Ayah 2:221(تفسیر) 221۔:
(آیت)” ولا تنکحوالمشرکات حتی یؤمن “۔ اس آیت کریمہ کا سبب نزول یہ ہے کہ بیشک مرثد بن ابی مرثد غنوی اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ وہ ابو مرثد غنوی ہیں اور عطاء (رح) کہتے ہیں ابو مرثد کناز بن الحصین اور یہ دلیر تھے ان کو حضور اقدس ﷺ نے مکہ مکرمہ بھیجا تاکہ وہاں سے مسلمانوں کو پوشیدہ طور پر نکال لائیں ، حضرت حضرت موصوف مکہ مکرمہ پہنچے تو ان کی آمد سے متعلق ایک مشرک عورت عناق نے سنا جو انکی زمانہ جاہلیت میں محبوبہ تھی تو وہ عورت ان کے پاس آئی اور کہنے لگی اے ابو مرثد کیا تم خلوت نہیں کرتے تو حضرت ابو مرثد ؓ نے ان کو فرمایا عناق تجھے ہلاکت ہو ہمارے اور اس گناہ (زنا) کے درمیان اسلام حائل ہے اس پر وہ عورت کہنے لگی تو کیا تجھے اس بات کی رغبت نہیں کہ مجھ سے نکاح کرلے ، اس پر حضرت مرثد ؓ نے فرمایا ہاں مگر میں حضور ﷺ کے پاس جاؤں گا اور ان سے مشورہ کروں گا ، اس پر اس عورت نے کہا کیا تو میرے متعلق تنگ دلی اور ناگواری کرتا ہے ، پھر اس عورت نے اور لوگوں سے مدد چاہی اور انہوں نے حضرت ابو مرثد کو سخت مارا اور پھر اس کا چھوڑ دیا ، پھر جب ابو مرثد نے مکہ مکرمہ میں اپنا کام پورا کرلیا اور واپس حضور ﷺ کے پاس پہنچے تو حضور ﷺ کو اپنی کارگزاری سنائی جو کچھ اس عورت عناق اور مارنے والوں نے اس عورت کے سبب ان کے ساتھ کیا اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا اس عورت کے ساتھ میرے لیے نکاح کرنا جائز ہے ؟ پس اللہ تعالیٰ نے یہ نازل فرمایا (آیت)” ولا تنکحوا المشرکات حتی یؤمن “ اور کہا گیا ہے کہ یہ آیت کریمہ اہل کتاب (یہود و نصاری کے حق میں منسوخ ہے ؟ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے اعتبار سے (آیت)” والمحصنات من الذین اوتوالکتاب من قبلکم “ نیز حضور ﷺ کے فرمان اور اجماع امت کے اعتبار سے بھی ، حضرت حسن بصری (رح) نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کی ، حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ ہم اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح کرسکتے ہیں لیکن اہل کتاب مسلمانوں عورتوں سے نکاح نہ کریں ۔
اگر یہ سوال کیا جائے کہ تم ان (اہل کتاب) پر مشرک کا لفظ کیوں استعمال کرتے ہو حالانکہ انہوں نے صرف حضور ﷺ کی نبوت کا انکار کیا ہے تو اس کے جواب میں حضرت ابوالحسن بن فارس ؓ فرماتے ہیں کہ جو شخص یہ کہتا ہے کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کا کلام ہے تو اس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک کیا ۔
حضرت قتادہ ؓ اور سعید بن جبیر ؓ فرماتے ہیں کہ یہاں مشرکات سے مراد بت پرست عورتیں مراد ہیں کیونکہ حضرت عثمان غنی ؓ نے نائلیہ بنت فراقصہ سے جب نکاح کیا تھا تو وہ نصرانیہ تھی پھر حضرت عثمان ؓ تعالیٰ عنہغنی ؓ کے تحت آنے کے بعد نائیلہ نے اسلام قبول کیا تھا حضرت طلحہ بن عبداللہ نے نصرانی عورت سے نکاح کیا تھا حضرت حذیفہ ؓ نے ایک یہودی عورت سے نکاح کیا ، تو حضرت عمر ؓ نے حضرت حذیفہ کو لکھا کہ اس کی راہ چھوڑ دو ، جوابا حضرت حذیفہ ؓ نے لکھا کہ تمہارا کیا خیال ہے کہ وہ مجھ پر حرام ہے ؟ حضرت عمر ؓ نے فرمایا میں یہ تو نہیں کہتا کہ وہ حرام ہے لیکن میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ تم اہل کتاب عورتوں کی وجہ سے مؤمن عورتوں میں تنازع نہ کرنے لگو (یعنی مؤمن عورتوں سے نکاح کرنے میں بےاعتنائی نہ برتنے لگو) (آیت)” ولامۃ مومنۃ خیر من مشرکۃ ولو اعجبتکم “ اپنے حسن و جمال اور مال ومنال کے باعث (مشرک عورت تمہیں اچھی ہی کیوں نہ لگے) پھر بھی مومنہ باندی بہتر ہے ، یہ آیت حضرت خنساء کے بارے میں نازل ہوئی تو حضرت حذیفہ ؓ کی سیاہ باندی تھی ، حضرت حذیفہ ؓ نے فرمایا اے خنساء تیرا ذکر تیرے سیاہ رنگ اور قبول صورت نہ ہونے کے باوجود ملااعلی یعنی آسمانوں پر ہوا ہے ، چناچہ حضرت حذیفہ ؓ نے اس کو آزاد کر کے نکاح کرلیا ۔
حضرت سدی (رح) کہتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ عبداللہ بن رواحہ کے بارے میں نازل ہوئی وہ اس طرح کہ ان کی ایک سیاہ رنگ کی باندی تھی ، اس پر حضرت عبداللہ ناراض ہوئے اور ایک طمانچہ مارا پھر عبداللہ ؓ حضور اقدس ﷺ کے پاس آئے اور آپ کو اس کی خبر دی تو حضور ﷺ نے حضرت عبداللہ ؓ کو فرمایا وہ کیا ہے اے عبداللہ ؟ حضرت عبداللہ ؓ نے عرض کی کہ وہ باندی اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بیشک آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں ، وہ رمضان المبارک کے روزے رکھتی ہے اور وضو اچھی طرح کرتی ہے اور نماز پڑھتی ہے تو حضور ﷺ نے فرمایا یہ مومنہ ہے تو حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا پس قسم ہے مجھے اس ذات پاکی جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی مبعوث فرمایا ہے میں نے اس باندی کو آزاد کیا اور اب میں ضرور اس سے نکاح کروں گا ، چناچہ حضرت عبداللہ ؓ نے ایسا کیا اور مسلمان لوگوں نے حضرت عبداللہ ؓ پر طعن کیا اور کہا کیا تو باندی سے نکاح کرتا ہے ؟ اور ان پر آزاد مشرک عورت پیش کی پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی (آیت)” ولا تنکحو المشرکین حتی یؤمنوا “ یہ اجماع ہے کہ مسلمان عورت کے لیے قطعا جائز نہیں کہ مشرک سے نکاح کرے ۔
(آیت)” ولعبد مؤمن خیر میں مشرک ولو اعجبکم اولئک “ اس سے مراد مشرکین (آیت)” یدعون الی النار “ ایسے اعمال کی طرف دعوت دیتے ہیں جو آگ کو واجب کرنے والے ہیں (آیت)” واللہ یدعو الی الجنۃ والمغفرۃ باذنہ “ ” باذنہ “ کا معنی ” بقضائہ “ یعنی فیصلہ تقدیری کے مطابق وقدرت اپنی تقدیر کے مطابق و ارادے اپنے ارادہ کے مطابق (آیت)” ویبین آیاتہ للناس “ آیات سے مراد اوامر اور نواہی ہیں (لعلھم یتذکرون) تاکہ اس سے نصیحت یاب ہونے کی امید ہے ۔
Ayah 2:222(تفسیر) 222۔:
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ بیشک یہود کا طریقہ تھا کہ جب کوئی عورت حیض والی ہوتی تو اسے گھر سے نکال دیتے اور اس کے ساتھ مل کر نہ کھاتے اور نہ پیتے اور نہ اس کو گھر میں اکٹھا رکھتے ، پس حضور اقدس ﷺ سے پوچھا گیا پس اللہ تعالیٰ نے ناز فرمایا (آیت)” ویسئلونک عن المحیض قل ھو اذی فاعتزلوا النساء فی المحیض “ ۔ الآیۃ ۔ پس حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ حیض والی عورتوں کو گھر میں اکٹھا رکھو اور ان کے ساتھ ہر معاملہ کرو سوائے جماع کے پس یہود نے کہا کہ یہ شخص (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور کچھ ارادہ نہیں رکھتا مگر یہ ہمارے ہر معاملہ میں ہماری مخالفت کریں تو اسید بن حضیر اور عبادہ بن بشیر ؓ حضور ﷺ کے پاس آئے اور دنوں نے کہا یا رسول اللہ یہودیوں یوں کہہ رہے کہ کیا ہم ان عورتوں سے حالت حیض میں جماع کرنا نہ شروع کردیں ، پس حضور ﷺ کا چہرہ مبارک متغیر ہوگیا حتی کہ ہم نے گمان کیا کہ حضور ﷺ ان دونوں پر ناراض ہوگئے ہیں پس وہ دونوں نکلے پاس ان دونوں کے سامنے سے حضور اقدس ﷺ کے پاس دودھ کا ہدیہ آیا ، حضور ﷺ نے فورا ان کے پیچھے آدمی بھیجا اور ان دونوں کو دودھ پلایا ، پس ہم جان گئے کہ حضور ﷺ ان پر ناراض نہیں ہوئے ، اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی (آیت)” ویسئلونک عن المحیض “ یعنی حیض کے بارے میں (پوچھتے ہیں) اور یہ لفظ مصدر ہے ” حاضت المراۃ تحیض ومحیضا “ کے عورت حیض والی ہوگئی گویا حیض اور محیض دونوں مصدر ہی ہیں جس طرح کہ سیر اور مسیر مصدر ہی ہیں ۔ حیض کا اصل معنی ” انفجار وسیلان “ یعنی بہہ پڑنا ہے ، اللہ تعالیٰ کا ارشاد (آیت)” قل ھو اذی “ یعنی قذر ہے (قابل نفرت ہے) اذی ہر وہ چیز ہے جو قابل نفرت ہو۔ (آیت)” فاعتزلوا النساء فی المحیض “ اعتزال سے مراد وطی نہ کرنا ہے (آیت)” ولا تقربوھن “ یعنی ان سے جماع نہ کرو ، البتہ چھونا اور اس کے ساتھ مل کر سونا جائز ہے ۔
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں اور حضور اقدس ﷺ ایک ہی برتن میں نہاتے تھے اور ہم دونوں جنبی ہوتے اور حضور ﷺ مجھے حکم دیتے کہ میں تہبند باندھ لوگ پھر میرے ساتھ مباشرت فرماتے یعنی ننگے بند مل کر سوتے حالانکہ میں حیض والی ہوتی اور حضور ﷺ حالت اعتکاف میں اپنا سر مبارک نکالتے (یعنی مسجد سے سر مبارک باہر نکالتے) اور حضور ﷺ کا سردھوتی حالانکہ میں حیض والی ہوتی تھی ۔
حضرت ام سلمہ ؓ نے فرمایا کہ میں حیض والی ہوگئی جبکہ میں حضور ﷺ کے ہمراہ ایک چادر میں لیٹی ہوئی تھی ، پس میں حضور ﷺ سے الگ ہوگئی اور اپنے حیض والے کپڑے لے کر پہن لیے، پس مجھے حضور اقدس ﷺ نے فرمایا تو حیض والی ہوگئی ؟ میں نے کہا ہاں یا رسول اللہ ﷺ پس آپ ﷺ نے مجھے بلایا اور اپنے پاس چادر مبارک میں داخل فرما لیا۔
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں میں پیتی تھی جبکہ میں حیض والی ہوتی تھی اس کے بعد میں وہ (برتن) حضور ﷺ کو دیتی تھی اور اپنا منہ مبارک اس جگہ پر رکھ کر پیتے تھے جس جگہ سے میں نے پیا ہوتا اور میں ہڈی پر سے گوشت کھاتی پھر حضور ﷺ مجھ سے وہ بوٹی لے لیتے اور اس جگہ منہ رکھ کر کھاتے جس جگہ میں نے منہ رکھ کر کھایا ہوتا ، پس حیض والی عورت سے جماع حرام ہے جس نے کیا اس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی ، اگر امام وقت کو معلوم ہوجائے تو اس کو سزا دے ، اہل علم نے ایسا کرنے پر کفارہ واجب ہونے پر اختلاف کیا ہے، اکثر حضرات اس طرف گئے ہیں کہ ایسا کرنے پر کفارہ تو نہیں ہے البتہ استغفار کرے اور توبہ کرے ۔
اور ایک قوم کا مؤقف یہ ہے کہ ایسے شخص پر کفارہ ہے یہ کہنے والے حضرت قتادہ (رح) ، اوزاعی (رح) امام احمد (رح) اور اسحاق (رح) ہیں اور یہ دلیل اس حدیث سے دیتے ہیں ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ روایت کرتے ہیں ، بیشک حضور اقدس ﷺ نے اس آدمی کے بارے میں فرمایا جس نے اپنی بیوی سے حالت حیض میں جماع کیا ، چناچہ فرمایا اگر تو حیض کا خون خالص رنگ والا تازہ ہو تو ایک دینار صدقہ کرے اور اگر زرد رنگ کی طرف مائل ہو تو آدھا دینار صدقہ کرے ، یہ روایت حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ پر موقوف بھی بیان کی گئی ہے اور حیض نماز کے فرض ہونے کے لیے بھی مانع ہے اور جواز کے لیے بھی مانع ہے اور روزہ کے جواز یعنی ادا کے لیے مانع ہے مگر وجوب صوم کے لیے مانع نہیں ہے حتی کہ جب حیض سے پاک ہوجائے گی تو روزہ رکھنا اس پر بطور قضا کے واجب ہوگا مگر نماز کی قضا لازم نہ ہوگی ، اسی طرح نفاس والی کا حکم ہے ۔
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں ہم حضور ﷺ کے زمانہ میں حیض والی ہوتی تھیں ، پھر جب ہم پاک ہوتیں تو آپ ﷺ ہمیں روزہ کی قضاء ادا کرنے کا حکم فرماتے اور نماز کی ادا کا حکم نہیں فرماتے تھے ، حیض والی عورت کے لیے طواف جائز نہیں ہے ، جسرہ بنت دجاجہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے سنا ، فرماتی ہیں کہ حضور ﷺ تشریف لائے اور صحابہ ؓ کے گھروں کے دروازے مسجد میں کھلے تھے پس آپ ﷺ نے فرمایا کہ گھروں کو مسجد کی طرف سے پھیر دو (یعنی دروازوں کو) پس میں کسی حیض والی اور جنبی کے لیے مسجد کو جائز نہیں رکھتا (یعنی مسجد کا داخلہ)
(آیت)” فاذا تطھرن “ عاصم نے ابوبکر اور حمزہ (رح) کسائی (رح) کی روایت سے طاء اور ھاء کی شد کے ساتھ پڑھا ، معنی ہوگا یہاں تک کہ غسل (طہارت) کریں اور باقیوں نے طاء کی سکون اور ھاء مخفف کی پیش کے ساتھ پڑھا ، معنی ہوگا یہاں تک کہ غسل (طہارت) کریں اور باقیوں نے طاء کی سکون اور ھاء مخفف کی پیش کے ساتھ پڑھا تو معنی ہوگا حتی کہ حیض سے پاک ہوں اور ان کا خون کٹ جائے (آیت)” فاذا تطھرن “ یعنی غسل کرلیں (آیت)” فاتوھن “ پس ان سے جماع کرو (آیت)” من حیث امرکم اللہ “ جہاں سے اللہ تعالیٰ نے تم کو عورتوں سے جدا رہنے کا حکم دیا تھا اسی جگہ سے ان کے پاس آئے یعنی فرج (اگلی شرمگاہ) ۔
حضرت مجاہد (رح) اور قتادہ (رح) اور عکرمہ (رح) نے فرمایا اور حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا ان سے فرج میں وطی کرو اور اس سے کسی اور جگہ کی طرف تجاوز نہ کرو یعنی پچھلی جانب سے بچو اور کہا گیا ہے کہ (آیت)” من حیث “ بمعنی ” فی حیث “ امرکم اللہ “ اور وہ فرج ہے (اگلی شرمگاہ ہے) جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت)” اذا نودی للصلوۃ من یوم الجمعہ “ یعنی فی یوم الجمعہ ہے اور بعض نے کہا ہے کہ اس کا معنی ہے پس ان کے پاس اس طریقہ سے آؤ جس طریقہ سے اللہ تعالیٰ نے آنے کا حکم دیا اور وہ حالت طہر ہے، ابن حنیفہ (رح) نے فرمایا کہ حلال طریقہ سے نہ بدکاری کی راہ سے اور بعض نے کہا ہے کہ بیویوں کے پاس اس وقت نہ جاؤ جب وہ روزہ دار ہوں ، اعتکاف کرنے والیاں ہیں یا حالت احرام میں ہوں (اس کے علاوہ حالت میں) ان کے پاس جانا اور جماع کرنا تمہارے لیے حلال ہے اور جان لو کہ کسی اس شئی کی حرمت جس سے حیض نے منع کیا ہو۔
یہ ممانعت اس وقت تک ختم نہیں ہوتی جب تک غسل نہ کرلیں اور پانی نہ ملنے کی صورت میں تیمم نہ کرے سوائے روزہ کی حرمت کی تحقیق حیض والی کا خون اگر رات کے وقت ختم ہوجائے اور رات ہی کو اس نے روزہ کی نیت کرلی اور غسل دن کو کیا تو اس کا روزہ درست ہوگا اور حالت حیض میں طلاق دینا طلاق بدعی ہوگی اور اگر خون ختم ہونے کے بعد اور غسل سے پہلے طلاق دی اور طلاق بدعی نہ ہوگی اور حضرت ابوحنیفہ (رح) اس طرف گئے ہیں کہ اگر خون اکثر مدت حیض پر ختم ہو جو کہ ان کے نزدیک دس دن ہے تو غسل سے پہلے اس عورت سے خاوند کے لیے صحبت کرنا جائز ہے ، حضرت مجاہد (رح) اور عطاء (رح) اور طاؤس (رح) فرماتے ہیں جب عورت شرمگاہ دھو لے تو غسل سے پہلے خاوند کو جماع کرنا جائز ہے اور اکثر اہل علم کے ہاں حیض ختم ہونے کے بعد غسل کرنے سے پہلے یا پھر پانی نہ ہونے کی صورت میں تیمم کرنے سے پہلے خاوند کے لیے جماع کرنا حرام ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے بیوی سے صحبت جائز ہونے کی دو شرطوں کے ساتھ معلق کیا ہے (1) ” انقطاع دم “ یعنی حیض کا ختم ہونا ۔ (2) غسل کرنا پس فرمایا (آیت)” حتی یطھرن “ یعنی حیض سے (آیت)” فاذتطھرن “ یعنی جب غسل کرلیں پھر ان کے پاس آؤ اور جس نے ” یطھرن “ کو شد کے ساتھ پڑھا پس سے مراد غسل ہے جس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت)” وان کنتم جنبا فاطھروا “ یعنی پس غسل کرو (جیسے ” فاطھروا “ میں شد ہے اور مراد غسل ہے کہ جنبی آدمی کے لیے پاک ہونے کے لیے ضروری ہے کہ غسل کرے اسی طرح ’ تطھرن “ میں شد آنے کی صورت میں غسل کرنا شرط طہارت ہے) پس اس کی دلالت اس امر پر ہوگی کہ عورت کے غسل کرنے سے پہلے خاوند کو اس سے صحبت کرنا جائز نہیں۔
(آیت)” ان اللہ یحب التوابین ویحب المتطھرین “ حضرت عطاء (رح) اور مقاتل بن سلیمان (رح) اور کلبی (رح) فرماتے ہیں اس کا معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ گناہوں سے توبہ کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے اور بےوضو اور جنابت سے اور نجاست سے پانی کے ذریعے طہارت کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے ۔ حضرت مقاتل بن حیان (رح) فرماتے ہیں کہ اس کا معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ گناہوں سے توبہ کرنے والوں سے پاک رہنے والوں کو اللہ تعالیٰ پسند فرماتے ہیں ، مجاہد (رح) فرماتے ہیں گناہوں سے توبہ کرنے والے کہ اس کی طرف واپس نہیں لوٹتے اور متطہرین سے مراد ہے کہ گناہوں سے پاک رہنے والے کہ سرے سے گناہ کرتے ہی نہیں اور ” تواب “ وہ ہے جو جب بھی گناہ کرے تو توبہ کرلے اس کی مثال اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے (آیت)” فانہ کان للاوابین غفورا “ ۔
Ayah 2:223(تفسیر) 223۔:
(آیت)” نساء کم حرث لکم فاتوا حرثکم انی شئتم “۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں حضرت عمر ؓ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی یا رسول اللہ ﷺ میں ہلاک ہوگیا، حضور ﷺ نے فرمایا کس چیز نے تجھے ہلاک کیا ؟ حضرت عمر ؓ نے عرض کی آج رات میں نے کجاوہ بدلا ہے (یعنی بیوی سے صحبت ، دوسرے انداز سے کی جو کہ پہلے عام انداز سے مختلف تھا) حضور ﷺ نے جواب نہ دیا ، اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی طرف وحی فرمائی (آیت)” نساء کم حرث لکم فاتوا حرثکم انی شئتم “ یعنی سیدھا لٹا کر جماع کردیا الٹا کر کے البتہ دبر سے بچو اور حالت حیض سے پرہیز کرو۔
حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ یہود کہتے تھے کہ جو بیوی سے اوندھا کرکے جماع کرے مگر دخول فرج میں کرے تو ایسی صورت میں بچہ بھینگا پیدا ہوگا ، پس یہ آیت کریمہ نازل ہوئی (آیت)” نساء کم حرث لکم فاتوا حرثکم انی شئتم “ حضرت مجاہد (رح) حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ اہل کتاب کا طریقہ یہ تھا کہ بیوی سے صرف ایک انداز سے جماع کرتے تھے اور یہ بہت ہی مستور انداز تھا عورت کے لیے انصار کے لوگوں نے یہ انداز جماع یہود سے لیا تھا اور قریش جماع میں بیویوں سے خوب لذت حاصل کرتے ، سامنے کرکے اور اوندھا کرکے اور چت لٹا کر ۔
پس جب مہاجرین مدینہ منورہ پہنچے تو ایک مہاجر نے انصاری عورت سے نکاح کیا تو مہاجر اپنے قریشی آزادنہ طریقہ کار سے جماع کرنا چاہا ، عورت نے اس کا انکار کردیا اور کہا کہ ہم سے ایک ہی انداز سے جماع کیا جاتا تھا تم بھی ایسا ہی کرو ورنہ مجھ سے دور ہو ، یہاں تک کہ ان کی یہ خبر چلی اور یہ معاملہ حضور اقدس ﷺ تک پہنچا پس اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ۔
(آیت)” نساء کم حرث لکم “۔ الآیۃ، یہاں حرث سے مراد بچہ ہونے کی جگہ ہے (آیت)” فاتوا حرثکم انی شئتم “ سامنے سے یا اوندھا کر کے چت لٹا کر اور ” انی “ استفہام کا حرف ہے جس کے ذریعے حال اور محل کے متعلق سوال کیا جاتا ہے اس کا معنی ہوگا جس طرح تم چاہو اور جہاں سے چاہو بعد اس کے کہ ڈاٹ ایک ہو ۔ حضرت عکرمہ (رح) فرماتے ہیں (آیت)” انی شئتم “ سے مراد صرف فرج یعنی عورت کی شرمگاہ ہے اور اسی طرح (آیت)” حرث لکم “ ہے ” مزرع لکم “ کے معنی میں ہے یعنی کھیتی کی جگہ بچہ پیدا ہونے کی جگہ زمین کی مانند ہے جہاں کاشت کی جاتی ہے اس آیت میں دبر کی طرف سے آنے کے حرام ہونے کی دلیل ہے کیونکہ محل حرث یعنی کھیتی کی جگہ وہ قبل ہے یعنی عورت کی شرمگاہ نہ کہ دبر ، حضرت سعید بن مسیب ؓ فرماتے ہیں یہ حکم عزل سے متعلق ہے (عزل کا مطلب ہے کہ بوقت جماع منی کو شرمگاہ سے باہر کردیا جائے) یعنی اگر تم چاہو تو عزل کرو اور چاہو تو عزل نہ کرو، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے عزل کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا تیری کھیتی ہے اسے پیاسارکھ یا سیراب کر اور حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کی گئی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ عزل کے لیے باندی سے مشورہ کیا جائے ۔
امام احمد (رح) نے بھی یہی فرمایا ، ایک جماعت نے کہا ہے کہ عزل مکروہ ہے اور کہا کہ یہ واؤ خفی ہے (یعنی ایک قسم کا زندہ درگور کرنا ہے) بذریعہ امام مالک (رح) حضرت نافع ؓ سے روایت کی گئی ۔
حضرت نافع ؓ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے قرآن سیکھتا تھا پس انہوں نے یہ آیت پڑھی (آیت)” نساء کم حرث لکم “۔ فرمایا جانتے ہو کہ یہ آیت کس سے متعلق نازل ہوئی ؟ میں نے کہا میں تو نہیں جانتا آپ نے فرمایا یہ ایک شخص سے متعلق نازل ہوئی جس نے بیوی سے دبر میں جماع کیا ” لواطۃ کی “ پس اس پر گراں ہوا۔ پس یہ آیت نازل ہوئی ۔
امام مالک (رح) سے بیوی کے ساتھ دبر سے جماع کرنے کا جواز منقول ہے مگر ان کے ساتھیوں نے اس کا انکار کیا ہے ، عبداللہ بن حسن سے روایت کیا گیا ہے کہ وہ حضرت سالم بن عبداللہ بن عمر ؓ سے ملے اور ان سے کہا اے ابو عمر ؓ آپ نے حضرت نافع ؓ کی حدیث عبداللہ ؓ سے کون سی بیان کی کہ وہ اس میں کچھ حرج نہیں سمجھتے تھے کہ عورتوں کو ان کی دبروں کی طرف سے آیا جائے ؟ پس آپ (رح) فرمایا غلام نے جھوٹ بولا اور غلطی کی ، حضرت عبداللہ ؓ نے تو صرف اتنا فرمایا کہ عورتوں سے ان کی شرمگاہوں میں دبروں کی طرف یعنی پیچھے کی طرف سے آیا جائے ، (یعنی مقام تو وہی قبل یعنی شرمگاہ ہو مگر عورت کو اوندھا کرکے اس سے جماع کیا جائے) دبر کی طرف سے آنے یعنی بیوی سے لواطہ کرنے کی حرمت پر دلیل حضور ﷺ کا یہ ارشاد ہے عمرو نے خزیمہ بن ثابت ؓ سے روایت کی کہ بیشک ایک آدمی نے حضور ﷺ سے عورتوں کو پیچھے کی طرف سے آنے کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ دو سوراخوں میں کس سوراخ میں کیا ؟ پیچھے کی طرف سے قبل یعنی شرمگاہ میں جماع کیا تو پھر ٹھیک ہے یا پیچھے کی طرف سے دبر میں کیا یعنی لواطۃ کی تو پھر نہیں یعنی جائز نہیں (اس جگہ حدیث شریف میں تین لفظ خربتین ، خزرتین ، خصفتین مذکور ہیں (تینوں کا معنی ملتا جلتا ہے یعنی سوراخ) حضور ﷺ نے یہ الفاظ فرما کر ارشاد فرمایا پس تحقیق اللہ تعالیٰ حق فرمانے سے حیاء نہیں فرماتا یعنی حق کہنے سے نہیں رکتا ۔ عورتوں کے پاس دبر کی طرف سے نہ آیا کرو یعنی لواطۃ نہ کیا کرو۔
حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا وہ شخص ملعون ہے جو اپنی بیوی کو دبر کی طرف سے آتا ہے یعنی لواطۃ کرنا ہے ۔ (آیت) ’) ’ وقدموا لانفسکم “ حضرت عطاء (رح) فرماتے ہیں (آیت)” قدموا انفسکم “ سے مراد یہ ہے کہ بیوی سے جماع کے وقت بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھی جائے، مجاہد (رح) فرماتے ہیں (آیت)” وقدموا لانفسکم “ سے مراد یہ ہے کہ جب اپنی بیوی کے پاس جماع کے لیے آئے تو دعاء (خیر) مانگے ۔
حضرت کریب ؓ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ اگر کوئی اپنی بیوی کے آنے کا ارادہ کرے کہے ”
بسم اللہ اللھم جنبنا الشیطان وجنب الشیطن مارزقتنا “۔
شروع اللہ تعالیٰ کے نام سے اے اللہ ! ہمیں شیطان سے دور رکھ اور شیطان کو اس سے دور رکھ جو کچھ تو ہمیں رزق عطا کرے (یعنی اولاد)
حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ اگر اس دفعہ کے جماع میں میاں بیوی کے مقدر میں بچہ یا بچی ہوئی تو اسے شیطان کبھی ضرر نہ دے گا اور بعض نے کہا ہے کہ (آیت)” قدموا لانفسکم “ سے مراد طلب اولاد ہے ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ بیشک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب انسان فوت ہوتا ہے اس کا (ہر قسم کا) عمل کٹ جاتا ہے مگر تین (ذرائع) سے ۔
1۔ صدقہ جاریہ (یعنی وہ رفاہی عمل خیر جو اس نے اللہ تعالیٰ کی خاطر کیا ہوتا ہے) ۔
2۔ (اس کا) علم جس سے اس کے بعد بھی نفع حاصل کیا جاتا ہو (اس میں تدریس کے اعتبار سے اس کے شادر اور اس کی تقاریر وتصانیف کا سرمایہ خیر)
3۔ نیک اولاد جو اس کے لیے دعاء خیر کرتی رہے ، اور کہا گیا ہے کہ (آیت)” قدموا لانفسکم “ سے مراد پاک دامن عورتوں سے نکاح کرنا ہے تاکہ نیک اولاد پیدا ہو۔
حضرت ابوہریرہ ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کرتے ہوئے فرمایا کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کسی عورت سے نکاح چار وجہوں سے کیا جاتا ہے ۔
1۔ مال کی وجہ سے ۔
2۔ خاندانی وجاہت و شرافت سے ۔
3۔ عورت کے حسن و جمال کی وجہ سے ۔
4۔ عورت کی دینداری کے باعث تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں دیندار عورت سے نکاح کرنے کامیابی حاصل کر۔
” تربت یداک “ لالغوی معنی اگرچہ دعائے ذلت و ہلاکت ہے مگر عرف میں جس کام کے سلسلہ میں یہ جملہ وارد ہو اس کے خلاف کرنے میں اظہار تعجب اور اس کام کے کرنے میں ترغیب دینا ہوتا ہے۔ (مترجم)
بعض نے کہا ہے (آیت)” قدموا لانفسکم “۔ والی آیت کا معنی تقدیم افراط ہے یعنی چھوٹے بچہ کا مر کر ذخیرہ آخرت بن جانا مراد ہے ، فرط اصل میں اس شخص کو کہتے ہیں جو قوم سے آگے بڑھ کر پڑاؤ ڈالنے کے سلسلہ میں پانی وغیرہ ضروریات کا انتظام کرے جیسے حضور اقدس ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو فرمایا ” فرطکم علی الحوض “ کہ میں حوض (کوثر) پر تمہارا فرط ہوں گا سعید بن المسیب نے حضرت سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت کی کہ بیشک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ کسی مسلمان کے تین بچے فوت ہوں پھر اس کو آگ چھوئے مگر اللہ تعالیٰ کا فرمان پورا ہونے کی حد تک (یعنی صرف آگ کے اوپر گزر جانا جس کا ذکر اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں ہے (آیت)” ان منکم الا واردھا “ کہ تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جس کا گزر جہنم سے نہیں ہوگا) کلبی (رح) اور سدی (رح) فرماتے ہیں کہ (آیت)” قدموا لانفسکم “۔ سے مراد خیر اور عمل صالح ہے اس کی دلیل سیاق آیت یعنی آیت کا مابعد کا حصہ جس میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” واتقوا اللہ واعلموا انکم ملقوہ “ ملاقوہ کا معنی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والے ہو پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال کی جزا دے گا (آیت)” وبشر المؤمنین “۔
Ayah 2:224(تفسیر) 224۔:
(آیت)” ولا تجعلوا اللہ عرضۃ لایمانکم “۔ یہ آیت حضرت عبداللہ بن رواحہ کے بارے میں نازل ہوئی ، پس حضرت عبداللہ ؓ نے قسم اٹھائی کہ نہ تو اس کے پاس جائیں گے نہ اس سے کلام کریں گے اور نہ اس کے اور اس کے مخالف کے درمیان صلح کرائیں گے اور اس سلسلہ میں حضرت عبداللہ ؓ سے جب بات کی جاتی تو آپ فرماتے ہیں کہ میں نے تو اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھائی ہے کہ ایسا نہیں کروں گا لہذا میرے لیے سوائے قسم کو پورا کرنے کے کچھ جائز نہیں ہے ، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل کی ، ابن جریج (رح) فرماتے ہیں یہ آیت کریمہ سیدنا ابوبکر صدیق ؓ کے بارے میں نازل ہوئی جب کہ حضرت ابوبکرصدیق ؓ نے قسم اٹھائی کہ مسطح پر خرچ نہیں کریں گے کیونکہ مسطح نے واقعہ افک میں خوض کیا (اس کے سننے میں دلچسپی لی یا بیان کیا) ، عرضہ اصل اصل میں شدت اور قوت کے لیے ہے اسی لیے وہ جانور جو سفر کے لیے تیار کیا جائے اسے عرضہ کہا جاتا ہے کیونکہ وہ سفر پر قادر ہوتا ہے پھر ہر وہ چیز جو کسی امر کی صلاحیت رکھتی ہو اس چیز کو اس امر کے لیے عرضہ کہا جاتا ہے ، حتی کہ عورت کو عرضۃ النکاح کہا جاتا ہے جب وہ نکاح لائق ہوجائے اور عرضہ ہر وہ چیز جو پیش آئے اور کسی شئی سے رکاوٹ بن جائے تو آیت کا معنی ہوگا کہ حلف باللہ کو بر (نیکی) اور تقوی کے لیے سبب مانع نہ بناؤ تم میں سے کسی کو صلہ رحمی اور نیکی کی طرف دعوت دی جائے ، جواب میں وہ کہے کہ میں نے اللہ تعالیٰ کے نام کی قسم اٹھائی ہے کہ میں یہ نیکی نہ کروں گا تو قسم کو نیکی چھوڑنے کا بہانہ بنا لے ۔
(آیت)” ان تبروا “۔ اس کا معنی ہے ” ان لا تبروا “ یہ کہ تم نیکی نہ کرو جس طرح کے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” یتبین لکم ان تضلوا “ یعنی ” لئلا تضلوا “ (اللہ تعالیٰ تمہارے لیے بیان فرماتا ہے تاکہ تم نہ بھٹکو)
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ بیشک حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ بیشک جس نے قسم اٹھائی پھر اس نے اس سے بہتر امر دیکھا تو اسے چاہیے کہ قسم (توڑ کر) کا کفارہ دے اور جو بہتر امر ہے اس کو کرے ۔
Ayah 2:225(تفسیر) 225۔ :
(آیت)” لایؤاخذکم اللہ باللغو فی ایمانکم “۔ لغو، ہر وہ حصہ جو کلام میں سے ساقط ہو اور غیر معتبر ہو ، اہل علم نے آیت کریمہ میں مذکور لغو قسم کے بارے میں اختلاف کیا ہے بعض حضرات فرماتے ہیں یمین لغو ہر وہ قسم ہے جو غیر اختیاری طور پر جلد بازی میں بلا ارادہ زبان سے نکل جائے ، مثلا کہنے والے کا کہنا ” لا واللہ “ ایسے نہیں اللہ کی قسم ” بلی واللہ “ ہاں ایسے ہے اللہ کی قسم ” کلا واللہ “ ہرگز ایسا نہیں اللہ کی قسم۔
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ یمین لغو انسان کو لا واللہ بلی واللہ کہنا ہے بعض راویوں نے مرفوع بیان کیا ہے شعبی عکرمہ رحمہم اللہ اسی طرف گئے ہیں ، امام شافعی (رح) نے بھی یہی کہا ہے ۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ لغو قسمیں وہ ہیں جو ہنسی مزاح اور جھیڑے جھگڑے میں اٹھائی جائیں اور وہ بات جو دل سے صادر نہ ہو ۔ خلاصہ ہر وہ قسم جو سنجیدہ کلام میں وارد نہ ہو وہ یمین لغو ہے اور ایک قوم کا کہنا ہے کہ ہر وہ قسم اٹھانے والا سمجھے کہ یہ قسم سچی ہے بعد میں ظاہر ہو کہ ایسی نہ تھی یعنی سچی نہ تھی ، یہ قول حسن بصری (رح) ، ابراہیم (رح) نخعی (رح) قتادہ (رح) مکحول (رح) کا ہے اور حضرت امام اعظم امام ابوحنیفہ (رح) کا بھی یہی قول ہے اور انہوں نے فرمایا یمین لغو میں نہ کفارہ ہے نہ گناہ ہے ، حضرت سیدنا علی کرم اللہ وجہہ ؓ نے فرمایا کہ یمین لغو وہ ہے جو بحالت غصہ اٹھائی جائے ، طاؤس (رح) نے یہی کہا ، سعید بن جبیر (رح) نے فرمایا ، گناہ پر اٹھائی گئی قسم ہے کہ اس قسم کے توڑنے پر اللہ تعالیٰ مواخذہ نہ فرمائیں گے بلکہ قسم اٹھانے والے کو چاہیے کہ قسم توڑ کر کفارہ دے ، حضرت مسروق (رح) فرماتے ہیں کہ اس (قسم توڑنے والے ) پر کفار نہیں ہے ۔
کیا ہم شیطان کے قدموں کی پیروی کرنے کے سلسلے میں کفار دیں ؟ علامہ شعبی (رح) فرماتے ہیں کہ جو شخص گناہ پر قسم اٹھائے اس کا کفارہ یہی ہے کہ اس سے توبہ کرے اور ہر وہ قسم جس کا پورا کرنا تجھ پر (شرعا) جائز نہیں اس کا میں کفارہ نہیں ہے اگر میں اس کو کفارہ کا حکم کرتا تو میں اس کو قسم پورا کرنے کا حکم کرتا اور حکم کرتا کہ اپنے اس قسمیہ قول پر برقرار رہے ۔ زید بن اسلم ؓ فرماتے ہیں کہ یمین لغو وہ ہے جو انسان اپنی ذات کے خلاف بددعا کے طور پر کہے ، مثلا کسی انسان کا یوں کہنا اگر میں ایسا کروں اگر میں ایسا کروں تو اللہ تعالیٰ مجھے اندھا کر دے اس قسم کی تمام قسمیں لغو ہیں ، اللہ تعالیٰ اس کا مواخذہ نہیں فرمائیں گے ، اگر ان کا مواخذہ فرماتے تو جلد سزا دیتے ۔
(آیت)” ولو یعجل للہ للناس الشر استعجالھم بالخیر لقضی الیھم اجلھم “۔ اور فرمایا (آیت)” ویدع الاانسان بالشر دعاء ہ بالخیر “۔ ” ولکن یواخذکم بما کسبت قلوبکم “۔ جس قسم کا قصد اور پکا ارادہ تم نے کیا اور کسب قلب پختہ ارادہ اور نیت (آیت)” واللہ غفور حلیم “ اور جان لے کہ قسم سوائے لفظ اللہ اور اللہ تعالیٰ کے کسی نام کے سوا اور اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے کسی صفت کے سوا منعقد نہیں ہوتی ، پس اللہ تعالیٰ کی قسم اس طرح ہوگی کہے مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کی میں عبادت کرتا ہوں جس کے لیے میں نماز پڑھتا ہوں قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ (قبضہ قدرت) میں میری جان ہے اور اس قسم کے الفاظ ، اللہ تعالیٰ کے ناموں کے ساتھ اٹھانا اس طرح ہے ” واللہ والرحمن “ اور اس قسم کے الفاظ ، اللہ تعالیٰ کی صفات کی قسم اس طرح ہے مثلا قسم اٹھانے والے کا کہنا ” وعزۃ اللہ “ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی قسم اور اس قسم کی قسمیں ۔
مذکورہ قسموں کے ساتھ اگر مستقبل کے امر کے قسم اٹھاتا ہے پھر قسم توڑ بیٹھتا ہے تو اس پر کفارہ لازم ہوگا اور اگر اس قسم کی قسم گزشتہ زمانہ سے متعلق اٹھاتا ہے کہ ایسا ہوا حالانکہ نہیں ہوا یا قسم اٹھاتا ہے کہ ایسا نہیں ہوا حالانکہ ہوا ، اگر صورت حال سے آگاہ ہونے کے باوجود جھوٹی قسم اٹھاتا ہے تو یہ یمین غموس ہے اور اور یہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے ، بعض اہل حضرات کے نزدیک کفارہ واجب نہیں ہے یہ اصحاب الرای کا قول ہے ، انہوں نے کہا اگر ماضی کی صورت حال سے آگاہ ہونے پر بھی جھوٹی قسم اٹھائی تو یہ گناہ کبیرہ ہے تو اس پر کفارہ لازم نہیں جس طرح کہ باقی کبائر کا حکم ہے اور اگر واقفی میں قسم اٹھاتا ہے تو یہ قسم ان کے نزدیک یمین لغو ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی قسم اٹھاتا ہے مثلا کہتا ہے کعبہ کی قسم بیت اللہ کی قسم ، نبی اللہ کی قسم یا اپنے باپ کی قسم اٹھاتا ہے یا اس قسم کی کوئی اور قسم تو یہ قسم ، قسم نہ ہوگی اور جب اس قسم کی قسم اٹھائے گا تو کفارہ بھی واجب نہ ہوگا اور یہ قسم مکروہ ہوگی ، امام شافعی (رح) فرماتے ہیں مجھے اس قسم کے گناہ ہونے کا ڈر ہے رافع نے عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کی ، بیشک رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر ؓ کو اس حال میں پایا کہ وہ قافلہ میں چل رہے تھے اور وہ اپنے باپ کی قسم اٹھا رہے تھے پس حضور اقدس ﷺ نے فرمایا ، بیشک اللہ تعالیٰ تمہیں اس بات سے منع فرماتا ہے کہ تم اپنے باپوں کی قسم اٹھاؤ ، پس جو شخص قسم اٹھانے والا ہے اسے چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ذات عالی کی قسم اٹھائے یا پھر خاموش رہے ۔
Ayah 2:226(تفسیر) 226۔ :
(آیت)” للذین یؤلون من نساء ھم تربص اربعۃ اشھر “۔ یؤلون یعنی قسم اٹھاتے ہیں اور الیہ کا معنی قسم ہے ، آیت کریمہ سے رماد بیوی سے صحبت نہ کرنے کی قسم اٹھانا ہے ، حضرت قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ ایلاء زمانہ جاہلیت میں طلاق تھا ، حضرت سعید بن مسیب (رح) فرماتے ہیں کہ یہ اہل جاہلیت کا بیوی کو نقصان دینے کا طریقہ تھا جب آدمی نہ بیوی کو پسند کرتا اور نہ یہ چاہتا کہ اس عورت کے ساتھ کوئی اور نکاح کرے تو قسم اٹھاتا کہ بیوی کے قریب نہ جائے گا ، پس بیوی کو اس حال میں چھوڑتا کہ نہ تو وہ بغیر خاوند کے ہوتی اور نہ خاوند والی ، ابتداء اسلام میں بھی اسی طریق پر تھے ، پس اللہ تعالیٰ نے ایلاء کے بارے اسلام میں ایک مدت مقرر فرما دی ، اہل علم نے اس سے اختلاف کیا ، پس اکثر اس طرف گئے ہیں کہ اگر کوئی شخص قسم اٹھائے کہ وہ بیوی کے قریب کبھی نہ جائے گا یا قریب نہ جانے کی چار ماہ سے زیادہ مدت مقرر کردی تو ایسا شخص مولی یعنی ایلاء کرنے والا ہوگا ، پس وہ چار ماہ گزرنے سے پہلے تعرض نہ کرے یعنی بیوی کے قریب نہ جائے اور چار ماہ گزرنے کے بعد اسے بیوی کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیا جائے گا یا پھر عورت کے مطالبہ پر بیوی کو چھوڑ دینے کا حکم دیا جائے گا ، ” فئی “ کا معنی یہ ہے کہ جو کچھ خاوند نے بیوی سے صحبت نہ کرنے کی بات کی ہے ، بیوی سے صحبت کرکے اپنے اس قول سے رجوع کرے ، اگر اس کو صحبت کرنے کی قدرت ہو تو اور اگر صحبت کرنے پر قادر نہیں ہے اور زبانی رجوع کرے اور اگر نہ رجوع کرے اور نہ طلاق دے تو بادشاہ مدت گزرنے کے (قاضی) ایک طلاق دے دے گا ، حضرت عمر ؓ ، حضرت عثمان ؓ تعالیٰ عنہ ، حضرت علی ؓ ، ابو الدرداء ؓ ابن عمر ؓ گئے ہیں ۔
سلیمان بن یسار فرماتے ہیں کہ میں نے دس سے زیادہ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو پایا ، سب کہتے تھے کہ ایلاء کرنے والے کو کھڑا کیا جائے گا ، سعید بن جبیر ؓ سلیمان بن یسار (رح) اور حضرت مجاہد (رح) اسی طرح گئے ہیں ۔ امام مالک (رح) ، امام شافعی (رح) ، احمد (رح) اور اسحاق (رح) نے یہی کہا ، بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب چار ماہ گزر جائیں تو عورت پر طلاقی بائنہ واقع ہوجائے گی ، یہ قول حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ ابن مسعود ؓ کا ہے ، سفیان ثوری (رح) اور اصحاب الرای نے بھی یہی کہا ہے ، حضرت سعید بن المسیب زہری (رح) فرماتے ہیں کہ طلاق رجعی واقعی ہوجائے گی اور اگر اس نے بیوی سے صحبت نہ کرنے کی قسم چار ماہ سے کم مدت پر اٹھائی تو وہ ایلاء کرنے والا نہ ہوگا بلکہ صرف قسم اٹھانے والا ہوگا ، پس اگر مدت مقرر گزرنے سے پہلے صحبت کرلی تو اس پر کفارہ یمین ہوگا اور اگر قسم اٹھائی کہ چار ماہ بیوی سے صحبت نہ کرے گا تو جو حضرات چار ماہ گزرنے پر خاوند کو رک جانے کا ذکر کرتے ہیں ان کے نزدیک یہ شخص ایلاء کرنے والا نہ ہوگا ، اس لیے کہ اس سے رجوع کرنے کا مطالبہ یا طلاق کا مطالبہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مدت ایلاء باقی ہو اور مدت تو گزر گئی اور جو حضرات اس کو رجوع کرنے یا طلاق دینے کا مطالبہ کرنے کو ضروری نہیں سمجھتے ان حضرات کے نزدیک یہ شخص ایلاء کرنے والا ہوگا اور مدت گزرتے ہی طلاق واقع ہوجائے گی ۔
امام شافعی (رح) کے نزدیک غلام اور آزاد ہر دو کے لیے مدت ایلاء چار ماہ ہے ، اس لیے کہ یہ مدت ایسے معنی کے لیے مقرر کی گئی ہے جس کا تعلق طبیعت سے ہے اور وہ ہے عورت کا خاوند کے بغیر قلیل الصبر ہونا ، اس معنی میں غلام آزاد سب برابر ہیں ، جس طرح کہ عنین کی مدت اور امام مالک (رح) اور حضرت امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ غلامی کی وجہ سے عنین ہونے کی وجہ سے مدت نصف ہوجائے گی مگر امام ابوحنیفہ (رح) مدت کے نصف ہونے میں عورت کی غلامی کا اعتبار کرتے ہیں اور امام مالک (رح) خاوند کی غلامی کا اعتبار کرتے ہیں جیسے کہ ہر دو نے طلاق کے بارے میں کہا ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد (آیت)” تربص اربعۃ اشھر “ یعنی چار ماہ کے انتظار تربص کا معنی تثبت وتوقف یعنی ٹھہرنا انتظار کرنا ۔
(آیت)” فان فاؤا “ جماع سے متعلق اٹھائی گئی قسم سے رجوع کریں ، (آیت)” فان اللہ غفور رحیم “ چار مہینے گزرنے کے بعد وطی کے ساتھ اپنی قسم سے عورتوں کی طرف رجوع کرلے تو اس صورت میں اکثر اہل علم کے ہاں اس پر کفارہ قسم واجب ہوگا ۔
حضرت حسن (بصری) (رح) ابراہیم نخعی (رح) اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں اس پر کفارہ نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مغفرت کا وعدہ فرمایا ہے ۔ پس فرمایا (آیت)” فان اللہ غفور رحیم “۔ اور اکثر حضرات کے نزدیک اس وعدہ مغفرت کا تعلق آخرت کی سزا کے ساقط ہونے سے ہے نہ کہ کفارہ سے ۔
مسئلہ : اور اگر عورت سے کہے اگر میں تیرے قریب جاؤں پس میرا غلام آزاد ہے ، کہے اگر میں تیرے قری جاؤں تو طلاق والی ہے یہ کہے اللہ تعالیٰ کے لیے میرے اوپر غلام کا آزاد کرنا ہے یا مجھ پر روزہ لازم ہے یا نماز لازم ہے اس قسم کے الفاظ کہنے والا یعنی بیوی سے صحبت کرنے پر اس قسم کی چیزیں لازم ہوجائیں ، مدت گزرنے کے بعد اسے کہا جائے گا اگر رجوع کیا تو قریب ہونے کے ساتھ معلق کی گئی طلاق واقع ہوجائے گی یا غلام آزاد ہوجائے گا اور اگر قریب ہونے سے متعلق اپنے ذمہ کوئی چیز لازم کی تھی تو بیوی سے صحبت کرنے کی صورت میں اس پر کفارہ قسم لازم ہوگا ، ایک قول کے اعتبار سے اور ایک قول کے مطابق اس پر وہ چیز لازم ہوگی جو اس نے اپنے اوپر لازم کی تھی ، مثلا غلام آزاد کرنا ، روزہ یا نماز۔
Ayah 2:227(تفسیر) 227۔:
(آیت)” وان عزموا الطلاق “ طلاق کو واقع کرکے متحقق کردیا (آیت)” فان اللہ سمیع “ (سننے والا) ان کی بات کو (علیم) (جاننے والا ہے) ان کی نیتوں کو اس میں اس بات پر دلیل ہے کہ مدت کے گزرنے کے، بعد بھی طلاق واقع نہ ہوگی ، جب تک کہ اس کو اس کا خاوند طلاق نہ دے کیونکہ اس میں عزم کی شرط کی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے (آیت)” فان اللہ سمیع علیم “ پس اللہ تعالیٰ کے اس قول نے دلالت کی کہ بیشک وہ ” مسموع “ (سنی ہوئی بات) کا فیصلہ کرتا ہے اور قول ہی وہ چیز ہے جو سنا جاتا ہے ۔
Ayah 2:228228۔ (آیت)” والمطلقات “ اپنے خاوندوں کی رسیوں (جکڑبندیوں) سے چھوٹی ہوئی ” یتربصن “ انتظار کریں (آیت)” فانفسھن ثلاثۃ قروئ “ پس نکاح نہ کریں، قروء قرء کی جمع ہے قرع کی طرح اس کی جمع ” قلت۔۔۔۔ اقرؤ“۔ اور جمع کثرت ” اقرائ “ ہے ۔
وضاحت : ۔ جمع قلت وہ ہے جو دس افراد سے کم پر بولی جائے اور جمع کثرت وہ ہے جو دس افراد یا اس سے زیادہ پر بولی جائے، قرء کے معنی ہیں اہل علم نے اختلاف کیا ہے، ایک جماعت کا مؤقف ہے کہ اس سے مراد حیض ہے، حضرت عمر ؓ حضرت علی ؓ ، حضرت ابن مسعود ؓ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے ، حضرت حسن (رح) ، حضرت مجاہد (رح) بھی یہی فرماتے ہیں ، اوزاعی (رح) ، حضرت ثوری (رح) اور اصحاب الرای اسی طرف گئے ہیں ، ان حضرات کی دلیل یہ ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے مستحاضہ (جس عورت کو خون بلاوقفہ مسلسل جاری رہے) کو فرمایا تھا ” دعی الصلوۃ ایام اقرائک “۔ یعنی حیض کے دونوں کی نماز چھوڑ دے ، اس حدیث شریف میں حضور اقدس ﷺ نے حیض کو لفظ اقراء سے تعبیر فرمایا ہے کیونکہ عورت ایام حیض کی نماز چھوڑتی ہے ۔
اور ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ قرء سے مراد طہر ہیں ، یہ قول حضرت زید بن ثابت ؓ عبداللہ بن عمر ؓ ، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کا ہے اور یہی فقہائے سبعہ کا اور امام زہری (رح) کا ہے ، ربیعہ ، (رح) امام مالک (رح) ، امام شافعی (رح) نے بھی یہی کہا ہے ۔ ان حضرات نے اس سے دلیل دی ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ نے اپنی بیوی کو طلاق دی ، جب وہ حالت حیض میں تھی ، حضور اقدس ﷺ نے حضرت عمر ؓ کو فرمایا کہ اپنے بیٹے کو حکم دو کہ وہ اپنی بیوی سے رجوع کرلے حتی کہ وہ پاک ہوجائے ، اس کے بعد چاہے تو اسے اپنے پاس روک رکھے اور چاہے تو ہاتھ لگانے (صحبت کرنے) سے پہلے طلاق دے دے ، پس یہ ہے وہ عدت جس سے متعلق اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اس کے لیے عورتوں کو طلاق دی جائے ، پس اس (واقعہ) نے خبر دی کہ زمانہ عدت جو ہے وہ طلاق ہے اور لغت کی جانب سے قول شاعر حجت ہے ۔
ففی کل عام انت جاشم غزوۃ تشد لا قصاھا عزیم عرائکا :
مورثۃ مالا وفی الحی رفعۃ لما وضاع من قروء نسائکا :
شاعر نے ان دو شعروں میں خطاب کرکے کہا کہ ہر سال تو جہاد کی طرف نکل جاتا ہے اور بیویوں سے صحبت نہیں کرتا جس سیا ن کے اقراء ضائع ہوجاتے ہیں ، خاوند کے سفر پر جانے سے اقراء کا ضیاع اس وقت ہوگا جب اقراء سے مراد طہر لیا جائے گا نہ کہ زمانہ حیض ، اختلاف کا نتیجہ اس وقت ظاہر ہوگا جب عدت بیٹھنے والی تیسرے حیض میں داخل ہوگی تو اس کے قول کے مطابق جو عدت طہر سے شمار کرتے ہیں ، عدت گزر جائے گی کیونکہ جس طہر میں طلاق واقع ہوئی ہے اس طہر کے بقیہ حصہ کو قرء میں شمار کرتے ہیں ، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ جب مطلقہ عورت تیسرے حیض میں داخل ہوگی تو وہ عورت خاوند سے بری ہے اور خاوند اس عورت سے بری ہے اور جو اس طرف گئے ہیں کہ اقراء سے مراد حیض ہے وہ کہتے ہیں کہ عدت اس وقت تک نہ گزرے گی جب تک کہ عورت تیسرے حیض سے پاک نہ ہوگی اور یہ اختلاف اس حیثیت سے ہے کہ قرء کا نام حیض اور طہر دونوں پر بولا جاتا ہے ، جیسے کہا جاتا ہے ” اقرء ت المراۃ “ جب وہ حیض والی ہوجائے اور کہا جاتا ہے ” اقرات المراۃ “ جب وہ پاک ہوجائے اور اس کی اصل میں انہوں نے اختلاف کیا تو ابو عمرو بن العلاء اور ابو عبیدہ (رح) نے کہا کہ اصل میں کسی شئی کے آنے اور جانے کے وقت کو کہا جاتا ہے چناچہ کہا جاتا ہے ” رجع فلان لقرئہ والقارئہ “ فلاں اپنے وقت پر واپس لوٹا ، یہ جملہ اس شخص کے لیے استعمال ہوتا ہے جو اپنے وقت پر واپس لوٹے اور اسی طرح کہا جاتا ہے ” ھذا قاری الریاح “ یہ ہواؤں کے چلنے کا وقت ہے ، مالک بن حرث ہذلی فرماتے ہیں ” کرھت العقر عقر بنی سلیل “ کہ ” اذا ھبت لقارئھا الریاح “ ترجمہ : میں نے بنو سلیل کی منزل کو ناپسند سمجھا ، جب ہوائیں اپنے وقت پر چلیں اس شعر کے دوسرے حصہ میں قارء کا لفظ وقت کے معنی میں استعمال ہوا ہے اور قرء بمعنی وقت حیض اور طہر دونوں کے لیے موزوں ہے کیونکہ دونوں اپنے وقت پر آتے ہیں اور بعض نے کہا ہے کہ قرء بمعنی بند کرنے اور جمع کرنے کے ہے ، عرب والے کہتے ہیں ، ” ماقرات الناقۃ سلا “ قط یعنی اونٹنی نے اپنے رحم کو بچے پر جمع نہ کیا ، یہاں عرب کے محاورہ میں قرات بمعنی جمع کرنے کے ہیں اور اسی معنی میں یہ محاورہ ہے ۔ ” قریت الماء فی المقراہ “ یعنی میں نے پانی حوض میں جمع کیا ، (یہاں ” قریت “ کا معنی میں نے جمع کیا سے کیا گیا) قریت کے لفظ میں ہمزہ چھوڑ دیا گیا ، لہذا قرء “ اس مقام پر خون کے رک جانے اور جمع ہوجانے کے معنی میں ہے ۔
پس اس معنی کی بنیاد پر طہر کے معنی کو ترجیح ہوگی کیونکہ طہر خون کو روکتا اور جمع کرتا ہے اور حیض اس خون کو چھوڑ دیتا ہے عدتوں میں مجموعی طور پر حکم یہ ہے کہ اگر عورت حاملہ ہو تو اس کی عدت وضع حمل ہے چاہے فرقت طلاق سے واقع ہوئی ہو یا خاوند کی موت سے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (کہ حمل والیوں کی عدت ان کے حمل کا وضع ہونا ہے) اور اگر حاملہ نہ ہو تو دیکھا جائے گا کہ میاں بیوی میں فرقت موت سے واقع ہوئی ہے تو عورت پر لازم ہے کہ چار ماہ دس دن عدت بیٹھے چاہے خاوند دخول سے پہلے مرجائے یا دخول کے بعد اور برابر ہے کہ عورت ایسی عمر میں میں ہو کہ اس کو حیض آتا ہے یا ان عورتوں میں سے ہو جن کو (چھوٹے یا بڑے ہونے کی وجہ سے) حیض نہیں آتا ، اللہ تعالیٰ کجے اس فرمان کے مطابق (اور جو تم میں سے مرجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں وہ عورتیں اپنے آپ کو (بطور عدت کے چار ماہ دس دن روکے رکھیں) اور اگر میاں بیوی میں فرقت طلاق کی وجہ سے ہوئی ہے تو پھر دیکھا جائے گا کہ اگر طلاق دخول سے پہلے واقع ہوئی تو اس عورت پر کچھ عدت نہیں ، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مطابق (جب تم مؤمن عورتوں سے نکاح کرو) پھر تم ان کو ہاتھ لگانے سے (یعنی صحبت کرنے سے) پہلے طلاق دے دو پھر تمہارے لیے ان عورتوں پر کچھ عدت نہیں ، جو وہ عدت گزاریں) اگر طلاق دخول کے بعد واقع ہوئی ہے تو پھر دیکھا جائے گا کہ عورت کو ابھی تک حیض بالکل نہیں آیا یا عورت عمر کے اس حصہ کو پہنچ چکی ہے جس میں حیض بند ہوجاتا ہے تو ایسی عورت کی عدت تین ماہ ہے ، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مطابق (اور وہ جو حیض آنے سے مایوس و ناامید ہوگئی ہیں تمہاری عورتوں میں سے (ان کی عدت میں) اگر تم کو شبہ پڑے تو ان کی عدت تین ماہ ہے)
اور اگر وہ (مطلقہ) ان عورتوں میں سے جن کو حیض آتا ہے تو اس کی عدت تین حیض ہیں ، اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے مطابق (کہ مطلقہ عورتیں اپنے آپ کو (بطور عدت کے) تین حیض روکے رکھیں) اور اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد (آیت)” یتربصن بانفسھن “ لفظ کے لحاظ سے خبر اور معنی کے لحاظ سے امر ہے اور باندی اگر حاملہ ہے تو آزاد عورت کی طرح اس کی عدت وضع حمل ہے اور باندی اگر غیر حاملہ ہے تو خاوند فوت ہونے کی صورت میں اس کی عدت دو ماہ پانچ راتیں ہیں اور طلاق کی صورت میں اگر باندی کو حیض آتا ہے تو عدت دو حیض ہے اور اگر باندی کو حیض نہیں آتا تو عدت دیڑھ ماہ ہے اور کہا گیا ہے کہ حیض کی طرح دو ماہ عدت ہے حضرت عمر بن خطاب ؓ فرماتے ہیں کہ غلام دو عورتوں سے نکاح کرسکتا ہے اور دو طلاقیں دے سکتا ہے اور باندی دو حیض عدت بیٹھے اگر اس کو حیض نہ آتا ہو تو دو ماہ عدت بیٹھے یا ڈیڑھ ماہ ۔
(آیت)” ولا یحل لھن ان یکتمن ما خلق اللہ فی ارحامھن “۔ حضرت عکرمہ (رح) فرماتے ہیں اس سے مراد حیض ہے اور وہ اس وقت جب خاوند رجوع کا ارادہ کرے ، پس وہ عورت کہے کہ میں تین حیض گزار چکی ہوں ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ اس سے مراد حمل ہے اور اس آیت کا معنی ہے کہ عورت کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس کو چھپائے جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اس کے رحم میں پیدا کیا ہے ۔
حیض یا حمل تاکہ خاوند کا حق جو رجوع یا ولاد سے متعلق ہے باطل ہوجائے ، (آیت)” ان کن یؤمن باللہ والیوم الاخر “ اس کا معنی یہ ہے کہ (شریعت کے اس حکم پر عمل کرنا) مؤمن کا یہ شیوہ ہے اگرچہ مومنہ کافرہ دونوں اس حکم میں برابر ہیں ، اس کی مثال ایسے ہے جیسے کہ تو کہے میرا حق ادا کر اگر تو مومن ہے تو مراد یہ ہوتی ہے کہ حق ادا کرنا ایمان والوں کا طریقہ ہوتا ہے ” وبعولتھن “ ان کے خاوند بعولۃ جمع بعل کی ہے جیسے فحولۃ جمع فحل کی ہے، خاوند کو بعل اس لیے کہا گیا ہے کہ وہ بیوی کے کاموں کا نگران وذمہ دار ہے ، بعل کا اصل معنی سردار داور مالک ہے ” احق بردھن “ زیادہ حق دار ہیں ، بیویوں کو اپنی طرف لوٹانے کے بارے میں ” فی ذالک “ حالت عدت میں ” ان ارادوا اصلاحا “ رجوع کرنے سے ان کی مراد اصلاح اور حسن معاشرت ہو نہ کہ نقصان پہنچانا ، جیسا کہ وہ زمانہ جاہلیت میں کرتے تھے کہ ان میں سے کوئی آدمی بیوی کو طلاق دیتا پس جب عدت گزرنے کے قریب ہوتی تو رجوع کرلیتا پھر کچھ مدت چھوڑ دیتا پھر اس کو طلاق دے دیتا پھر جب عدت گزرنے کے قریب ہوتی بیوی سے رجوع کرلیتا پھر کچھ عرصہ اس کو طلاق دے دیتا ، اس سے اس کا مقصد بیوی پر عدت کو لمبا کرنا ہوتا تھا ، ” ولھن “ عورتوں کے لیے خاوندوں پر ” مثل الذین علیھن “ خاوندوں کے لیے (یعنی جس طرح خاوندوں کے حقوق عورتوں پر اسی طرح عورتوں کے حقوق بھی خاوندوں پر ہیں) ” بالمعروف “ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ اس کے معنی کے بارے میں فرماتے ہیں میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ میں بیوی کی خاطر بن سنور کر رہوں جس طرح وہ میری اس بات کو پسند کرتی ہے کہ وہ میری خاطر بن سنور کر رہے ۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” ولھن مثل الذی علیھن بالمعروف “۔
سوید نے حکیم بن معاویہ قشیری سے روایت کی ، حکیم نے اپنے باپ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے روایت کی ۔ وہ کہتے ہیں میں نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ ہم میں سے کسی کی بیوی کا اس پر کیا حق ہے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا جب تو خود کھلائے تو اس کو کہلائے اور جب تو خود کپڑا پہنے بیوی کو بھی پہنائے ، اس کو چہرے پر نہ مارے ، اس کو برا نہ کہے اور اس سے جدائی اختیار نہ کرے مگر گھر کی حدود کے اندر اندر ۔
حاتم بن اسماعیل مدنی نے خبر دی ، وہ جعفر بن محمد سے روایت کرتے ہیں وہ اپنے والد سے کہتے ہیں کہ ہم حضرت جابر بن عبداللہ ؓ کے پاس گئے، پس میں نے عرض کی ہمیں حضور ﷺ کے حج مبارک کے بارے میں بیان کیجئے ۔
پس انہوں نے حجۃ الوداع کا پورا قصہ بیان کیا ، یہاں تک کہ حضور اقدس ﷺ کا نویں ذوالحجہ کا خطبہ بیان کیا ، فرمایا دو عورتوں کے معاملہ میں خدا کا خوف کرو، بیشک تم نے ان کو اللہ تعالیٰ کی امانت کے ساتھ لیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے ساتھ ان کی شرمگاہوں کو اپنے لیے حلال کیا ہے اور تمہارا ان بیویوں کے ذمہ یہ حق ہے کہ وہ کسی کو تمہارے بستروں پر نہ آنے دیں جو تمہیں پسند نہیں (یعنی گھر میں داخل نہ ہونے دیں) اگر وہ ایسا کریں تو ان کو مارو مگر وہ مار اذیت ناک بستروں پر نہ آنے دیں جو تمہیں پسند نہیں (یعنی گھر میں داخل نہ ہونے دیں) اگر وہ ایسا کریں تو ان کو مارو مگر وہ مار اذیت ناک نہ ہو اور ان عورتوں کے لیے تمہارے اوپر لازم ہے ان کا رزق ان کے کپڑے معروف طریقہ پر اور بیشک میں چھوڑ چلا ہوں تمہارے اندر وہ کچھ اگر تم اس کو مضبوطی سے تھام لو تو کبھی گمراہ نہ ہو گے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی کتاب یعنی قرآن کریم اور تم میرے بارے میں پوچھے جاؤ گے ۔ پس تم کیا کچھ کہنے والے ہو گے ؟ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے فرمایا ہم گواہی دیں گے بیشک آپ نے پہنچا دیا اور اپنی امت کی ” امانۃ الہیہ کو “ ادا کردیا خیر خواہی کی ، حضور ﷺ نے اپنی انگشت سبابہ کے ساتھ اشارہ فرمایا کہ اس کو آسمان کی طرف بلند فرماتے تھے اور لوگوں کی طرف جھکاتے ، اے اللہ ! تو گواہ ہوجا یہ تین دفعہ فرمایا ۔
حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا (ایمان والوں میں کامل ترین ایمان والا وہ شخص ہے جو ان میں سے اچھے اخلاق والا ہے اور تم میں سے بہتر وہ لوگ ہیں جو اپنی بیوی کے حق میں اچھے ہیں) اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ” وللرجال علیھن درجہ “ ۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ (کہ مردوں کا عورتوں پر ایک درجہ فائق ہونا) اس لیے ہے کہ مرد عورت کو حق مہر ادا کرتا ہے اور اس پر خرچ کرتا ہے ، حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں (مردوں کا ایک درجہ فائق ہونا) جہاد کے اعتبار سے ہے (کہ مرد جہاد کرتا ہے عورت جہاد کی فضیلت سے محروم ہے) بعض نے کہا ہے (مرد کی بالاتری) عقل کے اعتبار سے بعض نے کہا ہے شہادت کے اعتبار سے بعض نے کہا ہے کہ میراث کے لحاظ سے (کہ مرد بنسبت عورت کے زیادہ میراث پاتا ہے) بعض نے کہا ہے باعتبار دیت کے کہا گیا کہ طلاق کے لحاظ کہ طلاق کا معاملہ مرد کے ہاتھ میں ہے ، بعض نے کہا (کہ رجعی طلاق میں) رجوع کرنے کے اعتبار سے سفیان اور زید بن اسلم ؓ فرماتے ہیں امارہ امیر بننے کئے لحاظ سے قتیبی (رح) فرماتے ہیں (آیت)” وللرجال علیھن درجہ “۔ کا معنی ہے حق میں فضیلت کے لحاظ سے (آیت)” واللہ عزیز حکیم “۔
ہمیں احمد بن محمد بن عیسیٰ برنی نے خبر دی (وہ کہتے ہیں) ہمیں حذیفہ نے خبر دی (وہ کہتے ہیں) ہمیں سفیان نے خبر دی سفیان نے اعمش سے روایت کی ، اعمش نے ابو ظبیان (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے روایت کی کہ بیشک معاذ بن جبل ایک جہاد میں نکلے جس میں حضور ﷺ نے ان کو بھیجا تھا ، پھر واپس ہوئے وہاں لوگوں کو دیکھا تھا کہ بعض بعض کو سجدہ کرتے تھے حضرت معاذ ؓ نے اس کا ذکر حضور ﷺ سے کیا ، پس حضور ﷺ نے فرمایا اگر کسی کو میں حکم دیتا کہ وہ کسی کو سجدہ کرے تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے ۔