2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 2:281

وَ اتَّقُوْا یَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِیْهِ اِلَى اللّٰهِ١۫ۗ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:281 in the Quran reader

اور اس دن سے ڈرو جبکہ تم خدا کے حضور میں لوٹ کر جاؤ گے اور ہر شخص اپنے اعمال کا پورا پورا بدلہ پائے گا اور کسی کا کچھ نقصان نہ ہوگا

(تفسیر) 281۔: (آیت)” واتقوا یوما ترجعون فیہ الی اللہ “۔ اور اس دن سے ڈرتے رہو جس دن تمہیں اللہ کی طرف لوٹایا جائے گا، اہل بصرہ نے ” ترجعون “ پڑھا ہے یعنی تم لوٹو گے اور بعض حضرات نے ” ترجعون “ تاء کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اور جیم کے فتحہ کے ساتھ مطلب یہ ہوگا کہ تم اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ (تم توفی ۔۔۔۔۔۔۔ یظلمون پھر ہر شخص کو اس کے کیے ہوئے کا بدلہ دیا جائے گا) حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اس آیت کو سورة بقرہ کی دو سو اسی آیت کے بعد رکھ لو اس کے نزول کے بعد آپ ﷺ اکیس دن زندہ رہے ، ابن جریج (رح) فرماتے ہیں کہ نو راتیں زندہ رہے ، سعید بن جبیر ؓ فرماتے ہیں کہ سات راتیں زندہ رہے اور آپ ﷺ کی وفات پیر کے دن تین ربیع الاول کو زوال کے بعد گیارہ ہجری میں ہوئی ، امام شعبی (رح) حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ آخری آیت جو آپ ﷺ پر نازل ہوئی وہ سود کے متعلق تھی ، بعض نے کہا کہ آیت پر وحی کو ختم کردیا ، (آیت)” یایھا الذین امنوا اذا تداینتم بدین الی اجل مسمی “۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے ش کہ جب سود کو حرام کیا تو سلم کو حلال قرار دیا اور فرمایا کہ میں شہادت دیتاہوں کہ بیع جس کی ادائیگی ثمن کی ایک مدت مقرر کی جاتی ہے اللہ نے اس کو حلال کیا اور اس کی اجازت دی ہے پھر یہ پڑھا ۔
Ayah 2:282

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَدَایَنْتُمْ بِدَیْنٍ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوْهُ١ؕ وَ لْیَكْتُبْ بَّیْنَكُمْ كَاتِبٌۢ بِالْعَدْلِ١۪ وَ لَا یَاْبَ كَاتِبٌ اَنْ یَّكْتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ اللّٰهُ فَلْیَكْتُبْ١ۚ وَ لْیُمْلِلِ الَّذِیْ عَلَیْهِ الْحَقُّ وَ لْیَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ وَ لَا یَبْخَسْ مِنْهُ شَیْئًا١ؕ فَاِنْ كَانَ الَّذِیْ عَلَیْهِ الْحَقُّ سَفِیْهًا اَوْ ضَعِیْفًا اَوْ لَا یَسْتَطِیْعُ اَنْ یُّمِلَّ هُوَ فَلْیُمْلِلْ وَلِیُّهٗ بِالْعَدْلِ١ؕ وَ اسْتَشْهِدُوْا شَهِیْدَیْنِ مِنْ رِّجَالِكُمْ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَكُوْنَا رَجُلَیْنِ فَرَجُلٌ وَّ امْرَاَتٰنِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَآءِ اَنْ تَضِلَّ اِحْدٰىهُمَا فَتُذَكِّرَ اِحْدٰىهُمَا الْاُخْرٰى١ؕ وَ لَا یَاْبَ الشُّهَدَآءُ اِذَا مَا دُعُوْا١ؕ وَ لَا تَسْئَمُوْۤا اَنْ تَكْتُبُوْهُ صَغِیْرًا اَوْ كَبِیْرًا اِلٰۤى اَجَلِهٖ١ؕ ذٰلِكُمْ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ وَ اَقْوَمُ لِلشَّهَادَةِ وَ اَدْنٰۤى اَلَّا تَرْتَابُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً حَاضِرَةً تُدِیْرُوْنَهَا بَیْنَكُمْ فَلَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَلَّا تَكْتُبُوْهَا١ؕ وَ اَشْهِدُوْۤا اِذَا تَبَایَعْتُمْ١۪ وَ لَا یُضَآرَّ كَاتِبٌ وَّ لَا شَهِیْدٌ١ؕ۬ وَ اِنْ تَفْعَلُوْا فَاِنَّهٗ فُسُوْقٌۢ بِكُمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ وَ یُعَلِّمُكُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 2:282 in the Quran reader

مومنو ! جب تم آپس میں کسی میعاد معین کے لیے قرض کا معاملہ کرنے لگو تو اس کو لکھ لیا کرو اور لکھنے والا تم میں (کسی کا نقصان نہ کرے بلکہ) انصاف سے لکھے نیز لکھنے والا جیسا اسے خدا نے سکھایا ہے لکھنے سے انکار بھی نہ کرے اور دستاویز لکھ دے اور جو شخص قرض لے وہی (دستاویز کا) مضمون بول کر لکھوائے اور خدا سے کہ اس کا مالک ہے خوف کرے اور زر قرض میں سے کچھ کم نہ لکھوائے اور اگر قرض لینے والا بےعقل یا ضعیف ہو یا مضمون لکھوانے کی قابلیت نہ رکھتاہو تو جو اس کو ولی ہو وہ انصاف کے ساتھ مضمون لکھوائے اور اپنے میں سے دو مردوں کو (ایسے معاملے کے) گواہ کرلیا کرو۔ اور اگر دو مرد نہ ہو تو ایک مرد اور دو عورتیں جن کو تم گواہ پسند کرو (کافی ہیں) کہ اگر ان میں سے ایک بھول جائے گی تو دوسری اسے یاد دلادے گی اور جب گواہ (گواہی کے لئے) طلب کئے جائیں تو انکار نہ کریں اور قرض تھوڑا ہو یا بہت اس (کی دستاویز) کے لکھنے لکھانے میں کاہلی نہ کرنا یہ بات خدا کے نزدیک نہایت قرین انصاف ہے اور شہادت کے لیے بھی یہ بہت درست طریقہ ہے اس سے تمہیں کسی طرح کا شک وشبہہ بھی نہیں پڑے گا ہاں اگر سودا دست بدست ہو جو تم آپس میں لیتے دیتے ہو تو اگر (ایسے معاملے کی) دستاویز نہ لکھو تو تم پر کچھ گناہ نہیں اور جب خریدوفروخت کیا کرو تو بھی گواہ کرلیا کرو اور کاتب دستاویز اور گواہ (معاملہ کرنے والوں) کسی طرح کا نقصان نہ کریں۔ اگر تم (لوگ) ایسا کرو تو یہ تمہارے لئے گناہ کی بات ہے اور خدا سے ڈرو اور (دیکھو کہ) وہ تم کو (کیسی مفید باتیں) سکھاتا ہے اور خدا ہر چیز سے واقف ہے

(تفسیر) 282۔: (یایھا الذین ۔۔۔۔۔۔۔۔ مسمی ۔ اے ایمان والوں جب تم ادھار ، لین دین والا معاملہ کرو ایک میعاد معین تک) اس کو لکھ لیا کرو، (آیت)” اذا تداینتم “ سے مراد ہے کہ جب تم ادھار کا معاملہ کرو جیسے کہا جاتا ہے ” داینتہ اذا عاملتہ بالدین “۔ بدین کا ذکر ” تداینتم “ کے بعد کیا کیونکہ مداینہ میں مجازاۃ اور کبھی معاطاۃ بھی ہوتا ہے پھر اس کو دین کے ساتھ مقید کیا تاکہ لفظ کی مراد واضح ہوجائے ، بعض حضرات نے کہا کہ یہ تاکید کے طور پر دوبارہ ذکر کیا ، ” اجل “ سے مراد مدت معلوم ہو ابتدائی مدت ہو یا انتہائی ہو اور اجل ثمن میں اور بیع سلم میں مقرر کرنا لازم ہے تاکہ صاحب حق وقت سے پہلے مطالبہ نہ کرے اور قرض میں اجل لازم نہیں ، یہی اکثر اہل علم کا مسلک ہے ۔ لین دین لکھنے کا حکم : ” فاکتبوہ “ سے مراد کہ اس معاملہ کو لکھ لیا کرو خواہ وہ معاملہ بیع شراء کا ہو یا بیع سلم کا ہو یا قرض کا ہو ، اس لکھنے کے حکم کے متعلق آئمہ مفسرین کا اختلاف ہے ، بعض نے کہا کہ لکھنا واجب ہے اور اکثر حضرات کے نزدیک لکھنا مستحب ہے ، اگر لکھنے کو چھوڑ دیا گیا تو پھر کوئی حرج نہیں ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں (آیت)” فاذا قضیت الصلوۃ فانتشروا فی الارض “۔ نماز کے بعد زمین پر پھیل جانا اس میں کوئی حرج نہیں مستحب ہے اور بعض نے کہا کہ قرض کے متعلق لکھنا اور گواہی کے متعلق یا رھن کے متعلق لکھنا پہلے فرض تھا پھر یہ سب منسوخ ہوگیا ، اس آیت سے (آیت)” فان امن بعضکم بعضا فلیؤد الذی اتمن امانتہ “۔ اور یہ قول امام شعبی (رح) کا ہے پھر اس کے بعد اللہ عزوجل نے اس کی کیفیت بیان فرمائی ( (آیت)” ولیکتب بینکم کاتب بالعدل اور چاہے تو لکھ دے تمہارے درمیان انصاف کے ساتھ) قرض لکھنے والا مدیون اور دائن دونوں کے درمیان انصاف کے ساتھ لکھے نہ تو وہ لکھنے میں کسی کا حق کم لکھے اور نہ ہی زیادہ اور نہ مقررہ مدت کو کم کرکے لکھے اور نہ ہی بڑھا کر لکھ (ولا یاب اور نہ انکار کرے) نہ روکے (کاتب ان یکتب لکھنے والا لکھنے سے) اس بات میں آئمہ کا اختلاف ہے کہ کیا لکھنے والے پر تحریر کرنے اور گواہ پر گواہی دینا واجب ہے ؟ بعض حضرات نے کہا کہ ان دونوں پر واجب ہے کہ جب ان کو طلب کیا جائے ۔ یہ قول مجاہد (رح) کا ہے اور حسن (رح) فرماتے ہیں کہ اس شخص پر لکھنا واجب ہے جب اس کے علاوہ اور کوئی لکھنے والا نہ ہو اور بعض نے کہا کہ کاتب اور شاہد پر مستحب ہے کہ وہ لکھیں یا گواہی دے اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ کاتب پر لکھنا اور شاہد کے لیے گواہی دینا واجب ہے یہ اس آیت ” ولا یضار کاتب ولا شھید “ سے منسوخ ہے (کماعلمہ اللہ جیسے سکھایا اس کو اللہ نے) جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو مشروع فرمایا اور حکم دیا (پس چاہیے کہ وہ لکھ دے اور وہ شخص لکھوا دے جس کے ذمہ حق واجب ہو) مطلوب اس کے سامنے اس بات کا اقرار کرے تاکہ دوسرے کو معلوم ہوجائے کہ اس پر کیا واجب ہے ، املال اور املاء یہ دو فصیح الغتان ہیں لیکن ان دونوں کا معنی ایک ہی ہے ۔ املال کا ذکر تو یہاں ذکر کیا گیا اور املاء کا ذکر دوسری جگہ (آیت)” فھی تملی علیہ بکرۃ واصیلا “۔ ( (آیت)” ولیتق اللہ ربہ “۔ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے جو اس کا پالنے والا ہے) لکھتے وقت اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے ( (آیت)” ولا یبخس منہ شیئا “۔ اور اس سے ذرہ برابر بھی کمی نہ کرے) اس سے کمی نہ کیا کرو جو حق اس پر واجب ہے اس میں کسی چیز کی کمی نہ کرے (فان کان الذی ۔۔۔۔۔۔۔۔ سفیھا) پس اگر وہ جس پر حق ہو وہ ناقص العقل ہو ) یعنی لکھنے سے جاہل ہو ، امام مجاہد (رح) اور ضحاک (رح) ، سدی (رح) فرماتے ہیں اس سے مراد چھوٹا بچہ ہے ۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ ” سفھہ “ سے مراد فضول خرچ ہے جس پر قرض ہو (اوضعیفا یا وہ بوڑھا ہو) بوڑھا شیخ مراد ہے، بعض نے کہا کہ اس سے ضعیف العقل یا بچپنہ پن یا جنون ہو ( (آیت)” اولا یستطیع ان یمل “۔ یا وہ خود لکھانے کی قدرت نہیں رکھتا) گونگا ہونے کی وجہ سے یا اندھا ہونے کی وجہ سے یا عجمی ہونے کی وجہ سے یا قید میں ہونے کی وجہ سے یا غیر حاضری کی وجہ سے ہو یا اس تک کتابت کا پہنچانا ناممکن ہو یا اس کی جگہ کا علم نہ ہو (ھو یملل ولیہ تو چاہیے کہ لکھوائے اس کا ولی) ولی جو اس کا سرپرست ہے (بالعدل انصاف سے) مراد صدق اور حق ہے ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ اور مقاتل (رح) کے نزدیک اس سے مراد قرض دینے والا ہے ۔ اگر یہ لکھوانے سے عاجز ہے تو ولی اس کا حق لکھوالے اور صاحب دین انصاف سے لکھوائے کیونکہ اس کو اس کے قرض کا علم ہے (واستشھدوا اور گواہ بنا لو) اس پر گواہ مقرر کرلو (شھدین دو گواہ) گواہی دینے والے دو اشخاص (من رجالکم تم اپنے مردوں میں سے) رجال سے مراد آزاد مسلمان ہو غلام اور بچہ نہ ہو اور یہی اکثر اہل علم کا قول ہے ، شریح ابن سیرین نے غلاموں کی گواہی کو جائز قرار دیا ہے ( (آیت)” فان لم یکونا رجلین “۔ پھر اگر دو مرد نہ ہوں) دو گواہ مرد نہ ہوں (فرجل وامراتین تو پھر ایک مرد اور دو عورتیں) پھر ایک مرد اور دو عورتیں گواہی دیں۔ بچوں اور عورتوں کی گواہی کا حکم : ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ مردوں کے ساتھ عورتوں کی گواہی اموال میں جائز ہے اور غیر اموال میں آئمہ کے مختلف اقوال ہیں ، ایک جماعت کے نزدیک عقوبات کے علاوہ میں مرد کے ساتھ عورتوں کی گواہی معتبر ہے ، یہ قول سفیان ثوری اصحاب الرای کا ہے ، اور ایک جماعت کے نزدیک غیر مال میں دو عادل مردوں کی گواہی معتبر ہوگی ۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ ان کاموں میں عورتوں کی گواہی قابل قبول ہوگی جن کا تعلق عورتوں کے ساتھ ہوتا ہے جیسے کہ ولادت اور رضاعت ثیبہ بکارۃ کے مسائل میں (عورتوں کی گواہی معتبر ہوگی) اور اگر مرد ہو تو چار عورتوں کی گواہی معتبر ہوگی ۔ اور اس بات کا اس میں اتفاق ہے کہ عقوبات (سزائیں ، حدود ، قصاص) میں عورتوں کی گواہی کا اعتبار نہیں (ممن ترضون من الشھدائ “۔ جن کو تم پسند کرتے ہو گواہوں میں سے) جن سے تم راضی ہو۔ شرائط شہادت : ان کی دیانت اور امانت سے شہادت کی قبولیت کی سات شرائط ہیں ، مسلمان ہوں ، آزاد ہوں ، عاقل ہوں ، بالغ ہوں ، عادل ہوں ، صاحب مروت ہوں ، متہم نہ ہوں ۔ کن کی شہادت مقبول ہے اور کن کی شہادت مردود ہے : کافر کی شہادت مردود ہے کیونکہ لوگوں کے نزدیک ان کا کذب مشہور ہے اس لیے انکی گواہی جائز نہیں ، جو اللہ تعالیٰ پر کذب کرے ، اولی یہ ہے کہ اس کی گواہی مردود ہو اور بعض حضرات نے اہل ذمہ کی شہادت ذمی کے لیے جائز ہے ، غلام کی شہادت مقبول نہیں لیکن شریح اور ابن سیرین کے نزدیک غلام کی شہادت جائز ہے اور یہی قول انس بن مالک ؓ کا ہے ۔ اور نہ ہی مجنون کا قول یہاں تک کہ اس کی شہادت دی جائے اور نہ ہی بچے کی گواہی معتبر ہے ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی وجہ سے جائز نہیں (آیت)” ممن ترضون من الشھدائ “ عدالۃ شرط ہے اور وہ یہ ہے کہ گواہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرتا ہو اور صغائر پر اصرار کرنے والا نہ ہو اور مروء ۃ کی شرط ہے ان آداب کا خیال رکھا جائے جن کے ترک کرنے سے حیاء میں کمی محسوس ہوجاتی ہے ، حسن الہیئت ہو ، حسن سیرت ، حسن معاشرت ، اور حسن صناعت ہو، انسان سے ایسی چیز ظاہر ہوجائے جس کے ظاہر ہونے سے انسان کو حیا آتی ہو تو ایسے امور سے شہادت مقبول نہیں ہوتی ، تہمت سے بچنا یہ بھی شرط ہے کیونکہ دشمن کی دشمن کے مقابلے میں شہادت مقبول نہیں ہوتی ، اگرچہ غیر کے معاملے میں اس کی شہادت مقبول ہوتی ہے اور اپنے دشمن کے حق میں ” متھم “ ہے اور شہادت قبول نہیں باپ کی بیٹے کے لیے اور نہ ہی اس کے برعکس اگرچہ دونوں مقبول الشہادت بھی ہوں ، اور ایسے شخص کی شہادت بھی مقبول نہیں جس کی شہادت میں نفع ہو جیسے وارث کی گواہی ہو اس کی مورث کے مقتول کے متعلق دے یا کسی ضرر کی بناء پر وہ اپنے آپ کو گواہی دینے سے بچائے جیسا کہ اگر کوئی شخص اس بات پر گواہی اس وجہ سے دے کہ اگر میں نے فریق مخالف کے بارے میں گواہی دی تو وہ مجھے نقصان پہنچاے گا ۔ حضرت عروہ ؓ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مرفوعا روایت کرتے ہیں کہ خائن اور خائنتہ کی گواہی معتبر نہیں اور ناتجربہ کار کی گواہی اپنے بھائی کے لیے اور نہ آقا کی اپنے غلام کے لیے اور نہ ہی قریبی رشتہ دار کی اور نہ قانع کی اپنے گھر والوں کے لیے (ان تضل احداھما ان دونوں میں سے کوئی ایک بھول جائے) حضرت حمزہ ؓ نے ” ان تضل “ ان شرطیہ اور مکسور ہے اور ” فتذکر “ مرفوع ہے اور یہ پورا جملہ جزاء ہے اس صورت میں ” تضل “ مجزوم ہوگا شرط کی وجہ سے مگر تشدید کی بناء پر اس پر جزم نہیں آتی اور دوسرے حضرات نے ” ان تضل “ میں ہمزہ مفتوح کے ساتھ پڑھا ہے اس صورت میں ان ناصبہ ہے ” تضل ” مفتوح اور ” فتذکر “ بھی منصوب ہوگا اور ” فتذکر “ کا عطف ” تضل “ پر ہے اس لیے یہ منصوب ہوگا ، آیت کا معنی یہ ہوگا کہ ان دو عورتوں میں سے اگر ایک بھول جائے تو دوسری یاد دلا دے گی (احداھما الاخری تو ان میں سے ایک دوسرے کو یاد دلا دے) ” تضل “ کا معنی ہے کہ ان میں سے کوئی ایک بھول جائے گواہی دینے میں تو دوسری یاد دلا دے گی وہ اس طرح کہے کہ ہم فلاں مجلس میں حاضر نہیں تھے اور کہا ہم نے ان سے سنا نہیں ۔ ابن کثیر (رح) اور اہل بصرہ نے ” فتذکر “ تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی قراء نے تشدید کے ساتھ پڑھا ہے ” ذکر “ اور ” اذکر “ کا معنی ایک ہی ہے یہ دونوں ذکر سے متعدی ہیں یہ نسیان کی ضد ہے سفیان بن عیینہ سے حکایت کی گئی کہ فرماتے ہیں کہ ذکر سے مراد کہ ایک دوسری عورت کو بات کرکے یاد دلا دے یعنی ایک کی یاد دہانی سے دوسری بھی اس پر گواہی دے ، پہلی صورت اولی ہے دوسری سے ۔ (آیت)” ولا یاب الشھداء اذا ما دعوا “۔ اور گواہ (گواہی دینے سے) انکار نہ کریں جب بلایا جائے) بعض حضرات نے کہا کہ جب ان کو شہادت کے لیے بلایا جائے تو ان کو حاضر ہونا چاہیے ، شہداء کے نام کے ساتھ موسوم کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ ہی شہداء (گواہی دینے کے اہل) ہیں اور بعض نے کہا کہ یہ امر و جواب کے طور پر ہے اور بعض لوگوں نے کہا کہ جب ان کے علاوہ اور کوئی گواہی دینے والا موجود نہ ہو تو ان کو گواہی دے دینی چاہیے ، اگر ان کے علاوہ کوئی اور بھی ہوں تو ان کو اختیار ہے اور یہی قول حسن کا ہے اور بعض قوم نے کہا کہ یہ حکم مندوب ہے تمام احوال میں خواہ ان کے علاوہ کوئی اور بھی موجود ہو یا نہ ہو ، آیت کا معنی یہ ہوگا اور گواہ انکار نہ کریں جب ان کو گواہی کے لیے بلایا جائے جب وہ شہادت کے اہل ہوں ۔ امام شعبی (رح) فرماتے ہیں گواہ کو اختیار حاصل ہے کہ وہ گواہی نہ دے اور حسن (رح) فرماتے ہیں کہ تمام کاموں میں تحمل شہادت کا ہونا ضروری ہے جب کہ وہ فارغ ہو (ولا تساموا اور نہ سستی کرے) ” تملوا “ سے ہے اپنے نفسوں پر گواہی دینے سے ملال نہ کرو (ان تکتبوہ کہ تم اس کو لکھو) ہ ضمیر حق کی طرف راجع ہے ، (صغیرا چھوٹا ہو) وہ حق (اوکبیرا یا بڑا ہو) وہ حق تھوڑا ہو یا زیادہ (الی اجلہ ایک میعاد مقررہ تک) اس حق کی ادائیگی کی جگہ (ذلکم یہ) مراد کتاب ہے (اقسط زیادہ انصاف) عدل مراد ہے (عند اللہ اللہ کے نزدیک) کیونکہ یہ حکم اللہ ہی نے دیا ہے اس حکم کی اتباع کرنا زیادہ اولی ہے اس کے ترک کردینے سے (واقوم للشھادۃ اور اداء شہادت کو بہت قائم رکھنے والا) کیونکہ کتابت شہادت کو یاد دلاتی ہے (وادنی اور زیادہ قریب) یہ زیادہ آسان اور اس کے زیادہ قریب ہے (الاترتابوا کہ نہ شبہ میں پڑو) گواہی دینے میں شک میں نہ پڑو (الا ان تکون تجارۃ حاضرۃ “ مگر یہ کہ تجارت ہو دست بدست) عاصم (رح) نے اس کو منصوب پڑھا کان کی خبر ہونے کی وجہ سے اور اس اسم ضمیر ہے ، عبارت یہ ہوگی ” الا ان تکون التجارۃ اور المبایعۃ تجارۃ “ اور دوسرے حضرات نے ” تجارۃ حاضرۃ “ مرفوع پڑھا ہے اس کی دو وجہیں ہیں۔ (1) تکون تامہ ہو تو اس صورت میں ” تریدونھا، تجارۃ “ کی صفت ہوگی ۔ (2) اور اگر تکون کو ناقصہ کہا جائے تو اس صورت میں ” تدیرونھا “ خبر ہوگی (تدیرونھابینکم جسے تم لیتے ہر تے ہو آپس میں) اس آیت کا معنی یہ ہے کہ مگر یہ کہ لین دین دست بدست جس کو تم آپس میں لیتے رہتے ہو اور جس کی میعاد متعین نہ ہو (اس کو نہ لکھنے کا تم پر کوئی گناہ نہیں) مراد اس سے تجارت ہے ۔ واشھدوا اذا تبایعتم “۔ اور خریدو فروخت کے وقت گواہ بنا لیا کرو) ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ اس سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ پختہ عزم کرنا ہے گواہی دینا واجب ہے چھوٹے کے حق میں بڑے کے حق میں نقدی ہو معاملہ یا ادھار ہو ۔ حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ یہ حکم بطور امانت کے ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت)” فان امن بعضکم بعضا “۔ بعض نے کہا کہ یہ حکم استحباب کے طور پر ہے (آیت)” ولا یضار کاتب ولا شھید “۔ اور کسی کاتب کو تکلیف نہ دی جائے اور نہ کسی گواہ کو) یہ نہیں غائب کے لیے ہے ” یضار “ اصل میں ” یضارر “ تھا ، ایک راء کو دوسرے میں مدغم کیا گیا اور نصب دیا گیا ، اس کے اصل صیغہ میں اختلاف ہے، بعض نے کہا کہ ” یضارر “ انہوں نے اس نہی کو کاتب اور شاہد کے ساتھ قرار دیا ہے ، آیت کا معنی یہ بنے گا کہ کاتب کسی کو تکلیف نہ دے کہ وہ لکھنے سے انکار کر دے اور نہ کوئی گواہ تکلیف دے بایں طور پر کہ وہ گواہی دینے سے انکار کرلے ، یہ طاؤس (رح) ، حسن (رح) ، اور قتادہ (رح) کا قول ہے اور بعض حضرات نے کہا کہ یہ اصل میں ” یضار “ تھا ، فعل مجہول اس صورت میں کاتب اور شاہد دونوں مفعول ہوں گے ، معنی یہ ہوگا کہ جب کوئی شخص کاتب یا شاہد کو بلائے ، اس حال میں کہ وہ دونوں کسی اہم کام میں مشغول ہوں تو جب ان سے کہا جائے تو یہ دونوں جواب میں کہیں کہ ہم اہم کام میں مشغول ہیں، ہمارے علاوہ کسی اور کو تلاش کرو (وان تفعلوا اور اگر تم کرو گے) (جس ضرر رسانی سے ہم نے تم کو منع کردیا ہے اگر وہ فعل تم کرو گے (فانہ فسوق بکم تو اس میں تمہارے لیے گناہ ہوگا) فسوق سے مراد معصیت اور اس حکم سے خروج ہے ، (آیت)” واتقوا اللہ ویعلمکم اللہ واللہ بکل شیء علیم اللہ کے حکم کی مخالفت سے ڈرتے رہو اور اللہ تم کو تعلیم دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ سب چیزوں کو جاننے والے ہیں) ۔
Ayah 2:283

وَ اِنْ كُنْتُمْ عَلٰى سَفَرٍ وَّ لَمْ تَجِدُوْا كَاتِبًا فَرِهٰنٌ مَّقْبُوْضَةٌ١ؕ فَاِنْ اَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا فَلْیُؤَدِّ الَّذِی اؤْتُمِنَ اَمَانَتَهٗ وَ لْیَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ١ؕ وَ لَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ١ؕ وَ مَنْ یَّكْتُمْهَا فَاِنَّهٗۤ اٰثِمٌ قَلْبُهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:283 in the Quran reader

اور اگر تم سفر پر ہو اور (دستاویز لکھنے والا مل نہ سکے) تو (کوئی چیز) رہن باقبضہ رکھ کر) قرض لے لو) اور اگر کوئی کسی کو امین سمجھے (یعنی رہن کے بغیر قرض دیدے) تو امانتدار کو چاہے کہ صاحب امانت کی امانت ادا کرے اور خدا سے جو اس کو پروردگار ہے ڈرے اور دیکھنا شہادت کو مت چھپانا جو اس کو چھپائے گا وہ دل کا گنہگار ہوگا اور خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے

(تفسیر) 283۔: (آیت)” وان کنتم علی سفر ولم تجدوا۔۔۔۔۔۔۔ مقبوضۃ “۔ اور اگر تم کسی سفر میں ہو اور نہ پاؤ تم کاتب سو رھن رکھنے کی چیزیں ہیں جو قبضہ میں دی جائیں۔ ابن کثیر ل اور ابو عمرو (رح) نے ” فرھن “ پڑھا ہے راء اور ھاء کے ضمہ کے ساتھ اور باقی قراء نے ” فرھن “ یہ جمع ہے رھن کی جیسے بغل جمع ہے بغال کی اور جبل جمع ہے جبال کی ، رھن جمع ہے رھان کی جمع الجمع ہے، یہ فراء اور کسائی نے کہا اور ابو عبیدہ وغیرہ نے کہا ” رھن “ بھی ” رھن “ کی جمع ہے جیسے ” سقف “ جمع ہے ” سقف “ کی اور ابو عمرو (رح) نے ” فرھن “ پڑھا ہے اور اس کے درمیان اور رھان الخیل کے درمیان فرق واضح ہوجائے ، عکرمہ (رح) فرماتے ہیں کہ یہ ” رھن “ راء کے ضمہ اور سکون الھاء کے ساتھ ہے ، رھن تخفیف یا تشدید دونوں لغتیں ہیں جیسے ” کتب ، کتب اور رسل ، رسل “ آیت کا معنی یہ ہوگا کہ اگر تم حالت سفر میں ہو اور کوئی کاتب لکھنے والا نہ پاؤ تو اس کے بدلے میں رھن رکھ لو جس سے قرض وغیرہ لے رہے ہو تاکہ یہ تمہارے مالوں کو پختہ رکھے اور اس بات میں اتفاق ہے کہ رھن اس وقت تک تام نہیں ہوتا مگر قبض کے ساتھ ، ” فرھن مقبوضۃ “ کا معنی ہوگا کہ رھن رکھو اور اس پر قبضہ کرو یہاں تک کہ اگر کسی نے رھن رکھ لیا اور اس پر قبضہ نہیں کیا تو راھن پر تسلیم کرنے سے مجبور نہیں کرسکتے ، اگر اس نے راھن پر قبضہ کرلیا تو راھن پر واپس کرنا لازم ہوگا اور اسی طرح اس راھن پر اس وقت تک مرہونہ چیز واپس کرنا ضروری نہٰں جب تک کہ وہ اس پر قبضہ نہ کرلے اور اسی طرح رھن رکھنا اقامت کی حالت میں بھی جائز جب کوئی کاتب موجود ہو ، مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ رھن رکھنا صرف سفر میں جائز ہے حضر میں جائز نہیں ، اور سفر میں جب کوئی کاتب نہ ہو ، دلیل اس پر وہ روایت ہے کہ آپ ﷺ نے اپنی زرہ ابی شحم یہودی کے پاس رھن رکھی اور نہ تو وہ سفر میں تھے اور نہ ہی ان کے پاس کاتب تھا (فان امن بعضکم بعضا اگر تم میں سے بعض ، بعض کا اعتبار ہو) حضرت ابی بن کعب ؓ نے ” فان ائتمن “ پڑھا ہے یعنی قرض دینے والا قرض لینے والے کی طرف سے مطمئن ہو اور اس سے حسن ظن ہو تو پھر رھن رکھنے کی ضرورت نہیں ۔ (آیت)” فلیود الذی ائتمن امانتہ “۔ پس اس کو چاہیے کہ امانت دار کی امانت ادا کرے) یعنی اس کی امانت قرض واپس ادا کرے (ولیتق اللہ۔۔۔۔۔ ربہ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرے جو اس کا رب ہے) حق کے ادا کرنے میں یہاں خطاب سے شہود کی طرف اشارہ ہے ( (آیت)” ولا تکتموا الشھادۃ “۔ اور شہادت کو مت چھپاؤ) یعنی جب تم کو گواہی کے لیے طلب کیا جائے تو تم گواہی کو نہ چھپاؤ اس پر وعید فرمائی ہے اور ( (آیت)” ومن یکتمھا فانہ اثم قلبہ “۔ گواہی کو چھپائے گا تو اس کا دل گنہگار ہوگا) اس کا دل فاجر ہوگا ، بعض نے کہا کہ جس چیز کا وعدہ کیا گیا گویا کہ کتمان شہادت پر وعید فرمائی ہے ، اثم قلبہ سے مراد دل کا مسخ ہوجانا ہے ” نعوذ باللہ من ذالک “ (واللہ بما تعملون علیم اور جانتا ہے جس کو تم کرتے ہو) شہادت کو چھپانے کے متعلق اللہ جانتا ہے ۔
Ayah 2:284

لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ یُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُ١ؕ فَیَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:284 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے اور تم اپنے دلوں کی بات کو ظاہر کرو گے تو یا چھپاؤ گے تو خدا تم سے اس کا حساب لے گا پھر وہ جسے چاہے مغفرت کرے اور جسے چاہے عذاب دے اور خدا ہر چیز پر قادر ہے

(تفسیر) 284۔: (آیت)” (اللہ ۔۔۔۔۔ الارض اور اللہ کے لیے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے) یعنی اسی کی ملک ہے اور اس میں رہنے والے اس کے بندے ہیں اور جس چیز کے تم مالک ہو (اس کا بھی وہی مالک ہے) ۔۔۔۔۔۔۔ (وان تبدوا ۔۔۔۔۔۔ قدیر، اور اگر تم ظاہر کرو جو تمہارے دلوں میں ہے یا اس کو چھپاؤ قیامت کے دن اللہ تم سے اس کا حساب لے گا ۔ پس بخش دے گا جس کو چاہے گا اور سزا دے گا جس کو چاہے گا اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے) اس آیت کے متعلق مفسرین کا اختلاف ہے کہ یہ آیت ماقبل کے ساتھ متعلق ہے یا علیحدہ ہے ، بعض حضرات نے کہا کہ یہ آیت خاص ہے اس کی خصوصیت کی وجہ میں اختلاف ہے ، بعض نے کہا کہ یہ آیت پہلی آیت کے ساتھ متصل ہے یہ کتمان الشہادۃ کے متعلق نازل ہوئی ، معنی یہ ہوگا کہ اگر تم اپنے نفسوں میں جو کچھ ہے اس کو ظاہر کرو یعنی جو تم نے گواہی میں پیشی کی یا اس کمی بیشی کو ظاہر کرنے سے پرہیز کیا تو اللہ تعالیٰ اس کا تم سے حساب لے گا ، یہ قول امام شعبی (رح) اور حضرت عکرمہ (رح) کا ہے اور بعض حضرات نے کہا کہ یہ ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو مؤمنین کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست بناتے ہیں ، مطلب آیت کا یہ ہوگا کہ کافروں سے دوستی کا جو خیال تمہارے دلوں میں ہے یا تم اس کو چھپاؤ یا ظاہر کرو اللہ تعالیٰ تم سے اس کا محاسبہ ضرور کرے گا اور یہی قول مقاتل کا ہے جس طرح سورة آل عمران میں گزر چکا ہے کہ (آیت)” لا یتخذ المؤمنون الکافرین اولیاء من دون المؤمنین “۔ سے لے کر قل ان تخفوا مافی صدورکم او تبدوہ یعلمہ اللہ “ بعض حضرات نے کہا کہ اس آیت سے مراد عام ہے پھر بعض حضرات کا آپس میں اختلاف ہے کہ یہ منسوخ ہے اس آیت سے جو اس کے بعد آرہی ہے ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ پر یہ آیت نازل فرمائی (آیت)” للہ ما فی السموت وما فی الارض وان تبدوا ۔۔۔۔۔ الایۃ “۔ جب یہ آپ ﷺ پر نازل ہوئی تو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین پر یہ آیت بہت شاق گزری صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین دو زانو بیٹھ کر انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ نماز ، روزہ ، جہاد اور خیرات کا ہم کو جو حکم دیا گیا اس کو ادا کرنے کی ہم میں طاقت تھی لیکن اب یہ آیت آپ ﷺ پر نازل ہوئی اس پر عمل کرنے کی طاقت نہیں رکھتے ، آپ ﷺ نے جواب میں عرض کیا کیا تم وہ بات کہنا چاہتے ہو جو تم سے پہلے یہود و نصاری (اہل کتاب) نے کی تھی ، انہوں نے کہا تھا ” سمعنا وعصینا “ بلکہ تم یوں کہو ” سمعنا واطعنا غفرانک ربنا والیک المصیر “۔ جب لوگ یہ آیت پڑھنے لگے اور زبان پر یہ الفاظ خوب رواں ہوگئے تو یہ آیات نازل ہوئیں ، (آیت)” امن الرسول “۔ سے لے کر ” والیہ المصیر “۔ تک پر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے اس پر عمل کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کو منسوخ کردیا ، اس آیت سے (آیت)” لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا اواخطانا “۔ تک پڑھا ، فرمایا جی ہاں پھر پڑھا (آیت)” ربنا ولا تحمل علینا ۔۔۔۔۔۔۔۔ من قبلنا “۔ تک تو فرمایا جی ہاں (آیت)” ربنا ولا تحمل مالا طاقۃ لنا “ فرمایا جی ہاں ، پھر (آیت)” واعف عنا واغفرلنا وارحمنا انت مولنا فانصرنا علی القوم الکافرین “۔ فرمایا جی ہاں ۔ ابوہریرہ ؓ کی روایت نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنی امت سے وسوسہ کو معاف فرماتے ہیں ، جب تک اس پر کلام نہ کریں یا اس پر عمل نہ کریں ، بعض حضرات نے کہا کہ یہ آیت منسوخ نہیں اس لیے کہ منسوخ آیت سے خبر نہیں دی جاتی بلکہ نسخ وارد ہوتا ہے امر اور نہی کی صورت میں ۔ (آیت)” یحاسبکم بہ اللہ “۔ خبر ہے اور اس میں نسخ وارد نہیں ہوتا ، پھر اس کی تاویل میں آئمہ کا اختلاف ہے ، بعض لوگوں نے کہا کہ اس سے مراد اللہ تعالیٰ دل کو ثابت قدمی عطا فرماتے ہیں ، کسب کے اعتبار سے ، جیسا کہ فرمایا (آیت)” بما کسبت قلوبکم “۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص ایسا نہیں جو چپکے سے کوئی چیز خرچ کرے یا اعلانیہ طور پر خرچ کرے یا اس کے اعضاء وجوارح سے کوئی حرکت یا اس کے دل میں کوئی بات آئی تو اللہ ان تمام چیزون سے باخبر ہوجاتا ہے اور اس پر وہ محاسبہ بھی کرتا ہے پھر جس کو چاہتا ہے معاف کردیتا ہے اور جس کا چاہتا ہے سزا دیتا ہے اور یہی حسن کا قول ہے ، اس پر قرآن کی آیت دلالت کرتی ہے کہ (آیت)” ان السمع والبصر والفؤاد کل اولئک کان عنہ مسئولا “۔ بعض حضرات نے کہا کہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوق سے اس کے اعمال کے متعلق ان سے پوچھے گا اور اس کی سزا وجزا دے گا جس کو وہ پوشیدہ طور پر بجا لائیں یا ظاہری طور پر ، علاوہ ان امور کے جو امور ان کے دلوں میں آئے لیکن اس پر انہوں نے عمل نہیں کیا دنیا میں مصائب یا کسی اور وجہ سے اور وہ امور جن کی وجہ سے وہ غمگین اور نادم ہوتے ہیں ، یہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کا فرمان ہے ، فرماتی ہیں کہ میں نے اس آیت کے متعلق آپ ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ یہ اللہ کی طرف سے بندے کے اوپر سزا ہے جو اس کو پہنچتی ہے بخار کے متعلق 1 ہو یا کوئی اور پریشانی حتی کہ کانٹا چبھنے کے برابر یا جیب میں ہاتھ ڈالتے وقت جیب کو خالی پانے کی صورت میں بھی جب وہ اس پر غمزدہ ہوتا ہے اور (آیت)” ان للہ وانا الیہ راجعون “۔ پڑھتا ہے اس سے مؤمن کے گناہ اس طرح معاف ہوجاتے ہیں جیسا کہ ۔ حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے وہ آپ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے خیر (بھلائی) کا ارادہ فرماتے ہیں تو اس کو دنیا میں گناہ کی سزا دے دیتے ہیں اور بعض حضرات نے کہا کہ (آیت)” وان تبدوا مافی انفسکم “ کی تفسیر یہ ہے کہ جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اور جن کا تم قصد کرچکے ہو یا ان کو تم نے ابھی تک اپنے دلوں میں چھپائے رکھا ہے اس پر بھی اللہ محاسبہ کرے گا اور وہ چیزیں جن کو تم نے ابھی تک ظاہر نہیں کیا اور تم اس پر پختہ ہو (ارادہ رکھتے ہو) اس کا بھی اللہ تمہارے محاسبہ کرے گا ، عبداللہ بن مبارک (رح) نے فرمایا کہ میں نے سفیان سے پوچھا کہ کیا ارادہ پر بھی مواخذہ ہوگا سفیان نے کہا ہاں اور بعض نے کہا کہ اس محاسبہ کا معنی ہے اخبار اور تعریف ، اس صورت میں آیت کا معنی یہ ہوگا اگر تم ظاہر کر دو جو تمہارے دلوں میں ہے اور اس پر عمل بھی کرلو یا تم ان چیزوں کو اپنے دلوں میں چھپائے رکھو اور ان کی نیت بھی ان کاموں کے کرنے کی ہو ، اللہ اس کا مواخذہ بھی کرے گا اور اس کی خبر بھی تمہیں بتلائے گا اور اس کو تم پہچانو گے بھی ، پھر مؤمنین کی مغفرت کی جائے گی ان کے ایمان کی فضیلت کی وجہ سے اور کافروں کو عذاب دیا جائے گا عدل کیا اظہار کرنے کی وجہ سے یہ قول امام ضحاک (رح) کا ہے ۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ (آیت)” یحاسبکم بہ اللہ “۔ فرمایا ” یواخذکم بہ “ نہیں فرمایا اور محاسبہ اور مواخذہ دونوں الگ ہیں ، اس پر دلیل وہ حدیث مبارک ہے کہ صفوان بن محرز فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر بن الخطاب ؓ کا ہاتھ پکڑا تھا کہ جب یہ اپنی سواری کے پاس پہنچے تو ارشاد فرمایا کہ کیا آپ نے نجوی کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے کیا سنا ، فرماتے ہیں کہ میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بندے کو اپنے قریب کر دے گا یہاں تک کہ اس کو عرش کے سائے کے نیچے بلا لے گا اور وہ لوگوں سے چھپ جائے گا پھر اللہ رب العزت اس سے پوچھیں گے اے میرے بندے ! کہ تو فلاں ، فلاں گناہ کو جانتا ہے تو وہ کہے گا جی ہاں اے میرے رب ! پھر اس بندے سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے بندے تو فلاں فلاں گناہ جانتا ہے ؟ وہ کہے گا جی ہاں اے میرے رب ! یہاں تک کہ وہ اپنے گناہوں کا اقرار کرلے گا اور وہ اب سوچے گا کہ اب تو میں ہلاک اور برباد ہوگیا ، پھر اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا کہ میں نے دنیا میں تیرے گناہوں پر پردہ ڈالا اور آج کے دن میں نے تمہارے گناہوں کو معاف کردیا ، پھر ہر گناہ کے بدلے میں اس کو نیکیاں عطا کی گئیں ، پس منافق اور کافر کو جب حاضر کیا جائے گا تو وہ جھوٹ کہیں گے اللہ کی لعنت ہو ظالموں پر ، پھر اللہ تعالیٰ کا فرمان (اللہ جس کو چاہے بخش دے اور جس کو چاہے عذاب دے) ” یغفر اور یعذب “ رفع کے ساتھ ابو جعفر (رح) ابن عامر (رح) ، عاصم (رح) اور یعقوب (رح) نے پڑھا ہے اور دوسرے حضرات نے جزم کے ساتھ پڑھا ہے جنہوں نے مرفوع پڑھا انہوں نے ابتداء کی وجہ سے پڑھا اور جنہوں نے جزم کے ساتھ پڑھا ہے ان کے ہاں یہ شرط کی وجہ سے ہے ۔ طاؤس (رح) نے روایت کیا کہ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ اللہ جسے چاہتے ہیں اس کے گناہ کبیرہ معاف کردیں اور جسے چاہیں صغیرہ گناہ کی سزا دیں نہیں کوئی اس سے پوچھ گچھ کرسکتا ہے جو کچھ وہ کرتا ہے اور وہ سب مخلوق سے پوچھ گچھ کرسکتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔
Ayah 2:285

اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ؕ كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓئِكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ١۫ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ١۫ وَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١٘ۗ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ Open ayah 2:285 in the Quran reader

رسول (خدا) اس کتاب پر جو ان کے پروردگار کی طرف سے ان پر نازل ہوئی ایمان رکھتے ہیں اور مومن بھی سب خدا پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے پیغمبروں پر ایمان رکھتے ہیں (اور کہتے ہیں کہ) ہم اس پیغمبروں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے اور وہ (خدا سے) عرض کرتے ہیں کہ ہم نے (تیرا حکم) سنا اور قبول کیا اے پروردگار ہم تیری بخشش مانگتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے

(تفسیر) 285۔ـ: (آیت)” (امن الرسول اعتقاد رکھتے ہیں رسول) ” امن “ بمعنی ” صدق “ تصدیق کے معنی میں ہے (بما انزل انزل الیہ من ربہ ولمؤمنون کل امن باللہ “ اس چیز پر جو ان کے رب کی طرف سے نازل کی گئی اور مؤمنین بھی سب کے سب ایمان لائے) یعنی ان مؤمنین میں سے ہر ایک ان چیزوں پر ایمان لائے ، اسی وجہ سے فعل کو واحد لائے ” وملائکتہ وکتبہ ورسولہ “ اور فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ) حمزہ (رح) اور کسائی (رح) کے نزدیک ” کتابہ “ ہے ان کے نزدیک واحد کا صیغہ ہے مراد اس سے قرآن مجید لیا ہے ، بعض نے کہا کہ یہاں جمع ہی مراد ہوگا ، اگرچہ واحد ہی ذکر کیا جائے ، جیسا کہ اس آیت میں (آیت)” فبعث اللہ النبیین مبشرین ومنذرین وانزل معھم الکتاب “۔ اور دوسرے قراء نے ” کتبہ “ جمع کے صیغہ کے ساتھ نقل کیا ہے جیسا کہ دوسری آیت میں ہے (آیت)” وملائکتہ وکتبہ ورسلہ “ (لانفرق بین احد من رسلہ ‘ ہم اس کے پیغمبروں میں سے کسی میں تفریق نہیں کرتے) کہ بعض انبیاء کرام (علیہم السلام) پر تو ایمان لے آئیں اور بعض انبیاء کرام (علیہم السلام) کا انکار کریں ، جیسا کہ یہود و نصاری نے کیا ، کہتے ہیں کہ اس میں اضمار ہے اور ” لا نفرق “ پڑھا ہے اور یعقوب (رح) نے کہا کہ ” یفرق “ ہے اور ضمیر غائب لفظ کل کی طرف راجع ہے معنی ہوگا ” لایفرق الکل “ اسی وجہ سے ” بیان احد “ فرمایا ” بین احاد “ نہیں فرمایا کیونکہ احد واحد اور جمع دونوں کو شامل ہوتا ہے جیسا کہ فرمان باری ہے (آیت)” فما منکم من احد عن حاجزین “۔ (وقالوا سمعنا واطعنا اور انہوں نے کہا ہم نے آپ کا فرمان سنا) یعنی آپ کا حکم اور آپ کی بات (فرمان) حضرت حکیم نے حضرت جابر ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ اللہ نے آپ کی اور آپ کی امت کی ثناء کی ہے ، آپ اللہ تعالیٰ سے کچھ سوال کیجئے پورا کیا جائے گا پس اللہ تعالیٰ کی تلقین سے آپ نے سوال کیا (غفرانک اپنی مغفرت عطا فرما) منصوب ہے مصدر ہونے کی وجہ سے ، عبارت یوں ہوگی ” اغفر غفرانک “ یا مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہوگا ” ای نسالک غفرانک “۔ (ربنا والیک المصیر اے میرے رب مرنے کے بعد تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے)
Ayah 2:286

لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا١ؕ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ عَلَیْهَا مَا اكْتَسَبَتْ١ؕ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَاۤ اِنْ نَّسِیْنَاۤ اَوْ اَخْطَاْنَا١ۚ رَبَّنَا وَ لَا تَحْمِلْ عَلَیْنَاۤ اِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهٗ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَا١ۚ رَبَّنَا وَ لَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖ١ۚ وَ اعْفُ عَنَّا١ٙ وَ اغْفِرْ لَنَا١ٙ وَ ارْحَمْنَا١ٙ اَنْتَ مَوْلٰىنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ۠ Open ayah 2:286 in the Quran reader

خدا کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا اچھے کام کرے گا تو اس کو ان کا فائدہ ملے گا برے کرے گا تو اسے نقصان پہنچے گا اسے پروردگار اگر ہم سے بھول یا چوک ہوگئی ہو تو ہم سے مواخذہ نہ کیجیو اے پروردگا ہم ایسا بوجھ نہ ڈالیو جیسا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا، اے پروردگار جتنا بوجھ اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں اتنا ہمارے سر پر نہ رکھیو اور (اے پروردگار) ہمارے گناہوں سے درگزر کر اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما تو ہی ہمارا مالک ہے اور ہم کو کافروں پر غالب فرما

(تفسیر) 286۔: (آیت)” لا یکلف اللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ وسعھا اللہ تعالیٰ کسی شخص کو مکلف نہیں بناتا مگر جو اس کی طاقت میں ہو) آیت کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے اس کی ضروریات ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی طاقت اور حاجت کے مطابق مکلف بناتے ہیں ، گویا یہاں ایک سوال کا جواب ہے، سوال یہ ہے کہ ہمیں مکلف نہیں بنایا مگر وسعت کے مطابق تو جواب میں کہا گیا کہ (آیت)” لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا “۔ اس سے مراد طاقت ہے ۔ (آیت)” لا یکلف اللہ نفسا “۔ کی مختلف تفاسیر : وسع کہا جاتا ہے جو انسان کے لیے آسانی ہو تنگی نہ ہو ، اس کی تاویل میں مفسرین کی مختلف اقوال ہیں ۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ عطاء (رح) اور اکثر مفسرین کے نزدیک (آیت)” لا یکلف اللہ “ سے مراد حدیث النفس ہے جو ماقبل آیت (آیت)” وان تبدوا ما فی انفسکم اوتخفوہ “ میں گزر چکا ہے ۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ اس آیت سے مراد خاص مؤمنین ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے امور دین میں وسعت عطا فرمائی اور ان کا مکلف نہیں بنایا مگر یہ کہ وہ اس کی طاقت رکھیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت)” یرید اللہ بکم الیسر ولا یرید بکم العسر “۔ اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا (آیت)” وما جعل علیکم فی الدین من حرج “۔ سفیان بن عیینہ سے اس آیت کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آسانی ہی کرتا ہے کسی انسان کی طاقت سے زیادہ مکلف نہیں بناتا اور یہ قول حسن (رح) کا بھی ہے کیونکہ آسانی انسان کی طاقت میں ہی ہوتا ہے (لھا ماکسبت اسی کے لیے ہے جو اس نے کمایا) اسی کیلیے جو اس نے اپنے لیے نیکی یا ثواب کمایا (آیت)” وعلیھا مااکتسبت اور اسی پر ہے جو اس نے کمایا) اس سے مراد برائی ہے اور اس کا بوجھ اسی پر ہوگا (ربنا لاتواخذنا اے ہمارے رب ! تو نہ پکڑ ہمیں اگر ہم بھول جائیں) تو ” اخذنا “ کا معنی ہے کہ نہ تو ہمیں سزا دینا جو غلطی سے گناہ سرزد ہوجائے ۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے لوگ جب کسی کام کو بھول جاتے جس کا ان کو حکم دیا گیا یا غلطی کرلیتے تو اسی وقت ان کو سزا ملتی ، فورا کھانے پینے کی کوئی چیز (ان نسینا اس گناہ کی وجہ سے) حرام کردی جاتی ، اللہ تعالیٰ نے مؤمنین کو حکم دیا کہ وہ اللہ سے دنیا میں ترک مواخذہ کا سوال کریں اور بعض نے کہا کہ یہ وہ بھولنا مراد ہے جس کا حکم چھوڑ دینے کا تھا ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” نسوا اللہ “ اللہ نے ان کو بھلا دیا (اواخطانا یا ہم سے کوئی بےپروائی ہوجائے) اس کا معنی ہے وہ غلطی جو ارادہ کے ساتھ یا جان کر ہو ، جیسا کہ کہا جاتا ہے ” اخطافلان اذا تعمد “ اگر کوئی جان کر غلطی کرلے تو کہا جاتا ہے کہ اس نے غلطی کی ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” ان قتلھم کان خطئا کبیرا “۔ عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ ” ان نسینا اواخطانا “۔ کا معنی ہے ” جھلنا اوتعمدنا “ اور بعض حضرات نے کہا کہ خطاء وہی ہے جو جہالت اور غلطی سے کی جائے اس لیے کہ جان کر جو بات کی جاتی ہے وہ معاف نہیں ہوتی بلکہ وہ اللہ کی مشیت پر ہے کہ وہ چاہے تو معاف کرے اور خطاء وہ جو قابل معافی ہو، جیسا کہ ارشاد پیغمبری ہے کہ میری امت سے خطاء اور نسیان کو معاف کیا گیا اور جس پر زبردستی کی گئی اس کو بھی معاف کیا گیا ، (ربنا۔۔۔۔۔۔۔ اصرا اے ہمارے رب اور ہم پر کوئی سخت حکم نہ بھیج) اصرا کہتے ہیں ایسا بوجھ جو بھاری ہو اور ایسا عہد جو مشکل ہو جس بوجھ کی وجہ سے انسان کھڑا نہ ہو سکے اور ایسا عہد جس کو وہ پورا نہ کرسکے ، اسی کی بناء پر عذاب سے بچا (کما حملتہ ۔۔۔۔۔۔۔ قبلنا جیسا کہ ہم سے پہلے لوگوں پر آپ نے بھیجے تھے) اس سے مراد یہود ہے ان پر احکام نازل کیے تو انہوں نے اس کو پورا نہیں کیا جس کی وجہ سے ان کو عذاب دیا گیا ، یہ قول امام مجاہد (رح) عطاء (رح) قتادہ (رح) سدی (رح) کلبی (رح) اور دوسری جماعت نے ذکر کیا جس پر اللہ کا فرمان دلالت کر رہا ہے ۔ (آیت)” واخذتم علی ذلکم اصری “ مراد اس سے عہد ہے اور بعض حضرات نے کہا کہ اس آیت سے مراد یہ ہے کہ اے اللہ ! آپ ہم پر وہ سختی اور وہ احکام نازل نہ فرما جو ماقبل یہود پر نازل فرمائے تھے اور وہ احکام پچاس نمازوں کا فرض ہونا اور اپنے مالوں سے چوتھائی کی زکوۃ ادا کرنا اور جس کے کپڑے پر نجاست لگ جاتی اس کے کاٹنے کا حکم اور جو شخص رات کو کوئی گناہ کرتا تو صبح وہ گناہ اس کے دروازے پر کھا ہوتا اور اس جیسے احکام ، یہ قول عثمان ؓ تعالیٰ عنہ ، عطاء (رح) مالک بن انس ؓ ابی عبیدہ ؓ اور ایک جماعت نے ذکر کیا ہے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد دلیل ہے (آیت)” ویصنع عنھم اصرھم والاغلال التی کانت علیھم “۔ بعض نے کہا کہ اصرا ہے مراد گناہ ہے جس کی توبہ نہ کی گئی ہو معنی یہ ہوگا کہ ہمیں ان کے ایسے گناہوں سے معاف فرمانا الاصل اس میں عقل اور احکام ہے ۔ (آیت)” ربنا ولا ۔۔۔۔۔۔ لنا بہ “ اے ہمارے رب ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال جس کی ہم میں طاقت نہ ہو) ایسے اعمال کا ہمیں مکلف نہ بنا جس کی ہم طاقت نہیں رکھتے ، بعض حضرات نے کہا کہ اس سے مراد حدیث النفس اور وسوسہ ہے مکحول سے حکایت ہے کہ فرمایا اس سے مراد غلمتہ ہے، غلمۃ سے مراد گواہی میں شدت اختیار کرنا، ابراہیم (رح) سے مروی ہے کہ اس سے (حب) مراد ہے محمد بن وہاب (رح) نے کہا کہ اس سے مراد (عشق) ہے، ابن جریج (رح) نے کہا کہ اس سے مراد بندر اور خنزیر کی طرف مسخ ہوجانا ہے ۔ بعض نے کہا کہ اس سے مراد ” شماتۃ الاعداء “ (کافروں پر فتح یابی) ہے اور بعض نے کہا کہ اس سے فرقت اور قطعیت مراد ہے (واعف عنا اور تو ہم سے درگزر فرما) ہم پر مواخذہ نہ کرنا اور ہم سے درگزر کرنا ، ہمارے گناہوں کو (واغفرلنا اور ہمیں بخش دے) ہمارے گناہوں پر پردہ ڈال اور ہمیں رسوا نہ کر (وارحمنا اور ہم پر رحم کر) ہم کچھ نہیں کرسکتے جو نیکیاں ہم کرتے ہیں یا جو گناہ ہم چھوڑتے ہیں صرف تیری ہی رحمت سے کرتے ہیں (انت مولانا ، تو ہمارا آقا ہے) ہمارا مددگار ہے ہماری حفاظت کرنے والا ہے اور تو ہی ہمارا ولی ہے ۔ (فانصرنا پس فتح عطا فرما کافر قوم پر) روایت کیا سعید بن جبیر ؓ نے ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں ” غفرانک ربنا “۔ پڑھنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا (آیت)” قدغفرت لکم “۔ میں نے تم کو بخش دیا اور آگے فرمایا (آیت)” لاتؤاخذنا ان نسینااواخطانا “۔ فرمایا (آیت)” لا تواخذکم “۔ میں تم سے مواخذہ نہیں کروں گا پھر فرمایا (آیت)” ربنا ولا تحمل علینا اصرا “۔ اس کے جواب میں فرمایا ” لااحمل علیکم اصرا “۔ اور ” ولا تحملنا مالا طاقۃ لنا بہ “۔ کے جواب میں اللہ نے فرمایا (آیت) ” لااحملکم “ اور ” واعف عنا “ سے آخر آیت تک کے جواب میں اللہ رب العزت نے فرمایا میں نے تمہارے گناہ معاف کیے بخش دیئے اور تم پر رحمت فرمائی اور تم کو کافروں پر فتح یاب کیا اور معاذ بن جبل ؓ جب سورة بقرہ ختم فرماتے تو آمین کہتے ۔ سورہ بقرہ کی آخری آیات کی فضیلت : عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کو جب معراج کرائی گئی تو آپ ﷺ سدرہ المنتی تک پہنچے اور وہ چھٹے آسمان پر ہے اور زمین کے چڑھنے والے اعمال بھی اسی جگہ تک پہنچتے ہیں اور لے جاتے ہیں اور اوپر سے اترنے والے بھی اسی جگہ تک پہنچتے اور لے لیے جاتے ہیں اور سدرۃ المنتہی پر وہ چیز چھائی ہوئی ہے جس کا ذکر اس آیت میں ہے (آیت)” اذ یغشی السدرۃ ما یغشی “ میں آیا ہے اس جگہ تین چیزیں عطاء ہوئیں ، پانچ نمازیں ، سورة بقرہ کی آخری آیات اور امت محمدیہ ﷺ کے ان لوگوں کی معافی جو شرک سے محفوظ رہے ۔ ابن مسعود ؓ سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سورة بقرہ کی یہ دو آیتیں ہیں جو رات کے وقت ان کو پڑھے گا وہ اس کے لیے کافی ہوجائیں گی ، یعنی ان کا ثواب پوری رات عبادت کرنے کے برابر ملے گا ۔ نعمان بن بشیر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان پیدا کرنے سے پہلے ایک کتاب لکھوائی جس میں دو آیات سورة بقرہ کی خاتمہ والی نازل فرما دیں جس گھر میں یہ دونوں آیات تین رات تک پڑھی جائیں تو شیطان اس گھر کے قریب نہیں آتا ۔