2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 2:258

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْ حَآجَّ اِبْرٰهٖمَ فِیْ رَبِّهٖۤ اَنْ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ١ۘ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّیَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۙ قَالَ اَنَا اُحْیٖ وَ اُمِیْتُ١ؕ قَالَ اِبْرٰهٖمُ فَاِنَّ اللّٰهَ یَاْتِیْ بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَاْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِیْ كَفَرَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۚ Open ayah 2:258 in the Quran reader

بھلا تم نے اس شخص کو نہیں دیکھا جو اس (غرور کے) سبب سے کہ خدا اس کو سلطنت بخشی تھی ابراہیم سے پروردگار کے بارے میں جھگڑنے لگا جب ابراہیم نے کہا میرا پروردگار تو وہ ہے جو جلاتا اور مارتا ہے وہ بولا کہ جلا اور مار تو میں بھی سکتا ہوں ابراہیم نے کہا کہ خدا تو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے آپ اسے مغرب سے نکال دیجئے۔ یہ سن کر کافر حیران رہ گیا۔ اور خدا بےانصافوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

258۔ (آیت)” الم تر الی الذین حاج ابراھیم فی ربہ “۔ (کیا تم کو اس شخص کا واقعہ معلوم نہیں جس نے ابراہیم (علیہ السلام) سے اس کے رب کے متعلق جھگڑا کیا) اس کا معنی یہ ہے کہ اے محمد ﷺ کیا آپ ﷺ کے پاس وہ خبر پہنچی ہے جس میں ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ اس کے رب کے بارے میں جھگڑا کیا گیا تھا یعنی بحث کی اور جھگڑا کیا اور وہ نمرود بادشاہ تھا یہ پہلا شخص تھا جس کے سر پر بادشاہت کا تاج رکھا گیا اور پھر اس نے خدائی کا دعوی کیا (ان اتاہ اللہ الملک) (کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو حکومت عطا کی تھی) اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو بادشاہت دی تھی اور اس نے اس پر سرکشی کی تھی ، اس وجہ سے نمرود نے بادشاہی کا سوال کیا یعنی اس جھگڑے میں تو ایسا بادشاہ لے آ جو میری بادشاہت اور سرکشی کو ختم کرے ، مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ زمین میں چار بادشاہ گزرے ہیں دو مومن بادشاہ اور دو کافر ، پس مؤمن بادشاہ سلیمان (علیہ السلام) اور ذوالقرنین (علیہ السلام) اور کافر بادشاہ نمرود اور بخت نصر ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور نمرود کا مناظرہ : مناظرہ کے وقت میں آئمہ کا اختلاف ہے، مقاتل ؓ فرماتے ہیں جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بتوں کا توڑا اور نمرود نے ان کو جیل میں ڈالا تو ان کو نکالا تاکہ آگ میں ڈالے تو اس نے پوچھا تمہارا رب کون ہے جس کو تم پکارتے ہو ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میرا رب وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اور موت دیتا ہے ، بعض نے کہا کہ یہ مناظرہ آگ میں ڈالنے کے بعد ہوا کہ جب نمرود کے دور میں لوگ قحط میں مبتلا ہوئے ۔ اور لوگ اس کے پاس غلہ لینے کے لیے آیا کرتے تھے ، پس جب کوئی شخص اس کے پاس غلہ لینے آتا تو وہ اس سے پوچھتا کہ تمہارا رب کون ہے اگر وہ سائل کہتا کہ تو میرا رب ہے تو اس کو کھانا (غلہ) بیچ دیتا ، جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس کے پاس آئے تو نمرود نے ان سے پوچھا ” من ربک “ تمہارا رب کون ہے ؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جواب دیا میرا رب وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے ، نمرود غصہ سے مشتعل ہوگیا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو غلہ نہیں دیا ، پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ریت کے ٹیلے کے پاس سے گزرے اور ریت سے اپنے تھیلے کو بھر لیا تاکہ اس کے ذریعے گھر والوں کو بہلا سکوں ، ان کے دلوں کو سکون اطمینان دے سکوں ، جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) گھر پہنچے اور گھر میں وہ ریت ولا تھیلا رکھ کر سو گئے ، ادھر ان کے گھر والے اٹھے اور سامان کھولا دیکھتے ہیں کھانے کے لیے بہت اچھا غلہ موجود ہے ، انہوں نے اس سے کھانا تیار کیا ، پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس کھانا لے گئے ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کھانا دیکھ کر ارشاد فرمایا کہ یہ کھانا کہاں سے آیا ہے ؟ فرمایا کہ وہی تو ہے جو آپ ابھی لائے ہو ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جان گئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رزق دیا پھر اللہ کی تعریف کی ۔ (آیت)” اذ قال ابراھیم ربی الذی یحی ویمیت “۔ (جب کہا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے میرا رب وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے) یہ سوال مقدر کا جواب ہے جو یہاں مذکور نہیں ۔ نمرود نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے سوال کیا ” من ربک “ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جواب (آیت)” ربی الذی یحییٰ ویمیت “۔ دیا حضرت حمزہ (رح) کی قرات میں یاء ساکن کے ساتھ ہے خواہ وصل ہو یا فصل ہو اور اسی طرح دوسری آیات کی قرات بھی اسی طرح ہے ” حرم ربی الفواحش وعن ایاتی الذین یتکبرون وقل یعبادی الذین واتانی الکتاب ومسنی الضر وعبادی الصالحون وعبادی الشکور ومسنی الشیطان وان ارادنی اللہ وان اھلکنی اللہ “۔ امام کسائی (رح) نے حضرت حمزہ (رح) کی اس آیت میں موافقت کی ” لعبادی الذین امنوا “۔ اور ابن عامر نے ” ایاتی الذین “۔ میں بھی ساکن پڑھتے ہیں (قال) اس سے نمرود مراد ہے (انا احی وامیت) کہ میں بھی زندہ کرتا ہوں اور مارتا ہوں) اہل مدینہ ” انا “ کہ الف کو مد کے ساتھ پڑھتے ہیں جب وصل کی حالت میں ہمزہ متحرک ہو اور باقی قراء اس الف کو حذف مانتے ہیں لیکن وقف کی حالت میں تمام قاری الف کو ثابت رکھتے ہیں ، اکثر مفسرین کا کہنا ہے کہ نمرود نے دو آدمیوں کو بلایا ، ان میں سے ایک کو قتل کردیا ، اور دوسرے کو زندہ رکھا ، گویا اس نے قتل کو موت کے قائم مقام سمجھا اور ترک القتل کو زندگی قرار دیا ، جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دیکھا کہ اس دلیل سے اس کو سمجھ نہیں آتی تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دوسری دلیل کی طرف رجوع کرلیا تاکہ مدمقابل کو عاجز کرسکیں اگر اس کی حجت لازم ہوتی اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے نزدیک احیاء سے مراد مردے کو زندہ کرنا ہے اگر وہ اس کو سمجھ لیتا تو وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے سوال کرسکتا تھا کہ آپ اس مردے کو زندہ کرو جس کو میں نے مارا ہے اگر آپ اپنے قول میں سچے ہو اس لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ایسی دلیل لائے جو پہلی سے بھی واضح تھی ۔
Ayah 2:259

اَوْ كَالَّذِیْ مَرَّ عَلٰى قَرْیَةٍ وَّ هِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا١ۚ قَالَ اَنّٰى یُحْیٖ هٰذِهِ اللّٰهُ بَعْدَ مَوْتِهَا١ۚ فَاَمَاتَهُ اللّٰهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهٗ١ؕ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ١ؕ قَالَ لَبِثْتُ یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ١ؕ قَالَ بَلْ لَّبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانْظُرْ اِلٰى طَعَامِكَ وَ شَرَابِكَ لَمْ یَتَسَنَّهْ١ۚ وَ انْظُرْ اِلٰى حِمَارِكَ وَ لِنَجْعَلَكَ اٰیَةً لِّلنَّاسِ وَ انْظُرْ اِلَى الْعِظَامِ كَیْفَ نُنْشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوْهَا لَحْمًا١ؕ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهٗ١ۙ قَالَ اَعْلَمُ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:259 in the Quran reader

یا اسی طرح اس شخص کو (نہیں دیکھا) جسے ایک گاؤں میں جو اپنی چھتوں پر گرا پڑا تھا اتفاق سے گزر ہو اس نے کہا کہ خدا اس (کے باشندوں) کو مرنے کے بعد کیونکر زندہ کرے گا تو خدا نے اسکی روح قبض کرلی (اور) سو برس تک (اس کو مردہ رکھا) پھر اس کو جلا اٹھایا اور پوچھا کہ تم کتنا عرصہ (مرے) رہے ہو ؟ اس نے جواب دیا کہ ایک دن یا اس سے بھی کم خدا نے فرمایا (نہیں) بلکہ سو برس (مرے) رہو ہو اور اپنے کھانے پینے کی چیزوں کو دیکھو کہ (اتنی مدت میں مطلق) سڑی بسی نہیں اور اپنے گدھے کو دیکھو (جو مرا پڑا ہے) غرض (ان باتوں سے) یہ ہے کہ ہم تم کو لوگوں کے لیے (اپنی قدرت کی) نشانی بنائیں اور (ہاں گدھے کی) ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم ان کو کیونکر جوڑے دیتے اور ان پر (کس طرح) گوشت پوست چڑھا دیتے ہیں جب یہ واقعات اس کے مشاہدے میں آئے تو بول اٹھا کہ میں یقین کرتا ہوں کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے

(تفسیر) 259۔ : (آیت)” اوکالذی مر علی قریۃ “۔ یا اس شخص کی مانند جو گزرا ایسی بستی پر سے) اسی آیت کا تعلق پچھلی آیت کے ساتھ ہے ، تقدیری عبارت یوں ہوگی ” الم تر الی الذی حاج ابراھیم فی ربہ “۔ کیا تم نے نہیں دیکھا اس شخص کو جو ایسی بستی پر سے گزرے بعض نے کہا کہا س کی تقدیری عبارت یوں ہوگی ، ” ھل رایت کالذی حاج ابراھیم فی ربہ “۔ کہ کیا تم نے اس شخص کو نہیں دیکھا جس نے جھگڑا کیا اس کے رب کے بارے میں ۔ مر علی قریۃ “ کی تفسیر میں مختلف اقوال : یا کیا تم نے نہیں دیکھا اس شخص کو جو گزرا ایسی بستی پر گزرنے والا شخص کون تھا ؟ اس کے متعلق حضرت قتادہ (رح) ، عکرمہ (رح) اور ضحاک (رح) کا قول ہے کہ یہ عزیز بن شرخیا تھے ، وہب بن منبہ (رح) فرماتے ہیں کہ یہ ارمیاء بن حلقیا تھا۔ ابن اسحاق (رح) نے کہا کہ ارمیاء ہی خضر تھے مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ وہ کافر ہے اس کی بعثت میں شک ہے ۔ اس قریہ کے متعلق بھی مفسرین کا اختلاف ہے ، وہب (رح) عکرمہ (رح) قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ قریۃ سے مراد بیت المقدس ہے ۔ اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ یہ ارض مقدسہ ہے ، اور کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ دیر سابر آباد ہے ۔ امام سدی (رح) فرماتے ہیں کہ اس سے مراد مسلم آباد ہے ، بعض نے کہا کہ اس سے مراد دیر ہرقل ہے ۔ اور بعض نے کہا کہ اس سے مراد وہ زمین ہے جہاں کے بستی والوں کو ہلاک کیا گیا تھا اور وہ ہزاروں کی تعداد میں تھے اور بعض نے کہا کہ یہ ایسی بستی تھی جو انگوروں سے بھرپور تھی اور بیت المقدس کے دو فرسخ کے قریب تھی (وھی خاویۃ اور وہ گر پڑی تھی) جیسا کہ کہا جاتا ہے خوی البیت واؤ کے کسرہ کے ساتھ اس وقت بولا جاتا ہے جب کوئی چیز گرجائے ، (علی عروشھا) عروش سے مراد چھتیں ہیں اور اس کا واحد عرش ہے اور کہا گیا ہے کہ ہر بناء پر عرش ہے، مطلب یہ ہوگا کہ پہلے اس کی چھتیں گرپڑیں پھر ان پر دیواریں گرپڑیں ۔ (قال انی یحی ھذہ اللہ بعد موتھا “ کہنے لگے کیسے زندہ کرے گا اللہ اس بستی کو میرے پیچھے) اس کا سبب محمد بن اسحاق (رح) نے جو وہب بن منبہ (رح) سے روایت کی ہے ، واقعہ اس طرح ہے ۔ بنی اسرائیل کی تباہی کا منظر : اللہ تعالیٰ نے ارمیاء کو ناشیہ بن اموص کی طرف مدد کے لیے بھیجا جو بنی اسرائیل کا بادشاہ تھا ، ناشیہ نیک صالح آدمی تھا ارمیاء ان کے پاس اللہ تعالیٰ کے احکام لے کر جاتے تھے ، جب بنی اسرائیل نافرمانیوں میں بہت آگے بڑھ گئے ، اللہ تعالیٰ نے حضرت ارمیاء کی طرف وحی کی کہ اپنی قوم کو جا کر میری نعمتوں کو یاد دلاؤ اور ان کے گناہوں سے ان کو آگاہ کرو اور ان کو میری طرف دعوت دو ، حضرت ارمیاء نے کہا کہ میں کمزور ہوں ، اگر آپ میری اس میں مدد نہیں فرمائیں گے تو میں تو عاجز ہوں ، اگر آپ مجھے وہاں نہیں پہنچائیں گے میں ناکام ہوجاؤں گا ، اگر آپ نے میری مدد نہ کی اللہ عزوجل نے وحی کی کہ میں تمہاری مدد کروں گا پھر حضرت ارمیاء بنی اسرائیل کی طرف گئے ، اور ان کو یہ بھی معلوم نہیں کہ وہاں جا کر ان کو کیا کہنا ہے تو اللہ تعالیٰ نے عین خطبہ کے وقت ایسے فصیح وبلیغ الفاظ الہام فرمائے جن میں اعمال صالحہ پر ثواب اور گناہوں کی سزا کا ذکر تھا ، اس خطبہ کے آخر میں حضرت ارمیاء کے دل میں یہ بات بھی القاء کردی کہ اگر یہ پھر بھی اپنے گناہوں سے باز نہیں آتے ان کو یہ کہہ دیں کہ اللہ تعالیٰ نے کہا کہ میری عزت کی قسم تم پر ایسے فتنے کو مسلط کر دوں گا جس سے حکیم بھی متحیر ہوجائے گا اور تمہارے اوپر ایسے ظالم حکمرانوں کو مسلط کروں گا جس کی ہیبت تمہارے دلوں میں ڈال دی جائے گی اور اس کے دل سے تمہارے لیے شفقت کو ختم کر دوں گا اور وہ تم پر اندھیری رات کی طرح ظلم ڈھائے گا ، پھر اللہ تعالیٰ نے ارمیاء کی طرف وحی بھیجی کہ میں بنی اسرائیل کو ہلاک کرنے لگا ہوں اور اس میں یافث اہل بابیل میں سے بھی ہیں اور یہ یافث بن نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں ، جب حضرت ارمیاء (علیہ السلام) نے یہ خبر سنی تو انہوں نے چیخ ماری اور رونے لگے اور اپنے کپڑے پھاڑ دیئے اور اپنے سر پر ریت ڈالنا شروع کردی ، جب اللہ تعالیٰ نے ان کی آہ زاری اور رونا سنا تو آواز دی اے ارمیاء میں نے تمہاری طرف جو وحی کی اس کی وجہ سے تم مشقت میں پڑگئے ، فرمایا جی ہاں میرے رب ! بنی اسرائیل کو اس وقت تک ہلاک نہ کرنا جب تک اس کے بارے میں مجھے ان کی ہلاکت کا سبب معلوم نہ ہوجائے ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا مجھے میری عزت کی قسم کہ میں بنی اسرائیل کو اس وقت تک ہلاک نہیں کروں گا جب تک اس کے متعلق آپ کو بتلا نہ دوں ، حضرت ارمیاء اس پر خوش ہوگئے اور فرمایا اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حق دے کر بھیجا وہ بنی اسرائیل کی ہلاکت پر راضی نہیں، پھر فرشتہ آیا اس نے خبر دی ، پھر انہوں نے فرمایا اگر رب العزت عذاب دیتا تو ہمارے بہت سارے گناہوں کے سبب ہوتا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ہمیں معاف کردیا ، پھر وحی کے بعد تین سال تک رہے لیکن اس دوران بنی اسرائیل میں نافرمانیاں بڑھتی گئیں ، قریب تھا کہ سب بنی اسرائیل ہلاک ہوجاتے ، بادشاہ نے توبہ و استغفار کا مشورہ دیا مگر لوگوں نے نہیں مانا ، آخر اللہ تعالیٰ نے بخت نصر کو ان پر مسلط کیا اور یہ ساتھ ہزار افراد کی فوج لے کر بیت المقدس کی طرف مارچ کیا تو فرشتہ حضرت ارمیاء کے پاس آیا اور یہ خبر سنائی تو حضرت ارمیاء نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے وحی کی تھی کہ وہ میری ازات کے بغیر بنی اسرائیل کو تباہ نہیں کرے گا ، اس پر ارمیاء نے مزید یہ کہا کہ اللہ تعالیٰ وعدہ کے خلاف نہیں کرتا اور مجھے اس پر پختہ یقین ہے ، پھر جب بنی اسرائیل کا وقت پورا ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے فرشتہ کو انسانی شکل میں ارمیاء کے پاس بھیجا ، ارمیاء نے اس سے پوچھا تو کون ہے ؟ وہ کہنے لگا میں بنی اسرائیل میں سے ایک آدمی ہوں میں اپنے گھر والوں کے متعلق مسئلہ پوچھنے آیا ہوں کہ میں اپنے گھر والوں کے ساتھ صلح رحمی کرتا ہوں اور ان کے ساتھ احسان کا معاملہ کرتا ہوں لیکن وہ ہمیشہ میری بےاکرامی اور ناراضگی پیدا کرنے کی حرکتیں کرتے ہیں ، مجھے ان کے متعلق بتلائے ، حضرت ارمیاء نے کہا کہ تم ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو ان سے جدائی اختیار نہ کرو اور ان کو نیکی کی دعوت دو ، پھر وہ فرشتہ کچھ دن ٹھہرا رہا پھر وہ فرشتہ انسانی شکل میں ارمیاء کے پاس آیا اور پہلے کی طرح سوال کیا کہ میں اپنے گھر والوں کے متعلق آپ سے پوچھتا ہوں ، ارمیاء نے کہا کہ آپ ان کو اخلاق کی تعلیم دو ، اس شخص نے کہا کہ اے اللہ کے نبی ! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ان کو کرامت وعزت کا کوئی علم نہیں مگر پھر بھی میں ان کے ساتھ رحمت والامعاملہ کرتا ہوں ، پھر بھی حضرت ارمیاء نے اس شخص سے کہا کہ اپنے گھر والوں کے ساتھ احسان والا معاملہ فرما اور اللہ سے ان کی اصلاح کے لیے دعا مانگ کہ وہ نیک صالح بن جائیں ، وہ فرشتہ واپس چلا گیا اور چند دن وہ رکے رہے ، ادھر اللہ تعالیٰ نے بخت نصر اور اس کی فوج کو بیت المقدس کے اردگرد ٹڈیوں کی طرح پھیلا دیا ، بنی اسرائیل اس سے خوفزدہ ہوگئے اس وقت فرشتہ ارمیاء (بادشاہ) کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اللہ کا کیا ہوا وعدہ کہاں گیا وہ بادشاہ کہنے لگے مجھے اپنے رب پر پختہ یقین ہے پھر وہ فرشتہ حضرت ارمیاء کے پاس آیا ، اس وقت حضرت ارمیاء بیت المقدس کی دیوار پر بیٹھے ہوئے تھے اور ہنس رہے تھے اور لوگوں کو خوشخبری دے رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی مدد شامل حال ہے جو اللہ نے وعدہ کیا تھا ، وہ فرشتہ آپ کے سامنے بیٹھ گیا ، ارمیاء نے ان سے پوچھا کہ تم کون ہو، فرشتہ نے کہا کہ میں وہی سائل ہوں جو پہلے دو مرتبہ آپ سے اپنے گھر والوں کے متعلق پوچھ چکا ہوں ، ارمیاء نے کہا کہ وہ اس بات سے ابھی تک باز نہیں آئے جس پر وہ تھے ، فرشتہ نے کہا کہ اے اللہ کے نبی ! ابھی تک تو جو دکھ انہوں نے مجھے پہنچایا ، میں صبر کرتا رہا لیکن اب وہ خدا کی ناراضگی کے بڑے بڑے کام کرنے لگ گئے تو حضرت ارمیاء نے کہا کہ ان کو کون سا عمل کرتے ہوئے تم نے دیکھا ؟ فرشتے نے کہا کہ وہ کام جو اللہ کی بڑی ناراضگی کا سبب بنتے ہیں اس لیے مجھے ان کے لیے غصہ آیا اس لیے میں آپ سے یہ سوال کرتا ہوں اللہ کا نام لے کر جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے آپ ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے ہلاکت کی دعا کریں ، حضرت ارمیاء (علیہ السلام) نے کہا اے زمین و آسمان کے بادشاہ اگر وہ حق پر ہیں تو تو ان کو باقی رکھ اور اگر وہ ایسے عمل پر ہیں جو تیری ناراضگی کا سبب ہیں تو ان کو ہلاک فرما ، جب حضرت ارمیاء (علیہ السلام) کی زبان سے الفاظ نکلے تو اللہ تعالیٰ نے آسمان سے بیت المقدس کی طرف ایک بجلی گرائی جس سے قربان گاہ میں آگ بھڑک اٹھی اور سات دروازے زمین میں دھنس گئے جب یہ حالت حضرت ارمیاء (علیہ السلام) نے دیکھی تو چیخ ماری اور اپنے کپڑے پھاڑ دیئے اور ریت اپنے سر پر ڈالنے لگے اور عرض کرنے لگے اے آسمانوں اور زمینوں کے مالک کہاں ہے وہ کیا ہوا وعدہ جو میرے ساتھ کیا تھا ، آواز آئی کہ ان پر جو عذاب آیا وہ تمہاری بددعا کی وجہ سے آیا اس وقت حضرت ارمیاء (علیہ السلام) کو یقین ہوگیا کہ سوال پوچھنے والا اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجا ہوا فرشتہ تھا ، حضرت ارمیاء (علیہ السلام) اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر جنگل کی طرف نکل گئے ، ادھر بخت نصر اپنی فوج کو لے کر بیت المقدس میں داخل ہوگیا اور شام کو بھی اس نے روند ڈالا اور بنی اسرائیلون کو اس نے قتل کروا دیا اور بیت المقدس کو فنا کردیا ، پھر بخت نصر نے اپنی فوج کو حکم دیا کہ ہر شخص اپنی کمان مٹی سے بھر کر بیت المقدس پر ڈالے ، ہر ایک نے ایسا ہی کیا یہاں تک کہ بیت المقدس مٹی سے بھر گیا ، پھر بخت نصر نے اعلان کیا کہ شہر میں جو بھی چیز ہے اس کو لا کر یہاں جمع کیا جائے ، اس کے سامنے چھوٹے بڑے سب بنی اسرائیلوں کو جمع کیا گیا ، ان میں سے اس نے ستر ہزار بچوں کو چنا اور اپنی فوج میں تقسیم کردیا ، ہر شخص کے حصے میں چار بچے آئے اور ان بچوں میں دانیال حانیال کی اولاد بھی تھی ، اور باقی بنی اسرائیلوں میں سے تین حصے کیے ، ایک ثلث کو قتل کرو ادیا ، ایک ثلث کو قید کردیا اور ایک ثلث کو شام میں سکونت دی ، یہ بنی اسرائیلوں کے واقعات میں سے پہلا واقعہ ہے جو ان کے ظلم کی پاداش میں ان کو عذاب ملا، جب ان سے بخت نصر بابل چلا گیا اور اس کے ساتھ بنی اسرائیل کے قیدی بھی تھے تو ارمیاء اپنے گدھے پر سوار ہو کر آئے اور آپ کے ساتھ توشہ دان میں کچھ عرق انگور اور ایک ٹوکری انجیر کی تھی ، جب بیت المقدس پہنچے تو اس کی تباہی کو دیکھ کر (قال انی یحییٰ ھذہ اللہ بعد موتھا “۔ فرمایا اس بستی کو میرے پیچھے کیسے زندہ کرے گا) اور کہنے والے نے کہا کہ بیت المقدس کے پاس سے گزرنے والے حضرت عزیز (علیہ السلام) تھے ۔ جب بخت نصر نے بیت المقدس کو تباہ کیا اور بنی اسرائیلوں کو قید کرکے بابل لے گیا ، اس میں حضرت عزیز (علیہ السلام) ، دانیال (علیہ السلام) اور سات ہزار حضرت داؤد (علیہ السلام) کے اہل بیت شامل تھے ، جب یہ بستی تک پہنچے تو وہاں ایک درخت کے علاوہ کوئی چیز نظر نہیں آئی ، اس درخت سے انہوں نے پھل کھایا اور انگور کو نچوڑا اور اس سے پیا اور اس درخت کے پھل کو اپنے تھیلے میں ڈالنے لگے اور عرق انگور سے اپنے مشکیزے کو بھرنے لگے ، جب انہوں نے بستی کی ہلاکت کو دیکھا فرمایا (آیت)” انی یحییٰ ھذہ اللہ بعد موتھا “۔ یہ فرمانا تعجب کی وجہ سے تھا نہ کی شک کی وجہ سے ، وہب کی حدیث کی مانند حدیث ذکر فرمائی کہ پھر انہوں نے مضبوط رسی کے ساتھ اپنے گدھے کو باندھا ، اللہ تعالیٰ نے ان کو نیند مسلط کردی اور سو سال تک ان کی روح کو کھینچ لیا اور ان کے گھوڑے یا گدھے کو موت دے دی اور انگور کا عرق اور پھل (انجیر) ان کے پاس جوں کے توں موجود تھے ، جب اللہ تعالیٰ نے ان پر نیند کو مسلط کیا تھا وہ وقت چاشت کا تھا اور اسی پھل کو لوگوں کی نظروں سے اوجھل رکھا تاکہ کسی دیکھنے والے کو نظر نہ آئے اور درندوں اور پرندوں کو ان کا گوشت کھانے سے روک دیا تھا ۔ جب ستر سال گزر گئے اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ نوشک شاہ فارس کے پاس بھیجا ، فرشتے نے جا کر اس سے کہا اللہ تعالیٰ تجھے حکم دیتا ہے کہ بیت المقدس اور الیاء کی از سر نو تعمیر کر تاکہ یہ پہلے سے زیادہ آباد ہوجائیں تو بادشاہ نے ایک ہزار قہرمان متعین کیے اور ہر ایک قہر مان کے ساتھ تین تین سو ہزار عامل مقرر کیے اور وہ شہر کو تعمیر کرنے لگے ، ادھر بخت نصر کو ہلاک کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک مچھر اس کے دماغ میں ڈال دیا ، اس طرح بنی اسرائیلوں کو اس سے نجات دلوائی ، بابل میں کوئی بنی اسرائیل فوت نہیں ہوا وہ سب کے سب واپس آ کر بیت المقدس میں رہنے لگے۔ اس شہر کو تیس سال میں تعمیر کردیا ، پھر بنی اسرائیلیوں کی کثرت ہوگئی جس طرح وہ پہلے تھے جب سو سال پورے ہوگئے تو حضرت عزیز (علیہ السلام) کی پہلے آنکھیں پیدا فرمائی جبکہ پورا جسم میت تھا پھر ان کے جسم کو زندہ کیا اور وہ اپنے جسم کو دیکھ رہے تھے پھر انہوں نے اپنے گدھے کی طرف دیکھا ، اس کی ہڈیاں متفرق تھیں ، آسمان سے آواز آئی اے بوسیدہ ہڈیو ! اللہ تعالیٰ تمہیں جمع ہونے کا حکم دیتا ہے پس ہو ہڈیاں بعض کے ساتھ بعض مل گئیں ، پھر آواز دی کہ اللہ تمہیں حکم کرتا ہے کہ تم اپنے اوپر گوشت اور جلد بھی پہن لو ، پھر وہ اسی طرح ہوگئیں پھر آواز دی اللہ تعالیٰ تمہیں حکم کرتا ہے کہ تم زندہ ہوجاؤ اور کھڑے ہوجاؤ ، گدھا اللہ تعالیٰ کے حکم سے کھڑا ہوا اور آواز نکالنے لگا ، ادھر اللہ تعالیٰ نے ارمیاء کے لیے شہر کو دوبارہ تعمیر کروا دیا جس طرح ان کے جانے کے وقت شہر موجود تھا ۔ (آیت)” فاماتہ اللہ مائۃ عام ثم بعثہ “ پس اللہ نے اس کو مار ڈالا اور وہ سو سال تک مردہ رہا پھر اس کو اٹھا دیا) یعنی اس کو سو سال کے بعد زندہ کیا (قال کم بعثت “۔ فرمایا آپ کا یہ ٹھہرنا کتنا عرصہ رہا) کتنا عرصہ ٹھہرے ، بعض حضرات نے کہا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو سو سال بعد زندہ کیا تو ان کی طرف اللہ تعالیٰ نے فرشتہ بھیجا جو ان سے یہ سوال پوچھے کہ کتنا عرصہ یہاں ٹھہرے رہے (قال لبثت یوما) حضرت ارمیاء نے کہا کہ میں ایک دن یہاں ٹھہرا رہا) یہ بات انہوں نے اس لیے فرمائی کہ جب ان کو نیند آئی اور وہ وقت چاشت کا تھا اور جب انہیں زندہ کیا گیا تو غروب آفتاب سے کچھ پہلے کا وقت تھا ، ان سے جب پوچھا گیا کہ آپ کتنا عرصہ ٹھہرے تو انہوں نے سورج کو دیکھ کر کہا کہ وہ غروب ہو رہا ہے تو یہ جواب دیا (اوبعض یوم) دن کا کچھ حصہ (قال فرمایا) فرشتے نے کہا (بل بعثت مائۃ عام فانظر الی طعامک) نہیں بلکہ آپ یہاں سو برس رہے پس دیکھو اپنے کھانے کو) کھانے سے مراد انجیر ہے اور (وشرابک) پینے کو یعنی انگور کے عرق کو (لم یتسنہ کہ اس میں کوئی چیز نہیں بگڑی) کھانے کی اشیاء خراب نہیں ہوئیں ، انجیر اس طرح تھے گویا کہ ابھی درخت سے اتارے ہوں اور انگور کا عرق ایسے تھا جیسے کہ ابھی نچوڑا گیا ہو ، امام کسائی فرماتے ہیں کہ گویا ان پر برس کی مدت نہیں گزری اور اسی طرح حمزہ (رح) کسائی (رح) اور یعقوب (رح) نے پڑھا ہے ۔ ” لم یتسن “ وصل کی صورت میں ھا کو حذف کرنے کے ساتھ پڑھا ہے اور اسی طرح ” فبھداھم اقتدہ “ میں بھی اور دوسرے قراء کے نزدیک ھاء کو پڑھا ہے وصلا اور وقفا دونوں صورتوں میں ، جب ھاء حالت وصل میں ساقط کردی تو ھاء ساکتہ کو حالت وقف میں بڑھا دی تو ” لم یتسنی “۔ یاء کو حروف جازمہ کی وجہ سے حذف کردیا ، اس کی جگہ ھاء وقف بڑھا دی ، ابو عمرو فرماتے ہیں کہ ” لم یستنہ “ اصل میں ” یتسنن “ تھا دو نون کے ساتھ من حماء مسنون “ اس کا مطلب ہے کہ وہ متغیر نہیں ہوا تو ہم نے ایک نون کو ی سے بدل دیا ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” ثم ذھب الی اھلہ یتمطی “ ہے ۔ یتمطی “ اصل میں ” یتمطط “ تھا اور اسی طرح ” وقد خاب من دساھا “۔ دساھا اصل میں ” دسسھا “ تھا تو ہم نے دونوں صورتوں میں ھاء کو ثابت رکھا اور اس کو لام کلمے کے مقابلے میں رکھا یہ ان حضرات کے نزدیک ہے جن کے ہاں ” یتسنہ “ کی اصل ” السنۃ السنھۃ “ اور اس کی تصغیر ” سنیھۃ “ اور اس کا فعل ” المسانھۃ “ آتا ہے ۔ ” لم یستنہ “ تثنیہ کا لفظ ذکر نہیں کیا حالانکہ ماقبل میں طعام وشراب دو چیزیں تھیں دونوں چیزوں کے تبدیل ہونے کے لیے چونکہ ایک لفظ استعمال ہوتا ہے اس لفظ میں دونوں شریک ہیں یا چونکہ دونوں کا تعلق غذائیت کے ساتھ ہے اس لیے واحد کی ضمیر لائے یا ایک کے ذکر کو دوسرے پر قیاس کیا گیا ۔ (آیت ” وانظر الی حمارک “ اور اپنے گدھے کی طرف دیکھو) جب انہوں نے گدھے کی طرف دیکھا وہ اس کی چمکتی ہوئی ہڈیاں تھیں پھر اللہ تعالیٰ نے ہڈیاں کو ان کے سامنے جوڑا پھر اس پر گوشت اور جلد ڈالی پھر اس کو زندہ کردیا ، اس حال میں کہ حضرت ارمیاء اس کو دیکھ رہے تھے (اور ولنجعلک ایۃ اللناس بنائیں گے تجھے نشانی آنے والے لوگوں کے لیے) بعض حضرات کے نزدیک آیت کے شروع میں واؤ زائدہ ہے ، فراء (رح) فرماتے ہیں واؤ کو ذکر کرکے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس کے بعد فعل محذوف ہے عبارت اس طرح ہوگی ” ولنجعلک ایۃ عبرۃ ودلالۃ علی البعث بعدالموت “ ۔ یعنی ہم نے ایسے اس لیے کہا تاکہ بعث بعد الموت کو لوگوں کو دکھانے کے لیے دلیل بنائیں ، یہی اکثر مفسرین کا قول ہے اور ضحاک (رح) وغیرہ نے کہا کہ جب حضرت ارمیاء (علیہ السلام) کو اس بستی کی طرف لوٹایا تو اس وقت یہ جوان تھے اور ان کی اولاد اور اولاد کی اولاد بوڑھے ہوچکے تھے ، ان کے سر کے بال اور داڑھی کے بال سفید ہوچکے تھے ، (وانظر الی العظام کیف ننشزھا) دیکھو ہڈیوں کی طرف کس طرح ہم انہیں جوڑتے ہیں) اہل حجاز کے نزدیک اور اہل بصرہ کے نزدیک ” ننشز “ زاء کے ساتھ ہے اور ان کے علاوہ قراء حضرات راء کے ساتھ پڑھتے ہیں ، اس کا معنی ہم اس کو کس طرح زندہ کرتے ہیں ، جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ میت کو زندہ کیا ، انشاء زندہ کرنا اور انشرہ نشورا زندہ ہونا ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” ثم اذا شاء انشرہ “ اور لازم (والیہ النشور) استعمال ہوتا ہے اور دوسرے حضرات اس کو زاء کے ساتھ پڑھتے ہیں تو معنی ہوگا ، کہ ہم کیسے ان بوسیدہ ہڈیوں کو زمین سے اٹھاتے ہیں اور بعض کو بعض کے ساتھ جوڑتے ہیں ، ” انشاء الشیئ “ کہتے ہیں کسی چیز کو بلند کرنا اور اوپر اٹھانا ، اس آیت کے معنی میں مفسرین کا اختلاف ہے، بعض کے نزدیک اس سے گدھے کی ہڈیاں مراد ہے امام سدی (رح) کے نزدیک اس سے حضرت عزیز (علیہ السلام) کی ہڈیاں مراد ہیں کہ جب ان کو زندہ کیا تو ہم نے کہا کہ دیکھئے اپنے گدھے کی طرف وہ ہلاک اور اس کی ہڈیاں بوسیدہ ہوچکی ہیں ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ایک ہوا بھیجی جو اس گدھے کی ہڈیاں ادھر ادھر پھیلی ہوئی تھیں ، کوئی پہاڑ میں اور بعض ہڈیوں کو پرندے اور چوپائے لے گئے تھے ان سب کو جمع کیا ، اس حال میں کہ حضرت عزیز (علیہ السلام) دیکھ رہے تھے ، کہ وہ گدھا ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گیا اور اس پر نہ گوشت تھا اور نہ ہی خون (ثم نکسوھا لحما پھر ہم ان ہڈیوں کو گوشت پہناتے ہیں) پھر ہم نے ان ہڈیوں پر گوشت چڑھا دیا تو وہ گدھا بن گیا جو بغیر روح کے تھا پھر ایک فرشتہ چلتا ہوا آیا اس نے گدھے کے ناک میں پھونک ماری تو گدھا کھڑا ہوگیا اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے بولنے لگا ، بعض مفسرین نے کہا کہ اس سے مراد حضرت عزیز (علیہ السلام) کی ہڈیاں ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے گدھے کو زندہ رکھا اور ان کو موت دی تھی جب ان کو زندہ کرنا چاہا تو سب سے پہلے ان کی آنکھیں زندہ کیں پھر ان کے سر کو زندہ کیا جبکہ بقیہ جسم سارا مردہ تھا ، پھر فرمایا کہ دیکھ اپنے گدھے کو یہ اسی طرح کھڑا ہے جس طرح تو نے اس کو باندھا تھا ، سو سال تک اس نے نہ کچھ کھایا اور نہ پیا، ویسے کھڑا ہے اور اس کی رسی کی طرف دیکھا وہ بھی خراب نہیں ہوئی تھی جب سے اس کو باندھا گیا تھا اب تقدیری عبارت یوں ہوگی کہ تو دیکھ اپنے گدھے کی طرف اور دیکھ اپنی ہڈیوں کی طرف کہ ہم کیسے ان کو پیدا کرتے ہیں ۔ یہ قول حضرت قتادہ (رح) کا ہے جو انہوں نے کعب (رح) وضحاک (رح) سے اور انہوں نے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کیا تھا ، امام سدی (رح) اور مجاہد (رح) نے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے دوسری روایت نقل کی ہے جس کا واقعہ یہ ہے کہ جب حضرت عزیز (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے سو سال کے بعد زندہ کیا تو یہ گدھے پر سوار ہو کر اپنی بستی یا شہر میں پہنچے ، یہ نہ لوگوں کو پہچان سکے اور نہ ہی اپنے مکانوں کو اور نہ لوگ ان کو پہچان سکے ، اندازے سے یہ ایک گھر میں پہنچے تو وہاں ایک بڑھیا جو اپاہج اور اندھی تھی اس کے اوپر ایک سوبیس سال گزر گئے ، وہ حضرت عزیز (علیہ السلام) کو جانتی تھی ، حضرت عزیز (علیہ السلام) نے اس سے کہا اے فلاں ! کیا یہ عزیر کا گھر ہے وہ کہنے لگی جی ہاں یہ گھر حضرت عزیز (علیہ السلام) کا ہے اور وہ یہ کہہ کر رونے لگی اور کہنے لگی کہ اتنا اتنا عرصہ ہوگیا کسی کے منہ سے میں نے حضرت عزیز (علیہ السلام) کا تذکرہ نہیں سنا ، حضرت عزیز (علیہ السلام) بولے میں عزیر ہوں ، کہنے لگی سبحان اللہ ! ہم نے حضرت عزیز (علیہ السلام) کو ایک سو سال تک گم پایا ، اس کا ذکر کہیں سے نہیں سنا ، کہنے لگے میں عزیر (علیہ السلام) ہوں ، اللہ نے مجھے ایک سو سال تک موت دید ی تھی پھر مجھے دوبارہ زندہ کیا ، وہ بڑھیا کہنے لگی حضرت عزیز (علیہ السلام) تو مستجاب الدعوات شخص تھے وہ مریض یا مصیبت زدہ کے لیے دعا کرتے تھے تو شفا مل جاتی تھی تو آپ میرے لیے اللہ سے دعا کریں کہ وہ میری آنکھیں لوٹا دے تاکہ میں آپ کو دیکھ سکوں ۔ اگر تو حضرت عزیز (علیہ السلام) ہے تو تجھے پہچان لوں گی ، حضرت عزیز (علیہ السلام) نے دعا کی اور اس کی آنکھوں پر ہاتھ پھیرا تو اس کی دونوں آنکھیں ٹھیک ہوگئیں ، حضرت عزیز (علیہ السلام) نے اس کا ہاتھ پکڑا اور کہا کہ اللہ کے حکم سے کھڑی ہوجا تو وہ بالکل تندرست ہو کر کھڑی ہوگئی ، پھر اس نے حضرت عزیز (علیہ السلام) کی طرف دیکھا اور کہنے لگی ” اشھد انک عزیر “۔ میں گواہی دیتی ہوں کہ آپ عزیر (علیہ السلام) ہیں پھر یہ بنی اسرائیل کی طرف چلے ، یہ ان کی مجلسوں میں پہنچے اس وقت حضرت عزیز (علیہ السلام) کا بیٹا ایک سو اٹھارہ سال کا بوڑھا ہوچکا تھا اور اس مجلس میں آپ کے پوتے بھی بوڑھے ہوچکے تھے ، اس وقت اس بڑھیا نے اس مجلس میں آواز لگائی کہ یہ حضرت عزیز (علیہ السلام) ہیں جو تمہارے پاس آئے ہیں ، انہوں نے اس بات کو جھوٹ سمجھا ، اس نے کہا کہ میں فلاں وقت ان کی باندی تھی ، انہوں نے میرے لیے رب سے دعا کی کہ میری آنکھیں تندرست ہوگئیں اور میری ٹانگیں ٹھیک ہوگئیں ، اور میرا گمان ہے کہ اللہ نے ان کو سو سال موت دی پھر دوبارہ زندہ کیا ، یہ سن کر لوگ اٹھے ان کے بیٹے نے کہا کہ میرے والد کے کندھے کے درمیان ہلالی شکل کا ایک کالا مسہ تھا اس نے کندھے کو کھول کر دیکھا تو وہ نشانی پائی گئی وہ سمجھ گئے یہ حضرت عزیز (علیہ السلام) ہی ہیں ۔ سدی (رح) اور کلبی (رح) کا بیان ہے کہ جب حضرت عزیز (علیہ السلام) اپنی قوم کی طرف واپس لوٹے تو اس وقت بخت نصر نے تورات کو چلا دیا تھا کیونکہ اب ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی عہد نہیں تھا ، اس وجہ سے یہ رو دیئے ، ایک فرشتے نے برتن میں پانی لا کر آپ کو پلایا ، پانی پیتے ہی پوری تورات آپ کے سینے میں آگئی ، آپ بنی اسرائیل کے پاس لوٹ کر آئے تو پوری تورات زبانی یاد تھی آپ (علیہ السلام) نے قوم سے آکر فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے نبی بنا کر بھیجا ہے کہ میں عزیر ہوں ، قوم نے تصدیق نہیں کی ، حضرت عزیز (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں عزیر ہوں مجھے تمہاری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ میں تمہارے لیے تورات کو دوبارہ رلکھواؤں وہ کہنے لگے ہمارے لیے تورات لکھواؤ تو انہوں نے پوری تورات لکھوا دی تو وہ لوگ کہنے لگے کہ جس شخص کے دل میں اللہ تعالیٰ نے پوری تورات ڈالی وہ بلاشبہ خدا کا بیٹا ہے اور وہ عزیر ابن اللہ کہنے لگے اس کا مزید قصہ سورة برات میں آئے گا ۔ ان شاء اللہ ۔ (فلما تبین لہ پھر جب یہ کیفیت واضح ہوگئی) جب یہ بات ان پر کھل گئی (قال اعلم تو اس نے کہا مجھے یقین ہے) حمزہ (رح) اور کسائی (رح) نے اس کو مجزوم پڑھا امر کی وجہ سے اور دوسرے حضرات نے اعلم امر کا صیغہ ہے اور بعض نے ہمزہ کو حذف اور میم کو مرفوع پڑھا ہے خبر ہونے کی وجہ سے مطلب یہ ہوگا کہ جب حضرت عزیز (علیہ السلام) نے اپنی آنکھوں سے یہ سارا ماجرہ دیکھا تو فرمایا ” اعلم “ (ان اللہ علی کل شی قدیر بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے)
Ayahs 2:260–261

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اَرِنِیْ كَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰى١ؕ قَالَ اَوَ لَمْ تُؤْمِنْ١ؕ قَالَ بَلٰى وَ لٰكِنْ لِّیَطْمَئِنَّ قَلْبِیْ١ؕ قَالَ فَخُذْ اَرْبَعَةً مِّنَ الطَّیْرِ فَصُرْهُنَّ اِلَیْكَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلٰى كُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ یَاْتِیْنَكَ سَعْیًا١ؕ وَ اعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 2:260 in the Quran reader

اور جب ابراہیم نے (خدا سے) کہا کہ اے پروردگار مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کیونکر زندہ کرے گا خدا نے فرمایا کیا تم نے (اس بات کو) باور نہیں کیا ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں لیکن (میں دیکھنا) اس لیے (چاہتا ہوں) کہ میرا دل اطمینان حاصل کرلے خدا نے کہا کہ چار جانور پکڑو اور اپنے پاس منگا لو (اور ٹکڑے ٹکڑے کرادو) پھر ان کا ایک ایک ٹکڑا ہر ایک پہاڑ پر رکھو دو پھر ان کو بلاؤ تو وہ تمہارے پاس دوڑے چلے آئیں گے اور جان رکھو کہ خدا غالب اور صاحب حکمت ہے

مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ١ؕ وَ اللّٰهُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:261 in the Quran reader

جو لوگ اپنا مال خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان (کے مال) کی مثال اس دانے کی سی ہے جس سے سات بالیں اگیں اور ہر ایک بال میں سو سو دانے ہوں اور خدا جس (کے مال) کو چاہتا ہے زیادہ کرتا ہے، وہ بڑی کشائش والا اور سب کچھ جاننے والا ہے

(تفسیر) 260۔: (واذ قال ۔۔۔۔۔ تحی الموتی) اور یاد کرو جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا تھا اے میرے رب مجھے دکھا دے کہ مردوں کو تو زندہ کس طرح کرتا ہے) حضرت حسن (رح) ، قتادہ (رح) ، عطاء الخراسانی (رح) ضحاک (رح) ابن جریج (رح) اللہ تعالیٰ کے نزدیک سوال پوچھنے کا سبب یہ تھا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ایک مردار جانور کے پاس سے گزرے ، ابن جریج (رح) فرماتے ہیں کہ گدھے کی لاش سمندر کے کنارے پڑی دیکھی ، حضرت عطاء (رح) فرماتے ہیں وہ سمندر بحیرہ طبریہ کا تھا وہ کہتے ہیں کہ جب سمندر کا پانی اوپر آتا تو دریائی جانور اس مردار کو کھاتے اور جب پانی نیچے چلا جاتا تو خشکی کے جانور اس کو کھاتے اور جو حصہ ان دونوں جانوروں سے رہ جاتا وہ مٹی ہوجاتا اور کچھ درندے لے جاتے اور کچھ پرندے لے جاتے ، جو پرندوں سے چھوٹ جاتا وہ ہوا کی نذر ہوجاتا ، جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دیکھا تو تعجب کیا اور کہنے لگے اے میرے رب مجھے معلوم ہے کہ تو قیامت کے دن اس مردے کو درندوں کے پیٹوں ، پرندوں کے پوٹوں اور سمندری جانوروں کے پیٹوں سے جمع کرے گا ، مجھے اس کی کیفیت دکھلا دیجئے تاکہ میرے یقین میں مزید اضافہ ہو ۔ اس پر اللہ کی طرف سے عتاب نازل ہوا (قال اولم تؤمن قال بلی “۔ فرمایا کیا تجھے یقین نہیں ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بولے کیوں نہیں) یعنی اے میرے رب مجھے معلوم ہے اور میں اس پر ایمان بھی لاتا ہوں (ولکن لیطمئن قلبی “ لیکن میرا یہ سوال دل کے اطمینان کے لیے ہے) تاکہ میں اس کے معائنے اور مشاہدے کے بعد دل کو سکون دے سکوں اس سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) علم الیقین کے ساتھ ساتھ عین الیقین بھی چاہتے تھے کیونکہ کوئی خبر عین مشاہدہ کی طرح نہیں ہوتی ، بعض حضرات نے کہا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس سوال کرنے کا سبب وہ جھگڑا (مناظرہ) تھا جو نمرود کے ساتھ کیا تھا کہ انہوں نے اس کو کہا تھا کہ میرا رب تو وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اور موت دیتا ہے نمرود نے کہا کہ میں بھی تو زندہ کرتا ہوں اور موت دیتا ہوں تو اس نے دو آدمیوں کو بلایا ان میں سے ایک کو قتل کردیا ، دوسرے کو چھوڑ دیا ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ اس مردے کی طرف ارادہ فرمائے گا تو اس کو بھی زندہ کر دے گا اس پر نمرود نے کہا کہ تم نے خدا کو ایسے کرتے دیکھا ہے ، اس پر یہ نعم نہ کہہ سکے پھر یہ دوسری حجت کی طرف چلے ، پھر اس وجہ سے انہوں نے رب سے سوال کیا مجھے دکھا دے کہ مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے ، اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” اولم تؤمن “ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا بلی کیوں نہیں ” ولکن لیطمئن ‘ قلبی “ یعنی اس اپنی دلیل کو مضبوطی کے لیے یہ سوال کیا تاکہ جب مجھ سے یہ سوال کیا جائے کہ مردوں کو زندہ کرتے وقت تم نے دیکھا ہے تو میں کہہ سکوں نعم ۔ سعید بن جبیر (رح) سے روایت ہے فرماتے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا خلیل بنایا تو ملک الموت نے رب سے سوال کیا کہ کیا میں یہ خوش خبری حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو دے سکتا ہوں اس پر اللہ تعالیٰ نے فرشتے کو اجازت دے دی ، وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آیا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے گھر میں موجود نہیں تھے تو یہ فرشتہ گھر میں داخل ہوگیا ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) لوگوں میں حیا دار تھے ، جب یہ گھر سے باہر جاتے تو دروازہ بند کردیتے تھے ، پھر واپس آئے تو گھر میں ایک شخص کو دیکھا تو اس کے پیچھے بھاگے تاکہ اس کو پکڑ لیں ، اس کو کہا کہ تجھے کس نے اجازت دی کہ تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجا ہوا تو فرشتہ ہے ، پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پوچھا کہ تو کون سا فرشتہ ہے ؟ اس نے کہا کہ ملک الموت ہوں ، میں آپ (علیہ السلام) کو خوشخبری دینے کے لیے آیا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنا خلیل بنا لیا ہے، پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ کی حمد و تعریف کی ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پوچھا کہ اس کی علامت کیا ہے کہ آپ اللہ سے دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ آپ (علیہ السلام) کی دعا قبول کریں گے اور آپ (علیہ السلام) کی دعا سے اللہ مردوں کو زندہ کریں گے ، پھر اس وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا ” رب ارنی کیف تحی الموتی “۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” اولم تؤمن قال بلی ولکن لیطمئن قلبی “۔ بیشک آپ نے مجھے اپنا خلیل نہیں بنایا اور مجھے مستجاب الدعوات نہیں بنایا حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے زیادہ شک کے حق دار ہیں ، جب کہ انہوں نے اپنے رب سے کہا تھا (آیت)” اذ قال رب ارنی کیف تحی الموتی “۔ (آیت)” قال اولم تؤمن قال بلی ولکن لیطمئن قلبی “۔ اور حضرت لوط (علیہ السلام) پر اللہ کی رحمت ہو اور وہ ایک مضبوط سہارے کی طرف رجوع کرنے والے تھے ، اگر میں اتنا طویل زمانہ جیل میں رہتا جتنا حضرت یوسف (علیہ السلام) رہے تو میں بلانے والے کے بلاوے کو قبول کرلیتا ، یہی حدیث امام مسلم بن الحجاج نے حرملہ بن یحییٰ بن وہب سے اسی اسناد کے ساتھ نقل کی ہے اور یہ الفاظ ذکر کیے ۔ ” نحن احق بالشک من ابراھیم “۔ جب انہوں نے کہا تھا (آیت)” اذ قال رب ارنی کیف تحیی الموتی “۔ محمد بن اسحاق بن خزیمہ (رح) حضرت ابی ابراہیم اسماعیل بن یحییٰ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا مردوں کو زندہ کرنا نہ آپ (علیہ السلام) کے لیے کوئی شک کی چیز تھی اور نہ ہی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے اس میں کوئی شک تھا ، شک صرف اس بات میں تھا کہ اللہ تعالیٰ ہماری دعا قبول فرمائے گا یا نہیں ۔ ابو سلیمان خطابی (رح) فرماتے ہیں کہ حدیث میں شک کا اعتراف ہے ہی نہیں ، رسول اللہ ﷺ نے نہ اپنے شک کا اعتراف کیا نہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے شک کرنے کا بلکہ شک کی نفی موجود ہے پھر مطلب یہ ہوگا کہ مجھے شک نہیں تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بدرجہ اولی شک نہیں ہونا چاہیے آپ (علیہ السلام) کا ایسا فرمانا تواضع و انکساری کے طور پر اپنے کو چھوٹا اور ابراہیم (علیہ السلام) کو بڑا قرار دیا اور اسی طرح اس آیت میں ” لولبثث فی السجن طول مالبثت یوسف لاجبت الداعی “ کا بھی یہی مطلب ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تعرض شک کی بنیاد پر نہیں تھا بلکہ کسی چیز کے معائنہ سے علم و یقین میں اضافہ چاہتے ہیں کیونکہ کسی چیز کا دل میں یقین استدلال سے نہیں آتا جتنا آنکھوں سے دیکھنے سے ہوتا ہے اس پر بعض لوگوں نے کہا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے شک کیا لیکن ہمارے نبی کریم ﷺ نے شک نہیں کیا لیکن آپ پھر کیسے مثال بیان کی ؟ اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ یہ بات ممکن ہے محال نہیں اور جو چیز محال نہ ہو اس سے ضرب المثل جائز ہے ، اگرچہ فی نفسہ کسی خوشہ میں سات سو دانے نہیں ہوتے لیکن اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو اس میں اتنے دانے پیدا کرسکتے ہیں ۔ بعض نے کہا کہ باجرہ کے سٹے میں اتنے موجود ہوتے ہیں یہاں باجرہ مراد ہے ۔ بعض نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کاشت کار اس دانے کا کاشت کرتا تو اس کو سو دانے نکل آتے ۔ ضحاک (رح) نے تاویل کی ہے کہ ہر سٹے میں سودانے ہوتے ہیں ہیں (واللہ یضاعف لمن یشاء اور اللہ جتنا چاہتا ہے دگنا کردیتا ہے) بعض حضرات نے کہا کہ اللہ تعالیٰ جس کے لیے چاہتا ہے اس کے لیے ڈبل کردیتا ہے ۔ بعض نے اس کا یہ مطلب بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ اس پر تو دگنا دیتا ہے اور اس پر زیادہ جس کو چاہتا ہے دیتا ہے سات سے ستر تک اور ستر سے آگے سات سو تک جس کے لیے اللہ چاہے اس کو دگنا دے دے اور اس کو صرف اللہ ہی جانتا ہے (واللہ واسع اور اللہ بڑی وسعت والے) غنی ہے عطاء کرتا ہے اپنی وسعت سے (علیم جاننے والے ہیں) کہ کس نیت سے مال کو خرچ کیا ،
Ayah 2:262

اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًى١ۙ لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:262 in the Quran reader

جو لوگ اپنا مال اللہ کے راستے میں صرف کرتے ہیں پھر اس کے بعد نہ اس خرچ کا (کسی پر) احسان رکھتے ہیں اور نہ (کسی کو) تکلیف دیتے ہیں ان کا صلہ ان کے پروردگار کے پاس تیار ہے اور (قیامت کے روز) نہ انکو کچھ خوف ہوگا اور نہ غمگین ہوں گے

262۔ (آیت)” الذین ینفقون ۔۔۔۔۔۔۔ فی سبیل اللہ “ جو لوگ اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ۔ شان نزول : کلبی (رح) کہتے ہیں کہ یہ آیت عثمان بن عفان ؓ اور عبدالرحمن بن عوف ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ، کہ عبدالرحمن ؓ چار ہزار درہم صدقہ کے لیے کر آپ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ میرے پاس آٹھ ہزار درہم تھے، چار ہزار تو میں نے اپنے اور اپنے بچوں کے لیے رکھ لیے ہیں اور چار ہزار میں اپنے رب کو قرض دینے کے لیے لایا ہوں ان کو آپ ﷺ نے فرمایا جو درہم آپ نے اپنے پاس روک لیے اور جو اللہ کے راستے میں دیئے ہیں اس میں برکت عطا فرمائے ، پس حضرت عثمان ؓ تعالیٰ عنہ نے غزوہ تبوک کے موقع پر مسلمانوں کو ایک ہزار اونٹ ان کے کجاؤں اور عرق گیر دیئے تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی ، عبدالرحمن بن سمرہ ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان غنی ؓ نے جنگ تبوک کے موقع پر ایک ہزار دینار لا کر آپ ﷺ کی گود میں ڈال دیئے اور میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ ان دیناروں کو دونوں ہاتھوں پر الٹ پلٹ رہے ہیں اور فرما رہے کہ آج کے بعد حضرت عثمان غنی (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) جو بھی عمل کرے گا اس کو کوئی ضرر نہیں ہوگا ، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت)” الذین ینفقون اموالھم فی سبیل اللہ “۔ یعنی اللہ کی فرمانبرداری میں (ثم لا یتبعون ما انفقوا منا “ پھر جو لوگ راہ خدا میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں پھر خرچ کرنے کے بعد وہ نہ احسان جتلاتے ہیں) من کا معنی کسی کو کوئی چیز دے کر اس پر احسان جتلانا ، جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ میں نے تمہیں فلاں چیز عطا کی ہے پھر اس کی نعمت شمار کر کجے اس پر تنگی کی جاتی ہے (ولا اذی اور نہ دکھ کی بات کرتے ہیں) ” اذی “ سے مراد وہ اس پر عیب لگاتا ہے اور وہ اس کو پوچھتا ہے کہ تو مجھ سے کتنا مانگتا ہے اور کب تک مانگ مانگ کر ستائے گا یا اس پر خرچ کرنے کا تذکرہ ایسے لوگوں کے ساتھ کرے جن کا مطلع ہونا لینے والے کو ناگوار ہو ، سفیان (رح) فرماتے ہیں کہ ” منا ولا اذی “ کا معنی ہے کہ کوئی شخص دوسرے کو کوئی چیز دے کر اس سے کہے کہ تو نے شکر ادا نہیں کیا ، عبدالرحمن بن زید بن اسلم ؓ فرماتے ہیں کہ میرے والد کہا کرتے تھے کہ جب تو کسی شخص کو کچھ دے اور تجھے یہ بات محسوس ہو کہ تیرا اس کو سلام کرنا بھی گراں گزرتا ہے تو تم اس کو سلام بھی نہ کرو یعنی اس فعل سے تیرے دل میں اگر یہ خیال گزرتا ہے کہ کہیں یہ شخص یہ نہ سمجھے کہ احسان جتلانے کے لیے سلام کرتا ہے ۔ یہ بات اس شخص کے نفس کے لیے ہے وگرنہ من جانب اللہ اس خرچ کرنے والے شخص کے لیے تو فضیلت و باعث ثواب ہے ۔ (لھم اجرھم عند ربھم ان کا اجر خصوصیت کے ساتھ ان کے رب کے پاس ہے) یعنی اس کا ثواب (ولا خوف علیھم ولا ھم یحزنون اور نہ انکو خوف ہوگا اور نہ ہی وہ غم زدہ ہوں گے)
Ayah 2:263

قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ وَّ مَغْفِرَةٌ خَیْرٌ مِّنْ صَدَقَةٍ یَّتْبَعُهَاۤ اَذًى١ؕ وَ اللّٰهُ غَنِیٌّ حَلِیْمٌ Open ayah 2:263 in the Quran reader

جس خیرات دینے کے بعد (لینے والے کو) ایذا دی جائے اس سے تو نرم بات کہہ دینی اور (اس کی بےادبی ہے) درگزر کرنا بہتر ہے اور خدا بےپرواہ اور بردبار ہے

(تفسیر) 263۔ : (قول معروف بھلی بات اور نرمی کرنا) اس سے مراد اچھا کلام کرنا اور مسائل کو نرمی کے ساتھ لوٹا دینا ، بعض نے کہا کہ وہ نیکیوں کو شمار کرے ، امام کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ اس سے مراد وہ نیک دعا ہے جو کوئی اپنے بھائی کی غیر موجودگی میں اس کے لیے کرتا ہے، ضحاک فرماتے ہیں کہ اس آیت کا نزول باہمی نزاع کو دور کرنے کے متعلق ہوا (ومغفرۃ اور درگزر کرنا) یعنی پیٹھ پیچھے اس کا پردہ فاش نہ کرنا اور اس کو محتاجگی پر پردہ ڈالنا مراد ہے ، کلبی (رح) اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ جو شخص بھی اس کے ساتھ ظلم کرے اس کو معاف کرے اور بعض نے کہا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ فقیر جب مانگنے میں شدت اختیار کرے تو یہ اس کو درگزر کرے (خیر من صدقۃ بہتر ہے ایسی خیرات سے) وہ چیز جو سائل کو عطا کی ہے (یتبعھا اذی جس کے بعد دکھ پہنچایا جائے) اسی کے ساتھ احسان کا جتلانا یا اس کو عار دلانا ایسی بات کرنا جس سے اس کو اذیت پہنچے (واللہ غنی اور اللہ بےنیاز ہے) بندوں کے صدقے سے (حلیم احسان رکھنے والا ہے) دکھ دینے والے کو سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا جس نے احسان جتلا کر اور صدقہ دے کر ایذاء پہنچائی ۔
Ayah 2:264

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَ الْاَذٰى١ۙ كَالَّذِیْ یُنْفِقُ مَالَهٗ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَیْهِ تُرَابٌ فَاَصَابَهٗ وَابِلٌ فَتَرَكَهٗ صَلْدًا١ؕ لَا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّمَّا كَسَبُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:264 in the Quran reader

مومنو ! اپنے صدقات (و خیرات) احسان رکھنے اور ایذا دینے سے اس شخص کی طرح برباد نہ کردینا جو لوگوں کو دکھاوے کیلیے مال خرچ کرتا ہے اور خدا اور روز آخرت پر ایمان نہیں رکھتا تو اس (کے مال) کی مثال اس چٹان کی سی ہے جس پر تھوڑی سی مٹی پڑی ہو اور اس پر زور کا مینہ برس کر اسے صاف کر ڈالے (اسی طرح) یہ (ریاکار) لوگ اپنے اعمال کا کچھ بھی صلہ حاصل نہیں کرسکیں گے اور خدا ایسے ناشکروں کو ہدایت نہیں دیا کرتا

264۔ (یایھا الذین ۔۔۔۔۔۔۔ صدقاتکم اے ایمان والو ! تم اپنے اعمال کو برباد نہ کرو یعنی صدقات کا ثواب احسان جتلا کر ضائع نہ کرو (بالمن احسان جتلا کر) حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ ن ے اس کی تفسیر کی ہے کہ اللہ پر احسان رکھنا اور عامر مفسرین نے لینے والے پر احسان رکھنا مراد لیا ہے (والاذی اور ایذاء پہنچا کر) اس سائل کو جس پر احسان کیا ، پھر اس کی مثال بیان کی ، (کالذی ینفق مالہ جس طرح وہ شخص جو اپنا مال خرچ کرتا ہے) یعنی اپنے خرچ کیے ہوئے مال کو ضائع کردیتے ہیں (رئاء الناس لوگوں کو دکھانے کے لیے) دکھاوے اور شہرت کے لیے خرچ کرے تاکہ دینے والا یہ کہے کہ دیکھو فلاں شخص کتنا سخی ہے (ولا یؤمن باللہ والیوم الاخر اور ایمان نہیں رکھتا اللہ پر اور یوم قیامت پر) مطلب یہ ہے کہ دکھاوا خیرات کو باطل کردیتا ہے اور دکھاوے کے لیے خرچ کرنا مؤمنین کا فعل نہیں بلکہ منافقین کا فعل ہے کیونکہ کافر کفر کی وجہ سے ملعون ہے نہ کہ دکھاوے کی وجہ سے ۔ (فمثلہ سو اس شخص کی مثال ایسی ہے) دکھاوے کے لیے خرچ کرنے والے کی مثال (کمثل صفوان جیسے ایک چکنا پتھر) وہ پتھر جس پر چکناہٹ ہو ، یہ جمع اور واحد دونوں طرح مستعمل ہوتا ہے جن حضرات کے نزدیک یہ لفظ جمع ہے ان کے ہاں اس کا مفرد ” صفوانۃ “ آئی ہے اور جو کہتے ہیں کہ صفوان مفرد ہے تو ان کے نزدیک اس کی جمع ” صیفی “ آتی ہے (علیہ اس پر) چٹان پر (تراب فاصابہ وابل مٹی پڑی ہو اور اس پر زور کی بارش پڑجائے) وابل سے مراد ہوئے قطروں والی تیز بارش ہے ۔ (فتر کہ صلداتو اس کو چھوڑ دے صاف چکنا کرکے) صلدا اس پتھر کو کہتے ہیں جس پر چکناہٹ ہو اور اس پر اور کوئی چیز نہ ہو ۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں منافق ، ریا کار اور مؤمن جو خرچ کرکے احسان جتلاتا ہے یا ایذاء دیتا ہے ، ان کے صدقہ کرنے کی مثال دی ہے کہ ان لوگوں کے اعمال کی مثال ایسی ہے جیسے کہ ایک چٹان پر مٹی پڑی ہو جب قیامت کا دن ہوگا تو اس کے اعمال باطل ہوجائے اور مٹ جائیں گے کیونکہ اس نے یہ اعمال اللہ کی رضا کے لیے نہیں کیے بلکہ دکھاوے کے لیے کیے ہیں کہ جیسا کہ زور کی بارش جب اس چٹان پر پڑی جس پر مٹی کا گرد و غبار تھا تو وہ صاف ہوگئی ایسے ہی ان کے اعمال قیامت کے دن صاف ہوجائیں گے اور یہ بغیر اعمال صالحہ کے رہ جائیں گے (لایقدرون علی شی مما کسبوا) (ایسے لوگوں کو اپنی کمائی ذرا بھی ہاتھ نہ لگے گی) انہوں نے دنیا میں جو کام کیے آخرت میں اس کا کچھ حصہ بھی نہیں ملے گا یعنی ثواب نہیں ہے (واللہ لا یھدی القوم الکافرین “۔ اور اللہ کافر قوم کو ہدایت نہیں دیتا) محمود بن لبید ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے تمہارے متعلق زیادہ اندیشہ شرک اصغر کا ہے ، صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ شرک اصغر کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ریا کاری ۔ اللہ تعالیٰ جس دن اپنے بندوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے گا تو اس دن ان لوگوں کو کہے گا کہ تم ان لوگوں کے پاس جاؤ جن کو تم دنیا میں اپنا اعمال دکھایا کرتے تھے ، دیکھو ان کے پاس تم کو جزاء یا بھلائی مل سکتی ہے ۔ عقبہ بن مسلم نے بیان کیا کہ ابو سفیان الاصبحی نے بیان کیا کہ وہ مدینہ میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ ایک شخص لوگوں کو وعظ و نصیحت کر رہا تھا ، پوچھا کہ یہ کون شخص ہے ؟ کہا گیا کہ یہ وعظ کرنے والے حضرت ابوہریرہ ؓ ہیں کہتے ہیں کہ میں ان کے قریب ہوا یہاں تک کہ میں ان کے سامنے بیٹھ گیا اور وہ لوگوں کو حدیث بیان کر رہے تھے ، جب فارغ ہوئے تو میں نے ان سے کہا کہ میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ آپ مجھے وہ حدیث بیان کریں جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے، فرماتے ہیں کہ میں نے آپ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان فیصلہ فرمائیں گے اس وقت تمام امتیں جمع ہوں گی تو سب سے پہلے جس شخص کو بلایا جائے گا جس نے قرآن کریم جمع کیا ہوگا اور دوسرا شخص جس کو بلایا جائے گا وہ شہید ہوگا جس نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا اور تیسرا وہ شخص جس کو اللہ نے خوب مال عطا فرمایا ، پس اللہ تعالیٰ قاری القرآن سے فرمائیں گے کہ کیا تو نے قرآن کریم کا علم سیکھا وہ کہے گا کیوں نہیں اے میرے رب ! اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تو نے اس پر کیا عمل کیا ؟ تو اس نے کہا میں رات کو بھی قیام کرتا اور دن کو بھی قیام کرتا اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تو نے جھوٹ کہا اور فرشتے بھی اس کو کہیں گے کہ تو نے جھوٹ کہا ، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے بلکہ اس سے تمہاری نیت یہ تھی کہ تمہیں قاری کہا جائے اور وہ کہا جا چکا ، پھر صاحب مال کو بلایا جائے گا اللہ تعالیٰ اس سے فرمائیں گے کہ تجھے مال کی وسعت عطا کی گئی یہاں تک کہ تو نے ہر ایک محتاج پر خرچ کردیا (اس کو بھی نعمتیں یاد دلائی جائیں گی ، اس نے کہا کیوں نہیں اے میرے رب ! اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا تو نے یہ عمل کیوں کیا ؟ وہ کہے گا کہ میں نے یہ مال صلہ رحمی اور صدقہ کرنے کی وجہ سے خرچ کیا ، اللہ تعالیٰ اس سے فرمائیں گے کہ تونے جھوٹ بولا ، فرشتے بھی کہیں گے تو نے جھوٹ بولا ، اللہ تعالیٰ اس سے فرمائیں گے کہ تیرا اس طرح خرچ کرنے کا مقصد یہ تھا کہ تجھے سخی کہا جائے اور تجھے وہ کہا جا چکا ، پھر اس شخص کو لایا جائے گا جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں شہید ہوگیا ، اللہ تعالیٰ اس سے فرمائیں گے کہ تو کس لیے قتل کیا گیا ؟ وہ کہے گا کہ مجھے اللہ کے راستے میں جہاد کرنے کا حکم دیا گیا تھا تو میں نے قتال کیا یہاں تک کہ قتل ہوگیا ، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تو نے جھوٹ بولا اور فرشتے بھی اس کو جھوٹا کہیں گے اللہ تعالیٰ اس سے فرمائیں گے بلکہ تیرا ارادہ یہ تھا کہ تجھے بہادر کہا جائے اور وہ کہا جا چکا ، پھر آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ مبارک میرے کندھے پر رکھا اور کہا اے ابوہریرہ ! (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) یہ تین لوگ مخلوق میں ایسے ہیں جن کو قیامت کے دن پہلے جہنم میں ڈالا جائے گا ۔
Ayah 2:265

وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ وَ تَثْبِیْتًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍۭ بِرَبْوَةٍ اَصَابَهَا وَابِلٌ فَاٰتَتْ اُكُلَهَا ضِعْفَیْنِ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:265 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کیلیے اور خلوص نیت سے اپنا مال خرچ کرتے ہیں ان کی مثال ایک باغ کی سی ہے جو اونچی جگہ پر واقع ہو (جب) اس پر مینہ پڑے تو دگنا پھل لائے اور اگر مینہ نہ بھی پڑے تو خیر پھوار ہی سہی اور خدا تمہارے کاموں کو دیکھ رہا ہے

(تفسیر) 265۔: (ومثل الذین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مرضات اللہ) (اور ان لوگوں کی مثال جو اللہ کی رضا کے لیے اپنے مالوں کو خرچ کرتے ہیں) یعنی اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے لیے وہ خرچ کرتے ہیں (وتثبیتا من انفسھم) امام قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ اس سے مراد احتساب ہے ، امام شعبی (رح) ، کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ خرچ کرنا اپنے نفسوں کی طرف سے ہوتا تھا کسی کے دباؤ کی وجہ سے نہیں ہوتا ، اور یہ صدقہ اور زکوۃ پاکیزہ مال سے نکالتے ثواب کی امید رکھتے ہوئے اور اللہ کے وعدے کی تصدیق کرتے ہوئے اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ جو کچھ ہم نے خرچ کرلیا وہ ہمارے لیے بہتر ہے اس سے جو باقی رہ گیا ہے ۔ بعض نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کو معلوم تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کے بدلے میں مزید عطا فرمائے گا ۔ عطاء مجاہد رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ثابت قدم رہیں گے ، یعنی اپنے مال کو خرچ کرتے رہیں گے ، حسن (رح) فرماتے ہیں کہ جب کوئی انسان خرچ کرنے کا ارادہ کرتا تو اللہ تعالیٰ اس کو ثابت قدمی عطا فرماتے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے خرچ کرنے میں دریغ نہ کرتا ہاں اگر اس مال میں اس کو کوئی شک گزرے تو وہ خرچ کرنے سے رک جاتا ، اس لحاظ سے یہاں تثبیت سے تثبت ہو ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ” وتبتل الیہ تبتیلا “ تبتیلا سے مراد تبتلا ہے (کمثل جنۃ جیسے مثال اس باغ کی) جنت سے مراد باغ ہے مبرد اور فراء (رح) فرماتے ہیں کہ اگر باغ کھجوروں کا ہو تو اس کو جنت اور اگر انگوروں کا باغ ہو تو اس کو فردوس کہتے ہیں (بربوۃ جو اونچا ہموار میدان ہو) عاصم اور عامر نے راء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قاریوں نے راء کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اور سورة مؤمنون میں فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے ، وہ بلند ہموار میدان جہاں نہریں بہہ رہی ہوں اور نہروں کے کنارے طرفین کی زمین سے نہ اونچے ہوں اور نہ نیچے اس لیے نہ پانی اوپر آسکتا ہے اور نہ نیچے ، ایسے باغ کے درخت انتہائی خوبصورت اور صاف ستھرے ہوتے ہیں (اصابھاوابل) (جس پر اگر موٹے قطروں کی خوب بارش برس جائے) وہ بارش جو تیز بھی ہو اور زیادہ بھی ہو (فاتت اکلھا تو اس کے درخت دگنے پھل دیں) اکل سے مراد پھل ہیں نافع (رح) ، ابن کثیر (رح) ابو عمرو (رح) نے کاف کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے ، نافع ، ابن کثیر (رح) نے بھی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے ” اکلۃ اور ” الالکل “ کی طرح ہے اور ابو عمرو نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے جیسا کہ ” رسلنا ، رسلکم ، ورسلھم “ وسبلنا “ ہے ۔ (ضعفین دوگنا) اس کے پھل درخت پر دوگنے ہوجائیں ، عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ باغ ایک سال میں اتنا پھل دے جتنا کہ دو سال میں دیا جاتا ہے ، عکرمہ (رح) فرماتے ہیں کہ ضعفین سے مراد ہے کہ سال میں دو مرتبہ پھل دینا (فان لم یصبھا وابل فطل) پس اگر اس پر بارش نہ پڑے تو بارش کا ایک چھینٹا بھی کافی ہے) فطل سے مراد طش ہے وہ بارش جو بہت تھوڑی ہو اور لگاتار برستی رہے ۔ امام سدی (رح) فرماتے ہیں کہ وہ ندی ہے اللہ تعالیٰ نے یہ مثال مؤمن مخلص کی بیان کی ہے پھر کہا جائے گا کہ جس طرح یہ باغ ہر حال میں پھل دیتا ہے خواہ بارش کم ہو یا زیادہ اسی طرح اللہ تعالیٰ مخلص مؤمن کے صدقہ کو چند گنا کردیتے ہیں وہ صدقہ جس میں نہ دکھاوا ہو اور نہ ہی ایذاء دی گئی ہو برابر ہے کہ اس نے تھوڑا خرچ کیا ہو یا زیادہ اور یا ایسے ہے جیسا کہ بارش لگا تار برستی رہے (واللہ بما تعملون بصیر “ اور اللہ تمہارے اعمال کو خوب دیکھتا ہے)