Ayah 2:246(تفسیر) 246۔ :
(آیت)” الم تر الی الملاء من بنی اسرائیل “ ” ملاء من القوم “ سے مراد قوم کے معزز واشراف افراد ہوتے ہیں ۔ ” ملا “ کا اصل معنی لوگوں کی جماعت ہے اس کے اپنے لفظ سے اس کا مفرد کوئی نہیں جس طرح کہ قوم ، رھط ، ابل ، خیل ، جیش کے الفاظ (کہ یہ اپنے اپنے معانی کے لحاظ سے جماعت پر دلالت کرتے ہیں) ” ملا “ کی جمع املاء ہے (آیت)” من بعد موسیٰ “ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی وفات کے بعد (آیت)” اذ قالوا لنبی لھم “ اس نبی کے بارے میں مفسرین نے اختلاف کیا ہے ۔
یہاں نبی سے کون سے نبی مراد ہیں ؟ :
حضرت قتادہرحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس سے حضرت یوشع بن نون بن افرائیم بن یوسف (علیہ السلام) مراد ہیں ۔
علامہ سدی (رح) فرماتے ہیں اس نبی کا نام شمعون تھا ، ان کا نام شمعون اس لیے کہ ان کی والدہ نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی تھی کہ اللہ تعالیٰ اسے بیٹا عطا فرمائے ، پس اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی ، پس بیٹا پیدا ہوا ان کی والدہ نے ان کا نام شمعون رکھا جس کا معنی ہے سمع اللہ تعالیٰ دعائی ، اللہ تعالیٰ نے میری دعا سن لی (قبول کرلی) عبرانی زبان میں س ش ہوجاتی ہے اور یہ شمعون بن صفیہ بنت علقمہ ، لاوی بن یعقوب کی اولاد سے ہے ۔
باقی مفسرین فرماتے ہیں کہ یہ نبی اشمویل ہیں اور یہ عبرانی میں اسماعیل بن یال بن علقمہ ، مقاتل (رح) فرماتے ہیں ہارون (علیہ السلام) کی نسل سے ہیں ۔
حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ یہ نبی اشمویل (علیہ السلام) ہیں جو کہ عبرانی زبان میں اسماعیل بن ھلقایا ہیں ۔
وہب اور ابن اسحاق (رح) اور کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ بنواسرائیل کے نبی سے اس سوال کا سبب یہ تھا کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فوت ہوئے ان کے بعد بنواسرائیل میں یوشع بن نون (علیہ السلام) خلیفہ ہوئے ، ان میں تورات اور امر الہی کو قائم فرماتے حتی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اٹھا لیا ، پھر بنواسرائیل میں کالب بن یوقنا اسی طرح خلیفہ بنے حتی کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بھی اٹھا لیا ، پھر بنواسرائیل میں کالب بن یوقنا اسی طرح خلیفہ بنے حتی کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بھی اٹھالیا پھر حزقیل (علیہ السلام) خلیفہ بنے حتی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی اٹھا لیا پھر بنواسرائیل میں بڑی بڑی نئی باتیں پیدا ہوگئیں ، عہد الہی کو بھول گئے حتی کہ انہوں نے بتوں کی پوجا کی پس اللہ تعالیٰ نے ان میں الیاس (علیہ السلام) کو نبی بنا کر بھیجا پس انہوں نے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بنی اسرائیل میں انبیاء کرام (علیہم السلام) اس لیے بھیجے جاتے تھے تاکہ ان احکام اور دینی طریقوں کی تجدید کریں جن کو بنی اسرائیل بھول چکے ہوتے ، پھر حضرت الیاس (علیہ السلام) کے بعد حضرت یسع (علیہ السلام) خلیفہ ہوئے پس بنی اسرائیل میں جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا تشریف فرما رہے حتی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اٹھالیا ، ان کے بعد ان میں کئی ایک خلیفہ ہوئے اور بنی اسرائیل میں بڑی حکم عدولیاں پیدا ہوگئیں، پس ان کے لیے ایک ان کا دشمن ظاہر ہوا اسے لثاثا کہا جاتا تھا اور یہ لوگ قوم جالوت تھے جو مصر و فلسطین کے درمیان بحر روم کے کنارے آباد تھے اور یہ عمالقہ تھے ، پس یہ لوگ بنی اسرائیل پر مسلط ہوگئے اور بنو اسرائیل کی بہت سی زمین پر غالب آگئے اور ان کی بہت سی اولاد کو قید کرلیا اور ان کے بادشاہوں کی اولاد میں سے چار سو چالیس لڑکوں کو قید کرلیا اور بنی اسرائیل پر ٹیکس لگا دیا ، ان کی کتاب تورات کو ضبط کردیا اور ان کی طرف سے بنی اسرائیل نے بڑی مشقتیں اور تکلیفیں جھیلیں اور بنو اسرائیل کے لیے کوئی ایک بھی تو ایسا نہ تھا جو ان کے معاملات کو سلجھاتا ، بنی اسرائیل کا خاندان نبوت تباہ ہوچکا تھا اس خاندان نبوت میں سوائے ایک حاملہ عورت کے کوئی باقی نہ بچا اس حاملہ عورت کو انہوں نے ایک کمرہ میں اس خوف سے بند کردیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ عورت بچی جنے اور ہم اس بچی کو بچہ کے ساتھ تبدیل کردیں ، کیونکہ قوم بنو اسرائیل کو اس عورت کے بچہ میں بڑی دلچسپی تھی اور وہ عورت بھی اللہ تعالیٰ سے لڑکے کی دعا مانگتی تھی ، پس اس عورت نے لڑکا جنا ، اس عورت نے اس بچہ کا نام اشمویل رکھا وہ کہتی تھی اللہ تعالیٰ نے میری دعا سن لی (قبول کرلی) پس وہ لڑکا بڑا ہوا ، اس نے اس کو تورات کی تعلیم کے لیے بیت المقدس میں (علماء کے) سپرد کردیا ، علماء بنی اسرائیل میں سے ایک شیخ اس لڑکے کا کفیل بن گیا اور اسے منہ بولا بیٹا بنا لیا ، جب بچہ بالغ ہوا تو حضرت جبرئیل (علیہ السلام) اس لڑکے کے پاس تشریف لائے جب وہ بچہ شیخ کے پہلو میں سویا ہوا تھا اور شیخ بچہ کے بارے میں کسی پر اعتماد نہیں کرتا تھا ۔
پس اس بچہ کو حضرت جبرئیل نے شیخ کے لہجہ میں پکارا یا اشمویل پس لڑکا گھبرا کر شیخ کی طرف کھڑا ہوگیا ، پس کہا ابا جان ! آپ نے مجھے بلایا ہے ؟ پس شیخ نے اس بات کو ناگوار سمجھا کہ کہیں نہ کہیں بچہ گھبرا نہ جائے اور کہا اے بیٹے لوٹ جا اور سو جا ، پس لڑکا لوٹ کر سو گیا ، پھر حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے اس لڑکے کو دوبارہ بلایا ، پس لڑکے نے کہا ابا جان ! آپ نے مجھے بلایا ہے پس شیخ نے کہا لوٹ کر سو جا، اب کے اگر تیسری بار تجھے بلاؤں تو مجھے جواب نہ دینا ، پھر جب تیسری بار ہوئی حضرت جبرئیل (علیہ السلام) لڑکے کے لیے ظاہر ہوگئے ، پس حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے لڑکے کو فرمایا ، اپنی قوم کے پاس جا اور انہیں اپنی قوم کا پیغام پہنچا ، پس بیشک اللہ تعالیٰ نے تجھے ان کے اندر نبی بنا کر بھیجا ہے ۔ پس جب حضرت اشمویل (علیہ السلام) قوم کے پاس آئے تو انہوں نے اس کو جھٹلایا اور کہا کہ تو نے اعلان نبوت میں جلدی سے کام لیا حالانکہ نبوت تجھے حاصل نہیں اور قوم نے اس کو کہا اگر تو سچا ہے تو ہمارے لیے بادشاہ کو بھیج تاکہ اللہ کے راہ میں ہم لڑیں جو تیری نبوت کی نشانی ثابت ہو اور بنی اسرائیل کے معاملہ کا سلجھاؤ بادشاہوں کے ساتھ جمع ہونے پر تھا اور بادشاہوں کا اپنے وقت کے نبیوں کی اطاعت میں تھا ، پس بادشاہ ہی وہ تھا جو جماعتوں کو لے کر چلتا اور (وقت کا) نبی اس کے معاملہ کو درست کرتا اور اس کی رہنمائی کرتا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے بادشاہ کے پاس خبر لاتا ۔
وہب بن منبہ (رح) فرماتے ہیں کہ حضرت شمویل (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے نبی بنا کر بھیجا ، چناچہ وہ لوگ چالیس سال تک بہت اچھے حال میں رہے ، پھر جالوت اور قوم عمالقہ کا معاملہ جو ہوا سو ہوا پس انہوں نے حضرت اشمویل (علیہ السلام) کو کہا ” ابعث لنا ملکا نقاتل فی سبیل اللہ “ کہ ہمارے لیے کوئی بادشاہ بھیجے جس کی قیادت میں (آیت)” ھم فی سبیل اللہ “ جہاد کریں نقاتل کے لفظ پر جزم جو اب امر کی بنیاد پر ہے ، پس جب انہوں نے حضرت شمویل (علیہ السلام) سے یہ کہا تو حضرت شمویل (علیہ السلام) نے فرمایا (آیت)” قال ھل عسیتم “ یہ استفہام شک ہے بمعنی ” لعلکم “ کے ہے نافع نے ” عسیتم “ کو پورے قرآن میں سین کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی حضرات نے زبر کے ساتھ اور یہ (زبر کے ساتھ) فصیح لغت ہے ، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مطابق (آیت)” عسی ربکم “۔
(آیت)” ان کتب “ اگر فرض کیا گیا (آیت)” علیکم القتال “ اس بادشاہ کی جانب سے یعنی اس کے ساتھ مل کر لڑنے کے بارے میں (آیت)” ان لاتقاتلوا “ یہ کہ اپنا کیا ہوا وعدہ تم پورا نہ کرو اور اس بادشاہ کے ساتھ مل کر تم نہ لڑو (آیت)” قالوا ومالنا ان لا نقاتل فی سبیل اللہ “۔
سوال : اگر سوال کیا جائے کہ اس جگہ (آیت)” ان لانقاتل “ ان لانے کی کیا وجہ ہے ؟ حالانکہ اہل عرب یہ محاورہ استعمال نہیں کرتے مثلا وہ یہ نہیں کہتے ” مالک ان لاتفعل “ بلکہ کہا جاتا ہے ” مالک لا تفعل ؟ “۔
جواب : تو اس کے جواب میں کہا گیا ہے کہ اس قسم کے سوال میں ” ان “ کو لے آنا اور یا پھر حذف کردینا دونوں صحیح لغتیں ہیں ان کو ثابت رکھنا بھی صحیح ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت)” مالک ان لاتکون مع الساجدین “۔ اور ان کو حذف کرنا بھی صحیح ہے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” مالکم لا تؤمنون باللہ “۔ کسائی (رح) کہتے ہیں کہ اس کا معنی یوں ہوگا ” وما لنا فی ان نقاتل “۔ اور فی کو حذف کردیا گیا ۔
فراء کہتے ہیں کہ عبارت یوں ہوگی ” وما یمنعنا ان لانقاتل فی سبیل اللہ “ ۔ اور ہمارے لیے کیا چیز مانع ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتال (لڑائی) نہ کریں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے (آیت)” مامنعک ان لاتسجد “ اخفش نے کہا اس جگہ پر ” ان “ کا لفظ زائدہ ہے اور معنی یوں ہوگا (آیت)” ومالنا لانقاتل فی سبیل اللہ “۔
(آیت)” وقد اخرجنا من دیارنا وابناء نا “۔ اس نے ان کو ان گھروں سے نکالا جوان پر غالب آیا ، ظاہر کلام کے لحاظ سے عموم ہے اور باطن میں مخصوص ہے اس لیے کہ جن لوگوں نے اپنے نبی کو کہا تھا کہ ہمارے لیے بادشاہ مقرر کیجئے تاکہ ہم اللہ تعالیٰ کی راہ میں لڑیں یہ لوگ اپنے گھروں میں تھے ، گھروں سے وہ نکالے گئے جو ان میں سے قید کیے گئے تھے اور آیت کا معنی یہ ہوگا کہ بیشک انہوں نے اپنے بنی کو کے اس قول (کہ جہاد فرض ہونے کی صورت میں تم نہیں لڑو گے) کے جواب میں کہا کہ ہم جہاد سے اس وقت بےرغبت تھے جب ہم اپنے علاقوں میں محفوظ تھے ہم پر ہمارا دشمن غالب نہ آیا تھا اب جب دشمن غالب آگیا تو ہم جہاد کے سلسلہ میں اپنے رب کی اطاعت کریں گے اور اپنی عورتوں ، بچوں کی حفاظت کریں گے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” فلما کتب علیھم القتال تولوا “۔ جہاد فرض ہونے پر انہوں نے جہاد سے منہ موڑا اللہ تعالیٰ کے حکم کو ضائع کیا (آیت)” الا قیلا منھم “۔ مگر ان میں سے تھوڑے جنہوں نے طالوت کے ساتھ نہر کو عبور کیا اور ایک آدھ چلو پانی پر اکتفا کیا ، جیسا کہ انشاء اللہ آیندہ آئے گا (آیت)” واللہ علیم بالظالمین “۔
خاصیت آیت 246۔
(آیت) ” أَلَمْ تَرَ إِلَی الْمَلإِ مِن بَنِیْ إِسْرَائِیْلَ مِن بَعْدِ مُوسَی إِذْ قَالُواْ لِنَبِیٍّ لَّہُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِکاً نُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ قَالَ ہَلْ عَسَیْْتُمْ إِن کُتِبَ عَلَیْْکُمُ الْقِتَالُ أَلاَّ تُقَاتِلُواْ قَالُواْ وَمَا لَنَا أَلاَّ نُقَاتِلَ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ وَقَدْ أُخْرِجْنَا مِن دِیَارِنَا وَأَبْنَآئِنَا فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیْْہِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْاْ إِلاَّ قَلِیْلاً مِّنْہُمْ وَاللّہُ عَلِیْمٌ بِالظَّالِمِیْنَ (246)
(1) امام غزالی (رح) فرماتے ہیں قرآن کریم کی چار آیتیں ایسی ہیں جن میں سے ہر ایک میں دس دس قاف ہیں اور وہ آیات حرب ہیں ، جو شخص ان آیات کو جھنڈے پر لکھ کر میدان جنگ میں جائے تو جس لشکر میں یہ جھنڈا ہوگا اس کو کبھی شکست نہ ہوگی بلکہ وہ دشمن پر فتح یاب ہوگا ۔
(2) اور جو شخص ان آیات کو کسی پتہ پر لکھ کر سر پر رکھ لے اور امراء ورؤسا کے پاس جائے تو وہ اس کی عزت کریں گے ۔ ان میں سے پہلی آیت ” أَلَمْ تَرَ إِلَی الْمَلإِ مِن بَنِیْ إِسْرَائِیْلَ مِن بَعْدِ مُوسَی إِذْ قَالُواْ لِنَبِیٍّ لَّہُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِکاً نُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ قَالَ ہَلْ عَسَیْْتُمْ إِن کُتِبَ عَلَیْْکُمُ الْقِتَالُ أَلاَّ تُقَاتِلُواْ قَالُواْ وَمَا لَنَا أَلاَّ نُقَاتِلَ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ وَقَدْ أُخْرِجْنَا مِن دِیَارِنَا وَأَبْنَآئِنَا فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیْْہِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْاْ إِلاَّ قَلِیْلاً مِّنْہُمْ وَاللّہُ عَلِیْمٌ بِالظَّالِمِیْنَ (246)
دوسری آل عمران میں ہے ۔ (آیت)” لَّقَدْ سَمِعَ اللّہُ قَوْلَ الَّذِیْنَ قَالُواْ إِنَّ اللّہَ فَقِیْرٌ وَنَحْنُ أَغْنِیَاء سَنَکْتُبُ مَا قَالُواْ وَقَتْلَہُمُ الأَنبِیَاء َ بِغَیْْرِ حَقٍّ وَنَقُولُ ذُوقُواْ عَذَابَ الْحَرِیْقِ (181) ذَلِکَ بِمَا قَدَّمَتْ أَیْْدِیْکُمْ وَأَنَّ اللّہَ لَیْْسَ بِظَلاَّمٍ لِّلْعَبِیْدِ (182)
تیسری سورة نساء میں ہے ۔ (آیت)” أَلَمْ تَرَ إِلَی الَّذِیْنَ قِیْلَ لَہُمْ کُفُّواْ أَیْْدِیَکُمْ وَأَقِیْمُواْ الصَّلاَۃَ وَآتُواْ الزَّکَاۃَ فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیْْہِمُ الْقِتَالُ إِذَا فَرِیْقٌ مِّنْہُمْ یَخْشَوْنَ النَّاسَ کَخَشْیَۃِ اللّہِ أَوْ أَشَدَّ خَشْیَۃً وَقَالُواْ رَبَّنَا لِمَ کَتَبْتَ عَلَیْْنَا الْقِتَالَ لَوْلا أَخَّرْتَنَا إِلَی أَجَلٍ قَرِیْبٍ قُلْ مَتَاعُ الدَّنْیَا قَلِیْلٌ وَالآخِرَۃُ خَیْْرٌ لِّمَنِ اتَّقَی وَلاَ تُظْلَمُونَ فَتِیْلاً (77)
اور چوتھی سورة مائدہ میں ہے : (آیت)” وَاتْلُ عَلَیْْہِمْ نَبَأَ ابْنَیْْ آدَمَ بِالْحَقِّ إِذْ قَرَّبَا قُرْبَاناً فَتُقُبِّلَ مِن أَحَدِہِمَا وَلَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الآخَرِ قَالَ لَأَقْتُلَنَّکَ قَالَ إِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّہُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ (27)
Ayah 2:247(تفسیر) 247۔:
(آیت)” وقال لھم نبیھم ان اللہ قد بعث لکم طالوت ملکا “۔ اور یہ اس طرح کہ حضرت اشمویل (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ ان کے لیے بادشاہ بھیجے ، پس اس کو ایک عصا دیا گیا جس میں مقدس تیل تھا اور اسے کہا گیا کہ تمہارا بادشاہ وہ ہوگا جس کا قد اس عصا کے برابر ہوگا اور اس سینگ کو دیکھنا جس میں تیل ہے پس جب وہ (بادشاہ ہونے والا) آدمی تجھ پر داخل ہوگا تو یہ تیل سینگ والا جوش مارے گا حرکت کرے گا پس وہ بنواسرائیل کا بادشاہ ہے پس یہ تیل اس کے سر کو لگانا اور اس کو ان پر بادشاہ مقرر کردینا ۔
طالوت کا نام اور وجہ تسمیہ :
طالوت کا عبرانی نام ساول بن قیس تھا جو کہ بنیامین بن یعقوب کی اولاد سے تھا اس کا نام لمبے قد ہونے ، کی وجہ سے طالوت رکھا گیا ، وہ ہر ایک سے سر اور کندھوں کے لحاظ سے لمبا تھا ، چمڑا رنگنے والا (موچی) تھا اور چمڑے کا کاروبار کرتا تھا ، یہ بات حضرت وہب (رح) نے فرمائی سدی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ ساقی تھا ، دریائے نیل سے پانی گدھے پر لاد کر پلایا کرتا تھا اس کا گدھا گم ہوگیا ، پس اس کی طلب میں نکلا۔ حضرت وہب (رح) فرماتے ہیں بلکہ اس کے باپ کا گدھا گم ہوگیا تو طالوت کے باپ کو اور اپنے ایک غلام کو گدھے کی طلب میں بھیجا پس یہ دونوں حضرت شمویل (علیہ السلام) کے گھر کے پاس سے گزرے تو طالوت کو غلام نے کہا اگر ہم اس نبی کے پاس جائیں اور اس سے گدھے کے معاملہ میں پوچھیں تاکہ وہ ہماری رہنمائی کرے اور ہمارے حق میں دعا کرے تو بہتر ہوگا) تو وہ دونوں حضرت اشمویل (علیہ السلام) کے پاس گئے اس دوران کہ وہ دونوں حضرت اشمویل (علیہ السلام) کو اپنی حاجت ذکر رہے تھے کہ اچانک سینگ والے تیل نے جوش مارا پس حضرت اشمویل (علیہ السلام) کھڑے ہوئے اور طالوت کو عصا کے ساتھ ناپا تو وہ اس کے برابر تھے ، حضرت اشمویل (علیہ السلام) نے طالوت کو کہا اپنا سر قریب کیجئے انہوں نے سر کو قریب کیا تو حضرت اشمویل (علیہ السلام) نے ان کو وہ مقدس تیل ملا ، پھر فرمایا تم بنی اسرائیل کے وہ بادشاہ ہو جس کے بارے میں مجھے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ میں اس کو بنی اسرائیل کا بادشاہ مقرر کروں تو طالوت نے کہا حضور آپ جانتے نہیں کہ میرا خاندان بنواسرائیل میں سے کم درجہ کا خاندان ہے اور میرابیت (سبط سے مخصوص شدہ قبیلہ کو بیت کہتے تھے) بنو اسرائیل میں سے کم درجہ کا گھر ہے حضرت اشمویل (علیہ السلام) نے فرمایا بالکل ایسے ہے تو طالوت نے کہا کس نشانی کے ساتھ آپ مجھے بادشاہ بنا رہے ہیں ، حضرت اشمویل (علیہ السلام) نے فرمایا کہ نشانی یہ ہے کہ جب تم واپس گھر لوٹو گے تو آپ کے والد کو گدھے مل چکے ہوں گے ۔ چناچہ ایسا ہی ہوا، پھر حضرت اشمویل (علیہ السلام) نے بنواسرائیل کو فرمایا کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے طالوت کو بادشاہ بنا کر بھیجا ہے (آیت) ” قالوا انی یکون لہ الملک علینا “۔ یعنی اس کا اقتدار ہم پر کیونکر ہوسکتا ہے۔
” ونحن احق “ ہم زیادہ حق دار ہیں ” بالملک منہ “ یہ انہوں نے اس لیے کہا کہ بنو اسرائیل میں دو بڑے خاندان تھے ، ایک خاندان نبوت تھا دوسرا شاہی خاندان تھا ، نبوی خاندان لاوی بن یعقوب کا خاندان تھا ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) حضرت ہارون (علیہ السلام) اسی خاندان سے تھے اور شاہی خاندان ” یھودا بن یعقوب “ کا خاندان تھا اور اس خاندان سے حضرت داؤد (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) تھے اور طالوت کا تعلق ان دو خاندانوں میں سے کسی کے ساتھ نہیں تھا ، طالوت تو بنیامین بن یعقوب کے خاندان سے تھا اور انہوں نے بڑا گناہ کیا تھا یہ لوگ دن دہاڑے راستے پر عورتوں سے جماع کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے ان پر غضب کیا (ناراض ہوا) اور ان سے ملک اور نبوت کی نعمت کو چھین لیا ، چناچہ اس خاندان کا نام ” سب الاثم “ پڑگیا یعنی گناہ والا خاندان۔
جب بنو اسرائیل کے نبی نے طالوت کے بادشاہ ہونے کا اعلان کیا تو بنی اسرائیل نے اس کا انکار کیا کیونکہ طالوت کا تعلق شاہی خاندان سے نہ تھا اور اس کے ساتھ یہ بھی کہا کہ یہ فقیر ہے ۔ (آیت)” ولم یؤ سعۃ من المال قال ان اللہ اصطفاہ “۔ اس کو چن لیا ، (آیت)” علیکم وزادہ بسطۃ “۔ فضیلت اور وسعت (فراخی) کے لحاظ سے (آیت)” فی العلم والجسم “۔ اور یہ اس طرح کہ طالوت بنو اسرائیل میں اپنے وقت کا بڑا عالم تھا بعض نے کہا کہ جب طالوت کو ملک عطا ہوا تو اسے وحی بھی آئی کلبی (رح) کہتے ہیں (آیت)” وزادہ بسطۃ “ ۔ یعنی فضیلت اور وسعت علم جنگ کے لحاظ سے اور جسم میں قد آور ہونے کے اعتبار سے اور کہا گیا ہے کہ جسم میں وسعت حسن و جمال کے لحاظ سے طالوت بنو اسرائیل میں حسین و جمیل اور بہت بڑا عالم انسان تھا ۔ (آیت)” واللہ یؤتی ملکہ من یشاء واللہ واسع علیم “۔ بعض نے کہا کہ واسع کا معنی ” ذوا السعۃ “۔ یعنی وسعت والا ہے اور وہ وہ ہے جو مالدار ہونے پر مال دیتا ہو (یعنی جتنا کچھ دیتا رہے اس کے غنا میں کمی نہ آئے) اور علیم بمعنی عالم بعض کا قول ہے ” عالم بما کان “ یعنی عالم وہ جو زمانہ ماضی کا علم رکھتا ہو۔ اور ” علیم بما یکون “ جو مستقبل کا عالم ہو ۔ (آیت)” فقالوالہ “۔ پس انہوں نے اس نبی کو کہا کہ اس کے بادشاہ ہونے کی کیا نشانی ہے ؟ تو ان کے نبی (علیہ السلام) نے فرمایا کہ بیشک اس کے بادشاہ ہونے کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس تابوت (صندوق) آئے گا ۔
Ayah 2:248(تفسیر) 248۔:
تابوت کا واقعہ :
(آیت)” وقال لھم نبیھم ان ایۃ ملکہ ان یتیکم التابوت “۔ اور تابوت (صندوق) کا قصہ اس طرح ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) پر تابوت نازل کیا جس میں انبیاء کرام (علیہم السلام) کی صورتیں تھیں اور یہ شمشاد (درخت) کی لکڑی کا تھا تین گز اور دو گز (ذراع سے مراد عربی گز ہے جو قریبا ڈیڑھ فٹ کا ہوتا ہے پس وہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے پاس رہا)
یہاں تک کہ حضرت آدم (علیہ السلام) فوت ہوگئے ، اس کے بعد حضرت شیث (علیہ السلام) کے پاس تھا پھر اولاد آدم کو وراثۃ منتقل ہوا ۔ یہاں تک کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس پہنچا ، پھر حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے پاس تھا ، اس لیے کہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بڑے بیٹے تھے پھر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے پاس تھا ، پھر بنی اسرائیل میں رہا ، یہاں تک کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس پہنچا ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس میں کتاب تورات اور اپنا سامان رکھتے تھے ، یہاں تک کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فوت ہوگئے پھر انبیاء کرام (علیہم السلام) بنواسرائیل یکے بعد دیگرے لیتے آئے ، یہاں تک کہ اشمویل (علیہ السلام) کو پہنچا اور اس میں وہ کچھ تھا جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا (آیت)” فیہ سکینۃ من ربکم “۔
سکینہ کے متعلق علماء کی آرائ :
سکینہ میں علمائے کرام نے اختلاف کیا کہ وہ کیا چیز تھی ؟
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ ایک سخت اور تیز چلنے والی خوشبودار ہوا تھی اس کے دو سر تھے اس کا انسان کی طرح چہرہ تھا ۔
حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ سکینہ بلی کے مشابہ ایک چیز تھی اس کا بلی کا طرح سر تھا اور اس کی دم بھی بلی کی دم کی طرح تھی اور اس کے دو پر تھے ، بعض نے کہا اس کی دو آنکھیں تھیں جن میں شعاع تھی اور دو پر تھے جو کہ زمرد اور زبرجد کے مثل تھے ، لوگ جب اس سے آواز سنتے تو نصرت الہیہ کا یقین کرلیتے اور بنی اسرائیل جب نکلتے تو اس صندوق کو اپنے آگے رکھتے جب تابوت (صندوق) چلتا تو بنی اسرائیل بھی چل پڑتے جب صندوق ٹھہر جاتا یہ بھی ٹھہر جاتے ۔
حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ سکینہ جنت سے لایا ہوا تھال تھا ، اس میں انبیاء کرام (علیہم السلام) کے دل دھوئے جاتے تھے ۔
وہب بن منبہ (رح) فرماتے ہیں کہ سکینہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک روح تھا جب لوگوں کا کسی شی میں اختلاف ہوتا تو یہ بولتا اور ان کی مراد بیان کرتا ، عطا بن ابی رباح فرماتے ہیں کہ یہ وہ آیات تھیں (اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ نشانیاں) جن کو وہ پہچانتے اور ان سے سکون پاتے ۔
حضرت قتادہ (رح) اور کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ سکینہ ” بروزن فعیلہ “ سکون سے ہے ، یعنی تمہارے رب کی طرف سے اطمینان و سکون پس جس جگہ بھی صندوق ہوتا وہاں بنواسرائیل کو اطمینان و سکون ہوتا ” وبقیۃ مما ترک آل موسیٰ وآل ہارون “۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) جو کچھ خود چھوڑ گئے ۔
تابوت میں اشیاء تھیں :
اس میں دو تختیاں تورات کی تھیں اور ان تختیوں کے ٹکڑے تھے جو ٹوٹ گئی تھیں ، اس میں عصاء موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نعلین شریف تھی ، حضرت ہارون (علیہ السلام) کا عمامہ تھا اور ان کا عصا مبارک اور ” من “ کا ایک قفیر (یہ ایک پیمانہ تھا جو بنو اسرائیل پر اتراتا تھا) یہ تابوت بنو اسرائیل کے پاس تھا ، بنی اسرائیل جب کسی معاملہ میں اختلاف کرتے یہ صندوق ان کے درمیان فیصلہ کرتا تھا اور بنی اسرائیل جب کسی قتال پر جاتے تو اس صندوق کو آگے رکھتے اور اس کی برکت سے اپنے دشمن پر فتح کی طلب کرتے ۔
قوم عمالقہ کا تابوت پر قبضہ :
جب بنی اسرائیل نے نافرمانی کی اور فساد برپا کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر قوم عمالقہ کو مسلط کردیا اور وہ تابوت پر غالب آگئے اس کا سبب یوں ہوا کہ عیلی نام کا ایک عالم جس نے حضرت اشمویل (علیہ السلام) کی تربیت کی تھی کے دو جوان بیٹے تھے عیلی بنو اسرائیل کا بڑا عالم اور صاحب قربان تھا ۔ اس کے بیٹوں نے قربانیوں میں کچھ ایسی چیز پیدا کردی جو پہلے نہ تھی اور یہ اس طرح کہ عیلی کی طرف سے قربانی لٹکانے کے لیے دو کنڈیاں تھیں جس کے ساتھ لوگ قربانیاں ٹانگتے ، ان دو کنڈیوں سے جو آمدنی ہوتی وہ اس کاہن کے لیے ہوتی جو وہ لٹکاتا تھا ، عیلی کے بیٹوں نے کئی کنڈیاں لگا دیں عورتیں بیت المقدس میں نماز پڑھنے آتیں تو عیلی کے بیٹے ان سے چمٹتے پس اللہ تعالیٰ نے حضرت شمویل (علیہ السلام) کو وحی فرمائی کہ عیلی کے پاس جا کر کہو کہ تجھے تیری اولاد کی محبت اس بات سے روکاٹ کہ تو بیٹوں کو ان برے کاموں سے روکے جو انہوں نے قربانیوں کے سلسلہ میں اور میرے حریم قدس میں شروع کر رکھے ہیں اور یہ کہ دونوں میری نافرمانی کرتے ہیں لہذا میں ضرور بالضرور تجھ سے تیرا عہدہ کہانت چھین لوں گا اور تیری اولاد سے بھی اور میں تجھے اور تیری اولاد کو ہلاک کر دوں گا ، اشمویل (علیہ السلام) نے عیلی کو خبر دی ، پس عیلی سخت گھبرا گیا اور ان کے آس پاس کے دشمنوں نے ان پر حملہ کردیا، پس عیلی نے بیٹوں کو حکم دیا کہ لوگوں کو لے کر مقابلہ کے لیے نکلیں اور اس دشمن سے لڑیں ۔ پس عیلی کے دونوں بیٹے نکلے اور اپنے ساتھ صندوق بھی لے گئے ، پس جب لڑائی کے لیے تیار ہوئے عیلی ادھر (فتح کی) خبر سننے کی امید لیے بیٹھا تھا کہ لشکر نے کیا کیا ، اتنے میں آدمی آیا اور عیلی کرسی پر بیٹھا تھا اس آدمی نے خبر دی کہ لوگ شکست کھا گئے اور تیرے بیٹے قتل ہوگئے ، عیلی نے پوچھا تابوت کا کیا بنا ؟ (خبر دینے والے) آدمی نے کہا اسے دشمن لے گیا ، عیلی نے چیخ ماری ، کرسی سے پیچھے کی طرف گرا اور مرگیا ، بنی اسرائیل کا معاملہ ختم ہوگیا اور وہ تتربتر ہوگئے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے طالوت کو بادشاہ بنا کر بھیجا ، بنی اسرائیل نے طالوت کے بادشاہ ہونے پر دلیل مانگی ان کے نبی (علیہ السلام) نے فرمایا طالوت کے بادشاہ ہونے کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس تابوت آئے گا ۔
تابوت کا قصہ :
اور تابوت (صندوق) کا قصہ یوں ہوا کہ جو لوگ اس صندوق کو لے گئے تھے وہ اسے فلسطین کی کسی بستی میں لے گئے بستی کا نام ازدود تھا ، تابوت کو انہوں نے بت کے کمرہ میں بڑے بت کے نیچے رکھا ، دوسرے دن دیکھا کہ بت تابوت کے نیچے پڑا ہے، پس انہوں نے بت کو لیا اور تابوت کے اوپر رکھا اور بت کے قدموں کو تابوت کے اوپر میخوں سے جڑ دیا ، صبح کو دیکھا کہ بت کے ہاتھ پاؤں کٹے ہوئے ہیں اور تابوت کے نیچے پڑا ہوا ہے اور باقی بت بھی اوندھے منہ گرے ہوئے ہیں ، انہوں نے اس تابوت کو بت کدہ سے نکالا اور شہر کی ایک جانب رکھا ، اس طرف کے لوگوں کو گردن کی بیماری نے آدبوچا ، اس طرف کے کی اکثریت موت کا لقمہ بن گئی ، پس بعض کو بعض نے کہا :
کیا تم اس بات کو جانتے نہیں ہو کہ کہ بیشک بنی اسرائیل کے معبود کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا ، لہذا اس تابوت کو فلاں بستی کی طرف لے جاؤ تو اللہ تعالیٰ نے ان بستی والوں کی طرف چوہے بھیج دیئے ۔ پس چوہے رات کے وقت آدمی کے پاس آتے ، صبح کو وہ آدمی مرا ہوا ہوتا اور چوہے اس کی انتڑیاں وغیرہ کھاچکے ہوتے تو انہوں نے اس تابوت کو جنگل کی طرف نکالا اور وہاں گندگی کی جگہ پر دفن کردیا ، پھر ہوا یہ کہ جو وہاں قضا حاجت کے لیے جاتا اسے بواسیر اور قولنج کی بیماری لگ جاتی پس وہ حیران ہوگئے تو ان کو ایک عورت جو ان کے پاس بنی اسرائیل کے قیدیوں میں تھی اور انبیاء کرام (علیہم السلام) کی اولاد سے تھی اس نے کہا جب تک یہ تابوت تمہارے پاس رہا تم مصیبتوں میں گرفتار رہو گے لہذا اسے اپنے سے باہر نکال دو ، چناچہ اس عورت کے مشورہ کے مطابق وہ گاڑی لائے اور تابوت کو اس پر رکھا اور دو بیلوں کے اوپر اس گاڑی کو جکڑ دیا اور ان بیلوں کے پہلوؤں کو خوب مضبوط کیا ، بیل چلنا شروع ہوگئے ، اللہ تعالیٰ نے ان دو بیلوں پر چار فرشتے مقرر کیے جو ان کو ہانکتے ۔ وہ دونوں بیل متوجہ ہوئے اور بنی اسرائیل کی زمین پر آکھڑے ہوئے ، ان بیلوں نے گلے پڑے جوے کو توڑا رسیوں کو کاٹا تابوت بنی اسرائیل کی زمین پر جہاں بنی اسرائیل کی کھیتی کٹی پڑی تھی (یعنی کھلیان) میں رکھا اور واپس ہوگئے بنی اسرائیل نے جب اچانک تابوت کو دیکھا تو حیران رہ گئے ، اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کی اور حمد وثناء کی ۔
(آیت)” تحملہ الملائکۃ “۔ فرشتے اس کو ہانکتے تھے ۔
حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں فرشتے تابوت کو آسمان اور زمین کے درمیان اٹھا کر لائے اور بنی اسرائیل اس کو دیکھ رہے تھے یہاں تک کہ فرشتوں نے طالوت کے پاس تابوت لا کر رکھ دیا ۔
حضرت حسن بصری (رح) فرماتے ہیں کہ تابوت فرشتوں کے پاس آسمان پر تھا ، جب طالوت بادشاہ بنا تو فرشتے تابوت اٹھا کر لائے اور ان کے درمیان لا کر رکھ دیا ، قتادہ (رح) فرماتے ہیں بلکہ تابوت مقام تیہ میں تھا ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تابوت یوشع بن نون (علیہ السلام) کے پاس چھوڑ گئے تھے ، چناچہ تابوت وہاں رہا ، پس تابوت کو فرشتوں نے اٹھایا اور طالوت کے گھر لا کر رکھ دیا ، پس بنی اسرائیل نے طالوت کی شاہی کا اقرار کرلیا ۔ (آیت)” ان فی ذالک لایۃ “۔ البتہ عبرت ہے (آیت)” لکم ان کنتم مؤمنین “۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ بیشک تابوت اور عصائے موسیٰ (علیہ السلام) بحیرہ طبریہ میں ہے اور قیامت سے پہلے یہ دونوں نکلیں گے ۔
Ayah 2:249(تفسیر) 249۔:
(آیت)” فلما فصل طالوت بالجنود “۔ (طالوت) ان کو لے کر نکلا ، فصل کا اصل معنی قطع ہے یعنی اپنے ٹھکانہ کو قطع کیا (یعنی چھوڑا) اس حال میں کہ وہ اور جگہ کی طرف کوچ کرنے والا تھا پس طالوت بیت المقدس سے لشکر لے کر نکلا اور وہ سترہزار لڑاکا جوان تھے اور بعض نے کہا ہے کہ اسی ہزار جوان تھے ان میں سے پیچھے کوئی نہ رہا مگر بوڑھا بڑھاپے کی وجہ سے اور مریض مرض کی وجہ سے یا پھر معذور اپنے عذر کی وجہ سے اور یہ اس لیے کہ انہوں نے جب تابوت کو دیکھا تو نصرت خداوندی کا انہیں یقین ہوگیا، پس انہوں نے جہاد کی طرف جلدی کی ۔
پس طالوت نے کہا کہ میں جو کچھ یہ (بھیڑ) دیکھا رہاہوں ان سب کی ضرورت نہیں ۔ لہذا میرے ساتھ وہ شخص نہ نکلے جو مکان کی تعمیر کررہا ہے اور اس سے فارغ نہیں ہوا اور نہ وہ جو تجارت میں مشغول ہے اور نہ وہ نکلے جو مقروض ہے اور نہ وہ جس کا نکاح ہوا ہے مگر ابھی شادی نہیں ہوئی ، میرے ساتھ صرف فارغ البال چشت و چالاک جوان چلیں ، اس شرط پر اس کے ساتھ اسی ہزار جمع ہوگئے ، سخت گرمی کے دن تھے ، انہوں نے پانی کی قلت کی شکایت کی جو کہ ان کے اور دشمن کے درمیان (رکاوٹ) تھی پس انہوں نے کہا بیشک پانی تھوڑا ہے جو ہمیں کافی نہیں لہذا آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے نہر جاری کرے ۔ (قال)
طالوت نے کہا (آیت)” ان اللہ مبتلیکم بنھر “۔ تمہیں آزمانے والا ہے تاکہ تمہاری اطاعت دیکھے اور وہ خوب جاننے والا ہے ” بنھر “ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ اور سدی (رح) کہتے ہیں یہ نہر فلسطین تھی ، قتادہ (رح) کہتے ہیں اردن اور فلسطین کے درمیان میٹھے پانی کی نہر ہے (آیت)” فمن شرب منہ فلیس منی “۔ وہ میرے دین والوں سے نہیں اور میرا فرمانبردار نہیں ہے ۔ (آیت)” ومن لم یطعمہ “۔ اس کو نہ پیا (آیت)” فانہ منی الا من اغترف غرفۃ بیدہ “۔ اہل حجاز اور ابو عمر نے ” غرفۃ “ غین کی پیش کے ساتھ چلو بھرنے سے حاصل ہونے والا پانی ہے اور ” غرفہ غین “ کی زبر کے ساتھ ” اغتراف “ کو کہتے ہیں یعنی چلو بھرنا لہذا غرفہ غین کی پیش کے ساتھ نام ہے ” چلو “ اور غرفہ غین کی زبر کے ساتھ مصدر ہے (آیت)” فشربوا منہ الا قلیلا منہ “۔ قلیلا کی زبر استثناء کے اعتبار سے ہے ۔
اصحاب طالوت کی تعداد :
اس قلیل مقدار میں جنہوں نے پانی نہ پیا اختلاف ہے ، علامہ سدی (رح) کہتے ہیں یہ چار ہزار تھے اوروں نے کہا تین سو سے کچھ زائد تھے اور یہ قول صحیح ہے ، حضرت براء ؓ فرماتے ہیں کہ ہم اصحاب رسول اکرم ﷺ یہ بیان کرتے تھے کہ اصحاب بدر کی تعداد اصحاب طالوت کے برابر تھی ، جنہوں نے طالوت کے ساتھ نہر پار کی تھی اور طالوت کے ساتھ سوائے مؤمن کے کوئی نہر نہ پار کرسکا اور ان کی تعداد تین سو دس (310) سے کچھ زیادہ تھی ۔
اور ایک روایت میں ہے کہ ان کی تعداد تین سو تیرہ تھی ، جب وہ نہر (دریا) تک پہنچے اس حال میں کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر پیاس ڈال دی تھی ، اس عدد قلیل کے سوا باقی سب نے نہر کا پانی پیا ، پس جس نے ایک آدھ چلو بھرا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا اس کا دل قوی ہوگیا اور ایمان صحیح ہوا اور نہر کو سلامتی کے ساتھ عبور کیا اور اسے یہی ایک چلو اپنے پینے کے لیے اور اس کے جانور کے لیے اور جنہوں نے (سیر ہو کر) پیا اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے مخالفت کی ان کے ہونٹ کالے ہوگئے اور ان پر پیاس غالب ہوگئی ۔ پس نہ وہ سیراب ہوئے اور نہر کے کنارے رہ گئے اور دشمن کے مقابلے میں ملاقات کے سلسلہ میں بزدل ہوگئے پس نہ تو انہوں نے نہر (دریا) پار کیا اور نہ فتح کو حاضر ہوئے اور کہا گیا ہے کہ نہر (دریا) کو سب نے پار کیا مگر قتال کو صرف وہی حاضر ہوئے جنہوں نے سیر ہو کر نہیں پیا تھا ۔ (آیت)” فلما جاوزہ “ یعنی نہر (دریا) کو پار کیا ۔ ” ھو “ طالوت نے (آیت)” والذین امنوا معہ “۔ ان قلیل نے ” قالوا “ ان لوگوں نے کہا جنہوں نے (سیر ہوکر) پیا تھا اور اللہ تعالیٰ کے امر کی مخالفت کی تھی اور شک ونفاق والے تھے ۔ (آیت)” لا طاقۃ لنا الیوم بجالوت و جنودہ “۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ اور سدی (رح) فرماتے ہیں پس وہ مڑ گئے اور اسے پار نہ کرسکے ۔ (آیت)” قال الذین یظنون “۔ جو یقین رکھتے تھے (آیت)” انھم ملاقوا اللہ “۔ اور یہ وہ تھے جو طالوت کے ساتھ ثابت قدم رہے تھے (آیت)” کم من فئۃ “۔ جماعت اور یہ لفظ ” فئۃ “ وہ جمع ہے جس کا اپنے لفظ سے کوئی واحد نہیں ہے اور اس لفظ ” فئۃ “ کی جمع ” فئات “ اور ” فئون “ ہے حالت رفع (پیش) میں اور زبر اور زیر کی حالت میں ” فئین “ ہے (آیت)” قلیلۃ غلبت فئۃ کثیرۃ باذن اللہ “۔ اس کے فیصلہ اور تقدیر و ارادہ کے ساتھ (آیت)” واللہ مع الصابرین “۔ نصرت اور امداد کے ساتھ ۔
Ayah 2:250(تفسیر) 250۔:
(آیت)” ولما بزوا “۔ طالوت اور اس کا لشرک یعنی ایمان والے ، (آیت)” لجالوت و جنودہ “۔ مشرکین کے لیے اور ” برزوا “ کا معنی ہے زمین کی کھلی جگہ پر نمودار ہوئے ، براز زمین کا وہ حصہ جو نمایاں ہو اور برابر ہو ۔ (آیت)” قالوا ربنا افرغ علینا “۔ اتار دے انڈیل دے (آیت)” صبراوثبت اقدامنا “۔ ہمارے دلوں کو قوی فرما۔ (آیت)” وانصرنا علی القوم الکافرین “۔