2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 2:211

سَلْ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ كَمْ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ اٰیَةٍۭ بَیِّنَةٍ١ؕ وَ مَنْ یُّبَدِّلْ نِعْمَةَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 2:211 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ بنی اسرائیل سے پوچھو کہ ہم نے ان کو کتنی کھلی نشانیاں دیں اور جو شخص خدا کی نعمت کو اپنے پاس آنے کے بعد بدل دے تو خدا سخت عذاب کرنے والا ہے

211۔ (آیت)” سل بنی اسرائیل “ یا محمد ﷺ یہود مدینہ سے پوچھئے ” کم اتیناھم “ ان کے آباء اور اسلاف کو کتنا کچھ ہم نے ” من آیۃ بینہ “ (واضح نشانیاں دیں) اہل حجاز اور قتیبہ نے ” بینہ “ کے لفظ کی باء اور یاء کو شد کے ساتھ پڑھا اور باقیوں نے یاء کی شد کے ساتھ پڑھا ۔ ” بینہ “ کا معنی واضح دلالت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت پر جیسے کہ عصاء یدبیضا سمندر کو پھاڑنا وغیرہ اور کہا گیا ہے کہ اس سے مراد وہ دلالتیں ہیں جو ان کو تورات و انجیل کے حوالے سے حضور ﷺ کی نبوت کے بارے میں ملیں ۔ (آیت)” ومن یبدل “ جو بدلے (آیت)” نعمۃ اللہ “ کتاب اللہ (مراد ہے) اور کہا گیا ہے عہد اللہ اور کہا گیا ہے کہ (آیت)” من یبدل “ کا معنی ہے کہ جو اس دلالت کا انکار کرے جو حضور ﷺ کی نبوت و رسالت سے متعلق ہے (آیت)” من بعد ماجاء تہ فان اللہ شدید العقاب “۔
Ayah 2:212

زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ یَسْخَرُوْنَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۘ وَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 2:212 in the Quran reader

اور جو کافر ہیں ان کے لیے دنیا کی زندگی خوشنما کردی گئی ہے اور وہ مومنوں سے تمسخر کرتے ہیں لیکن جو پرہیزگار ہیں وہ قیامت کے دن ان پر غالب ہوں گے اور خدا جس کو چاہتا ہے بیشمار رزق دیتا ہے

(تفسیر) 212۔: (آیت)” زین للذین کفروا الحیاۃ الدنیا “ اکثر حضرات کامؤقف یہ ہے کہ مزین کرنے والے خود اللہ تعالیٰ ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے تزیین کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خوبصورت اشیاء اور عجیب غریب مناظر پیدا فرمائے ، مخلوق نے ان کو خوب دیکھا تو وہ اشیاء ان کو اچھی لگیں ۔ پس ان میں مفتون ہو کر رہ گئے (لٹو ہوگئے) زجاج (رح) کہتے ہیں ان کے لیے شیطان نے یہ سب کچھ مزین کیا ، کہا گیا ہے یہ آیت کریمہ مشرکین عرب ابوجہل اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ، یہ لوگ جو کچھ کہ اللہ تعالیٰ نے مال کو دنیا میں پھیلایا ہے نفع حاصل کرتے لطف اندوز ہوتے اور آخرت کا انکار کرتے ۔ (آیت)” ویسخرون من الذین امنوا “ فقراء مؤمنین سے استھزاء کرتے ہیں ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ (آیت)” الذین امنوا “ سے مراد حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ ، حضرت عمار بن یاسر ؓ ، حضرت صہیب ، ؓ حضرت بلال ؓ ، حضرت خباب ؓ اور ان جیسے حضرات مراد ہیں ، حضرت مقاتل ؓ فرماتے ہیں یہ آیت عبداللہ بن ابی اور اس کے دیگر منافق ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی جو دنیا میں خوشحال کی زندگی گزارتے تھے اور کمزور مؤمنوں اور فقراء مہاجرین کے ساتھ مسخرہ کرتے اور کہتے ذرا ان لوگوں کو دیکھو یہ ہیں وہ لوگ جن کے بارے میں محمد ﷺ کا دعوی ہے کہ ان کے ذریعے سے وہ غلبہ حاصل کریں گے ، حضرت عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ بنو قریظہ ، بنو نضیر ، بنو قینقاع کے سرداران یہود کے بارے میں نازل ہوئی جو فقراء مہاجرین کے ساتھ استھزاء کرتے تھے ، پس اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا کہ بنو قریظہ اور بنو نضیر کے مال ان کو بغیر لڑائی اور قتال کے عنایت فرما دے گا اور یہ یہود ایمان والوں کے ساتھ ان کے فقر کے باعث استھزاء کرتے ہیں (آیت)” والذین اتقوا “ یہ فقراء (آیت)” فوقھم یوم القیامۃ “ کیونکہ ایمان والے اعلی علیین میں ہوں گے اور یہ کفار ویہود اسفل سافلین میں ہوں گے ۔ حضرت اسامہ ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میں جنت کے دروازہ پر کھڑا ہوا ، میں نے اہالیان بہشت میں اکثر مساکین کو پایا اور میں جہنم کے دروازہ پر کھڑا ہوا تو جہنمیوں میں میں نے زیادہ تر عورتوں کو پایا ، اہل مرتبہ بڑے لوگ روکے ہوئے تھے مگر وہ بڑے جو جہنمی تھے پس ان کے بارے میں حکم ہوچکا تھا کہ انہیں جہنم رسید کیا جائے ۔ سھل بن سعد ساعدی ؓ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضور اقدس ﷺ کے پاس سے گزرا پس حضور ﷺ نے اپنے پاس بیٹھے ہوئے ایک شخص سے فرمایا ، اس (گزرنے والے) کے بارے میں تیری کیا رائے ہے ؟ اس نے کہا کہ یہ شخص معزز ترین لوگوں سے ہے ، اللہ کی قسم یہ شخص اس لائق ہے کہ اگر پیغام نکاح دے تو نکاح کردیا جائے ، سفارش کرے تو قبول کرلی جائے ، پس حضور ﷺ خاموش ہوگئے پھر اس کے بعد ایک اور شخص گزرا حضور ﷺ نے اس (اپنے پاس بیٹھنے والے) کو فرمایا اس کے بارے میں تیری کیا رائے ہے ؟ اس نے کہا یہ شخص فقراء مسلمین سے ہے ۔ یا رسول اللہ ! اور اس قسم کا شخص ہے اگر کہیں پیغام نکاح دے تو وہ پیغام قبول نہ ہو ، اگر سفارش کرے تو مسترد ہوجائے ، اگر بات کرے تو سنی نہ جائے ، حضور ﷺ نے فرمایا یہ ایک (جو بظاہر بےحیثیت ہے) اس (صاحب حیثیت) جیسوں سے اگر زمین بھی بھر جائے تو بھی یہ افضل و اشرف ہے (آیت)” واللہ یرزق من یشاء بغیر حساب ‘ ‘ ۔ بہت بےانداز کیونکہ ہر وہ چیز جو تحت الحساب ہو پس وہ قلیل ہے ، اس فرمان الہی سے مراد خداوندی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے جس پر چاہتا ہے وسعت فرماتا ہے ، حضرت ضحاک (رح) فرماتے ہیں ہیں (آیت)” من غیر حساب “ کا معنی ہے بغیر کسی تاوان اور گرفت کے ، دنیا میں رزق دیتا ہے اور اس کا آخرت میں حساب نہیں کرتا اور بعض نے کہا ہے کہ بغیر حساب کا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہے جس پر چاہتا ہے تنگی کرتا ہے اور محتاج کو تھوڑا دیتا ہے پس نہ تو اس پر اعتراض کیا جاسکتا ہے اور نہ رزق دینے کے سلسلہ میں اس کا حساب کیا جاسکتا ہے اور نہ کہا جاسکتا ہے اے اللہ ! تو نے اس کو کیوںٗ دیا اور اسے محروم کیوں رکھا اور تو نے اس کو اس سے زیادہ کیوں دیا ؟ اور بعض نے کہا ہے کہ بغیر حساب کا معنی ہے (اس طرح دیتا ہے) کہ خزانہ خالی ہوجانے کا خوف نہیں رکھتا کہ وہ جو کچھ خرچ کرے اس کا حساب کرنے کا محتاج ہو اس لیے کہ دینے والے کی طرف سے حساب کرنا اس صورت میں ہوتا ہے جبکہ اس کو خزانہ ختم ہوجانے کا اندیشہ ہو ۔
Ayah 2:213

كَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً١۫ فَبَعَثَ اللّٰهُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١۪ وَ اَنْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِیَحْكُمَ بَیْنَ النَّاسِ فِیْمَا اخْتَلَفُوْا فِیْهِ١ؕ وَ مَا اخْتَلَفَ فِیْهِ اِلَّا الَّذِیْنَ اُوْتُوْهُ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ۚ فَهَدَى اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَا اخْتَلَفُوْا فِیْهِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 2:213 in the Quran reader

(پہلے تو سب) لوگوں کا ایک ہی مذہب تھا (لیکن وہ آپس میں اختلاف کرنے لگے) تو خدا نے (ان کی طرف) بشارت دینے والے اور ڈر سنانے والے پیغمبر اور ان پر سچائی کے ساتھ کتابیں نازل کیں تاکہ جن امور میں لوگ اختلاف کرتے تھے ان کا ان میں فیصلہ کر دے اور اس میں اختلاف بھی انہیں لوگوں نے کیا جن کو کتاب دی گئی تھی باوجود یکہ انکے پاس کھلے ہوئے احکام آچکے تھے (اور یہ اختلاف انہوں نے صرف) آپس کی ضد سے کیا، تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھا دی اور خدا جس کو چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھا دیتا ہے

(تفسیر) 213۔: (آیت)” کان الناس امۃ واحدہ “ ایک دین پر تھے حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں اس سے مراد صرف حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں کہ وہ امت واحدہ تھے حضرت مجاہد (رح) نے فرمایا کہ ایک آدم کو لفظ جمع (امۃ) سے ذکر کیا گیا کیونکہ وہ نسل انسانی کی بنیاد اور ابو البشر ہیں ، پھر اللہ تعالیٰ نے اس سے حضرت حوا کو پیدا فرمایا ، پھر ان دونوں سے انسانوں کو پھیلایا ، پس وہ پھیل گئے اور سب مسلمان تھے یہاں تک کہ ھابیل قتل کیا گیا ، پس انہوں نے اختلاف کیا (آیت)” بعث اللہ النبیین “ حضرت حسن (رح) اور حضرت عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ لوگ وفات آدم سے بعثت نوح (علیہ السلام) تک ایک امت تھے ملت کفر پر تھے جانوروں کی مانند پس اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) اور باقی نبیوں کو بھیجا ، حضرت قتادہ (رح) اور حضرت عکرمہ (رح) فرماتے ہیں کہ لوگ حضرت آدم (علیہ السلام) کے وقت سے بعثت نوح (علیہ السلام) تک اور ان دونوں کے درمیان دس زمانے ہیں یہ سب ایک ہی شریعت حق و ہدایت پر قائم تھے ، پھر زمانہ نوح (علیہ السلام) میں انہوں نے اختلاف کیا ، پس ان کی طرف اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کو بھیجا ، پس حضرت نوح (علیہ السلام) پہلے نبی (تشریعی) تھے جو مبعوث ہوئے اور پھر ان کے بعد نبیوں کا سلسلہ شروع ہوا ۔ کلبی (رح) کہتے ہیں امت واحدہ سے مراد کشتی نوح (علیہ السلام) کے افراد مراد ہیں ، جو سب کے سب مؤمن تھے ، پھر حضرت نوح (علیہ السلام) کی وفات کے بعد انہوں نے اختلاف کیا ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کی گئی ہے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ لوگ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانے میں امت واحدہ تھے کہ سب کے سب کافر تھے ، پس اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور باقی نبیوں کو بھیجا اور کہا گیا ہے کہ پورا عرب امت واحدہ یعنی دین ابراہیم (علیہ السلام) پر قائم تھا ، یہاں تک کہ عمرو بن لحی لعنۃ اللہ نے دین ابراہیمی کو بدل ڈالا ۔ ابوالعالیہ سے روایت کی گئی ہے وہ ابی بن کعب ؓ سے روایت کرتے ہیں جب سارے انسان حضرت آدم (علیہ السلام) کی پیٹھ سے نکال کر حضرت آدم (علیہ السلام) پر پیش کیے گئے اور ان سے اللہ تعالیٰ اللہ کی بندگی کا اقرار لیا گیا سب کے سب امت واحدہ (کل کے کل مسلمان) تھے لوگ اس دن کے علاوہ کبھی بھی امت واحدہ نہیں بنے ، پھر حضرت آدم (علیہ السلام) کے بعد انہوں نے اختلاف کیا اس کی نظر سورة یونس میں ہے (آیت)” وما کان الناس الا امۃ واحدہ فاختلفوا فبعث اللہ النبیین “ انبیاء کرام (علیہم السلام) کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار ہوئے ، ان میں سے رسولوں کی تعداد تین سو تیرہ تھی اور قرآن پاک میں جن کے نام مذکور ہیں وہ اٹھائیس ہیں ، (مبشرین) ثواب کی خوشخبری دینے والے ہر اس شخص کو جو ایمان لایا اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی ” ومنذرین “ عذاب سے ڈرانے والے ہر اس شخص کو جس نے کفر کیا اور نافرمانی کی (آیت)” وانزل معھم الکتاب “ کتابیں اس کی تقدیر عبارت یوں ہے ان میں سے ہر ایک کے ساتھ کتاب نازل کی ۔ ” بالحق “ عدل اور سچائی کی ساتھ (آیت)” لیحکم بین الناس “ ابو جعفر (رح) نے ” لیحکم “ یاء کی پیش اور کاف کی زبر کے ساتھ یہاں پڑھا اور سورة آل عمران کے اول میں اور سورة نور کی دونوں جگہوں میں کیونکہ درحقیقت کتاب فیصلہ نہیں کرتی بلکہ کتاب کے ذریعہ فیصلہ کیا جاتا ہے اور عاصم نے یحکم یاء کی زبر اور کاف کی پیش کے ساتھ پڑھا ہے یعنی کتاب فیصلہ کرے قدرے کلام میں وسعت (مجازی) کے ساتھ اور یہ ایسا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت)” ھذا کتابنا ینطق علیکم بالحق “ (ہماری یہ کتاب تم پر حق کے ساتھ بولتی ہے) اور بعض نے کہا ہے کہ اس کا معنی ہے تاکہ ہر نبی اپنی کتاب کے ساتھ فیصلہ کرے (آیت)” فیما اختلفوا فیہ وما اختلف فیہ “ کتاب میں (اختلاف نہ کیا) (آیت)” الا الذین اوتوہ “ ان لوگوں نے اختلاف کیا جو وہ کتاب دیئے گئے تھے (آیت)” من بعد ما جاء تھم البینات “ ۔ یعنی تورات و انجیل کے احکام ، فراء (رح) فرماتے ہیں ان کے اختلاف کے دو معنی ہیں ایک معنی یہ کہ بعض نے بعض کی کتاب کا انکار کردیا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” ویقولون نؤمن ببعض ونکفر ببعض “ ، دوسرا معنی اختلاف کا یہ ہے کہ انہوں نے اللہ کی کتاب کی تحریف کی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” یحرفون الکلم عن مواضعہ “ اور کہا گیا ہے کہ آیت محمد کریم ﷺ اور آپ ﷺ کی کتاب کی طرف راجع ہے کہ جس میں اہل کتاب نے اختلاف کیا (آیت)” من بعد ما جاء تھم البینات “ اس سے مراد حضور ﷺ کا وہ بیان ہے جو ان کی کتابوں میں موجود تھا ، ” بغیا “ ظلم اور حسد کے طور پر ” بینھم فھدی اللہ الذین امنوا لما اختلفوا فیہ “ اس کی طرف جس میں انہوں نے اختلاف کیا تھا (آیت)” من الحق باذنہ “ اپنے علم میں اور ان میں اپنے ارادہ کے ساتھ اس آیت کے بارے میں ابن زید ؓ فرماتے ہیں انہوں نے قبلہ میں اختلاف کیا ۔ پس بعض ان میں وہ ہیں جو مشرق کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے ہیں اور بعض وہ جو مغرب کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے ہیں اور بعض وہ جو بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے ہیں پس اللہ تبارک وتعالیٰ نے ہمیں ہدایت فرمائی اور کعبہ شریف کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے کا حکم دیا اسی طرح انہوں نے روزوں میں اختلاف کیا ، پس اللہ تبارک وتعالیٰ نے ہمیں رمضان شریف کے روزوں کی رہنمائی فرمائی ، انہوں نے دنوں میں اختلاف کیا (کہ کون سا دن ہفتہ میں معظم ہے) پس یہود نے ہفتہ کا دن لے لیا اور عیسائیوں نے اتوار کے دن کا انتخاب کیا ، پس اللہ تعالیٰ نے ہمیں جمعہ مبارکہ کی رہنمائی فرمائی ، انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) میں اختلاف کیا ، یہود نے کہا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہودی تھے ، عیسائیوں نے کہا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نصرانی تھے ، پس اللہ تعالیٰ نے ہم کو اس میں سے حق کی طرف رہنمائی فرمائی انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) میں اختلاف کیا ، پس یہود نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بہتان محض کا نشانہ بنایا اور نصاری نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو معبود قرار دیا ، اللہ تعالیٰ نے ہم کو حق و ہدایت کی طرف رہنمائی (آیت)” واللہ یھدی من یشاء الی صراط مستقیم “۔
Ayah 2:214

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ١ؕ مَسَّتْهُمُ الْبَاْسَآءُ وَ الضَّرَّآءُ وَ زُلْزِلُوْا حَتّٰى یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ Open ayah 2:214 in the Quran reader

کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ (یونہی) بہشت میں داخل ہوجاؤ گے اور ابھی تم کو پہلے لوگوں کی سی (مشکلیں) تو پیش آئی ہی نہیں۔ ان کو (بڑی بڑی) سختیاں اور تکلیفیں پہنچیں اور وہ (صعو بتوں میں) ہِلا ہلا دیئے گئے یہاں تک کہ پیغمبر اور مومن لوگ جو ان کے ساتھ تھے سب پکار اٹھے کہ کب خدا کی مدد آئے گی ؟ دیکھو خدا کی مدد (عن) قریب (آیا چاہتی) ہے۔

(تفسیر) 214۔: (آیت)” ام حسبتم ان تدخلوا الجنۃ “ حضرت قتادہ (رح) اور سدی (رح) کہتے ہیں یہ آیت کریمہ غزوہ خندق کے موقع پر نازل ہوئی ، مسلمانوں کو مشقت اور سخت خوف اور سردی اور تنگدستی اور مختلف قسم کی تکلیفیں پہنچیں ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت)” وبلغت القلوب الحناجر “ (کہ دل شدت غم کے باعث گلے تک آگئے) اور بعض نے کہا ہے کہ یہ آیت کریمہ جنگ احد کے موقع پر نازل ہوئی ۔ حضرت عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ جب حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو انہیں سخت تکلیف کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ وہ بغیر مال کے نکلے تھے اور اپنے گھر بار اور مال ومتاع مشرکوں کے ہاتھوں چھوڑ آئے تھے اور (ان چیزوں پر) انہوں نے اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی رضا کو ترجیح دی تھی ، یہود نے رسول اللہ ﷺ کی عداوت کو ظاہر کیا اور (منافق) قوم نے اپنی منافقت کو چھپایا ، پس اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے دلوں کو خوش کرنے کے لیے یہ آیت نازل فرمائی ، (آیت)” ام حسبتم “ اس کا معنی ہے تم نے گمان کیا فراء (رح) کا کہنا ہے کہ میم صلہ ہے زجاج (رح) کہتے ہیں ” ام حسبتم “ کا معنی ہے ” بل حسبتم “ اور آیت کا معنی ہے کیا تم نے اے مسلمانو ! یہ گمان کرلیا ہے کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ گے ” ولما یاتکم “ ابھی تمہیں نہیں پہنچا (ما) صلہ ہے ۔ (آیت)” مثل الذین خلوا “ ان لوگوں جیسے حالات جو لوگ گزر گئے ، (آیت)” من قبلکم “ (تم سے پہلے) نبیوں اور ایمان والوں میں سے (آیت)” مستھم الباسائ “ فقر ، شدت اور دیگر مصائب ” والضراء “ مرض اپاہج پن اور دائمی بیماری (آیت)” وزلزلوا “ قسم وقسم کی مصیبتوں تکلیفوں کے ساتھ جھنجھوڑے گئے اور خوفزدہ کیے گئے (آیت)” حتی یقول الرسول والذین معہ حتی نصر اللہ “ ان کو ہمیشہ تکلیف رہی حتی کہ انہوں نے نصرت خداوندی کو مؤخر سمجھا یعنی دیر سے آنے والی سمجھا ۔ (آیت)” الا ان نصر اللہ قریب “ نافع (رح) نے (آیت)” حتی یقول الرسول “ یقول کی لام کو پیش کے ساتھ پڑھا اس کا معنی ہے ” حتی قال الرسول “ اور جب وہ فعل جو ” حتی “ کے قریب ہو معنی کے لحاظ سے ماضی اور لفظ مستقبل کا صیغہ ہو تو تجھے اختیار ہے دونوں وجہوں کا کہ اس کو پیش دے یا اگر نصب دے تو یہ ظاہر کلام کی بنا پر ہوگی ، کیونکہ ” حتی “ فعل مستقبل کو زبر دیتا ہے اور پیش اس لیے کہ اس کا معنی ماضی ہے اور ” حتی “ ماضی میں عمل نہیں کرتا ۔
Ayah 2:215

یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَ١ؕ۬ قُلْ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَیْرٍ فَلِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ Open ayah 2:215 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ (خدا کی راہ میں) کس طرح کا مال خرچ کریں۔ کہہ دو کہ (جو چاہو خرچ کرو لیکن) جو مال خرچ کرنا چاہو وہ (درجہ بدرجہ اہل استحقاق یعنی) ماں باپ کو اور قریب کے رشتہ داروں کو اور یتیموں کو اور محتاجوں کو اور مسافروں کو (سب کو دو ) اور جو بھلائی تم کرو گے خدا اس کو جانتا ہے

(تفسیر) 215۔: (آیت)” یسئلونک ماذا ینفقون “ یہ آیت کریمہ حضرت عمر بن جموع ؓ کے بارے میں نازل ہوئی جو کہ بہت بوڑھے مالدار تھے ، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم کیا کچھ صدقہ کریں اور کس پر خرچ کریں ، پس اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت)” یسئلونک ماذا ینفقون “ اللہ تعالیٰ کے قول ” ماذا “ میں اعراب کے لحاظ سے وہ وجہیں ہیں ۔ (1) ایک وجہ تو یہ ہے کہ اس کے اعراب کا محل زبر ہے بوجہ قول خداوندی ” ینفقون “ کے تقدیر عبارت ہوگی ۔ ” ای شیء ینفقون “ ماذا بمعنی ” ای شی “ کے ” ینفقون “ کا مفعول ہوگا اور اعراب کی دوسری وجہ ہے کہ بوجہ ماء کے رفع ہوگی ، اس کا معنی ہوگا ” ماالذی ینفقون “ ؟ کہ کیا کچھ خرچ کریں ۔ (آیت)” قل ما انفقتم من خیر “ خیر سے مراد مال ہے (آیت)” فللوالدین والاقربین والیتمی والمسکین وابن السبیل، وما تفعلوا من خیر فان اللہ بہ علیم “۔ اس کے ساتھ تمہیں بدلہ دے ، اہل تفسیر نے کہا یہ (خرچ کرنے کا طریقہ کار) زکوۃ کی فرضیت سے پہلے تھا ، پس زکوۃ کی وجہ منسوخ کردیا گیا ۔
Ayah 2:216

كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِتَالُ وَ هُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ١ۚ وَ عَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْئًا وَّ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ عَسٰۤى اَنْ تُحِبُّوْا شَیْئًا وَّ هُوَ شَرٌّ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:216 in the Quran reader

(مسلمانو ! ) تم پر (خدا کے راستے میں) لڑنا فرض کردیا گیا ہے وہ تمہیں ناگوار تو ہوگا مگر عجب نہیں کہ ایک چیز تم کو بری لگے اور وہ تمہارے حق میں بھلی ہو اور عجب نہیں کہ ایک چیز تم کو بھلی لگے اور وہ تمہارے لیے مضر ہو اور (ان باتوں کو) خدا ہی بہتر جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

216۔ (آیت)” کتب علیکم القتال “۔ تم پر جہاد فرض کیا گیا ، اس آیت کے حکم میں علماء کرام نے اختلاف کیا ، حضرت عطاء (رح) فرماتے ہیں جہاد نفلی ہے اور آیت سے مراد اصحاب رسول اکرم ﷺ نہ کہ کوئی اور اسی طرح امام ثوری گئے ہیں جن حضرات کا یہ مؤقف ہے ان کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے (آیت)” فضل اللہ المجاھدین فاموالھم وانفسھم علی القاعدین درجہ وکلا وعداللہ حسنی “ (اگر جہاد نفل نہ ہوتا بلکہ فرض ہوتا) اور اگر جہاد سے بیٹھ رہنے والا تارک فرض ہوتا تو جہاد کے بعد حسنی کا کوئی درجہ نہ ہوتا اور بعض حضرات نے ظاہر آیت کے مطابق مؤقف اختیار کیا اور کہا جہاد تمام مسلمانوں پر قیامت تک فرض ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص مرگیا اور اس نے نہ تو جہاد کیا اور نہ ہی جہاد کا سوچا وہ شخص منافقت کے شعبہ پر مرگیا اور ایک قوم نے کہا اور اسی پر جمہور ہیں کہ بیشک جہاد فرض کفایہ ہے جب بعض (مسلمان) جہاد کے لیے اٹھ کھڑے ہوں تو باقیوں سے یہ فریضہ ساقط ہوجائے گا ، جیسا کہ نماز جنازہ اور سلام کا جواب (کہ جب اہل مجلس میں سے بعض سلام کا جواب دے دیں تو باقیوں پر جواب دینا واجب نہ ہوگا) حضرت زہری (رح) اور اوزاعی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں پر جہاد فرض کیا ہے ، اب ان کی مرضی جہاد کریں یا بیٹھ رہیں پس جو شخص جہاد کرے اس نے بہت اچھا کیا اور بیٹھ رہا پس وہ تیار شدہ (کمک) ہے اگر اس سے مدد طلب کی جائے تو اعانت کرتا ہے اور اگر اس کو جہاد کے لیے نکالا جائے تو نکل پڑتا ہے اور اگر اس کی ضرورت نہ ہو تو بیٹھا رہتا ہے ۔ (آیت)” وھو کرہ لکم “ ای شاق علیکم “ یعنی تم پر گراں ہے بعض اہل معانی نے فرمایا کہ کرہ سے مراد طبعی طور پر دور بھاگنا ہے کیونکہ اس میں مال کی مشقت اور طبیعت کی مشقت ہے اور جان کو خطرہ میں ڈالنا ہے ، یہ معنی نہیں کہ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو ناگوار سمجھا ، حضرت عکرمہ ؓ فرماتے ہیں کہ (آیت)” وھو کرہ لکم “ کا مفہوم صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ” سمعنا واطعنا “ کے کہنے سے منسوخ ہوگیا ، انہوں نے پہلے اس حکم کو ناگوار سمجھا پھر اسے محبوب سمجھا اور کہا ” سمعنا واطعنا “ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت)” وعسی ان تکرھوا شیئا وھو خیرلکم “ اس لیے کہ جہاد میں دو خوبیوں میں سے ایک خوبی یقینی ہے کامیابی مال غنیمت یا پھر شہادت اور جنت (آیت)” وعسی ان تحبوا شیائ “ جہاد سے بیٹھ رہنا ، (آیت)” وھو شرلکم “ کیونکہ اس میں غنیمت بھی فوت ہوجائے گی اور ثواب بھی نہ ملے گا ، (آیت)” واللہ یعلم وانتم لا تعلمون “ (آیت)” یسئلونک عن الشھر الحرام قتال فیہ “ اس آیت کریمہ کا سبب نزول یہ ہے کہ بیشک رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ بن جحش ؓ کو جو آپ کے پھوپھی زاد تھے جمادی الاخری میں غزوہ بدر سے دو ماہ پہلے پورے سترہ مہینہ کے اختتام پر بھیجا ۔ جوکہ آپ ﷺ کو مدینہ منورہ آئے ہوئے گزرے تھے اور حضرت عبداللہ بن جحش ؓ کے ساتھ آٹھ آدمی مہاجرین کے بھی بھیجے ۔ 1۔ حضرت سعد بن ابی وقاص زہری ؓ ۔ 2۔ عکاشہ بن محصن اسدی ؓ ۔ 3۔ عتبہ بن غزوان سلمی ؓ ۔ 4۔ ابوحنیفہ بن عتبہ بن ربیعہ ؓ ۔ 5۔ سہیل بن بیضاء ؓ ۔ 6۔ عامر بن ربیعہ ؓ ۔ 7۔ واقد بن عبداللہ ؓ ۔ 8۔ خالد بن بکیر ؓ ۔ اور ان کے امیر عبداللہ بن جحش ؓ کو خط لکھ دیا اور فرمایا اللہ تعالیٰ کے نام پر چل اور دو دن کی مسافت چلنے سے پہلے خط نہ دیکھنا ، پس جب (دو دن کی مسافت پر) نازل ہو تو خط کھول اور ساتھیوں پر اس کو پڑھ ۔ پھر جس مقصد کے لیے میں نے تجھے حکم دیا ہے اس کے لیے چل اور اپنے ساتھ چلنے کے لیے کسی ایک ساتھی کو بھی مجبور ہرگز نہ کر ، حضرت عبداللہ بن جحش ؓ دو دن چلے پھر اترے اور حضور ﷺ کا خط کھولا پس اس میں تھا بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ اما بعد پس اللہ تعالیٰ کی برکت کے مطابق چل ، اپنے تابعداروں سمیت حتی کہ تو بطن مکہ اترے وہاں قافلہ قریش کی انتظار کیجئے شاید کہ تو ہمارے لیے اس قافلہ سے خیر لائے ۔ جب حضرت عبداللہ ؓ نے خط دیکھا تو فرمایا ” سمعا وطاعۃ “ (حکم سنا اور مانا) پھر اپنے ساتھیوں کو وہ کچھ فرمایا (جس کا حکم تھا) اور فرمایا کہ حضور ﷺ نے مجھے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ میں تم سے کسی ایک کو مجبور کروں جو تم میں شہادت کا متمنی ہو ، پس وہ چلے اور جو ناگوار سمجھے پس وہ لوٹ جائے ، پھر حضرت عبداللہ ؓ چلے اور آپ کے ساتھ آپ کے ساتھی بھی چلے اور کوئی ایک بھی پیچھے نہ رہا ، پھر جب فرع سے اوپر معدن کے علاقہ میں پہنچے حجاز کی ایک جگہ جسے نجران کہا جاتا تھا ، وہاں حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ اور حضرت عتبہ بن عزوان ؓ نے اپنا ایک اونٹ گم کیا جس پر وہ باری باری سوار ہو رہے تھے تو یہ دونوں اس اونٹ کی تلاش میں پیچھے رہ گئے اور حضرت عبداللہ ؓ باقی ساتھیوں کو لے کر چلے ، یہاں تک کہ بطن نخلہ کے مقام میں پہنچے جو کہ مکہ مکرمہ اور طائف کے درمیان واقع ہے اسی اثناء میں قریش کا قافلہ گزرا جو کشمش اور دیگر سامان لیے ہوئے تھا اور دیگر طائف کی تجارت کا سامان لیے ہوئے تھا ، اس قافلہ میں عمرو بن الحضرمی ، حکم بن کیسان جو ہشام بن مغیرہ کا غلام تھا اور عثمان بن عبداللہ بن مغیرہ اس کا بھائی نوفل بن عبداللہ مغیرہ اس کا بھائی نوفل بن عبداللہ مخزومی تھے جب انہوں نے حضور ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو دیکھا تو ان سے ڈر گئے عبداللہ بن جحش ؓ نے فرمایا یہ لوگ تم سے خوفزدہ ہوگئے ہیں ایسا کرو کہ تم اپنے کسی ساتھی کا سر مونڈ دو اور وہ ان کے سامنے آئے تو ان میں حضرت عکاشہ ؓ کا سرمونڈ دیا اور ان کے سامنے ظاہر ہوئے قافلہ قریش کے لوگوں نے کہا یہ تو عمرہ والے لوگ ہیں تم پر کوئی خوف نہیں پس وہ مطمئن ہوگئے اور یہ جمادی الاخری کا آخری دن تھا حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کا خیال تھا کہ یہ دن جمادی الاخری کا ہے حالانکہ وہ دن رجب کا تھا ، پس قوم نے باہمی مشورہ کیا کہ اگر تم ان لوگوں کو رات تک چھوڑتے ہو تو حرمت والا مہینہ داخل ہوجائے گا ، پھر یہ لوگ تم سے محفوظ ہوجائیں گے پس انہوں نے بالاتفاق فیصلہ کیا ، پس واقد بن عبداللہ سہمی ؓ نے تیر مار کر عمر بن حضرمی کو قتل کر ڈالا ، پس ابن حضرمی مشرکین کا پہلا مقتول تھا ۔ اور وہ (واقد) ہجرۃ میں پہلا قاتل تھا ، حضور ﷺ نے ابن حضرمی کے قریشی ورثاء کو دیت ادا کردی ، یہ اس لیے کہ حضور ﷺ اور قریش کے درمیان دو سال کا معاہدہ تھا یہ مجاہد وغیرہ کہتے ہیں ، معاہدہ باہمی قتال نہ کرنے کا تھا حکم اور عثمان قید ہوگئے اور یہ اسلام میں پہلے قیدی تھے اور نوفل بھاگ گیا ، مؤمنین کرام ؓ اونٹ اور دو قیدی حضور ﷺ کے پاس مدینہ منورہ ہانک کر لائے ، قریش نے کہا کہ محمد ﷺ نے حرمت والے مہینہ کی حرمت پامال کی کہ اس میں خون بہایا اور مکہ میں رہنے والے مسلمانوں کو اس سلسلہ میں عار دلائی اور کہا او صابیو (کفار مسلمان ہونے والوں کو صابی کہتے تھے) کے گروہ تم نے حرمت والے مہینے بھی حلال کر ڈالے اور ان میں قتال کیا، حضور ﷺ کو یہ صورت حال پہنچی تو آپ ﷺ نے ابن جحش ؓ کو فرمایا کہ میں نے تم کو حرمت والے مہینہ (رجب) میں قتال کا حکم تو نہ دیا تھا ، اونٹ اور قیدی رک گئے اور حضور ﷺ نے ان میں سے کچھ بھی لینے سے انکار کردیا ، یہ بات سریہ پر (جو دستہ حضرت ابن جحش ؓ کی قیادت میں گیا تھا) گراں گزری انہوں نے گمان کیا کہ وہ بیشک ہلاک ہوگئے اور سخت نادم ہوئے انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ ہم نے ابن حضرمی کو قتل کیا پھر ہم نے شام کو رجب کا چاند دیکھا ، اب ہم کو معلوم نہیں کہ ہم نے ابن حضرمی کو رجب میں قتل کیا ہے یا جمادی الاخری میں۔ اس سلسلہ میں لوگوں نے بہت کچھ قیاس آرائیاں کیں پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل کی پس حضور ﷺ نے قافلہ کے اونٹوں کا سامان لے لیا اور اس میں سے خمس نکالا ، یہ اسلام میں حاصل ہونے والا پہلا خمس تھا اور باقی مال مجاہدین کے دستہ میں تقسیم فرما دیا ، یہ اسلام میں حاصل ہونے والی پہلی غنیمت تھی اور اہل مکہ نے اپنے دونوں قیدیوں حکم اور عثمان کے فدیہ کے سلسلہ میں کہلا بھیجا ۔ جوابا حضور ﷺ نے فرمایا ہم ان دونوں قیدیوں کو اپنے پاس رکھیں گے یہاں تک کہ ہمارے ساتھی سعد اور عتبہ ؓ آجائیں ۔ اگر وہ نہ آئے تو ہم ان دونوں کے بدلہ میں ان دو کو قتل کردیں گے ، تب دونوں یعنی سعد وعتبہ ؓ آگئے تو حضور ﷺ نے ان کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا ، بہرحال حکم بن کیسان تو اسلام لائے اور حضور ﷺ کے پاس مدینہ منورہ میں رہ گئے اور بئر معونہ میں شہید ہوئے اور عثمان بن عبداللہ مکہ مکرمہ واپس ہوئے اور وہاں حالت کفر میں فوت ہوگئے ، باقی رہے نوفل تو اس نے غزوہ خندق کے موقع پر اپنے گھوڑے کے پیٹ پر مارا تاکہ گھوڑا خندق میں داخل ہو تو نوفل گھوڑے سمیت خندق میں گرگیا ، اس طرح اللہ تعالیٰ نے اس کا خاتمہ کیا ، مشرکوں نے نوفل کے مراد جثہ کو پیسوں کے عوض حضور ﷺ سے طلب کیا تو حضور اقدس ﷺ نے فرمایا اسے لے جاؤ یہ خبیث الجثہ ہے اس کے عوض دیت کا لیا گیا پیسہ بھی خبیث ہے پس یہ واقعہ اس آیت کے نزول کا سبب ہے ۔
Ayah 2:217

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیْهِ١ؕ قُلْ قِتَالٌ فِیْهِ كَبِیْرٌ١ؕ وَ صَدٌّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ كُفْرٌۢ بِهٖ وَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ۗ وَ اِخْرَاجُ اَهْلِهٖ مِنْهُ اَكْبَرُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ وَ الْفِتْنَةُ اَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ١ؕ وَ لَا یَزَالُوْنَ یُقَاتِلُوْنَكُمْ حَتّٰى یَرُدُّوْكُمْ عَنْ دِیْنِكُمْ اِنِ اسْتَطَاعُوْا١ؕ وَ مَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَیَمُتْ وَ هُوَ كَافِرٌ فَاُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:217 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ لوگ تم سے عزت والے مہینوں میں لڑائی کرنے کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہہ دو کہ ان میں لڑنا بڑا (گناہ) ہے اور خدا کی راہ سے روکنا اور اس سے کفر کرنا اور مسجد حرام (یعنی خانہ کعبہ میں جانے) سے (بند کرنا) اور اہل مسجد کو اس میں سے نکال دینا (جو یہ کفار کرتے ہیں) خدا کے نزدیک اس سے بھی زیادہ (گناہ) ہے اور فتنہ انگیزی خونزیری سے بھی بڑھ کر ہے اور یہ لوگ ہمیشہ تم سے لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ اگر مقدور رکھیں تو تم کو تمہارے دین سے پھیر دیں اور جو کوئی تم میں سے اپنے دین سے پھر (کر کافر ہو) جائے گا اور کافر ہی مرے گا تو ایسے لوگوں کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں برباد ہوجائیں گے اور یہی لوگ دوزخ (میں جانے) والے ہیں جس میں ہمیشہ رہیں گے

(تفسیر) 217۔: (آیت)” یسئلونک عن الشھر الحرام “ ۔ رجب کے بارے میں رجب کو شھر حرام حرمت کا مہینہ اس لیے کہا گیا کہ اس میں قتال حرام ہے ، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ” قتال فیہ “ اس ماہ میں قتال کرنے سے متعلق (قل) یا محمد ﷺ فرمادیجئے (آیت)” قتل فیہ کبیر “ اس میں لڑائی عظیم ہے (یعنی بڑا گناہ ہے) یہ کلام یہاں تک مکمل ہوگئی ، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے نئے سرے سے کلام کا آغاز فرمایا (آیت)” وصد عن سبیل اللہ “ اے مشرکو ! تمہارا مسلمانوں کو اسلام سے روکنا (آیت)” وکفر بہ “ اور تمہارا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنا (آیت)” والمسجد الحرام ای مسجد الحرام “ کے ساتھ (کفر کرنا) اور کہا گیا ہے کہ ” وصدکم عن المسجد الحرام “ یعنی تمہارا مسجد حرام سے روکنا گویا ” والمسجد الحرام “ کا تعلق (آیت)” صد عن سبیل اللہ “ سے ہے ۔ (آیت)” واخراج اھلہ “ اخراج اہل المسجد مسجد والوں کو نکالنا ” منہ اکبر “ اس مسجد سے بوجھ (گناہ) کے لحاظ سے بڑا ہے ، ” عنداللہ والفتنۃ “ شرک جس پر تم ہو ” اکبر من القتل “ (یہ چیزیں) ابن حضرمی کو حرمت والے مہینہ میں قتل کرنے سے بھی بڑا گناہ ہیں پس جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو عبداللہ بن انیس نے مؤمنین مکہ کی طرف لکھا کہ جب تمہیں مشرکین مکہ حرمت والے مہینہ میں لڑائی کے سلسلہ میں عار دلائیں تو تم ان مشرکوں کو کفر اور رسول اللہ ﷺ کو مکہ سے نکالنے اور مسلمانوں کو بیت الحرام میں داخل ہونے سے منع کرنے کے ساتھ عار دلاؤ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت)” ولا یزالون “ یعنی مشرکیں مکہ (ہمیشہ رہیں گے) یہ ” لایزالون “ ایسا فعل ہے جس کی مصدر نہیں ہے جیسا کہ عسی وہ فعل ہے جس کی مصدر نہیں ، (آیت)” یقاتلونکم “ (تم سے لڑتے رہیں گے) اے گروہ مؤمنین (آیت)” حتی یردوکم تمہٰں پھیردیں (آیت)” عن دینکم ان استطاعوا ومن یرتدد منکم عن دینہ فیمت “ فیمت کی جزم جزم نسق یعنی ترتیب عطف کی جزم ہے جس کا تعلق ” یرتدد “ سے ہے ۔ وھو کافر فاولئک حبطت “ باطل ہوگئے، ” اعمالھم “ ان کے نیک اعمال (آیت)” فی الدینا “ والاخرۃ واولئک اصحاب النار ھم فیھا خالدون “۔ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کا یہ دستہ جو حضرت عبداللہ بن جحش کی قیادت میں گیا تھا اس میں شامل حضرات نیحضور اقدس ﷺ کی خدمت میں عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا ہم کو اس سلسلہ میں اجروثواب بھی ملے گا اور کیا یہ ہمارا سفر سفر جہاد کہلائے گا ؟ پس اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ۔
Ayah 2:218

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۙ اُولٰٓئِكَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:218 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور خدا کے لئے وطن چھوڑ گئے اور (کفار سے) جنگ کرتے رہے وہی خدا کی رحمت کے امید وار ہیں اور خدا بخشنے والا (اور) رحمت کرنے والا ہے

218۔ (آیت)” ان الذین امنوا والذین ھاجروا “ جنہوں نے خویش واقربا کو اور مال ومتاع اور گھروں کو چھوڑا ” وجاھدودا “ مشرکوں سے جہاد کیا (فی سبیل اللہ) اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں اللہ تعالیٰ نے اس سریہ (دستہ) کے اس عمل کو جہاد قرار دیا ۔ (آیت)” اولئک یرجون رحمۃ اللہ “ اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ بیشک یہ حضرات اللہ تعالیٰ کی رحمت کے امیدوار ہیں۔ (آیت)” واللہ غفور رحیم “۔
Ayah 2:219

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ١ؕ قُلْ فِیْهِمَاۤ اِثْمٌ كَبِیْرٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ١٘ وَ اِثْمُهُمَاۤ اَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا١ؕ وَ یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَ١ؕ۬ قُلِ الْعَفْوَ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَۙ Open ayah 2:219 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ لوگ تم سے شراب اور جوئے کا حکم دریافت کرتے ہیں کہہ دو کہ ان میں نقصان بڑے ہیں اور لوگوں کے لئے کچھ فائدے بھی ہیں مگر ان کے نقصان فائدوں سے کہیں زیادہ ہیں اور یہ بھی تم سے پوچھتے ہیں کہ (خدا کی راہ میں) کونسا مال خرچ کریں کہہ دو کہ جو ضرورت سے زیادہ ہو، اس طرح خدا تمہارے لئے اپنے احکام کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سوچو

(تفسیر) 219۔: (آیت)” یسئلونک عن الخمر والمیسر “۔ یہ آیت کریمہ سیدنا ، حضرت عمر بن خطاب ؓ اور حضرت معاذ بن جبل ؓ اور چند ایک انصار صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے بارے میں نازل ہوئی ، یہ حضرات حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا یا رسول اللہ ﷺ ہمیں شراب اور جوئے کے بارے میں فتوی دیجئے کیونکہ یہ چیزیں عقل کو لے جانے والی اور مال کو سلب کرنے والی ہیں، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی اور یہ قول مکمل طور پر حرمت شراب سے متعلق ہے جیسا کہ مفسرین نے فرمایا ہے کہ مکہ مکرمہ میں شراب سے متعلق چار آیتیں نازل ہوئیں اور وہ یہ ہیں (آیت)” ومن ثمرات النخیل والاعناب تتخذون منہ سکرا ورزقا “ تو مسلمان پیتے تھے اور ان دنوں یہ مسلمانوں کے لیے حلال تھی ، پر یہ آیت کریمہ حضرت عمر ؓ اور معاذ بن جبل ؓ کے سوال پر نازل ہوئی (آیت)” قل فیھما اثم کبیر “ پس جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے شراب کی حرمت کے بارے میں پیش رفت فرمائی ہے تو کچھ لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ” اثم کبیر “ کے مطابق شراب پینا چھوڑ دیا اور کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ” و منافع للناس “ کے مطابق پیتے رہے، یہاں تک کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ نے ایک دعوت تیار کی اور لوگوں کو اس دعوت میں بلایا ، اس دعوت میں ان کو شراب پیش کی گئی ، ان حضرات نے پی اور حالت نشہ میں ہوگئے اور نماز مغرب کا وقت آگیا ، انہوں نے اپنے میں سے ایک شخص کو آگے کیا تاکہ ان کو نماز پڑھائے تو اس امام نے سورة (آیت)” قل یایھا الکافرون “ تلاوت کی اور یوں پڑھا ؛” قل یایھا الکافرون اعبد ماتعبدون “ اسی طرح آخری سورة ” لا “ کو حذف کر کے پڑھا پس اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت)” یایھا الذین امنوا لا تقربوا الصلوۃ وانتم سکاری حتی تعلموا ما تقولون “ کہ اے ایمان والو حالت نشہ میں نماز کے قریب بھی نہ جاؤ یہاں تک کہ جو کچھ کہو اسے جان لو۔ اس آیت کریمہ کی رو سے اوقات صلوۃ میں نشہ حرام کردیا گیا ، پھر جب یہ آیت (آیت)” لا تقربوا الصلوۃ “ نازل ہوئی تو بعض لوگوں نے شراب پینا چھوڑ دیا اور کہنے لگے کہ اس چیز میں کیا خیر ہوگی جو ہمارے اور نماز کے درمیان حائل ہوجائے اور بعض لوگ اوقات نماز میں شراب نہ پیتے اور باقی اوقات میں پی لیتے ، یہاں تک کہ کوئی بعد نماز عشاء شراب پیتا اور صبح تک نشہ اترچکا ہوتا اور نماز صبح کے بعد پیتا اور نماز ظہر تک ہوش میں آچکا ہوتا ، حضرت عتبان بن مالک ؓ نے ایک دعوت میں لوگوں کو بلایا جن میں حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ بھی تھے اور ان حضرات کے لیے حضرت عتبان ؓ نے اونٹ کا سر بھونا ، پس انہوں نے کھایا اور شراب بھی پی یہاں تک کہ شراب نے ان میں خوب اثر کیا پھر ان کے بعد وہ آپس میں فخر کرنے لگے اور اشعار پڑھنے لگے تو حضرت سعد ؓ نے ایک قصیدہ پڑھا جس قصیدہ میں انصار کی مذمت کی گئی تھی اور اپنی قوم کے فخر کا بیان تھا تو ایک انصاری نے حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کو اونٹ کے جبڑے کی ہڈی ماری اور حضرت سعد ؓ کا سر پھوڑ دیا ، حضرت سعد ؓ نے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر انصاری کی شکایت کی حضرت عمر ؓ نے کہا ” اللھم بین لنا فی الخمر بیانا شافیا “ کہ اے اللہ ! شراب کے بارے میں بیان شافی یعنی تسلی بخش بیان ارشاد فرمائیے ، پس اللہ تعالیٰ نے شراب کی حرمت سورة مائدہ میں نازل فرمائی الی قولہ (آیت)” فھل انتم منتھون “ اور یہ غزوہ احزاب کے چند روز بعد کی بات ہے، حضرت عمر ؓ نے فرمایا ” انتھینا یا رب “ یا اللہ ہم رک گئے ، حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ شراب حرام ہوگئی اور ان دنوں عرب والوں کے لیے اس سے بڑھ کا کوئی عیاشی نہ تھی ۔ اور شراب کی حرمت سے بڑھ کر عرب والوں کے لیے اور کوئی چیز حرمت کے لحاظ سے سخت نہ تھی ، حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں جب سورة مائدہ میں شراب کی حرمت نازل ہوئی تو ہم شراب کے مٹکے لے کر نکلے، ہم میں میں سے بعض نے اپنا مٹکا توڑ ڈالا اور بعض نے اپنا مٹکا پانی اور مٹی سے دھوڈالا ، گویا مدینہ منورہ کی گلیاں چھوڑ دی گئیں، یعنی ان میں شراب بہا کر کچھ مدت توجہ نہ کی گئی پھر جب بارش ہوئی تو ان میں شراب کی رنگت ظاہر ہوئی اور شراب کی بدبو مہ کی ، حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ شراب کو عربی میں خمر اس لیے کہتے ہیں کہ وہ اس کو دندان میں چھوڑ دیتے حتی کہ وہ خمیر بن جاتی اور متغیر ہوجاتی ، ابن مسیب ؓ سے مروی ہے کہ خمر کو خمر اس لیے کہتے ہیں کہ اسے چھوڑ دیا جاتا یہاں تک کہ اس کا رنگ صفا ہوجاتا اور تلچھٹ بیٹھ جاتی ۔ حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ میرے لیے اور کوئی شراب نہ تھی سوائے تمہاری کھجور کے شراب کے اور میں ابوطلحہ اور فلاں فلاں کو کھڑا پلا رہا تھا ، اچانک ایک آدمی آیا جس نے کہا شراب حرام ہوگئی ، پس انہوں نے کہا اے انس ؓ یہ مٹکے انڈیل دے ، حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد نہ تو انہوں نے شراب کے بارے میں اختلاف کیا ہے ، ایک قوم کہتی ہے کہ یہ انگور یا تازہ کھجور کا نچوڑ ہے جو کہ آگ پر پکائے بغیر سخت ہوجائے اور جوش مارے ، آئمہ کرام کا اس شراب کے بارے میں اتفاق ہے کہ یہ شراب نجس ہے پلید ہے اس کے پینے والے کو حد لگائی جائے اور اس کا پینے والا فاسق ہے اور اس کو حلال سمجھنے والے کو کفر کی طرف منسوب کیا جائے اور سفیان ثوری (رح) ، ابوحنیفہ (رح) اور ایک جماعت کا مؤقف یہ ہے کہ اس کے علاوہ کوئی اور شراب حرام نہیں ہے اور اس کے علاوہ کسی اور شئی سے بنائی ہوئی شراب کو حرام نہ کہا جائے گا ، مثلا گندم سے، جو سے جوار سے شہد سے اور فانیذ (فانیذ ایک قسم کا حلوہ ہے) سے بنائی گئی شراب حرام نہیں مگر یہ کہ نشہ آور ہو ۔ اگر نشہ لائے تو حرام ہوگی اور انہوں نے کہا جب انگور وتازہ کھجور کا رس اتنا پکایا جائے کہ اس کا آدھا چلا جائے تو وہ حلال ہے لیکن ہے مکروہ اگر اتنا پکایا جائے حتی کہ اس کی دو تہائی چلی جائے انہوں نے کہا وہ حلال ہے ا س کا پینا جائز ہے مگر یہ کہ اس سے نشہ حرام ہے ۔ یہ حضرات اس روایت سے دلیل پکڑتے ہیں جو کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے اپنے بعض عمال کو لکھا کہ مسلمانوں کا رزق طلاء سے ہے جس کا (پکانے سے) دو تہائی حصہ چلا جائے اور ایک تہائی باقی رہ جائے ، ابو عبیدہ اور معاذ ؓ کی رائے ہے کہ طلاء جس کا تہائی باقی رہ جائے پینا جائز ہے ایک قوم کا کہنا ہے جب رس پکایا جائے معمولی درجہ کا پکانا وہ حلال ہوجاتا ہے اور یہ اسماعیل بن عتبہ کا قول ہے ، اکثر اہل علم کا مؤقف یہ ہے کہ جس مشروب کا اکثر نشہ آور ہو وہ شراب ہے اور اس کا تھوڑا پینا بھی حرام ہے اس کے پینے والے کو حد لگائی جائے گی ۔ انہوں نے اس روایت سے دلیل دی ہے جو ابو سلمہ نے ام المؤمنین سید طاہرہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت کی ، وہ فرماتی ہیں کہ حضور اقدس ﷺ سے ” بتع “ کا معنی ” نبیذ العسل “ یا عرق انگور کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا جو مشروب نشہ لائے وہ حرام ہے ۔ حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کی کہ بیشک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (جس مشروب) کا زیادہ حصہ نشہ دے اس کا تھوڑا بھی حرام ہے ۔ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا ہر نشہ آور حرم ہے جس نے دنیا میں شراب پی اور وہ بغیر توبہ کے مرگیا جبکہ وہ شراب کا رسیا تھا تو وہ اسے (شراب طہور سے جنت والی) آخرت میں نہ پئے گا ۔ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ نے منبر رسول پر خطبہ دیا پس فرمایا بیشک شراب کا حرام ہونا نازل ہوچکا ہے اور یہ شراب پانچ چیزوں سے ہے انگور ، کھجور، گندم، جو ، شہد ، اور خمر (شراب) وہ ہے جو عقل کو ڈھانپ لے ، شعبی نے نعمان بن بشیر ؓ سے روایت کی وہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا بیشک انگور سے شراب ہے ، کھجور سے شراب ہے ، شہد سے شراب ہے، گندم سے شراب ہے جو سے شراب ہے ، پس ثابت ہوا کہ شراب صرف وہ نہیں جو انگور سے بنائی جائے یا کھجور سے بنائی جائے ۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ میں نے فلاں سے شراب کی بو محسوس کی ہے اور دعوی کیا وہ شراب طلاء ہے (یعنی جو نچوڑ پکایا جائے اور اس کا تہائی حصہ چلا جائے) میں پوچھتا ہوں اس نے کون سے شراب پی ہے ؟ اگر وہ شراب نشہ آور ہے تو میں اس کو کوڑے لگاؤں گا پس حضرت عمر ؓ نے اس شخص کو مکمل حد لگائی ۔ اور جو کچھ کہ روایت کی گئی ہے حضرت عمر ؓ اور ابو عبیدہ ؓ اور معاذ ؓ سے طلاء کے بارے میں پس وہ طلاء ہے جو پکایا جائے حتی کہ نشہ لانے سے نکل جائے یعنی نشہ آور نہ ہو ۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے باذق (یہ وہ نچوڑ ہے جسے تھوڑا سا پکایا جاتا ہے یہ بھی نشہ آور ہوتا ہے) کے بارے میں پوچھا تو حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ محمد کریم ﷺ کا حکم باذق کے بارے میں سبقت کرچکا ہے یعنی گزر چکا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ” فما اسکر فھو حرام “ جو چیز نشہ لائے وہ حرام ہے ” والمیسر “ یعنی جو حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ زمانہ جاہلیت میں آدمی جوا میں اہل و عیال اور مال ومتاع کی بازی لگاتا ہے ، ان دو میں سے جو شخص جوا میں غالب آتا یعنی جوا جیت جاتا وہ دوسرے کا مال اور اہل لے جاتا ، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ، ” میسر مفعل “ کے وزن پر ہے ، میسر عرب والوں کے اس قول سے لیا گیا ہے ” یسرلی الشیئ “ یہ جملہ اہل عرب اس وقت بولتے ہیں جب کوئی باآسانی مل جائے پھر قمار جوا کو میسر کہا گیا اور مقامر یعنی جوا باز کو یاسر اور یسر کہا گیا ، اصل جوا ” اشترکشتنی “ یعنی اس اونٹ میں ہوتا تھا جو قابل ذبح ہوتا اور یہ اس طرح کہ عرب مال دار لوگ لائق ذبح اونٹ کو خریدتے پھر اسے نحر کرتے اور اس کے اٹھائیس حصے کرتے پھر اس پر دس تیروں کی قرعہ اندازی کرتے ، ان تیروں کو ازلام اور اقلام کہا جاتا تھا ، ان دس تیروں سے سات تیر حصے والے ہوتے ، فذ تیر کا ایک حصہ ہوتا تو ام تیر کے دو حصے ہوتے رقیب کے تین حصے ہوتے ، حلس تیر کے چار حصے نافس تیر کے پانچ ، حصے ، سبل کے چھ حصے، معلی کے ساتھ حصے اور تین تیر ایسے ہوتے جن کا کوئی حصہ نہ ہوتا اور وہ تین تیر یہ تھے منیح سفیح وغد۔ پھر ان تیروں کو ایک چمڑے کے تھیلے میں کردیتے ، اس تھیلے کا نام ریابہ ہوتا اور وہ تھیلا ایک انصاف پسند آدمی کے ہاتھ کردیتے ، اس آدمی کو محیل اور مفیض کہتے ، پھر وہ آدمی اس تھیلے کو الٹ پلٹ کرتا اور اس میں سے ایک ایک تیر نکالتا ان دس آدمیوں میں سے کسی کے نام ، پس جس کے نام جو تیر نکلتا اپنا حصہ اس تیر کے حوالے سے لے لیتا جس مقدار کا اس کا حصہ ہوتا ، اگر کسی کے نام پر وہ تیر نکلتا جو ان تین تیروں میں سے ہوتا جن کے حصے نہیں تو وہ آدمی کچھ نہ لیتا اور سارے اونٹ کی قیمت کی چٹی اس کو ڈالتے ، بعض نے کہا کہ نہ تو اس شخص کو کچھ حصہ ملتا اور نہ کل اونٹ کی قیمت کی چٹی اس ڈالی جاتی اور تیر بےچلا جاتا ، پھر اس اونٹ کا گوشت فقراء میں تقسیم کردیا جاتا اور یہ لوگ خود کچھ نہ کھاتے ایسا کرنا فخر سمجھتے اور اس میں حصہ نہ لینے والے کی مذمت کرتے اور اس کا نام برم (تھڑدلا) رکھتے اور یہ جو اعرب میں رواج پذیر تمام جوؤں سے برا تھا اور گمراہ کن تھا ، آیت کریمہ سے مراد ہر قسم کا جوا ہے ۔ طاؤس (رح) عطاء (رح) اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں ہر وہ چیز جس میں قمار (جوا) ہو وہ میسر ہے حتی کہ بچوں کا اخروٹ اور گوٹی کا کھیل بھی ، حضرت علی ؓ سے منقول ہے کہ شطرنج (جوا کا وہ کھیل جو 32 مہروں سے 64 خانوں میں کھیلا جاتا ہے) اور نرد چوپڑ بازی بھی میسر ہے (آیت)” قل فیھما اثم کبیر “ جھگڑے کا ، گالی گلوچ اور بدکلامی کا بڑا بوجھ ہے ، حمزہ (رح) اور کسائی (رح) (آیت)” اثم کثیر “ یعنی ثاء کے پڑھا اور باقی قراء نے کبیر باء کے ساتھ پڑھا ہے، شراب اور جوئے میں وہ گناہ ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورة مائدہ میں کیا ہے (آیت)” انما یرید الشیطان ان یوقع بینکم العداوۃ والبغضا فی الخمر والمیسرویصدکم عن ذکر اللہ وعن الصلوۃ فھل انتم منتھون “ (ومنافع للناس) شراب کا نفع پینے کی لذت خوشی اور کھانے کا مزہ اور شراب کی تجارت کا نفع اور جوا کا نفع بغیر دمشقت کے مال پالینا اور فقیر لوگوں کا اس سے نفع مند ہونا اور اس میں گناہ یہ ہے کہ جب کسی کا مال جوئے میں بلا عوض چلا جاتا ہے تو یہ بات اس کو بری لگتی ہے پھر وہ اپنے اس ساتھی سے دشمنی رکھتا ہے اور اس کا نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے (آیت)” واثمھما اکبر من نفعھما “ حضرت ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ شراب اور جوئے کا حرام ہونے کے بعد کا گناہ ان کے حرام ہونے سے پہلے والے نفع سے بڑا ہے اور وہ گناہ وہ دشمنی اور بغض ہے جو اس کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے ۔ (آیت)” ویسئلونک ماذا ینفقون “ اور یہ اس طرح کہ جب رسول اللہ ﷺ نے ان کو صدقہ کی ترغیب دی تو انہوں نے کہا ” ماذا تنفق “ ؟ ہم کیا کچھ خرچ کریں پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت)” قل العفو “ ابو عمرو اور حسن (رح) اور قتادہ (رح) اور ابن ابی اسحاقرحمۃ اللہ علیہ نے ” العفو “ کو رفع یعنی پیش کے ساتھ پڑھا ہے پھر معنی ہوگا یا رسول اللہ ﷺ آپ فرما دیں ، ” انفقوا العفو “ عفو خرچ کرو ، مفسرین نے عفو کے معنی میں اختلاف کیا ہے ۔ قتادہ (رح) عطاء (رح) اور سدی (رح) فرماتے ہیں عفو کے معنی ہیں وہ مال جو زائد از حاجت ہو ، حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کماتے خرچہ کے مطابق مال روک لیتے اور گھریلوخرچہ سے زائد کو اس آیت کریمہ کے مطابق صدقہ کردیتے ۔ پھر یہ صدقہ (بحیثیت لازم ہونے کے) زکوۃ کے حکم سے منسوخ ہوگیا ، مجاہد (رح) فرماتے ہیں ” العفو “ کے معنی ہیں کہ ایسی صورت میں خرچ کرو کہ خرچ کرنے کے بعد بھی تمہیں غنا حاصل رہے فقیر نہ ہوجاؤ کہ لوگوں پر بوجھ بن جاؤ ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ بہترین صدقہ وہ ہے جو غنی کی بنیاد پر ہو۔ (یعنی صدقہ دینے کے باوجود غنا باقی رہے) اور اوپر والا ہاتھ (دینے والا) نیچے والے ہاتھ (لینے والے ہاتھ) سے بہتر ہے اور اس کے ساتھ ابتداء کر (یعنی جو صدقہ دینے کی) جس کا تو سرپرست ہے (یعنی جو لوگ تیری نگرانی میں ہیں) عمر بن دینار (رح) فرماتے ہیں جس میں نہ فضول خرچی ہو اور نہ تنگی ہو وہ ہے درمیانہ درجہ کا خرچ کرنا، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” والذین اذا انفقوا لم یسرفوا ولم یقتروا “ طاؤس (رح) فرماتے ہیں جو (خرچ) آسان ہو اور عفو ہر شئی میں ” یسر “ (آسان) کا نام ہے اور اسی سے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے (آیت)” خذالعفو “ یعنی جو لوگوں کی آسان عادات ہوں ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے عرض کی ، یا رسول اللہ ﷺ میرے پاس دینار ہے (گویا اس کا مطلب یہ تھا کہ میں اس کو کہاں خرچ کروں) تو حضور ﷺ نے فرمایا اسے اپنی ذات پر خرچ کر (اسی سابقہ مفہوم کے اعتبار سے) اس نے کہا حضور ﷺ میرے پاس ایک اور دینار ہے ، حضور ﷺ نے فرمایا اس کو اپنی اولاد پر خرچ کر ، اس نے عرض کیا ایک دینار اور بھی میرے پاس ہے ، حضور ﷺ نے فرمایا اس کو اپنی بیوی پر خرچ کر ، اس نے عرض کی میرے پاس ایک دینار اور ہے، حضور ﷺ نے فرمایا اس کو اپنے خادم پر خرچ کر ، اس نے کہا میرے پاس اور دینار ہے ، حضور ﷺ نے فرمایا اس سلسلہ میں تو بہتر جانتا ہے (جہاں بہتر سمجھے خرچ کر) (آیت)” کذالک یبین اللہ لکم الایات “ زجاج کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ” کذالک “ فرمایا یعنی واحد حاضر کو خطاب کیا حالانکہ مخاطب جماعت ہے ، اس لحاظ سے ” کذالکم “ ہونا چاہیے تھا جواب میں فرمایا کہ جماعت بمعنی قبیل ہے ، گویا اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” کذالک ایھا القبیل “ اور کہا گیا ہے کہ یہ خطاب حضور ﷺ کو ہے کیونکہ حضور ﷺ کو خطاب ، خطاب امت پر مشتمل ہے جس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت)” یا ایھا النبی اذا طلقتم النسائ “ (تو جیسے یہاں خطاب حضور ﷺ کو ہے مراد امت ہے اسی طرح یہاں خطاب حضور ﷺ کو اور مراد امت ہے) (آیت)” لعلکم تتفکرون “۔
Ayah 2:220

فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْیَتٰمٰى١ؕ قُلْ اِصْلَاحٌ لَّهُمْ خَیْرٌ١ؕ وَ اِنْ تُخَالِطُوْهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَعْنَتَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 2:220 in the Quran reader

(یعنی دنیا اور آخرت کی باتوں) میں (غور کرو) اور تم سے یتیموں کے بارے میں بھی دریافت کرتے ہیں کہہ دو کہ ان کی (حالت کی) اصلاح بہت اچھا کام ہے اور اگر تم ان سے مل جل کر رہنا (یعنی خرچ اکٹھا رکھنا) چاہو تو وہ تمہارے بھائی ہیں اور خدا خوب جانتا ہے کہ خرابی کرنے والا کون ہے اور اصلاح کرنے والا کون اور اگر خدا چاہتا تو تم کو تکلیف میں ڈال دیتا بیشک خدا غالب (اور) حکمت والا ہے

(تفسیر) 220۔: (آیت)” فی الدنیا والاخرۃ “ بعض نے کہا کہ اس کا معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں نفقات کے بارے میں بیان فرماتے ہیں تاکہ تم دنیا وآخرت میں غور وفکر کرو، پس دنیاوی معاش کی اصلاح کی خاطر اپنے مالوں کا حساب کرلو اور اس سے زائد مال کو اس جگہ خرچ کرو جہاں خرچ کرنا آخرت کے لحاظ سے نفع مند ہو، اکثر مفسرین اس آیت کا معنی یوں بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اسی طرح دنیا وآخرت کے معاملہ میں آیات کو بیان کرتے ہیں تاکہ تم سوچو بعض نے کہا ہے کہ اس کا معنی اس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ اخراجات کے بارے میں آیات بیان فرماتے ہیں تاکہ تم دنیا کے زوال وفنا کے بارے میں سوچو ، پھر اس سے بےرغبت ہوجاؤ اور آخرت کے متوجہ اور آجانے کے بارے میں اور اس باقی رہنے کے بارے میں سوچو ، پھر تم آخرت میں رغبت کرنے لگو۔ (آیت)” ویسئلونک عن الیتامی “ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ ابن قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کا ارشاد (آیت)” ولا تقربوا مال الیتیم الا بالتیھی احسن “ اور اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد گرامی اترا (آیت)” ان الذین یاکلون اموال الیتامی ظلما “ تو مسلمان یتیموں کے مال میں سخت حرج محسوس کرنے لگے حتی کہ یتیموں کے مال کو اپنے مالوں سے جدا کردیا ، یہاں تک کہ جو کھانا یتیم کے لیے تیار کیا جاتا اور اس کا کچھ حصہ بچ رہتا تو اس کھانے کو اپنے استعمال میں نہ لاتے اور وہ کھانا خراب ہوجاتا ، یہ صورت حال ان پر گراں گزرتی تو انہوں نے حضور ﷺ سے اس سلسلہ میں سوال کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی (آیت)” قل اصلاح لھم خیر “ کہ یتیموں کے مال کی اصلاح بغیر کسی اجرت اور معاوضہ لینے کے بہتر ہے اور اجر کے لحاظ سے عظیم ہے کیونکہ ایسا کرنے میں تمہارے لیے ثواب ہے اور ایسا کرنا یتیموں کے حق میں بھی بہتر ہے کہ ان کا مال بڑھے گا (ضائع نہ ہوگا) حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ (آیت)” اصلاح لھم “ خیر کا معنی ہے کہ یتیم کا سرپرست اپنے مال کو یتیم پر وسیع کر دے اور یتیم کے مال میں وسعت نہ کرے ۔ (آیت)” وان تخالطوھم “ اس میں مال کے ملانے کا جواز معلوم ہوا کہ تم اگر یتیموں کے مال میں مشارکت کرو اور ان کے مالوں کو اپنے مالوں کے ساتھ ملا دو ، اخراجات کے لحاظ سے رہائش کے اعتبار سے خادموں اور جانوروں کے لحاظ سے اور اپنی نگرانی ونگہبانی کا جو تم ان کے مال کی کر رہے ہو ، اگر عوض اور بدلہ لے لو اور جو کچھ یتیم کا مال تم لو اس کے بدلے اپنا مال دے کر مکافات کر دو یعنی معاملہ برابر کر دو (آیت)” فاخوانکم “۔ پس وہ تمہارے بھائی ہیں اور بھائی بعض بعض کی مدد کرتے ہیں اور باہمی رضا مندی کے طور پر اور اصلاح کے لیے ایک دوسرے کا مال لیتے ہیں ، (آیت)” واللہ یعلم المفسد “ جو یتیموں کا مال خراب کرے (آیت)” من المصلح “ جو ان کے مال کی اصلاح کرے یعنی جو شخص یتیموں کے مال کو اپنے مال کے ساتھ ملا کر خیانت کا ارادہ کرے اور یتیم کا مال خراب کرے اور ناحق کھائے ، اللہ تعالیٰ اس کو بھی جانتے ہیں اور اس کو بھی جانتے ہیں جو یتیموں کا مال ملا کر اصلاح کا ارادہ کرے ۔ (آیت)” ولوشاء اللہ لاعنتکم “ تم پر تنگی فرماتا اور یتیموں کا مال ملانے کو جائز نہ فرماتا حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس فرمان الہی کا معنی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو جو مال تم یتیموں کا لیتے اسے تمہارے لیے ہلاک کرنے والا بنا دیتا ، ” عنت “ کا اصل معنی ” شدۃ “ اور ” مشقۃ “ ہے اور اس کا معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر معاملہ میں تمہیں اس قسم کا حکم دیتا جو تم پر گراں اور باعث مشقت ہوتا۔ (آیت)” ان اللہ عزیز “ اپنی قدرت اور سلطنت کے لحاظ سے تم پر مشقت ڈالنے پر غالب و قادر ہے اور کہا گیا ہے کہ عزیز وہ ہے جو اپنے غلبہ کے ساتھ حکم فرمائے ، وہ حکم بندوں پر آسان ہو یا گراں ہو ۔ (حکیم) حکیم ہے ہر اس میں وہ جو فرماتا ہے اپنی تدبیر سے اور (بندوں کو) مشقت میں نہ ڈالنے کے لحاظ سے ۔