Ayah 2:282آیت مدانیہ
(1) ابن جریر نے (صحیح سند کے ساتھ) سعید بن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ ان کو یہ بات پہنچی ہے کہ قرآن مجید میں جس آیت کا تعلق عرش سے قریب ترین ہے وہ دین والی آیت ہے۔
(2) ابو عبید نے اپنے فضائل میں ابن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ قرآن مجید کی آخری آیت جس کا عرش سے قریب ترین تعلق ہے۔ وہ آیت ربا اور آیت دین ہے۔
(3) الطیالسی ابو یعلی، ابن سعید، احمد، ابن ابی حاتم، طبرانی، ابو الشیخ نے العظمہ میں اور بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب قرضہ کی آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے سب سے پہلے انکار کیا وہ آدم (علیہ السلام) تھے (وہ یہ تھا کہ) جب اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا تو ان کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا اور ان سے وہ تمام انسان نکالے جو قیامت تک پیدا ہونے والے تھے اور آدم (علیہ السلام) کے سامنے ان کی اولاد کو پیش کیا آدم (علیہ السلام) نے ان میں سے ایک آدمی کو دیکھا جس کا چہرہ انتہائی روشن تھا پوچھا اے میرے رب یہ کون ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ تیرا بیٹا داؤد ہے۔ پوچھا اے میرے رب اس کی کتنی عمر ہے ؟ فرمایا ساٹھ سال۔ آدم (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے رب اس کی عمر زیادہ کردو اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں اس کی عمر زیادہ نہیں کروں گا مگر یہ کہ تیری عمر میں سے اس کی عمرزیادہ کردوں گا اور آدم کی عمر ایک ہزار سال تھی تو اللہ تعالیٰ نے داؤد کی عمر چالیس سال اور بڑھا دی اور آدم (علیہ السلام) کی عمر کم کر کے لکھ دی گئی اور فرشتوں کو بھی گواہ بنا لیا گیا جب آدم (علیہ السلام) کی موت کا وقت قریب آیا فرشتے آئے تاکہ ان کی روح کو قبض کریں تو آدمی (علیہ السلام) نے فرمایا میری عمر ابھی چالیس سال باقی ہے ان سے کہا گیا کہ وہ تو آپ نے اپنے بیٹے داؤد کو دے دی تھی انہوں نے انکار کردیا کہ میں تو ایسا نہیں کیا تھا اللہ تعالیٰ نے ان کے خلاف وہ تحریر ظاہر فرمائی اور اس پر فرشتوں نے بھی ان کے خلاف گواہی دی (مگر وہ نہ مانے) تو اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کے ہزار سال پورے کر دئیے اور داؤد (علیہ السلام) کے سو سال بھی پورے کر دئیے۔
(4) شاعی، عبد الرزاق، عبد بن حمید، بخاری، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، طبرانی، حاکم اور بیہقی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا انہوں نے فرمایا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ ادھار جس کی ضمانت دی گئی ہو ایک مقرر مدت تک ہے اللہ تعالیٰ نے اس کی مدت کا ذکر فرمایا ہے اور اس کی اجازت بھی دی ہے پھر دلیل کے طور پر یہ آیت پڑھی۔ لفظ آیت ” یایھا الذین امنوا اذا تداینتم بدین الی اجل مسمی “۔
(5) عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے حضرت ابن عباس رضی عنہما نے فرمایا کہ (یہ آیت) لفظ آیت ” یایھا الذین امنوا اذا تداینتم بدین “ گیہوں میں بیع سلم کے بارے میں نازل ہوئی جس کا پیمانہ معلوم ہو مدت معلوم تک۔
(6) بخاری، مسلم، ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور بیہقی نے حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا (جب) نبی اکرم ﷺ نے مدینہ منورہ تشریف لائے تو وہ لوگ پھلوں میں بیع سلم کرتے تھے دو سال یا تین سال کے لیے تو آپ نے فرمایا جو شخص بیع سلم کرے تو اس کو چاہئے کہ معلوم پیمانہ کے ساتھ معلوم وزن کے ساتھ اور معلوم مدت کے ساتھ بیع سلم کرے۔
(7) بیہقی نے حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا بیع سلم نہیں ہے عطا تک، کھیتی کے کاٹنے تک، کھلیان تک، اس نچوڑنے تک بلکہ اس کے لیے ایک مدت مقرر کرلو۔
قرض کے لین دین کے وقت گواہ بنانا
(8) ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں فرمایا اللہ تعالیٰ نے قرضہ کا لین دین کرتے وقت گواہ بنانے کا حکم فرمایا تاکہ اس میں نہ انکار داخل ہوجائے اور نہ بھول جس نے اس پر گواہ نہیں بنایا اس نے فرمانی کی مسلمانوں کو جن کسی گواہ کی ضرورت ہو تو گواہ بننے سے انکار نہ کرو جس کے پاس کوئی شہادت ہو تو اس کے لیے یہ حلال نہیں کہ جب اس کو بلایا جائے تو وہ انکار کر دے پھر اس کے بعد فرمایا لفظ آیت ” ولا یضار کاتب ولا شھید “ ضرر یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے سے کہے اور وہ اس سے بےپرواہ ہو کہ اللہ تعالیٰ نے تجھ کو حکم دیا ہے کہ تو انکار نہ کرے جب تجھ کو بلایا جائے لیکن اس طرح گواہ کو تکلیف ہوگی جبکہ وہ کسی دوسرے گواہ سے گواہی حاصل کرسکتا ہو پس اللہ تعالیٰ نے ایسا کرنے سے منع فرمایا تو اور فرمایا لفظ آیت ” وان تفعلوا فانہ فسوق بکم “ یعنی ایسا کرنا گناہ ہے اور فرمایا بڑے گناہوں میں گواہی کو چھپانا ہے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت ” ومن یکتمھا فانہ اثم قلبہ “ (یعنی جس نے گواہی کو چھپایا تو اس کا دل گناہ کرنے والا ہے) ۔
(9) ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” کاتب بالعدل “ سے مراد ہے کہ کاتب لکھنے میں دونوں کے ساتھ انصاف کرے نہ مطلوب پر (کسی قسم کی) زیادتی کرے اور نہ طالب کے حق میں کوئی کمی کرے۔
(10) عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے لفظ آیت ” ولا یاب کاتب “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ کاتب پر لکھنا واجب ہے۔
(11) ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے لفظ آیت ” ولا یاب کاتب “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ کاتب جب فارغ ہے تو انکار نہ کرے۔
(12) ابن ابی حاتم نے مقاتل (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ولا یاب کاتب “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ حکم اس وقت تھا جب کہ اس زمانہ میں کاتب کم تھے۔
(13) عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے لفظ آیت ” ولا یاب کاتب “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ ان دنوں میں کاتب کم تھے (اس لیے یہ حکم فرمایا) ۔
(14) ابن جریر نے ضحاک (رح) سے لفظ آیت ” ولا یاب کاتب “ میں کاتب کے لیے لکھنا واجب تھا مگر (اس حکم کو) اس آیت ” ولا یضار کاتب ولا شھید “ نے منسوخ کردیا۔
(15) ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے لفظ آیت ” کما علمہ اللہ “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ جیسے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا فرمایا۔
(16) ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” کما علمہ اللہ “ جیسا کہ اللہ نے تم کو لکھنا سکھایا دوسرے کو محروم رکھا ہے لفظ آیت ” ولیملل الذی علیہ الحق “ اس سے مراد مقروض ہے یعنی مقروض کو چاہئے کہ وہ حق بات کاتب کو لکھوائے لفظ آیت ” ولا یبخس منہ شیئا “ یعنی قرض خواہ کے حق میں سے کچھ بھی کمی نہ کرے۔ لفظ آیت ” فان کان الذی علیہ الحق “ یعنی وہ مطلوب جس پر حق ہے ” سفیھا او ضعیفا “ یعنی وہ عاجز ہے یا گونگا ہے یا بیوقوف ہے لفظ آیت ” اولا یستطیع “ یعنی اچھی طرح نہیں لکھوا سکتا۔ لفظ آیت ” ان یمل ھو “ یعنی جس پر حق ہے ” فلیملل ولیہ “ پھر قرض خواہ کو لکھوانا چاہئے ” بالعدل “ (حق کے ساتھ لکھوا دے) کسی چیز کی زیادتی نہ کرے ” واستشھدوا “ یعنی گواہ بنالو اپنے حق پر ” شھیدین من رجالکم “ یعنی گواہ بنا لو دو مسلمان آزاد مردوں سے لفظ آیت ” فان لم یکونا رجلین فرجل وامراتن ممن ترضون من الشھداء ان تضل احدہما “ اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں گواہ بنا لو ان میں سے جن کو تم بطور گواہ پسند کرتے ہو تاکہ اگر دو عورتوں میں سے اگر ایک گواہی کو بھول جائے تو لفظ آیت ” فتذکر احدہما الاخری “ تو دوسری عورت یاد لائے جس کو گواہی یاد ہے لفظ آیت ” ولا یاب الشھداء اذا ما دعوا “ یعنی وہ شخص جس کے پاس گواہی ہے وہ انکار نہ کرے لفظ آیت ” ولا تسئموا “ یعنی لکھنے کو نہ بھول جاؤ لفظ آیت ” ان تکتبوہ صغیرا او کبیرا “ یعنی حق چھوٹا ہو یا بڑا ہو قلیل ہو یا کثیر ہو (لکھنا نہ بھولو) ” الی اجلہ “ اس کی مدت تک کیونکہ تحریر مدت اور مال کو شمار کرتی ہے ” ذلکم “ یعنی یہ تحریر لفظ آیت ” اقسط عند اللہ “ یعنی زیادہ انصاف والی ہے ” واقوم “ اور زیادہ درست ہے لفظ آیت ” للشھادۃ وادنی “ یعنی زیادہ لائق ہے لفظ آیت ” الا ترتبوا “ یعنی تم شک نہیں کرو گے جب حق مدت اور گواہی لکھی ہوگی پھر اس میں سے استثنیٰ کرتے ہوئے فرمایا لفظ آیت ” الا ان تکون تجارۃ حاضرۃ “ یعنی جب تجارت ہاتھ در ہاتھ ہو تو اس کو لکھنے میں کوئی حرج نہیں لفظ آیت ” تدیرونھا بینکم “ یعنی جس میں مدت نہیں ہوتی لفظ آیت فلیس علیکم جناح “ یعنی کوئی حرج نہیں لفظا آیت ” الا تکتبوھا “ کہ اس حاضر تجارت کو نہ لکھو ” واشھدوا اذا تبایعتم “ یعنی اپنے حق پر گواہ بنا لو ” وان تفعلوا “ یعنی اگر تم نے کاتب کو یا گواہ کو تکلیف دی کہ جس سے منع کیا گیا ہے ” فانہ فسوق بکم “ یعنی وہ گناہ ہے پھر اس سے ڈراتے ہوئے فرمایا ” واتقوا اللہ “ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور اس میں سے اس کی نافرمانی نہ کرو ” واللہ بکل شیء علیم “ یعنی اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والے ہیں تمہارے اعمال سے۔
(17) ابن جریر ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” فان کان الذی علیہ الحق سفیھا “ یعنی جس پر حق ہے وہ لکھوانے سے جاہل ہے (نہیں لکھوا سکتا) لفظ آیت ” او ضعیفا “ یعنی احمق ہے۔
(18) ابن جریر نے سعدی اور ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ ” سفیھا “ سے مراد چھوٹا بچہ ہے۔
(19) ابن جریر نے عوفی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” فلیملل ولیہ “ سے مراد قرض خواہ ہے۔
(20) عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فلیملل ولیہ “ سے مراد ہے یتیم کا ولی۔
(21) ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا لفظ آیت ” فلیملل ولیہ “ بیوقوف یا ضعیف کا ولی۔
(22) عبد بن حمید ابن المنذر نے مجاہد کے طریق سے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت واستشھدوا شھیدین “ سے مراد ہے جب خریدوفروخت نقد پیسوں کے ساتھ ہو تو گواہ بنا لو اور نہ لکھو مجاہد (رح) نے فرمایا کہ جب ادھار بیچے تو لکھ بھی لے اور گواہ بھی بنا لے۔
(23) سفیان، سعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واستشھدوا شھیدین من رجالکم “ میں آزاد لوگوں کو گواہ بننے کا حکم ہے۔
(24) سعید بن منصور نے داؤد بن ابی ہند (رح) سے روایت کیا کہ میں نے مجاہد (رح) سے باندی سے ظہار کرنے کے بارے میں پوچھا انہوں نے فرمایا اس میں کچھ واجب نہیں میں نے کہا کیا اللہ تعالیٰ نہیں فرماتے لفظ آیت ” الذین تظھرون من نساۂم “ کیا (باندیاں) عورتوں میں سے نہیں ہیں جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت ” واستشھدوا شھیدین من رجالکم “ کیا پھر غلام کی گواہی جائز ہوگی ؟ (کیونکہ غلام بھی تو مردوں میں سے ہے اور وہ جائز نہیں ہے اسی طرح لونڈی سے بھی ظہار نہیں ہے) ۔
(25) ابن المنذر نے زہری (رح) سے روایت کیا کہ ان سے عورتوں کی شہادت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا جائز ہے قرضہ کے بارے میں جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اور اس کے علاوہ کسی معاملہ میں جائز نہیں۔
(26) ابن المنذر نے مکحول (رح) سے روایت کیا کہ عورتوں کی گواہی صرف قرضہ میں جائز ہے۔
(27) ابن ابی حاتم نے یزید بن عبد الرحمن بن ابی مالک (رح) سے روایت کیا کہ حقوق کے بارے میں چار عورتوں کی گواہی دو مردوں کے بدلہ میں جائز نہیں اور مرد کے بغیر ان کی گواہی جائز نہیں ہے اور ایک مرد اور ایک عورت کی گواہی بھی جائز نہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” فان لم یکونا رجلین فرجل وامراتن “۔
ایک عورت کی گواہی معتبر نہیں
(28) ابن المنذر نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ اکیلی عورتوں کی گواہی جائز نہیں مگر ان معاملات میں کہ جن میں صرف عورتوں کو خبر ہوتی ہے اور اس کے مشابہ وہ صورتیں ہیں جیسے ان کے حمل اور ان کے حیض ہیں (کہ ان چیزوں کے بارے میں صرف عورتوں کو ہی خبر ہوتی ہے) ۔
(29) مسلم نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا میں نے عقل اور دین کے اعتبار سے ناقص کوئی ایسی نہیں دیکھیں ہیں جو عقل والے پر تم سے زیادہ غالب آنے والی ہوں ایک عورت نے عرض کیا یا رسول اللہ عقل اور دین کا نقصان کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا اس کی عقل کا نقصان یہ ہے کہ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کی گواہی کے برابر ہے تو یہ عقل کا نقصان ہوا اور عورت کئی راتیں ٹھہری رہتی ہیں (حیض، نفاس کی وجہ سے) نماز نہیں پڑھ سکتی اور رمضان کے روزے نہیں رکھ سکتی یہ دین کا نقصان ہوا۔
(30) ابن جریر نے ربیع (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ممن ترضون من الشھداء “ سے مراد ایسے گواہ ہوں جو انصاف کرنے والے (یعنی سچ بولنے والے ہوں) ۔
بچوں کی گواہی
(31) سعید بن منصور، ابن ابی حاتم، حاکم اور بیہقی نے سنن میں ابن ابی ملیکہ (رح) سے روایت کیا کہ میں نے حضرت ابن عباس ؓ کی طرف لکھا اور ان سے بچوں کی گواہی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے لکھا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت ” ممن ترضون من الشھداء “ یعنی گواہ ان لوگوں میں سے ہوں جن کو تم پسند کرتے ہو پس بچے نہیں ہیں ان لوگوں میں سے جن سے تم خوش ہو اس لئے (بچوں کی گواہی) جائز نہیں۔
(32) امام شافعی و بیہقی نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ممن ترضون من الشھداء “ سے مراد دو عادل آزاد مسلمان ہیں۔
(33) عبد بن حمید نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس (آیت) کو یوں پڑھتے تھے لفظ آیت ” فتذکر احدہما الاخری “ یعنی کاف کو تشدید کے ساتھ پڑھتے تھے۔
(34) عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ اس (آیت) کو یوں پڑھتے تھے لفظ آیت ” فتذکر احدہما الاخری “ یعنی فتذکر کے لفظ کو خفیف یعنی بغیر تشدید کے۔
(35) ابن ابی داؤد نے اعمش (رح) سے روایت کیا کہ ابن مسعود ؓ کی قرات میں اس طرح تھا لفظ آیت ” ان تضل احدہما فتذکر احدہما الاخری “۔
گواہ شہادت کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کرے
(36) بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت ابن عباس ؓ سے لفظ آیت ” ولا یاب الشھداء اذا ما دعوا “ کے بارے میں روایت کیا اگر مسلمانوں کو اس کی گواہی کی ضرورت ہو تو گواہی پر گواہی دے یا اس کے پاس گواہی ہو تو اس کے لیے یہ حلال نہیں کہ وہ بلانے پر انکار کردے اس کے بعد پھر فرمایا لفظ آیت ” ولا یضار کاتب ولا شھید “ اور ضرردینا یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے آدمی سے کہے اور وہ اس سے بےپرواہ ہو کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے تجھ کو حکم دیا ہے کہ تو انکار نہ کرے جب تجھ کو بلایا جائے لیکن وہ اس کو تکلیف دے اس بات سے (کہ انکار کر دے) اور حال یہ ہے کہ وہ اس گواہی کے ساتھ وہ بندھا ہوا ہے ( کہ اس کی گواہی کے بغیر اپنا حق نہیں لے سکتا) تو اس بات سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا اور فرمایا لفظ آیت ” وان تفعلوا فانہ فسوق بکم “ یعنی (اگر تم انکار کرو گے) تو تم کو گناہ ہوگا۔
(37) ابن ابی حاتم نے عکرمہ کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے لفظ آیت ” ولا یاب الشھداء اذا ما دعوا “ کے بارے میں روایت کیا کہ اگر ان کے پاس شہادت ہو پھر ان کو بلایا جائے تو وہ انکار نہ کریں۔
(38) ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ربیع (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی ایک قوم کے پاس بار بار چکر لگاتا تھا اور ان کو گواہی کے لیے بلاتا تھا تو ان میں سے کوئی بھی اس کے ساتھ نہ چلتا تھا تو اس پر اللہ تعالیٰ نے اتارا لفظ آیت ” ولا یاب الشھداء اذا ما دعوا “۔
(39) عبد بن حمید اور ابن جریر نے قتادہ (رح) سے لفظ آیت ” ولا یاب الشھداء اذا ما دعوا “ کے بارے میں روایت کیا کہ ایک آدمی ایک بڑے قبیلے میں ایک قوم کے پاس بار بار چکر لگاتا تھا ان کو گواہی کی طرف بلاتا تھا تو ان میں سے کوئی بھی اس کے ساتھ نہ چلتا تھا تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔
(40) سفیان عبد بن حمید اور ابن جریر نے مجاہد (رح) سے لفظ آیت ” ولا یاب الشھداء اذا ما دعو “ کے بارے میں روایت کیا اگر تمہارے پاس شہادت ہو تو اس کو قائم کرو لیکن جب تجھ کو گواہی کے لیے بلایا جائے تو اگر چاہے تو چلا جا اور اگر چاہے تو نہ جا۔
(41) عبد بن حمید نے سعید بن جبیر (رح) سے لفظ آیت ” ولا یاب الشھداء “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے وہ آدمی مراد ہے جس کے پاس شہادت ہو۔
(42) ابن جریر نے حسن (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اس میں دو حکم جمع کر دئیے ہیں پہلا حکم یہ ہے کہ جب تیرے پاس شہادت ہو تو شہادت دینے سے انکار نہ کر اور دوسرا حکم یہ ہے کہ جب شہادت کی طرف بلایا جائے تو جانے سے انکار نہ کر۔
(43) ابن المنذر نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ذلکم اقسط عند اللہ “ سے مراد ہے ” اعدل “ یعنی یہ تحریر اللہ تعالیٰ کے نزدیک عدل قائم کرنے کے لیے بہت مفید ہے۔
(44) ابن ابی حاتم اور ابو نعیم نے حلیہ میں حسن (رح) سے لفظ آیت ” واشھدوا اذا تبایعتم “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اس حکم کو اس آیت ” فان امن بعضکم بعضا “ (البقرۃ) نے منسوخ کردیا۔
(45) ابن المنذر نے جابر بن زید ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے ایک کوڑا خریدا تو اس پر میں نے گواہ بنا لیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” واشھدوا اذا تبایعتم “۔
(26) نحاس نے اپنی ناسخ میں ابراہیم (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے جب تو کسی چیز کو بیچے تو گواہ بنا لے اور جب تو کسی چیز کو خریدے تو گواہ بنا لے اگرچہ ایک گٹھڑ ترکاری کا کیوں نہ ہو۔
(47) عبد بن حمید نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واشھدوا اذا تبایعتم “ سے مراد ہے کہ تم گواہ بنالو اگرچہ ایک ساگ کا گٹھڑا کیوں نہ ہو۔
گواہ کو اور تحریر لکھنے والے کو نقصان نہ پہنچائے
(48) عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، اور بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ولا یضار کاتب ولا شھید “ سے مراد ہے کہ ایک آدمی دو آدمیوں کے پاس آتا اور ان کو تحریر لکھنے اور گواہی دینے کی طرف بلاتا ہے تو وہ کہتے تھے کہ ہم کو کوئی حاجت ہے (ہم ابھی نہیں جاسکتے) تو وہ انہیں کہتا ہے کہ تم دونوں کو یہ بات قبول کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور بلانے والے پر یہ جائز نہیں کہ وہ کاتب اور شہید کو تکلیف دے۔
(49) ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ولا یضار کاتب ولا شھید “ سے مراد ہے اگر کاتب یا شاہد کو کوئی ایسی ضرورت ہو کہ جس کا چھوڑنا ممکن نہ ہو (تو ان کو تکلیف نہ پہنچاؤ) اور ان کو چھوڑ دو ۔
(50) سفیان، عبد الرزاق، سعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر اور بیہقی نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ یوں پڑھتے تھے لفظ آیت ” ولا یضار کاتب ولا شھید “ یعنی مجہول کے صیغہ کے ساتھ۔
(51) ابن جریر نے کہا کہ حضرت ابن عباس ؓ یوں پڑھتے تھے۔ ” ولا یضار “۔
(52) ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ وہ اس طرح پڑھتے تھے لفظ آیت ” ولا یضار کاتب ولا شھید “ اور وہ اس کی تاویل یہ کرتے تھے کہ وہ آدمی جاتا تھا جس کا حق ہوتا تھا اور وہ کاتب کو اور شاہد کو گواہی کے لیے بلاتا تھا شاید وہ کسی کام میں مشغول ہوتے تھے۔
(53) ابن جریر نے طاؤس (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولا یضار کاتب ولا شھید “ سے مراد ہے کہ وہ ایسی بات لکھے جو اس کو نہیں لکھوائی تھی ” ولا شھید “ اور وہ ایسی گواہی دے جس کا اسے گواہ نہیں بنایا گیا۔
(54) ابن جریر اور بیہقی نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولا یضار کاتب “ یعنی وہ کوئی چیز زیادہ لکھ دے یا کوئی چیز مٹادے ” ولا شھید “ سے مراد ہے کہ گواہی کو نہ چھپائے اور سچی گواہی دے۔
(55) ابن جریر نے ربیع (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ آیت ” ولا یاب کاتب ان یکتب کما علمہ اللہ “ نازل ہوئی تو ان میں سے ایک آدمی کاتب کی طرف جا کر کہتا تھا مجھ کو لکھ دے تو وہ کہتا تھا کہ میں مشغول ہوں یا مجھے حاجت ہے (میں نہیں لکھ سکتا) تو میرے علاوہ کسی اور کے پاس چلے جاؤ۔ تو وہ اس سے چمٹ جاتا تھا اور کہتا تھا تجھ کو حکم دیا گیا ہے کہ تو مجھے لکھ دے وہ اس کو نہیں چھوڑتا تھا اور وہ اس معاملہ میں اس کو تکلیف دیتا تھا حالانکہ وہ دوسرے کاتب کو پاتا تھا۔ تو اس پر اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” ولا یضار کاتب ولا شھید “
(56) ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وان تفعلوا فانہ فسوق بکم “ سے مراد ہے اگر وہ کام نہیں کرو گے جس کا تم کو حکم دیا گیا ہے تو لفظ آیت ” واتقوا اللہ ویعلمکم اللہ “ (یعنی اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور اللہ تعالیٰ تم کو سکھاتے ہیں) یعنی یہ تعلیم ہے جو تم کو اللہ تعالیٰ نے سکھائی سو اس کو (مضبوطی سے) پکڑ لو۔
(57) ابو یعقوب البغدادی نے کتاب روایۃ الکبار عن الصغار میں سفیان ؓ سے روایت کیا جو اپنے عمل کے مطابق عمل کرتا ہے تو وہ مدد دیا جائے گا اس علم کے ساتھ جو وہ نہیں جانتا۔
(58) ابو نعیم نے الحلیہ میں انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے عمل کیا اس علم پر جو وہ جانتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو ایسے علم کا وارث بنائیں گے جس کو وہ نہیں جانتا۔
(59) ترمذی نے یزید بن سلمہ جعفی ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ میں نے آپ سے بہت سی حدیثیں سنی ہیں اور میں ڈرتا ہوں اس کا اول اور اس کا آخر بھول جاؤں گا۔ مجھے ایسا کلمہ بتا دیجئے جو ان سب کا جامع ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے ڈر اس بارے میں جو جانتا ہے۔
(60) الطبرانی نے الاوسط میں جابر ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تقویٰ کے معاون میں سے یہ بھی ہے کہ جو تو جانتا ہے اس کے ساتھ وہ بھی سیکھے جو تو نہیں جانتا اور جو تو جانتا ہے اس میں نقص اور تقصیر یہ ہے کہ اس میں زیادتی کا خواہش مند نہ ہو اور جو چیز انسان نہیں جانتا اس میں عدم دلچسپی کا باعث انسان کے علم میں اس سے نفع نہ اٹھانا ہے۔
(61) الداری نے عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ (ان کے والد) حضرت عمر بن خطاب ؓ نے عبد اللہ بن سلام ؓ سے پوچھا ارباب علم کون ہیں ؟ انہوں نے فرمایا وہ لوگ جو عمل کرتے ہیں اس چیز پر جو وہ جانتے ہیں۔ حضرت عمر ؓ نے ان سے پوچھا کہ لوگوں کے سینوں میں کس چیز سے علم اٹھ جاتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا طمع یعنی لالچ سے۔
(62) بیہقی نے شعب میں جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ خاموشی کو سیکھو، پھر بربادی کو سیکھو، پھر علم کو سیکھو، پھر اس پر عمل کرنے کو سیکھو پھر اس کو پھیلاؤ۔
(63) ابن ابن الدنیا نے کتاب التقویٰ میں زیادبن جریر ؓ سے روایت کیا کہ جو قوم دین کی سمجھ حاصل نہیں کرتی وہ تقویٰ کو نہیں پہنچ سکتی۔
(64) ابن ابی الدنیا نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جب میں جانتا ہوں کہ میرے بندہ پر میری اطاعت کو مضبوطی سے پکڑنا غالب ہے تو میں اس پر احسان کرتا ہوں کہ وہ میرے ذکر میں مشغول رہے اور میری طرف ہی متوجہ رہے۔
(65) ابو الشیخ نے جویبر کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا علم اسلام کی حیات ہے، ایمان کا ستون ہے اور جو علم کی تعلیم دے گا اللہ تعالیٰ اس کے لئے اس کے اجر میں قیامت کے دن تک اضافہ کرنا رہے گا اور جس شخص نے علم سیکھا اور اس پر عمل کیا تو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ اس کو وہ باتیں سکھائے جو وہ نہیں جانتا۔
(66) ھناد نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ تین آدمی ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی دعا نہیں سنتا وہ آدمی جس کے ساتھ زانیہ عورت ہے جب بھی اس سے اپنی شہوت پوری کرتا ہے تو کہتا ہے اے میرے رب ! مجھے بخش دے، تو رب تعالیٰ فرماتے ہیں اس عورت سے دور ہوجا میں تجھ کو بخش دوں گا ورنہ نہیں۔ اور وہ آدمی جو کوئی چیز ایک مدت تک فروخت کرتا ہے اس پر گواہ نہیں بناتا اور اس کو نہیں لکھتا پھر مشتری اس کے حق کا انکار کر دے تو کہتا ہے اے میرے رب فلاں آدمی نے میرے مال کا انکار کردیا ہے تو رب تعالیٰ فرماتے ہیں تجھ کو نہ میں اجر دوں گا اور نہ تجھ کو جواب دوں گا میں نے تجھ کو حکم دیا تھا لکھنے کا اور گواہ بنانے کا تو نے میری نافرمانی کی۔ اور وہ آدمی جو کسی قوم کا مال کھاتا ہے اور وہ ان کی طرف دیکھتا رہتا ہے اور پھر دعا کرتا ہے اے میرے رب ! مجھ کو بخش دیجئے جو کچھ میں نے ان کے مال میں سے کھایا تو رب تعالیٰ فرماتے ہیں ان کا مال واپس کر دے (تو تجھے بخش دوں گا) ورنہ نہیں بخشوں گا۔
Ayah 2:283(1) ابو عبید، سعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابن الانباری نے المصاحف حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا لفظ آیت ” ولم تجدوا کتابا “ پھر فرمایا کاتب تو پایا گیا مگر نہ قلم پایا گیا، نہ دوات پائی گئی اور نہ کاغذ پایا گیا اور کتاب ان سب چیزوں کو جمع کرلیتی ہے پھر فرمایا حضرت ابی ؓ کی قراۃ بھی ایسے ہی تھی۔
(2) عبد بن حمید نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس طرح پڑھتے تھے لفظ آیت ” فان لم تجدوا کتابا “ پھر فرمایا کاتب تو پایا گیا مگر دوات اور کاغذ نہیں پایا گیا۔
(3) ابن الانباری (رح) نے ضحاک (رح) سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔
(4) ابو عبید، عبد بن حمید اور ابن الانباری نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح سے پڑھا لفظ آیت ” فان لم تجدوا کتابا “۔
(5) ابو عبید، عبد بن حمید ابن الانباری نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے اس طرح پڑھا لفظ آیت ” فان لم تجدوا کتابا “ اس سے مراد ہے روشنائی (یعنی اگر روشنائی تم نہ پاؤ) ۔
(6) عبد نے حمید نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے اس طرح پڑھا لفظ آیت ” فان لم تجدوا کتابا “ اور فرمایا کتابت بہت تھی عرب کا کوئی گھر ایسے نہیں تھے جن میں کاتب نہ ہوں لیکن کاغذ، قلم اور دوات ان کے پاس نہ تھی۔
(7) ابن الانباری نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ وہ اس طرح پڑھتے تھے لفظ آیت ” ولم تجدوا کتابا “ کاف کے ضمہ اور تا کی تشدید کے ساتھ۔
(8) حاکم نے اور (اس کو صحیح کہا) زید بن ثابت ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اس طرح پڑھوایا۔ لفظ آیت ” فرھن مقبوضۃ “ بغیر الف کے۔
(9) سعید بن منصور نے حمید اعرج اور ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ دونوں نے اس طرح پڑھا لفظ آیت ” فرھن مقبوضۃ “
(10) سعید بن منصور نے حسن اور ابو الرجا (رح) سے روایت کیا ہے کہ دونوں نے یوں پڑھا لفظ آیت ” فرھان مقبوضۃ “۔
(11) ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے لفظ آیت ” وان کنتم علی سفر “ (الآیہ) کے بارے میں فرمایا کہ جو شخص سفر میں ہو اور وہ کوئی چیز ایک مدت تک فروخت کرے اور کاتب کا نہ پائے تو اس کے لیے رھن قبضہ کرلینے کی اجازت ہے اور اس کے لیے رھن رکھنا جائز نہیں اگر کاتب کو پالے۔
(12) عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وان کنتم علی سفر ولم تجدوا کاتبا فرہن مقبوضۃ “ کے بارے میں روایت کیا کہ رھن رکھنا صرف سفر میں (جائز) ہوگا۔
(13) بخاری، مسلم نسائی، ابن ماجہ اور بیہقی نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک یہودی سے ادھار میں غلہ خریدا اور لوہے کی زرہ اس کے پاس رہن میں رکھی۔
تحریر کا سامان نہ ہو تو رہن رکھا
(14) ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وان کنتم علی سفر ولم تجدوا کاتبا “ سے مراد ہے کہ اگر تم سفر میں قرض کے لکھنے پر قادر نہ ہو لفظ آیت ” فرھن مقبوضۃ “ تو چاہئے کہ وہ آدمی رہن رکھ لے جس کا مطلوب سے حق ہے پھر فرمایا لفظ آیت ” فان امن بعضکم بعضا “ یعنی اگر وہ امین ہو جس پر حق ہے حق والے کے نزدیک تو وہ رہن نہ رکھے اس کے ثقہ ہونے کی وجہ سے اور اس کے ساتھ حسن ظن ہونے کی وجہ سے پھر فرمایا لفظ آیت ” فلیؤد الذی اؤتمن امانتہ “ یعنی جس پر حق ہے وہ ادا کرلے اس کے مالک کی طرف اور جس پر حق ہے اس کو اللہ تعالیٰ سے ڈراتے ہوئے فرمایا لفظ آیت ” ولیتق اللہ ربہ ولا تکتموا الشھادۃ “ یعنی حکام کے پاس جا کر گواہی کو نہ چھپائے، پھر فرمایا جو شخص کسی حق پردے تو اس کو اپنے پاس سے قائم رکھے (یعنی اپنے طور پر سچی گواہی دے) جس طرح ہو، (اور) لفظ آیت ” ومن یکتمھا “ یعنی جو گواہی کو چھپائے اور جب بلایا جائے تو گواہی نہ دے، اس لیے کہ ” فانہ اثم قلبہ واللہ بما تعملون علیم “ یعنی گواہی اور اس کے قائم رکھنے کو چھپانے کی وجہ سے (تو دل اس کا گناہگار ہوگا) ۔
(15) عبد بن حمید، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ رہن نہیں ہوتا ہے مگر قبضہ کیا ہوا، وہ شخص قبضہ کرتا ہے جس کا مال ہے پھر یہ آیت پڑھی ” فرھن مقبوضۃ “۔
(16) بخاری نے تاریخ الکبیر میں ابو داؤد اور نحاس نے اکٹھے ناسخ میں ابن ماجہ، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم اور ابو نعیم نے الحلیہ میں بیہقی نے اپنی سنن میں ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کو یوں پڑھا ” یایھا الذین امنوا اذا تداینتم بدین “ یہاں تک کہ جب اس آیت پر پہنچے لفظ آیت ” فان امن بعضکم بعضا “ تو فرمایا اس آیت نے اس سے پہلے والی آیت (کے حکم) کو منسوخ کردیا۔
(17) عبد بن حمید، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ کچھ حرج نہیں جب اس کو (یعنی قرض لینے والے کو) امین سمجھتا ہو تو نہ لکھے اور نہ گواہ بنائے اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے لفظ آیت ” فان امن بعضکم بعضا “۔
(18) ابن ابی حاتم نے ربیع (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولا تکتموا الشھادۃ “ سے مراد ہے کسی کے لیے یہ حلال نہیں کہ گواہی کو چھپائے جبکہ اس کے پاس گواہی ہو اگرچہ وہ اپنے اوپر یا اپنے والدین یا، اپنے رشتہ داروں کے خلاف پڑتی ہو۔
(19) ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فانہ اثم قلبہ “ سے مراد ہے اس کا دل گناہگار ہو۔
Ayah 2:284(1) سعید بن منصور، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے مجاہد کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” وان تبدوا ما فی انفسکم او تخفوہ یحاسبکم بہ اللہ “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ آیت شہادت کے بارے میں نازل ہوئی۔
(2) ابن جریر، ابن المنذر مقسم کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت ” وان تبدوا ما فی انفسکم او تخفوہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت شہادت کو چھپانے اور اس کو قائم کرنے کے بارے میں نازل ہوئی۔
(3) احمد، مسلم، ابو داؤد نے اپنی ناسخ میں، ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت ” للہ ما فی السموت وما فی الارض وان تبدوا ما فی انفسکم او تخفوہ یحاسبکم بہ اللہ فیغفر لمن یشاء ویعذب من یشاء واللہ علی کل شیء قدیر “ رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ پر یہ حکم بھاری ہوا تو وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم ان اعمال کے مکلف بنائے گئے جس کی ہم طاقت رکھتے ہیں (جیسے) نماز، روزہ، جہاد اور صدقہ اور یہ آیت ہم پر اتاری گئی اور ہم اس کی طاقت نہیں رکھتے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم اس بات کے کہنے کا ارادہ رکھتے ہو جیسے تم سے پہلے اہل کتاب والوں نے کہی تھی کہ ہم نے سنا اور ہم نے نافرمانی کی، بلکہ تم یوں کہو لفظ آیت ” سمعنا واطعنا غفرانک ربنا والیک المصیر “ جب قوم نے اس کو پڑھا اور ان کی زبانیں اس کے ساتھ چلنے لگیں، تو اللہ تعالیٰ نے اس کے پیچھے یہ آیت اتاری ” امن الرسول۔۔ الخ “ جب انہوں نے اس کام کو کرلیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کو منسوخ کردیا اور یہ آیت اتاری لفظ آیت ” لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا “ آخر تک۔
(4) احمد، مسلم، ترمذی، نسائی، ابن جریر، انم المنذر، حاکم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں روایت کی کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ جب یہ آیت ” وان تبدوا ما فی انفسکم او تخفوہ یحاسبکم بہ اللہ “ نازل ہوئی تو اس میں سے کوئی چیز (پریشانی) ان کے دلوں میں داخل ہوئی تو انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے عرض کیا آپ نے فرمایا تم کہو ہم نے سن لیا ہم نے اطاعت کی اور ہم نے تسلیم کیا، تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ایمان کو ڈال دیا (اس پر) اللہ تعالیٰ نے اتارا لفظ آیت ” امن الرسول بما انزل الیہ من ربہ والمؤمنون کل امن باللہ وملئکتہ وکتبہ ورسلہ لا نفرق بین احد من رسلہ وقالوا سمعنا واطعنا غفرانک ربنا والیک المصیر۔ لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا لھا ما کسبت وعلیھا ما اکتسبت ربنا لا تؤخذنا ان نسینا او اخطانا “ پھر فرمایا (اے اللہ) آپ نے اس کام کو کرلیا (اور اب) ” ربنا ولا تحمل علینا اصرا کما حملتہ علی الذین من قبلنا “ (یعنی ہم پر ایسا بوجھ کو نہ اٹھوائیے جو آپ نے ان لوگوں پر اٹھوائے تھے جو ہم سے پہلے تھے پھر فرمایا (اے اللہ) آپ نے اس کام کو کرلیا (اور اب) ” ربنا ولا تحملنا ما لا طاقۃ لنا بہ “ پھر فرمایا اے اللہ ! آپ نے یہ کام بھی کرلیا، (اور اب) ” واعف عنا واغفرلنا وارحمنا “ پھر فرمایا اے اللہ ! آپ نے اس کام کو کرلیا یعنی ہم سے درگزر فرمایا ہم کو بخش دیا اور ہم پر رحم فرمایا۔
صحابہ پر خوف کا طاری ہونا
(5) عبد الرزاق، احمد، ابن جریر، ابن المنذر نے روایت کیا کہ مجاہد (رح) نے فرمایا کہ میں حضرت ابن عباس ؓ کے پاس آیا اور میں نے کہا کہ میں حضرت ابن عمر ؓ کے پاس تھا اور انہوں نے اس آیت کو پڑھا تو وہ رونے لگے انہوں نے پوچھا کون سی آیت ؟ میں نے کہ یہ آیت ” وان تبدوا ما فی انفسکم او تخفوہ “ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا بلاشبہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کو شدید غم ہوا اور شدید پریشانی میں ڈوب گئے، اور عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم تو ہلاک ہوجائیں گے اگر ہم اپنے بولنے پر اور اپنے عمل کرنے پر پکڑے گئے، لیکن ہمارے دل ہاتھوں میں نہیں تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا تم کہو ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی، راوی نے کہا پھر اس آیت ” امن الرسول “ نے اس (حکم) کو منسوخ کردیا ” وعلیھا ما اکتسبت “ تک اب ان کے لیے دل کی بات جائز ہوگئی لیکن وہ اعمال سے پکڑے جائیں گے۔ (یعنی اعمال کا مواخذہ ہوگا) ۔
(6) عبد بن حمید، ابو داؤد نے اپنی ناسخ میں، ابن جریر (یعنی اعمال کا مواخذہ ہوگا) طبرانی نے شعب میں سعید بن مرجانہ (رح) سے روایت کیا اس درمیان کے ہم عبد اللہ بن عمر ؓ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے یہ آیت ” وان تبدوا ما فی انفسکم او تخفوہ “ پڑھی اور فرمایا اللہ کی قسم ! اگر ہم کو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ پکڑنا چاہیں تو ہم ضرور ہلاک ہوجائیں گے پھر (اتنا) روئے یہاں تک کہ ان کی ہچکی بندھ گئی ابن مرجانہ (رح) نے فرمایا کہ میں وہاں سے اٹھ کر حضرت ابن عباس ؓ کے پاس آیا اور ان کو وہ بات بتائی جو ابن عمر نے فرمائی تھی، اس کی تلاوت کے وقت جو کچھ انہوں نے کہا تھا وہ بھی بتایا، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ابو عبد الرحمن کی مغفرت فرمائے، مجھے قسم ہے اپنی عمر کی جب یہ آیت نازل ہوئی تو میں نے اس میں سے مسلمانوں کو ایسے ہی پایا جیسے عبد اللہ بن عمر ؓ کو پایا گیا، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا “ آخر سورت تک (پھر) ابن عباس ؓ نے فرمایا یہ وسوسہ تھا ان چیزوں میں سے جس کی مسلمانوں کو طاقت نہیں تھی، اور یہ کام ہوگیا اس بات کی طرف کہ اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ فرمادیا، کہ ہر ایک آدمی کے لیے وہی (بدلہ) ہوگا جو اس نے کمایا اور اس کے لیے وہی سزا ہوگی قول سے اور عمل سے جو اس نے کمایا۔
(7) ابن ابی شیبہ، ابن جریر، نحاس نے اپنی ناسخ میں اور حاکم نے (اس کو صحیح کہا) سالم (رح) سے روایت کیا کہ ان کے والد (عبد اللہ بن عمر ؓ نے یہ آیت پڑھی لفظ آیت ” وان تبدوا ما فی انفسکم او تخفوہ یحاسبکم بہ اللہ “ تو ان کی آنکھیں بہہ پڑیں یہ بات جب ابن عباس ؓ کو پہنچی تو انہوں نے فرمایا ابو عبد الرحمن پر اللہ تعالیٰ رحم فرمائے رسول اللہ ﷺ کے اصحاب نے بھی ایسا ہی کیا تھا جب یہ آیت نازل ہوئی تھی، اس آیت (کے حکم) کو منسوخ کردیا (اس آیت نے) جو اس کے بعد ہے لفظ آیت ” لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا “۔
(8) ابن ابی شیبہ، احمد نے الزہد میں، عبد بن حمید نے نافع (رح) سے روایت کیا بہت کم ایسا ہوتا تھا کہ حضرت ابن عمر ؓ اس آیت پر (جب) آتے تھے مگر روتے تھے (وہ آیت یہ تھی) لفظ آیت ” وان تبدوا ما فی انفسکم او تخفوہ یحاسبکم بہ اللہ “ آخری آیت تک۔ اور فرماتے تھے کہ یہ گنتی بہت سخت ہے۔
(9) بخاری، و بیہقی نے شعب میں مروان اصغر (رح) سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ایک صحابی جس کو میں خیال کرتا ہوں کہ وہ ابن عمر ؓ تھے انہوں نے فرمایا کہ اس آیت ” وان تبدوا ما فی انفسکم او تخفوہ “ (کے حکم) کو بعد والی آیت نے منسوخ کردیا۔
(10) عبد بن حمید اور ترمذی نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ایک صحابی جس کو میں خیال کرتا ہوں کہ وہ ابن عمر ؓ تھے انہوں نے فرمایا کہ اس آیت ” وان تبدوا ما فی انفسکم او تخفوہ یحاسبکم بہ اللہ “ نازل ہوئی تو (اس آیت نے) ہم کو غمگین کردیا ہم نے عرض کیا ہم میں سے کوئی ایک اپنے دل میں بات کرتا ہے تو اس کا بھی حساب لیا جائے گا ہم نہیں جانتے کہ اس سے مغفرت ہوگی یا نہیں اس کے بعد یہ آیت ” لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا لھا ما کسبت وعلیھا ما اکتسبت “ نازل ہوئی۔ تو (پہلی آیت کے حکم کو) اس (آیت) نے منسوخ کردیا۔
(11) سعید بن منصور ابن جریر اور طبرانی نے حضرت ابن مسعود ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اس آیت ” لھا ما کسبت وعلیھا ما اکتسبت “ کے نازل ہونے سے پہلے محاسبہ تھا جب یہ آیت نازل ہوئی تو اس نے اس آیت کے حکم کو منسوخ کردیا جو اس سے پہلے تھی۔
(12) ابن جریر نے قتادہ کے طریق سے ام المؤمنین حضرت عائشہ ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اس آیت کو لفظ آیت ” لھا ما کسبت وعلیھا ما اکتسبت “ نے منسوخ کردیا۔
(13) سفیان، عبد بن حمید، بخاری مسلم، ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، اور ابن المنذر نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے میری امت کو وہ خیال معاف کر دئیے ہیں جو دل میں آئیں جب تک زبان سے نہ نکالیں یا ہاتھ پاؤں سے ان پر عمل کریں۔
ہر آسمانی کتاب میں موجود آیت
(14) الفریابی، عبد بن حمید اور ابن المنذر نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی نبی کو یا کسی رسول کو نہیں بھیجا کہ جس پر کتاب اتاری ہو اور اس میں یہ آیت نازل نہ ہو لفظ آیت ” وان تبدوا ما فی انفسکم او تخفوہ یحاسبکم بہ اللہ فیغفر لمن یشاء ویعذب من یشاء واللہ علی کل شیء قدیر۔ “ تو امتوں نے اپنے انبیاء اور رسولوں پر انکار کیا اور کہنے لگا کہ ہم پکڑے جائیں گے جو کچھ ہم دلوں میں سوچتے ہیں لیکن ہمارے اعضاء وجوارح نے عمل نہیں کیا تو وہ کافر اور گمراہ ہوجاتے تھے جب یہ آیت نبی اکرم ﷺ پر نازل ہوئی تو صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا ہم پکڑے جائیں گے ان باتوں سے جو ہم اپنے دلوں میں سوچتے ہیں حالانکہ ہمارے اعضاء وجوارح نے عمل نہیں کیا۔ آپ نے فرمایا ہاں ! تم لوگ (اللہ تعالیٰ کے فرمان کو) سنو اور اطاعت کرو اور اپنے رب سے (مغفرت) طلب کرو اس وجہ سے اللہ تعالیٰ کا یہ قول (نازل ہوا) لفظ آیت ” امن الرسول “ (آخر تک) تو اللہ تعالیٰ ان کے دل کی بات کو ان سے معاف کردیا مگر جو اعضاء جوارح نے کام کیا (وہ معاف نہیں ہوگا) ان کے لیے اجر ہوگا جو کچھ انہوں نے خیر کا کام کیا اور ان پر ہی وبال ہوگا جو کچھ بھی انہوں نے گناہ کا کام کیا پھر فرمایا (یوں کہو) لفظ آیت ” ربنا لا تؤاخذنا ان نسینا او اخطانا “ تو (اس آیت سے) اللہ تعالیٰ نے یوں خطا اور نسیان کو بھی معاف کردیا (پھر فرمایا) لفظ آیت ” ربنا ولا تحمل علینا اصرا کما حملتہ علی الذین من قبلنا “ یعنی وہ لوگ اس کام کی تکلیف نہیں دئیے گئے جس کی وہ طاقت نہیں رکھتے اور ان پر وہ بوجھ نہیں اٹھوایا گیا جو ان سے پہلی امتوں پر تھا ان سے معاف کردیا ان کو بخش دیا اور ان کی مدد فرمائی۔
(15) ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے علی ؓ کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وان تبدوا ما فی انفسکم او تخفوہ “ سے تمہاری چھپی ہوئی باتیں اور ظاہری مراد ہیں ” یحاسبکم بہ اللہ “ یعنی اللہ تعالیٰ تمہارا حساب لیں گے اس (حکم) کو منسوخ نہیں فرمایا لیکن اللہ تعالیٰ قیامت کے دن جب ساری مخلوق کو جمع فرمائیں گے تو فرمائیں گے میں تم کو بتاتا ہوں تمہاری وہ باتیں جو تم دلوں میں چھپاتے تھے جو میرے فرشتوں کو بھی معلوم نہیں ہیں لیکن ایمان والوں کو جب ان کو بتائیں گے تو ان کے دلوں کی باتوں کو معاف کردیں گے اور فرمایا ” یحاسبکم بہ اللہ “ سے مراد ہے یعنی تم کو (تمہارے چھپے ہوئے اعمال) بتادیں گے لیکن شک کرنے والوں کو یعنی کافروں اور منافقوں کو بتائیں گے جو کچھ وہ تکذیب (یعنی اللہ کے دین کو جھٹلایا کرتے) تھے اور وہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے لفظ آیت ” ولکن یؤخذکم بما کسبت قلوبکم “ (یعنی تم پکڑے جاؤ گے جو کچھ تمہارے دلوں نے کمایا یعنی دلوں میں برے کاموں کے بارے میں سوچا) ۔
(16) عبد بن حمید، ابو داؤد نے اپنی نحاسخ میں ابن جریر ابن المنذر ابن ابی حاتم اور نحاس نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وان تبدوا ما فی انفسکم او تخفوہ “ سے مراد ہے یقین میں سے ہے اور شک میں سے (جو کچھ تم ظاہر کرو گے یا اس کو چھپاؤگے) ۔
(17) ابن جریر، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وان تبدوا ما فی انفسکم او تخفوہ “ سے مراد ہے کہ تیرے عمل کا چھپانا اور اس کا اعلانیہ کرنا لفظ آیت ” یحاسبکم بہ اللہ “ سے (اللہ تعالیٰ حساب لیں گے اس چیز کا بھی جو مؤمن بندہ اپنے دل میں خیر (کی نیت) کو چھپاتا ہے تاکہ اس پر عمل کرے اگر اس نے عمل کرلیا تو اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گے اور اگر وہ اس کے کرنے پر قادر نہیں ہوا تو اس کے لیے ایک نیکی لکھی جائے گی اس وجہ سے کہ وہ مؤمن ہے اور اللہ تعالیٰ ایمان والوں کے چھپے ہوئے اور اعلانیہ (نیک) کاموں سے راضی ہوتے ہیں اگر اس نے اپنے دل میں برے کام کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ کو تو معلوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ اس دن بتائیں گے جس دن بھیدوں کا بھی امتحان لیا جائے گا اگر اس نے عمل نہیں کیا تو اللہ تعالیٰ اس کو نہیں پکڑیں گے یہاں تک کہ وہ اس کے ساتھ عمل نہ کرے اگر اس نے عمل کر بھی لیا تو اللہ تعالیٰ اس سے در گذر فرما دیں گے جیسا کہ فرمایا لفظ آیت ” اولئک الذین نتقبل عنہم احسن ما عملوا ونتجاوز عن سیاتہم “ (الاحقاف آیت 16) ۔
(18) ابو داؤد نے اپنی ناسخ میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وان تبدوا ما فی انفسکم او تخفوہ یحاسبکم بہ اللہ “ (کا حکم) منسوخ کردیا گیا اور فرمایا لفظ آیت ” لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا “۔
(19) طبرانی اور بیہقی نے شعب میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وان تبدوا ما فی انفسکم او تخفوہ “ جب یہ آیت نازل ہوئی تو مسلمانوں پر (یہ حکم) بھاری ہوا اور ان پر مشقت ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے (یہ حکم) منسوخ فرمادیا اور اللہ تعالیٰ نے (یہ حکم) نازل فرمایا لفظ آیت ” لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا “۔
(20) طبرانی نے مسند الشامیین میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت ” وان تبدوا ما فی انفسکم او تخفوہ “ نازل ہوئی تو ابو بکر، عمر، معاذ بن جبل اور سعد بن زارہ ؓ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرج کیا کہ ہم پر اس سے زیادہ سخت آیت نازل نہیں ہوئی۔
(21) ابن جریر (رح) نے ضحاک (رح) کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائیں گے بلاشبہ میری کتاب نے تمہارے ان اعمال کو لکھا جو اس میں سے ظاہر تھے اور جو کچھ تم نے اپنے دلوں میں چھپایا تھا، تو میں آج ان کا حساب لوں گا، جس کو چاہوں گا بخش دوں گا، اور جس کو چاہوں گا عذاب دوں گا۔
(22) ابن جریر، ابن ابی حاتم نے ربیع بن انس (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت محکم ہے کوئی چیز منسوخ نہیں ہوئی، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بتائیں گے جو تو نے اپنے دل میں اس طرح اور اس طرح چھپایا تھا، اور (پھر) اس کا مواخذہ نہیں فرمائیں گے۔
(23) الطیالسی، احمد، ترمذی (نے اس کو حسن کہا) ابن جریر ابن المنذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے شعب میں امیہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” وان تبدوا ما فی انفسکم او تخفوہ یحاسبکم بہ اللہ “ اور ” من یعمل سوء یجز بہ “ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ کسی نے مجھ سے اس بارے میں نہیں پوچھا جب سے میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا پھر فرمایا یہ اللہ کا عذاب ہے بندہ کو اس چیز میں جو اسے بخار یا کسی مصیبت سے پہنچے، یہاں تک کہ سامان تجارت جو اس نے اپنی قمیص کی آستین میں رکھا تھا پھر اس کو گم کردیا اور گھبرا گیا پھر اس کو اپنے کنبہ کے پاس پایا، یہاں تک کہ آدمی نکل جاتا ہے اپنے گناہوں سے (پاک ہو کر) جیسا کہ سونا نکل آتا ہے بھٹی سے (صاف ہو کر) ۔
(24) سعید بن منصور، ابن جریر نے ضحاک (رح) کے طریق سے حضرت عائشہ ؓ سے اس آیت ” وان تبدوا ما فی انفسکم “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد وہ آدمی ہے جو کسی گناہ کا ارادہ کرتا ہے لیکن اس پر عمل نہیں کرتا اس کے گناہ کے بقدر اس پر غم اور رنج کو بھیجا جاتا ہے، تو یہ محاسبہ ہوا۔
(25) ابن جریر نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا ہر بندہ (جب) کسی برے کام کا اور گناہ کا ارادہ کرتا ہے اور اپنے نفس کو (گناہ کرنے پر) آمادہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ دنیا میں اس کا حساب لے لیتے ہیں وہ ڈرتا ہے اور غمگین ہوتا ہے اور مضبوط ارادہ کرتا ہے مگر اس میں سے کسی چیز کو نہیں پاتا، جیسا کہ وہ برے کام کا ارادہ کرتا ہے مگر اس پر ذرا بھی عمل نہیں کرتا۔
(26) عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” فیغفر لمن یشاء ویعذب من یشاء “ پڑھا یعنی دونوں کو رفع کے ساتھ۔
(27) اعمش (رح) نے ان دونوں کو جزم کے ساتھ پڑھا ہے۔
(28) ابن ابی داؤد نے المصاحف میں اعمش (رح) سے روایت کیا ہے کہ ابن مسعود ؓ کی قرات میں یوں ہے لفظ آیت ” یحاسبکم بہ اللہ فیغفر لمن یشاء “ بغیر فاء کے۔
(29) ابن ابی داؤد نے المصاحف میں اعمش (رح) سے روایت کیا کہ ابن مسعود ؓ کی قرات میں یوں ہے لفظ آیت ” فیغفر لمن یشاء “ سے مراد ہے کہ (اللہ تعالیٰ ) جس کے لیے چاہیں گے اس کے بڑے گناہ معاف کردیں گے اور چھوٹے گناہوں پر عذاب دیں گے جس کے لیے چاہیں گے۔