2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 2:183

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ Open ayah 2:183 in the Quran reader

مومنو ! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بنو۔

183۔ (آیت)” یایھا الذین امنوا کتب علیکم الصیام “ روزے فرض وواجب کیے گئے ہیں ، لغت میں صیام کا معنی رک جانے کے ہیں کہا جاتا ہے (آیت)” صام النھار “ جبکہ وہ درمیان میں آجائے اور دوپہر کی گھڑی قائم ہوجائے کیونکہ سورج جب آسمان کے درمیان پہنچتا ہے گویا کہ وہ ٹھہر جاتا ہے اور تیز رفتاری سے رک جاتا ہے اور اسی (یعنی صوم بمعنی رک جانا) سے ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد گرامی (آیت)” فقولی انی نذرت للرحمن صوما “ یعنی خاموش رہنے (کی منت مانی ہے) کیونکہ خاموشی بھی کلام سے رک جانے کا نام ہے اور شریعت میں صوم کا معنی ہے ، کھانے پینے اور جماع کرنے سے وقت مخصوص میں رکنا۔ (یعنی طلوع فجر سے غروب آفتاب تک) نیت کے ساتھ رک جانا ، (آیت)” کما کتب علی الذین من قبلکم “ انبیاء اور امتوں میں سے ، اس تشبیہ میں انہوں نے اختلاف کیا ، چناچہ سعید بن جبیر (رح) نے فرمایا ہم سے پہلے لوگوں کا روزہ عشاء سے لے کر دوسرے دن آنے والی رات تک کا ہوتا تھا جیسا کہ ابتداء اسلام میں تھا اور اہل علم کی ایک جماعت کہتی ہے اس تشبیہ سے مراد یہ ہے کہ ماہ رمضان کے روزے عیسائیوں پر بھی فرض تھے جس طرح کہ ہم پر فرض کیے گئے تو پھر وہ روزے کبھی سخت گرمی میں آجاتے ، کبھی سخت سردی میں آجاتے ، یہ صورت حال ان پر سفر میں گراں گزرتی اور گزر بسر میں انکو تکلیف دیتی تو نصاری (عیسائیوں) کے علماء اور سرداروں نے یہ رائے قائم کی کہ اپنے روزوں کو سال کی معتدل موسم گرمی سردی کے درمیان مقرر کردیں ، چناچہ انہوں نے اپنے روزوں کے لیے موسم بہار کا انتخاب کیا اور اس تبدیلی کے عوض بطور کفارہ کے دس (10) روزوں کا اضافہ کردیا ، چناچہ روزے چالیس ہوگئے پھر نصاری کا ایک بادشاہ منہ کی بیماری میں مبتلا ہوا تو اس نے منت مانی کہ اگر میں اس بیماری سے شفایاب ہوگیا تو ان روزوں میں ایک ہفتہ کا اضافہ کروں گا ، چناچہ وہ ٹھیک ہوا اور اس نے ایک ہفتہ کا اضافہ کردیا، اس کے بعد یہ بادشاہ مرگیا ، اس کے بعد ان کا اور بادشاہ آیا اس نے کہا کہ روزے پچاس (50) ہی پورے کر دو ، حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ ان کو موت کی کثرت پہنچی پس وہ کہنے لگے اپنے روزوں میں اضافہ کرو ، چناچہ انہوں نے پہلی دفعہ دس (10) روزے بڑھائے ۔ اس کے بعد دوسری دفعہ پھر دس روزے بڑھائے ، علامہ شعبی (رح) فرماتے ہیں اگرچہ میں سارا سال روزہ رکھوں مگر پھر میں شک والے دن روزہ نہیں رکھوں گا یعنی جس دن کے بارے میں کہا جائے کہ یہ دن شعبان کا ہے اور یہ بھی کہا جائے کہ یہ دن رمضان کا ہے اور یہ اس لیے کہ نصاری (عیسائیوں) پر ماہ رمضان ہی کے روزے فرض ہوئے تھے ، پھر انہوں نے رمضان المبارک سے ایک دن پہلے اور ایک دن بعد کا اضافہ کردیا ، بعد میں آنے والوں نے پہلوں کے طریقہ پر چلتے ہوئے اول وآخر مزید ایک ایک دن کا روزہ بڑھا دیا ، اسی طرح ہوتے ہوتے پچاس روزے ہوگئے پس یہ ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” کما کتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون “ یعنی روزہ کے ذریعہ (متقی بن جاؤ) کیونکہ روزہ تقوی کی طرف پہنچانے والا ہے اس لیے کہ روزہ میں نفس کو مغلوب کرنا اور خواہشات نفسانیہ کو توڑنا ہے اور کہا گیا ہے ، ” لعلکم تتقون “ تاکہ تم بچو خواہشات وشہوات سے کھانا ، پینا اور جماع کرنا۔
Ayah 2:184

اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ١ؕ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ١ؕ وَ عَلَى الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَهٗ فِدْیَةٌ طَعَامُ مِسْكِیْنٍ١ؕ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ١ؕ وَ اَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:184 in the Quran reader

(روزوں کے دن) گنتی کے چند روز ہیں۔ تو جو شخص تم میں سے بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں روزوں کا شمار کرلے۔ اور جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھیں (لیکن رکھیں نہیں) وہ روزے کے بدلے محتاج کو کھانا کھلا دیں۔ (یہ آیت اگلی آیت سے ملصوق ہے) اور جو کوئی شوق سے نیکی کرے تو اس کے حق میں زیادہ اچھا ہے۔ اور اگر سمجھو تو روزہ رکھنا ہی تمہارے حق میں بہتر ہے۔

(تفسیر) 184۔: (آیت)” ایاما معدودات “ کہا گیا ہے کہ ابتداء اسلام میں ہر مہینہ میں تین دن روزے رکھنے واجب تھے اور دسویں محرم کا روزہ بھی فرض تھا ، پس اس طرح انہوں (ایمان والوں) نے ربیع الاول سے لے کر اگلے سال کے رمضان شریف تک سترہ (17) مہینے روزے رکھے ، پھر رمضان المبارک کے ساتھ سابقہ مذکورہ روزے منسوخ ہوگئے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ہجرت کے بعد جو منسوخی ہوئی وہ قبلہ شریف اور روزوں کی منسوخی تھی اور کہاجاتا ہے رمضان المبارک کے روزوں کی فرضیت غزوہ بدر سے ایک ماہ اور چند دن پہلے ہوئی ، حضرت محمد بن اسحاق (رح) فرماتے ہیں ، کہ غزوہ بدر سترہ (17) رمضان المبارک بروز جمعہ ہجرت کے ٹھیک اٹھارہ (18) ماہ بعد ہوا۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ عاشورہ کا دن وہ دن تھا جس دن قریش زمانہ جاہلیت میں روزہ رکھا کرتے تھے اور اعلان نبوت سے پہلے سے حضور اقدس ﷺ بھی عاشورہ کا روزہ رکھا کرتے تھے جب حضور ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے آپ ﷺ نے عاشورہ کا روزہ خود بھی رکھا اور لوگوں کو بھی اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا جب رمضان کا (روزہ) فرض ہوا تو پھر یہی رمضان کے روزہ کی فرضیت ہی باقی رہی اور عاشورہ کا روزہ چھوڑ دیا گیا ، پس جو چاہے روزہ رکھے جو چاہے اسے چھوڑ دے ۔ اور بعض نے کہا کہ (آیت)” ایاما معدودات “ سے مراد رمضان شریف کے روزے ہیں اور یہ آیت منسوخ نہیں ہے اور ” ایاما “ منصوب ہے ظرف ہونے کے اعتبار سے ہے ، تقدیر عبارت ہوگی ، (آیت)” فی ایام معدودات “ اور بعض نے کہا کہ ” ایاما “ کی نصب تفسیر کی بنیاد پر ہے ۔ ” ایاما معدودات کتب علیکم الصیام “ کی تفسیر واقع ہے اور بعض نے کہا کہ یہ مالم یسم فاعلہ کی خبر ہے (آیت)” فمن کان منکم مریضا او علی سفر فعدۃ “ ” فافطر “ (یعنی بحالت سفر یا بحالت مرض میں روزے نہ رکھے اور افطار کرے ” فعدۃ “ (شمار کرنا ہے) (آیت)” من ایام اخر “ اس پر شمار کرنا ہے عدد اور عدۃ کا ایک معنی ہے اور دونوں ایام سے مراد اپنی مرض اور سفر کے ایام کے علاوہ ہیں ” اخر “ ایسی جگہ ہے جہاں اس کو زیر آنی چاہیے لیکن یہ غیر منصرف ہے (اس لیے زیر نہیں آئی) بلکہ زبر دی گئی ہے ، اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی (آیت)” وعلی الذین یطیقونہ “ اس آیت کی تاویل اور حکم میں علماء نے اختلاف کیا ہے اکثر علماء اس طرف گئے ہیں کہ یہ آیت منسوخ ہے ، یہ ابن عمر اور سلمہ بن اکوع وغیرھما کا قول ہے اور یہ اس طرح کہ ابتدائے اسلام میں مسلمانوں کو اختیار تھا کہ روزہ رکھیں یا افطار کریں یا فدیہ دیں ، اللہ تعالیٰ نے ان کو اس لیے اختیار دیا تھا ۔ تاکہ روزہ کا حکم ان پر گراں نہ گزرے کیونکہ اس سے پہلے وہ روزہ کے عادی نہ تھے ، پھر یہ اختیار منسوخ کردیا گیا اور ایک ہی پختہ حکم نازل ہوا (آیت)” من شھد منکم الشھر فلیصمہ “ (جو تم میں سے رمضان شریف کو حاضر ہو یعنی پالے وہ ہر حال میں روزہ رکھے) حضرت قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ روزہ رکھنا اور فدیہ دینا یہ حکم بہت بوڑھے کے ساتھ خاص ہے جو روزہ کی طاقت تو رکھتا ہے مگر روزہ رکھنا اس پر بہت ہی گراں ہے ایسے بوڑھے شخص کو رخصت دی گئی کہ وہ روزہ نہ رکھے اس کے بدلہ فدیہ دے پھر (یہ حکم) منسوخ کردیا گیا ۔ حضرت حسن (رح) فرماتے ہیں یہ مریض کے بارے میں ہے جسے ایسی تکلیف ہے جس کو مرض کا نام دیا جاسکتا ہے مگر وہ روزہ رکھنے کی بھی طاقت رکھتا ہے اسے اختیار دیا گیا کہ وہ روزہ رکھے یا افطار کرے اور فدیہ دے پھر اللہ تعالیٰ کے اس فرمان (آیت)” فمن شھد منکم الشھر فلیصمہ “ کے ساتھ منسوخ کردیا گیا ۔ اور ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ بیشک آیت محکم ہے منسوخ نہیں ہے اور اس کا معنی ہوگا وہ لوگ جو جوانی میں روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے تھے اب بڑھاپے میں وہ روزہ رکھنے سے عاجز ہوگئے تو ان پر روزہ کے بدلہ فدیہ دینا ہے اور حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ نے (آیت)” وعلی الذین یطیقونہ “ پڑھا ہے یاء کی پیش اور طاء کی زبر تخفیف کے ساتھ اور واو کی زبر اور شد کے ساتھ ” ای یکلفون الصوم “ جنہیں روزہ کی تکلیف دی گئی ہے اور اس سے مراد بہت بوڑھا مرد بوڑھی عورت جو روزہ نہ رکھ سکیں اور وہ مریض جس کے مرض کے زوال کی امید نہ ہو ، پس یہ لوگ ہیں جو روزہ کی تکلیف دیئے گئے مگر روزہ کی طاقت نہیں رکھتے ، پس ان کے لیے جائز ہے کہ یہ روزہ نہ رکھیں اور ہر دن کے بدلہ ایک مسکین کو کھانا دیں اور یہ سعید بن جبیر (رح) کا قول ہے انہوں نے آیت کو محکم قرار دیا ہے ، ارشاد ربانی (آیت)” فدیۃ طعام مسکین “ اہل مدینہ اور اہل شام نے بصورت مضاف پڑھا ہے یعنی طعام مضاف اور مسکین مضاف الیہ اور اسی طرح سورة مائدہ میں بھی (آیت)” کفارۃ طعام مسکین “ فدیہ کو طعام کی طرف مضاف کیا ، اگرچہ فدیہ اور طعام (معنوی) اعتبار سے شیء واحد ہیں مگر لفظی تغایر کے لحاظ سے اضافت صحیح ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ” وحب الحصید “ اور ان کا کہنا مسجد الجامع یا ربیع الاول (ان سب میں مضاف اور مضاف الیہ میں معنوی وحدت اور لفظی تفاوت ہے) اور باقیوں نے ” فدیۃ وکفارۃ “ تنوین کے ساتھ پڑھا ہے اور (طعام) کو پیش کے ساتھ اور (مساکین) کو یہاں اہل مدینہ اور اہل شام نے جمع کے ساتھ پڑھا ہے اور باقیوں نے مفرد پڑھا ہے جس نے لفظ مسکین کو جمع کر کے مساکین پڑھا ہے انہوں نے مساکین کو ایک سیر طعام کا دینا واجب ہے ، بمطابق ایک سیر حضور اقدس ﷺ کے اور حضور ﷺ کے سیر کا وزن ایک رطل اور تہائی حصہ رطل کا ، (آج کے وزن کے لحاظ سے رطل قریبا آدھ سیر کے ہے یعنی 40 تولہ) اور یہ فدیہ اس غذا کا دے جو غذا اس علاقہ اور شہر میں عام استعمال ہوتی ہو، یہ فقہاء حجاز کا قول ہے اور بعض فقہاء عراقی فرماتے ہیں ، کہ اس شخص پر ہر اس دن کا جو افطار کرے ہر مسکین کو آدھا صاع دینا ہے اور بعض نے کہا کہ گیہوں ہو تو آدھا صاع اور کوئی اور غلہ ہو تو پورا صاع اور بعض فقہاء فرماتے ہیں افطار کرنے والا جو کچھ روزانہ خوراک کھاتا ہو اتنا کچھ فی یوم کے حساب سے مسکین کو دے دے ۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں ہر مسکین کو اپنی سحری اور شام کا کھانا دے دے ۔ (آیت)” فمن تطوع خیرا فھو خیرلہ “ اگر ایک مسکین کے بجائے دو مسکین کو یا زیادہ مسکینوں کو (فی یوم جو افطار کرے) دے دے (تو اور اچھا ہے) ۔ حضرت مجاہد (رح) اور عطاء (رح) اور طاؤس (رح) فرماتے ہیں اس کا معنی یہ ہے کہ جو مقدار فدیہ کی اس پر واجب ہے اس سے زیادہ دے مثلا اس پر ایک مد یعنی سیر ہے اور وہ صاع دے دے ” فھو خیرلہ “ تو اس کے لیے بہتر ہے (آیت)” وان تصوموا خیرلکم “ پس یہ شخص (سابقہ اختیاری حکم کے) نسخ کی طرف گیا ہے اس کے نزدیک اس کا معنی ہے روزہ اس کے لیے فدیہ دینے سے بہتر ہے اور بعض نے کہا ہے کہ یہ بوڑھے کے لیے ہے کہ اگر وہ تکلیف برداشت کرکے روزہ اس پر گراں ہے پھر بھی روزہ رکھے تو یہ اس بوڑھے کے لیے بہتر ہے ، اس سے کہ وہ افطار کرے اور فدیہ دے ۔ (آیت)” ان کنتم تعلمون “ یہ بات جان لے کہ کسی مومن مکلف (عاقل بالغ) کے لیے یہ جائز نہیں کہ رمضان المبارک میں روزہ نہ رکھے مگر تین آدمیوں کے لیے ایک وہ جس پر قضا اور کفارہ (یہاں کفارہ سے مراد فدیہ ہے) دوسرا شخص وہ جس پر قضا ہے کفارہ (فدیہ) نہیں ، تیسرا وہ شخص جس پر کفارہ (فدیہ) ہے قضاء نہیں، بہرحال وہ شخص جس پر قضاء اور فدیہ دونوں ہیں اور حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت جب ان کو بچے پر (نقصان کا) خوف ہو، یہ دونوں افطار کریں گی اور بعد قضاء کریں گی اور ان دونوں پر قضاء کے ساتھ ساتھ فدیہ بھی ہے ، یہ ابن عمر اور حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے یہی حضرت حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں اور اسی طرح امام شافعی (رح) گئے ہیں اور ایک قوم نے کہا ان دونوں (حاملہ اور دودھ پلانے والی) پر فدیہ نہیں ہے یہی حضرت حسن (رح) عطاء سرحمۃ اللہ علیہ اور ابراہیم نخعی (رح) اور زہری (رح) نے کہا اور اسی طرح اوزاعی اور ثوری اور اصحاب الرای (رح) گئے ہیں اور وہ شخص جس پر قضاء ہے اور فدیہ نہیں وہ مریض ، مسافر ، حیض والی اور نفاس والی عورت ہے اور یہ جس پر کفارہ یعنی فدیہ ہے اور قضاء نہیں ہے وہ شیخ کبیر یعنی بالکل بوڑھا کھوسٹ اور وہ مریض جس کی مرض زائل ہونے کی امید نہ ہو ، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے روزے کے دنوں کا بیان فرمایا اور ارشاد فرمایا :
Ayah 2:185

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَ الْفُرْقَانِ١ۚ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُ١ؕ وَ مَنْ كَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ١ؕ یُرِیْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ١٘ وَ لِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:185 in the Quran reader

(روزوں کا مہینہ) رمضان کا مہینہ (ہے) جس میں قرآن (اول اول) نازل ہوا جو لوگوں کا رہنما ہے اور (جس میں) ہدایت کی کھلی نشانیاں ہیں اور جو (حق وباطل کو) الگ الگ کرنے والا ہے تو جو کوئی تم میں سے اس مہینے میں موجود ہو چاہئے کہ پورے مہینے کے روزے رکھے اور جو بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں (رکھ کر) ان کا شمار پورا کرلے۔ خدا تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور سختی نہیں چاہتا۔ اور (یہ آسانی کا حکم) اس لیے (دیا گیا ہے) کہ تم روزوں کا شمار پورا کرلو اور اس احسان کے بدلے کہ خدا نے تم کو ہدایت بخشی ہے تم اس کو بزرگی سے یاد کرو اور اس کا شکر کرو

(تفسیر) 185۔: (آیت)” شہر رمضان “ شھر کی پیش ہو شھر رمضان “ کے معنی پر ہے (گویا شہر رمضان مبتدا مخذوف کی خبر ہے) کسائی (رح) فرماتے ہیں شھر رمضان کی تقدیر عبارت ہے (آیت)” کتب علیکم شھر رمضان “ کہ تم پر رمضان کا مہینہ فرض کیا گیا ہے (گویا شھر کی پیش مفعول مالم لیم فاعلہ کی بنیاد پر ہے) شھر (مہینہ) کا نام شھر اس کی شھرۃ کی وجہ سے رکھا گیا اور رمضان کے بارے میں حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ رمضان اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے رمضان المبارک کو شھر رمضان ایسے ہی کہا جاتا ہے جس طرح اس کو شھر اللہ کہا جاتا ہے اور صحیح یہ ہے کہ رمضان مہینہ کا نام ہے ۔ اس ماہ کا نام رمضان اس لیے رکھا گیا کہ یہ رمضاء سے مشتق ہے اور رمضاء گرم پتھر کو کہاجاتا ہے اور وہ (اہل عرب) اس ماہ کے روزے سخت گرمی میں رکھتے تھے اور حرارت (دھوپ) کی وجہ سے پتھر گرم ہوجاتے تھے ۔ (آیت)” الذی انزل فیہ القرآن “ قرآن کو قراۃ اس لیے کہتے ہیں کہ وہ سورتوں آیات اور حروف کو جمع کرتا ہے اور اس میں قصے، اوامر ونواہی ، وعدو وعید جمع کیے گئے ، قرء کا اصل معنی جمع کرنا ہے اور کبھی ہمزہ حذف کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے قریت فی الحوض جب تو اس (حوض) میں پانی جمع کرے ، ابن کثیر نے قران راء کی زبر کے ساتھ اور ہمزہ کے بغیر پڑھا ہے اور شافعی بھی ایسے ہی پڑھتے تھے اور کہتے تھے کہ لفظ قرآن قراء ۃ سے نہیں بلکہ قرآن اس کتاب مقدس کا نام ہے جس طرح کہ تورات اور انجیل کتابوں کے نام ہیں ، مقسم نے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد (آیت)” شھر رمضان الذی انزل فیہ القرآن “ کے بارے میں پوچھا گیا اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں پوچھا گیا (آیت)” انا انزلناہ فی لیلۃ القدر “ اور اللہ تعالیٰ کے فرمان (آیت)” انا انزلناہ فی لیلۃ مبارکۃ “ کے بارے میں پوچھا گیا (کہ ان فرامین الہی اور نزول واقعی میں کیا مطابقت ہے) حالانکہ قرآن کریم تمام مہینوں میں نازل کیا گیا اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” وقرانا فرقناہ “ جواب میں حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ قرآن کریم لیلۃ القدر ماہ رمضان المبارک میں لوح محفوظ سے آسمان دنیا میں واقع بیت العزت کی طرف ایک ہی دفعہ نازل کیا گیا پھر اس مقام سے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) تئیس (23) سال کی (طویل مدت میں) حضور ﷺ کے قلب اطہر پر تھوڑا تھوڑا لے کر نازل ہوتے رہے پس یہ ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی (آیت)” فلا اقسم بمواقع النجوم “۔ داؤد بن ابی ہند فرماتے ہیں میں نے علامہ شعبی (رح) کو کہا کہ (اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں) (آیت)” شھر رمضان الذین انزل فیہ القرآن “ تو کیا قرآن کریم بقیہ تمام مہینوں میں نازل نہیں ہوتا رہا ؟ (پھر رمضان المبارک کی تخصیص کا کیا معنی) جواب میں علامہ شعبی (رح) نے فرمایا بالکل ایسے ہی ہے لیکن بات یہ ہے کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے ساتھ نازل شدہ ۔ قرآن کریم کا دور فرمایا کرتے تھے پس اللہ تعالیٰ جس حصہ قرآن کے بارے میں چاہتے ، اسے ثابت رکھتے اور محکم رکھتے اور جو حصہ چاہتے بھلوا دیتے ، حضرت ابوذر ؓ سے روایت کی گئی ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر صحیفوں کا نزول تین (3) رمضان المبارک کو ہوا اور یہ بھی روایت کی گئی ہے کہ یکم رمضان المبارک کو ہوا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات کا نزول چھ (6) رمضان المبارک کو ہوا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر انجیل کا نزول تیرہ (13) رمضان المبارک کو ہوا اور حضرت داؤد (علیہ السلام) پر زبور (18) اٹھارہ رمضان المبارک کو نازل ہوئی اور قرآن مجید وفرقان حمید حضور اقدس ﷺ پر چوبیس (24) رمضان المبارک کو نازل ہوا اللہ تعالیٰ (آیت)” ھدی للناس “ گمراہی سے (ہدایت ہے لوگوں کے لیے) لفظ ” ھدی “ محل نصب میں ہے قطعی طور پر کیونکہ قرآن معرفہ ہے اور ” ھدی “ نکرہ ہے لہذا ” ھدی “ (ہونے کی وجہ سے حال واقع ہوگا) (آیت)” وبینات من الھدی “ حلال و حرام اور حدودو احکام سے متعلق واضح ہدایات ودلالات ہیں (رہنمائی ہے) ” والفرقان “ حق و باطل میں فرق کرنے والا ، اللہ تعالیٰ کا ارشاد (آیت)” فمن شھد منکم الشھر فلیصمہ “ جو شخص گھر میں مقیم ہو اور رمضان المبارک کا مہینہ آجائے ، اہل علم نے اس شخص کے بارے میں اختلاف کیا ہے میں جو گھر میں مقیم تھا اور رمضان المبارک آگیا ، اس کے بعد اس نے سفر کیا ، چناچہ حضرت علی ؓ فرماتے ہیں اس کے لیے افطار جائز ہے ، عبیدہ سلمانی ؓ بھی یہی فرماتے ہیں ان حضرات کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے (آیت)” فمن شھد منکم الشھر فلیصمہ “ (گویا روزہ بصورۃ ادا رکھنا اس پر فرض ہے جو پورا رمضان المبارک گھر میں موجود رہے) ” الشھر کلہ شھود “ شہر کا معنی سارا رمضان المبارک ہے اور اکثر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین اور فقہاء اس طرف گئے ہیں کہ جب ماہ رمضان میں سفر شروع کیا تو اب اس کے لیے افطار جائز ہے اور آیت کا معنی ہے جو تم میں سارا مہینہ گھر میں مقیم رہے۔ وہ اس ماہ کے روزے رکھے یعنی سارے مہینہ کے روزے رکھے اور جو تم میں سارا مہینہ مقیم نہ رہے ، پس رمضان کا جو حصہ گھر میں مقیم ہوا ان دنوں کے روزے رکھے (شھود رمضان کے معنی بحالت اقامت رمضان المبارک کو پانا ہے) اس پر دلیل وہ روایت ہے جو عبداللہ بن عتبہ بن مسعود عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ بیشک رسول اللہ ﷺ فتح مکہ والے سال مکہ شریف کی طرف رمضان المبارک میں نکلے پس آپ نے روزہ رکھا یہاں تک کہ مقام کدید تک پہنچے پھر آپ نے افطار فرمایا اور آپ کے ساتھ لوگوں نے بھی افطار کیا پس (حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین) حضور ﷺ کی نئی بات کا اتباع فرماتے تھے ۔ (آیت)” ومن کان مریضا او علی سفر فعدۃ من ایام اخر “ مرض اور سفر کے عذر کے باعث افطار (یعنی روزہ نہ رکھنا) جائز اقرار دیا ، اس کلام کا اعادہ فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ حالت سفر ومرض میں روزہ نہ رکھنے کی حکم کی سہولت ناسخ میں بھی ایسے ہی ثابت اور قائم ہے جس طرح کہ منسوخ میں قائم وثابت تھی ، اس مرض میں فقہاء و مفسرین نے اختلاف کیا جو مرض کہ روزہ نہ رکھنے کو جائز کردیتی ہے اہل ظواہر اس طرف گئے ہیں کہ ہر وہ مرض جسے عرف عام میں مرض کہا جائے افطار یعنی روزہ رکھنے کو جائز کردیتی ہے یہ ابن سیرین کا قول ہے طریق بن تمام عطاردی فرماتے ہیں کہ میں محمد بن سیرین کے پاس رمضان المبارک میں گیا تو وہ کھا رہے تھے پس فرمایا میری اس انگلی کو تکلیف ہے (اس لیے میں نے روزہ نہیں رکھا) حضرت حسن (رح) ، ابراہیم نخعی (رح) فرماتے ہیں ہیں (جو مرض روزہ کا افطار جائز کرتی ہے) وہ مرض ہے جس کے ہوتے ہوئے نماز بیٹھ کر پڑھنا جائز ہوجائے اور اکثر حضرات اس طرف گئے ہیں کہ اس مرض سے مراد وہ مرض ہے جس کے ہوتے ہوئے روزہ رکھنے سے اس کے ناقابل برداشت حد تک بڑھ جانے کا خوف ہو ، خلاصہ یہ کہ جب مرض کے ہوتے ہوئے روزہ رکھنا روز دار کو مشقت میں ڈالے تو افطار جائز ہے اور اگر مرض کی حالت میں روزہ رکھنا اور نہ رکھنا دونوں جائز ہیں ، مگر وہ جو روایت کیا گیا ہے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ حضرت ابوہریرہ ؓ عروۃ بن الزبیر (رح) اور علی بن حسین ؓ سے کہ یہ حضرات فرماتے ہیں کہ سفر میں روزہ جائز نہیں ہے پس جو شخص سفر میں روزہ رکھے اس پر قضاء ہے ، ان حضرات نے حضور ﷺ کے اس فرمان ” لیس من البر الصیام فی السفر “ کہ سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں مگر یہ حکم بعد والوں کے نزدیک اس شخص کے بارے میں ہے جس کو روزہ مشقت اور تکلیف میں ڈالے ۔ پس اس کے لیے بہتر ہے کہ روزہ نہ رکھے اور اس پر دلیل وہ روایت ہے جو کہ حضرت جابر بن عبداللہ ؓ روایت کرتے ہیں ، وہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ سفر میں تھے کہ آپ نے لوگوں کی بھیڑ دیکھی اور ایک آدمی کو دیکھا جس پر سایہ کیا گیا تھا ، حضور ﷺ نے پوچھا یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا یہ شخص روزہ دار ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے اور بحالت سفر روزہ رکھنا جائز ہونے کی دلیل وہ ہے جو ابو سعید ؓ بیان فرماتے ہیں کہ ہم حضور اقدس ﷺ کے ہمراہ رمضان المبارک میں سفر کر رہے تھے ہم میں سے بعض حضرات روزہ دار تھے اور بعض حضرت بغیر روزہ کے تھے یعنی افطار کیے ہوئے تھے ۔ پس نہ تو روزہ دار افطار کرنے والوں پر عیب لگا رہا تھا اور نہ افطار کرنے والا روزہ داروں پر اعتراض کر رہا تھا اب دونوں (1۔ روزہ رکھنا 2۔ روزہ نہ رکھنا) میں سے افضل کیا ہے ؟ اس میں انہوں نے اختلاف کیا ، پس ایک گروہ کہتا ہے کہ سفر میں روزہ رکھنے سے افطار کرنا افضل ہے ۔ یہ ابن عمر ؓ سے مروی ہے اور اسی طرح سعید بن مسیب ؓ اور علامہ شعبی (رح) گئے ہیں اور ایک اس طرف گئی ہے کہ روزہ رکھنا افطار یعنی روزہ نہ رکھنے سے افضل ہے ، یہ بات معاذ بن جبل ؓ اور حضرت انس ؓ سے روایت کی گئی ہے ، ابراہیم نخعی (رح) اور سعید بن جبیر (رح) نے بھی یہی کہا ہے۔ ایک گروہ کہتا ہے کہ ہر دو (2) میں سے (روزہ رکھنا یا نہ رکھنا) جو صورت حال آسان ہو وہی افضل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” یرید اللہ بکم الیسر ولا یرید بکم العسر “ اور یہ قول مجاہد (رح) قتادہ (رح) اور عمر بن عبدالعزیز (رح) کا ہے ، (سفر میں اگر مشقت نہ ہو روزہ رکھنا آسان ہے کہ ایک معمول کے مطابق عام لوگوں کی ہمراہی میں روزہ رکھا جائے گا اگرچہ اس کی رخصت ہے بعد میں قضا کرنا مشکل ہوگی سب کھا پی رہے ہوں گے ، ایسی صورت میں روزہ رکھنا افضل ہے اور اگر روزہ رکھنا تکلیف ومشقت میں ڈالے تو نہ رکھنا افضل ہے کہ آسانی اسی میں ہے) جو شخص صبح کو مقیم ہو گھر میں اور روزہ دار ہو دن کے درمیان مسافر ہوجائے ، اکثر اہل علم فرماتے ہیں کہ اس کے لیے اس دن میں افطار کرنا یعنی روزہ توڑ دینا جائز نہیں اور ایک گروہ کہتا ہے کہ اس کے لیے افطار کرنا یعنی روزہ توڑ دینا جائز ہے ، اور یہ قول علامہ شعبی (رح) کا ہے اور یہی امام احمد (رح) فرماتے ہیں اور جو شخص مسافر ہو اور روزہ رکھ لے اس کے لیے بالاتفاق یہ جائز ہے کہ روزہ توڑ دے اور اس پر دلیل وہ روایت ہے جو ۔ حضرت جابر ؓ بیان فرماتے ہیں کہ بیشک رسول اللہ ﷺ فتح مکہ والے سال مکہ مکرمہ کی طرف ماہ رمضان میں نکلے ، یہاں تک کہ آپ کراع غمیم تک پہنچے لوگوں نے بھی آپ کے ہمراہ روزہ رکھا ہوا تھا ، آپ کی خدمت میں عرض کیا گیا ، یا رسول اللہ ﷺ بیشک لوگوں پر روزہ گراں گزر رہا ہے ، آپ نے عصر کے بعد پانی کا پیالہ منگوایا ، پس آپ نے پیا اس حال میں کہ لوگ دیکھ رہے تھے (آپ کے پینے کے بعد) بعض لوگوں نے افطار کیا اور بعض حضرات روزے سے رہے ۔ چنانچہ آپ ﷺ کو یہ خبر پہنچی کہ بےکچھ لوگ اب بھی روزہ سے ہیں تو حضور ﷺ نے فرمایا ” اولئک العصاۃ “ یہ لوگ نافرمان ہیں (یعنی اپنے نبی کے علم کے خلاف کرنے والے) انہوں نے اس سفر میں اختلاف کیا (یعنی سفر کی مقدار میں) کچھ حضرات نے کہا ایک دن کا سفر (یعنی مقدار کا سفر) جسے ایک دن میں طے کیا جاسکے اور ایک جماعت اس طرح گئی ہے کہ (وہ سفر جو افطار کو جائز کرتا ہے) دو (2) دن تک کا سفر ہے اور یہ امام شافعی (رح) کا قول ہے اور ایک جماعت تین (3) دن کے سفر کی طرف گئی ہے اور یہ قول سفیان ثوری (رح) اور اصحاب الرای رحمہم اللہ کا ہے ۔ (آیت)” یرید اللہ بکم الیسر “ مرض اور سفر میں روزہ کا نہ رکھنا جائز کرکے (آسانی فرمائی) (آیت)” ولا یرید بکم العسر “ ابو جعفر نے ” العسر والیسر “ پڑھا یعنی سین کی پیش کے ساتھ اور ان دو (2) لفظوں کے مثل کوئی اور لفظ ہو تو اس میں بھی ان کی قراۃ ایسی ہی ہے ، علامہ شعبی (رح) فرماتے ہیں جب کسی شخص کو شرعی اعتبار (یعنی جواز کے لحاظ) سے دو کاموں میں اختیار دیا جائے قراۃ ایسی ہی ہے ، علامہ شعبی (رح) فرماتے ہیں جب کسی شخص کو شرعی اعتبار (یعنی جواز کے لحاظ) سے دو کاموں میں اختیار دیا جائے اور وہ شخص ان دو (2) کاموں میں آسان کام کو اختیار کرے توا س آسان کام پر عمل کرنا اللہ تعالیٰ کو محبوب ہے ۔ (آیت)” ولتکملوا العدۃ “ ابوبکر (رح) نے ” ولتکملوا “ کی میم کو شد کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی حضرات نے تخفیف کے ساتھ اور یہ قراۃ پسندیدہ و بہتر ہے (اس کی تائید) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت)” الیوم اکملت لکم دینکم “ تو ” اکملت “ بھی میم کی تخفیف کے ساتھ ہے نہ کہ شد کے ساتھ اور حرف واو جو ” ولتکملوا “ کے اندر ہے ، یہ واؤ ترتیب (عطف) کے لیے ہے اور لام ، لام ” کی “ ہے ۔ عربی میں ” کی “ تاکہ کے معنی میں آتی ہے تقریر عبارۃ ہوگی ۔ (آیت)” ویرید لکی تکملوا العدۃ “ یعنی تاکہ تم رمضان کے مہینہ کے دنوں کی گنتی (تعداد) مکمل کرو کہ جو روزے تم نے بوجہ سفر یا مرض کے رمضان المبارک میں افطار کیے ہیں ان کو بعد رمضان قضاء (ادا) کرکے رمضان کے روزوں کی تعداد پوری کرلو، اور فرمایا (آیت)” ولتکملوا العدۃ “ یعنی مہینہ کے دونوں کی تعداد ۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ بیشک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مہینہ انتیس (29) کا ہوتا ہے تو روزہ نہ رکھو حتی کہ چاند دیکھو اور افطار (یعنی عید) نہ کرو یہاں تک کہ چاند دیکھو اور (چاند کا معاملہ) مخفی رہے تو تیس دن کی گنتی پوری کرلو ، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ ماہ (رمضان) سے پہلے ایک یا دو دن روزہ نہ رکھو (یعنی رمضان شریف کے بالکل متصل) مگر یہ کہ کسی شخص کی عادت روزہ کے موافق وہ دن آجائے (جو ماہ رمضان کے متصل ہو) کہ وہ پہلے اس دن کا روزہ رکھا کرتا تھا ، چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطار کرو (عید کرو) اور (اگر چاند کا معاملہ) مخفی ہوجائے (کہ چاند نظر نہ آئے تو پھر تیس چاند کی گنو پھر افطار کرو (عید کرو) ” ولتکبروا اللہ “ اور تاکہ تم اللہ تعالیٰ کی عظمت بیان کرو “ علی ما ھداکم “ کہ اس نے تمہاری ماہ رمضان کے روزہ جیسے پسندیدہ عمل کی طرف رہنمائی فرمائی ۔ اور تمام مذہب والوں میں سے تم کو (اے مسلمانو ! ) اس (ماہ رمضان) کے ساتھ خاص کیا ۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں ” ولتکبروا اللہ “ سے مراد لیلۃ الفطر کی تکبیرات ہیں، امام شافعی (رح) ابن مسیب اور حضرت عروہ (رح) اور ابو سلمہ (رح) سے روایت کرتے ہیں کہ وہ عید الفطر کی رات کی جہرا (بلند آواز سے) تکبیرات پڑھتے تھے ، عید الاضحی کی رات بھی عید الفطر کی رات کے مشابہ ہے (کہ اس رات کو بھی جہرا تکبیرات کہی جائیں) مگر جو کہ حاجی ہو کیونکہ اس کا ذکر تلبیہ یعنی ” لبیک اللھم لبیک “ کہنا ہے (آیت)” ولعلکم تشکرون “ اللہ تعالیٰ کا اس کی نعمتوں پر (شکرادا کرو) ماہ رمضان کی فضیلت اور روزہ داروں کی فضیلت کے بارے میں روایات وارد ہیں ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ حضور ﷺ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا (جب رمضان داخل ہوتا ہے تو شیاطین جکڑ دیئے جاتے ہیں اور جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں) ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا جب ۔ رمضان المبارک کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیاطین اور سرکش جن جکڑے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں ، چناچہ دوزخ کا ایک دروازہ بھی نہیں کھولا جاتا اور جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں ، چناچہ جنت کا ایک دروازہ بھی بند نہیں کیا جاتا ، آواز دینے والا آواز دیتا ہے اے خیر کے چاہنے والے آگے بڑھ اور اے شر کے طلبگار بس کر اور اس کے لیے دوزخ سے آزاد ہونے والے ہوتے ہیں اور یہ معاملہ ہر رات ہوتا ہے ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص رمضان شریف کے روزے از روئے ایمان ، حکم الہی کی فرمانبرداری کی بنیاد پر (بنیت ثواب) رکھتا ہے اس کے سابقہ گناہ بخشے جاتے ہیں اور رمضان المبارک میں ایمان اور (حسن نیت) فرمانبرداری کے اعتبار سے قیام (نماز میں) کرتا ہے اس کے بھی سابقہ بخشے جاتے ہیں اور لیلۃ القدر میں ایمان اور حکم الہی کے مطابق بطور امتثال امر کے قیام (نماز میں) کرتا ہے اس کے بھی سابقہ گناہ بخشے جاتے ہیں ۔ حضرت سلمان ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے شعبان کے آخری دن ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا اور فرمایا اے لوگو ! تم پر ایک عظمت والا مہینہ سایہ فگن ہوچکا ہے اور ایک روایت میں ” اظلکم “ کی بجائے لفظ ” اطلکم ہے (یعنی ظاء کی بجائے طاء کا حرف ہے) جو بمعنی اشرف تم پر نمودار ہوچکا ہے ۔ ’ شھر عظیم “ عظمت والا مہینہ شھر مبارک بابرکت مہینہ اس میں ایک ذی قدر رات ہے جو ہزار مہینے سے بہتر ہے ، یہ وہ ماہ مبارک ہے جس کے روزوں کو اللہ تعالیٰ نے فرض قرار دیا اور اس کی راتوں کے قیام کو عمل قرار دیا ، جو شخص اس ماہ مبارک میں کسی بھی نفلی نیکی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرے وہ ایسا کہ اس شخص نے رمضان المبارک کے علاوہ کسی فرض کو ادا کیا ہو اور جس شخص نے اس ماہ مبارک میں فرض ادا کیا وہ ایسا ہے کہ اس نے غیر رمضان میں ستر فرض ادا کیے ہوں اور یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا ثواب (ڈائریکٹ) جنت ہے اور یہ باہمی غمخواری اور دکھ بانٹنے کا مہینہ ہے اور یہ وہ مہینہ ہے جس میں رزق بڑھا دیا جاتا ہے ، (روایت میں ہے مؤمن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے) جو شخص اس ماہ مبارک میں کسی روزہ دار کو روزہ افطار کراتا ہے یہ روزہ افطار کرانا اس کی مغفرت کا اور دوزخ کی آگ سے آزادی کا سبب بن جاتا ہے اور روزہ دار کے اجر وثواب میں کمی کیے بغیر روزہ افطار کرانے والے کو بھی روزہ دار جتنا ثواب ملتا ہے ۔ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ ہم میں سے ہر ایک شخص کو یہ وسعت حاصل نہیں کہ وہ روزہ دار کا روزہ افطار کرا سکے (یعنی پیٹ بھر کھلا سکے) حضور ﷺ نے فرمایا یہ ثواب اس شخص کے لیے بھی ہے جو روزہ دار کو دودھ کا گھونٹ پلائے ، کھجور کا دانہ کھلائے یا پانی کا گھونٹ پلائے اور جس شخص نے روزہ دار کو پیٹ بھر کر کھانا کھلایا اس شخص کو اللہ تعالیٰ میرے حوض سے اس طرح پلائیں گے کہ اس کے بعد جنت میں داخل ہونے تک پیاسا نہ ہوگا اور جو شخص اس ماہ مبارک میں اپنے غلام سے کام کی تخفیف کر دے ، اللہ تعالیٰ اس کو بخش دیں گے اور اس کو آگ سے آزادی بخشیں گے ، یہاں تک کہ وہ جنت میں داخل ہوجائے گا اور (یہ رمضان المبارک وہ) مہینہ ہے جس کا پہلا حصہ رحمت ہے دوسرا حصہ مغفرت اور اس کا آخر آگ سے آزادی ہے ، پس اس ماہ مبارک میں چار چیزوں کی کثرت اختیار کرو ، دو چیزیں ایسی ہیں جن سے تم اپنے رب کو راضی کرو گے اور دو ایسی ہیں جن سے تم مستغنی نہیں رہ سکتے ، بہرحال وہ دو چیزیں جن سے تم اپنے رب کو راضی کرو گے ، وہ ہے اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں (یعنی کلمہ شہادت کی کثرت) اور (دوسری) یہ کہ تم اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرو اور وہ دو چیزیں جن کے سوا تمہیں کوئی چارہ کار نہیں وہ یہ کہ تم جنت کا سوال کرو یعنی اللہ تعالیٰ سے جنت مانگو اور (دوسری) یہ کہ اللہ تعالیٰ کی ذات عالی کی دوزخ سے پناہ حاصل کرو۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ ابن آدم کا ہر عمل دس گنا تک بڑھایا جاتا ہے حتی کہ سات سو گنا تک بھی بڑھا دیا جاتا ہے ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں مگر روزہ پس تحقیق وہ (روزہ) میرے لیے ہے اور اس کی جزا بھی میں ہی دوں گا ، روزہ دار میری (رضا کی) خاطر اپنا کھانا پینا اور خواہش کو چھوڑتا ہے ، روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں ایک خوشی اس کو بوقت افطار حاصل ہوتی ہے اور ایک خوشی اس کو (روز قیامت) اپنے رب سے ملاقات کے وقت حاصل ہوگی اور البتہ روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پاکیزہ (محبوب) ہے روزہ ڈھال ہے (دنیامیں گناہوں سے اور آخرت میں عذاب سے) اور جس دن تم میں سے کسی کو روزہ ہو تو نہ تو فحش بیانی کرے اور نہ (اللہ کی) نافرمانی کرے ، پس اگر کوئی اس سے بدزبانی کرے یا لڑائی جھگڑا کرے پس کہہ دے میں روزہ دار آدمی ہوں ۔ حضرت سہل بن سعد ؓ حضور نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، حضور ﷺ نے فرمایا جنت میں آٹھ دروازے ہیں ان دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے جس کا نام ریان ہے اس میں روزہ داروں کے سوا اور کوئی داخل نہ ہوگا ۔ حضرت عبداللہ ؓ حضور نبی کریم ﷺ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ روزے اور قرآن پاک بندہ کی شفاعت کریں گے ، روزے کہیں گے اے رب ! میں نے اس کو کھانے پینے اور خواہشات سے دن کو روکا پس اس کے بارے میں میری شفاعت قبول فرما قرآن کریم کہے گا اے رب ! میں نے اس کو رات کے وقت سونے سے روکا پس اس کے بارے میں میری شفاعت قبول فرما پس دونوں کی شفاعت قبول کی جائے گی ۔
Ayah 2:186

وَ اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ١ؕ اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ١ۙ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَ لْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّهُمْ یَرْشُدُوْنَ Open ayah 2:186 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر ﷺ جب تم سے میرے بندے میرے بارے میں دریافت کریں تو (کہہ دو کہ) میں تو (تمہارے) پاس ہوں جب کوئی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں تو ان کو چاہئے کہ میرے حکموں کو مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ نیک راستہ پائیں

(تفسیر) 186۔ : (آیت)” واذا سالک عبادی عنی فانی قریب “ کلبی نے ابو صالح سے روایت کی ، انہوں نے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کی حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہود مدینہ نے کہا یا محمد ! ﷺ ہمارا رب ہماری دعا کیسے سنتا ہے ؟ حالانکہ آپ کا دعوی ہے کہ ہمارے اور آسمان کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے پھر ہر آسمان کی موٹائی بھی اسی قدر ہے ۔ یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور ضحاک (رح) کہتے ہیں بعض صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے حضور کریم ﷺ سے پوچھا کیا ہمارا رب قریب ہے ؟ ہم اس کو سرگوشی کے انداز میں پکاریں یا دور ہے کہ باآواز بلند ندا دیں ؟ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت)” واذا سالک عبادی عنی فانی قریب “ اور اس میں عبارت پوشیدہ ہے ، گویا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا پس ان کو فرما دیجئے بیشک میں علم کے ساتھ ان کے قریب ہوں مجھ پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت)” ونحن اقرب الیہ من حبل الورید “۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ فرماتے ہیں کہ جب حضور اقدس ﷺ خیبر کی طرف متوجہ ہوئے تو لوگ ایک وادی پر چڑھے تو انہوں نے اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ کے ساتھ آوازیں بلند کیں ، پس حضور اقدس ﷺ نے فرمایا ٹھہرو (اپنے آپ پر رحم کرو) تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے تم اس ذات پاک کو پکار رہے ہو جو ذات کریم سننے والی بھی ہے اور قریب بھی اور وہ تمہارے ساتھ ہے ۔ ” اجیب دعوۃ الداع اذا دعان “ اہل مدینہ نے سوائے قالون اور ابو عمرو کے دونوں جگہ وصل کی صورت میں یاء کو ثابت رکھ کر پڑھا ہے ۔ یعنی ” الداع “ کو ” الداعی “ اور دعان کو دعانی پڑھا ہے اور باقی قراء وصل اور وقف دونوں حالتوں میں یاء کو حذف کرکے پڑھا ہے اور اسی طرح قراء نے ان تمام یاء ات میں جو خط میں محذوف ہیں (یعنی تحریر میں نہیں آئیں) ان کو تلاوت حذف کرنے یا ثابت رکھنے میں اختلاف کیا ہے اور یعقوب نے تمام یاء ات کو وصل اور وقف کی دونوں حالتوں میں ثابت رکھا ہے اور باقی قراء نے ان یاء ات کو ثابت رکھنے میں اتفاق کیا ہے حالت وصل میں بھی اور حالت وقف میں بھی جو تحریرا ثابت و موجود ہیں ۔ ” فلیستجیبوالی “ کہا گیا ہے ، استجابت بمعنی اجابت ہے یعنی اطاعت کے ساتھ میری اجابت کریں یعنی لبیک کہیں ۔ اور اجابت کا معنی لغت میں اطاعت ہے اور جو چیز مانگی جائے اور دے دینا ، لہذا لفظ اجابت کی نسبت جب اللہ تعالیٰ کی طرف ہوگی تو معنی ہوگا عطا کرنا اور جب بندہ کی طرف ہوگی تو معنی ہوگا اطاعت کرنا اور کہا گیا ہے ” فلیستجیبوالی “ کا معنی ہے یعنی مجھ سے اجابت کی درخواست کریں اور استجابت کی حقیقت یہ ہے کہ میری اطاعت کریں ، (آیت)” ولیومنوا بی لعلھم یرشدون “ تاکہ راہ پائیں اور اگر کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان (آیت)” اجیب دعوۃ الداع “ کا اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد گرامی (آیت)” ادعونی استجب لکم “ کا کیا معنی ہوگا حالانکہ ہم کبھی بہت زیادہ پکارتے ہیں۔ پس وہ قبول نہیں فرماتا ؟ ہم جواب میں کہتے ہیں ان دو آیات کے معنی ہیں انہوں نے اختلاف کیا ہے کہا گیا ہے یہاں لفظ ” ادعونی “ اور دعوۃ الداع سے مراد اطاعت ہے اور اجابت کا معنی ثواب دینا ہے اور کہا گیا ہے ان دونوں آیات کا معنی خاص ہے ، اگرچہ دونوں کے لفظ عام ہیں ، لہذا ان دونوں آیات کی تقدیر عبارت ہوگی ” اجیب دعوۃ الداع ان شئت “ کہ میں دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں اگر میں چاہوں تو جیسا کہ اللہ تعالیٰ دوسری جگہ فرماتے ہیں، فیکشف ما تدعون الیہ ان شائ “ (تو اس آیت میں بھی مصیبت اور تکلیف کو دور کرنے کو مشیت کے ساتھ مقید کردیا ، اسی طرح یہاں بھی قبولیت دعا مشیت کے ساتھ مقید ہوگی) یا معنی یہ ہوگا کہ میں دعا قبول کرتا ہوں اگر دعا کرنے والے کی دعا میرے تقدیری فیصلہ کے مطابق ہو یا پھر معنی ہوگا کہ میں دعا قبول کرتا ہوں ، اگر دعا کا قبول کرنا دعا مانگنے والے کے حق میں بہتر ہو یا معنی ہوگا کہ میں دعا قبول کرتا ہوں اگر دعا کرنے والا کسی امر محال کی دعا نہ کرے ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ حضور نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے کسی ایک کی دعا کو اللہ تعالیٰ قبول فرماتے جب تک کہ گناہ سے متعلق دعا نہ کرے یا اس کی دعا کا تعلق قطع رحمی سے نہ ہو اور دعا کے معاملہ میں جلد بازی نہ کرے ، حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ دعا سے متعلق جلد بازی کے کیا معنی ہیں ؟ حضور ﷺ نے فرمایا کہ دعا مانگنے والا کہے اے میرے رب ! بیشک میں نے تجھ سے مانگا اے میرے رب بیشک میں نے تجھ سے دعا کی پس میں نہیں دیکھتا کہ تو میری دعا قبول کرے ، پس اس وقت وہ دعا مانگنے سے تھک جاتا ہے اور دعا مانگنا چھوڑ دیتا ہے اور کہا گیا ہے کہ اجابت دعا کا مفہوم عام ہے (یعنی کسی شرط کے ساتھ مشروط نہیں ہے) اور اجیب کا معنی ہوگا کہ میں سنتا ہوں اور کہا جاتا ہے کہ آیت کریمہ میں اس سے زیادہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ استجابت دعا فرماتا ہے باقی رہا مدعا اور آرزو عطا فرمانا یہ اس میں مذکور نہیں ہے۔ اور ایسا ہوتا ہے کہ کبھی سردار اپنے غلام کو جواب دیتا ہے اور والد اپنے بیٹے کو جواب دیتا ہے پھر اس کا سوال پورا نہیں کرتا اور اجابت یعنی جواب ہر حال میں دعا کے وقت ثابت ہونے والی چیز مقدر میں ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے عطا کرتا ہے وگرنہ اسے نہیں دیتا اور اس دعا کا اجر وثواب اس شخص کے لیے ذخیرہ آخرت کردیا جاتا ہے یا پھر اس دعا کی برکت سے اس بندہ سے کسی مصیبت کو روک دیا جاتا ہے اور اجابت دعا کے اس مفہوم پر دلیل وہ روایت ہے ، حضرت عبادہ بن الصامت ؓ سے روایت ہے کہ بیشک حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ روئے زمین پر جو بھی مسلمان اللہ تعالیٰ سے جو بھی دعا کرتا ہے مگر یہ کہ و تو اللہ تعالیٰ اس کو وہی چیز عطا فرماتے ہیں جو وہ مانگتا ہے یا پھر مانگی ہوئی چیز کے مثل اس سے کسی برائی (تکلیف) کو ٹال دیتے ہیں جب تک کہ بندہ گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے اور بعض نے کہا کہ بیشک اللہ تعالیٰ بندہ مومن کی دعا کا جواب دینا ہو تو فورا فرماتے ہیں مگر جس شخص کی مراد کو پورا فرمانا چاہتے ہیں اس کی مقصد براری کو مؤخر فرما دیتے ہیں تاکہ وہ بندہ دعا مانگتا رہے اور اللہ تعالیٰ اس کی (پرسوز) آواز کو سنتا رہے اور جس شخص کی آواز کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتے ہیں اس کی مانگی ہوئی چیز اسے فورا دے دیتے ہیں بعض نے کہا کہ دعا کے کچھ آداب اور شرطیں ہیں جو کہ قبولیت دعا کے اسباب ہیں جو شخص ان آداب و شرائط کو پورا کرتا ہے وہ اس لائق ہوجاتا ہے کہ اس کی مراد پوری کی جائے اور جو ان آداب کو پورا نہیں کرتا تو وہ شخص ان لوگوں میں سے ہوجاتا ہے جو کہ دعا کرنے میں حد سے بڑھنے والے ہوتے ہیں ، چناچہ وہ شخص قبولیت دعا کا مستحق نہیں رہتا۔ خاصیت آیت 186۔ (آیت)” وَإِذَا سَأَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَإِنِّیْ قَرِیْبٌ أُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْیَسْتَجِیْبُواْ لِیْ وَلْیُؤْمِنُواْ بِیْ لَعَلَّہُمْ یَرْشُدُونَ (186) ایک عارف فرماتے ہیں اس آیت سے کئی باتیں مراد ہوسکتی ہیں ۔ (1) سوال (2) قرب (3) قبولیت (4) طلب قبولیت ۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کا ارشاد ہے کہ یہ آیت حضرت عمر فاروق اور دوسرے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے بارے میں نازل ہوئی کہ انہوں نے رمضان المبارک کی رات میں اپنے بیویوں سے قربت کرلی اور بعد میں بہت ندامت ہوئی اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ اب ہم کس طرح توبہ کریں ۔ ایک روایت میں ہے کہ یہودیوں نے حضور اقدس ﷺ سے سوال کیا کہ آسمان ہم سے پانچ سو سال کی مسافت پر ہے پھر آسمان کا حجم بھی ہے تو اتنے فاصلہ سے اللہ تعالیٰ ہماری پکار کو کس طرح سن لیتا ہے ؟ اس کے جواب میں آیت نازل ہوئی ۔ ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ بعض صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے حضور اکرم ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا ہمارا رب ہمارے قریب ہے کہ ہم اس سے آہستگی سے مانگیں یا دور ہے کہ ہم اسے اونچی آواز سے پکاریں تو اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی ۔ بعض حضرات کا کہنا ہے کہ یہاں عبادی سے مراد اللہ تعالیٰ کے خاص الخاص بندے ہیں جو اللہ تعالیٰ سے اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کسی چیز کا سوال ہی نہیں کرتے نہ وہ کسی امر کی حکمت کا سوال کرتے ہیں اور نہ کسی مخلوق کا اور نہ دنیا کی کسی اور چیز کا سوال کرتے ہیں ، کیونکہ ان کا مقصود و مطلوب تو فقط اللہ تعالیٰ ہی ہے یہ ان لوگوں میں سے نہیں جو کہ پہاڑوں ‘ یتیموں ، محترم مہینوں یا حیض وغیرہ کے بارے میں سوال کرتے ہیں اسی لیے یہاں ان کے جواب میں فرمایا (آیت)” فانی قریب “۔ اور جن لوگوں نے پہاڑوں ، یتیموں اور حرام مہینوں وغیرہ کے بارے میں سوال کیا ان کا جواب قل سے دیا کہ اے پیغمبر ﷺ آپ انہیں بتادیں ، پہلے لوگوں کو بلاواسطہ جواب ملا اور دوسروں کو بالواسطہ کیونکہ ہر ایک سوال اس کی اپنی اندرونی کیفیت وحالت پر دلالت کرتا ہے ، اب یہ مخصوص بندوں کا جو سوال ہے اس قسم کا سوال جہت مسافت کے قریب پر دلالت کرتا ہے اس لیے اس کے جواب میں انی قریب کے بعد ” اجیب دعوۃ الداع “ فرمایا تاکہ یہاں پر قرب سے جہات ومسافات کا قرب نہ سمجھ بیٹھے ، اللہ تعالیٰ کا ذات جہات ومکانات میں آنے سے پاک اور وداء ہے ۔ لہذا اس قرب سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس داعی کی دعا فورا قبول فرما لیتا ہے معلوم یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا بندہ کے قریب ہونا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پہلے اپنے بندہ کو دعا کی توفیق عطا فرماتا ہے پھر اس کی دعا قبول فرماتا ہے ۔ اور یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کے قریب ہے اور بندہ اپنے رب کے قریب ہے مگر اللہ تعالیٰ کا قریب جہات ومسافات کا قرب نہیں ہوتا ، کیونکہ اللہ تعالیٰ مقدار ومسافت وغیرہ کے معاملات سے پاک ہے اس لحاظ سے کوئی مخلوق اس کے ساتھ ملی ہوئی نہیں اور نہ کوئی دور ہے ۔ بلکہ اللہ کا قرب یہ ہے کہ وہ اپنے دوستوں کو عزت دیتا ہے اور بعد یہ ہے کہ وہ اپنے دشمنوں کو اپنی بارگاہ سے دھتکار دیتا ہے اس دنیا میں بندہ کے لیے اللہ تعالیٰ کا قرب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنی معرفت عطا فرماتا ہے اور اسے اپنی فرمانبرداری کی توفیق عطا فرماتا ہے اور آخرت میں قرب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کی لغزشوں کی معاف فرما کر اسے عزت بخشے گا ۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کے قریب ہونا علم ، قدرت اور معاملہ سے ہوتا ہے چناچہ قرآن کریم میں ہے ۔ (آیت)” ونحن اقرب الیہ من حبل الورید ونحن اقرب الیہ منکم ولکن لا تبصرون : وھو معکم این ما کنتم اور ما یکون من نجوی ثلثۃ الا ھو رابعھم : معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ قریب تو ہے مگر اس کا قرب بےکیف ہے اور ذات کا قرب نہیں ہے کیونکہ اس کے حق میں ذاتی قرب محال ہے اور بندہ کا اللہ تعالیٰ کے قریب ہونا تین طرح سے ہوسکتا ہے ۔ ایک اس طرح کہ بندہ اطاعت و عبادت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے قریب ہو چناچہ رسول ﷺ کا ارشاد گرامی ہے بندہ سجدہ کی حالت میں اپنے رب کے قریب ہوجاتا ہے ۔ لہذا تم میں کوئی جب سجدہ میں ہو تو دعا مانگنے میں خوب کوشش کرے اور حدیث قدسی میں ہے کہ بندہ فرائض ادا کرنے سے زیادہ کسی اور چیز سے میرا قرب حاصل نہیں کرتا اور نوافل سے مزید قرب بڑھتا رہتا ہے ۔ الخ ۔ دوسرے اس طرح سے بندہ جب بری صفات کو چھوڑ کر اچھی صفات اختیار کرتا ہے تو اسے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے بندہ جب نبوی اخلاق اپناتا ہے اور اس میں علم وبردباری ‘ عفو و درگزر ‘ پردہ پوشی اپناتا ہے اور دوست و دشمن ‘ نیک وبد سب پر برابر احسان کرتا ہے اور یہ اور یہ صفات اللہ تعالیٰ کی ہیں تو یقینا ان کے اختیار کرنے سے اسے اللہ تعالیٰ کا قرب ملتا ہے ۔ تیسرے اس طرح سے کہ بندہ جب اللہ تعالیٰ کے وجود اس کی عظمت اس کے جلال وجبروت پر یقین رکھتا ہے اور اس پر کہ اللہ تعالیٰ قاہر ہے مقہور نہیں ۔ غالب ہے مغلوب نہیں اور وہ کسی شے کے مشابہ نہیں اور نہ کوئی چیز اس کے مشابہ ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرلیتا ہے اور یہی قرب اعلی درجہ کا قرب ہے اور یہی معرفت الہیہ کا اعلی درجہ ہے جیسا کہ کسی کا شعر ہے ۔ ونلت المنی لما حللت بقربہ ولم یبق لی شی امنی بہ نفسی اور جب میں اس کے قریب اترا تو میرا مقصد حاصل ہوگیا اب میری کوئی ایسی آرزو باقی نہیں رہی جسے میں اپنے دل میں لاؤں ۔ اور جن کو معرفت الہی حاصل ہوتی ہے ۔ ان کا دل اسی قرب کے نور سے روشن ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ کا ارشاد مبارک ہے ۔ ” کہ مجھے معلوم نہیں کہ میرے ساتھ کیا ہوگا اور تمہارے ساتھ کیا ہوگا “۔ یہاں قرب کا لفظ اللہ تعالیٰ نے صرف اپنے بندوں اور ولیوں کے دلوں کی انسیت کے لئے فرمایا ورنہ قرب ذاتی جسمانی اور قرب صفاتی ہے اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے ۔ جیسا کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا ” لا تفضلونی علی یونس بن متی “۔ اس کا مطلب یہ بیان کیا گیا ہے کہ معراج کی رات میں اگرچہ میں ایسے مقام پر پہنچا جہاں جبرئیل (علیہ السلام) بھی نہ جاسکتا تھا اور حضرت یونس (علیہ السلام) کو مچھلی نگل کر نیچے سے بھی نیچے لے گئی تھی پھر بھی میرے بارے میں یہ گمان نہ کرو کہ میں یونس (علیہ السلام) کی نسبت اللہ تعالیٰ سے زیادہ قریب ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سامنے بلندی و پستی سب برابر ہیں۔ یہاں پر سوال بھی ہوتا ہے جب اس آیت میں مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی دعا قبول کرتا ہے تو پھر یہ کیوں ہوتا ہے کہ بندہ جو چیز مانگتا ہے وہ اسے نہیں ملتی ؟ اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ یہاں ساتھ مشیت الہیہ کی قید بھی ساتھ ہے کہ اللہ تعالیٰ اگر چاہے تو قبول فرماتا ہے دوسرا جواب یہ دیا گیا کہ یہاں ” اجیب اسمع “ کے معنی میں ہے کہ میں دعا مانگنے والے کی دعا کو سن لیتا ہوں اور سننے کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ اسے پورا بھی کردیا جائے تیسرا جواب یہ ہے کہ یہاں اجیب کا معنی یہ ہے جو اس حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب بندہ کہتا ہے رب تو اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لیبک عبدی (اے میرے بندے بتا) مگر یہ ضروری نہیں جواب دے کر سوال ضرور پورا کردیا جائے ۔ چوتھا جواب یہ ہے کہ یہاں دعا عبادت کے معنی میں ہے اور اجابت سے مراد ثواب ہے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے کوئی دعا مانگی ہوئی چیز اسے دیدی جاتی ہے ۔ یا اس کے عوض اس سے کوئی مصیبت ہٹا دی جاتی ہے یا اس کی اس دعا کا عوض آخرت میں ذخیرہ کردیا جاتا ہے ۔ پانچواں جواب یہ ہے کہ جب کسی کی دعا قبولیت کے وقت میں واقع ہوجائے تو وہ قبول ہوتی ہے ، چناچہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ جمعہ کا دن افضل ہے اور اس میں ایک وقت ایسا ہے کہ جس میں مومن اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگے تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور وہ عطا فرماتا ہے ، حضرت عمر فاروق ؓ سے کسی نے کہا اگر کوئی منافق جمعہ کے اس وقت میں دعا مانگے تو اس کا کیا ہوگا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ منافق کو اس وقت دعا کی توفیق ہی نہیں دیتا ۔ چھٹا جواب یہ ہے کہ جب تک بندہ اللہ کی حدود سے تجاوز نہ کرے ۔ ظلم نہ کرے نماز روزہ اور حج کو نہ چھوڑے ۔ غیبت نہ کرے اور حرام نہ کھائے تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول کرتا ہے ۔ رسول اکرم ﷺ نے حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے فرمایا تھا ۔ حلال کھایا کرو تمہاری دعا قبول ہوگی ۔ ایک روایت ہے کہ کسی نے حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے پوچھا آپ کی دعا کے قبول ہونے کی وجہ کیا ہے آپ ؓ نے فرمایا اس لیے کہ میں اس وقت لقمہ منہ میں نہیں لے جاتا جب تک یہ معلوم نہ کرلوں کہ یہ کھانا کہاں سے آیا ہے ۔ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کے غلام عبدالرحمن کہتے ہیں کہ ایک رات میں اور حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کھجوروں کے ایک باغ میں ٹھہرے ۔ ہم دونوں بھوکے تھے اور کھانے کی کوئی چیز ہمارے پاس نہ تھی اور نہ ہی باغ کا مالک ہمیں وہاں مل پایا ۔ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ نے مجھ سے فرمایا اگر تو سچا مسلمان ہے تو یہاں کی ایک کھجور بھی نہ چکھنا ۔ چناچہ ہم نے وہاں پر اپنی سواری باندھی اور ساری رات بھوکے ہی گزار دی ۔ جب صبح ہوئی تو باغ کا مالک آیا اور ہم نے اس سے کچھ کھجوریں اور گھاس قیمت دے کر خریدا اور کھجوریں خود کھائیں اور گھاس اپنی سواری کو کھلایا ۔ (سورہ بقرہ آیت 186 کی خاصیت) خواص و تنبیہ ۔ فلیستجیبوالی پر پہنچ کر دعا مانگے ان شاء اللہ مقبول ہوگی 12 اور پڑھے اللھم امرت بالدعا وتکفلت بالاجابۃ لبیک اللھم لبیک لا شریک لک لبیک ان الحمد والنعمۃ لک والملک الک لا شریک لک اشھدانک فرد احد صمد لم یلد ولم یولد ولم یکن لہ کفوا احد واشھد ان وعدک حق ولقاء ک حق والجنۃ حق والنار حق والساعۃ اتیۃ لاریب فیھا وانک تبعث من فی القبور۔