2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 2:230

فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗ١ؕ فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یَّتَرَاجَعَاۤ اِنْ ظَنَّاۤ اَنْ یُّقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ یُبَیِّنُهَا لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 2:230 in the Quran reader

پھر اگر اس کو طلاق دیدی تو اس کے لئے اس کے بعد حلال نہ ہوگی یہاں تک کہ اس شوہر کے بعد کسی دوسرے شوہر سے نکاح نہ کرے۔ سو اگر اس نے طلاق دیدی تو ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ پھر آپس میں رجوع ہوجائیں۔ اگر دونوں کو اس بات کا گمان ہو کہ اللہ کے حدود قائم رکھیں گے اور یہ اللہ کی حد بندیاں ہیں وہ انہیں بیان فرماتا ہے ان لوگوں کے لئے جو جانتے ہیں

(1) ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، بیہقی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فان طلقھا فلا تحل لہ من بعد “ سے مراد ہے کہ اگر خاوند بیوی کو تین طلاقیں دیدے تو اس کے لئے (اب) حلال نہیں یہاں تک کہ دوسرے مرد سے نکاح کرلے۔ (2) ابن جریر نے مجاہد (رح) سے لفظ آیت ” فان طلقھا فلا تحل لہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس آیت کا تعلق اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” فامساک بمعروف او تسریح باحسان “ کے ساتھ کہ اب تیسری طلاق کے بعد خامساک بمعروف جائز نہیں۔ (3) عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فان طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ “ سے یہ تیسری طلاق مراد ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے تیسری طلاق کی سزا یہ بنا دی کہ اب اس کے لئے حلال نہیں یہاں تک کہ دوسرے مرد سے نکاح نہ کرلے۔ تین طلاق سے عورت حرام ہوجاتی ہے (4) ابن المنذر نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فان طلقھا فلا تحل لہ “ سے مراد یہ تیسری طلاق ہے۔ (5) عبد الرزاق نے المصنف میں ام سلمہ ؓ سے روایت کیا کہ ان کے ایک غلام نے اپنی آزاد بیوی کو دو طلاقیں دیں ام سلمہ ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے فتویٰ پوچھا تو آپ نے فرمایا اب یہ عورت اس پر حرام ہوگئی یہاں تک کہ دوسرے مرد سے نکاح کرے۔ (6) شافعی، بیہقی نے حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ ایک غلام دو عورتوں سے نکاح کرسکتا ہے اور وہ طلاقیں دے سکتا ہے تو باندی دو حیض کی عدت گزارے۔ اگر اس کو حیض نہ آتا ہو تو دو مہینے کی عدت گزارے۔ (7) مالک، شافعی، نحاس، بیہقی نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ وہ فرمایا کرتے تھے کہ جب غلام اپنی بیوی کو دو طلاقیں دیدے تو اس پر وہ عورت حرام ہوجائے گی یہاں تک کہ دوسرے مرد سے نکاح کرلے عورت چاہے آزاد ہو یا باندی ہو اور باندی کی عدت دو حیض ہے۔ اور ؤزاد عورت کی عدت تین حیض ہے۔ (8) مالک، شافعی، بیہقی نے ابن مسیب (رح) سے روایت کیا کہ نقیع (رح) نے جو ام سلمہ ؓ کا مکاتب غلام تھا اپنی آزاد بیوی کو دو طلاقیں دیں۔ حضرت عثمان بن عفان ؓ سے فتوی پوچھا گیا تو انہوں نے اس کو فرمایا کہ (اب وہ عورت) تجھ پر حرام ہوگئی۔ (9) مالک، شافعی، بیہقی نے سلیمان بن یسار (رح) سے روایت کیا کہ نقیع جو ام سلمہ ؓ کا مکاتب تھا اس کے نکاح میں آزاد عورت تھی۔ اس نے اس کو دو طلاقیں دیں پھر اس سے رجوع کرنے کا ارادہ کیا۔ تو ازواج نبی ﷺ نے اس کا حکم دیا کہ وہ حضرت عثمان بن عفان ؓ سے اس بارے میں پوچھے وہ ان کی طرف گیا تو ان کے پاس زید بن ثابت ؓ بھی موجود تھے۔ اس نے دونوں سے پوچھا تو دونوں نے جواب دیا کہ (اب وہ عورت) تجھ پر حرام ہے۔ تجھ پر حرام ہے (دو مرتبہ فرمایا) ۔ وأما قولہ تعالیٰ : ” حتی تنکح زوجا غیرہ “ (10) ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ عورت اس کے خاوند کے لئے حلال نہیں یہاں تک کہ دوسرے خاوند سے نکاح کرلے اور وہ اس کو حرکت بھی دے (یعنی اس کے ساتھ جماع بھی کرے) زوج ثانی کی ہمبستری ضروری ہے (11) ابن المنذر نے مقاتل بن حیان (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت عائشہ بنت عبد الرحمن بن عتیق النصری کے بارے میں نازل ہوئی۔ وہ رفاعہ بن وھب بن عتیک کے نکاح میں تھیں اور وہ ان کے چچا کا بیٹا تھا اس نے تین طلاقیں دے دیں۔ اس کے بعد عبد الرحمن بن زبیر قرضی نے نکاح کیا اس نے بھی اسے طلاق دیدی۔ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئیں اور کہا کہ اس نے (یعنی دوسرے خاوند نے) مجھے طلاق دیدی ہے مجھے چھونے سے پہلے (یعنی جماع سے پہلے) کیا میں پہلے خاوند کے پاس پھر جاسکتی ہوں ؟ آپ نے فرمایا نہیں یہاں تک کہ وہ تجھ سے جماع کرلے۔ پھر وہ ٹھہری رہی جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا پھر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی اس نے مجھ سے جماع کرلیا ہے۔ آپ نے فرمایا تو نے اپنے پہلے قول کے ساتھ جھوٹ بولا تھا۔ (کہ اس نے مجھے طلاق دیدی ہے) اب میں تیری دوسری بات کو سچ نہیں مانتا۔ پھر وہ ٹھہری رہی یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ اس دنیا سے انتقال فرماگئے اور پھر وہ ابوبکر ؓ کے پاس آئی اور کہنے لگی میں پہلے خاوند کے پاس چلی جاؤں کیونکہ دوسرے خاوند نے مجھ سے جماع کرلیا ہے۔ ابوبکر نے فرمایا تو نبی اکرم ﷺ کے پاس حاضر ہوئی تھی اور انہوں نے تجھ سے فرمایا تھا تو اس کی طرف (یعنی پہلے خاوند کی طرف) نہیں جاسکتی۔ جب ابوبکر کی وفات ہوگئی تو حضرت عمر ؓ کے پاس آئی تو انہوں نے اس سے کہا اگر تو اس کے بعد میرے پاس آئی تو میں تجھ کو ضرور رجم کروں گا (گویا) اس کو منع کردیا اور اس کے بارے میں (یہ آیت) نازل ہوچکی تھی لفظ آیت ” فان طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ “ یعنی (دوسرا خاوند) اس سے جماع کرے گا۔ پھر جماع کے بعد اگر اس کو طلاق دیدے تو ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ آپس میں رجوع کرلیں (یعنی پہلے خاوند سے) (12) شافعی، عبد الرزاق، ابن ابی شیبہ، احمد، بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، بیہقی نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کیا کہ رفاعہ کی بیوی رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی میں رفاعہ کے نکاح میں تھی اس نے مجھ کو تین طلاقیں دے دیں پھر عبد الرحمن بن زبیر ؓ نے مجھ سے نکاح کرلیا اس کے ساتھ کپڑے کی جھالر کی طرح ہے۔ (وہ نامرد ہے) نبی اکرم ﷺ نے تبسم فرمایا اور فرمایا کیا تو رفاعہ کے پاس (دوبارہ) جانا چاہتی ہے مگر (تو اس کے نکاح میں دوبارہ نہیں آسکتی) جب تک کہ تو اس سے مزہ چکھ لے۔ اور وہ تجھ سے مزانہ چکھ لے (یعنی جب تک وہ جماع نہ کرلے) (13) بخاری، مسلم، نسائی، ابن جریر، بیہقی نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں پھر اس نے دوسرے شوہر سے نکاح کرلیا اور اس نے جماع سے پہلے اس کو طلاق دیدی نبی اکرم ﷺ سے اس بارے میں سوال کیا گیا کہ کیا یہ عورت پہلے شوہر کے لئے حلال ہوسکتی ہے ؟ آپ نے فرمایا نہیں یہاں تک دوسرا شوہر اس کا مزا چکھ لے۔ (یعنی جماع کرلے) جیسا کہ پہلے شوہر سے مزہ چکھا تھا۔ (14) عبد الرزاق نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ عورت جس کو رفاعہ نے طلاق دی تھی اس کا نام تمیمہ بنت وھب بن عبید تھا اور وہ قبیلہ بنو نصیر سے تھی۔ عبد الرحمن بن زبیر ؓ کا نکاح (15) مالک، شافعی، ابن سعد، بیہقی نے زبیر بن عبد الرحمن بن زبیر (رح) سے روایت کیا کہ رفاعہ بن سموال قرظی نے اپنی بیوی تمیمہ بنت وھب کو رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں تین طلاقیں دیں پھر عبد الرحمن بن زبیر ؓ نے اس سے نکاح کیا اس نے اس سے جماع کرنے کی کوشش کی۔ مگر کامیاب نہ ہوسکا۔ تو اس نے اس کو جدا کردیا (یعنی طلاق دیدی) ۔ رفاعہ نے اس سے دوبارہ نکاح کرنے کا ارادہ کیا جو اس کا پہلا شوہر تھا جس نے طلاق دی تھی یہ بات رسول اللہ ﷺ سے ذکر کی گئی تو آپ نے اس کو نکاح کرنے سے منع فرمایا اور فرمایا وہ تیرے لئے حلال نہیں یہاں تک کہ دوسرا اس سے مزہ نہ چکھ لے (یعنی جماع نہ کرے) (16) البزار، طبرانی، بیہقی نے زبیر بن عبد الرحمن بن زبیر (رح) سے روایت کیا اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رفاعہ بن سموال قرظی نے اپنی بیوی کو طلاق دی۔ وہ عورت نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی اور کہا یا رسول اللہ ! میں نے عبد الرحمن سے (دوسرا) نکاح کیا تھا۔ مگر اس کے پاس کپڑے کے پلو کی طرح اور اپنے کپڑے کے پلو کی طرف اشارہ کیا رسول اللہ صلی اللہ ﷺ نے اس کی بات سے اعتراض فرمایا پھر فرمایا کیا تو رفاعہ کے پاس دوبارہ جانا چاہتی ہے مگر (ایسا ہرگز نہ ہوگا) یہاں تک وہ اس کا مزا چکھ لے اور خاوند اس کا مزہ چکھ لے۔ (17) ابن ابی شیبہ، ابو داؤد، نسائی، ابن ماجہ، ابن جریر نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے ایسے آدمی کے بارے پوچھا گیا جس نے اپنی عورت کو طلاق دیدی پھر اس سے دوسرے آدمی نے نکاح کرلیا۔ وہ آدمی اس کے پاس داخل ہوا مگر جماع کرنے سے پہلے اس کو طلاق دیدی تو کیا یہ عورت اپنے پہلے خاوند کے لئے حلال ہوسکتی ہے ؟ آپ نے فرمایا نہیں۔ یہاں تک کہ وہ عورت دوسرے خاوند کا مزہ چکھ لے اور وہ اس عورت کا مزہ چکھ لے۔ تین طلاق کے بعد حلال ہونے کے لئے شوہر ثانی کی ہمبستری ضروری ہے (18) عبد الرزاق، ابن ابی شیبہ، احمد، نسائی، ابن ماجہ، ابن جریر، بیہقی نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جس نے اپنی عورت کو تین طلاقیں دیدیں پھر دوسرے آدمی نے اس سے نکاح کرلیا۔ اس نے دروازہ بند کرلیا۔ پردہ لٹکا دیا پھر دخول کرنے سے پہلے اس کو طلاق دیدی تو کیا یہ عورت پہلے خاوند کے لئے حلال ہوسکتی ہے ؟ آپ نے فرمایا نہیں یہاں تک کہ وہ عورت (دوسرے خاوند کا) مزہ نہ چکھ لے اور دوسرے لفظ میں یوں ہے کہ یہاں تک کہ دوسرا خاوند اس سے جماع نہ کرلے۔ (19) احمد، ابن جریر، بیہقی نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں۔ اس کے بعد دوسرے آدمی نے اس سے نکاح کرلیا۔ پھر اس نے بھی دخول سے پہلے طلاق دیدی تو کیا عورت پہلے خاوند کے لئے حلال ہوسکتی ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نہیں۔ یہاں تک کہ دوسرا خاوند اس کا مزہ نہ چکھ لے۔ اور وہ عورت اس کا مزہ نہ چکھ لے۔ (20) ابن ابی شیبہ، ابن جریر نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسی عورت کے بارے میں فرمایا جس کو خاوند نے تین طلاق دے دی ہوں پھر دوسرے مرد سے نکاح کرلیا ہو اور اس نے بھی دخول سے پہلے اس کو طلاق دیدی ہو اور وہ عورت پہلے خاوند کے پاس جانا چاہتی ہو تو آپ نے فرمایا نہیں جاسکتی یہاں تک کہ دوسرا خاوند اس کا مزہ نہ چکھ لے۔ (21) احمد، نسائی نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت کیا کہ غمیصاء یا رمیصاء (نامی عورت) نبی اکرم ﷺ کے پاس اپنے خاوند کی شکایت لے کر آئی کہ وہ اس سے جماع نہیں کرسکتا۔ وہ ابھی ٹھہری ہوئی تھی کہ اس کا خاوند آگیا اور اس نے کہا یا رسول اللہ یہ جھوٹی ہے وہ اس سے جماع کرتا ہے لیکن یہ عورت اپنے پہلے خاوند کی طرف جانا چاہتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے (اسی عورت سے) فرمایا وہ تیرے لئے حلال نہیں ہے۔ یہاں تک کہ دوسرا خاوند تیرا مزہ نہ چکھ لے۔ (22) ابن ابی شیبہ نے حضرت ابوہریرہ وانس ؓ سے روایت کیا کہ کہ دونوں حضرات نے فرمایا تین طلاقوں والی عورت پہلے خاوند کے لئے (عورت) حلال نہیں جب تک کہ دوسرا خاوند اس سے جماع نہ کرلے۔ (23) ابن ابی شیبہ نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ وہ عورت پہلے شوہر کے لئے حلال نہیں۔ یہاں تک کہ نر کے حرکت دینے کی طرح وہ اس کو حرکت دے لے (یعنی اس سے جماع کرلے) ۔ (24) ابن ابی شیبہ نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ (وہ عورتٌ پہلے شوہر کے لئے حلال نہیں یہاں تک کہ وہ اس کو حرکت دے دے (یعنی اس سے پوری طرح جماع کرلے) (25) حاکم (انہوں نے اسے صحیح کہا ہے) بیہقی نے نافع (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی ابن عمر ؓ کے پاس آیا اور اس نے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا جس نے اپنی عورت کو تین طلاقیں دی تھیں پھر اس سے اس کے بھائی نے نکاح کرلیا بغیر مشورہ کئے تاکہ اپنے بھائی کے لئے (دوبارہ) حلال کر دے۔ کیا وہ پہلے خاوند کے لئے حلال ہوجائے گی ؟ تو انہوں نے فرمایا نہیں مگر نکاح رغبت کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں (ایسے حیلہ والے نکاح کو) زناکاری میں شمار کرتے تھے۔ (26) ابو اسحاق، الجوز جانی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے یہی مسئلہ پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا نہیں مگر رغبت والا نکاح کے ساتھ عورت حلال ہوگی۔ اور حیلہ سازی کے نکاح کے ساتھ اب حلال نہ ہوگی۔ اور کتاب اللہ کے ساتھ استہزاء نہ کرو پھر وہ (یعنی دوسرا خاوند) چکھ لے اس کے مزے کو (تب حلال ہوگی) عمرو بن دینار ؓ نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔ (27) احمد، ترمذی، نسائی، بیہقی نے سنن میں حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے حلالہ کرنے والے پر اور جس کے لئے حلالہ کیا جائے دونوں پر لعنت فرمائی۔ (28) ابو داؤد، ترمذی، ابن ماجہ، بیہقی نے سنن میں حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حلالہ کرنے والے پر اور جس کے لئے حلالہ کیا جائے دونوں پر لعنت فرمائی۔ (29) ترمذی نے جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے حلالہ کرنے والے پر اور جس کے لئے حلالہ کیا جائے دونوں پر لعنت فرمائی۔ حلالہ کرنے اور کروانے والے دونوں ملعون ہیں (30) ابن ماجہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے حلالہ کرنے والے اور جس کے لئے حلالہ کیا جائے دونوں پر لعنت فرمائی۔ (31) ابن ماجہ، حاکم، بیہقی نے عقبہ بن عامر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا میں تم کو مستعار نر کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیوں نہیں (ضرور بتائیے) آپ ﷺ نے فرمایا وہ ہے حلالہ کرنے والے۔ اللہ تعالیٰ نے حلالہ کرنے والے پر اور جس کے لئے حلالہ کیا جائے دونوں پر لعنت فرمائی۔ (32) احمد، ابن ابی شیبہ، بیہقی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حلالہ کرنے والے اور جس کے لئے حلالہ کیا جائے دونوں پر لعنت فرمائی۔ (33) عبد الرزاق، ابن ابی شیبہ، ابوبکر الاشرم نے اپنی سنن میں بیہقی نے حضرت عمر ؓ سے روایت کیا کہ حلالہ کرنے والا اور حلالہ کرانے والے کو دونوں کو لایا جائے گا تو میں ان کو رجم کروں گا۔ (34) بیہقی نے سلیمان بن یسار (رح) سے روایت کیا کہ حضرت عثمان بن عفان ؓ کے پاس ایک آدمی لایا گیا جس نے ایک عورت سے اس غرض سے نکاح کرلیا تاکہ اس کے پہلے خاوند کے لئے اس کو حلال کر دے انہوں نے دونوں میں تفریق کردی اور فرمایا وہ عورت پہلے خاوند کے پاس رغبت والے نکاح کے ساتھ لوٹتی ہے۔ مکاری والے نکاح کے ساتھ نہیں لوٹتی۔ (35) عبدالرزاق نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے ان سے سوال کیا کہ میرے چچا نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی ہیں تو انہوں نے فرمایا کہ تیرے چچا نے اللہ کی نافرمانی کی اور وہ اسے پریشان کرے گا اور شیطان کی اطاعت کی اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے اس پریشانی سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں بنایا اس شخص نے پوچھا آپ کا کیا گمان ہے اس آدمی کے بارے میں جو اس کے لئے حلال کرنے والا ہے۔ تو فرمایا جس نے اللہ تعالیٰ کو دھوکہ دیا۔ اللہ تعالیٰ اس کو دھوکہ کہ (ضرور) سزا دے گا۔ (36) مالک، ابن ابی شیبہ، بیہقی نے زید بن ثابت ؓ سے روایت کیا کہ وہ ایسے آدمی کے بارے میں فرماتے تھے جس نے اپنی باندی کو تین طلاقیں دیں۔ پھر اس کو خرید لیا۔ تو یہ باندی اس کے لئے حلال ہوگئی یہاں تک کہ دوسرے مرد سے نکاح نہ کرلے۔ (37) مالک نے سعید بن مسیب اور سلیمان بن یسار ؓ سے روایت کیا کہ ان سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو اپنے غلام کا اپنی باندی سے نکاح کرے پھر اس غلام نے اس کو بائن طلاق دے دی پھر اس باندی کو اس کے آقا نے اس کے لئے ہبہ کردیا۔ تو کیا اب یہ عورت ملک یمین کی وجہ سے اس کے لئے حلال ہوجائے گی۔ تو دونوں حضرات نے فرمایا اس کے لئے حلال نہیں ہوگی یہاں تک کہ دوسرے کسی مرد سے نکاح نہ کرلے۔ (38) بیہقی نے عبیدہ السلمان (رح) سے روایت کیا کہ جب کسی شخص کی لونڈی کسی کے نکاح میں ہو پھر وہ خاوند اس کو طلاق دیدے یعنی تین طلاقیں دیدے۔ پھر اس لونڈی کے آقا اس سے وطی کرے تو وہ اس خاوند کے لئے حلال نہیں کرے گا مگر یہ کہ اس سے کوئی دوسرا خاوند نکاح کرے اور اسے وہ شخص حلال کرے گا جس پر پہلے وہ حرام ہو پھر وہ اس سے نکاح کرے اور پھر وطی کرکے طلاق دے تو پہلے خاوند کے لئے حلال ہوگی۔ (39) عبد الرزاق نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آقا کا اپنی باندی سے وطی کرنا اس کو اپنے خاوند کے لئے حلال نہیں کرتا یہاں تک کہ وہ دوسرے خاوند سے نکاح کرلے۔ (40) عبد الرزاق نے محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں دخول سے پہلے۔ وہ مسئلہ پوچھنے کے لئے ابن عباس ؓ کے پاس آیا ان کے پاس ابوہریرہ ؓ بھی موجود تھے ابن عباس نے فرمایا اے ابوہریرہ یہ پیچیدہ مسائل میں سے ہے۔ ابوہریرہ ؓ نے فرمایا ایک طلاق نے اس کو جدا کردیا اور تین طلاقوں نے اس کو حرام کردیا (اس پر) ابن عباس نے فرمایا اے ابوہریرہ اس (مسئلہ) کو (آپ نے) روشن کردیا۔ وأما قولہ تعالیٰ : ” فان طلقھا فلا جناح علیھما “ (41) عبد بن حمید، ابن بای حاتم محمد بن حنیفہ (رح) سے روایت کیا کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ مجھ پر دو کام مشکل تھے ایک تو اللہ تعالیٰ کا یہ قول لفظ آیت ” فان طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ، فان طلقھا فلا جناح علیہما ان یتراجعا “ تو میں نے قرآن کو پڑھا اور میں نے اس بات کو جان لیا کہ تین طلاق والی عورت کو جب دوسرا خاوند بھی طلاق دیدے تو تین طلاق سینے والے کے پاس لوٹ آئے گی۔ پھر فرماتے ہیں کہ میں ایسا آدمی تھا جس کو مذی زیادہ آتی تھی۔ میں بنی اکرم ﷺ سے یہ مسئلہ پوچھنے میں شرماتا تھا کیونکہ ان کی بیٹی میرے نکاح میں تھی میں نے حضرت مقدار ؓ کو نبی اکرم ﷺ سے یہ مسئلہ پوچھنے کو کہا تو آپ نے فرمایا کہ مذی میں وضو ہے (غسل نہیں ہے) (42) ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، بیہقی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فان طلقھا فلا جناح علیھما ان یترا جعا “ کا مطلب یہ ہے کہ پہلے خاوند کی عدت سے فارغ ہونے کے بعد دوسرے خاوند سے نکاح کیا اور اس نے دخول بھی کرلیا پھر اس نے طلاق دیدی تو اب پہلے خاوند سے (دوبارہ) نکاح کرنے میں کوئی حرج نہیں یا وہ (دوسرا خاوند) مرگیا تو اس (پہلے خاوند) کے لئے حلال ہوگئی۔ (43) عبد بن حمید، ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ان ظنا ان یقیما حدود اللہ “ سے مراد ہے کہ اگر مرد عورت یہ گمان کریں (یعنی یقین کریں) کہ ان کا نکاح کسی حیلہ یا مکاری پر قائم نہیں ہے۔ (44) ابن ابی حاتم نے مقاتل (رح) سے روایت کیا کہ ” ان یقیماحدود اللہ “ سے مراد ہے اللہ کے حکم اور اس کی اطا عت کو قا ئم رکھ سکیں گے۔
Ayah 2:231

وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ سَرِّحُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ١۪ وَّ لَا تُمْسِكُوْهُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوْا١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ١ؕ وَ لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا١٘ وَّ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ مَاۤ اَنْزَلَ عَلَیْكُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ وَ الْحِكْمَةِ یَعِظُكُمْ بِهٖ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:231 in the Quran reader

اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو پھر وہ اپنی عدت گزر جانے کے قریب پہنچ جائیں تو ان کو روک لو بھلائی کے ساتھ یا ان کو چھوڑ دو خوبی کے ساتھ اور ضرور پہنچانے کے لئے انہیں روک کرکے نہ رکھو تاکہ تم زیادتی کرو، اور جو شخص ایسا کرے گا سو اس نے اپنی جان پر ظلم کیا۔ اور مت بناؤ اللہ کی آیتوں کو مذاق کی چیز اور یاد کرو اللہ کی نعمتوں کو جو تم پر ہیں، اور جو کچھ اللہ نے تم پر نازل فرمایا ہے کتاب اور حکمت اس کو بھی یاد کرو۔ اللہ اس کے ذریعہ تم کو نصیحت فرماتا ہے اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ اللہ بیشک ہر چیز کو جاننے والا ہے

(1) ابن جریر، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا تھا پھر اس کی عدت گزرنے سے پہلے اس سے رجوع کرلیتا تھا پھر اس کو طلاق دیدتا تھا پھر رجوع کرلیتا اور وہ اس طرح اس کو تکلیف دینے اور دوسرے کسی مرد سے نکاح سے روکنے کے لئے ایسا کرتا تھا تو اس پر اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری لفظ آیت ” واذا طلقتم النساء فبلغن اجلھن فامسکوھن بمعروف اور سرحوھن بمعروف، ولا تمسکوھن ضرارا لتعتدوا “ (اور جب عورتوں کو طلاق دیدو پھر وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو انہیں حسن سلوک سے روک لو یا انہیں دستور کے مطابق چھوڑ دو اور ان کو تکلیف دینے کے لئے نہ روکو تاکہ تم سختی کرو) (2) امام مالک، ابن جریر، ابن المنذر نے ثور بن زید دیلمی (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا تھا پھر اس سے رجوع کرلیتا تھا حالانکہ اس کی طرف اس کو کوئی حاجت نہیں ہوتی تھی اور نہ اس کو روک لینے کا ارادہ ہوتا تھا مگر (صرف اس لئے) تاکہ اس سے اس کی عدت لمبی ہوجائے (اور) تاکہ اس کو تکلیف پہنچائے تو اس پر اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” ولا تمسکوھن ضرارا لیتعتدوا، ومن یفعل ذلک فقد ظلم نفسہ “ اس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نصیحت فرمائی۔ بیوی کو تنگ کرنے کے لئے طلاق سے رجوع کرنا جائز نہیں (3) ابن جریر، ابن المنذر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت انصار قبیلہ کے ایک آدمی ثابت بن یسار ؓ کے بارے میں نازل ہوئے۔ اس نے اپنی بیوی کو طلاق دیدی اور جب اس کی عدت گزرنے میں دو یا تین دن رہ جاتے تو اس سے رجوع کرکے پھر طلاق دیدیتا۔ وہ ایسا کرتا رہا یہاں تک کہ اس کو تکلیف دیتے ہوئے نو ماہ گزرگئے تو اس پر اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” ولا تمسکوھن ضرارا لیتعتدوا “ (4) عبد بن حمید، ابن جریر، بیہقی نے مجاہد (رح) سے لفظ آیت ” ولا تمسکوھن ضرارا لیتعتدوا “ کے بارے میں روایت کیا کہ تکلیف پہنچانا یہ ہے کہ آدمی اپنے بچوں کو ایک طلاق دیدے پھر حیض کے آخری دن میں اس سے رجوع کرے۔ پھر اس کو طلاق دیدے پھر آخری حیض کا دن باقی ہو تو پھر رجوع کرے۔ اسی طرح وہ عورت کو تکلیف پہنچاتا ہے۔ (5) عبد بن حمید، ابن جریر، بیہقی نے حسن ؓ سے اس آیت لفظ آیت ” ولا تمسکوھن ضرارا لیتعتدوا “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد وہ آدمی ہے جو اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے اور عورت عدت گزرنے کے قریب پہنچتی ہے تو اس سے رجوع کرنے پر گواہ بنا لیتا ہے۔ اور پھر طلاق دے دیتا ہے (اسی طرح) پھر جب عورت عدت گزرنے کے قریب پہنچتی ہے تو اس سے رجوع کرنے پر گواہ بنا لیتا (اور) اس سے وہ اس پر (عدت کے) لمبا کرنے کا ارادہ کرتا ہے۔ (6) عبد بن حمید، ابن جریر نے مسروق (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے وہ شخص مراد ہے جو اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے پھر اس کو چھوڑے رکھتا ہے یہاں تک عدت کے آخری دن میں اس سے رجوع کرلیتا ہے (رجوع کرنے سے اس کا مقصد) اس کو روکنا نہیں (یعنی اپنے پاس رکھنا نہیں) لیکن اس کو تکلیف دیتا ہے۔ اور اس پر عدت کو لمبا کرنا پھر (رجوع کرنے بعد) اس کو طلاق دے دیتا ہے پھر جب عدت ختم ہونے لگتی ہے تو اس سے رجوع کرلیتا ہے اور اس سے وہ (اس عورت کو) تکلیف دیتا ہے۔ اور اللہ کی آیات کا مذاق اڑاتا ہے۔ (7) عبد بن حمید، ابن جریر عطیہ (رح) اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ایک آدمی اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے پھر اس سے خاموش رہتا ہے۔ یہاں تک کہ جب عدت ختم ہونے لگتی ہے اور تھوڑے دن باقی رہتے ہیں تو اس سے رجوع کرلیتا ہے۔ پھر طلاق دے دیتا ہے۔ اس طرح اس کی عدت تو حیض یا نو مہینے ہوجاتی ہے۔ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” ولا تمسکوھن ضرارا لیتعتدوا “ (8) ابن ماجہ، ابن جریر، بیہقی نے ابو موسیٰ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان لوگوں کا کیا حال ہے جو اللہ تعالیٰ کی حدود سے کھیلتے ہیں (یعنی مذاق اڑاتے ہیں) اور ایک شخص اپنی بیوی سے کہتا ہے میں نے تجھ کو طلاق دی پھر کہتا ہے۔ میں نے تجھ سے رجوع کیا۔ میں نے تجھ کو طلاق دی میں نے تجھ سے رجوع کیا۔ پھر کہتا ہے میں نے تجھ کو طلاق دی میں نے تجھ سے رجوع کیا یہ مسلمانوں کی طلاق نہیں ہے اپنی بیوی کو اس کی عدت سے پہلے طلاق دو ۔ (9) ابوبکر ابی داؤد نے المصاحف میں عروہ (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت (ایسے واقعات پر) نازل ہوئی۔ لفظ آیت ” بمعروف ولا تمسکوھن ضرارا لیتعتدوا “ تین چیزوں مذاق میں واقع ہوجاتی ہیں (10) ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے عبادہ بن صامت ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ کے زمانہ میں ایک آدمی دوسرے آدمی سے کہتا ہے کہ میں اپنی بیٹی کا نکاح تجھ سے کردیا۔ پھر کہتا ہے میں نے مذاق کیا تھا۔ پھر کہتا ہے میں نے تجھ کو آزاد کیا پھر کہنے لگتا ہے کہ میں نے مذاق کیا تھا۔ تو اس پر اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری لفظ آیت ” ولا تتخذوا ایت اللہ ھزوا “ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تینوں باتیں جس نے ان کو مذاق میں کہا یا بغیر مذاق کے کہا تو اس پر لاگو یو جائیں گے طلاق عتاق اور نکاح۔ (11) ابن ابی عمر نے اپنی سند میں اور ابن مردویہ نے ابو درداء ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی طلاق دے دیتا پھر کہتا کہ میں نے مذاق کیا ہے۔ اور ایک آدمی (اپنے غلام کو) آزاد کردیتا پھر کہتا میں نے مذاق کیا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری لفظ آیت ” ولا تتخذوا ایت اللہ ھزوا “ (اور) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے طلاق دی یا آزاد کیا اور یہ کہا کہ میں نے مذاق کیا تو اس کے کہنے کا کوئی اعتبار نہیں اور اس پر (طلاق یا عتاق) واقع ہوجائے گا اور اس پر ان کا حکم نافذ ہوجائے گا۔ (12) ابن مردویہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی مذاق کرتے ہوئے اپنی بیوی کو طلاق دیدیتا تھا اور وہ (دل سے) طلاق کا ارادہ نہیں رکھتا تھا تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری۔ لفظ آیت ” ولا تتخذوا ایت اللہ ھزوا “ تو رسول اللہ ﷺ نے اس پر طلاق کو لازم کردیا۔ (13) ابن ابی شیبہ نے المصنف میں، ابن جریر، ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی (اپنی بیوی کو) طلاق دے کر کہتا تھا میں نے مذاق کیا اور آزاد کرکے کہتا تھا میں نے مذاق کیا۔ اور نکاح کرکے کہتا تھا میں نے مذاق کیا تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” ولا تتخذوا ایت اللہ ھزوا “ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس آدمی نے طلاق دی یا آزاد کیا یا نکاح کیا یا کسی کو نکاح کرایا جان بوجھ کر یا ہنسی مذاق میں تو اس پر وہ حکم نافذ ہوجائے گا۔ (14) طبرانی نے حسن سے حضرت ابو درداء ؓ سے روایت کیا کہ زمانہ جاہلیت میں ایک آدمی اپنی بیوی کو طلاق دیکر کہتا تھا میں نے تو مذاق کیا پھر (اپنے غلام کو) آزاد کرکے کہتا تھا میں نے تو مذاق کیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” ولا تتخذوا ایت اللہ ھزوا “ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جس آدمی نے طلاق دی یا اس کو حرام کرلیا یا نکاح کیا یا کسی کا نکاح کرایا۔ اور پھر کہا کہ میں نے تو مذاق کیا تھا تو وہ صحیح ہوگا (مذاق نہیں ہوگا) ہنسی مذاق میں بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے (15) ابوداؤد، ترمذی، ابن ماجہ، حاکم، بیہقی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تین چیزیں ایسی ہیں کہ ان کا قصد کرنا بھی قصد ہے اور ہنسی کے طور پر کہنا بھی قصد ہے۔ نکاح کرنا طلاق دینا اور رجوع کرنا۔ (16) بخاری نے اپنی تاریخ میں بیہقی نے حضرت عمر ؓ سے روایت کیا کہ چار باتیں گویا قفل دی ہوئی ہیں (یعنی زبان سے نکلتے ہی لازم ہوجاتی ہیں) نذر، طلاق، آزاد کرنا اور نکاح۔ (17) مالک، عبد الرزاق، بیہقی نے سعید بن مسیب (رح) سے روایت کیا کہ تین چیزیں ایسی ہیں کہ ان کو کھیل یعنی (ہنسی مذاق) نہیں ہے (کیونکہ وہ ہنسی مذاق میں بھی لازم ہوجاتی ہے) نکاح، طلاق اور عتاق یعنی آزاد کرنا۔ (18) عبد الرزاق نے حضرت ابو درداء ؓ سے روایت کیا کہ تین چیزیں ایسی ہیں کہ ان میں کھیل (یعنی ہنسی مذاق) کرنے والا سنجیدگی کے ساتھ کرنے کی طرح ہے۔ نکاح، طلاق اور عتاق۔ (19) عبد الرزاق نے حضرت علی ابن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ چار کام ایسے ہیں جن میں کھیل یعنی ہنسی مذاق نہیں ہوتا (کیونکہ وہ مذاق میں بھی واقع ہوجاتے ہیں) نکاح، طلاق، عتاق اور صدقہ۔ (20) عبد الرزاق نے عبد الکریم بن اسد سے جعدہ بن ہبیرہ (رح) سے روایت کیا کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا تین کام ایسے ہیں جن کا ہنسی مذاق سے کرنا اور پورے ارادے کے ساتھ کرنا برابر ہے۔ طلاق، صدقہ اور عتاق، عبد الکریم اور طلق بن حسب (رح) دونوں نے فرمایا کہ ھدی اور نذر بھی (اس میں شامل ہیں) (21) عبد الرزاق نے ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس آدمی نے ہنسی مذاق میں طلاق دی تو اس کی طلاق نافذ ہوگی (یعنی واقع ہوجائے گی) اور جس آدمی نے کسی غلام کو ہنسی مذاق میں آزاد کیا تو اس کا آزاد کرنا نافذ ہوگا اور جس آدمی نے ہنسی مذاق میں نکاح کیا تو اس کا نکاح نافذ ہوگا۔ (22) مالک، شافعی، عبد الرزاق، ابن المنذر، بیہقی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگے کہ میں نے اپنی بیوی کو تین طلاقوں نے اس کو تجھ پر حرام کردیا ہے اور باقی طلاقیں تجھ پر بوجھ ہیں (کیونکہ) تو نے اللہ کی آیات کا مذاق اڑایا۔ (23) عبد الرزاق اور بیہقی نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ میں نے اپنی بیوی کو سو طلاقیں دی ہے۔ انہوں نے فرمایا تین طلاقوں سے وہ تجھ سے جدا ہوگئی اور باقی ساری طلاقیں گناہ ہیں اور دوسرے لفظ میں زیادتی ہیں۔ (24) عبد الرزاق نے داؤد نے عبادہ بن صامت ؓ سے روایت کیا کہ میرے دادا نے اپنی بیوی کو ایک ہزار طلاقیں دیں۔ میرے والد رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے اور ان سے یہ بات عرض کی تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا میرے دادا نے اللہ تعالیٰ سے خوف نہیں کیا تین طلاقیں تو اس کے لئے جائز تھیں اور باقی ستانوے طلاقیں زیادتی اور ظلم ہیں اگر اللہ چاہیں تو عذاب دیں یا معاف کردیں۔ (25) عبد الرزاق نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا جس نے اپنی بیوی کو ستاروں کی تعداد کے برابر طلاقیں دیں تو انہوں نے فرمایا کہ جوزاء (برج) کے سر سے جو ستارے ہیں وہ اس کی جدائی کے لئے کافی ہیں۔
Ayah 2:232

وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْهُنَّ اَنْ یَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَیْنَهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ ذٰلِكَ یُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ ذٰلِكُمْ اَزْكٰى لَكُمْ وَ اَطْهَرُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:232 in the Quran reader

اور جب تم طلاق دو عورتوں کو پھر وہ پہنچ جائیں اپنی عدت کو تو ان سے نہ روکو کہ اپنے شوہروں سے نکاح کریں جبکہ آپس میں خوبی کے ساتھ رضا مند ہوجائیں۔ اس کے ذریعہ نصیحت کی جاتی ہے اس شخص کو جو تم میں سے اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لاتا ہے۔ یہ تمہارے لئے زیادہ صفائی اور زیادہ پاکی کی بات ہے اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

(1) امام وکیع، بخاری، عبد بن حمید، ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، حاکم اور بیہقی نے معقل بن یسار ؓ سے روایت کیا کہ میری ایک بہن تھی میرے چچا کا لڑکا میرے پاس آیا تو میں نے اس سے اس کا نکاح کردیا۔ پھر وہ اس کے پاس تھی جب تک پھر اس نے اس کو ایک طلاق دیدی اور اس سے رجوع نہیں کیا یہاں تک کہ عدت گزر گئی۔ (بعد میں) وہ اس کو چاہتا تھا اور وہ اس کو چاہتی تھی۔ پھر اس نے نکاح کا پیغام بھیجا۔ میں نے اس سے کہا ارے کم عقل ! میں نے تیری عزت کرتے ہوئے اپنی بہن کا نکاح تیرے ساتھ کیا تھا پھر تو نے طلاق دیدی پھر اب تو اس سے نکاح کرنا چاہتا ہے۔ اللہ کی قسم ! اب تیری طرف اس کو کبھی نہیں لوٹاؤں گا وہ میرا چچا زاد بھائی بالکل بےعیب تھا اور میری بہن بھی اس کی طرف دوبارہ جانا چاہتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے خاوند کی حاجت کو اس کی طرف جان لیا اور اس عورت کی حاجت کو خاوند کی طرف جان لیا تو (اس پر) اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” واذا طلقتم النساء فبلغن اجلہن فلا تعضلوھن ان ینکحن ازواجھن “ راوی نے کہا کہ یہ آیت اس بارے میں نازل ہوئی (پھر) میں نے اپنی قسم کا کفارہ دیا اور اس سے (دوبارہ) نکاح کردیا اور دوسری روایت میں ہے کہ جب معقل ؓ نے اس (آیت) کو سنا تو کہنے لگا میں نے اپنے رب کے حکم کو سن لیا اور اس کی اطاعت کی پھر انہوں نے اپنے چچا زاد بھائی کو بلوایا اور اس سے کہا میں تیرے ساتھ (دوبارہ) نکاح کرتا ہوں اور تجھے عزت دیتا ہوں۔ (2) ابن جریر، ابن المنذر نے حجرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت ایک آدمی کے بارے میں نازل ہوئی جس نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دیں تھیں۔ (جب) اس کی عدت گزرگئی پھر اس کو خیال آیا کہ میں اس سے (دوبارہ) نکاح کرلوں اور رجوع کرلوں۔ اور عورت بھی اس کو چاہتی تھی لیکن اس کے اولیاء نے اس کو روک دیا۔ (اس پر) اللہ تعالیٰ نے ان کو روکنے سے منع فرمایا۔ (3) ابن ابی حاتم نے حضرت عبن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فلا تعضلوھن “ سے مراد ہے ” فلا تمنعوھن “ یعنی تم ان کو نہ روکو ! (جہاں نکاح کرنا چاہیں کرلیں) ۔ (4) عبد بن حمید، ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت مزینہ قبیلہ کی عورت کے بارے میں نازل ہوئی اس کے خاوند نے اس کو طلاق دیدی پھر عدت گزارنے کے بعد جدا ہوگئی تھی۔ اس کے بھائی معقل بن یسار ؓ نے اس کو دوبارہ نکاح کرنے سے روک دیا اور اس کو تکلیف دیتا تھا اس خوف سے کہ وہ اپنے پہلے خاوند کی طرف نہ چلی جائے۔ (5) ابن جریر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت معقل بن یسار ؓ اور اس کی بہن حمل بنت یسار ؓ کے بارے میں نازل ہوئی جو ابو البداح کے نکاح میں تھی۔ اس نے اس کو طلاق دیدی اور اس کی عدت بھی ختم ہوگئی تو دوبارہ اس نے نکاح کا پیغام بھیجا مگر (اس کے بھائی) معقل نے اس کو روک دیا۔ عدت کے بعد شوہر اول کو نکاح کی اجازت ہے (6) ابن جریر نے أبو اسحاق ہمدانی (رح) سے روایت کیا کہ فاطمہ بنت یسار کو اس کے خاوند نے طلاق دیدی پھر اس کو خیال آیا تو اس نے دوبارہ نکاح کا پیغام بھیجا مگر معقل نے انکار کردیا اور کہا میں نے تجھ سے (اپنی بہن کا) نکاح کیا تھا اور تو نے اس کو طلاق دیدی تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی ” فلا تعضلوھن ان ینکحن ازواجھن “ (7) ابن جریر، ابن المنذر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت جابر بن عبد اللہ انصاری ؓ کے بارے میں نازل ہوئی اس کی ایک چچا کی بیٹی تھی اس کے خاوند نے اس کو طلاق دیدی۔ اس کی عدت (جب) گزر گئی تو اس نے (دوبارہ) رجوع کرنے کا ارادہ کیا مگر حضرت جابر ؓ نے انکار کردیا۔ اور کہا تو نے ہمارے چچا کی بیٹی کو طلاق دیدی پھر دوسرا اس سے نکاح کرنا چاہتا ہے اور عورت بھی اپنے خاوند کے پاس واپس جانا چاہتی تھی تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” واذا طلقتم النساء “ (الآیہ) (8) عبد بن حمید، ابن ابی حاتم نے سدی سے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واذا طلقتم النساء فبلغن اجلھن فلا تعضلوھن ان ینکحن ازواجھن اذا تراضوا بینھم بالمعروف “ سے مراد ہے کہ جب عورت مہر پر راضی ہوجائے (پھر) فرمایا کہ مرد نے اپنی عورت کو طلاق دی پھر وہ مرد بھی نادم ہوا اور وہ عورت بھی نادم ہوئی اور دونوں نے رجوع کا ارادہ کرلیا مگر اس کے ولی نے انکار کردیا تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (9) ابن المنذر نے ابو جعفر (رح) سے روایت کیا کہ بلاشبہ ولی کے بارے میں قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت ” فلا تعضلوھن ان ینکحن ازواجھن “۔ (10) ابن ابی حاتم نے مقاتل (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” اذا تراضوا بینھم بالمعروف “ کا مطلب یہ ہے کہ دونوں راضی ہوجائیں مہر میں، گواہی میں، نکاح میں۔ (11) ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن مردویہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بغیر شوہر والی عورتوں کا نکاح کر دو ایک آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ان کے درمیان مہر کیا ہوگا تو انہوں نے فرمایا جس پر ان دونوں کے گھر والے راضی ہوجائیں۔ (12) ابن المنذر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واللہ یعلم وانتم لا تعلمون “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو ان میں سے ہر ایک کی دوسرے سے محبت ہے اے ولی ! تو اس بات کو نہیں جانتا !
Ayah 2:233

وَ الْوَالِدٰتُ یُرْضِعْنَ اَوْلَادَهُنَّ حَوْلَیْنِ كَامِلَیْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ یُّتِمَّ الرَّضَاعَةَ١ؕ وَ عَلَى الْمَوْلُوْدِ لَهٗ رِزْقُهُنَّ وَ كِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ اِلَّا وُسْعَهَا١ۚ لَا تُضَآرَّ وَالِدَةٌۢ بِوَلَدِهَا وَ لَا مَوْلُوْدٌ لَّهٗ بِوَلَدِهٖ١ۗ وَ عَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِكَ١ۚ فَاِنْ اَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِّنْهُمَا وَ تَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَا١ؕ وَ اِنْ اَرَدْتُّمْ اَنْ تَسْتَرْضِعُوْۤا اَوْلَادَكُمْ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِذَا سَلَّمْتُمْ مَّاۤ اٰتَیْتُمْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:233 in the Quran reader

اور مائیں دودھ پلائیں اپنی اولاد کو دو سال پورے اس کے لئے دودھ پلانے کی مدت پوری کرنا چاہے اور جس کی اولاد ہے اس کے ذمہ ماؤں کا کھانا اور کپڑا ہے قاعدہ کے مطابق، کسی جان کو تکلیف نہیں دی جاتی مگر اس کی برداشت کے مطابق، نہ تکلیف دی جائے والدہ کو اس کے بچہ کی وجہ سے اور نہ اس کو تکلیف دی جائے جس کا بچہ ہے اس کے بچہ کی وجہ سے، اور وارث کے ذمہ اسی طرح سے لازم ہے، سو اگر دونوں گناہ کی رضا مندی اور باہم مشورے سے دودھ چھڑانا چاہیں تو ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں ہے، اور اگر تم اپنی اولاد کو دودھ پلوانا چاہو تو اس میں کچھ گناہ نہیں ہے جبکہ تم سپرد کردو جو کچھ ان کو دینا طے کیا ہے قاعدہ کے موافق، اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ بلاشہ اللہ ان کاموں کا دیکھتا ہے جنہیں تم کرتے ہو

(1) امام وکیع، سفیان، عبد الرزاق، آدم، عبد بن حمید، أبو داؤد نے الناسخ میں، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، بیہقی نے اپنی سنن میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” والو الدت یرضعن اولادھن “ سے مراد ہے طلاق والی عورتیں ” خولین “ یعنی دو سال لفظ آیت ” لا تضار والدۃ بولدھا “ یعنی عورت بچہ کو دودھ پلانے کا انکار نہ کرے۔ (بچہ کو) تکلیف پہنچاتے ہوئے تاکہ اس کا باپ مشقت میں نہ پڑے۔ لفظ آیت ” ولا مولودۃ بولدہ “ یعنی باپ اپنے بیٹے کی وجہ سے ماں کو تکلیف نہ پہنچائے یعنی باپ ماں کو دودھ پلانے سے نہ روکے تاکہ ماں پریشان نہ ہو لفظ آیت ” وعلی الوارث “ یعنی (والد نہ ہونے کی صورت میں) ولی کے لئے بھی یہی حکم یعنی دستور کے مطابق خرچہ دینا۔ اس کی کفالت کرنا اور اس کو دودھ پلانا اگر بچہ کے پاس مال نہ ہو اور اس کی ماں کو تکلیف بھی نہ ہو لفظ آیت ” فان اراد فصالا عن تراض منھما وتشاور “ یعنی اگر میاں بیوی بچے کا دودھ چھڑانے پر آپس میں رضا مندی اور مشورہ سے ارادہ کریں جبکہ بچے کا نقصاد نہ ہو تو فرمایا لفظ آیت ” فلا جناح علیکم اذا سلمتم ما اتیتم بالمعروف “ یعنی تم ادا کرو جو دودھ پلانے والی کا معاوضہ تم نے مقرر کیا تھا مناسب طریقہ سے۔ (2) ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” والوالدت یرضعن اولادھن حولین کاملین “ یعنی وہ آدمی جو اپنی عورت کو طلاق دے دیتا ہے اور اس میں اس کا ایک لڑکا ہے۔ تو وہ عورت اپنے بچے کی زیادہ حق دار ہے۔ اپنے علاوہ (دوسری عورت سے) سو عورتوں پر اس اولاد کو دودھ پلانا (لازم) ہے۔ لفظ آیت ” لمن اردان یتم الرضاعۃ “ یہ حکم اس کے لئے ہے جو مدت رضاعت پورا کرنا چاہتا ہے ” وعلی المولودلہ “ یعنی اس باپ پر جس کا وہ لڑکا ہے۔ لفظ آیت ” رزقھن “ یعنی ماں کا رزق (یعنی خرچہ) لفظ آیت ” لاتکلف نفس الا وسعھا “ یعنی اللہ تعالیٰ کسی آدمی کو دودھ پلانے والی کے خرچہ میں تکلیف نہیں دیتے مگر اس کی طاقت بقدر لفظ آیت ” لا تضار والدۃ بولدھا “ یعنی آدمی اپنی عورت کو تکلیف نہ پہنچائے کہ اس کا بچہ اس سے چھین لے اور وہ عورت نہ چاہتی ہو لفظ آیت ” ولا مولود لہ بولدہ “ یعنی عورت بھی ایسا نہ کرے جب اس کا شوہر اس کو طلاق دیدے تو عورت اس کو تکلیف دیدے کہ اس کو نقصان پہنچانے کے لئے بچہ اس کی طرف پھینک دے لفظ آیت ” فان ارادا فجضالا “ یعنی والدین اگر دو سال سے کم مدت میں بچہ کا دودھ چھڑانا چاہیں لفظ آیت ” عن تراض منھما “ یعنی دونوں اس پر اتفاق کرلیں۔ لفظ آیت ” وان اردتم ان تسترضعوا اولادکم فلا جناح علیکم “ یعنی انسان پر کوئی حرج نہیں کہ وہ کسی دائی سے دودھ پلوئے اور اس کو مزدوری اس کو دے دے۔ ” اذا سلمتم “ اللہ تعالیٰ کے حکم کو تسلیم کرلو یعنی دودھ پلانے والی کی اجرت کے بارے میں لفظ آیت ” ما اتیتم بالمعروف “ یعنی تم دائی کو اس کی مقرر مزدوری سے زائد دے دو ” واتقوا اللہ “ یعنی اس کی نافرمانی نہ کرو تم اس سے ڈرو (پھر) فرمایا لفظ آیت ” واعلموا ان اللہ بما تعملون بصیر “ یعنی جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ تعالیٰ دیکھنے والا ہے۔ (3) حاکم نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا پھر مجھے وہ فرشتہ لے کر چلا میں نے عورتوں کو دیکھا جن کی چھاتیوں کو سانپ نوچ رہے تھے میں نے پوچھا ان عورتوں کو کیا ہوا ؟ مجھ سے کہا گیا کہ یہ وہ عورتیں ہیں جو اپنے بچوں کو دودھ نہیں پلاتی تھیں۔ (4) ابو داؤد نے ناسخ میں زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” والوالدات یرضعن اولادھن “ سے مراد وہ عورتیں ہیں جن کو طلاق ہوجاتی ہے یا اس کا شوہر مرجاتا ہے۔ (5) سعید بن سفدر، ابن جریر، ابن المنذر، حاکم، بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جو عورت چھ ماہ میں بچہ جنے تو وہ دو سال دودھ پلائے اور جب سات ماہ میں بچہ جنے تو تئیس مہینے دودھ پلائے تاکہ تیس مہینے پورے ہوجائیں اور جب نو ماہ میں بچہ جنے تو اکیس مہینے دودھ پلائے پھر یہ آیت تلاوت فرمائی لفظ آیت ” وحملۃ وفصالہ ثلاثون شھرا “ (6) ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” والوالدت یرضعن اولادھن حولین کاملین “ میں اللہ تعالیٰ نے دودھ پلانے کو پورے دو سال کردیا۔ لفظ آیت ” لمن ارادان یتم الرضاعۃ “ (یعنی جو ارادہ کرے دودھ پلانے کی مدت کو پورا کرنے کا) پھر فرمایا لفظ آیت ” فان اراد فصالا عن تراض “ یعنی کچھ حرج نہیں اس بات میں کہ اگر دونوں بچہ کا دودھ چھڑانے کا ارادہ کریں دو سال سے پہلے یا اس کے بعد۔ (7) ابن ابی حاتم، بیہقی نے ابو الاسود دیلمی نے حجرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ ان کے پاس ایک عورت کو لایا گیا جس کا بچہ چھ ماہ میں پیدا ہوا انہوں نے اس کو رجم کرنے کا ارادہ کیا یہ بات حضرت علی ؓ کو پہنچی تو انہوں نے فرمایا اس پر رحم نہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” والوالدت یرضعن اولادھن حولین کاملین “ اور چھ مال حمل کے ہیں اور دو سال دودھ پلانے کے ہیں اور یہ کل تیس مہینے بنتے ہیں۔ (8) وکیع، عبد الرزاق ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ حضرت عثمان ؓ کے پاس ایک ایسی عورت کو لایا گیا جس نے چھ مال میں بچہ جنا تھا انہوں نے اس کو رحم کرنے کا حکم فرمایا۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا اگر وہ عورت آپ سے اللہ کی کتاب کے ساتھ جھگڑا کرے تو وہ آپ سے جھگڑا کرسکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” والوالدت یرضعن اولادھن حولین کاملین “ اور دوسری آیت میں فرمایا لفظ آیت ” وحملہ وفصالہ ثلاثون شھرا “ تو (اس آیت سے) اس نے چھ ماہ پیٹ میں اٹھائے رکھا پھر یہ اسے دو سال دودھ پلائے گی۔ حضرت عثمان ؓ نے اس عورت کو بلوایا اور اس کو رہا کردیا۔ (9) عبد الرزاق، ابن جریر، ابن ابی حاتم نے زہری (رح) سے روایت کیا کہ حضرت ابن عمر و ابن عباس ؓ سے دو سال کے بعد بچے کے دودھ پلانے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے (یہ آیت) پڑھی لفظ آیت ” والوالدت یرضعن اولادھن حولین کاملین “ ہم نہیں دیکھتے کہ کوئی چیز دو سال کے بعد دودھ پلانے کو حرام کرتی ہو۔ (10) ابن جریر نے ابو الضحیٰ (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ لفظ آیت ” والوالدت یرضعن اولادھن حولین کاملین “ سے مراد ہے کہ اس آیت کے مطابق ان دو سالوں میں ہی رضاعت ثابت ہوتی ہے۔ (11) ترمذی نے ام سلمہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا رضاعت سے حرمت ثابت نہیں ہوئی مگر اس صورت میں جب وہ آنتوں کو چیر دے۔ اور یہ دودھ چھڑانے سے پہلے ہو۔ (12) ابن عدی، دارقطنی، بیہقی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دودھ پلانا حرام نہیں کرتا جو دو سال میں ہو۔ (13) طیالسی، بیہقی نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دودھ چھڑانے کے بعد رضاعت ثابت نہیں ہوتی اور احتلام کے بعد یتیم نہیں ہے۔ بلوغت کے بعد یتیم نہیں (14) عبد الرزاق نے المصنف میں، ابن عدی نے جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلوغت کے بعد یتیمی نہیں ہے۔ اور رضاعت نہیں ہے دودھ چھڑانے کے بعد دن سے لے کر رات تک خاموشی نہیں ہے۔ اور روز خاص صورت حال نہیں ہے۔ گناہ (کے کام) کی نذر نہیں ہے۔ اور گناہ کے کام میں خرچ کرنا جائز نہیں ہے۔ قطع رحمی میں قسم کھانا (جائز) نہیں ہے۔ ہجرت کے بعد دار میں جانا (جائز) نہیں ہے۔ بچے کی قسم اٹھانا باپ کی اجازت کے بغیر (جائز) نہیں۔ غلام کی قسم آقا کی اجازت کے بغیر (جائز) نہیں۔ اور نکاح سے پہلے طلاق نہیں ہے۔ اور ملکیت سے پہلے غلام کو آزاد کرنا نہیں ہے۔ (15) ابن ابی داؤد نے المصاحف میں اعمش (رح) سے روایت کیا کہ حضرت عبد اللہ ؓ کی قرأت میں یوں تھا لفظ آیت ” لمن ارادت ان تکمل الرضاعۃ “ (16) ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وعلی المولود لہ رزقھن وکسوتھن بالمعروف “ سے مراد ہے باپ پر ماؤں کا نفقہ اور لباس اس کی معاشی وسعت کے مطابق ہوگا۔ (17) ابو داؤد نے ناسخ میں اور ابن ابی حاتم نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” لا تضار والدۃ بولدھا ولا مولود لہ بولدہ “ سے مراد ہے کہ عورت کے لئے یہ جائز نہیں کہ اپنے بچے کو باپ پر ڈال دے جبکہ وہ دودھ پلانے والی کو نہ پائے۔ اور خاوند کے لئے بھی جائز نہیں کہ اس عورت کو تکلیف دینے کے لئے اس سے اس کا بچہ چھین لے جبکہ بچی کو دودھ پلانا پسند کرتی ہو لفظ آیت ” وعلی الورث “ یعنی میت کا ولی۔ (18) ابن ابی حاتم نے عطا ابراہیم اور شعبی رحم اللہ علیہ سے روایت کیا کہ یہ حضرات فرماتے ہیں کہ ” وعلی الوارث “ سے مراد ہے بچہ کا وارث جو اس پر خرچ کرتا ہے۔ (19) عبد بن حمید نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وعلی الوارث مثل ذلک “ سے مراد ہے کہ وارث پر نفقہ لازم ہے اور دوسرے لفظ میں بچے کا نفقہ وارث پر ہے جب کہ بچے کا اپنا مال نہ ہو۔ (20) عبد الرزاق، عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وعلی الوارث مثل ذلک “ سے مراد ہے کہ بچہ کے وارث پر رضاعت کی اجرت واجب ہے۔ جبکہ بچہ کا مال نہ ہو جیسا کہ والد پر دودھ پلانے کی اجرت واجب تھی۔ (21) عبد بن حمید نے ابن جریر (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عطا (رح) سے کیا آپ کیا فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” وعلی الوارث مثل ذلک “ کے بارے میں فرمایا کہ بچے کے وارث اس کی مثل ہے جو اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا میں نے پوچھا کیا مولود کے وارث کو مجبور کیا جائے گا اگر مولود دیجئے مال نہ ہو دودھ پلانے والی کی اجرت کے بدلہ میں اگرچہ وارث اس کو ناپسند کرے تو انہوں نے فرمایا کیا وہ اسے مرنے کے لئے چھوڑ دے گا۔ بچہ کے نان نفقہ کا مسئلہ (22) عبد الر زاق اور عبد بن حمید نے ابن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ ایک عورت عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود (رح) کے پاس اپنے بچے کے نفقہ کے متعلق بچے کے وارث کے بارے میں جھگڑا لے کر آئی تو انہوں نے بچے کے مال میں سے نفقہ کا فیصلہ فرمایا اور اس کے وارث سے کہا کیا تو نے یہ فرمان نہیں سنا لفظ آیت ” وعلی الوارث مثل ذلک “ اگر بچے کا مال نہ ہوتا تو میں تجھ پر نفقہ کا حکم دیتا۔ (23) عبد بن حمید نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ آدمی کو مجبور کیا جائے گا اس کے بھائی کے نفقہ پر جبکہ وہ مالدار ہو اور اس کا بھائی تنگدست ہو۔ (24) عبد بن حمید نے حماد (رح) سے روایت کیا کہ ہر ذی رحم محرم کو نادار کے خرچ پر مجبور کیا جائے گا (جبکہ وہ مالدار ہو) (25) سفیان، عبد الرزاق، ابو عبید نے الاموال میں، عبد بن حمید نے، ابن جریر، ابن ابی حاتم، النحاس نے الناسخ میں بیہقی نے سعید بن مسیب (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ نے چچا کے بیٹے کو ایک نوزائیدہ لا وارث بچے کے نفقہ کے بارے میں قید کردیا جو اس پر تھا عاقلہ کی طرح۔ (عاقلہ باپ کی طرف سے رشتہ داروں کو کہتے ہیں) ۔ (26) سفیان بن عینیہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وعلی الوارث مثل ذلک “ سے مراد ہے بچہ کے وارث پر لازم ہے کہ وہ اس کو دودھ پلوئے جس طرح اسکے باپ پر لازم ہوتا ہے۔ (27) ابن جریر، نحاس نے قبیصہ بن ذوئب (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وعلی الوارث “ سے بچہ مراد ہے۔ (28) وکیع نے عبد اللہ بن مغفل (رح) سے روایت کیا کہ بچہ کو دودھ پلانا اس کے (میراث کے) حصہ میں سے ہوگا۔ (29) ابن جریر، ابن المنذر نے عطاء الخراسان سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وعلی الوارث مثل ذلک “ سے مراد ہے کہ بچے کا نفقہ وارث پر لازم ہے۔ یہاں تک کہ اس کا دودھ چھڑا دیا جائے اگر اس کے باپ اور اس نے مال نہ چھوڑا ہو۔ (30) ابن المنذر، ابن ابی حاتم، بیہقی نے مجاہد نے شعبی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وعلی الوارث مثل ذلک “ سے مراد ہے وارث پر لازم ہے کہ اس (بچہ) کو تکلیف نہ دے۔ (31) ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فان ارادا فصالا “ سے دودھ چھڑانا مراد ہے۔ (32) وکیع، سفیان، عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر نے مجاہد (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ دو سال سے کم مدت میں دودھ چھڑانے کا مشورہ ہے۔ عورت کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ (بچہ کے والد کی) رضا مندی کے بغیر اس کا دودھ چھڑا دے۔ اور (اس طرح) والد کے لئے بھی یہ جائز نہیں کہ عورت کی رضا مندی کے بغیر اس کا دودھ چھڑا دے۔ (33) عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وان اردتم ان تسترضعوا اولادکم “ سے مراد اس بچہ کی ماں یا اس کے علاوہ دوسری دودھ پلانے والی عورت لفظ آیت ” فلا جناح علیکم اذا سلمتم “ یعنی جب تم کو کوئی حرج نہیں جب تم دودھ پلانے والی عورت کی اجرت اس کے سپرد کر دو ” ما اتیتم “ یعنی جو کچھ تم نے دنیا میں مقرر کیا تھا۔ (34) ابن ابی حاتم نے ابن شباب (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وان اردتم ان تسترضعوا اولادکم فلا جناح علیکم “ سے مراد ہے کہ جب یہ (دودھ پلانا) والد اور والدہ کی رضا مندی کے ساتھ ہو تو دایہ کو دودھ پلانے میں کوئی حرج نہیں۔