Ayah 2:55(تفسیر) 55:
(آیت)” واذ قلتم یاموسی لن نؤمن لک حتی نری اللہ جھرۃ “۔ اور یہ اس لیے کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ بنی اسرائیل کے لوگوں کو ساتھ لے کر دربار الہی میں حاضر ہوں ، بچھڑے کی عبادت کے سلسلہ میں معذرت کریں ، پس حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم میں سے بہتر قسم کے ستر (70) آدمیوں کا انتخاب کیا اور ان کو فرمایا تم روزے رکھو اور طہارت کرو یعنی پاکیزگی اختیار کرو اور اپنے کپڑوں کو پاک صاف کرو ، چناچہ انہوں نے ایسا ہی کیا پس حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے رب کے مقرر وعدہ کے مطابق ان کو طور سینا کی طرف لے کر نکلے ۔
پس انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا ہمارے لیے طلب کیجئے کہ ہم اپنے رب کی کلام سنیں ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کرتا ہوں ۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پہاڑ کے قریب ہوئے تو ان پر بادل کا ایک ستون واقع ہوا اور وہ بادل سارے پہاڑ پر چھا گیا پس حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس بادل میں داخل ہوئے اور قوم کو فرمایا ، قریب ہوجاؤ ، پس قوم قریب ہوئی حتی کہ بادل میں داخل ہوگئی اور سجدے میں گرگئی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا حال یہ تھا کہ جب ان سے رب تعالیٰ کلام فرماتے تو ان کے چہرے پر ایک ایسا چمکدار نور واقع ہوتا کہ کسی فرد بشر کو تاب نظارہ نہ ہوتی ۔
پس بنی اسرائیل کے آئے ہوئے نمایندہ افراد کے آگے پردہ ڈال دیا گیا ، پس انہوں نے رب تعالیٰ کو سنا کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام فرما رہے ہیں ، حکم فرما رہے ہیں منع فرما رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سنایا ” انی انا اللہ لا الہ الا انا ذوب کہ ۔۔۔۔۔ الخ “ بیشک میں اللہ ہوں میرے سوا کوئی معبود نہیں میں بکہ (مکہ) والا ہوں ، میں نے تم کو مصر کی سرزمین سے سخت ہاتھ کے ساتھ نکالا ، پس میری عبادت کرو میرے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ، جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فارغ ہوئے اور بادل چھٹ گیا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نمائندگان قوم کی طرف متوجہ ہوئے تو انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کہا ہم تیری بات نہیں مانتے یہاں تک کہ ہم اللہ تعالیٰ کو کھلم کھلا نہ دیکھ لیں ۔ (نری اللہ کے ساتھ جھرۃ کی قید اس لیے لگائی) کہ اہل عرب دل کے ساتھ جان لینے کو بھی رویت کے ساتھ تعبیر کرتے ہیں (جسے رؤیۃ قلبی کہا جاتا ہے) تو ساتھ ہی جہرۃ ذکر دیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ اس دیکھنے سے ظاہرا آنکھوں کا دیکھنا مراد ہے ۔
(آیت)” اخذتکم الصاعقہ “ یعنی موت اور کہا گیا کہ آسمان سے آگ آئی اور انہیں جلا گئی ۔ (آیت)” وانتم تنظرون “ یعنی بعض بعض کی طرف دیکھ رہا تھا جب تم کو موت نے پکڑا اور کہا گیا کہ ” تنظرون “ بمعنی تعلمون “ ہے اور نظر بمعنی علم ہوگی ، پرھ جب وہ ہلاک ہوگئے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) رونے اور عاجزی کرنے لگ گئے اور فرمانے لگے میں بنو اسرائیل کو کیا جا کر کہوں گا جب ان کے پاس جاؤں گا کہ اچھے اچھے لوگ ہلاک ہوگئے ہیں ؟
اے اللہ اگر تو چاہتا تو اس سے پہلے تو ان کو بھی ہلاک کردیتا اور مجھے بھی اے اللہ تو کیا ہمیں اس عمل کے سبب ہلاک کرتا ہے جو عمل ہم میں سے بیوقوف لوگوں نے کیا ہے اسی طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے رب تعالیٰ کو قسمیں دیتے رہے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ایک ایک کو زندہ فرما دیا ، اس کے بعد کے وہ ایک دن ایک رات مرے رہے ، بعض ، بعض کو دیکھ رہے تھے کہ وہ کیسے زندہ کیے جارہے ہیں پس یہ ہے فرمان اللہ تعالیٰ کا ۔
Ayah 2:5656۔ (آیت)” ثم بعثناکم “ تم کو زندہ کیا اور بعث کسی شئی کو اپنی جگہ سے ابھارنا کہا جاتا ہے ، بعثت البعیر میں نے اونٹ کو اٹھایا ” وبعثت النائم “ اور میں نے سونے والے کو اٹھایا ، ابھارا ” فانبعث “ پس وہ اٹھا گیا (آیت)” من بعد موتکم “ حضرت قتادہ (رح) فرماتے ہیں ان کو اللہ تعالیٰ نے زندہ فرمایا تاکہ وہ اپنی بقیہ مدت عمر کو اور اپنے رزق کو پورا کریں ، اگر وہ اپنی مدت عمر پورا ہونے پر مرتے تو ان کو قیامت تک نہ اٹھایا جاتا ۔ (آیت)” لعلکم تشکرون “۔
Ayah 2:5757۔ (آیت)” وظللنا علیکم الغمام “۔ (تم پر بادلوں کا سایہ کیا) جنگل میں جو تمہیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا اور غمام غم سے ہے جس کا اصل معنی چھپانا ستر کرنا ہے بادل کو غمام اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ وہ سورج کے چہرے کو چھپاتا ہے اور یہ اس لیے کہ ان کے لیے جنگل میں کسی قسم کا کوئی جھونپڑا وغیرہ نہ تھا جو ان کو چھپاتا تو انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف شکایت کی ، پس اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف سفید اور پتلا بادل بھیجا جو بارش کے بادل سے زیادہ طیب تھا اور ان کے لیے نور کا ستون بھیجا جو ان کے لیے رات کو چمکتا تھا جب رات چاندنی نہ ہوتی (آیت)” وانزلنا علیکم المن والسلوی “ یعنی جنگل میں اکثر حضرات فرماتے ہیں کہ من ترنجبین تھی ، حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں وہ گوند کی طرح ایک چیز تھی جو درختوں پر واقع ہوتی تھی ، اس کا ذائقہ شہد کی طرح تھا ، حضرت وہب (رح) فرماتے ہیں وہ پتلی روٹی تھی ، یعنی چپاتی ۔
حضرت زجاج (رح) فرماتے ہیں اجمالی طور پر ” من “ ہر وہ چیز ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کسی پر بغیر کسی محنت ومشقت کے احسان فرما دیں ، سعید بن زید ؓ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا ” کماۃ “ یعنی کھنبی من سے ہے اس کا پانی بیماری سے شفاء ہے کہتے ہیں پس یہ من ہر رات ان کے درختوں پر واقع ہوتی تھی جیسے کہ برف ان میں سے ہر انسان کے لیے ایک صاع ہوتا قریبا پونے چار سیر پس وہ بولے اے موسیٰ ہم نے اس من کو اس کی مٹھاس کی وجہ سے قبول کرلیا پس ہمارے لیے اب رب سے دعا کیجئے کہ وہ ہمیں گوشت کا کھانا عنایت کرے ۔
پس اللہ تعالیٰ نے ان پر سلوی کو نازل فرمایا اور وہ ایک پرندہ ہے جو بیٹر کے مشابہ ہے، بعض نے کہا وہ بعینہ بیٹر ہی تو ہے اللہ تعالیٰ نے بادل کو اٹھایا ، پس اس نے اس پرندے کی بارش کی جو کہ طول وعرض میں ایک میل اور بلندی میں ایک نیزہ تک بعض بعض پر مؤرخ فرماتے سلوی اور شہد پس اللہ تعالیٰ ان پر من وسلوی کو ہر صبح نازل فرماتے طلوع فجر سے لے کر طلوع شمس تک ۔
پس ہر ایک ان میں سے اتنا کچھ لیے لیتا جو اسے ایک دن ایک رات کافی ہوتا اور جس دن جمعہ ہوتا تو ہر اک اتنا لیتا جو اسے دو دن کے لیے کافی ہوتا ، یہ اس لیے کہ بروز ہفتہ اس کا نزول نہ ہوتا تھا ، ” کلوا “ یعنی اور کہا ہم نے ان کو کھاؤ ” من طیبات “ حلال چیزوں سے ” ما رزقناکم “ اور کل کے لیے ذخیرہ نہ کرو ، پس انہوں نے کیا ” ذخیرہ “ پس اللہ تعالیٰ نے ان سے اسے روک دیا اور جو کچھ انہوں نے ذخیرہ کیا تھا وہ خراب ہوگیا اور اس میں کیڑے پڑگئے ، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت)” وما ظلمونا ولکن کانوا انفسھم یظلمون “ یعنی اور ہمارے حق میں انہوں نے کمی کوتاہی نہ کی بلکہ وہ اپنے نفسوں پر ظلم کرتے تھے ، اپنانقصان اس طرح کیا آخرت میں حق تعالیٰ کے عذاب کے مستحق ہوئے اور دنیا میں اپنا رزق کھویا جو بلامشقت دنیاوی اور بلاحساب اخروی انہیں ملتا تھا ۔
حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (اگر بنواسرائیل نہ ہوتے تو طعام کبھی خراب نہ ہوتا اور نہ کبھی گوشت بدبودار ہوتا اور اگر حضرت حواء (علیہا السلام) نہ ہوتیں تو کوئی عورت اپنے خاوند سے کبھی بھی خیانت نہ کرتی ۔
Ayah 2:58(تفسیر) 58۔:
(آیت)” واذقلنا ادخلوا ھذہ القریۃ “ قصبہ کو عربی زبان میں قریۃ اس لیے کہتے ہیں کہ اس میں قصبہ والے جمع ہوتے ہیں اور اسی سے ہے مقراۃ جو کہ حوض کو کہتے ہیں کیونکہ وہ بھی پانی جمع کرتا ہے۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں اس قصبہ سے مراداریحاء ہے اور یہ جبارین کی بستی تھی ، اس میں قوم عاد کے بقیہ لوگ تھے جنہیں عمالقہ کہا جاتا تھا ، ان کا سردار عوج بن عنق تھا اور کہا گیا ہے کہ بلقاء تھا حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ اس قریہ سے مراد بیت المقدس ہے ، حضرت ضحاک (رح) فرماتے ہیں یہ قریہ رملہ ، اردن ، فلسطین اور تدمر ہے، حضرت مقاتل ؓ فرماتے ہیں یہقریہ ایلیا ہے ، ابن کیسان (رح) فرماتے ہیں یہ قریہ شام ہے ۔
(آیت)” فکلوا منھا حیث شئتم رغدا “ تمہارے اوپر وسعت کی گئی ہے ، (آیت)” وادخلوا الباب “ یعنی قریہ کے درازوں میں سے کسی دروازہ میں داخل ہوجاؤ اور اس قریہ (قصبہ) کے ساتھ دروازے تھے ” سجدا “ یعنی حالت رکوع میں (جھکتے ہوئے) ٹیڑھے ہو کر حضرت وہب ؓ فرماتے ہیں جب تم اس میں داخل ہو وہ تو شکر ایزدی کے لیے سجدہ کرو ، ” وقولواحطۃ “ حضرت قتادہ (رح) فرماتے ہیں ہم سے ہماری خطائیں مٹا دے ، وہ استغفار کا حکم دیئے گئے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں ” لا الہ الا اللہ “ کا حکم دیئے گئے اس لیے کہ یہ کلمہ گناہوں کو گر دیتا ہیں اور ” حطۃ “ کی پیش اس تقدیری عبارت پر ہے ” قولومسالتنا حطۃ “ (یعنی کہو ہمارا سوال گناہوں کے گرانے کا ہے) (آیت)” نغفرلکم خطایاکم “ غفر سے ہے اور اس کا معنی ستر ہے پس مغفرت گناہوں کا چھپانا ہے ۔ حضرت نافع ؓ نے ” یغفرلکم “ پڑھایاء کے ساتھ اور پیش کے ساتھ اور فاء کے زبر کے ساتھ اور ابن عامر ؓ نے تاء کے ساتھ اور اس کی پیش کے ساتھ اور فاء کی زبر کے ساتھ اور سورة اعراف میں ” جمیعا “ پڑھا ہے اور یعقوب نے تاء اور اس کی پیش کے ساتھ اور باقی حضرات نے دونوں جگہ نون اور اس کی زبر کے ساتھ اور فاء کی زیر کے ساتھ ۔ (آیت)” وسنزید المحسنین “ ثواب۔
Ayah 2:5959۔ اپنے فضل سے ” فبدل “ پس بدل دیا (آیت)” الذین ظلموا “ اپنے نفسوں پر اور کہا (آیت)” قولا غیر غیر الذی قیل لھم “ اور یہ کہ بیشک انہوں نے حطۃ کے لفظ کو حنطۃ سے بدل دیا ، پس انہوں نے اپنی زبان میں کہا ” حطانا سمقانا “ یعنی سرخ گندم اللہ تعالیٰ کے امر کی اہانت کرتے ہوئے حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ ان کے لیے دروازہ کو پست کردیا گیا تاکہ اپنے سروں کو جھکا کر گزریں تو انہوں نے حالت سجدہ میں داخل ہونے سے انکار کردیا ۔ چناچہ حکم الہی کی مخالفت کرتے ہوئے چوتڑوں کے بل گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے اور فعلا مخالفت ایسے کی جیسے قول خداوندی کو تبدیل کردیا تھا اور جو بات ان کو کہنے کے لیے کہی گئی تھی اس کے خلاف بات کہی حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے تھے کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا (بنواسرائیل کو کہا گیا دروازہ میں بحالت سجدہ داخل ہو و اور حطۃ کہو ، پس انہوں نے تبدیل کردیا اور چوتڑوں کے بل گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے اور ” حبۃ فی شعرۃ “ کہتے ہوئے داخل ہوئے ۔
(آیت)” فانزلنا علی الذین ظلموا رجزا من السمائ “ کہا گیا ہے اللہ تعالیٰ نے ان پر طاعون بھیجا تو ایک ساعت میں ان میں سے ستر ہزار ہلاک ہوگئے (آیت)” بما کانوا یفسقون “ نافرمانی کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے امر سے نکل نکل جاتے تھے ۔
Ayah 2:60خاصیت آیت 60
(آیت)” وَإِذِ اسْتَسْقَی مُوسَی لِقَوْمِہِ فَقُلْنَا اضْرِب بِّعَصَاکَ الْحَجَرَ فَانفَجَرَتْ مِنْہُ اثْنَتَا عَشْرَۃَ عَیْْناً قَدْ عَلِمَ کُلُّ أُنَاسٍ مَّشْرَبَہُمْ کُلُواْ وَاشْرَبُواْ مِن رِّزْقِ اللَّہِ وَلاَ تَعْثَوْاْ فِیْ الأَرْضِ مُفْسِدِیْنَ (60)
ان آیات کو مٹی کے پاکیزہ برتن میں لکھے جو چکنا ہو یا شیشہ یا پتھر کے پیالہ میں لکھے اور موسم بہار کی بارش کے پانی سے دھو کر بوتل میں ڈال لے ۔ تین دن اس بوتل کو اسی طرح رہنے دے اس کے بعد اس پانی کو شربت گلاب میں ڈال کر اس میں تھوڑا ساسرخ بکری کا دودھ ملا کر آگ پر پکائے جب پک کر گاڑھا ہوجائے تو اس کو محفوظ کرلے ۔
جس آدمی کو پیاس بہت لگتی ہو وہ اس میں سے دو درہم کی مقدار صبح کو کھالے اور اتنا ہی شام کو اس کو پیاس کی شدت ختم ہوجائے گی ، اسی طرح اگر سفر میں کہیں ایسی جگہ ہے جہاں پانی نہ ہو اور پیاس بہت لگی ہو یا بیماری کی وجہ سے پیاس ہو بھی اس کے استعمال سے فائدہ ہوگا ۔
60۔ (آیت)” واذا استسقی موسیٰ “ پانی طلب کیا (لقومہ) اور یہ اس لیے کہ وہ تیہ (جنگل) میں پیاسے ہوئے پس انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے درخواست کی یہ کہ ۔
ان کے لیے پانی طلب کرے ، پس حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ایسا کیا ، پس اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی جیسے کہ فرمایا (آیت)” فقلنا اضرب بعصاک “ یہ عصا جنت کی لکڑی آس کا تھا اس کی لمبائی دس گز (شرعی) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی لمبائی کے مطابق اس کی دو شاخیں تھیں جو اندھیرے میں روشن ہوتی تھیں ، اس عصا کا نام علیق تھا ، اسے حضرت آدم (علیہ السلام) جنت سے لائے تھے ، پھر انبیاء کرام (علیہم السلام) وراثتہ لیتے آئے یہاں تک کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کے پاس پہنچا ۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے وہ عصا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دیا ، حضرت مقاتل ؓ فرماتے ہیں کہ عصا کا نام وصفی تھا ۔
” الحجر “ انہوں نے اس میں اختلاف کیا ، حضرت وہب ؓ نے فرمایا وہ کوئی خاص معین قسم کا پتھر نہ تھا بلکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جس کسی پتھر کو عصا مبارک مارتے اس سے چشمے بہہ نکلتے ، ہر قبیلہ کے لیے ایک چشمہ اور وہ بارہ (12) قبیلے تھے پھر ہر چشمہ ایک نالہ کے ذریعہ بہہ پڑتا ، اس قبیلہ کی طرف جن کو پلانے کا اس کو حکم دیا جاتا ، باقی حضرات فرماتے ہیں کہ وہ ایک مقرر قسم کا پتھر تھا ان کی دلیل یہ ہے کہ حجر کو معرف بالالف واللام لایا گیا ہے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ وہ ہلکا سا پتھر تھا ، مربع آدمی کے سر کے برابر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس کو اپنے تھیلے میں رکھتے تھے ، جب بنی اسرائیل پانی کے محتاج ہوتے ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس پتھر کو رکھتے اور اس کو عصا کے ساتھ مارتے ۔
حضرت عطا (رح) فرماتے ہیں کہ پتھر کے چار رخ تھے اور ہر رخ کی جانب تین چشمے اور ہر قبیلہ کے لیے ایک چشمہ اور کہا گیا ہے کہ پتھر نا تراشیدہ تھا اور کہا گیا ہے کہ نرم پتھر تھا ، اس میں بارہ (12) گڑھے تھے ، ہر گڑھے سے میٹھے چشمہ کا پانی بہتا تھا ، جب بنی اسرائیل والے فارغ ہوتے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اٹھانے کا ارادہ فرماتے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) عصا مارتے جس سے پانی ختم ہوجاتا اور روزانہ اس سے چھ لاکھ افراد پانی پیتے ۔
حضرت سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں یہ وہی پتھر ہے جس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے نہانے کے لیے کپڑے رکھے تھے تو وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے کپڑے لے بھاگ کھڑے ہوا اور بنی اسرائیل کے ایک مجمع پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے کپڑے لے کر گزرا ، جب بنواسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اور ہ بیماری (حصیوں میں روم کا ہوجانا) کے ساتھ مہتم کیا تھا جب وہ پتھر رک گیا تو حضرت جبرئیل (علیہ السلام) تشریف لائے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اس پتھر کو اٹھا لیا اور اسے اپنے تھیلے میں رکھا ، حضرت عطا (رح) فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بارہ (12) ضربیں اس پتھر میں لگاتے تو ہر ضرب مارنے کی جگہ پر عورت کے پستان کے سرے کی طرح کوئی چیز نمودار ہوتی پھر اس میں سے نہریں جاری ہوجاتیں اور بہہ پڑتیں ، اکثر اہل تفسیر فرماتے ہیں ” انبجست اور انفجرت “ ایک ہی چیز ہیں ۔
ابو عمر وبن علاء ؓ فرماتے ہیں ” انبحست “ کا معنی ہے عرقت یعنی مترشح ہونا رسنا اور ” انفجرت “ کا معنی بہنا پس یہ قول خداوندی ہے ” فانفجرت “ یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عصا مارا ، پس بہہ پڑے ، (آیت)” منہ اثنتا عشرۃ عینا “ خاندانوں کی تعداد کے مطابق (آیت)” قد علم کل اناس مشربھم “ اپنے پینے کی جگہ کوئی خاندان دوسروں کے پینے کی جگہ میں داخل نہ ہوتا تھا ۔ (آیت)” کلوا واشربوا من رزق اللہ “ یعنی ہم نے ان کو کہا من وسلوی سے کھاؤ اور پانی سے پیو ، پس یہ سب اللہ تعالیٰ کا رزق ہے جو تمہارے پاس بلا مشقت پہنچتا ہے (آیت)” ولا تعثوا فی الارض مفسدین “۔ عثی کا معنی سخت ترین فساد کرنا ” عثی یعثی عثیا “ (یعنی باب سمع ، ضرب ، فتح) اور ” عثایعثوعثوا “ یعنی باب نصر اور عاث یعیث عیثا) ۔
Ayah 2:61(تفسیر) 61:
(آیت)” واذ قلتم یا موسیٰ لن نصبر علی طعام واحد “ اور یہ اس لیے انہوں نے اتفاق کیا اور اکتا گئے من وسلوی کے کھانے سے اور علی طعام واحد اس لیے کہا حالانکہ وہ دو کھانے تھے اس لیے کہ عرب والے دو کو لفظ واحد سے تعبیر کرتے ہیں جیسا کہ واحد کو ۔
دو کے لفظ کے ساتھ تعبیر کرتے ہیں جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ہے (آیت)” یخرج منھما اللؤلؤ والمرجان “ حالانکہ لؤلؤ اور مرجان بحر شور سے نکلتے ہیں بحر شیریں سے نہیں اور کہا گیا ہے کہ بنی اسرائیل ایک کو دوسرے کے ساتھ ملا کر کھاتے تھے ، پس گویا کہ وہ دونوں طعام واحد تھے ، حضرت عبدالرحمن بن زید بن اسلم ؓ فرماتے ہیں کہ وہ من کو سلوی کے ساتھ گوندھتے تھے ، پس وہ دونوں طعام واحد بن گئے ، (آیت)” فادع لنا “ پس ہماری خاطر سوال کیجئے (آیت)” ربک یخرج لنا مما تنبت الارض من بقلھا وقثائھا وفومھا “ ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں ” الفوم الخبز “ یونی نوم روئی ہے ، حضرت عطا (رح) فرماتے ہیں الفوم گندم ہے ، علامہ قتیبی (رح) فرماتے ہیں فوم سے مراد وہ دانے ہیں جو سب کے سب کھائے جاتے ہیں (یعنی غلہ) کلبی (رح) فرماتے ہیں فوم کا معنی ثوم ہے (یعنی لہسن) (آیت)” وعدسھا وبصلھا “ (دال مسور اور پیاز) (قال) ان کو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا (آیت)” اتستبدلون الذی ھو ادنی “ نکما اور ردی ” بالذی ھو خیر “ اشرف اور افضل ؟ اور گندم کو قیمتا ادنی قرار دیا ، اگرچہ وہ من وسلوی سے بہتر ہے یا خیر سے مراد یہ کہ وجود کے لحاظ سے من وسلوی آسان تھے یعنی عادۃ سہل الحصول ہونے کے اعتبار سے خیر ، یا اور ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ من وسلوی کا مذکورہ چیزوں سے بہتر ہونا اس اعتبار سے ہے کہ من وسلوی اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان کے لیے منتخب ہوئی تھیں اور جو چیزیں بنی اسرائیل نے مانگیں وہ ان کی اپنی پسند تھی اپنے لیے ” اھبطوا مصرا “ یعنی پس اگر انہیں چیزوں کے حصول پر بضد ہو تو شہروں میں سے کسی بھی شہر میں اتر جاؤ۔
حضرت ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ اس مصر سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون والا شہر مصر مراد ہے مگر قول اول زیادہ صحیح ہے اس لیے کہ اگر مصر فرعون وموسی مراد ہوتا تو اسے منصرف نہ لایا جاتا (غیر منصرف ہوتا بوجہ علمیت وتانیث کے) (آیت)” فان لکم ماسالتم “ زمین کی پیداوار سے (آیت)” وضربت علیھم “ ان پر رکھ دی گئی اور وہ لازم کردیئے گئے (الذلۃ) ذلت و اہانت کہا گیا ہے جزیہ ۔
حضرت عطاء بن سائب ؓ فرماتے ہیں ذلت سے مراد اسلامی ممالک میں کفار کا علامت کفر کا اظہار ہے زنار وغیرہ یا پھر کفریہ شکل و صورت مثلا یہودیوں والی علامت ظاہر کرنا ” والمسکنۃ “ فقیر کو مسکین اس لیے کہا جاتا ہے کہ فقر نے اس کو اپنی جگہ پر ساکن کردیا اور حرکت کرنے سے بٹھا دیا ، لہذا تو اے مخاطب دیکھے گا کہ یہود اگرچہ مالدار ہوں مگر وہ ایسے نظر آتے ہیں گویا کہ وہ فقیر ہیں اور کہا گیا ہے ذلت دل کا فقر ہے پس تو یہود سے بڑھ کر کسی بھی ملت والے کو نہیں دیکھے گا کہ وہ مال پر حریص اور مال کے سلسلہ میں ذلیل ہو ۔ (آیت)” وباؤا بغضب من اللہ “ لوٹے اور باء کا استعمال صرف شر میں ہوتا ہے (یعنی بائکا معنی ہمیشہ شر کے ساتھ لوٹنے کا ہوگا)
ابوعبیدہ ؓ فرماتے ہیں انہوں نے غضب الہی کو اٹھایا اور اس کا اقرار کیا اور اسی (اقرار) سے ہے ” ابوء لک بنعمتک علی “ دعا میں یہ جملہ استعمال ہوتا ہے یعنی میں تیری خاطر ان نعمتوں کا اقرار و اعتراف کرتا ہوں جو تو نے مجھ پر فرمائیں اور ابوء بذنبی بھی اسی سے ہے کہ میں اپنے گناہوں کا اقرار و اعتراف کرتا ہوں ۔ ” ذالک “ یعنی غضب (آیت)” بانھم کانوا یکفرون بایات اللہ “ اوصاف محمدیہ اور تورات میں آیت رجم کا ہونے کا اور انجیل مقدس وقرآن کریم کا انکار کرتے تھے ۔ (آیت)” ویقتلون النبیین “ صرف نافع نے اس سلسلہ میں یہ قول کیا ہے کہ نبی دراصل ” نبی ئی “ ہے اور یہ باب انبا “ سے ہے دریں صورت نبی کا معنی خبر دینے والا ہوگا ۔ ” انبیا ینبی “ سے اور معروف قراۃ ترک ہمزہ سے ہے اور اس کی دو وجہیں ہیں ۔
(1) ایک وجہ یہ کہ یہ بھی ” الانبائ “ سے ماخوذ ہے اور ہمزہ کو کثرت استعمال کے باعث تخفیفا ترک کردیا گیا اور دوسری وجہ یہ کہ یہ بمعنی رفیع ہے اور نبوت سے لیا گیا اور یہ بلند مکان کو کہتے ہیں پس اس بنیاد پر ” النبیین “ اپنے اصل پر ہوگا (بغیر الھق) یعنی بلاجرم پس اگر کہا جائے بغیر الحق کیوں کہا ؟ حالانکہ نبیوں کا قتل ہونا ہی ناحق ہے۔ (جوابا) کہا جائے گا بغیر الحق کا ذکر قتل کے وصف کے لیے ہے اور قتل کبھی بالحق کے ساتھ موصوف ہوتا ہے اور کبھی بغیر الحق کے ساتھ موصوف ہوتا ہے اور یہ استعمال حق ایسے ہے جیسے لفظ حق کا استعمال اللہ تعالیٰ کے اس قول میں ہے (آیت)” قال رب احکم بالحق “ تو یہاں لفظ حق کا استعمال حکم کو موصوف بالحق کرنے کے لیے (یعنی حکم الہی چونکہ ہوتا ہی موصوف بالحق ہے لہذا بیان حقیقت کے لیے حق کی صفت سے حکم کو موصوف کیا گیا) یہاں یہ معنی نہیں کہ حکم الہی دو قسموں میں منقسم ہے جور (ظلم) کی طرف اور حق کی طرف روایت کیا جاتا ہے کہ بیشک یہود نے ستر نبیوں کو دن کے پہلے حصے میں قتل کردیا اور دن کے آخر حصہ میں تجارتی منڈیوں میں مصروف ہوگئے ، (آیت)” ذالک بما عصوا وکانوا یعتدون “ میرے حکم سے تجاوز کرتے میرے حرام کردہ امور کا ارتکاب کرتے ۔
Ayah 2:62(تفسیر) 62۔:
(آیت)” ان الذین امنوا والذین ھادو “ یعنی یہود ان کو ان نام سے موسوم اس لیے کیا گیا کہ انہوں نے ” انا ھدانا الیک “ کا بول بولا تھا یعنی ہم نے تیری طرف میلان کیا رجوع کیا ۔
اور کہا گیا ان کو یہود اس لیے کہا گیا) کیونکہ انہوں نے توبہ کی تھی یعنی بچھڑے کی عبادت سے توبہ کی تھی اور کہا گیا اس لیے کہ انہوں نے دین اسلام اور دین موسیٰ (علیہ السلام) سے اعراض کیا۔
فائدہ : (مایمیل کا صلہ جب عن آئے تو اس کا معنی اعراض کرنا ہوتا ہے) حضرت ابوعمرو بن العلاء ؓ فرماتے ہیں ” لانھم یتھودون “ یعنی وہ حرکت کرتے ہیں جب تورات پڑھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بیشک آسمانوں اور زمین نے بھی حرکت کی تھی جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات دی تھی (والنصاری) نصاری کے نام کے ساتھ اس لیے موسوم ہوئے کیونکہ حواریوں (عیسی (علیہ السلام) کے ساتھیوں) نے کہا تھا (آیت)” نحن انصار اللہ “۔ حضرت مقاتل ؓ فرماتے ہیں ان کو نصاری کا نام اس لیے دیا گیا کہ یہ لوگ ایک ایسی بستی میں اترے جسے ناصرہ کہا جاتا تھا اور کہا گیا (کہ ان کو نصاری اس لیے کہا گیا ) بوجہ منسوب ہونے ان کے نصرت کی طرف اور یہ بستی ہے جس میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اترتے تھے ۔ ” والصابئین “ اہل مدینہ نے والصابین والصابون “ یعنی ہمزہ کو ترک کرکے پڑھا اور باقیوں نے ہمزہ کے ساتھ اس کا اصل معنی خروج ہے کیا جاتا ہے صبا فلان یعنی ایک دین سے نکل کر دوسرے دین کی طرف گیا ۔
اور کہا جاتا ہے ” صبات النجوم “ جب ستارے اپنے طلوع ہونے کی جگہ سے نکلیں اور اسی سے ہے صباناب البعیر جب اونٹ کے دانت نکلیں پس یہ صابی بھی اس لیے ” صابئین “ کہلائے کہ ایک دین سے نکل کر دوسرے دین کی طرف چلے گئے حضرت عمر فاروق ؓ اور حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ اہل کتاب میں سے ایک قوم ہے سیدنا حضرت عمر فاروق ؓ فرماتے ہیں ان کی ذبائح بھی اہل کتاب کی ذبائح کی طرح حلال ہیں اور حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں نہ ان کی ذبائح حلال ہیں اور نہ ان کی عورتوں سے مناکحت جائز ہے ، حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں یہ ایک قبیلہ ہے شام کی طرف یہود ومجوس کے درمیان ۔
کلبی (رح) فرماتے ہیں صابی یہود و نصاری کی قوم ہے یہ لوگ سروں کا درمیانہ حصہ منڈاتے ہیں اور شرمگاہ (عضو مخوص) کو کٹاتے ہیں حضرت قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ یہ قوم وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کا اقرار کرتے ہیں اور زبور پڑھتے ہیں فرشتوں کی عبادت کرتے ہیں اور کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے ہیں انہوں نے ہر دین سے کچھ نہ کچھ لیا ہے ، حضرت عبدالعزیز بن یحیٰ (رح) فرماتے ہیں ” انقرضوا “ یعنی صائبین ختم ہوچکے ہیں (اب ان کا وجود نہیں ہے)
(آیت)” من آمن باللہ والیوم الاخر “ کہنا کیسے درست ہوسکتا ہے جبکہ آیت کی ابتداء میں (آیت)” ان الذین امنو “ فرما دیا گیا ؟ (جوابا) کہا گیا ہے کہ انہوں نے حکم آیت میں اختلاف کیا ، بعض نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس قوم (آیت)” ان الذین امنوا “ سے مراد ایمان تحقیقی لیا ہے ، پھر ان مؤمنوں میں اختلاف ہے ، پس ایک قوم نے کہا یہ وہ قوم ہے جو حضور اقدس ﷺ پر آپ ﷺ کی بعثت سے بھی پہلے ایمان لائے اور یہ لوگ دین (حق) کے متلاشی تھے مثلا حبیب نجار ، قس بن ساعدہ ، زید بن عمرو بن نفیل ، ورقہ بن نوفل ، براء الثنی ، ابو ذر غفاری ، سلمان فارسی ، بحیرا راہب اور وفد نجاشی ، پس بعض نے ان میں سے وہ ہیں جنہوں نے حضور ﷺ کو پایا اور آپ ﷺ کی پیروی کی اور بعض ان میں سے وہ ہیں جنہوں نے آپ کو نہیں پایا ۔
اورکہا گیا کہ یہ وہ مؤمن ہیں جن کا تعلق امم ماضیہ سے ہے اور کہا گیا اس سے مراد وہ مؤمن ہیں جو ان امت محمدیہ علی صاحبھا الف الف تحیۃ سے ہیں اور (آیت)” والذین ھادوا “ وہ ہیں جو دین موسیٰ (علیہ السلام) پر تھے اور تبدیلی نہ کی (یعنی دین موسیٰ میں تحریف نہ کی اور وہ نصاری مراد ہیں جو دین عیسیٰ (علیہ السلام) پر تھے اور (دین عیسیٰ میں) تبدیلی نہ کی اور اسی پر مرگئے ، انہوں نے کہا کہ یہ دونوں نام (یہود ونصاری) صرف ان کے لیے لازم ہیں ، زمانہ ، موسیٰ و عیسیٰ (علیہما السلام) میں جبکہ وہ حق پر تھے جیسے اسلام کا نام امت محمدیہ کے ساتھ خاص ہے اور صابون کا نام صایئین کے ساتھ اس وقت خاص جبکہ ان کا امر دین مستقیم ومستحکم تھا ، ” من امن “ اس سے مراد وہ لوگ ہوں جو ایمان کی حالت میں مرے ہوں کیونکہ حقیقت ایمان (جو عند اللہ معتبر ہے) وہی ہے جو زندگی بھر رہے اور یہ بھی جائز ہے کہ واؤ مضمر ہو یعنی ” ومن امن بعدک یا محمد الی یوم القیمۃ “ اے محمد جو لوگ آپ کے بعد قیامت تک ایمان لائیں گے ۔
اور بعض نے کہا کہ جو لوگ موصوف بالایمان ابتداء آیت میں مذکور ہیں وہ علی طریق مجاز مراد ہیں نہ کہ حقیقتا پھر ان مؤمنین میں انہوں نے اختلاف کیا ، بعض نے کہا یہ وہ لوگ ہیں جو انبیاء سابقین پر ایمان لائے اور آپ ﷺ پر ایمان نہ لائے اور کہا گیا اس سے مراد منافقین ہیں جو صرف زبان سے ایمان لائے اور دل سے ایمان نہ لائے اور وہ یہود و نصاری مراد ہیں جو یہودیت ونصرانیت کے تحریف و تبدیل کے بعد معتقد ہوئے اور صابئین کفار کی قسم ہے جو شخص ایمان لایا اللہ تعالیٰ اور یوم آخر پر ان اقسام کفار میں سے دل کے ساتھ بھی اور زبان کے ساتھ بھی ۔ (آیت)” وعمل صالحا فلھم اجرھم عند ربھم “ اور یہاں ضمیریں جمع والی لائی گئیں ، یہ اس لیے کہ ” من “ واحد تثنیہ جمع مزکر مؤنث سب کی صلاحیت رکھتا ہے ، (سب اس کا مصداق بن سکتے ہیں) (آیت)” ولا خوف علیھم “ دنیا میں ” ولا ھم یحزنون “ آخرت میں ۔
Ayah 2:6363۔ (آیت)” واذا اخذنا میثاقکم “ تمہارا عہد اے گروہ یہود (آیت)” ورفعنا فوقکم الطور “ یہ سریانی زبان میں پہاڑ کو کہتے ہیں بعض کے قول کے مطابق اور یہ قول مجاہد کا ہے اور کہا گیا ہے کہ دنیا میں کوئی لغت ایسی نہیں جو قرآن میں موجود نہ ہو ، اکثر حضرات کا کہنا ہے کہ قرآن کریم لغت عرب کے بغیر اور کوئی لغت نہیں ہے ۔ ان حضرات کی دلیل (آیت)” قرانا عربیا “ فرمان الہی ہے باقی رہی یہ بات کہ یہ لفظ سریانی یا اس کے مثل اور غیر عربی الفاظ جو قرآن پاک میں موجود ہیں تو ان کا جواب یہ ہے کہ یہ محض اتفاق ہے کہ یہ یا اس قسم کے اور الفاظ سریانی یا اور قسم کے غیر عربی بھی ہیں اور عربی بھی ، تو گویا یہ وفاق بین اللغتین ہوگیا ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فلسطین کے پہاڑوں میں سے کسی پہاڑ کو حکم دیا تو وہ اپنی بنیاد سمیت اکھڑا حتی کہ ان کے سروں پر آکھڑا ہوا اور یہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے تورات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل فرمائی پس حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو حکم دیا کہ تورات کو قبول کریں اور اس کے احکام پر عمل پیرا ہوں پس انہوں نے انکار کردیا ، اس سے کہ اسے قبول کریں بوجہ اس گرانباری کے جو ان احکام میں تھی اور شریعت وزنی تھی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو حکم دیا پس اس نے پہاڑ کو ان کے لشکر کے برابر اکھاڑا جو کہ تین میل طول وعرض میں تھا پس اس پہاڑ کو ان کے سروں پر قامت انسانی کے برابر سایہ کی طرح اونچا لا کھڑا کیا اور ان کو کہا اگر تم نے تورات کو (یعنی اس کے احکام) قبول نہ کیا اس پہاڑ کو تمہارے اوپر چھوڑ دوں گا ۔
حضرت عطاء حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے پہاڑ کو ان کے سروں پر بلند کیا اور ان کے چہروں کے سامنے آگ کو بھیجا اور ان کے پیچھے بحر شور تھا ، ” خذوا “ اس لیے ہم نے ان کو کہا خذوا پکڑو ” مااتیناکم “ (جو کچھ) ہم نے تم کو دیا ۔ ” بقوۃ “ پوری کوشش اور محنت کے ساتھ اور ہمیشہ کے لیے ” واذکروا “ اور درس دو (مافیہ) اور کہا گیا یاد کرو اور عمل کرو ” لعلکم تتقون “ تاکہ تم دنیا میں ہلاکت سے نجات پاؤ اور آخرت میں عذاب سے بچو ، پس اگر تم نے قبول کرلیا ، ” فبھا “ ورنہ اس پہاڑ سے تمہیں کچل دوں گا اور اس سمندر میں غرق کر دوں گا اور اس آگ میں تمہیں جلادوں پس جب انہوں نے دیکھا ان عذابوں سے بھاگنے کی کوئی صورت نہیں قبول کیا اور سجدہ کیا اور حالت سجدہ میں کن انکھیوں سے پہاڑ کو دیکھتے تھے ، پس یہی طریقہ یہود کے ہاں سنت قرار پایا کہ وہ نصف چہرے پر سجدہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس سجدہ کے باعث ہم سے عذاب اٹھایا گیا ۔
Ayah 2:64(تفسیر) 64۔:
(آیت)” ثم تولیتم “ تم نے اعراض کیا ” من بعد ذالک “ قبول تورات کے بعد (آیت)” فلولا فضل اللہ علیکم ورحمتہ “ یعنی مہلت دینے اور تم سے تاخیر عذاب کرکے ” لکنتم “ البتہ تم ہوجاتے (آیت)” من الخاسرین “ سزا اور دنیا وآخرت کے چلے جانے (یعنی ان کے منافع) کے باعث نقصان میں پڑجاتے اور کہا گیا ہے خاسرین کا معنی ہے فی الحال عذاب یافتہ لوگوں میں سے ہوجاتے ، گویا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو مہلت دے کر رحم فرمایا ۔
Ayah 2:6565۔ (آیت)” ولقد علمتم الذین اعتدوا منکم فی السبت “ یعنی جن لوگوں نے حد سے تجاوز کیا ، سبت کا اصل معنی قتل کرنا ہے، کہا گیا ہے کہ سبت کو سبت اس لیے کہا گیا کہ اس دن اللہ تعالیٰ نے عمل آفرینش (پیدا کرنے کا عمل) ختم فرما دیا کہا گیا ہے کہ ہفتہ کے دن کو سبت اس لیے کہا گیا کہ یہود کو حکم دیا گیا کہ اس دن اعمال ختم کردیں ، قصہ یہ ہوا کہ یہود حضرت داؤد (علیہ السلام) کے زمانہ میں ایک ایسی جگہ تھے جسے ایلہ کہا جاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر بروز ہفتہ مچھلی کا شکار حرام کردیا ۔
پس جب ہفتہ کا دن ہوتا سمندر کی ساری مچھلیاں وہاں (مقام ایلہ پر) جمع ہو کر بوجہ امن کے وہاں پانی سے منہ نکالتیں اور مچھلیوں کی کثرت کے باعث پانی بھی نظر نہ آتا تھا ، پھر جب ہفتہ ختم ہوتا متفرق ہوجاتیں اور سمندر کی گہرائی کو لازم پکڑتیں اور کوئی مچھلی نظر نہ آتی پس یہی ہے قول خداوندی (آیت)” اذ تاتیھم حیتانھم یوم سبتھم شرعا ویوم لا یستبتون لاتاتیھم “ اس فرمان الہی کا ترجمہ یہ ہے کہ جب ہفتہ کا دن ہوتا تو ان کو مچھلیاں ظاہر و باہر ہو کر آتیں (یعنی پھدکتی کودتی سامنے آتیں) اور جس دن ہفتہ نہ ہوتا ان کو مچھلیاں نہ آتی تھیں ، پھر شیطان نے ان کی طرف وسوسہ ڈالا اور کہا کہ تمہیں جو منع کیا گیا ہے ۔
مچھلیوں کے پکڑنے سے اس کا تعلق صرف اور صرف ہفتہ کے دن سے ہے تو لوگوں نے سمندر کے اردگرد حوض کھود ڈالے اور سمندر سے حوضوں کی طرف نہریں نکالیں ، پھر جب جمعہ کی شام ہوتی ان نہروں کو کھول دیتے تو پانی کی موج مچھلیوں کو حوضوں کی طرف لے آتی پس حوضوں کی گہرائی اور پانی کی قتل کے باعث مچھلیاں پانی پر قادر نہ ہوتیں ، پھر جب اتوار کا دن ہوتا تو مچھلیوں کو پکڑ لیتے اور کہا گیا ہے کہ مچھلیوں کو ہفتہ کے دن حوضوں کی طرف ہانک لاتے پکڑتے نہ تھے پھر اتوار کے دن پکڑ لیتے ۔
اور کہا گیا ہے کہ جالیں اور کنڈیاں جمعہ کے دن لگاتے اور اتوار کے دن نکالتے ، کچھ عرصہ انہوں نے ایسا کیا اور ان پر عذاب نازل نہ ہوا پس وہ گناہ پر دلیر ہوگئے اور کہنے لگے ہم اس کا اور کوئی سبب نہیں جانتے مگر یہی کہ (شکار کرنا) ہمارے لیے حلال کیا گیا ، پس انہوں نے مچھلیوں کو پکڑا اور کھایا اور نمک لگایا ، بیچا اور خریدا اور ان کا مال بڑھ گیا ، جب انہوں نے یہ کیا تو قریہ والے جن کی تعداد قریبا ستر (70) ہزار تھی ، تین حصوں میں تقسیم ہوگئے ۔
1۔ ایک قسم لوگوں کی وہ تھی جو شکار کرنے سے خود بھی رکے اور شکار کرنے والوں کو منع کیا ۔
2۔ اور ایک قسم لوگوں کی وہ تھی جو شکار کرنے سے خود تو رکے لیکن شکار کرنے والوں کو منع نہ کیا ۔
3۔ اور ایک قسم وہ تھی جنہوں نے حکم خداوندی کی ہتک حرمت کی ، منع کرنے والے بارہ (12) ہزار تھے جب مجرموں نے ان کی نصیحت قبول کرنے سے انکار کیا تو منع کرنے والوں نے کہا اللہ تعالیٰ کی قسم ہم تمہارے ساتھ مل کر ایک بستی میں ہرگز نہ رہیں گے ، پس انہوں نے قصبہ کو دیوار کے ساتھ تقسیم کردیا اسی طرح انہوں نے دو سال مغایرت اختیار کی اور ان کو حضرت داؤد (علیہ السلام) نے لعنت کی اور اللہ تعالیٰ ان پر ناراض ہوا ان کے گناہ پر اصرار کرنے کی وجہ سے ، پس منع کرنے والے ایک دن اپنے دروازہ سے نکلے اور مجرموں میں سے کوئی بھی نہ نکلا اور نہ ہی انہوں ن ے اپنا دروازہ کھولا جب انہوں نے کافی دیر کی تو یہ دیوار پر چڑھ گئی پس اچانک کیا دیکھتے ہیں کہ وہ سب کے سب بندر بنے ہوئے ہیں ان کی دمیں ہیں اور بندروں کی طرح آوازیں کر رہے ہیں حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں کہ جوان بندر ہوگئے اور بوڑھے خنزیر بن گئے اور تین دن بند رہے پھر ہلاک ہوگئے، تین دنوں سے زیادہ مدت مسخ نہ رہا اور نہ ان میں توالد وتناسل ہوا۔
(آیت)” فقلنا لھم کونوا قردۃ “ یہ امر ، امر تحویل وتکوین ہے (یعنی ایسا امر جس میں کسی کو کچھ ہوجانے کا حکم دیا جائے) ” خاسئین “ دور کیے ہوئے دھتکارے ہوئے کہا گیا ہے اس میں تقدیم و تاخیر ہے یعنی ہوجاؤ دھتکارے ہوئے بندر اور اسی لیے ” خاسئات “ نہیں فرمایا اور ” خسا “ کا معنی دھتکارنا اور دور کرنا ہے اور ” خسا “ کا فعل لازم بھی ہے اور متعدی بھی کہا جاتا ہے ، خساتہ خسئا میں اس کو دور کیا ، دور کرنا ” فخساخسوا “ پس وہدور ہوا دور ہونا یہ ایسے ہے جیسے ” رجعۃ رجعا “ میں اس کو لوٹا یا لوٹانا۔ فرجع رجوعاپس وہ لوٹا لوٹنا۔
Ayah 2:6666۔ (آیت)” فجعلناھا “ یعنی ہم نے بنادیا مسخ والی سزا دینے کو (نکالا) یعنی سزا اور عبرت نکال ہر اس سزا کا نام ہے جس کو دیکھنے واولا اس فعل سے رک جائے جس فعل کی سزا وہ دی گئی ہے اور اسی سے ہے ” نکول عن الیمین “ اور وہ رک جانا ہے ، اس کی اصل نکل ہے اور وہ قید (بیڑی ، ہتھکڑی) ہے۔
اور اس کی جمع انکال ہے (آیت)” لمابین یدیھا “ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں ” مابین یدیھا “ سے مراد سابقہ گناہ ہیں ، یعنی ہم نے اس سزا کو جزا بنادیا ، ان گناہوں کی جو شکار سے منع کرنے سے بھی پہلے واقع ہوئے ” وما خلفھا “ جو گناہ اب موجود ہیں جن کے باعث ان کا مواخذہ کیا گیا اور یہ گناہ مچھلیاں پکڑنے کا ہے حضرت ابو العالیہ ؓ اور حضرت ربیع ؓ فرماتے ہیں (اس کا معنی یہ ہے) کہ ان کے گزشتہ گناہوں کی سزا اور ان کے بعد آنے والوں کے لیے عبرت اس بات سے کہ ان کا طریقہ اختیار کریں دوسرا (ما) بمعنی من ہے اور کہا گیا ہے کہ ” جعلناھا “ یعنی اصحاب سبت والوں کی بستی کو ہم نے ان کے سامنے والوں کے لیے عبرت بنادیا ، یعنی ان بستیوں کے لیے جو اس وقت موجود تھیں اور (آیت)” وما خلفھا “ اور جو بستیاں بعد میں وجود میں آئیں گی تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔
اور کہا گیا ہے اس میں تقدیم و تاخیر ہے ، تقدیر عبارت یوں ہوگی ” فجعلناھا وما خلفھا “ یعنی جو کچھ آخرت میں ان کے لیے عذاب تیار کیا گیا ۔ ” وجزاء لما بین یدیھا “ یعنی بدلہ ان گناہوں کا جو پہلے ہوئے ان کے گناہوں میں سے بسبب زیادتی کرنے ان کے ہفتہ کے معاملہ میں (آیت)” وموعظۃ للمتقین “ مؤمنین کے لیے جو حضور ﷺ کی امت میں سے ہیں پس ان کے کام کی طرح یہ کام نہ کریں ۔
Ayah 2:6767۔ (آیت)” واذ قال موسیٰ لقومہ ان اللہ یامرکم ان تذبحوا بقرۃ “ بقرہ بقر (بیل) کی مؤنث ہے ، کہا جاتا ہے کہ بقرہ بقر سے مشتق ہے جس کے معنی پھاڑنا ہے ، بقر (بیل) کو بقر اس لیے کہتے ہیں کہ وہ زمین پھاڑتا ہے یعنی ہل چلاتا ہے ، قصہ یہ ہوا کہ بنی اسرائیل میں ایک مالدار شخص تھا اور اس کا ایک چچا زاد فقیر تھا اور اس مالدار شخص کا اس فقیر چچا زاد کے سوا اور کوئی وارث نہ تھا جب مالدار کی موت کا معاملہ لمبا ہوا کہ وہ جلدی نہ مرا تو چچا زاد نے اس کو قتل کردیا اور اٹھا کر دوسری بستی کے علاقہ میں پھینک دیا اور صبح کو اس کے قصاص کا کرنے لگا اور لوگوں کو لے کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس ان پر قتل کا دعوی کرتا تھا ، پس حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے پوچھا ۔
تو ان لوگوں نے قتل کا انکار کیا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر معاملہ قتل مشتبہ ہوگیا ، کلبی کہتے ہیں یہ معاملہ اس وقت پیش آیا جبکہ تورات میں ” قسامۃ “ کا حکم نہیں آیا تھا (قسامت یہ ہوتی ہے کہ جب کوئی مقتول کسی علاقہ میں پایا جائے اور قاتل معلوم نہ ہو تو مقتول کا ولی محلہ یا علاقہ کے پچاس (50) آدمیوں سے قسم لیتا ہے جو ان الفاظ سے قسم اٹھاتے ہیں ۔ اللہ کی قسم نہ ہم نے اس کو قتل کیا اور نہ ہی ہمیں اس کے قاتل کا علم ہے ، دریں صورت وہ قسم اٹھا دیں تو اہل محلہ پر دیت تقسیم ہوجاتی ہے) مترجم ۔ تو بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے درخواست کی کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا مانگیں تاکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کی برکت سے اللہ تعالیٰ قاتل کو ظاہر کردیں ۔ ل
پس اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ گائے ذبح کریں ، پس حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو فرمایا (آیت)” ان اللہ یامرکم ان تذبحوا بقرۃ “ (بےشک اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم گائے ذبح کرو) مترجم (آیت)” قالوا اتتخذنا ھزوا “ یعنی (اے موسیٰ علیہ السلام) تم ہم سے استھزاء کرتے ہو ہم تم سے مقتول کے بارے میں سوال کرتے ہیں اور تم ہمیں گائے ذبح کرنے کا حکم دیتے ہو اور یہ بات بنی اسرائیل نے اس لیے کہی کیونکہ دونوں باتوں میں بظاہر بڑی دوری تھی اور وہ یہ نہ جان سکے کہ اس (حکم الہی) میں کیا حکمت ہے حضرت حمزہ ؓ نے ” ھزوا وکفوا “ تخفیف کے ساتھ پڑھا اور باقیوں نے ثقیل (یعنی شد) کے ساتھ پڑھا ہے اور حفص ہمزہ کو چھوڑتے ہیں ، (قال) موسیٰ (نے کہا) ” اعوذ باللہ “ میں اللہ تعالیٰ کی مدد سے رکتا ہوں ۔ ”(آیت)” ان اکون من الجاھلین “ یعنی ایمان والوں کے ساتھ استھزاء کرنے والا بن جاؤں اور کہا گیا ہے (آیت)” من الجاھلین “ کا معنی یہ ہے کہ میں جواب مطابق سوال نہ دینے والا بن جاؤں کیونکہ سوال کے مطابق جواب نہ دینا جہل ہے ۔
جب قوم بنی اسرائیل اس بات کو جان گئی کہ گائے کا ذبح کرنا اللہ تعالیٰ کی طرف سے پختہ حکم ہے تو گائے کے اوصاف پوچھنے شروع کردیئے اگر وہ معمولی درجہ کی گائے کی طرف قصد کرکے ذبح کردیتے تو وہ گائے ان کے لیے کافی تھی لیکن انہوں نے اپنے آپ پر (غیر ضروری سوال کرکے) سختی کی تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان پر سختی کی اور اس (حکم) کے تحت بھی حکمت پوشیدہ تھی کہ بنی اسرائیل میں ایک نیک آدمی تھا اور اس کا ایک بچہ (بیٹا) تھا اور ایک بچھڑی تھی ، اس بچھڑی کو جھاڑیوں کی طرف لے آیا اور کہا اے اللہ ! میں اس بچھڑی کو اپنے بیٹے کی خاطر تیرے سپرد کرتا ہوں ، یہاں تک کہ یہ بڑی ہوجائے۔
یہ آدمی مرگیا اور وہ بچھڑی جھاڑیوں میں (پل کر) جوان ہوگئی اور وہ بچھڑی (جواب بڑی ہوچکی تھی) جس کسی کو دیکھتی اس سے بھاگتی (بدکتی) جب اس آدمی کا بچہ بڑا ہوگیا اور اپنی والدہ کا فرمانبردار تھا اس نوجوان نے اپنی رات کے تین حصے کر رکھے تھے رات کی ایک تہائی نماز پڑھتا ، ایک تہائی سوتا اور ایک رات کی ایک تہائی (ماں کی خدمت کے لیے) ماں کے سرہانے بیٹھتا ، جب صبح ہوتی چلا جاتا اور پیٹھ پر لکڑیاں چن کر لاتا اور بازار میں لاکر بیچتا جیسے اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا ، پھر ان پیسوں کے تین حصے کردیتا ، ایک حصہ صدقہ ، ایک حصہ کو خرچ کرتا اور ایک حصہ والدہ کی خدمت میں پیش کرتا۔
ایک دن اس کی والدہ نے اس کو کہا کہ تیرے والد نے وراثت میں ایک بچھڑی چھوڑی تھی اور فلاں جھاڑیوں کے جنگل میں اسے اللہ تعالیٰ کے سپرد کیا تھا تو چلا جا اور ابراہیم واسماعیل واسحاق (علیہم السلام) کے معبود سے مانگ کہ وہ (معبود برحق) تجھے بچھڑی لوٹا دے اور اس بچھڑی کی علامت یہ ہے کہ جب تو اسے دیکھے گا تو تجھے یوں محسوس ہوگا کہ اس کے چمڑے سے سورج کی شعاعیں نکل رہی ہیں اور وہ گائے (جو اب گائے بن چکی تھی) اپنے جمال اور صفائی کی وجہ سے مذہبہ (سنہری) کہلاتی تھی چناچہ ہو جوان جھاڑیوں کے اس جنگل میں آیا ، دیکھا تو گائے چر رہی تھی ، پس اسے آواز دی اور کہا میں تجھے حضرت ابراھیم ، حضرت اسماعیل ، حضرت اسحاق ، حضرت یعقوب (علیہم السلام) کے معبود کی قسم دیتا ہوں ، پس وہ دوڑتی ہوئی متوجہ ہوگئی حتی کہ اس کے سامنے آ کر کھڑی ہوگئی پس وہ جوان اس کی گردن سے پکڑ کر کھینچنے لگا تو حکم خداوندی سے وہ گائے بولی اور کہا اے اپنی ماں کے فرمانبردار جوان مجھ پر سوار ہوجا، پس بیشک یہ بات تیرے لیے آسان ہے پس جوان نے کہا بیشک میری ماں نے سوار ہونے کا حکم نہیں دیا تھا بلکہ مجھے کہا تھا کہ اس کی گردن پکڑ کر لا پس گائے بولی بنی اسرائیل کے معبود کی قسم اگر تو مجھ پر سوار ہوتا تو کبھی بھی مجھ پر قادر نہ ہوتا ، اب جا پس بیشک اگر تو پہاڑ کو حکم کرے گا کہ وہ مکمل اکھڑ کر تیرے ساتھ چلے تو وہ تیری اپنی والدہ کی فرمانبرداری کے باعث ایسا ہی کرے گا تو وہ جوان اس گائے کو لے کر اپنی ماں کی طرف لے چلا پس اس کی ماں نے کہا بیشک تو فقیر آدمی ہے تیرا مال نہیں ہے دن کو لکڑیاں جننا اور رات کو (اللہ تعالیٰ کے حضور) قیام کرنا تجھ پر شاق (گراں) ہے جا گائے کو بیچ پس اس (نوجوان) نے پوچھا کتنے میں بیچوں ؟
والدہ نے کہا تین دینار کے بدلے اور میرے مشورہ کے بغیر نہ بیچنا اور گائے کی قیمت تین دینار تھی ، جوان اس گائے کو منڈی لے گیا اور اللہ تعالیٰ نے فرشتہ بھیجا تاکہ مخلوق کو اپنی قدرت کا مشاہدہ کرائے اور تاکہ اس جوان کو بھی آزمائے کہ وہ اپنی والدہ کا کس قسم کا فرمانبردار ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ اس کا خبیر تھا ، پس فرشتہ نے اس کو کہا یہ گائے کتنے میں بیچو گے ؟ جوان نے کہا تین دینار میں بشرطیکہ میری ماں راضی ہو۔ فرشتہ بولا چھ (6) دینار لے لے اور ماں سے مشورہ نہ کر جوان بولا اگر تو گائے وزن کے برابر بھی سونا دے دے تب بھی اپنی ماں کی رضا کے بغیر نہ لوں گا ، پس وہ (جوان) اس گائے کو واپس اپنی ماں کے پاس لے گیا اور قیمت (جو اس فرشتہ نے لگائی تھی) کی ماں کو خبر دی ۔
پس ماں بولی واپس جاؤ اسے چھ (6) دینار میں بیچو میری رضا کی شرط پر ۔ وہ جوان اس گائے کو منڈی لے گیا اور فرشتہ آیا پس کہا اپنی ماں سے مشورہ کرلیا ؟ جوان بولا میری ماں نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اس گائے کو چھ (6) دینار سے کم قیمت پر نہ بیچوں بشرطیکہ ماں سے مشورہ کرلوں ۔
فرشتے نے کہا پس بیشک میں تجھے بارہ (12) دینار دیتا ہوں اس شرط پر کہ تو ماں سے مشورہ نہ کرے تو جوان نے انکار کردیا اور ماں کے پاس واپس لوٹا اور اس صورت حال کی خبر دی پس ماں نے کہا کہ جو تیرے پاس انسانی شکل میں آتا ہے پس جب آئے تو تو اس سے کہہ کہ تو کیا حکم دیتا ہے کیا اس گائے کو ہم بچیں یا نہ ؟
چنانچہ لڑکے نے ایسا کیا تو اسے فرشتہ نے کہا اپنی ماں کے پاس جا اور اسے کہہ کہ اس گائے کو ابھی اپنے پاس رکھو پس بےبنی اسرائیل کے ایک مقتول کے سلسلہ میں حضرت موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) اس گائے کو خریدیں گے پھر اس وقت گائے کے چمڑے میں دینار بھر کرلینے کے بغیر نہ بیچنا ، پس اس نے گائے کو روک لیا (یعنی نہ بیچا) اور اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر خاص طور پر اس گائے کا ذبح کرنا مقدر فرما دیا ، چناچہ بنی اسرائیل والے گائے کے اوصاف کے بارے میں تفصیلی اوصاف پوچھتے رہے حتی کہ وہی گائے (یتیم بچے والی) بیان کردہ اوصاف کے ساتھ موصوف ہونے کے اعتبار سے متعین ہوگئی ، محض اللہ تعالیٰ کی رحمت اور فضل کے ساتھ اس بچے کو والدہ کی فرمانبردای کا بدلہ دینے کے طور پر ۔
Ayah 2:68(تفسیر) 68۔:
(آیت)” قالوا ادع لنا ربک یبین لنا ماھی “ یعنی اس کی عمر کیا ہے ؟ (قال) موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا ” انہ یقول “ یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا پس فرمایا بیشک وہ یعنی بیشک اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” انھا بقرۃ لا فارض والا بکر “ یعنی نہ بڑی ہو نہ چھوٹی ، فارض اس عمر رسیدہ کو کہتے ہیں جو بچہ نہ جنے ، کہا جاتا ہے اسی سے ہے فرضت تفرض ، فروضا۔
بکر چھوٹی نوعمر جس نے ابھی بچہ نہ جنا ہو ، فارض اور بکر دونوں سے ھاء (تانیث) کو حذف کردیا گیا ، اس لیے کہ یہ دونوں مؤنث کے ساتھ خاص ہیں ، جیسے حائض مؤنث کے ساتھ خاص ہے ، (عوان) درمیانی برابر ” بین ذالک “ یعنی بیان شدہ دو عمروں کے درمیان کہا جاتا ہے ” عونت المراۃ ‘ تعوینا جب وہ عورت تیس سال سے زائد ہوجائے، اخفش کہتے ہیں عوان وہ جو بارہا بچہ جن چکی ہو اس کی جمع عون ہے ۔ (آیت)” فافعلوا ما تؤمرون “ گائے کا ذبح کرنا اور سوال زیادہ نہ کرو۔
Ayah 2:6969۔ (آیت)” قالوا ادع لنا ربک یبین لنا مالونھا قال انہ یقول انھا بقرۃ صفراء فاقع لونھا “۔ (فاقع کا معنی) حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں سخت زرد رنگ والی حضرت قتادہ (رح) فرماتے ہیں صاف (رنگ والی) حضرت حسن بصری (رح) فرماتے ہیں ” الصفراء السودا “ (یعنی صفراء فاقع کا معنی ہے سیاہ رنگ) پہلا قول زیادہ صحیح ہے کیونکہ اسود فاقع نہیں کہا جاتا بلکہ اصفر فاقع کہا جاتا ہے اور اسود حالک کہا جاتا ہے ، (یعنی اسود (سیاہ) میں مبالغہ کرنے کے لیے ساتھ لفظ حالک لگتا ہے) اسی طرح احمرقانی بہت سرخ اخضر ناضر بہت سبز اور ابیض بقق بہت سفید (یہ الفاظ مختلف رنگوں میں مبالغہ کے لیے آتے ہیں) (آیت)” تسرالناظرین “ اس گائے کی طرف (دیکھنے والوں کو) اس گائے کا حسن بھلا لگے اور گائے کے رنگ کی صفائی ۔
Ayah 2:70خاصیت آیت 70
(آیت)” إِنَّ البَقَرَ تَشَابَہَ عَلَیْْنَا وَإِنَّا إِن شَاء اللَّہُ لَمُہْتَدُونَ (70) جو آدمی کوئی چیز خریدنا چاہتا ہو تو خریدتے وقت پہلے یہ پڑھے ۔ یا مخر یا مختار یا من الخیر منہ یامن الخیر بیدہ یا دلیل الخیر یا مرشد یا ھادی ۔
پھر جب اس چیز کو دیکھ بھال رہا ہو تو مذکورہ بالا آیت پڑھے ، جب تک خرید نہ لے پڑھتا رہے ، یا بعض نے کہا یہ آیت دیکھ بھال سے پہلے بار پڑھ لے ان شاء اللہ اس سودے میں نقصان نہ ہوگا ۔
70۔ (آیت)” قالوا ادع لنا ربک یبین لنا ماھی “ کیا وہ چرنے والی ہے یا کام کرنے والی ؟ (آیت)” ان البقر تشابہ علینا “ (تشابہ علینا “ کہا یعنی مذکر کا صیغہ لائے) ” تشابھت علینا “ نہ کہا (مؤنث کا صیغہ نہ لائے) یہ اس لیے کہ یہاں بقر کا لفظ مذکر استعمال ہوا ہے جیسے قول خداوندی ہے (اعجاز نخل منقعر) یعنی اس جگہ چونکہ لفظ نخل مزکر استعمال ہوا ہے اس لیے اس کی صفت منقعر بھی مذکر لائی گئی ، زجاج کہتے ہیں یعنی جنس بقر متشابہ ہوگئی یعنی ملتبس ہوگئی اور اس کا معاملہ ہم پر مشتبہ ہوگیا ، پس ہم اس کی طرف راہ نہیں پاسکتے ۔ (آیت)” وانا ان شاء اللہ لمھتدون “ اس کے وصف کی طرف (راہ پانے والے ہیں) حضور ﷺ فرماتے ہیں اللہ کی قسم ! اگر یہ لوگ ان شاء اللہ نہ کہتے تو گائے (تسلی بخش طریقے پر) کبھی بھی بیان نہ کی جاتی ۔
Ayah 2:7171۔ (آیت)” قال انہ یقول انھا بقرۃ لاذلول “۔ کام کرنے کی عادی (کام پر سدھائی ہوئی) کہا جاتا ہے ، ” رجل ذلول “ واضح طور پر ذلیل (یعنی جس میں خودی اور خودداری نہ ہو ۔ ہر ایک کا مطیع اور حقیر) اسی طرح کہا جاتا ہے ” دابۃ ذلولۃ واضح الذل “ ہو (یعنی وہ جانور کام کا عادی ہو) ” تثیر الارض “ زمین کو زراعت کے لیے الٹ پلٹ کرتی ہو۔ (آیت)” ولاتسقی الحرث “ یعنی سانیہ نہ ہو (پانی نکالنے کا کام نہ کرتی ہو) ” مسلمۃ “ بری ہو۔
عیبوں سے ” لاشیۃ فیھا “ یعنی اس کے پورے چمڑے کے رنگ کے علاوہ کسی اور رنگ کا داغ نہ ہو۔ حضرت عطاء (رح) فرماتے ہیں (آیت)” لا شیۃ فیھا “ کا معنی ہے کہ اس میں کوئی عیب نہ ہو۔ حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ اس میں نہ سفیدی ہو نہ سیاہی ہو ۔ (آیت)” قالوا الان جئت بالحق “ یعنی اب ایسا بیان لائے ہیں جو تام اور شافی ہے جس میں اب کسی قسم کا اشکال نہیں ہے اور انہوں نے اس (قسم کی) گائے کو تلاش کیا تو اس جوان (جو والدہ کا فرمانبردار تھا) کے سوا کسی کے پاس ان صفات کے ساتھ مکمل موصوف گائے نہ پائی اور (آیت)” وما کادوا یفعلون “ کے معنی سے متعلق کہا گیا ہے کہ ان کے نہ کرنے کی وجہ ان کی شدت اضطراب اور اس گائے کے بارے میں اختلاف تھا ۔
Ayah 2:72(تفسیر) 72۔:
(آیت)” واذ قتلتم نفسا “ یہ قصہ کا ابتدائی ابتدائی حصہ ہے ، اگرچہ تلاوت کے اعتبار سے مؤخر ہے ، اس مقتول کا نام عامیل ہے (آیت)” فادراتم فیھا “ اس کا اصل ” تداراتم “ ہے۔ تاء کو دال میں ادغام کیا گیا اور اس پر الف لائی گئی ، اللہ تعالیٰ کے قول ” اثاقلتم “ کی طرح حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں اس کا معنی ” فاختلفتم “ ہے (یعنی تم نے اختلاف کیا) حضرت ربیع بن انس ؓ فرماتے ہیں اس کا معنی ” تدافعتم “ ہے یعنی اس قتل کی ذمہ داری تمہارا بعض ، بعض پر ڈال رہا تھا ، یہ درا سے مشتق ہے اور وہ بمعنی دفع ہے پس ہر شخص اس (قتل کے الزام) کو اپنے آپ سے دفع کرتا تھا ۔ (آیت)” واللہ مخرج “ یعنی مظہر (ظاہر کرنے والا تھا) (آیت)” ماکنتم تکتمون “ پس تحقیق قاتل قتل کو چھپاتا تھا ۔