یسار کے طریق سے اور انہوں نے الاعرج سے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت لفظ آیت ” من ذا الذی یقرض اللہ قرضا “ نازل ہوئی تو ابن الدحداح ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے دو باغ ہیں ان میں سے ایک سافلہ میں ہے اور دوسرا عالیہ میں ہے۔ ان میں سے ایک کو میں نے اپنے رب کے لئے قرض دے دیا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے تجھ سے قرض کو قبول کرلیا ہے۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے بھی باغ ان یتیموں کو عطا فرما دیا جو ان کی پرورش میں تھے۔ اور نبی اکرم ﷺ دعا فرماتے تھے اے میرے رب ابن الدحداح ؓ کے لئے جنت میں کھجور کے ایسے باغ ہوں کہ ان کے گچھے لٹکے ہوئے ہوں جن سے پھل آسانی سے توڑا جاسکے۔
(4) ابن سعد نے یحییٰ بن ابی کثیر (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ آیت ” فمن ذا الذی یقرض اللہ قرضا حسنا فیضعفہ لہ اضعافا کثیرۃ “ نازل ہوئی تو کثیر اللہ تعالیٰ کے نزدیک لاکھ دو لاکھ سے زیادہ ہے۔ اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ ایک نیکی کو دو لاکھ نیکیوں تک بڑھا دیتے ہیں۔
(5) ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابن حبان نے اپنی صحیح میں، ابن مردویہ، بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت ” مثل الذین ینفقون اموالہم فی سبیل اللہ کمثل حبۃ انبتت سبع سنابل “ (البقرہ 265) آخر تک نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے میرے رب میری امت کے لئے اور زیادہ کیجئے تو پھر (یہ آیت) نازل ہوئی ” من ذا الذی یقرض اللہ قرضا حسنا فیضعفہ لہ اضعافا کثیرۃ “ پھر آپ نے فرمایا اے میرے رب میری امت کے لئے اور زیادہ کیجئے تو (یہ آیت) نازل ہوئی ” انما یوفی الصابرون اجرھم بغیر حساب “ (الزمر آیت 10)
(6) ابن المنذر نے سفیان ؓ سے روایت کیا کہ جب (یہ آیت) نازل ہوئی ” فمن جاء بالحسنۃ فلہ عشر امثالہا “ (انعام آیت 160) تو آپ ﷺ نے فرمایا اے میرے رب میری امت کے لئے اور زیادہ کیجئے تو (یہ آیت) نازل ہوئی۔ ” مثل الذی ینفقون اموالہم فی سبیل اللہ کمثل حبۃ انبتت سبع سنابل “ پھر آپ نے فرمایا اے میرے رب میری امت کے لئے اور زیادہ کیجئے۔ تو (یہ آیت) نازل ہوئی۔ ” انام یوفی الصبرون اجرھم بغیر حساب “ (الآیہ) ۔
(7) ابن ابی حاتم نے زید بن اسلم ؓ سے ” قرضا حسنا “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد اپنے اہل و عیال پر خرچ کرنا۔
قرضہ حسنہ کی ایک اور مثال
(8) ابن ابنی شیبہ، ابن ابی حاتم نے ابو سفیان سے ابو الحیان (رح) سے روایت کیا کہ وہ اپنے والد سے اور وہ اپنے شیخ سے روایت کرتے ہیں کہ جب وہ مسائل کو یہ کہتے ہوئے سنتے لفظ آیت ” من ذا الذی یقرض اللہ قرضا حسنا “ تو فرماتے سبحان اللہ، الحمدللہ، لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر (کہنا) ہے یہ قرض حسن ہے۔
(9) ابن ابی حاتم نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے ان سے کہا کہ میں نے ایک کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ جو آدمی ایک مرتبہ ” قل ھو اللہ احد “ پڑھے اللہ تعالیٰ اس کے لئے ایک کروڑ کمرے موتی اور یاقوت کے جنت میں بنا دیں گے۔ کیا میں اس کی تصدیق کروں ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! کیا تو اس سے تعجب کرتا ہے اور وہ دو کروڑ اور تین کروڑ بیشمار نیکیاں عطا فرماتا ہے۔ پھر پڑھا لفظ آیت ” فیضعفہ لہ اضعافا کثیرۃ “ اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک کثیر وہ تعداد ہے جو گنی نہ جاسکے۔
(10) ابو الشیخ نے العظمہ میں، بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ پر فرشتہ کہتا ہے جو شخص اللہ تعالیٰ کو آج کے دن قرض دے گا۔ کل کے دن (یعنی قیامت کے دن) بدلہ دیا جائے گا اور دوسرے دروازہ پر فرشتہ آواز لگاتا ہے اے اللہ خرچ کرنے والے کو اس کا بدلہ عنایت فرما اور روکنے والے کے مال کو تلف کو اور دوسرے دروازہ کا فرشتہ آواز لگاتا ہے اے لوگو ! اپنے رب کی طرف آجاؤ وہ مال جو تھوڑا ہو اور کافی ہوجائے گا وہ بہتر ہے اس مال سے جو بہت ہو اور (خدا کی یاد سے) غافل کر دے۔ اور (اس طرح) دوسرے دروازے کا فرشتہ آواز لگاتا ہے اے آدم کے بیٹے ! موت کے لئے جنو۔ اور عمارتیں بناؤ ویران ہونے کے لئے۔
(11) بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت حسن ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیۂ وسلم نے فرمایا اور آپ اس حدیث کو اپنے رب عزوجل سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں اے آدم کے بیٹے اپنے خزانے میں سے میرے پاس امانت رکھ دو اور میں تجھے پورا پورا واپس کردوں گا جبکہ تو اس کا زیادہ محتاج ہوگا۔
وأما قولہ تعالیٰ : واللہ یقبض ویبصط، والیہ ترجعون :
(12) ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ” واللہ یقبض “ سے مراد ہے کہ اللہ صدقہ کو روکتے ہیں ” ویبصط “ یعنی اس کا بدلہ عطا فرماتے ہیں (اور) ” والیہ ترجعون “ یعنی ان کو مٹی سے پیدا فرمایا اور مٹی میں واپس لوٹا دے گا۔
(13) احمد، ابو داؤد، ترمذی، ابن ماجہ، ابن جریر، بیہقی نے اپنی سنن میں انس ؓ سے روایت کیا کہ قیمت مہنگی ہوگئی تو لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہمارے لئے قیمت مقرر فرما دیجئے۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ قیمت مقرر فرمانے والے ہیں اور تنگی کرنے والا کشادگی کرنے والا اور رزق دینے والا ہے۔ میں امید رکھتا ہوں کہ میں اللہ تعالیٰ سے (اس حال میں) ملاقات کروں کہ تم میں سے کوئی بھی مجھ سے خون اور مال کے ظلم کا مقابلہ کرنے والا نہ ہوگا۔ قیمت بڑھانا گھٹانا اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے
(14) ابو داؤد اور بیہقی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ (ہر چیز کی) قیمت مقرر کر دیجئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا بلکہ میں دعا کرتا ہوں پھر آپ کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا یا رسول اللہ قیمت (مقرر کر دیجئے) آپ نے فرمایا بلکہ اللہ تعالیٰ قیمت کو نیچے کرتے ہیں اور اونچا کرتے ہیں اور میں امید کرتا ہوں کہ میں اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کروں کہ تم میں سے کسی کے لئے میرے اوپر ظلم کا دھبہ نہ ہوگا۔
(15) البزار نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ کہا گیا یا رسول اللہ ہمارے لئے قیمت مقرر فرما دیجئے آپ ﷺ نے فرمایا قیمت کا مہنگا اور سستا ہوجانا اللہ کے ہاتھ میں ہے میں ارادہ کرتا ہوں کہ میں اپنے رب سے اس حال میں ملاقات کروں کہ کوئی بھی ایسا نہ ہو جو مجھ سے ایسے ظلم کا مطالبہ کرنے والانہ ہوگا جو میں نے کرلیا۔
(16) ابن جریر نے ابن زیاد (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کون آدمی اس کے راستہ میں قتال کرتا ہے اور کون قتال کرنے کی طاقت نہیں پاتا۔ اور اس آدمی کے بارے میں بھی جو اللہ تعالیٰ کے راستہ میں قتال نہیں کرتا طاقت پاتے ہوئے بھی (پھر) ان لوگوں کو قرضی کی طرف بلایا اور فرمایا لفظ آیت ” من ذا الذی یقرض اللہ قرضا حسنا فیضعفہ لہ اضعافا کثیرۃ واللہ یقبض ویبصط “ فرمایا تم پر (رزق کو) کشادہ کرتا ہے اور تو جنگ میں نکلنے سے بھاری ہوجاتا ہے کہ تو اس کا ارادہ بھی نہیں کرتا ہے اور تو اس سے رک جاتا ہے حالانکہ اس کا دل خوش ہوتا ہے نکلنے سے اور تو اس کو قوت دے اپنے مال سے جو تیرے ہاتھ میں ہے۔ تو تیرے لئے بھی (اس جہاد میں) حصہ ہوگا۔
Ayahs 2:246–247بنی اسرائیل کی جہاد سے روگردانی
(1) ابن جریر نے ربیع بن انس (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ خوب جاننے والے ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی جب وفات ہونے لگی تو انہوں نے اپنے نوجوان حضرت یوشع بن نون (علیہ السلام) کو اپنا خلیفہ بنی اسرائیل پر بنایا یوشع بن نون ان میں اللہ کی کتاب تورات اور اپنے نبی موسیٰ (علیہ السلام) کی سنت کو لے کر چلتے رہے۔ پھر جب یوسع بن نون کی وفات ہونے لگی تو انہوں نے ان کے درمیان دوسرے آدمی کو خلیفہ بنا دیا۔ وہ آدمی ان میں اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اپنے نبی موسیٰ (علیہ السلام) کی سنت کو لے کر چلتا رہا پھر (اس کے بعد) اور آدمی خلیفہ بنایا گیا وہ بھی ان اپنے دونوں ساتھیوں کے سیرت کے ساتھ چلتا رہا۔ پھر (ان کے بعد) اور آدمی خلیفہ ہوئے تو لوگوں نے ان کو پہچانا مگر (حکم ماننے سے) انکار کردیا پھر اور آدمی خلیفہ ہوئے لوگوں نے اس کے عالم حکم کا انکار کیا۔ پھر اور آدمی خلیفہ ہوئے لوگوں نے اس کے سارے حکموں کا انکار کردیا پھر بنی اسرائیل میں ان کے انبیاء میں سے ایک نبی آئے۔ جبکہ یہلوگ اپنے مالوں اور اپنی جانوں میں تکلیف دئیے گئے تھے۔ تو ان لوگوں نے ان سے کہا اپنے رب سے سوال نہ کر کہ ہم پر قتال (یعنی دشمنوں سے لڑنا) کو فرض کر دے اس نبی (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا لفظ آیت ” قال ہل عسیتم ان کتب علیکم القتال الا تقاتلوا “ اللہ تعالیٰ نے طالوت کو بادشاہ بنا کر بھیج دیا۔ بنی اسرائیل میں دو قبلے تھے۔ ایک نبوت والا دوسرا حکومت اور طالوت نہ نبوت والے قبیلہ سے تھے اور نہ حکومت والے قبیلہ میں تھے۔ جب اللہ نے ان کو بادشاہ بنا کر بھیجا تو انہوں نے انکار کردیا اور کہنے لگے۔ لفظ آیت ” انی یکون لہ الملک علینا “ اور فرمایا ” ان اللہ اصطفہ علیکم “ (الآیہ)
(2) ابن جریر، ابن المنذر نے ابن جریج کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” الم تر الی الملا من بنی اسرائیل من بعد موسیٰ “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب تورات اٹھائی گئی اور ایمان والے نکالے گئے اور جابر لوگوں نے ان کو ان کے بیٹوں کو ان کے شہروں سے نکال دیا۔ جب ان پر لڑائی فرض کردی گئی اور یہ جب ہوا جب ان کے پاس تابوت آیا (پھر) فرمایا کہ بنی اسرائیل میں دو قبیلے تھے ایک میں نبوت تھی اور دوسرے میں خلافت تھی۔ اس لئے خلافت نہیں ہوتی تھی مگر خلافت والے قبیلہ میں اور نبوت نہیں ہوتی تھی مگر نبوت والے قبیلہ میں لفظ آیت ” وقال لہم نبی ہم ان اللہ قد بعث لکم طالوت ملکا، قالوا انی یکون لہ الملک علینا ونحن احق بالملک منہ “ اور یہ (طالوت) دونوں قبیلہ میں سے نہیں تھا نہ نبوت والے قبیلہ سے نہ خلافت والے قبیلہ سے لفظ آیت ” قال ان اللہ اصطفہ علیکم “ (الآیہ) ان لوگوں نے اس کی حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ یہاں تک کہ ان کے لئے (اللہ تعالیٰ نے) فرمایا لفظ آیت ” ان ایۃ ملکہ ان یاتیکم التابوت فیہ سکینۃ من ربکم “ موسیٰ (علیہ السلام) نے جب تختیوں کو نیچے ڈال دیا تھا تو وہ ٹوٹ گئی تھیں پھر انہیں اٹھایا اور باقی تختیوں کو انہوں نے جمع کرلیا تھا ان کو ایک صندوق میں رکھ دیا قوم عمالقہ نے اس صندوق کو قبضہ میں لے لیا۔ اور عمالقہ قوم غار میں سے ایک فرقہ تھا جو اریخا میں رہتے تھے فرشتے اس صندوق کو لے آئے اس کو آسمان اور زمین کے درمیان اٹھائے ہوئے تھے اور وہ لوگ اس (منظر) کو دیکھ رہے تھے۔ یہاں تک کہ فرشتوں نے یہ صندوق طالوت کے پاس آکر رکھ دیا جب ان لوگوں نے دیکھا تو کہنے لگے ہاں (اب ٹھیک نشانی ہے) چناچہ ان کو (یعنی طالوت کو) تسلیم کرلیا اور اس کو بادشاہ بنا دیا۔ اور انبیاء (علیہم السلام) جب (دشمن سے) جنگ کرتے تو اس صندوق کو اپنے آگے رکھتے اور کہتے کہ آدم (علیہ السلام) اس صندوق اور رکن یمانی اور موسیٰ (علیہ السلام) کے عصا کے ساتھ جنت سے اترے تھے اور مجھ کو یہ بات بھی پہنچی ہے کہ یہ صندوق اور موسیٰ (علیہ السلام) کی لاٹھی بحیرہ طبریہ میں ہیں۔ اور ان دونوں کو قیامت کے دن سے پہلے نکالا جائے گا۔
(3) ابن اسحاق اور ابن جریر نے وھب بن منبہ (رح) سیروایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد یوشع بن نون بنی اسرائیل کے درمیان تورات اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے ساتھ مقیم رہے۔ یہ ان تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اٹھا لیا۔ پھر ان کے درمیان کالب بن یوحنا خلیفہ ہے جو تورات شریف اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے ساتھ مقیم رہے۔ یہ ان تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی اٹھالیا پھر ان میں حزقیل بن بوری اور وہ ایک بڑھیا کے بیٹے تھے خلیفہ ہوئے پھر اللہ تعالیٰ نے حزقیل کو بھی اٹھالیا اور بنی اسرائیل میں بڑے حادثات واقع ہوئے۔ اور اللہ تعالیٰ کے عہد کو بھول گئے یہاں تک کہ بتوں کو نصب کرلیا اور اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر بتوں کی پوجا کرنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف الیاس بن نسی من فخاص بن عیز اور ہارون بن عمران کو نبی بنا کر بھیجا موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بنی اسرائیل کے انبیاء ان کی طرف ان احکام کی تجدید کے لئے بھیجے جاتے تھے جو تورات میں تھے اور الیاس (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ کے ساتھ تھے جس کو اجان کہا جاتا تھا وہ ان سے (اللہ کے حکم کو) سنتا تھا اور اس کی تصدیق کرتا تھا اور الیاس (علیہ السلام) اس کے امور بھی چلاتے تھے سارے بنی اسرائیل نے ایک بت بنا رکھا تھا جن کی وہ پوجا کرتے تھے الیاس (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کی طرف ان کو بلاتے تھے اور وہ کچھ بھی نہ سنتے تھے مگر اس بات کو جو بادشاہ کی طرف سے ہوتی تھی۔ اور بادشاہ شام میں متفرق ہوچکے تھے۔ ہر بادشاہ کا مخصوص علاقہ تھا۔ اس بادشاہ نے الیاس سے کہا جس دین کی طرف تم بلاتے ہو میں اس کو جھوٹا خیال کرتا ہوں اور میں یہ دیکھتا ہوں کہ فلاں فلاں بنی اسرائیل کے بادشاہ بتوں کی عبادت کرتے ہیں اور وہ کھاتے ہیں پیتے ہیں اور عیش کرتے ہیں ان کی دنیا کے مالوں میں کوئی کمی نہیں آئی۔ الیاس (علیہ السلام) نے لفظ آیت ” اناللہ وانا الیہ راجعون “ پڑھا پھر اس کو چھوڑ کر چلے گئے اس بادشاہ نے بھی اپنے دشمنوں کی طرح کیا اور بتوں کی پوجا شروع کردی۔
تبرکات کا صندوق
ان کے بعد ان میں الیسع خلیفہ ہوئے جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا ان میں رہے پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو اٹھالیا پھرنا خلف لوگ پیدا ہوتے رہے ان میں گناہ بڑھ گئے اور ان کے پاس ایک صندوق تھا جو نسل در نسل اس کے وارث چلے آرہے تھے اس صندوق میں سکینہ تھی اور آل موسیٰ اور آل ہارون کا بقیہ سامان تھا جب وہ کسی دشمن سے لڑتے تھے تو اس صندوق کو آگے رکھ لیتے تھے اور اس صندوق کے ساتھ اس طرح واپس آتے تھے کہ اللہ تعالیٰ اس دشمن کو شکست دے دیتے تھے۔ جب ان کے کرتوت حد سے بڑھ گئے اور اللہ تعالیٰ کے احکام کو انہوں نے چھوڑ دیا ان پر دشمن نازل ہوا وہ اس کی طرف نکلے اور اپنے ساتھ صندوق کو بھی نکالا جیسے اس کو نکالا کرتے تھے پھر اس صندوق کے ساتھ پیش قدمی کی (دشمنوں کے ہاتھوں) وہ قتل کئے گئے یہاں تک کہ ان کے ہاتھوں سے (وہ صندوق) چھین لیا گیا ان پر سخت مصیبت آپڑی ہو (یعنی دشمن ان پر غالب آگئے) دشمنوں نے ان کو روند ڈالا یہاں تک کہ ان کی عورتوں اور ان کے بیٹوں تک پہنچ گیا ان میں ان کے لئے ایک نبی تھے جن کو شمویل کہا جاتا تھا اور یہ وہی ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا لفظ آیت ” الم تر الی الملا من بنی اسرائیل من بعد موسی، اذقالوا لنبی لہم “ بنی اسرائیل نے اس سے بات کی اور کہنے لگے ” ابعث لنا ملکا نقاتل فی سبیل اللہ “ اور بنی اسرائیل بادشاہوں کے تابع تھا۔ اور بادشاہ اپنے انبیاء کی اطاعت کرتے تھے۔ اور بادشاہ مجمع کو چلاتا تھا (یعنی ان کی دیکھ بھال کرتا تھا) اور نبی اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کو قائم کرتا تھا۔ اور ان کے پاس اپنے رب کی خبر کو لاتا تھا جب تک وہ ایسا کرتے رہے ان کے کام ٹھیک چلتے جب ان کے بادشاہوں نے نافرمانی کی اور اپنے انبیاء کے حکموں کو چھوڑ دیا تو ان کے کام بگڑ گئے۔ جب بادشاہ نے اپنی جماعت کو گمراہی پر تابع کرلیا تو انہوں نے رسولوں کے حکم کو چھوڑ دیا۔ ایک جماعت ان میں سے (نبی کے حکم کو) جھٹلاتی تھی اور ان میں سے کچھ بھی قبول نہ کرتے تھی۔ اور ایک جماعت ان کو (یعنی انبیاء کو) قتل کرتی تھی ان پر برابر مصیبتیں لگی تہیں یہاں تک کہ (اپنے انبیاء سے) کہا لفظ آیت ” ابعث لنا ملکا نقاتل فی سبیل اللہ “ نبی نے ان سے فرمایا تمہارے پاس نہ وفا ہے نہ سچائی ہے اور نہ جہاد میں رغبت ہے۔ وہ کہنے لگے کہ ہم جہاد سے ڈرتے ہیں اور اس سے بےرغبت ہوتے تھے جس کی وجہ سے ہم کو ہمارے شہروں سے روکا گیا۔ ہمارے دشمن ہم پر غالب ہیں وہ ہم کو روند رہے ہیں۔ اب جب کہ ہم اس حالت میں پہنچے ہیں تو ہمارے لئے جہاد کرنا ضروری ہے۔ ہم اپنے رب کی اطاعت کریں گے۔ اپنے دشمن پر جہاد کرتے ہیں اور ہم روکیں گے (دشمنوں کو) اپنے بیٹوں سے اپنی عورتوں سے اور اپنی اولاد سے۔
جب ان لوگوں نے یہ بات کہی تو شموئل نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ ان کے لئے ایک بادشاہ بھیج دیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا اس سینگ کو دیکھو جو تیرے گھر میں ہے۔ اور اس میں تیل ہے۔ جب تیرے پاس ایک آدمی آئے تو یہ تیل جو اس سینگ میں سے جوش مارے گا تو وہ بنی اسرائیل کا بادشاہ ہوگا سر کو اس سینگ میں سے تیل لگائے گا اور اس کو ان پر بادشاہ بنا دینا۔ وہ انتظار کرنے لگے کہ کب وہ آدمی ان پر داخل ہوتا ہے۔ طالوت چمڑا رنگنے والا آدمی تھا۔ جو چمڑے کا کام کرتا تھا۔ اور وہ بنیا میں بن یعقوب کی اولاد میں سے تھا۔ اور بنیامین کا قبیلہ میں نے تو نبوت تھی نہ بادشاہت تھی۔ طالوت اپنے جانور کی تلاش میں نکلے جو گم ہوگیا تھا اور اس کے ساتھ غلام بھی تھا (جب) یہ دونوں نبی (علیہ السلام) کے گھر کے پاس سے گزرے تو طالوت کے غلام نے طالوت سے کہا۔ اگر ہم اس نبی کے پاس جاتے اور اس سے اپنے جانور کے معاملہ میں سوال کرتے اور اس سے رہنمائی حاصل کرتے اور ہمارے لئے خیر کی تبلیغ کرتے (تو بہتر ہوتا) طالوت نے کہا جو بات تو نہ کہی ہے اس میں کوئی حرج نہیں اور دونوں اس نبی کے پاس داخل ہوگئے۔ اس درمیان کے دونوں اس (نبی) کے پاس تھے۔ اور وہ دونوں انہیں اپنے جانور کے بارے میں بتا رہے تھے اور ان سے دعا کی درخواست کر رہے تھے۔ اچانک تیل نے جوش مارا جو سینگ میں تھا۔ نبی (علیہ السلام) اس کی طرف کھڑے ہوئے اور اس کو پکڑ لیا پھر طالوت سے فرمایا اپنے سر کو قریب کر اس نے قریب کردیا۔ تو انہوں نے اس میں سے تیل لگایا۔ پھر فرمایا تو بنی اسرائیل کا بادشاہ ہے۔ کہ جس کا اللہ تعالیٰ نے مجھ کو حکم فرمایا ہے کہ میں تم کو ان پر بادشاہ بنا دوں اور سریانی میں طالوت کا نام یوں تھا۔ شاول بن قیس بن اشال بن ضرار بن یحرب ابن افیح بن انس بن یامین بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم وہ اس کے پاس بیٹھ گیا۔ اور اس نبی نے طالوت کو لوگوں کا بادشاہ بنا دیا۔
بنی اسرائیل کے معتبر لوگ اپنے نبی کے پاس آئے اور ان سے کہا۔ طالوت کا کیا حال ہے کہ ہم پر بادشاہ بنا دیا گیا۔ حالانکہ وہ نہ نبوت کے گھر میں سے ہے اور نہ حکومت کے گھر میں سے حالانکہ تو جانتا ہے کہ نبوت اور بادشاہی آل لاوی اور آل یہوذا میں سے ہے۔ نبی نے ان سے فرمایا لفظ آیت ” قال ان اللہ اصطفہ علیکم وزادہ بسطۃ فی العلم والجسم “
(4) ابن جریر، ابن ابی حاتم نے ایک دوسرے طریق سے وھب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ نبو اسرائیل نے شمویل سے کہا ہمارے لئے ایک بادشاہ مقرر کر دیجئے کہ ہم اللہ کے راستہ میں قتال کریں انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمہاری جنگ سے کفالیت فرمائی وہ لوگ کہنے لگے ہم اپنے اردگرد سے ڈرتے رہے تو ہمارے تو ہمارے لئے بادشاہ ہونا چاہئے کہ ہم اس کی طرف پناہ لے سکیں اللہ تعالیٰ نے شمویل (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ ان کے لئے طالوت کا بادشاہ مقرر کردیں اور ان کو المقدس کا تیل بھی لگا دیں۔ طالوت کے والد کے گدھے گم ہوگئے۔ اس نے ان کو اور اپنے غلام کو اس کے ڈھونڈنے کے لئے بھیجا وہ لوگ شمائل کے پاس آئے اور اس سے سوال کیا انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے تجھ کو بنی اسرائیل پر بادشاہ بنا دیا۔ طالوت نے کہا مجھے ! فرمایا ہاں کہا کیا تو نہیں جانتا میرا قبیلہ ادنی ہے بنی اسرائیل کے قبائل سے فرمایا کیوں نہیں طالوت نے کہا کون سے نشانی ہے َ ؟ فرمایا یہ نشانی ہے کہ تو واپس لوٹے گا تیرا باپ گدھے کو پاچکا ہوگا اور انہوں نے اس کو المقدس تیل لگایا اور بنی اسرائیل سے فرمایا لفظ آیت ” ان اللہ قدبعث لکم طالوت ملکا۔ قالوا انی یکون لہ الملک “ (الآیہ)
(5) ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” اذقالوا لنبی لہم “ میں نبی سے مراد زشموئل (علیہ السلام) ہیں۔
(6) عبد الرزاق نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد یوشع بن نون ہیں۔
(7) ابن ابی حاتم نے عمرو بن مروہ کے طریق سے ابو عبیدہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” اذقالوا لنبی لہم “ سے مراد شمویل بن حنفہ بن عامر ہیں
طالوت اور جالوت کا واقعہ
(8) ابن جریر، ابن ابی حاتم نے شعبی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ نبی اسرائیل لڑتے تھے عمالقہ سے اور عمالقہ کا بادشاہ جالوت تھا۔ اور ان لوگوں نے بنی اسرائیل پر غلبہ حاصل کرلیا تھا۔ اس لئے ان پر جزیہ لگا دیا اور ان سے تورات شریف بھی لے لی تھی۔ اور بنی اسرائیل اللہ تعالیٰ سے یہ سوال کرتے تھے کہ ان کے لئے ایک نبی بھیج دیں تاکہ ہم اس کے ساتھ ملکر جہاد کریں اور نبوۃ والا قبیلہ ہلاک ہوچکا تھا۔ ان میں سے ایک حمل والی عورت کے سوا کچھ بھی باقی نہ رہا تھا۔ انہوں نے اس عورت کو پکڑا اور اسے ایک خوفناک کمرے میں قید کردیا تھا اس بات سے ڈرتے ہوئے کہ اگر اس نے لڑکی کو جنم دیا تو اس کو لڑکے سے بدل دیا جائے گا۔ جب اس عورت نے بنی اسرائیل کو اس کا لڑکا پیدا ہونے میں (اتنی) رغبت کو دیکھا تو اس نے اللہ تعالیٰ سے دعامانگنا شروع کی کہ اس کو لڑکا عطا فرما دے۔ لڑکا پیدا ہوا تو اس کا نام شمعون رکھا۔
جب لڑکا بڑا ہوا تو ماں نے اس کو تورات کی تعلیم دی بیت المقدس میں داخل کرایا اور ان کے علماء میں سے ایک شیخ نے اس کی کفالت اور پرورش کی جب لڑکا بالغ ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو نبوت عطا فرما دیں تو اس کے پاس جبرئیل (علیہ السلام) آئے اور وہ لڑکا اپنے شیخ کے پہلو میں سو رہا تھا اور وہ شیخ اپنے علاوہ کسی ایک پر بھی اعتماد نہیں کرتا تھا حضرت جبرئیل نے اس لڑکے کو شیخ کے لہجے میں یا شمائل کہہ کر پکارا تو وہ لڑکا گھبرا کر اٹھا اپنے شیخ کے پاس پناہ لی اور کہا اے میرے ماں باپ تو نے مجھے بلایا ہے ؟ شیخ نے نہیں کہنے کو ناپسند کیا اعر لڑکے نے اس کی آغوش میں پناہ لی۔ پھر اس شیخ نے کہا سے میرے بیٹے لوٹ آ اور سوجا۔ پھر وہ سو گیا۔ پھر جبرئیل نے اس کو دوبارہ پکارا لڑکا پھر شیخ کے پاس آیا اور کہا مجھ کو بلایا ہے ؟ شیخ نے کہا سو جا اور تجھ کو تیسری مرتبہ کوئی پکارے تو اس کو جواب نہ دینا۔
جب تیسری مرتبہ بلایا تو جبرائیل (علیہ السلام) اس کے لئے ظاہر ہوگئے اور فرمایا اپنی قوم کی طرف چلے جاؤ اور اپنے رب کا پیغام ان کو پہنچاؤ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے تجھ کو ان میں نبی بنا کر بھیجا ہے۔ جب وہ ان کے پاس آئے تو انہوں نے جھٹلا دیا اور کہنے لگے تو نے نبوت (ملنے میں) جلدی کی اور ابھی تیرے لئے نبوت کا وقت نہیں ہوا تھا۔ اور کہنے لگے اگر تو سچا ہے تو ہمارے لئے ایک بادشاہ بنا دو کہ جس کی رہنمائی میں ہم اللہ کے راستہ میں جہاد کریں۔ یہ نشانی ہوگی تیری نبوت کی، شمعون نے اس سے فرمایا عنقریب اللہ تعالیٰ تم پر قتال کر فرض کر دے گا اور پھر تو نہیں لڑو گے تو کہنے لگے۔ لفظ آیت ” قالوا وما لنا الا نقاتل فی سبیل اللہ “ (الآیہ) شمعون نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی تو ان کو ایک لاٹھی دی گئی۔ جو اس آدمی کی لمبائی کے برابر تھی۔ جس نے ان کا بادشاہ بننا تھا۔ تو پیغمبر نے فرمایا تمہارے بادشاہ کی لمبائی اس لاٹھی کی لمبائی کے برابر ہوگی۔ بنی اسرائیل کے تمام لوگوں نے پیمائش کی تو کوئی بھی اتنے قد کا نہ نکلا۔ اور طالوت پانی بھرنے والا یک آدمی تھا وہ اپنے گدھے پر پانی بھر کر لاتا تھا۔ اس کا گدھا گم ہوگیا۔ وہ اس کو ڈھونڈنے کے لئے اس راستہ پر جا پہنچا۔ جب ان لوگوں نے طالوت کو دیکھا تو اس کو بلایا۔ اس کی پیمائش کی گئی۔ تو وہ اس لاٹھی کے برابر لمبا تھا۔ پھر ان کے نبی نے ان سے فرمایا لفظ آیت ” ان اللہ قد بعث لکم طالوت ملکا “ قوم نے کہا پہلے تو نے کبھی جھوٹ نہیں بولا تھا۔ ہم حکومت کے قبیلہ میں سے ہیں۔ اور وہ حکومت کے قبیلہ میں سے نہیں ہے۔ اور وہ مال کی وسعت بھی نہیں دیا گیا۔ (یعنی وہ غریب آدمی ہے) تو ہم (کس کے لئے) اس کی تابعداری کریں۔ نبی (علیہ السلام) نے فرمایا۔ ” قال ان اللہ اصطفہ علیکم وزادہ نسطۃ فی العلم والجسم “ کہنے لگے اگر تو سچا ہے تو ہمارے پاس کوئی نشانی لے آ کہ یہ بادشاہ ہے تو (اللہ تعالیٰ نے) فرمایا لفظ آیت ” ان ایۃ ملکۃ ان یاتیکم التابوت “ (الآیہ) ۔ طالوت کے گھر میں صبح کے وقت صندوق آگیا اور جو کچھ اس میں تھا۔ تو وہ لوگ شمعون کی نبوت پر ایمان لے آئے اور طالوت کی بادشاہت کو بھی تسلیم کرلیا۔
(9) عبد بن حمید، ابن جریر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ طالوت پانی بھر کر لاتا تھا اور پانی کو بیچتا تھا۔
(10) ابن جریر، ابن ابی حاتم نے عوفی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” قالوا انی کون لہ الملک علینا “ کے بارے میں روایت کیا کہ انہوں نے یہ بات نہیں کہی تھی مگر اس وجہ سے کہ نبی اسرائیل میں دو قبیلے تھے۔ ان میں سے ایک میں نبوت تھی اور دوسرے میں بادشاہت تھی کوئی بھی نہیں بھیجا جاتا تھا مگر نبوت کے قبیلہ سے اور زمین پر غلبہ اس کا ہوتا تھا جو بادشاہت کے قبیلہ میں سے ہوتا تھا۔ لیکن طالوت جب بادشاہ بنا کر بھیجے گئے تو وہ کسی ایک قبیلہ میں سے بھی نہ تھے۔ (اسی لئے فرمایا) ” قال ان اللہ اصطفہ علیکم “ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو چن لیا۔
(11) ابن ابی حاتم نے سدی کے طریق سے ابو مالک (رح) سے انی کے بارے میں روایت کیا کہ انی سے مراد ہے ” من این “ (یعنی کہاں سے)
(12) ابن ابی حاتم نے سدی سے انہوں نے ابو مالک سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وزادہ بسطۃ “ سے مراد ہے اس کو فضیلت دی لفظ آیت ” فی العلم والجسم “ علم اور جسم میں یعنی بڑے جسم والا اور اپنی گردن کی وجہ سے بنی اسرائیل پر فضیلت رکھتا تھا۔
بادشاہت کے دو اوصاف
(13) ابن ابی حاتم نے وھب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وزادہ بسطۃ فی العلم والجسم “ سے مراد ہے کہ وہ لڑائی کے علم میں زیا دہ تھے۔
(14) ابن جریر نے وھب (رح) سے روایت کیا ” والجسم “ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ بنی اسرائیل سے کندھو کی وجہ سے زیادہ او نچے تھے یعنی اس کے کند ہے ان سب سے اونچے تھے۔
(15) عبدبن حمید، ابن جریرنے مجاہد رحمہ للہ سے لفظ آیت ” واللہ یوتی ملکہ من یشاء “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد بادشاہی ہے (جس کو چاہے دے دے)
(16) ابن المنذر نے وھب ؓ سے روایت کیا کہ پوچھا گیا کیا طالوت نبی تھے ؟ فرمایا نہیں ! اس کے پاس وحی نہیں آئی تھی۔
(17) اسحاق بن بشیر نے ابن المنذر میں ابن عساکر نے جو پیرومقابل سے انہوں نے ضحاک سے انہوں نے ابن عباس اور کلبی سے انہوں نے ابو صالح سے انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے لفظ آیت ” الم ترالی الملا “ کے بارے میں روایت کیا کہ اے محمد ﷺ کیا آپ کو اس گروہ کے بارے میں معلوم نہیں ہے ؟ لفظ آیت ” الم ترالی الملا من بنی اسرائیل من بعد موسیٰ “ میں نبی سے مراد شمویل ہے ” ابعث لنا ملکا نقاتل “ الی قولہ ” وقد اخرجنا من دیارنا وانبائنا “ یعنی ہم کو عمالقہ نے نکال دیا اور عمالقہ کا سردار اس دن جالوت تھا ان کے نبی نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ ان کے لئے ایک بادشاہ بھیج دیجئے۔
(18) مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” الم ترالی الملا من بنی اسرائیل من بعد موسیٰ “ سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” الم تر الی الذین قیل لہم کفورا ایدیکم واقیموا الصلوۃ واتوا الزکوۃ “
(19) عبد بن حمید نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ونحن احق بالملک منہ “ اس لئے طالوت نہ تو نبوت کے قبیلہ میں سے تھا اور نہ خلافت کے قبیلہ میں سے تھا۔
(20) عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کو بادشاہ بنا کر بھیجا وہ ایسے قبیلہ میں سے تھے نہ اس میں بادشاہت تھی نہ نبوت تھی اور نبی اسرائیل میں دو قبیلے تھے ایک نبوت والا تھا اور ایک بادشاہت والا قبیلہ تھا اور نبوت والا قبیلہ لاوی کی اولاد تھی اور بادشاہت والا قبیلہ یہوذا کی اولاد تھی۔ جب طالوت کو نبوت اور بادشاہت دونوں قبیلوں سے نہی بھیجا گیا تو انہوں نے اس کا انکار کیا اور اس سے تعجب کیا اور کہنے لگے (جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا) لفظ آیت ” قالوا انی یکون لہ الملک علینا “ یعنی کہنے لگے ہم پر اس کی بادشاہی کیسے ہوگی نہ وہ نبوت والے قبیلہ سے ہے اور نہ وہ بادشاہت والے قبیلہ سے ہے۔
(21) عبد بن حمید نے ابو عبیدہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا کہ نبی اسرائیل میں ایک آدمی تھا اس کی دو بیویاں تھیں۔ ان میں سے ایک نے بچہ جنا اور دوسری نے نہ جنا۔ اس عورت کے لئے یہ بات بڑی بھاری تھی جس نے بچہ نہیں جنا تھا وہ عورت پاک ہوئی اور مسجد کی طرف نکلی تاکہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرے۔ راستے میں اسے بنی اسرائیل کا یک حکیم ملا حکماء سے اور ان کے حکماء وہ تھے جو ان کے کاموں کی تدبیر کرتے تھے۔ حکیم نے پوچھا تو کہا جا رہی ہے کہنے لگی اپنے رب کی طرف میری ایک حاجت ہے۔ اس حکیم نے دعا کی اے اللہ اس کی حاجت کو پورا فرما دے پس اس عورت نے شموئیل کو جنم دیا جب وہ پیدا ہوئے تو اس عورت نے ان کو اللہ کے نام پر آزاد کردیا۔ اور وہ لوگ (بچوں کو) آزاد کردیتے تھے۔ جب بچہ مسجد میں دوڑنے لگتا تھا تو اس کے رہنے والوں کی خدمت کرتا تھا۔ جب شموئل بالغ ہوگئے تو مسجد والوں کو خدمت کے لئے دے دئیے گئے ایک رات شموئیل کو پکارا گیا تو وہ حکیم کے پاس آیا اور کہنے لگا کیا آپ نے مجھے پکارا ہے ؟ اس نے کہا نہیں جب دوسری رات ہوئی تو پکارا گیا۔ وہ حکیم کے پاس آیا اور کہا آپ نے مجھے پکارا اس نے کہا نہیں اور حکیم جانتے تھے کہ نبوت کس طرح ہوتی ہے۔ پوچھا گیا تم پہلی رات پکارا گیا تھا کہاں ہاں پھر پوچھا گیا گزشتہ رات تم کو پکارا گیا کہا ہاں۔ پھر حکیم نے کہا اگر اس رات بھی پکارا جائے تو کہا ” لبیک وسعدیک والخیر بیدیک والمھدی من حدیث انا عبدک بین یدک “ مجھے حکم کو جو تو چاہے۔
(پھر) اس کی طرف وحی کی گئی۔ حکیم آئے اور پوچھا کیا رات کو پکارا گیا ؟ کہا ہاں ! اور میری طرف وحی کی گئی پوچھا کوئی چیز تجھ کو بتائی گئی ؟ کہا نہیں تجھ پر لازم ہے کہ تو مجھ سے سوال نہ کر حکیم نے کہا میں نے انکار نہیں کیا کہ تو مجھ کو بتائے مگر وہ چیز جو میرے کام کے بارے میں تجھ کو بتایا گیا اور اس نے اس پر اصرار کیا۔ یعنی پوچھنے اور انکار کیا کیا کہ وہ اس کو (بغیر پوچھے) نہیں چھوڑے گا۔ یہاں تک کہ اس نے اس کو بتادیا اور اس نے (یعنی شموئیل نے) کہا مجھ سے کہا گیا تیرا ہلاک ہونا حاضر ہوچکا اور تیرے بیٹے نے تیرے فیصلے میں رشوت دی ہے۔ اس لئے کہ وہ جو تدبیر کرے گا وہ غلط ثابت ہوگی۔ اور وہ کوئی لشکر نہیں بھیجے گا مگر اس کو شکست ہوگی یہاں تک کہ اس نے ایک لشکر کو بھیجا اور اس کے ساتھ تورات کو بھی بھیجا اس کے ذریعہ فتح طلب کرتے رہے مگر (پھر بھی) شکست کھائی۔ پھر اس نے تورات کو اٹھایا اور منبر پر چڑھ گیا۔ اور وہ افسوس کرنے والا غصہ کرنے والا تھا وہ اگر اس کی ٹانگ یا ران ٹوٹ گئی تو وہ اس وجہ سے مرگیا اس وقت ان لوگوں نے اپنے نبی سے کہا ہمارے لئے ایک بادشاہ بھیج دیجئے اور وہ شموئیل بن حنفہ العافر تھے۔