Ayah 2:235(تفسیر) 235۔:
(آیت)” ولا جناح علیکم فیما عرضتم بہ من خطبۃ النسائ “۔ یعنی عدت گزارنے والی عورتیں تعریض کا اصل معنی کسی شئی کے ساتھ اشارہ کرنا تعریض فی الکلام وہ کچھ ہے جس کی مراد سامع بغیر تصریح کے سمجھ جائے ، عدت کے دوران نکاح کے پیغام میں تعریض کرنا یعنی اشارات وکنایات سے کام لینا جائز ہے ، وہ اس طرح کہ یوں کہے تجھ میں کئی ایک دلچسپی لے رہے ہیں تجھ جیسی عورت کون پائے گا ؟ بیشک تو خوبصورت ہے۔
اور بیشک تو نیک ہے اور بیشک تو میرے نزدیک محترم ہے ، میرا مقصود تجھ سے نکاح کرنا ہے اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو حلال طریقے پر جمع فرما دے تو مجھے اچھی لگتی ہے ، اگر میں نے تجھ سے نکاح کرلیا تو تیرے ساتھ احسان کا معاملہ کروں گا ، اس قسم کی کلام کرنا ایسا نہ کہے کہ تو مجھ سے نکاح کر اور جواب میں عورت بھی کہے کہ میں تجھی سے نکاح کروں گی جب کہ وہ عورت اس مرد میں رغبت رکھتی ہو ، ابراہیم کہتے ہیں اس میں کچھ حرج نہیں کہ اس عورت کی طرف ہدیہ بھیجے اور عدت کے دوران اس کے کام کاج کرے جبکہ وہ عدت گزار عورت نوجوان نہ ہو ، روایت کی جاتی ہے کہ سکینہ بنت حنظلہ اپنے خاوند سے بائنہ ہوگئی تو حضرت ابو جعفر محمد بن علی الباقر اس کی عدت کے دوران تشریف لے گئے اور کہا اے حنظلہ کی بیٹی میں وہ شخص ہوں کہ تو حضور اقدس ﷺ سے میری قرابت داری کو جانتی ہے اور میرے دادا علی ؓ کا حق بھی اور میری اسلام میں سبقت سے بھی تو آشنا ہے تو حضرت سیکنہ ؓ فرمانے لگیں آپ مجھے پیغام نکاح دیتے ہیں حالانکہ میں عدت میں ہوں اور تو وہ شخص ہے کہ تجھ سے اخذ کیا جاتا ہے یعنی سیکھا جاتا ہے ۔ (لوگ تیری اتباع کرتے ہیں) حضرت محمد باقر ؓ نے فرمایا میں نے تجھ کو حضور اقدس ﷺ سے اپنی قرابت داری کی خبر دی ہے ، بیشک حضور اقدس ﷺ بھی حضرت ام سلمہ ؓ کے پاس تشریف لے گئے تھے اور ام سلمہ ؓ اپنے خاوند ابو سلمہ کی عدت (وفات) میں تھیں تو حضور ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے نزدیک اپنے مرتبہ ومقام کا ذکر کیا تھا حالانکہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمـ اپنے ہاتھ پر اٹھائے ہوئے تھے حتی کہ چٹائی نے حضور ﷺ کے ہاتھ پر سخت اٹھانے کی وجہ سے نشان ڈال دیئے ، پیغام نکاح کو اشارۃ کنایۃ عدت وفات میں ذکر کرنا جائز ہے اور فرقۃ الحیاۃ کی عدت گزارنے والی یعنی جو زندہ خاوند سے جدا ہوگئی ہے ، دیکھا جائے گا اگر تو وہ ایسی ہے کہ جس خاوند سے جدا ہوئی ہے اس کے لیے حلال نہیں ہے ۔ مثلا تین طلاق کے ساتھ مغلظہ ہونے والی یا بوجہ لعان کے خاوند سے جدا ہونے والی یا حرمت رضاع کے باعث خاوند سے جدا ہونے والی ہے تو اس عورت کو پیغام نکاح اشارۃ تعریضا دینا جائز ہے اور اگر وہ عورت ایسی ہے کہ اس کے ساتھ اس کے خاوند کو نکاح کرنا جائز ہے ، مثلا خلع کرنے والی یا وہ عورت جس کا نکاح فسخ کیا گیا ہے تو اس عورت کے خاوند کو صراحتا یا اشارۃ پیغام نکاح دینا جائز ہے ۔
اور کیا خاوند کے علاوہ باقی مردوں کو اسے پیغام نکاح اشارۃ دینا جائز ہے ؟ اس میں دو قول ہیں ۔ (1) ایک قول ہے کہ جائز ہے جس طرح کہ مطلقہ ثلاث کو پیغام نکاح دینا دوسروں کے لیے جائز ہے ۔ (2) دوسرا قول یہ ہے کہ دوسروں کے لیے پیغام نکاح دینا جائز نہیں ہے اس لیے کہ میاں بیوی کا باہمی دوبارہ لوٹ آنا صاحب عدت (خاوند) کے لیے اس طرح ثابت ہے جس طرح کہ رجعی طلاق والی لہذا خاوند کے بغیر کسی اور کو حق نہیں پہنچتا کہ پیغام نکاح میں تعریض کرے اور وہ اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” من خطبۃ النسائ “ نکاح چاہنا خطبۃ مصدر ہے ، ” خطب الرجل المراۃ یخطب خطبۃ “ ۔ مرد نے عورت کو پیغام نکاح دیا یا پیغام نکاح دیتا ہے ، اخفش کہتے ہیں ” خطبۃ “ کا معنی ذکر کرنا اور خطبہ کا معنی تشھد۔ پس اس کا معنی ہوگا اس بارے میں تم پر کچھ گناہ نہیں جو کچھ تم عدت والیوں کے پاس عورتوں کا ذکر تعریضا کرو ” اواکننتم “۔ پوشیدہ رکھو ” فی انفسکم “ ان سے نکاح کے بارے میں کہا جاتا ہے ۔ ” اکننت الشئی وکننۃ “ یہ دو لغتیں ہیں یعنی ” اکننت “ مزید فیہ اور کننت مجرد دونوں کا معنی ایک ہے چھپانا ، ثعلب کہتے ہیں ، ” اکننت الشیء “ کا معنی ” اخفیتہ فی نفسی “ یعنی میں نے اس شئی کو دل میں پوشیدہ رکھا اور ” کننتہ “ کا معنی ” سترتہ “ اس شی پر پردہ ڈالا۔
علامہ سدی (رح) کہتے کہ پیغام نکاح کو پوشیدہ رکھنے کی یہ صورت ہے کہ اس عورت پر داخل ہو کر سلام کیا اور چاہا تو ہدیہ وغیرہ بھیج دیا اور کسی قسم کی کلام نہ کی (آیت)” علم اللہ انکم ستذکرونھن “۔ تم ذکر کرو کہ اپنے دلوں کے ساتھ (آیت)” ولکن لا تواعدوھن سرا “۔ اس منع شدہ سر میں انہوں نے اختلاف کیا ہے ایک قوم کا کہنا ہے کہ یہ زنا ہے آدمی عورت پر زنا کی خاطر داخل ہوتا اور وہ نکاح کے سلسلہ میں تعریض کرتا اور اس عورت کو کہتا مجھے چھوڑ دے ، جب تیری عدت پوری ہوجائے گی میں تیرا نکاح ظاہر کر دوں گا ، یہ قول حسن (رح) قتادہ (رح) ابراہیم (رح) اور عطاء (رح) کا ہے اور عطیہ کی حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے ، زید بن اسلم ؓ کہتے یعنی اس سے پوشیدہ نکاح نہ کرے کہ اس عورت کو روکے رکھے جب وہ حلال ہوجائے (یعنی عدت گزر جائے) اس نکاح کو ظاہر کر دے اور مجاہد (رح) کہتے ہیں کہ (آیت)” لاتواعدوھن “۔ کا معنی ہے کہ عورت سے کہے کہ اپنے آپ کو مجھ سے گنوا نہ دینا (ضائع نہ کردینا) اس لیے کہ میں تجھ سے نکاح کرنے والا ہوں ، علامہ شعبی (رح) اور سدی (رح) فرماتے ہیں (آیت)” لاتواعدوھن “۔ کا معنی ہے کہ اس عورت سے اس بات کا پختہ عہد نہ لیا جائے کہ وہ عورت اس مرد کے سوا کسی سے نکاح نہ کرے گی ، حضرت عکرمہ ؓ فرماتے ہیں کہ اس کا معنی ہے کہ عدت میں نہ اس کو صراحتہ پیغام نکاح بھیجے اور نہ نکاح کرے ، امام شافعی (رح) فرماتے ہیں ” سر “ کا معنی ہے جماع کرنا ، علامہ کلبی (رح) کہتے ہیں کہ عدت والی عورتوں کے سامنے اپنی یہ تعریف نہ کریں کہ میں زیادہ جماع کرنے والا ہوں ، پس یوں کہے میں تیرے پاس چار یا پانچ دفعہ آؤں گا اس قسم کی باتیں اور ” سر “ ذکر کرکے جماع مراد لیا جاتا ہے ۔ ” امرالقیس “ کہتے ہے :
الا زعمت بسباسۃ النوم اننی کبرت والا یحسن السر امثالی :
خبردار جماع کو (اس شعر میں ” امرا القیس “ نے لفظ ” سر “ سے جماع مراد لیا ہے) مترجم ، اور زنا اور جماع کو سر اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ وہ عورت اور مرد کے درمیان ایک پوشیدہ امر ہوتا ہے ، اللہ تعالیٰ کا ارشاد (آیت)” الا ان تقولوا قولا معروفا “۔ قول معروف سے مراد وہ جو ہم نے ذکر کیا کہ نکاح کا ذکر تعریضا کرنا ۔
(آیت)” ولا تعزموا عقدۃ النکاح حتی یبلغ الکتاب اجلہ “۔ عقد نکاح پر اپنا عزم مصمم ومتحقق نہ کرو ، یہاں تک کہ کتاب (اللہ تعالیٰ کا لکھا) اپنی مدت مقررہ کو پہنچ جائے یعنی حتی کہ عدت گزر جائے ۔
اللہ تعالیٰ نے عدت کو کتاب کا نام دیا کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرض شدہ ہے ، مثل اس قول خداوندی کے (آیت)” کتب علیکم “۔ یعنی تم پر فرض کیا گیا ۔ (آیت)” واعلموا ان اللہ یعلم ما فی انفسکم فاحذروہ “۔ پس اللہ تعالیٰ سے ڈرو، (آیت)” واعلموا ان اللہ غفور حلیم “۔ سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا۔
Ayah 2:236(تفسیر) 236۔ :
(آیت)” لا جناح علیکم ان طلقتم النساء مالم تمسوھن اوتفرضوالھن فریضۃ “۔ نہ تم نے ان بیویوں کو مس کیا (یعنی جماع کیا) اور نہ ان کے لیے مہر مقرر کیا ، یہ آیت کریمہ ایک انصاری کے بارے میں نازل ہوئی جس نے قبیلہ بنو حنیفہ کی ایک عورت سے نکاح کیا اور اس کے لیے مہر مقرر نہ کیا پھر جماع سے پہلے اسے طلاق دے دی ، پس یہ آیت نزل ہوئی پس اس کو حضور اقدس ﷺ نے فرمایا اس کو متعہ (نفع اٹھانے کی چیز) دے ۔ اگرچہ اپنی ٹوپی ۔ حمزہ (رح) اور کسائی (رح) نے ” مالم تماسوھن “۔ پڑھا ہے یعنی اس جگہ الف کے ساتھ پڑھا ہے اور سورة احزاب میں باب مفاعلہ کے ساتھ پڑھا ہے (یعنی سورة احزاب میں ” من قبل ان تمسوھن کو ماسوھن “۔ پڑھا) کیونکہ ہر دو (میاں بیوی) کا بدن ایک دوسرے کے ساتھ ملتا ہے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” من قبل ان یتماسا “۔ اور باقیوں نے ” تمسوھن “ بغیر الف کے پڑھا ہے کیونکہ غشیان (بیوی کو ڈھانپ لینا) مرد کا فعل ہوتا ہے اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے (آیت)” ولم یمسسنی بشر “ ۔۔۔۔۔ ” اوتفرضوالھن فریضۃ “۔ ان عورتوں کے لیے تم مہر ثابت کرو (مقرر کرو) اگر یہ کہاجائے کہ طلاق دینے والے سے ” لاجناح “ کہہ کر گناہ کی نفی کا کیا معنی ہے ؟ جب کہ طلاق جوڑ کو توڑنے کا نام ہے اور حدیث شریف میں ہے ” ابغض الحلال الی اللہ الطلاق “۔ تمام جائز کاموں میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض ترین کام طلاق دینا ہے پھر طلاق دہندہ سے گناہ کی نفی کردی جبکہ فراق امساک (اپنے پاس روک رکھنے) سے زیادہ خوفناک ہے تو اس سوال کے جواب میں کہا گیا ہے کہ ” لا جناح بمعنی لاسبیل للنساء علیکم “۔ کہ اگر تم جماع سے پہلے اور مہر مقرر کرنے سے پہلے بیویوں کو طلاق دے دو تو عورتوں کو مہر اور نان ونفقہ کے حوالہ سے تم پر کوئی راہ نہیں (کہ وہ مہر اور نفقہ کا مطالبہ کرسکیں) اور کہا گیا ہے کہ (آیت)” لا جناح علیکم “۔ کا معنی یہ ہے کہ تم پر جماع کرنے سے پہلے طلاق دینے پر کوئی گناہ نہیں جس وقت چاہو طلاق دے دو ، عورت حالت حیض میں ہو یا پاک ۔
کیونکہ جس عورت کو نکاح کے بعد جماع کیے بغیر طلاق دی جائے اس میں طلاق سنت اور طلاق بدعت کی کوئی تقسیم نہیں بخلاف اس عورت کے جو ” مدخول بھا “ ہو یعنی جس سے جماع کیا جا چکا ہو کیونکہ اس کو حالت حیض میں طلاق دینا جائز نہیں ہے ۔ (اگرچہ طلاق دینے کی صورت میں واقع ہوجائے گی) ” ومتعوھن “۔ ان کو اپنے مال سے اتنا کچھ دو جس سے وہ نفع اٹھائیں ، متعہ اور متاع وہ زاد راہ جس کے ذریعہ (منزل مقصود تک) پہنچا جاسکے ، (آیت)” علی الموسع “ غنی پر ” قدرۃ وعلی المقتر “ ۔ فقیر پر یعنی اس کی طاقت کے مطابق ، ابوجعفر (رح) اور ابن عامر (رح) اور حمزہ (رح) اور کسائی (رح) اور حفص (رح) نے ” قدرہ “ دونوں میں دال کی زبر کے ساتھ اور باقیوں نے دونوں میں دال کی جزم کے ساتھ اور یہ دونوں لغت ہیں اور کہا گیا ہے القدر دال کی جزم کے ساتھ مصدر ہے اور قدر دال کی زبر کے ساتھ اسم ہے ، ” متاعا “ کی نصب (زبر) مصدر کی بنیاد پر ہے (یعنی مفعول مطلق ہے) یعنی ” متعوھن متاعا “ (بالمعروف) یعنی اس طریقہ کے مطابق جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے تم کو حکم دیا ہے بغیر کسی ظلم کے (آیت)” حقا علی المحسنین “۔ حکم آیت کا بیان یہ ہے کہ جو شخص کسی عورت سے نکاح کرے اور اس کے لیے مہر مقرر نہ کرے پھر اس سے جماع کرنے سے پہلے طلاق دے دے ، اس پر بالاتفاق متعہ واجب ہے (یعنی نفع اٹھانے کی کوئی چیز یا مال دینا) اور اگر اس کا حق مہر مقرر کیا مگر جماع سے پہلے اس کو طلاق دے دی اس کے لیے اکثر کے قول کے مطابق متعہ واجب نہیں اور اس کے لیے مقرر شدہ مہر کا آدھا حصہ ہے اور جس عورت کو جماع کے بعد طلاق دی جائے اس میں فقہاء کا اختلاف ہے ، ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ ایسی عورت کے لیے متعہ نہیں کیونکہ وہ مہر کی حق دار ہے یہ قول اصحاب الرای کا ہے اور ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ وہ متعہ کی مستحق ہے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے مطابق (آیت)” وللمطلقات متاع بالمعروف “۔ اور یہ قول حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کا ہے ، حضرت عطاء (رح) اور مجاہد (رح) اور قاسم بن محمد (رح) کا قول بھی یہی ہے اور اسی طرح امام شافعی (رح) گئے ہیں کیونکہ اس عورت کا مستحق مہر ہونا اس کے عوض ہے جو اس مرد نے اس عورت سے جماع کا نفع اٹھا کر اس عورت کا نقصان کیا، پس اس عورت کے لیے متعہ وحشت فراق کی بنیاد پر ہوگا ، پس اس قول پر وجوب متعہ صرف ایک عورت کے حق میں ہے اور یہ وہ عورت ہے جس کو حق مہر کے تقرر کے بغیر جماع سے پہلے طلاق دے دی گئی ہو اور قول ثانی کے مطابق ہر عورت کے لیے متعہ ہے مگر ایک کے لیے نہیں اور وہ وہ عورت ہے جس کا حق مہر مقرر ہے مگر جماع سے پہلے اس کو طلاق دے دی گئی ، عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ ہر عورت کے لیے متعہ (نفع کی چیز) ہے سوائے اس کے جس کا مہر مقرر کیا گیا مگر اسے خاوند نے مس نہ کیا ، اس کے لیے آدھا مہر کافی ہے ، زہری کہتے ہیں دو متعہ ہیں ایک کا فیصلہ بادشاہ کرے گا اور دوسرے متعہ کا فیصلہ بادشاہ (قاضی) نہیں کرے گا بلکہ ” فبمابینہ وبین اللہ “ (دیانتہ) لازم ہوگا ۔ بہرحال وہ متعہ جس کا فیصلہ بادشاہ کرے گا (یعنی قاضی) یہ وہ مطلقہ عورت ہے جسے بغیر مہر کے تقرر اور جماع کیے کے طلاق ہوجائے ، اور یہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت)” حقا علی المحسنین “۔ اور جس متعہ کا لزوم ” فیما بینہ وبین “۔ اللہ تعالیٰ ہے (یعنی دیانت ہے) اور اس کا فیصلہ بادشاہ (قاضی) نہیں کرے گا ، پس یہ وہ مطلقہ ہے جسے جماع کے بعد طلاق مل جائے ، اور یہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے (آیت)” حقا علی المتقین “۔ حضرت حسن (رح) ، سعید بن جبیر (رح) کا قول ہے کہ ہر مطلقہ کے لیے متعہ ہے برابر ہے کہ مہر مقرر کرنے اور جماع سے پہلے طلاق واقع ہو یا مہر کے تقرر کے بعد اور جماع سے پہلے طلاق واقع ہو۔
(آیت)” وللمطلقات متاع بالمعروف “۔ اور بوجہ فرمان خداوندی کے جو کہ سورة احزاب میں ہے (آیت)” فمتعوھن وسرحوھن سراحا جمیلا “۔ اور دونوں (حسن و سعید بن جبیر) نے کہا ہے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا معنی (آیت)” لاجناح علیکم ان طلقتم النساء مالم تمسوھن وقد فرضتم لھن فریضۃ “۔ کہ تحقیق تم نے ان عورتوں کے لیے حق مہر مقرر کیا (اس کے ساتھ یہ مفہوم مقدر ہے) (آیت)” اولم تفرضوالھن فریضۃ “۔ یا تم نے ان عورتوں کے لیے مہر مقرر نہیں کیا ، بعض نے کہا کہ متعہ واجب نہیں ہے اور اس کا امر ، امر استحبابی ہے ، روایت کیا گیا ہے بیشک ایک آدمی نے اپنی بیوی کو طلاق دی حالانکہ اس کے ساتھ دخول کرچکا تھا تو اس کی اس مطلقہ بیوی نے قاضی شریح کی عدالت میں متعہ کے بارے میں جھگڑا کیا تو قاضی شریح نے مرد سے فرمایا تو اس سے انکار نہ کر کہ تو محسنین سے ہو اور نہ اس سے انکار کر کہ تو متقین سے ہو اور اس کو مجبور نہ کیا (یعنی صرف متعہ کی ترغیب دی اور جبر نہ کیا) متعہ کی مقدار میں انہوں نے اختلاف کیا ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کیا گیا ہے کہ متعہ کا اعلی درجہ یہ ہے کہ خادم دیا جائے اور درمیانہ درجہ یہ ہے کہ کپڑا (لباس) دیا جائے اور ادنی درجہ یہ ہے کہ ایسی چیز دی جائے جس کی معقول قیمت ہو یعنی تیس درہم ، حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور اس کو سیاہ باندی بطور متعہ کے دی، حضرت سیدنا حسن بن علی کرم اللہ وجہہ ایک عورت کو طلاق دی اور اس کو دس ہزار درہم متعہ کے طور پر دیئے اس کے جواب میں اس عورت نے کہا ” متاع قلیل من حبیب مفارق “۔ کہ بچھڑنے والے دوست کے بدلہ متاع قلیل ملا ہے ، حضرت امام اعظم سیدنا ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ جب متعہ میں میاں بیوی اختلاف کریں تو اس کی مقدار مہر کا آدھا حصہ ہے اس سے آگے نہ بڑھا جائے ، آیت کریمہ اس پر دلالت کرتی ہے کہ خوشحالی اور تنگدستی میں خاوند کے حال کا اعتبار کیا جائے گا ۔
اس آیت کے حکم میں سے یہ ہے کہ بیشک جو شخص بالغ عورت سے اس کی مرضی سے بغیر مہر کے نکاح کرے تو وہ نکاح صحیح ہے اور عورت کو اس مطالبہ کا حق ہے کہ اس کے لیے مہر مقرر کیا جائے اور اگر وہ شخص مہر مقرر کرنے سے پہلے بیوی سے صحبت کرلے تو عورت کے لیے خاوند پر مہر مثل لازم ہوگا اور اگر مہر مقرر کرنے اور بیوی سے صحبت کرنے سے پہلے طلاق دے دے گا تو عورت کے لیے متعہ لازم ہوگا اور مہر مقرر کرنے اور صحبت سے پہلے میاں بیوی میں سے کوئی ایک مرگیا تو اس بارے میں اہل علم نے اختلاف کیا ہے کہ آیا وہ عورت مہر کی مستحق ہے یا نہیں ؟ تو ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ اس کے لیے مہر نہیں ہے اور یہی قول سیدنا علی ؓ اور حضرت زید بن ثابت ؓ ، عبداللہ بن عمر ؓ عبداللہ بن عباس ؓ کا ہے ۔
جیسا کہ اگر مہر مقرر کرنے اور صحبت سے پہلے طلاق دے اور ایک قوم اس طرف گئی ہے اس کے لیے مہر ہے کیونکہ موت مہر مقرر کو پکا کرنے میں جماع کی طرح ہے ، اسی طرح مہر مثل کو واجب کرنے میں جبکہ عقد نکاح میں مہر مقرر نہ ہو ، یہ سفیان ثوری (رح) اور اصحاب الرای کا قول ہے ، ان حضرات نے اس روایت سے دلیل پکڑی ہے جو علقمہ سے روایت کی گئی ہے اور علقمہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کی کہ ان سے ایک آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جس نے ایک عورت سے نکاح کیا جس نے نہ تو اس کے لیے مہر مقرر کیا اور نہ ہی اس سے جماع کیا حتی کہ فوت ہوگیا ، پس حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا اس عورت کے لیے اتنا ہی مہر ہے جتنا کہ اس عورت کے خاندان والی عورتوں کے لیے ہوتا ہے نہ تھوڑا نہ زیادہ ۔ اس عورت پر عدت بھی ہے اور اس کے لیے میراث بھی ہے ، اس پر حضرت معقل بن یسار اشجعی ؓ کھڑے ہوگئے اور کہا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمـ نے بھی ہمارے خاندان کی عورت بردع بنت واشق کے حق میں ایسا ہی فیصلہ فرمایا تھا ، جیسا کہ آپ نے فیصلہ کیا، اس پر حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بہت خوش ہوئے، امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ اگر حجرت بردع بنت واشق ؓ والی حدیث ثابت ہے تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمـ کے فرمان سے ہٹ کر کسی کی بات میں کچھ دلیل نہیں اور اگر وہ حدیث ثابت نہیں ہے تو ایسی عورت کے لیے مہر نہیں میراث ہے ، سیدنا حضرت علی ؓ حضرت بردع ؓ کی حدیث کے بارے فرمایا کرتے تھے ہم قبیلہ اشجع کے دیہاتی کی بات اللہ تعالیٰ کے ۔
Ayah 2:237(تفسیر) 237۔:
(آیت)” وان طلقتموھن من قبل ان تمسوھن وقد فرضتم لھن فریضۃ فنصف مافرضتم “۔ یہ اس طلاق کے بارے میں ہے جو مہر مقرر کرنے کے بعد اور جماع سے پہلے دی جائے ، پس اس عورت کے لیے مہر مقرر کا آدھا ہے اور اگر جماع سے پہلے میاں بیوی میں سی کوئی ایک مرجائے تو عورت کو مکمل مہر مقرر ملے گا اور آیت کریمہ میں مذکور ” مس “ سے مراد جماع ہے اور ایسی صورت میں اہل علم نے اختلاف کیا ہے کہ اگر مرد عورت سے خلوت (یعنی میاں بیوی کو ایسا تخلیہ حاصل ہو کہ اگر خاوند جماع کرنا چاہے تو کرسکے) تو کرے مگر جماع نہ کرے اور جماع سے پہلے طلاق دے دے تو اس میں بعض حضرات کا قول ہے کہ اس عورت کے لیے صرف آدھا مہر ہے اور عدت گزارنا لازم نہیں ہے ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے جماع سے پہلے طلاق میں آدھا مہر واجب کیا ہے اور عدت واجب نہیں کی اور یہ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے اور حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کا۔
امام شافعی (رح) نے بھی یہی کہا ہے اور ایک قوم کا کہنا ہے کہ اس عورت کے لیے مکمل مہر ہے اور عدت بھی ، بوجہ اس کے جو روایت کیا گیا ہے حضرت عمر ؓ سے وہ فرماتے ہیں جب پردے ڈال دیئے جائیں تو مہر واجب ہے اور اسی طرح حضرت زید بن ثابت ؓ سے بھی روایت کی گئی ہے اور بعض نے حضرت عمر ؓ کے اس روایت والے قول کو اس پر حمل کیا ہے کہ عورت کو مہر دینا اس وقت واجب ہے ، جب عورت اپنے آپ کو مرد کے سپرد کردے نہ کہ مہر کی مقدار مقرر کرنے کے سلسلہ میں ہے (یعنی حضرت عمر ؓ کے قول سے صرف مہر کا واجب ہونا معلوم ہوتا ہے نہ کہ مہر کی مقدار یعنی آدھا یا کل مہر) ۔۔۔۔۔۔ (مترجم) بعض کا قول ہے کہ یہ آیت اس آیت کے لیے ناسخ ہے جو کہ سورة احزاب میں ہے (آیت)” فمالکم علیھن من عدۃ تعتدونھا فمتعوھن “۔ اس عورت کے لیے جسے جماع کرنے سے پہلے طلاق دی جاتی متعہ تھا (یعنی نفع اٹھانے کی کوئی چیز دی جاتی) پس اس آیت سے اسے منسوخ کردیا گیا اور اس عورت کے لیے جس کا مہر مقرر شدہ اور جماع سے پہلے طلاق دی جائے آدھا مہر واجب ہے اور متعہ نہیں اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد (آیت)” وقد فرضتم لھن فریضۃ “۔ یعنی ان کے لیے تم نے مہر مقرر کیا تو اس مقرر شدہ مہر کا نصف حصہ واجب ہے (آیت)” الا ان یعفون “ عورتیں معاف کردیں معنی یہ ہے کہ عورتیں اپنا حصہ (آدھا مہر) چھوڑ دے اور سارا مہر خاوند کو لوٹا دے ۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد (آیت)” اویعفو الذی بیدہ عقدۃ النکاح “۔ اس میں انہوں نے اختلاف کیا ، بعض حضرات کا قول ہے کہ بیشک (آیت)” بیدہ عقدۃ النکاح “۔ سے مراد عورت کا ولی ہے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ نے یہی کہا ہے اس کا معنی ہے یا تو عورت معاف کر دے کہ اپنا حصہ خاوند کو دے دے ، اگر تو عورت عفو کرنے کی اہل ہے یعنی ثیبہ ہے یعنی کہ پہلے سے بیوہ یا مطلقہ ہے یا اس عورت کا ولی معاف کر دے کہ اس عورت منکوحہ کا حصہ چھوڑ دے ۔ اگر عورت کنواری ہے (یاد رہے کہ ثیبہ باکرہ (کنواری) کی تقسیم امام شافعی (رح) کے ہاں ہے) ۔۔۔۔۔۔ (منجانب : مترجم) یا وہ عورت معاف کرنے کی اہل نہیں (کسی اور اعتبار سے) تو اس عورت کے ولی کے لیے جائز ہے کہ عورت کا حصہ معاف کر دے اور یہ قول حضرت علقمہ ؓ ، حسن (رح) زہری (رح) اور ربیعہ (رح) کا ہے اور بعض اس طرف گئے ہیں کہ ولی کو حصہ عورت معاف کرنے کا حق اس وقت ہے جب عورت کنواری ہو ۔ پس اگر عورت ثیبہ ہو تو اس عورت کے ولی کو اختیار نہیں کہ معاف کر دے اور بعض نے کہا ہے کہ (آیت)” الذی بیدہ عقدۃ النکاح “۔ سے مراد خاوند ہے ، یہ حضرت علی ؓ کا قول ہے ، حضرت سعید بن مسیب (رح) سعید بن جبیر (رح) ، علامہ شعبی (رح) ، شریح (رح) مجاہد (رح) و قتادہ (رح) نے بھی یہی کہا ہے اور انہوں نے کہا ہے کہ عورت کے ولی کے لیے قطعا جائز نہیں کہ عورت کے مہر کا کچھ حصہ چھوڑ دے معاف کر دے ، عورت کنواری ہو یا ثیبہ (یعنی مطلقہ یا بیوہ) جیسا کہ ولی کو طلاق سے پہلے باتفاق آئمہ ترک مہر کا اختیار نہ تھا اور جیسا کہ ولی کے لیے قطعا جائز نہیں ہے کہ عورت کے مال سے کچھ ہبہ کر دے اور انہوں نے کہا کہ آیت کا معنی یہ ہے کہ یا تو عورت اپنا حصہ چھوڑ کر معاف کر دے کہ سارا مہر خاوند کے پاس لوٹ جائے (اور عورت اپنا آدھا حصہ نہ لے) یا خاوند اپنا حصہ چھوڑ کر معاف کر دے ، پس سارا مہر بیوی کا ہوجائے ، پس اس تاویل پر آیت کی توجیہ یہ ہوگی کہ (آیت)” الذی بیدۃ عقدۃ النکاح “۔ سے مراد اپنا نکاح ہوگا جو کہ قبل از طلاق اور بعد از طلاق ہر حال میں نکاح کے معاملہ کا مالک ہے (اور وہ خاوند ہے)
(آیت)” وان تعفوا اقرب للتقوی “۔ اس کا محل اعراب مبتداء ہونے کی وجہ سے رفع (پیش) ہے یعنی ” والعفو اقرب للتقوی “۔ (یعنی ” ان تعفو ب تاویل “ مصدر مبتداء ” اقرب للتقوی “ خبر ہے) اور ” للتقوی “۔ بمعنی ” الی التقوی لام “ بمعنی ” الی “ کے ہے اور خطاب خداوندی مرد وزن سب کو شامل ہے کیونکہ مذکر مؤنث جب جمع ہوجائیں تو (خطاب میں) غلبہ مذکر کو ہوتا ہے ۔ ” ان تعفوا مبتداء “ ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے عبارت یہ ہوگی ” عفا بعضکم عن بعض اور اقرب للتقوی “۔ اس کی خبر ہوگی یعنی تم میں سے ہر ایک دوسرے کو معاف کردینا ۔
تقوی کے زیادہ قریب ہے (آیت)” ولا تنسوا الفضل بینکم “۔ بعض کا بعض پر مہربانی اور احسان کرنا کہ مرد سارا مہردے دے یا عورت اپنا حصہ مہر چھوڑ دے اس کو مت بھولو ، اللہ تعالیٰ نے عورت ومرد ہر دو کو احسان کرنے پر ابھارا اور ترغیب دی (آیت)” ان اللہ بما تعملون بصیر “۔
Ayah 2:238(تفسیر) 238۔:
(آیت)” حافظوا علی الصلوت والصلوۃ الوسطی “۔ ہمیشگی اور فرض نمازوں پر مداومت اختیار کرو، نمازوں کے اوقات اور حدود اور ارکان کو تمام کرنے کے ساتھ پھر ان نمازوں میں سے ” صلوۃ وسطی “۔ کو محافظت کرنے کے ساتھ اس کی فضیلت پر دلالت کرتے ہوئے خاص کیا، وسطی اوسط کی تانیث ہے ” وسط الشی “۔ کا معنی اس کا بہتر اور درمیانی حصہ علماء صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین اور ان سے بعد کے علماء نے ” صلوۃ وسطی “ کی تعین میں اختلاف کیا ہے ۔
بعض نے کہا ” صلوۃ وسطی “ نماز فجر ہے اور یہ قول حضرت عمر ؓ اور ابن عمر ؓ ، ابن عباس ؓ اور معاذ ؓ و جابر ؓ کا ہے ، حضرت عطاء (رح) عکرمہ (رح) اور مجاہد (رح) بھی یہی کہتے ہیں ، امام مالک (رح) ، امام شافعی (رح) نے اسی طرف میلان کیا ہے ۔
ان حضرات کی دلیل کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” وقومو اللہ قنتین “۔ پس قنوت نام قیام لمبا کرنے کا اور صبح کی نماز طول قیام اور قنوت کے ساتھ خاص ہے ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک اور آیت کریمہ میں نمازوں میں سے نماز صبح کو خاص کیا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت)” وقرآن الفجر ان قرآن الفجر کان مشھودا “۔ یعنی اس نماز میں دن اور رات والے فرشتے حاضر ہوتے ہیں ، لہذا یہ نماز دن اور رات کے ہر دور رجسٹروں میں مندرج ہوتی ہے اور صبح کی نماز اس لیے بھی صلوۃ وسطی ہے کہ یہ نماز ایسی نمازوں کے درمیان ہے جن کو جمع کر کے پڑھا جاتا ہے ، (یعنی ظہر ، عصر اور مغرب ، عشاء کہ سفر میں صورۃ ظہر ، عصر اور مغرب عشاء کو جمع کیا جاتا ہے ، ظہر آخر وقت میں اور عصر اول وقت میں ۔ اسی طرح مغرب آخر وقت میں اور عشاء اول وقت میں نیز حج کے موقع پر ظہر ، عصر دونوں ظہر کے وقت ملا کر پڑھی جاتی ہیں ، اور مغرب ، عشاء ، عشاء کے وقت میں ملا کر پڑھی جاتی ہیں) مگر فجر کی نماز میں نہ تو قصر ہے اور نہ کسی اور نماز کے ساتھ ملا کر پڑھی جاتی ہے اور بعض حضرات کا قول ہے کہ ” صلاۃ وسطی “ سے مراد نماز ظہر ہے اور یہ زید بن ثابت ؓ ابو سعید خدری ؓ ، اسامہ بن زید ؓ کا قول ہے کیونکہ یہ نماز دن کے درمیان ہے ، نیز دن کی تین نمازوں کے اعتبار سے درمیانہ درجہ کا طول رکھتی ہے کیونکہ فجر میں طول زیادہ ہے اور عصر کی نماز میں ادنی درجہ کا طول ہے اور ظہر میں درمیانہ درجے کا طول ہے ۔
زید بن ثابت ؓ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ ھاجرہ (دوپہر کی دھوپ) میں نماز ظہر پڑھتے تھے اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین پر ظہر کی نماز سے بڑھ کو کوئی نماز سخت نہ تھی ، پس یہ آیت نازل ہوئی (آیت)” حافظوا علی الصلوت والصلوۃ الوسطی “۔ اکثر حضرات اس طرف گئے ہیں کہ ” صلوۃ وسطی “۔ سے مراد عصر کی نماز ہے اس کو حضور اقدس ﷺ سے ایک جماعت نے روایت کیا ، یہ حضرت علی ؓ ، عبداللہ بن مسعود ؓ ابو ایوب ؓ ، ابوہریرہ ؓ ، عائشہ صدیقہ ؓ کا قول ہے ، ابراہیمی نخعی (رح) ، قتادہ (رح) اور حسن (رح) نے بھی یہی کہا ہے ۔
حضرت ابو یونس ؓ فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے حکم فرمایا کہ میں ان کے لیے قرآن شریف لکھوں اور فرمایا کہ جب تو اس آیت پر پہنچے تو مجھے بتانا (آیت)” حافظوا علی الصلوت والصلوۃ الوسطی “۔ پس جب لکھتے لکھتے اس آیت پر پہنچا میں نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کو اطلاع دی ، چناچہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے مجھے لکھوایا (آیت)” حافظوا علی الصلوت والصلوۃ الوسطی “۔ صلوۃ العصر ” قومو اللہ قانتین “۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا یہ میں نے حضور اقدس ﷺ سے سنا ، حضرت حفصہ ؓ سے بھی اسی طرح مروی ہے ۔
ذربن حبیش ؓ فرماتے ہیں ہم نے عبیدہ ؓ کو کہا کہ حضرت علی ؓ سے ” صلوۃ وسطی “ کے بارے میں پوچھئے ، پس انہوں نے پوچھا ، حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ ہم سمجھتے تھے کہ صلوۃ وسطی نماز فجر ہے حتی کہ میں نے حضور اقدس ﷺ سے خندق کے دن سنا ۔ ” شغلونا عن الصلوۃ الوسطی صلوۃ العصر “۔ کہ انہوں نے ہمیں صلوۃ وسطی سے مشغول رکھا ، نماز عصر سے اللہ تعالیٰ ان کے پیٹوں کو اور قبروں کو آگ سے بھرے ، نیز نماز عصر اس لیے صلوۃ وسطی ہے کہ یہ نماز دن کی دو نمازوں (فجر ، ظہر) اور رات کی دو نمازوں (مغرب ، عشائ) کے درمیان ہے اور حضور اقدس ﷺ نے اس نماز کو سخت تنبیہ کے ساتھ خاص کیا ہے ۔
ابو ملیح کہتے ہیں کہ ہم جنگ میں بادل والے دن حضرت بریدہ ؓ کے ہمراہ تھے تو حضرت بریدہ ؓ نے فرمایا عصر کی نماز جلدی پڑھ لو ، پس تحقیق نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس نے نماز عصر کو چھوڑا اس کے عمل ضائع ہوگئے ۔
قبیصہ بن ذویب ؓ فرماتے ہیں کہ صلوۃ سے مراد نماز مغرب ہے کیونکہ وہ درمیانی نماز ہے نہ تھوڑی (فجر کی طرح کہ دو رکعت ہے) اور نہ زیادہ (عصر عشاء کی طرح کہ چار رکعت ہیں)
بعض نے کہا کہ صلوۃ وسطی عشاء کی نماز ہے اس سے متعلق سلف سے کچھ منقول نہیں ، عشاء کا صلوۃ وسطی ہونا بعض متاخرین نے ذکر کیا ہے اور عشاء کے صلوۃ وسطی ہونے کی دلیل یہ ہے کہ یہ ایسی دو نمازوں کے درمیان ہے جن کی قصر نہیں کی جاتی (مغرب ، فجر) بعض حضرات فرماتے ہیں کہ صلوۃ وسطی سے مراد پانچ نمازوں میں سے کوئی ایک غیر معین نماز ہے ۔
صلوۃ وسطی کو اللہ تعالیٰ نے مبہم رکھا ہے یعنی معین نہیں فرمایا ، بندوں کو تمام نمازوں کی ادائیگی کے سلسلہ میں ترغیب وتحریض کے لیے جس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے لیلۃ القدر کو ماہ رمضان میں مخفی رکھا اور دعا کی قبولیت کی گھڑی کو جمعہ کے دن میں مخفی رکھا اور اسم اعظم کو اپنے اسماء حسنی میں مخفی رکھا تاکہ سب کی بندے محافظت کریں ، اللہ تعالیٰ کا ارشاد (آیت)” وقوموا للہ قانتین “۔ ای مطیعین یعنی مطیع و فرمانبردار ہو کر ۔
قنوت کے معنی میں مفسرین کے اقوال ، علامہ شعبی (رح) ، عطاء (رح) ، سعیدبن جبیررحمۃ اللہ علیہ ، حسن (رح) ، قتادہ (رح) ، اور طاؤس (رح) ، فرماتے ہیں کہ قنوت کے معنی طاعت کے ہیں ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” امۃ قانتا للہ “۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ای مطیعا “۔ مطیع و فرمانبردار ۔ کلبی (رح) مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ ہر دین و مذہب والوں کے لیے نماز ہے جس میں وہ نافرمان ہو کر کھڑے ہوتے ہیں پس تم (اے ایمان والو ! ) اپنی نماز میں مطیع و فرمانبردار ہو کر کھڑے ہو اور کہا گیا ہے کہ قنوت کا معنی ہے کہ جو کلام نماز میں منع ہو اس سے خاموشی اختیار کرنا۔
زید بن ارقم ؓ فرماتے ہیں کہ ہم نماز میں حضور اقدس ﷺ کے پیچھے کلام کرتے تھے ، ہم میں سے ایک شخص ساتھ والے ساتھی سے کلام کرتا تھا حتی کہ یہ آیت نازل ہوئی ۔ (آیت)” وقوموا للہ قنتین “۔ پس ہمیں سکوت کا حکم دیا گیا اور کلام سے منع کردیا گیا ، مجاہد (رح) فرماتے ہیں ” قنتین “۔ کا معنی ہے ” خاشعین “۔ یعنی عاجزی کرنے والے اور فرمایا کہ رکوع کو لمبا کرنے بھی قنوت سے ہے آنکھیں جھکائے رکھنا ، پرسکون ہونا ، بازوپست رکھنا (یہ سب قنوت کا حصہ ہیں) علماء کا شیوہ تھا کہ جب ان میں سے کوئی نماز پڑھتا تو وہ خدائے رحمن سے ڈرتا تھا کہ کسی جانب التفات کرے یا کنکریاں الٹ پلٹ کرے یا کسی شی سے کھیلے یا اپنے آپ سے دنیا کے معاملہ میں بات کرے یعنی خیال ودھیان دوڑائے مگر یہ کہ ایسا بھول کر کرے اور کہا گیا ہے کہ قنوت سے مراد قیام (صلوۃ) کا لمبا ہونا ہے ۔
حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ سے کہا گیا کہ کون سی نماز افضل ہے ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ” طول القنوت “۔ جس نماز کا قیام لمبا ہو بعض نے کہا کہ ” قانتین “۔ کا معنی ہے ” داعین “ یعنی دعا مانگنے والے اس کی دلیل جو حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کی گئی ہے ” قنت رسول اللہ ﷺ شھرا متتابعا “۔ کہ حضور اقدس ﷺ مسلسل ایک ماہ دعا مانگتے رہے ، چند قبیلوں کیخلاف دعا کرتے رہے جو کہ بنی سلیم سے تھے ، رعل ، ذکوان ، عصیہ بعض کا قول ہے کہ ” قانتین “ کا معنی ہے مصلین یعنی نماز پڑھنے والے بوجہ ارشاد الہی ” امن ھو قانت آناء اللیل “ قانت بمعنی نماز پڑھنے والا ۔
Ayah 2:239(تفسیر) 239۔:
(آیت)” فان خفتم فرجالا اور کبانا “۔ فرجالا یعنی پیدل کہا جاتا ہے راجل ورجال جیسے صاحب وصحاب اور قائم و قیام اور نائم ونیام ، (اسی طرح راجل ورجال یعنی پیدل چلنے والا اور پیدل چلنے والے) ” اور کبانا “ اپنے جانوروں پر سوار ہو کر رکبان راکب کی جمع ہے اس کا معنی ہے کہ اگر تمہارے لیے ممکن نہ ہو کہ تم قانتین ہو کر نماز پڑھو اور نماز کا حق بوجہ خوف کے پورا نہ ادا کرسکو تو پاؤں کے بل پیدل چل کر پڑھو یا جانوروں کی پیٹھوں کپر سوار ہو کر نماز پڑھو، یعنی عین لڑائی اور تلوار چلانے کے وقت میں جس طرح منہ ہو نماز پڑھے ، پیدل یا سوار قبلہ کی جانب متوجہ ہونے والا ہو یا قبلہ رخ نہ ہو۔
سواری پر نماز پڑھنے کا طریقہ :
رکوع سجدہ اشارہ سے کرے اور سجدہ کا اشارہ رکوع سے پست ہو اور اسی طرح جب درندہ اس کی طرف متوجہ ہو یا اس پر سیلاب چھاجائے اور اسے اپنی ذات کا خوف لاحق ہوجائے ، پس اس کے آگے بھاگے اس حال میں کہ اشارے سے نماز پڑھنے والا ہو تو جائز ہے ، حالت خوف میں نماز چند قسم ہے پس یہ نماز ان قسموں میں سے ایک ہے جو کہ سخت خوف کی حالت کی ہے باقی قسموں کا بیان سورة نساء میں آئے گا ان شاء اللہ ۔ اکثر اہل علم کے نزدیک خوف کی وجہ سے تعداد رکعات کم نہ ہوگی ، مجاہد (رح) نے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کی کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی کی زبان پر گھر میں چار رکعت نماز فرض کی اور سفر میں دو رکعت اور حالت خوف میں ایک رکعت یہ حضرت عطاء (رح) ، طاؤس (رح) حسن (رح) ، مجاہد (رح) ، قتادہ (رح) ، کا قول ہے ، وہ شدت خوف کی حالت میں ایک رکعت پڑھتے تھے ۔
سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں کہ جب تو لڑائی میں مصروف ہو اور لوگ ایک دوسرے کو مار رہے ہوں پس اس وقت کہہ سبحان اللہ ، والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر ، اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کر، پس جب تو نے اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا پس یہی تیری نماز ہے ۔ (آیت)” فاذا امنتم فاذکروا اللہ “۔ یعنی پانچوں نمازیں پڑھو مکمل طور پر ان کے حقوق کی رعایت کرتے ہوئے ۔ (آیت)” کما علمکم مالم تکونوا تعلمون “۔
Ayah 2:240(تفسیر) 240۔:
(آیت)” والذین یتوفون منکم “۔ اے گروہ مرداں ” یذرون “ یعنی چھوڑیں ” ازواجا “ یعنی بیویاں (آیت)” وصیۃ الازواجھم “۔ اہل بصرہ اور ابن عامر (رح) اور حمزہ (رح) اور حفص (رح) نے ” وصیۃ “ زبر کے ساتھ پڑھا ہے ، بایں معنی ” فلیوصو وصیۃ “ (یعنی فعل محذوف سے مصدر (مفعول مطلق) ہے) اور باقیوں نے ” وصیۃ “ رفع کے ساتھ پڑھا ہے ” ای کتب علیکم الوصیۃ “۔ (یعنی فعل محذوف مجہول کا نائب فاعل ہے) ” متاعا الی الحول “۔ متاعا “ پر مصدر کی وجہ سے نصب ہے تقدیر عبارت ہوگی ، ” متعوھن متاعا “ اور کہا گیا ہے کہ متاعا کی زبر اس عبارت کی تقدیر پر ہوگی ۔ ” جعل اللہ ذالک لھن متاعا ‘ ؓ ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو ان کے لیے متاع بنایا ہے اور متاع سال کے خرچہ کا نام ہے اس عورت کا کھانا ، لباس ، رہائش اور وہ چیز جس کی وہ محتاج ہو ۔ (غیر اخراج) یہ حال کے اعتبار سے منصوب (زبر والا) ہے اور کہا گیا ہے کہ اس کی زیر حرف جار کے کھینچنے کی وجہ سے ہے جو کہ غیر پر تھا ، اصل میں تھا ” من غیر اخراج ‘ ؓ
یہ آیت طائف کے ایک آدمی کے بارے میں نازل ہوئی جسے حکیم بن حارث کہا جاتا تھا ، اس نے مدینہ منورہ کی طرف بال ، بچوں ، بیوی اور ماں باپ سمیت ہجرت کی ، پس وہ فوت ہوگیا ، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ۔
پس حضور اقدس ﷺ نے اس کے والدین اور اولاد کو اس کی میراث سے دیا اور اس کی بیوی کو کچھ نہ دیا اور ان کو حکم فرمایا کہ مرنے والے خاوند کے ترکہ سے اس کی بیوی پر پورا سال خرچ کریں ، عدت وفات ابتداء اسلام میں پورا سال تھی اور وارث پر عورت (بیوہ) کو سال پورا ہونے سے پہلے گھر سے نکالنا حرام تھا اور اس سال عدت کا خرچہ رہائش وغیرہ کا خاوند کے مال میں اس عورت کے لیے واجب ہوتا تھا جب تک عورت خود نہ نکلتی اور اس عورت کے لیے میراث نہ تھی ، اگر وہ خاوند کے گھر سے نکلتی تو خرچہ ساقط ہوجاتا تھا اور خاوند پر لازم تھا کہ وہ اس امر کی وصیت کر جائے ، یہ صورت حال اسی طرح رہی تاآنکہ آیت میراث نازل ہوئی پس اللہ تعالیٰ نے سال کے خرچہ کو منسوخ کردیا اور میراث خاوند میں سے عورت کے لیے ربع (چوتھا حصہ جبکہ خاوند کی اولاد نہ ہو) اور ثمن (آٹھواں حصہ جبکہ خاوند کی اولاد ہو) مقرر ہوا اور سال کی عدت کو چار ماہ دس دن کی عدت سے منسوخ کردیا گیا ۔
(آیت)” فان خرجن “ سال گزرنے سے پہلے وارثوں کے نکالے بغیر از خود وہ عورتیں نکلیں (آیت)” فلا جناح علیکم “۔ اے اولیاء میت (آیت)” فعلن فیما فی انفسھن من معروف “۔ نکاح کے لیے زینت ، مردوں سے گناہ اٹھانے کی دو وجہیں ہیں ، پہلی وجہ یہ اگر تم ایسی عورتوں کا خرچہ (کھانا ، لباس ، رہائش) وغیرہ کاٹ دود اور ان کو نہ دو تو تم پر کچھ گناہ نہیں ہے جبکہ وہ عدت گزرنے سے پہلے گھر سے نکل جائیں ، دوسری وجہ یہ کہ اگر تم ان عورتوں کو گھر سے نکلنے سے منع نہ کرو تو تم پر کچھ گناہ نہیں ہے کیونکہ بیوہ کا سال پورا خاوند کے گھر میں گزارنا واجب نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس عورت کو اختیار دیا تھا کہ گھر میں پورا سال ٹھہری رہے اور اس عورت کے لیے خرچہ رہائش وغیرہ ہو یا وہ عورت (بیوہ) گھر سے نکل جائے ، پس اس کے لیے نہ خرچہ نہ رہائش یہ حکم باقی رہا تاآنکہ چار ماہ دس دن کے ساتھ منسوخ کردیا گیا ۔ (آیت)” واللہ عزیز حکیم “۔
Ayahs 2:241–242(تفسیر) 241۔:
(آیت)” وللمطلقات متاع بالمعروف حقا علی المتقین “۔ متعہ کے ذکر کا اعادہ اللہ تعالیٰ نے محض اضافی معنی کی خاطر کیا اور وہ اس طرح کہ اس آیت کے علاوہ اور جگہ اس عورت کا ذکر ہے جو کہ غیر ممسوسہ ہو یعنی جس کے ساتھ خاوند نے صحبت نہ کی ہو اور اس آیت کریمہ میں متعہ کے حوالے سے تمام مطلقہ عورتوں کا حکم مذکور ہے اور کہا گیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نازل ہوا ۔ (آیت)” ومتعوھن علی الموسع قدرہ وعلی المقتر قدرہ “۔ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد تک (آیت)” حقا علی المحسنین “۔ مسلمانوں میں سے ایک شخص نے کہا کہ اگر میں احسان کا معاملہ کرنا چاہوں گا تو کروں گا (یعنی متعہ دوں گا) ورنہ نہیں پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت)” وللمطلقات متاع “۔ متعہ (نفع کی چیز دینا) کو عورتوں کے ساتھ لام تملیک لا کر خاص کردیا گیا اور فرمایا (آیت)” حقا علی المتقین “۔ متقین سے مراد مؤمنین ہیں جو شرک سے بچنے والے ہیں ۔
Ayah 2:243طاعون سے بھاگنے والوں کا ایک قصہ :
(تفسیر) 243۔:
(آیت)” الم تر الی الذین خرجوا من دیارھم “۔ اکثر اہل تفسیر فرماتے ہیں کہ ” واسط “ کی طرف ایک بستی تھی جسے داوردان کہا جاتا تھا وہاں طاعون واقع ہوا تو لوگوں کا ایک گروہ اس علاقہ سے نکل بھاگا اور ایک گروہ باقی رہ گیا تو بستی میں رہنے والوں کی اکثریت ہلاک ہوگئی اور نکلنے والے صحیح سالم رہے ، جب طاعون ختم ہوا تو وہ صحیح سالم واپس آگئے جو بستی میں رہ کر باقی بچ گئے تھے وہ نکلنے والوں کے بارے میں کہنے لگے ، ہمارے نکلنے والے بھائی تو ہم سے زیادہ محتاط اور سمجھدار نکلے ، اگر ہم بھی ایسا کرتے جس طرح انہوں نے کیا تو ہم بھی بچ جاتے ، اگر اب کے دوبارہ طاعون واقع ہوا تو ہم بھی ایسی جگہ کی طرف نکل جائیں گے جہاں طاعون نہ ہوگا ، چناچہ آئندہ سال بھی طاعون کی وباء پھیل گئی تو اس علاقہ کی بھاری اکثریت وہاں سے نکل گئی بھاگ گئی ۔ حتی کہ ایک کشادہ وادی میں جا اترے ، پس جب اس مقام پر پہنچے جہاں نجات چاہتے تھے تو وادی کے نیچے سے فرشتہ نے آواز دی اور ایک فرشتہ نے اوپر سے آواز دی (تم مرجاؤ) چناچہ سب مرگئے ۔
ابن شہاب نے عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے روایت کی کہ بیشک حضرت عمر بن خطاب ؓ شام کی طرف نکلے جب سرغ کے مقام پر پہنچے تو آپ کو شام میں وباء پھیلنے کی خبر پہنچی تو آپ کو حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ نے خبر دی ، بیشک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم کسی علاقہ زمین میں وبا کے متعلق سنو تو وہاں نہ جاؤ اور جب کسی علاقہ میں وباء پھیلے اور تم وہاں ہو تو اس جگہ سے وباء فرار کر کے نہ نکلو تو حضرت عمر ؓ سرغ ہی سے واپس ہوگئے ، کلبی (رح) ، مقاتل (رح) اور ضحاک (رح) کہتے ہیں (جن کے فرار کا ذکر اس قرآن کریم میں ہے) کہ یہ وہ لوگ جو جہاد سے بھاگ نکلے تھے اور یہ اس طرح کہ بنو اسرائیل کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ نے اس کو حکم دیا کہ دشمن کے ساتھ لڑنے کے لیے نکلیں تو انہوں نے لشکر بندی کی ، پھر بزدل ہوگئے اور موت کو ناگوار سمجھا پس بہانہ بنایا اور بادشاہ کو کہا کہ جس زمین کو ہم جا رہے ہیں وہاں تو وباء پھیلی ہوئی ہے تو لہذا جب تک وہاں وباء ختم نہیں ہوتی ہم وہاں نہیں جائیں گے ، پس اللہ تعالیٰ نے ان پر موت مسلط کردی ، پس وہ اپنے علاقوں سے موت کے ڈر سے بھاگے ، پس جب بادشاہ نے یہ صورت حال دیکھی بادشاہ نے دعا کی اے یعقوب (علیہ السلام) کے رب موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کے معبود بے ۔
تو اپنے بندوں کی نافرمانی دیکھ رہا ہے پس تو ان کی ذات میں ایسی نشانی دکھا جس سے وہ جان جائیں کہ وہ تجھ سے ہرگز نہیں بھاگ سکتے ، پس جب وہ نکلے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ” موتوا “ فرمایا ان کو سزا دینے کے لیے پس وہ ایک آدمی کی طرح (یعنی بیک وقت) مرگئے اور انکے جانور بھی مرگئے ، اس طرح ان پر آٹھ دن گزر گئے حتی کہ وہ سوج گئے اور ان کے جسم بدبودار ہوگئے ۔ پس لوگ ان کی طرف نکلے اور ان کے دفن سے عاجز آگئے ، پس لوگوں نے ان مرے ہوؤں کے اردگرد درندوں کے بچاؤ کے لیے باڑ لگا دی اور ان کو اسی طرح چھوڑ دیا ۔
علماء نے ان کی تعداد میں اختلاف کیا ہے ، حضرت عطاء خراسانی (رح) فرماتے ہیں ، تین ہزار تھے ، وہب (رح) فرماتے ہیں چار ہزار تھے ، کلبی (رح) فرماتے ہیں آٹھ ہزار تھے ، ابو رواق (رح) فرماتے ہیں دس ہزار تھے ، علامہ سدی (رح) فرماتے ہیں تیس ہزار سے زائد تھے ، ابن جریج (رح) فرماتے ہیں چالیس ہزار تھے ، عطاء بن ابی رباح (رح) فرماتے ہیں ستر ہزار تھے ، تمام اقوال میں سے بہتر قول اس شخص کا ہے جس نے کہا ہے کہ دس ہزار سے زائد تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ” وھم الوف “ الوف جمع کثیر ہے اور اس کی جمع قلت آلاف ہے اور الوف کا استعمال دس ہزار سے کم پر نہیں ہوتا ۔ انہوں نے کہا ہے اسی حال پر مدت گزر گئی اور ان کے جسم گل سڑ گئے ، ہڈیاں گوشت سے خالی ہوگئیں ، ان پر اللہ کے نبی گزرے جن کو حزقیل بن بوذی کہا جاتا تھا جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بنو اسرائیل کے تیسرے خلیفہ ہیں اور یہ اس طرح کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بنو اسرائیل کے قیم (سربراہ) یوشع بن نون تھے ، پھر کالب بن یوقنا پھر حزقیل ان کو ابن العجوز کہا جاتا تھا ، کیونکہ ان کی والدہ بوڑھی تھیں ، بڑھاپے اور بانجھ ہونے کے بعد اس نے اللہ تعالیٰ سے بیٹے کی دعا مانگی ، پس اللہ تعالیٰ نے ان کو حزقیل بیٹا عطا فرمایا ۔
حضرت حسن (رح) اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ یہ نبی ذوالکفل تھے اور حزقیل کو ذوالکفل کا نام دیا گیا کیونکہ یہ ستر نبیوں کے ضامن بنے اور ان کو قتل ہونے سے بچایا ، جب حزقیل (علیہ السلام) ان مرے ہوؤں پر گزرے تو ان پر ٹھہر گئے اور تعجب کے ساتھ ان پر سوچنے لگ گئے، پس اللہ تعالیٰ نے حضرت حزقیل کو وحی فرمائی کہ کیا تو چاہتا ہے کہ تجھے (اپنی قدرت کی) نشانی دکھاؤں ؟ حضرت حزقیل (علیہ السلام) نے فرمایا ہاں پس اللہ تعالیٰ نے ان کو زندہ فرما دیا اور کہا گیا ہے کہ حضرت حزقیل (علیہ السلام) نے ان کے زندہ ہونے کی دعا فرمائی ، پس اللہ تعالیٰ نے ان کو زندہ فرما دیا ، حضرت مقاتل (رح) وکلبی (رح) فرماتے ہیں یہ مرنے والے قوم حزقیل تھی ، اللہ تعالیٰ نے ان کو آٹھ دنوں بعد زندہ فرما دیا اور یہ اس طرح کہ جب ان لوگوں کو یہ صورت حال پیش آئی ، حضرت حزقیل (علیہ السلام) ان کی طلب میں نکلے تو انہیں مرا ہوا پایا ، پس حضرت حزقیل (علیہ السلام) روئے اور فرمایا اے میرے رب ! میں ایسی قوم میں تھا جو لوگ تیری حمد وثناء کرتے تھے ، تیری تسبیح و تقدیس کرتے تھے تیری تکبیر (بڑائی بیان) کرتے تھے ، تہلیل ” لا الہ الا اللہ “۔ کا ورد کرتے تھے ، اب میں اکیلا رہ گیا ہوں میری قوم نہیں تو اللہ تعالیٰ نے اس نبی کی طرف وحی فرمائی کہ میں نے ان کی حیات (زندگی) تیرے ہاتھ کردی ہے تو حضرت حزقیل (علیہ السلام) نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے حکم سے زندہ ہوجاؤ ، پس انہوں نے زندگی پائی، حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں وہ لوگ جب زندہ ہوئے تو انہوں نے کہا ” سبحانک اللہم ربنا وبحمدک لا الہ الا انت “۔ پس وہ اپنی قوم کی طرف لوٹے اور طویل زمانہ تک زندہ رہے اور موت کے آثار ان کے چہروں سے نمایاں تھے جو کپڑا پہنتے وہ کفن کی شکل میں تبدیل ہوجاتا حتی کہ اپنی طبعی عمر کے مطابق جو ان کے لیے لکھی گئی تھی فوت ہوگئے ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں آج بھی یہود کے اس قبیلہ کے افراد میں موت کی وہ بو پائی جاتی ہے ، حضرت قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے اس فرار پر ناراض ہوئے اور ان کو موت سزا کے طور پر دی ، پھر اٹھائے گئے تاکہ وہ طبعی زندگی پوری کرلیں ، اگر ان کو وقت مقررہ والی موت آتی تو دوبارہ کبھی نہ اٹھائے جاتے ، پس یہ ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد (آیت)” الم تر “
” ای الم تعلم باعلامی ایاک “۔ کیا میرے اس واقعہ کے بتلانے اور جتلانے کے باعث آپ نہیں جانتے ۔
(آیت)” الم تر “ جس رویۃ (یعنی دیکھنے) کا ذکر ہے وہ رؤیت قلبی ہے اور اہل معانی (علم فصاحت و بلاغت) کا میلان اس طرف ہے کہ ” الم تر “ کا استعمال بات پر تعجب دلانے کے لیے ہے ، کیا آپ نے ان کے مثل دیکھا ہے جیسے کہ تو کہے ” الم تر الی ما یصنع فلان “ کیا تو نے اس کو دیکھا ہے جو کچھ فلاں کر رہا ہے ، قرآن کریم میں جس جگہ کسی بھی ایسے واقعہ کے متعلق (آیت)” الم تر “ کا استعمال ہوا ہے جسے حضور اقدس ﷺ نے نہیں دیکھا اس کی توجیہ یہی ہے (جو ابھی بیان ہوئی) کیا آپ نے ان لوگوں کی طرف نہیں دیکھا جو اپنے گھروں سے نکلے ۔
(آیت)” وھم الوف “ الف کی جمع ہے اور بعض کا قول ہے کہ ” الوف “ الفت سے ماخوذ ہے اس کے معنی ” مؤلفۃ القلوب “ کے ہیں یعنی ان کے دل جڑے ہوئے تھے یہ الوف الف کی جمع ہے جیسے ” قعود “ قاعد کی جمع ہے اور صحیح یہ ہے کہ اس سے مراد عدد ہے ۔ (حذر الموت) یعنی موت کے خوف سے (آیت)” فقال لھم اللہ موتوا “ موتوا کا امر برائے تحویل ہے (یعنی ایک حالت سے دوسری حالت میں بدل جانے کا حکم یا ایک ماہیت و حقیقت سے دوسری حقیقت وماہیت میں بدل جانا) جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت)” کونوا قردۃ خسئین ‘ ؓ یعنی ذلیل بندر بن جاؤ (آیت)” ثم احیاھم “ ۔ ان کی موت کے بعد (آیت)” ان اللہ لذو فضل علی الناس “۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ فضل الہی تمام انسانوں کے حق میں عام ہے اور بعض نے کہا ہے کہ اس سے خاص طور پر مؤمنین مراد ہیں ، (آیت)” ولکن اکثر الناس لا یشکرون “۔ بہرحال اگر الناس سے مراد عام انسان ہو تو کافر انسان شکر نہیں کرتا اور اگر مؤمنین مراد ہوں تو پھر معنی ہے کہ اکثر ایمان والے غایت شکر کو نہیں پہنچتے (یعنی کما حقہ شکر نہیں کرتے) ۔
Ayah 2:244(تفسیر) 244۔:
(آیت)” وقاتلوا فی سبیل اللہ “ اس کی اطاعت میں ان کے دشمنوں سے لڑو (آیت)” واعلموا ان اللہ سمیع علیم “۔ اکثر اہل تفسیر فرماتے ہیں یہ خطاب ان لوگوں کو تھا جو زندہ کیے گئے تھے ان کو فی سبیل اللہ قتال کرنے کا حکم دیا گیا تھا ، پس وہ گھروں سے جہاد سے فرار کرکے نکلے ، پس اللہ تعالیٰ نے ان کو موت دی ، پھر ان کو زندہ کیا اور ان کو حکم دیا کہ جہاد کریں اور کہا گیا ہے کہ یہ خطاب اس امت کو ہے کہ ان کو جہاد کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ۔
Ayah 2:245قرضا حسنا کی مختلف تفاسیر اور وجہ تسمیہ :
245۔ (آیت)” من ذالذی یقرض اللہ قرضا حسنا “۔ قرض ہر اس چیز کا نام ہے جو انسان اس غرض سے دے تاکہ اس پر بدلہ لے ، پس اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے اس عمل (صالح) کو جو وہ اس پر تیار شدہ اجر حاصل کرنے کی امید پر کرتے ہیں قرض کا نام دیا کیونکہ وہ یہ عمل ثواب کی طلب کے لیے کرتے ہیں ۔
کسائی (رح) فرماتے ہیں کہ قرض ہر وہ عمل ہے تو جو تونے آگے بھیجا ، وہ عمل اچھا ہو یا برا قرض کا اصل معنی لغت کے اعتبار سے قطع ہے ، قرض کو قرض اس لیے کہا جاتا ہے کہ قرض دینے والا اپنے مال کا کچھ حصہ کاٹ کر اس لیے دیتا ہے تاکہ اس جیسا (مال کا حصہ) اس کی طرف لوٹے اور کہا گیا ہے کہ آیت کریمہ میں مجاز اختصار ہے ، گویا کہ عبارت یوں ہے ” من ذالذی یقرض عباد اللہ والمحتاجین من خلقہ “۔ کون ہے وہ جو اللہ کے بندوں اور اس کی مخلوق میں سے محتاجوں کو قرض دیتا ہے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” ان الذین یؤذون اللہ ورسولہ “ اللہ کے بندوں کو ایذاء دیتے ہیں جس طرح کہ حدیث شریف میں آتا ہے سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمـ نے فرمایا کہ بیشک اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائیں گے اے ابن آدم (انسان) میں نے کھانا طلب کیا تھا تو نے مجھے کھانا نہیں دیا تھا ، بندہ کہے گا میں تجھے کھانا کیسے دیتا حالانکہ تو رب العالمین ہے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تجھ سے میرے فلاں بندہ نے کھانا طلب کیا تھا تو نے اس کو کھانا نہیں دیا تھا کیا تجھے معلوم نہیں بیشک اگر تو اس کو کھانا دیتا تو میرے پاس پاتا ؟ اللہ تعالیٰ کا ارشاد (آیت)” یقرض اللہ “ قرض حسنہ کے طور پر اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں خرچ کرتے ہیں، حسین بن علی واقدی (رح) فرماتے ہیں کہ خوشدلی کے ساتھ ثواب کے لیے (خرچ کرتے ہیں)
ابن مبارک (رح) فرماتے ہیں کہ مال حلال سے خرچ کرتے ہیں اور فرمایا اس خرچ پر احسان نہیں جتلاتے اور نہ ایذاء دیتے ہیں ۔
فیضاعفہ کی مختلف قراتیں :
” فیضاعفہ لہ “۔ ابن کثیر (رح) اور ابو جعفر (رح) اور ابن عامر (رح) اور یعقوب (رح) نے ” فیضعفہ “ پڑھا ہے اس کا باب تشدید ہے ۔ (یعنی تفعیل کے باب سے) سورة احزاب میں ابو عمرو نے اس قراۃ کی موافقت کی ہے (یعنی وہاں اس نے ” فیضعفہ “ پڑھا ہے) اور اوروں نے ” فیضاعفہ “ الف کے ساتھ اور تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے (باب مفاعلہ سے) اور یہ دونوں لغتیں ہیں شد کے ساتھ پڑھنے کی دلیل ، اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد (آیت)” اضعافا کثیرہ “ ہے کیونکہ تشدید برائے تکثیر ہوتی ہے (باب تفعیل میں کسی نہ کسی اعتبار سے کثرت کا مفہوم پایا جاتا ہے) ابن عامر (رح) ، عاصم (رح) اور یعقوب (رح) نے فاء کی زبر کے ساتھ پڑھا ہے (یضاعف کی فاء پر زبر کے ساتھ) اسی طرح سورة حدید میں بھی استفہام کے جواب کی بنیاد پر اور کہا گیا ہے کہ فاء کی زبر اضمار ان کے اعتبار سے ہے یعنی ” یضاعفہ “ سے پہلے ان مقدر ہے اور باقیوں نے ” یضاعفہ “ کو فاء کی پیش کے ساتھ پڑھا ہے ، ” یقرض اللہ “ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور بعض نے کہا ہے کہ یہ تضعیف سات سو گنا تک ہے (آیت)” واللہ یقبض ویبسط “ اہل بصرہ اور حمزہ (رح) نے یہاں ” یبسط “ اور اعراف میں ” یبسط “ سین کے ساتھ پڑھا ہے جس طرح کہ اس کے ہم مثل اور لفظ ہیں اور ان دونوں لفظوں کو باقیوں نے صاد کے ساتھ پڑھا ہے ۔
یقبض ویبسط کی تفاسیر :
1۔ بعض کا قول ہے ” یقبض “ رزق روک کر ، روح قبض کرکے اور ” یبسط “ توسیع کرکے بعض کا قول ہے ۔
2۔ ” یقبض “ صدقہ اور توبہ قبول کرکے اور ” یسبط “ انفاق فی سبیل اللہ کے بعد اور بھیج کر اور ثواب عطاء فرما کر۔
3۔ بعض کا قول ہے کہ اس سے مراد زندہ کرنا اور مارنا ہے، پس جس کو اللہ تعالیٰ نے موت دی ، پس اسے قبض فرما لیا اور جس کی عمر کو بڑھایا ، لمبا کیا اس کے لیے بسط فرمایا ۔
4۔ بعض کا قول ہے کہ قبض اور بسط دلوں کے اعتبار سے ۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو صدقہ کا حکم دیا تو خبر دی کہ بندوں کو اس خرچ کرنے پر قدرت حاصل نہیں مگر اللہ تعالیٰ کی توفیق کے ساتھ فرمایا ، بعض دلوں کو منقبض فرماتا ہے ، پس خیر کے ساتھ اس کا دل نہیں کھلتا اور بعض دلوں کو فراخ فرماتا ہے ، پس وہ اپنی ذات کے فائدہ کی خاطر خیر (صدقہ) آگے بھیجتا ہے ، جس طرح حدیث شریف میں آتا ہے کہ دل اللہ تعالیٰ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہیں اللہ تعالیٰ جس طرح چاہتے ہیں بدلتے ہیں ۔ (الحدیث) ” والیہ ترجعون “۔
یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف تم لوٹو گے ، پس اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کا تمہیں بدلہ دے گا ، حضرت قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ الیہ کی ضمیر تراب (مٹی) کی طرف لوٹ رہی ہے یعنی اس سے تراب (مٹی) جو کہ غیر مذکور ہے مراد ہے یعنی مٹی سے ان کو پیدا کیا اور اسی کی طرف لوٹیں گے ۔