Ayah 2:229(تفسیر) 229۔ـ:
(آیت)” الطلاق مرتان “۔ حضرت عروہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا گیا ہے فرمایا کہ لوگ ابتداء میں بےشمارو لاتعداد طلاقیں دیتے اور آدمی اپنی بیوی کو طلاق دیتا ، جب عدت گزرنے کو آتی تو اس سے رجوع کرلیتا پھر اس کو طلاق دے دیتا پھر رجوع کرلیتا ، مقصد عورت کو نقصان پہنچانا ہوتا پھر یہ آیت نازل ہوئی (آیت)” الطلاق مرتان “ یعنی وہ طلاق جس کے بعد خاوند رجوع کرسکتا ہے وہ صرف دو دفعہ ہے ، پس جب وہ تین طلاق دے گا تو پھر وہ عورت اس آدمی کے لیے حلال نہ ہوگی مگر دوسرے خاوند سے نکاح کے بعد ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد (آیت)” فامساک بمعروف “۔ بعض نے کہا ہے کہ امساک سے مراد دوسری طلاق کے بعد طلاق رجوع کرنا ہے صحیح یہ ہے کہ اس سے مراد رجوع کرنے کے بعد معروف طریقہ کے مطابق اپنے پاس رکھنا ہے ، یعنی جب دوسری طلاق کے بعد رجوع کرلے تو معروف طریقہ کے مطابق اپنے پاس بیوی کو رکھے اور معروف سے مراد ہر وہ طریقہ ہے جو شریعت میں جانا پہچانا ہو مثلا حقوق نکاح کی ادائیگی اور حسن صحبت (آیت)” او تسریح باحسان “ وہ یہ کہ طلاق کے بعد بیوی کو چھوڑ دے (یعنی رجوع نہ کرے) حتی کہ اس کی عدت گزر جائے ۔
بعض نے کہا کہ تسریح باحسان سے مراد تیسری طلاق ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد (آیت)” اوتسریح باحسان “ وہ واضح لفظ جس سے بغیر کسی نیت کے طلاق واقع ہوجاتی ہے وہ تین لفظ ہیں ۔ (1) طلاق ۔ (2) فراق۔ (3) السراح۔ اور حضرت امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک لفظ صریح صرف لفظ طلاق ہے ۔ طلاق سے متعلق مجموعی حکم یہ ہے کہ آزاد آدمی جب اپنی بیوی کو دخول کے بعد ایک یا دو طلاق دے دے تو جب تک بیوی عدت کے اندر ہے خاوند کے لیے بیوی کی مرضی کے بغیر بھی بیوی سے رجوع کرنا جائز ہے اور اگر خاوند نے رجوع نہ کیا یہاں تک کہ اس کی عدت گزر گئی یا پھر دخول سے پہلے طلاق دی یا پھر بیوی سے خلع کرلیا تو ان تینوں صورتوں میں اس آدمی کے لیے نئے نکاح کے بغیر بیوی حلال نہ ہوگی اور یہ نیانکاح عورت کی اجازت سے ہوگا اور ولی عورت کی اجازت سے ہوگا اور اگر بیوی کو تین طلاق دی تو پھر وہ عورت اس کے لیے حلال نہیں ہے حتی کہ وہ عورت اس کے سوا کسی اور سے نکاح کرے (پھر وہ دوسرا خاوند اپنی مرضی سے طلاق دے اور اس کی عدت گزار کر پھر اس پہلے خاوند سے نکاح کرسکتی ہے)
اور اگر غلام کے نکاح میں عورت ہو اور وہ اس کو دو طلاق دے تو وہ عورت اس غلام خاوند کے لیے کسی دوسرے خاوند کے ساتھ نکاح کے بغیر جائز نہیں ہے اہل علم نے اس سلسلہ میں اختلاف کیا ہے کہ خاوند یا بیوی میں سے کوئی ایک غلام ہو یعنی خاوند غلام اور یا بیوی باندی ہو تو اکثر اہل علم اس طرف گئے ہیں کہ عدد طلاق کا اعتبار خاوند سے متعلق ہے ، لہذا اگر خاوند آزاد ہے تو وہ اپنی باندی بیوی کو تین طلاق دے سکتا ہے اور غلام خاوند اپنی آزاد عورت کو دو طلاق دینے کا مجاز ہے ، حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں ” الطلاق بالرجال “۔ کہ طلاق کی تعداد کا تعلق مردوں سے ہے (کہ آزاد تین طلاق کا مالک اور غلام دو کا) ” والعدۃ بالنسائ “ اور عدت کا تعلق عورتوں سے کہ عورت آزاد ہے تو تین حیض اس کی عدت ہوگی اور اگر عورت باندی ہے تو دو حیض اور یہ قول حضرت عثمان ؓ تعالیٰ عنہ ، حضرت زید بن ثابت ؓ ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کا ہے اور یہی حضرت عطاء ، (رح) حضرت سعید بن المسیب (رح) نے کہا اور اسی طرف امام مالک (رح) اور امام شافعی (رح) ، حضرت احمد (رح) اور حضرت اسحاق (رح) گئے ہیں اور ایک قوم اس طرف گئی ہے کہ عدد طلاق کا اعتبار عورت سے ہے ۔ لہذا غلام خاوند اپنی آزاد بیوی کو تین طلاق دے سکتا ہے اور آزاد خاوند اپنی باندی بیوی کو صرف دو طلاق دے سکتا ہے اور یہ قول سفیان ثوری (رح) اور اصحاب الرای کا ہے ۔
(آیت)” ولا یحل لکم ان تخذوا مما اتیتموھن شیئا “ ۔ تم نے ان کو مہر وغیرہ سے کچھ چیز عطاء کی ، پھر خلع کا استثناء کیا ، پس فرمایا (آیت)” الا ان یخافا ان لا یقیما حدود اللہ “۔ یہ آیت کریمہ عبداللہ بن ابی اوفی کی صاحبزادی حضرت سیدہ جمیلہ ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ۔
بعض نے کہا کہ حضرت حبیبہ بنت سہل ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ، یہ حضرت ثابت بن قیس بن شماس کی اہلیہ محترممہ تھیں ، حضرت حبیبہ ؓ حضرت ثابت بن قیس ؓ سے بغض رکھتی تھیں اور حضرت ثابت ؓ حضرت حبیبہ ؓ سے محبت فرماتے تھے ، دونوں کے درمیان کچھ تلخ کلامی ہوئی ، حضرت حبیبہ ؓ نے اپنے باپ کے پاس آکر خاوند کی شکایت کی اور کہا کہ وہ مجھ سے برا معاملہ کرتا ہے اور مجھے مارتا ہے تو باپ نے کہا اپنے خاوند کے پاس چلی جا، میں اس بات کو عورت کے لیے اچھا نہیں سمجھتا کہ وہ ہمیشہ ہاتھ اٹھائے ، خاوند کی شکایت کرتی رہے، راوی کہتے ہیں کہ حضرت حبیبہ ؓ اپنے باپ کے پاس ایک دفعہ پھر آئی اور اس پر مار کا نشان بھی تھا ، باپ نے کہا اپنے خاوند کے پاس لوٹ جا ، حضرت حبیبہ ؓ نے جب دیکھا کہ اس کا باپ اس کی شکایت کا ازالہ نہیں کر رہا تو حضرت حبیبہ ؓ حضور اقدس ﷺ کے پاس آگئی اور حضور ﷺ سے اپنے خاوند کی شکایت کی اور مارنے کے نشانات دکھائے اور کہا یا رسول اللہ ﷺ نہ میں اور نہ وہ (ہمارا گزارا نہیں ہوسکتا) حضور اقدس ﷺ نے حضرت ثابت بن قیس ؓ کی طرف آدمی بھیجا اور فرمایا کہ تمہارا اور تمہارے گھر والوں کا باہمی کیا معاملہ ہے ؟ اس پر حضرت ثابت بن قیس ؓ نے عرض کی مجھے قسم ہے اس ذات پاک کی جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا ہے ، روئے زمین پر سوائے آپ ﷺ کی ذات اقدس کے مجھے اس (بیوی) سے بڑھ کر کوئی محبوب نہیں ہے ، حضور ﷺ نے حضرت ثابت ؓ کی بیوی کو فرمایا س تو کیا کہتی ہے ؟ تو حضرت حبیبہ ؓ کو یہ بات ناگوار گزری کہ جب حضور ﷺ نے پوچھا ہے تو حضور ﷺ سے جھوٹ بولے ، پس حضرت حبیبہ ؓ نے عرض کی ، ثابت نے سچ کہا یا رسول اللہ ﷺ لیکن مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے ہلاک نہ کردے ، پس مجھے اس سے نکالئے اور کہا یا رسول اللہ ﷺ میں کوئی ایسی بات نہیں کہنا چاہتی کہ حق تعالیٰ اس کے خلاف آپ ﷺ پر نازل فرما دے ، پس وہ (ثابت) تمام انسانوں سے صحبت اور محبت کے لحاظ سے بڑھ کر کریم (بہتر ہے) مگر میں اسے مبغوض رکھتی ہوں ، پس نہ میں اور نہ وہ (ہمارا گزارا نہیں ہوسکتا) حضرت ثابت ؓ نے عرض کی حضور ﷺ میں نے اس کو باغ دیا ہے (حق مہر کے طور پر) پس اس کو فرمائیے کہ وہ باغ مجھے لوٹا دے میں اس کا راستہ چھوڑ دیتا ہوں (یعنی طلاق دے دیتا ہوں) پس حضور ﷺ نے اس کو فرمایا کہ تو اسے باغ لوٹا دے گی اور اپنے امر کی مالک بن جائے گی ؟ (اس سوالیہ نشان کا مطلب یہ ہے کہ کیا تجھے یہ منظور ہے ؟ ) حضرت حبیبہ ؓ نے عرض کی نعم یعنی ہاں یا رسول اللہ ﷺ پس حضور ﷺ نے فرمایا اے ثابت ! اس حبیبہ سے وہ کچھ لے لے جو کچھ تو نے اس کو دیا تھا اور اس کا راستہ چھوڑ دے ۔ (یعنی اسے طلاق دے دے ، چناچہ حضرت ثابت ؓ نے ایسا ہی کیا)
حضرت عکرمہ ؓ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ حضرت ثابت بن قیس ؓ کی بیوی حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا یا رسول اللہ ﷺ میں ثابت پر حسن خلق اور دینداری کے اعتبار سے قطعا ناراض نہیں مگر میں اسلام میں کفر کو ناگوار سمجھتی ہوں (یعنی مسلمان ہو کر خاوند کی ناشکری کروں) حضور ﷺ نے اسے فرمایا کیا تو اس پر اس کا باغ لوٹا دے گی ؟ اس نے کہا ہاں ، حضور اقدس ﷺ نے فرمایا باغ قبول کرلے اور اسے طلاق دے دے (آیت)” الا ان یخافا “ وہ دونوں جان لیں کہ (ازدواجی زندگی سے متعلق) اللہ تعالیٰ کی حدیں قائم رکھ سکیں گی ، ابو جعفر اور حمزہ اور یعقوب رحمہم اللہ نے (آیت)” الا ان یخافا “ یاء کی پیش کے ساتھ پڑھا ہے یعنی ان دونوں سے معلوم کیا جائے یعنی قاضی یا حاکم وقت زوجین سے یہ معلوم کریں یہ قراۃ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مطابق ہے (آیت)” فان خفتم “ (اگر تم خوف محسوس کرو) اس جگہ خوف کو زوجین کے ماسواء کے لیے ذکر کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ نے اس طرح نہیں فرمایا ” فان خافا “ اور باقیوں نے ” یخافا “ یاء کی زبر کے ساتھ پڑھا ہے یعنی میاں بیوی اپنے آپ میں یہ محسوس و معلوم کریں کہ وہ دونوں حدود اللہ (جوازدواجی زندگی سے متعلق ہیں) قائم نہ رکھ سکیں گے ، عورت خوف محسوس کرے کہ خاوند کے حق کے معاملہ میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کر بیٹھے گی اور خاوند کو یہ خطرہ لاحق ہو کہ اس کی بیوی اس کی اطاعت نہ کرے گی کہیں اس پر زیادتی (ظلم) نہ کر بیٹھوں ، پس اللہ تعالیٰ نے منع فرما دیا اس بات سے کہ خاوند نے بیوی کو جو کچھ دیا تھا اس میں سے کچھ لینا جائز ہے جب جھگڑا بیوی کی طرف سے ہو ، مثلا کہے کہ میں تیری فرمانبرداری نہ کروں گی اور تیرے قریب نہ آؤں گی اور اس طرح کی اور باتیں ۔
(آیت)” فان خفتم الا یقیما حدود اللہ فلاجناح علیھما فیما افتدت بہ “ اس میں کچھ گناہ نہیں جو کچھ عورت اپنی ذات کا فدیہ دے ۔ فراء کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے قول ” علیھما “ سے صرف خاوند مراد لیا ہے نہ کہ بیوی اور ضمیر ” تثنیہ “ میں دونوں کا ذکر دونوں کے باہمی ملاپ کی وجہ سے ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’‘’ نسیاحوتھما “ یعنی جس طرح ” نسیا “ میں ضمیر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور خادم موسیٰ کی طرف راجع ہے حالانکہ بھولنے والے صرف خادم موسیٰ تھے نہ کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد ہے کہ ان ہر دو پر گناہ نہیں ہے ۔ عورت پر نشوز یعنی جھگڑا دکا گناہ نہیں جب وہ ہلاکت اور گناہ کا خوف محسوس کرے اور نہ اس سے متعلق کوئی گناہ ہے جو کہ وہ اپنی ذات کا فدیہ اور مال دے کیونکہ وہ عورت ، مال کو ناحق ضائع کرنے سے منع کی گئی ہے اور خاوند پر گناہ نہیں ہے جب وہ عورت سے مال لے لے ، جب عورت خوشدلی سے مال دے اور اکثر اہل علم اس طرف گئے ہیں کہ خاوند نے جو کچھ عورت کو دیا خلع کی صورت میں خاوند عورت سے اس سے زیادہ مال لے لے ۔
زہری فرماتے ہیں کہ خاوند کے لیے مہر میں دیئے گئے مال سے زیادہ مال خلع کی صورت میں لینا جائز نہیں ہے، سعید بن مسیب (رح) فرماتے ہیں کہ خاوند بیوی سے اپنا دیا ہوا سارا مال نہ لے بلکہ کچھ چھوڑ دے اور خلع نشوز یعنی جھگڑے کی حالت کے بغیر بھی جائز ہے مگر مکروہ ہے کیونکہ اس میں بلاوجہ قطع تعلقی کرنا ہے ۔
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا (بےشک تمام جائز کاموں میں سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک جائز ہونے کے باوجود ناپسند کام طلاق ہے اور محبوب ترین جائز عمل غلام آزاد کرنا ہے) ابو قلابہ نے ابو اسماء رحبی سے ، وہ ثوبان سے روایت کرتے ہیں ، ثوبان ؓ یہ حدیث نبی کریم ﷺ تک پہنچاتے ہیں ، حضور ﷺ نے فرمایا جو عورت بغیر عذر (شرعی) کے خاوند سے طلاق طلب کرتی ہے اس پر جنت کی خوشبو بھی حرام ہے طاؤس (رح) فرماتے ہیں کہ اس آیت سے ظاہرا یہ معلوم ہوتا ہے کہ خلع صرف حالت نشوز (جھگڑے) کے ساتھ خاص ہے اور آیت حسب عادت اس بارے میں دال ہے کہ خلع غالبا صرف جھگڑے کے خوف کی صورت میں ہونا ہے اور جب آدمی اپنی بیوی کو مال کی شرط پر لفظ طلاق کے ساتھ طلاق دے تو اس سے بینونۃ واقع ہوگئی (یعنی طلاق بائنہ واقع ہوگی) اور عدد طلاق میں اس سے کمی واقع ہوگی ۔
اہل علم نے خلع کے بارے میں اختلاف کیا ہے ، اکثر حضرات کا مؤقف یہ ہے کہ خلع طلاق بائن ہے اور اس سے عدد طلاق میں کمی واقع ہوگی ، اور یہ حضرت عمر ؓ ، حضرت عثمان ؓ تعالیٰ عنہ حضرت علی ؓ ، ابن مسعود ؓ کا قول ہے ، سعید بن مسیب (رح) ، عطاء (رح) حسن (رح) ، شعبی (رح) نخعی (رح) بھی یہی کہتے ہیں ، امام مالک (رح) ثوری (رح) ، اوزاعی (رح) اور اصحاب الرای بھی اسی طرف گئے ہیں اور یہی قول امام شافعی (رح) کے دو قولوں میں سے ظاہر قول ہے اور ایک قوم اس طرف گئی ہے کہ خلع فسخ نکاح ہے ، اس عدد طلاق میں کمی واقع نہیں ہوتی ، یہ عبداللہ بن عمر ؓ عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے ، حضرت عکرمہ ؓ اور طاؤس (رح) نے یہی کہا ہے ، حضرت احمد (رح) اور اسحاق (رح) اسی طرف گئے ہیں ، انہوں نے اس سلسلہ میں یہ دلیل دی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دو طلاق کا ذکر کیا ہے اس کے بعد خلع کا ذکر کیا اس کے بعد تیسری طلاق کا ذکر کیا اور فرمایا (آیت)” فان طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ “۔ اگر خلع طلاق شمار کیا ہے فرمان خداوندی ، (آیت)” تلک حدود اللہ “۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اوامر ونواہی ہیں، حدود اللہ وہ ہیں جن کو کر اس کرنے سے شریعت نے منع کیا ہے (آیت)” فلا تعتدوھا “ ان سے تجاوز نہ کرو (آیت)” ومن یتعد حدود اللہ فاولئک ھم الظالمون “۔
Ayah 2:230(تفسیر) 230۔ :
(آیت)” فان طلقھا “۔ تیسری طلاق ”(آیت)” فلا تحل لہ من بعد “ ۔ تیسری طلاق کے بعد (آیت)” حتی تنکح زوجا غیرہ “۔ طلاق دہندہ کے علاوہ پس وہ دوسر خاوند اس سے جماع بھی کرے لفظ نکاح جماع اور عقد دونوں کو شامل ہے ، یہ آیت کریمہ تمیمہ کے بارے میں نازل ہوئی اور بعض نے کہا ہے کہ عائشہ بنت عبدالرحمن بن عتیک قرظی کے بارے میں نازل ہوئی ، یہ اپنے چچا زاد رفاعہ بن وہب بن عتیک قرظی کے گھر میں تھی اس نے اسے تین طلاق دی ۔
حضرت عروہ نے حضرت عائشہ ؓ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رفاعہ قرظی کی بیوی حضور ﷺ کے پاس آئی اور عرض کی میں رفاعہ کے پاس تھی پس اس نے مجھے طلاق دی اور طلاق بھی طلاق قطعی (مغلظہ) اس کے بعد میں نے عبدالرحمن بن زبیر ؓ سے نکاح کیا اور اس کے پاس تو صرف کپڑے کا پلو ہے۔ پس حضور ﷺ مسکرائے اور فرمایا کیا تو ارادہ رکھتی ہے کہ رفاعہ کے پاس لوٹ جائے ؟ اس نے عرض کی ہاں ، حضور ﷺ نے فرمایا نہیں حتی کہ وہ تیرا شہد چکھے ۔
اور تو اس کا شہد چکھے اور روایت کیا گیا ہے کہ وہ عورت جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا ٹھہری پھر قرآن کریم کی طرف لوٹ آئی اور کہا ک ہ میرے خاوند نے مجھے چھوا ہے (جماع کیا ہے) پس اس کو حضور اقدس ﷺ نے فرمایا (تو اپنی پہلی بات میں جھوٹ کہا اب ہم دوسری بات میں تیری تصدیق نہیں کریں گے) پس وہ عورت اسی حال میں رہی حتی کہ حضور اقدس ﷺ دنیا سے تشریف لے گئے ، پس وہ عورت حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے پاس آئی اور کہا یا خلیفۃ رسول اللہ ﷺ میں اپنے پہلے خاوند کی طرف لوٹنا چاہتی ہوں ، یقینا مجھے میرے دوسرے خاوند نے چھولیا ہے (جماع کرلیا ہے) اور مجھے طلاق دے دی ہے بیشک تو حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی تھی ، اور حضور اقدس ﷺ نے تجھے فرمایا تھا جو کچھ فرمایا تھا لہذا اب تو پہلے خاوند کی طرف مت لوٹ ، جب حضرت ابوبکر صدیق ؓ دنیا سے تشریف لے گئے تو وہ عورت حضرت عمر فاروق ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور حضرت عمر ؓ کو بھی وہی کچھ کہا جو وہ عورت پہلے کہہ چکی تھی تو اسے حضرت عمر ؓ نے فرمایا تو اس پہلے خاوند کی طرف مت لوٹ ، اگر تو پہلے خاوند کی طرف لوٹی تو میں تجھے ضرور سنگسار کروں گا ۔
(آیت)” فان طلقھا فلا جناح علیھما ان یتراجعا “۔ اگر اس کو دوسرا خاوند طلاق دے دے بعد اس کے کہ اس سے جماع کرلے تو ان دونوں پر کچھ نہیں ، یعنی نہ عورت پر نہ پہلے خاوند پر کہ وہ باہم رجوع کرلیں ، یعنی نکاح جدید کے ساتھ ” ان ظنا “ ای علما جب دونوں جان لیں اور بعض نے کہا ہے کہ ظنا کے معنی ہیں جب دونوں کو امید ہو چلے کیونکہ کوئی ایک بھی نہیں جانتا کہ آیندہ کیا کچھ ہونے والا ہے سوائے اللہ تعالیٰ کے (آیت)” ان یقیما حدود اللہ “ ۔ ان دونوں کے درمیان صلاح ” خیر و خوبی “ کا معاملہ ہوگا اور حسن صحبت ہوگی ، حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ ” ان ظنا کا معنی ہے کہ جب وہ اس بات کو بخوبی جان لیں کہ ان دونوں کا نکاح بغیر دلسہ (فراڈ بازی) کے ہے اور دلسہ سے مراد محض حلال کرنا ہی مقصود ہے (یعنی حلالہ کی ڈرامہ بازی) یہ حضرت سفیان ثوری (رح) اوزاعی (رح) ، امام مالک (رح) ، امام احمد (رح) اور اسحاق (رح) کا مذہب ہے ، یہ حضرات کہتے ہیں کہ جب تین طلاق والی مطلقہ دوسرے آدمی سے محض اس بنیاد پر نکاح کرتی ہے کہ وہ دوسرا خاوند اس عورت کو پہلے خاوند کے لیے حلال کر دے تو یہ نکاح فاسد ہے ۔
اور ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ دوسرے خاوند سے نکاح میں یہ شرط نہ لگائی جائے کہ وہ (نکاح کے بعد) چھوڑ دے گا تو نکاح صحیح ہے اور اس سے تحلیل (اس عورت کا پہلے خاوند کے لیے حلال ہونا) ہوجائے گی اور اس عورت کے لیے مہر مثل ہوگا مگر ایسا کرنا اس وقت مکروہ ہے جب ارادہ میں یہ بات ہو کہ وہ نکاح کرنے کے بعد چھوڑ دے گا ، ابن مسعود ؓ حضور اقدس ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، بیشک حضور اقدس ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے حلال کرنے والے اور جس کے لیے (عورت کو) حلال کیا گیا ہے لعنت فرمائی ہے ، حضرت نافع (رح) فرماتے ہیں ایک آدمی حضرت ابن عمر ؓ کے پاس آیا اور آکر کہا کہ بیشک ایک آدمی نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی ہے ، پس اس کا بھائی بغیر کسی منصوبہ بندی کے گیا ، پس اس عورت سے نکاح کیا تاکہ اس پہلے خاوند کے لیے حلال کرے ، پس ابن عمر ؓ نے فرمایا نہیں مگر یہ کہ نکاح برغبت ہو ، ہم حضور ﷺ کے زمانے میں اس قسم کے نکاح کو زنا شمار کرتے تھے اور فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (اللہ تعالیٰ نے حلال کرنے اور جس کے لیے عورت حلال کی گئی ہے لعنت فرمائی ہے) (آیت)” وتلک حدود اللہ بینھا لقوم یعلمون “۔ یعنی جانتے ہیں جس چیز کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے ۔
Ayah 2:231(تفسیر) 231۔:
(آیت)” واذا طلقتم النساء فبلغن اجلھن “۔ یہ آیت کریمہ ایک انصاری کے بارے میں نازل ہوئی جس کا نام ثابت بن یسار تھا ، اس نے اپنی بیوی کو طلاق دی حتی کہ جب عدت گزرنے کے قریب ہوئی اس سے رجوع کرلیا، پھر اس کو طلاق دے دی ۔
اس سے مقصود عورت کو نقصان پہنچانا تھا ، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ” فبلغن اجلھن “ اس کے قریب ہوگئیں کہ وہ عدت گزرنے کے ساتھ (خاوندوں سے) جدا ہوجائیں ، اس آیت کریمہ سے حقیقتا عدت کا گزر جانا مقصود نہیں کیونکہ جب واقعتا عدت گزر جائے ۔
تو خاوند بیوی کے روکنے کا حق باقی نہیں رہتا ، لہذا یہاں بلوغ سے مراد بلوغ مقاربت ہے ، (یعنی عدت ختم ہونے کے قریب ہوجائے) اور اس کے بعد آنے والے (آیت)” فلا تعضلوھن “۔ میں عدت کا واقعتا گزر جانا مراد ہے اور بلوغ دو معنوں کو شامل ہے کہا جاتا ہے ” بلغت المدینۃ “ یہ جملہ تو اس وقت کہے گا جب تو شہر کے قریب ہوجائے اور جب تو اس کو داخل ہو (یعنی پہنچنے کے قریب ہوجانا یا واقعی پہنچ جانا ” فامسکوھن “ ان سے رجوع کرلو (بعروف) بعض نے کہا ہے رجوع کرنا معروف طریقہ سے ہو اور وہ اس طرح کہ اپنے رجوع پر گواہ بنا لے اور رجوع کرنا زبانی ہو وطی (جماع) سے نہ ہو ۔ (آیت)” اوسرحوھن بمعروف “۔ ان کو چھوڑ دو یہاں تک کہ ان کی عدت گزر جائے ، پس وہ اپنے آپ کی مالک بن جائیں ، (آیت)” ولا تمسکوھن ضرارا لتعتدوا “۔ رجوع کرنے سے مقصود زیادہ دیر روک کر بیویوں کو نقصان پہنچانا نہ ہو۔ (آیت)” ومن یفعل ذالک فقد ظلم نفسہ “۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت کرکے اپنے آپ کو نقصان پہنچانا ، (آیت)” ولا تتخذوا آیات اللہ ھزوا “۔ کلبی فرماتے ہیں یہاں آیات اللہ سے مراد اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے (آیت)” فامساک بمعروف او تسریح باحسان “۔ اور ہر وہ شخص حکم شرع کی مخالفت کرتا ہے پس وہ شخص آیات الہی کو مذاق بنانے والا ہے حضرت ابو الدرداء ؓ فرماتے ہیں کہ آیات الہی کو مذاق بنانا اس طرح ہے کہ آدمی بیوی کو طلاق دیتا ہے پھر کہتا کہ میں تو ہنسی مزاح کر رہا تھا اسی طرح غلام آزاد کر کے کہتا اور نکاح کرتا تو اسی طرح کہتا کہ میں تو مزاح کر رہا تھا ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ بیشک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تین چیزیں ہیں جن سے متعلق سنجیدہ گفتگو بھی سنجیدہ ہے اور ہنسی مزاح کے طور پر ان کا ذکر کرنا یا کلام کرنا بھی سنجیدہ کلام کے حکم میں ہے اور فرمایا وہ تین چیزیں یہ ہیں : طلاق ، نکاح ، رجوع کرنا، (آیت)” واذکرو نعمۃ اللہ علیکم “۔ نعمت سے مراد ایمان ہے ، (آیت)” وما انزل علیکم من الکتاب “۔ قرآن کریم ” والحکمۃ “۔ یعنی سنۃ رسول کریم ﷺ اور بعض نے کہا ہے کہ حکمت سے مراد مواعظ قرآنی ہیں (آیت)” یعظکم بہ واتقوا اللہ واعلموا ان اللہ بکل شیء علیم “۔
Ayah 2:232(تفسیر) 232۔:
(آیت)” واذا طلقتم النساء فبلغن اجلھن “۔ جمیلہ بنت یسار جو کہ معقل بن یسار مزنی کی بہن تھی ان کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں ، یہ محترمہ ابو القداح بن عاصم بن عدی بن عجلان کے گھر تھیں ، پس انہوں نے اس کو طلاق دی ، معقل ؓ فرماتے ہیں میں نے اپنی بہن کا نکاح ایک آدمی سے کردیا ، پس اس نے میری بہن کو طلاق دے دی حتی کہ جب اس کی عدت گزر گئی ، وہ آدمی میری بہن کو پیغام نکاح دینے آگیا ، میں نے اس آدمی کو کہا میں نے اپنی بہن کا تجھ سے نکاح کردیا اور اس کو تیرے زیر فراش کیا ، تیرا اکرام ، کیا ، پس تو نے اس کو طلاق دے دی ، اب پھر تو اسے نکاح کا پیغام دینے آگیا ؟ خبردار ! میری بہن اب تیری طرف کبھی نہ لوٹے گی اور وہ آدمی کچھ برا نہ تھا اور عورت (میری بہن) بھی اس کے پاس جانا چاہتی تھی ، پس اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد نازل فرمایا (آیت)” فلا تعضلوھن ان ینکحن ازواجھن “۔ میں نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ اب میں کروں گا (یعنی اپنی بہن کا نکاح اس آدمی سے کر دو گا روکوں گا نہیں) راوی کہتا ہے چناچہ اس سے اس عورت کا نکاح کردیا ، اللہ تعالیٰ کا ارشاد (آیت)” فبلغن اجلھن “۔ یعنی ان کی عدت گزر جائے ۔ (آیت)” فلا تعضلوھن ان ینکحن ازواجھن “۔ یعنی ان عورتوں کو (سابقہ خاوندوں سے) نکاح سے نہ روکو۔ ” عضل “ کا معنی منع کرنا ہے ۔ عضل کا اصل معنی تنگی اور شدت ہے ، کہا جاتا ہے ” عضلت المراۃ “۔ جب اس عورت کا بچہ اس کے پیٹ میں اٹک جائے ۔
اور اس بچے پر نکلنا تنگ ہوجائے ۔ ” الداء العضال “ وہ بیماری جس کا علاج نہ کیا جاسکے ۔ اس آیت میں اس امر پر دلیل ہے کہ (تنہا) عورت عقد نکاح کی متولی نہیں بن سکتی اس لیے کہ اگر عورت اس کی مالک ہوتی تو اس مقام پر پھر ” عضل “ یعنی نکاح سے روک نہ ہوتی اور نہ ہی ولی کو رکاوٹ ” عضل “ ڈالنے سے منع کرنے کا کوئی معنی ہوتا، اور بعض نے کہا ہے کہ اس آیت میں خاوندوں سے خطاب ہے کہ ان کو ضرر دینے سے منع کیا جارہا ہے کیونکہ ابتداء میں ان سے خطاب کیا گیا مگر اول قول زیادہ صحیح ہے ۔ (آیت)” اذا تراضوا بینھم بالمعروف “۔ عقد حلال اور مناسب و جائز مہر کے ساتھ ” ذالک “ جونہی مذکور ہے (آیت)” یوعظ بہ من کان منکم یؤمن باللہ والیوم الاخر “۔ اس آیت کریمہ میں مفرد کا لفظ استعمال کیا گیا ہے حالانکہ خطاب عورت اولیاء (ولی وارثوں) سے ہے ، اس لیے کہ جمع کو خطاب کرنے کے لیے لفظ ” ذالکم “ ہے پھر جب زیادہ استعمال ہوا حتی کہ انہیں گمان ہوا کہ کاف نفس یعنی ذات حرف کا حصہ ہے اور کاف خطاب نہیں ، پس انہوں نے لفظ ” ذالک “ استعمال کیا ، پس جب انہوں نے یہ کہا کہ کاف مفرد تثنیہ جمع مذکر مؤنث کے لیے یکساں ہوگیا (دلالت کے لحاظ سے)
بعض حضرات کا قول ہے کہ ــ” ذالک “ سے خطاب ـحضور اقدس ﷺ کو ہے اس لیے مفرد مذکور ہوا ، پھر اس کے بعد مؤمنین کے ساتھ خطاب میں رجوع فرمایا پھر فرمایا (آیت)” ذالکم ازکی لکم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ای خیرلکم “۔ تمہارے حق میں بہتر ہے ” واطھر “ تمہارے دلوں کو شک سے پاک کرنے کے لحاظ سے اور یہ اس لیے کہ ان پر دو (میاں بیوی) کے مابین ایک قلبی تعلق پہلے سے اس طرح قائم ہے جس کے ہوتے ہوئے اس بات کا خطرہ موجود ہے کہ یہ تعلق خاوند وبیوی کو ناجائز کام تک پہنچا دے۔ نیز خاوند اور بیوی کے ولی وارثوں کے متعلق یہ قوی احتمال موجود ہے ، کہ ان کے دلوں کی طرف کوئی ایسی بدگمانی سبقت کر جائے جس سے میاں بیوی بری ہوں ، اس طرح جانبین کے ولی وارث گنہگار ہوجائیں ۔ (آیت)” واللہ یعلم وانتم لا تعلمون “۔ اللہ تعالیٰ اس محبت کو خوب جانتا ہے جو خاوند اور بیوی کے درمیان قلبی طور پر قائم ہے جو تم نہیں جانتے ۔
Ayah 2:233(تفسیر) 233۔ـ:
(آیت)” والوادت یرضعن اولادھن “۔ طلاق یافتہ وہ عورتیں جن کے ہاں ان کے خاوندوں کی جانب سے اولاد ہے ” یرضعن “ خبر بمعنی امر یعنی بظاہر تو اللہ تعالیٰ ” یرضعن “ لفظ کے ساتھ خبر دے رہے ہیں ، درحقیقت دودھ پلانے کا حکم دے رہے ہیں ، مگر یہ امر استحبابی ہے وجوبی نہیں ہے ، کیونکہ بچوں کو جب دودھ پلانے والی کوئی اور عورت دستیاب ہو تو اس مطلقہ عورت پر دودھ پلانا واجب نہیں ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ سورة طلاق میں فرماتے ہیں (آیت)” فان ارضعن لکم فاتوھن اجورھن “۔ (پس اگر وہ مائیں طلاق یافتہ) دودھ پلائیں تو ان کو ان کا بدلہ دے دو ، اس فرمان الہی میں حتما یہ کہا گیا کہ وہ دودھ پلائیں بلکہ ان کا لفظ لا کر یعنی اگر وہ دودھ پلائیں یہ معاملہ ان کی مرضی پر چھوڑ دیا گیا ہے ۔
پس اگر والدہ بچے کو دودھ پلانے میں دلچسپی لے تو وہ اور عورتوں سے زیادہ حق دار ہے ۔ (آیت)” حولین کاملین “۔ دو سال اور کمال کا لفظ تاکید کے لیے ہے ، جس طرح کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” تلک عشرۃ کاملۃ “۔ اور کہا گیا ہے کہ کاملین کا لفظ اللہ تعالیٰ نے اس لیے استعمال کیا ہے کہ اہل عرب سال کے بعض حصہ کو سال اور مہینہ کے بعض حصہ کو مہینہ شمار کرتے ہیں ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت)” الحج اشھر معلومات “۔ تو یہاں حج کے اوقات کے سلسلہ میں لفظ ” اشھر “ جو کہ جمع ہے اور جمع کے لیے تین عدد ہوتے ہیں جبکہ حج کا وقت تین مہینہ نہیں بلکہ دو مہینہ مکمل اور تیسرا مہینہ کا بعض حصہ اور جس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے (آیت)” فمن تعجل فی یومین فلا اثم علیہ “۔ تو یہاں (آیت)” تعجل فی یومین “۔ فرمایا حالانکہ اس تعجل میں ایک دن مکمل اور دوسرا دن کا بعض ہوتا ہے اور کہا جاتا ہے ” اقام فلان بموضع کذا حولین “۔ کہ فلاں شخص فلاں جگہ دو سال ٹھہرا حالانکہ وہ وہاں ایک سال اور دوسرے سال کا بعض حصہ ٹھہرا ہوتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ نے کھول کر بیان فرمایا کہ یہ دو سال کامل ہیں یعنی 24 مہینے ۔
(دودھ پلانے کی) اس حد میں اہل علم نے اختلاف کیا ہے ان میں سے بعض نے کہا یہ دو سال کی حد بعض بچوں کے بارے میں ہے، چناچہ حضرت عکرمہ (رح) نے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کی کہ جب عورت بچہ چھ ماہ کی مدت حمل پر جنے تو اس بچہ کو پورے دو سال دودھ پلائے گی اور اگر سات ماہ کی مدت حمل پر بچہ جنے تو تئیس ماہ دود پلائے گی ، یعنی دو سال سے ایک ماہ کم اور اگر نو ماہ کی مدت حمل میں بچہ جنے تو وہ بچہ کو اکیس ماہ دودھ پلائے گی اور اگر دس ماہ مدت حمل پر بچہ جنے تو وہ عورت بچہ کو بیس ماہ دودھ پلائے گی ۔
یہ سب کچھ تیس ماہ پورا کرنے کے لیے ہوگا ، اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد عالی کے مطابق (آیت)” وحملہ وفصالہ ثلاثون شھرا “۔ ایک قوم نے کہا یہ مدت دودھ پلانے کی ہر بچہ کے لیے جس وقت بھی پیدا ہو ، اس کی مدت رضاعت دو سال سے کچھ کمی واقع نہ ہوگی مگر والدین کے باہمی اتفاق سے والدین میں سے جو ایک دو سال کی مدت رضاعت سے پہلے بچہ کا دوددھ چھڑانا چاہے گا تو اس کے لیے یہ جائز نہ ہوگا مگر یہ بھی کہ دونوں اس پر متفق ہوجائیں ، بوجہ فرمان خداوندی کے (آیت)” فان ارادا فصالا عن تراض منھما وتشاور “۔ یہ ابن جریج اور ثوری (رح) کا قول ہے اور حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے والبی کی روایت ہے ، بعض نے کہا ہے کہ آیت سے مراد یہ ہے کہ دودھ پینے کی وہ مدت جس سے حرمت رضاعت ثابت ہوتی ہے ، وہ دو سال ہے ، لہذا دو سال کے بعد حرمت رضاعت ثابت نہ ہوگی ، حضرت قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ماؤں پر فرض کیا ہے کہ وہ اولاد کو دو سال مکمل دودھ پلائیں ، پھر تخفیف فرمائی (آیت)” لمن اراد ان یتم الرضاعہ “۔ یعنی یہ مدت رضاعت کی انتہا ہے اور اس سے کم دودھ پلانے کی کوئی مدت مقرر نہیں ہے ، دو سال سے کم مدت دودھ پلانا بچے کی بہتری پر موقوف ہے اور اس پر جس سے اس بچہ کی زندگی موقوف ہے (آیت)” وعلی المولودلہ “ ‘۔ یعنی والد ” رزقھن “۔ ان کا طعام ” وکسوتھن “۔ ان کا لباس ” بالمعروف “ آسانی کی حد تک جس حد تک باآسانی لباس خوراک مہیا کرسکے (آیت)” لا تکلف نفس الا وسعھا “۔ اپنی طاقت کے مطابق (آیت)” لا تضار والدۃ بولدھا “۔ ابن کثیر اور اہل بصرہ نے ” لاتضار “ کو راء کی پیش کے ساتھ پڑھا ہے ۔ ” لاتکلف “ کے مطابق ، اس کا اصل ” تضارو “ پھر راء کو راء میں ادغام کردیا گیا ۔
اور باقی حضرات نے ” تضار “ راء کی زبر کے ساتھ پڑھا ہے اور ان حضرات نے کہا کہ جب راء کو راء میں ادغام کیا گیا تو اس کو اخف الحرکات دی گئی اور وہ زبر ہے اور آیت کا معنی ہے کہ والدہ کو بچہ کے حوالے سے نقصان نہ دیا جائے کہ والدہ دودھ پلانے پر راضی ہے پھر بھی اس سے چھین کر بچہ کسی اور کے حوالے کردیا جائے ، (آیت)” ولا مولود لہ بولدہ “۔ کہ بچہ ماں کے دودھ پینے پر مانوس ہوچکا ہے اور ماں بچہ کو باپ کی طرف پھینک دے تاکہ باپ کو دودھ پلانے پلوانے پر مشکل پیش آئے اور کہا گیا ہے کہ والدہ کو نقصان بایں معنی نہ دیا جائے کہ ماں دودھ نہیں پلانا چاہتی اور باپ اس کو مجبور کرتا ہے جبکہ بچہ دوسری عورت کے دودھ کو قبول کرچکا ہے کیونکہ دودھ پلانا ماں پر واجب نہیں ہے اور باپ کو بھی بچہ کی وجہ سے نقصان نہ دیا جائے ، بایں طور کہ بچہ کسی اور عورت کے کو قبول نہیں کرتا اور والدہ حق الخدمت سے بڑھ کر دودھ پلانے کی اجرت لیتی ہے، ان دونوں قولوں کے مطابق ” لاتضار “ کا لفظ پہلی راء کی زبر کے ساتھ ہوگا ، فعل مجہول کی بنیاد پر ” والدۃ والمولودلہ “۔ دونوں مفعول ہوں گے اور یہ بھی محتمل ہے کہ فعل ” الوالدۃ “ اور ” المولودلہ “ کا ہو یعنی یہ دونوں تضار کے فاعل ہوں اور تضار قبل الادغام تضارر فعل معروف ہو اور معنی ہوگا ۔ لا تضارر والدۃ کہ والدہ نقصان نہ دے کہ (دودھ پلا سکنے کے باوجود) دودھ نہ پلائے اور انکار کر دے تاکہ والد پر یہ معاملہ مشکل ہوجائے ۔ (آیت)” ولا مولودلہ “ کہ والد بچے کی ماں کو نقصان نہ دے کہ اس سے بچہ چھین لے اور ماں کو دودھ نہ پلانے دے ، ان اقوال کی بنیاد پر ضرار کا تعلق والدین سے ہوگا کہ بچہ کے حوالے سے والد والدہ ایک دوسرے کو نقصان دیں ۔
اور یہ بھی جائز ہے کہ ضرار کا تعلق بچہ سے ہو کہ والد والدہ دونوں بچے کو نقصان نہ دیں ، ماں کا نقصان دینا بایں معنی کہ وہ بچہ کو دودھ نہ پلائے حتی کہ بچہ ہلاک ہوجائے یا باپ خرچ نہ کرے یا بچہ کو ماں سے چھین لے جس سے بچہ کو نقصان پہنچے اس اعتبار سے باء زائدہ ہوگی اور معنی ہوگا کہ ماں بچہ کو نقصان نہ دے اور نہ باپ بچہ کو نقصان دے اور یہ تمام اقوال مفسرین سے منقول ہیں ۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد (آیت)” وعلی الوارث مثل ذالک “۔ اس وارث میں اختلاف کیا گیا ہے ، ایک قوم نے کہا کہ وارث سے مراد بچہ کا وارث ہے معنی ہوگا کہ بچہ کا وہ وارث کہ جب بچہ مرجائے اور اس بچہ کا مال ہو اور وہ وارث اس مال کا وارث ہو ، اس پر اتنا خرچہ لازم آئے گا جو بچہ کے باپ پر لازم تھا ، جب وہ زندہ ہوتا پھر انہوں نے اختلاف کیا ہے کہ اس بچہ کے ورثاء میں سے کون سا وارث مراد ہے ؟ بعض نے کہا اس وارث سے مراد بچہ کے عصبہ مرد ہیں ۔ مثلا دادا ، بھائی ، بھتیجا ، چچا ، چچا زاد ، یہ قول حضرت عمر بن خطاب ؓ کا ہے، حضرت ابراہیم (رح) ، حسن (رح) ، مجاہد (رح) ، عطاء (رح) ، نے بھی یہی کہا ہے اور یہ مذہب سفیان کا ہے ان حضرات نے کہا کہ جب بچہ کا مال نہ ہو۔
اس پر خرچ کرے ، بچہ کے ورثاء عصبہ کو اس امر پر مجبور کیا جائے کہ اس بچہ کے دودھ پلانے کا انتظام کریں اور بعض نے کہا ہے بچہ کا وارث سے مراد عام ہے ، مرد میں سے ہو یا عورتوں سے ، یہ قول قتادہ (رح) اور ابن ابی لیلی ؓ کا ہے اور امام احمد (رح) واسحاق (رح) کا مذہب ہے اور انہوں نے کہا ہے کہ بچہ کے خرچہ سے متعلق ہر وارث کو میراث کی مقدار کے مطابق مجبور کیا جائے گا (یعنی اگر مالدار ہونے کی صورت میں فوت ہوجاتا تو جو جو وارث اس بچہ کے ترکہ سے جس قدر حصہ میراث پاتا موجود صورت حال میں اس کے ذمہ بچہ پر خرچ کرنا بھی میراث کے حصہ کے مطابق لازم ہوگا) یہ وارث عصبہ ہوں یا غیر عصبہ۔
بعض نے کہا کہ اس وارث سے بچہ کے ذی رحم محرم وارث مراد ہیں ، پس اگر کوئی وارث ذی رحم محرم نہیں مثلا چچا کا بیٹا یا مولی تو یہ وارث آیت سے مراد نہیں ہیں اور یہ قول ابوحنیفہ (رح) کا ہے اور ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ آیت کریمہ میں وارث سے مراد خود بچہ ہے جو کہ اپنے مرنے والے باپ کا وارث ہے ۔ لہذا دودھ پلانے کی اجرت اور اس بچے کا خرچہ اسی بچہ کے مال سے ہوگا ، اگر اس بچے کا مال نہ ہو تو اس کی ماں پر خرچہ لازم ہوگا اور بچے پر خرچ کرنے کے سلسلہ میں سوائے والدین کے اور کسی پر جبر نہ کیا جائے گا ، یہ قول امام مالک (رح) اور حضرت امام شافعی (رح) کا ہے بعض حضرات کا قول ہے کہ یہاں آیات کریمہ میں وارث ہے مراد والدین میں سے بچ رہنے والا ہے (یعنی اگر باپ مرگیا تو والدہ اور اگر والدہ فوت ہوگئی تو والد مراد ہوگا) لہذا بچ رہنے والے پر وہی خرچہ واجب ہوگا جو کہ والد پر تھا ، مثلا دودھ پلانے کی اجرت باقی خرچہ اور لباس وغیرہ اور کہا گیا ہے کہ ” علی الوارث مثل ذالک “۔ سے مراد خرچہ وغیرہ نہیں بلکہ ترک مضارۃ (یعنی نقصان نہ پہنچانا مراد ہے) جس طرح والد کے ذمہ تھا کہ نقصان نہ دے ایسے ہی وارث کے ذمہ ہے کہ نقصان نہ دے ، علامہ شعبی (رح) اور زہری (رح) نے یہی کہا ہے (آیت)” فان ارادا “۔ والدین ” فصالا “۔ دو سال سے پہلے دودھ چھڑانا (آیت)” عن تراض منھما “۔ والدین کا اتفاق کرنا ” وتشاور “ یعنی اس سلسلہ میں علم رکھنے والے باہمی مشورہ کریں حتی کہ خبر دیں کہ اس وقت بچہ کا دوددھ چھڑانا بچہ کو نقصان نہیں دے گا ، مشاورہ کا معنی رائے معلوم کرنا ہے ۔
(آیت)” فلاجناح علیھما “۔ دو سال سے پہلے دودھ چھڑانے میں کچھ حرج نہیں ہے (آیت)” وان اردتم ان تسترضعوا اولادکم “۔ یعنی ماؤں کے علاوہ اور دودھ پلانے والیاں لاؤ جب مائیں دودھ پلانے سے انکار کردیں کسی عذر معقول کی بناء پر ماؤں کے لیے بچوں کو دودھ پلانا مشکل ہو یا ان کا دودھ ختم ہوگیا ہو یا مائیں اور جگہ نکاح کرنے کا ارادہ کرلیں ، (آیت)” فلاجناح علیکم اذا سلمتم “۔ ان کی ماؤں کی طرف ” مااتیتم “ جو تم نے ان کے لیے رضاع کی اجرت مقرر کی اتنی مقدار کی جس قدر انہوں نے دودھ پلایا اور کہا گیا ہے کہ اس سے مراد ہے کہ جب تم دودھ پلانے والیوں کی طرف ان کی اجرت سپرد کر دو ” بالمعروف “ ابن کثیر (رح) نے (آیت)” ما اتیتم “۔ پڑھا ہے اور سورة روم میں ہے ” مااتیتم من ربا “ یعنی الف کی مد کے بغیر بلکہ قصر کے ساتھ اس کا معنی ہوگا ” ما فعلتم “ یعنی جو کچھ تم کرو ، جیسے کہا جاتا ہے ” اتیت جمیلا اذا فعلتہ “ یعنی ” اتیت جمیلا “ اس وقت کہا جائے گا جب تو نے اچھا کام کیا ہوگا ، لہذا اس قراۃ کی بنیاد پر ” سلمتم “ کا معنی ہوگا جب تم اللہ تعالیٰ کا امر تسلیم کرلو اور اس کے حکم کے لیے مطیع و فرمانبردار ہوجاؤ اور بعض نے کہا ہے کہ جب تم دودھ پلانے کے لیے باہمی رضا مندی و اتفاق کے بچہ کو سپرد کرو نہ کہ نقصان دینے کے لیے (آیت)” واتقوا اللہ واعلموا ان اللہ بما تعلمون بصیر “۔
Ayah 2:234(تفسیر) 234۔:
(آیت)” والذین یتوفون منکم “۔ وہ مرجائیں اور ان کی عمر کی مدتیں پوری ہوجائیں ۔ ” توفی “ اور استوفی کا معنی ایک ہے اور ” توفی “ کا معنی کسی شئی کو پورا پورا لے لینے کے ہیں ، (آیت)” ویذرون ازواجا ‘۔ بیویاں چھوڑ جائیں ، ” یتربصن “ وہ انتظار کریں (آیت)” بانفسھن اربعۃ اشھر وعشرا “۔ چار ماہ دس دن میں زیب وزینت اور خوشبو اور گھر سے باہر جانا اپنے خاوندوں کے فراق کی وجہ سے چھوڑ کر عدت بیٹھیں ، مگر جب حاملہ ہوں تو اس وقت ان کی عدت وضع حمل ہوگی ، ابتداء میں وفات کی عدت ایک سال تھی ، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی وجہ سے (آیت)” والذین یتوفون منکم ویذرون ازواجا وصیۃ لازواجھم متاعا الی الحول غیر اخراج “۔ پھر یہ مدت عدت چار ماہ دس دن کے ساتھ منسوخ کردی گئی ، ابن ابی نجیح حضرت مجاہد سے نقل کرتے ہیں کہ یہ عدت چار ماہ دس دن کی عورت کے خاوند کے اہل والوں کے ہاں گزارنی واجب تھی ، پس اللہ تعالیٰ نے (آیت)” متاعا الی الحول “۔ نازل فرمائی تو تمام عدت سات ماہ بیس دن بطور وصیت بڑھا دی گئی عورت اگر چاہے تو ۔
اپنی وصیت کے تحت سال بھر ٹھہری رہے اور اگر چاہے تو چلی جائے اور یہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت)” غیر اخراج فان خرجن فلاجناح علیکم فیما فعلن “۔ مثلا عدت جیسا کہ اس عورت پر واجب ہے ، عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ اس آیت نے عورت کی اپنے اہل کے ہاں عدت گزارنے کو منسوخ کردیا اور اپنی وصیت کے اعتبار سے رہائش پذیر ہوگی اور اگر چاہے تو نکل جائے، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کے فرمانے کا مطلب یہ ہے کہ (آیت)” غیر اخراج فان خرجن فلا جناح علیکم “۔ والی آیت نے اپنے اہل کے ہاں عدت گزارنے کے وجوب کو ختم کردیا ، پس اب جہاں چاہے عدت گزارے ، مقصد یہ ہے کہ اگر عورت چاہے تو اپنے اہل کے ہاں عدت گزارے اور رہائش از روئے وصیت رکھے ، ” کما فی القرآن وصیۃ لازواجھم متاعا الی الحول “۔ اور اگر چاہے تو نکل جائے اور رہائش نہ رکھے از روئے فرمان الہی (آیت)” فلاجناح علیکم فیما فعلن “ (مترجم)
حضرت عطاء (رح) فرماتے ہیں پھر میراث کے حکم نے سکنی (رہائش) کو بھی منسوخ کردیا ، پس اب عورت جہاں چاہے عدت گزارے اور اس کے لیے رہائش نہیں ہے اور عدت وفات میں اس پر سوگ واجب ہے اور سوگ یہ کہ زیب وزینت اور خوش سے رک جائے، پس عورت کے لیے جائز نہیں ہے کہ سر میں کسی قسم کا تیل لگائے ، خواہ اس میں خوشبو ہو یا نہ ہو ، البتہ اس کے لیے یہ جائز ہے کہ سر کے علاوہ باقی جسم کو تیل لگائے ، بشرطیکہ اس میں خوشبو نہ ہو اگر خوشبو ہو تو پھر جائز نہ ہوگا اور اس کے لیے یہ بھی جائز نہیں کہ خوشبودار سرمہ لگائے یا وہ سرمہ جس میں زینت ہو ، مثلا سیاہ سرمہ (کاجل وغیرہ) البتہ فارسی سرمہ لگانے میں کچھ حرج نہیں جس میں زینت نہ ہو اور اگر زینت والے سرمہ کی طرف مجبور ہوجائے تو بہت سے اہل علم نے اس کی اجازت دی ہے جن میں حضرت سالم بن عبداللہ (رح) اور سلیمان بن یسار (رح)، حضرت عطاء (رح) نخعی (رح) ، امام مالک (رح) نے بھی یہی کہا اور اصحاب الرای نے بھی ، امام شافعی (رح) فرماتے ہیں رات کو سرمہ لگالے اور دن کو پونچھ ڈالے ، حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں کہ جب میرے خاوند ابو سلمہ فوت ہوئے تو میرے پاس حضور ﷺ تشریف لائے اور میرے چہرے پر ” صبر “ لگا ہوا تھا ” صبر “ کڑوے درخت کے پھل کا رس ہوتا ہے جو رنگت کو خوبصورت بناتا ہے اور حسین کرتا ہے ، مترجم، آپ (علیہ السلام) نے فرمایا یہ چہرے کو خوبصورت جوان بناتا ہے لہذا اس کو صرف رات کے وقت استعمال کرو دن کو اتار دیا کرو ، نیز عورت کے لیے خضاب لگانا خوبصورت کپڑے پہننا ریشم اور زیورات استعمال جائز نہیں اور عورت کے لیے سفید کپڑے کا استعمال جائز ہے ، اسی طرح کپڑا اونٹ کے بالوں سے بنا ہوا جائز ہے اور زینت کے لیے رنگین اون کا استعمال جائز نہیں ۔ مثلا سرخ سبز تازہ اور زرد اور کپڑے استعمال جائز ہے جو کہ زینت ولا رنگ نہ دیا گیا ہو ، مثلا سیاہ اور سرمئی ، حضرت سفیان (رح) فرماتے ہیں رنگ دار کپڑا (عدت والی عورت) کسی حال میں نہ پہنے ۔
حضرت زینب بنت ابی سلمہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں ام المؤمنین حضرت ام حبیبہ ؓ ، حضور اقدس ﷺ کی زوجہ کے پاس اس وقت جب ان کے والد محترم حضرت ابوسفیان صخر بن حرب ؓ فوت ہوئے تھے حضرت ام حبیبہ ؓ نے خوشبو منگوائی جس میں زردی تھی ، وہ خوشبو خلوق تھی یا کوئی اور خوشبو (خلوق ایک مشہور خوشبو کا نام ہے جس کا جزواعظم زعفران ہوتا ہے) وہ خوشبو باندی کو لگائی پھر اس کے بعد اسے اپنے پیٹ پر ملا پھر فرمایا اللہ کی قسم مجھے خوشبو کی ضرورت نہ تھی سوائے اس کے کہ میں نے حضور اقدس ﷺ کو سنا ، آپ ﷺ منبر پر فرما رہے تھے کہ کسی عورت کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی میت پر تین راتوں سے زیادہ سوگ کرے مگر خاوند پر کہ اس پر چار ماہ دس دن سوگ کرے ، حضرت زینب ؓ یہی فرماتی ہیں کہ میں زینب بنت جحش کے پاس گئی جب ان کے بھائی حضرت عبداللہ بن جحش فوت ہوئے تو حضرت زینب ؓ نے خوشبو منگوائی اور اسے استعمال کیا ، پھر فرمایا کہ واللہ مجھے خوشبو کی حاجت نہ تھی ، سوائے اس کے کہ میں نے حضور اقدس ﷺ کو سنا آپ ﷺ منبر پر فرماتے تھے کسی اس عورت کے لیے جائز نہیں جو اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتی ہو کہ وہ کسی میت پر تین راتوں سے زیادہ سوگ کرے مگر خاوند پر کہ چار ماہ دس دن سوگ کرے گی ،
حضرت زینب ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے اپنی والدہ ام سلمہ ؓ کو سنا وہ فرماتی تھیں کہ ایک عورت حضور اقدس ﷺ کے پاس آئی اور عرض کی یا رسول اللہ ﷺ بیشک میری بیٹی کا خاوند فوت ہوگیا ہے اور اس کی آنکھ کو تکلیف ہے تو کیا ہم اس کی آنکھ میں سرمہ ڈالیں ؟ پس حضور ﷺ نے فرمایا نہیں پھر فرمایا کہ یہ تو صرف چار ماہ دس دن ہیں حالانکہ تم میں سے کوئی عورت زمانہ جاہلیت میں سال کے سرے پر مینگنی پھینکتی تھی ، حضرت حمید (رح) فرماتے ہیں میں نے زینبرضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا سال کے سرے پر مینگنی پھینکنے کا کیا معنی ہے ؟ پس حضرت زینب ؓ نے فرمایا کہ جب کسی عورت کا خاوند فوت ہوجاتا ۔
اور خراب کپڑے پہن لیتی خوشبو کو استعمال نہ کرتی حتی کہ سال گزر جاتا پھر اس کے بعد گدھا یا بکری یا پرندہ لایا جاتا ، اس جانور کے ساتھ وہ اپنی عدت کھولتی (عدت کھولنے کا طریقہ یہ ہوتا کہ اس جانور کے ساتھ اپنے جسم کا کوئی حصہ ملتی ، بہت تھوڑا ایسے ہوتا کہ کسی جانور کے ساتھ وہ اپنا جسم لگاتی مگر یہ کہ وہ جانور مرجاتا ، پھر وہ نکلتی اور اس کے ہاتھ میں مینگنی دی جاتی پھر وہ عورت اس مینگنی کو پھینکتی پھر اس کے بعد وہ خوشبو وغیرہ لگاتی ، حضرت مالک (رح) فرماتے ہیں کہ تفتض کا معنی ہے کہ وہ چمڑا ننگا کرتی ، حضرت سعید بن مسیب (رح) فرماتے ہیں اس مدت (عدت) میں حکمت یہ ہے ۔
کہ بے اس مدت میں بچے میں روح پڑجاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ بیشک بچہ پیٹ میں حرکت کرتا ہے نصف مدت حمل کے باعث اور بیشک چار ماہ دس دن قریبا نصف مدت حمل ہے اور عشرا کیوں کہا (جبکہ عشرا اس وقت کہا جاتا ہے جب معدود مؤنث ہو اس لیے کہ اس سے راتیں مراد ہیں کیونکہ عرب والے جب دنوں اور راتوں کے درمیان عدد کو مبہم کرتے ہیں تو راتوں کو غلبہ دیتے ہیں اور کہتے ہیں ” صمنا عشرا “۔ حالانکہ روزہ تو صرف دن کو ہوتا ہے ، مبرد کہتے ہیں ” عدد عشرا “ مؤنث اس لیے لایا گیا کہ اس سے مراد مدت ہے ۔ ” ای عشرمدد “ دس مدتیں اور ہر مدت دن رات پر مشتمل ہے اور جب وہ عورت جس کا خاوند فوت ہوگیا حاملہ ہو تو اس عورت کی عدت اکثر اہل علم کے نزدیک وہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ہوں یا بعد والے وضع حمل ہے ، حضرت علی ؓ اور حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کیا گیا ہے کہ وہ حاملہ عورت جس کا خاوند فوت ہوگیا ، آخر الاجلین عدت بیٹھے یعنی وضع حمل اور چار ماہ دس دن میں سے جو مدت طویل ہو اور بعد میں ختم ہو اس کے ساتھ عدت بیٹھے ۔
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں سورة النساء ” القصری نساء طولی “ کے بعد نازل ہوئی ، حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ ” نساء قصری “ سے مراد سورة طلاق لے رہے ہیں تو اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” واولات الاحمال اجلھن ان یضعن حملھن “۔ (جس میں عدت وضع حمل بیان کی گئی) اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے بعد نازل ہوا (آیت)” یتربصن بانفسھن اربعۃ اشھر وعشرا “۔ جو سورة بقرہ میں ہے۔ لہذا (آیت)” اولات الاحمال “۔ کو ناسخ سمجھا جائے گا اور عامۃ الفقہاء نے ” اربعۃ اشھر وعشرا “ میں حدیث سبیعہ سے تخصیص کی ہے ۔
ہشام نے اپنے والد سے انہوں نے مسور بن مخرمہ ؓ سے روایت کی ، بیشک سبیعہ اپنے خاوند کی وفات سے چند راتیں بعد نفاس والی ہوگئیں ، (یعنی اس کے ہاں بچہ پیدا ہوگیا) تو حضرت سبیعہ ؓ حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور نکاح کی اجازت چاہی ، پس آپ ﷺ نے اس کو نکاح کی اجازت دے دی ، اللہ تعالیٰ کا ارشاد (آیت)” فاذا بلغن اجلھن “۔ ان کی عدت گزر جائے ، (آیت)” فلا جناح علیکم “۔ اولیاء عورت کو خطاب ہے (آیت)” فیما فعلن فی انفسھن “۔ خاوندوں کا انتخاب کرنا بعض کا قول ہے (آیت)” فیما فعلن “۔ سے مردوں سے نکاح کی خاطر زینت اختیار کرنا ایسی زینت جس کا شرع انکار نہ کرے ۔ ”(بالمعروف) (آیت)” واللہ بما تعملون خبیر “۔ عدت وفات میں سوگ کرنا عورت پر واجب ہے البتہ طلاق کی عدت گزارنے والی سوگ کا واجب ہونا اس میں نظر ہے ، اگر تو طلاق رجعی کی عدت گزارنے والی ہے تو اس پر سوگ نہیں ہے بلکہ اس کے لیے مناسب ہے کہ ایسی زینب وزینت اختیار کرے جو اس کے خاوند کے دل کو رجوع پر مشتاق کرے ، وہ عورت بوجہ خلع کے خاوند سے جدا ہوئی ہے یا وہ جو تین طلاق یافتہ ہے ان کے بارے میں دو قول ہیں۔ (1) ان پر سوگ کرنا ایسے لازم ہے جیسے خاوند کی وفات والی پر سوگ کرنا واجب ہے ، یہ سعید بن المسیب (رح) کا قول ہے۔ حضرت امام اعظم امام ابوحنیفہ (رح) نے بھی یہی فرمایا ہے اور دوسرا قول یہ ہے کہ اس پر سوگ کرنا لازم نہیں ہے یہ قول حضرت عطاء (رح) کا ہے ، امام مالک (رح) یہی فرماتے ہیں ۔