Ayah 2:168(تفسیر) 168۔:
(آیت)” یایھا الناس کلوا مما فی الارض حلالا طیبا “۔ یہ قبیلہ ثقیف وخزاعہ ، عامر بن صعصعہ اور بنی مدلج کے بارے میں نازل ہوئی جب انہوں نے اپنے آپ پر کھیتی اور بعض جانوروں کو حرام کیا (جس کھیتی کو وہ بتوں کے نام کرتے یا وہ جانور جن کو بتوں کی نیاز کرتے ان کو اپنے استعمال میں نہ لاتے تھے) جانوروں کی تفصیل نام بنام۔
(بحیرہ) : یہ وہ اونٹنی ہوتی تھی جس کا دودھ بتوں کی نیاز کردیتے تھے ، اس کا نام بحیرہ اس لیے ہے کہ وہ اس جانور کے کان کو پھاتر دیتے تھے ، بحیرہ بروزن فعیلہ بمعنی مفعولہ ہے ، بحر کے معنی شق (پھاڑنے) کے ہیں بحیرۃ یعنی ” مشقوقۃ الاذن “ جس مؤنث کا علامت کے طور پر کان پھاڑ دیا جائے وہ بحیرہ کہلاتی تھی ۔
(سائبہ) : وہ جانور جس کو وہ بتوں کے نام چھوڑ دیتے تھے اور اس سے باربرداری وغیرہ کسی قسم کا کام نہ لیتے تھے وہ بتوں کے نام وقف ہوتا تھا جہاں چاہتا چلا جاتا کسی قسم کی روک ٹوک نہ ہوتی ۔
(وصیلہ) : وہ جوان اونٹنی جو اول اول یک بعد دیگرے دو مؤنث بچے جنم دیتی ، درمیان میں مزکر نہ ہوتا ، اس کو بھی بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے تھے ۔
(حام) : وہ مذکر اونٹ جو چند بار جفتی کا عمل کرتا ، جب وہ ان کی مطلوبہ تعداد میں عمل جفتی سرانجام دیتا اس کو بھی بتوں کے نام کردیتے تھے اسے حوامی کہتے، اس پر بھی کسی قسم کی باربرداری نہ کرتے تھے ۔
تو اس مقام پر تنبیہ کردی گئی کہ حلال وہی ہے جسے شریعت نے حلال قرار ۔ ” طیبا “ کہا گیا ہے کہ طیب وہ ہے جسے مرغوب ولذیذ اور پاکیزہ سمجھا جائے ، مسلمان حلال کو پسندیدہ و پاکیزہ سمجھتا ہے اور حرام سے ڈرتا ہے (آیت)” ولا تتبعوا خطوات الشیطان “ ابو جعفررحمۃ اللہ علیہ اور ابن عامر (رح) کسائی (رح) اور حفص (رح) اور یعقوب (رح) نے طاء کی پیش کے ساتھ پڑھا ہے اور باقیوں نے طاء کی جزم کے ساتھ پڑھا ہے اور ” خطوات الشیطان “ اس (شیطان) کے آثار و نشانات اور غلط کاریاں بعض نے کہا کہ ” خطوات الشیطان “ سے مراد گناہوں والی نذریں ماننا (جو شرعا جائز نہیں) ۔ ابوعبیدہ ؓ فرماتے ہیں اس سے مراد چھوٹے گناہ ہیں ، زجاج (رح) فرماتے ہیں ” خطوات الشیطان “ سے مراد شیطان کے راستے ہیں (آیت)” انہ لکم عدو مبین “ ظاہر العداوۃ واضح دشمنی جس کا اظہار وہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو دھوکہ دے کر اور سجدہ آدم (علیہ السلام) سے انکار کرچکا ہے یہاں تک کہ آدم (علیہ السلام) کو جنت سے نکالا فعل (ابان) جس سے مبین اسم فاعل ہے کبھی لازم ہوتا ہے کبھی متعدی ، پھر اللہ تعالیٰ شیطان کی عداوت بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں
Ayah 2:169169۔ (آیت)” انما یامرکم بالسوئ “ گناہ کے ساتھ (حکم کرتا ہے) ” سوئ “ اصل میں اس کو کہتے ہیں جو کرنے والے کو بری لگے ، یہ مصدر ہے ” ساء یسوء سوء وساء ۃ “ کی جس کی معنی غمناک کرنے کے ہیں ، ” ساء ہ “ اسے غمناک کیا اور ” سوء انہ فسائ “ میں نے اس کو غمناک کیا ، پس وہ غمناک ہوگیا ۔ ” والفحشاء “ گناہ اور ہر وہ قول یا عمل جو قبیح ہو ، ” سراء اور ضراء “ کی طرح مصدر ہے ۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں ” فحشاء “ سے مراد وہ گناہ ہے جس میں حد لازم ہے اور سوء سے مراد وہ گناہ جس میں شرعا حد نہیں ہے ، علامہ سدی (رح) فرماتے ہیں ” فحشائ “ زنا ہے اور کہا گیا ہے کہ فحشاء بخل ہے (آیت)” وان تقولواعلی اللہ مالا تعلمون “ کھیتی اور چوپایوں کو حرام کرنا۔
Ayah 2:170170۔ (آیت)” واذا قیل لھم اتبعواما انزل اللہ “۔ بعض نے کہا کہ یہاں سے نیا قصہ شروع ہو رہا ہے اور ” لھم “ میں اضمار قبل الذکر ہے یعنی اس کا مرجع یہاں مذکور نہیں ہے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کی گئی ہے فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے یہود کو اسلام کی دعوت دی تو رافع بن خارجہ اور مالک بن عوف کہنے لگے ہم تو اسی دین کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے آباء و اجداد کو پایا کیونکہ وہ ہم سے افضل اور زیادہ عالم تھے ، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور کہا گیا ہے کہ یہ (نئی بات نہیں) ماقبل سے متصل ہے اور یہ مشرکین عرب اور کفار قریش کے بارے میں نازل ہوئی اور ” لھم “ کی ضمیر ان کی طرف راجع ہے جن مشرکین کا ذکر (آیت)” ومن الناس من یتخذ من دون اللہ اندادا “ کے ضمن میں ہے ، قالو بل نتبع مالایفنا “ یعنی ہم نے پایا ” علیہ آباء نا “ بتوں کی پرستش کرنا اور بعض نے کہا ہے کہ اس کا معنی ہے جب ان کو کہا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے تم پر نازل فرمایا اس کی پیروی کرو اور جو تم نے اپنے اوپر حرام کیا ہے ، مثلا کھیتی اور چوپاؤں بحیرہ سائبہ وغیرہ کو اللہ تعالیٰ ان کو حلال فرما رہے ہیں تو تم اللہ تعالیٰ کی بات مانو اور ھاء اور میم جو لھم میں ہے یہ ضمیر ان لوگوں کی طرف راجع ہے جن کا ذکر ” یا یھا الناس کلوا “ میں ہے (آیت)” قالوا بل نتبع “ کسائی نے ” بل نتبع “ کے لام کو نون میں ادغام کے ساتھ پڑھا ہے ۔
اور اسی طرح ” ھل “ اور ” بل “ کی لام کو ” التاء ، الثاء الزاء ، السین الصاد، الطاء الظائ “ میں ادغام کے ساتھ پڑھتے ہیں ، حمزہ (رح) نے ثاء اور سین میں موافقت کی ہے ” ماالفینا ۔۔۔۔۔ وما جدنا علیہ “ جس پر ہم نے تحلیل وتحریم کے سلسلہ میں اپنے آباء کو پایا ہے ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” اولو کان اباء ھم “ یہ کیسے اپنے آباء کی اتباع کرتے ہیں حالانکہ ان کے آبائ ” لایعقلون شیئا “ (دین کے معاملہ میں کچھ نہیں سمجھتے) ” اولا “ میں جو واؤ ہے واؤ عطف ہے اور اسے واو تعجب بھی کہا جاتا ہے ، اس واو پر تو بیخ یعنی سرزنش کے لیے ہمزہ استفہام داخل ہوا ہے معنی ہوگا کیا یہ لوگ اپنے آباء کی پیروی کریں گے ، اگرچہ ان کے آباء ٹھیٹ جاہل اور (دینی معاملات) کچھ نہ جانتے ہوں ” لایعقلون “ کا لفظ عام ہے اور معنی مراد خاص ہے یعنی ” لایعقلون شیئا من امور الدین “ دینی معاملات میں سے کچھ بھی نہ جانتے ہوں ، (یہ تخصیص اس لیے کی گئی) کیونکہ امور دنیا سے آگاہ تھے ” ولا یھتدون “ پھر ان کے لیے مثال ذکر فرمائی ، پس (اللہ) جل ذکرہ فرماتے ہیں ۔
Ayah 2:171(تفسیر) 171۔:
(آیت)” ومثل الذین کفروا کمثل الذی ینعق بما لایسمع “ نعیق اور نعق چرواہے کی اس آواز کو کہتے ہیں جو وہ بکریوں کو ہانکنے کے وقت نکالتا ہے آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ محمد ﷺ آپ کی اور کافروں کی ایسی مثال ہے جیسے کوئی بہائم کو آواز دے ، یعنی آپ تو گویا مثل آواز دینے والے کے ہیں اور یہ کفار مثل بہائم کے ہیں ، اور بعض نے کہا ہے کہ کفار کو وعظ کرنے والے اور ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والے کی مثال چرواہے کے ہے جو بکریوں کو آواز دیتا ہے حالانکہ وہ سنتی (سمجھتی) نہیں ۔ ” الادعائ “ آواز (وندائ) پکار لفظ مثل کو ” الذین کفروا “ کی طرف اس پر کلام کی دلالت کرنے کی وجہ سے مضاف کیا ۔ اللہ تعالیٰ نے (آیت)” واسئل القریۃ “ فرمایا اس کلام کا معنی ہوگا کہ جس طرح جانور چرواہے کی آواز سنتے ہیں مگر سمجھتے کچھ نہیں جو کچھ ان کو کہا جا رہا ہوتا ہے ، اسی طرح کافر بھی آپ کے وعظ سے کچھ بھی فائدہ حاصل نہیں کرتے وہ تو صرف آپ کی آواز سن رہے ہیں اور کہا گیا ہے اس کا معنی ہے کہ ان کافروں کی مثال اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف سے جو فہمائش کی جارہی ہے اس سے متعلق کم عقلی اور کم فہمی میں اس ” منعوق بہ “ آواز دیئے گئے جانور کی سی ہے جو کہ ” امرونھی “ کے حوالے سے سوائے آواز کے اور کچھ نہیں سمجھتا ، تو اس طرح ترجمہ کرنے سے کلام کا پورا مفہوم ” منعوق بہ “ آواز دیئے گئے جانور کے ساتھ خ اس ہوجائے گا اور کلام کا تعلق (زیادہ تر) ناعق سے نہیں رہے گا اور ایسا کلام عرب میں عام ہے جو کرتے ہیں کہ وہ اپنے معنی کو واضح کرنے کے لیے نسبت کلام میں ادل بدل کردیتے ہیں کہتے ہیں ” فلان یخافک کخوف الاسد “ جیسا کہ وہ شخص شیر سے ڈرتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” ان مفاتحہ بالعصبۃ “ (یہاں بظاہر تنوء کی نسبت مفاتیح کی (چابیوں) کی طرف کی گئی ہے حالانکہ گرانی مفاتیح (چابیوں) کو نہیں بلکہ عصبہ کو ہوتی تو یہاں اضافت میں قلب ہے) حالانکہ عصبہ (جماعت) مفاتیح (چابیوں) کے ساتھ تھکتی ہے اور بعض نے کہا کہ اس کا معنی ہے ان لوگوں کی مثال جو کافر ہوئے ان بتوں کو پکارنے میں جو کچھ نہیں سمجھتے اور نہ جانتے ہیں مثل اس شخص کے ہے جو بکریوں کو آواز کرتا ہے ۔
تو وہ بکریوں کو آواز کرنے والا اپنی اس آواز سے کچھ فائدہ حاصل نہیں کرتا ، سوائے اس کے کہ وہ اس نداء و پکار میں اپنے آپ کو تھکاتا ہے ، اسی طرح کافر بھی سوائے اس کے بتوں کو (مشکلات) میں پکار کرکے اپنے آپ کو ہلکان کرے اور ان کی عبادت کرکے مشقت میں پڑے اور کچھ فائدہ نہیں جیسے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” ان تدعوھم لایسمعوا دعاء کم ولو اسما ما استجابوا لکم “ ترجمہ : (کہ اگر تم ان بتوں کو پکارو وہ تمہاری پکار نہیں سنتے اور اگر (بالفرض) سن لیں تو تمہاری پکار کا جواب نہیں دیتے) اور بعض نے کہا کہ آیت کا معنی اس طرح ہے کہ وہ لوگ جو کافر ہوئے ان کی مثال بتوں کو پکارنے کے اعتبار سے اس شخص کی سی ہے جو پہاڑوں کے درمیان (وادی میں) چیخے چلائے پھر اپنے اس چیخنے چلانے کی صدائے باز گشت سنے جس سے اس کو کچھ سمجھ نہ آئے ، پس آیت کا معنی ہوگا (ان کافروں کی مثال بتوں کو پکارنے میں) اس پکارنے والے کی سی ہے جو اپنی پکار سے سوائے دعاء ونداء کے کچھ نہ سنے۔ ” صم “ عرب والے اس شخص کو جو نہ سنے اور نہ عمل کرے ، گویا کہ وہ بہرا ہے ” بکم “ خیر سے (گونگے) ہیں خیر کی بات کہتے نہیں۔ ” عمی “ ہدایت سے (اندھے ہیں) اسے دیکھتے نہیں ، ” فھم لایعقلون “ ۔
Ayah 2:172172۔ (آیت)” یایھا الذین امنوا کلوا من طیبات “ رزق حلال (آیت)” مارزقناکم “ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا ۔
(اے لوگو ! بیشک اللہ تبارک وتعالیٰ طیب (پاک) ہیں اور صرف طیب (پاک مال) ہی قبول فرماتے ہیں ، بے اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو اسی چیز کا حکم فرمایا ہے جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو فرمایا پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”(آیت)” یا ایھا الرسل کلوا من الطیبات واعملوا صالحا “ (ترجمہ : اے رسولو ! کھاؤ پاکیزہ چیزیں اور نیک اعمال کرو۔ )
ایمان والوں کو بھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ، اے ایمان والو ! کھاؤ پاکیزہ چیزیں جو روزی دی ہم نے تم کو پھر حضور ﷺ نے آدمی کا ذکر فرمایا جو سفر لمبا کیے ہوئے ہے پراگندہ و غبار آلود بال آسمان کی طرف دونوں ہاتھ آسمان کی طرف پھیلا کر یا رب ! یا رب ! (کی صدائیں دے کر مانگتا ہے) حالانکہ اس کا کھانا حرام کا پینا حرام کا اس کا لباس حرام کا اور غذا بھی حرام کی دی گی اس کی دعا کیسے قبول کی جائے ، (آیت)” واشکروا اللہ “ اس کی نعمتوں پر (اس کا شکر ادا کرو) ” ان کنتم ایاہ تعبدون “ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حرام چیزوں کا ذکر فرمایا ۔
Ayah 2:173(تفسیر) 173۔:
(آیت)” انما حرم علیکم المیتۃ “ ابو جعفر (رح) نے قرآن پاک میں جہاں کہیں ” المیتۃ “ کا لفظ آیا ہے شد کے ساتھ پڑھا ہے اور بعض قراء نے بعض (جگہوں پر) میتہ کو شد کے ساتھ پڑھتے ہیں اور بعض میں نہیں ” المیتۃ “ ہر وہ جانور ہے جو بغیر ذبح کئے جائے مگر وہ جانور ایسا ہو جس کو عموما ذبح کیا جاتا ہو ” والدم “ اس سے مراد بہنے والا خون ہے ، اس معنی کو مراد لینے پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان دلیل ہے (آیت)” او دما مسفوحا “ شریعت نے میتۃ سے مچھلی اور مکڑی کو مستثنی کیا ہے اور خون سے جگر اور تلی کو مستثنی کیا ہے پاس ان کو حلال فرمایا ۔
حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا ہمارے لیے دو میتہ حلال کیے گئے ہیں اور دو خون دو میتہ مچھلی اور مکڑی ہے اور دو خون میں گمان کرتا ہوں ، آپ ﷺ نے فرمایا جگر اور تلی (آیت)” ولحم الخنزیر “ اس سے مراد خنزیر کے تمام اجزاء ہیں مگر تعبیر لفظ لحم سے کی گئی ہے کیونکہ لحم (گوشت) مقصود معظم ہوتا ہے۔ (آیت)” وما اھل بہ لغیر اللہ “ جو ذبح کیا جائے بتوں کے لیے اور طواغیت کے لیے ۔
اھلال کا اصل معنی آواز بلند کرنا ہے اور مشرک جس بت کے لیے جانور ذبح کرتے تھے اس بت کے نام کے ساتھ آواز بلند کرتے تھے ، یہ طریقہ ان کا جاری رہا حتی کہ ہر ذبح کرنے والے کو مھل کہا جانے لگا ، اگرچہ وہ آواز بلند نہ بھی کرے ، ربیع بن انس ؓ وغیرہ فرماتے ہیں (آیت)” وما اھل بہ لغیر اللہ “ جس پر اللہ تعالیٰ کے ماسوا کا ذکر کیا جائے ۔ ” فمن اضطر “ لفظ فمن کی نون کو زیر کے ساتھ اور یہ حال ہر اس حرف کا جو اسی طرح واقع ہو (یعنی التقاء ساکنین کے بعد پیش والا حرف ہو جیسے یہاں ن اور ظ ساکن ہیں اور بعد میں ط پر پیش ہے) عاصم اور حمزہ نے ایسے پڑھا اور ابو عمر (رح) نے موافقت کی ہے مگر لام اور واو میں مثلا ” قل ادعوا اللہ او ادعوا الرحمن “ اور یعقوب (رح) نے موافقت کی مگر واو میں اور ابن عامر (رح) نے تنوین والے (نون) میں موافقت کی اور باقی سب حضرات نے پیش کے ساتھ پڑھا ہے ۔
پس جس نے زیر دی ہے تو وہ اس لیے کہ جزم کو زیر کی طرف حرکت دی جاتی ہے اور جس نے پیش دی تو اس لیے کہ فعل کا پہلا حرف پیش والا ہے اس پیش کو ماقبل کی طرف نقل کیا گیا اور جعفر (رح) نے ” فمن اضطر “ میں طاء کو زیر کے ساتھ پڑھا اور اس کا معنی ہے کہ جو شخص میتہ کھانے کی طرف مضطر ہوجائے یعنی محتاج اور مجبور ہوجائے (غیر) لفظ غیر کو زبر دی گئی ہے حال ہونے کی بنیاد پر اور بعض نے کہا کہ ہے مستثنی ہونے کی وجہ سے اور جب تو دیکھے کہ لفظ غیر کی جگہ لفظ ” الا “ معنی کے اعتبار سے فٹ نہیں آتا تو وہ غیر حال واقع ہوگا اور جب غیر کی جگہ معنی ” الا “ کا آجاتا صحیح ہو تو وہ غیر کا لفظ استثناء کے لیے ہے ۔
” باغ ولا عاد “ پس بعض نے کہا کہ غیر باغ کا معنی ہے سلطان عادل کے خروج اور بغاوت کرنے والا نہ ہو اور ” ولا عاد “ کا معنی ہے ظلم وتعدی اور حد سے بڑھنے والا نہ ہو اور سفر معصیت نہ کرنے والا ہو ، مثلا ڈاکہ زنی کے لیے نکلا یا زمین میں فساد پھیلانے کے لیے سفر کیا یہ قول حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ ، مجاہد (رح) اور سعید بن جبیر (رح) کا ہے اور کہتے ہیں جو گناہ کا سفر کر رہا ہے اس کے لیے بحالت اضطرار نہ تو میتہ کھانا جائز ہے اور نہ ہی وہ مسافر سفر کی دیگر شرعی سہولیات سے مستفید ہوسکتا ہے ، جب تک کہ توبہ نہ کرے امام شافعی (رح) نے یہی کہا ہے کیونکہ بحالت اضطرار میتہ کھانا اس کے لیے جائز کرنا اس کی جرم و فساد پر اعانت کرنا ہے اور ایک جماعت کا مسلک یہ ہے کہ ۔
” بغی “ اور ” عدوان “ (کا مفہوم) کھانے کی طرف راجع ہے اس کی تفصیل میں انہوں نے اختلاف کیا ، حضرت حسن (رح) اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں میتہ کے کھانے کی طرف بغیر اضطرار کے دلچسپی لینے والا اور رغبت رکھنے والا نہ ہو اور ” ولا عاد “ کا معنی ہے پیٹ بھرنے کی خاطر حد سے زیادہ کھانے والا نہ ہو، (مقصد یہ کہ محض جان بچانے کی حد تک بقدر ضرورت کھائے) اور بعض نے کہا کہ ” غیر باغ “ میتہ کو طلب کرنے والا نہ ہو جب کہ اس کے سوا حلال غذا اس کو میسر ہو ۔ ” ولا عاد “ (یعنی مقرر صرف جان بچانا) سے تجاوز کرنے والا نہ ہو کہ وہ پیٹ بھر کر کھانے بلکہ اس میتہ سے صرف اتنا کھائے جس سے اس کی جان بچ جائے ۔
حضرت مقاتل بن حیان (رح) فرماتے ہیں غیر باغ کا معنی ہے یعنی حلال سمجھنے والا نہ ہو اور ” ولا عاد “ کا معنی ہے کہ اس کی میتہ سے زاد راہ (توشہ) حاصل کرنے والا نہ ہو اور بعض نے کہا کہ غیر باغ جس قدر کھانے کی مقدار اس کے لیے حلال کی گئی ہے اس سے تجاوز کرنے والا نہ ہو اور ” ولا عاد “ کا معنی ہے کہ جتنا کھانا اس کی جان بچانے کے لیے ضروری ہے اس میں کوتاہی نہ کرے (بایں معنی عاد کا معنی زیادتی کرنے والا یعنی اپنے نفس پر زیادتی کرنے والا ہوگا)
حضرت مسروق (تابعی) (رح) فرماتے ہیں جو شخص میتہ خون لحم خنزیر کھانے پر مجبور ہوجائے پس وہ نہ کھائے پئے حتی کہ مرجائے وہ آگ (دوزخ) میں داخل ہوگا ، اس مقدار میں علماء کا اختلاف ہے جس قدر میتہ کو کھانا مجبور انسان کے لیے حلال ہے بعض نے کہا اس قدر کھائے جس سے اس کی جان بچ سکے ، یہ امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے اور امام شافعی (رح) کے دو قولوں میں سے ایک ہے اور امام شافعی (رح) کا دوسرا قول اس کے لیے پیٹ بھر کر کھانا جائز ہے ، امام مالک (رح) نے بھی یہی کہا ہے حضرت سہل بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں ” غیر باغ “ کا معنی ہے کہ وہ جماعۃ المسلمین سے علیحدگی اختیار کرنے والا نہ ہو اور ” ولا عاد “ کا معنی ہے ، بدعتی مخالف سنۃ نہ ہو انہوں نے بدعتی کو بوقت ضرورت حرام کھانے کی رخصت نہیں دی ، ” فلا اثم علیہ “ اس میتہ کو کھانے میں اس پر کچھ حرچ نہیں ہے ، ” ان اللہ غفور “ (بخشنے والا ہے) اس شخص کو جو بحالت اضطرار حرام کھاتا ہے ” رحیم “ ہے کیونکہ اس نے اس سلسلہ میں اپنے بندوں کو (حرام کھانے کی) اجازت دی ہے ۔
Ayah 2:174(تفسیر) 174:
ان الذین یکتمون ما انزل اللہ من الکتاب “ یہودیوں کے علماء اور سرداروں کے بارے میں نازل ہوئی وہ اپنے ماتحت (عوام) سے ہدایات لیتے اور کھانے کی اشیاء اور اس امید میں تھے کہ نبی مبعوث ان میں سے ہوں گے ۔ جب حضور (علیہ الصلوۃ والسلام) تشریف لائے ان کو اپنے کھانے دانے اور زوال ریاست کی فکر لاحق ہوئی ، چناچہ انہوں نے صفت رسول اللہ ﷺ کو (جوان کی کتاب میں تھی) تبدیل کردیا ، پھر اس (تورات) میں تبدیل شدہ صفت کو عوام کے لیے نکالا جب ماتحت (عوام) نے تبدیل شدہ صفت محمدی کو دیکھا کہ یہ تو حضور ﷺ کی صفات واقعیہ کے برعکس ہے ۔
پس انہوں نے حضور ﷺ کی اتباع نہ کی ، پس اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت)” ان الذین یکتمون ما انزل اللہ من الکتاب “ یعنی صفت رسول اللہ ﷺ اور آپ کی نبوت کو ” ویشترون بہ “ اس چھپائی ہوئی صفت کے بدلے ” ثمنا قلیلا “ معمولی بدل یعنی وہ کھانا دانہ جو ان کو ان کے ماتحتوں (عوام) کی طرف سے ان کو پہنچتا تھا ۔ ” اولئک ما یکلون فی بطونھم الا النار “ صرف وہ کچھ کھاتے ہیں جو انکو آگ کی طرف پہنچائے گا اور وہ رشوت اور حرام جب یہ کھانا وغیرہ ان کو آگ کی طرف پہنچانے والا ہے تو گویا کہ انہوں نے آگ کھائی ہے اور بعض نے کہا کہ اس کا معنی ہے کہ وہ کھانا انجام کار ان کے پیٹ میں آگ بن جائے گا ۔ (آیت)” ولا یکلمھم اللہ یوم القیامہ “ ان کے ساتھ رحمت والا کلام اللہ تعالیٰ نہیں فرمائے گا اور نہ وہ کلام جو ان کو خوش لگے ، صرف ان سے سرزنش اور ڈانٹ ڈپٹ والی کلام کرے گا ، کہا گیا ہے کہ اس فرمان الہی کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان پر ناراض ہوگا جیسے کہ کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص فلاں سے بات بھی نہیں کرتا ، یہ اس وقت کہا جاتا ہے جب وہ اس سے ناراض ہو، (آیت)” ولا یزکیھم “ ان کو گناہوں کی میل کچیل سے پاک نہیں فرمائے گا ۔ (آیت)” ولھم عذاب الیم “ ۔
Ayah 2:175175۔ اولئک الذین اشتروا الضلالۃ بالھدی والعذاب بالمغفرۃ فی اصبرھم علی النار “ ۔ حضرت عطاء (رح) اور علامہ سدی (رح) فرماتے ہیں (آیت)” فما اصبرھم “ میں ما استفہامیہ ہے ، یعنی وہ کون سی چیز ہے جس نے ان کو آگ پر صابر بنادیا ہے ؟ ” مائ “ بمعنی ای شیئی کے ہوگا یعنی ” ای شیئ “ وہ کون سی چیز ہے جس نے ان کو آگ پر صابر بنادیا حتی کہ انہوں نے حق کو چھوڑ دیا ہے اور باطل کی پیروی کرلی ؟
حضرت حسن (رح) اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں اللہ کی قسم ان کو آگ پر کچھ صبر نہیں لیکن (آیت)” فما اصبرھم علی النار “ کا معنی ہے ” مااجراھم “ کہ ان کو اس عمل پر کس چیز نے دلیر کردیا ہے جو عمل ان کو آگ کے قریب کرتا ہے ؟ حضرت کسائی (رح) فرماتے ہیں (آیت)” فما اصبرھم علی النار “ کا معنی ہے یعنی انکو اس پر کس چیز نے دوام دیا۔
Ayah 2:176(تفسیر) 176۔:
(آیت)” ذالک بان اللہ نزل الکتاب بالحق “ یہ عذاب اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے کتاب کو حق کے ساتھ نازل فرمایا پس انہوں نے اس (حق) کا انکار کیا اور کفر کیا اور اس وقت لفظ ” ذالک محل رفع میں ہوگا یعنی ” محلا “ پیش والا ہوگا ، بعض نے کہا ہے کہ ـ” ذالک “ کا لفظ محل نصب میں ہے یعنی زبر معنی ہوگا ، (آیت)” فعلنا ذالک بھم “ ہم نے ان کے ساتھ یہ کچھ کیا ” تو گیا ” ذالک “ کا لفظ ” فعلنا “ کا مفعول بہ ہو کر منصوب یعنی زبر والا ہوجائے گا ” بان اللہ “ یعنی یہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے کتاب کو حق کے ساتھ نازل کیا ، پس انہوں نے اس میں اختلاف کیا اور کہا گیا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے ۔
” ذالک “ کا اسم اشارہ ان کے فعل کی طرف ہے ۔ ” ذالک “ یہ ہے ان کا فعل جو وہ کرتے ہیں یعنی کفر باللہ ، اختلاف فی الکتاب اور اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں جرات کرنا ، یہ اس وجہ سے کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے کتاب کو حق کے ساتھ نازل فرمایا اور وہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان (آیت)” ان الذین کفروا سواء علیھم انذرتھم ام لم تنذرھم لا یؤمنون ختم اللہ علی قلوبھم “ (اس قول کا خلاصہ یہ ہوا کہ کفار کا کفر واختلاف اور جرات علی اللہ کتاب الہی کے مفہوم کی حقانیت کے باعث ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے وہ دولت ایمان سے سرفراز نہیں ہوگی تو اللہ تعالیٰ کا یہ تقدیری فیصلہ (بظاہر) ان کے کفر واختلاف کا سبب ہے) ” وان الذین اختلفوا “ فی الکتاب “ پس وہ بعض پر ایمان لائے اور بعض کا کفر کیا ۔ (آیت)” لفی شقاق بعید “ وہ خلاف اور دور (حق سے) کی گمراہی میں ہیں ۔
Ayah 2:177177۔ (آیت)” لیس البران تولوا وجوھکم قبل المشرق والمغرب “ حمزہ (رح) وحفص (رح) نے ” لیس البر “ کو راء کی زبر کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی قراء نے راء کی پیش کے ساتھ جو لفظ بر کو پیش کے ساتھ پڑھتا ہے وہ لفظ برکو ” لیس “ کا اسم بناتا ہے اور ” لیس “ کی خبر اللہ تعالیٰ کے اس قول میں ہے (آیت)” ان تولوا “ تقدیر عبارت ہوگی ۔ ” لیس البر تولیتکم وجوھکم “ نہیں ہے نیکی (صرف یہی) تمہارا اپنے چہروں کو پھیرنا اور جس نے لفظ ” بر “ کو زبر دی ہے اس نے ” ان تولوا “ کو مقام رفع میں رکھا اس پر کہ ” ان تولو لیس “ کا اسم ہے تقدیر عبارت یوں ہوگی ۔ ” لیس تولیتکم وجوھکم البرکلہ “ نہیں ہے تمہارا چہروں کو پھیرنا کل کی کل نیکی جیسے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” ما کان حجتھم الا ان قالوا ائتوا “۔
ہر ہر اس عمل خیر کو کہتے ہیں جو عمل کرنے والے کو جنت تک پہنچا دے ، اس آیت کے مخاطبین میں انہوں نے اختلاف کیا ہے، بعض لوگوں نے کہا اللہ تعالیٰ نے اس سے مراد یہود و نصاری لیے ہیں اور یہ اس لیے کہ بیشک یہود مغرب یعنی بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے تھے اور نصاری مشرق کی طرف منہ کرکے اور ان میں سے ہر فریق کا دعوی تھا کہ نیکی اسی میں ہے پس اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ نیکی ان کے دین وعمل کے سوا ہے لیکن اس آیت میں اس کو بیان نہیں فرمایا حضرت قتادہ (رح) اور مقاتل بن حیان (رح) اسی قول پر ہیں اور باقیوں نے کہا اس آیت سے مراد مؤمنین لیے ہیں اور یہ اس طرح کہ ابتداء اسلام میں نزول فرائض سے پہلے جب کوئی شخص توحید و رسالت کی گواہی دیتا تھا تو وہ کسی بھی طرف (منہ کرکے) نماز پڑھتا ، پھر اس کی موت اسی حالت میں ہوتی تو اس کے لیے جنت واجب ہوجاتی ، جب حضور ﷺ نے ہجرت فرمائی اور احکام فرائض کا نزول ہوا اور حدود مقرر ہوئیں ، تحویل قبلہ الی الکعبہ ہوگیا ، اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی ۔ پس فرمایا (آیت)” لیس البر “ یعنی ساری نیکی صرف یہی نہیں کہ تم مشرق ومغرب کی طرف منہ کرکے نماز پڑھو اور اس کے علاوہ کچھ نیکی نہ کرو ” ولکن البر “ بلکہ نیکی وہ ہے جو اس آیت کریمہ میں مذکور ہے اسی قول پر ہیں حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ ، حضرت مجاہد (رح) حضرت عطاء (رح) اور ضحاک (رح) (آیت)” ولکن البر “ نافع (رح) اور ابن عامر (رح) نے ” ولکن “ کو تخفیف (غیر مشدد) نون کے ساتھ پڑھا اور ” البر “ کو پیش کے ساتھ اور باقیوں نے نون لکن کو شد کے ساتھ اور بر کو راء کی زبر کے ساتھ پڑھا ۔
(آیت)” من امن باللہ “ (اللہ تعالیٰ نے) ” من “ کو جو کہ اسم ہے خبر بنایا ہے (بر) کی جو کہ فعل ہے حالانکہ ‘” البرزید “ نہیں کہا جاتا تو ” البرمن امن “ کہنا کیسے درست ہوگا ؟ اس کی وجہ (بیان کرن) میں انہوں نے اختلاف کیا ، کہا گیا ہے کہ جب (من) مصدر کی جگہ پر واقع ہوا تو اس کو بر کی خبر بنادیا گیا ، گویا کہ اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا (آیت)” ولکن البر الایمان باللہ “ اور عرب والے اسم کو فعل کی خبر بناتے رہتے ہیں ۔ فراء کہتا ہے :
لعمرک ماالفتیان ان تنبت اللحی ولکنما الفتیان کل فتی ندی۔
ترجمہ : تیری زندگی کی قسم جوان مردی یہ نہیں کہ داڑھیاں اگ آئیں بلکہ جوان مردی شاعر (فرائ) نے نبات اللحیہ کو فتی کی خبر بنایا۔
اور کہا گیا ہے کہ اس میں اضمار ہے ، اس کا معنی ہوگا ” ولکن البر من امن باللہ “ لہذا اول ” البر “ کے ذکر کے باعث دوسرے ” بر “ کے ذکر سے استغفاء کیا گیا ہے جس طرح کہ کہتے ہیں ” الجود حاتم “ یعنی ” الجود جود حاتم “ یعنی سخاوت تو حاتم کی سخاوت ہے اور بعض نے کہا کہ ہے اس کا معنی ہے ” ولکن ذا البر من امن باللہ “ (بلکہ نیکی والا تو وہ شخص ہے) جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ہے ” ھم درجات عند اللہ “ یعنی ذو درجات عند اللہ۔
اور کہا گیا ہے کہ اس کا معنی ہے ” ولکن البار من امن باللہ “ (تو بر بمعنی اسم فاعل ہوگی) مثل فرمان الہی کے ” والعاقبۃ للتقوی “ یعنی ” للمتقی “ (تو جس طرح یہاں تقوی بمعنی متقی ہے ایسے ہی بر بمعنی بار ہے) اور بر سے یہاں ایمان وتقوی مراد ہے ” والیوم الاخر والملائکۃ سب پر ” والکتاب “ یعنی نازل شدہ کتابیں ” والنبین “ سب کے سب ” واتی المال ۔۔۔۔ ای اعطی المال “ (مال دیا ) علی حبہ “ حبہ کی ضمیر کہاں راجع ہے اس میں انہوں نے اختلاف کیا ، اکثر اہل التفسیر نے فرمایا کہ حبہ کی ضمیر مال کی طرف راجع ہے یعنی مال دیا حالت صحت میں اور مال کی محبت میں ۔
ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں تو مال دے اس حال میں کہ تو صحت مند ہو ، مال پر حریص ہو ، دولت مندی کا امیدوار اور فقر سے ڈرے ، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں ایک آدمی حضور ﷺ کی خدمت میں آیا اور عرض کی یا رسول اللہ ﷺ کون سا صدقہ اجر کے لحاظ سے بڑا ہے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا (تو صدقہ کرے اس حال مین کہ تو صحت مندہو ، مال کا شدید خواہش مند ہو ، فقر سے ڈرے اور دولت مندی کی امید کرے اور اتنی دیر نہ کر (راہ خدا دینے میں) حتی کہ جب کہ (جان) حلق کو پہنچ جائے (اس وقت) تو کہے فلاں کے لیے اتنا مال فلاں کے لیے اتنا مال حالانکہ وہ (مال) تھا ہی فلاں کے لیے (یعنی جس جس مسکین و فقیر کا نام لے لے کر اب تو دے رہا ہے اخلاقی اعتبار سے یا شرعی فریضہ کے مطابق وہ مال تھا ہی انہیں فقراء و مساکین کا ۔
اور کہا گیا ہے کہ حبہ کی ضمیر اللہ عزوجل کی طرف راجع ہے تو علی حبہ کا معنی ہوگا علی حب اللہ تعالیٰ (ذوی القربی) اہل قرابت حضور ﷺ نے فرمایا (مسکین پر صدقہ کرنا صرف صدقہ ہے اور قرابتدار پر صدقہ دو (نیکیاں) ہیں صدقہ بھی اور صلہ رحمی بھی) (آیت)” والیتامی والمسکین وابن السبیل “ حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں مسافر سے مراد وہ ہے جو اپنے اہل سے کٹ جائے اور تیرے پاس سے گزرے ، مسافر کو ابن سبیل اس لیے کہتے ہیں کیونکہ وہ راستہ کو لازم پکڑے ہوئے ہوتا ہے اور بعض نے کہا کہ ابن سبیل سے مراد مہمان ہے جو کسی آدمی کے پاس آئے ۔
حضور ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ اور یوم آخر پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ وہ اپنے مہمان کو اکرام کرے ” والسائلین “ (یعنی طلب کرنے والے) بیشک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سائل کو (کچھ نہ کچھ دے کر) لوٹاؤ اگرچہ جلا ہو کھر ، ایک روایت میں ہے حضور ﷺ نے ان (ام نجید) کو فرمایا اگر تجھے جلے ہوئے کھر کے سوا اور کچھ نہ ملے تو وہی کھر ہی اسے دے دے۔
” وفی الرقاب “ مراد اس سے مکاتب غلام (مکاتب وہ غلام ہوتا ہے جس کو مولا (سید) کہے کہ اتنے پیشے اگر تو دے دے تو تو آزاد تو اس کو اپنی آزاد تو اس کو اپنی آزادی کے عوض دینا ہوتا ہے تو اس سلسلہ میں اس کا مالی تعاون زکوۃ و صدقات سے کیا جائے) یہی اکثر مفسرین فرماتے ہیں اور کہا گیا ہے ذی روح (غلام) کو آزاد کرنا اور (غلام کی) گردن چھڑانا بعض کا قول ہے کہ (آیت)” وفی الرقاب “ کا معنی ہے قیدیوں کو چھڑانے کے لیے فدیہ دینا۔ (آیت)” واقام الصلوۃ واتی الزکوۃ “ (آیت)” واعطی الزکاۃ “ (یعنی زکوۃ دے) (آیت)” والموفون بعھدھم “ جو (معاہدے) ان کے اور اللہ عزوجل کے درمیان ہیں اور وہ معاہدے ان کے اور لوگوں کے درمیان ہیں (آیت)” اذا عاھدوا “ جب وعدہ کرتے ہیں پورا کرتے ہیں اور جب قسم اٹھاتے ہیں یا منت مانتے ہیں تو اس کو پورا کرتے ہیں اور جب معاہدہ کرتے ہیں وفا کرتے ہیں۔
” اور جب کہتے ہیں سچ کہتے ہیں اور جب امین بنائے جاتے ہیں تو ادا کرتے ہیں ۔ (آیت)” والموفون “ قول خداوندی کے مرفوع ہونے میں انہوں نے اختلاف کیا ہے ، کہا گیا ہے یہ خبر پر عطف ہے اس کا معنی ہے ” ولکن ذالبر المؤمنون والموفون الخ “۔ کہ بر والے (یعنی نیکی والے) وہ مؤمن ہیں جو امور مذکورہ پر ایمان لاتے ہیں اور فلاں فلاں عمل کرتے ہیں اور وہ وعدہ پورا کرنے والے ہیں الخ۔ اور کہا گیا ہے تقدیر عبارت یوں ہے ۔ ” ھم الموفون “ گویا کہ بر والوں کی مختلف اقسام ذکر فرمائیں پھر فرمایا یہ حضرات اور موفون ، یعنی وعدہ و معاہدہ پورا کرنے والے اس طرح ہیں اور کہا گیا ہے کہ ” والموفون “ کی رفع مبتداء وخبر کے اعتبار سے ہے ، یعنی ” وھم الموفون “ اور وہ ہیں وفا کرنے والے ، پھر فرمایا ” والصابرین “ صابرین کے منصوب ہونے کی چار وجہیں ہیں ۔
(1) ابوعبیدہ (رح) فرماتے ہیں اس کی زبر تطاول کلام یعنی کلام کے لمبا ہونے کی وجہ سے ، عرب والوں کا طریقہ ہے جب کلام لمبی ہوجائے اور ترتیب طول پکڑ جائے تو اعراب بدل دیتے ہیں ، اس کی مثال سورة نساء میں ہے ۔ (آیت)” والمقیمین الصلوۃ “ اس سے سابقہ جملے مرعوع ذکر ہوئے ، مثلا (آیت)” لکن الراسخون، ۔۔۔۔۔۔ والمؤمنون “ اور ” والمقیمین الصلوۃ “ منصوب ہے ، اگرچہ ” والمقیمین الصلوۃ “ کو منصوب علی المدح بھی کہا گیا مگر یہاں ابو عبیدہ (رح) اس کے منصوب ہونے کی بظاہر کوئی وجہ بیان نہیں فرما رہے ۔ سوائے اس کے کہ کلام کے طویل ہونے کے باعث اعرابی صورۃ بدل دی گئی ۔ (اور اسی طرح طوالۃ کلام کے باعث تبدیلی اعراب سورة مائدہ میں ہے) اور سورة مائدہ میں ہے ” والصابؤن والنصاری “۔
اور بعض نے کہا کہ ہے کہ اس کا معنی ہے ” اعنی الصابرین “ (گویا صابرین کی نصب فعل اعنی کے حذف ہونے کی بنیاد پر ہے اور کہا گیا ہے کہ صابرین کی نسب اللہ تعالیٰ کے فرمان ” ذوی القربی “ کی ترتیب پر ہے یعنی ” اتی الصابرین “ کہ وہ اپنا مال جس طرح ” ذوی القربی “ قرابت داروں کو دیتا ہے ایسے ہی صابرین کو بھی دیتا ہے ۔
اور خلیل (رح) فرماتے ہیں کہ صابرین کی نصب علی المدح ہے ۔ ” ای امدح الصابرین “ اور عرب والے مدح اور ذم کی بنیاد پر کلام کو نصب دیتے رہتے ہیں ، گویا کہ اس سے مراد ممدوح و مذموم افراد مراد لیتے ہیں ، پاس اس لفظ اول کلام کے تابع نہیں کرتے اور اس کو (علی المدح) نصب دیتے ہیں پھر مدح ہی کی مثال اللہ تعالیٰکا یہ قول ” والمقیمین الصلوۃ “ اور مذمت کی بنیاد پر منصوب ہونے کی وجہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول ” ملعونین اینما ثقفوا “ ۔
سیدنا علی ؓ فرماتے ہیں جب جنگ و قتال سرخ (سخت) ہوجاتا اور قوم ، قوم سے ٹکرا جاتی ، پس حضور ﷺ سے زیادہ دشمن کے قریب میرے کوئی نہیں ہوتا تھا ۔ ” احمر الباس “ کا معنی اشتد الحرب (جنگ زوروں پر ہوجاتی) اولئک الذین صدقوا “ اپنے ایمان میں سچے ہیں ” واولئک ھم المتقون “ اللہ تعالیٰ کی حرام کی ہوئی چیزوں سے (بچتے ہیں)
Ayah 2:178(تفسیر) 178۔:
(آیت)” یایھا الذین امنوا کتب علیکم القصاص “ شعبی (رح) کلبی (رح) ، قتادہ (رح) فرماتے ہیں یہ آیت کریمہ عرب کے قبیلوں میں سے دو قبیلوں کے بارے میں نازل ہوئی اور اسلام کے آنے سے تھوڑا پہلے لڑے ، ان کے درمیان مقتولین بھی تھے مجروحین بھی تھے ، انہوں نے ابھی باہمی بدلہ وغیرہ نہیں لیا تھا یہاں تک کہ اسلام آگیا ، حضرت قتادہ (رح) اور مقاتل بن حبان (رح) فرماتے ہیں (یہ لڑائی) بنو قریظہ ، اور بنو نظیر کے درمیان تھی ، حضرت سعید بن جبیر درحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ، کہ (یہ لڑائی) قبیلہ اوس اور خزرج کے درمیان تھی ۔ یہ تمام مفسرین فرماتے ہیں کہ عرب کے ان دو قبیلوں میں سے ایک قبیلہ کو دوسرے پر کثرت وشرف کی بنیاد پر برتری حاصل تھی برتری والا قبیلہ دوسرے قبیلہ کی عورتوں سے بغیر مہر کے نکاح کرتا ، پس انہوں نے قسم اٹھا رکھی تھی کہ اگر ہمارا غلام قتل ہوا تو اس کے بدلے ہم انکا آزاد انسان قتل کریں گے اور اسی طرح عورت کے بدلہ ہم ان کا مرد قتل کریں گے اور اگر ہمارا ایک آدمی قتل ہوا تو ان کے دو آدمی قتل کریں گے اور دو کے بدلے چار قتل کریں گے ۔
اور انہوں نے زخموں کو بھی علی ھذا القیاس دوہرے قصاص کا درجہ دے رکھا تھا ، چناچہ اسلام آجانے پر انہوں نے اپنا یہ معاملہ حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کیا، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی اور (قصاص میں) مساوات کا حکم فرمایا پس وہ راضی ہوگئے اور اسلام لائے، (آیت)” کتب علیکم القصاص “ یعنی قصاص تم پر فرض کیا گیا ہے (آیت)” فی القتلی “ اور قصاص اس مساوات ومماثلت (برابری) کا نام ہے جو زخموں کے تاوان اور قتل کی دیتوں میں اختیار کی جائے اور اس (قصاص) کی اصل قصص الاثر ہے جب کسی نشان کا کسی نے پیچھا کیا ۔
مفعول بہ کے ساتھ جس طرح (زیادتی) کی گئی ہے ، اسی طرح زیادتی کرنے والے کے ساتھ وہی عمل کیا جائے اسے کہتے ہیں مماثلت ، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مماثلت بیان فرمائی (آیت)” الحر بالحر والعبد بالعبد والانثی بالانثی “ اور حکم اس میں یہ ہے کہ جب آزاد مسلمانوں کے ہر دو خون (قاتل و مقتول کے) خون برابر ہوئے تو ان کی ہر قسم میں سے مذکر قتل کیا جائے گا جب بھی قتل کیا جائے گا مذکر کے بدلہ میں بھی اور مؤنث کے بدلہ میں بھی ۔
اور مؤنث قتل کی جائے گی جب بھی قتل کی جائے گی مؤنث کے بدلہ میں بھی اور مذکر کے بدلہ میں بھی اور مؤمن کو کافر کے بدلہ کے بدلہ میں اور آزاد کو غلام کے بدلہ میں قتل نہ کیا جائے گا اور والد بیٹے بیٹی کے بدلہ میں قتل نہ کیا جائے گا اور ذمی مسلمان کے بدلہ میں قتل کیا جائے گا اور غلام آزاد کے بدلہ اور بیٹا بیٹی باپ کے بدلہ میں قتل کیا جائے گا ، یہ قول حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین اور بعد میں آنے والے اکثر اہل علم کا ہے ، ابو جحیفہ ؓ فرماتے ہیں میں نے حضرت علی ؓ سے پوچھا کیا آپ کے پاس قرآن کریم کے علاوہ کچھ اور بھی حضور ﷺ سے حاصل شدہ کوئی چیز ہے ؟ حضرت علی ؓ نے فرمایا نہیں ! قسم ہے اس ذات اقدس کی جس نے دانہ کو (زمین سے) پھاڑا اور روح (انسان) کو پیدا فرمایا ، سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کسی بندہ کو قرآن میں فہم و فراست کی دولت بخشے (قرآن فہمی عطا کرے) اور سوائے اس کے کہ جو کچھ اس صحیفہ میں ہے میں نے کہا اس صحیفہ میں کیا کچھ ہے ؟ تو آپ نے فرمایا قیدی چھڑانے کے مسائل اور یہ کہ مؤمن کافر کے بدلہ میں قتل نہ کیا جائے گا ۔
حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کی گئی ہے حضور اقدس ﷺ نے فرمایا مساجد میں حدیں قائم نہ کی جائیں اور اولاد کے بدلہ میں والد سے قصاص نہ لیا جائے ، عالمہ شعبی (رح) ، نخعی (رح) اور اصحاب الرای کا رجحان یہ ہے کہ کافر ذمی کے بدلہ میں مسلمان (قتل) کیا جائے گا ، نیز وہ اس طرف بھی گئے ہیں کہ آزاد (قاتل) کو غلام کے بدلہ میں قتل کیا جائے گا اور حدیث میں اس شخص کے حق میں حجت (دلیل) ہے جو ذمی (کافر) کے بدلہ مسلمان پر قصاص واجب نہیں کرتا اور جماعت قاتلین کو جو فرد واحد کی قاتل ہے (قصاصا) قتل کیا جائے گا ۔
حضرت سعید بن مسیب ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے سات یا پانچ آدمیوں کو ایک آدمی کے قتل کرنے کی پاداش میں قتل کردیا تھا ، جس کو انہوں نے اچانک قتل کیا تھا اور فرمایا کہ تمام اہل صنعا بھی اس شخص کے قتل میں رکاوٹ ڈالتے تو میں سب کو قتل کردیتا اور اعضاء میں قصاص چلے گا ، جیسا کہ جانوں میں قصاص ہے مگر ایک چیز میں کہ صحت مند تندرست کامل الاعضا قاتل مریض اور معذور مقتول کے بدلہ میں قتل کیا جائے گا اور اعضاء میں ایسا نہیں ، چناچہ اگر کسی شخص نے کسی کے شل ہاتھ یا ناقص ہاتھ کو کاٹ دیا تو اس کے بدلے میں کاٹنے والے کا صحیح اور کامل ہاتھ نہیں کاٹا جائیے گا ، (اگرچہ وہ ناقص ہاتھ ایک انگلی کے اعتبار سے ناقص ہو) اصحاب الرای اس طرف مائل ہوتے ہیں کہ اعضاء کا قصاص صرف اور صرف دو آزار مرد اور دو آزاد عورتوں کے درمیان ہوگا اور مذکر ومؤنث اور آزاد و غلام کے درمیان اطراف واعضاء میں قصاص نہیں ہوگا اور باقیوں کے نزدیک عضو کو قصاص کے معاملہ میں جان پر قیاس کیا گیا ہے۔
انس بن نضر ؓ سے روایت ہے کہ بیشک ربیع نے جو ان کی پھوپھی تھی ایک باندی کا دانت توڑ دیا ، پس انہوں نے اس باندی سے معاف کرنے کی درخواست کی تو باندی والوں نے انکار کردیا پھر انہوں نے تاوان مالی بدلہ دینا چاہا وہ نہ مانے پس وہ سب حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سوائے قصاص کے انہوں نے کسی اور صورت کو قبول کرنے سے انکار کردیا پس حضور اقدس ﷺ نے قصاص کا حکم فرمایا ، حضرت انس ؓ کہنے لگے یا رسول اللہ ! کیا میری پھوپھی ربیع کا دانت توڑا جائے گا ، نہیں قسم ہے اس ذات پاک کی جس نے آپ کو (دین) حق کے ساتھ بھیجا ہے ، میری پھوپھی کا نہیں توڑا جائے گا ، پس رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے انس (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) اللہ تعالیٰ کی طرف سے لکھا ہوا حکم قصاص ہے قوم یعنی باندی والے معاف کرنے پر راضی ہوگئے ، چناچہ انہوں نے معاف کردیا ، پس حضور اقدس ﷺ نے فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے کچھ وہ بھی ہیں کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ پر قسم اٹھا لیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم کو پورا فرما دیتے ہیں ۔
(آیت)” فمن عفی لہ من اخیہ شیئ “ یعنی اس کے لیے (بدلہ لینا) چھوڑ دیا جائے اور جو حکم اس پر واجب ہے اس سے اعراض کرلیا جائے اور وہ قتل عمد میں قصاص ہے اور دیت کو قبول کرلیا جائے ، یہ اکثر مفسرین کا قول ہے انہوں نے کہا عفو یہ ہے کہ قتل عمد میں دیت کو قبول کرلیا جائے اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ” من اخیہ “ یعنی اپنے بھائی کے خون سے اور بھائی سے مراد مقتول ہے اور دونوں ضمیریں قول خداوندی میں اور (آیت)” لہ من اخیہ “ کی ” من “ کی طرف راجع ہیں اور وہ قاتل ہے ۔
اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ” شیء “ لفظ شی (تھوڑی مقدار) اس پر دلیل ہے کہ اگر (مقتول کے) بعض اولیاء معاف کردیں تو قصاص ساقط ہوجائے گا کیونکہ خون کا کچھ حصہ ختم ہوگیا ، اللہ تعالیٰ کا ارشاد (آیت)”اتباع بالمعروف “ طالب دیت پر لازم ہے کہ معروف طریقہ پر پیروی کریں لہذا اپنے حق سے زیادہ مطالبہ نہ کرے ” واداء الیہ باحسان “ مطلوب منہ پر بہت اچھے طریقہ پر دیت ادا کردینا لازم ہے کہ بغیر ٹال مٹول کے ادا کردے ، (طالب و مطلوب منہ) ہر دو کو اللہ تعالیٰ نے ۔
لین دین میں احسان کا حکم دیا ، صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین وتابعین میں سے اکثر علماء کا مذہب یہ ہے جب ولی الدم (مقتول کا ولی ، دیت لینے پر قصاص معاف کر دے تو اس کو دیت لینے کا حق ہے اگرچہ قاتل اس پر راضی نہ بھی ہو ، ایک قوم کہتی ہے کہ ولی الدم دیت لینے کا صرف اس صورت میں حق دار ہے جب قاتل بھی راضی ہو اور یہ حسن (بغوی) نخعی اور اصحاب الرای رحمہم اللہ کا قول ہے اول مذہب والوں کی دلیل وہ ہے کہ بیشک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : پھر تم نے اے قبیلہ خزاعہ ھذیل کے اس مقتول کو قتل کیا ہے اور میں اللہ کی قسم اس کی دیت دینے والا ہوں ، پس اس کے بعد جس کسی نے کسی کو قتل کیا تو مقتول کے اولیاء کو دو چیزوں میں سے ایک کا اختیار ہوگا ، اگر چاہیں تو قصاص قتل کریں اور اگر چاہیں تو دیت لے لیں۔
(آیت)” ذالک تخفیف من ربکم ورحمۃ “ یہ جو کچھ میں نے ذکر کیا قصاص کو معاف کردینا اور دیت لینا یہ تمہارے رب کی طرف سے تخفیف اور رحمت ہے ، یہ اس لیے کہ تورات میں جان اور اعضاء کا قصاص اور زخموں کا بدلہ لینا یہود پر لازم تھا ، قصاص کے بدلے میں دیت لینے کا جواز ان کو حاصل نہ تھا اور شریعت نصاری میں یعنی عیسائیوں کی شریعت میں صرف دیت تھی قصاص نہ تھا ۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس امت کو قصاص اور دیت لے کر معاف کردینے میں اختیار دیا ، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آسانی اور رحمت ہے ۔ (آیت)” فمن اعتدای بعد ذالک “ معاف کردینے اور دیت قبول کرلینے کے بعد مجرم کو قتل کردیا (آیت)” فلہ عذاب الیم “ وہ یہ اس کو قصاصا قتل کیا جائے گا ، ابن جریج (رح) فرماتے ہیں اس کا قتل کرنا لازمی ہے حتی کہ اس کے بعد عفو (معاف کردینا) قبول نہ کیا جائے گا ۔
اور آیت کریمہ میں اس بات پر دلیل ہے کہ قاتل قتل کرنے سے کافر نہیں ہوجاتا ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قتل کے بعد بھی خطاب ” امنوا “ کیساتھ فرمایا ہے پس فرمایا (آیت)” یایھا الذین امنوا کتب علیکم القصاص “ آخر آیت میں فرمایا (آیت)” فمن عفی لہ من اخیہ شیئ “ اللہ تعالیٰ نے اس لفظ اخیہ سے اخوت ایمانی مراد لی ہے تو قتل کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اخوت (ایمانی) کو قطع نہیں فرمایا ۔
Ayah 2:179(تفسیر) 179۔:
(آیت)” ولکم فی القصاص حیاۃ “ اور یہ اس طرح کہ قتل کا ارادہ کرنے والا جب یہ جان لے گا کہ اس نے جب قتل کیا تو وہ خود بھی قتل کردیا جائے گا تو وہ قتل سے رک جائے گا تو اس میں اس کی بھی زندگی ہے اور جس کا ارادہ قتل کا تھا اس کی بھی بقا ہے ، اس جملہ قرآنی کے مثل جملہ کہا گیا ” القتل النفی للقتل “ یعنی قتل قتل کی بہت زیادہ نفی کرتا ہے مگر یہ لفظ ومعنا آیات کریمہ کے جملہ کا مقابلہ نہیں کرسکتا کیونکہ (آیت)” فی القصاص حیاۃ “ کے تلفظ شدہ حروف گیا رہ ہیں جبکہ ” القتل النفی للقتل “ کے حروف چودہ ہیں ، لفظ جملہ قرآنی کو برتری حاصل رہی ، پھر قصاص کا معنی قتل محض نہیں بلکہ بدلہ کا قتل اور اس قانون کا تصور یقینا مرید قتل کو قتل سے باز رکھے گا تو واقعی حیات انسانی اس میں مضمر ہوئی جبکہ القتل سے صرف قتل ہے اور قتل قتل کی نفی نہیں کرتا بلکہ قتل (قصاص) کو دعوت دیتا ہے ، یہ اس جملہ انسانی کی معنوی خرابی ہوئی ، من المترجم :
اور کہا گیا ہے ” حیاۃ کا معنی قصاص آخرت سے سلامتی کا حاصل ہونا ہے، چناچہ اس قاتل سے جب دنیا میں قصاص لے لیا جائے گا تو اسے حیات اخروی نصیب ہوگی اور ار قاتل سے دنیا میں قصاص نہ لیا گیا تو آخرت میں بطور سزا کے قصاص لیا جائے گا (آیت)” یا اولی الالباب لعلکم تتقون “ یعنی قتل سے قصاص کے خوف کے باعث رک جاؤ ۔
Ayah 2:180180۔ (آیت)” کتب علیکم “ یعنی تم پر فرض کیا گیا ۔ (آیت)” اذا حضر احدکم الموت “ موت کے اسباب وآثار اور بیماریوں کی وجہ سے نمایاں ہوجائیں (آیت)” ان ترک خیرا “ مال اس کی مثال قول خداوندی ہے ۔ (آیت)” وما تنفقوا من خیر “ (یہاں بھی خیر سے مراد مال ہے) ” الوصیۃ للوالدین والاقربین “ ابتداء اسلام میں والدین اور قرابت داروں کے حق میں وصیت کرنا فرض تھی اس شخص پر جو اس حال میں فوت ہو کہ اس کا مال ہو ، پھر یہ وصیت آیت میراث کے ذریعہ منسوخ کردی گئی ، عمر بن خارجہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں حضور اقدس ﷺ کی اونٹنی کی مہار تھامے ہوئے تھے پس آپ ﷺ نے فرمایا (بےشک اللہ تعالیٰ نے ہر صاحب حق کو اس کا حق دے دیا ہے لہذا اب وارث کے حق میں وصیت نہیں ہے) اس اعتبار سے ایک جماعت کا مؤقف ہے کہ وصیت کا وجوب ان اقارب کے حق میں منسوخ ہوگیا جو وارث بنتے ہیں اور ان کے حق میں وصیت کا وجوب باقی ہے جو وارث بنتے ہیں والدین میں سے اور رشتہ داروں میں سے اور یہ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ ، طاؤس (رح) قتادہ (رح) کا قول ہے ۔
حضرت طاؤس (رح) فرماتے ہیں جو شخص کسی قوم کے حق میں وصیت کرتا ہے اور قرابت داروں کو محتاج چھوڑتا ہے ان لوگوں سے وہ وصیت کا واجب ہونا منسوخ ہے۔ البتہ جو لوگ وارث نہ ہوں ان کے حق میں وصیت کرنا مستحب ہے۔
حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ بیشک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی مسلمان کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ اس کے پاس کوئی ایسی شئی ہو جس کے بارے میں اس کو وصیت کرنا ہو پھر دو راتیں بھی اس حال میں گزارے کہ اس کے سرہانہ لکھی ہوئی وصیت موجود نہ ہو ، اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی (بالمعروف) معروف سے مراد ہے ، وصیت اچھے طریقے سے کرے اور اپنے مال و جائیداد کی تہائی سے زیادہ نہ کرے اور معروف کا معنی یہ بھی ہے کہ ایسا نہ کرے کہ غنی کے حق میں وصیت کر دے اور فقیر کو چھوڑ دے ، ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ وصیت محتاج سے محتاج تر کے لیے ہے ۔
حضرت سعد بن مالک ؓ (جو کہ سعد بن ابی وقاص ؓ کے ساتھ مشہور ہیں) فرماتے ہیں میرے پاس حضور اقدس ﷺ میری عیادت کے لیے تشریف لائے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں اپنے پورے مال کی وصیت کرتا ہوں ، حضور ﷺ نے فرمایا ایسا نہ کرو میں نے عرض کیا آدھے مال کی وصیت کروں ، فرمایا نہیں ، میں نے عرض کیا ، پھر تہائی مال کی وصیت کروں حضور ﷺ نے فرمایا تہائی کی وصیت کرو اور تہائی زیادہ ہے ، اگر تو اپنے وارثوں کو مال دار چھوڑ جائے یہ بہتر ہے اس سے کہ تو ان کو فقیر محتاج چھوڑ جائے کہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں ، حضور ﷺ کے اس فرمان ” یتکففون الناس “ کا معنی ہے کہ لوگوں سے ہاتھ پھیلا کر صدقہ مانگتے پھریں ۔
ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے عرض کیا میں وصیت کرنا چاہتا ہوں ، حضرت سیدہ طاہرہ عائشہ صدیقہ ؓ نے پوچھا تیرا مال کتنا ہے اس نے عرض کی تین ہزار ، سیدہ طاہر ؓ نے فرمایا تیرے بال بچے کتنے ہیں ؟ اس نے عرض کی چار تو ام المؤمنین سید عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے (آیت)” ان ترک خیرا “ اور جو کچھ تیرے پاس ہے یہ معمولی مال ہے اسے اپنے عیال کے لیے رہنے دے (گویا ام المؤمنین ؓ نے خیر سے مال کثیر مراد لیا) حضرت سیدنا علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ میں (اپنے مال سے) پانچویں حصہ کی وصیت کروں، یہ میرے لیے بہتر ہے اس سے کہ میں چوتھے حصہ کی وصیت کروں اور مال سے میں چوتھے حصہ کی وصیت کروں یہ میرے لیے بہتر ہے اس سے کہ تیسرے حصہ کی وصیت کروں اور جس نے تیسرے حصہ کی وصیت کی اس نے (کچھ) نہ چھوڑا۔
حضرت حسن بصری (رح) فرماتے ہیں وصیت مال کے چھٹے حصہ کی وصیت کیا کرتے تھے یا چوتھے حصہ کی ، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ” حقا “ مصدر کی بنیاد پر منصوب ہے (یعنی مفعول مطلق ہے) اور بعض نے کہا کہ مفعول بہ ہونے کی وجہ سے ” منصوب “ ہے عبارت یوں ہوگی ” جعل الوصیۃ حقا “ کہ اللہ تعالیٰ نے وصیت کرنا حق بنادیا ” علی المتقین “ یعنی مؤمنین۔
Ayah 2:181(تفسیر) 181۔:
(آیت)” فمن بدلہ “ وصیت کی جس نے بدل دیا بدلنے والے وصی ہوں (جو وصیت پورا کرنے کے ذمہ دار ہیں) یا مرنے والے کے ولی ہوں یا وصیت کے گواہ ہوں ، (آیت)” بعد ماسمعہ “ بعد اس کے کہ وصیت کرنے والے کا قول سن لیا (کیونکہ سننے کا تعلق قول سے ہے) اس لیے سمعہ کی ضمیر مذکر ذکر ہوئی حالانکہ وصیت مؤنث ہے اور کہا گیا ہے کہ ” سمعہ “ کی ضمیر ” ایصائ “ کی طرف راجع ہے (یعنی وصیت کرنا) جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ہے (آیت)” فمن جاء ہ موعظۃ من ربہ “ اس میں ضمیر وعظ کی طرف راجع ہے ، (آیت)” فانما اثمہ علی الذین “۔
(آیت)” یبدلونہ “ اور میت اس سے بری ہے (یعنی جو کوئی وصیت کو بدلے گا اس کا گناہ اسی پر ہے) ” ان اللہ سمیع “ اسکو جس کے ساتھ وصیت کرنے والے نے وصیت کی (علیم) تبدیل کرنے والے کی تبدیلی کو جانتا ہے یا ” وصی کی “ وصیت کو سننے والا اور اس کی نیت کو جاننے والا ہے ۔
Ayah 2:182(تفسیر) 182۔ـ:
(آیت)” فمن خاف “ بمعنی ” علم “ کے ہے جو شخص جان گیا جیسا کہ دوسری آیت میں بھی خاف بمعنی ” علم “ کے ہے (فان خفتم الا یقیما حدود اللہ) (من موص) حمزہ (رح)، کسائی (رح) اور ابوبکر (رح) ، یعقوب (رح) نے لفظ موص کو واؤ کی زبر اور صاد کی شد کے ساتھ پڑھا ہے یعنی ” موص “ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت)” ماوصی بہ نوحا “ ووصینا الانسان “ (یہ سب باب تفعیل سے ہیں جس کا اسم فاعل ” علی موص “ ہے) اور باقیوں نے واؤ کی سکون اور صاد کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے (آیت)” یوصیکم اللہ فی اولادکم من بعد وصیۃ یوصی بھا اودین “ اس میں وصیت کا باب افعال مذکور ہے جس کا اسم فاعل ” موص “ ہے) ۔ ” جنفا “ ظلم اور حق سے انحراف کرنا جعف کا معنی میلان ہے (آیت)” اواثما ظلما “ ، سدی (رح) اور عکرمہ (رح) اور ربیع (رح) فرماتے ہیں جعف کے معنی خطا اور عمدا گناہ کے ہیں ۔ ”(آیت)” فاصلح بینھم فلا اثم علیہ “ آیت کے معنی میں انہوں نے اختلاف کیا ، حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ اس کا معنی یہ ہے کہ جب آدمی کسی مریض کے پاس جائے اور وہ وصیت کر رہا ہو، پس اس کو دیکھے کہ کمی کوتاہی کرکے یا حد سے زیادہ کرکے راہ اعتدال سے ہٹ رہا ہے یا جس جگہ وصیت کر رہا ہے جس کے حق میں وصیت کر رہا ہے وہ مستحق وصیت نہیں تو اس حاضر ہونے والے شخص پر کچھ حرج نہیں کہ وہ اس وصیت کرنے والے کو عدل و انصاف کا حکم دے یا ظلم سے منع کرے، پس نظر کرے اس میں بھی جس کے لیے وصیت کی گئی اور ورثاء پر بھی نظر کرے ۔ باقی حضرات فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس فرمان سے یہ ارادہ فرمایا کہ مرنے والا وصیت کرنے میں خطا کرے یا جان بوجھ کر ظلم کرے تو مرنے والے کے ولی یا وصی (اس کے معاملات کا نگران) پر کچھ حرج نہیں ہے اور نہ ہی کچھ حرج ہے مسلمانوں کے امور پر نگران حاکم پر کہ وہ مرنے والے کی موت کے بعد جن کے حق میں وصیت کی گئی ہے اور ورثاء کے مابین اصلاح کردیں (یعنی جو غلط طریقہ پر وصیت کرنے سے فساد شرعی آگیا ہے اس کو درست کردیں) اور وصیت عدل اور راہ حق کی طرف موڑ دے ۔ ” فلا اثم علیہ “ یعنی اس پر کچھ حرج نہیں ہے ۔ (آیت)” ان اللہ غفور رحیم “ ۔
طاؤس فرماتے ہیں کہ ” جنفۃ “ کے معنی ہیں وصیت میں رخ پھیرنا اور حیلہ سازی کرنا مثلا پوتے کے لیے وصیت کردی مقصد بیٹا ہے (یعنی بیٹے کو فائدہ پہنچانا ہے) یا یہ کہ نواسہ یا داماد کے حق میں وصیت کردی، مقصود بیٹی ہے (یعنی بیٹی کو فائدہ پہنچانا ہے) کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے نازل ہونے کے بعد (آیت)” فمن بدلہ بعد ماسمعہ “ مرنے والے کے ولی اور وصی وصیت کو ہر حال میں پور کرتے تھے ، اگرچہ وصیت کو پورا کرنے میں سارا مال چلا جاتا اور ورثاء کے لیے کچھ نہ بچتا ، پھر اللہ تعالیٰ کے اس حکم مذکور اس فرمان الہی نے منسوخ کردیا (آیت)” فمن خاف من موص جنفا “ الآیۃ۔ ابن زید (رح) فرماتے ہیں کہ وصیت کرنے والا اس مشکل میں پڑگیا کہ وہ والدین اور قرابت داروں کے لیے اس طرح وصیت کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا حکم تھا اور وصی (میت کے امور کا نگران) کے لیے بھی مشکل ہوگیا کہ وہ اصلاح کرے تو کیسے کرے تو اللہ تعالیٰ نے یہ معاملہ ان کے ہاتھوں سے لے لیا اور (وصیت کی بجائے) حصص میراث و فرائض کے مقرر فرما دیئے ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کی گئی ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ بیشک کوئی مرد یا عورت ساٹھ سال تک اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری والا عمل کرتے ہیں پھر جب ان پر موت کا وقت آجاتا ہے تو وصیت میں متعلقین کو نقصان دیتے ہیں تو ان ہر دو کے لیے آگ واجب ہوجاتی ہے ، اس پر حضرت ابوہریرہ ؓ نے (آیت)” من بعد وصیۃ “ اللہ تعالیٰ کے فرمان (آیت)” غیر مضار “ تک پڑھا۔