2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 2:198

لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ فَاِذَاۤ اَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفٰتٍ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ١۪ وَ اذْكُرُوْهُ كَمَا هَدٰىكُمْ١ۚ وَ اِنْ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الضَّآلِّیْنَ Open ayah 2:198 in the Quran reader

اس کا تمہیں کچھ گناہ نہیں کہ (حج کے دنوں میں بذریعہ تجارت) اپنے پروردگار سے روزی طلب کرو اور جب عرفات سے واپس ہونے لگو تو مشعر حرام (یعنی مزدلفہ) میں خدا کا ذکر کرو اور اس طرح ذکر کرو جس طرح اس نے تم کو سکھایا اور اس سے پیشتر تم لوگ (ان طریقوں سے) محض ناواقف تھے

(تفسیر) 198۔: (آیت)” لیس علیکم جناح ان تبتغوا فضلا من ربکم “۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ عکاثظ ، مجنہ اور ذوالمجاز زمانہ جاہلیت کی منڈیاں (بازار) تھیں (یعنی ان میں خریدو فروخت ہوتی تھی) جب اسلام آیا تو لوگوں نے ایام حج میں تجارت کو گناہ تصور کیا ، پس اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت)” لیس علیکم جناح ان تبتغوا فضلا من ربکم “۔ موسم حج میں (یعنی ایام حج میں تجارت کرکے اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرو) حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ نے ایسا ہی پڑھا ، ابو امامۃ تیمی سے روایت کیا گیا ہے فرماتے ہیں میں نے ابن عمر ؓ کو کہا کہ وہ لوگ ہیں کہ حج کے (آنے جانے کے) سلسلہ سواریاں کرایہ پر دیتے ہیں (اور ساتھ حج بھی کرتے ہیں) اب لوگوں کا گمان ہے کہ اس طرح ہمارا حج نہیں ؟ حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا کیا تم احرام نہیں باندھتے جیسا کہ لوگ احرام باندھتے ہیں اور تم طواف کرتے ہو جس طرح کہ لوگ طواف کرتے ہیں اور کنکر بھی مارتے ہو جس طرح کہ لوگ کنکر مارتے ہیں ؟ ابو امامہ تیمی (رح) فرماتے ہیں کہ میں نے کہا کہ بالکل ایسا کرتے ہیں تو ابن عمر ؓ نے فرمایا پھر تو حاجی ہے ، ابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضور ﷺ کے پاس آیا اور اس نے حضور ﷺ سے یہی سوال کیا جو سوال تم نے مجھ سے کیا ہے تو حضور ﷺ نے اس شخص کو کچھ جواب نہ دیا حتی کہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) یہ آیت لے کر نازل ہوئے (آیت)” لیس علیکم جناح “۔ یعنی حرج (نہیں ہے) کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو یعنی ایام حج میں تجارت کرکے اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرو (آیت)” فاذا افضتم “ واپس ہو و اضافہ کا معنی ہے بھیڑ کی شکل میں واپس ہونا اس کا اصل قول عرب کے مطابق یوں ہے ” افاض الرجل ماء ہ “ یعنی اس کو انڈیلا (من عرفات) عرفات عرفۃ کی جمع ہے ، عرفہ اگرچہ ایک خاص جگہ کا نام ہے چونکہ اس کے آس پاس والے یہاں جمع ہوتے ہیں اس اعتبار سے جمع لایا گیا جیسا کہ ان کا کہنا ہے ” ثوب اخلاق “ یعنی پرانا کپڑا عرفات کو عرفہ کیوں کہتے ہیں ، اس بارے میں مفسرین کا اختلاف ہے۔ عطا (رح) فرماتے ہیں کہ جبرئیل (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو احکام حج دکھاتے سمجھاتے رہے اور ساتھ فرماتے رہے ” اعرفت “ کیا آپ جان گئے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جوابا فرماتے ” عرفت “ ہاں میں پہچان گیا ، پس (اس باہمی محاورہ کے اعتبار سے) اس جگہ کو عرفات کا نام دیا گیا اور دن کو عرفہ کا نام دیا گیا ، حضرت ضحاک (رح) فرماتے ہیں جب حضرت آدم (علیہ السلام) زمین کی طرف اتارے گئے تو سرزمین ہند میں تشریف فرما ہوئے اور حضرت حوا جدہ میں اتریں تو ہر ایک نے ایک دوسرے کو تلاش کرنا شروع کیا تو نویں ذوالحجہ یوم عرفہ کو عرفات کے مقام پر دونوں جمع ہوگئے اور دونوں نے ایک دوسرے کو پہچان لیا تو اس باہمی تعارف کے باعث اس دن کا نام عرفہ اور جگہ کا نام عرفات پڑگیا ۔ علامہ سدی (رح) فرماتے ہیں جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے لوگوں کو حج کے لیے پکارا اور سب نے لبیک کہی تو سب نے (پکار کا جواب دیا) اور جن کو آنا تھا وہ ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم فرمایا کہ عرفات میں جائیں اور علامات سے ان کو بتادیا جب عقبہ کو پہنچے تو شیطان سامنے آگیا تاکہ آپ کو واپس لوٹائے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے شیطان کو سات کنکر مارے اور ہر کنکر کے ساتھ اللہ اکبر فرمایا پس شیطان بھاگ گیا اور جمرہ ثانیہ پر آگیا پس وہاں بھی کنکر مارے اور تکبیر فرمائی شیطان وہاں سے بھی بھاگا اور جمرہ ثالثہ پر آگرا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے وہاں بھی شیطان کو مارا ور تکبر فرمائی ، جب شیطان نے دیکھا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس کے کہنے میں نہیں آرہے چلا گیا ، پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) چلے یہاں تک کہ آپ ذوالمجاز آئے پس جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس کو دیکھا تو نہ پہچان سکے پس وہاں سے گزر گئے تو اس جگہ کا نام ذوالمجاز رکھا گیا (گزرنے کی جگہ) پھر چلے حتی کہ عرفات میں آ ٹھہرے تو اللہ تعالیٰ کی بیان کی گئی علامات وصفات کے مطابق مقام عرفات کو پہچان لیا پس اس پہچاننے کے وقت کو عرفہ اور جگہ کا نام عرفات رکھا گیا حتی کہ جب شام ہوئی تو قریب ہوئے یعنی مقام جمع کے قریب ہوئے پس اس کا نام مزدلفہ رکھا گیا ، ابو صالح (رح) سے روایت کی گئی ہے وہ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کرتے ہیں ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ بیشک حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے آٹھ ذوالحجہ کی شب کو خواب میں دیکھا کہ اسے اپنے بیٹے کے ذبح کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے ، جب آپ نے صبح کی تو وہ دن سارا سوچ میں گزارا کہ یہ خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے یا شیطان کی طرف سے ؟ تو اس دن کا نام یوم الترویہ رکھا (یعنی سوچ بچار کا دن) اس کے بعد نویں ذوالحجہ کی شب کو پھر وہی خواب دیکھا پس جب آپ نے صبح کی تو یہ بات جان گئے پہچان گئے کہ یہ خواب من جانب اللہ ہے پس اس پہچان کے سبب اس دن کا نام یوم العرفہ رکھا گیا ۔ اور بعض نے کہا کہ اس دن کا نام یوم العرفہ اس لیے رکھا گیا ہے کہ لوگ اس دن عرفات کے پہاڑوں پر چڑھتے ہیں اور عرب والے بلند جگہ کو عرفہ کہتے ہیں مرغ کی کلغی کو بھی بلند وبالا ہونے کی وجہ سے ” عرف الدیک “ کہا جاتا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ اس دن کا نام عرفہ اس لیے رکھا گیا کہ لوگ اس دن اپنے گناہوں کا اقرار و اعتراف کرتے ہیں اور کہا گیا ہے کہ عرفہ کا نام اس لیے رکھا گیا کہ عرفہ عرف سے ہے اور عرف خوشبو کو کہا جاتا ہے اور منی کو منی اس لیے منی کا نام دیا گیا کہ لوگ اس میں خون بہاتے ہیں جس کی وجہ سے وہاں گوبر اور خون ہوتا ہے اور وہ جگہ خوشبودار نہیں ہوتی بخلاف عرفات کے کہ وہ گوبر وغیرہ سے پاک ہے لہذا خوشبودار ہوتی ہے ۔ ” فاذکروا اللہ “ دعا اور ” لبیک اللھم لبیک “ کے ساتھ ” عند المشعر الحرام “ اور وہ مزدلفہ کے پہاڑورں کے درمیان عرفہ سے پتھر پھینکنے کی جگہ سے لے کر محسر تک ماء زمان اور محسر مشعر حرام سے نہیں مشعر کا نام شعار سے لیا گیا ہے شعار کے معنی علامت کے ہیں چونکہ یہ حج کی علامات سے ہے (اس لیے اسے مشعر کہا گیا) حرام کا اصل معنی منع کرنا ہے مشعر حرام کو حرام اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ اس میں چندچیزیں کرنا ممنوع ہیں ، مزدلفہ کو جمع اس لیے کہا گیا کہ اس میں مغرب و عشاء کو جمع کرکے پڑھا جاتا ہے، عرفات سے واپسی غروب آفتاب کے بعدہوتی ہے اور جمع یعنی مزدلفہ سے واپسی دسویں ذوالحجہ کو طلوع آفتاب سے پہلے ہوتی ہے، طاؤس (رح) فرماتے ہیں کہ اہل جاہلیت عرفہ سے سورج غائب ہونے سے پہلے واپس ہوتے تھے ۔ اور مزدلفہ سے طلوع شمس کے بعد لوٹتے اور کہتے تھے ثبیر (پہاڑ) روشن ہوگیا تاکہ لوٹ مار کرے ، پس اللہ تعالیٰ نے اس کو (عرفہ سے واپسی) مؤخر کردیا اور اس کو (مزدلفہ سے واپسی) مقدم کردیا ، کریب نے اسامہ ؓ سے سنا ، اسامہ ؓ کہہ رہے تھے کہ حضور ﷺ عرفہ سے واپس ہوئے حتی کہ جب شعب میں پہنچے تو وہاں اترے اور پیشاب فرمایا ، پھر وضو فرمایا ، پس وضوء مکمل نہ کیا ، اسامہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا رسول اللہ ﷺ نماز حضور ﷺ نے فرمایا نماز تیرے آگے ہے پس سوار ہوئے پس جب مزدلفہ پہنچے وہاں اترے اور وضوء مکمل فرمایا پھر تکبیر کہی گئی پس آپ ﷺ نے نماز مغرب پڑھی ، پھر ہر انسان نے اپنا اونٹ اپنی جگہ پر بٹھایا ، پھر عشاء کی تکبیر کہی گئی ، پس آپ ﷺ نے نماز عشاء پڑھی اور مغرب و عشاء کے درمیان کچھ نہ پڑھا ، جابر ؓ فرماتے ہیں حضور ﷺ واپس ہوئے یہاں تک کہ آپ ﷺ مزدلفہ آئے وہاں مغرب و عشاء ایک اذان اور دو تکبیر کے ساتھ ادا فرمائی اور ان دو کے درمیان نوافل ادا نہ فرمائے ، پھر لیٹ گئے حتی کہ طلوع فجر ہوگئی ، پس فجر کی نماز اس وقت جب کہ صبح خوب نمودار ہوگئی ایک اذان اور ایک تکبیر کے ساتھ پڑھی ۔ پھر قصواء (اونٹنی) پر سوار ہوئے حتی کہ مشعر حرام کو تشریف لائے اور قبلہ شریف کی طرف رخ فرمایا ، دعا فرمائی اللہ اکبر فرمایا اور لا الہ الا اللہ فرمایا اور وحدہ لا شریک لہ فرمایا اور وہاں سفیدی پھیلنے تک تشریف رہے اور طلوع شمس سے پہلے لوٹے ۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کی کہ بیشک حضرت اسامہ بن زید ؓ عرفہ سے مزدلفہ تک حضور ﷺ کے پیچھے بیٹھے ، اس کے بعد حضور ﷺ نے حضرت فضل (بن عباس) کو مزدلفہ سے منی تک اپنے پیچھے بٹھایا ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ دونوں (اسامہ ، فضل) کہتے ہیں کہ حضور ﷺ مسلسل جمرہ عقبہ تک ” لبیک اللھم لبیک “ فرماتے رہے ۔ ” واذکروا کما ھداکم “ اللہ تعالیٰ کا ذکر توحید و تعظیم کے ساتھ کرو جس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ہدایت دے کر تمہارا ذکر کیا ہے ، پس اللہ تعالیٰ نے تمہیں اپنے دین کی رہنمائی کی اور احکام حج کی رہنمائی (آیت)” وان کنتم من قبلہ لمن الظالین “ یعنی اور تحقیق تم تھے اور کہا گیا ہے کہ اس کا معنی ہے اور تم اس سے پہلے نہیں تھے مگر گمراہوں میں سے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” وان نظنک لمن الکاذبین “ یعنی ہم تمہیں نہیں گمان کرتے مگر جھوٹوں میں سے اور ” من قبلہ “ کی ضمیر ” ھدی “ کی طرف راجع ہے اور بعض نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کی طرف راجع ہے ، پھر یہ غیر مذکور سے کنایہ ہوگی ۔
Ayah 2:199

ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاضَ النَّاسُ وَ اسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:199 in the Quran reader

پھر جہاں سے اور لوگ واپس ہوں وہیں سے تم بھی واپس ہو اور خدا سے بخشش مانگو بیشک خدا بخشنے والا اور رحمت کرنے والا ہے

(تفسیر) 199۔: (آیت)” ثم افیضوا من حیث افاض الناس “ اہل تفسیر فرماتے ہیں کہ قریش اور ان کے حلفا (ساتھی) اور وہ لوگ جو قریش کے دین کے مطابق ہوتے مزدلفہ میں ٹھہر جاتے اور کہتے کہ ہم اللہ والے ہیں اور حرم خداوندی کے ساکن ہیں لہذا ہم حرم سے پیچھے نہیں ہوسکتے (یعنی اس کے بغیر نہیں رہ سکتے) اور نہ حرم سے نکل سکتے ہیں یہ لوگ حمس کہلاتے ۔ یہ اپنے آپ کو اس سے عظیم جانتے کہ تمام عرب کے ہمراہ مل کر وقوف عرفات کریں ، (ایسا کرنے سے ان کو تکبر اور غرور مانع تھا) جب باقی لوگ عرفات سے لوٹتے یہ اپنے آپ کو حمس کہلانے والے مزدلفہ ہی سے لوٹ آتے (حماسۃ کے لغوی معنی غیرت مند جو شیلا اور دلیر ہونے کے ہیں) یہ لوگ بھی اپنے آپ کو اس سلسلہ میں غیور سمجھتے تھے کہ ہماری غیرت نسبی کے یہ بات مخالف ہے کہ ہم عام لوگوں کے ہمراہ وقوف عرفات کریں ، اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ عرفات میں آکر ٹھہریں اور پھر عرفات ہی سے عام لوگوں کے ہمراہ واپس ہوں اور ان کو خبر دی کہ یہی سنت ابراہیم واسماعیل (علیہما السلام) ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے تمام مسلمانوں کو خطاب فرمایا ۔ فرماں الہی (آیت)” من حیث افاض الناس “ جمع ہے (مزدلفہ کا دوسرا نام جمع ہے) یعنی پھر تم لوٹو جمع (مزدلفہ) سے منی کی طرف اور انہوں نے کہا چونکہ عرفات سے واپسی مزدلفہ کی واپسی سے پہلے ہے تو پھر یہ کہنا کیسے درست ہے کہ جب تم عرفات ہے لوٹو پس تم اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو پھر اس کے بعد تم عرفات سے لوٹو ؟ لہذا (آیت)” ثم افیضوا “ سے مراد مزدلفہ سے لوٹنا ہے ، پہلا قول اکثر اہل تفسیر کا ہے اور کلام میں تقدیم و تاخیر ہے ، لہذا تقدیر عبارت اس طرح ہوگی (آیت)” فمن فرض فیھن الحج فلا رفث ولا فسوق ولا جدال فی الحج ثم افیضوا من حیث افاض، الناس فاذا افضتم من عرفات فاذکروا اللہ عند المشعر الحرام “۔ (عبارت کا اس تقدیم و تاخیر کے اعتبار مفہوم عبارت بالکل درست ہوگیا اور تکرار مضمون کا اعتراض وارد نہ ہوا) اور بعض نے کہا ہے کہ ” ثم “ بمعنی واو ہے ، یعنی ” افیضوا “ جس طرح اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” ثم کان من الذین امنوا “ (جیسے اس جگہ ثم بمعنی واؤ ہے اسی طرح یہاں ” ثم افیضوا “ میں بھی بمعنی واؤ ہے) بہرحال ” الناس “ سے مراد کل عرب ہیں سوائے حمس کے (حمس کی تشریح گزر چکی ہے) کلبی (رح) کہتے ہیں کہ یہاں ” الناس “ سے مراد یمن والے اور قبیلہ ربیعہ ہے ، ضحاک (رح) کہتے ہیں ” الناس “ سے مراد یہاں صرف حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں جیسے کہ فرمان الہی ہے ” ام یحسدون الناس “ کہ اس فرمان خداوندی میں بھی الناس سے مراد صرف حضرت محمد رسول اللہ ﷺ اور کہا جاتا ہے ” ھذا الذی یقتدی بہ ویکون لسان قومہ “ ترجمہ : (وہ جس کی پیروی کی جاتی ہے اور اپنی قوم کی زبان ہے یعنی اس کا ترجمان ہے) زہری (رح) فرماتے ہیں کہ ” الناس “ سے یہاں حضرت آدم (علیہ السلام) مراد ہیں اس کی دلیل حضرت سعید بن جبیر (رح) کی قرات ہے (آیت)” ثم افیضوا من حیث افاض الناس “ یاء اور کہا یہ آدم (علیہ السلام) ہیں جو اللہ تعالیٰ کے عہد کو بھول گئے جب درخت میں سے کھا بیٹھے ، ہشام اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ (عروہ) فرماتے ہیں کہ حضرت اسامہ ؓ سے پوچھا گیا میں بھی بیٹھا تھا کہ حضور اقدس ﷺ حجۃ الوداع سے واپس ہونے کی صورت میں کس طرح چلتے تھے ؟ حضرت اسامہ ؓ فرماتے ہیں آپ ﷺ تیز رفتاری سے چلتے تھے اور جب کھلی جگہ پاتے تو اور تیز ہوجاتے ۔ ہشام (رح) فرماتے ہیں کہ ” نص “ اس رفتار کا نام ہے جو رفتار ” عنق “ سے (قدرے) زائد ہو ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ نے بیان کیا کہ وہ نویں ذوالحجہ کو حضور اقدس ﷺ کے ساتھ لوٹے تو حضور ﷺ نے اپنے پیچھے سخت ڈانٹ (کی آواز) اور اونٹوں کو مارنا سنا تو آپ ﷺ نے اپنی لاٹھی کے ساتھ انکی طرف اشارہ فرمایا اور ارشاد فرمایا (لوگو ! تم پر وقار اور سنجیدگی لازم ہے) نیکی جانوروں کے دوڑانے میں نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرو بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے)
Ayah 2:200

فَاِذَا قَضَیْتُمْ مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَذِكْرِكُمْ اٰبَآءَكُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِكْرًا١ؕ فَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ Open ayah 2:200 in the Quran reader

پھر جب حج کے تمام ارکان پورے کر چکو تو (منی میں) خدا کو یاد کرو جس طرح اپنے باپ دادا کو یاد کیا کرتے تھے بلکہ اس سے بھی زیادہ اور بعض لوگ ایسے ہیں جو (خدا سے) التجا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم کو (جو دینا ہے) دنیا ہی میں عنایت کر، ایسے لوگوں کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں

(تفسیر) 200۔: (آیت)” فاذا قضیتم مناسککم “ جب تم اپنے حج سے فارغ ہوجاؤ اور ذبح ہونے والے جانور ذبح کرچکے (مناسک کی تشریح کچھ اس طرح ہے) ” نسک الرجل ینسک نسکا “ یہ اس شخص کے بارے میں کہا جاتا ہے جب وہ اپنے جانور کو ذبح کرلے اور یہ جمرہ عقبہ کو کنکر مارنے اور منی میں ٹھہرنے کے بعد ہوتا ہے (آیت)” فاذکروا اللہ “ تکبیر یعنی اللہ اکبر ، الحمد للہ اور اللہ تعالیٰ کی تعریف کے ساتھ (اللہ کا ذکر کرو) ” کذکرکم آباء کم “ اور یہ اس طرح کہ جب عرب والے حج سے فارغ ہوتے بیت اللہ شریف کے قریب ٹھہر جاتے اور اپنے آباء و اجداد کے فخریہ کارنامے بیان کرتے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنا ذکر کرنے کا حکم دیا اور فرمایا ” فاذکرونی “ (میرا ذکر کرو) کیونکہ میں ہی ہوں کہ جس نے تم کو اور تمہارے آباء و اجداد کو باعث فخر مقام و مرتبہ عطا فرمایا اور تم پر اور تمہارے آباء پر احسان فرمایا ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ اور عطاء (رح) فرماتے ہیں اس کا معنی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کا ذکر اس طرح کرو جس طرح کہ چھوٹے بچے باپ دادا کا ذکر کرتے ہیں اور یہ اس طرح کہ جب بچہ پہلے پہل بولتا ہے تو (ابا ابا کہہ کر) باپ ہی کا ذکر کرتا ہے اور اس کے ساتھ کسی ذکر نہیں کرتا ، پس اللہ تعالیٰ ، بھی فرماتے ہیں کہ تم صرف اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو نہ کہ کسی اور کا ، جس طرح کہ بچہ اپنے باپ کا ذکر کرتا ہے ۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول ” فاذکروا اللہ کذکرکم اباء کم “ کے بارے میں پوچھا گیا اور اعتراض یہ کیا گیا کہ کبھی آدمی پر ایسا وقت بھی آتا ہے کہ جب وہ اپنے باپ کا ذکر نہیں کرتا ۔ تو حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا بات یوں نہیں (بلکہ اس فرمان الہی کا مقصد اللہ تعالیٰ کی محبت کا والدین کی محبت سے بڑھا ہونا مراد ہے) وہ اس طرح کہ تو اس وقت اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر غضبناک ہو جب اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جائے اور تیرا یہ غضبناک ہونا اس غصہ ہونے سے بھی زیادہ ہو جس وقت کہ تیرے والدین کو گالی دی جائے ، اللہ تعالیٰ کا ارشاد (آیت)” اواشدا ذکرا “ بلکہ سخت یعنی ذکر کرنا ۔ (آیت)” فمن الناس من یقول ربنا اتنا فی الدنیا “ اس سے مراد یہ ہے کہ مشرکین حج میں اللہ تعالیٰ سے سوائے دنیا کے کچھ نہ مانگتے تھے چناچہ وہ کہتے تھے اللہ ! ہمیں بکریاں ، اونٹ گائے اور غلام عنایت فرما اور ایک آدمی کھڑا ہوتا تھا ، پس کہتا اے اللہ میراباپ بڑے قبہ اور بڑے پیالے والا ۔ اور بہت زیادہ مال والا تھا پس مجھے بھی ویسا ہی عطا فرما جیسا کہ تو نے میرے باپ کو دیا تھا یہ وہ آدمی ہے جس کی نیت دنیا ، اسی دنیا کے لیے خرچ کیا اسی کے لیے کام کیا اور اسی دنیا کے لیے اپنے آپ کو تھکایا (آیت)” ومالہ فی الاخرۃ من خلاق “ کچھ حصہ نصیب (نہیں) ۔
Ayah 2:201

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ Open ayah 2:201 in the Quran reader

اور بعضے ایسے ہیں کہ دعا کرتے ہیں کہ پروردگار ہم کو دنیا میں بھی نعمت عطا فرما اور آخرت میں بھی نعمت بخشیو اور دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھیو

(تفسیر) 201۔: (آیت)” ومنھم من یقول ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار “ مؤمنین (یہ کہتے ہیں) مفسرین نے (اس دعا میں ذکر کی گئی) ہر دو حسنہ کے بارے میں اختلاف کیا ہے سیدنا علی بن ابی طالب ؓ فرماتے ہیں (آیت)” فی الدنیا حسنہ “ سے مراد نیک بیوی ہے اور (آیت)” فی الاخرۃ حسنہ “ سے مراد حورعین ہیں ، حضرت عبداللہ بن عمروبن ابی العاص ؓ بیان کرتے ہیں وہ حضور اقدس ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ ـحضور اقدس ﷺ نے فرمایا دنیا ساری کی ساری نفع اٹھانے کا سامان ہے اور اس کا بہترین متاع نیک بیوی ہے حضرت حسن ؓ فرماتے ہیں (آیت)” فی الدنیا حسنۃ “ سے مراد علم اور عبادت ہے اور (آیت)” فی الاخرۃ حسنۃ “ سے مراد جنت اور (اس کا) دیکھنا ہے ، علامہ سدی (رح) اور ابن حبان (رح) فرماتے ہیں (آیت)” فی الدنیا حسنۃ “ سے مراد رزق حلال اور عمل صالح ہے اور (آیت)” فی الاخرۃ حسنۃ “ سے مراد بخشش اور ثواب ہے۔ حضرت ابوامامہ ؓ حضور اقدس ﷺ سے روایت کرتے ہیں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمـ فرماتے ہیں کہ میرے دوستوں سے میرے نزدیک قابل رشک وہ مؤمن ہے جو قلیل المال ہے نماز سے اسے خوب حصہ حاصل ہے اپنے رب کی عبادت اچھی طرح کرتا ہے کہ پوشیدہ طور پر اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہوں لوگوں میں گمنام ہو اس کی طرف (بوجہ عدم شہرت کے) انگلیوں کے ساتھ اشارہ نہ کیا جاتا ہو اور اس کا رزق (معیشت) برابر سرابر ہو (یعنی ضرورت کی حد تک مال رکھتا ہو جس سے اس کی ضروریات پوری ہوتی ہوں) اور اتنے سے رزق پر قانع ہو ، اس کے بعد حضور ﷺ نے ہاتھ مبارک کے ساتھ تیزی سے اشارہ کرکے فرمایا کہ یوں اسے جلدی موت آجائے اس پر رونے والے تھوڑے ہوں اور اس کی میراث بھی تھوڑی ہو۔ حضرت قتادہ (رح) اس آیت کریمہ کہ (آیت)” فی الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ حسنۃ “ کا معنی ہے دنیا میں عافیت اور آخرت میں عافیت ۔ حضرت عوف ؓ اس آیت سے متعلق فرماتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے اسلام قرآن کریم عطا فرمایا ہو، اہل و عیال بخشے ہوں اور مال ومنال دیا ہو ، پس یقینا اس کو ” حسنۃ فی الدنیا اور حسنۃ فی الاخرۃ “ دی گئی ۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ (کمزوری میں) پرندہ کے بچہ کی طرح ہو رہا ہے ، حضور ﷺ نے فرمایا کہ تو اللہ تعالیٰ سے کیا مانگتا ہے ؟ اس نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ میں کہا کرتا تھا یا اللہ ! تو جو کچھ آخرت میں مجھے سزا دینا چاہتا ہے وہ سزا مجھے دنیا ہی میں دے دے ، حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمـ نے فرمایا سبحان اللہ تو اس (دنیا والے عذاب) کی طاقت نہیں رکھتا تو نے یہ کیوں نہ کہا اے اللہ ، ہمیں دنیا میں خیر و خوبی عطا فرما اور آخرت میں بھی خیر و خوبی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا ۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمـ بہت زیادہ فرماتے تھے (آیت)” ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ حسنۃ وفی الاخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار “ ۔ یحییٰ بن عبید نے سائب کے والد عبداللہ بن سائب ؓ سے روایت کی انہوں نے حضور اقدس ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ رکن بنی جمح اور رکن اسود کے درمیان یہ دعا فرما رہے تھے (آیت)” ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ حسنۃ وفی الاخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار “ ۔
Ayah 2:202

اُولٰٓئِكَ لَهُمْ نَصِیْبٌ مِّمَّا كَسَبُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 2:202 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن کے لئے ان کاموں کا حصہ (یعنی اجر نیک تیار) ہے اور خدا جلد حساب لینے والا (اور جلد اجر دینے والا) ہے

(تفسیر) 202۔: (آیت)” اولئک لھم نصیب “ ۔ حصہ ہے ” مما کسبوا “ خیر اور دعا سے ثواب اور جزا کے ساتھ ”(آیت)” واللہ سریع الحساب “ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کا حساب لیں گے تو جلد حساب لیں گے کہ اللہ تعالیٰ کو ہاتھ باندھنے نہ صدری تحفظات اور نہ ہی سوچ وبچار کی ضرورت پڑے گی ، حضرت حسن (رح) فرماتے ہیں پلک جھپکنے سے زیادہ تیز حساب لے لیں گے ، بعض نے کہا کہ اس کا معنی ہے کہ قیامت کا آنا (جو یوم الحساب ہے) قریب ہے اس لیے کہ لازما ہر آنے والی چیز قریب ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ”(آیت)” وما یریک لعل الساعۃ قریب “ ۔
Ayah 2:203

وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ فِیْۤ اَیَّامٍ مَّعْدُوْدٰتٍ١ؕ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِیْ یَوْمَیْنِ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ۚ وَ مَنْ تَاَخَّرَ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ۙ لِمَنِ اتَّقٰى١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 2:203 in the Quran reader

اور (قیام منی کے) دنوں میں (جو) گنتی کے (دن ہیں) خدا کو یاد کرو اگر کوئی جلدی کرے (اور) دو ہی دن میں (چل دے) تو اس پر بھی کچھ گناہ نہیں اور جو بعد تک ٹھیرا رہے اس پر بھی کچھ گناہ نہیں یہ باتیں اس شخص کے لئے ہیں جو (خدا سے) ڈرے اور تم لوگ خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ سب اس کے پاس جمع کئے جاؤ گے

203۔ (آیت)” واذکروا اللہ “ تکبیرات کے ساتھ نمازوں کے بعد اور (رمی) جمرات کے وقت کہ ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہے اور اس کے علاوہ بقیہ اوقات میں (فی ایام معدودات) گنے چنے دونوں میں یہ ایام تشریق اور یہ ایام منی اور رمی جمرات کے دن ہیں ان دنوں کے تھوڑے ہونے کی وجہ سے انہیں معدودات کا نام دیا گیا جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ” دراھم معدودہ “ اور ایام معلومات سے مراد ذوالحجہ کے دس دن ہیں جن کا آخری دن دس ذوالحجہ (یوم النحر) ہے اور اکثر اہل علم کا قول ہے اور حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کیا گیا ہے کہ (ایام) معلومات سے مراد دس ذوالحجہ کا دن اور دو دن اس کے بعد والے اور معدودات سے مراد ایام تشریق ہیں ، حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ معلومات دسویں ذوالحجہ کا دن اور تین دن اس کے بعد والے ہیں۔ حضرت عطاء (رح) فرماتے ہیں حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کرتے ہوئے کہ معلومات سے مراد نویں ذوالحجہ کا دن ہے اور دسویں ذوالحجہ کا دن اور ایام تشریق ، حضرت محمد بن کعب ؓ فرماتے ہیں ” ایام معدودات اور ایام معلومات ایک ہی چیز ہیں اور ایہ ایام تشریق ہیں ۔ ” نبیشہ ھزلی “ سے روایت کیا گیا ہے فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ ایام تشریق کھانے پینے اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کے دن ہیں اور ایام تشریق میں ذکر کرنے کا ایک حصہ اللہ اکبر کہنا بھی ہے ۔ اس میں اختلاف کیا گیا ہے چناچہ عمر اور عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا گیا ہے کہ وہ دونوں منی میں ان دونوں نمازوں کے بعد اور مجلسوں میں خیموں میں اور بستروں پر اور راستوں میں تکبیر پڑھا کرتے تھے ۔ اور ان دونوں حضرات کی تکبیر کی اتباع کرتے ہوئے اور لوگ بھی تکبیر کہتے اور حضرت عمر ؓ اور ابن دونوں یہ آیت پڑھتے تھے ، عام علماء کے نزدیک ان دنوں میں حاجی غیر حاجی سب کے لیے نمازوں کے بعد تکبیر کہنا مشروع ہے، البتہ مقدار میں انہوں نے اختلاف کیا ہے، چناچہ بعض اس طرف گئے ہیں کہ نویں ذوالحجہ کی صبح سے یہ تکبیرات شروع کی جائیں اور ایام تشریق کے آخری دن کی نماز عصر پر ختم کی جائیں ، یہ حضرت عمر ؓ اور حضرت علی ؓ سے مروی ہے ، حضرت مکحول ؓ نے یہی فرمایا اور حضرت ابو یوسف (رح) اسی طرف گئے ہیں اور ایک قوم اس طرف گئی ہے کہ یہ تکبیرات نویں ذوالحجہ کی صبح کی نماز سے شروع کی جائیں اور دس ذوالحجہ کی عصر کے بعد ختم کی جائیں ، حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے اور حضرت امام ابوحنیفہ (رح) نے بھی یہی فرمایا اور بعض کا کہنا ہے کہ یہ تکبیرات دسویں ذوالحجہ کی ظہر سے شروع کی جائیں اور ایام تشریق کے آخری دن کی صبح کی نماز کے بعد ختم کی جائیں ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے اور امام مالک (رح) اور حضرت امام شافعی (رح) نے دوقولوں میں سے ایک قول میں یہی فرمایا ہے، امام شافعی (رح) فرماتے ہیں اس لیے کہ لوگ اس (معاملہ تکبیر) میں حجاج کے تابع ہیں اور ان کا حاجیوں میں شمار کیا جاتا ہے تلبیہ کہنے سے پہلے ۔ اور حجاج کرام دسویں ذوالحجہ بعد نماز ظہر تکبیرات میں شروع ہوتے ہیں ، لفظ تکبیر سے کیا مراد ہے اس سلسلہ میں حضرت سعید بن جبیر ؓ اور حضرت سیدنا حسن (رح) فرماتے ہیں کہ مسلسل تین دفعہ اللہ اکبر کہنا ہے اور اہل مدینہ کا یہی قول ہے اور اسی طرف امام شافعی (رح) گئے ہیں اور فرمایا ذکر اللہ میں جس قدر اضافہ ہو بہتر اور مستحسن ہے ، اہل عراق کے ہاں دو دفعہ اللہ اکبر کہے ، یہ حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا گیا ۔ (آیت)” فمن تعجل فی یومین فلا اثم علیہ “ اس سے مراد یہ ہے کہ جو حجاج کرام ایام تشریق کے دوسرے دن کوچ کرنا چاہیں تو ان پر کچھ گناہ نہیں ہے اور یہ اس طرح کہ حاجی پر لازم ہے کہ وہ منی میں ایام تشریق کی پہلی اور دوسری رات گزارنے کی رخصت اونٹ چرانے والوں کو اور حجاج کرام کو پانی پلانے والوں کو حاصل ہے ، پھر اس کے ہر وہ شخص جو ایام تشریق کے دوسرے دن رمی جمرات کرے اور کوچ کرنے کا ارادہ کرے اور تیسری رات وہاں نہ گزارے اور اس دن رمی جمرات کرے تو اس کے لیے گنجائش ہے، بوجہ اس ارشاد خداوندی کے (آیت)” فمن تعجل فی یومین فلا اثم علیہ “ اور جس شخص نے کوچ نہ کیا یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا تو اس پر لازم ہے کہ وہاں وہ رات گزارے حتی کہ تیسرے دن رمی جمرات کرکے کوش کرے (آیت)” ومن تاخر فلا اثم علیہ “ جس نے جلدی کی اور دوسرے دن چلا گیا تو اس پر اس جلدی کرنے میں کچھ گناہ نہیں ہے اور جس نے تاخیر کی یہاں تک کہ تیسرے دن کوش کیا تو اس پر اس تاخیر کرنے میں کچھ گناہ نہیں اور کہا گیا ہے کہ اس کا معنی اس طرح ہے پس جس شخص نے جلدی کی اور اس تعجیل والی رخصت کو قبول کیا تو اس پر اس میں کچھ گناہ نہیں ہے اور جس نے تاخیر کی اور اس رخصت کو قبول نہ کیا تو اس پر کچھ گناہ نہیں اور کہا گیا ہے کہ حاجی مغفور ہو کر واپس لوٹا اور اس پر کچھ گناہ نہیں تعجیل کی یا تاخیر کی جیسا کہ ہم نے روایت کی کہ جس شخص نے حج کیا پس نہ تو فحش کلامی (عورتوں کی موجودگی میں) اور نہ احکام حج کی خلاف وزری کی تو وہ اس حال میں واپس لوٹا جیسا کہ اس کی ماں نے اسے آج جنا ہو، یہ حضرت علی ؓ اور حضرت ابن مسعود ؓ کا قول ہے (آیت)” لمن اتقی “ اس شخص کے لیے جو ہر اس عمل سے بچا جس کو اللہ تعالیٰ نے حج میں کرنا منع فرمایا ۔ جیسا کہ حضور ﷺ نے فرمایا جس نے حج کیا پس نہ فحش کلام ک ی اور نہ نافرمانی کی ، پس حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ گناہوں سے بخشش اس شخص کے لیے کی گئی ہے جو حج میں (منہیات سے) بچا اور کلبی (رح) کی روایت میں حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے یہ معنی منقول ہے کہ جو شخص شکار کرنے سے بچا (کیونکہ) اس کے لیے جب تک ایام تشریق نہ گزریں شکار کرنا حلال (جائز) نہیں ہے ابو العالیہ (رح) فرماتے ہیں کہ اس کے گناہ ختم ہوگئے ، اگر اس نے بقیہ عمر تقوی کی زندگی گزاری ۔ (آیت)” واتقوا اللہ واعلموا انکم الیہ تحشرون “ تم آخرت میں جمع کیے جاؤگے ، اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کی جزا دیں گے ۔
Ayah 2:204

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّعْجِبُكَ قَوْلُهٗ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یُشْهِدُ اللّٰهَ عَلٰى مَا فِیْ قَلْبِهٖ١ۙ وَ هُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ Open ayah 2:204 in the Quran reader

اور کوئی شخص تو ایسا ہے جس کی گفتگو دنیا کی زندگی میں تم کو دلکش معلوم ہوتی ہے اور وہ اپنے مافی الضمیر پر خدا کو گواہ بناتا ہے حالانکہ وہ سخت جھگڑالو ہے

(تفسیر) 204۔: (آیت)” ومن الناس من یعجبک قولہ فی الحیوۃ الدنیا “۔ کلبی (رح) اور مقاتل (رح) اور عطاء (رح) فرماتے ہیں یہ آیت کریمہ اخنس بن شریق ثقفی کے بارے میں نازل ہوئی جو بنی زہرہ کا حلیف تھا ۔ اس کا نام ابی تھا اور اس کا نام اخنس اس لیے رکھا گیا کہ وہ بدر کے دن حضور ﷺ کے مقابل لڑنے سے بنی زہرہ کے تین سو آدمی لے کر واپس ہٹ گیا تھا ، یہ شخص میٹھی گفتار اور خوش منظر تھا ، اسلام ظاہر کرتا اور کہتا یا رسول اللہ ! مجھے آپ ﷺ سے محبت ہے اور اس پر اللہ تعالیٰ کے نام کی قسمیں اٹھاتا تھا اور منافق تھا ۔ حضور ﷺ اسے قریب بٹھاتے ، پس اللہ تعالیٰ کا فرمان نازل ہوا (آیت)” ومن الناس من یعجبک قولہ فی الحیوۃ الدنیا “۔ آپ اس کی بات کو مستحسن سمجھتے ہیں اور آپ کے دل میں وہ عظیم معلوم ہوتی ہے ، استحسان کے بارے میں کہاجاتا ہے ” اعجبنی کذا “ وہ مجھے اس طرح اچھا لگا اور ناگواری اور انکار کی صورت میں کہاجاتا ہے ، ” عجبت من کذا “ امر مستحسن کے بارے میں اعجاب باب افعال اور بغیر حرف کے ذکر کیا جاتا ہے اور ناگواری و انکار کی صورت میں فعل مجرد اور من کے ساتھ استعمال ہوتا ہے ۔ ”(آیت)” ویشھد اللہ علی ما قلبہ “ یعنی اخنس منافق کا یہ کہنا ” واللہ انی بک مؤمن ولک محب “ اللہ کی قسم میں آپ کے ساتھ ایمان لانے والا ہوں اور آپ کا محب ہوں (آیت)” وھو الدالخصام “ یعنی ” شدید الخصومۃ “ سخت جھگڑا کرنے والا ، کہا جاتا ہے ، ” لددت یاھذا ۔۔۔۔۔۔ وانت تلد لددا ولدادۃ “ (یہ جملے اس وقت بولے جاتے ہیں جب کسی کا سخت جھگڑالو ظاہر کرنا مقصود ہو، ) پس جب تو ارادہ کرے کہ بیشک وہ اپنے مدمقابل پر غالب آگیا ۔ تو تو کہے گا ” لدہ یلدہ لدا “ مرد کے بارے میں کہا جاتا ہے ” رجل الد “ اور عورت کے بارے میں کہا جاتا ہے ” امراۃ لدائ “ اور قوم سے متعلق کہا جاتا ہے ، ” قوم لدا “ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” وتنذر بہ قوما لدا “ زجاج کہتے ہیں یہ ” لدیدی العنق “ سے مشتق ہے جو کہ رخساروں کو کہا جاتا ہے اس کی تاویل یہ ہے کہ جس جانب سے جھگڑا کرے دائیں جانب سے یا بائیں جانب سے جھگڑے کے کسی بھی باب میں غالب آتا ہے ، ” خصام “ باب مفاعلہ خاصمہ خساما ومخاصمت کی مصد رہے، یہ بات ابو عبیدہ ؓ نے کی ، زجاج (رح) کہتے ہیں یہ خصم کی جمع ہے کہ جاتا ہے خصم ، ” وخصام وخصوم “ یعنی جیسے ” خصوم “ خصم کی جمع ہے ایسے ہی خصام بھی جمع ہے جیسے بحر کی جمع بحار اور بحور آتی ہے ، حضرت حسن (رح) فرماتے ہیں ” الد الخصام “ کا معنی ہے کاذب القول جھوٹی بات والا ، حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں، ” الدالخصام “ کا معنی ہے ” شدید القسوۃ فی المعصیۃ “ گناہ میں سخت جدل بالباطل باطل کے ساتھ لڑنے جھگڑنے والا ، ” یتکلم بالحکمۃ ویعمل بالخطیئۃ “ باتیں تو دانائی کی کرے اور عمل گناہوں کا کرے ۔ ام المومنون سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام لوگوں سے زیادہ مبغوض ” الدالخصام “ یعنی سخت جھگڑالو ہے ۔
Ayah 2:205

وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْهَا وَ یُهْلِكَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ Open ayah 2:205 in the Quran reader

اور جب پیٹھ پھیر کر چلا جاتا ہے تو زمین پر دوڑتا پھرتا ہے تاکہ اس میں فتنہ انگیزی کرے اور کھیتی کو (برباد) اور (انسانوں اور حیوانوں کی نسل کو نابود کر دے اور خدا فتنہ انگیزی کو پسند نہیں کرتا

(تفسیر) 205۔: (آیت)” واذا تولی “ جب پیٹھ پھیری اور آپ سے اس نے منہ پھیرا (آیت)” سعی فی الارض “ اس (زمین) میں عمل کیا بعض نے کہا اس (زمین) میں چلا (آیت)” لیفسد فیھا “ ابن جریج (رح) فرماتے ہیں قطع رحمی کی اور مسلمانوں کا خون بہایا (آیت)” لیفسد فیھا “ کا یہ معنی ہے (آیت)” ویھلک الحرث والنسل “ اور یہ اس طرح کہ اخنس اور قبیلہ ثقیف کے درمیان مخالفت ومخاصمت تھی ، پس اخنس رات کو آیا اور ان کی کھیتوں کو جلا ڈالا اور ان کے جانوروں کو ہلاک کردیا ، مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ اخنس طائف کی طرف اپنے مال کے تقاضا کے لیے جو اس نے کسی مقروض سے لینا تھا گیا ، پس اس مقروض نے غلہ کے کھلیاں کو آگ لگا دی اور اس کی گدھی کے اعضاء کاٹ دیئے ، ” والنسل “ ہر جانور کی نسل اور انسان بھی اسی سے ہیں حضرت ضحاک (رح) فرماتے ہیں (آیت)” واذا تولی “ کا معنی ہے یعنی جب کسی امر کا مالک بن جاتا ہے اور والی (حکمران) بن جاتا ہے (آیت)” سعی فی الارض “ (یعنی زمین میں فساد پھیلانے کی کوشش کرتا ہے) حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ (آیت)” واذا تولی سعی فی الارض “۔ کا معنی ہے یعنی جب کسی امر کا والی بن جاتا ہے تو زیادتی اور ظلم والا عمل کرتا ہے جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ بارش روک لیتا ہے اور کھیتی اور نسل ہلاک ہوجاتی ہے ، (آیت)” واللہ لا یحب الفساد “۔ اللہ تعالیٰ فساد پر ارضی نہیں ہے ، سعید بن مسیب (رح) فرماتے ہیں ” درھم “ (وغیرہ) کاٹتا یعنی مالی ڈاکہ ڈالنا بھی زمین میں فساد ڈالنا ہے ۔
Ayah 2:206

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُ اتَّقِ اللّٰهَ اَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْاِثْمِ فَحَسْبُهٗ جَهَنَّمُ١ؕ وَ لَبِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 2:206 in the Quran reader

اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ خدا سے خوف کر تو غرور اس کو گناہ میں پھنسا دیتا ہے سو ایسے کو جہنم سزاوار ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے

206۔ (آیت)” واذا قیل لہ اتق اللہ “ اللہ تعالیٰ سے ڈر (آیت)” اخذتہ العزۃ بالاثم “ یعنی اس کو عزت، جاہلی حمیت وعصبیت گناہ کے فعل پر ابھارتی ہے یعنی ظلم ، غرور تکبر کے ساتھ اور کہا گیا ہے اس کا معنی ہے اس کو اس کا غرور گناہ کے لیے آمادہ کرتا ہے جس گانہ کا جذبہ داعیہ اس کے دل میں ہے تو یہاں باء لام کے قائم مقام ہے ۔ (آیت)” فحسبہ جھنم “ اس سے کافی ہے (آیت)” ولبئس المھاد “ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ بہت بڑے بڑے گناہوں میں سے یہ گناہ ہے کہ کسی کو کہا جائے ” اتق اللہ “ خدا تعالیٰ سے ڈر تو وہ اس کے جواب میں کہے ” علیک بنفسک “ کہ پہلے تو اپنے آپ کو سنبھال ، روایت کیا گیا ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ کو کہا گیا ” اتق اللہ “ خدا سے ڈر تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی خاطر عاجزی کرتے ہوئے فورا رخسار زمین پر رکھ دیئے ۔
Ayah 2:207

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَهُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ Open ayah 2:207 in the Quran reader

اور کوئی شخص ایسا ہے کہ خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اپنی جان بیچ ڈالتا ہے اور خدا بندوں پر بہت مہربان ہے

207۔ (آیت)” ومن الناس من یشری نفسہ ابتغاء مرضاۃ اللہ “ اللہ تعالیٰ کی رضا طلب کرنے کے لیے (آیت)” واللہ رؤف بالعباد “ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ اور ضحاک (رح) سے روایت کی گئی ہے کہ بیشک یہ آیت سریہ رجیع کے بارے میں نازل ہوئی اور یہ اس طرح کہ کفار قریش نے حضور اقدس ﷺ کی طرف جب کہ آپ ﷺ مدینہ منورہ میں تھے (قاصد) بھیجے بیشک ہم اسلام لا چکے ہیں آپ ہماری طرف اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین میں سے چند عالم بھیجئے جو کہ ہمیں دین کی تعلیم دیں ۔ اوریہ ان کا مکر تھا (ان کی طرف سے سازش تھی) تو حضور اقدس ﷺ نے ان کی طرف خبیب بن عدی انصاری ، ؓ مرثد بن ابی مرثد غنوی ؓ ، خالد بن بکیر ؓ ، عبداللہ بن طارق بن شہاب بلوی ، ؓ زید بن دثنہ ؓ کو بھیجا اور ان پر حضرت عاصم بن ثابت بن ابی افلح انصاری ؓ کو امیر مقرر کیا ، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے دس جاسوس بھیجے اور ان پر حضرت عاصم بن ثابت انصاری ؓ کو امیر مقرر کیا ، پس وہ حضرات چلے اور مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان (جگہ) بطن رجیع میں اترے اور انکے پاس عجوہ کھجور تھی ، پس انہوں نے کھائی پس ایک بڑھیا وہاں گزری اس نے کھجور کی گٹھلیاں دیکھیں توفورا اپنی قوم کے پاس مکہ مکرمہ آگئی اور کہا کہ اس راستہ پر اہل یثرب اصحاب محمد ﷺ چلے ہیں تو فورا ستر آدمی ان میں میں سے سوار ہوئے ، ا ن کے پاس نیزے تھے یہاں تک کہ انہوں نے ان دس حضرات کا گھیراؤ کرلیا ، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں انہوں نے ہذیل میں سے ایک قبیلہ کو ذکر کیا جسے بنو لحیان کہا جاتا تھا تو قریبا سو تیر انداز ان کے پیچھے ہو لیے اور انہوں نے ان کے قدموں کے نشانات کا پیچھے کیا یہاں تک کہ انہوں نے ان (اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کھجور کھانے کی جگہ کو پالیا، جس جگہ وہ اترے تھے پس انہوں (تیر اندازوں) نے کہا یہ یثرب کی کھجور ہے انہوں نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کا پیچھا کیا جب حضرت عاصم ؓ نے اور آپ کے ساتھیوں نے ان کو محسوس کیا تو یہ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ” فدفد “ (پہاڑی) کی طرف پناہ گزیں ہوئے اور مشرکوں نے ان حضرات کا گھیراؤ کرلیا اور حضرت مرثد ؓ حضرت خالد ؓ عبداللہ بن طارق ؓ کو انہوں نے شہید کردیا ۔ حضرت عاصم بن ثابت ؓ نے ترکش بکھیر دیا اور اس میں سات تیر تھے ، چناچہ حضرت عاصم ؓ نے ان سات تیروں سے سات بڑے مشرک قتل کر ڈالے ، اس کے بعد دعا کی ، یا اللہ ! میں نے دن کے پہلے حصہ میں تیرے دین کی حفاظت کی تو میرے جسم کی دن کے آخری حصہ میں حفاظت فرما ، پھر مشرکوں نے ان کا گھیراؤ کیا اور حضرت عاصم ؓ کو بھی شہید کردیا ، شہید کرنے کے بعد مشرکوں نے حضرت عاصم ؓ کا سر کاٹنے کا ارادہ کیا تاکہ آپ کا سر مشرک عورت سلافہ بنت سعد بن شہید کے ہاتھوں بیچیں اور سلافہ کے بیٹے غزوہ احد میں حضرت عاصم ؓ کے ہاتھوں مارے گئے تھے منت مانی تھی کہ اگر میں عاصم بن ثابت ؓ کے سر پر قادر ہوگئی تو اس کے سر کی کھوپڑی میں شراب پئیوں گی ، پس اللہ تعالیٰ نے بھڑوں کا ایک چھتہ بھیج دیا جس نے حضرت عاصم ؓ کی حفاظت کی جس کی بنا پر وہ آپ کا سرکاٹنے پر قادر نہ ہوسکے ، چناچہ حضرت عاصم ؓ کا نام ” حمی الدبر “ پڑگیا ، (بھڑوں کے ذریعے حفاظت کئے ہوئے) چناچہ کافر کہنے لگے ابھی اس کو چھوڑ دو جب بوقت شام یہ بھڑیں چلی جائیں گی ہم اس کا سر کاٹ لیں گے ، پس (بوقت شام) سیاہ بادل اٹھا اور برسا جیسے مشکیزے بہہ پڑتے ہیں جس سے وادی نہر کی صورت اختیار کرگئی ، جس نے حضرت عاصم ؓ کو اٹھا کر جنت پہنچا دیا اور پچاس مشرکوں (مرداروں) کو جہنم رسید کیا ، حضرت عاصم ؓ نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا ہوا تھا کہ نہ مشرک ان کو چھوئے گا اور نہ وہ مشرکوں کو کبھی چھوئیں گے ، حضرت عمر بن خطاب ؓ کو جب یہ قصہ معلوم ہوا تو آپ فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت عجیب ہے کہ بندہ مومن کی حفاظت بھڑوں سے کرائی ، حضرت عاصم ؓ نے نذر مانی ہوئی تھی کہ نہ مشرک ان کو چھوئے گا اور نہ کبھی وہ مشرک کو چھوئیں گے ، حضرت عمر بن خطاب ؓ کو جب یہ قصہ معلوم ہوا تو آپ فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت عجیب ہے کہ بندہ مؤمن کی حفاظت بھڑوں سے کرائی ، حضرت عاصم ؓ نے نذر مانی ہوئی تھی کہ نہ مشرک ان کو چھوئے گا اور نہ کبھی وہ مشرک کو چھوئیں گے ۔ تو اللہ تعالیٰ نے مرنے کے بعد ان کو اس سے محفوظ رکھا جیسا کہ انہوں نے زندگی بھر اپنے آپ کو محفوظ رکھا، مشرکوں نے حضرت خبیب بن عدی ؓ کو اور زید بن دثنہ ؓ کو قید کیا اور دونوں کو مکہ مکرمہ لے گئے حضرت خبیب ؓ کو حارث بن عامر بن نوفل بن عبد مناف کے بیٹوں نے خریدا ، حضرت خبیب ؓ نے حارث کو غزوہ بدر میں قتل کیا تھا ، چناچہ حضرت ان کے پاس قیدی بن کر رہے ، چناچہ حارث کے بیٹے اپنے باپ کے عوض حضرت خبیب ؓ کو قتل کرنا چاہتے تھے چناچہ جب انہوں حضرت خبیب ؓ کو قتل کرنے کا عزم مصمم کرلیا تو حضرت خبیب ؓ نے ان سے استرا حاصل کیا تاکہ زیر ناف بال صاف کریں ، استرا حضرت خبیب ؓ کے ہاتھ میں تھا ، بچے کی ماں گھبرا گئی اور چیخی ، حضرت خبیب ؓ نے فرمایا کیا توڈرتی ہے کہ میں بچے کو قتل کروں گا ، میں ایسا کرنے والا نہیں ہوں دھوکہ ہماری شان کے لائق نہیں ۔ اس (واقعہ) کے بعد وہ عورت کہتی تھی واللہ میں نے خبیب ؓ سے بہتر کوئی قیدی نہیں دیکھا اللہ کی قسم میں نے اس کو ایک دن انگور کھاتے دیکھا حالانکہ وہ زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا اور مکہ پاک میں انگور نہ تھے ، بس یہ (غیبی) رزق تھا جو اللہ تعالیٰ نے حضرت خبیب ؓ کو دیا تھا پھر کافر حضرت خبیب ؓ کو حدود حرم سے باہر علاقہ حل میں قتل کی غرض سے لے گئے اور کافروں نے ارادہ کیا کہ حضرت خبیب ؓ کو سولی چڑھائیں ، حضرت خبیب ؓ نے فرمایا مجھے دو رکعت نماز پڑھنے دو چناچہ آپ نے دو رکعت نماز پڑھی ، چناچہ حضرت خبیب ؓ نے بوقت شہادت دو رکعت نماز پڑھنے کی سنت قائم کی پھر فرمایا کہ مجھے اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ تم موت سے گھبراہٹ پر محمول کرو گے میں اور نمازیں پڑھتا (پھر دعا کی) اے اللہ ! ان کو گن گن کر اور جدا جدا کر کے مار اور ان میں سے کسی کو نہ چھوڑ حضرت خبیب ؓ کے اشعار کا ترجمہ جو بوقت شہادت انہوں نے فرمائے ، پھر فرمایا ، جب میں مسلمان ہونے کی حالت میں قتل کیا جا رہا ہوں تو مجھے اس کی کچھ پروا نہیں ہے کہ میرا گرنا کس پہلو پر ہوگا اور یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر ہو رہا ہے ، اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو کٹے ہوئے اعضاء میں بھی برکت ڈال دے ۔ پس انہوں نے حضرت خبیب ؓ کو زندہ سولی پر لٹکا دیا پس آپ نے فرمایا اللہ ! بیشک تو جانتا ہے کہ اس وقت میرے پاس کوئی ایک بھی ایسا نہیں جو میرا اسلام تیرے رسول کریم ﷺ تک پہنچائے ، پس تو میرا سلام پہنچا دے ۔ پھر ابو سرعہ عقبہ بن حارث کھڑا ہوا اور اس نے حضرت خبیب ؓ کو قتل کر ڈالا اور کہا جاتا ہے کہ مشرکوں میں سے ایک آدمی تھا جس کو سلامان ابو میسرہ کہا جاتا تھا اس کے پاس نیزہ تھا اس نے وہ نیزہ حضرت خبیب ؓ کی چھاتی پر رکھا حضرت خبیب ؓ نے فرمایا ، خدا کا خوف کر اس کہنے سے اس کی سرکشی اور بڑھ گئی اور نیزہ چھاتی سے پار کردیا اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا مصداق ہے (آیت)” واذا قیل لہ اتق اللہ اخذتہ العزۃ بالاثم “ یعنی سلامان کا یہ حال ہے ۔ باقی رہے حضرت زید بن دثنہ ؓ سے صفوان بن امیہ نے خریدا اپنے باپ امیہ کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے اور حضرت زید بن دثنہ ؓ کو اپنے غلام نسطاس کے ساتھ علاقہ (حل) تنعیم کی جانب بھیجا ، قریش کا ایک گروہ بھی وہاں جمع ہوگیا جن میں ابو سفیان بھی تھا جب حضرت زید بن دثنہ ؓ کو قتل کے لیے آگے لایا گیا تو ابوسفیان ؓ نے کہا زید کیا تجھے یہ بات پسند ہے کہ تیری جگہ محمد ﷺ ہمارے پاس ہوں ہم اس کی گردن مار رہے ہوں اور تو اپنے اہل و عیال میں بیٹھا ہو تو حضرت زید بن دثنہ ؓ نے فرمایا خدا کی قسم ! مجھے تو یہ بات بھی پسند نہیں (یعنی ناقابل برداشت ہے) کہ محمد کریم ﷺ اسی جگہ ہوں جس جگہ اب ہیں یعنی اپنے گھر میں بیٹا رہوں اس پر ابو سفیان کہنے لگامیں نے لوگوں میں سے کسی کو نہیں دیکھا جو کسی سے اس قدر محبت کرتا ہو جس قدر محمد ﷺ کے ساتھیوں کو محمد کریم ﷺ کے ساتھ ہے پھر نسطاس نے حضرت زید ؓ کو قتل کیا ، پس جب حضور ﷺ کو یہ خبر پہنچی تو حضور ﷺ نے اپنے ساتھیوں کو فرمایا کون ہے جو (مکہ جا کر) خبیب ؓ کو سولی کی لکڑی سے اتار لائے اور اس کے لیے (اس عمل کے عوض) جنت ہو۔ حضرت زبیر ؓ نے فرمایا حضور ﷺ یہ کام میں پورا کروں گا اور میرا ساتھی مقداد بن اسود ؓ پھر دونوں رات کے وقت نکل کھڑے ہوئے دن کو چھپ جاتے ، رات کو چل پڑتے ، یہاں تک کہ رات کے وقت مقام تنعیم پہنچے تو حضرت خبیب ؓ کی سولی کے اردگرد مشرکوں کے چالیس جوان نشہ کی نیند سو رہے تھے پس حضرت زبیر مقداد ؓ نے حضرت خبیب ؓ کو سولی سے اتارا ، حضرت خبیب ؓ کا جسم اب بھی تروتازہ تھا ، چالیس دن گزر جانے کے باوجود ان کے جسم میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی تھی ، ان کا ہاتھ زخم پر تھا جس سے خون رس رہا تھا ، خون کا رنگ خون والا تھا اور خوشبو کستوری کی تھی ، حضرت زبیر ؓ نے حضرت خبیب ؓ کو گھوڑے پر اٹھا لیا اور چل پڑے ، اتنے میں کفار بیدار ہوگئے ، حضرت خبیب ؓ کو نہ پا کر قریش مکہ خبر دی تو انکے ستر سواروں نے حضرت زبیر ؓ کا پیچھا کیا جب مشرکوں نے ان حضرات کو پالیا تو حضرت زبیر نے حضرت خبیب ؓ کے جسم کو زمین پر پھینک دیا اور زمین حضرت خبیب ؓ کو نگل گئی ، چناچہ حضرت خبیب ؓ کا لقب ” بلیغ الارض “ (زمین کے نگلے ہوئے) پڑگیا ، حضرت زبیر ؓ نے ان مشرکوں کو فرمایا ، اے قریش ! تمہیں ہمارے اوپر (آنے کی یا حملہ کی) جرات کیسے ہوئے پھر سر سے عمامہ اتارا اور فرمایا ، میں زبیر بن عوام ؓ ہوں میری ماں صفیہ بنت عبدالمطلب ہے ، میرا ساتھی مقداد بن اسود ؓ ہے ہم دونوں ان دو شیروں کی مانند ہیں جو اپنے بچوں پر گرے ہوئے ہوں اور دفاع کر رہے ہوں اگر چاہو تو میں تم سے تیر اندازی کا مقابلہ کرنے کو تیار ہوں اگر چاہو تو اتر کر لڑنے کو تیار ہوں ، اگر چاہو تو واپس ہوجاؤ چناچہ کافر واپس لوٹ گئے، حضرت زبیر ومقداد ؓ حضرت کی خدمت میں پہنچے ، حضرت جبرئیل (علیہ السلام) حضور ﷺ کے پاس موجود تھے ، حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے فرمایا رسول اللہ ﷺ آسمان کے فرشتے ان دو حضرات پر فخر کر رہے ہیں تو حضرت زبیر ؓ اور مقداد ؓ کے بارے میں یہ نازل ہوا (آیت)” ومن الناس من یشری نفسہ ابتغاء مرضات اللہ “۔ جب انہوں نے حضرت خبیب ؓ کو سولی سے اتار کر اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے عوض بیچ دیا اور اکثر مفسرین فرماتے ہیں یہ آیت کریمہ حضرت صہیب بن سنان رومی کے بارے میں نازل ہوئی ، جب ان کو مشرکوں نے ایمان والوں کے ایک گروہ میں پکڑا اور ان پر سختی کی تو حضرت صہیب ؓ نے ان کو فرمایا ، میں بوڑھا آدمی ہوں اس میں تمہارا کچھ نقصان نہیں کہ میں تم میں سے ہوجاؤں یا کسی اور کے ساتھ ، کیا تمہیں یہ منظور ہے کہ تم میرا مال لے لو اور مجھے اور میرے دین کو چھوڑ دو چناچہ انہوں نے ایسا کیا ، حضرت صہیب ؓ نے ان پر شرط لگائی تھی کہ مجھے سواری اپنا خرچہ لے جانے دو گے جتنا اللہ تعالیٰ نے چاہا مکہ مکرمہ رہے پھر مدینہ منورہ کی طرف نکل کھڑے ہوئے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق ؓ اور حضرت عمر ؓ نے کچھ لوگوں کے ساتھ ان کا استقبال کیا ، حضرت ابوبکر ؓ نے حضرت صہیب ؓ کو فرمایا اے ابو یحی ! تجھے تیرا سودا مبارک ہو ، جوابا حضرت صہیب ؓ نے فرمایا اے ابوبکر ؓ تیرار سودا بھی خسارے کا نہیں ، حضرت صہیب ؓ نے کہا میرے لیے کیا ہے ؟ حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا تیرے بارے اللہ تعالیٰ نے قرآن نازل فرمایا ہے پھر یہ آیت پڑھی ، حضرت سعید بن مسیب (رح) اور عطاء (رح) فرماتے ہیں حضرت صہیب ؓ مہاجرین کو حضور ﷺ کی طرف متوجہ ہوئے ، قریش نے کچھ لوگوں نے حضرت صہیب ؓ کا پیچھا کیا ، حضرت صہیب ؓ اپنی سواری سے اترے اور اپنے ترکش سے تیروں کو نکالا اور فرمایا قریشیو ! تم اس حقیقت کو جانتے ہو کہ میں تم سب سے زیادہ تیر انداز ہوں ، خدا کی قسم ! میرا ہر ایک تیر تم میں سے کسی نہ کسی کے دل میں پیوست ہوگا اور جب تک میرے پاس ایک تیر بھی باقی ہے تم میرے پاس نہیں پہنچ سکتے ، پھر جب تک میرے ہاتھ میں تلوار ہے اسے استعمال کروں گا ، اس کے بعد تم جو چاہو کرنا اور اگر تم چاہو تو میں تمہیں اپنے اس مال کی جو مکہ مکرمہ میں رہنمائی کر دوں اور تم میرا راستہ چھوڑ دو ، انہوں نے کہا یہ ٹھیک ہے چناچہ آپ نے ایسا کیا پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی ۔ حضرت حسن ؓ فرماتے ہیں تم جانتے ہو یہ آیت کس کے حق میں نازل ہوئی ؟ یہ اس مسلمان کے حق میں نازل ہوئی جو کسی کافر سے ملتا ہے پس اس کو کہتا ہے کہ لاالہ الا اللہ کہہ وہ کافر یہ کلمہ کہنے سے انکار کرتا ہے پس مسلم کہتا ہے اللہ کی قسم میں اپنی ذات کو ضرور (اللہ تعالیٰ کی راہ میں) بیچوں گا ، پس کافر سے اکیلا لڑتا ہے حتی کہ قتل ہوجاتا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ آیت کریمہ ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے بارے میں نازل ہوئی ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں (آیت)” من یشری نفسہ ابتغاء مرضات اللہ “ کا مصداق اس شخص کو دیکھتا ہوں جو کھڑا ہوجاتا ہے ، پس کسی ایک کو خوف خدا کا حکم کرتا ہے پس جب وہ قبول نہیں کرتا اور نخوت اس کو گناہ پر اور زیادہ آمادہ کرتی ہے کہتا ہے اور میں اپنے نفس کو اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر بیچتا ہوں ، پس وہ اس سے لڑتا ہے پس اس پر دو آدمی لڑ پڑتے ہیں ، حضرت سیدنا علی ؓ جب یہ آیت پڑھتے تھے تو فرماتے رب کعبہ کی قسم ! وہ دونوں لڑتے ہیں ابو الخلیل فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ نے ایک آدمی کو یہ آیت ” ومن الناس من یشری نفسہ ابتغاء مرضات اللہ پڑھتے سنا ، پس حضرت سیدنا عمر ؓ نے ” انا للہ وانا الیہ راجعون “ پڑھا ، وہ آدمی کھڑا ہوا اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتا رہا ، پس اسی راہ قتل کردیا گیا ، (گویا اس آیت کا مصداق اس قسم کا شخص ہے) ابو غالب نے ابو امامہ ؓ سے روایت کی ، بیشک ایک آدمی نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ کون سا جہاد افضل ہے ؟ فرمایا افضل ترین جہاد اس شخص کا ہے جس نے ظالم بادشاہ کے سامنے کلمہ حق کہا ۔
Ayah 2:208

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ كَآفَّةً١۪ وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 2:208 in the Quran reader

مومنو ! اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے پیچھے نہ چلو وہ تو تمہارا صریح دشمن ہے

(تفسیر) 208۔: (آیت)” یا ایھا الذین امنوا ادخلوا فی السلم کافۃ “ اہل حجاز اور کسائی (رح) نے اس جگہ ” السلم “ سین کی زبر کے ساتھ پڑھا اور باقیوں نے سلم سین کی زیر کے ساتھ پڑھا اور سورة انفال میں سین کی زیر کے ساتھ اور ابوبکر اور باقیوں نے سین کی زیر کے ساتھ اور ابوبکر اور باقیوں نے سین کی زبر کے ساتھ اور سورة محمد ﷺ میں زیر کے ساتھ حمزہ (رح) اور ابوبکر (رح) پڑھا ہے یہ آیت کریمہ مؤمنین اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی ، حضرت عبداللہ بن سلام نضیری اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں اور یہ اس طرح کہ وہ حضرات ہفتہ کے دن کی تعظیم کرتے اور اونٹ کے گوشت اور اونٹنی کے دودھ سے اسلام لانے کے بعد بھی اظہار کراہت کرتے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ تورات اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے ہمیں اجازت دیجئے کہ ہم راتوں کی نمازوں میں اس کی تلاوت کریں ، پس اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت)” یا ایھا الذین امنوا ادخلوا فی السلم کافۃ “ یعنی اسلام میں ۔ حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں اہل اسلام کے احکام اور اعمال میں پورے طور پر داخل ہوجاؤ اور کہا گیا ہے اسلام میں داخل ہوجاؤ ، تمام شرعی احکام میں مکمل طور پر اس حال میں کہ اس کے سوا کسی اور کی طرف تجاوز کرنے والے نہ ہو ، سلم اصل میں استلام سے اور انقیاد سے ہے (یعنی مطیع اور فرمانبردار ہونا) اسی لیے صلح کو سلم کہا جاتا ہے ، حضرت سیدنا حذیفہ بن الیمان ؓ اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اسلام آٹھ حصے ہے پس آپ نے نماز ، زکوۃ ، روزہ ، حج ، عمرہ ، جہاد امر بالمعروف نہی عن المنکر شمار فرمایا اور فرمایا وہ شخص ناکام ونامراد ہوا جس کو کوئی حصہ نہ ملا۔ (آیت)” ولا تتبعوا خطوات الشیطان “ اس کے قدموں کے نشانات کی پیروی نہ کرو جس سلسلہ میں کہ وہ تمہارے مزین کرے ، ہفتہ کی تعظیم اور اونٹوں کے گوشت کی کراہت کے بارے میں (آیت)” انہ لکم عدو مبین “ حضرت جابر ؓ نے حضور اقدس ﷺ سے روایت کی جب حضور ﷺ کے پاس حضرت عمر ؓ آئے پس حضرت عمر ؓ نے کہا ہم یہود سے ایسی باتیں سنتے ہیں جو ہمیں اچھی لگتی ہیں کیا آپ اجازت عنایت فرماتے ہیں کہ ہم ان کی بعض باتیں لکھ لیا کریں ؟ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کیا تم (دین کے بارے) حیران وسرگردان ہو جس طرح کہ یہودونصاری سرگرداں ہوئے ؟ میں تمہارے پاس سفید اور صاف شفاف (ملت) لے کر آیا ہوں ، اگر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بھی زندہ ہوتے تو ان کے لیے میری پیروی کے بغیر کوئی چارہ کار نہ ہوتا۔
Ayah 2:209

فَاِنْ زَلَلْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْكُمُ الْبَیِّنٰتُ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 2:209 in the Quran reader

پھر اگر تم احکام روشن پہنچ جانے کے بعد لڑکھڑا جاؤ تو جان رکھو کہ خدا غالب (اور) حکمت والا ہے

209۔ (آیت)” فان زللتم “ تم بھٹک گئے، کہا گیا ہے تم ہٹ گئے، کہا جاتا ہے ” زلت قدمہ تزل زلا وزلا “ جب وہ پھسل جائے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں اس سے مراد شرک ہے ، حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے جان لیا عنقریب بعض لوگ پھسل جائیں گے پس اسے مقدم کیا اور اس میں وعید سنائی تاکہ اللہ تعالیٰ کی ہاں ان کے خلاف حجت ہوجائے ، (آیت)” من بعد ما جاء تکم البینات “ یعنی واضح دلالتیں ”(آیت)” فاعلموا ان اللہ “۔ (آیت)” عزیز “ انتقام لینے میں (غالب ہے) (حکیم) اپنے معاملہ میں (حکیم ہے) پس عزیز اور غالب جس کے (قبضہ قدرت) سے کوئی شیء باہر نہیں اور حکیم اپنے معاملات میں درست پہنچنے والا ہے۔
Ayah 2:210

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیَهُمُ اللّٰهُ فِیْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 2:210 in the Quran reader

کیا یہ لوگ اسی بات کے منتظر ہیں کہ ان پر خدا (کا عذاب) بادل کے سائبانوں میں آ نازل ہو اور فرشتے بھی (اتر آئیں) اور کام تمام کردیا جائے ؟ اور سب کاموں کا رجوع خدا ہی کی طرف ہے

(تفسیر) 210۔: فرمان الہی (آیت)” ھل ینظرون “ نہیں انتظار کرتے وہ لوگ جو اسلام میں داخل ہونا چھوڑنے والے ہیں اور شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرنے والے ہیں ، ” نظرتہ اور انتظرتہ “ کا معنی ایک ہے (گویا یا ہیں ” ینظرون بمعنی ینتظرون “ ہے جب لفظ نظر کے ساتھ لفظ وجہہ (چہرہ) ملا ہوا ہو یا نظر کے ساتھ لفظ ” الی “ مذکور ہو تو اس وقت نظر کا معنی آنکھ سے دیکھنا ہوگا ۔ ” الا ان یاتیھم اللہ فی ضلل “ ظلل ظلۃ کی جمع ہے (معنی سایہ) ” من الغمام “ غمام سفید اور پتلے بادل کو کہتے ہیں بادل کو غمام اس لیے کہتے ہیں کہ غم کا معنی ستر ہے یعنی چھپانا اور بادل بھی ستر (چھپانے) کا کام کرتا ہے ، حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں ہیں کہ غمام سحاب عام بادل کے علاوہ کوئی خاص قسم کا بادل ہے جو کہ (امر الہی سے) بنو اسرائیل کے لیے مقام تیہ کے لیے تھا۔ حضرت مقاتل ؓ فرماتے ہیں غمام سفید کہر کی مانند ہوتا ہے ، حضرت حسن (رح) فرماتے ہیں ” فی سترۃ فی الغمام “ بادل کے پردے میں پس ان کی طرف زمین والے نہ دیکھ سکیں گے ۔ (آیت)” والملائکۃ “ ابو جعفر (رح) نے اس کو زیر کے ساتھ پڑھا ہے ، الغمام پر عطف کرتے ہوئے تقدیر عبارت ہوگی ” مع الملائکۃ “ عرب کہتے ، ” اقبل الامیر فی العسکر ای مع العسکر “ باقی حضرات نے ” الملائکۃ “ کو پیش کے ساتھ پڑھا ہے ، بایں معنی ” الا ان یاتیھم اللہ والملائکۃ فی ضلل من الغمام “۔ (یعنی جس طرح اللہ یاتی کے فعل کا فاعل ہے ایسے ہی ” الملائکۃ “ بھی فاعل ہے) اس آیت کریمہ کے مفہوم اور باقی آیات قرآنی جن کا مفہوم ومعنی اس آیت کریمہ سے ملتا جلتا ہے ان سب کے بارے میں یہی بہتر ہے کہ ان کے ظاہر پر ایمان لایا جائے اور اس کا علم (حقیقی) اللہ تعالیٰ کے سپرد کیا جائے یا پھر انسان یہ عقیدہ رکھے کہ بیشک ” اللہ عزاسمہ حدث “ کی علامات سے منزہ ہے اسی انداز فکر پر آئمہ سلف اور علماء اہل السنت چلے ہیں کلبی (رح) کہتے ہیں یہ وہ پوشیدہ (راز) ہے جس کو کھولا نہیں جاسکتا ، مکحول ، زہری ، اوزاعی ، امام مالک ، ابن مبارک ، سفیان ثوری ، لیث بن سعد ، حضرت احمد اور اسحاق (رحمہم اللہ) اس آیت کے مفہوم اور اس قسم کے مفہوم پر مشتمل دیگر آیات کے بارے میں کہتے ہیں ، ان آیات کا معاملہ یہ ہے کہ جس مفہوم کے ساتھ یہ آیات نازل ہوئی ہیں ویسی ہیں ویسی ہی ہیں بغیر کسی کیفیت کے معلوم کیے کے ، سفیان بن عیینہ (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اس قسم کے معنی (مثلا آنا وغیرہ) کے ساتھ جب بھی اپنے آپ کو موصوف کیا پس اس کی تفسیر یہ ہے ” قراءت ہ والسکوت علیہ “ پس اس آیت کا پڑھنا ہے مگر مفہوم ومعنی کے لحاظ سے سکوت کرنا ہے ۔ ذات باری تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کے بغیر کوئی بھی تفسیر کرنے کا مجاز نہیں (آیت)” وقضی الامر “ عذاب ثابت ومتحقق ہوا اور حساب سے فراغت ہوئی اور یہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ اٹل ہے قضاء بالحق ہے جو بروز قیامت اللہ تعالیٰ مخلوق کے مابین فرمائیں گے ۔ (آیت)” والی اللہ ترجع الامور “ ابن عامر اور حمزہ (رح) اور کسائی (رح) اور یعقوب (رح) نے ترجع کو تاء کی زبر کے ساتھ اور جیم کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے اور باقیوں نے تاء کی پیش اور جیم کی زبر کے ساتھ ۔