Ayah 2:148148۔ (آیت)” ولکل وجھۃ “ یعنی ہر ملت و مذہب والوں کے لیے ایک قبلہ ہے۔ ” وجھۃ “ اس (جانب) کا نام ہے جس کی طرف توجہ کی جائے ، ” ھومولیھا “ اس کی طرف متوجہ ہونے والا ہے ۔ ” ولیتہ اور ولیت الیہ “ تو اس وقت کہے گا جب تو اس پر متوجہ ہوگا اور ” ولیت عنہ “ تو اس وقت کہے گا جب تو اس سے پیٹھ پھیرے گا ۔
حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں (آیت)” ھو مولیھا وجھہ “ وہ اس جانب اپنے منہ کو پھیرنے والا ہے ، اخفش (رح) فرماتے ہیں کہ ” مولی “ کا معنی پھیرنے والا اور اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس ہے ، معنی ہوگا کہ اللہ تعالیٰ امتوں کے منہ پھیرنے والا ہے ان کے قبلہ کی طرف اور ابن عامر (رح) نے ” ھومولاھا “ پڑھا ہے معنی ہوگا متوجہ کرنے والا ، اس جانب قبلہ کی طرف پھیرا گیا ہے (آیت)” فاستبقوا الخیرات “ خیرات (بھلائیوں) کی طرف ۔ اللہ تعالیٰ اس سے ارادہ فرماتے ہیں کہ طاعات کی طرف جلدی کرو اور اس جلدی کرنے سے مراد قبول (احکام) کی طرف جلدی کرنا ہے ” اینماتکونوا “ تم اور اہل کتاب ” یات بکم اللہ جمیعا “ قیامت کے دن پس تمہارے اعمال کا بدلہ دے گا (آیت)” ان اللہ علی کل شی قدیر “۔
خاصیت آیت 148۔
(آیت) وَلِکُلٍّ وِجْہَۃٌ ہُوَ مُوَلِّیْہَا فَاسْتَبِقُواْ الْخَیْْرَاتِ أَیْْنَ مَا تَکُونُواْ یَأْتِ بِکُمُ اللّہُ جَمِیْعاً إِنَّ اللّہَ عَلَی کُلِّ شَیْْء ٍ قَدِیْرٌ (148)
اگر کہیں سے کوئی سامان چوری ہوگیا یا کوئی آدمی بھاگ گیا ہو تو اس آیت کو نئے کپڑے کے ٹکڑے پر لکھ کر چور یا بھاگے ہوئے آدمی کا نام لکھیں پھر جس مکان سے چوری ہوئی یا جس مکان سے آدمی بھاگا اس کی دیوار پر اس ٹکڑے کو رکھ کر اوپر سے ایک میخ ٹھونک دیں تو بھاگنے والا شخص اور چور سامان لے کر واپس آجائے گا ۔
(آیت)” والھکم الہ واحد لا الہ الا ھو الرحمن الرحیم “۔ اگر کوئی آدمی سورج کے برج اسد میں ہوتے ہوئے اس آیت کو چاندی کی انگوٹھی میں لکھوا کر انگلی میں پہنے رکھے تو نہ کوئی اسے ستائے گا اور نہ اس کو کوئی نقصان پہنچائے گا ۔
Ayah 2:149(تفسیر) 149۔:
(آیت)” ومن حیث خرجت فول وجھک شطر المسجد الحرام وانہ للحق من ربک وما اللہ بغافل عما تعملون “ ” تعملون “ کو ابو عمرو نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور باقیوں نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے ۔
Ayah 2:150(تفسیر) 150۔:
(آیت)” ومن حیث خرجت فول وجھک شطر المسجد الحرام وحیثما کنتم فولوا وجوھکم شطرہ “ تکرار آیت تاکید نسخ کے لیے ہے ۔ (آیت)” لئلا یکون للناس علیکم حجۃ الا الذین ظلموا “ اس آیت کریمہ کی تاویل میں انہوں (مفسرین) نے اختلاف کیا اور اللہ تعالیٰ کے قول ” الا “ کی توجیہ میں بھی اختلاف کیا، پس بعض نے فرمایا کہ تحویل قبلہ بجانب کعبہ اس لیے کیا گیا تاکہ لوگوں کے لیے خلاف کوئی حجت نہ رہے، اس وقت جبکہ تم کعبہ شریف کی بجائے کسی اور جانب منہ کرو گے پس لوگ کہیں گے تمہارا تو کوئی قبلہ ہی نہیں ، سوائے ان لوگوں کے جو کہ ظالم ہیں اور وہ قریش اور یہود ہیں ۔ قریش کہیں گے کہ محمد ﷺ کعبہ کی طرف لوٹ آیا ہے کیونکہ وہ جان گیا ہے کہ کعبہ کا قبلہ ہونا ہی حق ہے اور بیشک وہ (کعبہ) اس کے آیاء کا قبلہ ہے پس اسی طرح (ایک نہ ایک دن) ہمارے دین کی طرف بھی لوٹ آئے گا ، بہرحال یہود کہیں گے کہ وہ (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیت المقدس سے باوجودیکہ یہ بات جانتے ہوئے کہ بیت المقدس کا قبلہ ہونا حق ہے نہیں پھرے مگر محض اس لیے کہ وہ (دین میں) اپنی رائے سے عمل کرتا ہے بعض لوگوں نے ” لئلا یکون للناس علیکم حجۃ “ سے مراد یہود کو لیا ہے ، یہود کی حجت بطور مخاصمت کے ایمان والوں کے خلاف ان دنوں میں جبکہ ایمان والے بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے تھے یہ تھی کہ محمد ﷺ اور ان کے ساتھیوں کو تو قبلہ کا علم بھی نہ تھا حتی کہ ہم نے ان کی رہنمائی کی ۔
(آیت)” الا الذین ظلموا “ اس سے مراد مشرکین مکہ ہیں اور ان کی حجت یہ تھی کہ جب تحویل قبلہ بطرف کعبہ ہوئی تو انہوں نے کہا کہ محمد ﷺ اپنے دین میں متحیر ہیں اور عنقریب یہ ہمارے مذہب کی طرف لوٹ آئیں گے ، جیسا کہ ہمارے قبلہ کی طرف لوٹ آئے ہیں ، حضرت مجاہد (رح) عطاء (رح) اور قتادہ (رح) کے قول کا یہی مفہوم ومعنی ہے ، ان ذکر شدہ (2) دو تاویلوںٗ کی بنیاد پر ” الا الذین “ کا استثناء صحیح ہوگا اور فرمان الہی (آیت)” الاالذین ظلموا “ یعنی کسی ایک کو بھی تمہارے خلاف حجۃ و اعتراض کرنے کی گنجائش نہیں سوائے مشرکین قریش کہ وہ تم سے حجت بازی کریں گے اور تم سے باطل طریق اور ظلم کے ساتھ جھگڑا اور مخاصمت کریں گے ۔
باطل طریق پر جھگڑا کرنے کو حجت کا نام دیا گیا ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ (آیت)” حجتھم داحضۃ عند ربھم “ اور لفظ ” الذین “ کا مقام اعرابی جر یعنی زیر ہے ، گویا کہ کہا گیا ہے (آیت)” سوی الذین ظلموا “ یعنی ” الا “ اس جگہ پر بمعنی سوی ہے ، یہ بات کسائی (رح) نے کہی اور فراء (رح) کہتے ہیں (آیت)” الا الذین ظلموا “ میں ” الا “ برائے استثناء ہے (نہ کہ بمعنی سوی) اور بوجہ ” الا “ کے ” الذین “ منصوب ہے۔ ” منھم “ یعنی لوگوں میں سے اور کہا گیا ہے کہ یہ کلام اول سے استثناء منقطع ہے اور ” الا الذین ظلموا “ بمعنی ” لکن الذین “ معنی ہوگا لیکن وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا وہ تم سے باطل طریق پر جھگڑا کریں گے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ” مالھم بہ من علم الا اتباع الظن “ (تو یہاں بھی الا بمعنی لکن ہے) یعنی ” لکن یتبعون الظن “ لیکن وہ ظن کی پیروی کرتے ہیں ،
اور قول کی مثال ایسے ہے جیسے کوئی شخص کہے ” مالک عندی حق الا ان تظلمنی “ (تو جیسا اس قول میں استثناء منقطع ہے کہ ” ان تظلمنی “ کا مفہوم ، حق کے مفہوم میں داخل نہیں ہے ایسے ہی مکمل آیت ” الا الذین ظلموا “ میں ملی کہ ظالم لوگوں کا مجادلہ اور جھگڑا بالباطل مفہوم حجت میں داخل نہیں ہے)
ابو روق (رح) فرماتے ہیں (آیت)” لئلا یکون للناس “ سے مراد یہود ہیں کہ یہود کے لیے تمہارے خلاف کوئی حجت نہ رہے اور یہ اس لیے کہ وہ جانتے کہ کعبہ (قبلہ) ابراہیمی ہے اور وہ تورات میں انہوں یہ (لکھا) پایا تھا کہ محمد ﷺ کعبہ کی طرف پھیرے جائیں گے پس اللہ تعالیٰ نے کعبہ کی طرف پھیر دیا تاکہ ان کے لیے کوئی حجت دلیل باقی نہ رہے ، پس وہ یوں کہیں کہ جس نبی کو ہم تورات میں (لکھا) پاتے ہیں ان کو تو کعبہ کی طرف پھیرا جانا تھا اور آپ نہیں پھیرے گئے جب آپ کو کعبہ کی طرف پھیرا گیا تو ان کی حجت ختم ہوگئی ، سوائے ظالم لوگوں کے پس وہ چھپائیں گے جو حق وہ پہچانتے ہیں ، حضرت ابوعبیدہ ؓ فرماتے ہیں :
استثناء نہیں ہے بلکہ ” الا “ واؤ عطف کی جگہ پر ہے ، یعنی ” والذین ظلموا “ اور وہ لوگ جو ظالم ہیں ان کے لیے بھی کوئی دلیل نہیں جیسا کہ شاعر کہتا ہے :
وکل اخ مفارقۃ اخوہ لعمر ابیک الا الفرقدان :
ترجمہ : (تیرے باپ کی زندگی کی قسم ہر ایک بھائی کو اس کا بھائی چھوڑ جانے والا ہے ۔ (جدا ہونے والا ہے) ” الا الفرقدان “ کا معنی ہوگا اور فرقدان (دوستارے) بھی باہم جدا ہونے والے ہیں)
پس آیت کا معنی ہوگا پس (اے ایمان والو) تم کعبہ شریف کی طرف متوجہ ہوجاؤ تاکہ لوگوں کے لیے یعنی یہود کے لیے تمہارے خلاف کوئی حجت باقی نہ رہے ، پس وہ کہیں کہ تم نے کعبہ کو کیوں چھوڑ دیا حالانکہ وہ کعبہ قبلہ ابراہیمی ہے اور تم دین ابراہیم پر ہو اور نہ ان لوگوں کے لیے حجت باقی رہے جو کہ ظالم ہیں اور وہ مشرکین مکہ ہیں ، پس وہ مشرکین کہنے لگیں کہ محمد کریم ﷺ نے اپنے دادا کے قبلہ کو کیوں چھوڑا کہ اس سے پھر کر قبلہ یہود کی طرف نماز میں متوجہ ہوا ؟ ” فلاتخشوھم “ اپنے اس پھرنے میں کعبہ شریف کی طرف اور ان کا تمہارے خلاف جھگڑا کرنے میں باہمی تعاون کرنے میں (ان سے نہ ڈرو) پس میں بیشک تمہارا دوست ہوں تمہیں ان پر دلائل براہین اور نصرت وفتح کے ساتھ غلبہ دوں گا ، ” واخشونی ولا تم نعمتی علیکم “ اس کا عطف اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت)” لئلا یکون للناس علیکم حجۃ “ پر ہے اور تاکہ میں خاص تم کو قبلہ ابراہیمی کی طرف ہدایت دینے کے ساتھ اپنی نعمت تم پر تمام کروں ، پس اس سے تمہارے لیے ملت حنیفیہ تمام ہوجائے گی ، حضرت علی بن ابی طالب ؓ فرماتے ہیں تمام نعمت اسلام پر موت ہے۔
حضرت سعید بن جبیر ؓ فرماتے ہیں مسلمان پر نعمت کے تمام ہونے کا معنی صرف یہی ہے کہ وہ جنت میں داخل ہوجائے ، (آیت)” ولعلکم تھتدون “ تاکہ تم گمراہی سے ہدایت پاجاؤ اور ” لعل اور عسی “ کا استعمال کلام الہی میں قطعی ثبوت کے معنی میں ہوتا ہے۔ (یعنی کلام الناس میں لعل وعسی برائے ترجی ہیں جس کا معنی غیر حتمی ہے مگر کلام الہی میں ایسا نہیں)
Ayah 2:151(تفسیر) 151۔:
(آیت)” کما ارسلنا فیکم “ یہ کاف برائے تشبیہ ہے اور ایسی شیء کا محتاج ہے جس کی طرف یہ لوٹے ، پس بعض نے فرمایا یہ کاف ماقبل کی طرح راجع ہے، معناہ اس طرح ہوگا اور تاکہ میں تم پر نعمت تمام کروں ، جیسا کہ تم میں ایسا رسول بھیجا جو تم میں سے ہے ، حضرت محمد بن جریر (رح) فرماتے ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دو دعائیں فرمائی تھیں ، ایک دعا (آیت)” ربناواجعلنا مسلمین لک ومن ذریتنا امۃ مسلمۃ لک “ (کہ اے ہمارے رب ہمیں مسلم یعنی فرمانبردار بنائے رکھ اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک اپنی فرمانبردار جماعت قائم رکھ) دوسری دعا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ قول تھا ۔ (آیت)” ربنا وابعث فیھم رسولا منھم “ اے ہمارے رب پاک ! ان (اہل مکہ) میں ایک ایسا رسول بھیج جو انہیں (اہل مکہ) میں سے ہو ۔
پس اللہ تعالیٰ نے رسول بھیجا اور وہ حضرت محمد کریم ﷺ تھے اور دوسری دعا کی قبولیت کا وعدہ فرمایا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد (نسل) میں امت مسلمہ پیدا کرے گا یعنی جس طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کو رسول بھیج کر قبول کیا گیا ، اسی طرح ان کی (دوسری) دعا کو بھی قبول کیا گیا کہ میں تم کو دین ابراہیم (علیہ السلام) کی رہنمائی کروں گا اور تمہیں مسلمان بناؤں گا اور ملت حنیفیہ کے شرعی احکام بیان کرکے تم پر اپنی نعمت تمام کروں گا ۔
حضرت مجاہد (رح) حضرت عطاء (رح) اور حضرت کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ اس کا تعلق اس کے مابعد سے ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد گرامی (آیت)” فاذکرونی اذکرکم “ اس کا معنی یہ کہ جس طرح میں نے تمہاری طرف تم میں سے رسول بھیجا پس تم میرا ذکر کرو اور یہ آیت کریمہ خطاب ہے اہل مکہ اور پورے عرب کو ، یعنی جس طرح اے گروہ عرب ہم نے تمہارے اندر رسول بھیجا (آیت)” رسولا منکم “ یعنی محمد کریم ﷺ (آیت)” یتلوا علیکم ایاتنا “ یعنی قرآن کریم (آیت)” ویزکیکم ویعلمکم الکتاب والحکمۃ “ بعض نے کہا کہ حکمت سے مراد سنت ہے اور بعض نے کہا کہ حکمت سے مراد قرآنی نصیحتیں ہیں (آیت)” ویعلمکم مالم تکونوا تعلمون “ احکام اور اسلام سے متعلق امور شرعیہ ۔
Ayah 2:152152۔ (آیت)” فاذکرونی اذکرکم “ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں (اس کا معنی ہے) تم میری فرمانبرداری کرکے مجھے یاد کرو ، میں تمہاری مدد کر کے تمہارا ذکر کروں گا ، سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں تم میرا ذکر میری اطاعت کرکے کرو میں تمہاری مغفرت کرکے تمہارا ذکر کروں گا بعض نے کہا کہ تم نعمت اور خوشحالی میں میرا ذکر کرو میں مشکل اور مصیبت میں تمہارا ذکر کروں گا اس کا بیان (آیت)” فلولا انہ کان من المسبحین للبث فی بطنہ الی یوم یبعثون “ یعنی اگر حضرت یونس (علیہ السلام) میری تسبیحات کرنے والے (خوشحالی میں) نہ ہوتے تو مچھلی کے پیٹ میں تاقیامت رہتے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں اپنے بندہ کے ساتھ اس کے مطابق معاملہ کرتا ہوں جیسا وہ میرے ساتھ گمان کرتا ہے اور میں اپنے اس بندہ کے ساتھ ہوتا ہوں جب ہو میرا ذکر کرتا ہے اگر میرا بندہ تنہائی میں میرا ذکر کرتا ہے تو میں بھی تنہائی (یعنی ملائکہ کے بغیر) میں اپنے بندہ کا ذکر کرتا ہوں اور اگر وہ (میرا بندہ) میرا ذکر کسی مجلس میں کرتا ہے تو میں اپنے بندہ کا ذکر اس مجلس سے بہتر مجلس میں کرتا ہوں (فرشتوں میں) اگر میرا بندہ میری طرف (اعمال صالحہ کر کے) ایک بالشت قریب ہوتا ہے تو میں اپنے بندہ کی طرف (رحمت کے ساتھ) ایک ہاتھ قریب ہوجاتا ہوں اور اگر میرا بندہ میری طرف اسی طرح ایک ہاتھ قریب ہوتا ہے تو میں اپنے بندہ کی طرف ایک باع یعنی دو ہاتھ کے پھیلاؤ کے بقدر (بطور رحمت کے) قریب ہوجاتا ہوں اور جو شخص میرے پاس چل کر آتا ہے میں اس کی طرف تیز چل کرجاتا ہوں (بندہ کی توجہ الی اللہ اگر تھوڑی سی ہو تو اللہ تعالیٰ ازروئے رحمت کے بندہ کی طرف زیادہ متوجہ ہوجاتے ہیں)
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں میں نے یہ حدیث حضور اقدس ﷺ سے اپنی ان دس انگلیوں کی تعداد کے مطابق سنی ، بیشک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فرماتا ہے اے ابن آدم ! اگر تو میرا ذکر اپنی ذات میں (تنہائی میں) کرے گا میں بھی تیرا ذکر اپنی ذات میں (مجلس ملائکہ کے بغیر) کروں گا اور اگر تو میرا ذکر کسی مجلس میں کرے گا میں تیری ذکر اس مجلس میں کروں گا جو تیری مجلس کے لوگوں سے بہتر ہوں گے (فرشتوں میں) اور تو مجھ سے ایک بالشت قریب ہوگا میں تیری طرف ایک ہاتھ قریب ہوں گا اور اگر تو ایک ہاتھ قریب ہوگا میں تیری جانب ایک باع (دو ہاتھ کے پھیلاؤ کے بقدر) قریب ہوں گا اور تو میری طرف چلے گا میں تیری تیز چلوں گا اور اگر تو میری طرف تیز چل کر آئے گا تو میں تیری طرف دوڑ کر آؤں گا ۔
(وضاحت)
(مقصد یہ کہ بندہ اعمال صالحہ کرکے اللہ تعالیٰ کا قرب تھوڑی مقدار میں حاصل کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے ساتھ اپنے بندہ کے زیادہ قریب ہوجاتا ہے ، بندہ کی تھوڑی توجہ پر رحمت الہیہ زیادہ مقدار میں متوجہ ہوجاتی ہے) اور (اے ابن آدم ! ) اگر تو مجھ سے مانگے میں تجھے عطا کرتا ہوں اور اگر تو مجھ سے نہ مانگے گا تو میں تجھ پر ناراض ہوجاؤں گا ۔
حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا (اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں اپنے بندہ کے ساتھ ہوتا ہوں ، جب تک میرا بندہ ذکر کرتا ہے اور میرے (ذکر) سے اس کے ہونٹ حرکت کرتے ہیں)
عبداللہ بن بشر مازنی (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی حضور ﷺ کے پاس آیا ۔ اس نے کہا یا رسول اللہ ﷺ کون سا عمل افضل ہے ؟ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا (یہ کہ تو دنیا سے صراس حالت میں رخصت ہو کہ تیری زبان اللہ تعالیٰ کے ذکر سے تازہ ہو۔ )
(آیت)” واشکروا لی ولا تکفرون “ تم میرا شکر اطاعت (فرمانبرداری) کے ساتھ کرو اور گناہ کر کے ناشکری نہ کرو (کفر نہ کرو) اس لیے کہ جس نے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کی اس نے اللہ تعالیٰ کا شکر کیا اور جس نے اس کی نافرمانی کی (گناہ کیا) پس تحقیق اس نے اللہ تعالیٰ کا کفر کیا۔ (ناشکری کی)
Ayah 2:153(تفسیر) 153۔:
(آیت)” یایھا الذین امنوا استعینوا بالصبر والصلوۃ ان اللہ مع الصابرین “ (یعنی اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے) اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مدد اور نصرت اور قبول دعا سے صابروں کے ساتھ ہے ۔
Ayah 2:154154۔ (آیت)” ولا تقولوا لمن یقتل فی سبیل اللہ اموات “ یہ آیت کریمہ ان مسلمانوں کے بارے میں نازل ہوئی جو غزوہ بدر میں شہید ہوگئے اور یہ چودہ آدمی تھے چھ مہاجرین میں سے اور آٹھ انصار میں سے ، جو شخص راہ خدا میں شہید ہوجاتا لوگ اس کے بارے میں کہتے تھے ” مات فلان “ کہ فلاں شخص مرگیا اور اس سے دنیا کی نعمتیں اور لذتیں چلی گئیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت)” ولا تقولوا لمن یقتل فی سبیل اللہ اموات “۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بل احیاء ولکن لا تشعرون “ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے شہداء احد کے بارے میں ارشاد فرمایا (آیت)” ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتا “ ۔
(آیت)” بل احیاء عند ربھم یرزقون “ حضرت حسن ؓ فرماتے ہیں شہید اللہ تعالیٰ کے ہاں زندہ ہوتے ہیں ان کے رزق ان کی روحوں پر پیش کیے جاتے ہیں تو ان شہیدوں کی طرف خوشی اور مسرت پہنچتی ہے جس طرح کہ آل فرعون کی روحوں پر صبح وشام آگ پیش کی جاتی ہے جس کی وجہ سے ان کو دکھ پہنچتا ہے ۔
Ayah 2:155(تفسیر) 155۔:
ولنبلونکم “ یعنی اے امت محمد ! ہم تمہیں ضرور آزمائیں گے ، لام قسم محذوف کا جواب ہے تقدیر عبارت ہوگی ۔ (آیت)” واللہ لنبلونکم “ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش فرمانبردار اور نافرمان کو ظاہر کرنے کے لیے ہوتی ہے ۔ آزمائش اس لیے نہیں ہوتی تاکہ اللہ وہ کچھ جان لیں جس کا علم پہلے نہ رکھتے تھے (یعنی جس کو پہلے نہ جانتے تھے) ۔۔۔۔ (آیت)” بشیء من الخوف “ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں یعنی دشمن کا خوف (والجوع) یعنی قحط ” ونقص من الاموال “ خسارہ اور ہلاکت (مال) والانفس، قتل اور موت کے ساتھ بعض نے کہا کہ مرض اور بڑھاپے کے ساتھ ” والثمرات “ پھلوں میں آفات (زرعی بیماریاں وغیرہ) حضرت امام شافعی (رح) سے حکایت کی گئی ہے انہوں نے فرمایا خوف سے مراد اللہ تعالیٰ کا خوف ہے۔ بھوک (جوع) سے مراد رمضان شریف کے روزے (نقص من الاموال) سے مراد زکوۃ و صدقات کی ادائیگی ” نقص انفس “ جانوں کی کمی سے مراد مرض اور (نقص ثمرات) سے مراد اولاد کی موت ہے کیونکہ آدمی کی اولاد اس کے دل کا پھل ہوتی ہے ۔
ابو سنان ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے بیٹے سنان کو دفن کیا اور ابوطلحہ خولانی قبر کے کنارے کھڑے تھے جب میں نے قبر سے (دفن کے بعد) نکلنے کا ارادہ کیا تو ابو طلحہ خولانی نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے نکالا پھر فرمایا کیا تجھے میں خوشخبری نہ دوں ؟
حضرت ابوموسی اشعری ؓ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ؓ نے فرمایا جب کسی بندے کا بیٹا فوت ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کو فرماتا ہے کیا تم نے میرے بندہ کو قبض کرلیا ؟ فرشتے عرض کرتے ہیں ہاں ! اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (اس موقع پر) میرے بندہ نے کیا کہا ؟ فرشتے کہتے ہیں اس تیرے بندہ نے ” انا للہ وانا الیہ راجعون “ کہا اور تیری تعریف کی ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اس میرے بندہ کے لیے جنت میں گھر بناؤ اور اس کا نام بیت الحمد رکھو (آیت)” وبشرالصابرین “ ، مصیبتوں اور دکھوں پر (صبر کرنے والوں کو خوش خبری دیجئے) پھر اللہ تعالیٰ نے اپن ان بندوں کی صفات بیان فرمائیں ۔
Ayah 2:156156۔ (آیت)” الذین اذا اصابتھم مصیبۃ قالوا ان اللہ “ (اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں) عبد یعنی بندہ اور غلام ہونے کے لحاظ سے (وانا الیہ راجعون) (اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں) آخرت میں ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں میں نے حضور اقدس ﷺ سے سنا ، آپ تھے کہ بندہ کو جو کوئی مصیبت بھی پہنچے پھر وہ بندہ انا للہ وانا الیہ راجعون “ کہے (اور دعا کرے) اے اللہ ! مجھے میری اس مصیبت میں اجر عطا فرما اور مجھے اس کا نعم البدل عطا کر ، اللہ تعالیٰ اس بندہ کو اس مصیبت میں ضرور اجر عطا فرماتے ہیں اور اس کو اس کا نعم البدل عطا فرماتے ہیں ، حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں جب حضرت ابو سلمہ (ام سلمہ کے خاوند) فوت ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے مجھے حوصلہ بخشا اور توفیق دی تو میں نے کہا یا اللہ ! مجھے میری اس مصیبت میں اجر عطا فرما اور مجھے اس کا نعم البدل بخش (اس دعا کی برکت سے) پس اللہ تعالیٰ نے مجھے (ابو سلمہ کی وفات پر صبر کرنے پر) حضور اقدس ﷺ کی صورت میں نعم البدل عنایت فرمایا حضرت سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں کسی (امت) کو مصیبت میں اتنی (عظیم نعمت نہیں دی گئی) جتنی کچھ کہ اس امت کو عنایت کی گئی ، یعنی مصیبت کے وقت ” انا للہ وانا الیہ راجعون “ کہنا ، اگر یہ (نعمت) کسی کو دی جاتی تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو دی جاتی ، کیا آپ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی گمشدگی کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کا یہ قول نہیں سنتے ” یاسفی علی یوسف “ گویا حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو اگر (آیت)” انا للہ وانا الیہ راجعون “ کی رہنمائی کی جاتی تو آپ ” یا اسفی “ کی بجائے (آیت)” انا للہ وانا الیہ راجعون “ کہتے ۔
Ayah 2:157(تفسیر) 157۔:
(آیت)” اولئک “ اس صفت والے ” علیھم صلوۃ من ربھم ورحمۃ “ صلوات سے مراد رحمت اللہ تعالیٰ کی طرف سے صلوۃ (بمعنی) رحمت ہوتی ہے اور صلوات کے بعد اللہ تعالیٰ نے رحمت کا ذکر تاکیدا فرمایا ہے اور تمام صلوات یعنی رحمت ۔ ” واولئک ھم المھتدون “ (آیت)” انا للہ وانا الیہ راجعون “ کی طرف (راہ پانے والے ہیں) اور بعض نے کہا کہ حق اور دوستی کی طرف (راہ پانے والے ہیں) اور بعض نے کہا کہ ہے جنت اور ثواب کی طرف (راہ پانے والے ہیں) حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ ” نعم العدلان “ دو ہم مثل اور مساوی (تحفے) اچھے ہیں ” ونعمت العلاوہ “ اور ایک اضافی نعمت اور تحفہ بھی اچھا ، دو مماثل و مساوی چیزیں صلاۃ اور رحمت ہے اور علاوہ یعنی اضافی انعام ہدایت ہے ، مصیبت والوں کے ثواب اور صبر کرنے والوں کے اجرو ثواب میں بہت سی احادیث وارد ہیں ، سعد بن یسار ؓ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے سنا وہ فرماتے تھے کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتے ہیں اسے مصیبت پہنچاتے ہیں ۔
حضرت سیدنا ابوہریرہ ؓ حضور اقدس ﷺ سے روایت کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان کو جو تھکان ، مشقت ، رنج ، ملال ، تکلیف ، غم حتی کہ کانٹا جو اس کو چبھے اس کے بدلے اللہ تعالیٰ اس کی خطاؤں کو معاف کردیتے ہیں ۔
حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں حضور اقدس ﷺ کے پاس ایک عورت آئی جس کو (دورہ پڑنے کی) بیماری تھی اس نے عرض کی یا رسول اللہ ! میرے لیے آپ ﷺ دعا فرما دیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے شفا بخشے ، حضور ﷺ نے فرمایا اگر تو چاہے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں کہ وہ پاک ذات تجھے شفا دے اور تو چاہے تو صبر کر اور تجھ پر کچھ حساب نہ ہوگا تو اس عورت نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ میں (اس بات کو قبول کرتی ہوں) کہ میں صبر کروں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے حساب نہ لیں۔
حضرت سعد ؓ فرماتے ہیں حضور اقدس ﷺ سے پوچھا گیا کہ سب انسانوں سے زیادہ تکلیفوں والے کون ہیں ؟ حضور ﷺ نے فرمایا انبیاء کرام (علیہم السلام) پھر ان کے بعد جو کوئی جتنا صاحب فضیلت ہوگا اللہ تعالیٰ آدمی کو اس کی دینی حیثیت کے مطابق آزماتے ہیں ، اگر اس بندہ کے دین میں پختگی ہوگی اسی کے مطابق آزماتے ہیں ، اگر اس بندہ کے دین میں پختگی ہوگی اسی کے مطابق اس کی آزمائش ہوگی ، اگر اس کے دین میں کمزوری ہوگی اس پر آسانی کی جائے گی (یعنی مصیبت کے باعث دینی کمزوری کو دور کیا جائے گا) (وہ اسی طرح تکلیفوں میں مبتلا ہونے کی وجہ سے گناہوں سے پاک ہوتا رہے گا ، یہاں تک کہ وہ زمین پر چلے گا اور اس کا کوئی گناہ باقی نہ رہے گا ۔
حضرت انس بن مالکرضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ہاں بدلے کا بڑا ہونا مصیبتوں کے بڑا ہونے کے لحاظ سے پس بیشک اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کو محبوب رکھتے ہیں اسے مبتلا کردیتے ہیں ، پس جو شخص اللہ تعالیٰ سے (اس حالت میں) راضی ہوتا ہے پس اس کے لیے رضا (الہی) ہے اور جو شخص (اس مصیبت کی حالت میں) ناراض ہوجاتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس سے ناراض ہوجاتے ۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مؤمن مرد اور مؤمن عورت کی جان ، مال ، اولاد میں مصیبت باقی رہتی ہے حتی کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرتا ہے اور اس پر کچھ گناہ باقی نہیں رہتا ۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ فرماتے ہیں کہ مؤمن کی مثال کھیتی کی سی ہے جسے مسلسل ہوا ہلاتی رہتی ہے (اسی طرح) مؤمن کو بھی ہمیشہ تکلیفیں پہنچتی رہتی ہیں اور منافق کی مثال سخت درخت کی سی ہے کہ اسے کچھ نہیں ہوتا یہاں تک کہ کاٹ دیا جاتا ہے ۔
حضرت سعد ؓ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ مؤمن کا حال عجب ہے ، اگر اسے خیر پہنچے تو اللہ تعالیٰ کی تعریف کرتا ہے اور شکر ادا کرتا ہے اور اگر اسے مصیبت پہنچے تو بھی اللہ تعالیٰ کی تعریف کرتا ہے اور صبر کرتا ہے پس مؤمن کو اپنے ہر حال میں اجر دیا جاتا ہے ، حتی کہ وہ لقمہ جو اٹھا کر اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتا ہے اس پر بھی اس کو اجر دیا جاتا ہے ۔
Ayah 2:158(تفسیر) 158۔:
(آیت)” ان الصفا والمروۃ من شعائر اللہ “ صفا، صفاۃ کی جمع ہے اور یہ سخت اور چکنا پتھر ہے ، صفاۃ بھی کہا جاتا ہے اور ” صفا “ بھی جسے حصاۃ بھی کہا جاتا ہے اور ” حصی “ بھی اور نواۃ بھی اور نوی بھی ۔ المروہ نرم پتھر اس کی جمع مروات ہے اور جمع کثیر ” مرو “ ہے جیسے تمرۃ اور تمرات اور تمر صفا اور مراد مقام سعی کے ارد گرد مکہ کی دو مشہور پہاڑیاں ہیں ، اسی وجہ سے ان دونوں پر الف لام داخل کیا گیا اور شعائر اللہ سے مراد دین کے نشان ہیں ، اصل اس کی اشعار ہے جس کے معنی اعلام کے ہیں بتلانا مطلع کرنا شعائر کی واحد شعیرۃ ہے ، نیکی کا ہر وہ عمل جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی طرف قرب حاصل کیا جائے ، نماز ، دعا، قربانی یہ سب شعیرہ ہیں۔ چناچہ مطاف (طواف کی جگہ) مؤقف (ٹھہرنے کی جگہ) (دس) (10) ذوالحجہ کو جانور ذبح کرنا یہ سب شعائر اللہ ہیں اور اس کے مانند مشاعر ہیں ، مشاعر سے مراد اس جگہ وہ احکام حج ہیں جن کو اللہ تعالیٰ اپنی اطاعت و فرمانبرداری کا نشانہ بنایا ہے ، صفاومروہ انہیں (مشاعر) سے ہیں ، یہاں تک کہ دونوں کے مابین اکٹھا چکر لگایا جاتا ہے، (آیت)” فمن حج البیت اواعتمر “ حج کا لغوی معنی قصد (ارادہ) کرنا، عمرہ کا معنی زیارت کرنا ، (آیت)” فلا جناح علیہ “ یعنی اس پر کوئی گناہ نہیں ، جناح کا اصل جنح سے ہے جس کا معنی ہے میانہ روی سے ہٹ جانا ، (آیت)” ان یطوف بھما ‘ دونوں کے درمیان گھومے (آئے جائے) یطوف اصل میں ” یتطوف “ تھا ، تاء کو طاء میں ادغام کیا گیا ، اس آیت کریمہ کا سبب نزول یہ ہے کہ صفا اور مروہ پر اساف اور نائیلہ دو بت تھے ، اساف صفا پر تھا اور نائلہ مروہ پر تھا ، اصل جاہلیت صفا ومروہ کے مابین ان بتوں کی تعظیم کے لیے چکر کاٹتے تھے اور (تبرکا) ان کو ہاتھوں سے چھوتے تھے ۔
اسلام کی آمد کے بعد ان بتوں کو توڑ دیا گیا ، ان دو بتوں کے حوالے سے مسلمان صفا ومروہ کے درمیان سعی کرنے سے کتراتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے سعی کی اجازت دی اور اس بات کی خبر دی کہ صفا ومروہ شعائر اللہ سے ہیں ، اہل علم نے اس آیت کے حکم اور صفا ومروہ کے درمیان سعی کے واجب ہونے کے بارے میں اختلاف کیا ، ایک جماعت علماء کی سعی کے واجب ہونے کی طرف گئی ہے اور یہ قول ابن عمر ، جابر اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کا ہے ، یہی حضرت حسن (بصری) (رح) نے کہا اور اسی طرف امام مالک (رح) ، امام شافعی (رح) گئے ہیں کچھ لوگ سعی کے نفل ہونے کی طرف گئے ، یہ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے یہی ابن سیرین اور مجاہد (رح) نے کہا ہے اور اسی طرح سفیان ثوری (رح) اور اصحاب الرائے گئے ہیں اور ثوری اور اصحاب الرای (رحمہم اللہ) نے کہا جو شخص سعی کو چھوڑ دے اس پر جانور ذبح کرنا ہے اور جن حضرات نے سعی کو واجب قرار دیا ان کی دلیل وہ روایت ہے ۔
صفیہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں قریش کی عورتوں کے ساتھ مل کر خاندان ابو الحسین کے گھر حضور ﷺ کو دیکھنے کے لیے داخل ہوئی اور آپ ﷺ صفا ومروہ کے درمیان سعی فرما رہے تھے ، پس میں نے آپ ﷺ کو دیکھا کہ آپ سعی فرما رہے ہیں اور تیز دوڑنے کے باعث آپ کی چادر گھوم رہی تھی حتی کہ میں (اپنے آپ) کہہ رہی تھی ابھی میں آپ کا گھٹنا مبارک دیکھوں گی ، میں نے آپ کو سنا آپ ﷺ فرما رہے تھے (دوڑ (سعی) کرو بیشک اللہ تعالیٰ نے تم پر سعی فرض کی ہے) ۔
حضرت عمروہ ؓ فرماتے ہیں ، میں حضور ﷺ کی اہلیہ محترمہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے کہا آپ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد گرامی کے بارے میں فرمائیے (آیت)” ان الصفا والمروۃ من شعائر اللہ فمن حج البیت اواعتمر فلا جناح علیہ ان یطوف بھما “ چناچہ میں تو کسی پر کچھ گناہ نہیں سمجھتا کہ اگر وہ صفا ومروہ کے مابین طواف نہ کرے ۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا ہرگز ایسا نہیں (جیسا کہ تو کہہ رہا ہے) اگر ایسا ہوتا جیسا کہ تو کہہ رہا ہے تو پھر آیت کریمہ یوں ہوتی (آیت)” فلا جناح علیہ ان لا یطوف بھما “ یہ آیت تو صرف انصار کے بارے میں نازل ہوئی تھی کیونکہ انصار مناۃ کے لیے احرام باندھتے تھے اور مناۃ (مقام) قدید کے برابر میں تھا اور وہ صفا ومروہ کے درمیان طواف کے متلاشی (خواہاں) رہتے تھے ، جب اسلام آیا تو انہوں نے حضور ﷺ سے اس کے متعلق پوچھا ، پس اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت)” ان الصفا والمروۃ من شعائر اللہ “ حضرت عاصم (رح) فرماتے ہیں میں نے حضرت انس بن مالک ؓ سے کہا کیا تم صفا ومروہ کے درمیان سعی کرنا مکروہ سمجھتے تھے ؟ تو حضرت انس ؓ نے فرمایا ہاں ! کیونکہ وہ سعی بین الصفا والمروہ) جہالت کی نشانیوں میں سے تھا حتی کہ اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت)” ان الصفا والمروۃ من شعائر اللہ “
حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا جب آپ ﷺ مسجد (حرام) سے نکلے اور آپ ﷺ صفا کا ارادہ رکھتے تھے ، آپ فرما رہے تھے ” نبدا کما بدا اللہ تعالیٰ بہ “ کہ ہم (سعی کی) اس طرح سے ابتداء کریں گے جس طرح اللہ تعالیٰ نے (قرآن کریم میں) ابتداء کی (یعنی صفا سے) چناچہ آپ ﷺ نے صفا سے سعی کا آغاز فرمایا حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں جب آپ ﷺ صفا پر ٹھہرتے تو تین دفعہ اللہ اکبر فرماتے اور فرماتے ” لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ ، لہ الملک ولہ الحمد یحی ویمیت وھو علی کل شی قدیر “ آپ ایسا تین دفعہ فرماتے ہیں ۔ (ترجمہ : اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں اسی کے لیے اقتدار ہے اور اسی کے لیے (کل) تعریف ہے زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور وہ ہر شی پر قادر ہے) اس کے بعد دعا فرماتے اور مروہ پر بھی ایسا ہی فرماتے ۔
حضرت جابر ؓ نے فرمایا کہ جب آپ ﷺ صفا سے اترتے تو چلتے حتی کہ جب آپ کے قدم مبارک بطن وادی (نشیبی جگہ) پر ٹکتے تو دوڑتے حتی کہ اس جگہ سے نکل جاتے ، حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے سرخ اونٹ پر حج فرمایا اور آپ پر دو سوتی گودڑیاں (چادریں) تھیں ، پس آپ نے بیت اللہ شریف کا طواف فرمایا پھر آپ صفا پر چڑھے اور دعا فرمائی پر سعی کے لیے نیچے اترے اور وہ تلبیہ یعنی ” لبیک اللھم لبیک “ فرما رہے تھے ، پس پھر آپ صفا پر چڑھے اور دعا فرمائی پھر سعی کے لیے نیچے اترے اور وہ تلبیہ یعنی ” لبیک اللھم لبیک “ فرما رہے تھے پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” لبیک عبدی انامعک وسامع لک وناظر الیک “ ترجمہ : (اے میرے بندے میں موجود ہوں میں تیرے ساتھ ہوں تیرے لیے سننے والا ہوں اور تیری طرف دیکھنے والا ہوں) پس حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سجدہ میں گرگئے ، اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی (آیت)” ومن تطوع خیرا “ حمزہ ، (رح) کسائی (رح) نے یاء کے ساتھ پڑھا اور طاء کی شد اور عین کی جزم کے ساتھ پڑھا یعنی ” تطوع کو یطوع “ اور اسی طرح دوسرا لفظ تطوع بھی اسی طرح پڑھا جو اس جگہ ہے (آیت)” فمن تطوع خیرافھو خیرلہ وان تصوموا “ یعنی یتطوع پڑھ ، یعقوب نے اول میں حمزے کے ساتھ اتفاق کیا ہے اور باقیوں نے تاء کے ساتھ اور عین کے زبر کے ساتھ ماضی میں پڑھا ، حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں اس کا معنی ہے کہ اگر تطوع بالطواف باالصفا والمروہ “ صفا ومروہ میں طواف (نفی) زیادہ کرے اور کہا گیا ہے کہ حج فرض کے بعد عمرہ اور حج نفلی کرے ، حضرت حسن ؓ اور دیگر حضرات رحمہم اللہ فرماتے ہیں (آیت)” فمن تطوع “ کے اندر تمام اعمال داخل ہیں یعنی فرض اعمال زکوۃ نماز طواف کے علاوہ ہر قسم کے اعمال خیر کرے ۔ (آیت)” فان اللہ شاکر “ اپنے بندہ کے عمل پر جزاء (حسن) دینے والا ہے (علیم) اس کی نیت (سو جاننے والا ہے) اللہ تعالیٰ کی طرف سے شکر کے ہونے کا معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کو اس کے استحقاق سے زیادہ دیتا ہے تھوڑے عمل کی قدر دانی فرماتا ہے اور زیادہ دیتا ہے ۔
Ayah 2:159(تفسیر) 159۔:
(آیت)” ان الذین یکتمون ما انزلنا من البینت والھدی من بعد مابینہ للناس فی الکتاب “ یہ آیت علمائے یہود کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے صفات محمدیہ ﷺ اور آیت رجم اور دیگر احکام تورات کو چھپایا ’(آیت)” اولئک یلعنھم اللہ “ لعن کا اصل معنی دھتکارنا بھگانا دور ہونا ہے (آیت)” ویلعنھم اللعنون “ اللہ تعالیٰ سے درخواست کریں گے کہ اللہ تعالیٰ ان پر لعنت فرمائے اور کہتے ہیں اے اللہ ! ان پر لعنت فرما ، یہ لعنت کرنے والے کون ہیں ، اس میں اختلاف ہے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں جنوں اور انسانوں کے علاوہ ساری مخلوق ہے ۔
حضرت قتادہ (رح) فرماتے ہیں یہ فرشتے ہیں حضرت عطاء (رح) فرماتے ہیں جن اور انسان ہیں ، حضرت حسن (بصری) (رح) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کے سارے بندے ، حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ دو مسلمان جب کبھی ایک دوسرے پر لعنت کرتے ہیں تو وہ لعنت ان یہود و نصاری پر پڑتی ہے جنہوں نے حضور ﷺ کے امر کو چھپایا اور آپ ﷺ کی صفات کو چھپایا ، حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ لعنت کرنے والے حیوانات ہیں جو ان لوگوں (اولاد آدم) پر اس وقت لعنت کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے نافرمان ہیں، جب قحط سخت ہوجاتا ہے اور بارش رک جاتی ہے ، حیوانات کہتے ہیں کہ یہ (قحط) اولاد آدم کے گناہوں کے نافرمان ہیں ، جب قحط سخت ہوجاتا ہے اور بارش رک جاتی ہے ، حیوانات کہتے ہیں کہ یہ (قحط) اولاد آدم کے گناہوں کی نحوست سے ہے ، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے (اس حکم لعنت سے) استثناء فرمایا۔
Ayah 2:160160۔ (آیت)” الا الذین تابوا “ کفر سے (توبہ کی) (آیت)” واصلحوا “ اسلام لائے یا ان اعمال کی اصلاح کی جن کا تعلق ان بندوں اور ان کے رب کے درمیان ہے ” وبینوا “ جو کچھ انہوں نے چھپایا تھا (اسے بیان کیا) (آیت)” فاولئک اتوب علیھم “ ” جنہوں نے اپنی جانوں پر گناہ کرکے ظلم کیا پھر انہوں نے توبہ کی توبہ قبول کروں گا ۔ (آیت)” وانا التواب “ میں اپنے ان بندوں کے دلوں کو اپنی طرف پھیرنے والا ہوں ” الرحیم “ ان کے ساتھ (رحم کا معاملہ کرنے والا ہوں) جب وہ میری طرف متوجہ ہوں ۔
Ayah 2:161161۔ (آیت)” ان الذین کفروا وماتوا وھم کفار اولئک علیھم لعنۃ اللہ والملائکۃ “ یعنی فرشتوں کی لعنت (آیت)” والناس اجمعین “ ابوالعالیہ (رح) فرماتے ہیں یہ قیامت کے دن ہوگا ، کافر کو کھڑا کیا جائے گا ، پس اس کو اللہ تعالیٰ لعنت کرے گا پھر فرشتے لعنت کریں گے ، پھر تمام انسان لعنت کریں گے ۔
سوال : اگر کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے (آیت)” والناس اجمعین “ کہ سب انسان اور جو ملعون ہے وہ بھی تو سب انسانوں میں شامل ہے تو وہ ملعون اپنے آپ کو کیسے لعنت کرے گا ؟
(1) جواب میں کہا گیا ہے کہ قیامت کے دن وہ اپنے لعنت کرے گا جیسے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” ویلعن بعضکم بعضکم “ ۔
(2) جواب بعض نے کہا کہ وہ ظالموں کافروں کو لعنت کریں گے اور جو ظالموں کافروں کو لعنت کرے گا حالانکہ یہ لعنت کرنے والا خود ظالم وکافر ہوگا ، گویا اس نے اپنے آپ پر خود لعنت کی ۔
Ayah 2:162162۔ (آیت)” خالدین فیھا “ اس لعنت میں ٹھہرے رہیں گے اور کہا گیا ہے کہ آگ میں (ہمیشہ رہیں گے) (آیت)” لا یخفف عنھم العذاب ولا ھم ینظرون “ نہ وہ مہلت دیئے جائیں گے اور نہ ڈھیل ، حضرت ابوالعالیہ (رح) فرماتے ہیں کہ انہیں مہلت نہیں دی جائے گی کہ وہ اس مہلت میں عذر کرسکیں جیسے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” ولا یؤذن لھم فیعتذرون “۔
Ayah 2:163163۔ (آیت)” والھکم الہ واحد لا الہ الا ھو الرحمن الرحیم “ ۔ سبب نزول اس آیت کا یہ ہے کہ بیشک کفار قریش ، نے کہا یا محمد ﷺ ہمارے لیے اپنے رب کا بیان فرمائیں ، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اور سورة اخلاص نازل فرمائی ، سورة اخلاص میں احد کی وضاحت فرما رہے ہیں کہ واحد وہ ہے جس کی کوئی نظیر نہیں اور نہ کوئی اس کا شریک ۔
حضرت اسماء بنت یزید ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے حضور اقدس ﷺ سے سنا آپ نے فرمایا ان دو آیات میں اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ہے ۔
(1) (آیت)” والھکم الہ واحد لا الہ الا ھو الرحمن الرحیم “۔
(2) (آیت)” اللہ لا الہ ھو الحی القیوم “ ابوالضحی ؓ فرماتے ہیں جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو مشرکوں نے کہا کہ محمد ﷺ کہتے ہیں (آیت)” ان الھکم الہ واحد “ بیشک تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے ، اگر وہ سچے ہیں تو (اپنے دعوی پر) ہمارے پاس کوئی نشانی لائے ، پس اللہ عزوجل نے فرمایا ۔
Ayah 2:164(تفسیر) 164۔:
(آیت)” ان فی خلق السموات والارض “ لفظ سموات کو جمع فرمایا اور الارض کو مفرد، اس لیے کہ ہر آسمان الگ الگ جنس سے ہے اور زمین ایک ہی جنس سے ہے یعنی مٹی ، پس آسمان میں نشانی ہے کہ اس کا بغیر ستون کے بلند ہونا اور بغیر کسی تعلق کے اسی کا قائم رہنا ہے اور اس میں سورج چاند ستارے سب اس کی نشانیاں ہیں اور زمین کا نشانی ہونا اس کا پھیلاؤ اور اس کی فراخی اور وسعت اور جو کچھ اس میں درکت اور دریا ، پہاڑ جواہر ، نباتات دیکھے جاتے ہیں ۔
(آیت)” واختلاف اللیل والنھار “ یعنی دن رات کا یکے بعد دیگرے آنا جانا ہر ایک دوسرے کا خلیفہ بنتا ہے ، دن جاتا ہے تو رات آجاتی ہے رات جاتی ہے تو دن آجاتا ہے اور اس فرمان الہی کی مثال اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد گرامی بھی ہے : (آیت)” وھو الذی جعل اللیل والنھار خلفۃ “ ۔
حضرت عطاء (رح) فرماتے ہیں (آیت)” اختلاف اللیل والنھار “ کا معنی نور وظلمت کے لحاظ سے اور کمی زیادتی کے لحاظ سے ہے ۔ اللیل لیلۃ “۔ کی جمع ہے اور لیالی جمع الجمع ہے اور نہار نھر کی جمع ہے لیل کو نہار پر ذکر کرنے میں مقدم کیا کیونکہ واقعہ رات دن سے مقدم ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” وایۃ لھم اللیل نسلخ منہ النھار “۔ (یعنی ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی قدرت پر رات نشانی ہے کہ اس سے ہم دن کو کھینچ نکالتے ہیں (آیت)” والفلک التی تجری فی البحر “ کشتیاں فلک کا واحد اور جمع ایک ہے ۔ لفظ فلک سے جب جمع مراد لیا جائے تو اسے مؤنث کیا جاتا ہے اور جب مفرد مراد ہو تو مذکر کیا جاتا ہے ، اللہ تعالیٰ واحد اور مذکر کرنے کے اعتبار سے فرماتے ہیں (آیت)” اذ ابق الی الفلک المشحون “ (یہاں فلک سے مراد ایک کشتی ہے تو اس کی صفت مذکر یعنی مشحون لائی گئی اور مؤنث سے متعلق فرمایا (آیت)” حتی اذا کنتم فی الفلک وجرین بھم بریح طیبۃ “ (یہاں فلک سے مراد بہت سی کشتیاں مراد ہیں اس لیے اس کا فعل جمع مؤنث جرین لائی گئی۔ ) (آیت)” والفلک التی تجری فی البحر “ کشتی کا نشانی ہونا اس عمل کے لیے مسخر ہونا پانی کے اوپر چلنا جبکہ سامان سے لدی ہوتی ہے ، پانی میں ڈوبتی نہیں (آیت)” بما ینفع الناس “ یعنی اس پر سوار ہونا اور اس پر تجارت اور دیگر کاروبار اور مختلف مقاصد کی خاطر سامان لادنا ۔ (آیت)” وما انزل اللہ من السماء من مائ “ اس سے مراد بارش بعض نے کہا کہ سماء سے مراد بادل ہے ، اللہ تعالیٰ بادل میں پانی پیدا کرتا ہے پھر بادل سے اترتا ہے ، بعض نے کہا ہے سماء سے مراد یہ معروف یہ آسمان ہے ۔ اللہ تعالیٰ پانی آسمان میں پیدا کرتا ہے پھر آسمان سے بادل کی طرف اتارتا ہے پھر بادل سے زمین کی طرف اتارتا ہے ۔ ” فاحیابہ “ پانی سے زندہ فرماتا ہے ۔ (آیت)” الارض بعد موتھا “ (زمین کو ) (آیت)” بعد موتھا “ سے مراد زمین کا خشک ہونا اور قحط زدہ ہونا (آیت)” وبث فیھا “ اس میں جدا جدا کردیتا ہے بکھیر دیتا ہے (آیت)” من کل دابۃ وتصریف الریاح “ حمزہ (رح) نے ۔
اور کسائی (رح) نے (الریح) بغیر الف کے پڑھا ہے اور باقیوں نے الف کے ساتھ پڑھا ” الریح “ قرآن پاک میں ہر وہ لفظ ریح جو الف لام کے بغیر آئے اس کے مفرد اور جمع ہونے میں قراء حضرات نے اختلاف کیا سوائے اس لفظ ریح کے جو سورة ذرایات میں واقع ہے (آیت)” الریح العقیم “ اس کے مفرد ہونے پر انہوں نے اتفاق کیا ہے اور (اسی طرح) سوائے ” الریاح مبشرات “ کے جو سورة روم میں واقع ہے اس کے جمع ہونے پر سب نے اتفاق کیا ۔
اور ابو جعفر ؓ نے سب کو جمع پڑھا ہے اور قراء مختلف ہیں ، لفظ ریح مزکر ومؤنث دونوں طرح واقع ہوا ہے ۔ تصریف ریاح سے مراد اس کا شمالا جنوبا ہونا ہے ، شرقا غربا چلنا اور یا پھر ایک سیدھ پر نہ چلنا بلکہ متفرق طور پر چلنا ہے اور بعض نے کہا کہ تصریف ریاح سے مراد ہواؤں کا نرم وکوشگوار چلنا اور کبھی سخت جھکڑ کی صورت میں چلنا اور اسی طرح گرم لو چلنا اور کبھی ٹھنڈی چلنا ہے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں ہوا اور پانی اللہ تعالیٰ کے بڑے لشکر ہیں ، ہوا کو ریح اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ وہ طبیعت کو رحت پہنچاتی ہے ، حضرت سیدنا قاضی شریح (رح) فرماتے ہیں ہوا کا چلنا بیمار کو صحت بخشتا ہے یا تندرست کو بیمار کرتا ہے اور تین قسم کی ہواؤں میں بشارت (خوشخبری) ہے ، صبا (مشرقی ہوا) اور شمال والی ہوا اور جنوب والی ہوا میں یہ باقی رہی ، دبور (پچھم کی طرف سے آنے والی ہوا یعنی مغربی ہوا) یہ ریح عقیم ہے اس میں کچھ خوشخبری نہیں ہے اور کہا گیا ہے ہوائیں آٹھ ہیں ، چار ہوائیں رحمت کے لیے ہیں اور چار عذاب کے لیے رحمت والی ہوائیں (جو قرآن کریم میں مذکور ہیں) ” المبشرات الناشرات اور الذاریات اور المرسلات “ اور جو ہوائیں عذاب کی ہیں وہ العقیم اور صرصر جن کا تعلق خشکی سے ہے اور عاصف اور قاصف جن کا تعلق (پانی) سمندر وغیرہ سے ہے (آیت)” السحاب المسخر “ یعنی بادل جو مطیع بنایا گیا ہے سحاب بادل کو اس لیے کہا جاتا گویا کہ وہ گھسٹتا ہے کیونکہ سحب کا معنی گھسیٹنا اور کھینچنا ہے ، یعنی بادل تیزی کے ساتھ چلتا ہے گویا کہ وہ گھسٹ رہا ہے یا کھنچ رہا ہے ” بین السماء والارض لایات لقوم یعقلون “ پس (ان آیات میں غور کرنے سے) وہ جان جائیں گے کہ ان چیزوں کا خالق وصانع ہے، حضرت وہب بن منبہ ؓ فرماتے ہیں کہ تین چیزیں نہیں جانی جا سکتیں کہ کہاں سے آرہی ہیں ۔ گرج ، بجلی ، بادل ۔
Ayah 2:165(تفسیر) 165۔:
(آیت)” ومن الناس “ مشرکین ’(آیت)” من یتخذ من دون اللہ اندادا “ یعنی بت جن کی وہ عبادت کرتے ہیں (آیت)” یحبونھم کحب اللہ “ یعنی یہ (مشرک) اپنے معبودان باطل سے ایسی محبت کرتے ہیں جس طرح کہ ایمان والے اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں ، زجاج کہتے ہیں کہ یہ مشرک بتوں سے ایسی محبت رکھتے ہیں جس طرح کہ اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں کیونکہ وہ بتوں کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ کو اور بتوں کو محبت رکھنے میں برابر کیا۔
(آیت)” والذین امنوا اشد حبا للہ “ (محبت پر) ثابت رہنے والے اور مشرکین کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کی محبت میں زیادہ قائم ودائم رہنے والے ہیں ، کیونکہ وہ (ایمان والے) اللہ تعالیٰ پر اللہ تعالیٰ کے ماسوا کسی کو ترجیحا پسند نہیں کرتے اور مشرک جب کسی بت کو (معبود) پکڑتے ہیں پھر اس کے بعد کسی اور سے زیادہ خوبصورت دیکھتے ہیں تو پہلے کو پھینک دیتے ہیں اور دوسرے کو پسندیدہ قرار دے کر (معبود) اختیار کرتے ہیں ، حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں (مشرکین کے بالمقابل مؤمنین کا ” اشد حبا اللہ “ ہونے کا معنی یہ ہے) کہ کافر سخت مصیبت کے وقت اپنے معبود (بت) سے اعراض کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے حال کی خبر دی ، پس فرمایا (آیت)” فاذا رکبوا فی الفلک دعوا اللہ مخلصین لہ الدین “ ترجمہ : (جب وہ کشتیوں میں سوار ہوتے تو (بوقت مشکل) اللہ تعالیٰ کو صرف اسی کی اطاعت کرتے ہوئے پکارتے ہیں) بخلاف مؤمن کے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے کسی وقت اور کسی حال میں منہ نہیں موڑتا نہ راحت میں نہ تکلیف میں نہ شدت میں اور نہ آسانی میں ۔
حضرت سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں کہ بیشک اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس شخص کو جس نے دنیا میں بتوں کی محبت میں اپنے آپ کو جلا رکھا ہوگا حکم دیں گے کہ وہ بتوں سمیت داخل ہوجائیں ، پس وہ داخل نہ ہوں گے کیونکہ وہ جانتے ہوں گے کہ جہنم کا عذاب دائمی ہے، پھر اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو کفار کے سامنے فرمائیں گے ، اگر تو میرے پیارے ہو (مجھ سے محبت کرتے ہو) تو جہنم میں کود جاؤ تو ایمان والے جہنم میں گھس جائیں گے تو عرش کے نیچے سے آواز دینے والا آواز دے گا (آیت)” والذین امنوا اشد حبا للہ “ کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے (آیت)” والذین امنوا اشد حبا للہ “ اس لیے فرمایا ہے کہ ان ایمان والوں کو پہلے اللہ تعالیٰ نے محبوب رکھا پھر ایمان والوں نے اللہ تعالیٰ کو محبوب رکھا اور جس شخص کی محبت کی گواہی معبود برحق کود دے اس کی محبت اتم ہوگی ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ” یحبھم ویحبونہ “ (گویا اللہ تعالیٰ نے ان سے اپنی محبت کا ذکر پہلے فرمایا اور مؤمنین کی محبت کا (جوان کو اللہ تعالیٰ کی ذات عالی سے) ذکر بعد میں فرمایا ۔
(آیت)” ولو یری الذین ظلموا “ نافع (رح) ابن عامر (رح) اور یعقوب (رح) نے (آیت)” ولو تری “ تاء کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی حضرات نے یاء کے ساتھ (لو) کا جواب یہاں محذوف ہے اور قرآن مجید میں اس طرح کا (حذف) بہت واقع ہوا ہے جیسے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” ولو ان قرانا سیرت بہ الجبال اوقطعت بہ “ تو اس آیت میں آنے والے (لو) کا جواب بھی محذوف ہے، جواب ” لکان ھذا القرآن کذالک “ محذوف ہے اور جنہوں نے تاء کے ساتھ یعنی تری پڑھا ہے اس کا معنی ہوگا اگر آپ یا رسول اللہ ان لوگوں کو شدت عذاب میں دیکھیں جنہوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا ۔ لرایت امر عظیما “ آپ امر عظیم دیکھیں گے ، بعض نے کہا کہ اس کا معنی ہے یا رسول اللہ آپ فرما دیں اے ظالم اگر تو ان لوگوں کو جنہوں نے ظلم کیا ، یعنی شرک کیا شدت عذاب میں دیکھے ” لرایت امر قظیعا “ تو اسے ظالم ! تو بھیانک منظر دیکھے گا (یہ جواب محذوف ہے) اور جن حضرات نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے اس کا معنی ہوگا اگر دیکھیں وہ لوگ جنہوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا یہ عذاب کا مشاہدہ کرتے وقت عذاب الہی کی شدت اور اس کی سزا کو اگر دیکھیں تو کفر کی مضرت پہچان جائیں اور یہ بھی جان جائیں کہ وہ بت جن کو انہوں نے (معبود بنا رکھا تھا) ان کو کچھ نفع نہیں دے سکتے ، اللہ تعالیٰ کا ارشاد (آیت)” اذ یرون “ ابن عامر (رح) نے یاء کی پیش کے ساتھ پڑھا ہے یعنی ” یرون “ اور باقیوں نے یاء کی زبر کے ساتھ پڑھا ہے ۔ ” العذاب ان القوۃ للہ جمیعا وان اللہ شدید العذاب “ یہ کہ سب طاقت اللہ تعالیٰ کی ہی ہے اس کا معنی ” لراؤا “ جان جائیں گے اور یقین کرلیں گے کہ بیشک قوت سب کی سب اللہ تعالیٰ ہی کی ہے اور ابو جعفر اور یعقوب (رح) نے ” ان القوۃ “ اور ” ان اللہ “ ان کی الف کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے ، جملہ مستنانفہ (بتدائیہ) کے طور پر اور ’ اذ یرون العذاب “ پر کلام تام سمجھتے ہوئے اور جواب کو پوشیدہ (مضمر) مانتے ہوئے ۔
Ayah 2:166(تفسیر) 166۔ :
(آیت)” اذ تبر الذین اتبعوا من الذین اتبعوا وراوا العذاب “ یہ قیامت کے دن ہوگا جس دن کے اللہ تعالیٰ سرداروں کو اور ان کے پیروکاروں کو جمع فرمائیں گے تو بعض ، بعض سے اعلان بیزاری کریں گے ، یہ اکثر مفسرین کا قول ہے ۔
علامہ سدی (رح) فرماتے ہیں اس جگہ سرداروں سے مراد جن اور ” اتبعوا “ پیروکاروں سے مراد جن اور ” اتبعوا “ پیروکاروں سے مراد انسان ہیں (آیت)” وتقطعت بھم “ یہاں ” بھم “ بمعنی ” عنھم “ ہے ۔ (الاسباب) باہمی تعلقات جو دنیا میں ان کے درمیان تھے قرابت داریاں دوستیاں اور ان کا باہمی میل ملاپ عداوت میں بدل جائے گا ، ابن جریج (رح) فرماتے ہیں کہ اسباب سے یہاں مراد ارحام ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں فرماتے ہیں (آیت)” فلاانساب بینھم یومئذ “ علامہ سدی (رح) فرماتے ہیں اسباب سے مراد وہ اعمال جو وہ دنیا میں کرتے تھے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” وقدمنا الی ماعملوا من عمل فجعلناہ ھباء منثورا “ کہ ہم ان کے اعمال کو بکھرا ہوا غبار بنادیں گے ، اسباب کا اصل معنی ہے وہ چیز جس کے ذریعے کسی شئی کی طرف پہنچا جائے کوئی ذریعہ ہو رشتہ داری ہو ، محبت و دوستی ہو یا پھر احسان ہو اسی کو سبب کہا جاتا ہے اور راستہ کو سبب کہا جاتا ہے ۔
Ayah 2:167167۔ (آیت)” وقال الذین اتبعوا “ پیروکار (کہیں گے) ” لوان لنا کرۃ “ دنیا کی طرف لوٹنا ہو (آیت)” فنتبرامنھم “ متبوعین (سرداروں سے اعلان بیزاری کریں) ” کما تبراو امنا “ آج کے دن (جس طرح وہ ہم سے بیزار ہو رہے ہیں) ” کذالک “ یعنی جس طرح ان کو عذاب دکھایا (آیت)” یریھم اللہ “ اور بعض نے کہا ہے جیسا کہ (اللہ تعالیٰ نے دکھایا ہے) بعض کا بعض سے اعلان بیزاری کرنا ، ان کو اللہ تعالیٰ دکھائے گا ، ” اعمالھم حسرات “ ندامتیں ، پشیمانیاں ” علیھم “ حسرات حسرۃ کی جمع ہے بعض نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ان کو وہ برائیاں دکھائے گا جن کا انہوں نے ارتکاب کیا ہوگا ، پس اظہار حسرت و افسوس کریں گے یہ کام انہوں نے کیوں کیے ، بعض نے کہا کہ ان کو اللہ تعالیٰ وہ نیکیاں دکھائے گا جو انہوں نے چھوڑ دیں تھیں تو وہ ان نیکیوں کو ضائع کرنے پر ندامت کا اظہار کریں ، ابن کیسان (رح) فرماتے ہیں انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ بتوں کو شریک ٹھہرایا تھا ، اس امید پر کہ وہ بت ان کو اللہ تعالیٰ کے قریب کردیں گے ، پس جب ان کو اس عمل پر عذاب دیا جائے گا جس پر ان کو امید اجر وثواب تھی تو ندامت و حسرت کریں گے ، علامہ سدی (رح) فرماتے ہیں ان کے لیے جنت نمایاں اور ظاہر وبلند کی جائے گی ،
پس اس کی طرف دیکھیں گے اور جنت میں اپنے گھروں کی طرف دیکھیں گے ، اگر وہ اطاعت کرتے (تو ان کو وہ گھر نصیب ہوتے) پس ان کو کہا جائے گا یہ تمہارے گھر ہیں ، رہائش گاہیں ہیں اگر تم اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے پھر ان کے گھر ایمان والوں میں تقسیم کر دئیے جائیں گے ، پس یہ وہ وقت ہوگا جب ندامت اور حسرت کا اظہار کریں گے ، (آیت)” وما ھم بخارجین من النار “۔