Ayahs 2:128–129(تفسیر) 128۔:
(آیت)” ربنا واجعلنا مسلمین لک “ موحدین مطیع اور مخلص اور اپنی ذات عالی کے حضور جھکنے والا بنا ۔ ” ومن ذریتنا “ ہماری اولاد (میں سے) امۃ جماعت اور امت نبیوں کے پیروکاروں کو کہا جاتا ہے ، (آیت)” مسلمۃ لک “ تیرے حضور عاجزی کرنے والے جھکنے والے ” وارنا “ ہمیں سکھا اور ہمیں معرفت بخش ، ابن کثیر نے راء کو ساکن کر کے پڑھا ہے یعنی ” ارنا “ پڑھا ہے اور ابو عمر ؓ نے اختلاس کے ساتھ پڑھا یعنی حرکت کو بھرپور نہیں پڑھا اور باقیوں نے زیر کے ساتھ پڑھا ہے ، ابن عامر اور ابوبکر نے ” ارنا “ کو ساکن کرنے میں حم سجدہ میں موافقت کی ہے۔ ” ارنا “ اصل میں ” ارئنا “ تھا ، پس تخفیف کے لیے ہمزہ کو حذف کردیا گیا اور ہمزہ کی حرکت راء کی طرف نقل کردی گئی اور جن حضرات نے ” ارنا “ پڑھا یعنی راء کو جزم دی وہ کہتے ہیں جہاں ہمزہ گیا وہاں کی حرکت بھی گئی ، ” مناسکنا “ ہمارے دین کے احکام اور ہمارے حج کے نشانات اور کہا گیا ہے کہ مناسکنا کا معنی ہے حج کی جگہیں ، حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں ” مناسکنا “ کا معنی ہے ” مذابحنا “ یعنی ذبح کی جگہیں نسک کا معنی ذبح ہے اور کہا گیا ہے مناسکناکا معنی ہے ” متعبداتنا “ یعنی ہماری عبادت گاہیں اور نسک کا اصل معنی عبادت ہے ناسک عبادت گزار کو کہتے ہیں ۔
پس اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی دعا کو قبول فرمایا ۔ پس حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو بھیجا ، انہوں نے ان دونوں کو عرفہ کے دن مناسک یعنی عبادات سجھائے سمجھائے جب عرفات میں پہنچے تو حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے فرمایا ” عرفت ابراھیم “ اے ابراہیم تم جان گئے ؟ بھیجا ہوا انہیں میں سے اس سے مراد حضرت محمد ﷺ ہیں، حضرت عرباض بن ساریہ ؓ حضور اقدس ﷺ سے روایت کرتے ہیں فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا بیشک میں تمہیں اپنے آغاز کی خبر دیتا ہوں میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا ہوں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی خوشخبری ہوں اور اپنی والدہ کے ان خوابوں کی تعبیر ہوں جو انہوں نے میری پیدائش کے وقت دیکھے اور وہ خواب یہ تھا کہ مجھ سے ایک نور نکلا جس کی وجہ سے میری والدہ کے لیے شام کے محلات روشن ہوگئے اور دعائے ابراہیمی سے مراد حضور ﷺ نے یہ دعا لی ہے پس انہوں نے دعا فرمائی کہ بنو اسماعیل (علیہ السلام) میں سے ایک رسول بھیجا جائے ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) کا تعلق بنی اسرائیل سے ہے سوائے دس کے اور وہ دس یہ ہیں ، نوح ، ہود، صالح ، شعیب ، لوط ، ابراہیم ، اسماعیل ، اسحاق، یعقوب (علیہم السلام) اور حضرت محمد کریم ﷺ ” یتلوا “ پڑھے ” علیھم ایاتک “ تیری کتاب یعنی قرآن آیت قرآنی کلام متصل کا نام ہے ختم ہونے تک اور کہا گیا ہے چند حروف کے مجموعہ کا نام ہے چناچہ کہا جاتا ہے ، (آیت)” خرج القوم بایتھم “ یعنی اپنی جماعت سمیت قوم نکلی ” ویعلمھم الکتاب “ یعنی قرآن ” والحکمۃ “ حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں حکمت سے مراد فہم قرآن ہے ، حضرت مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ حکمت سے مراد مواعظ قرآن یعنی قرآنی نصیحتیں ہیں اور جو کچھ قرآن پاک میں احکام ہیں حضرت قتیبہ (رح) فرماتے ہیں کہ حکمت سے مراد علم وعمل ہے اور آدمی اس وقت تک حکیم نہیں ہوتا یہاں تک کہ ۔
وہ علم وعمل کو جمع کرلے اور کہا گیا ہے کہ حکمت سنت و احکام کا نام ہے اور کہا گیا ہے حکمت فیصلہ کرنے کی قوت کا نام ہے اور کہا گیا ہے کہ حکمت فقہ ہے یعنی دین کی سمجھ ابوبکر بن ورید فرماتے ہیں کہ ہر وہ بات جو تجھے نصیحت کرے یا تجھے اچھے خلق کی طرف دعوت دے یا تجھے برائی سے منع کرے ، پس وہ حکمت ہے (آیت)” ویزکیھم “ یعنی ان کو شرک اور گناہوں سے پاک کرے اور کہا گیا ہے کہ جب وہ آپ کی امت کے لوگ انبیاء کرام (علیہم السلام) کے حق میں تبلیغ احکام سے متعلق گواہی دیں گے ” یزکیھم “ تزکیہ سے مشتق ہوا جس کے معنی تعدیل کے ہیں یعنی دوسرے کو عادل ثابت کرنا بیان (آیت)” انک انت العزیز الحکیم “ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں عزیز کے معنی ہیں کہ اس جیسا نہ پایا جائے ، کلبی (رح) فرماتے ہیں عزیز کے معنی منتقم کے ہیں اس قول کا بیان فرمان الہی ہے ، (آیت)” واللہ عزیز ذوانتقام “ اور کہا گیا ہے عزیز کے معنی منع کے ہیں یعنی جس پر کسی کا قابو نہ چلے اور کہا گیا ہے عزیز بمعنی ” القوی عزۃ “ قوت ہی تو ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” فعززنا بثالث فقالوا “ تو یہاں عززنا بمعنی قوینا ہے یعنی ہم نے قوت دی اور کہا گیا ہے عزیز کے معنی غالب کے ہیں ، اللہ تعالیٰ ایک (مدعی) انسان کو خبر دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں ۔ (آیت)” وعزنی فی الخطاب “ کہ گفتگو میں وہ مجھ پر غالب آتا ہے ، چناچہ مثال مشہور ہے ، ” من عزبز “ یعنی ” من غلب سلب “ کہ جو غالب آیا اس نے چھین لیا۔
Ayah 2:130(تفسیر) 130۔:
(آیت)” ومن یرغب عن ملۃ ابراھیم “ اور یہ اس طرح ہوا کہ حضرت عبداللہ بن سلام ؓ نے اپنے دو بھتیجوں سلمہ اور مہاجر کو اسلام کی طرف دعوت دی ، پس ان دونوں کو کہا تحقیق تم جانتے ہو کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے تورات میں فرمایا ہے کہ میں اولاد اسماعیل (علیہ السلام) سے ایک نبی بھیجنے والا ہوں جس کا نام احمد ﷺ ہوگا پس جو شخص ایمان لایا پس وہ ہدایت پا گیا اور جو ایمان نہ لایا وہ ملعون ہے تو اس پر سلمہ تو ایمان لے آیا اور مہاجر نے اسلام لانے سے انکار کردیا ، اللہ تعالیٰ نے یہ نازل فرمائی (آیت)” ومن یرغب عن ملۃ ابراہیم “ اس کا معنی یہ ہوا کہ جس نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین اور شریعت کو چھوڑ دیا کہا جاتا ہے ” رغب فی الشیئ “ اس نے کسی چیز میں رغبت کی جب اس شیء کا اس نے ارادہ کیا اور کہا جاتا ہے رغب عنہ جب اس نے اس کو چھوڑ دیا اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ” من “ یہ لفظ پوچھنے کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اس کا معنی اس مقام پر ڈانٹ ڈپٹ ہے یعنی کوئی شخص بھی ملت ابراہیم سے اعراض نہیں کرتا (آیت)” الا من سفہ نفسہ ‘ اس جملہ کا معنی حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں ” من خسر نفسہ “ ہے یعنی جس شخص نے اپنے آپ کو خسارہ میں ڈال دیا ، کلبی کہتے ہیں کہ جو شخص اپنی ذات کے اعتبار سے گمراہ ہوگیا اور ابوعبیدہ ؓ کہتے ہیں اس کا معنی ہے ” من اھلک نفسہ “ جس نے اپنے آپ کو ہلاک کردیا ۔ ابن کیسان اور زجاج کہتے ہیں اس کا معنی ہے ” من جھل نفسہ “ جو اپنے آپ سے جاہل رہا یعنی جس نے اپنے آپ کو نہ پہچانا ” سفاھۃ “ کا معنی ” جھالۃ “ اور کمزور رائے کا ہونا ہے ہر سفیہ جاہل ہے (بےوقوف) جس نے اللہ تعالیٰ کے ماسوی کی عبادت کی وہ اپنے آپ سے جاہل رہا اور اپنے آپ کو اس نے نہ پہچانا ، تو خالق کو بھی نہ پہچان سکا ، جیسا کہ مقولہ ہے ” من عرف نفسہ فقد عرف ربہ “ جس نے اپنے آپ کو پہچانا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا ، روایات میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کی طرف وحی فرمائی ، اپنے آپ کو پہچان اور مجھے پہچان ، حضرت داؤد (علیہ السلام) نے عرض کی ، اے میرے رب ! میں اپنے نفس کو کیسے پہچانوں اور تجھے کیسے پہچانوں ۔ اللہ تعالیٰ نے وحی فرمائی کہ اپنے نفس کو ضعف کے ساتھ اور عجز وفنا کے ساتھ پہچان یعنی اس حقیقت کو ذہن نشین کرلے تو کمزور ، عاجز اور فامنی ہے اور مجھے قوت قدرت اور بقاء کے ساتھ پہچان کہ میں قوۃ والا قدرۃ والا اور باقی ہوں ، حضرت اخفش ؓ فرماتے ہیں ” سفہ نفسہ “ کا معنی ہے ” سفہ فی نفسہ “ اس صورت میں نفسہ منصوب بنزع الخافض حرف صفت ہوگا ۔
فراء کہتے ہیں نفسہ تفسیر کی بنیاد پر منصوب ہے گویا کہ اصل عبارت تھی ” سفھت نفسہ “ اس کا نفس ناسمجھ نادان ہوا پس جب ” سفھہ “ کا فعل صاحب نفس کی طرف منسوب ہوا تو نفس تفسیر کرنے والا ہوگیا تاکہ جانا جائے کہ ” سفاھۃ کا محل اور مقام کیا ہے یعنی نفس ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے ” ضقت بہ ذرعا یا ضاق ذرعی بہ “ یعنی میرے تنگ ہونے کا محل اور مقام ذرع یعنی د ل ہے ۔
(آیت)” ولقد اصطفیناہ فی الدنیا “ اس کو ہم نے دنیا میں منتخب اور چن لیا (آیت)” انہ فی الاخرۃ لمن الصالحین “ وہ آخرت میں نبیوں کے ساتھ جنت میں ہوگا ، حسین بن فضل (رح) فرماتے ہیں کہ اس عبارت میں تقدیم و تاخیر ہے ، تقدیر عبارت یوں ہوگی ، ”(آیت)” ولقد اصطفیناہ فی الدینا والاخرۃ وانہ لمن الصالحین “ کہ ہم نے اس کو دنیا اور آخرت میں چن لیا اور بیشک وہ صالحین میں سے ہیں ۔
Ayah 2:131131۔ (آیت)” اذ قال لہ ربہ اسلم “ یعنی اسلام پر مستقیم رہ اور اسی پر ثابت قدم رہ کیونکہ وہ تو پہلے سے مسلم تھے تو رب اسلم کا یہ معنی نہ ہوگا کہ اسلام لا بلکہ معنی ہوگا اسلام پر قائم اور گامزن ثابت قدم رہ ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ اس وقت فرمایا ۔
جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) غار سے نکلے حضرت کلبی (رح) فرماتے ہیں اسلم کا معنی ہے کہ اپنے دین اور عبادات کو خالصتا اللہ تعالیٰ کے لیے کیجئے حضرت عطاء (رح) فرماتے ہیں اس کا معنی ہے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کیجئے اور اپنے معاملات اسی کے حوالہ کیجئے (آیت)” قال اسلمت لرب العالمین “ یعنی میں نے سپرد کیا حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے اس قول کو ثابت کر دکھایا کہ جب وہ آگ میں ڈالے گئے تو فرشتوں میں سے کسی ایک سے بھی مدد نہ چاہی ۔
Ayah 2:132(تفسیر) 132۔:
(آیت)” ووصی بھا ابراھیم بنیہ و یعقوب “ اہل مدینہ اور اہل شام ” اوصی “ پڑھا ہے یعنی الف کے ساتھ اور ان کے مصاحف میں بھی ایسے ہی ہے اور باقیوں نے ” ووصی “ شد کے ساتھ پڑھا ہے اور اس میں دونوں لغتیں ہیں جیسے ” انزل اور نزل “ ہیں اور اس کا معنی ہے کہ وصیت فرمائی ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں کو اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے بھی اپنے بیٹوں کو کلمہ اخلاص کی وصیت فرمائی جو کہ لا الہ الا اللہ “ ہے ، حضرت ابو عبیدہ ؓ فرماتے ہیں اگر تیرا جی چاہے تو ” بھا “ کی ضمیر کو ملت کی طرف راضع کر کیونکہ پہلے ملت ابراہیم کا ذکر ہے اور اگر تو چاہے تو بھا کی ضمیر وصیت کی طرف راجع کرے یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے آٹھوں بیٹوں کو وصیت فرمائی ، اسماعیل (علیہ السلام) کو اور ان کی والدہ ہاجرہ قبطیہ کو حضرت اسحاق (علیہ السلام) اور اس کی والدہ سارہ کو اور باقی چھ بیٹوں کو اور ان کی والدہ قنطورا بنت یقطن کنعانیہ (علیہم السلام) کو جس کیس اتھ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سارہ کی وفات کے بعد شادی کی تھی اور یعقوب (علیہ السلام) کا نام یعقوب (علیہ السلام) اس لیے رکھا گیا کہ یعقوب (علیہ السلام) اور ان کے بھائی عیص جڑواں تھے ، پیدائش کے وقت عیص پہلے اپنی ماں کے پیٹ سے نکلے اور ان کے پیچھے حضرت یعقوب (علیہ السلام) عیص کی ایڑی پکڑے ہوئے نکلے ۔
یہ قول حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کا ہے اور بعض نے کہا کہ یعقوب (علیہ السلام) کا نام یعقوب (علیہ السلام) اس لیے ہے کہ انکی عقب بہت زیادہ ہے ، ان کے بعد رہنے والی ان کی نسل کی تعداد کثیر ہے ، حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے بھی اپنے بارہ بیٹوں کو وصیت فرمائی ” یابنی “ اس کا معنی ہے یعنی اے میرے بیٹو ! (آیت) ” ان اللہ اصطفی “ چن لیا ، پسند کیا ، ” لکم الدین “ یعنی دین اسلام (آیت)” فلا تموتن الا وانتم مسلمون “ ایمان والے ہو کر مرنا اور کہا گیا ہے مخلص ہو کر اور کہا گیا ہے مفوضون یعنی اپنا معاملہ خدا کے سپرد کیے ہوئے مرنا ظاہرا انہیں موت پر واقع ہے ، درحقیقت ترک اسلام سے ان کو منع کیا گیا ، اس کا معنی ہوگا اسلام پر ہمیشگی اختیار کرنا حتی کہ تمہیں موت نہ آئے مگر اس حالت میں کہ تم مسلم ہو ، فضیل ابن عیاض (رح) سے روایت ہے بیشک اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت)” الا وانتم مسلمون “ یعنی اپنے رب تعالیٰ سے حسن ظن رکھتے ہوئے مرنا ، جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں میں نے حضور ﷺ کو وفات سے تین دن پہلے سنا ، آپ ﷺ نے فرمایا ” لایموتن احدکم “ تم میں سے کوئی ایک نہ مرے مگر اس حالت میں کہ وہ اللہ تعالیٰ سے حسن ظن رکھتا ہو۔
Ayah 2:133133۔ (آیت)” ام کنتم شھدائ “ یعنی کیا تم موجود تھے اس جملہ سے مراد یہ ہے کہ تم حاضر گواہ نہ تھے ، (آیت)” اذ حضر یعقوب الموت “ یعنی حضرت یعقوب (علیہ السلام) موت کے قریب کہا گیا ہے کہ یہ آیت یہود کے بارے میں نازل ہوئی جب انہوں نے حضور ﷺ سے کہا کیا آپ جانتے نہیں کہ بیشک حضرت یعقوب (علیہ السلام) جب فوت ہوئے تو انہوں نے اپنی اولاد کو یہودیت یعنی یہودی ہونے کی وصیت کی تھی اس بنیاد پر یہ یہود سے خطاب ہوگا کلبی (رح) کہتے ہیں جب حضرت یعقوب (علیہ السلام) مصرف میں داخل ہوئے تو اہل مصر کو دیکھا کہ قوم بتوں اور آگ کی پوجا کرتی ہے تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنی اولاد کو شرک میں مبتلا ہونے کے خوف سے جمع کیا اور نصیحت فرمائی پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت)” اذ قال لبینہ ما تبدون من بعدی “ حضرت عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کبھی کسی نبی کی روح قبض نہیں فرمائی یہاں تک کہ اسے موت وحیات کے درمیان اختیار بخشا (یعنی وہ دنیا میں زندہ رہنا چاہتے ہیں یا موت قبول فرما کر برزخ میں تشریف لانا چاہتے ہیں) جب اللہ تعالیٰ نے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو اختیار دیا تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے بارگاہ صمدیت میں عرض کی کہ اے میرے رب ! مجھے مہلت بخش یہاں تک کہ میں اپنی اولاد سے پوچھ لوں اور انہیں وصیت کرلو ، چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو مہلت عنایت فرمائی تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنی اولاد کو اور اولاد کی اولاد کو جمع فرمایا ۔
اور ان کو فرمایا میری موت آچکی ہے تو میرے بعد کس کی عبادت کرو گے ؟ (آیت)” قالوا نعبد الھک والہ ابائک ابراھیم واسماعیل واسحاق “ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ان کے چچا تھے ، اہل عرب چچا کو باپ کہتے ہیں جیسے کہ خالہ کو ماں کہتے ہیں ،حضور ﷺ نے فرمایا ” عم الرجل صنوابیہ “ آدمی کا چچا اس کے باپ کی مانند ہے اور حضور ﷺ نے اپنے چچا عباس ؓ کے بارے میں فرمایا ” ردوا علی ابی فانی اخشی ان تفعل بہ قریش مافعلت ثقیف بعروۃ بن مسعود “ میرے اوپر میرے والد کو لوٹا دو مجھے ڈر ہے کہ اس کے ساتھ قریش وہی معاملہ نہ کریں جو قبیلہ ثقیف نے عروۃ بن مسعود کے ساتھ کیا تھا یعنی کہیں قتل نہ کر ڈالیں ، اب اس فرمان نبوی میں حضور ﷺ نے اپنے چچا عباس ؓ کو اپنا باپ فرمایا ہے ۔ ” الھا واحدا “ یہاں الھا کا لفظ اللہ تعالیٰ کے اس قول ” الھک “ سے بطور بدل کے منصوب ہے اور کہا گیا ہے ” الھا “ منصوب ہے بایں ترکیب ” ایہ نعرفہ الھا واحدا “ کہ ہم اس کو ایک معبود جانتے پہچانتے ہیں ، (آیت)” ونحن لہ مسلمون “
Ayah 2:134(تفسیر) 134۔:
(آیت)” تلک امۃ “ جماعت (آیت)” قدخلت “ گذر چکی ۔ (آیت)” لھا ماکسبت “۔ جو عمل کیا ہوگا وہی کام آئے گا (آیت)” ولکم ماکسبتم ولا تسئلون عما کانوا یعملون “ ہر شخص سے اپنے ہی عمل کے بارے میں سوال کیا جائے گا نہ کہ کسی اور کے عمل کے بارے میں ۔
Ayah 2:135135۔ (آیت)” وقالوا کونوا ھودا اونصاری تھتدوا “ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں ۔ مدینہ کے کعب بن اشرف مالک بن صیف وہب بن یہودا بو یاسر بن اخطب اور نجران السید اور عاقب وغیرہ سب جمع ہوئے اور مسلمانوں سے دین کے بارے میں مناظرہ کیا ، ہر گروہ اس بات کا مدعی تھا کہ وہ دین الہی کا زیادہ حق دار ہے ، پس یہود نے کہا ہمارا نبی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تمام نبیوں سے افضل ہے اور ہماری کتاب تورات تمام کتابوں سے افضل ہے اور ہمارا دین تمام ادیان سے افضل ہے اور انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب انجیل اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ اور قرآن کریم کا انکار کیا اور عیسائیوں نے کہا ہمارا نبی تمام نبیوں سے افضل ہے اور ہماری کتاب انجیل تمام کتابوں سے افضل ہے اور ہمارا دین ادیان عالم سے افضل ہے اور انہوں نے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ اور قرآن کریم کا انکار کیا اور یہودیوں ، عیسائیوں دونوں گروہوں میں سے ہر ایک نے ایمان والوں کو کہا ” کونوا علی دیننا “ ہمارے دین پر آجاؤ ۔ اس دین کے علاوہ اور کوئی دین ہے ہی نہیں ، اس پر حق تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائی ، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” قل “ یا محمد فرما دیں (آیت)” بل ملۃ ابراھیم “ بلکہ ہم تو پیروی کریں ملت ابراہیم (علیہ السلام) کی ، کسائی کہتے ہیں کہ ملت کے لفظ کی زیر ، بطور اغراء کے ہے یعنی برانگیختہ اور ابھارنے کے طور پر ہے ، گویا اتباع ملت ابراہیم پر ابھارا گیا ہے ، تقدیر عبارت یوں ہوگی گویا کہ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں (آیت)” اتبعوا ملۃ ابراھیم “ کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت کی اتباع کرو اور کہا گیا ہے (آیت)” بل ملۃ ابراہیم “ کا معنی یوں ہوگا بلکہ ہم تو ملت ابراہیم (علیہ السلام) پر ہو رہیں گے اور بل ملۃ ابراھیم کی اصل عبارت یوں تھی ” بل تکون علی ملۃ ابراھیم “ اس عبارت سے علی کو حذف کردیا گیا ۔ پس ملۃ کا لفظ منصوب رہ گیا ، ” حنیفا “ لفظ حنیف بصری ، نحویوں کے نزدیک حال پر منصوب ہے اور کوفی نحویوں کے نزدیک نصب علی القطع ہے ۔ گویا اس سے مراد یوں ہے ملت ابراہیم الحنیف جب الحنیف سے لام گرگیا ، تو لفظ حنیف نکرہ ہونے کی بناء پر معرفہ کے تابع نہ ہوسکا پس اس سے کٹ گیا ، پس اس پر اس قطع کے باعث نصب آگئی ، مجاہد فرماتے ہیں ، الحنیفۃ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس لائی ہوئی شریعت کے پیروکاروں کی جماعت ہے جس کے باعث حضرت ابراہیم (علیہ السلام) امام بن گئے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں الحنیف وہ شخص جو تمام ادیان باطل سے منہ موڑ کر صرف دین اسلام کی طرف جھک جائے ، یہ حنف سے مشتق ہے اور حنف کا معنی وہ میلان اور ٹیڑھا پن ہے جو کہ قدم میں ہوتا ہے اور سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں کہ حنیف حج کرنے والے اور ختنہ شدہ شخص کو کہتے ہیں۔
حضرت ضحاک (رح) فرماتے ہیں جب ” حنیفا مسلما “ ہو یعنی لفظ حنیف کے ساتھ مسلم کا لفظ بھی مستعمل ہو تو اس حنیف سے مراد الحاج ہے اور جب حنیف کے لفظ کے ساتھ مسلم کا لفظ نہ ہو تو وہ حنیف بمعنی مسلم ہے، حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں ” الحنیفۃ “ ختنہ کرانے ماؤں کے حرام کرنے بیٹوں ، بہنوں ، پھوپھیوں ، خالاؤں کے حرام کرنے اور احکام الہی بجا لانے کا نام ہے ۔ (آیت)” وما کان من المشرکین “ پھر ایمان والوں کو طریقہ ایمان سکھایا ، پس فرمایا ۔
Ayah 2:136(تفسیر) 136۔:
(آیت)” قولوا امنا باللہ واما انزل الینا “ یعنی قرآن ” وما انزل الی ابراھیم “ اور وہ دس صحیفے (واسماعیل واسحاق و یعقوب والاسباط) یعنی اولاد یعقوب اور وہ بارہ خاندان ، ان کے ایک خاندان کو سبط کہا جاتا ہے ، ان کو سبط کا نام اس لیے دیا گیا کہ اولاد یعقوب میں سے ہر ایک کے ہاں ایک جماعت پیدا ہوئی کسی آدمی کے سبط کا معنی اس کا پوتا یا نواسا ہوتا ہے اسی باعث حضرت حسن ؓ اور حضرت حسین ؓ کو سبط رسول کہا گیا اور بنی اسرائیل کے سبط ایسے تھے جیسے اہل عرب کے ہاں قبائل ہیں جو کہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد ہیں یا پھر شعوب اہل عجم کے ہاں ہیں ۔ (گویا کہ یہ اصطلاحی نام ہے کسی بڑے خاندان کو جس طرح اہل عرب قبیلہ اس کی جمع قبائل استعمال ہوتی ہے اور عجم میں بڑے خاندان کو شعب اور اس کی جمع شعوب ہے، اسی طرح بنواسرائیل کے ہاں یہ اصطلاح تھی کہ ان کے بڑے خاندان کو سبط اور اس کی جمع اسباط استعمال ہوتی ہے)
منجانب : مترجم : اور ان کے اسباط میں انبیاء تھے اور اسی لیے فرمایا (آیت)” وما انزل الیھم “ اور کہا گیا ہے اس سے مراد حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی صلبی اولاد ہے جو سب کے سب نبی تھے (آیت)” وما اوتی موسیٰ “ یعنی تورات ” و عیسیٰ “ یعنی انجیل ” وما اوتی “ بمعنی اعطی یعنی عطا کیے گئے (آیت)” النبییون من ربھم لا نفرق بین احد منھم “ یعنی ہم سب پر ایمان رکھتے ہیں (ایمان لانے میں) ہم ان میں سے کسی ایک کے درمیان نہیں کرتے کہ ہم بعض پر ایمان لائیں اور بعض پر ایمان نہ لائیں اس کا کفر کریں جیسا کہ یہود و نصاری نے کہا (آیت)” ونحن لہ مسلمون “ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ اہل کتاب تورات کو عبرانی زبان میں پڑھتے اور اس کی تفسیر مسلمانوں کے لیے عربی زبان میں کرتے تھے ، پس رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اہل کتاب کی نہ تو تصدیق کیا کرو اور نہ ان کی تکذیب کیا کرو اور کہو ” آمنا باللہ الی آخر الآیۃ۔
Ayah 2:137137۔ (آیت)” فان امنوا بمثل ما امنتم بہ “ جس کے ساتھ تم ایمان لائے ہو اور اسی طرح حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ پڑھتے تھے اور لفظ (مثل) صرف بطور صلہ کے وارد ہوا ہے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول میں (آیت)” لیس کمثلہ شیئ “ جس میں لفظ مثل کا کوئی معنی نہیں ہے لہذا (آیت)” لیس کمثلہ شیئ “ لیس ھو کشیئ “ کے معنی میں ہے اس میں لفظ مثل کا کوئی معنی نہیں اور بعض نے کہا کہ اس کا معنی ہے پس اگر وہ ایمان لائیں ان تمام کے ساتھ جس کے ساتھ تم ایمان لائے ہو ، یعنی ایسا لائے جیسا کہ تمہارا ایمان ہے اور ایسی توحید اختیار کریں جیسا کہ تم نے توحید اختیار کی اور کہا گیا ہے پس اگر وہ ایمان لائیں جیسا کہ تم ایمان لائے اور (آیت)” بمثل ما امنتم “ میں باء زائدہ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد پاک میں باء زائدہ ہے (آیت)” وھزی الیک بجذع النخلہ “ ابو معاذ نحوی فرماتے ہیں اس کا معنی ہے پس اگر وہ ایمان لائیں تمہاری کتاب پر جس طرح تم ان کی کتاب پر ایمان لائے ہو (آیت)” فقد اھتدوا وان تولوا فانما ھم فی شقاق “ یعنی اختلاف اور جھگڑے میں حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ اور عطاء (رح) فرماتے ہیں کہا جاتا ہے ” شاق شاقۃ “ یعنی وہ مخالفت کرے گویا کہ ہر ایک نے وہ جانب لے لی جو اس کے ساتھی کی جانب کی غیر ہے اس کے مخالف ہے ۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” لایجرمنکم شقاقی “ یعنی میری مخالفت اور کہا گیا ہے فی شقاق کا معنی ہے ، عداوت دشمنی میں ہیں اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے (آیت)” ذالک بانھم شاقوا اللہ “ ۔ یعنی اللہ تعالیٰ سے دشمنی اختیار کی (آیت)” فسیکفیکھم اللہ “ یا محمد یعنی آپ کی طرف سے یہود و نصاری کے شر کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ کافی ہے اور تحقیقحضور ﷺ کفایت کیے گئے ، بنو نضیر جو قبیلہ یہود تھا اس کے جلاء وطن ہونے کے ساتھ اور بنو قریظہ قبیلہ یہود کے قتل ہونے کے باعث اور یہود و نصاری پر جزیہ مقرر کردیا گیا ” وھو السمیع “ ان کی باتوں کو سننے والا ” العلیم “ ان کے حالات کو جاننے والا ہے ۔
Ayah 2:138(تفسیر) 138۔:
(آیت)” صبغۃ اللہ “ کلبی (رح) قتادہ (رح) اور حسن (رح) کی روایت میں حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ صبغۃ اللہ سے مراد اللہ تعالیٰ کا دین ہے اور دین کو اللہ تعالیٰ نے رنگ کا نام اس لیے دیا کہ جس طرح کپڑے پر رنگ کا اثر ظاہر ہوتا ہے اسی طرح دین کا اثر بھی دین دار پر نمایاں ہوتا ہے اور بعض نے کہا کہ دین کو رنگ اس لیے فرمایا گیا کہ دین دار بھی دین کو لازم پکڑتا ہے اور جدا نہیں ہوتا جس طرح کہ رنگ کپڑے کے ساتھ لازم ہوجاتا ہے اور جدا نہیں ہوتا ، حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ صبغۃ اللہ سے مراد فطرت اللہ ہے اور یہ تاویل اول تاویل کے قریب ہے اور بعض نے کہا کہ صبغۃ اللہ سے مراد سنت اللہ ہے اور کہا گیا ہے کہ اس سے مراد ختنہ کرانا ہے کیونکہ ختنہ بھی ختنہ کرانے والے کو خون میں رنگ دیتا ہے ۔
حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ بیشک عیسائیوں کے ہاں جب کسی کا بچہ پیدا ہوتا ہے اور بچے پر جب سات دن گزر جاتے تو بچے کو ایک زرد رنگ والے پانی میں جو ان کے ہاں ہوتا ڈبو دیتے ، اس پانی کو معمودیہ کہا جاتا ہے اور بچہ کو اس پانی کے ساتھ رنگ دیتے تاکہ ختنہ کی جگہ اس پانی سے اس بچہ کو پاک کریں جب بچہ کے ساتھ یہ عمل کرتے تو کہتے ” الان صار نصرانیا حقا “ ۔ کہ اب یہ پکا نصرانی بن گیا ہے ، پس اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ اللہ تعالیٰ کا دین ، دین اسلام ہے وہ طریقہ نہیں جو کہ نصرانی لوگ کرتے ہیں (آیت)” صبغۃ اللہ “ کا لفظ برانگیختہ کرنے کے مفہوم کے مطابق منصوب یعنی زبر والا ہے تقدیر عبارت ہوگی ” الزموا دین اللہ “ کہ اللہ تعالیٰ کے دین کو لازم پکڑو، امام اخفش (رح) فرماتے ہیں صبغۃ اللہ کا لفظ ” ملۃ ابراھیم “ سے بدل کر (آیت)” ومن احسن من اللہ صبغۃ “ یعنی دین کے لحاظ سے اور بعض نے کہا کہ صبغۃ کا معنی تطہیرا ہے تطہیر کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کون ہے (آیت)” ونحن لہ عابدون “ ” مطیعون “ یعنی ہم اس کے مطیع اور فرمانبردار ہیں ۔
Ayah 2:139139۔ (آیت)” قل “ یا محمد یہود و نصاری کو فرمادیجئے (آیت)” اتحاجوننا فی اللہ “ اللہ تعالیٰ کے دین میں تم ہم سے جھگڑتے ہو ” محاجہ “ کا معنی المجادلۃ فی اللہ ہے حجت کے اظہار کے لیے اللہ تعالیٰ کے بارے میں بحث و مباحثہ کرنا اور یہ اس طرح کہ انہوں نے کہا کہ بیشک انبیاء کرام (علیہم السلام) ہم میں سے تھے اور ہمارے دین پر تھے اور ہمارا دین قدیم ہے لہذا ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ تمہاری نسبت زیادہ قریب ہیں ، اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت)” قل اتحاجوننافی اللہ ۔۔۔۔۔۔ وھو ربنا وربکم “ اللہ تعالیٰ کی نسبت ہم اور تم برابر ہیں کیونکہ وہ ہمارا بھی رب ہے اور تمہارا بھی (آیت)” ولنا اعمالنا ولکم اعمالکم “ ہر ایک کے لیے اس کے علم کی جزا ہے تو پھر کس طرح تم دعوی کرتے ہو کہ تم اللہ تعالیٰ کے زیادہ قریب ہو ۔ (آیت)” ونحن لہ مخلصون “ اور تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے والے ہو (اور ہم اللہ تعالیٰ کے لیے مخلص یعنی مؤحد ہیں) حضرت سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں اخلاص کے معنی ہیں کہ بندہ اپنے دین یعنی عقیدہ اور عمل کو خالصتا اللہ تعالیٰ کے لیے کر دے، پس اپنے دین میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک نہ ٹھہرائے اور نہ اپنے عمل کے تجھے عافیت بخشے ۔
Ayah 2:140140۔ (آیت)” ام تقولون “ بمعنی ” اتقولون “ ہے یہ استفہام (پوچھنے) کا لفظ ہے اور اس کا معنی توبیخ یعنی ڈانٹنا ہے ، ابن عامر حمزہ کسائی حفص نے (آیت)” ام تقولون “ کو تاء کے ساتھ پڑھا ہے بوجہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کیء (آیت)” قل اتحاجوننافی اللہ “ اور اس کے بعد فرمایا (آیت)” قل انتم اعلم ام اللہ “ (مقصد یہ کہ آگے پیچھے چونکہ خطاب کے صیغے ہیں اس لیے (آیت)” ام تقولون “ بھی تاء کے ساتھ بصیغہ خطاب ہوگا) اور باقیوں نے یاء کے ساتھ بصیغہ غائب پڑھا ہے ۔ معنی ہوگا یہود و نصاری کہتے ہیں (آیت)” ان ابراھیم واسماعیل واسحاق و یعقوب والاسباط کونوا ھودا اونصاری قل ” یامحمد “ انتم اعلم “ ان کے دین کے بارے میں (تم زیادہ جانتے ہو) ” ام اللہ ؟ “ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ بیشک ابراہیم (علیہ السلام) یہودی نہ تھے اور نہ نصرانی بلکہ حنیف مسلم تھے (آیت)” ومن اظلم من کتم “ چھپایا (آیت)” شھادۃ عندہ من اللہ “ تعالیٰ اور یہ شہادت (گواہی) ان کا یہ علم کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد مسلم تھے اور بیشک حضرت محمد ﷺ حق ہیں اور رسول ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی کتابوں کو گواہ بنایا ۔ (آیت)” وما اللہ بغافل عما تعملون “۔
Ayah 2:141(تفسیر) 141۔:
(آیت)” تلک امۃ “ الخ یہ آیت کریمہ دوبارہ تاکید (مضمون) کی خاطر لائی گئی ۔
Ayah 2:142(تفسیر) 142۔:
(آیت)” سیقول السفھائ “ جاہل (آیت)” من الناس ماولاھم “ کس چیز نے ان کو پھیرا۔ (آیت)” عن قبلتھم التی کانوا علیھا “ یعنی بیت المقدس لفظ قبلہ بروزن ” فعلۃ “ ہے مقابلہ سے مشتق ہے ، یہ آیت کریمہ یہود اور مشرکین مکہ بیت المقدس سے مکہ مکرمہ کی طرف تحویل کعبہ پر ان کی طرف سے طعن کرنے کے بارے میں نازل ہوئی چناچہ یہود نے مشرکین مکہ کو کہا کہ محمد ﷺ پر ان کا معاملہ (دین کا) گڑبڑ ہوچکا ہے ، چناچہ وہ اپنے مؤلد (وطن) کی طرف مشتاق ہوئے ہیں اور (نماز میں) تمہارے شہر کی طرف متوجہ ہوگئے ۔ اب وہ تمہارے دین کی طرف لوٹنا چاہتے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت)” قل للہ المشرق والمغرب “ اقتدار کے لحاظ سے اور پوری مخلوق اس کے (تابع فرمان) بندے ہیں (آیت)” یھدی من یشاء الی صراط مستقیم “۔
Ayah 2:143143۔ (آیت)” وکذالک جعلنا کم امۃ وسطا “ ان رؤساء یہود کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے حضرت معاذ ؓ کو کہا کہ محمد ﷺ نے ہمارے قبلہ کو محض حسد کی بنیاد پر چھوڑا ہے اور بیشک ہمارا قبلہ تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) کا قبلہ ہے اور بیشک محمد پاک ﷺ اس (حقیقت) کو بخوبی جانتے ہیں کہ لوگوں میں عدل (پرقائم) ہیں، پس حضرت معاذ ؓ نے فرمایا میں حق و انصاف پر ہوں ، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت)” کذالک “ یعنی اور اسی طرح اور بعض نے کہا کہ ” کاف تشبیہ کے لیے ہے اور یہ (کاف تشبیہ) اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت)” ولقد اصطفیناہ فی الدنیا “ کی طرف لوٹایا گیا ہے یعنی جس طرح ہم نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور اس کی اولاد کو چن لیا پسند کیا اسی طرح ہم نے تم کو امت وسط بنایا یعنی پسندیدہ اور عادل (وسط کا معنی خیر اور عدل اسی جگہ ایسے ہے) جس طرح اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (آیت)” قال اوسطھم “ یعنی ” خیرھم اوعدلھم “ اور ” خیر الاشیاء اوسطھا “ کا معنی ہے کہ ہم نے تم کو دین وسط والی امت بنایا جو دین کہ غلو (حد سے بڑھنا) اور تقصیر (کوتاہی کرنا) کے درمیان ہے کیونکہ حد سے بڑھنا اور کمی کوتاہی کرنا دین میں دونوں مذموم ہیں ، حضرت ابوسعید خدری ؓ نے فرمایا ہماری درمیان ایک دفعہ عصر کے بعد حضور ﷺ کھڑے ہوئے ، پس آپ ﷺ نے قیامت تک آنے والی کسی شیء کو نہ چھوڑا مگر یہ کہ اسی مقام پر آپ ﷺ نے اسے ذکر فرما دیا ، یہاں تک کہ جب دھوپ کھجوروں کے سروں پر اور دیواروں کے کناروں تک آگئی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ دنیا کے گزرے ہوئے حصہ کے مقابل اس کا بقیہ حصہ اتنا کچھ رہ گیا ہے جتنا کچھ کہ تمہارے اس دن کا حصہ باقی ہے اور بیشک یہ امت ستر امتوں کو پورا کر رہی ہے اور یہ ستر (70) امتوں کے بعد اور آخر میں آنے والی امت ہے اور یہ امت سابقہ سب امتوں کی نسبت اللہ تعالیٰ کے ہاں مکرم ترین امت ہے ۔ فرمان باری تعالیٰ (آیت)” لتکونوا شھداء علی الناس “ قیامت کے دن (اس بات کے گواہ بن جاؤ) کہ رسولوں نے بیشک (اپنی امتوں کو) تبلیغ احکام فرما دی ، ابن جریج (رح) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء (رح) کو کہا اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا کیا معنی ہے ؟ (آیت)” لتکونوا شھداء علی الناس “ انہوں نے فرمایا اس سے مراد امت محمد ﷺ ہے جو ہر اس شخص کے خلاف گواہی دے گی جس نے حق کو چھوڑ دیا ، (آیت)” ویکون الرسول “ (اس جگہ رسول سے مراد) حضرت محمد کریم ﷺ ہیں ۔
(آیت)” علیکم شھیدا “ تمہیں درست کرنے والے اور تمہارا تزکیہ فرمانے والے اور یہ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ اولین وآخرین کو ایک جگہ پر جمع کریں گے ، پھر سابقہ امتوں کے کفار کو فرمائیں گے (آیت)” الم یاتکم نذیر ؟ “ کیا تمہارے پاس ڈرانے والا اور متنبہ کرنے والا کوئی نہیں آیات تھا پس وہ انکار کریں گے اور کہیں گے ہمارے پاس کوئی بشیر اور نذیر نہیں آیا تھا تو پھر اس سلسلہ میں ان کے نبیوں سے دریافت فرمائیں گے تو انبیاء کرام (علیہم السلام) کہیں گے انہوں نے جھوٹ بولا ہم نے انہیں (احکام دین) پہنچائے تھے ، پس اللہ تعالیٰ (اس پر) گواہ طلب کریں گے حالانکہ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے ، (یہ گواہوں کی طلبی) محض حجت قائم کرنے کے لیے ہوگی ۔
چنانچہ حضرت محمد ﷺ کی امت کو لایا جائے گا تو امت محمد مصطفیٰ ﷺ انبیاء کرام (علیہم السلام) کے حق میں گواہی دے گی کہ انہوں نے تبلیغ احکام کی تھی سابقہ (تکذیب کرنے والی) امتیں کہیں گی یہ ہمارے بعد آنے والوں نے (ہماری صورت حال کو) کیسے جان لیا ؟ اللہ تعالیٰ اس امت سے پوچھیں گے تو امت محمدیہ کہے گی یا اللہ ! تو نے ہمارے پاس اپنے رسول کو بھیجا اور ان پر تو نے کتاب (قرآن) نازل فرمائی ، اس کتاب میں اے اللہ ! تو نے اپنے رسولوں کے احکام الہیہ پہنچانے کی خبر دی تھی ۔
اے اللہ ! تو نے اس میں جو کچھ خبر دینے میں تیری ذات پاک سچی ہے ، پھر حضرت محمد کریم ﷺ کو لایا جائے گا پھر اللہ تعالیٰ حضور ﷺ سے آپ کی امت کے بارے میں پوچھیں گے ” یزکیھم ویشھد بصدقھم “ پس حضور ﷺ اپنی امت کا تزکیہ فرمائیں گے یعنی اپنی امت کی عدالت کو ثابت کریں گے اور اس سلسلہ میں سچا ہونے کی گواہی دیں گے ۔
حضرت ابوسعید خدری ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کو قیامت کے روز لایا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا ” ھل بلغت ؟ “ کیا تو نے میرے احکام پہنچائے ؟ حضرت نوح (علیہ السلام) فرمائیں گے ہاں یا رب ! پس اللہ تعالیٰ امت نوح (علیہ السلام) سے پوچھیں گے کیا حضرت نوح (علیہ السلام) نے تمہیں تبلیغ فرمائی ؟ پس وہ کہیں گے ” ماجاء نا من نذیر “ ہمیں کوئی بھی متنبہ اور خبردار کرنے والا نہیں آیا تھا ، حضرت نوح (علیہ السلام) کو کہا جائے گا اس امر پر آپ کے گواہ کون ہیں ؟
حضرت نوح (علیہ السلام) ” محمد وامتہ “ حضرت محمد ﷺ اور ان کی امت پس حضور ﷺ نے فرمایا پھر تم کو لایا جائے گا پس تم گواہی دو گے ، اس کے بعد حضور ﷺ نے یہ پڑھا ” واکذالک جعلنا کم امۃ وسطا لتکونوا شھداء علی الناس ویکون الرسول علیکم شھیدا ‘ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد گرامی (آیت)” وما جعلنا القبلۃ التی کنت علیھا “ پھیرنا اس قبلہ یعنی بیت المقدس سے (پھیرنا) پس یہ حذف مضاف کے باب سے ہوگا ۔ (گویا تقدیر عبارت یوں ہوگی) ” وما جعلنا تحویل القبلۃ التی کنت علیھا “ تو گویا قبلہ سے پہلے لفظ تحویل جو کہ مضاف ہے محذوف ہوگا اور اس کا بھی احتمال ہے کہ جعل کا مفعول ثانی محذوف ہو اور تقدیر عبارت یوں ہو کہ ” وما جعلنا القبلۃ التی کنت علیھا منسوخۃ “ (تو جعل کا دوسرا مفعول منسوخۃ یہاں منسوخ ہوگا ۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس عبارت (آیت)” التی کنت علیھا “ کا معنی ” التی انت علیھا “ ہو (یعنی جس قبلہ پر اب تم ہو) اور یہ کعبہ مکرمہ ہے تو ” کنت بمعنی انت “ ایسے ہے جیسے فرمان الہی (آیت)” کنتم خیر امۃ “ میں ” کنتم “ بمعنی ” انتم “ ہے ۔ ” الا لنعلم من یتبع الرسول “ پس اگر کہا جائے کہ ” الا لنعلم “ کا کیا معنی ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ تو تمام اشیاء کا عالم ہے ، ان اشیاء کے وجود میں آنے سے بھی پہلے ؟ کہا جائے گا کہ اس علم سے مراد وہ علم ہے جس سے ثواب و عقاب کا تعلق ہے کیونکہ ثواب و عقاب کا تعلق اس علم الہی سے نہیں جس کا اللہ تعالیٰ (پردہ) غیب میں عالم ہے بلکہ جزا وسزا کا تعلق اس علم الہی سے ہوتا ہے جس کا معنی و مصداق عالم موجودات میں پایا جائے تو ” الا لنعلم “ کا معنی وہ علم ہوگا جس کی بنیاد پر اس (عمل معلوم) کا عامل جزاوسزا کا مستحق ہوجائے اور بعض نے کہا کہ ” الا لنعلم “ کا معنی ہے ” لنری ونمیز “ تاکہ ہم دیکھیں اور پرکھیں ، امتیاز کریں کہ کون ہے جو قبلہ کے معاملہ میں رسول اللہ ﷺ کی اتباع کرتا ہے ، (آیت)” ممن ینقلب علی عقبیہ “ پس وہ مرتد ہوجاتا ہے ۔
حدیث شریف میں ہے (بےشک جب تحویل قبلہ ہوئی تو کچھ مسلمان یہودیت کی طرف پھرگئے) اور کہنے لگے کہ محمد ﷺ تو اپنے آباء کے دین کی طرف لوٹ گئے ، اہل معافی فرماتے ہیں کہ ” الالنعلم “ کا معنی ہے ” لعلمنا “ بوجہ ہمارے اس علم کے کہ کون اتباع رسول کریم ﷺ کرتا ہے بنسبت ان لوگوں کے جو اپنی ایڑی کے بل واپس لوٹتے ہیں ۔ (گویا نعلم ب تاویل مصدر بمعنی علم ہوگا) اللہ تعالیٰ کے علم کے مطابق یہ بات سبقت کرچکی تھی (اور ثابت ہوچکی تھی) کہ تحویل قبلہ ایک قوم کی ہدایت کا سبب ہوگا اور ایک قوم کی گمراہی کا اور کبھی لفظ استقبال بمعنی ماضی بھی آیا کرتا ہے جیسے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” تقتلون انبیاء اللہ “ اب اس جگہ ” فلم تقتلون “ بمعنی فلم قتلتم “ کے ہے پس تم نے اللہ کے نبیوں کو کیوں قتل کیا ، (آیت)” وان کانت “ یعنی ” وقدکانت “ تحقیق تھی یعنی قبلہ کی طرف سے پھرتا ، بعض نے کہا کہ ” کانت “ کی ضمیر ” ھی قبلہ “ کی طرف راجع ہے اور بعض نے کہا کہ کعبہ کی طرف راجع ہے زجاج (رح) کہتے ہیں ” وان کانت التحویلۃ “ یعنی اگرچہ تھی تحویل قبلہ ” الکبیرۃ “ ثقیل سخت ” الاعلی الذین ھدی اللہ “ جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی ۔ سیبویہ کہتے ہیں ” وان “ تاکید ہے قسم کے متشابہ اسی لیے اس کے جواب پر لام داخل ہوئی ہے (آیت)” وما کان اللہ لیضیع ایمانکم “ اور یہ فرمان الہی اس لیے وارد ہوا کہ حئی بن اخطب اور اس کے دیگر یہودی ساتھی مسلمانوں کو کہنے لگے ہمیں تم ان نمازوں کے بارے میں بتاؤ جو تم نے بیت المقدس کی طرف منہ کرکے پڑھیں ، اگر وہ (بجانب بیت المقدس پڑھنا) ہدایت تھی تو تم اس (ہدایت) سے پھرگئے اور اگر بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنا) ہدایت تھی تو تم اس (ہدایت) سے پھرگئے اور اگر بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنا گمراہی تھی ۔
اور جو لوگ تم میں سے بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے مرگئے وہ گمراہی پر مرے تو جواب میں مسلمانوں نے کہا ہدایت وہی ہے جس کا اللہ تعالیٰ حکم فرما ویں اور گمراہی وہ ہے جس سے اللہ تعالیٰ منع فرماویں اور وہ کام بجا لائیں ، یہود بولے تمہاری ان سے متعلق کیا گواہی ہے جو تم میں سے ہمارے قبلہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے مرگئے اور تحویل قبلہ الی الکعبہ سے پہلے مرنے والے مسلمانوں میں سے اسعد بن زرارہ ؓ تھے جن کا تعلق بنو نجار سے تھا اور حضرت براء بن معروررضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے جو بنو سلمہ سے تھے اور یہ دونوں نقباء میں سے تھے (نقباء سے مراد وہ صحابہ کرام ؓ ہیں جنہوں نے حضور ﷺ کی ہجرت سے قبل حضور ﷺ سے بیت العقبہ کی تھی اور اسی طرح تحویل قبلہ سے پہلے مرنے والے کچھ اور لوگ بھی تھے)
تو ان حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے خاندان والے حضور ﷺ کے پاس چل کر گئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ کو اللہ تعالیٰ نے (تحویل قبلہ فرما کر) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قبلہ کی طرف پھیر دیا ہے ۔ ہمارے ان بھائیوں کا کیا بنے گا جو بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے رہے اور پھر تحویل قبلہ سے پہلے ہی مرگئے ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت)” وما کان اللہ لیضیع ایمانکم “ یعنی ” صلاتکم الی بیت المقدس “ اللہ تعالیٰ تمہاری ان نمازوں کو ضائع نہیں فرمائے گا جو تم نے بیت المقدس کی طرف منہ کرکے پڑھیں ۔
(آیت)” ان اللہ بالناس لرؤف رحیم “ ۔ اہل حجاز اور ابن عامر ، حفص رحمہم اللہ نے ” لرؤوف “ پڑھا یعنی واؤ اشباعی بروزن ” فعول “ پڑھا ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کے اکثر اسماء گرامی ” فعول اور فعیل “ کے وزن پر ہیں جیسے غفور ، شکور ، رحیم کریم ، وغیرہا ، ابو جعفر ہمزہ کو لین پڑھتے ہیں یعنی واؤ سے بدل کر ” روف “ پڑھتے ہیں ۔ (لین وہ حرف علت ساکن جس کے ماقبل کی حرکت اس کے موافق ہو) باقی حضرات سلب ہمزہ کرکے یعنی رؤف کو بغیر ہمزہ کے پڑھتے ہیں ” روف “ بروزن ” فعل “ پڑھتے ہیں ، جریر شاعر کہتا ہے ۔
للمسلمین علیک حقا کفعل الواحد الرؤف الرحیم :
” رافۃ “ (بہت رحمت کرنا)
Ayah 2:144(تفسیر) 144۔: (آیت)” قدنری تقلب وجھک فی السمائ “ یہ آیت کریمہ اگرچہ تلاوت میں بعد ہے لیکن معنی کے لحاظ سے مقدم ہے کیونکہ یہ آیت قصہ کا آغاز ہے ، تحویل قبلہ پہلا وہ معاملہ ہے جو شرع شریف میں منسوخ ہوا اور یہ اس طرح کہ حضور اقدس ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین مکہ مکرمہ میں کعبہ شریف کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے تھے جب آپ ﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو حکم فرمایا کہ صخرہ بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھیں تاکہ یہ امر یہود کا حضور ﷺ کی تصدیق کرنے کے زیادہ قریب ہوجائے ، کیونکہ جب آپ ﷺ ان کے قبلہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھیں گے تو آپ ﷺ کا یہ عمل تورات میں لکھی ہوئی آپ کی اس صفت کی تصدیق ہوگا (جس میں یہ درج تھا کہ نبی آخرالزمان ﷺ کچھ مدت بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھیں گے) چناچہ آپ ﷺ نے بعد از ہجرت الی المدینہ سولہ (16) یا سترہ (17) مہینے بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی۔
اور آپ اس بات کو محبوب رکھتے تھے کہ آپ ﷺ کو نماز میں کعبہ شریف کی طرف منہ کرنے کا حکم دیا جائے کیونکہ کعبہ شریف آپ ﷺ کے والد گرامی حضرت سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا قبلہ تھا ، حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کعبہ شریف کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کو یہود کے اس پروپیگنڈا کے باعث بھی پسند فرماتے تھے جو یہود نے ان دنوں شروع کر رکھا تھا ، وہ کہتے تھے کہ محمد ﷺ ہمارے دین میں تو ہماری مخالفت کرتے ہیں اور ہمارے قبلہ کی اتباع کرتے ہیں تو حضور ﷺ نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو فرمایا کہ مجھے یہ بات محبوب ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے کعبہ شریف کی طرف پھیرے دے اس لیے کہ کعبہ میرے ابا حضور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قبلہ ہے ، حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں بھی آپ ﷺ کی طرف اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوں اور آپ اللہ تعالیٰ کے حضور مکرم ومحترم ہیں لہذا آپ ﷺ اپنے رب تعالیٰ سے سوال فرما دیں اس لیے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک خاص مقام حاصل ہے ، پس حضرت جبرئیل (علیہ السلام) آسمان کی طرف چڑھے اور حضور اقدس ﷺ نے مسلسل آسمان کی طرف نظر مبارک رکھی ، اتنے میں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) تحویل قبلہ کا حکم لے کر نازل ہوئے جیسا کہ آپ ﷺ محبوب رکھتے تھے ، پس اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت)” قدنری تقلب وجھک فی السماء “
(آیت)” فلنولینک قبلۃ “ پس ہم پھیر دیں گے آپ ﷺ کو (اس) قبلہ کی طرف ” ترضھا “ جس کو آپ محبوب رکھتے ہیں اور اسے پسند کرتے ہیں ۔ ” فول “ پھیر دیجئے (آیت)” وجھک شطر المسجد الحرام “ اس کی طرف اور اس سے مراد کعبہ ہے اور حرام بمعنی محرم لائق احترام باعظمت ” وحیثماکنتم “ کسی خشک علاقہ میں یا مثلا مشرق میں یا مغرب میں (آیت)” فولوا وجوھکم شطرہ “ نماز کے وقت ۔
حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ جب حضور اقدس ﷺ بیت اللہ شریف میں داخل ہوئے تو آپ نے بیت اللہ شریف کی تمام طرفوں میں دعا فرمائی اور نماز نہ پڑھی یہاں تک کہ باہر تشریف لائے پس جب آپ آئے تو کعبہ کے سامنے آپ ﷺ نے نماز پڑھی اور فرمایا ” ھذہ القبلۃ “ یہ قبلہ ہے حضرت براء ؓ سے روایت ہے کہ بیشک جب نبی کریم ﷺ پہلے پہل مدینہ منورہ تشریف لائے تو اپنے اجداد (دادوں) پر اترے یا فرمایا اپنے ماموؤں کے پاس کے اترے جو انصار میں سے اور بیشک حضور ﷺ نے بیت المقدس کی طرف منہ کرکے سولہ یا سترہ مہینے نماز پڑھی اور آپ ﷺ اس بات کو پسند فرماتے کہ آپ ﷺ کا قبلہ بیت اللہ شریف کی طرف کردیا جائے اور بیشک آپ ﷺ نے (تحویل قبلہ کے بعد) جو پہلی نماز پڑھی وہ عصر کی نماز تھی اور آپ ﷺ کے ساتھ کچھ لوگوں نے نماز پڑھی تو جن لوگوں نے آپ ﷺ کے مل کر نماز پڑھی تھی ان میں سے ایک آدمی نکلا تو ایک مسجد والوں کے پاس سے گزرا جو رکوع میں تھے تو فرمایا بنام خدا میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ بے میں نے حضور ﷺ کے ساتھ مکہ مکرمہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی ہے، چناچہ وہ مسجد والے نمازی نماز کی جس حالت میں تھے وہیں بیت اللہ شریف کی طرف گھوم گئے اور یہود کو یہ بات اچھی لگتی تھی جب حضور ﷺ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے اور اہل کتاب بھی (اس پر خوش تھے)
پس جب حضور ﷺ نے اپنے رخ مبارک بیت اللہ شریف کی طرف پھیرلیا اس کا انہوں نے انکار کیا ، حضرت براء ؓ اپنی اسی حدیث میں فرماتے ہیں کہ تحویل قبلہ سے پہلے کچھ لوگ فوت ہوگئے اور شہید ہوگئے ہمیں کچھ معلوم نہیں ہو رہا تھا کہ ہم ان لوگوں کے بارے میں کیا کہیں ، پس اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت)” وما کان اللہ لیضیع ایمانکم “ اور تحویل قبلہ غزوہ بدر سے دو ماہ پہلے ماہ رجب میں زوال آفتاب کے بعد ہوا ، حضرت مجاہد (رح) وغیرہ فرماتے ہیں یہ آیت کریمہ (تحویل قبلہ والی) اس وقت نازل ہوئی جب وقت حضور ﷺ مسجد بنی سلمہ میں تھے اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو نماز ظہر کی دو رکعتیں پڑھا چکے تھے پس آپ نماز ہی میں پھرگئے اور مردوں کو عورتوں کی جگہ کی طرف پھیر دیا اور عورتوں کو مردوں کی جگہ کی طرف ، چناچہ یہ مسجد مسجد قبلتین کا نام دی گئی اور کہا گیا کہ تحویل قبلہ نماز سے باہر ہوئی یعنی دو نمازوں کے درمیان وقت میں اور اہل قبا کو تحویل قبلہ کی خبر صبح کی نماز میں پہنچی ۔
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ اس اثناء میں کہ لوگ قباء میں نماز صبح میں مصروف تھے ، ایک آنے والے نے ان کو آکر کہا کہ بیشک حضور ﷺ پر آج رات نزول قرآن کریم ہوا ہے اور بیشک آپ کو اس کا حکم کیا گیا ہے کہ آپ کعبہ شریف کی طرف (نماز میں) متوجہ ہوجائیں تو انہوں نے کعبہ کی طرف منہ کرلیا ہے اور (مسجد قبا کے) نمازیوں کے منہ شام کی طرف تھے تو وہ کعبہ کی طرف گھوم گئے ۔ جب تحویل قبلہ ہوا تو یہود نے کہا اے محمد ﷺ یہ (دین) اور کچھ نہیں ہے مگر ایک ایسی چیز ہے جسے آپ اپنی طرف سے گھڑتے ہیں (نعوذ باللہ) چناچہ آپ کبھی بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے ہیں اور کبھی کعبہ شریف کی طرف ، اگر آپ ہمارے قبلہ پر ثابت رہتے تو ہم امید کرتے کہ آپ واقعی وہی ہیں جس کی ہم انتظار میں ہیں ، پس اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت)” وان الذین اوتوا الکتاب لیعلمون انہ “ یعنی کعبہ کا معاملہ (آیت)” الحق من ربھم “ پھر ان کو دھمکی دی ، پس فرمایا (آیت)” وما اللہ بغافل عما یعملون “ ابو جعفر (رح) اور ابن عامر (رح) اور حمزہ (رح) اور کسائی (رح) نے تاء کے ساتھ پڑھا ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس ارشاد سے اللہ تعالیٰ کی مراد یہ ہے کہ بیشک تم اے گروہ مؤمنین میری رضا چاہتے ہو اور میں تمہارے اجر وثواب سے غافل نہیں ہوں اور باقی حضرات نے ” یعلمون “ کو یاء کے ساتھ پڑھا ہے پھر اس کا کا معنی یہ ہوگا میں غافل نہیں ہوں جو کچھ یہود کر رہے ہیں پس میں ان کو دنیا اور آخرت میں ان کو بدلہ دوں گا ۔
خاصیت آیت 144۔
(آیت)” قَدْ نَرَی تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِیْ السَّمَاء فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضَاہَا فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَیْْثُ مَا کُنتُمْ فَوَلُّواْ وُجُوِہَکُمْ شَطْرَہُ وَإِنَّ الَّذِیْنَ أُوْتُواْ الْکِتَابَ لَیَعْلَمُونَ أَنَّہُ الْحَقُّ مِن رَّبِّہِمْ وَمَا اللّہُ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُونَ (144)
یہ آیت فالج ، لقوہ اور ریح کے مریضوں کے لئے مفید ہے ۔ طریقہ یہ ہے کہ اسبادری تانبے کی تھالی کو خوب صاف وچمکدار کرکے اس میں گلاب ، مشک اور قندسیاہ سے اس آیت کو لکھے اور پاک پانی سے دھو کر لقوہ والا اس پانی سے اپنا منہ دھوئے اور ان لکھی ہوئی آیتوں کو تقریبا تین گھنٹے دیکھتا رہے ، تین دن تک اسی طرح کرے ۔
Ayah 2:145(تفسیر) 145۔:
(آیت)” ولئن الذین اوتوا الکتاب “ یہود و نصاری نے کہا اپنے دعوی پر آپ ﷺ کوئی نشانی لائیں ، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا (آیت)” ولئن اتیت الذین اوتوا الکتاب بکل آیۃ “ یعنی معجزہ ” ماتبعوا قبلتک “ یعنی کعبہ شریف (آیت)” وما انت بتابع قبلتھم وما بعضھم بتابع قبلۃ بعض “ کیونکہ یہود بیت المقدس کی طرف منہ کرتے تھے اور وہ مغرب کی طرف تھا اور عیسائی مشرق کی طرف متوجہ ہوتے تھے اور مسلمانوں کا قبلہ کعبہ مقدسہ تھا۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ حضور اقدس ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا قبلہ مشرق ومغرب کے درمیان ہے، حضور اقدس ﷺ نے یہ فرمان اہل مشرق کے حق میں فرمایا ، مشرق سے حضور ﷺ کی مراد سردیوں کی مشرق ہے (یعنی سردیوں میں سورج کا انتہائی نقطہ طلوع) جو کہ سال کا انتہائی چھوٹا دن ہے اور مغرب سے مراد گرمیوں کی مغرب ہے (یعنی گرمیوں میں سورج کا اتنہائی نقطہ غروب) جو کہ سال کا سب سے بڑا دن ہو۔
پس جو شخص مغرب صیف یعنی گرمیوں کے بڑے دن کے گوشہ غروب آفتاب کو اس وقت میں دائیں جانب کرے اور مشرق شتاء یعنی سردیوں کے سب سے چھوٹے دن کے گوشہ طلوع آفتاب کو بائیں جانب کرلے اس کا چہرہ قبلہ شریف کی طرف ہوگا ۔ (آیت)” ولئن اتبعت اھواء ھم “ اھواء ھم “ سے مراد ان کی خواشہات ہیں ، یہاں پر خطاب حضور ﷺ کو ہے اور مراد آپ کی امت ہے۔ (آیت)” من بعد ما جاء ک من العلم “ قبلہ کے معاملے میں آپ کو حق ظاہر اور روشن ہوگیا (آیت)” انک اذا لمن الظالمین “۔
Ayah 2:146(تفسیر) 146۔ :
(آیت)” الذین اتیناھم الکتاب “ مؤمنین اہل کتاب حضرت عبداللہ بن سلام ؓ اور ان کے ساتھی ” یعرفونہ “ یعنی محمد کریم ﷺ کو پہچانتے ہیں، (آیت)” کما یعرفون ابناء ھم “۔ (جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں) بچوں کے درمیان سے ۔ حضرت سیدنا عمر بن خطاب ؓ نے حضرت عبداللہ بن سلام ؓ کو فرمایا کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (علیہ السلام) پر نازل فرمایا ہے (آیت)” الذین اتیناھم الکتاب یعرفونہ کما یعرفون ابناء ھم “ تو یہ پہچاننا کیسا تھا ؟ حضرت عبداللہ بن سلام ؓ نے فرمایا اے عمر ! میں نے حضور ﷺ کو جب دیکھا تھا پہچان لیا تھا جیسے کہ اپنے بیٹے کو پہچانتا ہوں اور حضور ﷺ کی پہچان اس پہچان سے بھی شدید تھی جو مجھے اپنے بیٹے سے متعلق ہے ، حضرت سیدنا فاروق اعظم ؓ نے فرمایا وہ کس طرح ؟ تو حضرت عبداللہ بن سلام ؓ نے فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ حضور اقدس ﷺ اللہ تعالیٰ کی طرف سے برحق (نبی) ہیں اور اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی صفات ہماری کتاب میں بیان فرمائی ہیں اور میں نہیں جانتا کہ عورتیں (ہماری بیویاں) کیا کچھ کرتی ہیں ۔ (مراد یہ تھی کہ جو بظاہر ہمارے بیٹے وہ درحقیقت بھی ہمارے بیٹے ہیں یا نہیں ؟ ) حضرت عمر ؓ نے فرمایا اے ابن سلام ! اللہ تعالیٰ تجھے توفیق عنایت فرمائے ، بیشک تو نے سچ کہا، (آیت)” وان فریقا منھم لیکتمون الحق “ (حق سے مراد) نبی کریم ﷺ کی صفات مبارکہ ہیں اور آپ کا نبی قبلتین ہونا جو تورات میں مزکور ہے ، اس کو چھپاتے ہیں ۔ (آیت)” وھم یعلمون “۔
Ayah 2:147147۔ (آیت)” الحق من ربک “ یعنی لفظ الحق خبر ہے مبتداء محذوف کی اصل تھا ” ھذا الحق “ بعض نے کہا ” الحق “ فعل محذوف کا فاعل ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے عبارت یہ ہے (آیت)” جاء الحق من ربک “ (فلاتکونن من الممترین) تک کرنے والوں (سے)