Ayah 2:7373۔ (آیت)” فقلنا اضربوہ “ تو ہم نے کہا کہ مارو اس مردے کو ” بعضھا “ بعض گائے کے ایک ٹکڑے کے ساتھ ۔ اس بعض میں انہوں (مفسرین) نے اختلاف کیا ہے۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ اور اکثر مفسرین فرماتے ہیں انہوں نے اس ہڈی کے ساتھ مارا جو غضروف (نرم ہڈی) کے قریب تھی جو کہ مقتل تھی (یعنی وہ جگہ جس پر مارنے سے جانور مرجاتا ہے) حضرت سعید بن جبیر (رح) اور حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ دم کے ابتدائی حصہ کو مارا کیونکہ پیدا ہونے میں یہی حصہ اول ہے اور اعضاء کے بوسیدہ ہونے میں یہ حصہ آخر ہے اور اسی پر دوسری دفعہ تخلیق کو مرکب کیا جائے گا جسے بعث کہتے ہیں ، حضرت ضحاک (رح) فرماتے ہیں گائے کی زبان کے ساتھ مارا ۔
حسین بن فضل (رح) فرماتے ہیں کہ یہ قول اس واقعہ سے متعلق زیادہ کرتا ہے کیونکہ زبان آلہ کلام ہے (اور وہ مقتول بھی اس طرح کرنے سے بولا ہے) کلبی (رح) اور عکرمہ (رح) فرماتے ہیں گائے کی دائیں ران کو مارا اور کہا گیا ۔ اس حال میں کہ اس کی گردن کی رگوں سے خون ٹپک رہا تھا اور کہا مجھے فلاں نے قتل کیا یہ کہنے کے بعد مردہ ہو کر گرگیا ۔ چناچہ قاتل مقتول کی میراث سے محروم کردیا گیا ۔
خبر میں ہے کہ (اس واقعہ) صاحب البقرہ کے بعد قاتل وارث (مقتول) نہیں ہوا اور اس میں اضمار ہے تقدیر (عبارت) یوں ہے ۔ ” فضربت فحی “ پس گائے پس گائے کے کچھ حصہ کو مارا گیا ، جس سے وہ مردہ زندہ ہوگیا۔ (آیت)” کذالک یحی اللہ الموتی “ (یعنی اسی طرح اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ فرمائے گا) جس طرح عامیل کو زندہ کیا (آیت)” ویریکم ایاتہ لعلکم تعقلون “ کہا گیا تم اپنے آپ کو معاصی سے روکوگے ۔ باقی رہا اس کا مسئلہ کا حکم اسلام میں کہ جب کسی جگہ مقتول پایا جائے اور اس کے قاتل کا علم نہ ہو ، پس اگر تو وہاں کسی انسان کے ملوث ہونے کا قوی امکان ہو اور اس کی صورت یہ ہے کہ دل میں مدعی کے سچے ہونے کا (گمان) غالب ہو ۔ مثلا یہ کہ ایک جماعت کسی گھر یا جنگل میں جمع ہو ، جب وہ لوگ جدا ہوں تو وہاں ایک مقتول پایا جائے تو ایسی صورت میں یہ بات دل پر غالب ہے کہ قاتل انہیں میں ہے یا مقتول کسی محلہ یا بستی میں پایا جہاں کے سب لوگ مقتول کے دشمن ہیں کوئی غیر دشمن ان میں نہیں تو دل پر یہ بات غالب ہوگی کہ انہوں نے اس کو قتل کیا ہے تو ایسی صورت میں ولی مقتول نے ان میں کسی ایک پر دعوی کیا تو مدعی سے پچاس قسمیں مدعی علیہ کے خلاف اٹھوائی جائیں گی اور اگر اولیاء (مقتول) متعدد ہوں تو قسم ان پر تقسیم کردی جائے گی ، پھر اس کے بعد جب وہ قسمیں اٹھالیں گے تو اگر ان کا دعوی قتل خطاء کا ہے تو مقتول کے عاقلہ سے دیت لیں گے ۔
اور اگر ان کا دعوی قتل عمد کا ہے تو قاتل کے مال سے دیت لیں گے اور اکثر حضرات کے قول کے مطابق قصاص نہیں ہے اور بعض حضرات قصاص کی طرف گئے ہیں ، یہ حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) کا قول ہے ، امام مالک (رح) اور امام احمد (رح) نے بھی یہی کہا ہے اور اگر مدعی علیہ کے ملوث ہونے کے امکانات نہ ہوں تو پھر قول مدعی علیہ کا معتبر ہے بمع اس کی قسم کے ، پھر کیا اس مدعی علیہ سے ایک قسم لی جائے گی یا پچاس قسمیں ؟ تو اس میں دو قول ہیں ، ایک قول یہ ہے کہ ایک ہی قسم ہوگی جیسے کہ باقی دعوؤں میں ہوتی ہے ۔
دوسرا قول یہ ہے کہ پچاس قسمیں لی جائیں گی خون کے معاملہ کی سنگینی کے باعث اور حضرت امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک کسی کو ملوث کرنے کا (شرعا) کچھ حکم نہیں ہے اور مدعی کی قسم سے آغاز نہیں کیا جائے گا اور (حضرت امام صاحب (رح) نے) فرمایا کہ جب کسی محلہ میں مقتول پایا جائجے تو محلہ کے صلحاء میں سے امام صاحب (رح) پچاس افراد کو منتخب کرے گا اور ان سے یہ قسم لے گا کہ انہوں نے نہ تو اسے قتل کیا ہے اور نہ ہی انہیں قاتل کا علم ہے اس کے بعد (امام) وہاں سے باسیوں سے دیت لے گا اور اس امر کی کہ کسی کو ملوث کرنے کی صورت میں مدعی سے قسم کی ابتداء کرائی جائے گی ، دلیل یہ حدیث ہے ، عبداللہ بن سہل ؓ اور محیصہ بن مسعود ؓ خیبر کو نکلے ، دونوں اپنی روزی کے سلسلے میں آپس میں جدا ہوگئے ، پس عبداللہ بن سہل ؓ قتل ہوگئے تو محیصہ اور عبدالرحمن ؓ مقتول مذکور کے بھائی اور حویصہ بن مسعود ؓ حضور ﷺ کی طرف چلے اور حضور ﷺ کی خدمت میں عبداللہ بن سہل ؓ کے قتل کا ذکر کیا تو حضور ﷺ نے فرمایا (تم پچاس قسمیں اٹھوائے جاؤ گے جس کے باعث تم اپنے ساتھی کے خون کے مستحق ٹھہرو گے یا اپنے قاتل کے) پس انہوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ (ہم کس طرح قسمیں اٹھائیں) ہم نے نہ تو قتل کا مشاہدہ کیا اور نہ حاضر تھے تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ پھر یہود پچاس قسمیں اٹھا کر بری ہوجائیں گے تو مدعی حضرات نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ہم کفار قوم کی قسموں کا کیسے اعتبار کریں ؟ تو حضور ﷺ نے اپنی طرف سے دیت دینے کا عزم فرمایا اور ایک روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے اپنی طرف سے دیت دی۔
بشیر بن یسار ؓ کہتے ہیں کہ سہل ؓ نے کہا کہ بیشک اس دیت والے جانوروں میں سے ایک جانور نے ہمارے کھلیان میں مجھے لتاڑ اور ایک روایت میں کہ مجھے سرخ اونٹنی نے جو اس دیت والے اونٹوں میں سے تھے ، ہمارے کھلیان میں لتاڑا ۔ اس سے دلیل کا خلاصہ یہ ہے کہ حضور ﷺ نے مدعی فریق کی قسموں سے ابتداء فرمائی تاکہ ان کی طرف سے ملوث کرنے کی جانب قوی ہوجائے اور وہ اس طرح کہ عبداللہ بن سہل ؓ خیبر میں مقتول پائے گئے اور انصار صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین میں اور اہل خیبر میں باہمی عداوت واضح تھی اور دل پر یہ بات غالب تھی کہ حضرت عبداللہ بن سہل ؓ کو اہل خیبر نے ہی قتل کیا ہے اور قسم ہمیشہ اس شخص کی دلیل بنتی ہے جس کی جانب قوی ہوتی ہے اور ملوث نہ کرنے کی صورت میں مدعی علیہ کی جانب مضبوط ہوتی ہے ۔ اس لیے کہ اصل بات تو مدعی علیہ کا بری الذمہ ہونا ہے اور مدعا علیہ کا قول معتبر ہوتا ہے قسم کے ساتھ ۔
Ayah 2:74خاصیت آیت 74۔
(آیت)” ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُکُم مِّن بَعْدِ ذَلِکَ فَہِیَ کَالْحِجَارَۃِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَۃً وَإِنَّ مِنَ الْحِجَارَۃِ لَمَا یَتَفَجَّرُ مِنْہُ الأَنْہَارُ وَإِنَّ مِنْہَا لَمَا یَشَّقَّقُ فَیَخْرُجُ مِنْہُ الْمَاء وَإِنَّ مِنْہَا لَمَا یَہْبِطُ مِنْ خَشْیَۃِ اللّہِ وَمَا اللّہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ (74)
1۔ اگر کسی شخص کا دل سخت ہوگیا ہو اور وہ اپنے محب سے محبت نہ کرتا ہو تو خوشبودار مٹی کی پاک اور کو ری ٹھیکری لے بلکہ ایسی ہو جو ابھی ابھی آوی سے پک کر نکلی ہو اس پر ریحان کی لکڑی کی قلم سے اس شخص کا نام جس کا دل سخت ہوگیا ہے لکھے پھر شراب کے سرکہ اور شہد سے جس کو آگ کی حرارت نہ پہنچی ہو اس سے اس نام کے اردگرد اس آیت کو دائرے میں لکھے اور ٹھیکری کو اس کوئیں یا اس مٹکے میں ڈال دے جس سے یہ شخص پانی پیتا ہے ۔ تو اس شخص کا دل نرم ہوجائے گا ۔
2۔ اگر کوئی شخص نیک اور اچھا تھا اور اب بدل کر برائی پر آگیا ہے تو اس کے لئے بھی مذکورہ بالا طریقہ پر استعمال کریں ان شاء اللہ وہ نیکی کی حالت پر لوٹ آئے گا ۔
3۔ اگر بادشاہ یا افسر اپنی رعایا اور محکوموں سے بدسلوکی کرتا ہو تو مذکورہ بالاآیت کو مذکورہ بالا آیات کو مذکورہ طریقہ سے کسی کاغذ پر لکھ کر شہر کے کسی اونچے مکان پر یا ایسے مکان کے اوپر لٹکائے جو کہ پہاڑ کے اوپر ہو تو اس بادشاہ کا رویہ بدل جائے گا ۔
4۔ اگر خاوند کو اپنی بیوی سے یا بیوی کو اپنے خاوند سے نفرت و دشمنی ہو تو زرد موم سے میاں بیوی دونوں کے دو پتلے بنالیں مرد کے پتلے کے سینہ میں تانبے کی سوئی سے عورت اور اس کی ماں کا نام لکھے اور عورت کے پتلے کے سینہ مرد کا نام اور اس کی ماں کا نام لکھے پھر ایک کاغذ میں اس آیت کو لکھ کر ان دونوں کے درمیان دے کر دونوں پتلوں کو آپس میں جوڑ دے اور پھل دار درخت کے نیچے دفن کر دے ، ان کی آپس کی نفرت و دشمنی ختم ہوجائے گی ۔
5۔ اگر کسی کنوئیں یانہر کا پانی کم ہوگیا ہو تو اس آیت کو مٹی کی ٹھیکری پر لکھ کر اس میں ڈال دے ان شاء اللہ پانی بہت ہوجائے گا ۔
6۔ اگر گائے یا بکری وغیرہ کا دودھ کم ہو یا بالکل نہ دیتی ہو تو سرخ تانبے کے تھال میں یہ آیت لکھ کر پاک پانی سے دھو کر پلا دیں دودھ بہت ہوجائے گا ۔
74۔ (آیت)” ثم قست قلوبکم “ یعنی خشک ہوگئے اور دل کا خشک ہونے کا معنی یہ ہے کہ اس سے نرمی اور رحم دلی نکل گئی اور کہا گیا ہے کہ ” قست “ کا معنی سخت ہوجانا ہے اور کہا گیا ہے کہ ” قست “ کا معنی ہے کہ دل سیاہ ہوگئے ، ” من بعد ذالک “ ان دلالتوں کے ظاہر ہونے کے بعد ، کلبی (رح) فرماتے ہیں انہوں نے اس (مقتول کا زندہ ہو کر قاتل کی نشاندہی کرنا) کے بعد بھی یہی رٹ لگائے رکھی کہ ہم نے اس کو قتل نہیں کیا تو اس صورت میں ان لوگوں سے بڑھ کر دل کا اندھا اور اپنے نبی کی سخت تکذیب کرنے والا اور کون ہوسکتا ہے ۔ ” فھی “ پس یہ دل سختی اور شدت میں ” کالحجارۃ او اشد قسوۃ “ پتھر یا اس سے بھی زیادہ سخت ہوگئے کہا گیا ہے کہ اس جگہ او کا معنی واؤ والا ہے ۔ (معنی ہوگا کہ ان کے دل سختی میں پتھر کی طرح ہوگئے اور سختی میں اس پتھر سے بھی زیادہ شدید) جس طرح کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول میں اوبمعنی واؤ ہے (آیت)” مائۃ الف اویزیدون “ (یعنی ایک لاکھ) بلکہ اس سے بھی زیادہ ۔
سوال : یہاں اللہ تعالیٰ نے دل کے سخت ہونے کو لوہے سے تشبیہ نہیں دی بلکہ پتھر سے حالانکہ لوہا پتھر سے زیادہ سخت ہوتا ہے ؟ ۔
جواب : یہ اس لیے کہ لوہا نرم ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے کیونکہ لوہے کو آگ سے نرم کیا جاسکتا ہے اور پھر لوہا حضرت داؤد (علیہ السلام) کے لیے نرم بھی ہوا اور پتھر بالکل نرم نہیں ہوتا ، اس کے بعد سخت دل پر پتھر کو فضیلت دی گئی ، پس فرمایا (آیت)” وان من الحجارۃ لما یتفجر منہ الانھار “ کہا گیا ہے کہ اس سے مراد تمام پتھر ہیں اور کہا گیا ہے کہ اس سے مراد وہ پتھر ہے جس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اسباط بنی اسرائیل کے لیے عصا مار کر پانی حاصل کرتے تھے (آیت)” وان منھا لما یشقق فیخرج منہ المائ “ اس سے مراد چشمے ہیں دریا نہیں ۔ (آیت)” وان منھا لما یھبط “ پہاڑ کی بلندی سے پستی کی طرف لڑھکتے ہیں ۔ ” من خشیۃ اللہ “ اور تمہارے دل نرم نہیں پڑتے ۔ اے یہودیو اور نہ خوف خدا رکھتے ہیں ۔
سوال : اگر کہا جائے کہ پتھر تو جماد ہے (ذی روح نہیں) ان کے اندر عقل ہی نہیں تو خوف خدا کیسے رکھتے ہیں ؟ ۔
جواب : اللہ تعالیٰ اسے سمجھاتے ہیں اور الہام فرماتے ہیں ، پس اللہ تعالیٰ کے الہام کے ساتھ وہ خوف خدا رکھتا ہے ۔ اہل السنۃ والجماعت کا مذہب ہے کہ ذوی العقول کے علاوہ جمادات اور تمام حیوانات کو معرفت الہیہ کا ایسا علم ہے جس پر اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی مطلع نہیں ہوسکتا ۔
تو ان جمادات و حیوانات کی نماز ہے تسبیح ہے خوف خدا ہے جیسے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” وان من شیء الا یسبح بحمدہ “ (کہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس اور حمد وثناء کرتی ہے) اور فرمایا (آیت)” والطیر صافات کل قد علم صلاتہ وتسبیحہ “ (کہ پرندے صف باندھے ہر ایک اپنی نماز اور تسبیح کا علم رکھتا ہے) اور فرمایا (آیت)” الم تر ان اللہ یسجد لہ من فی السموت ومن فی الارض والشمس والقمر “ الآیۃ (اے مخاطب) (تو دیکھتا نہیں کہ اس ذات الہی کے لیے سجدہ کرتی ہے ہر وہ مخلوق جو آسمانوں میں ہے اور جو مخلوق زمین میں ہے اور سورج چاند بھی) پس انسان پر واجب ہے کہ وہ اس مضمون و مفہوم پر ایمان لائے اور اس کا (تفصیلی) علم اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے سپرد کردے ۔ روایت کی جاتی ہے ، کہ حضور ﷺ ثبیر (مکہ کے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ کا نام) پر تھے اور کفار حضور ﷺ کو تلاش کررہے تھے تو پہاڑ ثبیر نے کہا کہ حضور ﷺ مجھ سے اتر جائیے میں اس سے ڈرتا ہوں یہ کہ آپ مجھ پر پکڑے جائیں اور اللہ تعالیٰ مجھے اس کی وجہ سے عذاب دیں ، تو جبل حراء نے عرض کی حضور ﷺ میری طرف تشریف لائیں ۔
حضرت جابر بن سمرہ ؓ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ بیشک میں مکہ مکرمہ میں وہ پتھر پہچانتا ہوں جو اس سے پہلے کہ میں مبعوث ہوتا مجھ پر سلام کیا کرتا تھا اور بیشک میں اس وقت بھی اسے پہچانتا ہوں ، یہ حدیث صحیح ہے ، مسلم نے اس کا اخراج ابوبکر بن ابی شیبہ (رح) سے کہا انہوں نے یحییٰ بن ابی بکر (رح) سے روایت کی اور حضرت سیدنا انس ؓ سے یہ روایت ثابت ہے کہ بیشک حضور اقدس ﷺ کے لیے جبل احد نمودار ہوا تو آپ نے فرمایا یہ پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی ، پھر لوگوں پر متوجہ ہو کر فرمایا : درمیان اس کے کہ ایک شخص گائے ہانکے جا رہا تھا کہ وہ تھک گیا پس اس گائے پر سوار ہوگیا اور اس کو مارا تو گائے بولی ہم (گائیں) اس لیے تو پیدا نہیں کی گئیں ہم تو صرف کھیتی باڑی کے لیے پیدا کی گئی ہیں ، پس لوگوں نے کہا سبحان اللہ گائے بولتی ہے ؟ پس رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (پس (اس بات پر) میں ایمان لایا ، ابوبکر ؓ و عمر ؓ بھی ایمان لائے حالانکہ وہ دونوں وہاں نہیں تھے) ۔
اور فرمایا (درمیان میں اس کے کہ ایک شخص اپنی بکریوں میں تھا ، اچانک بھیڑیا ان میں سے ایک بکری پر چڑھ دوڑا پس اس بکری کو اس کے مالک نے پالیا اور اسے چھڑا لیا ، پس بھیڑیا بولا پس ” یوم السبع “ یعنی قرب قیامت کے دن اس بکری کا کون رکھوالا ہوگا ؟ جبکہ میرے سوا اس کا چرانے والا کوئی نہ ہوگا) پس لوگوں نے کہا سبحان اللہ بھیڑیا کلام کرتا ہے ! پس فرمایا (رسول اللہ ﷺ نے) اس پر میں اس پر ایمان لایا ، ابوبکر ، عمر ؓ ایمان لائے حالانکہ وہ دونوں وہاں موجود نہ تھے ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے (یہ روایت) ثابت ہے کہ حضور اقدس ﷺ حضرت ابوبکر صدیق ؓ ، حضرت عمر فاروق ؓ ، حضرت عثمان غنی ؓ حضرت علی ؓ ، حضرت طلحہ ؓ ، حضرت زبیر ؓ جبل حراء پر تھے تو چٹان ہلنے لگی ، حضور اقدس ﷺ نے فرمایا ٹھہر جا یعنی سکون پذیر ہوجا پس تیرے اوپر سوائے نبی وصدیق اور شہید کے اور کوئی نہیں ۔ یہ روایت صحیح ہے اسے مسلم نے نکالا (روایت کیا) ۔
حضرت علی ؓ نے فرمایا ہم حضور اقدس ﷺ کے ہمراہ مکہ مکرمہ میں تھے پس ہم مکہ سے باہر نواحی مکہ کی طرف پہاڑوں اور درختوں کی طرف نکلے تو حضور اقدس ﷺ جس کسی درخت یا پہاڑ کے پاس سے گزرتے تو وہ درخت یا پہاڑ آپ ﷺ کو ” السلام علیک یا رسول اللہ ﷺ کہتا ، حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں حضور اقدس ﷺ جب خطبہ دیتے تو مسجد (نبوی) کے ستونوں میں سے ایک کھجور کے تنے کے ساتھ سہارا لگا کر (خطبہ ارشاد فرماتے) جب آپ ﷺ کے لیے منبر تیار کیا گیا تو آپ وہاں جلوہ افروز ہوئے وہ کھجور کا ستون مضطرب ہوا اور اونٹنی (جو اپنے بچے سے بچھڑ جائے) کی طرح رونے لگا۔ یہاں تک کہ اس کے رونے کو اہل مسجد نے سنا ، حتی کہ حضور اقدس ﷺ (منبر سے) اترے اور اسے گلے لگایا جس پر وہ سکون پذیر ہوا ۔
حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ پتھر (چٹان) اوپر سے نیچے جب بھی لڑھکتا ہے تو خوف خدا سے لڑھکتا ہے اور ہمارے اس قول کی گواہی یہ فرمان خداوندی دیتا ہے (آیت)” لوانزلنا ھذا القرآن علی جبل لرایتہ خاشعا متصدعا من خشیۃ اللہ وتلک الامثال نضربھا للناس لعلکم یتفکرون “ ۔ فرمان عزوجل (آیت)” وما اللہ بغافل “ بھولنے والا نہیں ، (آیت)” عما تعلمون “ دھمکی ہے اور کہا گیا ہے کہ بغافل کا معنی ہے کہ تمہارے اعمال کی سزا کو چھوڑنے والا نہیں بلکہ اس کا بدلہ دے گا ابن کثیر نے ” یعلمون “ یاء کے ساتھ پڑھا اور باقیوں نے تاء کے ساتھ پڑھا ۔
Ayah 2:75(تفسیر) 75۔ـ:
(آیت)” افتطمعون “ کیا تم امید رکھتے ہو مراد حضور اقدس ﷺ اور حضور ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ہیں (آیت)” ان یومنوا لکم “ یہود تمہاری تصدیق کریں گے ، اس بات کی جو تم ان کو خبردیتے ہیں ؟ـ (آیت)” وقد کان فریق منھم یسمعون کلام اللہ “ یعنی تورات ” ثم یحرفونہ “ اس میں جو احکام ہوتے ان کو بدل ڈالتے ۔ (آیت)” من بعد ماعقلوہ “ اس کو جاننے (کے بعد) حضور ﷺ کی صفت کو انہوں نے بدلا اور آیت رجم میں تبدیلی کی (آیت)” وھم یعلمون “۔ کہ بیشک وہ جھوٹے ہیں ، یہ قول مجاہد ، (رح) قتادہ (رح) عکرمہ (رح) سدی (رح) اور ایک جماعت کا ہے اور حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا اور مقاتل (رح) نے یہ آیت ان ستر (70) کے حق میں نازل ہوئی جنہیں میقات رب کے لیے منتخب کیا اور وہ جب واپس قوم کی طرف لوٹے ، کلام الہی سننے کے بعد تو لوگوں نے ان ستر کی طرف رجوع کیا ، ان میں سے جو سچے تھے انہوں نے پیغام الہی من وعن پہنچا دیا اور ان میں سے ایک گروہ نے کہا کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کو سنا تھا کہ وہ اپنے حکم کے آخر میں فرماتے تھے اگر تم عمل کی طاقت رکھو (تو کرنا) تو یہ ہے ان کی تحریف حالانکہ وہ جانتے تھے کہ وہ حق ہے ۔
Ayah 2:7676۔ (آیت)” واذا لقوا الذین امنوا “ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ ، حضرت حسن ؓ حضرت قتادہ (رح) فرماتے ہیں اس سے مراد منافقین یہود ہیں جو اپنی زبانوں سے ایمان لائے جب وہ مؤمنین مخلصین سے ملتے ہیں ” قالوا امنا “ (ہم ایمان لائے) تمہارے ایمان کی طرح ” واذا خلا “ لوٹا ” بعضھم الی بعض “ کعب بن اشرف ، کعب بن اسد ، وھب بن یہودا اور انکے علاؤہ رؤساء یہود۔ ان کے اس معاملہ پر (آیت)” قالوا اتحدثونھم بما فتح اللہ علیکم “ (ان کو بیان کرتے ہو) وہ کچھ جو اللہ تعالیٰ نے تم پر تمہاری کتاب میں واضح فرمایا ، یہ کہ حضرت محمد ﷺ حق ہیں اور ان کی بات سچی ہے اور فتاح بمعنی قاص ہوتا ہے یعنی بیان کرنے والا ۔
اور کسائی کہتے ہیں ” بما فتح اللہ “ کا معنی ” بما بینہ لکم “ ہے یعنی جو کچھ اللہ تعالیٰ نے تمہیں بیان کیا ، حضور ﷺ صفات اور حلیہ مبارکہ کا علم واقدی کہتا ہے ” بما فتح اللہ “ کا معنی ہے ” بما انزل علیکم واعطاکم “ یعنی جو کچھ اللہ تعالیٰ نے تم پر نازل فرمایا اور تمہیں عطا کیا اور اسی کی مثال ہے ۔ ” لفتحنا علیم برکات من السماء والارض “ یعنی ہم ہی نازل کرتے ۔ ابوعبیدہ (رح) کہتے ہیں ” بما فتح اللہ “ کا معنی ہے وہ چیز جو اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان فرمائی اور تمہیں عنایت کی ۔ ” لیحاجوکم بہ “ تاکہ اس کے ذریعے تم سے جھگڑا کریں ۔
اس سے مراد اصحاب محمد ﷺ تھے اور وہ تمہارے ہی قول کے ذریعے تم پر حجت پکڑیں ، پس کہیں تحقیق تم نے خود اقرار کیا تھا کہ حضور نبی ﷺ حق ہیں تمہاری کتاب میں (مذکور ہے) پھر تم اس کی پیروی نہیں کرتے ؟ اور یہ اس وقت کی بات ہے جب اہل مدینہ نے یہود سے حضور ﷺ کی پیروی کرنے کے سلسلہ میں مشورہ کیا تو علمائے یہود نے کہا اس پر (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایمان لے آؤ ۔ پس وہ حق ہے پھر بعض نے بعض کو کہا کیا تم ان کو بیان کرتے ہو وہ کچھ جو اللہ تعالیٰ نے تم پر کھولا ، واضح کیا تاکہ وہ (اصحاب رسول) تم اس کے ذریعے جھگڑا کریں ؟ ” لیحاجوکم “ کا معنی ہوگا تاکہ تمہاری یہ بات ان (اصحاب رسول) کے حق میں تمہارے خلاف حجت ہوجائے ، (آیت)” عندربکم “ آخرت میں ۔
اور کہا گیا ہے کہ انہوں نے ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو گناہوں پر ملنے والے عذاب کی خبر دی ، پس بعض نے بعض سے کہا کیا تم بیان کرتے ہو ، وہ کچھ جو اللہ تعالیٰ نے تم پر عذاب نازل کیا تاکہ وہ تمہارے سے تمہارے رب کے پاس جھگڑیں تاکہ (اس صورت حال کو) تمہارے برخلاف اپنے حق میں عنداللہ اکرام و انعام سمجھیں اور حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں یہ قول یہود قریظہ کا تھا ، بعض نے بعض کو کہا جب حضور ﷺ نے ان کو فرمایا ” اخوان القردۃ والخنازیر “ اے خنزیروں اور بندورں کے بھائیو ! تو وہ کہنے لگے ہمارے اس امر کی محمد ﷺ کو کس نے خبر دی ؟ لازما یہ راز کی بات تمہاری طرف سے اوٹ ہوئی ہے ۔ ” افلاتعقلون “۔
Ayah 2:77(تفسیر) 77۔ :
(آیت)” اولایعلمون ان اللہ یعلم ما یسرون “۔ چھپاتے ہیں ۔ ” وما یعلنون “ ظاہر کرتے ہیں یعنی یہود۔
Ayah 2:7878۔ (آیت)” ومنھم امیون “ یعنی یہود سے کچھ لوگ امی ہیں جو پڑھنا اور لکھنا اچھی طرح نہیں کرسکتے ، (امیون) امی کی جمع ہے جو ام کی طرف منسوب ہے ، گویا کہ امی شخص جس طرح ماں سے جدا ہوا اسی طرح باقی ہے نہ لکھنا جانتا ہے اور نہ پڑھنا ، حضور ﷺ سے مروی ہے آپ ﷺ نے فرمایا بیشک ہم امی امۃ ہیں نہ لکھتے ہیں نہ حساب کرتے ہیں اور کہا گیا ہے کہ حضور ﷺ کے امی ہونے کا معنی یہ ہے کہ آپ ﷺ ام القری کی طرف منسوب ہیں اور ام القری سے مراد مکہ مکرمہ ہے ۔
(آیت)” لایعلمون الکتاب الا امانی “ ابوجعفر نے (امانی) یاء کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے کتاب سے مراد کل قرآن ہے امانی میں تخفیفا ایک یاء کو حذف کردیا گیا اور عام قراء نے امانی کی یاء کو شد کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ امانی امنیہ کی جمع ہے جو کہ تلاوت ہے ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ” الا اذا تمنی القی الشیطان فی امنیتہ “ یعنی فی قراتہ حضرت ابوعبیدہ ؓ فرماتے ہیں اس کا معنی ہے کہ وہ کتاب کی قراۃ و تلاوت محض یاد (زبانی) کرتے یعنی کتاب سے (دیکھ کر) نہیں پڑھتے اور کہا گیا کتاب کو (محض) حفظ وقرات کی صورت میں جانتے ہیں اور اس کے معانی نہیں جانتے ۔
حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ وہ معانی کتاب نہیں جانتے ، حضرت مجاہد (رح) و حضرت قتادہ (رح) فرماتے ہیں ” الاامانی “ کا معنی ہے ” الا کذبا وباطلا “ کہ محض جھوٹ اور باطل جانتے ہیں ، حضرت فراء (رح) فرماتے ہیں ” الاامانی “ کا معنی ہے محض من گھڑت باتیں ، حضرت عثمان ؓ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ” ماتمنیت منذ اسلمت “ یعنی جب سے میں اسلام لایا ہوں جھوٹ نہیں بولا اور ” امانی “ سے مراد وہ چیزیں ہیں جو ان کے علماء نے اپنی طرف سے لکھیں پھر ان کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کردی ۔
حضور اقدس ﷺ کے بیان حلیہ سے متعلق تبدیلی وغیرہ حضرت حسن (رح) اور ابو العالیہ (رح) فرماتے ہیں کہ ” امانی “ سے مراد تمنی ہے ، یہ ان کی جھوٹی آرزوئیں تھیں جو اللہ تعالیٰ پر تمناؤں کی شکل میں کرتے ، مثلا ان کا یہ کہنا (آیت)” لن یدخل الجنۃ الا من کان ھودا اونصاری “ کہ جنت میں سوائے یہود کے اور کوئی نہ جائے گا ، یہ بات یہودی کہتے تھے اور جنت میں سوائے نصاری کے کوئی نہ جائے گا ، یہ بات نصاری کہتے تھے اور ان کا یہ کہنا (آیت)” لن تمسنا النار الا ایاما معدودہ “ (کہ ہمیں آگ نہیں چھوئے گی مگر چند دن) اور ان کا یہ کہنا ” نحن ابناء اللہ واحباؤہ “ کہ ہم خدا تعالیٰ کے بیٹے اور محبوب ہیں ، تو ان سابقہ معانی کی صورت میں ” الاامانی “ کا معنی ” لکن امانی “ یعنی وہ کتاب کو کچھ نہیں جانتے لیکن چند چیزوں کی آرزو کرتے ہیں جو انہیں حاصل نہیں ہوتیں ” وان ھم “ اور نہیں ہے وہ ” الا یظنون “ یعنی وہ نہیں گمان کرتے مگر محض اٹکل پچوں اور وہم ، انہیں یقین حاصل نہیں ہے ، یہ بات حضرت قتادہ (رح) اور ربیع (رح) نے کہی ، حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں ” امانی “ کا معنی ہے ” یکذبون “ وہ جھوٹ بولتے ہیں ۔
Ayah 2:7979۔ ” فویل “ زجاج فرماتے ہیں ویل وہ کلمہ ہے جس کا استعمال اہل عرب ہر اس پر کرتے ہیں جو ہلاکت میں واقع ہو اور کہا گیا ہے وہ کفار کی دعا ہے جو وہ اپنے آپ پر ویل اور ثبور کا لفظ لفظ بول کر کرتے ۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں ، ویل کا معنی شدت عذاب کے ہیں ، حضرت سعید بن المسیب ؓ فرماتے ہیں ۔ ویل جہنم میں ایک وادی کا نام ہے ۔
اگر اس وادی میں دنیا کے پہاڑوں کو چلایا جائے تو اس کی سخت حرارت کے باعث پہاڑ پگھل جائیں ، ابو سعید خدری ؓ حضور ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا : ویل جہنم میں وادی ہے جس میں کافر گہرائی تک پہنچنے سے پہلے چالیس سال لڑھکتا چلا جائے گا اور صعود آگ کا پہاڑ ہے اس میں (کافر) ستر 70 سال چڑھتا رہے گا ، پھر وہاں سے اسی طرح نیچے کی طرف گرے گا ۔ (آیت)” للذین یکتبون الکتاب بایدیھم ثم یقولون ھذا من عند اللہ لیشتروا ثمنا قلیلا “ اور یہ اس طرح کہ جب حضور ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو احبار یہود کو یہ خوف لاحق ہوا کہ کہیں ان کا مذہبی تسلط و ریاست چلی نہ جائے اور ان کی خوراک بند نہ ہوجائے چناچہ احبار یہود نے عوام یہودیوں کو (دین اسلام) ایمان سے روکنے کے لیے یہ چال چلی کہ حضور ﷺ کی صفات جمیلہ تو جو تورات میں مندرج تھیں ان کو بدل ڈالا ۔
تورات میں حضور ﷺ کی صفت یہ تھی کہ آپ ﷺ حسین چہرہ ، خوبصورت بالوں والے ، سرمگیں آنکھوں والے ، میانہ قد ہوں گے تو احبار یہود نے ان صفات (حمیدہ) کو بدل ڈالا اور مذکورۃ الصدر صفات کی بجائے تورات میں یہ صفات درج کردیں کہ (وہ نبی آخرالزمان) لانبے قد اور نیلگوں آنکھوں والے سیدھے بالوں والے ہوں گے۔
جب ان (احبار یہود) سے نچلے درجہ کے عام یہود پوچھتے تو احبار یہود وہی کچھ پڑھ کر سنا دیتے جو کچھ انہوں نے اپنے ہاتھوں سے لکھ دیا تھا اور عوام جب حضور ﷺ کو دیکھتے تو تورات سے پڑھ کر سنائی گئی ، صفات کے برعکس حضور ﷺ کو پاتے تو حضور ﷺ کی تکذیب کرتے ۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت)” فویل لھم مماکتبت ایدیھم “ یعنی انہوں نے حضور ﷺ کی صفات کریمہ کو تبدیل کرکے اپنی طرف سے گھڑ کر لکھا (ایسا کرنے پر ان کے لیے خرابی ہلاکت تباہی) (آیت)” وویل لھم ممایکسبون “ کھانے سے اور کہا گیا ہے گناہوں سے ۔
Ayah 2:80(تفسیر) 80۔:
(آیت)” وقالوا : یعنی یہود (نے کہا) (آیت)” لن تمسنا النار “ ہمیں آگ نہیں پہنچے گی ۔ ” الا ایاما معدودۃ “ ایک مقرر انداز پھر ہم سے عذاب زائل ہوجائے گا ۔
انہوں نے ان دنوں کے بارے میں اختلاف کیا ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ یہود کہتے تھے کہ دنیا کی مدت سات ہزار سال ہے اور ہمیں صرف ایک ہزار کے بدلے ایک دن عذاب ہوگا ، پھر سات دنوں کے بعد عذاب ختم ہوجائے گا ، حضرت قتادہ (رح) اور حضرت عطا (رح) فرماتے ہیں کہ یہود ” ایاما معدودہ “ سے چالیس دن مراد لیتے تھے ، جن میں ان کے آباء و اجداد نے بچھڑے کی پوجا کی تھی ، حضرت حسن (رح) اور ابو عالیہ (رح) فرماتے ہیں کہ یہود کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے معاملے میں عتاب فرمایا ، پس اللہ تعالیٰ نے قسم اٹھائی کہ ہمیں چالیس دن ضرور عذاب دے گا محض قسم کو پورا کرنے کے لیے پس اللہ عزوجل ان کی تکذیب کرتے ہیں ، فرمایا ” قل “ یا محمد (فرمائیے) (آیت)” اتخذتم عنداللہ “ اس میں الف استفہام کی ہے جو کہ الف وصل پر داخل ہوئی ہے ، ” عھدا “ پختہ (وعدہ) اس بات پر کہ وہ تمہیں صرف اتنی مدت عذاب دے گا ۔ (آیت)” فلن یخلف اللہ عہدہ “ اپنا وعدہ۔
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں (اس عہد سے مراد) عہد توحید ہے اس مفہوم پر اللہ تعالیٰ کا یہ قول دلالت کرتا ہے ” الا من اتخذ عندالرحمن عھدا “۔
اس سے مراد قول لا الہ الا اللہ “ ہے (آیت)” ام تقولون علی اللہ مالا تعلمون “ پھر فرمایا ۔
Ayahs 2:81–8281۔ ” بلی “ بلی اور بل دونوں استدراک کے حرف ہیں اور دونوں کا معنی ماضی سے متعلق خبر کی نفی کرنا اور مستقبل سے متعلق خبر کی اثبات کرنا ہے۔ (آیت)” من کسب سیئۃ “ شرک ”(آیت)” واحاطت بہ خطیئتہ “ اہل مدینہ نے ” خطیئاتہ “ جمع کے ساتھ پڑھا اور احاطہ کا معنی کسی شیء کا ہر جانب سے گھیراؤ کرنا ہے ۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ حضرت عطاء ؓ ضحاک ؓ ابو العالیہ ؓ ، اور ربیع ؓ اور ایک جماعت کا کہنا ہے کہ (آیت)” احاطت بہ خطیئتہ “ کا معنی وہ شرک جس پر موت واقع ہو اور کہا گیا ہے کہ ” خطیئۃ کا معنی بڑا گناہ اور احاطۃ بہ کا معنی اس (گناہ) پر اصرار کرنا کہ بغیر توبہ کے مرجائے یہ قول عکرمہ اور ربیع بن خثیم کا ہے ، علامہ واحدی اپنی تفسیر وسیط میں فرماتے ہیں کہ ایمان والے اس آیت کے حکم میں داخل نہیں ہیں ۔
اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو دوزخ میں ہمیشہ رہنے کی وعید سنائی ہے جس کو گناہ احاطہ کرلیں اور جس سے سیئہ سرزد ہوچکی ہو جو کہ شرک ہے اور مومن اگرچہ گناہ کبیرہ کا عمل کرتا ہے لیکن اس سے شرک نہیں پایا جاتا ، حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ اس سے مراد گناہ ہیں جو دل کا گھیراؤ کرلیتے ہیں جب بھی گناہ کرتا ہے وہ گناہ بلند آتا ہے یہاں تک کہ وہ دل پر چھا جاتا ہے اور یہ رین ہے کلبی (رح) کہتے ہیں کہ اس کے گناہ اس کو ہلاک کردیتے ہیں ، اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے (آیت)” الا ان یحاط بکم “ یعنی تم ہلاک ہوجاؤ ،۔ (یہ قول حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا ہے جو انہوں نے اپنے بیٹوں کو مصر بھیجتے وقت فرمایا تھا) (آیت)” فاولئک اصحاب النار ھم فیھا خالدون “۔
Ayah 2:8383۔ (آیت)” واذا اخذنا میثاق بنی اسرائیل “۔ تورات میں اور میثاق سے مراد عہد شدید ہے ۔ (آیت)” الا تعبدون الا اللہ “ ابن کثیر (رح) اور حمزہ (رح) اور کسائی (رح) نے ” لایعبدون “ یاء کے ساتھ پڑھا اور باقیوں نے تاء کے ساتھ پڑھا ۔ (آیت)” لا تعبدون الا اللہ “ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی طرح ہے ۔ (آیت)” وقولوا للناس حسنا “ ” لاتعبدون کا معنی لاتعبدوا ہے جب (ان) کو حذف کیا گیا تو فعل مرفوع ہوگیا ، حضرت ابی بن کعب ؓ نے ” لاتعبدوا “ پڑھا ۔ ” نھی “ کے صیغہ پر (آیت)” وبالوالدین “ یعنی ہم نے ان کو حکم دیا ، والدین کے ساتھ (احسانا) دونوں کے ساتھ بھلائی کرنے کا اور ان کے ساتھ مہربانی کرنے کا اور والدین کے ہر اس حکم کی اطاعت کرنے کا جو حکم خداوندی کے مخالف نہ ہو ۔ (آیت)” وذی القربی “ اور قرابت والوں کے ساتھ اور قربی حسنی کی طرح مصدر ہے ” والیتامی “ یتیم کی جمع ہے اور یتیم وہ بچہ ہوتا ہے جس کا باپ نہ ہو ۔ ” والمساکین “ یعنی فقراء (آیت)” وقولوا للناس حسنا “ یعنی حضور ﷺ کے بارے میں سچ اور حق بات کہو۔
پس جو شخص بھی تم سے حضور ﷺ کے بارے میں پوچھے اس سے سچی بات کہو اور حضور ﷺ کی صفت بیان کرو اور اس کے امر کو چھپاؤ نہیں ، یہ قول حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سعید بن جبیر (رح) اور ابن جریج (رح) اور مقاتل ؓ کا ہے اور سفیان ثوری (رح) فرماتے ہیں کہ اس کا معنی ہے کہ لوگوں کو نیکی کا حکم کرو اور ان کو برائی سے منع کرو اور کہا گیا ہے کہ (آیت)” قولواللناس حسنا “ کا معنی ہے کہ بات میں نرمی کرنا اور حسن خلق کے ساتھ باہمی گزران کرنا ، حمزہ (رح) کسائی (رح) اور یعقوب (رح) نے ” حسنا “ پڑھا ہے ، حاء اور سین کی زبر کے ساتھ یعنی ” قولا حسنا “ (آیت)” واقیموا الصلوۃ واتوالزکوۃ ثم تولیتم “ تم نے عہد و پیمان سے اعراض کیا ” الا قلیلا منکم “ یہ انہیں میں سے ایک قوم تھی جو ایمان لائے تھے ۔ (آیت)” وانتم معرضون “ مثل اعراض کرنے تمہارے آباء کے۔
Ayah 2:8484۔ (آیت)” اذ اخذنا میثاقکم لا تسفکون “ یعنی نہیں بہاؤ گے ” دماء کم “ یعنی تمہارا بعض ، بعض کا خون نہ بہائے گا اور کہا گیا ہے تم نہ بہاؤ اپنے غیر کے خون کو پس وہ تمہارا خون بہائے گا پس اس صورت میں گویا تم نے اپنا خون خود بہایا (آیت)” ولا تخرجون انفسکم من دیارکم “ تمہارا بعض ، بعض کو اپنے گھر سے نہ نکالے اور کہا گیا کہ جو تمہارا پڑوس اختیار کرے اس کے لیے تم برے پڑوسی مت ثابت ہو کہ اپنے برے پڑوسی ہونے کی وجہ سے تم اسے نکلنے پر مجبور کر دو ، ثم اقررتم “ اس عہد کے ساتھ (تم نے اقرار کیا) کہ وہ حق ہے اور تم نے قبول کرلیا۔ (آیت)” وانتم تشھدون “ (تم گواہ رہو) آج بھی اس پر اے گروہ یہود اور قبول کرنے کا اعتراف کرتے ہو ۔
Ayah 2:85(تفسیر) 85۔:
(آیت)” ثم انتم ھؤلائ “۔ یعنی یا ھؤلاء ، اور ھؤلاء “ نتبیہ کے لیے ہے، (آیت)” تقتلون انفسکم “ یعنی تمہارا بعض ، بعض کو قتل کرتا ہے ، (آیت)” وتخرجون فریقا منکم من دیارھم تظاھرون علیھم “ ظاء کی شد کے ساتھ یعنی ” تظاھرون “ اصل میں ” تتظاھرون “ تھا ، ک تاء کو ظاء میں ادغام کردیا گیا ، عاصم (رح) حمزہ (رح) کسائی (رح) نے ” تظاھرون “ کو تخفیف کے ساتھ یعنی بغیر شد کے پڑھا ہے تو انہوں نے تفاعل کی تاء کو حذف کیا اور تاء خطاب کو باقی رکھا ، مثل قول اللہ تعالیٰ کے ” ولا تعاونو “ (بہرحال دونوں یعنی تخفیف وتشدید) صورتوں میں معنی ” تتعاونو “ ہوگا یعنی تم مدد کرتے ہو اور ظہیر کا معنی عون ہے (آیت)” بالاثم والعدوان “ معصیت اور ظلم کے ساتھ (آیت)” وان یاتوکم اسری “ حمزہ نے ” اسری “ پڑھا دونوں صورتوں میں سیر کی جمع ہے اور دونوں کا معنی ایک ہے ، ” تفادوھم “ مال کے ساتھ تم ان کو چھڑاتے ہو اہل مدینہ ، عاصم (رح) کسائی (رح) اور یعقوب (رح) نے تفادوھم “ پڑھا یعنی ان سے مبادلہ کرتے ہو مراد قیدی کو قیدی کے بدلہ چھوڑنا اور کہا گیا ہے دونوں ق راتوں کا معنی ایک ہی ہے ۔ (یعنی تفادون باب تفاعل سے ہو یا باب مفاعلہ سے ہو۔ )
آیت کا معنی علامہ سدی (رح) یوں بیان فرماتے ہیں کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے بنو اسرائیل سے تورات میں یہ عہد لیا تھا کہ بعض بعض کو قتل نہیں کرے گا اور نہ تمہارا بعض ، بعض کو گھر سے نکالے گا اور بنی اسرائیل کا کوئی غلام یا باندی تم پاؤ گے تو اسے جس قیمت پر خریدنا پڑے خرید کر آزاد کر دو گے ، یہود کا قبیلہ بنو قریظہ انصار کے قبیلہ اوس کا حلیف تھا اور یہود کا قبیلہ بنو نضیر انصار کے قبیلہ خزرج کا حلیف تھا اور جنگ میں قتل کرتے ۔
بنو قریظہ والے اپنے حلیفوں کے ساتھ مل کر لڑتے اور بنو نضیر اپنے حلیفوں کے ساتھ مل کر قتال کرتے اور جب (ان میں سے کوئی فریق دوسرے فریق پر) غالب آتا تو دوسروں کے شہروں کو خراب کرتے اور گھروں سے ان کو نکالتے اور فریقین میں سے کوئی آدمی اگر قید ہوجاتا تو مال جمع کر کے اس کو چھڑا لیتے ، اگرچہ وہ قیدی ان کے دشمنوں سے ہوتا تو اہل عرب ان کو عار دلاتے اور کہتے کہ تم ان سے قتال بھی کرتے ہو اور فدیہ دے کر چھڑاتے بھی ہو۔
جوابا گروہ یہود کہتا کہ فدیہ دے کر اپنے قیدی کو چھڑانے کا ہمیں حکم دیا گیا ہے ، اس پر عرب والے کہتے پھر ان سے لڑتے کیوں ہو ؟ تو کہتے ہمیں اس بات کی شرم آتی ہے کہ ہمارے حلیف ذلیل ہوں تو اللہ تعالیٰ ان کو اس پر عار دلائی اور فرمایا (آیت)” ثم انتم ھؤلاء تقتلون انفسکم “ آیت میں تقدیم و تاخیر ہے۔
نظم کلام اس طرح (آیت)” وتخرجون فریقا منکم من دیارھم تظاھرون علیھم بالاثم والعدوان (وھو محرم علیکم اخراجھم) وان یاتوکم اساری تفادوھم۔۔۔۔۔ “۔
پس گویا کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے چار وعدے لیے ۔
1۔ ترک قتال۔
2۔ ترک اخراج۔
3۔ ترک المظاہرہ علیھم مع اعداء ھم کہ ان کے دشمنوں کے ساتھ مل کر ان کی خلاف معاونت نہ کریں گے ۔
4۔ قیدیوں کا فدیہ دے کر چھڑائیں گے ۔
انہوں نے تمام قسم کے معاہدوں سے اعراض کیا سوائے فدیہ دے کر چھڑانے کے ۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” افتؤمنون ببعض الکتاب وتکفرون ببعض “ حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں اگر تو (اپنے بھائی کو) غیر کے ہاتھ میں پاتا ہے تو اس کا فدیہ دے کر چھڑا لیتا ہے اور تو خود اپنے ہاتھ سے قتل کرتا ہے (آیت)” فما جزاء من یفعل ذالک منکم “ اے گروہ یہود ” الاخزی “ عذاب وذلت ” فی الحیاۃ الدنیا “ تو بنوقریظہ کی رسوائی قتل اور قید ہوجانا تھا اور بنو نضیر کی رسوائی جلاوطنی اور شام کے علاقہ اریحا اور میدانی علاقے کھیتوں کی طرف ملک بدری تھی ۔ (آیت)” ویوم القیامۃ یردون الی اشد العذاب “ اور وہ آگ کا عذاب ہے ۔ (آیت)” وما اللہ بغافل عما تعملون “ ابن کثیر (رح) نافع (رح) اور ابوبکر (رح) اللہ نے یاء کے ساتھ ” یعملون “ پڑھا ہے اور باقیوں نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے ۔
Ayah 2:86(تفسیر) 86۔:
(آیت)” اولئک الذین اشتروا “ انہوں نے بدلا ” الحیاۃ الدنیا بالاخرۃ فلا یخفف “ ہلکا (نہ ہوگا) (آیت)” عنھم العذاب ولا ھم ینصرون “ اللہ عزوجل کے عذاب سے روکے نہ جائیں گے ۔
Ayah 2:8787۔ (آیت)” ولقد اتینا “ ہم نے عطا کیا (موسی الکتاب) تورات (دی) ایک ہی دفعہ ” وقفینا “ اور ہم نے پیچھے (بھیجا) (آیت)” من بعدہ بالرسل “ رسول کو بعد رسول کے (آیت)” واتینا عیسیٰ ابن مریم البینات “ واضح نشانیاں اور یہ (نشانیاں) وہی ہیں جن کا ذکر سورة آل عمران اور مائدہ میں ہوا اور کہا گیا ہے کہ ” بینات “ سے مراد انجیل ہے ” وایدناہ “ انہیں ہم نے قوت بخشی ” بروح القدس “ ابن کثیر (رح) نے ” القدس “ پڑھا ، دال کی سکون کے ساتھ اور دوسروں نے دال کی ضمہ (پیش) کے ساتھ پڑھا اور یہ دونوں لغتیں ہیں جیسے کہ ” رعب “ اور ” رعب “ ہے۔ روح القدس میں انہوں نے اختلاف کیا ، ربیع وغیرہ نے کہا روح سے مراد وہ ہے جس میں پھونک نہ ہو ، قدس سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے تخصیص و تکریم کی خاطر روح کی نسبت اپنی طرف فرمائی یعنی وہ جو اس میں پھونکی گئی ، یہ (اضافت روح اللہ تعالیٰ کی طرف) ایسے ہے جیسے بیت اللہ اور ناقۃ اللہ کی (اضافت الی اللہ تشریفا وتکریما ہے) جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” فنفخنا فیہ من رورحنا “ ” وروح منہ “ اور کہا گیا ہے کہ قدس سے مراد طہارت ہے یعنی روح طاہرہ پاکیزہ روح (حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ) کی روح کو اللہ تعالیٰ نے قدس اس لیے فرمایا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نہ تو صلب پدر نے اپنے اندر لیا اور نہ حیض والے رحم ان پر مشتمل ہوئے ۔
وہ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) تو صرف اللہ تعالیٰ کے امر میں سے ایک امر تھے حضرت قتادہ (رح) سدی (رح) ، ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ روح القدس سے مراد حضرت جبرئیل (علیہ السلام) ہیں اور کہا گیا ہے کہ جبرئیل (علیہ السلام) کا وصف قدس یعنی طہارت اس لیے ذکر کیا گیا کہ انہوں نے کبھی بھی گناہ کا ارتکاب نہیں کیا حضرت حسن ؓ فرماتے ہیں کہ قدس سے مراد خود رب قدس کی ذات اقدس ہے اور روح حضرت جبرئیل (علیہ السلام) ہیں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” قل نزلہ روح القدس من ربک بالحق “ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تائید بذریعہ جبرئیل (علیہ السلام) اس طرح تھی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو حکم فرمایا تھا کہ جہاں کہیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جائیں تم وہیں ان کے ساتھ جاؤ ، یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمان کی طرف لے جایا گیا ، کہا گیا ہے کہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو روح کا نام ان کی لطافت کی وجہ سے دیا گیا اور اس لیے بھی روح کہا گیا کہ وحی الہی کے حوالے سے ان کا خاص مرتبہ ہے جو وحی حیات قلوب کا سبب ہے ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ اور سعید بن جبیر ؓ فرماتے ہیں کہ روح القدس سے مراد اللہ تعالیٰ کا وہ اسم اعظم ہے جس کے طفیل حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) مردوں کو زندہ فرماتے تھے اور لوگوں کو عجیب (نشانیاں) دکھاتے تھے اور کہا گیا ہے کہ اس سے مراد انجیل ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے لیے روح قرار دیا جس طرح کہ قرآن کریم کو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے لیے روح قرار دیا گیا کیونکہ وہ (انجیل) حیات قلوب کا سبب تھی اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت)” وکذالک اوحینا الیک روحا من امرنا “ جب یہود نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر سنا تو بولے اے محمد ﷺ نہ تو آپ عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرح عمل کیا جیسا کہ آپ کا دعوی ہے اور نہ ان نبیوں کی طرح تم نے کیا جیسا کہ ان کے حالات و واقعات بیان کیے جاتے ہیں لہذا ہمارے پاس وہی کچھ لاؤ جو کچھ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو دیا گیا اگر تم سچے ہو ۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” افکلما جاء کم “ اے گروہ یہود (آیت)” رسول بما لا تھوی انفسکم استکبرتم “ تم نے تکبر کیا اور ایمان قبول کرنے سے اپنے آپ کو تم نے عظیم سمجھا ۔ ” ففریقا “ ایک گروہ کو ” کذبتم “ جیسے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ (آیت)” وفریقا تقتلون “ یعنی تم نے قتل کیا جیسے حضرت زکریا (علیہ السلام) ، حضرت یحییٰ (علیہ السلام) حضرت شعیا (علیہ السلام) اور دوسرے نبی جو قتل کیے گئے ۔
Ayah 2:8888۔ (آیت)” وقالوا “ یعنی یہود نے کہا (آیت)” قلوبنا غلف “ غلف جمع اغلف کی ہے اور وہ ہے جس پر پردہ ہو اس کا معنی ہے ان دلوں پر پردہ ہے ۔
پس نہ وہ سنتے ہیں اور نہ سمجھتے ہیں جو کچھ اللہ کے رسول ﷺ فرماتے ہیں ، حضرت مجاہد (رح) ، حضرت قتادہ (رح) فرماتے ہیں اس کی مثال اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے (آیت)” وقالوا قلوبنا فی اکنۃ “ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ نے ” غلف “ لام کی پیش کے ساتھ پڑھا اور یہ اعرج کی قرات ہے اور یہ غلاف کی جمع ہے ، ان کی اس کہنے سے مراد یہ تھی کہ ہمارے دل ہر علم کا برتن ہیں لہذا ہم تیرے علم کے محتاج نہیں ہیں ۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ اور عطاء (رح) نے یہی فرمایا ۔
کلبی (رح) کہتے ہیں کہ اس کا معنی یہ ہے کہ (ہمارے دل) ہر قسم کے علم کے برتن ہیں ، پس یہ دل جو بات بھی سنتے ہیں اسے محفوظ کرلیتے ہیں مگر تمہاری بات ! کہ نہ تو اس کو سمجھتے ہیں اور نہ محفوظ رکھتے ہیں ، اگر تمہاری بات میں کچھ خیر ہوتی تو ہمارے دل اس کو محفوظ کرلیتے اور سمجھتے ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت)” بل لعنھم اللہ “ انہیں دھتکار دیا اور ہر خیر سے دور کردیا ” بکفرھم فقلیلا ما یؤمنون “ حضرت قتادہ (رح) فرماتے ہیں اس کا معنی یہ ہے کہ ان میں سے بہت تھوڑے ایمان لائیں گے اس لیے کہ مشرکین میں سے جو لوگ ایمان لائے ان کی تعداد زیادہ ہے ان ایمان لانے والوں سے جو یہود میں سے ایمان لائے یعنی بہت تھوڑے ایمان لائے ہیں ۔ ” قلیل “ کی نصب حال ہونے کی بنیاد پر ہے حضرت معمر ؓ فرماتے ہیں ” لا یؤمنون الا بقلیل “ کہ یہ لوگ نہیں ایمان لاتے مگر تھوڑے کے ساتھ جو کچھ ان کے پاس ہے ان کے ہاتھوں میں ہے اور اکثر کے ساتھ یہ کفر کرتے ہیں یعنی وہ قلیل ہے جس کے ساتھ یہ ایمان لائے ہیں اور ” قلیلا “ کی منصوب بنزع الخافض ہے گویا اصل عبارت یوں تھی ” بقلیل یؤمنون “ اور حرف (ما) دونوں اقوال کے مطابق صلہ ہے اور واقدی کہتے ہیں اس کا معنی یوں ہے کہ ” لایؤمنون الا قلیلا ولا کثیرا “ کہ یہ لوگ بالکل ایمان لائے ہی نہیں نہ تھوڑا نہ زیادہ۔
(حضرت مفسر (رح) کی مراد یہ ہوئی کہ قلیل کا ذکر کرکے کثیر کی طرف اشارہ کردیا گیا جس طرح بیدک الخیر کے ذکر سے اس کے مد مقابل مفہوم کی طرف اشارہ ہوتا ہے یا پھر جیسے رب المشرق “ سے مراد یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ رب المشرق بھی ہے اور رب المغرب بھی تو گویا کہ اس سے مراد مکمل نفی ہے ۔ مترجم) جیسے کوئی دوسرے کو کہے ” مااقل ما تفعل کذا “ بہت تھوڑا ہے جو تو یہ کرے یعنی تو یہ کام بالکل نہیں کرے گا ۔
Ayah 2:89(تفسیر) 89۔:
(آیت)” ولما جاء ھم کتاب من عند اللہ “ کتاب سے مراد قرآن کریم۔ ہے (آیت)” مصدق لما معھم “ یعنی تورات ” وکانوا “ ‘ یعنی یہود (تھے) (من قبل) حضور ﷺ کی بعثت سے پہلے ۔” یستفتحون “ نصرت طلب کرتے (آیت)” علی الذین کفروا “ مشرکین عرب پر اور یہ اس طرح جب کوئی بات ان کو غم میں ڈالتی یا دشمن ان پر چڑھ دوڑتا تو وہ کہتے یا اللہ ! ہماری اس نبی آخر الزمان ﷺ میں بھیجے ہوئے کی برکت سے نصرت فرما جس کا بیان ہم تورات میں پاتے ہیں پس ان کی نصرت کی جاتی تھی اور مشرک دشمنوں کو کہتے تھے کہ اس نبی کی تشریف آوری کا وقت قریب آچکا ہے جو ہماری باتوں کی تصدیق لے کر آئیں گے ، تو ہم ان کے ساتھ مل کر تمہیں ایسا قتل کریں گے جیسے کہ قوم عاد، قوم ثمود، اور ارم کو قتل کیا جا رہا ہو۔ (آیت)” فلما جاء ھم ما عرفوا “ یعنی حضرت محمد ﷺ جو کہ بنی اسرائیل سے نہ تھے اور یہود نے حضور ﷺ کی تعریف و توصیف کو جان لیا ۔ ” کفروا بہ “ ضد اور حسد کی وجہ سے ” فلعنۃ اللہ علی الکافرین “ ۔
Ayah 2:9090۔ (آیت)” بئسما اشتروا بہ انفسھم “ بئس اور نعم دونوں فعل ماضی ہیں جن کو مدح اور ذم کیلئے وضع کیا گیا ہے ، باقی افعال کی طرح ان کی گردان نہیں ہوتی ، اس آیت کا معنی ہوگا بہت بری چیز تھی جس کو انہوں نے اپنی ذات کیلئے پسند کیا جبکہ انہوں نے باطل کو حق کے بدلہ لیا اور کہا گیا ہے کہ اس جگہ اشتراء بمعنی بیع ہے اور معنی اس طرح ہوگا کہ برا ہے وہ کچھ جس کے بدلے انہوں نے اپنی ذات کا نصیب (آخرت) بیچ دیا ، یعنی انہوں نے کفر کا اختیار کیا اور اپنی ذات کو آگ کے لیے خرچ کر ڈالا ، (آیت)” ان یکفروا بما انزل اللہ “ یعنی قرآن کریم ” بغیا “ یعنی حسد بغی کا اصل (معنی) فساد ہے کہا جاتا ہے بغی الجرح۔
جب زخم خراب ہوجائے اور بغی بمعنی ظلم کا اصل معنی طلب ہے اور باغی طالب ظلم کو کہتے ہیں اور حاسد محسود پر حتی الوسع ظلم کرتا ہے ، اس امر کے طلب کے سلسلہ میں کہ اس سے اللہ تعالیٰ کی نعمت زائل ہوجائے ۔
(آیت)” ان ینزل اللہ من فضلہ “ یعنی نبوت اور کتاب (آیت)” علی من یشاء من عبادہ “ محمد کریم ﷺ اہل مکہ اور اہل بصرہ نے ” ینزل “ اور اس باب سے آنے والے ان تمام افعال کو (جو قرآن کریم میں مذکور ہیں) تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے سوائے ” سبحان الذی “ کی دو جگہوں میں ” وننزل من القرآن “ اور ” حتی تنزل علینا کتابا نقرؤہ “ نیز بصریوں نے سورة انعام میں ” ان ینزل ایۃ “ کو شد دی ہے ، یعقوب (رح) نے سورة نحل میں آنے والے ینزل کو شد دی ہے ، حمزہ (رح) اور کسائی (رح) نے ” وینزل الغیث “ کی تخفیف میں موافقت کی جو کہ سورة لقمان میں ہے اور ” حمعسق “ میں ہے اور دوسرے سب کو شد دیتے ہیں اور سورة الحجر میں ” وما ننزلہ الا بقدر “ کی تشدید میں کسی نے اختلاف نہیں کیا ۔
” فباؤا “ لوٹے (بغضب علی غضب) یعنی غضب کے ساتھ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں پہلا غضب (ان پر جو ہوا) وہ تورات کو ضائع اور تبدیل کرنے کی وجہ سے ، دوسرا غضب حضور اقدس ﷺ اور قرآن کریم کے ساتھ کفر کرنے کی وجہ سے حضرت قتادہ (رح) فرماتے ہیں پہلا غضب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور انجیل کے ساتھ کفر کرنے کی وجہ سے اور دوسرا غضب محمد کریم ﷺ اور قرآن کریم کے انکار کرنے کی وجہ سے ، سدی (رح) کہتے ہیں پہلا غضب بچھڑے کی پوجا کرنے کی وجہ سے اور دوسرا غضب محمد ﷺ کے ساتھ کفر کرنے کی وجہ سے ” وللکافرین “ نبوت محمد ﷺ کا انکار کرنے والے ہر قسم کے لوگوں کے لیے ” عذاب مھین “ رسوا کن عذاب جس میں انہیں ذلیل کیا جائے گا ۔
Ayah 2:91(تفسیر) 91۔:
(آیت)” واذا قیل لھم امنوا بما انزل اللہ “ یعنی قرآن ”(آیت)” قالوا انؤمن بماانزل علینا “ یعنی تورات ہمیں یہی کافی ہے ۔ (آیت)” ویکفرون بما وراء ہ “ یعنی جو تورات کے ماسوی کتب ہیں جیسے اللہ عزوجل کا قول ہے (آیت)” فمن ابتغی وراء ذالک “ یعنی اس کے سوا حضرت ابو عبیدہ ؓ فرماتے ہیں بما وراء ہ کا معنی ہے بما بعدہ (یعنی ہم انکار کرتے ہیں جو تورات کے بعد کتب ہیں انجیل وقرآن) ” وھوالحق “ یعنی قرآن (مصدقا) حال ہونے کے اعتبار سے منصوب ہے۔ ” لمامعھم “ تورات “ سے (قل) ان کو (کہیے) یا محمد ” فلم تقتلون “ یعنی ہم نے قتل کیا (انبیاء اللہ من قبل) اور ” لم “ اس کا اصل ” لما “ ہے ، خبر اور استفہام میں فرق کے لیے الف کو حذف کردیا گیا جس طرح کہ ان کا ” فیم “ اور ” بم “ کہنا ہے ، ” ان کنتم مؤمنین “ تورات کے ساتھ حالانکہ تمہیں تورات میں قتل انبیاء (علیہم السلام) سے منع کیا گیا ہے ۔
Ayah 2:9292۔ (آیت)” ولقد جاء کم موسیٰ بالبینات “ واضح دلالئیں اور روشن وظاہر معجزات “۔ (آیت)” ثم اتخذتم العجل من بعدہ “ یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پہاڑ کی طرف چلے جانے کے بعد (آیت)” وانتم ظالمون “ ۔
Ayah 2:93خاصیت آیت 93 ۔
(آیت)” وَإِذْ أَخَذْنَا مِیْثَاقَکُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَکُمُ الطُّورَ خُذُواْ مَا آتَیْْنَاکُم بِقُوَّۃٍ وَاسْمَعُواْ قَالُواْ سَمِعْنَا وَعَصَیْْنَا وَأُشْرِبُواْ فِیْ قُلُوبِہِمُ الْعِجْلَ بِکُفْرِہِمْ قُلْ بِئْسَمَا یَأْمُرُکُمْ بِہِ إِیْمَانُکُمْ إِن کُنتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ (93)
اگر کوئی بات دشمن سے پوشیدہ رکھنی ہو کہ اسے سمجھ نہ آئے (اور صورت ایسی ہو کہ وہ ہر وقت مجلس میں موجود رہتا ہے اس کے سامنے باتیں ضروری کرنی پڑتی ہیں) تو یہ آیت ہفتہ کے دن میٹھی روٹی کے ٹکڑے پر لکھ کر اس کو کھلا دے ، اب جو بات آپ چاہیں گے تو اس کی سمجھ نہ آئے تو اسے سمجھ نہیں آئے گی ۔
93۔ (آیت)” واذا اخذنا میثاقکم ورفعنا فوقکم الطور خذوا ما اتیناکم بقوۃ واسمعوا “۔ یعنی
قبول کرو (لبیک کہو) اور اطاعت کرو طاعت اور قبول کرنے کو سننا مجازا کہا گیا ہے کیونکہ سننا طاعت اور قبولیت کا سبب ہے ۔ (آیت)” قالوا سمعنا “ تیری بات کو ” وعصینا “ تیرے امر کی (نافرمانی کی) اور کہا گیا ہے کہ ” سمعناوعصینا “ کا معنی یوں ہوگا کہ سنا ہم نے کان سے اور نافرمانی کی ہم نے دل سے ۔
اہل معانی فرماتے ہیں کہ انہوں نے ” سمعنا وعصینا “ کا لفظ زبان سے نہیں کہا تھا لیکن جب انہوں نے سنا اور نافرمانی کے ساتھ پیش آئے تو اس طرز عمل کو مجازا قول کی طرف نسبت کی گئی (آیت)” واشربوا فی قلوبھم العجل بکفرھم “ بچھڑے کی محبت اس کا معنی یہ ہے کہ ان کے دلوں میں بچھڑے کی محبت داخل کی گئی اور دلوں میں اس کا اختلاط ہوا جیسے رنگ کی آمیزش ہوتی ہے ۔ زبردست تعلق کی وجہ سے کہا جاتا ہے ۔
” فلان اشرب اللون “ یہ جملہ اس وقت کہا جاتا ہے جب اس کا سپید رنگ سرخ رنگ کے ساتھ خلط ملط ہوجائے ، قصص میں ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حکم دیا کہ بچھڑے کو (جو سونے کا تھا) ریتی کے ساتھ رگڑا جائے ، پھر اس کا سفوف دریا میں بکھیر دیا جائے (ایسا کیا گیا) پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو اس دریا سے پینے کا حکم دیا ، پس جس شخص کے دل میں بچھڑے کی محبت کا کچھ حصہ بھی باقی تھا اس دریا کا پانی پینے والے پر سونے ۔۔۔۔۔۔ ظاہر ہوا ۔
(آیت)” قل بئسما یامرکم بہ ایمانکم “ یہ کہ تم اللہ تعالیٰ کی ذات عالی کو چھوڑ کر بچھڑے کی پوجا کرو ، یعنی ایسا ایمان برا ایمان ہے جو بچھڑے کی پوجا کرنے کا حکم دے (آیت)” ان کنتم مؤمنین “ اے دعوی کے مطابق اور یہ اس لیے کہ انہوں نے کہا تھا (آیت)” نؤمن بما انزل علینا “ جو کچھ ہم پر نازل ہوا ہم اس پر ایمان لاتے ہیں پس اللہ عزوجل نے ان کو جھٹلایا ۔