2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 2:251

فَهَزَمُوْهُمْ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۙ۫ وَ قَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ وَ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَهٗ مِمَّا یَشَآءُ١ؕ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ١ۙ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:251 in the Quran reader

تو طالوت کی فوج نے خدا کے حکم سے ان کو ہزیمت دی اور داؤد نے جالوت کو قتل کر ڈالا اور خدا نے ان کو بادشاہی اور دانائی بخشی اور جو کچھ چاہا سکھایا اور خدا لوگوں کو ایک دوسرے (پر چڑھائی اور حملہ کرنے) سے نہ ہٹاتا رہتا تو ملک تباہ ہوجاتا لیکن خدا اہل عالم پر بڑا مہربان ہے

(تفسیر) 251۔: (آیت)” فھزموھم باذن اللہ “۔ اللہ تعالیٰ کے علم کے ساتھ (آیت)” وقتل داؤد جالوت “۔ جالوت کے قتل کا بیان اس طرح ہے ، اہل تفسیر فرماتے ہیں طالوت کے ساتھ جن لوگوں نے نہر (دریا) کو عبور کیا تھا حضرت داؤد (علیہ السلام) کے والد ایشا بھی تھے جو اپنے تیرہ بیٹوں سمیت شریک تھے حضرت داؤد (علیہ السلام) ان تیرہ میں سے چھوٹے بیٹے تھے اور پتھر پھینکنے کا کام کیا کرتے تھے ۔ ایک دن انہوں نے باپ کو کہا اباجان ! میں جس کسی کو پتھر مارتا ہوں اسے گرا دیتا ہوں تو حضرت داؤد (علیہ السلام) کے والد نے کہا بیٹے خوش ہوجاؤ ، اللہ تعالیٰ نے تمہارا رزق اسی میں کیا ہے پھر ایک اور دفعہ اپنے والد کے پاس آئے اور کہا اباجان میں پہاڑوں میں داخل ہوا ، وہاں میں نے شیر کو گھٹنے کے بل بیٹھے دیکھا ، میں اس پر سوار ہوگیا اس کے دونوں کانوں کو میں نے پکڑا ، پس اس نے مجھے مضطرب نہ کیا ، والد نے کہا اباجان اس حال میں کہ میں پہاڑوں میں چل کر تسبیح کر رہا تھا تو ہر پہاڑ میرے ساتھ تسبیح کر رہا تھا ، باپ نے کہا خوش ہوجا میرے بیٹے یہ خیر ہے جو اللہ تعالیٰ نے تجھے عطا کی ہے پس جالوت نے طالوت کی طرف پیغام بھیجا کہ میرے سامنے اسے لاؤ جو مجھ سے لڑے ، پس اگر اس نے مجھے قتل کردیا تو میرا ملک تمہارے لیے اور اگر میں نے اسے قتل کردیا تو تمہارا ملک میرے لیے ، تو یہ شرط طالوت پر گراں گزری تو طالوت نے لشکر میں منادی کرا دی کہ جو جالوت کو قتل کرے گا میں اس کے نکاح میں اپنی بیٹی دوں گا اور اپنا آدھا ملک بھی ، پس لوگ جالوت سے ڈر گئے اور کسی نے اس آواز پر لبیک نہ کہا ۔ پس طالوت نے بنی اسرائیل کے نبی سے عرض کی کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں ، چناچہ اللہ تعالیٰ کے نبی نے اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی ، پس اس نبی کے پاس ایک سینگ لایا گیا جس میں تیل تھا اور ایک لوہے کا تنور اور کہا گیا کہ تمہارا وہ ساتھی جو جالوت کو قتل کرے گا وہ ہوگا جس کے سر پر یہ تیل والا سینگ رکھا جائے گا تو وہ تیل جوش مارے گا حتی کہ اس کا سر تیل والا ہوجائے گا اور اس کے چہرے پر وہ تیل نہیں بہے گا بلکہ اس کے سر پر تاج کی مانند رہے گا اور وہ شخص اس تنور میں داخل ہوگا تو اس تنور کو پورا فٹ ہو کر پر کر دے گا کھلا ہونے کی وجہ سے اس میں ہلے گا نہیں ، تو طالوت نے بنواسرائیل کے لوگوں کو بلا کر تجربہ کیا تو کوئی بھی اس میعار پر پورا نہ اترا تو اللہ تعالیٰ نے انکے نبی کی طرف وحی فرمائی کہ ایشا کی اولاد میں ایک ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ جالوت کو قتل فرمائیں گے تو طالوت نے ایشا کو بلایا ، پس کہا کہ میرے اوپر اپنی اولاد کو پیش کرو تو ایشا نے بارہ آدمی پیش کیے جو ستونوں کی طرح لمبے تڑنگے تھے ، طالوت ان میں سے ایک ایک کو سینگ پر پیش کرتا رہا تو ان میں سے کسی کے اندر مذکورہ علامت نہ دیکھی ۔ پس طالوت نے ایشا کو کہا کہ ان کے علاوہ بھی کوئی تیرا بیٹا باقی ہے ؟ اس نے کہا نہیں پس اللہ کے نبی نے بارگاہ خداوندی میں عرض کی کہ یا رب ! ایشا کا دعوی ہے کہ ان بارہ کے علاوہ اس کا کوئی بیٹا نہیں ہے ، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا ایشا نے جھوٹ بولا ، پس نبی نے فرمایا بیشک میرے رب نے تجھے جھٹلایا ہے پس ایشا نے کہا یا نبی اللہ ، اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا میرا ایک چھوٹا بیٹا ہے جسے داؤد کہا جاتا ہے ۔ میں نے اس بات سے شرم کی کہ لوگ اس کو دیکھیں کیونکہ وہ پست قد اور حقیر سا ہے ، پس کو بکریوں میں چھوڑ آیا ہوں جنہیں وہ چرا رہا ہے اور وہ فلاں فلاں گھاٹی میں ہے اور داؤد پست قد ، بہت بیمار ، زرد رنگ ، ٹیڑھی آنکھ والا فقیر آدمی تھا۔ اہم ملاحظہ : (حضرت داؤد (علیہ السلام) سے متعلق یہ عبارت قرآن وحدیث سے ماخوذ نہیں بلکہ اسرائیلی روایات پر مبنی ہے اور یہود (جو کہ مغضوب علیہم ہیں) نے انبیاء ومرسلین سے متعلق گستاخانہ اور غیر محقق باتیں درج کرکے ان کی شخصیت و کردار کو مجروح کیا ، لہذا حضرت داؤد (علیہ السلام) کی شکل ایسی نہ تھی جیسا کہ یہاں درج ہے بلکہ حضرت داؤد (علیہ السلام) انتہائی خوبصورت اور روشن چہرہ تھے اور اس کا ذکر حدیث شریف میں کچھ اس طرح ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) پر ان کی اولاد پیش کی گئی تو حضرت داؤد (علیہ السلام) کے بارے میں ہے ” فاذا فیھم رجل اضواھم “۔ پس ان میں ایک آدمی تھا جو کہ ان میں زیادہ روشن تھا ۔ (منجانب مترجم) طالوت نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کو بلایا کہا جاتا ہے بلکہ طالوت اس کی طرف نکلا ، حضرت داؤد (علیہ السلام) نے اس وادی کو پانی سے بہتے پایا جو اس کے اور اس کے باڑے کے درمیان حائل تھی جہاں شام کو بکریاں لے جاتا تھا ، طالوت نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کو اس حال میں پایا کہ وہ دو بکریان اٹھائے وادی کے سیلابی ریلے کو عبور کر رہا ہے اور اس میں ڈوب نہیں رہا جب طالوت نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کو دیکھا تو (جی میں) کہا کہ یقینا یہ وہی ہے جب یہ جانوروں پر مہربان ہے تو انسانوں پر زیادہ مہربان ہوگا ، طالوت نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کو بلایا ، سینگ اس کے سر پر رکھا ، پس وہ بہہ پڑا ، پس طالوت نے کہا کہ کیا تجھے جالوت کے قتل کرنے میں دلچسپی ہے اس شرط پر کہ میں اپنی بیٹی تیرے نکاح میں دوں اور اپنے ملک میں تیری مہر جاری کر دوں (یعنی تیرا حکم چلے) حضرت داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا ، ہاں ۔ طالوت نے کہا کہ کیا تو اپنے اندر کوئی ایسی شی محسوس کرتا ہے جس کی وجہ سے جالوت کے قتل کرنے میں تجھے جرات ہو ؟ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا ہاں وہ یہ کہ میں بکریاں چراتا ہوں پس شیر آتا ہے یا چیتا یا بھیڑیا وہ بکری لے جاتا ہے پس میں کھڑا ہوتا ہوں اور اس درندے کے جبڑے پھاڑ کر بکری نکال لیتاہوں چھڑا لیتا ہوں تو طالوت داؤد (علیہ السلام) کو لے کر اپنے لشکر میں گیا پس دؤد راستے میں ایک پتھر کے پاس سے گزرا تو اسے ایک پتھر نے آواز دی داؤد مجھے اٹھا لے میں ہارون (علیہ السلام) کا وہ پتھر ہوں جس سے ہارون فلاں فلاں بادشاہ کو قتل کیا تھا تو داؤد نے اس پتھر کو اپنے تھیلے میں رکھ لیا، پھر ایک پتھر کے اس سے گزرے تو اس نے آواز دی مجھے اٹھا لے ، میں وہ پتھر ہوں جس سے موسیٰ (علیہ السلام) نے فلاں فلاں بادشاہ کو قتل کیا ، پس داؤد (علیہ السلام) نے اسے اٹھا کر تھیلے میں رکھ لیا ، پھر ایک اور پتھر کے پاس سے گزرے تو اس نے آواز دی مجھے اٹھا لے میرے ذریعہ تو جالوت کو قتل کر دے گا تو حضرت داؤد (علیہ السلام) نے وہ پتھر اٹھا لیا اور اسے اپنے تھیلے میں رکھ لیا ، جب قتال کے لیے صف بندی ہوئی اور جالوت نمودار ہوا ۔ اور مقابلے کی دعوت دی ، حضرت داؤد (علیہ السلام) نے اس کے چیلنج کو قبول کیا ، طالوت نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کو گھوڑا ، زرہ اور ہتھار دیئے حضرت داؤد (علیہ السلام) ہتھیار بند ہو کر گھوڑے پر سوار ہوئے تھوڑا کچھ چلے پھر بادشاہ کی طرف لوٹے ، بادشاہ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کو آتے دیکھا تو اپنے اردگرد کے لوگوں کو کہالڑکا بزدل ہوگیا، حضرت داؤد (علیہ السلام) آئے اور بادشاہ کے پاس آکر ٹھہر گئے طالوت نے پوچھا کیا ؟ حضرت داؤد (علیہ السلام) بولے اگر اللہ تعالیٰ نے میری نصرت نہ کی تو یہ ہتھیار مجھے کچھ فائدہ نہیں دے سکتے ، آپ مجھے چھوڑ دیں میں جالوت سے جس طرح چاہوں گا لڑوں گا ، طالوت نے کہا جو تمہارے جی میں آئے کیجئے ، حضرت داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا ٹھیک ہے پس داؤد نے اپنے تھیلے کو لیا اسے اپنے گلے میں ڈالا اور گوپیا (پتھر پھینکنے کا ایک قدیم آلہ) ہاتھ میں لیا اور جالوت کی طرف چل پڑے اور جالوت سخت ترین اور قوی ترین انسان تھا اور اکیلے لشکروں کو شکست دیتا تھا اس کے خود مین تین سو رطل لوہا لگا ہوا تھا ۔ (قریبا 200 پونڈ) جب جالوت نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کو دیکھا تو اللہ تعالیٰ جالوت کے دل میں رعب ڈال دیا اور جالوت نے کہا کہ آپ میرے مقابلہ میں آئے ہیں، حضرت داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا ہاں جالوت ابلق (دورنگا) گھوڑے پر تھا اور اس پر مکمل ہتھیار تھے جالوت بولا تو میرے مقابلہ میں گوپیا اور پتھر لایا ہے جیسے کہ تو کتے کو (مارنے) آیا ہے، حضرت داؤد (علیہ السلام) بولے ہاں تو کتے سے بھی بدتر ہے ، جالوت نے کہا لازما میں تیرا گوشت زمین کے درندوں اور آسمانوں کے پرندوں میں تقسیم کروں گا ، حضرت داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا بلکہ اللہ تعالیٰ تیرا گوشت تقسیم کرے گا ، پس حضرت داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا ” باسم الہ ابراھیم “۔ ابراہیم کے معبود (برحق) کے نام کے ساتھ میں پتھر مارتا ہوں اور پتھر نکالا ، پھر دوسرا پتھر نکالا اور کہا ” باسم الہ اسحاق “۔ حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے معبود کے نام کے ساتھ اور اسے اپنے گوپیا میں رکھا پھر تیسرا پتھر نکالا اور کہا ” باسم الہ یعقوب “ اور اس کو اپنے گوپیا ” فلاخن “ میں رکھا ، پھر یہ سب ایک پتھر بن گئے اور داؤد (علیہ السلام) نے اس ” فلاخن “ کو گھمایا اور اس پتھر کو مارا اللہ تعالیٰ نے ہوا کو حضرت داؤد (علیہ السلام) کے تابع کردیا حتی کہ وہ پتھر خود کے ناک والے حصہ پر لگا اور دماغ کو پار کرتا ہوا گدی کی طرف سے نکل گیا اور جالوت کے پیچھے تیس (30) آدمیوں کو قتل کردیا ، اللہ تعالیٰ نے جالوت کے لشکر کو شکست دی ، جالوت مقتول ہو کر گرا۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے جالوت کو گھسیٹ کر طالوت کے سامنے لا پھینکا ، اس پر مسلمان بہت خوش ہوئے اور اپنے شہر کی طرف سلامتی کے ساتھ ملا غنیمت لے کر واپس لوٹ گئے ، حضرت داؤد (علیہ السلام) کی لوگوں میں شہرت ہوگئی ، حضرت داؤد (علیہ السلام) طالوت کے پاس تشریف لائے اور فرمایا اپنا وعدہ پورا کر، طالوت بولا تو بادشاہ کی بیٹی بغیر مہر کے لینا چاہتا ہے ، حضرت داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا تو نے مجھ پر مہر کی شرط تو نہیں لگائی تھی اور میرے پاس کچھ ہے بھی نہیں ، طالوت نے کہا میں تجھے حسب طاقت تکلیف دوں گا تو دلیر آدمی ہے اور ہمارے بالمقابل ہمارے غیر مختون (جن کا ختنہ نہ ہوا ہو) دشمن ہیں جب تو نے ان میں سے دو سو آدمیوں قتل کردیئے اور ان کا قلفہ (ختنہ کرنے سے کٹا ہوا چمڑا) میرے پاس لے آیا میں تجھ سے اپنی بیٹی کا نکاح کر دوں گا پس حضرت داؤد (علیہ السلام) ان کے پاس آئے جب بھی ان میں سے کسی ایک کو قتل کرتے اس کے قلفہ کو تاگے میں پرو دیتے حتی کہ دو سو قلفہ پرو کر طالوت کے پاس لا کر پھینک دیئے اور فرمایا مجھے میری بیوی دو تو طالوت نے اپنی بیٹی کا نکاح کردیا اور اپنے ملک میں حضرت داؤد (علیہ السلام) کی مہر جاری کردی ، لوگوں کا میلان حضرت داؤد (علیہ السلام) کی طرف ہوگیا اور ان سے محبت کرنے لگے اور حضرت داؤد (علیہ السلام) کا ذکر زیادہ کرنے لگے ۔ طالوت کا حسد اور اس کی توبہ کا واقعہ : طالوت نے حضرت داؤد (علیہ السلام) پر حسد کیا اور قتل کا ارادہ کرلیا ، اس کی خبر طالوت کی بیٹی کو ایک آدمی نے دی جس کا نام ذوالعینین تھا تو طالوت کی بیٹی نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کو کہا تو آج رات قتل کردیا جائے گا ، حضرت داؤد (علیہ السلام) بولے مجھے کون قتل کرے گا ؟ بیوی بولی میرا باپ ، حضرت داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا کیا میں نے کوئی جرم کیا ہے ؟ طالوت کی بیٹی بولی مجھے ایسے شخص نے خبر دی ہے جو جھوٹ نہیں بولتا اور اس میں تو کچھ حرج نہیں ہے کہ آج رات تو چھپ جائے تاکہ اس کا مصداق دیکھے ، حضرت داؤد (علیہ السلام) بولے اگر طالوت یہ ارادہ کرچکا ہے تو میں نکلنے کی طاقت نہیں رکھتا ، لیکن میرے پاس شراب کا مشکیزہ لے آ ان کی بیوی لے آئی ، حضرت داؤد (علیہ السلام) نے وہ مشکیزہ اپنی چارپائی سونے کی جگہ پر رکھا اور خود چارپائی کے نیچے سو گئے ، طالوت آدمی رات کو داخل ہوا بیٹی سے کہا تیرا خاوند کہاں ہے ؟ بیٹی بولی وہ چارپائی پر سو رہا ہے ، تو طالوت نے تلوار کا ایک ہی وار کیا جس سے شراب بہہ پڑی ، جب شراب کی بو سونگھی تو طولات کہنے لگا اللہ تعالیٰ حضرت داؤد (علیہ السلام) پر رحم فرمائے وہ کس قدر شراب پیتا تھا اور نکل گیا جب صبح کو اسے معلوم ہوا کہ اس نے کچھ نہیں کیا پس کہا کہ آدمی (داؤد) سے میں نے طلب کیا (یعنی اس کو قتل کرنا) جو کچھ طلب کیا اب وہ اس بات کا حق دار ہے کہ مجھے اپنا بدلہ لیے بغیر نہ چھوڑے ، چناچہ طالوت نے اپنے حفاظتی انتظام سخت کردیئے ، دروازے بند کردیئے ، پھر بیشک داؤد طالوت کے پاس اس حال میں آیا کہ آنکھیں سکون پذیر ہوچکی تھی (سوچکی تھیں) پس اللہ تعالیٰ نے دربانوں کو اندھا کردیا حضرت داؤد (علیہ السلام) نے دروازے کھولے اور طالوت پر داخل ہوئے وہ اپنے بستر پر سویا ہوا تھا ، پس حضرت داؤد (علیہ السلام) نے ایک تیر اس کے سر کے پاس رکھا اور ایک تیر پاؤں کی طرف اور ایک تیر بائیں طرف رکھا پھر نکل گئے ، جب طالوت جاگا تیروں کو دیکھا پہچان گیا ، پس کہا اللہ تعالیٰ داؤد پر رحم فرمائے وہ مجھ سے بہتر ہے ، میں اس پر کامیاب ہوا تو میں نے اس کے قتل کا ارادہ کیا ، وہ مجھ پر کامیاب ہوا تو مجھ سے رک گیا (مجھے کچھ نہ کہا) اگر وہ چاہتا تو یہ تیر میرے حلق میں چبھو سکتا تھا ، اب میں اس سے حالت امن میں نہیں ، جب آیندہ رات آئی حضرت داؤد (علیہ السلام) دوبارہ تشریف لائے، اللہ تعالیٰ نے دربانوں کو اندھا کردیا ، پس حضرت داؤد (علیہ السلام) داخل ہوئے طالوت سویا ہوا تھا ، حضرت داؤد (علیہ السلام) نے طالوت کا وہ لوٹا لیا جس سے وہ وضو کرتا تھا اور وہ ڈنڈی دار پیالہ لیا جس میں وہ پیتا تھا اور اس کی داڑھی کے چند بال کترے اور کچھ حصہ اس کے کپڑوں کا کاٹا پھر نکل گئے ۔ اور بھاگ گئے اور چھپ گئے ، جب طالوت نے صبح یہ صورت حال دیکھی تو حضرت داؤد (علیہ السلام) پر جاسوس مقرر کیے اور تلاش وطلب کو سخت تر کردیا مگر اس پر وہ قادر نہ ہوسکا، پھر بیشک ایک دن طالوت سوار ہوا داؤد کو پایا کہ وہ جنگل میں چل رہے ہیں پس (دل میں) کہا آج کے دن میں اس کو ضرور قتل کروں گا ، پس حضرت داؤد (علیہ السلام) کے پیچھے گھوڑا دوڑایا ، حضرت داؤد (علیہ السلام) بھی دوڑے ، حضرت داؤد (علیہ السلام) جب خوف زدہ ہوتے (تو اس قدر دوڑتے کہ) انکو پکڑا نہ جاسکتا تھا ، پس غار میں داخل ہوگئے، اللہ تعالیٰ نے مکڑے کو حکم دیا اس نے غار پر جالا تن دیا جب طالوت اس غار تک پہنچا مکڑے کا جالا دیکھا ، کہا اگر داؤد یہاں داخل ہوتا تو مکڑے کی یہ بنا ٹوٹ جاتی ، پس اسے چھوڑا اور چلا گیا ، حضرت داؤد (علیہ السلام) چلے اور عبادت گزاروں کے ہمراہ پہاڑ کو آئے ۔ وہاں مصروف عبادت ہوگئے ، علماء اور عابدوں نے طالوت پر حضرت داؤد (علیہ السلام) کے معاملے میں طعن کیا ، پس طالوت کا یہ حال ہوگیا کہ جو کوئی اسے داؤد کے قتل سے منع کرتا وہ اس منع کرنے والے کو قتل کردیتا اور علماء کے قتل پر لوگوں کو ابھارا۔ چناچہ بنی اسرائیل کے جس عالم پر اس کا بس چلتا اسے قتل کردیتا ۔ حتی کہ اس کے پاس ایک عورت لائی گئی جو اسم اعظم جانتی تھی ، طالوت نے اپنے روٹی پکانے والے کو حکم دیا کہ اس عورت کو قتل کر دے ، روٹی پکانے والے کو اس پر رحم آگیا اور کہا شاید ہمیں کبھی کسی وقت عالم کی ضرورت پڑے ، چناچہ اس عورت کو قتل نہ کیا ، طالوت کے دل میں توبہ کے جذبات ابھرے اپنے کیے پر نادم ہوا اور رونا شروع کردیا حتی کہ لوگوں کو اس پر ترس آگیا ، ہر رات قبرستان نکل جاتا روتا اور آوازیں دیتا میں اس شخص کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں جو میری توبہ کے بارے میں جانتا ہو کہ وہ مجھے ضرور توبہ کے بارے میں خبر دے، جب مرنے والوں پر اس نے چیخ و پکار زیادہ کی تو قبر والوں سے ایک آواز ادینے والے نے آواز دی کیا تو ہمیں قتل کرنے پر راضی نہیں ہوا کہ مرنے کے بعد ہمیں ایذاء دینے آگیا ، اس پر طالوت کا رونا اور حزن وملال اور زیادہ ہوگیا ۔ روٹی پکانے والے (جس کو طالوت نے عالمہ عورت کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا اور اس نے قتل نہیں کیا تھا) کو طالوت پر رحم آگیا اس نے کہا بادشاہ سلامت آپ کو کیا ہوا ؟ طالوت نے کہا روئے زمین پر تو کوئی ایسا بادشاہ جانتا ہے جو مجھے یہ بتائے کہ کیا میری توبہ قبول ہونے کی کوئی صورت ہے ؟ پس روٹی پکانے والے نے کہا کہ اے بادشاہ ! تیری مثال تو اس بادشاہ کی سی ہے جو بوقت عشاء ایک قصبہ میں اترا تو ایک مرغے نے آواز کی ، بادشاہ نے اس سے بری فال لی اور حکم دیا کہ اس قصبہ میں جتنے مرغے ہیں سب کو ذبح کردیا جائے، پھر جب سونے کا ارادہ کیا تو کہنے لگا کہ جب صبح سویرے مرغا اذان دے تو مجھے جگا دینا تاکہ ہم سویرے سویرے نکل چلیں تو لوگوں نے کہا تو نے کوئی مرغا چھوڑا ہے جس کی آواز (اذان) ہم سنیں ؟ اسی طرح تو نے بھی کوئی عالم زمین پر چھوڑا ہے ؟ (جس سے ہم توبہ کے بارے میں پوچھیں) اس پر طالوت کا غم اور رونا اور بڑھ گیا ، جب روٹی پکانے والے نے طالوت کی یہ حالت دیکھی تو کہا مجھے خبر دے اگر میں تجھے کسی عالم پر دلالت کروں شاید تو اس کو قتل کر ڈالے ، طالوت نے کہا نہٰں تو خباز نے اس پر اعتماد کیا اور اسے خبر دی کہ عالم عورت اس پاس ہے ۔ طالوت نے کہا مجھے اس کے پاس لے چل ، میں اس سے پوچھوں کہ میرے لیے کوئی توبہ کی صورت ہے اور وہ عورت اس خاندان سے تھی جس کے مرد اسم اعظم جانتے تھے جب اس خاندان کے مرد مرگئے تو عورتوں نے اسم اعظم سیکھ لیا جب طالوت دروازہ پر پہنچا ۔ خباز (روٹی پکانے والے) نے کہا بیشک اگر اس عورت نے تجھے دیکھ لیا تو گھبرا جائے گی بلکہ تو میرے پیچھے پیچھے آ ، پھر وہ دونوں عورت کے پاس آئے، پس خباز (روٹی پکانے والے) نے کہا کہ کیا میں تمام لوگوں سے بڑھ کر تجھ پر احسان کرنے والا نہیں ، میں نے تجھے قتل سے بچایا اور تجھے پناہ دی ؟ عورت نے کہا بیشک ایسے ہی ہے خباز نے کہا میرے لیے تیری طرف ایک حاجت ہے یہ طالوت حاضر ہے ، پوچھتا ہے کہ کیا میری توبہ کی کوئی صورت ہے ؟ اس عورت پر خوف کی وجہ سے غشی طاری ہوگئی ، خباز نے کہا طالوت تیرے قتل کا ارادہ نہیں رکھتا بلکہ صرف یہ پوچھتا ہے کہ اس کی توبہ کی کوئی صورت ہے ؟ عورت نے کہا نہیں ، اللہ کی قسم ! میں طالوت کے لیے توبہ قبول ہونے کی کوئی صورت نہیں جانتی ، البتہ میں نبی کی قبر کی جگہ جانتی ہوں تو وہ عورت ان دونوں کو لے کر حضرت اشمویل (علیہ السلام) کی قبر پر لے گئی ۔ پس وہاں نماز پڑھی اور دعا کی ، پھر آواز کی یا صاحب القبر اے قبر والے ! پس حضرت شمویل (علیہ السلام) مٹی سے اپنے سر کو جھاڑتے ہوئے قبر سے نکلے ، پس ان تینوں کو دیکھتے ہی بولے تمہیں کیا ہوا ؟ کیا قیامت قائم ہوگئی ؟ عورت نے کہا نہیں بلکہ طالوت پوچھتا ہے کیا اس کی توبہ کی کوئی صورت ہے ؟ شمویل (علیہ السلام) نے کہا طالوت تو نے میرے بعد کیا کیا ؟ طالوت بولا میں نے کوئی بری چیز نہیں چھوڑی جس کو میں نے نہ کیا ہو ، اب میں توبہ کا طلبگار ہو کر آیا ہوں ، شمویل (علیہ السلام) نے کہا تیرے عیال کتنے ہیں یعنی تیری اولاد کتنی ہے ؟ اس نے کہا دس مرد ہیں ، حضرت شمویل (علیہ السلام) نے فرمایا تیری توبہ کی صرف ایک صورت ہے کہ تو ملک یعنی سلطنت چھوڑ دے اور تو خود بمع اولاد کے نکل جا اور فی سبیل قتال کر ، پھر تو اولاد کو اپنے آگے بھیجے وہ تیرے سامنے شہید ہوجاویں ، پھر تو اکیلا لڑے حتی کہ آخر میں تو قتل ہوجائے ، پھر حضرت شمویل (علیہ السلام) قبر کی طرف واپس لوٹے اور فوت ہوگئے ، طالوت پہلے سے زیادہ غمناک ہو کر واپس ہوا ، اس ڈر کی وجہ سے کہ اس کی اولاد شاید اس کی پیروی نہ کرے ، رویا حتی کہ پلکیں گرگئیں ، جسم کمزور ہوگیا، اولاد اس کے پاس آئی ، پوچھا تو طالوت نے اولاد سے کہا مجھے یہ بتاؤ اگر میں آگ میں دھکیلا جاؤں تو کیا تم میری جگہ قربانی دو گے ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں ، ہم حتی المقدور قربانی دیں گے، طالوت بولا پس تحقیق وہ صورت حال آگ ہی ہے اگر تم وہ کچھ نہیں کرو گے جو کچھ میں تمہیں کہوں ، اولاد نے کہا ارشاد فرمائیں تو طالوت نے پورا واقعہ کہہ سنایا اولاد بولی تو کیا واقعی آپ قتل ہونے والے ہیں ؟ طالوت بولا ہاں ، اولاد نے کہا پھر آپ کے بعد ہماری زندگی میں بھی کوئی خیر نہیں ہے ، بیشک آپ جو کچھ ہم سے مطالبہ فرماتے اسے خوش دلی سے ہم قبول کرتے ہیں، پس طالوت نے مال اولاد سمیت تیاری کی ، چناچہ اس کے دس بیٹے اس راہ میں ختم ہوگئے اس کے سامنے لڑے حتی کہ قتل ہوگئے ، ان کے بعد طالوت نے قتال کے لیے حملہ کیا حتی کہ شہید ہوگیا ، پس طالوت کا قاتل حضرت داؤد (علیہ السلام) کے پاس آیا تاکہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کو خوشخبری دے اور کہا اے داؤد میں نے تیرے دشمن کو قتل کردیا حضرت داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا تو بھی پھر زندہ رہنے کے لائق نہیں ، حضرت داؤد (علیہ السلام) نے اس کی گردن ماری ، طالوت کا ملک اس کے قتل ہونے تک چالیس سال تک رہا ، بنی اسرائیل حضرت داؤد (علیہ السلام) کے پاس آئے اور انہیں طالوت کے خزانے دئیے اور اپنا بادشاہ مقرر کیا ، کلبی (رح) اور ضحاک (رح) کہتے ہیں کہ طالوت کے قتل ہونے کے بعد حضرت داؤد (علیہ السلام) سات سال بادشاہ رہے اور سوئے حضرت داؤد (علیہ السلام) کے بنی اسرائیل کبھی بھی ایک بادشاہ پر جمع نہیں ہوئے، پس یہ ہے ” واتاہ اللہ الملک والحکمۃ “ یعنی نبوت ، اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کے لیے بادشاہت اور نبوت جمع فرما دی حالانکہ اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا، بادشاہت ایک خاندان میں ہوتی تھی اور نبوت ایک خاندان میں بعض حضرات نے کہا کہ ملک اور حکمت سے مراد علم مع العمل ہے ” وعلمہ مما یشائ “ کلبی (رح) وغیرہ کہتے ہیں کہ اس علم سے مراد زرہ سازی کی صنعت ہے، زرہیں بناتے اور بیچتے اور صرف اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھاتے اور کہا گیا ہے کہ اس علم سے مراد پرندوں کی بولی، بڑی اور چھوٹی چیونٹی کی کلام کا علم دیا تھا اور اسی طرح ہر وہ جانور جس کی آواز بھی نہیں ۔ بعض نے کہا کہ اس سے مراد زبور ہے اور بعض نے کہا کہ اس سے مراد اچھی آواز اور خوش الحانی ہے ، اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کے بعد کسی کو ایسی خوش الحانی عطا نہیں کی ، حضرت داؤد (علیہ السلام) جب زبور کی تلاوت فرماتے تو پرندے قریب ہوجاتے حتی کہ ان کی گردنوں کو پکڑا جاتا ، پرندے سایہ کرتے ، بہتا پانی رک جاتا ، ہوا ٹھہر جاتی ، ضحاک (رح) نے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کی کہ (آیت)” علمہ مما یشائ “ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کو ایک زنجیر دی تھی ، جو ثریا سے ملی ہوئی تھی اور اس کا سرا آپ کے صومعہ (عبادت خانہ) کے ساتھ ملا ہوا تھا ، اس میں لوہے کی سی طاقت ، آگ کی رنگت تھی ، گول کڑیاں جواہر جڑی اور تازہ لؤلؤ کی لڑیوں سے میخ زدہ تھیں ، ہو اس میں جو کوئی حادثہ رونما ہوا اور زنجیر بجتی اور حضرت داؤد (علیہ السلام) کو علم ہوجاتا جو کوئی آفت زدہ انسان اس کو چھوتا تو صحت مند ہوجاتا اور حضرت داؤد (علیہ السلام) کے بعد بنی اسرائیل والے اپنا فیصلہ اس زنجیر کے پاس لے جاتے ، یہاں تک کہ وہ زنجیر اٹھالی گئی ۔ پس جو کوئی کسی پر زیادتی کرتا یا کسی کے حق دینے کا انکار کرتا تو اس زنجیر کے پاس آتا ۔ اگر سچا ہوتا تو اس کا ہاتھ زنجیر کو لگ جاتا اور جو کوئی جھوٹا ہوتا اس کو نہ چھو سکتا ، یہ صورت حال اسی طرح رہی یہاں تک کہ بنی اسرائیل میں مکر اور دھوکہ بازی شروع ہوگئی ، پس ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ ایک بادشاہ نے کسی آدمی کے پاس قیمتی موتی امانت رکھا، جب واپسی کا مطالبہ کیا تو وہ شخص مکر گیا تو وہ دونوں اپنا جھگڑا زنجیر کے پاس لے گئے ، پس جس شخص کے پاس موتی امانت تھا اس نے لاٹھی میں سوارخ کرکے وہ موتی اس لاٹھی میں ڈال دیا اور اس لاٹھی پر سہارا لگا کر زنجیر کو حاضر ہوگئے ، پس موتی والے نے کہا میرا موتی واپس کر جو تیرے پاس امانت تھا ، دوسرے نے کہا میں تو نہیں جانتا کہ تیری کوئی امانت میرے پاس ہے اور کہا اگر تو دعوی میں سچا ہے تو اس زنجیر کو ہاتھ لگا تو موتی کی امانت کا مطالبہ کرنے والے نے ہاتھ لگایا تو اس کا ہاتھ زنجیر کو لگ گیا پھر منکر کو کہا گیا کہ تو زنجیر کو ہاتھ لگا تو منکر امانت نے صاحب جو ہرہ (موتی) کو کہا کہ میری یہ لاٹھی پکڑتا کہ میں زنجیر کو ہاتھ لگاؤں تو لاٹھی مالک جو ہرہ نے لے لی ، پھر منکر کھڑا ہوا اور زنجیر کو پکڑ لیا اور کہا یا اللہ ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ مدعی جس امانت کا دعوی کرتا ہے وہ امانت اس کے پاس پہنچ چکی ہے تو یہ زنجیر میرے قریب کر دے، پس ہاتھ لمبا کیا اور زنجیر کو لے لیا ، پس قوم نے تعجب کیا اور اس زنجیر کے معاملہ میں شک کرنے لگے ۔ پس انہوں نے اس حال میں صبح کی کہ اللہ تعالیٰ نے زنجیر کو اٹھا لیا تھا ۔ (آیت)” ولولا دفع اللہ الناس بعضھم ببعض “۔ اہل مدینہ اور یعقوب نے (دفاع اللہ) الف کے ساتھ پڑھا یہاں بھی اور سورة حج میں بھی اور باقیوں نے بغیر الف کے پڑھا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی بھی فعل میں مغالبہ و مقابلہ نہیں کرسکتا (کہ مدافعت میں کوئی مقابلہ کرے اور باب مفاعلہ سے اس کا ذکر کیا جائے) بلکہ اللہ تعالیٰ اکیلا دافع ہے اور جس نے الف کے ساتھ پڑھا اس کا جواب یہ ہے کہ دفاع کا عمل کبھی یکطرفہ بھی ہوتا ہے جیسا کہ اہل عرب کا قول ہے ” احسن اللہ عنک الدفاع “ (اب اس جملہ میں دفاع بمعنی دفع ہے) ابن مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ عساکر مسلمین کے ذریعے مشرکوں کو دفع نہ فرماتے تو مشرک لوگ زمین پر غالب آجاتے اور مساجد اور شہروں کو ویران کر ڈالتے اور ایمان والوں کو قتل کردیتے اور باقی مفسرین نے فرمایا اگر اللہ تعالیٰ ایمان والوں اور نیکوں کے ذریعے کفار وفجار کو دفع نہ فرماتے تو زمین اپنے باسیوں سمیت تباہ ہوجاتی لیکن ۔
Ayah 2:252

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 2:252 in the Quran reader

یہ خدا کی آیتیں ہیں جو ہم تم کو سچائی کے ساتھ پڑھ کر سناتے ہیں (اور اے محمد ﷺ تم بلاشبہ پیغمبروں میں سے ہو

(تفسیر) 252۔: اللہ تعالیٰ مؤمن کے ذریعے کافر کو دفع کرتا ہے اور نیک کے ذریعے برے کو ، ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمـ نے فرمایا (بےشک اللہ تعالیٰ نیک مسلم کی برکت سے اس کے سو پڑوسیوں سے مصیبت ٹال دیتے ہیں) پھر ابن عمر ؓ نے فرمایا ۔
Ayah 2:253

تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ۘ مِنْهُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ وَ رَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ وَ لٰكِنِ اخْتَلَفُوْا فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ كَفَرَ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلُوْا١۫ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ۠ Open ayah 2:253 in the Quran reader

یہ پیغمبر (جو ہم وقتاً فوقتا) بھیجتے رہے ہیں ان میں سے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے بعض ایسے ہیں جن سے خدا نے گفتگو فرمائی اور بعض کے (دوسرے امور میں) مرتبے بلند کئے اور عیسیٰ بن مریم کو ہم نے کھلی ہوئی نشانیاں عطا کیں اور روح القدس سے ان کو مدد دی اور اگر خدا چاہتا تو ان سے پچھلے لوگ اپنے پاش کھلی نشانیاں آنے کے بعد آپس میں نہ لڑتے لیکن انہوں نے اختلاف کیا تو ان میں سے بعض ایمان لے آئے اور بعض کافر ہی رہے اور اگر خدا چاہتا تو یہ لوگ باہم جنگ و قتال نہ کرتے لیکن خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے

(تفسیر) 253۔: (آیت)” منھم من کلم اللہ “۔ اس سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا، (بعضھم درجات) اس سے مراد حضرت محمد ﷺ ہیں ، امام بغوی (رح) فرماتے ہیں کہ آپ کو ان جیسے تمام معجزات دیئے گئے تھے جو دوسرے انبیاء کرام (علیہم السلام) کو دیئے گئے تھے ان معجزات کے علاوہ بھی آپ کو اور معجزات بھی دیئے گئے تھے جیسے انگلی کے اشارے سے چاند کا دو ٹکڑے ہوجانا اور ستون حنانہ کا آپ کی جدائی سے رونا ، پتھروں اور درختوں کا آپ (علیہ السلام) کو سلام کرنا، جانوروں کا کلام کرنا اور آپ ﷺ کی رسالت کی گواہی دینا اور آپ ﷺ کی انگلیوں سے پانی کا جاری ہونا ، ان معجزات کے علاوہ اور بہت سارے معجزات ہیں جن کا احاطہ نہیں کیا جاسکتا ، ان معجزات میں سے سب سے نمایاں قرآن مجید ہے جس کی مثال پیش کرنے سے آسمان و زمین کے باشندے عاجز رہے ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہر نبی کو کوئی ایسا معجزہ دیا گیا جو دوسرے انسانوں کی قدرت سے خارج تھا اور مجھے جو معجزہ عطا کیا گیا وہ اللہ کا کلام ہے جو میرے پاس وحی کے ذریعے سے بھیجا گیا ، پس مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن میرے متبعین کی تعداد زیادہ ہوگی ۔ حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے پانچ چیزیں ایسی عطا کی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں ، ایک ماہ کی مسافت تک میرا رعب ڈال کر میری مدد کی گئی ، اور زمین کو میرے لیے مسجد اور پاک قرار دیا ، پس میری امت میں سے کسی شخص کو جہاں بھی نماز کا وقت آجائے تو وہ نماز پڑھ لے اور میرے لیے مال غنیمت کو حلال کردیا گیا جبکہ مجھ سے پہلے لوگوں پر غنیمت کا مال حلال نہیں تھا اور مجھے شفاعت کا حق دیا گیا اور ہر نبی کو صرف اسی خاص قوم کی طرف بھیجا جاتا رہا مگر مجھے سب لوگوں کی ہدایت کے لیے بھیجا گیا ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے انبیاء کرام (علیہم السلام) پر چھ چیزوں میں فضیلت عطا کی گئی ، مجھے جوامع الکلم عطا کیے گئے ، دشمنوں کے دلوں میں میرا رعب ڈال کر میری مدد کی گئی اور میرے لیے مال غنیمت حلال کی گئی ، میرے لیے زمین کو مسجد قرار دیا گیا اور مجھے تمام مخلوق کے لیے بھیجا گیا اور مجھ پر انبیاء کرام (علیہم السلام) کو ختم کردیا گیا ۔ (آیت)” واتینا عیسیٰ بن مریم ۔۔۔۔۔ الذین من بعدھم : رسولوں کے بعد (من بعدہ ۔۔۔۔۔ من امن) اللہ کے فضل سے اپنے ایمان پر ثابت قدم رہے (ومنھم من کفر) (اور ان میں سے کچھ ایسے جنہوں نے کفر کیا) ان کی رسوائی کی وجہ سے (آیت)” ولو شاء اللہ مااقتتلو “۔ اس جملہ کو دوبارہ ذکر کرنا پہلے جملہ کی تاکید کے لیے ہے ، (آیت)” ولکن اللہ یفعل مایرید “۔ اللہ توفیق دیتا ہے جسے چاہتا ہے اپنے فضل سے اور رسواء کرتا ہے جسے چاہتا ہے اپنے عدل سے ، ایک شخص نے حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے سوال کیا کہ اے امیر المؤمنین مجھے تقدیر کے متعلق خبر دیجئے ؟ حضرت علی ؓ نے جواب دیا کہ یہ تاریک راستہ ہے اس پر نہ چل ، سائل نے دوبارہ سوال کیا، آپ ؓ نے فرمایا گہرا سمندر ہے اس میں نہ داخل ہو ، پھر سائل نے سوال کیا ، آپ ؓ نے فرمایا زمین میں اللہ کا پوشیدہ راز ہے اس کی کوشش نہ کر ۔
Ayah 2:254

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خُلَّةٌ وَّ لَا شَفَاعَةٌ١ؕ وَ الْكٰفِرُوْنَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 2:254 in the Quran reader

اے ایمان والو جو (مال) ہم نے تم کو دیا ہے اس میں سے اس دن کے آنے سے پہلے خرچ کرلو جس میں نہ (اعمال کا) سودا ہو اور نہ دوستی اور سفارش ہوسکے اور کفر کرنے والے لوگ ظالم ہیں

(تفسیر) 254۔: (آیت)” (یایھا الذین ۔۔۔۔۔ رزقناکم) امام سدی (رح) فرماتے ہیں کہ انفاق سے مراد زکوۃ ادا کرنا ہے ان کے علاوہ بعض حضرات نے کہا کہ انفاق سے مراد نفلی صدقہ اور نیک کاموں میں خرچ کرنا ہے ۔ (من قبل ۔۔۔۔۔۔۔۔ بیع فیہ) یعنی نہ کوئی فدیہ دے کر اپنی جان چھڑا سکتا ہے اس کو یہاں بیع کا نام دیا گیا کیونکہ فدیہ بھی اپنی جان کے بدلے میں ہی ہوتا ہے (ولاخلۃ) خلۃ سے مراد دوستی ہے کہ نہ وہاں کسی کی دوستی کام آئے گی (ولا شفاعۃ) مگر اس کی اجازت کے بغیر ، ابن کثیررحمۃ اللہ علیہ اور اہل بصرہ کے قراء نے یہاں نصب کے ساتھ پڑھا ہے اور اسی طرح سورة ابراہیم میں ” لا بیع ولا خلال “۔ اور سورة طور میں ” لغو ولا تاثیم “۔ جگہوں پر نصب کے ساتھ پڑھا ہے ، ان کے علاوہ دوسرے حضرات نے رفع کے ساتھ پڑھا ہے (والکافرون ھم الظالمون) کیونکہ یہ عبادت کو غیر محل میں ادا کرتے ہیں ۔
Ayah 2:255

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ١ۚ۬ لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّ لَا نَوْمٌ١ؕ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ١ۚ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ١ۚ وَسِعَ كُرْسِیُّهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ١ۚ وَ لَا یَئُوْدُهٗ حِفْظُهُمَا١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ Open ayah 2:255 in the Quran reader

خدا (وہ معبود برحق ہے کہ) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں زندہ ہمیشہ رہنے والا اسے نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نیند جو کچھ آسمانوں اور زمین میں سے سب اسی کا ہے کون ہے کہ اسکی اجازت کے بغیر اس سے (کسی کی) سفارش کرسکے، جو کچھ لوگوں کے روبرو ہو رہا ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہوچکا ہے اسے سب معلوم ہے اور وہ اس کی معلومات میں سے کسی چیز پر دسترس حاصل نہیں کرسکتے، ہاں جس قدر وہ چاہتا ہے (اسی قدر معلوم کرا دیتا ہے) اسکی بادشاہی (اور علم) آسمان اور زمین سب پر حاوی ہے اور اسے ان کی حفاظت کچھ بھی دشوار نہیں وہ بڑا عالی رتبہ اور جلیل القدر ہے

255۔ (آیت)” اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم “۔ ابی بن کعب ؓ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں : کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اے ابو المنذر کتاب میں بڑی آیت کون سی ہے ؟ (ابو منذر کہتے ہیں) کہ میں نے کہا (آیت)” اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم “۔ فرمایا ، آپ ﷺ نے میرے سینے پر ہاتھ مارا پھر فرمایا تجھ کو علم مبارک ہو اے ابو المنذر ۔ پھر فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے کہ اس آیت کی ایک زبان اور دو ہونٹ ہیں، پایہ عرش کے قریب فرشتہ اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتا ہے ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے ، فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے رمضان کی زکوۃ کی حفاظت پر مامور فرمایا ، کوئی آکر چلو بھر بھر کر غلہ اٹھانے لگا تو میں نے اس کو پکڑ لیا اور اس کو کہا کہ میں تجھے ضرور بالضرور آپ ﷺ کی خدمت میں لے جاؤں گا ، وہ کہنے لگا میں محتاج ہوں ، عیال دار ہوں ، اور بڑا ضرورت مند ہوں ، ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اس کا راستہ چھوڑ دیا ، جب صبح ہوئی تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اے ابوہریرہ ! رات والے تیرے قیدی کا کیا بنا ، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اس نے اپنی سخت محتاجی اور عیال داری کا دکھ ظاہر کیا مجھے اس پر رحم آگیا تو میں نے اس کو چھوڑ دیا ، آپ ﷺ نے فرمایا ، آگاہ رہو ، بیشک اس نے تمہارے ساتھ جھوٹ بولا ہے آئندہ پھر وہ لوٹ کر آئے گا ، پس میں جان گیا کہ وہ لوٹ کر آئے گا آپ ﷺ کے ارشاد فرمانے کی وجہ سے، پس پھر میں اس کی تاک میں رہا بالاخر وہ آیا اور پھر غلہ سے اپنے چلو بھرنے لگا میں نے فورا اس کو پکڑ لیا اور اس کو کہا کہ اب کی بار تو میں تجھے آپ ﷺ کے پاس ضرور لے کر جاؤں گا ، اس نے کہا مجھے چھوڑ دو میں محتاج ہوں اور عیال دار ہوں ، اب میں لوٹ کر نہیں آؤں گا ، پس مجھے اس پر ترس آگیا ، میں نے اس کو چھوڑ دیا ، پس صبح آپ ﷺ نے مجھ سے پوچھا اے ابوہریرہ ؓ رات والے قیدی کے ساتھ کیا بنا، میں نے کہا اے اللہ کے رسول ﷺ اس نے سخت محتاجگی کی شکایت کی اور عیال داری کی مجھے اس پر ترس آیا ، میں نے اس کو چھوڑ دیا ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ، سنو ! بیشک اس نے تمہارے ساتھ جھوٹ بولا ہے ، پھر وہ لوٹ کر آئے گا ، (ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں) کہ میں تیسرے بار اس کی تاک میں بیٹھ گیا ، پس وہ آیا تو اس نے غلہ سے چلو بھرنا شروع کیے ، میں نے اس کو پکڑ لیا ، پس میں نے اس کو کہا پس میں تجھے ضرور بالضرور آپ ﷺ کے پاس لے جاؤں گا کیونکہ یہ تین مرتبہ میں سے آخری بار ہے تو نے ہر دفعہ یہی کہا کہ میں اب دوبارہ نہیں آؤں گا ، پھر آتا رہا ۔ اس نے کہا مجھے چھوڑ دیجئے میں (اس کے بدلے) تم کو چند الفاظ ایسے بتلاؤں گا جس سے اللہ تجھ کو نفع دے گا ، میں نے کہا وہ کون سے الفاظ ہیں، اس نے کہا کہ جب تم رات اپنے بستر پر جاؤ تو آیت الکرسی (آیت)” اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم “۔ آخر تک پڑھ لیا کرو اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت کیلے ایک نگران مقرر کرے گا پھر صبح تک کوئی شیطان تمہارے پاس نہیں آئے گا ، پس میں نے اس کو چھوڑ دیا، جب صبح کی تو آپ ﷺ نے پوچھا رات تیرے قیدی کا کیا بنا ؟ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ اس نے مجھے کہا کہ میں تمہیں ایسے کلمات سکھلاؤں گا جو تمہیں نفع دیں گے تو میں نے اس کا راستہ چھوڑ دیا ، آپ ﷺ نے پوچھا وہ کون سے الفاظ ہیں ؟ میں نے کہا کہ اس نے یہ الفاظ کہے ہیں کہ جب تورات اپنے بستر پر آئے تو آیت الکرسی اول تا آخر پڑھ لے (آیت)” اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم “۔ اور اس نے کہا کہ اس وجہ سے تمہاری حفاظت کے لیے ایک نگران مقرر کردیا جائے گا صبح تک تمہارے پاس کوئی شیطان نہیں آئے گا اور وہ لوگوں پر حرص کر رہا تھا نیکی کی وجہ سے ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا سنو ! بیشک اس نے تمہارے ساتھ سچ بولا ہے لیکن ہے وہ جھوٹا ، اے ابوہریرہ ؓ تو جانتا ہے تین دن تک تیرے ساتھ کون مخاطب تھا ؟ ابوہریرہ ؓ نے عرض کیا نہیں ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ وہ شیطان ہے ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے صبح کے وقت آیت الکرسی اور ” حم تنزیل الکتاب من اللہ العزیز الحمید “۔ کی پہلی دو آیت تلاوت کی تو اس دن شام تک اس کی حفاظت کی جائے گی اور جس نے یہ آیات شام کے وقت پڑھیں تو اس رات اس کی حفاظت کی جائے گی ، یہاں تک کہ وہ صبح کرلے ، اللہ تعالیٰ کا فرمان ” اللہ “ یہ مرفوع ہے مبتداء ہونے کی وجہ سے اور اس کی خبر (آیت)” اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم “۔ ہے حی سے مراد ابدلآباد تک ہمیشہ باقی رہنے والا اور یہ صفت اس کے لیے ہے جس کے لیے حیات ہو اور یہ صفت اللہ تعالیٰ کے لیے ہے (القیوم) عمرو بن مسعود ؓ کی قرات میں ” القیام “ ہے اور علقمہ کی قرات میں ” القیم “ ہے ان تمام لغات کا معنی ایک ہی ہے ۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ قیوم کہتے ہیں ہر چیز کے نگران کو اور کلبی (رح) کہتے ہیں کہ قیوم ہر نفس کے اعمال کا نگران کو کہتے ہیں اور بعض نے کہا ہے کہ قیوم امور کے منتظم کو بھی کہتے ہیں ، ابوعبیدہ ؓ نے کہا کہ قیوم کا معنی ہے غیر فانی ہمیشہ باقی رہنے والا (آیت)” لا تاخذہ سنۃ ولا نوم “ السنۃ “ نعاس کو کہتے ہیں جو نیند سے پہلے آتی ہو اور اس کو ہلکی نیند سے تعبیر کیا جاتا ہے اور وسنان بھی اسی سے ہے وہ حالت جو نیند اور بیداری کے درمیان میں ہو اور کہا جاتا ہے ” وسن یسن وسنا وسنۃ “۔ باب سمع ہے ” والنوم “ اس حالت کو کہتے ہیں جس میں انسان کا جسم بھاری پڑجائے اور اعضا کی قوت ڈھیلی ہوجائے ، مفضل الضبی کہتے ہیں کہ ’‘’ السنۃ “ کا تعلق سر سے ہے اور نوم کا تعلق دل سے ہے، بس ” سنۃ نوم “ کا اول درجہ ہے جسے اونگھ کہتے ہیں ، بعض نے کہا کہ ” سنۃ کا تعلق سر سے ہے اور نعاس (اونگھ) کا تعلق آنکھ سے ہے اور نیند کا تعلق قلب سے ہے وہ بیہوشی جو دل پر واقع ہوتی اور وہ اشیاء کی معرفت کو جاننے میں رکاوٹ بنتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنے آپ سے اس ” نوم “ کی بھی نفی فرما دی کیونکہ نیند کا آنا آفت ہے اور اللہ رب العزت آفات سے پاک ہے اور نیند کا آنا تغیر ہے اور اللہ تعالیٰ ان تغیرات سے بھی پاک ہے ، ہمیں احمد بن ابراہیم شریحی نے خبر دی (وہ کہتے ہیں) کہ ہمیں ابو اسحاق احمد بن محمد بن ابراہیم الثعلبی نے خبر دی (وہ کہتے ہیں) ہمیں عبداللہ بن حامد نے خبر دی (وہ کہتے ہیں) ابو موسیٰ ؓ سے روایت بیان کرتے ہیں ، فرماتے ہیں آپ ﷺ نے ہمارے پاس کھڑے ہو کر پانچ باتیں ارشاد فرمائیں ، فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نہ سوتا ہے اور نہ ہی سونا اس کے مناسب ہے وہ میزان کو نیچے بھی کرتا ہے اور اوپر بھی اٹھاتا ہے اس کے سامنے رات کے اعمال پہنچانے جاتے ہیں دن کے اعمال سے پہلے اور دن کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں رات کے اعمال کے پیش کیے جانے رات کے اعمال کے پیش کیے جانے سے ، اس کا حجاب نور ہے اگر وہ نور ظاہر ہوجائے تو اس کے نور کے جمال سے حد نگاہ تک تمام مخلوق جل کر خاکستر ہوجائے ، مسعودی نے عمرو بن مرۃ سے روایت کیا ، فرمایا کہ اس کا حجاب آگ ہے ، (لہ ما فی السموت والارض) یعنی اس کی ملکیت ہے اور جو کچھ اس میں پیدا کیا (آیت)” من ذا الذی یشفع عندہ الا باذن “۔ یعنی اس کے حکم سے ۔ مابین ایدیھم وما خلفھم “۔ کی مختلف تفاسیر : (یعلم ما بین ایدیھم وما خلفھم) امام مجاہدرحمۃ اللہ علیہ ، عطاء (رح) سدی (رح) نے کہا ہے کہ (آیت)” ما بین ایدیھم “ سے مراد دنیاوی امور ہیں اور ” وما خلفھم “ سے مراد اخروی امور ہیں ۔ کلبی (رح) نے کہا کہ (آیت)” ما بین ایدیھم “ سے مراد ا آخرت ہے کیونکہ یہ انہوں نے آگے بھیجی ہے اور (آیت)” وما خلفھم “ سے مراد دنیا ہے کیونکہ یہ انہوں نے پیچھے چھوڑی ہے ۔ ابن جریج (رح) فرماتے ہیں (آیت)” ما بین ایدیھم “ سے مراد جوان کے سامنے سے گزر گیا اور ” وما خلفھم “۔ سے مراد جو بعد میں آنے والا ہے ، مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ (آیت)” ما بین ایدیھم “ سے مراد فرشتوں کی تخلیق سے پہلے اور ” وما خلفھم “۔ سے مراد فرشتوں کی تخلیق کے بعد جو کچھ پیدا کیا گیا وہ ہے ۔ بعض نے کہا کہ (آیت)” ما بین ایدیھم “ سے مراد وہ اعمال جو آگے بھیج چکے ہیں خواہ وہ انیک اعمال ہوں یا شر اور (آیت)” وما خلفھم “ سے مراد وہ اعمال جو ابھی کر رہے ہو (آیت)” ولا یحیطون بشیء من علمہ “۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے علم سے (الا بما شائ) کہ وہ اس علم پر مطلع ہوجائے ۔ (آیت)” لایحیطون بشی “ سے مراد علم غیب کی باتوں پر کوئی مطلع نہیں ہوسکتا مگر جسے اللہ چاہے رسولوں میں سے کسی کو اس کی خبر دے دے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت)” فلایظھر علی غیبہ احد الا من ارتضی من رسول “۔ (آیت)” (وسع کرسیہ السموت والارض) زمین و آسمان کو محیط ہے اور بھرا ہوا ہے ۔ کرسی کی مختلف تفاسیر : کرسی کی تفسیر میں مفسرین کی مختلف رائے ہیں ، حسن (رح) فرماتے ہیں کہ کرسی عرش ہے ۔ ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ کرسی عرش کے سامنے قائم ہے اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان (آیت)” (وسع کرسیہ السموت والارض) کا مطلب یہ ہے کہ کرسی کی وسعت زمین و آسمان کی وسعت کے برابر ہے ۔ اور بعض روایات میں ہے کہ آسمان و زمین کرسی کے مقابلے میں ایسے ہیں جیسے جنگل میں ایک چھلا پڑا ہوا ہو اور کرسی سے عرش اتنا بڑا ہے جیسے چھلے سے جنگل کی بڑائی ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ کرسی کے اندر ساتوں آسمان وزمینیں ایسی ہیں جیسے کسی ڈھال میں سات دراہم ڈال دیئے جائیں ۔ حضرت علی ؓ اور مقاتل (رح) کا قول ہے کہ کرسی کے ہر پایہ کی لمبائی ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں کے برابر ہے اور کرسی عرش کے سامنے ہے اور کرسی کو چار فرشتے اٹھائے ہوئے ہیں اور ہر فرشتے کے چار منہ ہیں اور ان فرشتوں کے قدم ساتوں زمینوں کے نیچے پتھر پر ہیں، اور یہ مسافت پانچ سو برس کے راستے کے برابر ہے ، ایک فرشتے کی صورت سید البشر حضرت آدم (علیہ السلام) کی طرح ہے جو آدمیوں کے لیے رزق اور بارش کی دعا کرتا رہتا ہے ، ایک سال سے لے کر دوسرے سال تک رزق مانگتا رہتا ہے بعض روایت میں آتا ہے کہ عرش کو اٹھانے والے فرشتے اور کرسی کے اٹھانے والے فرشتوں کے درمیان ستر حجابات اندھیرے کے اور ستر حجاب روشنی کے اور ہر حجاب کی موٹائی پانچ سو برس کے برابر ہے اگر یہ حجابات نہ ہوں تو کرسی کے اٹھانے والے فرشتے عرش کو اٹھانے والے فرشتوں کے نور سے جل جائیں ۔ سعید بن جبیر (رح) سے روایت ہے وہ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کرتے ہیں ، فرماتے ہیں کہ کرسی سے مراد عمل ہے اور یہی قول مجاہد (رح) کا ہے اور بعض نے کہا کہ صحیفہ علمی کو کر استہ کہتے ہیں اور بعض نے کہا کہ ” کرسیہ “ سے مراد حکومت اور بادشاہت ہے اور عرب کے ہاں پرانی حکومت (موروثی) کو کرسی کہتے ہیں ، (ولایؤدہ) یعنی نہ اس پر بھاری ہے اور نہ ہی اس پر مشکل ہے اسی وجہ سے کہا جاتا ہے ” ادنی الشی ای اثقلنی “ (حفظھما) یعنی آسمان و زمین کی حفاظت میں (وھو العلی) وہ بلند ہے اپنی مخلوق پر اور تمام اشیاء سے اور جن کو اللہ کے سوا پکارا جاتا ہے سب سے بلند ہے اور بعض نے کہا کہ العلی کہا جاتا ہے حکومت اور سلطنت میں بلند ہونے کو (العظیم) بمعنی بڑا یعنی وہ ذات جس سے کوئی بڑا نہ ہو ۔ خاصیت آیت 255۔ (آیت)” اللّہُ لاَ إِلَـہَ إِلاَّ ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ لاَ تَأْخُذُہُ سِنَۃٌ وَلاَ نَوْمٌ لَّہُ مَا فِیْ السَّمَاوَاتِ وَمَا فِیْ الأَرْضِ مَن ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہُ إِلاَّ بِإِذْنِہِ یَعْلَمُ مَا بَیْْنَ أَیْْدِیْہِمْ وَمَا خَلْفَہُمْ وَلاَ یُحِیْطُونَ بِشَیْْء ٍ مِّنْ عِلْمِہِ إِلاَّ بِمَا شَاء وَسِعَ کُرْسِیُّہُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ وَلاَ یَؤُودُہُ حِفْظُہُمَا وَہُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ (255) (1) جو شخص ہر نماز کے بعد اس آیت کو پڑھے وہ شیطان کے مکروفریب اور وسوسہ سے اور جنات کی سرکشی سے محفوظ گا۔ کبھی تنگدست نہ ہوگا اس کو ایسی جگہ سے رزق ملے گا جہاں سے اس کے خواب و خیال میں نہ ہوگا۔ (2) جو شخص صبح شام گھر میں داخل ہوتے وقت اس آیت کو پڑھے تو وہ چوری ‘ تنگدستی ‘ آگ میں جلنے اور دوسری شرارتوں اور سختیوں سے محفوظ رہے گا ، ہمیشہ تندرست رہے گا ، رات کو گھبراہٹ و پریشانی سے اور دل کے درد سے محفوظ رہے گا۔ (3) جو شخص اس آیت کو ٹھیکری پر لکھ کر غلہ میں رکھے تو وہ غلہ چوری ہونے سے اور دیمک وکیڑا وغیرہ لگنے سے محفوظ رہے اور اس میں برکت بھی ہوگی ۔ (4) جو شخص گھر یا دکان کی دہلیز میں اوپر اس آیت کو لکھ دے تو اس گھر دکان یا باغ ہے تو اس میں بہت رزق ہوگا ، کبھی تنگی نہ آئے گی اور کبھی چوری بھی نہ ہوگی ۔ (5) جو شخص ہر نماز کے بعد کثرت سے یہ آیت پڑھے تو وہ مرنے سے پہلے جنت میں اپنا ٹھکانہ دیکھ لے گا ۔ (6) جو شخص سفر میں ہو یا کسی خوفناک جگہ میں ہو تو وہ اپنی چھری سے اپنے اوپر ایک دائرہ کھینچ کر اس پر آیت الکرسی ‘ سورة اخلاص ‘ معوذتین ‘ فاتحہ اور (آیت)” قل لن یصیبنا الا ما کتب اللہ لنا ھو مولنا وعلی اللہ فلیتوکل المؤمنون “۔ (7) رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے جو شخص آیت الکرسی کو زعفران سے اپنے داہنے ہاتھ کی ہتھیلی پر سات بار لکھ کر ہر بار اسے چاٹ لے تو اس کا حافظہ اتنا بڑھ جائے گا کہ کبھی کوئی بات بھولے گی نہیں اور فرشتے اس کے لیے مغفرت کی دعا کریں گے ۔
Ayah 2:256

لَاۤ اِكْرَاهَ فِی الدِّیْنِ١ۙ۫ قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ١ۚ فَمَنْ یَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى١ۗ لَا انْفِصَامَ لَهَا١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:256 in the Quran reader

دین (اسلام) میں زبردستی نہیں ہے ہدایت (صاف) طور پر ظاہر اور گمراہی سے الگ ہوچکی ہے تو جو شخص بتوں سے اعتقاد نہ رکھے اور خدا پر ایمان لائے اس نے ایسی مضبوط رسی ہاتھ میں پکڑ لی ہے جو کچھ ٹوٹنے والی نہیں اور خدا (سب کچھ) سنتا اور جانتا ہے

شان نزول : (تفسیر) 256۔: (آیت)” لا اکراہ فی الدین “۔ سعید بن جبیر (رح) نے کہا کہ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ انصار میں ایک عورت تھی جو مقلاۃ تھی ، مقلاۃ وہ عورت ہوتی ہے جس کے بچے زندہ نہ رہتے ہوں اور وہ عورت یہ نذر مانتی تھی کہ اگر میرا بچہ زندہ رہا تو اس کو یہودی بنا دوں گی جب اس کا بچہ زندہ رہتا تو وہ اس کو یہودی بنا لیتی ، پس جب اسلام آیا تو انصار کے وہ بچے بھی موجود تھے جو یہودی بن چکے تھے لیکن جب بنو نضیر کو جلا وطن کیا گیا تو ان کے اندر کچھ انصار کے بچے بھی تھے تو انصار نے ارادہ کیا کہ وہ اپنے بچوں کو واپس اسلام کی طرف لائیں ، اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین یہ کہنے لگئے کہ یہ ہمارے بیٹے اور ہمارے بھائی ہیں تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی (آیت)” لا اکراہ فی الدین “۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم اپنے ساتھیوں کو اختیار دو اگر وہ تمہیں اختیار کریں تو وہ تم میں سے ہوں گے اور اگر وہ ان یہودیوں کو اختیار کریں تو تم ان کے ساتھ انکو بھی جلاوطن کرو۔ حضرت مجاہدرحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ قبیلہ اوس کے کچھ لوگ یہودی قبائل سے اپنے بچوں کو دودھ پلوایا کرتے تھے جب آپ ﷺ نے بنو نضیر کے جلاوطن کرنے کا حکم دیا تو جن لڑکوں نے ان یہودنیوں کا دودھ پیا تھا وہ کہنے لگے ہم ان کے ساتھ ساتھ جائیں گے یا ان کا دین اختیار کریں گے تو ان کے بڑوں نے ان کو روکا تو یہ (آیت)” لا اکراہ فی الدین “۔ نازل ہوئی ۔ مسروق (رح) فرماتے ہیں کہ قبیلہ بنی سالم بن عوف کے انصار میں سے ایک شخص کے دو بیٹے نصرانی تھے آپ ﷺ کی بعثت سے پہلے ، پھر نصاری کی ایک جماعت غلہ کی تجارت کی غرض سے مدینہ گئی اس میں اس شخص کے دو بیٹے بھی تھے ان دونوں کو ان کے والد نے پکڑ لیا اور کہنے لگے کہ میں تم دونوں کو اس وقت تک نہیں چھوڑں گا جب تک تم اسلام نہیں لے آتے بالآخر یہ معاملہ آپ ﷺ کے پاس پہنچ گیا اور اس شخص نے عرض کیا اے اللہ ! کے رسول ﷺ کیا میرے بعض بیٹوں کو دوزخ میں ڈال دیا گا اور میں دیکھ رہا ہوں گا اس پر یہ آیت نازل ہوئی (آیت)” لا اکراہ فی الدین “۔ تو پھر اس شخص نے ان دونوں بیٹوں کے راستے کا چھوڑ دیا ۔ حضرت قتادہ (رح) اور حضرت عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی جب انہوں نے جزیہ قبول کہا اس سے قبل عرب امی تھے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی تھی جب کتاب نازل ہوئی تو ان سے اسلام ہی پیش کیا جاتا (نہ کہ جزیہ) پھر جب یہ خوشی سے یا تنگی سے اسلام لے آئے تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی (آیت)” لا اکراہ فی الدین “۔ پھر اہل کتاب سے قتال کا حکم دیا گیا ، یہاں تک کہ وہ اسلام لے آئیں یا جزیہ قبول کرلیں، پس ان میں بعض نے جزیہ ادا کیا تو ان کو اسلام پر مجبور نہیں کیا گیا اور بعض نے کہا ہے کہ یہ حکم (ابتداء میں تھا) قتال کے حکم سے پہلے تھا ، ، لہذا یہ حکم آیت سیف کی وجہ سے منسوخ ہوگیا ، اور یہی قول ابن مسعود ؓ کا ہے (قد تبین الرشد من الغی) یعنی ایمان کفر سے حق باطل سے ظاہر ہوچکا ۔ (آیت)” فمن یکفر بالطاغوت “۔ طاغوت سے مراد شیطان ہے اور کہا گیا کہ اللہ کے سوا جس چیز کی عبادت کی جائے اسے طاغوت کہتے ہیں اور کہا گیا کہ جو انسان کو سرکشی پر ابھارے ، طاغوت فاعول کے وزن پر ہے یہ طغیان سے ہے لام کو تاء سے بدل دیا جیسا کہ حانوت اور تابوت ہے یہ تاء تھا تانیث سے بدل کر آئی ہے ۔ (آیت)” ویومن باللہ بقد استمسک بالعروۃ الوثقی “۔ یعنی پکڑا اور دین میں مضبوط رسی کو تھاما۔ ” وثقی “ یہا تانیث ہے اوثق کی اور بعض نے کہا کہ عروہ وثقی سے مراد وہ سبب جو اللہ کی رضا تک پہنچانے والاہو۔ (لاانفصام لھا) وہ رسی جو ٹوٹ نہ سکے (واللہ سمیع) جو تم ان لوگوں کو دعوت اسلام دیتے ہو ان کو سننے والا ہے (علیم) کہ ان کی ایمان لانے کی کتنی حرص ہے ۔
Ayah 2:257

اَللّٰهُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۙ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْلِیٰٓئُهُمُ الطَّاغُوْتُ١ۙ یُخْرِجُوْنَهُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَى الظُّلُمٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ Open ayah 2:257 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کا دوست خدا ہے کہ اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لے جاتا ہے اور جو کافر ہیں ان کے دوست شیطان ہیں کہ ان کو روشنی سے نکال کر اندھیرے میں لے جاتے ہیں یہی لوگ اہل دوزخ ہیں کہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

(تفسیر) 257۔: (آیت)” اللہ ولی الذین امنوا “۔ اللہ انکی مدد کرتا ہے اور نصرت کرتا ہے ، بعض نے کہا کہ ان سے محبت کرتا ہے بعض نے کہا کہ انہی کو امور کا متولی بنایا ہے ان کے علاوہ کسی اور کو ان امور کا مکلف نہیں بنایا اور حسن (رح) فرماتے ہیں کہ ان کو ہدایت کا ولی بنایا ہے ۔ (آیت)” یخرجھم من الظلمات الی النور “۔ نکالتا ہے تاریکیوں سے نور کی طرف) کفر سے ایمان کی طرف ، علامہ واقدی (رح) فرماتے ہیں کہ قرآن کریم میں جہاں بھی ظلمات اور نور کا لفظ آیا ہے اس سے کفر اور ایمان مراد ہے ، سوائے سورة انعام کی آیت ” وجعل الظلمات والنور “۔ میں دن اور رات مراد ہے ، آیت میں ظلمت کو کفر سے کیوں موسوم کیا اس لیے کہ ظلمت سے راستہ ملتبس ہوجاتا ہے اور اسلام کو نور سے تعبیر کیا کیونکہ یہ واضح کرنے والا ہے راستہ کو (آیت)” والذین کفرو اولیاؤھم الطاغوت) (اور وہ لوگ جنہوں نے انکار کیا ان کے دوست شیطان ہیں) مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ اس سے مراد کعب بن اشرف اور حی بن اخطب اور گمراہ کرنے والے بڑے بڑے سردار ہیں اور یہ لوگ۔ (آیت)” یخرجونھم من النورالی الظلمات “۔ (نکالتے ہیں ان کو ہدایت سے گمراہی کی طرف) ان کو دعوت دیتے ہیں ہدایت سے گمراہی کی طرف ، طاغوت یہ مذکر اور مؤنث واحد، جمع بھی استعمال ہوتا ہے ، واحد اور مذکر قرآن میں اس آیت میں استعمال ہوا ہے ’(آیت)” یریدون ان یتحاکموا الی الطاغوت وقد امروا ان یکفروا بہ “۔ اس میں طاغوت کے لیے واحد مذکر کی ضمیر لائی گئی ، دوسری آیت جہاں مؤنث استعمال ہوا ۔ (آیت)” والذین اجنتبوا الطاغوت ان یعبدوھا “ اس میں ضمیر مؤنث کی لائی گئی ہے جمع کی مثال ، (آیت)” ویخرجونھم من النور الی الظلمات “۔ سوال کیا جاتا ہے کہ کیسے ان کو نور سے اندھیروں کی طرف نکال دیا جاتا ہے حالانکہ وہ تو کافر ہیں ان کے لیے تو کبھی نور ہدایت ہے ہی نہیں ، جواب دیا کہ اس سے مراد یہود ہیں کہ آپ ﷺ کی بعثت سے پہلے آپ ﷺ پر ایمان لاتے تھے لیکن جب آپ ﷺ تشریف لے آئے تو انہوں نے انکار کردیا ، بعض نے کہا کہ عموم مراد ہے اس میں تمام کفار شامل ہیں کہ انہوں نے کہا کہ ہمیں دین اسلام میں داخل ہونے سے روکا گیا ، (آیت)” اخراج “ کا معنی جیسا کہ کوئی شخص اپنے والد سے کہتا ہے کہ مجھے فلاں ملکیت سے نکال دیا گیا حالانکہ وہ اس ملکیت میں شامل نہیں ہوتا ، جیسا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں خبر دی (آیت)” انی ترکت ملۃ قوم لا یؤمنون باللہ “۔ حالانکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) ان کی ملت میں شامل نہیں تھے ، (آیت)” اولئک اصحاب النار ھم فیھا خالدون ‘) (یہی لوگ دوزخی ہیں اور اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے)