2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 2:187

اُحِلَّ لَكُمْ لَیْلَةَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰى نِسَآئِكُمْ١ؕ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ١ؕ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَیْكُمْ وَ عَفَا عَنْكُمْ١ۚ فَالْئٰنَ بَاشِرُوْهُنَّ وَ ابْتَغُوْا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ١۪ وَ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ١۪ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَى الَّیْلِ١ۚ وَ لَا تُبَاشِرُوْهُنَّ وَ اَنْتُمْ عٰكِفُوْنَ١ۙ فِی الْمَسٰجِدِ١ؕ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَقْرَبُوْهَا١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 2:187 in the Quran reader

روزوں کی راتوں میں تمہارے لیے اپنی عورتوں کے پاس جانا جائز کردیا گیا ہے وہ تمہاری پوشاک ہیں اور تم ان کی پوشاک ہو خدا کو معلوم ہے کہ تم (ان کے پاس جانے سے) اپنے حق میں خیانت کرتے تھے سو اس نے تم پر مہربانی کی اور تمہاری حرکات سے درگزر فرمائی اب (تم کو اختیار ہے کہ) ان سے مباشرت کرو اور جو چیز خدا نے تمہارے لیے لکھ رکھی ہے (یعنی اولاد) اس کو خدا سے طلب کرو اور کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ صبح کی سفید دھاری (رات کی) سیاہ دھاری سے الگ نظر آنے لگے پھر روزہ (رکھ کر) رات تک پورا کرو اور جب تم مسجدوں میں اعتکاف بیٹھے ہو تو ان سے مباشرت نہ کرو یہ خدا کی حدیں ہیں ان کے پاس نہ جانا اسی طرح اپنی آیتیں لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ وہ پرہیزگار بنیں

(تفسیر) 187۔: (آیت)” احل لکم لیلۃ الصیام الرفث الی نسائکم “ رفث جماع سے کنایہ ہے ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ حیاء فرمانے والے کریم ہیں وہ اس قسم کی باتوں ، اشارات وکنایات میں ذکر فرماتے ہیں تصریح نہیں کرتے جب بھی اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں مباشرت (باہمی ملاپ) کا اور ملامستہ (بدن کا بدن سے چھونا) کا اور افضائ (ایک کا دوسرے تک پہنچنا) کا یادخول (داخل ہونا) اور رفث (فحش گوئی) کا ذکر کرتے ہیں (اگرچہ ان الفاظ کے لغوی معنی وہی ہیں جو ان الفاظ کے بعد بریکٹ میں ذکر کیے گئے مگر) اس سے مراد جماع ہوتا ہے ، حضرت زجاج (رح) فرماتے ہیں کہ رفث کا کلمہ ہر اس مراد کے لیے جامع ہے جو کہ مرد ، عورتوں سے چاہتے ہیں ، اہل تفسیر فرماتے ہیں کہ ابتداء اسلام میں اس طرح تھا کہ جب آدمی روزہ افطار کرتا تو اس کے لیے کھانا پینا اور جماع کرنا جائز ہوتا ، یہاں کہ نماز عشاء پڑھتا اور نماز عشاء سے پہلے سو جاتا تو اس کے لیے کھانا پینا اور عورتیں آئندہ رات تک حرام ہوجاتیں ۔ پھر یوں ہوا کہ حضرت سیدنا عمر بن خطاب ؓ نے نماز عشاء پڑھنے کے بعد بیوی سے صحبت فرمالی ، جب آپ ؓ نے غسل فرمایا تو رونے لگ گئے اور اپنے آپ کو ملامت کرنے لگے ، پھر حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی یارسول اللہ ﷺ میں اللہ تعالیٰ اور آپ (علیہ السلام) کی طرف اپنی جانب سے اس غلطی کے سلسلہ میں معذرت کرتا ہوں کہ میں نماز عشاء کے بعد اپنی بیوی کے پاس لوٹا تو میں نے (اپنی بیوی سے) خوشبو پائی تو میرے نفس نے مجھے بہکایا، پس میں اپنی بیوی سے جماع کر بیٹھا ۔ پس حضور اقدس ﷺ نے فرمایا عمر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) اس کام کے تو مناسب تو نہ تھا (یعنی تجھ سے ایسا ہوجانے کی امید تو نہ تھی) اس پر کچھ اور لوگ کھڑے ہوگئے اور اس قسم کی غلطی کا اعتراف کیا تو حضرت عمر ؓ اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوا (آیت)” اھل لکم لیلۃ الصیام “ یعنی تمہارے لیے روزوں کی راتوں میں بیویوں سے صحبت کرنا جائز کردیا گیا ہے ۔ (آیت)” ھن لباس لکم “ یعنی تمہارے لیے باعث سکون (آیت)” وانتم لباس لھن “ (تم) ان کے لیے باعث سکون (لباس کا معنی سکون سے کرنے کی دلیل) اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد گرامی ہے (آیت)” وجعل منھا زوجھا لیسکن الیھا “ (یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) سے اس کی بیوی کو پیدا کیا تاکہ اپنی بیوی (حوا) کی جانب سے سکون محسوس کریں) اور بعض نے کہا کہ کسی کو کسی کی طرف سے اس قدر سکون نہیں ملتا جتنا کہ میاں بیوی کو ایک دوسرے کی جانب سے سکون میسر ہوتا ہے اور بعض نے کہا کہ خاوند اور بیوی ہر ایک کو لباس اس لیے کہا گیا ہے کہ سوتے وقت دونوں کپڑوں سے بےنیاز ہو کر ایک ہی کپڑے (لحاف یا چادر) میں مل کر سوتے ہیں حتی کہ دونوں ایک دوسرے کے لیے اس کپڑے کی مانند ہوجاتے جو ہر ایک پہنتا ہے ۔ حضرت ربیع بن انس ؓ فرماتے ہیں ” ھن فراش لکم وانتم لحاف لھن “ کہ وہ (تمہاری بیویاں) تمہارے لیے فراش (گدے کی مانند) ہیں اور تم ان کے لیے لحاف ہو ، ابوعبیدہ ؓ وغیرہ فرماتے ہیں کہ عورت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ (اے مرد) یہ تیرا لباس ہے ، تیرا بچھونا ہے، تیری چادر ہے اور بعض نے کہا کہ لباس اس چیز کا نام ہے جو کسی شئی کو چھپا دے تو مناسب ہے کہ میاں بیوی دونوں ایک دوسرے کے لیے ستر (پردہ) میں واقع ہوں اور آڑ ہوں اس چیز سے جو جائز نہیں (گویا میاں بیوی دونوں ایک دوسرے کے لیے بےحیائی اور بدکاری کے لیے رکاوٹ ہیں پردہ ہیں) جیسا کہ حدیث شریف میں ہے جس نے شادی کی اس نے اپنا دوتہائی دین محفوظ کرلیا (آیت)” علم اللہ انکم کنتم تختاتون انفسکم “ تم اپنے نفسوں کی خیانت کرتے تھے اور عشاء کے بعد بیوی سے صحبت کرکے اپنے نفسوں پر ظلم کرتے تھے ، حضرت براء ؓ فرماتے ہیں کہ جب رمضان شریف کے روزے فرض ہوئے تو لوگ سارا مہینہ بیوی کے قریب نہ جاتے ، اس دوران بعض لوگ (بیویوں سے صحبت کرکے) اپنے نفسوں سے خیانت کرتے تھے پس اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت)” علم اللہ انکم کنتم تختانون انفسکم “ ۔۔۔۔۔ فتاب علیکم ‘ تم سے درگزر فرمایا (آیت)” وعفاعنکم “ تمہارے گناہوں کو مٹا دیا ۔ (آیت)” فالان باشروھن “ ان سے جماع کرو بالکل حلال صورت میں ، مجامعت یعنی جماع کو مباشرت کہا گیا کیونکہ میاں بیوی کا چمڑا باہمی طور پر مل جاتا ہے ۔ (آیت)” وابتغوا ما کتب اللہ لکم “ جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے حق میں فیصلہ کردیا ہے اس کو طلب کرو اور کہا گیا ہے جو کچھ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے لوح محفوظ میں لکھ دیا ہے اسے طلب کرو یعنی اولاد ۔ اکثر مفسرین نے یہی کہا ہے حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ اولاد تلاش کرو اگر یہ نہ جنے گی تو یہ جنے گی ، حضرت قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ وہ رخصت طلب کرو جو اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں کھانے پینے اور جماع کو جائز کرکے لکھ دی ہے ۔ حضرت معاذ بن جبل ؓ فرماتے ہیں کہ طلب کرو جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے لکھ دی ہے یعنی لیلۃ القدر ۔ (آیت)” وکلوا واشربوا حتی یتبین لکم الخیط الابیض “ یہ آیت کریمہ ایک انصاری صحابی کے بارے میں نازل ہوئی جس کا نام ابو صرمۃ بن قیس بن صرمۃ ؓ تھا عکرمہ (رح) فرماتے ہیں اس کا نام ابو قیس بن صرمہ ؓ تھا ، کلبی (رح) کہتے ہیں ان کا نام ابو قیس صرمۃ بن انس بن صرمۃ تھا اور یہ اس طرح ہوا کہ وہ سارا دن روزہ کی حالت میں اپنی زمین میں کام کرتے رہے ، جب شام ہوئی تو گھر والوں کی طرف کھجور لے کر لوٹے اور بیوی سے فرمایا کھانا لا ، پس بیوی نے ارادہ کیا کہ کوئی شئی (کھانا) گرم کرکے پیش کرے ، پس اسکی بیوی کھانا گرم کرنے لگی اور ابتداء اسلام میں یہ تھا کہ جو شخص نماز عشاء پڑھ لے یا سو جائے اس پر کھانا پینا حرام ہوجاتا تھا ، چناچہ اس صحابی کی بیوی کھانا گرم کرکے فارغ ہوئی اچانک کیا دیکھتی ہے کہ خاوند سو گیا ہے وہ سارے دن کا تھکا ہارا تھا پس بیوی نے اس کو جگایا تو اس صحابی نے یہ گوارا نہ کیا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اکرم کی نافرمانی کرے ، چناچہ اس نے کھانے سے انکار کردیا ۔ چناچہ اس نے بحالت مشقت روزہ کے ساتھ صبح کی ، پس ابھی دوپہر نہ ہوئی تھی کہ اس پر بیہوشی طاری ہوگئی ، پس جب اسے افاقہ ہوا تو حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، چناچہ جب حضور اکرم ﷺ نے اسے دیکھا تو فرمایا ، ابو قیس تجھے کیا ہوا ؟ کہ تو کمزور ہوگیا ہے حضرت ابو قیس ؓ نے اپنا حال ذکر کیا پس حضور اکرم ﷺ اس کے حال پر غمزدہ ہوگئے ، اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیات نازل فرمائیں (آیت)” وکلوا واشربوا “ یعنی روزہ کی راتوں میں (کھاؤ پیو) (آیت)” حتی یتبین لکم الخیط الابیض من الخیط الاسود “ دن کی سفیدی رات کی سیاہی سے ہر دو (دن کی سفیدی رات کی سیاہی) کو دھاگا کہا گیا ہے کیونکہ دونوں دھاگے کی مانند ابتداء میں پھیلے ہوئے ظاہر ہوتے ہیں۔ حضرت سہل بن سعد ؓ فرماتے ہیں کہ (آیت)” وکلوا واشربوا حتی یتبین لکم الخیط الابیض من الخیط الاسود “ تو نازل ہوا مگر فرمان الہی ” من الفجر “ نازل نہ ہوا، پس کچھ جب روزہ کا ارادہ فرماتے تو اپنے پاؤں میں ایک سفید اور ایک سیاہ دھاگا باندھ لیتے اور اس وقت تک کھاتے پیتے رہتے کہ جب تک کہ دونوں دھاگوں کا دیکھنا واضح نہ ہوتا ، پس اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد ” من الفجر “ کو نازل فرمایا پس اس وقت معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے سفید و سیاہ دھاگہ سے رات اور دن مراد لیا ہے ۔ عدی بن حاتم ؓ فرماتے ہیں کہ جب (آیت)” حتی یتبین لکم الخیط الابیض من الخیط الاسود “ نازل ہوئی تو میں نے ایک سفید رسی لی اور ایک سیاہ رسی لی اور دونوں کو میں نے اپنے سرہانے کے نیچے کردیا اور شروع ہوا میں ان دونوں رسیوں کو دیکھتا اور ادھر رات کو دیکھتا پس میرے لیے واضح نہ ہوتا ، پس صبححضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور حضور ﷺ کو اپنا حال ذکر کیا پس حضور ﷺ نے فرمایا کہ ان (دو دھاگوں) سے مراد رات کی سیاہی اور دن کی سفیدی ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں بےحضور اقدس ﷺ نے فرمایا ، بیشک بلال رات کو اذان دیتے ہیں ان کی اذان کے بعد تم سحری کھاپی سکتے ہو۔ یہاں تک کہ ابن مکتوم اذان نہ دیں حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے فرمایا کہ ابن ام مکتوم نابینا تھے ، اس وقت تک اذان نہ دیتے حتی کہ انہیں کہا جاتا تو نے صبح کردی صبح کردی اور جان لے کہ فجر دو قسم ہے کاذب اور صادق فجر کاذب پہلے نمودار ہوتی ہے لمبی ہوتی ہے آسمان کی طرف چڑھتی ہے اس کے طلوع ہونے سے رات کا خاتمہ نہیں ہوتا اور روزہ دار کے لیے کھانا پینا بھی حرام نہیں ہوتا، پھر وہ غائب ہوجاتی ہے اس کے بعد فجر صادق طلوع ہوتی ہے ، عرضا پھیلی ہوئی ہوتی ہے افق میں جلدی پھیل جاتی ہے ، اس کے طلوع ہونے سے دن کا آغاز ہوجاتا ہے اور روزہ دار کے لیے کھانا پینا حرام ہوجاتا ہے۔ سمرہ بن جندب ؓ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا تمہیں سحری کھانے سے اذان بلال اور فجر کاذب نہ روک دے بلکہ وہ صبح (صادق) جو افق میں پھیلی ہوئی ہوتی ہے ، (آیت)” ثم اتموا الصیام الی اللیل “ پس روزہ دار کے لیے فجر صادق کے طلوع ہونے سے لے کر غروب آفتاب تک کھانا پینا حرام ہوجاتا ہے اور جب سورج غروب ہو فطر واقع ہوجاتا ہے ۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا جب رات یہاں سے آجائے اور دن یہاں سے پیٹھ پھیر جائے اور سورج غروب ہوجائے پس روزہ دار نے افطار کیا، اللہ تعالیٰ کا ارشاد (آیت)” ولا تباشروھن وانتم عاکفون فی المساجد “ ۔ عکوف کے معنی کسی شیء پر قائم ہونا۔ اعتکاف کا شرعی معنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کی نیت سے مسجد میں ٹھہرنا ، اعتکاف مسجد کے علاوہ کہیں جائز نہیں ہے اور تمام مسجدوں میں جائز ہے ، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ بیشک حضور اقدس ﷺ پوری زندگی رمضان المبارک کے آخری دس دنوں کا اعتکاف بیٹھتے رہے ۔ آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ کی ازواج مطہرات اعتکاف بیٹھتی رہیں اور آیت کریمہ حضور ﷺ کے ان چند ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی جو مسجد میں اعتکاف بیٹھتے ، اگر ان میں سے کسی ایک کو اپنی بیوی سے متعلق حاجت پیش آتی تو وہ بیوی کی طرف جاتا اور اس سے جماع کرتا ، پس غسل کرتا اور مسجد کو لوٹ آتا ، پس اس عمل سے (حالت اعتکاف میں) دن رات منع کردیئے گئے ، یہاں تک کہ اپنے اعتکاف سے فارغ ہوں ۔ پس حالت اعتکاف میں جماع حرام ہے اور اس سے اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے ، باقی رہی جماع کے علاوہ بوس وکنار شہوت کے ساتھ پس مکروہ ہے اور اس سے اکثر اہل علم کے ہاں اعتکاف نہیں ٹوٹتا اور امام شافعی (رح) کے دو قولوں میں سے یہی قول زیادہ واضح ہے ۔ جیسا کہ اس (بوس وکنار) سے حج باطل نہیں ہوتا اور (اہل علم) کا ایک گروہ کہتا ہے کہ بوس وکنار سے اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے اور یہ امام مالک (رح) کا قول ہے اور بعض نے کہا کہ بوس وکنار کے وقت اگر انزال ہوجائے تو اعتکاف باطل ہوجاتا ہے اور اگر انزال نہ ہو تو پھر اعتکاف باطل نہ ہوگا ، جیسا کہ روزہ کا معاملہ ہے۔ بہرحال بیوی کو ایسا ہاتھ وغیرہ لگانا جس سے لذت مقصود نہ ہو تو پھر اعتکاف نہیں ٹوٹتا ۔ بوجہ اس کے جو کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ جب حضور ﷺ اعتکاف بیٹھتے تو اپنا سر مبارک میری طرف جھکاتے قریب کرتے اور میں آپ کے سر مبارک میں کنگھی کرتی تھی اور آپ ﷺ گھر میں سوائے حاجت انسانی کے تشریف نہ لاتے ، (آیت)” تلک حدود اللہ “ یہ احکام جو اللہ تعالیٰ نے روزہ اور اعتکاف کے بارے میں ارشاد فرمائے ہیں وہ حدیں ہیں اللہ تعالیٰ نے ان سے منع فرمایا ہے ۔ علامہ سدی (رح) فرماتے ہیں حدود اللہ کا معنی ہے شروط اللہ (اللہ تعالیٰ کی شرطیں) شہر بن حوشب (رح) فرماتے ہیں کہ حدود اللہ سے مراد اللہ تعالیٰ کے فرض ہیں حد کا لغوی معنی منع کرنے کے ہیں ۔ اسی وجہ سے بواب یعنی دربان کو حداد کہا جاتا ہے کیونکہ وہ بھی لوگوں کو داخل ہونے سے منع کرتا ہے اور حدود کا معنی ہوگا وہ (احکام الہی) جو لوگوں کو اپنی مخالفت کرنے سے منع کرتی ہیں ، (آیت)” فلاتقربوھا “ ان کو (عمل میں) مت لاؤ ، ” کذالک “ اسی طرح ” (آیت)” یبین اللہ ایاتہ للناس لعلھم یتقون “ تاکہ اس سے بچیں ، پس عذاب سے نجات پاجائیں ۔
Ayah 2:188

وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَ تُدْلُوْا بِهَاۤ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:188 in the Quran reader

اور ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اور نہ اس کو (رشوتاً ) حاکموں کے پاس پہنچاؤ تاکہ لوگوں کے مال کا کچھ حصہ ناجائز طور پر نہ کھا جاؤ اور (اسے) تم جانتے بھی ہو

(تفسیر) 188۔: (آیت)” ولا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل “ بعض نے کہا کہ یہ آیت امرالقیس بن عباس کندی کے بارے میں نازل ہوئی کہ اس پر ربیعہ بن عبدان حضرمی ؓ نے حضور ﷺ کے پاس زمین کا دعوی کیا ، حضور ﷺ نے حضرمی کو فرمایا تیرے پاس گواہ ہیں ؟ حضرمی نے کہا نہیں تو ، حضور ﷺ نے فرمایا پس تیرے لیے قسم ہوگی (یعنی کندی قسم اٹھائے گا) پس وہ (کندی) قسم اٹھانے چلا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ، اگر یہ اپنے مال پر قسم اٹھاتا ہے تاکہ ظلما اسے کھائے تو یہ اللہ تعالیٰ کو اس حالت میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس سے منہ موڑنے والے ہو گے (بوجہ ناراض ہونے کے) پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت)” ولا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل “ یعنی تمہارا بعض بعض کے مال کو نہ کھائے بغیر اس طریقے کہ جو اللہ تعالیٰ نے جائز فرمایا ہو ، باطل کا اصل معنی وہ شیء جو چلے جانے والی ہے ۔ باطل طریق پر کھانے کی کئی قسمیں ہیں کبھی مال کو غصب اور چھینا جھپٹی کے ساتھ کھایا جاتا ہے کبھی بطریقہ کھیل کے مثلا جوا بازی یا گویے کا گانے پر اجرت لینا وغیرہما اور کبھی بطریق رشوت اور خیانت کے کھایا جاتا ہے ۔ (آیت)” وتدلوا بھا الی الحکام “ ان مالوں کے معاملات جو تمہارے اور مالوں کے مالکوں کے درمیان ہیں حکام کی طرف لے جاؤ اولاء کا اصل معنی کنویں میں ڈول لٹکانے کے ہیں، کہاجاتا ہے اولی دلوہ جب وہ ڈول کو (نیچے) چھوڑ دے اور ” دلاہ یدلوہ “ اس وقت کہا جائے گا جب وہ اس ڈول کو نکالے ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس آیت کا مضمون اس شخص سے متعلق ہے جس پر کسی کا مال واجب ہو اور اس پر گواہ نہ ہوں ، پس وہ اس مال کا انکار کر دے اور اس سلسلہ میں وہ حاکم کے ہاں جھگڑا کرے حالانکہ وہ جانتا ہے کہ اس پر حق واجب ہے اور اس حق واجب ہے اور اس حق کو روکنے کے باعث گنہگار ہوتا ہے ، اس آیت کے بارے میں مجاہد (رح) فرماتے ہیں جب تو ظالم ہو تو پھر جھگڑا نہ کر ، کلبی (رح) فرماتے ہیں مضمون آیت کا یہ ہے کہ جھوٹے گواہ کھڑے کرے اور فرمان الہی (آیت)” وتدلوا “ حرف نہی کے تکرار کے باعث محل جزم میں ہے اور اس کا معنی ہوگا (آیت)” ولا تدلوا بھا الی الحکام ‘ کہ اس معاملہ کو حکام کی طرف مت لے جاؤ اور بعض نے کہا کہ اس کا معنی ہے کہ باطل طریقہ پر مت کھاؤ اور اسے حکام کی طرف منسوب کرو ۔ حضرت قتادہ (رح) فرماتے ہیں اپنے بھائی کے مال کا معاملہ حاکم کے پاس مت لے جا حالانکہ تو جانتا ہے کہ اس سلسلہ میں تو ظالم ہے اس لیے کہ حاکم کا فیصلہ حرام کو حلال نہیں کرسکتا ، عالم اسلام کے عظیم قاضی حضرت قاضی شریح (رح) فرمایا کرتے تھے میں تیرے حق میں فیصلہ کرتا ہوں حالانکہ میں تجھے ظالم سمجھتا ہوں لیکن ظاہر گواہوں کی رو سے میرے لیے اور کوئی راستہ اس کے سوا نہیں کہ میں تیرے حق میں فیصلہ کروں اور یہ میرا فیصلہ تیرے لیے حرام کو حلال نہیں کرسکتا۔ حضرت زینب اپنی والدہ محترمہ حضرت سیدہ ام المؤمنین ام سلمہ ؓ سے روایت کرتی ہیں کہ بیشک حضور ﷺ نے فرمایا کہ میں انسان ہوں اور تم میرے پاس اپنے جھگڑے لاتے ہو اور ہوسکتا ہے کہ کوئی تم میں اپنی دلیل کو بیان کرنے میں دوسرے سے زیادہ تیز لب و لہجہ اختیار کرنے والا ہو پھر میں اس کے (حسن بیان) سننے کے اعتبار سے فیصلہ کر دوں ، لہذا میں جس کسی کے حق میں اس کے بھائی کی چیز کا فیصلہ کر دوں تو وہ اس کو مت لے کیونکہ اس صورت میں میں اس کے لیے آگ کا ٹکڑا دے رہا ہوں (آیت)” لتاکلوا فریقا “ گروہ ” من اموال الناس بالاثم “ ظلم کے ساتھ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں یہاں اثم سے مراد جھوٹی قسم ہے جس کے ذریعے وہ اپنے بھائی کا مال چھین رہا ہے (آیت)” وانتم تعلمون “ (حالانکہ تم جانتے ہو) تم باطل پر ہو۔
Ayah 2:189

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْاَهِلَّةِ١ؕ قُلْ هِیَ مَوَاقِیْتُ لِلنَّاسِ وَ الْحَجِّ١ؕ وَ لَیْسَ الْبِرُّ بِاَنْ تَاْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ ظُهُوْرِهَا وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقٰى١ۚ وَ اْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ اَبْوَابِهَا١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 2:189 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ لوگ تم سے نئے چاند کے بارے میں دریافت کرتے ہیں (کہ گھٹتا بڑھتا کیوں ہے) کہہ دو کہ وہ لوگوں کے (کاموں کی میعادیں) اور حج کے وقت معلوم ہونے کا ذریعہ ہے اور نیکی اس بات میں نہیں کہ (احرام کی حالت میں) گھروں میں ان کے پچھواڑے کی طرف سے آؤ بلکہ نیکو کار وہ ہے جو پرہیزگار ہو اور گھروں میں ان کے دروازوں سے آیا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو تاکہ نجات پاؤ

(تفسیر) 189۔: (آیت)” ویسئلونک عن الاھلہ “ یہ آیت کریمہ حضرت معاذ بن جبل ؓ اور ثعلبہ بن غنم انصاری ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ، دونوں نے کہا یا رسول اللہ ! ﷺ یہ چاند کا کیا حال ہے ، باریک نمودار ہوتا ہے اور بڑھتا چلا جاتا ہے حتی کہ نور سے بھر جاتا ہے اس کے بعد پھر باریک ہونا شروع ہوجاتا ہے جیسا کہ اس نے آغاز کیا تھا ، اور ایک حالت پر باقی نہیں رہتا ، پس اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت)” یسئلونک عن الاھلہ ‘” اھلہ “ ہلال کی جمع ہے جیسے کہ اردیہ رداء کی جمع ہے ہلال کو ہلال اس لیے کہا گیا کیونکہ لوگ اس کے دیکھنے کے وقت آواز بلند کرتے ہیں ، یہ ” استھل الصبی “ سے لیا گیا جب بچہ بوقت ولادت روتا ہے اور جیسے کہا جاتا ہے ” اھل القوم بالحج “ یہ اس وقت جب لوگ بوقت تلبیہ اپنی آواز کو بلند کرتے ہیں ” قلھی مواقیت للناس والحج “ مواقیت میقات کی جمع ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ چاند کو ہم نے ایسا اس لیے کیا ہے تاکہ لوگ حج ، عمرہ ، روزہ ، افطار قرضوں کی مدتوں اور عورتوں کی عدتوں وغیرہ کو جان لیں ، پس اس لیے اللہ تعالیٰ نے چاند کو سورج کے خلاف بنایا کہ وہ سورج ہمیشہ ایک حالت پر رہتا ہے ۔ (آیت)” ولیس البر بان تاتوا البیوت من ظھورھا “ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ لوگ اسلام سے پہلے زمانہ جاہلیت میں اور ابتداء اسلام میں ایسا کرتے جب اس میں بعض حج عمرہ کا احرام باندھ لیتے تو وہ باغ ، گھر ، مکان وغیرہ میں دروازے کے راستہ سے نہ آتے ، اگر تو کچے مکان والے ہوتے تو گھر کی پچھلی طرف نقب لگاتے اور وہاں سے آنا جانا کرتے یا (دیوار کے ساتھ) سیڑھی لگاتے اور اس سے اترتے چڑھتے اور اگر اہل دبر یعنی اونٹوں کے بالوں کھالوں سے بنے ہوئے خیموں والے ہوتے تو خیموں کی پچھلی جانب سے نکلتے اور احرام کھولنے تک دروازہ سے نہ آتے جاتے اور ایسا کرنے کو نیکی سمجھتے مگر وہ حضرات اپنے حمس کہلاتے اور حمس کہلانے والے قریش ، قبیلہ کنانہ ، خزاعہ ثقیف ، خثیم اور بنوعامر بن صعصعہ اور بنو نضر بن معاویہ تھے یہ لوگ حمس کا نام دین میں سختی کے اعتبار سے دیئے گئے تھے اور حماسہ کا معنی شدۃ اور سختی کے ہیں ، کہتے ہیں کہ ایک دن حضور ﷺ ایک انصاری کے گھر میں داخل ہوئے تو ایک انصاری بھی حضور ﷺ کے پیچھے دروازہ سے داخل ہوا ، جسے رفاعہ بن تابوت کہا جاتا تھا ۔ حالانکہ وہ محرم تھا ، پس لوگوں نے اس انصاری صحابی پر اعتراض کیا تو حضور ﷺ نے اس انصاری صحابی کو (جو دروازہ سے داخل ہوا تھا) فرمایا تو دروازہ سے داخل کیوں ہوا ؟ حالانکہ تو محرم تھا اس نے جواب دیا میں نے حضور ﷺ آپ کو دیکھا کہ آپ دروازہ سے داخل ہوئے پاس میں بھی آپ کے پیچھے داخل ہوگیا تو حضور ﷺ نے فرمایا میں تو احمسی ہوں (یعنی اس قبیلہ سے تعلق رکھتا ہوں جو کہ حمس قبائل میں شمار ہوتا ہے یعنی قریشی ہوں) تو اس انصاری صحابی نے عرض کی اگر آپ احمسی ہیں تو پھر میں بھی احمسی ہوں، میں آپ کے طریقہ سیرت اور دین پر راضی ہوں پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی زہری کہتے ہیں کہ کچھ لوگ انصار میں سے جب عمرہ کا احرام باندھتے تو ان کے اور آسمان کے درمیان کوئی شیء حائل نہ ہوتا ۔ اور اگر کوئی آدمی عمرہ کا احرام باندھ کر گھر سے نکلتا اور نکلنے کے بعد اس کو کوئی حاجت (گھر سے متعلق) پیش آتی ، پس وہ واپس لوٹتا اور گھر کی چھت کی وجہ سے حجرہ کے دروازہ سے داخل نہ ہوتا کہ کوئی چیز اس کے اور آسمان کے درمیان حائل نہ ہو تو وہ پیچھے سے دیوار کھولتا ، پھر اپنے حجرہ میں داخل ہوتا اور اپنی حاجت کے بارے میں حکم کرتا ، حتی کہ ہمیں یہ بات پہنچی کہ بیشک رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ کے زمانہ میں عمرہ کا احرام باندھا پس آپ ﷺ حجرہ میں داخل ہوئے تو آپ کے بنی سلمہ قبیلہ کا ایک انصاری بھی داخل ہوا تو حضور ﷺ نے اس کو فرمایا تو نے ایسا کیوں کیا ؟ اس انصاری صحابی نے عرض کیا اس لیے کہ میں نے آپ ﷺ کو دیکھا کہ آپ داخل ہوئے تو حضور ﷺ نے فرمایا بیشک میں احمسی ہوں تو اس انصاری صحابی نے کہا تو میں بھی احمسی ہوں (احمسی کی وجہ تسمیہ پہلے بیان ہوچکی ہے) اور آپ کے دین پر ہوں ، پس اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت)” ولیس البربان تاتوا البیوت من ظھورھا “ ابن کثیر ابن عامر اور حمزہ اور کسائی اور ابوبکر رحمہم اللہ نے ” البیوت والغیوب والجیوب والعیوب وشیوخا “ (ان تمام الفاظ کو جو قرآن کریم میں وارد ہیں) یاء کہ وجہ سے پہلے حرف کو زیر کے ساتھ پڑھا ہے اور باقیوں نے اصل لفظ کے مطابق پہلے حرف کی پیش کے ساتھ پڑھا ہے اور ابن عامر اور حمزہ اور کسائی رحمہم اللہ نے لفظ (جیوب) کو پہلے حرف کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے اور ابوبکر (رح) اور حمزہ (رح) نے لفظ (العیوب) کو حرف عین کو زیر کے ساتھ پڑھا ہے ۔ ” ولکن البر من اتقی “ نیکی تو شخص کی نیکی ہے جو تقوی اختیار کرتا ہے ” واتوالبیوت من ابوابھا “ حالت احرام میں (آیت)” واتقوا اللہ لعلکم تفلحون “۔
Ayah 2:190

وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 2:190 in the Quran reader

اور جو لوگ تم سے لڑتے ہیں تم بھی خدا کی راہ میں ان سے لڑو مگر زیادتی نہ کرنا کہ خدا زیادتی کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا

(تفسیر) 190۔: (آیت)” وقاتلوا فی سبیل اللہ “ اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں (لڑو) (آیت)” الذین یقاتلونکم “ ابتداء اسلام میں حضور ﷺ کو مشرکین سے قتال کرنے سے روک دیا تھا ، پھر جب آپ ﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو ان مشرکین سے لڑنے کا اس آیت کے ذریعے سے حکم فرمایا جو آپ ﷺ سے لڑیں۔ حضرت ربیع بن انس ؓ فرماتے ہیں کہ لڑائی سے متعلق یہ پہلی آیت کریمہ ہے جو نازل ہوئی ، پھر اس اس کے بعد تمام مشرکین سے لڑنے کا حکم کا حکم جو مقابلہ میں لڑیں یا نہ لڑیں اس آیت کریمہ کے ساتھ دیا گیا، (آیت)” اقتلوا المشرکین “ تو (آیت)” الذین یقاتلونکم “ والی آیت کریمہ (جس میں یہ شرط لگائی گئی تھی کہ جو مشرک آپ ﷺ سے لڑیں ان سے لڑیں) اس آیت کریمہ (آیت)” اقتلوا المشرکین “ سے منسوخ ہوگئی کہا گیا ہے کہ (آیت)” اقتلوالمشرکین “ (کہ مشرکوں سے لڑو) کی آیت کے ساتھ قریبا ستر آیات منسوخ ہوگئیں ، اور ارشاد ربانی ” ولا تعدوا “ یعنی ان سے لڑائی میں پہل نہ کرو اور کہا گیا ہے کہ یہ آیت ” الذین یقاتلونکم “ (جس میں مشرکین کی طرف سے قتال (لڑائی) کی شرط لگائی گئی ہے) منسوخ نہیں ہے بلکہ محکم ہے یعنی اس کا مضمون و مفہوم اب بھی زیر عمل ہے پھر (آیت)” الذین یقاتلونکم “ کا معنی ہوگا ان کافروں سے لڑو جو تم سے لڑیں (جن میں لڑنے کی صلاحیت ہو یعنی جو دلیر مرد لڑنے والے مشرک ہیں ان سے لڑو) پھر اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد ” ولا تعتدوا “ کا معنی ہوگا کہ عورتوں اور بچوں اور بوڑھوں راہبوں کے ساتھ نہ لڑو (جو تم سے لڑنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں) اور نہ ان سے لڑو جو تمہاری طرف سلامتی کی بات کریں ، یہ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ اور مجاہد (رح) کا قول ہے سلیمان اپنے والد ؓ سے روایت کرتے ہیں ، وہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ جب لشکر بھیجتے تھے تو فرماتے تھے ” اعزوا بسم اللہ وفی سبیل اللہ قاتلوا من کفر باللہ لا تغلوا “ ترجمہ اس عبارت کا (اللہ تعالیٰ کے راستہ میں اللہ تعالیٰ کا نام لے کر ہر اس شخص سے جو ذات الہی کا انکار کرتا ہے اس کے ساتھ قتال کرو اور دین میں غلو نہ اختیار کرو) اور فرماتے ہیں ” ولا تعتدوا ولا تقتلوا امراۃ اور نہ بچے کو قتل کرو اور نہ بوڑھے کو اور نہ قتل کرو عورت کو ، کلبی ابو صالح (رح) سے روایت کرتے ہیں اور ابوصالح سیدنا حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کرتے ہیں حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ صلح حدیبیہ کے بارے میں نازل ہوئی ، اور یہ یوں ہوا کہ بیشک حضور ﷺ اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سمیت عمرہ کیلئے نکلے ۔ اور ان کی تعداد چودہ سو تھی ، وہ چلے حتی کہ حدیبیہ کے مقام پر اترے ، پس ان کو مشرکوں نے بیت الحرام (میں داخل ہونے) سے روکا ، حضور ﷺ نے ان سے اس بات پر مصالحت فرمائی کہ اس سال واپس ہوجائیں بریں شرط کہ آیندہ سال مشرکین تین دنوں کے لیے مکہ مکرمہ کو خالی کردیں گے پس آپ ﷺ بیت اللہ شریف کا طواف فرمائیں گے ، جب آیندہ آنے والا سال آیا تو حضور ﷺ نے اور اصحاب رسول اکرم ﷺ نے عمرۃ القضاء کے لیے تیاری فرمائی اور اس بات کا اندیشہ ظاہر فرمایا کہ کہیں قریش مکہ اپنا وعدہ وفا نہ کریں اور بیت الحرام (میں داخلہ) سے ان کو روک دیں اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے اس بات پر اظہار کراہت فرمایا کہ مشرکین مکہ سے حرمت والے مہینے اور بیت الحرام میں لڑیں قتال کریں ، پس اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت)” وقاتلوا فی سبیل اللہ “ یعنی بحالت احرام (اللہ تعالیٰ کی راہ میں لڑو) (آیت)” الذین یقاتلونکم “ قریش کے ساتھ قتال کرو ” ولا تعدوا “ پس بحالت احرام حرم مقدس میں لڑائی کی ابتداء کرو۔ (آیت)” ان اللہ یحب المعتدین “ ۔
Ayah 2:191

وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ وَ اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ حَیْثُ اَخْرَجُوْكُمْ وَ الْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ١ۚ وَ لَا تُقٰتِلُوْهُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰى یُقٰتِلُوْكُمْ فِیْهِ١ۚ فَاِنْ قٰتَلُوْكُمْ فَاقْتُلُوْهُمْ١ؕ كَذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:191 in the Quran reader

اور ان کو جہاں پاؤ قتل کردو اور جہاں سے انہوں نے تم کو نکالا ہے (یعنی مکہ سے) وہاں سے تم بھی ان کو نکال دو اور (دین سے گمراہ کرنے کا) فساد قتل و خونریزی سے کہیں بڑھ کر ہے۔ اور جب تک وہ تم سے مسجد محترم (یعنی خانہ کعبہ) کے پاس نہ لڑیں تم بھی وہاں ان سے نہ لڑنا ہاں اگر وہ تم سے لڑیں تو تم ان کو قتل کر ڈالو۔ کافروں کی یہی سزا ہے

(تفسیر) 191۔: (آیت)” واقتلوھم حیث ثقفتموھم “ کہا گیا ہے پہلی آیت کریمہ (کامضمون) اس آیت کریمہ کے ساتھ منسوخ ہے (کیونکہ پہلی آیت میں کفار سے قتال اس صورت میں تھا کہ جب وہ مقابلہ میں لڑائی میں پہل کریں تو مسلمان دفاعی جنگ لڑیں اور قتال کی ابتداء نہ کریں مگر اس آیت میں حکم ہے کہ کفار کو جہاں کہیں پاؤ ان کو قتل کرو اور ان کے قتال کرنے کی پہل کرنے کا انتظار نہ کریں) ثقافۃ کا لغوی معنی (کسی کام میں) مہارت و بصیرت کے ہیں اور معنی ہوگا کہ مشرکین کو قتل کرو جہاں تم ان سے قتل کرنا مناسب سمجھو اور ان کے قتل کرنے پر تم قادر ہو (آیت)” واخرجوھم من حیث اخرجوکم “ (اور ان کو اس جگہ سے نکالو جس جگہ سے انہوں نے تم کو نکالا) اور یہ اس طرح کہ انہوں نے مسلمانوں کو مکہ مکرمہ سے نکالا ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا مشرکوں کو ان کے گھروں سے نکالو جیسا کہ انہوں نے تم کو تمہارے گھروں سے نکالا ۔ (آیت)” والفتنۃ اشد من القتل “ ان کا اللہ تعالیٰ کی ذات عالی کے ساتھ شرک کرنا اس امر سے زیادہ سخت اور بڑا ہے کہ تم ان کو حرم مقدس میں بحالت احرام قتل کرو، (آیت)” ولا تقاتلوھم عند المسجد الحرام حتی یقاتلوکم فیہ فان قاتلوکم فاقتلوھم “ حمزہ (رح) اور کسائی (رح) نے ” ولا تقتلوھم حتی یقتلوکم فان قتلوکم “ ان میں الف کے بغیر قتل سے مشق کرکے پڑھا ہے (نہ کہ قتال سے) اور اس کا معنی ہوگا کہ بعض مشرکوں کو قتل نہ کرو ، اہل عرب کہتے ہیں ” قتلنا بنی فلاں “ (ہم نے بنی فلاں کو قتل کیا) حالانکہ سارا قبیلہ قتل نہیں کیا ہوتا بلکہ بعض قبیلہ کو قتل کیا ہوا ہوتا ہے اور باقی قراء نے الف کے ساتھ لفظ قتال سے مشتق کرکے پڑھا ہے اور ایسا کرنا ابتداء اسلام میں تھا کہ حرمت والے شہر مقدس میں ابتداء قتال کرنا جائز نہ تھا ، پھر اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے ساتھ منسوخ ہوگیا (آیت)” وقاتلوھم حتی لا تکون فتنۃ “ یہ حضرت قتادہ ؓ کا قول ہے اور مقاتل بن حبان (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد (آیت)” واقتلوھم حیث ثقفتموھم “ جہاں کہیں تم انکو پاؤ حرم میں یا حرم مقدس سے باہر حل میں ان کو قتل کر دو ، پھر اس آیت کا یہ مضمون اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے ساتھ منسوخ ہوگیا (آیت)” ولا تقاتلوھم عند المسجد الحرام “ (کہ مسجد حرام میں ان سے قتال نہ کرو) پھر اس فرمان خداوندی کو سورة براۃ میں نازل ہونے والی آیت السیف نے منسوخ کردیا ، تو (آیت)” ولا تقاتلوھم عند المسجد الحرام “ ناسخ بھی ہے (آیت)” واقتلوھم حیث ثقفتموھم “۔ کے لیے اور منسوخ بھی ہے ۔ سورة براۃ والی آیت السیف کے ساتھ ۔ حضرت مجاہد (رح) اور ایک جماعت کا کہنا ہے کہ یہ آیت محکم ہے منسوخ نہیں ، لہذا حرم مقدس میں ابتداء قتال کرنا جائز نہیں ، (آیت)” کذالک جزاء الکافرین “۔
Ayah 2:192

فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:192 in the Quran reader

اور اگر وہ باز آجائیں تو خدا بخشنے والا (اور) رحم کرنے والا ہے

192۔ (آیت)” افان انتھوا “ قتال اور کفر سے (اگر رک جائیں) (آیت)” فان اللہ غفور رحیم “۔ یعنی غفور سے گزشتہ گناہوں کے لیے اور بندوں کے ساتھ رحیم بھی ہے۔ ل
Ayah 2:193

وَ قٰتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ یَكُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰهِ١ؕ فَاِنِ انْتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ اِلَّا عَلَى الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:193 in the Quran reader

اور ان سے اس وقت تک لڑتے رہنا کہ فساد نابود ہوجائے اور (ملک میں) خدا ہی کا دین ہوجائے اور اگر وہ (فساد سے) باز آجائیں تو ظالموں کے سوا کسی پر زیادتی نہیں (کرنی چاہیے)

193۔ (آیت)” وقاتلوھم “ مشرکین سے (قتال کرو) (آیت)” حتی لاتکون فتنۃ “ شرک باقی نہ رہے مشرکین سے اس وقت تک قتال کرتے رہو ، یہاں تک کہ وہ اسلام لے آئیں ، اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ بت پرست سے اسلام ہی قبول کیا جائے گا ، اسلام سے اگر انکار کرے تو قتل کردیا جائے ۔ (آیت)” ویکون الدین “ طاعت و عبادت (للہ) صرف اسی ایک ذات (احد) کی ہوجائے ۔ پس اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کی جائے ، سیدنا عبداللہ بن زبیر ؓ کے زمانہ فتنہ میں ایک شخص سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ کے پاس آیا پس کہا آپ کو (ان دنوں میدان قتال میں) نکلنے سے کیا چیز مانع ہے ؟ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے فرمایا میرے لیے رکاوٹ یہ چیز ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میرے بھائی کا خون (بہانا) حرام فرمایا ہے تو اس شخص نے کہا کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اس کو سنتے نہیں (آیت)” وان طائفتان من المؤمنین اقتتلوا “ (اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر دو گروہ ایمان والوں سے لڑ پڑیں تو سرکش گروہ سے لڑو یہاں تک کہ وہ حق کی طرف مائل ہوجائے) سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ نے فرمایا اے بھتیجے ! میں اس آیت کا (اس موقع پر) اعتبار کروں اور لڑوں مجھے اس سے زیادہ یہ چیز پسند ہے کہ میں اس آیت کا اعتبار کرو ، (ذہن میں رکھوں) جس میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” ومن یقتل مومنا متعمدا “۔۔۔۔ (کہ جو شخص کسی مؤمن کو جان بوجھ کر قتل کرتا ہے اس کی سزا جہنم ہے) اس پر اس شخص نے کہا کیا اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرماتے (آیت)” وقاتلوھم حتی لا تکون فتنہ “ (کہ ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ فرو ہوجائے ) حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے فرمایا یہ عمل ہم نے حضور ﷺ کے مبارک دور میں کیا ، جب اسلام تھوڑا تھا (یعنی مسلمان تھوڑے تھے) کہ آدمی اپنی دین کے معاملہ میں فتنہ میں ڈالا جاتا تھا کہ اسے قتل کر ڈالتے یا عذاب میں مبتلا کرتے حتی کہ اسلام پھیل گیا عام ہوگیا اور فتنہ باقی نہ رہا اور دین سارے کا سارا اللہ تعالیٰ کا ہوگیا ، اور تم ارادہ کرتے ہو کہ لڑو حتی کہ فتنہ پھیلے کہ دین غیر اللہ کا ہو ، سعید بن جبیر ؓ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کو کہا کہ فتنہ کے سلسلہ میں لڑنے کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ؟ سیدنا عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ، جانتے بھی ہو کہ فتنہ کیا چیز ہے ؟ حضرت محمد کریم ﷺ مشرکوں سے لڑتے تھے ۔ اور تمہارا قتال ملک کے سلسلہ میں ان کے قتال کی مانند نہیں (آیت)” فان انتھوا “ کفر سے (رک جائیں) اور اسلام لے آئیں (آیت)” فلا عدوان “ ان پر کوئی راہ نہیں یعنی کوئی مواخذہ نہیں۔ (آیت)” الا علی الظالمین “ عدوان کا یہ معنی حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد گرامی ہے جس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) حضرت شعیب (علیہ السلام) سے فرماتے ہیں ” ایما الاجلین قضیت فلا عدوان علی “ ان دو مدتوں میں سے جو بھی پوری کروں مجھ پر کوئی راہ (مواخذہ) نہیں گرفت نہیں ۔ اہل معانی فرماتے ہیں ” العدوان الظلم “ کہ عدوان بمعنی ظلم ہے پس اگر وہ اسلام لائیں پھر نہ ان کا مال لینا نہ قید کرنا ہے اور نہ قتل کرنا ہے ۔ مگر ظالموں میں سے جو شرک پر باقی رہیں اور مشرکوں کے ساتھ یہ کام کیے جائیں (مال لینا قید کرنا اور قتل کرنا) تو ظلم نہیں ہوگا ۔ (آیت)” الاعلی الظالمین “ کی عبارت سے جو مفہوم ہوتا ہے کہ ان پر زیادتی نہیں مگر ظالموں پر یعنی ظالموں پر زیادتی ہے (کہ ان کا مال چھینا جائے ان کو قید کیا جائے اور قتل کیا جائے) ظالموں پر ان کاموں کو زیادتی کا نام بطور جزا دینے اور لفظی مقابلہ کے دیا ہے جس طرح کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ (آیت)” فمن اعتدی علیکم فاعتدوا علیہ “ (جو کوئی تم پر زیادتی کرے تو تم اس پر زیادتی کرو) زیادتی کے بدلہ اور جزاء کو زیادتی کا نام لفظی مقابلہ کے طور پر دیا گیا ہے اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” وجزاء سیئۃ مثلھا “ کہ برائی کی سزا اس کے مثل برائی ہے ، یہاں بھی برائی کی سزا کو برائی کا نام دیا گیا ، یہ بھی لفظی مشاکلہ و مقابلہ کے طور پر کافر کو ظالم کا نام دیا گیا کیوں کہ کافر عبادت کا عمل اپنی جگہ میں ادا نہیں کرتا۔
Ayah 2:194

اَلشَّهْرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَ الْحُرُمٰتُ قِصَاصٌ١ؕ فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَیْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَیْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى عَلَیْكُمْ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 2:194 in the Quran reader

ادب کا مہینہ ادب کے مہینے کے مقابل ہے اور ادب کی چیزیں ایک دوسرے کا بدلہ ہیں، پس اگر کوئی تم پر زیادتی کرے تو جیسی زیادتی وہ تم پر کرے ویسی ہی تم اس پر کرو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ خدا ڈرنے والوں کے ساتھ ہے

(تفسیر) 194۔: (آیت)” الشھر الحرام بالشھرالحرام “ یہ آیت کریمہ عمرۃ القضاء کے بارے میں نازل ہوئی اور یہ اس طرح کہ حضور اقدس ﷺ ذوالقعدہ میں عمرہ کی غرض سے نکلے پس بیت اللہ آنے سے آپ ﷺ کو مشرکوں نے حدیبیہ کے مقام پر روکا ، پس آپ نے اہل مکہ سے اس بات پر مصالحت فرمائی کہ اس سال آپ واپس ہوجائیں اور آئندہ سال تشریف لائیں اور عمرہ کی قضا دیں ، چناچہ حضور ﷺ اس سال واپس تشریف لے گئے اور دوسرے سال ذوالقعدہ میں تشریف لائے اور سن 7 ھ میں آپ ﷺ نے عمرہ ادا فرمایا ، پس یہ ہے معنی اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا ” الشھر الحرام “ یعنی ذوالقعدہ (جو حرمت والا مہینہ ہے) جس میں تم مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے ہو اور عمرہ کیا ہے 7 ھ میں اس حرمت والے مہینہ کے بدلہ میں ہے یعنی اس ذوالقعدہ کے بدلہ میں ہے جس ذوالقعدہ 6 ھ میں بیت اللہ شریف سے روکے گئے تھے ۔ (آیت)” والحرمات قصاص “ حرمات حرمت کی جمع ہے لفظ حرمات کو جمع اس لیے لایا گیا کہ یہاں کئی حرمتیں ہیں ِ ، حرمت والے مہینہ ذوالقعدہ کی حرمت مکہ مکرمہ کی حرمت احرام کی حرمت اور قصاص کے معنی مساوات ومماثلت یعنی برابری کے ہیں اور وہ یہ کہ فاعل کے ساتھ وہی کچھ کیا جائے جیسا کہ اس نے کیا اور کہا گیا ہے کہ قصاص والا مفہوم قتال یعنی لڑائی کے بارے میں ہے معنی ہوگا کہ اگر مشرکین حرمت والے مہینے میں قتال (لڑائی) کی ابتداء کریں تو تم بھی ان سے حرمت والے مہینہ میں لڑو کیونکہ یہ برابری والا معاملہ کرنا ہے جیسا کہ انہوں نے کیا (آیت)” فمن اعتدی علیکم فاعتدوا علیہ “ اور اس سے قتال کرو۔ (آیت)” بمثل ما اعتدی علیکم “ قتال کے مقابلہ میں جوابی قتال کو (جہ جزاء ہے ان کے ابتدائی قتال) ابتداء کا نام ازدواج کلام کی بنیاد پر دیا گیا یعنی کلام کے لفظی جوڑ کی بنیاد پر جیسا کہ قرآن کریم میں (آیت)” جزاء سیئۃ سیئۃ مثلھا “ میں ایسا واقع ہے (آیت)” واتقوا اللہ واعلموا ان اللہ مع المتقین “ ۔
Ayah 2:195

وَ اَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ١ۛۖۚ وَ اَحْسِنُوْا١ۛۚ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 2:195 in the Quran reader

اور خدا کی راہ میں (مال) خرچ کرو اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو اور نیکی کرو بیشک خدا نیکی کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے

(تفسیر) 195۔: (آیت)” وانفقوا فی سبیل اللہ “ اس سے مراد جہاد ہے اور ہر کار خیر میں (خرچ کرنا) فی سبیل اللہ ہے لیکن اس کا مطلقا استعمال جہاد کی طرف راجع ہے ۔ (آیت)” ولا تلقوا بایدیکم الی التھلکۃ “ کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول ” بایدیکم “ میں باء زائدہ ہے مراد ہے (آیت)” ولا تلقوا ایدیکم “ یعنی اپنے آپ کو ہلاکت کی طرف (نہ ڈالو) نفس کو ہاتھوں کے ساتھ تعبیر کیا گیا جیسا کہ فرمان الہی ہے ” بماکسبت ایدیکم “ یعنی بسبب اس کے جو تم نے کمایا (تو یہاں بھی کسب کے مفہوم کو ایدی کے ساتھ تعبیر کیا گیا) اور بعض نے کہا ہے کہ باء اپنی جگہ پر واقع ہے (یعنی زائدہ نہیں ہے) اور عبارت یوں ہوگی ، ” ولا تلقوا انفسکم بایدیکم الی التھل کہ “ ” ای الھلاک “ (یعنی اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں کے ساتھ ہلاکت کی طرف مت ڈالو) اور بعض نے کہا کہ ” تھل کہ کا معنی (ہلاک نہیں) بلکہ ہر وہ چیز جس کا انجام ہلاکت کی طرف ہو یعنی تم اس کام میں شروع نہ ہو (جس کا انجام ہلاکت ہے) اور بعض نے ” تھل کہ “ اور ہلاک میں فرق کیا ہے کہ تھل کہ وہ امر جس سے احتراز ممکن ہو اور ہلاک وہ جس سے بچاؤ ممکن نہ ہو اور اہل عرب انسان کو یوں نہیں کہتے ” القی بیدہ الا فی الشر “ (یعنی لفظ القی کا استعمال امر خیر میں نہیں ہوتا بلکہ شر میں ہوتا ہے) اور اس آیت کی تاویل میں انہوں نے اختلاف کیا ہے ، چناچہ بعض نے کہا کہ یہ آیت بخل اور راہ خدا میں خرچ نہ کرنے سے متعلق ہے یعنی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ راہ خدا میں خرچ کرنا چھوڑ کر اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو اور یہ قول حذیفہ حسن ، (رح) قتادہ (رح) عکرمہ (رح) اور عطاء (رح) کا ہے ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ اس آیت میں کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں خرچ کر اگرچہ تیرے پاس سوائے تیر وغیرہ کے کچھ نہ ہو اور کوئی انسان یہ ہرگز نہ کہے کہ میں کچھ نہیں پاتا اور علامہ سدی (رح) اس بارے میں فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کے راستہ میں خرچ کر اگر اونٹ کا گھٹنا باندھنے کی ایک رسی ہی کیوں نہ ہو اور اپنے آپ کو ہلاکت کی طرف مت پھینکو اور یہ نہ کہو میرے پاس کچھ نہیں ، سعید بن مسیب (رح) اور مقاتل بن حبان (رح) فرماتے ہیں ہیں جب اللہ تعالیٰ نے خرچ کرنے کا حکم دیا تو (کچھ) لوگوں نے کہا ہمیں اللہ تعالیٰ کے راستہ میں خرچ کرنے کا حکم دیا گیا ہے ، اگر ہم اپنے مال اللہ کے راستہ میں خرچ کردیں تو محتاج رہ جائیں گے پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی ، حضرت مجاہد (رح) اس بارے میں فرماتے ہیں تمہیں فقر وفاقہ کا خوف حقوق اللہ اور حقوق العباد میں خرچ کرنے سے منع نہ کرے ۔ عیاض بن غضیف کہتے ہیں کہ ہم ابو عبیدہ ؓ کی بیمار پرسی کے لیے آئے ، انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضور اقدس ﷺ کو سنا ، جب آپ ﷺ نے فرمایا جو شخص زائد (از ضرورت) اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتا ہے تو اس کو سات سو گنا اجر وثواب ہے اور جو شخص اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے پس نیکی دس گنا ہے زید بن اسلم ؓ فرماتے ہیں لوگ جہادی قافلوں میں بغیر نفقہ کے نکلتے تھے، پس یا تو اپنے مقصد میں ناکام رہتے یا پھر (لوگوں پر) بوجھ بن جاتے ۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو اللہ تعالیٰ کے راستہ میں نکل کر اپنی ذات پر خرچ کرنے کا حکم دیا اور جس شخص کے پاس خرچ کرنے کا حکم دیا اور جس شخص کے پاس خرچ کرنے کو کچھ نہ ہو تو بغیر خرچ کے نہ نکلے ، پس وہ اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالے پس اس صورت میں ہلاکت یہ ہوگی کہ وہ بھوک پیاس یا چلنے کی مشقت سے ہلاک ہوجائے گا اور بعض نے کہا کہ یہ آیت کریمہ ترک جہاد کے سلسلہ میں نازل ہوئی ، حضرت ابو ایوب انصاری ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ ہم انصار لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی اور یہ اس طرح کے جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کریم ﷺ کو غلبہ عطا فرمایا اور نصرت فرمائی تو ہم نے آپس میں کہا کہ ہم نے اپنے اہل و عیال اور مال ومتاع کو چھوڑا حتی کہ اسلام عام ہوگیا پھیل گیا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پاک ﷺ کی نصرت فرمائی ، کیا ہی اچھا ہوتا کہ ہم اپنے اہل و عیال اور مال ومتاع کی طرف دھیان دیں اور نقصان کی تلافی کریں ، پس اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت)” وانفقوا فی سبیل اللہ ولا تلقوا بایدیکم الی التھلکۃ “ پس ہلاکت اہل و عیال اور مال ومتاع میں لگ جانا اور جہاد کو چھوڑ دینا ہے ، چناچہ حضرت سیدنا ابو ایوب انصاری ؓ ہمیشہ جہاد فی سبیل اللہ میں مصروف رہے تاآنکہ آخری جہاد وہ تھا جو حضرت سیدنا امیر المؤمنین حضرت معاویہ ؓ کے دور خلافت میں انہوں نے قسطنطنیہ کا فرمایا ، پس وہی وفات پائی اور قسطنطنیہ کے قلعہ کی دیوار کے ساتھ مدفون ہیں ۔ اور قسطنطنیہ والے سیدنا ابوایوب انصاری ؓ کی برکت سے پانی پلائے جاتے ہیں (یعنی بارش برسائی جاتی ہے) حضرت سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت کی گئی ہے فرماتے ہیں، کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اس حال میں مرگیا کہ اس نے نہ تو جہاد کیا اور نہ ہی اس کے دل میں جہاد کا خیال آیا تو ایسے شخص کی موت شعبہ نفاق پر ہوئی حضرت محمد بن سیرین اور عبیدہ سلمان رحمہما اللہ فرماتے ہیں، کہ ” القاء الی التھل کہ “ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید ہونا ہے ، ابو قلابہ ؓ فرماتے ہیں (اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے سے مراد) وہ شخص جو گناہ کرے پھر کہے کہ میں تو ہلاک ہوگیا میری توبہ کہاں قبول ہوسکتی ہے ، پھر اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہوجائے اور گناہوں میں منہمک ہوجائے پس اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے لوگوں کو اس سے منع فرمایا اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت)” انہ لا ییئس من روح اللہ الا القوم الکافرون “ ۔۔۔۔۔۔ ” واحسنوا ان اللہ یحب المحسنین “۔