Ayah 2:94(تفسیر) 94۔:
(آیت)” قل ان کانت لکم الدار الاخرۃ عند اللہ “ اور یہ اسی لیے کہ یہود باطل دعوے کے لیے مثلا ان کا کہنا (آیت)” لن تمسنا النار الا ایاما معدودہ “ (کہ ہمیں صرف چند دن آگ چھوئے گی) اور (آیت)” لن یدخل الجنۃ الا من کان ھودا او نصاری “۔ (یہود ہیں کہ کہتے جنت میں صرف یہودی جائیں گے ، نصاری کہتے کہ جنت میں صرف نصرانی جائیں گے) اور ان کا یہ کہنا (آیت)” نحن ابناء اللہ واحباؤہ “ (ہم اللہ تعالیٰ کے بیٹے اور دوست ہیں) پس اللہ تعالیٰ نے ان کو جھٹلایا اور ان پر حجت کو لازم کیا ، پس فرمایا آپ یا محمد ﷺ ان کو فرما دیجئے اگر آخرت کا گھر (جنت) عنداللہ تمہارے لیے ہے (خالصۃ) یعنی خالصتا (صرف) تمہارے لیے ۔
(آیت)” من دون الناس فتمنوا الموت “ ۔ یعنی پس موت کا ارادہ کرو یا موت مانگو اس لیے کہ جس شخص کو یقین ہے کہ اس کا ٹھکانہ جنت ہے تو وہ اس جنت کی طرف مشتاق ہوتا ہے اور جنت میں داخل ہونے کی صورت سوائے موت کے بعد کے اور کوئی نہیں ہے پس آرزو کرکے موت کو جلدی حاصل کرو۔ (آیت)” ان کنتم صادقین “ اپنی بات میں (اگر سچے ہو) اور کہا گیا ہے کہ (آیت)” فتمنوا الموت “ کا معنی ہے اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو تو اس فراق کے عذاب شدید سے خلاصی کے لیے موت مانگو۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا اگر یہ یہودی موت کی تمنا کرتے تو اس وقت ہو شخص اپنے آپ دلہن سے گلا گھٹ جاتا اور روئے زمین پر ایک بھی یہودی باقی نہ رہتا سب کے سب ہلاک ہوجاتے ۔
Ayah 2:9595۔ (آیت)” ولن یتمنوہ ابدا بما قدمت ایدیھم “ ان کا موت کی آرزو نہ کرنا بایں وجہ کہ انہیں اپنے دعوی میں جھوٹا ہونے کا علم تھا اور (آیت)” ما قدمت ایدیھم “ سے مراد ان کے وہ اعمال ہیں جو انہوں نے آگے بھیجے اور عمل کی نسبت ہاتھ کی طرف اس لیے کی گئی کیونکہ انسان کے اکثر قصور ہاتھ سے ہوتے ہیں ، پس اس کے اعمال کی نسبت ہاتھ کی طرف کی گئی ، اگرچہ ان اعمال میں ہاتھ کا کچھ بھی عمل دخل نہ ہو ۔ (آیت)” واللہ علیم بالظالمین “۔ ۔۔۔۔۔۔۔
Ayah 2:9696۔ (ولتجدنھم) اس میں لام ‘ لام قسم ہے اور نون قسم کی تاکید کے لیے ہے ، تقدیر عبارت یوں ہوگی ” واللہ لتجدنھم یا محمد “ اس سے مراد یہود (آیت)” احرص الناس علی حیاۃ ومن الذین اشرکوا “ کہا گیا ہے کہ یہ (آیت)” ومن الذین اشرکوا “ اول کے ساتھ متصل ہے یعنی مشرکوں سے بھی زیادہ زندگی پر حریص ہیں اور کہا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول ” علی حیاۃ “ پر بات تمام ہوگئی ۔ پھر (آیت)” ومن الذین اشرکوا “ سے مراد مجوس (آتش پرست) مراد ہیں ۔
ابوالعالیہ اور ربیع نے کہا مجوس کو مشرکین اس لیے کہا گیا کیونکہ وہ نور اور ظلمت کا قول کرتے ہیں (یعنی نور وظلمت اور خیر وشر کے خالق جدا جدا مانتے ہیں اور نور اور خیر کا خالق یزداں کو کہتے ہیں اور ظلمت اور شر کا خالق اھرمن کو تسلیم کرتے ہیں ، منجانب مترجم) ” یود “ ارادہ کرتا ہے آرزو کرتا ہے ” احدھم لو یعمر الف سنۃ “ یعنی ہزار سال زندگی کی آرزو کرتا ہے ، ہزار سالہ زندہ رہنا ان الفاظ کے ساتھ دعا کرنا مجوس کا باہمی سلام تھا اور کہتے تھے ” عش الف سنۃ وکل الف نیروز ومھرجان ‘ تو ہزار سال زندہ رہ اور ہزار نیروز اور مہر جان کھا (نیروز ، مہرجان، فارس میں دو عیدیں منائی جاتی تھیں)
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہود مجوس سے بھی زیادہ زندگی پر حریص ہیں جو کہ ہزار سال زندہ رہنے کی دعا کرتے تھے (آیت)” وما ھو بمزحزحہ “ اس کو دور کرنے والا نہیں ۔ (آیت)” من العذاب “ آگ سے ” ان یعمر “ اس کی عمر کا لمبا ہونا اسے عذاب سے دور نہیں کرے گا اور ” زحزح “ (فعل) متعدی بھی ہے لازم بھی ہے ، چناچہ کہا جاتا ہے ” زحزحتہ فتزحزح “ میں نے اس کو دور کیا ، پس وہ دور ہوگیا اور یوں بھی کہا جاتا ہے ” زحزحتہ فزحزح “ یعنی میں نے اس کو دور کیا ، پس وہ دور ہوگیا ۔ (آیت)” واللہ بصیر بما یعملون “ یعقوب نے تاء کے ساتھ پڑھا اور باقیوں نے یاء کے ساتھ ۔
Ayah 2:97(تفسیر) 97۔:
(آیت)” قل من کان عدوا لجبریل “ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں یہود کے بہت بڑے علماء میں سے ایک عالم جسے عبداللہ بن صوریا کہا جاتا تھا نے حضور ﷺ سے کہا آسمان سے کون سا فرشتہ تیرے پاس آتا ہے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا جبرئیل (علیہ السلام) اس یہودی عالم نے کہا فرشتوں میں سے جبرئیل (علیہ السلام) فرشتہ ہمارا دشمن ہے اگر وحی لانے والا میکائیل (علیہ السلام) فرشتہ ہوتا تو ہم آپ پر ایمان لاتے ۔
جبرئیل (علیہ السلام) تو ہمارے اوپر قتال اور سختی لے کر نازل ہوا اور اس نے ہمارے ساتھ بارہا دشمنی کی ہے اور ان دشمنیوں میں سے جو سخت دشمنی جبرئیل (علیہ السلام) نے ہم سے کی وہ یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی (علیہ السلام) پر یہ بات نازل فرمائی تھی کہ بیت المقدس ایک ایسے شخص کے ہاتھوں خراب ہوگا جیسے ” بخت نصر “ کہا جاتا ہوتا اور ہمیں اس وقت کی بھی خبر دی جس وقت وہ بیت المقدس کو خراب کرے گا ، جب اس کا وقت آیا تو ہم نے بنی اسرائیل میں سے ایک مضبوط انسان کو بخت نصر کی طلب مین بھیجا تاکہ اسے وہ قتل کرے ، ہمارا آدمی گیا ، یہاں تک کہ اسے بابل میں اس حال میں ملا جب کہ بخت نصر مسکین تھا ، لڑکا تھا ، ہمارے آدمی نے اسے پکڑا تاکہ اسے قتل کرے تو جبرئیل (علیہ السلام) نے اس کو بچایا پھر بخت نصر بڑا ہوا مضبوط ہوا اور اس نے ہم سے لڑائی لڑی اور بیت المقدس کو خراب کیا اس لیے ہم جبرئیل (علیہ السلام) کو دشمن کہتے ہیں تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی ، حضرت مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ یہود نے کہا کہ بیشک جبرئیل (علیہ السلام) ہمارا دشمن ہے اس لیے کہ جبرئیل (علیہ السلام) کو حکم دیا گیا تھا کہ نبوت ہمارے اندر کرے ، پس اس نے نبوت کا (منصب) ہمارے غیر میں کردیا ۔
حضرت قتادہ (رح) ، عکرمہ (رح) اور سدی (رح) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ کی مدینہ منورہ سے اوپر کی طرف زمین تھی اور ان کا گزرنا یہود کے مدارس کے پاس سے ہوتا تھا ، چناچہ حضرت عمر ؓ جب اپنی زمین پر جاتے تو یہود کے پاس بھی آتے اور ان سے کچھ سنتے ، یہود نے حضرت عمر ؓ سے کہا کہ اصحاب محمد ﷺ میں سے ہمارے نزدیک سب سے زیادہ محبوب آپ ہیں ، وہ ہمارے مدارس کے پاس سے گزرتے ہیں تو ہمیں ایذا دیتے ہیں اور آپ ہمیں ایذا نہیں دیتے بیشک ہم تم میں امید رکھتے ہیں ۔
حضرت عمر ؓ نے فرمایا اللہ کی قسم میں تمہارے پاس تمہاری محبت کی وجہ سے نہیں آتا اور نہ میں تم سے اس لیے پوچھ پاچھ کرتا ہوں کہ مجھے اپنے دین کے بارے میں شک ہے ، میں تو تمہارے پاس اس لیے آتا ہوں تاکہ مجھے حضور ﷺ کے بارے میں بصیرت کے لحاظ سے اضافہ ہو اور حضور ﷺ کی علامات تمہاری کتاب میں دیکھوں۔ اس پر یہود نے حضرت عمر ؓ سے کہا کہ فرشتوں میں سے کون ہے جو تمہارے نبی کے پاس آتا ہے ، حضرت عمر ؓ نے فرمایا حضرت جبرئیل (علیہ السلام) اس پر یہود نے کہا وہ ہمارا دشمن ہے جو محمد ﷺ کو ہمارے راز پر مطلع کرتا ہے اور حضرت جبرئیل (علیہ السلام) ہم پر عذاب ، دھنسانا ، قحط سالی ، اور ہر قسم کی سختی لانے والا ہے اور حضرت میکائل (علیہ السلام) جب بھی لاتا ہے تو خوشحالی لاتا ہے سلامتی لاتا ہے حضرت عمر ؓ نے ان کو فرمایا حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو جانتے ہو مانتے اور محمد پاک ﷺ کا انکار کرتے ہو انہوں نے کہا ہاں تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا مجھے بتاؤ کہ جبرئیل (علیہ السلام) اور میکائیل (علیہ السلام) کا اللہ تعالیٰ کے ہاں کیا مقام ہے وہ کہنے لگے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کی دائیں طرف ہیں اور میکائیل (علیہ السلام) بائیں طرف اور میکائل (علیہ السلام) حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کا دشمن ہے ۔
حضرت عمر ؓ نے فرمایا پس میں گواہی دیتا ہوں کہ بیشک جو شخص حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کا دشمن ہے پس وہ حضرت میکائیل (علیہ السلام) کا بھی دشمن ہے اور جو شخص حضرت میکائیل (علیہ السلام) کا دشمن ہے پس وہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کا بھی دشمن ہے جو شخص ان دونوں کا دشمن ہے تو اللہ تعالیٰ اس شخص کا دشمن ہے اس کے بعد حضرت عمر ؓ حضور ﷺ کے پاس لوٹ آئے تو حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو پایا کہ وہ وحی لے کر پہلے آچکے تھے تو حضور ﷺ نے یہ آیات پڑھیں پھر فرمایا اے عمر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) ! تیرے رب نے تیرے ساتھ موافقت کی ہے ۔
پس حضرت عمر ؓ نے فرمایا میں نے اس کے بعد اپنے آپ کو دین میں پتھر سے زیادہ سخت دیکھا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” قل من کان عدوا الجبریل فانہ “ یعنی جبرئیل (علیہ السلام) ” نزلہ “ یعنی قرآن کو یہ ضمیر راجع کی گئی ہے قرآن کریم کی طرف جو کہ پہلے مذکور نہیں ہے ” علی قلبک “ یا محمد ﷺ ” باذن اللہ “ اللہ تعالیٰ کے امر کے ساتھ (مصدقا) موافق ہے ” لمابین یدیہ “ ان کتابوں کے جو اس سے پہلے ہیں (آیت)” وھدی وبشری للمؤمنین “۔
Ayah 2:98(تفسیر) 98۔:
(آیت)” من کان عدو اللہ وملائکتہ ورسلہ و جبریل ومیکال “ جبرئیل ومیکائل (علیہما السلام) کو تمام فرشتوں میں سے خاص طور پر ذکر کیا حالانکہ یہ دونوں فرشتے اللہ تعالیٰ کے اس قول ” وملائکتہ “ میں داخل ہیں ، یہ محض فضیلت اور خاصل کرنے کے لیے جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ” فیھما فاکھۃ ونخل ورمان “ کھجور اور انار کو علیحدہ ذکر کیا حالانکہ یہ دونوں ” فاکھۃ “ کے اندر داخل ہیں یہ بھی فضیلت کے لیے ہے اور دونوں میں واؤ بمعنی او ہے یعنی جو ان میں سے کسی ایک کا دشمن ہے پس وہ سب کا دشمن ہے ۔
اس لیے کہ ایک کا کافر سب کے ساتھ کفر کرنے والا ہے (آیت)” فان اللہ عدود للکافرین “۔ حضرت عکرمہ ؓ فرماتے ہیں جبر، میک ، اسراف یہ سریانی زبان میں بمعنی عبد ہیں ، اور آل اور ایل یہ اللہ تعالیٰ ہے، دونوں کا معنی عبداللہ اور عبدالرحمن ہے اور ابن کثیر نے (جبرئیل علیہ السلام) جیم کی زبر کے ساتھ بغیر ہمزہ کے پڑھا ہے ” فعلیل “ کے وزن پر ۔ حضرت حسان ؓ فرماتے ہیں :
” و جبریل رسول اللہ فینا : وروح القدس لیس لہ کفائ “
حمزہ اور کسائی رحمہم اللہ نے ہمزہ کے ساتھ اور (کسرہ) کی اشباع کے ساتھ پڑھا ہے بروزن (سلسبیل) اور ابوبکر ؓ نے اختلاس کے ساتھ پڑھا ہے یعنی ہمزہ کے بغیر ” جبریل “ پڑھا اور باقیوں نے جیم کی کسرہ کے ساتھ بغیر ہمزہ کے پڑھا اور میکائیکل کو ابو عمر اور یعقوب اور حفص رحمہم اللہ نے (میکال) پڑھا ، جریر (رح) کہتا ہے ۔
عبدوا الصلیب وکذبوا بحمد وبجبرائیل وکذبوا میکال :
ایک اور کہتا ہے ۔
ویوم بدر لقیناکم لنا مدد فیہ مع نصر جبریل ومیکال “:
نافع اور اہل مدینہ ہمزہ کے ساتھ بھی پڑھا ہے اور اختلاس کے ساتھ بھی پڑھا ہے یعنی بغیر ہمزہ کے پڑھا بروزن مکال اور باقیوں نے ہمزہ اور اشباع کے ساتھ پڑھا بروزن میکائیل (علیہ السلام) ، ابن صوریا نے حضور ﷺ سے کہا تم ہمارے پاس کوئی ایسی چیز نہیں لائے ہو جس کو ہم پہچانتے ہوں ، پس اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ۔
Ayah 2:9999۔ (آیت)” ولقد انزلنا الیک ایات بینات “۔ واضح اور حلال و حرام اور حدود و احکام کی تفصیل کے ساتھ ۔ (آیت)” وما یکفربھا الا الفاسقون “ حکم خداوندی سے نکلنے والے ۔
Ayah 2:100100۔ (آیت)” اوکلما “ واؤ عطف پر الف استفہام داخل ہوئی ۔
(آیت)” وعاھدوا عھدا “ یعنی یہود نے معاہدہ کیا اگر (نبی آخر الزمان) حضرت محمد ﷺ تشریف لائے تو ہم ان کے ساتھ ضرور ایمان لائیں گے ، پس جب ان کی طرف حضور ﷺ تشریف لائے تو حضور ﷺ کے ساتھ انہوں نے کفر کیا حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں جب حضور ﷺ نے ان کو وہ عہد یاد دلایا جو اللہ تعالیٰ نے ان سے لیا تھا اور ان کو حضور ﷺ کے بارے میں تاکید کی تھی کہ آپ ﷺ پر ایمان لائیں گے تو مالک بن صیف نے کہا ” واللہ ماعھد الینا عھدا فی محمد “ کہ خدا کی قسم اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کے بارے میں کسی قسم کی تاکید نہیں کی پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ، اس پر ابو رجا۔
عطاردی کی قرات دلالت کرتی ہے جو کہ یوں ہے ” اوکلما عوھدوا ‘ پس عطاردی نے یہود کو مفعول بنایا ” مفعول مالم یسم فاعلہ “ حضرت عطاء (رح) فرماتے ہیں ان معاہدوں سے مراد وہ عہد ہیں جو کہ یہود اور حضور ﷺ کے درمیان تھے کہ یہود حضور ﷺ کے خلاف قتال میں مشرکین کی مدد نہیں کریں گے پس انہوں نے یہ معاہدہ توڑ دیا جیسے بنو قریظہ اور بنو نضیر کا عمل رہا ۔ اس مفہوم پر اللہ تعالیٰ کا یہ قول دلیل ہے (آیت)” الذین عھدت منھم ثم ینقضون عھدھم “ (وہ لوگ جن کے ساتھ آپ نے عہد کیا پھر انہوں نے اپنے عہد کو توڑ دیا) ” نبذہ “ اس کو پھینک دیا اور توڑ دیا ، ” فریق “ چند گروہ ” منھم “ یہود سے (آیت)” بل اکثرھم لا یؤمنون “۔
Ayah 2:101(تفسیر) 101۔:
(آیت)” ولما جاء ھم رسول من عندا للہ “ نبی کریم ﷺ (آیت)” مصدق لما معھم نبذ فریق من الذین اوتوا الکتاب کتاب اللہ وراء ظھورھم “ ۔ یعنی تورات اور کہا گیا ہے کہ یہاں کتاب اللہ سے مراد قرآن کریم ہے۔ (آیت)” کانھم لایعلمون “ علامہ شعبی (رح) فرماتے ہیں کہ وہ تورات پڑھتے تھے اور اس کے ساتھ عمل نہیں کرتے تھے ۔
سفیان بن عیینہ (رح) فرماتے ہیں تورات کو انہوں نے ریشم اور دیباج میں لپیٹا اور سونے اور چاندی کے زیورات چڑھائے اور اس پر عمل نہ کیا پس یہ ہے ان کا تورات کو پھینک دینے کا مفہوم۔
Ayah 2:102102۔ ” واتبعوا “ یعنی یہود ”(آیت)” ماتتلوا الشیطین “ جو کچھ انہوں نے تلاوت کی عرب مستقبل کو ماضی کی جگہ رکھا کرتے ہیں اور ماضی کو مستقبل کی جگہ پر اور کہا گیا ہے ” ماتتلوا “ بمعنی ” ماکانت تتلوا “ یعنی تقراء پڑھتے تھے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں ” تتلوا “ بمعنی پیروی کرتے ہیں اور اس کے ساتھ عمل کرتے ہیں ، حضرت عطا (رح) فرماتے ہیں ” تتلو “ بمعنی ” تحدث وتتکلم بہ “ یعنی بیان کرتے اور اس کے ساتھ بولتے (علی ملک سلیمان) یعنی اس کے ملک میں اور عہد میں آیت کریمہ کا قصہ یوں ہے ، شیاطین نے جادو لکھا اور شعبہد بازیاں ، آسف بن برخیا کی زبان پر لکھیں ، یہ وہ کچھ جو آصف بن برخیا نے سلیمان بادشاہ کو سکھائیں پھر شیاطین نے ان کتابوں کو حضرت سلیمان کے مصلی کے نیچے دفن کردیا ، حتی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے ملک چھین لیا ، حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو معلوم نہ ہوا ۔ جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) فوت ہوئے تو شیاطین نے ان کتابوں کو نکالا اور لوگوں کو کہا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اس جادو کے زور سے تم پر بادشاہ بنے رہے ، پس لوگوں نے اس جادو کو سیکھا ۔
بہرحال علماء وصلحاء بنو اسرائیل نے کہا ” معاذ اللہ “ یہ علم علم سلیمانی نہیں ہوسکتا ، بہرحال نچلے طبقہ کے لوگ (عوام الناس) کہنے لگے یہ علم سلیمانی ہے اور اس کے سیکھنے کے درپے ہوگئے اور انبیاء کرام (علیہم السلام) کی کتب کو چھوڑ دیا اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے خلاف ملامت عام ہوگئی اور یہی صورت حال باقی رہی ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو مبعوث فرمایا اور آپ ﷺ پر حضرت سلیمان کی برات (اس سفلی علم سے) نازل فرمائی ، یہ کلبی (رح) کا قول ہے سدی کہتے ہیں شیاطین آسمان کی طرف چڑھتے تھے اور فرشتوں کی کلام سنتے جس کا تعلق زمین کے حالات سے ہوتا کسی کی موت وغیرہ ۔
پھر وہ شیاطین کاہنوں کے پاس آتے اور جو کچھ آسمان سے کلام سنتے اس کے ہر کلمہ کے ساتھ ستر (70) جھوٹ ملاتے اور اس کی خبر کاہنوں کو دیتے ، لوگوں نے ان چیزوں کو لکھ لیا اور بنی اسرائیل میں یہ بات عام ہوگئی کہ جن غیب جانتے ہیں ۔ پس حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے لوگوں میں (کارندے) بھیجے اور ان کتابوں کو جمع کیا اور ان کتابوں کو صندوق میں رکھا ۔
اور وہ صندوق اپنی کرسی (تخت) کے نیچے دفن کردیا اور فرمایا کہ میں کسی کو یہ کہتے نہ سنوں کہ جن غیب جانتے ورنہ میں اس کی گردن مار دوں گا ، جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) دنیا میں تشریف لے گئے اور وہ علماء بھی ختم ہوگئے جو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے اس امر سے آگاہ تھے کہ انہوں نے صندوق میں کتابیں جمع کرکے کرسی کے نیچے دفن کی تھیں اور نالائق لوگ ان کے بعد آئے تو شیطان انسانی شکل میں بنی اسرائیل کے کچھ لوگوں نے پاس آیا اور کہا کہ میں تمہیں ایسا دفینہ نہ بتاؤں جو تم سے کبھی ختم نہ ہو ، انہوں نے کہا ضرور فرمائیے تو شیطان بولا کہ (سلیمان (علیہ السلام) کی) کرسی کے نیچے کھدائی کرو اور خود ان کے ساتھ جا کر اس جگہ کی نشاندہی کی اور خود ایک طرف کھڑا ہوگیا ، وہ لوگ بولے قریب ہو شیطان بولا میں قریب تو نہیں ہوتا لیکن وہ خزانہ یہاں ہے (کھودو) اگر نہ پاؤ تو مجھے قتل کردینا اور یہ اس لیے کہ جب بھی کوئی شیطان حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی کرسی کے نزدیک ہوتا تو وہ جل جاتا ، پس بنی اسرائیل کے ان لوگوں نے کھدائی کرکے وہ کتابیں نکالیں ، شیطان بولا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) جنات انسانوں اور شیطانوں ، پرندوں پر اس جادو کے ذریعے کنٹرول کرتے تھے ، پھر شیطان اڑ گیا اور یہ بات لوگوں میں عام ہوگئی ، کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) جادوگر تھا ، بنو اسرائیل نے وہ کتابیں اپنے قبضہ میں لے لیں ، یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر جادو یہود کے ہاں پایا جاتا ہے ، جب حضور ﷺ تشریف لائے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی جادو وغیرہ سے برات بیان فرمائی اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے عذر (برات) یہ نازل فرمایا (آیت)” وما کفر سلیمان “ جادو کر کے (حضرت سلیمانعلیہ السلام) نے کفر نہیں کیا تھا اور کہا گیا سلیمان (علیہ السلام) کافر نہ تھے ، جو جادو کرتے اور اس پر عمل فرماتے (آیت)” ولکن الشیاطین کفروا “ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ اور کسائی (رح) حمزہ (رح) نے ” لکن “ تخفیف نون کے ساتھ پڑھا ہے اور (شیاطین) کو رفع یعنی پیش کے ساتھ پڑھا اور باقیوں نے ” ولکن “ نون کی شد کے ساتھ پڑھا اور (شیاطین) کو زبر کے ساتھ پڑھا اور اسی طرح ” ولکن اللہ قتلھم “ اور (آیت)” ولکن اللہ رمی “ اور لکن کا معنی خبر ماضی کی نفی اور مستقبل کا اثبات ۔ (آیت)” یعلمون الناس السحر “ کہا گیا ہے سحر کا معنی علم اور کسی شئی کی مہارت ہے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” وقالوا یایھا الساحر ادع لناربک “ یعنی اے عالم اور صحیح بات یہ ہے کہ سحر ملمع سازی اور خیال میں ڈالنے کا نام ہے ، اہل السنت کے نزدیک سحر ایک موجود حقیقت ہے اور اکثر جماعتوں کا یہی مؤقف ہے لیکن سحر کا عمل کرنا کفر ہے ، حضرت امام شافعی (رح) سے منقول ہے وہ فرماتے ہیں کہ سحر کی تاثیرات عجیب ہیں ۔ خلاف واقع کو متخیل کردیتا ہے تندرست کو مریض کردیتا ہے اور بسا اوقات اس کے اثر سے قتل تک نوبت پہنچ جاتی ہے حتی کہ حضرت امام شافعی (رح) نے سحر کے ذریعے قتل کرنے والے پر قصاص واجب کیا ہے ، پس جادو شیطان کا عمل ہے جسے شیطان کی تعلیم کے سبب ساحر حاصل کرتا ہے ، جب شیطان سے حاصل کرتا ہے تو پھر اوروں میں اس کو عمل میں لاتا ہے اور کہا گیا ہے کہ جادو اشخاص واعیان میں بھی اثر کرتا ہے تو انسان کو گدھے کی شکل میں کردیتا ہے اور گدھے کو کتے کی شکل کردیتا ہے مگر زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ یہ محض خیال میں ڈالنا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ” یخیل الیہ من سحرھم انھا تسعی “۔
البتہ جادو جسم میں مرض ، موت ، جنون کے طور پر اثر کرتا ہے اور کلام کا بھی طبعتوں میں اور مزاج میں اثر ہوتا ہے ، کبھی انسان ناگوار کلام سنتا ہے جس سے وہ گرم ہوجاتا ہے اور غضب ناک ہوجاتا ہے اور کبھی اس سے موت بھی واقع ہوجاتی ہے ایک قوم کی موت کلام سے ہ ہوگئی تھی جو انہوں نے سنی تو یہ جادو بھی اور عوارض کی طرح ہے جو بدن میں اثر انداز ہوتے ہیں فرمان الہی (آیت)” وما انزل علی الملکین ببابل “ یعنی وہ کچھ سکھاتے جو ملکین پر نازل کیا گیا تھا ، یعنی بذریعہ الہام وعلم ، پس انزال بمعنی الہام وتعلیم کے ہے اور کہا گیا ہے کہ انہوں نے پیروی کی اس کی جو ملکین پر نازل کیا گیا تھا حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ اور حسن ؓ نے ” ملکین “ لام کی زیر کے ساتھ پڑھا ۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ دو جادوگر تھے جو بابل میں تھے ۔
حضرت حسن ؓ فرماتے ہیں دو عجمی کافر سردار تھے کیونکہ فرشتے جادو نہیں جانتے ، بابل سے مراد بابل عراق ہے بابل کو بابل اس لیے کہا جاتا ہے کہ نمرود کے محل کے گرنے کے وقت زبانیں خلط ملط ہوگئیں تھیں یعنی زبانیں جدا جدا ہوگئیں ، حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ بابل یہی کوفہ کی سرزمین کا نام ہے اور کہا گیا ہے کہ بابل دماوند پہاڑ کی جگہ واقع تھا ، معروف قرات ملکین لام کی زبر کے ساتھ ہے ، اگر کہا جائے کہ فرشتوں سے تعلیم سحر کیسے جائز ہے ؟ کہا جائے گا اس کی دو تاویلیں ہیں۔
پہلی تاویل یہ ہے کہ فرشتے عملا تعلیم سحر نہیں کرتے بلکہ جادو کا بیان کرتے ہیں اس کا باطل ہونا بیان کرتے ہیں اور جادو سے پرہیز کا حکم کرتے ہیں اور تعلیم بمعنی اعلام ہے (یعنی سکھلاتے نہیں بتلاتے ہیں) پس بدبخت ان دونوں کی نصیحت چھوڑتا ہے اور ان کی ہنرمندی سے جادوگری سیکھتا اور اللہ کے ساتھ کفر کرتا اور جو سعید ازلی تھا وہ ترک کردیتا اور ایمان پر باقی رہتا اور وہ دونوں فرشتے سحر کے بطلان کو ظاہر کردیتا اس سے بچنے کا حکم فرماتے ، پس اس میں سیکھنے والے کے لیے بھی امتحان ہے اور سکھلانے والے کے لیے بھی اور اللہ تعالیٰ کو حق پہنچتا ہے کہ اپنے بندون کا جس طرح چاہے امتحان لے ، اسی کا اختیار ہے اور اسی کا حکم ہے ۔
” ھاروت وماروت “ دونوں سریانی نام ہیں اور دونوں محل خفض میں ہیں یعنی مجرور (زیر والے) ہیں کیونکہ ہاروت وماروت ملکین کی تفسیر ہیں مگر دونوں لفظوں میں زبر دی گئی (زیر نہیں دی گئی) بوجہ عجمہ اور معرفہ یعنی علم (نام) ہونے کی وجہ (کیونکہ اس طرح دونوں غیر منصرف ہوگئے) اور ان کا قصہ جیسے کہ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ اور مفسرین نے بیان کیا ، بیشک فرشتوں نے انسانوں کے برے اعمال کو آسمانوں کی طرف حضرت ادریس (علیہ السلام) کے زمانہ چڑھتے دیکھا تو فرشتوں نے عجیب جوئی کی اور کہا یا اللہ ! کیا یہی ہیں جن کو تو نے زمین میں اپنا خلیفہ بنا رکھا ہے اور ان کو منتخب کر رکھا ہے (فضیلت کے لیے) اور یہ آپ کی نافرمانی کرتے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا اگر اے فرشتو ! میں تمہیں زمین میں اتاروں اور تمہارے اندر وہی چیز رکھ دوں جو میں نے اولاد آدم (علیہ السلام) میں رکھی ہے (نفسانی خواہشات) تو تم بھی وہی اعمال بد کرو گے جو اولاد آدم کر رہی ہے ، فرشتے بولے سبحان اللہ ہمارے لیے یہ مناسب نہیں کہ ہم تیری نافرمانی کریں ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا دو فرشتے منتخب کرو جو تم میں سے بہت بہتر ہوں ، میں ان کو زمین کی طرف اتاروں گا تو فرشتوں نے ہاروت وماروت کا انتخاب کیا جو کہ فرشتوں میں سے صالح ترین اور عابد ترین تھے ۔
کلبی (رح) کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کو فرمایا تین فرشتوں کا انتخاب کرو تو انہوں نے عزائیل جو کہ ہاروت ہے اور عزایا کو جو کہ ماروت ہے انہوں نے گناہ کے ارتکاب پر اپنے ناموں کو بدل ڈالا ، پس اللہ تعالیٰ نے ان میں شہوت کو رکھ دیا اور ان کو زمین کی طرف اتارا اور ان کو حکم دیا کہ لوگوں کے درمیان حق کے مطابق فیصلے کریں اور ان کو شرک اور قتل ناحق ، زنا اور شراب پینے سے منع کیا ، بہرحال عزائیل کے دل میں جب شہوت نازل ہوئی تو رب تعالیٰ سے حیا کی وجہ سے سرجھکائے رکھا بہرحال باقی دو اس پر ثابت رہے سارا دن لوگوں کے درمیان فیصلہ کرتے تھے جب شام کرتے اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم لیتے اور اس کے باعث آسمان کی طرف چڑھ جاتے ۔
حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں کہ ابھی ان پر ایک مہینہ بھی نہ گزرا تھا کہ فتنہ میں مبتلا ہوگئے سب کہتے ہیں کہ اس طرح ہوا کہ ان دونوں کی طرف ایک دن زہرہ جھگڑا لے کر آئی ، یہ عورت عورتوں میں سے خوبصورت ترین عورت تھی ، حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ اہل فارس میں سے تھی اور علاقہ کی ملکہ تھی ، جب ان دونوں فرشتوں نے اس عورت کو دیکھا تو اس عورت نے ان کے دلوں کو اپنی گرفت میں لے لیا ، پس ان دونوں میں نے اس عورت کو ورغلایا ، پر وہ نہ مانی اور واپس چلی گئی ۔ دوسرے دن پھر آئی چناچہ دوسرے دن بھی ان دونوں نے اسی طرح کیا یعنی اس عورت کو ورغلایا ، اس دن بھی اس عورت نے انکار کیا اور کہا ایسا نہیں ہوسکتا ۔ یہاں تک کہ تم اس بت کی عبادت کرو جس کی میں عبادت کرتی ہوں اور اس کی طرف نماز پڑھو، ان دونوں نے کہا کہ ان سب چیزوں کی طرف ہمارا راستہ بالکل نہیں ، بیشک اللہ تعالیٰ نے ہمیں منع کیا ہے ، پس زہرہ عورت چلی گئی ، پھر تیسرے دن آئی اور اس کے ساتھ شراب کاپیالہ تھا اور ان دونوں کے دل میں اس عورت کی طرف میلان تھا ، دونوں نے اس کو ورغلایا ، اس عورت نے وہی کل والی شرائط پھر پیش کیں، انہوں نے کہا کہ غیر اللہ کی طرف نماز بڑا گناہ ہے اور بےگناہ قتل بھی (گناہ) عظیم ہے اور ان تینوں میں سے جو آسان کام ہے وہ شرب خمر ہے پس دونوں نے شراب پی اور نشہ میں آگئے اور اس عورت سے زنا کیا، ان دونوں کو ایک شخص نے دیکھا ، انہوں نے اس کو قتل کردیا ، ربیع بن انس ؓ کہتے ہیں کہ ان دونوں فرشتوں نے بت کو سجدہ بھی کیا ، پس اللہ تعالیٰ نے زہرہ کو ستارے کی شکل میں مسخ کردیا ۔
بعض نے کہا ان کے پاس حسین ترین عورت آئی اور اپنے خاوند کے سلسلہ میں جھگڑا کیا ، ان دو میں سے ایک نے دوسرے کو کہا کہ کیا تیرے دل میں بھی وہی بات (شہوت) آگئی ہے جو میرے دل میں واقع ہوئی ہے ؟ دوسرے نے کہا ہاں پس اس نے کہا کہ تو اس عورت کے حق میں اور اس کے خاوند کے خلاف فیصلہ دے گا ؟ اس کے ساتھی نے کہا کیا تو جانتا نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی کتنی سزا اور عذاب ہے ؟ دوسرے ساتھی نے کہا کہ کیا تو جانتا نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ہاں عفو ورحمت کس قدر ہے ؟ پس دونوں نے اس عورت سے (اپنی خواہش) طلب کی پس اس عورت نے کہا نہیں مگر یہ کہ تم دونوں میرے حق میں اور میرے خاوند کے خلاف فیصلہ دو ، پس انہوں نے اسی طرح فیصلہ دیا پھر اس عورت کے نفس کے بارے میں سوال کیا ، اس عورت نے کہا کہ نہیں مگر یہ کہ میرے خاوند کو قتل کرو تو ایک نے دوسرے سے کہا کہ تو جانتا نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کس قدر سزا اور عذاب ہے ؟
اس کے ساتھی نے اس سے کہا کیا تو جانتا نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں عفو ورحمت کس قدر ہے پس اس کے خاوند کو انہیں نے قتل کر ڈالا پھر ان دونوں نے اس عورت سے اس کے نفس سے متعلق درخواست کی ، عورت نے کہا کہ نہیں مگر یہ کہ ہمارا ایک ہے جس کی ہم عبادت کرتے ہیں اگر تم میرے ساتھ مل کر اس بت کے پاس نماز پڑھو گے تو تمہاری مراد پوری کروں گی ۔
پس ایک نے دوسرے سے وہی کہا جیسے اس نے پہلے سے کہا تھا اور اس کے ساتھی نے بھی اس کو وہی کچھ جواب دیا جیسا کہ پہلے نے جواب دیا تھا چناچہ ان دونوں نے اس کے ساتھ مل کر (بت کے پاس) نماز پڑھی پس وہ عورت ستارے کی شکل میں مسخ کردی گئی ۔
سیدنا حضرت علی ؓ فرماتے ہیں اور کلبی وسدی رحمہم اللہ بھی کہتے ہیں کہ اس عورت نے کہا کہ تم مجھے حاصل نہیں کرسکتے یہاں تک کہ مجھے اس کی خبر دو جس کے ذریعے تم آسمان کی طرف چڑھتے ہو دونوں فرشتوں نے کہا اللہ تعالیٰ کے اسم اکبر کے باعث ۔ وہ کہنے لگی تم مجھے نہیں پاسکتے حتی کہ تم مجھے وہ اسم اکبر سکھلاؤ تو ایک نے دوسرے کو کہا وہ اس کو سکھا دے ، اس نے کہا میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں ، دوسرے نے کہا پھر اللہ تعالیٰ کی رحمت کہاں گئی ؟ پس انہوں نے وہ اسم اعظم اس عورت کو سکھلا دیا۔
پس اس عورت نے وہ اسم اعظم بولا اور آسمان کو چڑھ گئی پس اللہ تعالیٰ نے اس کو ستارے کی شکل میں مسخ کردیا بعض اس طرف گئے ہیں کہ یہ زہرہ ستارہ ” بعینھا “ وہی عورت ہے اور دوسروں نے اس کا انکار کیا ہے کہ بیشک زہرہ ستارہ ان سات ستاروں میں سے ہے جن کی اللہ تعالیٰ نے قسم اٹھائی ہے پس فرمایا (آیت)” فلا اقسم بالخنس الجوار الکنس “ اور جس عورت نے ہاروت وماروت کو فتنے میں ڈالا اس کا نام زہرہ اس کے حسن و جمال کے باعث تھا جب اس نے بدکاری کی تو اللہ تعالیٰ نے اسے ستارے کی شکل میں مسخ کردیا ۔
کہتے ہیں کہ ہاروت وماروت نے اس گناہ کے ارتکاب کے بعد اس دن شام کو آسمان کی طرف چڑھنا چاہا تو ان کے پروں نے ان کا ساتھ نہ دیا ، پس وہ جان گئے جو کچھ ان پر بلا نازل ہوئی دونوں نے حضرت ادریس (علیہ السلام) کا قصد کیا اور اپنے امر کی خبر دی اور حضرت ادریس (علیہ السلام) سے درخواست کی کہ اللہ تعالیٰ کے حضور ہماری شفاعت فرما دیں، حضرت ادریس (علیہ السلام) سے انہوں نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ آپ کے نیک اعمال آسمان کی طرف اتنی مقدار میں چڑھتے ہیں جتنے اعمال خیر پوری مخلوق کے ہیں پس اپنے رب کے حضور ہماری سفارش کیجئے ، حضرت ادریس (علیہ السلام) نے شفاعت کی ، اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں کو دنیا اور آخرت کے عذاب کے مابین اختیار دیا (کہ ان دونوں عذاب میں سے جو چاہو قبول کرلو) ان دونوں نے دنیا کے عذاب کو اختیار کیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ دنیا کا عذاب ختم ہوجائے گا ، پس وہ دونوں بابل میں عذاب دیئے جاتے ہیں ، انہوں (مفسرین) نے عذاب کی کیفیت میں اختلاف کیا ہے ۔
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں وہ دونوں اپنے بالوں کے ساتھ لٹکے ہوئے ہیں تاقیام قیامت لٹکے رہیں گے حضرت عطاء بن ابی رباح (رح) فرماتے ہیں ان دونوں کے سر ان کے پروں کے نیچے جھکے ہوئے ہیں ، حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں ان دونوں کو قدموں سے لے کر رانوں سمیت تک زنجیروں میں جکڑا گیا ہے ، حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں ان دونوں کو آگ سے بھرے کنویں میں رکھا گیا ہے ، حضرت عمر بن سعد ؓ فرماتے ہیں دونوں اوندھے منہ ہیں اور لوہے کے ڈنڈوں سے مارا جاتا ہے روایت کیا گیا ہے کہ بیشک ایک شخص نے ہاروت ماروت کا قصد کیا تاکہ ان سے جادو سیکھے ، پس دونوں کو پاؤں کے ساتھ لٹکا ہوا پایا دونوں کی آنکھیں نیلگوں تھیں اور چمڑے سیاہ ان کی زبانوں اور پانی کے درمیان صرف چار انگلی کا فاصلہ تھا اور انہیں پیاس کا عذاب دیا جا رہا تھا ۔
جب اس نے یہ دیکھا تو خوفزدہ ہوگیا اور کہا ” لاالہ الا اللہ “ جب ان دونوں نے سنا تو پوچھا تو کون ہے ؟ اس نے کہا میں ایک انسان ہوں ، انہوں نے پوچھا کس امت سے ہو، اس آدمی نے جواب دیا امت محمد ﷺ سے ، انہوں نے پوچھا کیا حضور ﷺ مبعوث ہوچکے ہیں اس نے کہا ہاں ! دونوں نے کہا الحمد للہ اور خوشی کا اظہار کیا، اس آدمی نے پوچھا تمہارا خوش ہونا کس لیے ہے ؟ انہوں نے کہا وہ نبی الساعۃ ہیں، ہمارے عذاب کا ختم ہونا قریب ہوچکا ہے ۔
(آیت)” وما یعلمان من احد “ یعنی کسی کو ایک کو (نہیں سکھاتے) اور من صلہ ہے (حتی) اسے پہلے نصیحت کرتے ہیں ۔ (آیت)” یقولا انما نحن فتنۃ “ آزمائش و امتحان ہیں ۔ (آیت)” فلا تکفر “ یعنی جادو نہ سیکھ ، پس تو اس پر عمل کرے گا ، پھر کفر کر بیٹھے گا ۔ ” فتنۃ “ کا اصل معنی آزمائش و امتحان ہے ۔ اہل عرب کے اس قول سے مشتق ہے ۔ (آیت)” فتنت الذھب والفضۃ “ یہ جملہ اس وقت کہا جاتا ہے جب تو سونے چاندی کو آگ میں پگھلائے تاکہ کھرا کھوٹا معلوم ہو، فتنہ مفرد اس لیے ذکر کیا گیا حالانکہ وہ دو ہیں کیونکہ فتنۃ مصدر ہے اور مصادر تثنیہ جمع نہیں آتیں اور کہا گیا ہے وہ (آیت)” انما نحن فتنۃ فلا تکفر “ بعض مفسرین کا قول ہے وہ فرشتے سیکھنے والے کو سات دفعہ یہی نصیحت کرتے تھے ۔ حضرت عطاء (رح) اور سدی (رح) کہتے ہیں کہ جب سیکھنے والا سیکھنے پر اڑ جاتا تو اس کو کہتے ہیں اس راکھ پر جا اور اس پر پیشاب کر وہ پیشاب کرتا ہے اور پیشاب کرتے ہی اس کے اندر سے ایک چمکتا ہوا نور نکلتا اور آسمان کی طرف چلا جاتا ، یہ ایمان اور معرفت کا نور ہوتا اور اوپر سے ایک سیاہ چیز دھوئیں کی مانند اترتی ہے اور اس شخص کے کانوں میں داخل ہوجاتی ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا غضب ہوتا ہے ۔
(اہم نوٹ) : ۔۔۔۔۔۔ منجانب مترجم : ۔ ہاروت وماروت سے متعلق یہ مکمل قصہ مستند نہیں ، اس لیے اس سے مکمل احتراز کرنا چاہیے اس کے غلط ہونے کی وجوہ : ۔
1۔ فرشتے بالاجماع معصوم ہیں اور گناہ کبیرہ کا صدور منافی عصمت ہے ۔
2۔ ان دونوں فرشتوں کو اس عذاب شدید میں گرفتار ہونے کے بعد تعلیم سحر کی فرصت کہاں اور لوگوں کو ان تک رسائی اور ان سے اختلاط کیسے ممکن تاکہ سلسلہ تعلیم و تعلم ہو سکے ۔
3۔ فاسقہ وفاجرہ عورت کو اس خباثت کے باوجود کس طرح ممکن ہوا کہ وہ اسم اعظم کی تاثیر سے آسمان پر چڑھ سکے۔
4۔ مسخ و تبدیل صورت عذاب کی ایک صورت ہوتی ہے جس میں تحقیر و اہانت ہوتی ہے ستارہ درخشندہ وتابندہ کی شکل میں ہوجانا اور آسمان پر جگہ پالینا یہ تو کمال تعظیم ہے نہ کہ حقارت۔
5۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر تم میں شہوت رکھی گئی تو معاصی کرو گے اور جواب میں فرشتوں کا یہ کہنا کہ نہیں ہم نہیں کریں گے یہ قول فرشتوں کا باری تعالیٰ کی تکذیب بھی ہے اور تجہیل بھی ، اس قسم کا قول تو محض ایمان کے بھی منافی چہ جائیکہ فرشتے یہ قول کریں ۔
فائدہ : تمام علوم من جانب اللہ ہوتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے علوم دینیہ اپنی مخلوق تک پہنچانے کے لیے انبیاء ورسل (علیہم السلام) کا انتخاب کیا اور علم سحر کو انسانوں تک پہنچانے کے لیے ان دو فرشتوں کو ذریعہ بنایا ، مذکورہ بنایا ، مذکورہ بالا مضمون تفسیر عزیزی سے ماخوذ ہے ۔
حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں بیشک ہاروت وماروت تک کوئی بھی نہیں پہنچ سکتا اور ہر مسئلہ میں ان کے درمیان ایک دفعہ شیطان آتا جاتا ہے ۔ (آیت)” فیتعلمون منھما ما یفرقون بہ بین المرء وزوجہ “ اور وہ کہ ہر ایک کو دوسرے (ساتھی) سے الگ کرلیا جائے اور ایک کو دوسرے کی (نظر میں) طرف مبغوض کردیا جائے ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ” وما ھم “ کہا گیا ہے یعنی جادوگر اور کہا گیا ہے یعنی شیاطین ” بضارین بہ “ یعنی جادو کے ساتھ (من احد) یعنی کسی ایک کو ” الا باذن اللہ “ یعنی اللہ تعالیٰ کے علم اور تکوینی فیصلہ کے ساتھ ، پس جادوگر جادو کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے وجود میں (تاثیر کو) لاتے ہیں ، سفیان ثوری (رح) فرماتے ہیں اس کا معنی ہے مگر اللہ تعالیٰ کے تقدیری فیصلہ اور قدرت مشیت کے ساتھ (آیت)” ویتعلمون مایضرھم “ یعنی جادو ان کو نقصان دیتا ہے (آیت)” ولا ینفعھم ولقد علموا “ مراد یہود ہیں (آیت)” لمن الشتراہ “ یعنی جادو اختیار کیا (آیت)” مالہ فی الاخرۃ “ یعنی جنت میں (من خلاق) کوئی حصہ (آیت)” لبئس ما شروا بہ “ بیچا اس کے ساتھ ” انفسھم “ اپنی ذات کا حصہ جبکہ انہوں نے جادو اور کفر کو دین اور حق پر اختیار کیا (آیت)” لو کانوا یعلمون “
اعتراض : اللہ تعالیٰ نے پہلے فرمایا (آیت)” ولقد علموا لمن الشتراہ “ البتہ تحقیق انہوں نے جان لیا تو اب (آیت)” لوکانوا یعلمون “ فرمانا چہ معنی دونوں کے مفہوم میں ٹکڑاؤ ہے جبکہ پہلے اللہ تعالیٰ فرما چکے ہیں وہ جان گئے ؟ اب فرمایا (آیت)” لو کانوا یعلمون “
جواب میں کہا گیا ہے (آیت)” ولقد علموا “ سے مراد شیاطین ہیں اور (آیت)” لوکانوا یعلمون “ سے مراد یہود ہیں اور کہا گیا ہے دونوں جگہ یہود مراد ہیں لیکن جب یہود نے اپنے علم کے مطابق عمل نہ کیا گویا انہوں نے نہ جانا ۔
Ayah 2:103(تفسیر)” 103۔:
(آیت)” ولوانھم امنوا “ محمد کریم ﷺ اور قرآن کے ساتھ ایمان لاتے ۔ (آیت)” واتقوا “ یہودیت اور جادو سے بچنے (آیت)” لمثبوبۃ من عند اللہ خیر “ البتہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والا ثواب ان کے لیے بہتر ہوتا ۔ (آیت)” لوکانوا یعلمون “۔
Ayah 2:104104۔ (آیت)” یایھا الذین امنوا لا تقولوا راعنا “ یہ اس لیے فرمایا کہ مسلمان بھی راعنا یا رسول اللہ کہتے تھے اور یہ ” راعنا مراعاۃ “ سے مشتق مراد لیتے تھے جس کے معنی تھے کہ اپنی سمع کو ہم سب کے لیے فارغ کیجئے کہا جاتا ہے ” ارعی اللہ الشئی وارعاہ “ یعنی اس کی طرف کان لگایا (توجہ کی) اور غور سے سنا اور یہ لفظ یعنی ” راعنا “ لغت یہود میں بری گالی تھی ، کہا گیا ہے ان کے نزدیک اس کا معنی سن خدا کرے نہ سنوایا جائے اور کہا گیا ہے کہ یہ لفظ ” راعنا رعونۃ “ سے تھا جب کسی انسان کو بےوقوفی کی طرف منسوب کرنا مقصود ہوتا تو راعنا کہتے بمعنی اے احمق ! جب مسلمانوں کو یہود نے راعنا کہتے سنا تو آپس میں کہنے لگے ہم تو محمد ﷺ کو سرا گالی دیتے تھے اور یہ مسلمان تو علانیہ گالی دے رہے ہیں ، چناچہ یہود حضور ﷺ کے پاس آتے اور کہتے راعنا یا محمد ! پھر آپس میں ہنستے ، چناچہ حضرت سعد بن معاذ ؓ نے جب یہود سے سنا تو سب کچھ سمجھ گئے اور حضرت سعد بن معاذ ؓ ان کی لغت کو جانتے تھے تو حضرت سعد ؓ نے یہود کو فرمایا اگر میں نے تم میں سے کسی ایک کو حضور ﷺ کو راعنا کہتے سنا تو میں اس کی گردن مار دوں گا ۔
اس پر یہود نے کہا کیا تم راعنا نہیں کہتے ہو ، اس پر اللہ تعالیٰ نے (آیت)” لاتقولوا راعنا “ والی آیت نازل فرمائی تاکہ اس سے یہود حضور ﷺ کو گالی دینے کی راہ نہ پائیں ۔
فرمایا (آیت)” وقولوا انظرنا “ یعنی ہماری طرف دیکھو اور کہا گیا ہے کہ ” انظرنا کا معنی ہے ” انتظرنا وتان بنا “ یعنی ہمارا انتظار کریں اور توقف کریں ، کہا جاتا ہے ” نظرت “ فلانا ” وانتظرتہ “ یعنی میں نے فلاں کو مہلت دی اور اس کا انتظار کیا اور اسی سے اللہ تعالیٰ کا یہ قول :
(آیت)” انظرونا نقتبس من نورکم “ حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ ” انظرنا “ کا معنی ” فھمنا “ یعنی ہمیں سمجھائیے ” واسمعوا “ جس چیز کا تم حکم دیئے جا رہے ہو (اسے سنو) اور اطاعت کرو ” وللکافرین “ یعنی یہود کیلئے ” عذاب الیم “ ۔
Ayah 2:105(تفسیر) 105۔: (آیت)” مایود الذین کفروا من اھل الکتاب “ اور یہ اس طرح کہ بیشک جب مسلمان اپنے حلیفون کو جو یہود تھے یہ کہتے کہ حضور ﷺ پر ایمان لاؤ تو جواب دیتے تم جس چیز کی طرف ہمیں بلاتے ہو وہ ہمارے دین سے بہتر نہیں اگر بہتر ہوتا تو ہم ضرور اسے پسند آتے ، ان کی تکذیب کیلئے حق تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ یہود قطعا اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ تم پر اے میرے نبی کے صحابیو کسی قسم کی خیر نازل ہو (آیت)” ولاالمشرکین “ اور نہ ہی مشرکین کو یہ پسند ہے، مشرکین کے لفظ کا مجرور ہونا من کے زیر ترتیب آجانے کی وجہ سے ہے ۔
(آیت)” ان ینزل علیکم من خیر من ربکم “ یعنی خیر اور نبوت اور (آیت)” من یشاء واللہ ذوالفضل العظیم “ فضل کا معنی بغیر کسی سبب کے ابتداء احسان کرنا اور کہا گیا ہے کہ رحمت سے مراد اسلام اور ہدایت ہے اور کہا گیا ہے کہ آیت کا معنی اس طرح ہے کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام (علیہم السلام) کو اولاد حضرت اسحاق (علیہ السلام) سے بھیجا ، پھر جب اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی نسل میں سے مبعوث فرمایا تو یہود کو تو یہ بات اس لیے اچھی نہ لگی کہ نبی آخر الزمان کی بعثت بنو اسحاق وبنو اسرائیل سے کیوں نہ ہوئی اور مشرکین کو حضور ﷺ کا نبی ہونا اس لیے اچھا نہ لگا کہ آپ پر نازل ہونے والی کتاب ہدایت قرآن نے مشرکین کی بت پرستی کی بنیاد پر رسوائی کی اور ان کے معبودوں کو عیب لگایا پس یہ آیت نازل ہوئی ۔
Ayah 2:106106۔ (آیت)” ما ننسخ من ایۃ اوننسھا “ اور یہ اس طرح کہ مشرکین کہنے لگے کہ بیشک حضرت محمد ﷺ اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو ایک دن کسی چیز کا حکم دیتے ہیں پھر اسی سے ان کو روکتے ہیں اور اس کے برخلاف کرنے کا حکم دیتے ہیں ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو کچھ یہ کہتے ہیں اپنی طرف سے کہتے ہیں ۔ آج ایک بات کی اور کل اس سے رجوع کرلیا ، جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی (آیت)” واذا بدلنا ایۃ مکان ایۃ واللہ اعلم بما ینزل “ انہوں نے کہا آپ (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صرف مفتری ہیں ، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائیں (آیت)” ماننسخ من ایۃ اوننسھا “ تو اس آیت کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے نسخ کی حکمت بیان فرمائی ۔
لغوی طور پر نسخ کے دو معنی ہیں۔
(1) نقل کرنا اور ایک جگہ سے دوسری جگہ پھیرنا ، اسی سے نسخ الکتاب یعنی مضمون الکتاب کو ایک جگہ سے دوسری جگہ نقل کیا ، نسخ کے اس معنی کے اعتبار سے پورا قرآن کریم منسوخ ہے اس لیے کہ قرآن کریم کو لوح محفوظ سے نقل (کرکے دنیا میں بھیجا گیا) کیا گیا ۔
(2) نسخ کا دوسرا معنی رفع اٹھا لینا ہے ، چناچہ کہا جاتا ہے ” نسخت الشمس الظل “ یعنی دھوپ نے سائے کو اٹھا لیا اسے ختم کردیا ، اس معنی کی رو سے بعض قرآن ناسخ اور بعض قرآن منسوخ ہوگا اور آیت کریم میں نسخ کا یہی معنی مراد ہے اور اس قسم کے نسخ کی کئی صورتیں ہیں ۔
1۔ خط یعنی الفاظ موجود اور حکم منسوخ ۔ جس طرح وہ آیت جس میں رشتہ داروں کے لیے وصیت کرنے کا حکم ہے اور وہ آیت جس میں عدت وفات کے لیے سال کا حکم ہے اسی طرح وہ آیت جس قتال میں تخفیف کی گئی (یعنی پہلے دس گنا دشمن کے بالمقابل ڈٹ جانے کا حکم تھا ، بعد میں گھٹا کر یہ تعداد دوگنا کردی گئی ، اگر اس سے بھی دشمن زیادہ ہو تو پسپائی کا جواز ہے) اسی طرح آیت ممتحنہ اور اس قسم کی دوسری آیات حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ ” ماننسخ میں آیۃ “ کا معنی کرتے ہیں کہ جس کا ہم خط باقی رکھیں اور حکم بدل دیں۔
2۔ اور نسخ میں سے ایک یہ ہے کہ تلاوت اٹھا لیں اور حکم باقی رکھا جائے جیسے آیت رجم۔
3۔ اور ایک نسخ یہ ہے کہ بالکل ہی قرآن کریم سے بھی اٹھالی جائے اور دلوں سے بھی محو کردی جائے جس طرح کہ حضرت ابوامامہ بن سھل بن حنیف سے مروی ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین میں سے کچھ لوگ رات کو کھڑے ہوئے تاکہ سورة پڑھیں مگر اس سورة میں سے ان کو سوائے بسم اللہ کے کچھ یاد نہ رہا ، پس صبح کو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، آپ کو خبر دی تو حضور ﷺ نے فرمایا اس سورة کی تلاوت اور احکام اٹھائے جا چکے ہیں اور کہا گیا ہے کہ سورة احزاب سورة بقرہ کی طرح تھی ، اس کا اکثر حصہ تلاوت و احکام کے لحاظ سے اٹھا دیا گیا یعنی منسوخ کردیا گیا۔
4۔ پھر نسخ حکم کی ایک قسم یہ بھی ہے کہ حکم اٹھائے جانے کے بعد اس کی جگہ اور حکم رکھا دیا جائے جیسے کہ بیت المقدس کا قبلہ ہونا منسوخ ہو ، اس کی جگہ کعبہ مکرمہ کو قبلہ مقرر کردیا گیا ، اسی طرح خویش و اقارب کے لیے وصیت کرنے کا حکم منسوخ ہوا تو اس کی جگہ میراث کا حکم نافذ کردیا گیا ، عدۃ الوفات یعنی جس عورۃ کا خاوند فوت ہوجائے اس کی عدت ایک سال تھی اسے منسوخ کیا گیا اس کی جگہ چار ماہ دس دن کی عدت مقرر کردی گئی ، میدان قتال میں ایک مجاہد کا دس کے مقابلہ میں ثابت رہنے کا حکم منسوخ ہوا تو اس کی جگہ ایک مجاہد کا دو کے مقابلے میں جما رہنے کا حکم دے دیا گیا۔
5۔ اور نسخ کی ایک قسم یہ ہے کہ حکم منسوخ کیا گیا مگر اس کی جگہ کوئی اور حکم نہ رکھا گیا جیسے کہ عورتوں کا (ایمان کے لحاظ سے) امتحان لینا منسوخ ہوا مگر اس کی جگہ کوئی حکم نہیں دیا گیا ۔
فائدہ : نسخ اوامر ونواہی (یعنی احکام) کا ہوتا ہے ، اخبار (یعنی قصص وغیرہ) میں نہیں ، بہرحال آیت پس اللہ تعالیٰ کا یہ قول ” ماننسخ من آیۃ “ عام حضرات کی قراۃ نون اور سین کی زبر کے ساتھ سے نسخ سے مشتق ہے یعنی اٹھنا ، ابن عاصم نے ننسخ کو پہلے نون کی پیش کے ساتھ اور سین کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے ، انساخ سے مشتق کرکے اور اس کی دو وجہیں ایک بمعنی یہ کہ ہم اس کو منسوخ میں کردیتے ہیں ، دوسرا معنی یہ کہ ہم اس کو منسوخ میں آپ کے لیے نسخہ بنا دیتے ہیں ، (جدید عربی میں نسخہ بمعنی کاپی ، نقل ، مثنی ڈپلی کیٹ کے آتے ہیں)
کہا جاتا ہے ” نسخت الکتاب “ یعنی کو میں نے لکھا اور ” انسختہ غیری “ جب کہ اس کے لیے نسخہ بنا کر دے یعنی ایک کاپی اس کی اس کر دے ۔ ” اوننسھا “ یعنی ہم اس کو آپ کے دل سے بھلا دیں حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں ہم اس کو چھوڑ دیتے ہیں منسوخ نہیں فرماتے ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” نسوا اللہ فنسیھم “ یعنی انہوں نے اس کو چھوڑ دیا ، پس اس نے ان کو چھوڑ دیا اور کہا گیا ہے کہ ” ننسھا “ کا معنی ہے ہم اس کو چھوڑ دینے کا حکم دیتے ہیں ، کہا جاتا ہے ” انسیت الشیئ “ جب تو نے اس کو چھوڑ دینے کا حکم دیا ہو ، پس نسخ اول یہ ہوگا کہ حکم کو اٹھا دیا گیا اور اس کی جگہ اور حکم رکھ دیا گیا اور انساء کا معنی ہوگا نسخ کرنا اور اس کے قائم مقام اور حکم نہ رکھنا ابن کثیر اور ابو عمرو نے ” اوننساھا “ پڑھا پہلے نون کی اور سین کی زبر کے ساتھ اور ہمزہ کے ساتھ یعنی ہم اس کو مؤخر کردیتے ہیں اور اس کو تبدیل نہیں کرتے کہا جاتا ہے ” نسا اللہ “ فی اجلہ یا ” انسا اللہ اجلہ “ دونوں کا ایک معنی ہے یعنی اس کی عمر بڑھا دی موت مؤخر کردی ، اس کے معنی میں دو قول ہیں ایک یہ کہ ہم اس کی تلاوت اٹھا دیتے ہیں اور اس کا حکم مؤخر کردیتے ہیں جس طرح آیت رجم میں کیا ، بنابریں نسخ اول بمعنی تلاوت اور حکم اٹھا لینے کے لینے کے ہوگا۔
دوسرا قول حضرت سعید بن المسیب ؓ اور عطاء (رح) فرماتے ہیں بہرحال جو کچھ آیت منسوخ ہوجائے پس وہ آیت ہے جو قرآن کریم میں نازل ہوئی ، اس نسخ کو وہ دونوں نسخہ سے بناتے ہیں یا پھر د ” ننساھا “ سے بناتے ہیں یعنی ہم اس کو مؤخر کردیتے ہیں اور اس کو لوح محفوظ میں چھوڑ دیتے ہیں پس اس کو نازل نہیں فرماتے ۔ (آیت)” نات بخیر منھا “ وہ کچھ لاتے ہیں جو تمہارے لیے زیادہ نافع ہو اور تم پر زیادہ آسان ہو اور تمہارے لیے زیادہ باعث اجر ہو یہ معنی نہیں کہ کوئی آیت دوسری آیت سے بہت سے بہتر ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ کا سارا کلام ایک ہے اور سب کا سب خیر ہے ، ” اومثلھا “ نفع دینے میں اور ثواب میں اس کے مثل ہو ، پس ہر وہ آیت جو منسوخ ہو اور اس کے بعد وہ آیت آئے جس کا حکم آسان ہو تو اس کا خیر ہونا بایں معنی کہ عمل آسان ہے اور جس آیت کی منسوخی کے بعد ایسی آیت آئے جس کا حکم پہلی والی آیت سے مشکل ہو تو اس کا خیر ہونا بایں طور ہوگا کہ اس کا اجر وثواب زیادہ ہوگا ۔ (آیت)” الم تعلم ان اللہ علی کل شیء قدیر “ ۔ نسخ ہونا تبدیل آیت کریمہ کا لفظ استفہام کا ہے اور معنی اس کا تقریر مضمون ہے یعنی بیشک آپ جانتے ہیں ۔
Ayah 2:107(تفسیر) 107۔:
(آیت)” الم تعلم ان اللہ لہ ملک السموات والارض ومالکم “ اے گروہ کفار نزول عذاب کے وقت ” من دون اللہ “ جو کچھ اللہ تعالیٰ کے سوا ہے۔۔۔۔ ” من ولی “ کوئی قریبی دوست کو کہتے ہیں اور کہا گیا ہے ۔۔۔۔ وال “ اس کا معنی معاملات کا نگران و سرپرست ، ” ولا نصیر “ ایسا مددگار جو تمہیں عذاب سے محفوظ رکھے ۔
Ayah 2:108108۔ (آیت)” ام تریدون ان تسالوا رسولکم “ یہ آیت یہود کے بارے میں اس وقت نازل ہوئی جب انہوں نے کہا اے محمد ﷺ ہمارے پاس آسمان سے کوئی کتاب ۔
ایک ہی دفعہ لے آئیے جیسا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تورات کو لائے تھے ، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت)” ام تریدون “ یعنی کیا تم ارادہ رکھے ہو ۔ ام میں میم صلہ ہے اور کہا گیا ہے کہ (آیت)” ام تریدون “ کا معنی ” بل تریدون “ ہے یعنی ام بمعنی بل ہے یہ کہ تم اپنے رسول حضرت محمد ﷺ سے اس طرح سوال کرو، (آیت)” کما سئل موسیٰ من قبل “ ان سے ان کی قوم نے سوال کیا ” ارنا اللہ جھرۃ “ اور کہا گیا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا اور کہا ہم تمہاری بات کی تصدیق نہیں کرتے حتی کہ تم اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کو سامنے لاؤ جس طرح کی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ان کی قوم نے سوال کیا اور کہا کہ ہمیں اللہ تعالیٰ علانیہ دکھاؤ پس اس میں دلائل وبراہین کے ظہور کے بعد من چاہی سوالات سے منع کیا گیا ہے ، (آیت)” ومن یتبدل الکفر بالایمان “ ایمان کے بدلے کفر لیا (آیت)” فقد ضل سواء السبیل “ درمیانی راستہ سے بھٹک گیا۔
Ayah 2:109(تفسیر) 109۔:
(آیت)” ودکثیر من اھل الکتاب “ یہ آیت یہود کے کچھ لوگوں کے حق میں نازل ہوئی ، انہوں نے حضرت حذیفہ بن الیمان ؓ کو اور عمار بن یاسر ؓ کو واقعہ کو واقعہ احد کے بعد کہا اگر تم حق پر ہوتے تو تم شکست نہ کھاتے ۔ لہذا تم دونوں ہمارے دین کی طرف آجاؤ ہم تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ، اس پر حضرت عمار ؓ نے ان کو فرمایا تمہارے دین میں عہد توڑنا کیسا ہے ؟ انہوں نے کہا بہت سخت ہے تو حضرت عمار ؓ نے فرمایا میں نے تو عہد کر رکھا ہے کہ محمد ﷺ کے ساتھ جب تک زندہ رہوں گا کفر نہ کروں گا پس یہود نے کہا بہرحال یہ تو صابی ہوگیا ، (اپنے دین سے پھرنے والے کو اس وقت صابی کہا جاتا تھا) اور حضرت حذیفہ ؓ نے فرمایا بہرحال میں اللہ تعالیٰ پر رب ہونے کے لحاظ سے راضی ہوں ، محمد ﷺ پر نبی ہونے کے لحاظ سے اور اسلام پر دین ہونے کے لحاظ سے راضی ہوں اور قرآن پر امام اور کعبہ کے قبلہ اور مؤمنین کے بھائی ہونے کے لحاظ سے راضی ہوں ، پھر دونوں حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس امر کی حضور کو خبر دی، حضور ﷺ نے فرمایا تم خیر کو پہنچے اور کامیاب ہوئے پس اللہ تعالیٰ نے یہ نازل فرمایا (آیت)” ودکثیر من اھل الکتاب “ بہت سے کتاب جن کا تعلق یہود سے ہے خواہش کی اور ارادہ کیا ، (آیت)” لویردونکم “ اے ایمان والو ! (تمہیں لوٹا دیں) (آیت)” من بعد ایمانکم کفارا حسدا “ حسدا کی زبر مصدر پر ہے یعنی مفعول مطلق ہے یعنی (آیت)” یحسدونکم حسدا “ تم پر حسد کرتے ہیں حسدکرنا ”(آیت)” من عندانفسھم “ یعنی اپنی طرف سے اس کا حکم ان کو اللہ تعالیٰ نے نہیں دیا ۔ (آیت)” من بعد ماتبین لھم الحق “ یعنی تورات میں (یہ بات ظاہر ہوگئی) کہ حضرت محمد ﷺ کا قول (دعوی) سچ ہے اور آپ کا دین حق ہے ۔ ” فاعفوا “ پس چھوڑ دو ۔ ” واصفحوا “ درگزر کرو ۔ پس عفو کے معنی محو کرنا اور صفح کا معنی اعراض کرنا ہے اور یہ حکم آیت قتال سے پہلے تھا ۔ (آیت)” حتی یاتی اللہ بامرہ “ یعنی اپنا عذاب لائے قتل اور قید کی شکل میں جس طرح کہ بنو قریظہ کا حال ہوا اور جلاوطن اور ملک بدری کی صورت میں جیسا کہ بنو نضیر کا حال ہوا۔
حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ اور حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں کہ بامرہ سے مراد امر قتال ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت)” وقاتلوا المشرکین الذین لا یؤمنون باللہ ولا بالیوم الاخر “۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ” وھم صاغرون “ تک ۔ حضرت ابن کیسان ؓ فرماتے ہیں بامرہ سے مراد بعلمہ اور بحکمہ ہے یعنی ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ تم پر علم اور حکم لائے ، چناچہ بعض کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا حکم تکوینی اسلام وایمان لانے کا ہوا اور بعض کے متعلق قتل قید اور جزیہ کا حکم ہوا ۔ (آیت)” ان اللہ علی کل شیء قدیر “۔
Ayah 2:110110۔ (آیت)” واقیموا الصلوۃ واتوا الزکاۃ وما تقدموا “ جو کچھ آگے بھیجو گے (آیت)” لانفسکم من خیر “ فرمانبرداری اور عمل صالح (آیت)” تجدوہ عند اللہ “ اور کہا گیا ہے کہ خیر سے مراد مال ہے جس طرح کے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” ان ترک خیرا “ اور مراد زکوۃ و صدقہ ہے کہ اس کو تم اللہ تعالیٰ کے ہاں پاؤ گے حتی کہ لقمہ اور پھل کو جبل احد کے طرح پاؤ گے ۔ (آیت)” ان اللہ بما تعملون بصیر “ ۔