2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 2:36

فَاَزَلَّهُمَا الشَّیْطٰنُ عَنْهَا فَاَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِیْهِ١۪ وَ قُلْنَا اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ وَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 2:36 in the Quran reader

پھر شیطان نے دونوں کو وہاں سے پھسلا دیا اور جس (عیش و نشاط) میں تھے اس سے ان کو نکلوا دیا تب ہم نے حکم دیا کہ (بہشت بریں) سے چلے جاؤ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہارے لئے زمین میں ایک وقت تک ٹھکانا اور معاش (مقرر کردیا گیا) ہے

(شیطان کا پھسلانا) (تفسیر) 36: (آیت)” فازلھما “ اتارا (الشیطان) آدم وحواء کو یعنی ان دونوں کو بلایا لغزش کی طرف اور حضرت حمزہ ؓ نے (آیت)” فازلھما “ پڑھا یعنی ان دونوں کو ہٹا دیا ۔ شیطان بروزن فیعال شطن سے مشتق ہے یعنی دور ہوا شیطان کو خیر اور رحمت سے دور ہونے کی وجہ سے شیطان کہا جاتا ہے ۔ ” عنھا “ جنت سے (آیت)” فاخرجھمامما کانا فیہ “ نعمتوں سے اور یہ اس طرح ابلیس نے ارادہ کیا کہ حضرت آدم (علیہ السلام) وحضرت حواء (علیہ السلام) کی طرف وسوسہ ڈالے تو خزنہ جنت نے اسے روکا تو سپنی کے پاس آیا ، یہ سپنی ابلیس کی دوست تھی اور تمام جانوروں سے زیادہ خوبصورت اس کے چار پاؤں تھے جیسے اونٹ کے پاؤں اور اس کا تعلق جنت کے خازنوں سے تھا ، تو شیطان نے اس سے کہا کہ مجھے اپنے منہ میں داخل کرلے ، پس اس نے ابلیس کو اپنے منہ میں داخل کرلیا اور خازنوں سے تھا تو شیطان نے اس سے کہا کہ مجھے اپنے منہ میں داخل کرلے ، پس اس نے ابلیس کو اپنے منہ میں داخل کردیا ۔ حضرت ؓ فرماتے ہیں شیطان نے حضرت آدم وحواء (علیہما السلام) کو جنت کے دروازہ پر دیکھا اس لیے کہ وہ دونوں جنت سے نکلا کرتے تھے اور حضرت آدم (علیہ السلام) جب سے جنت میں داخل ہو کر جنت کی نعمتوں کو دیکھا تھا ان کی خواہش تھی کہ اے کاش ! میں جنت میں ہمیشہ رہتا ، حضرت آدم (علیہ السلام) سے اس (خواہش) کو شیطان نے غنیمت جانا تو شیطان حضرت آدم (علیہ السلام) کے پاس خلد کی راہ سے آیا (یعنی خلد کے حوالے سے ورغلایا) پس جب شیطان جنت میں داخل ہوا تو آدم وحواء (علیہما السلام) کے سامنے آکر کھڑا ہوگیا اور ان کو معلوم نہ تھا کہ یہ ابلیس ہے پس رویا اور اس طرح بین کیا کہ ان دونوں کو غمناک کردیا (یعنی سوگوار کردیا) تو یہ شیطان تھا پہلا جس نے نوحہ کیا ۔ پس دونوں یعنی حضرت آدم وحواء (علیہما السلام) نے اسے کہا تجھے کیا چیز رلا رہی ہے ؟ اس نے کہا میں تم دونوں پر رو رہا ہوں تم مرجاؤ اور جس نعمت میں تم ہو اسے چھوڑ جاؤ گے تو یہ خیال ان دونوں کے دل میں پیدا ہوگیا جس سے غمزدہ ہوگئے ابلیس چلا گیا اس کے بعد پھر ان کے پاس آیا اور کہا اے آدم کیا میں تجھے ہمیشہ والے درخت پر دلالت نہ کروں ، پس حضرت آدم (علیہ السلام) نے انکار کردیا اس سے کہ اس سے یہ بات قبول کرلے اور ابلیس نے ان دونوں سے اللہ تعالیٰ کے نام کی قسم اٹھائی کہ وہ ان دونوں کے لیے خیر خواہوں میں سے ہے پس وہ دونوں دھوکے میں آگئے اور آدم وحواء (علیہما السلام) نے اس بات کا وہم و گمان بھی نہ کیا کہ کوئی ایک اللہ تعالیٰ کے نام کی جھوٹی قسم بھی اٹھا سکتا ہے تو حضرت حواء (علیہا السلام) نے درخت کھانے میں جلدی کی ، پھر حضرت آدم (علیہ السلام) کو دیا حتی کہ انہوں نے بھی کھالیا ۔ اور حضرت سعید بن المسیب (رح) اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھایا کرتے تھے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) جب تک عقل وہوش میں رہے اس وقت تک درخت نہ کھایا لیکن حواء (علیہ السلام) نے ان کو شراب پلادی حتی کہ نشہ میں آگئے پس پھر کھایا ، حضرت ابراہیم بن ادھم (رح) نے فرمایا اس کھانے نے ہمیں طویل غم کا وارث بنایا حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ اور قتادہ ؓ نے فرمایا اللہ عزوجل نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو فرمایا جنت میں جو نعمتیں میں نے تجھ پر حلال کی تھیں کیا ان میں اس درخت کے کھانے میں استغنائی گنجائش نہ تھی ؟ حضرت آدم (علیہ السلام) نے عرض کی کیوں نہیں ، میرے رب تیری عزت کی قسم ! لیکن میں نے اس کا گمان بھی نہ کیا تھا کہ کوئی ایک تیری ذات عالی کی جھوٹی قسم بھی اٹھائے گا ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا مجھے میری عزت کی قسم میں تجھے زمین کی طرف ضرور اتاروں گا ، پھر تو مشقت کی زندگی پائے گا پس حضرت آدم (علیہ السلام) جنت میں سے آتارے گئے حالانکہ دونوں (آدم وحواء علیہما السلام) جنت میں کھلم کھلا کھاتے تھے پس لوہے کی صنعت کی تعلیم کیے گئے اور کھیتی باڑی کا حکم دیئے گئے پھر کھیتی باڑی کی پھر اس کو پانی پلایا ، پھر جب وہ کھیتی تیار ہوگئی تو اسے کاٹا پھر اس کو گاہا پھر بکھیرا پھر اس کو پیسا پھر گوندھا پھر اس کی روٹی پکائی پھر اسے کھایا ۔ پس اس کو نہ پہنچا حتی کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے چاہا اس کو پہنچے حضرت سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کرتے ہوئے بیشک حضرت آدم (علیہ السلام) نے جب درخت کھایا جس سے ان کو منع کیا گیا تھا اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے آدم (علیہ السلام) جو کچھ تو نے کیا اس پر تجھے کس چیز نے ابھارا حضرت آدم (علیہ السلام) نے عرض کی یارب ! اسے میرے لیے حواء نے مزین کیا ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ، میں نے اس کو اس کی یہ سزا دی ہے کہ وہ مشقت کے ساتھ پیٹ میں بچہ اٹھائے گی اور مشقت کے ساتھ جنے گی اور ایک ماہ میں اس کو میں نے دو دفعہ خون آلود کیا، پس اس وقت حضرت حواء (علیہما السلام) چیخ و پکار کے ساتھ روئی پس کہا گیا تجھ پر اور تیرے بیٹیوں پر یہ چیخ و پکار کے ساتھ رونا لکھا دیا گیا ، پس جب دونوں نے اس درخت کو کھایا تو ان دونوں سے ان کے کپڑے چورا چورا کردیئے گئے اور ان کی شرمگاہیں کھل گئیں اور وہ دونوں جنت سے نکال دیئے گئے پس یہ ہے اللہ تعالیٰ کا قول (آیت)” وقلنا اھبطوا “ زمین کی طرف اترو یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) حضرت حواء (علیہما السلام) ابلیس اور سانپ۔ (حضرت آدم (علیہ السلام) سرزمین ہند میں اترے) پس حضرت آدم (علیہ السلام) سرزمین ہند کی جگہ سراندیپ میں ایک پہاڑ پر اترے جسے نود کہا جاتا ہے اور حواء جدہ میں اتریں اور ابلیس ابلہ میں اترا اور سانپ اصفہان میں ۔ (آیت)” بعضکم لبعض عدو “ اللہ تعالیٰ کی مراد اس سے وہ عداوت ہے جو حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد اور سانپ کے درمیان ہے اور حضرت آدم (علیہ السلام) کی مؤمن اولاد اور شیطان کے درمیان ہے ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ” (آیت)” ان الشیطان لکما عدو مبین “۔ (سانپ سے متعلق) عکرمہ ابن عباس سے روایت کرتے ہیں ۔ میں نہیں جانتا مگر یہ کہ انہوں نے حدیث مرفوع ذکر کیا کہ بیشک وہ سانپوں کے قتل کرنے کا حکم کرتے تھے اور فرمایا جو ان کو خوف کی وجہ سے چھوڑ دے یا بدلہ لینے والے کے ڈر سے چھوڑ دے وہ ہم میں سے نہیں اور موسیٰ بن مسلم (رح) نے عکرمہ (رح) سے حدیث میں زیادہ کیا ” ماسالمنا ھن منذھار بناھن “ ہم نے ان سے جب سے جنگ کی صلح نہیں کی اور روایت کیا گیا کہ جو سانپ گھروں میں ہیں انہیں کچھ نہ کہا جائے اور حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے حضور اقدس ﷺ سے متعلق بےمدینہ منورہ میں کچھ جن ہیں جو اسلام لا چکے ہیں پس اگر ان میں سے کسی کو تم دیکھو تو انہیں تین دن تک باخبر کرو ، اگر اس کے بھی دیکھو تو اسے قتل کر دو ، جزایں نیست کہ وہ شیطان ہے۔ (آیت)” ولکم فی الارض مستقر “ جائے قرار (ومتاع) اور نفع اٹھانے کی جگہ (الی حین) تمہاری مدت عمر گزرنے تک ۔
Ayah 2:37

فَتَلَقّٰۤى اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:37 in the Quran reader

پھر آدم نے اپنے پروردگار سے کچھ کلمات سیکھے (اور معافی مانگی) تو اس نے ان کا قصور معاف کردیا بیشک وہ معاف کرنے والا (اور) صاحب رحم ہے

37۔ (آیت)” فتلقی “۔ تلقی کے معنی پوری فہم و دانش کے ساتھ قبول کرنا اور کہا گیا کہ تلقی کے معنی تعلم کے ہیں (یعنی سیکھنا (آیت)” آدم من ربہ کلمات “ عاصم کی قرآت آدم میم کی پیش کے ساتھ اور کلمات کا لفظ ت کی زیر کے ساتھ اور ابن کثیر نے آدم میم کی زبر کے ساتھ پڑھا اور کلمات کو ت کی پیش کے ساتھ پڑھا ۔ یعنی آدم (علیہ السلام) کے پاس اس کے رب کے پاس سے کچھ کلمات آئے جو ان کی توبہ کا سبب بنے ۔ (کلمات کیا تھے) جو حضرت آدم (علیہ السلام) نے اپنے رب سے سیکھے ، ان کلمات میں انہوں نے اختلاف کیا ، حضرت سعید بن جبیر ؓ حضرت مجاہد (رح) حضرت حسن ؓ فرماتے ہیں کلمات سے مراد یہ قول ہے (آیت)” ربنا ظلمنا انفسنا “۔ الایۃ “ حضرت مجاہد (رح) محمد بن کعب القرظی ؓ اس سے مراد۔ ” لا الہ انت سبحانک وبحمدک رب علمت سوء وظلمت نفسی فاغفرلی انک انت الغفور الرحیم “۔ (ترجمہ : نہیں کوئی معبود سوائے تیرے تو پاک ہے اپنی تعریف کے ساتھ اے میرے رب میں نے برائی کا عمل کیا اور اپنے آپ پر ظلم کیا پس مجھے بخش دے ، بیشک تو ہی بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے) ایک روایت میں ” فاغفرلی “ کی بجائے ” فارحمنی “ اور ” انک انت الغفور الرحیم “ کی بجائے ” انک انت ارحم الراحمین “ عبید بن عمیر ؓ فرماتے ہیں ان کلمات سے مراد یہ ہے کہ بیشک حضرت آدم (علیہ السلام) نے عرض کی ، اے میرے رب ! مجھے بتائیے کہ جو کچھ میں نے کیا کیا یہ چیز میں نے اپنی طرف سے ایجاد کی ہے یا یہ وہ کچھ ہے جو تو نے میرے اوپر میرے پیدا کرنے سے پہلے مقدر فرمایا ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا نہیں یہ شئی ایسی ہے جو میں نے تجھے پیدا کرنے سے پہلے تجھ پر مقدر فرمایا ۔ حضرت آدم (علیہ السلام) نے عرض کی اے میرے رب ! پس جس طرح تو نے اسے میرے حق میں تو نے مقدر فرمایا پہلے اس کے کہ تو مجھے پیدا کرتا مجھے بخش دے اور کہا گیا یہ کلمات تین چیزیں ہیں حیاء دعاء اور بکاء یعنی رونا ۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں حضرت آدم (علیہ السلام) وحضرت حواء (علیہ السلام) جنت کی نعمتوں کے فوت ہوجانے پر دو سو سال روئے چالیس دن تک نہ کچھ کھایا اور نہ کچھ پیا اور سو سال تک حضرت آدم (علیہ السلام) حضرت حواء (علیہ السلام) کے قریب نہ گئے ۔ (حضرت آدم (علیہ السلام) کے آنسو) مسعود نے یونس بن خطاب اور علقمہ بن مرثد ؓ سے روایت کیا ، دونوں نے کہا اگر روئے زمین کے لوگوں کے آنسو جمع کیے جائیں تو حضرت داؤد (علیہ السلام) کے آنسو بڑھ جائیں گے جب ان سے لغزش ہوئی اور اگر حضرت داؤد (علیہ السلام) کے آنسو اور تمام انسانوں کے آنسو جمع کیے جائیں تو حضرت آدم (علیہ السلام) کے آنسو زیادہ ہوں گے جب ان کو اللہ تعالیٰ نے جنت سے نکالا۔ حضرت شہر بن حوشب ؓ فرماتے ہیں مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) جب زمین کی طرف اتارے گئے تین سو سال اللہ تعالیٰ سے حیاء کے باعث سر نہیں اٹھاتے تھے، قول خداوندی (آیت)” فتاب علیہ “ پس ان سے درگزر فرمایا (آیت)” انہ ھو التواب “ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے ” الرحیم “ اسے خلیفہ بنانے کے اعتبار سے ۔
Ayah 2:38

قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِیْعًا١ۚ فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:38 in the Quran reader

ہم نے فرمایا کہ تم سب یہاں سے اتر جاؤ، جب تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت پہنچے تو (اس کی پیروی کرنا کہ) جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے

38۔ (آیت)” قلنا اھبطوا منھا جمیعا “۔ یعنی یہ چاروں اور کہا گیا ہے ھبوا (اترنا) اول جنت سے آسمان دنیا کی طرف دوسرا ھبوط (اترنا) آسمان دنیا سے زمین کی طرف (آیت)” فاما یاتینکم “ یعنی پس اگر تمہارے پاس۔ اے اولاد آدم ” منی ھدی “ یعنی رہنمائی اور بیان شریعت اور کہا گیا کتاب ورسول (آیت)” فمن تبع ھدای فلا خوف علیھم ولا ھم یحزنون “۔ یعقوب فلا خوف فاء کی زبر کے ساتھ پڑھتے ہیں ، پورے قرآن پاک میں اور باقیوں نے پیش اور تنوین کے ساتھ (آیت)” فلا خوف علیہم “ آنے والے زمانہ میں (آیت)” ولا ھم یحزنون “ جو کچھ وہ پیچھے چھوڑ آئے اور کہا گیا نہیں کچھ خوف ان پر دنیا میں اور نہ وہ آخرت میں غمناک ہوں گے ۔
Ayah 2:39

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ Open ayah 2:39 in the Quran reader

اور جنہوں نے (اس کو) قبول نہ کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ دوزخ میں جانے والے ہیں، اور ہمیشہ اس میں رہیں گے

(تفسیر) 39۔: (آیت)” والذین کفروا “ جنہوں نے انکار کیا (آیت)” وکذبوا بایاتنا “ قرآن کریم کے ساتھ (آیت)” اولئک اصحاب النار “ قیامت کے دن (آیت)” ھم فیھا خالدون “ نہ تو جنت سے نکلیں گے اور نہ انکواس میں موت آئے گی ۔
Ayah 2:40

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِیْۤ اُوْفِ بِعَهْدِكُمْ١ۚ وَ اِیَّایَ فَارْهَبُوْنِ Open ayah 2:40 in the Quran reader

اے آل یعقوب ! میرے وہ احسان یاد کرو جو میں نے تم پر کئے تھے اور اس اقرار کو پورا کرو جو تم نے مجھ سے کیا تھا میں اس اقرار کو پورا کروں گا جو میں نے تم سے کیا تھا اور مجھی سے ڈرتے رہو

خاصیت آیت 40 تا 42۔ (آیت)” یَا بَنِیْ إِسْرَائِیْلَ اذْکُرُواْ نِعْمَتِیَ الَّتِیْ أَنْعَمْتُ عَلَیْْکُمْ وَأَوْفُواْ بِعَہْدِیْ أُوفِ بِعَہْدِکُمْ وَإِیَّایَ فَارْہَبُونِ (40) وَآمِنُواْ بِمَا أَنزَلْتُ مُصَدِّقاً لِّمَا مَعَکُمْ وَلاَ تَکُونُواْ أَوَّلَ کَافِرٍ بِہِ وَلاَ تَشْتَرُواْ بِآیَاتِیْ ثَمَناً قَلِیْلاً وَإِیَّایَ فَاتَّقُونِ (41) وَلاَ تَلْبِسُواْ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَکْتُمُواْ الْحَقَّ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ (42) اگر کسی عورت سے کوئی بات حاصل کرنا مقصود ہو اور وہ نہ بتارہی ہو تو اس آیت کو کسی کنواری لڑکی کے کپڑے کے ٹکڑے پر لکھ لے اور جب وہ عورت سوئی ہوئی ہو تو اسے اس کے سینہ پر رکھ دے ، وہ عورت خود بخود اپنی معلومات بتانا شروع کر دے گی ۔ 40۔ (آیت)” یابنی اسرائیل “ اے اولاد یعقوب اور اسرائیل کا معنی عبداللہ اور ایل وہ اللہ تعالیٰ اور بعض نے کہا کہ اسرائیل کا معنی صفوۃ اللہ یعنی اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ اور چنے ہوئے اور ابوجعفر نے (اسرائیل) کو بغیر ہمزہ کے پڑھا ہے ” اذکروا “ محفوظ رکھو ‘، ذکر دل سے ہوتا ہے اور زبان سے ہوتا ہے اور کہا گیا ہے کہ ذکر سے مراد شکر ہے اور شکر کا مفہوم لفظ ذکر کے ساتھ ادا کیا گیا ، اس لیے کہ شکر میں ذکر ہوتا ہے یعنی یاد دہانی ہوتی ہے یا یاد ہوتی ہے اور کفر میں نسیان ہوتا ہے۔ حضرت حسن ؓ فرماتے ہیں نعمت کا تذکرہ کرنا اس کا شکر ادا کرنا ہے ۔ (نعمتی) میری نعمتوں کا یعنی لفظ تو مفرد بولا گیا اور معنی کے لحاظ سے جمع مراد ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت)” وان تعدوا نعمۃ اللہ لا تحصوھا “ (یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کی نعمتیں گننا چاہو تو پورا شمار بھی نہ کر سکوگے) (آیت)” التی انعمت علیکم “ یعنی آباء اجداد پر تمہارے اسلاف پر ، حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں یہ وہ نعمتیں ہیں جن کے ساتھ بنو اسرائیل کو مخصوص کیا گیا ، مثلا سمندر کو پھاڑنا ، فرعون کو غرق کرکے بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات بخشنا ، تیہ کے جنگل میں ان پر بادلوں کا سایہ کرنا ، من وسلوی کو نازل کرنا ، تورات کو نازل کرنا اور بھی بہت سی نعمتیں جنہیں شمار بھی نہیں کیا جاسکتا ، حضرت قتادہ (رح) کے علاوہ باقی حضرات فرماتے ہیں کہ ان نعمتوں سے مراد وہ تمام نعمتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرمائین (آیت)” واوفوا بعھدی “ میرا حکم مان کر ” اوف بعھدکم “ قبول وثواب کے ساتھ حضرت قتادہ (رح) اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ اس عہد سے مراد وہ عہد ہیں جن کا ذکر سورة مائدہ میں کیا گیا ۔ (آیت)” ولقد اخذاللہ میثاق بنی اسرائیل وبعثنا منھم اثنی عشر نقیبا “۔ یہاں تک کہ فرمایا (آیت)” لاکفرن عنکم سیئاتکم “ پس یہ ہے قول اس کا (آیت)” اوف بعھدکم “ (یعنی تم سے گناہ کرا کر میں اپنا وعدہ پورا کروں گا) حضرت حسن ؓ فرماتے ہیں اس عہد سے مراد اللہ تعالیٰ کا قول (آیت)” واذ اخذنا میثاق بنی اسرائیل لا تعبدون الا اللہ “ اور کلبی کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کا عہد بنی اسرائیل کی طرف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان پر وہ یہ کہ میں بنو اسماعیل کی طرف نبی امی بھیجنے والا ہوں ، پس جو اس کی اتباع کرے گا اور اس نور کی تصدیق کرے گا جو وہ لائیں گے میں اس کے گناہ بخش دوں گا اور اس کو جنت میں داخل کروں گا اور اس کے لیے دو دو اجر کروں گا ۔ (آیت)” واذ اخذ اللہ میثاق الذین اوتوالکتاب لتبیننہ للناس “ یعنی حضرت محمد ﷺ کا معاملہ (آیت)” وایای فارھبون “ پس نقض عہد توڑنے کے سلسلہ میں مجھ سے ڈرو ، ان الفاظ میں خطا حذف کی گئی ہیں مثلا ” فارھبون ، فاتقون ‘ واخشون “ (ان کے آخر میں یا تھی جو بوجہ وقف کے حذف ہوگئیں جن کی علامت ان کے نون پر زیر ہے) انہیں یعقوب نے ثابت رکھا ۔
Ayah 2:41

وَ اٰمِنُوْا بِمَاۤ اَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ وَ لَا تَكُوْنُوْۤا اَوَّلَ كَافِرٍۭ بِهٖ١۪ وَ لَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًا١٘ وَّ اِیَّایَ فَاتَّقُوْنِ Open ayah 2:41 in the Quran reader

اور جو کتاب میں نے (اپنے رسول محمد ﷺ پر) نازل کی ہے جو تمہاری کتاب (تورات) کو سچا کہتی ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس سے منکر اول نہ بنو اور میری آیتوں میں (تحریف کر کے) ان کے بدلے تھوڑی سی قیمت (یعنی دنیاوی منفعت) نہ حاصل کرو اور مجھی سے خوف رکھو

41۔ (آیت)” وامنوا بما انزلت “ یعنی قرآن (آیت)” مصدقالما معکم “ یعنی ان (مضامین) کے موافق جو تمہارے پاس تورات جو کہ یہودیوں کے عالم اور سردار قسم کے لوگ تھے (آیت)” ولا تکونوا اول کافر بہ “ یعنی قرآن کے ساتھ مراد اول ہونے سے اہل کتاب میں سے اول ہونا ہے ورنہ یہود سے پہلے مکہ مکرمہ میں قریش مکہ کفر کرچکے تھے ۔ اس کا معنی یہ ہے کہ تم قرآن کریم کے ساتھ اول کفر کرنے والے نہ بن جاؤ پس بقیہ یہود اس پر تمہاری پیروی کریں گے پس تم اپنے اور اپنے متبعین کے گناہ کو سمیٹنے والے بن جاؤ گے ۔ (آیت)” ولا تشتروا “ یعنی نہ بدلہ میں لو ” بایاتی “ جو نبی کریم ﷺ کے بیان صفات سے متعلق ہیں ۔ (آیت)” ثمنا قلیلا “ یعنی دنیا کا معمولی عوض ، اور یہ اس طرح کے سردار ان یہود اور علماء یہود کی کچھ خوراک تھی جسے وہ اپنے جاہل عوام سے ہر سال مقدار معلوم میں لیا کرتے تھے ، مثلا کھیتی دودھ والے جانور اور نقدی اب انہیں اس کا خطرہ ہوا کہ اگر انہوں نے صفت محمد مصطفیٰ ﷺ بیان کردی اور حضور ﷺ کے تابع ہوگئے تو یہ خوراک ختم ہوجائے گی پس انہوں نے نبی پاک ﷺ کی صفات کو بدلا اور نام مبارک کو چھپایا ، پس اس طرح انہوں نے دنیا کو آخرت پر اختیار کیا ۔ (آیت)” وایای فاتقون “ پس مجھ سے ڈرو۔
Ayah 2:42

وَ لَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَكْتُمُوا الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:42 in the Quran reader

اور حق کو باطل کے ساتھ نہ ملاؤ اور سچی بات کو جان بوجھ کر نہ چھپاؤ

42۔ (آیت)” ولا تلبسوالحق بالباطل “ یعنی خلط ملط نہ کرو ۔ کہا جاتا ہے ” لبس الثوب یلبس لبسا “ اور کہا جاتا ہے ” لبس علیہ الامر لبسا “ یعنی خلط ہوا ۔ (گویا لباس پہننے کے لیے لبس باب سمع سے آتا ہے اور اس کی مصدر لبس آتی ہے لام کی پیش اور خلط ملط کے معنی کے لیے ” لبس “ باب ضرب سے آتا ہے اس کی مصدر ” لبس “ آتی ہے لام کی زبر کے ساتھ ۔ کہا جاتا ہے خلط نہ کرو اس حق کو جو میں نے تم پر اتارا جس کا تعلق صفات محمدیہ سے ہے، باطل کے ساتھ جس کو اپنے ہاتھوں سے لکھتے ہو محمد کریم ﷺ کی صفت کو تبدیل کرکے ۔۔۔۔ اکثر حضرات اس پر ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مراد یہ ہے کہ اسلام کو (جو کہ حق ہے) یہودیت کے ساتھ خلط ملط نہ کرو ، حضرت مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ بیشک یہود نے حضور ﷺ کی بعض صفات کا اقرار کیا اور بعض صفات کو چھپایا تاکہ کہ اس میں وہ تصدیق کیے جائیں ۔ پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا نہ ملاؤ حق کو جس کو تم باطل کے ساتھ تبدیل کرتے ہو ۔ یعنی جو کچھ تم چھپاتے ہو ، حق سے مراد ان کا بیان کرنا ہے اور باطل سے مراد ان کا چھپانا ہے ۔ (آیت)” وتکتموا الحق “ یعنی اس کو نہ چھپاؤ ، یعنی تعریف مصطفیٰ کریم ﷺ (آیت)” وانتم تعلمون “ اس بات کو جانتے ہو کہ حضور ﷺ نبی مرسل ہیں۔
Ayah 2:43

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ ارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِیْنَ Open ayah 2:43 in the Quran reader

اور نماز پڑھا کرو اور زکوٰۃ دیا کرو اور (خدا کے آگے) جھکنے والوں کے ساتھ جھکا کرو

43۔ (آیت)” واقیموا الصلوۃ “ یعنی پانچ نمازیں ان کے وقتوں اور پابندیوں کے ساتھ (آیت)” واتوالزکاۃ “ اپنے مالوں کی فرضی زکوۃ ادا کرو ، لفظ زکوۃ الزرع سے لیا گیا ہے ، زکوۃ الزرع کے معنی ہے کھیتی بڑھی زیادہ ہوئی اور بعض نے کہا زکوۃ تزکی سے ماخوذ ہے یعنی پاک ہوا ، شرعی اصلاحی لفظ زکوۃ میں دونوں معنی موجود ہیں کیونکہ زکوۃ دینے سے مال پاک بھی ہوتا ہے اور بڑھتا بھی ہے ۔ (آیت)” وارکعوا مع الراکعین “۔ یعنی نماز پڑھو۔ نماز پڑھنے والوں کے ساتھ جو کہ محمد کریم ﷺ اور اصحاب رسول اکرم ﷺ ہیں ، نماز کو لفظ رکوع سے تعبیر کیا گیا ، کیونکہ رکوع ارکان نماز میں سے (اہم ترین) رکن ہے نیز یہود کی نماز میں رکوع نہ تھا تو گویا حکم دیا گیا اے مسلمانو ! تم وہ نماز پڑھو جو رکوع والی ہو ۔ بعض نے کہا کہ (آیت)” واقیموا الصلوۃ “ کے جملہ کے بعد خصوصا پھر (آیت)” وارکعوا مع الراکعین “ کا حکم دینا بھی اسی مقصد کے تحت ہے یعنی ان لوگوں کے ساتھ نماز پڑھو جن کی نمازوں میں رکوع ہے ، پہلا حکم (آیت)” اقیموا الصلوۃ “ مطلقا ہر ایک کے لیے ہے اور یہ حکم مخصوص اقوام کے حق میں ہے ، بعض نے کہا کہ (آیت)” وارکعوا مع الراکعین “۔ دراصل نماز باجماعت ادا کرنے پر ابھارنا ہے، گویا کہ کہا گیا کہ نماز پڑھنے والوں کے ساتھ مل کر نماز پڑھو جو تم سے ایمان کے اعتبار سے سبقت کرچکے ۔
Ayah 2:44

اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَ اَنْتُمْ تَتْلُوْنَ الْكِتٰبَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 2:44 in the Quran reader

(یہ) کیا (عقل کی بات ہے کہ) تم لوگوں کو نیکی کرنے کو کہتے ہو اور اپنے تئیں فراموش کیے دیتے ہو حالانکہ تم کتاب (خدا) بھی پڑھتے ہو کیا تم سمجھتے نہیں ؟

44۔ (آیت)” اتامرون الناس بالبر “ یعنی طاعت کے ساتھ یہ علمائے یہود کے حق میں نازل ہوئی ، یہ اس لیے کہ ان میں سے کوئی ایک شخص اپنے قریبی ساتھی اور اپنے حلیف ایمان والے کو اس وقت کہتا جب وہ ایمان والا حضور ﷺ کے بارے میں پوچھتا کہ تو اپنے دین پر قائم رہ کیونکہ حضور ﷺ کا معاملہ حق پر مبنی ہے اور اس کی بات سچی ہے ، بعض نے کہا گیا ہے کہ یہ خطاب ان کے احبار سے ہے جب انہوں نے اپنے متبعین کو (احکام) تورات کو مضبوطی سے تھامنے کا حکم دیا اور خود تورات کی مخالفت کی اور (تورات میں موجود) صفات نبوی کو بدل ڈالا ۔ ” وتنسون “۔ ” انفسکم “ یعنی اپنے آپ کو چھوڑ دیتے ہو اور تورات کی اتباع نہیں کرتے ہو (آیت)” وانتم تتلون الکتاب “ یعنی تورات کو پڑھتے ہو جس میں محمد ﷺ کی نعت وصفات ہوتی ہیں ۔ (آیت)” افلا تعقلون “ (کیا تم سمجھتے نہیں ہو) کہ وہ حق ہے عقل عقال الددابۃ سے ماخوذ ہے ، عقال وہ رسہ ہے جس سے اونٹ کا گھٹنا باندھا جاتا ہے جو اسے بھاگنے سے روکتا ہے ، پس اسی طرح عقل بھی صاحب عقل کو کفر اور انکار سے روکتی ہے۔ حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ بےرسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ (میں نے اس رات دیکھا جب مجھے سیر کرائی گئی ، چند لوگوں کو جن کے ہونٹ آگ کی قینچیوں سے کترے جا رہے تھے ، میں نے کہا جبرئیل یہ لوگ ہیں ؟ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے بتایا کہ یہ آپ کی امت کی خطباء ہیں جو لوگوں کو نیکی کا حکم کرتے تھے اور اپنے کو بھول جاتے تھے حالانکہ وہ کتاب کو پڑھتے تھے ۔ حضرت اسامہ ؓ نے فرمایا کہ میں نے حضور ﷺ سے سنا ، آپ ﷺ فرماتے تھے کہ ایک آدمی کو قیامت کے دن لایا جائے گا پس اس کو آگ میں ڈال دیا جائے گا پس اس کی انتڑیاں آگ میں نکل پڑیں گی پھر وہ اس طرح گھومے گا جیسے گدھا چکی کے اردگرد گھومتا ہے جہنمی اس پر جمع ہوجائیں گے اور کہیں گے اے فلاں ! تیرا کیا حال ہے کیا تو ہمیں نیکی کا حکم نہیں کرتا تھا ؟ کیا تو ہمیں برائی سے منع نہیں کرتا تھا ؟ وہ کہے گا میں تمہیں نیکی کا حکم کرتا تھا مگر خود اس پر عمل پیرا نہ ہوتا تھا اور تمہیں برائی سے منع کرتا تھا اور خود وہ برائی کرتا تھا ، شعبہ نے اعمش سے روایت کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ انتڑیوں کو لے کر اس طرح گھومے گا جس طرح گدھا چکی کے گرد گھومتا ہے۔
Ayah 2:45

وَ اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ١ؕ وَ اِنَّهَا لَكَبِیْرَةٌ اِلَّا عَلَى الْخٰشِعِیْنَۙ Open ayah 2:45 in the Quran reader

اور (رنج و تکلیف میں) صبر اور نماز سے مدد لیا کرو، اور بیشک نماز گراں ہے مگر ان لوگوں پر (گراں) نہیں جو عجز کرنے والے ہیں

(تفسیر) 45۔: (آیت)” واستعینوا “ (مددحاصل کرو) ان قسم وقسم کی مصیبتوں پر جو تمہیں پیش آنے والی ہیں اور بعض نے کہا طلب آخرت پر (مدد حاصل کرو) ” بالصبر والصلوۃ “ (صبر ونماز کے ساتھ) خالصتا گناہوں کو مٹانے کے سلسلہ میں (صبر سے) مراد گناہوں سے اپنے آپ کو روکنا ہے ، بعض نے کہا کہ صبر سے مراد فرائض کی ادائیگی پر صبر کرنا ہے ۔ حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ صبر سے مراد روزہ ہے ، اسی سے ماہ رمضان کو صبر کا مہینہ کہا گیا ہے اور یہ اس لیے کہ روزہ دنیا سے بےرغبت کرتا ہے اور نماز آخرت کی طرف راغب کرتی ہے اور کہا گیا ہے کہ ” والصلوۃ “ پر جو واؤ داخل ہے یہ بمعنی علی ہے ، یعنی مدد حاصل کرو ساتھ صبر کے نماز پر جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” وامر اھلک بالصلوۃ واصطبر علیھا “ (یعنی نماز پر اپنے آپ کو صابر رکھو ، یعنی جمائے رکھو) ” وانھا “ (وانھا کہا یعنی ضمیر واحد کی لائی گئی) ” وانھما “ نہیں کہا ، اس طرح ھا ضمیر صبر وصلوۃ ہر ایک کی طرف علیحدہ علیحدہ لوٹائی گئی ۔ یعنی صبر وصلوۃ ہر ایک حالت ان دو میں سے ، جیسے کہا گیا (آیت)” کلتا الجنتین اتت اکلھا “ دونوں باغ اپنے پھل لائے بعض نے کہا کہ آیت کا معنی ہوگا ، صبر سے مدد چاہو اور بیشک وہ شاق ہے اور نماز سے بھی اعانت طلب کرو بیشک وہ بھی گراں ہے ، پھر ان دو میں سے ایک کو برائے اختصار حذف کردیا گیا اور مورج کہتے ہیں کہ انھا کی ضمیر (صرف) نماز کو راجع ہے کیونکہ وہ عام ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے (آیت)” والذین یکنزون الذھب والفضۃ ولا ینفقونھا “ میں ھا ضمیر فضہ کی طرف راجع ہے کیونکہ نماز بہت عظیم الشان ہے ان میں کئی قسم کے صبر ہیں ، نماز میں کئی قسم کے صبر کی مثال ایسی سمجھنی چاہیے ، جیسے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ (آیت)” واللہ ورسولہ احق ان یرضوہ “ یرضوھما، نہیں فرمایا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کے رسول کریم ﷺ کی رضا اللہ تعالیٰ عزوجل کی رضا میں داخل ہے حسین بن فضل فرماتے ہیں کہ ” انھا “ کی ضمیر استعانت کی طرف راجع ہے ۔ ” لکبیرۃ “ یعنی وزنی ہے (آیت)” الا علی الخاشعین “ یعنی مؤمنین پر ۔ حضرت حسن ؓ فرماتے ہیں خاشعین سے مراد خائفین ہیں اور کہا گیا ہے کہ اس سے مراد مطیعین ہیں یعنی اطاعت گزار لوگ ، مقاتل بن حبان ؓ فرماتے ہیں کہ خاشعین سے مراد متواضعین ہیں یعنی تواضع کرنے والے خشوع کا اصل معنی سکون ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” وخشعت الاصوات للرحمن “ لہذا خاشع وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی طرف سکون پذیر ہو۔
Ayah 2:46

الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ اَنَّهُمْ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ۠ Open ayah 2:46 in the Quran reader

جو یقین کئے ہوئے ہیں کہ وہ اپنے پروردگار سے ملنے والے ہیں اور اس کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں

46۔ (آیت)” الذین یظنون “ یقین رکھتے ہیں پس ظن اضداد میں سے ہے (یعنی ان لفظوں میں سے ہے جن کے متضاد معنی ہوتے ہیں) تو ظن کا معنی شک والا بھی ہوگا اور یقین والا بھی جیسے رجاء کا معنی امن بھی ہے اور خوف بھی ۔ ” انھم ملاقوا “ دیکھنے والے ہیں ” ربھم “ آخرت میں اور وہ ” ملاقات “ دیدار خداوندی ہے اور کہا گیا ہے کہ ملاقات سے مراد اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا ہے (آیت)” وانھم الیہ راجعون “ پس ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا ۔
Ayah 2:47

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَنِّیْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:47 in the Quran reader

اے یعقوب کی اولاد میرے وہ احسان یاد کرو جو میں نے تم پر کئے تھے اور یہ کہ میں نے تم کو جہان کے لوگوں پر فضلیت بخشی تھی

47۔ (آیت)” یا بنی اسرائیل اذکروا نعمتی التی انعمت علیکم وانی فضلتکم علی العالمین “ یعنی اس وقت کے تمہارے زمانے کے جہاں والوں پر فضیلت دی ، یہ فضیلت اگرچہ موجودہ زمانے کے بنو اسرائیل کے آباء کو نصیب ہوئی مگر اس فضیلت کا شرف وفخر اس اولاد کو جواب موجود ہے حاصل ہے۔
Ayah 2:48

وَ اتَّقُوْا یَوْمًا لَّا تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْئًا وَّ لَا یُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَّ لَا یُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ Open ayah 2:48 in the Quran reader

اور اس دن سے ڈرو جب کوئی کسی کے کچھ بھی کام نہ آئے اور نہ کسی کی سفارش منظور کی جائے اور نہ کسی سے کسی طرح کا بدلہ قبول کیا جائے اور نہ لوگ (کسی اور طرح) مدد حاصل کرسکیں

48۔ (آیت)” واتقوا یوما “ اور ڈرو اس دن کے عذاب سے (آیت)” لاتجزی نفس “ نہیں پورا کرسکے گا کوئی نفس (جان) (آیت)” عن نفس شیئا “ یعنی کوئی بھی حق جو اس نفس یعنی جان پر لازم ہوگا اور کہا گیا ہے کہ (آیت)” لا تجزی نفس “ کا معنی ہے ” لا تغنی “ یعنی کچھ فائدہ نہ دے سکے گا اور کہا گیا ہے (اس کا معنی ہے) نہ کفایت کرسکے گا کوئی نفس کسی قسم کا کچھ حصہ تکلیفات میں سے (آیت)” ولا تقبل منھا شفاعۃ “ ابن کثیر اور ابو عمرو اور یعقوب نے (تقبل کو) تاء کے ساتھ پڑھا کیونکہ شفاعت مؤنث ہے اور باقیوں نے یاء کے ساتھ پڑھا یعنی یقبل کیونکہ شفع اور شفاعت کا ایک معنی ہے جیسے کہ وعظ اور موعظہ کا ایک معنی ہے تو یقبل کا فعل مذکر لانا معنی کے لحاظ پر ہے اور تقبل مؤنث لانا لفظ کے اعتبار سے جیسے فرمان الہی (آیت)” قدجاء تکم موعظۃ من ربکم “ (تو یہاں جاء ت فعل مؤنث لایا گیا) اور دوسری جگہ فرمایا (آیت)” فمن جاء ہ موعظۃ من ربہ “ (تو یہاں جاء فعل مذکر لایا گیا) یعنی اس نفس سے شفاعت نہ قبول کی جائے گی جبکہ وہ نفس ، نفس کافرہ ہوگی (آیت)” ولا یوخذ منھا عدل “ یعنی فدیہ اور فدیہ کو عدل کا نام دیا گیا اس لیے کہ وہ فدیہ جس کا فدیہ دیا جاتا ہے کے مثل ہوتا ہے برابر ہوتا ہے اور عدل کا معنی بھی مثل ہے (آیت)” ولا ھم ینصرون “ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے روکے نہ جائیں گے ۔
Ayah 2:49

وَ اِذْ نَجَّیْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ Open ayah 2:49 in the Quran reader

اور (ہمارے ان احسانات کو یاد کرو) جب ہم نے تم کو قوم فرعون سے مخلصی بخشی وہ (لوگ) تم کو بڑا دکھ دیتے تھے۔ تمہارے بیٹوں کو تو قتل کر ڈالتے تھے اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی (سخت) آزمائش تھی

49۔ (آیت)” واذنجیناکم “ یعنی تمہارے بڑے بزرگوں اور آباء و اجداد کو اللہ تعالیٰ نے موجود زماں بنو اسرائیل کے آباء و اجداد کو نجات دیتا موجودہ بنواسرائیل پر بطور احسان کے جتلایا کیونکہ موجودہ بنو اسرائیل کا وجود ان کے اسلام کے نجات کا مرہون منت ہے (آیت)” من آل فرعون “ فرعون کے پیروکار اور اس کے دین پر چلنے والے اور فرعون وہ ولید بن مصعب بن ریان ہے جو قوم عمالقہ کے خاندان قبط سے تھا اور چار سو (400) سال سے زیادہ عمر پائی ۔ ” یسومونکم “ تمہیں تکلیف دیتے اور تمہیں چکھاتے تھے (آیت)” سوء العذاب “ سخت ترین عذاب اور بدترین عذاب اور کہا گیا ہے تمہیں عذاب میں کبھی پھیرتے تھے جیسے اونٹ جو چرنے والے ہوں انہیں الابل اور سائمہ فی البریۃ کہا جاتا ہے یعنی وہ اونٹ جو جنگل میں چرنے پھرنے والے ہوں اور یہ اس طرح کہ فرعون نے بنو اسرائیل کو خادم ونوکر بنا رکھا تھا اور انہیں مختلف کاموں میں مختلف قسم کی انسانی شکل میں لگا رکھا تھا ۔ (مشاق بنی اسرائیل کا ذکر) بنو اسرائیل کی ایک قسم معمار تھی جو تعمیریں بناتے اور ایک قسم کھیتی باڑی کا کام کرتی تھی اور ایک قسم فرعون کی خدمت گزار تھی اور جو بنی اسرائیل کے لوگ کسی کام کے اہل نہ ہوتے ان پر ٹیکس لگاتے ، حضرت وہب ؓ فرماتے ہیں بنی اسرائیل کی اعمال فرعون کے سلسلہ میں مختلف جماعتیں تھیں جو بنو اسرائیل طاقتور تھے وہ پہاڑ سے ستون تراشتے تھے، یہاں تک کہ پہاڑوں کو کاٹنے اور نقل وحمل کے باعث ان کی گردنیں اور پیٹھیں زخمی ہوگئی تھیں اور بنی اسرائیل کا ایک گروہ پتھر ڈھوتا اور ایک گروہ اینٹیں تھا پتا اور پکاتا اور ایک گروہ بڑھئی تھا کچھ لوہار تھے اور جو ان میں سے کمزور تھے ان پر ٹیکس لگایا جاتا ، وہ ٹیکس روزانہ ادا کرتے جس پر ٹیکس ادا کرنے سے پہلے سورج غروب ہوجاتا اس کا دایاں ہاتھ ایک مہینہ تک گردن کے ساتھ باندھ دیا جاتا ، بنی اسرائیل کی عورتیں سوت کاتنے اور بننے کا کام کرتی تھیں اور فرمان الہی (آیت)” یسومونکم سوء العذاب “ کی تفسیر وہ ہے جو اس کے بعد ذکر ہوئی اور وہ فرمان خداوندی یہ ہے (آیت)” یذبحون ابناء کم “ یہ بطور بدل کے ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے (آیت)” یسومونکم سوء العذاب “۔ (آیت)” ویستحیون نساء کم “ ان کو زندہ چھوڑتے تھے اور یہ اس لیے کہ فرعون نے اپنے خواب میں دیکھا گویا کہ آگ بیت المقدس سے آئی ہے اور اس آگ نے مصر کا احاطہ کرلیا ہے اور مصر میں جس قدر قبطیوں کے گھر تھے انہیں جلا ڈالا ہے اور بنی اسرائیل کے گھروں کی طرف رخ نہیں کیا ، فرعون کو اس خواب نے خوفزدہ کردیا ، چناچہ اس نے کاہنوں سے اپنے خواب کی تعبیر پوچھی تو کاہنوں نے جواب میں کہا بنی اسرائیل میں ایک بچہ پیدا ہوگا جس کے ہاتھ تیری ہلاکت اور تیرے ملک کا زوال ہوگا جس پر فرعون نے بنی اسرائیل کے پیدا ہونے والے ہر بچے کے قتل کے آرڈر کردیئے ۔ دائیوں کو جمع کیا اور انہیں حکم دیا کہ تمہارے ہاتھوں پر کوئی بچہ بنی اسرائیل کا واقع نہیں ہونا چاہیے جسے قتل نہ کیا جائے اور جو بچی آئے اسے چھوڑ دیا جائے اور دائیوں پر نگران مقرر کیے گئے ، چناچہ دائیوں نے یہ کام کرنا شروع کردیا ، یہاں تک کہ کہا جاتا ہے کہ طلب موسیٰ (علیہ السلام) کے سلسلہ میں بارہ ہزار (12000) بچے قتل کردیئے گئے ، حضرت وہب ؓ فرماتے ہیں مجھے یہ پہنچا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طلب میں نوے ہزار (90000) بچے ذبح کردیئے گئے بعد ازاں بنی اسرائیل کے بوڑھوں کے موت جلدی واقع ہونے لگ گئی ، چناچہ سرداراں قوم قبط کا وفد فرعون کے پاس پہنچا اور انہوں نے کہا بنو اسرائیل میں موت عام ہوچکی ہے ان کے چھوٹے ذبح کیے جا رہے ہیں اور بڑے مر رہے ہیں ، عنقریب یہ اعمال شاقہ ہم پر واقع ہوجائیں گے یعنی یہ محنت و مزدوری والے کام ہمیں کرنے پڑیں گے ۔ اس پر فرعون نے حکم دیا ایسا کیا جائے کہ بنی اسرائیل کے بچے (نومولود) ایک سال تو ذبح کیے جائیں اور ایک سال ذبح نہ کیے جائیں یعنی ناغہ کیا جائے چناچہ حضرت ہارون (علیہ السلام) ناغہ کے سال پیدا ہوئے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش اس سال ہوئی جس سال بچے ذبح کیے جا رہے تھے ۔ (آیت) وفی ذالکم بلاء من ربکم عظیم “ بعض نے کہا بلاء سے مراد محنت ومشقت یعنی فرعونیوں کی جانب سے تمہیں عذاب چکھانے میں محنت عظیمہ تھی اور کہا گیا ہے کہ بلاء سے مراد نعمت ہے یعنی میرے اس نجات دینے میں خاص تم کو ان فرعونیوں سے نعمت عظیم ہے چناچہ بلاء بمعنی محنت عظیمہ شدیدہ بھی ہے اور بمعنی نعمۃ عظیمۃ کے بھی ہے پس اللہ تعالیٰ کبھی نعمت عطاء کرکے بسلسلہ شکر بھی آزماتا ہے اور مصیبت پر صبر کے سلسلہ میں بھی آزماتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔
Ayah 2:50

وَ اِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ الْبَحْرَ فَاَنْجَیْنٰكُمْ وَ اَغْرَقْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ Open ayah 2:50 in the Quran reader

اور جب ہم نے تمہارے لئے دریا کو پھاڑ دیا تو تم کو تو نجات دی اور فرعون کی قوم کو غرق کردیا اور تم دیکھ ہی تو رہے تھے

(تفسیر) 50: (آیت)” واذ فرقنا بکم البحر “ بعض نے کہا اس کا معنی (آیت)” فرقنا لکم “ ہے یعنی سمندر کو ہم نے خاص تمہاری خاطر پھاڑا اور کہا گیا ہے ” فرقنا بدخولکم ایاہ “ کہ ہم نے سمندر کو تمہارے داخلہونے کے سبب پھاڑا ، سمندر کو بحر اس کی وسعت کے پیش نظر کہا گیا ہے اور اسی سے ہے گھوڑے کو بھر کہنا جب وہ اپنے دوڑنے میں وسعت اختیار کرے اور یہ اس لیے جب فرعون کی ہلاکت کا وقت قریب آیا ، اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ بنو اسرائیل کو مصر سے رات کے وقت لے چلے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے (بنو اسرائیل) اپنی قوم کو حکم دیا کہ گھروں مین صبح تک چراغ جلائے رکھیں اور اللہ تعالیٰ نے قوم قبط میں جو بھی بنی اسرائیل کا ولد الزنا تھا بنی اسرائیل کی طرف نکالا اور جو بنی اسرائیل میں قبطیوں کا نطفہ حرام تھا اسے قبط کی جانب نکال دیا ، حتی کہ ہر حرامی اپنے باپ کی طرف لوٹ گیا اور اللہ تعالیٰ نے قوم قبطہ پر موت کو ڈال دیا ، چناچہ ہر جوان کنوا ا قبطی مرگیا ، چناچہ صبح تک قبطی ان کے دفنانے میں مصروف رہے جب سورج طلوع ہوگیا ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) چھ لاکھ بیس ہزار لڑاکے جوان لے کر نکل کھڑے ہوئے جن میں بیس سال سے کم عمر والا چھوٹے ہونے کی وجہ سے اور ساٹھ سال سے زیادہ عمر والا بڑھاپے کی وجہ سے شمار نہ تھا ۔ بنی اسرائیل جب حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی معیت میں مصر کو داخل ہوئے تھے تو وہ مرد وزن بہتر (72) انسانوں پر مشتمل تھے، حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ اصحاب موسیٰ چھ لاکھ ستر ہزار تھے، عمرو بن میمون سے مروی ہے کہ بنی اسرائیل چھ لاکھ تھے ، جب انہوں نے چلنے کا ارادہ کیا تو ان پر بھٹکنا مسلط کردیا گیا ، پس وہ یہ نہیں پہچان رہے تھے کہ وہ کہا جا رہے ہیں تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے مشائخ کو بلایا اور اس بارے میں ان سے پوچھا ، انہوں نے بتایا کہ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کو موت حاضر ہوئی تھی تو انہوں نے اپنے بھائیوں سے عہد لیا تھا کہ وہ مصر سے اس وقت تک نہ نکلیں گے جب تک کہ مجھے اپنے ہمراہ نہ لے جائیں گے اسی لیے ہم پر راستہ بند ہوگیا ہے ۔ تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی قبر کے بارے میں دریافت کیا کہ وہ کہاں ہے ؟ تو کسی کو معلوم نہ تھا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کھڑے ہو کر ندا کی میں ہر اس شخص کو اللہ تعالیٰ کی قسم دیتا ہوں جو یہ جانتا ہو کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی قبر کہاں ہے مگر یہ کہ وہ ہمیں اس کے بارے میں خبر دے اور جو حضرت یوسف (علیہ السلام) کی قبر نہ جانتا ہو تو اس کے کان میری آواز سننے سے بہرے ہوجائیں ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) دو آدمیوں کے درمیان ندا دیتے ہوئے گزرتے تھے اور وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی آواز نہ سنتے تھے حتی کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی آواز ایک ان کی بڑھیا نے سنی تو اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا مجھے یہ بتاؤ اگر میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کی قبر پر رہنمائی کر دوں تو آپ مجھے ہر وہ چیز عطا کریں گے جو میں مانگوں گی ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس پر انکار کیا اور کہا کہ یہاں تک میں اپنے رب سے پوچھ لوں تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ بڑھیا کو اس کا سوال دے دیجئے (یعنی اس کا مطالبہ پورا کر دیجئے) پس بڑھیا نے کہا بیشک میں بڑھیا ہوں ، چلنے کی سکت نہیں رکھتی ، مجھے اٹھائیے اور مصر سے نکالئے یہ سوال تو دنیا کا ہے ، بہرحال آخرت میں میں تجھ سے سوال کرتی ہوں کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) جنت کے جس بالا خانہ میں تو اترے میں تیرے ساتھ رہوں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اثبات میں جواب دیا تو بڑھیا نے کہا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی قبر دریائے نیل کے درمیان پانی میں ہے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے حتی کہ اللہ تعالیٰ اس جگہ سے پانی کو ہٹائے پس حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی ، اس جگہ سے پانی ہٹ گیا اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ طلوع فجر کو مؤخر کر دے یہاں تک کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے امر سے فارغ ہوجائیں ، چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس جگہ کو کھودا اور حضرت یوسف کو جو سنگ مرمر کے صندوق میں تھے نکالا اور اٹھا کر لائے اور شام میں انہیں دفن کردیا ، ایسا کرنے پر ان کے لیے راستہ کھل گیا ، بنی اسرائیل چلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کے پچھلے حصہ میں تھے اور حضرت ہارون (علیہ السلام) اگلے حصہ پر فرعون نے جب بنی اسرائیل کے نہ ہونے کے باعث قلت محسوس کی تو اس نے اپنی قوم کو جمع کیا اور ان کو حکم دیا کہ بنی اسرائیل کی طلب میں نہ نکلیں یہاں تک کہ مرغا بانگ دے ۔ پس اللہ کی قسم اس رات مرغے نے بانگ نہ دی ، پس فرعون بنی اسرائیل کی طلب میں نکلا ، فرعون کے لشکر کے مقدمۃ الجیش پر ھامان سترہ لاکھ فوج لیے ہوئے تھا اور ان میں ستر ہزار سیاہ گھوڑے تھے سوائے بقیہ مختلف رنگوں والے کے محمد بن کعب ؓ فرماتے ہیں کہ فرعون کے لشکر میں ایک لاکھ سیاہ رنگ کے گھوڑوں میں تھا اور کہا گیا کہ فرعون ستر لاکھ میں تھا اور اس کے سامنے ایک لاکھ جنگجو اور ایک لاکھ نیزہ لاکھ نیزہ بردار اور ایک لاکھ لاٹھی بردار ، پس بنی اسرائیل چلے یہاں تک کہ سمندر کو پہنچے باز بردست پانی میں پہنچے اور انہوں نے دیکھا پس دن چڑھتے ہی فرعون ان کے قریب آلگا ، پس وہ حیران رہ گئے پس بنو اسرائیل کہنے لگے اے موسیٰ ! (علیہ السلام) اب ہم کیا کریں اور کہاں ہے وہ (نصرت) جس کا تو نے ہم سے وعدہ کیا تھا ؟ یہ فرعون ہمارے پیچھے آگیا اگر فرعون نے ہمیں پالیا تو وہ ہمیں قتل کر ڈالے گا اور سمندر ہمارے آگے ہے اور اگر اس میں داخل ہوئے ہم غرق ہوجائیں گے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت)” فلما تراء ی الجمعان قال اصحاب موسیٰ انا لمدرکون قال موسیٰ کلا ان معی ربی سیھدین “۔ (اس واقعہ کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو اصحاب موسیٰ پکار اٹھے کہ ہم پکڑے گئے ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا ، بیشک میرے ساتھ میرا رب ہے وہ مجھے عنقریب رہنمائی فرمائے گا) پس اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو وحی فرمائی (آیت)” ان اضرب بعصاک البحر “ (یہ کہ اپنا عصا سمندر کو مارئیے) پس حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا اس کو مارا پس سمندر نے اطاعت نہ کی ، پس اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی فرمائی کہ سمندر کی کنیت کے ساتھ اسے خطاب کیجئے ، پس حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عصا مارا اور فرمایا اے ابو خالد اللہ تعالیٰ کے حکم سے پھٹ جا (آیت)” فانفلق فکان کل فرق کالطود العظیم “۔ اور اس میں بارہ راستے ظاہر ہوئے ، ہر خاندان بنی اسرائیل کا ایک راستہ تھا اور ہر دو راستوں کے درمیان پہاڑ کی طرح پانی بلند ہوا ، اللہ تعالیٰ نے دھوپ اور ہوا کو سمندر کی گہرائی پر بھیجا حتی کہ راستے خشک ہوگئے ، اس پر بنی اسرائیل سمندر میں گھس گئے ، ہر قبیلہ ایک راستے پر تھا اور اس کی دونوں جانب پانی تھا جیسے کہ بڑا پہاڑ ہو مگر بعض بعض کو دیکھ نہیں رہے تھے ، پس انہوں نے خوف محسوس کیا اور ہر قبیلہ کہنے لگا کہ ہمارے دودسرے بھائی قتل ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے پانی کے ان پہاڑوں کو حکم دیا کہ تم کھڑکی دار ہوجاؤ تو پانی کھڑکیوں والا ہوگیا طبقہ وار جس سے بعض بعض کو دیکھ رہے تھے اور بعض بعض کی کلام سن رہے تھے حتی کہ صحیح سالم دریا کو عبور کر گئے ، پس اللہ تعالیٰ کے فرمان (آیت)” واذ فرقنا بکم البحر فانجینا کم “ (کا مصداق ہوگئے جس کا معنی ہے کہ ہم نے تمہارے لیے سمندر کو پھاڑ دیا پس ہم نے تم کو نجات دی) فرعون کے لاؤ لشکر سے اور غرق ہونے سے (آیت)” واغرقنا آل فرعون “ اور ہم نے لشکر فرعون کو غرق کردیا اور یہ اس لیے کہ بیشک جب فرعون سمندر کو پہنچا تو سمندر کو جدا جدا (رستوں والا) پایا تو اپنی قوم کو اس نے کہا سمندر کو دیکھو میری ہیبت سے اس لیے ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا ہے تاکہ میں اپنے ان غلاموں کو پکڑ سکوں جو مجھ سے بھاگ گئے ہیں، چلو سمندر میں داخل ہوجاؤ تو فرعون کی قوم سمندر میں داخل ہونے سے ڈری اور فرعون کو کہا گیا کہ اگر تو رب ہے تو سمندر میں اس طرح داخل ہوجا جیسا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) داخل ہوگئے اور فرعون سیاہ رنگ کے گھوڑے پر سوار تھا اور فرعون کے پورے لشکر میں گھوڑی نہ تھی تو حضرت جبرئیل اٹھی ہوئی گھوڑی پر سوار ہو کر آگئے (ودیق اس مؤنث جانور کر کہتے ہیں جو طالب مذکر ہو) حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے اس گھوڑی کو ان کے آگے گیا اور سمندر میں گھس گئے ، جب فرعون کے سیاہ گھوڑے نے گھوڑی کی ہوا سونگھی تو وہ گھورا سمندر میں اس گھوڑی کے پیچھے گھس گیا اور وہ حضرت کو نہ دیکھ رہے تھے ۔ اس پر فرعون اپنے معاملہ کا کچھ بھی مالک نہ رہا اور نہ ہی فرعون حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کی گھوڑی کو دیکھ رہا تھا اور بقیہ گھوڑے فرعون کے گھوڑے کے پیچھے سمندر میں گھس گئے اور حضرت میکائیل (علیہ السلام) گھوڑے پر سوار قوم کے پیچھے آکر ان کو ہانکنے لگے تاکہ فرعونی لشکر میں سے کوئی بھی پیچھے الگ نہ رہے ، حضرت میکائیل (علیہ السلام) ان کو فرما رہے تھے اپنے ساتھیوں کے پیچھے لاحق ہوجاؤ حتی کہ سب کے سب سمندر میں گھس گئے ، حضرت جبرئیل (علیہ السلام) سمندر سے نکلے اور میکائیل (علیہ السلام) سمندر داخل ہوئے ، فرعونی لشکر کا پہلا انسان جب سمندر سے نکلنے لگا تو اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا کہ ان سب کو پکڑ لے تو سمندر موجزن ہوا اور ن سب کو غرق کردیا اور اس سمندر کے دونوں کے کناروں کے درمیان چار فرسخ (یعنی بارہ میل) کا فاصلہ تھا اور وہ بحرفارس کے ایک حصہ کے کنارہ پر تھا ، حضرت قتادہ فرماتے ہیں وہ سمندر ہے ۔ مصر کے پیچھے جسے اساف کہا جاتا ہے اور یہ ان کا غرق ہونا بنو اسرائیل کے سامنے ہوا پس یہ ہے اللہ تعالیٰ کا قول (آیت)” وانتم تنظرون “ یعنی تم ان کے گرنے کو دیکھ رہے تھے اور ۔
Ayah 2:51

وَ اِذْ وٰعَدْنَا مُوْسٰۤى اَرْبَعِیْنَ لَیْلَةً ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 2:51 in the Quran reader

اور جب ہم نے موسیٰ سے چالیس رات کا وعدہ کیا تو تم نے ان کے پیچھے بچھڑے کو (معبود) مقرر کرلیا اور تم ظلم کر رہے تھے

(تفسیر) 51۔: (آیت)” واذ واعدنا “ یہ اس باب مفاعلہ سے ہے جو ایک طرف سے ہوتا ہے جیسے کہ اہل عرب کہتے ” عافاک اللہ “ (اللہ تعالیٰ تمہیں عافیت بخشے) یا عقبت اللعص (میں نے چور کو سزا دی) یا طارقت النعل “ (میں نے جوتے میں کیل ٹھونکی) زجاج فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم تھا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے قبول کرنا تھا پس اس لیے لفظ مواعدہ سے تعبیر فرمایا ، ابو عمرو اور اہل بصرہ نے (آیت)” واذ وعدنا “ پڑھا یعنی وعد سے ۔ ” موشی “ عبرانی نام ہے جسے عربی بنایا گیا ، عبرانی زبان میں موشی کا معنی پانی اور درخت ہے ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا نام موسیٰ (علیہ السلام) اس لیے رکھا گیا کہ وہ پانی اور درختوں کے (جھنڈ) سے پکڑے گئے تھے ، پھر عربی میں ش کوس سے بدل دیا گیا ۔ (موشی سے موسیٰ ہوگیا) ” اربعین لیلۃ “ یعنی ان کا پورا ہونا ، ذوالقعدہ سے تیس دن اور دس دن ذوالحجہ کے، اربعین کو لیلہ یعنی رات کے ساتھ ملا کر ذکر کیا گیا دن کے ساتھ ذکر نہ کیا گیا اس لیے کہ عربی مہینے چاند کے حساب سے رکھے گئے ہیں اور چاند رات کو چڑھتا ہے اور کہا گیا یہ اس لیے کہ ظلمت روشنی سے مقدم ہے اور رات دن سے پہلے پیدا کی گئی ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” وایۃ لھم اللیل نسلخ منہ النھار “ کہ ان کے لیے (قدرت الہی کی) نشانی رات ہے جس سے ہم دن کو کھینچتے ہیں اور یہ اس لیے کہ جب بنواسرائیل اپنے دشمن سے امان پاگئے اور شہر میں داخل ہوئے تو ان کے لیے نہ کوئی کتاب تھی اور نہ شریعت جو ان کی منتہائے نظر ہو۔ پس اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو وعدہ فرمایا کہ بنو اسرائیل کی طرف کتاب نازل فرمائے گا پس حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو فرمایا میں تمہارے رب کی طرف سے میعاد مقرر پر جا رہا ہوں ، ان مقرر ایام میں تمہارے لیے کتا لاؤں گا جس میں ہر اس چیز کا بیان ہوگا جو تم نے کرنا ہے اور جو تم نے چھوڑنا ہے اور ان کو چالیس راتوں کا وعدہ دیا تین ذوالقعدہ سے اور دس ذوالحجہ سے ان پر اپنا خلیفہ حضرت ہارون (علیہ السلام) کو مقرر فرمایا جب وعدہ آن پہنچا تو حضرت جبرئیل (علیہ السلام) گھوڑے پر تشریف لائے جسے فرس الحیات کہا جاتا ہے اس گھوڑے کا پاؤں جس چیز کو لگتا وہ چیز زندہ ہوجاتی اور فرس حیات حضرت جبرئیل (علیہ السلام) اس لیے لیآئے تاکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے رب تعالیٰ کے حضور لے جائیں ، جب سامری نے یہ صورت حال دیکھی اور سامری سنہار (زرگر) تھا جو کہ اہل باجرمی میں سے تھا اور اس کا نام میخا تھا ، حضرت سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں سامری اہل کرمان میں سے تھا حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں اس کا نام موسیٰ بن ظفر تھا ۔ حضرت قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ سامری کا تعلق بنی اسرائیل کے قبیلہ سامرہ سے تھا سامری نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو گھوڑے کے پاؤں رکھنے کی جگہ کو دیکھا کہ جہاں اس کا پاؤں پڑھتا ہے کہ وہ مقام سبز ہوجاتا ہے ، دراصل یہ منافق تھا اسلام کو ظاہر کیے ہوئے تھا ، اس کا تعلق گاؤ پرست لوگوں سے تھا جب اس نے جبرئیل (علیہ السلام) کو اس گھوڑے پر دیکھا تو وہ جان گیا یہ کوئی ذیشان گھوڑا ہے تو اس نے جبرئیل (علیہ السلام) کے گھوڑے کے سموں والی جگہ سے مٹی لے لی ، حضرت عکرمہ ؓ فرماتے ہیں کہ اس کے دل میں یہ خیال پڑگیا کہ یہ مٹی جس پر ڈالی جائے گی وہ چیز زندہ ہوجائے گی اور بنی اسرائیل نے مصر سے نکلتے وقت شادی کے بہانے قوم فرعون سے بہت سے سونے کے بہت سے زیورات عاریۃ لے لیے تھے پس اللہ تعالیٰ نے فرعون کو غرق کردیا اور وہ زیورات بنو اسرائیل کے ہاتھ رہ گئے ، جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تشریف لے گئے تو سامری نے بنی اسرائیل کو کہا کہ تم جو زیورات قوم فرعون سے مانگے تھے وہ مال غنیمت ہیں جو تمہارے لیے حلال نہیں ہیں پس تم گڑھا کھودو اور انہیں دفن کر دو ۔ یہاں تک کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) واپس تشریف لائیں تو ان کے بارے میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) خود فیصلہ فرمائیں گے ، حضرت علامہ سدی (رح) فرماتے ہیں بےحضرت ہارون (علیہ السلام) نے ان کو فرمایا ان زیورات کو گڑھے میں دفن کر دو یہاں تک کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) واپس تشریف لائیں چناچہ انہوں نے ایسا کیا جب تمام زیورات جمع کردیئے گئے سامری نے ان کو ڈھالا۔ بچھڑا بنا کر تین دونوں میں پھر اس میں وہ مٹھی مٹی کی ڈال دی جو اس نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کے گھوڑے کے قدم والے نشان سے لی تھی پس وہ سونے کا بچھڑا بنا کر نکلا جس پر جواہرات کا جڑاؤ بہت خوبصورت طریقے پر کیا گیا تھا پس اس بچھڑے نے آواز کی آواز کرنا ، علامہ سدی فرماتے ہیں وہ آواز بھی کرتا تھا اور چلتا بھی تھا ، پس سامری نے کہا کہ یہ تمہارا خدا ہے اور موسیٰ (علیہ السلام) کا خدا ہے جسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بھول گئے اور یہاں چھوڑ گئے اور وہاں طلب کرنے گئے ، بنواسرائیل نے وعدہ خلافی کی ، دن کو علیحدہ اور رات کو علیحدہ شمار کیا ، یعنی اس طرح دن رات کو دو دن شمار کیا ، جب بیس دن گزر گئے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) واپس نہ لوٹے تو بنو اسرائیل فتنہ میں پڑگئے اور کہا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو تیس راتوں کا وعدہ فرمایا ، پھر دس راتیں بڑھا دی گئیں تو بنی اسرائیل کا فتنہ ان دس راتوں میں ہوا جب دس راتیں گزر گئیں اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) واپس نہ لوٹے تو بنی اسرائیل نے گمان کای کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فوت ہوگئے اور بچھڑے کو دیکھا اور سامری کی بات سنی تو بنی اسرائیل کے آٹھ ہزار آدمی بچھڑے کے اردگرد عبادت کرنے بیٹھ گئے ۔ اور کہا گیا ہے کہ سب نے عبادت کی سوائے حضرت ہارون (علیہ السلام) اور ان کے بارہ ہزار (12000) ساتھیوں کے یہ قول زیادہ صحیح ہے حضرت حسن (رح) فرماتے ہیں سب نے عبادت کی سوائے حضرت ہارون (علیہ السلام) ایک اکیلے کے پسیہ ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” ثم اتخذتم العجل “۔ یعنی معبود ” من بعدہ “ ابن کثیر اور حفص نے ” اخذت ، واتخذت “ کی ذال کو ظاہر کیا اور باقیوں نے ذال کو ادغام کیا ، (آیت)” وانتم ظالمون “ گناہ کرکے اپنے کو نقصان دینے والے تھے ، عبادت غیر محل میں رکھنے والے تھے ۔
Ayah 2:52

ثُمَّ عَفَوْنَا عَنْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:52 in the Quran reader

پھر اس کے بعد ہم نے تم کو معاف کردیا تاکہ تم شکر کرو

52۔ (آیت)” ثم عفونا عنکم “ تاکہ تم میرے معاف کردینے کے شکر گزار بن جاؤ اور جو کچھ میں نے تمہارے ساتھ احسان کیا ، کہا گیا ہے شکر ظاہر و پوشیدہ تمام اعضاء کے ساتھ اطاعت کا نام حضرت حسن بصری (رح) فرماتے ہیں کہ کسی نعمت کا شکر اس کا ذکر کرنا ہے ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” واما بنعمۃ ربک فحدث “ (بہرحال اپنے رب کی نعمت کا بیان کیجئے) حضرت فضیل (رح) فرماتے ہیں کہ ہر نعمت کا شکر یہ ہے کہ اس نعمت کے ملنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی جائے اور کہا گیا کہ حقیقت شکر (یہ ہے) ادائے شکر سے عجز کا اظہار کیا جائے ، حکایت کیا گیا ہے کہ بیشک حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا اے اللہ ! تو نے مجھے کامل ترین نعمتیں عطا کیں اور شکر کرنے کا مجھے حکم دیا ۔ (یا اللہ) میرا تیری ذات کا شکر کرنا بھی تیری طرف سے ایک نعمت ہے ، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ، اے موسیٰ (علیہ السلام) تو نے وہ علم سیکھا جس سے اوپر کوئی اور علم نہیں ہے ۔ میرے بندہ کی طرف سے میرے لیے اتنا کچھ کافی ہے کہ میرا بندہ اس بات کو جان لے کہ اسے جو نعمت حاصل ہے پس وہ میری طرف سے ہے حضرت داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا پاک ہے وہ ذات جس نے بندے کے اپنے شکر سے اعتراف عجز کو شکر بنادیا ، جیسے کہ بندے کی معرفت الہیہ سے متعلق اعتراف عجز کو معرفت بنادیا ۔
Ayah 2:53

وَ اِذْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ الْفُرْقَانَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ Open ayah 2:53 in the Quran reader

اور جب ہم نے موسیٰ کو کتاب اور معجزے عنایت کیے تاکہ تم ہدایت حاصل کرو

53۔ (آیت)” واذ اتینا موسیٰ الکتاب “ یعنی تورات ” والفرقان “ حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں اس سے مراد بھی تورات ہے، تورات کا ذکر دو اسموں سے کیا گیا ، حضرت کسائی (رح) فرماتے ہیں فرقان کتاب کی صفت ہے اور واؤ زائدہ ہے ، یعنی کتاب فرقان ” حلال و حرام میں فرق کرنے والی “ یمان بن ریان فرماتے ہیں فرقان سے اللہ تعالیٰ کی مراد انفراق بحر یعنی سمندر کا جدا ہوجانا ہے جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت)” واذ فرقنا بکم البحر فانجینا کم لعلکم تھتدون “ (راہ پاؤ) ساتھ تورات کے۔
Ayah 2:54

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اِنَّكُمْ ظَلَمْتُمْ اَنْفُسَكُمْ بِاتِّخَاذِكُمُ الْعِجْلَ فَتُوْبُوْۤا اِلٰى بَارِئِكُمْ فَاقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ عِنْدَ بَارِئِكُمْ١ؕ فَتَابَ عَلَیْكُمْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:54 in the Quran reader

اور جب موسیٰ نے اپنے قوم کے لوگوں سے کہا کہ بھائیو ! تم نے بچھڑے کو (معبود) ٹھیرانے میں (بڑا) ظلم کیا ہے تو اپنے پیدا کرنے والے کے آگے توبہ کرو اور اپنے تئیں ہلاک کر ڈالو، تمہارے خالق کے نزدیک تمہارے حق میں یہی بہتر ہے، پھر اس نے تمہارا قصور معاف کردیا، وہ بیشک معاف کرنے والا (اور) صاحب رحم ہے

54۔ (آیت)” واذ قال موسی) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں سے کہا (آیت) ” یا قوم انکم ظلمتم انفسکم “۔ کہ تم نے اپنے نفسوں کو دھوکہ دیا (آیت)” باتخاذکم العجل “ (بچھڑے کو) معبود (پکڑنے کے سبب) انہوں نے کہا تو اب ہم کیا کریں ؟ فرمایا (آیت)”’ فاقتلوا انفسکم “ یعنی چاہیے کہ تم میں سے جو بےگناہ ہے وہ مجرم کو قتل کرے ” ذلکم “ یعنی قتل کرنا ” خیرلکم عندبارئکم “ جب ان کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے قتل کا حکم دیا تو وہ کہنے لگے ۔ سب کے سب ایک صحن میں اپنی چادروں سے گوٹ مار کر سرجھکا کر بیٹھ گئے حکم ہوا اگر کوئی اپنی گوٹ کھولے یا نگاہ اٹھا کر قاتل کر دیکھے یا ہاتھ پیر کے ذریعے سینچے تو وہ ملعون ہے اور اس کی توبہ مقبول نہ ہوگی ، سب نے حکم الہی کی تعمیل کی اور اپنی اپنی گردنیں کھول دیں ، مجرمین میں ان قاتلین کے عزیز و اقارب بھی تھے کوئی کسی کا باپ کوئی بیٹا، کوئی بھائی ، کوئی قریبی رشتہ دار ‘ کوئی دوست تھا جب امتثال حکم الہی کیلئے تلوار اٹھائی تو فرط محبت و شفقت کی وجہ سے تلوار ہاتھ سے چھوٹ گئی اور حق تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ ہوسکی ، سب نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے عرض کیا یا نبی اللہ اب ہم کیا کریں ہم تو مغلوب ہوگئے حق تعالیٰ نے زمین سے بخارات یا آسمان سے ایک ایک ابر سیاہ بھیجا کہ اس سے تاریکی چھا گئی کہ کوئی ایک دوسرے کو نہ دیکھتا تھا القصہ قتل شروع ہوا اور کئی روز تک یہ قتل رہا صبح سے شام تک برابر قتل کرتے تھے ، جب بنی اسرائیل کثرت سے مقتول ہوئے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) نے بارگاہ الہی میں رو رو کر دعا فرمائی کہ خداوندا بنی اسرائیل یک لخت ہلاک ہوئے جاتے ہیں اب اپنا رحم فرمائیے ، حق تعالیٰ نے اس سیاہ ابر کو ہٹا دیا اور حکم بھیجا کہ اب قتل نہ کریں جب ابرہ کھلا تو دیکھا گیا کہ ہزاروں آدمی مارے گئے حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ مقتولین کی تعداد ستر ہزار تھی یہ دیکھ کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بہت غم ہوا حق تعالیٰ نے وحی بھیجی کہ موسیٰ ! کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ میں قاتل اور مقتول دونوں کو جنت میں داخل کروں اور جو قتل ہوئے انہیں شہادت کا مرتبہ دوں اور جو باقی رہیں ان کے گناہ معاف کردوں