Ayah 2:111(تفسیر) 111۔: (آیت)” وقالوا لن یدخل الجنۃ الامن کان ھودا “ اس سے مراد یہودی ہیں فراء کہتے ہیں کہ یہودی سے یاء زائدہ حذف کردی گئی اور یہودیت سے جو فعل بنتا تھا اس کی طرف لوٹا دیا گیا (یعنی ھود) اخفش (رح) کہتے ہیں ” ھود “ ھائد کی جمع ہے جس طرح عود عائد کی جمع ہے اور حول حائل کی جمع ہے (آیت)” اونصاری “ اور یہ اس لیے کہ یہود نے کہا کہ جنت میں سوائے یہود کے کوئی نہیں جائے گا اور دین یہودیت کے علاوہ کوئی اور دین نہیں ہے۔
اور کہا گیا ہے کہ وفد نجران کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی جو نصرانی تھے اور حضور ﷺ کی مجلس میں یہود کے ہمراہ جمع ہوگئے تو (یہود ونصاری) بعض نے بعض کو جھٹلانا شروع کردیا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت)” تلک امانیھم “ یعنی ان کی شہوات باطلہ ہیں جو انہوں نے آرزوؤں کی شکل میں اللہ تعالیٰ پر ناحق باندھ رکھی ہیں ، (قل) یا محمد ﷺ ” ھاتوا “ (لے آؤ) اس کی اصل آتو ہے ” برھانکم “ اپنی حجت یا دلیل اس پر جو تم گمان کرتے ہو ۔ (آیت)” ان کنتم صادقین “ پھر ان پر رد کرتے ہوئے فرمایا ۔
Ayah 2:112112۔ (آیت)” بلی من اسلم وجھہ “ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ حکم اسلام کو حاصل ہے ، جنت میں صرف وہ شخص جائے گا جس نے اپنا چہرہ مطیع کرلیا ۔ (للہ) اللہ تعالیٰ کے حضور یعنی دین خالص اللہ تعالیٰ کے لیے کیا اور کہا گیا ہے اپنی عبادت خالص اللہ تعالیٰ کے لیے کرلی اور کہا گیا ہے اللہ تعالیٰ کے لیے عاجزی کی تواضع کی ، اسلام کی اصل استلام ہے یعنی مان لینا ، عاجزی کرنا ، چہرے کو خاص اس لیے کیا کہ جب وہ سجدے میں سر کو جھکانے کی سخاوت کرتا ہے تو بقیہ اعضاء کے معاملہ میں کیسے بخل کرے گا (آیت)” وھو محسن “ اپنے عمل میں (احسان کرنے والا) اور کہا گیا ہے محسن بمعنی مؤمن ہے اور کہا گیا ہے مؤمن بمعنی مخلص ہے (آیت)” فلہ اجرہ عند ربہ ولا خوف علیہم ولا ھم یحزنون “۔
Ayah 2:113113۔ (آیت)” وقالت الیھود لیست النصاری علی شیئ “ یہ آیت یہود مدینہ اور نصاری نجران کے بارے میں نازل ہوئی کہ جب وفد نجران حضور ﷺ کے پاس آیا تو ان کے پاس احبار یہود بھی پہنچ گئے ، پس انہوں نے باہمی مناظرہ کیا ، یہاں تک کہ ان کی آوازیں بلند ہوئیں تو یہود نے ان کو کہا ” ماانتم علی شیء من الدین “ کہ تم کسی شیء پر نہیں جو دین میں معتبر ہو اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور انجیل کا انکار کیا ، نصاری نے انکو کہا ” ما انتم علی شیء من الدین “ کہ کسی ایسی شئی پر نہیں ہو جو دین میں معتبر ہو اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور تورات کا انکار کیا ، پس اللہ تعالیٰ نے یہ نازل فرمایا (آیت)” وقالت النصاری لیست الیھود علی شیء وھم یتلون الکتاب “ اور دونوں گروہ کتاب پڑھتے ہیں اور کہا گیا ہے اس کا معنی یہ ہے کہ یہ اختلاف ان کی کتابوں میں نہیں ہے، پس ان کا کتاب کی تلاوت کرنا اور جو کچھ کتاب میں ہے اس کی مخالفت کرنا اس پر دلالت کرتا ہے کہ وہ باطل پر ہیں۔
(آیت)” کذالک قال الذین لا یعلمون “ یعنی ان کے آباء جو گزر چکے ہیں (آیت)” مثل قولھم “ حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں اس سے مراد عوام نصاری ہیں ، حضرت مقاتل (رح) فرماتے ہیں اس سے مراد مشرکین عرب ہیں کہ انہوں نے بھی اپنے نبی کریم حضرت محمد ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے بارے میں یہی کچھ کہا کہ وہ دینی اعتبار سے کسی معتبر دشیء پر نہیں ہیں ، حضرت عطاء (رح) فرماتے ہیں اس سے مراد وہ امتیں ہیں جو یہود و نصاری سے پہلے گزریں جیسے قوم نوح اور ھود اور صالح اور لوط اور قوم شعیب (علیہم السلام) انہوں نے اپنے اپنے نبی کو کہا (آیت)” لیس علی شیئ۔۔۔۔۔” فاللہ یحکم بینھم یوم القیامۃ “ اہل حق اور اہل باطل کے درمیان فیصلہ کرے گا (آیت)” فیما کانوا فیہ یختلفون “ دین سے متعلق جو ان کا اختلاف تھا ۔
Ayah 2:114(تفسیر) 114۔:
(آیت)” ومن اظلم ممن منع مساجد اللہ ان یذکر “ یہ ؤیت ططوس بن اسبیبانوس رومی اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی اور یہ اس طرح کہ انہوں نے بنو اسرائیل سے لڑائی لڑی ، ان کے جوانوں کو قتل کیا ، بچوں کو قید کیا اور تورات کو جلا دیا اور بیت المقدس کو خراب کیا اور اس میں مردار پھینکے اور اس میں خنزیر ذبح کیے ، یہ بیت المقدس خراب رہا یہاں تک کہ مسلمانوں نے حضرت عمر ؓ کے زمانے میں اسے آباد کیا ، حضرت قتادہ ؓ اور علامہ سدی (رح) فرماتے ہیں کہ بیت المقدس کو خراب کرنے والا بخت نصر اور اس کے ساتھی تھے اور یہود سے لڑے اور بیت المقدس کو خراب کیا اور اس سلسلہ میں نصاری نے ططوس رومی اور اس کے رومی ساتھیوں کی مدد کی ۔
سدی (رح) کہتے ہیں اس وجہ سے کہ انہوں نے یحیٰ بن زکریا کو قتل کیا ، حضرت قتادہ (رح) کہتے ہیں کہ ان کو بعض یہودیوں نے مجوسی بخت نصر بابلی کی مدد پر ابھارا ، پس اللہ تعالیٰ نے یہ نازل فرمایا (آیت)” ومن اظلم “ یعنی بڑا کافر (آیت)” ممن منع مساجد اللہ “ اس سے مراد بیت المقدس اور اس کے محراب (اس بات سے منع کیا) کہ ذکر کیا جائے (آیت)” فیھا اسمہ وسعی فی خرابھا اولئک ماکان لھم ان یدخلوھا الا خائفین “ اور یہ اس طرح کہ بیت المقدس عیسائیوں کے حج کی جگہ اور زیارت گاہ ہے ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ بیت المقدس میں اس کی آبادی کے بعد کوئی رومی (عیسائی) داخل نہ ہوگا مگر ڈرتے ہوئے اگر اس کا علم ہوجائے تو قتل کردیا جائے ، حضرت قتادہ (رح) اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ بیت المقدس میں کوئی نصرانی داخل نہ ہوگا مگر یہ کہ شکل و صورت بدل کر اگر اس پر قدرت حاصل کرلی جائے تو سزا دی جائے ، حضرت سدی (رح) فرماتے ہیں وہ جزیہ کے ساتھ خوفزدہ کیے جائیں اور کہا گیا ہے کہ یہ خبر بمعنی امر ہے یعنی جہاد کے ذریعے انہیں دور بھگائے رکھو حتی کہ ان میں سے کوئی بھی اس میں داخل نہ ہو مگر یہ قتل ہونے اور قید ہوجانے کا خوف رکھتے ہوئے ، یعنی ان کے لیے مناسب اور لائق نہیں (مسجد میں داخل ہونا) (آیت)” لھم فی الدنیا خزی “ عذاب سے ذلت ہے حضرت قتادہ (رح) فرماتے ہیں اس سے مراد حربی کافر کا قتل اور ذمی کافر سے جزیہ لینا ہے حضرت مقاتل (رح) اور کلبی (رح) کہتے ہیں کہ ان کے تین (بڑے) شہر فتح کیے جائیں گے ، قسطنطنیہ ، رومیہ ، عموریہ (آیت)” ولھم فی الاخرہ عذاب عظیم “ اور وہ آگ ہے ۔
Ayah 2:115115۔ (آیت)” ولللہ المشرق “ حضرت عطاء (رح) اور حضرت عبدالرحمن بن زید (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی اور مساجد سے مراد حرام ہے جس سے انہوں نے رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو حج (عمرہ) سے اور نماز پڑھنے سے حدیبیہ والے سال روکا تھا اور جب انہوں نے حضور ﷺ کو اس سے روکا کہ حضور ﷺ اس کو ذکر اللہ سے آباد کریں ، پس تحقیق ایسا کرکے انہوں نے مسجد حرام کو خراب کرنے کی کوشش کی ، یہی لوگ ہیں ان کے لیے قطعا مناسب نہیں کہ وہ مسجد حرام میں داخل ہوں مگر یہ کہ خوفزدہ ہو کر اس سے مراد اہل مکہ گویا اللہ تعالیٰ حضور ﷺ کو فرما رہے ہیں کہ میں آپ پر مکہ مکرمہ فتح کر دوں گا حتی کہ تم مکہ میں داخل ہوجاؤ گے اور مسجد حرام کے تم (مشرکین کی نسبت) زیادہ حقدار ہو، چناچہ اللہ تعالیٰ نے مکہ کو فتح کیا اور حضور ﷺ نے منادی کو حکم دیا کہ وہ ندا لگائے ، خبردار ! آج کے بعد کوئی مشرک حج کے لیے نہ آسکے گا پس یہ ان کا ڈرانا ہو اور شریعت میں یہ ثابت ہے کی کسی مشرک کے لیے حرم میں داخل ہونا جائز نہیں ہے ان کے لیے دنیا میں ذلت و رسوائی ، قتل ہونا، قید ہونا ، اور جلاوطنی ہے اللہ تعالیٰ کا قول (آیت)” وللہ المشرق والمغرب فاینما تولو فثم وجہ اللہ “ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں ۔
حضور ﷺ کے چند صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین تحویل قبلہ سے پہلے سفر پر نکلے ، ان کو کہر (دھند) نے آگھیرا اور نماز کا وقت بھی ہوگیا تو انہوں نے قبلہ کی طرف اندازہ کے ساتھ نماز پڑھی ، جب گہر (دھند) چھٹ گئی تو اس وقت معلوم ہوا کہ انہوں نے قبلہ رخ نماز نہیں پڑھی ، جب واپس تشریف لائے تو انہوں نے حضور ﷺ سے اس کے متعلق پوچھا تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ، حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اس مسافر کے بارے میں نازل ہوئی جو نفل نماز ہر اس سمت کی طرف منہ کرکے پڑھتا ہے جس طرف اس کی سواری کا رخ ہو ۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے ، وہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ سفر میں ہر اس جانب منہ کرکے نماز پڑھتے تھے جس طرف آپ کی سواری متوجہ ہوتی ، حضرت عکرمہ (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ تحویل قبلہ کے سلسلہ میں نازل ہوئی ، حضرت ابوالعالیہ (رح) فرماتے ہیں کہ قبلہ جب کعبہ کی طرف پھیر دیا گیا تو یہودیوں نے حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو رعار دلائی کہ ان مسلمانوں کا تو کوئی قبلہ ہی نہیں کبھی اس طرف منہ کر کے نماز پڑھتے ہیں اور کبھی اس طرف منہ کر کے نماز پڑھتے ہیں ، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی ۔
حضرت مجاہد (رح) اور حضرت حسن (رح) فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد نازل ہوا۔ (آیت)” وقال ربکم ادعونی استجب لکم “ وہ کہنے لگے ہم اللہ تعالیٰ کو کہاں سے پکاریں پس اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد نازل فرمایا ۔
(آیت)” وللہ المشرق والمغرب “ کہ ملک بھی اللہ کی تخلیق بھی اللہ تعالیٰ کی (آیت)” فاینما تولوا فثم وجہ اللہ “ جس طرف تمہاری سواری کا رخ ہو ادھر ہی نفل پڑھو۔ یعنی ادھر ہی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے ۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں فثم وجہ اللہ “ کا معنی ہے کہ وہی اللہ تعالیٰ جانتا بھی ہے اور دیکھتا ہے ، ” وجہ “ کا معنی ایسے ہے جیسے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” کل شئی ھالک الا وجہہ “ یہاں بھی (آیت)” الا وجہہ “ کا معنی ہے مگر وہ ذات کریم گویا لفظ وجہ کو اللہ تعالیٰ کی ذات کریم کو بیان کرنے کا ذریعہ بنایا گیا ہے ، حضرت حسن (رح) ، مجاہد (رح) قتادہ (رح) ، مقاتل بن حیان (رح) فرماتے ہیں (آیت)” فثم وجہ اللہ “ کا معنی ہے پس وہی اللہ تعالیٰ کا قبلہ ہے ۔ الوجہ اور الوجھۃ اور جہۃ یعنی قبلہ سے کہا گیا ہے (آیت)” فثم وجہ اللہ “ کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کی رضا ۔ (آیت)” ان اللہ واسع “ یعنی غنی ہے اپنی وسعت کے مطابق عطا کرتا ہے ، فراء کہتے ہیں الواسع بمعنی وہ سخی جس کی نوازشات ہر شئی کو شامل ہوں ، کلبی (رح) کہتے ہیں اس کا معنی ہے (آیت)” واسع المغفرۃ “ (علیم) ان کی نیتوں کو جاننے والا ہے جہاں کہیں انہوں نے نمازیں پڑھیں اور دعائیں کیں ۔
Ayah 2:116(تفسیر) 116۔:
(آیت)” وقالوا اتخذاللہ ولدا “ ابن عامر نے ” قالوا “ پڑھا بغیر واؤ کے اور باقیوں نے (آیت)” وقالوا اتخذاللہ ولدا “ یہ آیت یہود مدینہ کے بارے میں نازل ہوئی ، جب انہوں نے حضرت عزیز (علیہ السلام) کو خدا کو بیٹا کہا اور نصاری نجران کے بارے میں نازل ہوئی ، جب انہوں نے کہا عیسیٰ (علیہ السلام) خدا کا بیٹا ہے اور مشرکین عرب کے بارے میں نازل ہوئی جب انہوں نے کہا فرشتے خدا تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں (سبحانہ) اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کو عالی منزہ قرار دیا اور عظمت بیان کی ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے وہ حضور ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ آدم (علیہ السلام) کے بیٹے نے مجھے جھٹلایا حالانکہ اس کو یہ حق حاصل نہ تھا اور آدم (علیہ السلام) کے بیٹے نے مجھے گالی دی اور اسے یہ مناسب نہ تھا ، بہرحال ابن آدم کا مجھے جھٹلانا اس طرح ہے کہ وہ گمان کرتا ہے کہ میں اس کو اس طرح لوٹانے پر قادر نہیں ہوں جیسے کہ وہ پہلے تھا اور ابن آدم کا مجھے گالی دینا اس کا یہ کہنا ہے کہ میرے ہاں کوئی اولاد ہے ، پس میں اس سے پاک ہوں کہ میں بیوی اپناؤں یا اولاد۔
(آیت)” بل لہ مافی السموت والارض “ عبد ہونے کے لحاظ سے اور مملوک ہونے کے لحاظ سے جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے اسی کا ہے اور اس کا پیدا کیا ہوا ہے اور اسی کی ملک ہے۔ (آیت)” کل لہ قانتون “ حضرت مجاہد (رح) ، حضرت عطاء (رح) اور سدی (رح) فرماتے ہیں کہ ” قانتون “ کے معنی ہیں ” مطیعون “ حضرت عکرمہ (رح) مقاتل ؓ فرماتے ہیں کہ ” قانتون “ کا معنی ہے ” مقرون “ بالعبودیۃ کہ غلامی کا اقرار و اعتراف کرنے والے ابن کیسان فرماتے ہیں ” قائمون بالشھادۃ “ کہ (حق کی) گواہی لے کر کھڑے ہونے والے ، قنوت کا اصل معنی قیام ہے یعنی کھڑا ہونا حضور ﷺ نے فرمایا ” افضل الصلوۃ طول القنوت “ کہ افضل نماز وہ ہے جس کا قیام طویل ہو اس آیت کے حکم کے بارے میں انہوں نے اختلاف کیا ۔
بس ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ اس آیت کا حکم خاص ہے ، مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت حضرت عزیر (علیہ السلام) حضرت مسیح (علیہ السلام) اور فرشتوں کی طرف راجع ہے ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ آیت اہل طاعت کی طرف راجع ہے نہ کہ باقی لوگوں کی طرف اور ایک جماعت اس طرح گئی ہے کہ آیت کا حکم عام ہے تمام لوگوں میں کیونکہ لفظ کل جس پر داخل ہوتا ہے اس کے کل افراد کا احاطہ کرتا ہے ، اس طرح کہ اس سے کچھ بھی باہر نہیں ہوتا ، پھر وہ کفار سے متعلق ” قانتون “ کے مفہوم کے بارے میں دو طریقے انہوں نے اختیار کیے ، مجاہد (رح) فرماتے ہیں ان کے سائے ان کے نہ چاہنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کے لیے سجدہ کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (آیت)” وضلالھم بالغدو والاصال “ علامہ سیدی (رح) کہتے ہیں کفار کی اطاعت بروز قیامت ہوگی ، اس قول کی دلیل (آیت)” وعنت الوجوہ للحی القیوم “ اور کہا گیا ہے ” قانتون “ بمعنی ” مسخرون “ ہے یعنی جس مقصد و افادیت کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے اس میں حکم خداوندی کے تابع ہیں ۔
Ayah 2:117(تفسیر) 117۔:
(آیت)” بدیع السموت والارض “ یعنی ان کو پیدا کرنے والا اور ان کی نشو و نما کرنے والا بغیر کسی سابقہ نمونے کے (آیت)” واذا قضی امرا “ یعنی جو معاملہ اللہ تعالیٰ نے مقدر فرمایا اور کہا گیا ہے یعنی اس کو مستحکم کیا اور مضبوط کیا اور قضا کا اصل معنی فارغ ہونا ہے اور اسی سے ہے کہ جو شخص مرجائے اس کے متعلق کہا جاتا ہے ” قضی علیہ “ دنیا سے فارغ ہونے کی وجہ سے اور اسی سے ہے (آیت)” قضاء اللہ وقدرہ “ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس سے تقدیر و تدبیر کے اعتبار سے فارغ ہوگیا ۔ (آیت)” فانما یقول لہ کن فیکون “ ابن عامر ” کن فیکون “ کو ہر جگہ زبر کے ساتھ پڑھا ہے سوائے آل عمران کی سورة میں ” کن فیکون الحق من ربک “ اور سورة انعام میں ” کن فیکون قولہ الحق “ اور زبر اس لیے دی کہ جواب امر پر جب فاء داخل ہو تو اس کو زبر کے ساتھ پڑھا جاتا ہے اور باقیوں نے پیش کے ساتھ پڑھا ۔
بایں معنی ” فھویکون “ پس اگر کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ کیسے فرمایا (آیت)” فانما یقول لہ کن “ جب کہ جس کو کن کہا جا رہا ہے وہ معدوم ہے اور معدوم کو خطاب نہیں کیا جاتا ؟
جواب : ابن انباری (رح) کہتے ہیں اس کا معنی ہے ” فانما یقول لہ “ یعنی اس کو وجود بخشنے کی خاطر ، یعنی ” لہ “ کا معنی یہ نہیں کہ اس کو کہتا ہے بلکہ اس کا معنی ہے اس کے واسطے کہتا ہے ، اس معنی کے اعتبار سے خطاب کا مفہوم ختم ہوگیا اور کہا گیا ہے کہ وہ اگرچہ معدوم ہے مگر چونکہ موجود ہوجانا مقدر ہوچکا ہے اور وہ ہر حال میں وجود میں آنے والا ہے تو وہ کالموجود کی طرح ہوگیا ۔ پس اب خطاب درست ہے ۔
Ayah 2:118118۔ (آیت)” وقال الذین لا یعلمون “ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں اس سے مراد یہود ہیں ، حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ ” لایعلمون “ سے مراد عیسائی ہیں ، حضرت قتادہ (رح) فرماتے ہیں اس سے مراد مشرکین عرب ہیں ۔
لولا “ یہاں لولا بمعنی ھلا ہے اور ” ھلا “ کا استعمال کسی کام پر ابھارنے کے لیے ہوتا ہے ۔ ” یکلمنا اللہ “ یعنی اللہ تعالیٰ ہم سے علانیہ کلام کیوں نہیں فرماتا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور قرآن کریم میں جہاں بھی ” لولا “ آیا ہے وہ بمعنی ” ھلا “ ہے سوائے ایک مقام کے اور وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد (آیت)” فلولا انہ کان من المسبحین “ یہاں ” لولا “ کا معنی ” فلولم یکن “ ہے جس کا معنی ہے پس اگر وہ نہ ہوتے تسبیح کرنے والوں سے ” اوتاتینا آیۃ “ وہ آیت رہنمائی کرنے والی ہوتی اور علامت ہوتی آپ کے سچے ہونے پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت)” کذالک قال الذین من قبلھم “ یعنی سابق امتوں کے کفار (آیت)” مثل قولھم تشابھت قلوبھم “ یعنی بعض بعض کے کفر میں اور سنگ دلی میں اور محال امور کو طلب کرنے میں ایک دوسرے کے مشابہ ہوگئے ۔ (آیت)” قد بینا الایات لقوم یؤقنون “۔
Ayah 2:119119۔ (آیت)” انا ارسلناک بالحق “ یہاں بالحق بمعنی بالصدق ہے (یعنی حق سچ کے ساتھ ہم نے آپ کو بھیجا ہے) ” ویستنبئونک احق ھو قل ای وربی انہ لحق “ یعنی ۔
وہ سچ ہے ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں بالحق کے معنی ہیں کہ قرآن کے ساتھ اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے (آیت)” بل کذبوا بالحق لما جاء ھم “ ابن کیسان (رح) فرماتے ہیں بالحق کا معنی اسلام اور اس کے احکام ہیں اور اس پر دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے (آیت)” وقل جاء الحق “ حضرت مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ اس کا معنی ہے کہ ہم نے آپ کو بےفائدہ و فضول نہیں بھیجا ، ہم نے صرف آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت)” وما خلقنا السموت والارض وما بینھما الا بالحق “۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ” بشیرا “ یعنی میرے دوستوں کو اور میرے فرمانبرداروں کو اچھے اجر وثواب کی خوشخبری دینے والا (ونذیرا) ڈرانے والا اپنے دشمنوں کو اور گناہ گاروں کو عذاب الیم سے ڈرانے والا ہے ” ولا تسال “ یہ (فعل) نہی معروف ہے ۔ حضرت عطاء (رح) نے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت فرمائی کہ بیشک ایک دن حضور ﷺ نے فرمایا ، اے کاش ! مجھے معلوم ہوجاتا میرے والدین کسی حال میں ہیں اس وقت یہ آیت نازل ہوئی اور کہا گیا ہے اللہ تعالیٰ کا ” لاتسئل “ فرمانا اس طرح ہے جیسے عرب کا محاورہ ہے ” لاتسال عن شر فلان فانہ فوق ماتحسب “ کہ فلاں کی برائی کے بارے میں نہ پوچھ وہ تیرے گمان سے بھی اوپر ہے اور یہ ” لاتسئل “ نہی نہیں ہے اور دوسروں نے ” لاتسئل “ پیش کے ساتھ پڑھا ۔ فعل نفی کے طور پر معنی ہوگا آپ ان کے بارے میں مسئول نہیں ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ” فانما علیک البلاغ وعلینا الحساب “ یعنی تبلیغ دین و احکام آپ کے ذمے ہے اور حساب وکتاب ہمارے ذمہ رہا ۔
121۔ (آیت)” عن اصحاب الجحیم “ جحیم بڑی آگ کو کہا جاتا ہے ۔
Ayah 2:120(تفسیر) 120۔:
(آیت)” ولن ترضی عنک الیھود والا النصاری حتی تتبع ملتھم قل ان ھدی اللہ ھو الھدی “ اور یہ اس طرح کہ وہ حضور ﷺ سے مصالحت کا سوال کرتے اور آپ کو اس کا طمع دلاتے کہ اگر حضور ﷺ ان کو مہلت دیں تو وہ حضور ﷺ کی پیروی کریں گے ، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی ، اس کا معنی یہ ہوا کہ آپ اگرچہ ان سے مصالحت فرمالیں تو اس پر بھی راضی نہ ہوں گے ، یہ مصالحت تو آپ سے صرف حیلے بہانے کے طور پر طلب کرتیء ہیں اور یہ آپ سے اور کسی طور پر راضی نہ ہوں گے ، مگر یہ کہ آپ ان کی ملت کی پیروی کرلیں ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ قبلہ کے بارے میں ہے اور یہ اس طرح کہ یہود مدینہ اور نجران کے عیسائی حضور ﷺ کے بارے میں پرامید تھے ۔
جب حضور ﷺ نے ان کے قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی ، پس جب اللہ تعالیٰ نے تحویل قبلہ فرما کر کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے کا حکم دیا تو یہودی اور عیسائی حضور ﷺ کے بارے میں اس بات سے مایوس ہوگئے کہ آپ ﷺ ان کی دین کے لحاظ سے موافقت کریں گے ، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت)” ولن ترضی عنک الیھود “ (یعنی آپ سے یہودی راضی نہ ہوں گے ) مگر یہودیت کے ساتھ اور نہ عیسائی راضی ہوں گے مگر عیسائیت کے ساتھ ۔ ملت کے معنی طریقہ کے ہیں (آیت)” ولئن اتبعت اھواء ھم “ کہا گیا ہے کہ یہ خطاب حضور ﷺ کے ساتھ امت کو ہے جس طرح اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” ولئن اشرکت لیحبطن عملک “۔۔۔۔۔ ” بعد الذی جاء ک من العلم “ یہاں علم سے مراد بیان ہے یعنی اس بیان کے آجانے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ کا دین دین اسلام ہے اور قبلہ قبلہ ابراہیمی ہے جو کہ کعبہ ہے ۔
Ayah 2:121121۔ (آیت)” مالک من اللہ من ولی ولا نصیر “۔۔۔۔۔۔۔۔ ” الذین اتیناھم الکتاب “۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ آیت کریمہ کشتی والوں کے بارے میں نازل ہوئی جو حضرت جعفر بن ابی طالب کے ہمراہ آئے تھے ، یہ چالیس مرد تھے بتیس (32) کا تعلق حبشہ سے تھا اور آٹھ شام کے راہب تھے ، ان میں بحیرا راہب بھی تھا حضرت ضحاک (رح) فرماتے ہیں اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو یہودیوں میں سے مسلمان ہوئے ، عبداللہ بن سلام ، شعبہ بن عمرو ، اور تمام یہودا ، اسد ، اسید (ؓ اجمعین) جو دونوں کعب ؓ کے بیٹے تھے اور ابن یامین ، عبداللہ بن صوریا ، حضرت قتادہ ، حضرت عکرمہ ؓ اجمعین فرماتے ہیں یہ اصحاب رسول ہیں ، کہا گیا ہے کہ یہ عامۃ المؤمنین ہیں۔ (آیت)” یتلونہ حق تلاوتہ “ کلبی (رح) کہتے ہیں کہ وہ اپنی کتابوں میں حضور ﷺ کی صفات پوچھنے والوں کے لیے اس طرح بیان کرتے جیسا کہ بیان کا حق ہے۔
اور ” یتلونہ “ میں ضمیر حضرت محمد ﷺ کی طرف راجع ہے ، کلبی (رح) کے علاوہ باقی کہتے ہیں کہ یہ ضمیر کتاب کی طرف لوٹتی ہے اور ’ یتلونہ “ کے معنی میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں ، ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں ” یتلونہ “ کا معنی ہے ” یقرونہ “ ہے یعنی اس کو اس طرح پڑھتے ہیں جس طرح کہ اسے نازل کیا گیا اور اس کو تبدیل نہیں کرتے اس کے حلال کو حلال گردانتے ہیں اور حرام کو حرام سمجھتے ہیں حضرت حسن ؓ فرماتے ہیں اس کا معنی ہے کہ اس کتاب کے محکم آیات پر عمل کرتے ہیں اور اس کے متشابہات پر ایمان لاتے ہیں اور جو مضمون ومعنی ان پر مشکل ہو اسے جاننے والے کے سپرد کرتے ہیں ، (جاننے والے رجوع کرتے ہیں) حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں (آیت)” تلونہ حق تلاوتہ “ کا معنی ہے کہ جس طرح اس کی پیروی کرنے کا حق ہے ویسے ہی پیروی کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کا یہ قول (آیت)” اولئک یؤمنون بہ “ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ” ومن یکفربہ فاولئک ھم الخاسرون “۔
Ayahs 2:122–124(تفسیر) 122۔:
ابن عامر (رح) نے ابراہیم کے لفظکو بعض جگہوں پر ابراھام پڑھا ہے اور یہ تینتیس جگہیں اور کل مقامات ننانوے (99) ہیں جہاں ابراہیم کا لفظ آیا ہے ، ابراہیم عجمی نام ہے اس لیے یہ منصرف نہیں بلکہ غیر منصرف ہے اور یہ ابراہیم بن تارخ اور یہ تارخ آزر بن ناخور ہے، ان کی پیدائش اھواز کے علاقہ سوس میں ہوئی اور کہا گیا ہے کہ بابل میں ہوئی اور کہا گیا ہے کہ مقام کو ثی میں ہوئی اور کہا گیا ہے کسکر کے مقام پر ہوئی اور کہا گیا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ولادت حران میں ہوئی اور ان کے والد نمرود بن کنعان کی سرزمین بابل لے آئے اور ابتلاء کا معنی آزمانا اور امتحان میں ڈالنا ہے اور اس کا معنی امر بھی ہے یعنی حکم دینا ، اللہ تعالیٰ کا بندوں کے آزمانے کا معنی یہ نہیں کہ آزما کر ان کے حالات معلوم کرتا ہے کیونکہ (آزمائے بغیر) اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے اور ان کے حالات کا عالم ہے بلکہ آزمائش میں حکمت یہ ہوتی ہے کہ ان کے حالات اور لوگ بھی جان لیں اور بعض ، بعض کے حالات سے آگاہ ہوجائیں ، وہ کلمات جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آزمایا، و ہ کیا تھے اس میں انہوں نے اختلاف کیا پس حضرت عکرمہ ؓ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کرتے ہیں فرماتے ہیں یہ تیس (30) چیزیں تھیں جنہیں احکام اسلام کا نام دیا گیا ، ان کے ساتھ کسی کو نہیں آزمایا گیا ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سب کو پورا کر دکھایا پس ان کے لیے برات لکھ دی گئی ، پس فرمایا (آیت)” وابراھیم الذی وفی “ ان تیس (30) میں سے دس (10) چیزیں سورة برات میں ہیں، ” التائبون العابدون “ سے لے کر آخر تک اور دس (10) چیزیں سورة احزاب میں ہیں (آیت)” ان المسلمین والمسلمات “ سے لے کر آخر تک اور دس (10) چیزیں سورة مؤمنون میں ہیں (آیت)” قد افلح المؤمنون “ سے لے کر آخر تک ۔
اور طاؤس حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے دس (10) چیزوں کے ساتھ آزمایا اور یہ دس چیزیں فطرت سلیمہ ہیں ان دس میں سے پانچ کا تعلق سر سے ہے اور وہ یہ ہیں ۔
1۔ مونچھیں کتروانا، 2۔ کلی کرنا، 3۔ ناک میں پانی کرنا۔ 4۔ مسواک کرنا ، 5۔ سر میں مانگ نکالنا اور پانچ چیزیں باقی بدن سے متعلق ہیں ۔
1۔ ناخن کترنا۔
2۔ بغل کے بال اکھاڑنا۔
3۔ زیر ناف بال مونڈھنا۔
4۔ ختنہ کرانا۔
5۔ پانی سے استنجاکرنا۔
ایک خبر میں ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پہلے وہ شخص ہیں جنہوں نے مونچھیں کتریں اور پہلے وہ شخص ہیں جنہوں نے ختنہ کرایا اور پہلے وہ شخص ہیں جنہوں نے ناخن کاٹے اور پہلے وہ شخص ہیں جنہوں نے بڑھاپا دیکھا ، یعنی ان کے بال سفید ہوئے ، جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بڑھاپے کے آثار دیکھے یعنی بالوں کو سفید ہوتے دیکھا تو پوچھا اے میرے رب یہ کیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ، یہ وقار ہے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا کی اے میرے رب ! میرے وقار میں اضافہ فرما ، حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں اس آزمائش سے مراد وہی آیات ہیں یعنی ان کا مضمون ہے جو اس کے بعد ہیں اللہ تعالیٰ کے اس قول میں (آیت)” انی جاعلک للناس “ ” اماما “ حضرت ربیع (رح) اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں اس آزمانے سے مراد احکام حج ہیں ، حضرت حسن ؓ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو سات چیزوں کے ساتھ آزمایا ۔
1۔ ستارے ۔
2۔ چاند۔
3۔ سورج ۔ پس ان میں بہت اچھی گہری نظرفرمائی اور ان سے اس بات پر استدلال کیا کہ بیشک اس کا رب دائم ہے کبھی زائل نہ ہوگا ۔
4۔ اور آگ کے ساتھ آزمایا ، پس اس پر صبر کیا ۔
5۔ اور ہجرت کے ساتھ آزمایا۔
6۔ اور بیٹے کو ذبح کرنے کے ساتھ آزمایا۔
7۔ اور ختنہ کرنے کے ساتھ آزمایا ۔
پس ان چیزوں پر صبر کیا ، حضرت سعید بن جبیررحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس آزمانے سے مراد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا یہ قول جب وہ بیت اللہ شریف کی دیواریں اٹھا رہے تھے ۔ (آیت)” ربنا تقبل منا “ الی آخر الآیۃ پس ان دونوں نے سبحان اللہ ، الحمد للہ ، لاالہ الا اللہ واللہ اکبر “ کے پاکیزہ کلمات کے ساتھ کعبہ کی دیواروں کو بلند کیا یمان بن رباب فرماتے ہیں کہ کلمات سے مراد اپنی قوم کے ساتھ مناظرہ تھا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے اس کی قوم نے حجت بازی کی ، یہاں تک اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ” وتلک حجتنا اتیناھا ابراھیم “ اور کہا گیا ہے کہ اس آزمائش سے مراد یہ آیات ہیں (آیت)” الذی خلقنی فھو یھدین “ الی آخر الآیات ۔ پس حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کو تمام کر دکھایا ، حضرت قتادہ (رح) فرماتے ہیں ” اتمھن “ کا معنی ہے ” اداھن “ یعنی ان کو پورا پورا ادا کردیا۔ حضرت ضحاک ؓ فرماتے ہیں ” اتمھن “ کا معنی ہے ” قام بھن “ یعنی ان کی ذمہ داری کو پوری طرح نبھایا ، حضرت یمان (رح) فرماتے ہیں ” اتمھن “ کا معنی ہے ” عمل بھن “ یعنی ان کو عمل میں لایا۔
(آیت)” قال انی جاعلک للناس اماما “ ہر خبر میں تیری اقتداء کی جائے گی ، ” قال “ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا ” ومن ذریتی “ یعنی میری اولاد میں سے بھی امام بنا دے جن کی اقتداء کی جائے ، ” قال “ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” لاینال “ نہیں پہنچے گا (آیت)” عھدی الظالمین “ حمزہ (رح) اور حفص (رح) نے عہدی کی یاء کو ساکن پڑھا اور باقیوں نے ی کو زبر کے ساتھ پڑھا ، یعنی جوان میں سے ظالم ہوگا اس کو ” یہ وعدہ امامۃ “ نہیں پہنچے گا ۔ حضرت عطا بن ابی رباح (رح) فرماتے ہیں کہ عھدی سے مراد رحمتی ہے (یعنی میری رحمت ظالموں کو نہ پہنچے گی) علامہ سدی (رح) فرماتے ہیں عہدی کا معنی ہے ” نبوتی “ اور کہا گیا ہے اس سے مراد امامۃ ہے، حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ ظالم کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ ظلم میں اس کی اطاعت کی جائے، آیت کا معنی ہوگا کہ جو نبوت و امامت کا میں نے آپ سے کیا یہ میرا عہد اس کو نہیں حاصل ہوگا جو شخص آپ کی اولاد میں سے ظالم ہوگا اور کہا گیا ہے کہ عہد سے مراد ” امان من النار “ ہے (یعنی جہنم کی آگ سے اسے امان حاصل نہ ہوگی) اور ظالم سے مراد مشرک ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت)” الذین امنوا ولم یلبسوا ایمانھم بظلم اولئک لھم الامن “ (اس آیت کریمہ میں ظلم سے مراد شرک ہے جیسا کہ حدیث مبارک میں اس کی صراحت کی گئی)
Ayah 2:125خاصیت آیت 125۔
(آیت)” وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَیْْتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَأَمْناً وَاتَّخِذُواْ مِن مَّقَامِ إِبْرَاہِیْمَ مُصَلًّی وَعَہِدْنَا إِلَی إِبْرَاہِیْمَ وَإِسْمَاعِیْلَ أَن طَہِّرَا بَیْْتِیَ لِلطَّائِفِیْنَ وَالْعَاکِفِیْنَ وَالرُّکَّعِ السُّجُودِ (125)
میں نے علمائے عارفین کے ہاتھ کا لکھا ہوا دیکھا ہے کہ جو شخص رات کو یہ آیت پڑھ کر نیت کرکے سوئے میں فلاں وقت جاگوں تو اسی وقت ضرور جاگ جائے گا ۔
(تفسیر) 125۔:
(آیت)” واذ جعلنا البیت “ یعنی کعبہ (آیت)” مثابۃ للناس “ لوگوں کے لیے جائے رجوع کہ چاروں اطراف کے لوگ وہاں آتے ہیں ، حضرت مجاہد (رح) ، سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں اس (کعبہ) کو ثواب کی جگہ بنادی کہ وہاں لوگ حج کر کے ثواب حاصل کرتے ہیں، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں ” مثابۃ “ کا معنی ہے جائے پناہ اور ٹھکانہ حضرت قتادہ (رح) اور حضرت عکرمہ (رح) اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جمع ہونے کی جگہ ” وامنا “ یعنی جائے امن کہ اس میں مشرکین کی ایذاء سے امن میں رہیں گے کیونکہ کفار و مشرکین اہل مکہ کی طرف تعرض نہ کرتے تھے اور کہتے تھے یہ لوگ اہل اللہ ، اور مکہ مکرمہ کے ارد گرد کے لوگوں کو نقصان پہنچاتے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” اولم یروا انا جعلنا حرما امنا ویتخطف الناس من حولھم “ کیا وہ لوگ دیکھتے نہیں کہ ہم نے حرم پاک کو امن والا بنایا اور ان کے ارد گرد کے لوگ اچک لیے جاتے ہیں ۔
حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر فرمایا کہ یہ شہر (مکہ) اللہ تعالیٰ نے اس کو اس دن سے حرام فرمایا جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا پس وہ اللہ تعالیٰ کے حرام کرنے کے باعث قیامت کے دن تک حرام ہے اس کا کانٹا نہ کانا جائے اس کے شکار کو نہ بھگایا جائے، اس کی گری پڑی چیز نہ اٹھائی جائے مگر وہ اٹھائے جو اس کی تشہیر کرنا چاہتا ہو اور اس کا گھاس نہ کاٹا جائے ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ نے عرض کی حضور ﷺ ” اذخر “ بوٹی کی مستثنی کیجئے کیونکہ لوہاروں کے کام آتی ہے اور گھروں میں استعمال ہوتی ہے ، حضور ﷺ نے ” اذخر “ کو مستثنی فرما دیا ، (آیت)” واتخذوا “ نافع ابن عامر (آیت)” واتخذوا “ خاء کی زبر کے ساتھ پڑھا یعنی یہ خبر ہے اور باقیوں نے (آیت)” واتخذوا “ خاء کی زیر کے ساتھ یعنی یہ امر ہے (آیت)” من مقام ابراہیم مصلی “ یمان فرماتے ہیں ساری مسجد حرام مقام ابراہیم ہے اور حضرت ابراہیم نخعی (رح) فرماتے ہیں ۔
سارا حرم مقام ابراہیم ہے اور کہا گیا حج کے تمام مقدس مقامات مثلا عرفہ ، مزدلفہ اور باقی جگہیں یہ سب مقام ابراہیم ہیں اور صحیح قول یہ ہے کہ مقام براہیم صرف وہ پتھر ہے جس پر بیت اللہ شریف بناتے وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کھڑے ہوئے تھے اور کہا گیا ہے کہ اس میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاؤں کی انگلیوں کے نشانات واضح تھے، پھر ہاتھ زیادہ لگنے کی وجہ سے مٹ گئے ، حضرت قتادہ (رح) مقاتل (رح) ، سدی (رح) فرماتے ہیں ان کو مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا مگر ہاتھ لگانے یابوسہ دینے کا حکم نہ دیا گیا تھا ،
حضرت انس (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے روایت ہے ، وہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے تین جگہوں پر موافقت کی یا فرمایا کہ میرے رب نے میری تین جگہوں پر موافقت کی ، میں نے عرض کی یا رسول اللہ ! کاش آپ مقام ابراہیم کو نماز پڑھنے کی جگہ بناتے ، پس اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت)” واتخذوا من مقام ابراھیم مصلی “ کہ مقام ابراہیم (علیہ السلام) کو نماز پڑھنے کی جگہ بناؤ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ پر نیک وبد سبھی داخل ہوتے ہیں اگر آپ امہات المؤمنین کو پردے کا حکم دیتے (تو کیا اچھا ہوتا) تو اللہ تعالیٰ نے پردے کی آیت نازل فرمائی ، حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ حضور ﷺ اپنی بعض بیویوں پر ناراض ہوئے ہیں پس میں ازواج مطہرات کے پاس گیا اور ان کو کہا اگر تم (حضور ﷺ کو ناراض کرنے سے) رک گئیں ”‘ فبھا “ ورنہ اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کو تم سے بہتر بیویاں بدلے میں عطا فرما دیں گے پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت)” عسی ربہ ان طلقکن ان یبدلہ ازواجا خیرا منکن “۔
حضرت انس ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ میں نے اپنے رب سے تین باتوں میں موافقت کی ۔
(1) میں نے عرض کی یا رسول اللہ کیا ہی اچھا ہوتا کہ آپ مقام ابراہیم کو نماز پڑھنے کی جگہ بنا لیتے ، پس یہ آیت نازل ہوئی (آیت)” واتخذوا من مقام ابراہیم مصلی “ بہرحال مقام ابراہیم کے واقعہ کا آغاز اس طرح ہے کہ سعید بن جبیر ؓ نے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کیا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اور سیدہ ہاجرہ (علیہا السلام) لے آئے اور مکہ مکرمہ میں ٹھہرایا اور صورت حال پر کچھ زمانہ گزرا تو مکہ مکرمہ میں قبیلہ جرھم اترا اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) نے اس قبیلہ میں سے ایک عورت کے ساتھ نکاح فرمایا اور حضرت ہاجرہ (علیہا السلام) وفات پاگئیں اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حضرت سارہ (علیہا السلام) سے حضرت ہاجرہ (علیہا السلام) کے پاس جانے سے متعلق اجازت چاہی تو حضرت سارہ (علیہا السلام) نے اجازت دی اور ساتھ ہی شرط لگائی کہ جائیں سہی مگر وہاں (سواری سے) اترنا نہیں ، حضرت مکہ مکرمہ تشریف لائے حالانکہ حضرت ہاجرہ فوت ہوچکی تھیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے گھر تشریف لے گئے ، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی بیوی کو فرمایا تمہارا صاحب (خاوند) کہا ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ وہ شکار کرنے گئے ہیں اور حضرت اسماعیل حرم کے علاقہ سے نکل کر شکار فرمایا کرتے تھے پس حضرت ابراہم (علیہ السلام) نے اپنی بہو کو فرمایا کہ کیا تمہارے پاس ضیافت ہے یعنی مہمانداری کا سامان ہے ؟ اس نے جواب میں کہا کہ نہیں ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کی گزران کے بارے میں پوچھا اس نے جواب دیا ہم تنگی اور سختی میں ہیں اور حضرت ابراہم (علیہ السلام) کے سامنے شکایت کی ، پس حضرت ابراہم (علیہ السلام) نے اس کو فرمایا جب تیرا خاوند آئے تو اس کو میرا سلام کہنا اور اسے کہنا کہ وہ اپنے دروازہ کی چوکھٹ بدل دے ۔
اس کے بعد حضرت ابراہم (علیہ السلام) چلے گئے اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) تشریف لائے اور اپنے والد محترم کی خوشبو محسوس کی تو حضرت اسماعیل (علیہ السلام) نے اپنی بیوی سے فرمایا کیا تیرے پاس کوئی آیا ؟ پس آپ (علیہ السلام) کی بیوی بولی ایک بزرگ تشریف لائے تھے جن کا حلیہ اس طرح تھا ، بیوی نے حضرت ابراہم (علیہ السلام) کا ذکر اور حلیہ کا بیان اہانت آمیز لہجے میں کیا حضرت اسماعیل (علیہ السلام) بولے وہ تم کو کیا فرما گئے ہیں ؟ بیوی بولی انہوں نے فرمایا کہ جب اسماعیل (علیہ السلام) آئیں ان کو میرا سلام کہنا اور اسے کہنا کہ گھر کے دروازہ کی چوکھٹ بدل دے ، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) بولے یہ بزرگ میرے والد محترم تھے انہوں نے مجھے حکم دیا ہے کہ تجھے چھوڑ دوں ، اپنے میکے چلی جا پس اس کو طلاق دے دی پھر انہیں میں سے ایک اور عورت سے نکاح کیا ، پھر حضرت ابراہم (علیہ السلام) جب تک اللہ نے چاہا ٹھہرے رہے پھر حضرت سارہ (علیہا السلام) سے اجازت چاہی کہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) سے مل آئیں پھر حضرت سارہ نے سابقہ شرط کے ساتھ جانے کی اجازت دی پھر حضرت ابراہم (علیہ السلام) تشریف لے گئے اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے دروازہ تک پہنچے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی بیوی سے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے بارے میں پوچھا ، انہوں نے بتایا وہ شکار کرنے تشریف لے گئے ہیں اور ان شاء اللہ ابھی آجائیں گے ، آپ نیچے اترئیے ، اللہ پاک آپ پر رحم فرمائے ، حضرت ابراہم (علیہ السلام) نے پوچھا کیا تیرے ہاں مہمانداری کا سامان ہے ؟ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی بیوی بولی ہاں ! پس دودھ اور گوشت لے آئی ، حضرت ابراہم (علیہ السلام) نے ان کی گزران کے بارے میں پوچھا وہ بولیں ہم خیر کے ساتھ اور وسعت (رزق) کے ساتھ ہیں تو حضرت ابراہم (علیہ السلام) نے ان دونوں کے لیے برکت کی دعا کی (یعنی دودھ اور گوشت کے سلسلہ میں دعائے برکت فرمائی) اگر آپ کی بہو اس دن گندم کی روٹی یا جو کی روٹی یا کھجور لاتیں تو پوری زمین سے زیادہ سرزمین میں گندم یا جو یا کھجور ہوتی ، پس حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی بیوی نے عرض کی کہ آپ اتریں تاکہ میں آپ کا سردھوؤں مگر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نہ اترے ۔
پھر حضرت ابراہم (علیہ السلام) کو مقام ابراہیم پر لائی اور مقام ابراہیم والا پتھر حضرت ابراہم (علیہ السلام) کی دائیں جانب رکھا ۔ پس حضرت ابراہم (علیہ السلام) نے اپناپاؤں اس پتھر پر رکھا اور آپ کی بہو نے حضرت ابراہم (علیہ السلام) کے سر کی دائیں جانب کو دھویا پھر اس پتھر کو بائیں جانب رکھا اور حضرت ابراہم (علیہ السلام) کے سر کی بائیں جانب کو دھویا ، پس حضرت ابراہم (علیہ السلام) کے پاؤں کے نشانات اس پتھر پر باقی ری گئے ، پھر حضرت ابراہم (علیہ السلام) نے اپنی بہو کو فرمایا جب تیرا خاوند آئے تو اس کو میرا سلام کہنا اور اسے کہنا کہ تیرے دروازہ کی چوکھٹ مستحکم ہے پس جب حضرت اسماعیل (علیہ السلام) تشریف لائے تو اپنے محترم والد کی خوشبو محسوس کی پس اپنی بیوی کو فرمایا کیا کوئی تیرے پاس آیا ہے ؟ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی بیوی نے کہا ہاں ایک بزرگ تمام انسانوں سے زیادہ حسین اور زیادہ خوشبو والے تشریف لائے تھے ۔
اور مجھے اس طرح فرمایا میں نے ان کی خدمت میں اس طرح عرض کیا اور میں نے ان کا سربھی دھویا اور یہ ان کے قدموں کی جگہ ہے، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) بولے وہ اللہ کے نبی حضرت ابراہم (علیہ السلام) میرے والد محترم تھے اور تو دروازہ کی چوکھٹ ہے وہ مجھے حکم دے گئے ہیں کہ میں تمہیں اپنے پاس رکھو اور حضرت سعید بن جبیر ؓ کی بواسطہ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے یہ روایت بھی ہے کہ حضرت ابراہم (علیہ السلام) کچھ زمانہ کے بعد جو اللہ تعالیٰ نے چاہا پھر تشریف لائے اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) زمزم کے قریب درخت کے نیچے تیر تراش رہے تھے ، جب حضرت اسماعیل (علیہ السلام) نے اپنے والد محترم کو دیکھا تو ان کی طرف کھڑے ہوگئے تو پھر دونوں نے اسی طرح کیا جس طرح کوئی بیٹا باپ اور کوئی باپ بیٹے کے ساتھ کرتا ہے پھر فرمایا اے اسماعیل ! بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک کام کا حکم فرمایا ہے ۔ آپ اس پر میرے ساتھ تعاون کریں گے ، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) نے فرمایا میں اس پر آپ کی مدد کروں گا ، حضرت ابراہم (علیہ السلام) نے فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں یہاں گھر بناؤں پس اس وقت بیت اللہ شریف کی بنیادیں بلند کیں ، پس حضرت اسماعیل (علیہ السلام) پتھر اٹھا اٹھا کر لاتے اور حضرت ابراہم (علیہ السلام) تعمیر کرتے ، پس جب تعمیر بلند ہوگئی تو حضرت اسماعیل (علیہ السلام) یہ پتھر لائے پس اس کو حضرت ابراہم (علیہ السلام) کے لیے رکھا ، پس حضرت ابراہم (علیہ السلام) اس رکھے گئے پتھر پر کھڑے ہوگئے اور وہ تعمیر کرتے اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ان کو پتھر دیتے اور وہ دونوں کہہ رہے تھے (ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم “ خبر میں آیا ہے کہ رکن اور مقام دونوں جنت کے یواقیت میں سے دو یاقوت ہیں اگر مشرکوں کے ہاتھ نہ لگتے تو مشرق ومغرب کے درمیان کا حصہ روشن ہوجاتا ۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد (آیت)” وعھدنا الی ابراھیم واسماعیل “ یعنی ہم نے ان دونوں کو حکم دیا اور انہیں وصیت کی ، کہا گیا ہے کہ اسماعیل (علیہ السلام) کا نام اسماعیل اس لیے رکھا گیا کہ حضرت ابراہم (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے کہ مجھے عطا فرما اور فرماتے ” اسمع یا ایل “ اے اللہ ! دعا سن لے (یعنی قبول کرلے) ” ایل اللہ “ کو کہتے ہیں ، جب بیٹا عطا کیا گیا تو اس کا نام اسماعیل (علیہ السلام) رکھا گیا ۔ ” ان طھرا بیتی “ یعنی کعبہ اللہ تعالیٰ نے کعبہ کی نسبت بیت کے لفظ کے ساتھ اپنی طرف کی خصوصیت اور فضیلت بخشنے کی لیے کی ۔ ” ان طھرا بیتی “ کا معنی ہے کہ اس کی بنا پاکیزگی اور توحید پر رکھو ۔ حضرت سعید بن جبیر (رح) اور عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ اسے بتوں اور شک سے اور جھوٹی بات سے پاک رکھو اور کہا گیا ہے کہ اسے خوشبو کی دھونی اور خوشبودار کرو، یہ قول یمان بن رباب کا ہے ، اہل مدینہ اور حفص نے ’ بیتی “ یاء کی زبر کے ساتھ پڑھا یہاں بھی اور سورة حج میں بھی اور حفص نے سورة نوح میں بھی ” للطائفین “ اس کے اردگرد پھرنے والے ” والعاکفین “ اس کے پاس ٹھہرنے والے ” وارکع “ راکع کی جمع ہے (یعنی رکوع کرنے والے “ ” السجود “ سجدہ کرنے والے اور یہ نمازی ہیں ، کلبی اور مقاتل رحمہما اللہ کہتے ہیں طائفین وہ مسافر ہیں اور عاکفین اہل مکہ ہیں عطاء (رح) مجاہد (رح) اور عکرمہ (رح) کہتے ہیں مسافروں کے لیے طواف افضل ہے اور اہل مکہ کے لیے نماز افضل ہے ۔
Ayah 2:126(تفسیر) 126۔ :
(آیت)” واذ قال ابراھیم رب اجعل ھذا “ یعنی مکہ مکرمہ اور کہا گیا ہے کہ حرم مراد ہے (آیت)” بلدا آمنا “ یعنی امن والا جس کے باسی امن سے ہوں ۔ (آیت)” وارزق اھلہ من الثمرات “ یہ دعا اس لیے فرمائی کیونکہ وہ ایسی وادی میں تھے جو کھیتی والی نہ تھی ، قصص میں ہے کہ طائف شام کے علاقہ اردن سے تھا جب حضرت ابراہم (علیہ السلام) نے یہ دعا فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو حکم دیا انہوں نے علاقہ طائف کو وہاں سے اکھاڑا اور بیت اللہ شریف کے ارد گرد سات چکر دلوائے اور جہاں اب ہے اس جگہ رکھ دیا ، پس اس طائف سے مکہ مکرمہ کے اکثر پھلوں کا تعلق ہے ، (آیت)” من آمن منھم باللہ والیوم الاخر “ ایمان والوں کے لیے خاص دعا فرمائی ، ” قال “ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (ومن کفر فامتعہ “ ابن عامر نے ” فامتعہ “ بغیر شد کے پڑھا اور ہمزہ کی پیش کے ساتھ اور باقیوں نے شد کے ساتھ دونوں کا معنی ایک ہے ، ” قلیلا “ یعنی میں کافر کو بھی موت تک تھوڑا سا رزق دوں گا ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ساری مخلوق کے لیے چاہے کافر ہوں یا مؤمن رزق کا وعدہ فرما رکھا ہے اور یہاں رزق کو قلت کے ساتھ مقید اس لیے فرمایا کہ دنیا کا سامان ہے ہی قلیل ” ثم اضطرہ “ یعنی اسے مجبور کروں گا آخرت میں (آیت)” الی عذاب النار وبئس المصیر “ یعنی ایسا مرجع جس کی طرف وہ لوٹے گا ، حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ مقام کے قریب یہ مضمون لکھا ہوا پایا کہ میں اللہ تعالیٰ مکہ کا مالک ہوں جس دن میں نے سورج چاند پیدا کئے اسی دن مکہ کو بھی پیدا کیا۔
Ayah 2:127(تفسیر) 127۔:
اور اس کو میں نے حرام کیا جس دن سے میں آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور اس کو میں نے سات فرشتوں کے ذریعے سے محفوظ کیا جو اس کی طرف مائل ہیں ۔ اس کا رزق تین راستوں سے آتا ہے اس (مکہ) کے لیے گوشت اور پانی میں برکت ڈالی گئی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد (آیت)” واذ یرفع ابراھیم القواعد من البیت واسماعیل “ راوی کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ والی جگہ کو زمین کے پیدا کرنے سے دوہزار سال پہلے پیدا کیا اور یہ جگہ پانی پر سفید جھاگ کی شکل میں تھی پس زمین کو اس کے نیچے سے پھیلایا گیا ، جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو زمین پر اتارا تو آپ نے وحشت محسوس کی ۔ پس اللہ تعالیٰ کی طرف اس امر کی شکایت (درخواست) کی تو اللہ تعالیٰ نے جنت کے یا قوتوں میں سے ایک یاقوت کی شکل میں بیت اللہ شریف کی جگہ پر رکھا اور فرمایا اے آدم ! میں نے تیرے لیے گھر کو اتارا جس کا تو طواف کرے جیسا میرے عرش کے ارد گرد طواف کیا جاتا ہے اس کے پاس تو نماز پڑھے جیسے میرے عرش کے پاس نماز پڑھی جاتی ہے ۔
اللہ تعالیٰ نے حجر (اسود) نازل فرمایا یہ سفید تھا ، زمانہ جاہلیت میں حیض والی عورتوں کے ہاتھ لگانے کی وجہ سے سیاہ ہوگیا ، پس حضرت آدم (علیہ السلام) ہندوستان کی سرزمین سے مکہ مکرمہ کی طرف پیدل متوجہ ہوئے، اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کے لیے فرشتہ مقرر فرمایا جو آپ کو بیت اللہ شریف کی طرف رہنمائی کرے ، پس حضرت آدم (علیہ السلام) نے حج فرمایا اور احکام حج ادا کیے ، پاس جب آپ حج سے فارغ ہوئے تو فرشتوں نے آپ کا استقبال کیا اور کہا اے آدم تیرا حج حج مبرور ہے اور ہم اس گھر کا آپ سے دو ہزار سال پہلے حج کرچکے ہیں ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں حضرت آدم (علیہ السلام) نے ہندوستان سے پیدل چل کر چالیس (40) حج کیے ، بیت المعمور اسی حال پر طوفان نوح کے زمانہ تک رہا ، (طوفان کے وقت) اللہ تعالیٰ نے بیت المعمور کو چھوتے آسمان پر اٹھا لیا جس پر روزانہ ستر ہزار فرشتے زیارت کیلئے جاتے ہیں اور پھر لوٹ کر نہیں آتے اس طرح جس نے ایک بار زیارت کرلی اس کو قیامت تک دوبارہ زیارت کرنے کی مہلت نہیں ملے گی اور اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو بھیجا حتی کہ اس نے حجراسود کو جبل ابی قیس میں غرق ہونے سے بچانے کے لیے چھپا دیا پس یہ کعبہ والی جگہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانہ تک خالی رہی پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اور حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے پیدا ہونے کے بعد بنائے کعبہ کا حکم دیا کہ اس میں ذکر (الہی) کیا جائے ، پس حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ کعبہ والی جگہ بیان فرما دے پس اللہ تعالیٰ نے سکینہ کو حکم دیا کہ تاکہ بیت اللہ والی جگہ واضح کرے ، سکینہ اکھاڑنے والی سخت ہوا جس کے دو سر تھے اور سانپ کے مشابہ تھی پس حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ بیت اللہ کو اس جگہ بنائیں جہاں سکینہ ٹھہر جائے پس حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس ہوا کے پیچھے ہوئے حتی کہ دونوں (یعنی ابراہیم اور ہوا) مکہ مکرمہ آئے تو ہوا نے بیت اللہ والی جگہ کو گھیر لیا۔
یہ حضرت علی ؓ اور حسن ؓ کا قول ہے ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کعبہ کے برابر کی مقدار میں ایک بادل بھیجا وہ بادل بھی رواں رہا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بھی اس کے سائے میں چلتے رہے ، یہاں تک کہ مکہ پہنچے اور وہ بادل بیت اللہ شریف والی جگہ پر رک گیا ، پھر اس بادل سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آواز دی گئی کہ اس بادل کے سائے کے برابر تعمیر کیجئے اور اس سے کم یا زیادہ نہ کریں اور کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو بیت اللہ شریف والی جگہ پر دلالت کرنے کے لیے بھیجا ، پس یہ ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی (آیت)” واذ بوانا لابراھیم مکان البیت “ تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) نے تعمیر کعبہ فرمائی ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تعمیر فرماتے اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) پتھر اٹھا دیتے ، پس یہ ہے قول خداوندی (آیت)” واذ یرفع ابراھیم القواعد من البیت واسماعیل “ قواعد سے مراد بنیاد ہے قواعد قاعدہ کی جمع ہے ، کسائی کہتے ہیں قواعد البیت سے مراد بیت اللہ کی دیواریں ہیں ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں بیت اللہ شریف کو پانچ پہاڑوں سے یعنی پانچ پہاڑوں کے پتھروں سے تعمیر کیا گیا ۔ (1) طورسینا (2) طورزیتا (3) لبنان جو ملک شام کا پہاڑ ہے ۔ (4) جودی جو کہ جزیرہ میں ایک پہاڑ ہے اور کعبہ کی بنیادیں کوہ حرا سے بنائیں اور کوہ حرا جو مکہ مکرمہ میں ایک پہاڑ ہے۔
جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) حجر اسود کے مقام تک پہنچے تو آپ نے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو فرمایا کوئی خوبصورت سا پتھر لاؤ جو لوگوں کے لیے نشان ہو تو حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ایک پتھر لائے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا اس سے زیادہ خوبصورت پتھر لاؤ۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) تلاش کرنے نکلے تو جبل ابو قیس نے آواز دی ، اے ابراہیم ! بیشک تیرے لیے میرے پاس امانت ہے اسے لے لے تو اس سے حجر اسود لیا اور اسے اپنی جگہ پر نصب کیا اور کہا گیا ہے کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے آسمان میں ایک گھر بنایا ہے جو کہ بیت المعمور ہے اور اسے ضراح کا نام دیا گیا ہے اور فرشتوں کو حکم دیا کہ اس کی سیدھ پر اسی کی مقدار کے برابر اسی طرح زمین پر کعبہ تعمیر کریں اور کہا گیا ہے سب سے پہلے جس نے کعبہ تعمیر کیا وہ حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں اور طوفان نوح کے وقت مٹ گیا پھر اللہ تعالیٰ نے اسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے ظاہر فرمایا حتی کہ اس کی تعمیر کی (آیت)” ربنا وتقبل دعائ “ اس عبارت میں اضمار ہے یعنی وہ دونوں کہہ رہے تھے (آیت)” ربنا تقبل منا بناء نا “ اے ہمارے رب ہم سے ہماری تعمیر کو قبول فرما ۔ (آیت)” انک انت السمیع “ ہماری دعا کو (سننے والا ہے یعنی قبول کرنے والا ہے) ” العلیم “ ہماری نیتوں کو جاننے والا ہے ۔
خاصیت آیت 127۔
(آیت)” وَإِذْ یَرْفَعُ إِبْرَاہِیْمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْْتِ وَإِسْمَاعِیْلُ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّکَ أَنتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ (127)
جو شخص اس آیت کو شیشہ کے گلاس میں زعفران اور گلاب سے لکھ کر سیاہ انگوروں کے پانی سے دھو کر اس میں تھوڑا کہربا اور تھوڑی سی پسی ہوئی نبات ملا کر پی لے تو بواسیر کے مرض سے صحت ہوجائے گی اور اگر خون تھوکنے کی بیماری ہے تو وہ بھی ختم ہوجائے گی ، اور ظاہری و باطنی ریح کو بھی نفع دے گا ۔