Ayah 2:266266۔ (ایوداحدکم ۔۔۔۔۔۔ الانھار) (کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے پاس کھجور وانگور کا باغ ہو اور اس کے نیچے نہریں بہتی ہوں) اس آیت کا تعلق اللہ تعالیٰ کے اس فرمان (آیت)” یا ایھا الذین امنوا لا تبطلوا صدقاتکم بالمن والاذی ایود “ کے ساتھ ہے ، کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے لیے کوئی باغ ہو کھجور وانگور کا جس کے نیچے نہریں بہتی ہوں (فیھا من کل ۔۔۔۔۔۔۔ ضعفائ “ اس شخص کے ہاں اس باغ میں ہر قس کے میوے ہوں اور اس کو بڑھاپا آپہنچے اور اس کے چھوٹے چھوٹے بچے ہوں) چھوٹی اولاد چونکہ وہ کھانے میں کمزور ہوتے ہیں (فاصابھا اعصار پھر اس اس باغ پر ایک آندھی آئے) اعصار سے مراد وہ تیز طوفانی ہوا جو زمین سے بشکل عمودی اوپر کو جاتی ہے۔
(فیہ نار فاحترقت جس میں آگ ہو اور اس سے باغ جل جائے) اس آیت مبارکہ سے منافق اور دکھاوے کے لیے عمل کی مثال دی ہے جس کی تفصیل یہ ہے کہ اس کے نیک عمل کی مثال اچھے باغ جیسی ہے کہ وہ اس نیکی سے اس طرح فائدہ اٹھاتا ہے جیسے کہ ایسے باغ سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے تو جب صاحب باغ بوڑھا ہوجائے اور اس کی اولاد چھوٹی چھوٹی ہو اور اس کے باغ کو آگ کا شعلہ پہنچے اور سب کو جلا کر راکھ کر دے یہ سب اس کی طرف محتاج ہوجائیں نہ تو وہ شخص اب اس جلے ہوئے باغ کی اصلاح کرسکتا ہے اور نہ ہی اس کے بچے ، اب وہ ایسا شخص بھی نہیں پاتا ، جو اس کے بچوں کی مدد کرے اور نہ ہی اس کے بچے اس کی مدد کرسکتے ہیں ، اب یہ دونوں بچے اور بوڑھا اس کے حیلے سے عاجز آگئے ، اسی طرح منافق اور دکھاوے والے شخص کے عمل کی مثال ہے کہ جب وہ سارے اعمال اکارت کر دے گا تو کوئی اس کی مدد نہیں کرسکتا اور نہ ہی اس وقت اس کی توبہ قبول ہوگی اور نہ ہی کوئی چیز اس کے بدلے میں دے سکے گا ۔
عبید بن عمیر ؓ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ نے ایک دن صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے دریافت فرمایا کہ آپ حضرات کی اس آیت ” ایود احدکم ان تکون لہ جنۃ “ ۔ کے متعلق کیا رائے ہے کہ کس کے متعلق نازل ہوئی ؟ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کہنے لگے اللہ اعلم ، حضرت عمر ؓ غصہ میں آگئے اور فرمایا کہ تم کہو ہم جانتے ہیں یا نہیں جانتے ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ نے کہا کہ مجھے اس آیت کے متعلق کچھ علم ہے، حضرت عمر ؓ نے فرمایا بھتیجے بتاؤ اپنے آپ کو کم سن ہونے کی وجہ سے حقیر نہ سمجھو ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ نے کہا کہ اس آیت میں عمل کی مثال بیان کی گئی ہے، حضرت عمر ؓ نے فرمایا کس عمل کی ؟ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ منافق اور ریاء کار کے عمل کی ، حضرت عمر ؓ نے فرمایا کس شخص کے لیے فرمایا ؟ وہ شخص جو اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری والا عمل کرتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اس شخص پر شیطان کو مسلط کردیتا ہے کہ وہ گناہ کے کام کرنے لگ جاتا ہے ، یہاں تک کہ اس کے اعمال جل کر راکھ ہوجاتے ہیں۔
(کذالک ۔۔۔۔ تتفکرون اسی طرح اللہ تعالیٰ بیان کرتا ہے تمہارے لیے نشانیاں ہیں تاکہ تم نصیحت حاصل کرو)
خاصیت آیت 266۔
(آیت)” فاصابھا اعصار فیہ نار فاحترقت “۔ اگر کسی کو دھدری ہو تو یہ آیت لکھنے سے اس کا مرض جاتا رہے گا ۔
Ayah 2:267(تفسیر) 267۔:
(یایھا ۔۔۔۔۔۔ طیبات اے ایمان والو ! اپنی پاکیزہ چیزیں اللہ کے راستے میں خرچ کرو) اپنے اختیار سے خرچ کرو ، ابن مسعود ؓ اور مجاہد (رح) کا قول ہے کہ اس سے حلال اشیاء مراد ہیں ، (ماکسبتم جو تم کماتے ہو) تجارت کے ذریعے سے ہو یا صناعت کے ذریعے سے ہو اور یہ بات دلالت کرتی ہے کہ کمائی کرنا مباح ہے ، کمائی کی دو اقسام ہیں حلال اور حرام ۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بیشک پاکیزہ مال وہ ہے جو بندہ اپنی کمائی کرکے کھاتا ہے اور اس کی اولاد بھی اس کی کمائی سے کھاتی ہے ، خالد بن معدان نے مقدام بن معدی کرب ؓ سے روایت کی کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے بیان کیا کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک کا بہترین کھانا اس کے ہاتھ کی کمائی ہے ، حضرت داؤد (علیہ السلام) اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھاتے تھے ۔
حرام مال سے صدقہ قبول نہیں ہوتا :
عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو بندہ حرام مال کما کر اس میں سے صدقہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو قبول نہیں کرتا اور نہ ہی اس صدقہ کرنے سے اس کے مال میں برکت آتی ہے اور جو کچھ وہ اپنے پیچھے چھوڑ جاتا ہے وہ اس کے دوزخ میں جانے کا مزید ذریعہ بنتا ہے ، بیشک اللہ بری کمائی سے عذاب کو نہیں ٹالتا لیکن برائی کو نیکی سے مٹاتا ہے کیونکہ برائی ، برائی کو نہیں مٹاتی ۔
زکوۃ کے مسائل :
اکثر اہل علم کے نزدیک مال تجارت میں زکوۃ واجب ہے ، ایک سال گزرنے کے بعد اور اس کے سامان کی قیمت بھی لگائی جائے گی ، پھر اس کی قیمت کا ربع العشر نکالا جائے گا ، جب اس کی قیمت بیس دینار یا دو سو درہم ہو ، سمرۃ بن جندب ؓ سے روایت ہے کہ ہم کو رسول اللہ ﷺ سامان تجارت کی زکوۃ ادا کرنے کا حکم کیا کرتے تھے اور ابی عمرو بن حماس سے روایت ہے کہ ان کے والد کہا کرتے تھے کہ میں حضرت عمر بن الخطاب ؓ وعلی ؓ کے پاس سے گزرا اور عرض کیا کہ میری گردن پر بوجھ لدا ہوا تھا ، حضرت عمر ؓ نے فرمایا اے حماس ! کیا تم اس کی زکوۃ بھی ادا کرتے ہو ، فرمایا میرے پاس تو اس مال کی علاوہ اور کوئی مال نہیں ہے ، حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ یہ تو مال ہے نیچے اتارو ، میں نے اتار کر آپ کے سامنے رکھ دیا ، آپ نے ان کی گنتی کی اور اس کو زکوۃ کے قابل پایا تو اس سے زکوۃ نکالی (ومما اخرجنا لکم من الارض اور ان چیزوں میں سے جو ہم نے تمہارے لیے زمین سے پیدا کی ہیں)
بعض علماء نے کہا کہ یہ حکم عشر کے بارے میں ہے جو پھلوں اور گندم وغیرہ سے نکالتے ہیں ، اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ کھجوروں اور انگوروں پر عشر (دسواں حصہ) واجب ہے اور یہ جب ہے کہ اس کو آسمان کے پانی سے سیراب کیا جائے یا ایسی نہر کے ساتھ سیراب کیا جائے جو بغیر مشقت کے ہو ، اگر اس کی سیرابی راہٹ وغیرہ سے کی گئی ہو تو پھر اس کا نصف عشر ہوگا ۔
سالم بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں اور وہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس کھیتی کو آسمان کے پانی سے چشمے کے پانی سے یا وہ عشری ہو تو اس میں عشر لازم ہے اور جس کھیتی کو سینچائی کے ساتھ سیراب کیا گیا ہو اس میں نصف عشر ہے (دوسری روایت امام بغوی (رح) سند سے لائے ہیں)
عثمان بن السید ؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے ہمیں انگور کی زکوۃ کے متعلق ارشاد فرمایا کہ تم اس کی بٹائی کھجور کی بٹائی کی طرح کرتے ہو پھر تم اس کی زکوۃ ادا کرتے ہو کشمش سے جیسا کہ تم کھجور کی ادا کرتے ہو اس کے پھل سے ۔
سبزیاں وغیرہ میں عشر ہے کہ نہیں :
کھجور اور انگور کے علاوہ زکوۃ کے بارے میں آئمہ کا اختلاف ہے، بعض حضرات کے نزدیک اس میں کوئی عشر نہیں ، اور یہی قول ابن ابی لیلی والشافعی رحمہما اللہ کا ہے اور امام زہری ، (رح) امام اوزاعی (رح) اور امام مالک کے نزدیک زیتون میں زکوۃ واجب ہے ، امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک ہر قسم کے غلہ ، سبزیوں ، پھلوں پر زکوۃ واجب حشیش (ایک گھاس کا نام ہے) اور لکڑیوں میں زکوۃ نہیں ہے اور ہر وہ پھل جس پر زکوۃ واجب ہے تو اس پھل کے ظاہر ہونے اور اس کو صاف کرنے پر اور سوکھنے پر اور ہر گندم کے دانے اور پنیر پر عشر ہے زکوۃ کے واجب ہونے کا وقت پھل کے پکنے کا ہے اور عشر نکالنے کا وقت اس کو سٹے سے باہر نکالنے اور صاف کرنے کے بعد ہے ، اور یہ حضرات کہتے ہیں کہ ان چیزوں میں اس وقت تک زکوۃ واجب نہیں جب تک کہ وہ پانچ وسق تک نہ پہنچ جائیں اور یہی اکثر اہل علم کا قول ہے ۔
امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک قلیل وکثیر سب پر صدقہ وعشر واجب ہے ، جن حضرات کے نزدیک پانچ وسق سے کم میں زکوۃ نہیں انہوں نے یہ دلائل دیئے ہیں ۔
ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کھجور کے پانچ وسق سے کم میں زکوۃ نہیں چاندی کے پانچ اوقیہ سے کم میں صدقہ نہیں اور پانچ اونٹ سے کم میں زکوۃ نہیں ۔
ابی سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دانے اور کھجور میں زکوۃ نہیں ، یہاں تک پانچ وسق تک پہنچ جائے ، بعض حضرات نے کہا کہ یہ آیت صدقات نفلی کے بارے میں نازل ہوئی ہے ، حضرت انس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب کوئی مؤمن درخت لگاتا ہے یا کھیتی لگانا ہے ، پس اس سے انسان ، پرندے اور جانور کھاتے ہیں تو یہ اس کے لیے صدقہ ہوتے ہیں ۔
ولا تیمموا (اور قصد نہ کرو) ابن عامر (رح) نے بزی کی روایت سے تاء کو تشدید کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ لفظ قرآن میں اکتیس بار آیا ہے ، اصل میں یہاں دو تائیں تھیں ان میں سے ایک کو ساقط کردیا یا ادغام کردیا اور دوسرے لوگوں نے اس کو تخفیف سے پڑھا ہے اس کا معنی قصد نہ کرو (الخبیث منہ تنفقون ردی مال ، خراب) روایت کیا عدی بن ثابت نے براء بن عازب ؓ سے ، فرماتے ہیں کہ انصار کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ یہ لوگ کھجوروں کے باغات والے تھے اور یہ کھجوروں کے خوشہ مسجد نبوی کے صحن میں لٹکا لیا کرتے تھے ، اس سے فقراء مہاجرین کھایا کرتے تھے اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو یہ معلوم ہوتا تھا کہ مسجد میں کمزور گٹھلی والے خراب چھوہارے بھی موجود ہیں تو اس سے وہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کھاتے تھے ۔ ” ولا تیمموا الخبیث “ کا مطلب خشک چھوہارے اور ردی کھجوریں مراد ہیں ۔
حسن (رح) ، مجاہد (رح) اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین اپنے پھلوں سے صدقہ کرتے تھے اور گھٹیا مال دیتے ہیں اور جید کھجوروں میں وہ کام کرتے تھے اپنے لیے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ۔ (ولستم باخذیہ حالانکہ تم ویسا مال نہیں لیتے) خبیث ردی مال تم نہیں لیتے ، (الا ان تغمضوا فیہ مگر بغیر چشم پوشی کئے) اغماض غض البصر کو کہتے ہیں یعنی آنکھ بند کرنا یہاں مجازا درگزر کرنا مراد ہے اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم میں سے کسی شخص پر کوئی حق ہو اور وہ اس کے پاس لے آئے تو وہ اس سے نہ لے مگر یہ کہ دینے والا دیکھتا ہے کہ شاید لینے والا اس سے چشم پوشی کرلے یا اس کے حق کو چھوڑ دے، حسن (رح) اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ اگر تم ایسا ردی مال بازار میں بکتا دیکھتے ہو تو تم جید مال کے بدلے میں اس کو نہ خریدو اور حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے فرمایا اگر تم کو ایسا مال ھدیہ میں دیا جائے تو تم اس کو نہیں لیتے مگر صرف اس لیے کہ بھیجنے والے کی ناراضگی یا شرمندگی کی وجہ سے لے لیتے ہو۔
پس جو مال تم اپنے لیے پسند نہیں کرتے وہ مال اللہ کے راستے میں کس طرح دیتے ہو ؟ ردی مال اللہ کے راستے میں دینے کی ممانعت تب ہے جب سارا مال جید ہو اس لیے کہ اونٹ والے (جن کے اونٹوں میں کوئی بیماری ہو) اس میں شریک ہوتے ہیں جوان کے پاس ہوتی ہے، اگر سارا مال ردی ہو تو پھر ردی مال دینے میں کوئی حرج نہیں (واعلموا ان اللہ غنی اور جان لو بیشک اللہ بےپروا ہے ، تمہارے صدقات سے (حمید اور خوبیوں والا ہے) اپنے افعال میں محمود ہے۔
Ayah 2:268(تفسیر) 268۔:
(الشیطان یعدکم الفقر شیطان تم کو مفلس ہوجانے سے ڈراتا ہے) تمہیں وہ فقر وفاقہ سے ڈراتا ہے کہا جاتا ہے ” وعدتہ خیرا ووعدتہ شرا “۔ یعنی کبھی تو وہ خیر سے ڈراتا ہے اور کبھی شر سے ، اللہ تعالیٰ خیر کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں کہ (آیت)” وعدکم اللہ مغانم کثیرۃ “ کہ اللہ تم سے کثیر مال غنیمت کا وعدہ کرتا ہے اور شر کے متعلق ارشاد فرمایا (آیت)” النار وعدھا اللہ الذین کفروا “ (کہ ان لوگوں کے لیے آگ کا وعدہ ہے جو کفر کرتے ہیں) لیکن جب نہ خیر کا قرینہ مراد ہو اور نہ شر کا تو پھر خیر ہی مراد ہوتا ہے اور شر کا استعمال باب افعال سے ہی ہوتا ہے ۔
فقر کہتے ہیں بری حالت اور مال کی کمی کو ، یہ اصل میں الفقار فاء کے کسرہ کے ساتھ ہے آیت کا معنی یہ ہوگا کہ بیشک شیطان تمہیں فقر سے ڈراتا ہے اور آدمی سے کہتا ہے کہ مال اپنے پاس روکے رکھ اگر تو نے اس کو خرچ کیا تو فقیر ہوجائے گا (ویامرکم بالفحشآء اور تمہیں حکم کرتا ہے بےحیائی کا) فحشاء سے مراد بخل ہے زکوۃ کا روکنا ہے اور کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ قرآن میں جہاں بھی فحشاء کا لفظ آیا ہے وہاں زنا مراد ہے صرف یہاں زنا مراد نہیں ۔ (واللہ یعدکم مغفرۃ منہ وفضلا “ اور اللہ تم سے وعدہ کرتا ہے بخشش اور فضل کا) بخشش سے مراد تمہارے گناہوں کی معافی ہے ۔ (واللہ واسع اور اللہ وسعت والا ہے) واسع سے مراد غنی ہے (علیم جاننے والا ہے)
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ عزوجل فرماتے ہیں کہ اے ابن آدم تو خرچ کر تجھ پر خرچ کیا جائے گا اور آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کا ہاتھ بھرپور ہے ، دن رات خرچ کرنے سے اس کے خزانے میں کمی نہیں آتی کیا تم نہیں دیکھتے کہ جب سے زمین و آسمان پیدا کیے اس وقت سے وہ اپنے خزانوں سے خرچ کر رہا ہے تو اس کے خزانوں سے ذرہ برابر بھی کمی نہیں آئی اور فرمایا کہ اس وقت اللہ تعالیٰ کا عرش پانی پر تھا اور دوسرا ہاتھ میزان پر ہے وہ اس بلند کرتا ہے اور پست کرتا ہے ، حضرت فاطمہ بنت منذر ؓ حضرت اسماء ؓ سے روایت کرتی ہیں کہ آپ ﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا کہ خرچ کیا کرو اس کو شمار نہ کیا کرو وگرنہ اللہ تعالیٰ بھی شمار کر کر کے دے گا اور اس کو جمع کرکے نہ رکھ وگرنہ اللہ تعالیٰ بھی جمع کرلے گا ۔
Ayah 2:269269۔ (یؤتی الحکمۃ من یشاء اللہ تعالیٰ حکمت عطا کرتا ہے جس کو چاہتا ہے) امام سدی (رح) فرماتے ہیں کہ حکمت سے مراد نبوت ہے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد قرآن کا علم ہے اس کے ناسخ منسوخ محکم متشابہ ، مقدم ومؤخر اس کے حلال و حرام اور اس کی امثال کا علم ہے ، امام ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ حکمت سے مراد قرآن اور اس کا فہم ہے اور فرمایا کہ قرآن میں ایک سو نو (109) آیات ناسخ منسوخ ہیں اور ایک ہزار آیات حلال و حرام کے متعلق ہیں، مؤمنین میں سے کوئی بھی شخص ان آیات کو ضرور سیکھتا ہے اور کوئی بھی اہل نھروان کی طرح نہیں کہ انہوں نے قرآن کی ان آیات میں تاویلات کیں جو اہل قبلہ اور اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئیں ، ان آیات کے علم سے جاہل رہے اور انہوں نے خون بہایا اور انکے مال لوٹے اور وہ گمراہی پر ڈٹے رہے ، پس تمہارے اوپر ان کے لیے قرآن کی تعلیم لازم ہے جو چیز تم پر نازل کی گئی تاکہ یہ آپس میں اختلاف نہ کریں ، امام مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ اس سے مراد قرآن کریم ، علم اور فقہ ہے ، ابن ابی نجیح (رح) سے روایت ہے کہ حکمت سے مراد قول وفعل میں درستگی ہے۔ ابراہیم نخعی (رح) فرماتے ہیں کہ حکمت سے مراد اشیاء کے معانی اور ان کا سمجھنا ہے (ومن یؤت الحکمۃ اور جس کو حکمت دی گئی) ” من یؤت “ من من محل رفع میں واقع ہے ” مالم یسم “ فاعلہ ہونے کی وجہ سے اور ” والحکمۃ خبر ہے اور امام یعقوب (رح) نے ” یؤتی الحکمۃ “ تاء کے کسرہ کے ساتھ ہے ای ” من یؤتہ اللہ الحکمۃ “ اور اعمش (رح) نے ” ومن یؤتہ اللہ “ ۔ اور حسن نے ” ومن یؤت الحکمۃ پڑھا ہے ، بعض نے کہا کہ حکمت سے مراد اللہ کے دین میں ورع ہے (فقد اوتی خیرا کثیرا “ اور جس کو حکمت عطا کی گئی اس کو بڑی خیر کثیر عطا کی گئی) حسن (رح) فرماتے ہیں کہ جس کو قرآن کریم دیا گیا گویا اس کو نبوت کے درجات میں سے ایک کنارہ عطا کیا گیا مگر یہ کہ اس پر وحی نہیں کی جاتی اور انبیاء کرام (علیہم السلام) پر وحی کی جاتی ہے ۔ (وما یذکر اور نہیں نصیحت قبول کرتا) ” یذکر “ سے مراد نصیحت ہے (الا اولوا الباب مگر عقل والے) اس سے مراد ذوی العقول ہیں۔
Ayah 2:270(تفسیر) 270۔:
(آیت)” وما انفقتم من نفقۃ “۔ (اور جو کچھ تم خرچ کرتے ہو کسی طرح کا خرچ ہو) جو تمہارے اوپر اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرض کیا گیا ہے (آیت)” اونذرتم من نذر “ یا تم کسی طرح نذر مانتے ہو ۔ جو تم اپنے اوپر واجب کرتے ہو ، اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں اس کو پورا کرو ( (آیت)” فان اللہ یعلمہ “۔ بیشک اللہ اس کو جانتا ہے) اللہ کے ہاں وہ محفوظ ہے یہاں تک کہ تم اس کو ادا کر دو اور کہ گیا ” یعلمہ “ یعلمھا “ نہیں کہا کیونکہ نذر والا مال ایک انسان دوسرے کی طرف لوٹاتا ہے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” ومن یکسب خطیئہ اواثما ثم یرم بہ بریئا “۔ اگر تو چاہے تو اس کا بوجھ اپنے اوپر لے لے ، اس کا قول (آیت)” وما انزل علیکم من الکتاب والحکمۃ یعظکم بہ “۔ یہاں اس آیت میں ” بھما “ نہیں فرمایا (وما للظالمین اور نہیں ہے ظالموں کے لیے) صدقہ کو صحیح راہ میں خرچ کرنے کے بجائے دوسرے راستے میں خرچ کرنے والے حرام جگہوں میں صدقہ کرنے والے (من انصار کوئی مددگار) جوان سے اللہ کے عذاب کو دور کرے، انصار جمع ہے نصیر کی جیسے شریف کی جمع ہے اشراف۔
Ayah 2:271271۔ (آیت)” ان تبدوالصدقات “۔ اگر تم ظاہر کرکے صدقہ دو ) یعنی تم ان صدقات کو ظاہر کرو (فنعماھی تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے) تو یہ نعمت خصلت ہے ، مامحل رفع میں اور ” ھی “ محل نصب میں واقع ہے ، جیسا کہ کہا جاتا ہے ” نعم الرجل رجلا ، فاذا عرفت رفعت “۔ اس کے جواب میں کہا جائے ” نعم الرجل زید “ یہ اصل میں اس طرح تھا ” نعم ما وصلت “ اہل مدینہ وغیرہ نے ” نعم “ کو غیر پڑھا ہے ۔ فنعما “ نون کے کسرہ اور عین ساکن کے ساتھ ، ابن عامر ، حمزہ ، کسائی نے نون کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اور ابن کثیر ونافع کی روایت کے ساتھ ، یعقوب وحفص نے ان دونوں کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے ، یہ ساری لغات صحیح ہیں اور اسی طرح سورة نساء مین ہے (وان تخفوھا اگر تم اس کو چھپا کے دو گے) ” تخفوھا “ کے معنی ” تسروھا “ یعنی تم چھپا کر صدقہ کرو (وتؤتوھا الفقراء اور پہنچاؤ تم تنگدست کو یعنی تم فقراء کو چپکے سے دو (فھو خیرلکم) تو وہ تمہارے لئے بہتر ہے اور افضل ہے ، یہ سب کچھ مقبول ہے جب اس کی نیت درست ہو لیکن صدقہ چھپا کردینا افضل ہے کیونکہ حدیث میں آتا ہے کہ چھپا کر صدقہ کرنا رب کے غضب کو مٹاتا ہے ۔
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے وہ ابوہریرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سات اشخاص قیامت کے دن اللہ کے سایہ میں ہوں گے جس دن کوئی سایہ نہیں ہوگا ۔
1۔ امام عادل ۔ 2۔ جوان جس نے اللہ کی عبادت میں اپنی زندگی بسر کی ۔ 3۔ وہ شخص جس کا دل مسجد کی طرف لٹکا رہتا ہے ، جب وہ مسجد سے نکلتا ہے یہاں تک کہ وہ واپس لوٹ آئے ۔ 4۔ وہ دو شخص جو اللہ کے لیے محبت کرتے ہیں جب جمع ہوتے ہیں اور جب جدا ہوتے ہیں تو اللہ کی رضا کے لیے ۔ 5۔ وہ شخص جس کی آنکھیں اللہ کے ذکر سے تر ہوگئیں اور آنسو جاری ہوگئے ۔ 6۔ وہ شخص جس کو عالی منصب وجاہ والی عورت اپنی حاجت کے لیے بلائے تو وہ کہے کہ مجھے اللہ کا خوف ہے ۔ 7۔ وہ شخص جو اللہ کی رضا کے لیے صدقہ کرتا ہے اور اسکو اتنا چپکے سے دیتا ہے کہ بائیں ہاتھ کو اس کا علم ہی نہیں ہوتا۔
اور بعض حضرات نے کہا کہ یہ آیت نفلی صدقہ کے بارے میں ہے کیونکہ زکوۃ کا اظہار ضروری ہے تاکہ اور لوگوں کو بھی زکوۃ دینے کی تعلیم حاصل ہو جس طرح فرض نماز جماعت کے ساتھ افضل ہے اور نفل گھر میں افضل ہے اور بعض نے کہا کہ یہ آیت فرض زکوۃ کے بارے میں ہے کہ آپ ﷺ کے زمانہ میں زکوۃ چپکے سے دینا افضل تھا فی ز ماننا اس کا اظہار ضروری ہے تاکہ کسی کو بدگمانی نہ ہو (فلاں شخص کتنا صاحب مال ہے اور زکوۃ ادا نہیں کرتا)
(آیت)” ویکفر عنکم سیاتکم “۔ اور اس سے دور کردیں گے تمہارے کچھ گناہ) یہ قرات حضرت حفص (رح) اور ابن عامر (رح) کی ہے ابن کثیر (رح) ، اہل بصرہ اور ابوبکر (رح) نے نون اور راء کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے، عبارت اس طرح بنے گی ” ونحن نکفر “ ابن عامر اور حفص نے یاء اور را کے رفع کے ساتھ پڑھا ہے ، یہ عبارت بنے گی ” ویکفر اللہ “ اہل مدینہ وحمزہ وکسائی نون اور جزم ہے اس کا عطف مدخول فاء پر ہے اور یہ جزم کی جزا میں واقع ہے ” ای فھو خیرلکم “ اور ” من سیاتکم “ میں من صلہ ہے تقدیری عبارت ” نکفر منکم سیاتکم “ بعض نے کہا کہ یہ تحقیق اور تبعیض کے لیے ہے ، مطلب یہ ہے کہ ہم تمہارے صغیرہ گناہوں کو مٹا دیں گے (واللہ بما تعملون خبیر “ اور اللہ تعالیٰ تمہارے کیے ہوئے کاموں کی خوب خبر رکھتے ہیں) ۔
Ayah 2:272(تفسیر) 272۔:
(آیت)” (لیس علیک ھداھم “ ان کو ہدایت پرلے آنا آپ پر لازم نہیں) امام کلبی (رح) فرماتے ہیں اس آیت کا شان نزول یہ بیان کیا ہے کہ کچھ مسلمانوں کو یہودیوں کے ساتھ سسرالی رشتہ داری تھی اسلام لانے سے پہلے یہ ان پر خرچ کرتے تھے لیکن مسلمان ہونے کے بعد ان پر خرچ کرنا پسند نہیں فرماتے تھے اور ان کا یہ ارادہ تھا کہ وہ اسلام لے آئیں ، ہم ان پر خرچ کریں گے ، سعید بن جبیر ؓ سے روایت ہے کہ ہم لوگ اہل ذمہ والوں پر خرچ کرتے تھے ، جب مسلمان فقراء کی تعداد بڑھ گئی تو آپ ﷺ نے مشرکین پر خرچ کرنے سے منع کردیا تاکہ یہ محتاج ہو کر اسلام میں خود بخود داخل ہوجائیں گے ، اس پر یہ آیت نازل فرمائی (آیت)” لیس علیک ھداھم “۔ (ولکن اللہ یھدی من یشاء لیکن اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اللہ اس کو ہدایت کی توفیق عطا فرماتے ہیں یا اس سے واضح ہدایت ہے اور آپ ﷺ کے زمانے میں دعوت دی جاتی تو اللہ کی طرف سے ہدایت مل جاتی تھی ، اس آیت کے نزول کے بعد (وما تنفقوا من خیر فلا نفسکم اور جو کچھ تم خرچ کرتے ہو اپنے فائدے کے لیے) اس سے مراد مال ہے جو مال تم اپنے نفسوں پر خرچ کرتے ہو (اور تم کسی اور غرض سے خرچ نہیں کرتے صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے) اس طرح ایک لفظ ” جحد “ بھی آتا ہے اس کا معنی ” نھی “ ہے یعنی وہ صرف اللہ ہی کی رضا کے لیے خرچ کرتے ہیں (وگرنہ وہ خرچ نہیں کرتے) (اور جو مال تم اللہ کے راستے میں خرچ کرو گے) یہ پہلے جملے کی شرط ہے اس وجہ سے ان دونوں میں نون کو حذف کیا گیا (یوف الیکم وہ پورا پورا تمہیں ادا کیا جائے گا) تمہیں اس کی پوری پوری جزا دی جائے گی ، اس میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی ، مطلب یہ ہے کہ وہ قیامت کے دن واپس تمہیں لوٹا دیا جائے گا (نیکیوں کی صورت میں)
(وانتم لا تظلمون اور تمہاری حق تلفی نہیں کی جائے گی) تمہارے اعمال کے ثواب میں کسی چیز کی کمی نہیں کی جائے گی ، یہ نفلی صدقہ کے متعلق ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے اور غیر مسلم کے لیے مباح کیا ہے کہ غیر مسلم کو بھی دینا جائز ہے اور زکوۃ صرف مسلمانوں کو دینا واجب ہے اور یہی دو فریق جن کو سورة توبہ میں ذکر کیا گیا۔
Ayah 2:273(تفسیر) 273۔:
(للفقراء ۔۔۔۔۔۔۔ سبیل اللہ) (اصل حق ان فقیروں کا ہے جو قید ہیں اللہ کی راہ میں) ” للفقراء “ میں لام کے متعلق آئمہ کا اختلاف ہے، بعض حضرات کے نزدیک یہ ” فلانفسکم “ کے لام کی جگہ استعمال کیا گیا ، گویا کہ اس نے یوں کہا ” وما تنفقوا من خیر فللفقرائ “ کہ وہ خرچ نہیں کرتے خیر میں صرف فقراء کے لیے بیشک وہ اپنے لیے خرچ کرتے ہیں ۔
فقراء سے کون سے لوگ مراد ہیں اصحاب صفہ کی تعداد :
بعض نے کہا کہ ان سے مراد وہ صدقات ہیں جو ماقبل میں ذکر کیے جا چکے ہیں ۔
بعض نے کہا کہ اس کی ضمیر محذوف ہے تقدیری عبارت یہ ہوگی ” للفقراء الذین صفتھم کذا حق واجب وھم للفقراء المھاجرین “۔ یعنی وہ فقراء جو اس صفت کے ساتھ متصف ہوں ان پر اب حق واجب ہے اور وہ فقراء مہاجرین ہیں اور ان فقراء مہاجرین کی تعداد چار سو تک تھی یہ فقراء ایسے تھے جن کے رہنے کے لیے مدینہ میں نہ مکانات تھے اور نہ کھانے پینے کے لیے کوئی سامان ، یہ مسجد میں قرآن کی تعلیم حاصل کرتے تھے اور دن کو کھجوروں کی گٹھلیوں پر گزارہ کرتے اور انہی سے آپ ﷺ جہاد کے لیے لشکر بھیجا کرتے تھے ، یہ اصحاب صفہ والے کہلاتے تھے ، ان کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اور لوگوں کو ان پر خرچ کرنے پر برانگیختہ کیا ، بالفاظ دیگر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی مدد کرنے کی ترغیب دی ہے ، اسی لیے شام کے وقت جس کے پاس کوئی چیز ہوتی تو وہ ان کودے دیتا (آیت)” الذین احصروا “ سے مراد قتادہ کے ہاں وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو اللہ کے راستے میں روکے رکھا ۔
(آیت)” لایستطیعون ۔۔۔۔۔۔ الارض (وہ اس میں مشغول ہونے کی وجہ سے کہیں آجا نہیں سکتے اور نہ روزی کما سکتے ہیں) اور تجارت اور طلب معاش کے لیے فارغ نہیں ہوتے اور یہ اہل صفہ والے تھے جن کا پہلے ذکر ہوچکے ہے اور بعض نے کہا کہ مراد اس سے وہ جو اپنے نفسوں کو اللہ کی اطاعت میں روکے رکھا ہو ۔
بعض نے کہا کہ اس سے مراد وہ ہیں جن کو فقر نے روکے رکھا ہو اور وہ جہاد کے لیے نہ جاسکتے ہوں ۔
بعض نے حضرات نے کہا کہ اس سے مراد وہ مجاہدین ہیں جن کو آپ ﷺ کے ساتھ جہاد میں کوئی زخم پہنچے وہ اس زخم کی وجہ سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے قید ہو کر رہ گئے کہ وہ زمین پر چل پھر نہیں سکتے ۔
بعض حضرات نے کہا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ ان لوگوں نے جہاد میں اتنا حصہ لیا کہ دنیا میں ان کے مخالفین بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں ، اس وجہ سے یہ اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے (یحسبھم اور وہ گمان کرتے ہیں) ابو جعفر ، ابن عامر ، عاصم ، حمزہ رحمہم اللہ وغیرہ نے پڑھا ہے اور باقیوں نے ” یحسب “ سین کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے (الجاھل ان کے حال سے ناواقف ہے) جاہل سے مراد ان کے حال سے ناواقفیت ہے (اغنیاء من التعفف ان کو غنی سمجھتے ہیں سوال سے بچنے کے سبب) سوال کے بچنے کی غرض سے اور تھوڑے پر قناعت کرتے ہوئے تو تم لوگ ان کے ان احوال کو دیکھ کر ان کو غنی نہ سمجھو ، تعفف باب تفعل سے بمعنی ترک کرنا ، جیسے کہا جاتا ہے ۔ ” عف عنی الشیئ “ جب کسی چیز سے بچا جائے اور تعفف بولتے ہیں جب کسی چیز کے رکنے سے تکلف اٹھایا جائے (تعرفھم بسیماھم آپ ان کو ان کی نشانی سے پہچانوگے) ” سیماء السیمیاء والسمۃ “ وہ علامت جس کے ذریعے سے کسی چیز کو پہچانا جاتا ہے ، اس مقام پر اس کے معنی کے تعین میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں ۔
تعرفھم بسیماھم کی تفسیر میں مختلف اقوال :
امام مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ اس سے مراد خشوع اور تواضع مراد ہے ،
امام سدی (رح) فرماتے ہیں کہ ان کے چہروں پر بھوک اور فقر کے نشانات ہوں گے ۔
امام ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ اس سے مراد ان کے چہرے کی زردگی ان کی بھوک کی وجہ سے پہچانی جاتی ہے ۔
بعض نے کہا ” سیماھم “ سے مراد کپڑوں کا بوسیدہ ہونا ہے ۔ (لایسئلون الناس الحافا، نہیں سوال کرتے لوگوں سے لپٹ کر) عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ جب ان کے پاس صبح کا کھانا ہوتا تو وہ شام کے لیے سوال نہیں کرتے تھے اور جب شام کے لیے کھانا موجود ہوتا تو صبح کے لیے سوال نہ کرتے ، بعض نے کہا کہ اس سے مراد اصلا (کبھی بھی) کسی سے لپٹ کر سوال نہیں کرتے ، اسی لیے ان کے لیے تعفف کا استعمال کیا گیا اور تعفف ترک سوال کو ہی کہتے ہیں ” ولانہ قال تعرفھم بسیماھم “ اگر یہ لوگ سوال کرتے ہوتے تو ان کو اس علامت کے ساتھ نہ ذکر کرتے ، آیت کا معنی یہ ہوگا کہ ان لوگوں میں سوال کرنا نہیں ہوتا تو الحاف بھی کبھی واقعہ نہیں ہوا الحاف کہا جاتا آہ وزاری اور چمٹ لپٹ کر کسی سے مانگنا (سند کے ساتھ ذکر کیا) حضرت زبیر ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص رسی لے کر جنگل کی طرف چلا جائے اور وہاں لکڑیاں کاٹ کر گٹھا باندھ کر اپنی پشت پر لاد کر لاوے اور اس کو بیچ کر پیسے کمائے اور اس سے اپنی عزت وعفت کو بچائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ لوگوں سے سوال کرے کہ وہ اس کے سوال پر دیں یا نہ دیں ۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مسکین وہ نہیں کہ جو لوگوں سے سوال کرتا پھرے اور لوگ اس کو ایک لقمہ یا دو لقمے عطا کریں یا ایک کھجور یا دو کھجور عطا کردیں تو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے پوچھا یا رسول اللہ پھر مسکین کون ہے ؟ فرمایا کہ مسکین وہ ہے جس کے پاس اتنا مال نہ ہو کہ وہ کسی کو غنی کر دے اور نہ ہی اس کے پاس پیٹ بھرنے کے بطور کھانا وغیرہ ہو کہ وہ اس کو صدقہ کرے اور نہ ہی کسی کے پاس سوالی بن کر کھڑا ہو۔
قبیصہ بن مخارق (رح) سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں اپنی قوم کے لیے بوجھ لادا کرتا تھا میں آپ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ میں اپنی قوم کے لیے بوجھ لادا کرتا تھا اور میں آپ ﷺ پاس مدد کے لیے آیا ہوں ، آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں تمہارے لیے بوجھ لادوں گا ، پہلے تم جا کر ان کے صدقات ان کے حوالے کرو ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا اے قبیصہ ! سوال کرنا حرام ہے مگر تین وجوہ سے جائز ہے ایک کسی شخص کو سخت حاجت پیش آئے ، حتی کہ اس کا مال ختم ہوجائے تو وہ سوال کرے ، یہاں تک کہ وہ زندگی بسر کرنے کے قابل ہوجائے تو اس کو سوال کرنا ترک کردینا چاہیے اور دوسرا شخص وہ ہے جس کو تین سال تک محتاجی آئے تو اس شخص کے لیے سوال کرنا جائز ہے جب تک کہ اس کے پاس کھانے پینے کی سہولت نہ ہوجائے اور تیسرا وہ شخص جو کسی کا بوجھ لادتا ہو تو وہ سوال کرسکتا ہے ، یہاں تک کہ وہ غنی ہوجائے پھر وہ سوال سے رک جائے اس کے علاوہ جو سوال کرے گا اس کا کھانا حرام ہوگا ، حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو لوگوں سے کسی چیز کا سوال کرے حالانکہ سوال کرنے سے غنی بنا دینے والی اس کے پاس موجود ہو تو قیامت کے دن وہ اس حال میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر خراشیں ہوں گی خموش ، خدوش کا ایک ہی معنی ہے کہ لکڑی کے ساتھ خراشیں لگانا اور کدوح وہ خراشیں جو دانت کے کاٹنے سے حاصل ہوں ، عرض کیا گیا کہ غنی کردینے والی چیز کیا ہے ؟ فرمایا پچاس درہم یا اس کے بقدر سونا (اور جو مال تم خرچ کرو گے) خیر سے مراد مال ہے ” فان اللہ بہ علیم (اللہ اس سے بخوبی واقف ہے)
Ayah 2:274(تفسیر) 274۔:
(آیت)” الذین ۔۔۔۔۔۔۔۔ وعلانیۃ “۔ جو لوگ اللہ کے راستے میں اپنامال خرچ کرتے ہیں دن ورات کو پوشیدہ یا علانیہ) حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ یہ آیت حضرت علی بن ابی طالب ؓ کے بارے میں نازل ہوئی کہ ان کے پاس چار دراہم تھے ، اس کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں تھی حضرت علی ؓ نے ایک درہم رات کو اور ایک درہم دن کو اور ایک درہم پوشیدہ اور ایک علانیہ صدقہ کیا ۔
حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی (آیت)” للفقراء الذین احصروا فی سبیل اللہ “۔ تو عبدالرحمن بن عوف ؓ نے بہت سارے دراہم کثیرہ اصحاب صفہ کو بھیجے اور حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے ایک وسق تمر آدھی رات کو بھیجی ، اس وقت یہ آیت نازل ہوئی (آیت)” الذین ینفقون اموالھم باللیل والنھار “۔ اس سے مراد دن کے وقت اعلانیہ صدقہ کرنا عبدالرحمن بن عوف ؓ کا اور رات کے وقت حضرت علی ؓ کا صدقہ کرنا خفیہ طور پر ، ابوامامہ ؓ ، ابو الدرداء ؓ مکحول (رح) ، اوزاعی (رح) ، فرماتے ہیں کہ یہ آیت ان لوگوں کے متعلق نازل ہوئی جو اپنے گھوڑوں کو جہاد کے لیے تیار رکھتے اور ان کو دن رات چراتے سرا بھی اور علانیہ بھی ۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کے لیے گھوڑے باندھے اور وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان بھی رکھتا ہے اور اس کے وعدہ کو سچا سمجھتا ہے تو گھوڑے کا کھانا پینا ، لید، پیشاب ، قیامت کے دن اس کے میزان میں رکھا جائے گا ، (فلھم اجرھم عند ربھم تو ان کا اجر اللہ کے پاس مخصوص ہے) اخفش کا قول ہے یہاں خبر کے جواب پر فاء داخل کی ہے ، اس لیے ” الذین “ بمعنی ” من “ کے ہے ، آیت کا معنی یہ ہے کہ جو شخص اتنا خرچ کرے گا اس کا اجر اس کے رب کے پاس اتنا ہی ہے (ولا خوف علیھم ولا ھم یحزنون ، اس کو کسی کو خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے) ۔
Ayah 2:275(تفسیر) 275۔:
(الذین یاکلون الربا جو لوگ سود کھاتے ہیں) جو اس میں معاملہ کرتے ہیں یہاں کھانے کے ساتھ مخصوص قرار دیا کیونکہ مال کی کمائی کا مقصود کھانا ہی ہوتا ہے (لایقومون نہیں اٹھیں گے الا کما یقوم الـذی یتخبطہ، قیامت کے دن قبروں سے نہیں اٹھیں گے) مگر اس طرح جیسے جن چھوا ہوا شخص اٹھتا ہے) ” یتخبطہ “ سے مراد جلد چھونے والا ہے خبط کا معنی ہے سخت ضرب جس کے ساتھ بگاڑ بھی ہو جیسا کہ کہا جاتا ہے ” ناقۃ حبوط “ وہ اونٹنی جو اپنے پاؤں سے لوگوں کو روندے (من المس چھونے سے) مس سے مراد جنون ہے یا جنون چھوا جانا کہ ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے وہ آپ ﷺ سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے شب معراج کے قصہ میں فرمایا کہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) مجھے بہت سارے لوگوں کے پاس لے گئے ، ان لوگوں میں سے ہر ایک کاپیٹ بڑے کمرے کی طرح تھا ، یہ لوگ فرعونیوں کی گزرگاہ کے سامنے تھے ، فرعونی لوگ بھڑکائے ہوئے ان اونٹوں کی طرح جو اندھا دھند پتھروں اور درختوں کو روندتے چلے جاتے تھے نہ سنتے ہیں نہ سمجھتے ہیں اور جب یہ ان کے سامنے سے گزرتے تو ان کو آہٹ محسوس ہوتی تو وہ کھڑے ہونے لگے لیکن ان کے پیٹ ان کو لے جھکے اور وہ پچھڑ گیا ، وہ آگے سے ہٹ نہ سکے یہاں تک کہ فرعونی ان پر سے گزرتے اور روندتے چلے جاتے ۔ آتے وقت بھی روندتے اور جاتے وقت بھی گویا یہ ان کو عذاب برزخ دیا جاتا ہے دنیا میں اور آخرت کے درمیان میں دیا جاتا ۔
آپ ﷺ نے فرمایا کہ فرعونی کہہ رہے تھے کہ اے الہی کبھی قیامت برپا نہ کرنا کیونکہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ فرعونیوں کو سخت عذاب میں مبتلا کر دو ، میں نے کہا اے جبرائیل (علیہ السلام) یہ کون لوگ ہیں ؟ جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو سود کھاتے تھے یہ نہیں اٹھیں گے مگر اس طرح جیسا کہ جن زدہ آدمی جن کے جھپٹنے کی وجہ سے اٹھتا ہے ۔
(ذلک بانھم قالوا انما البیع مثل الربوا “۔ یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے کہا تھا کہ بیع بھی تو سود ہی کی طرح ہے) یہ آیت اس وجہ سے کہ یہ لوگ کہا کرتے تھے کہ سود بیع کی طرح ہے اور بیع جس حلال ہے اس طرح سود بھی حلال ہے اس وجہ سے سود کی حرمت نازل ہوئی ۔ زمانہ جاہلیت میں جو کوئی دوسرے مال کو اپنے لیے حلال سمجھتا تھا تو وہ اس سے مال کا مطالبہ کرتا تھا ، غریم کو کہا جاتا کہ یہ فلاں کا حق ہے ، اس کی ادائیگی میں جلدی کرو تاکہ تمہارے مال میں اور زیادتی کی جائے ، وہ دونوں اس طرح کرتے اور ان دونوں کو کہا جاتا ہے کہ برابر ہے کہ یہ زیادتی اول ربح میں حال ہو یا خیر سے حاصل ہو ، اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان کی تکذیب کی اور فرمایا (آیت)” واحل اللہ البیع وحرم الربوا “۔ اللہ نے تمہارے لیے بیع کو حلال قرار دیا اور ربا کو حرام قرار دیا) ربوا لغت میں مطلق زیادتی کو کہتے ہیں جیسا کہ قرآن میں آتا ہے (آیت)” وما اتیتم من ربا لیربوا فی اموال الناس “۔ اس سے کثرت مراد ہے ، اگر مطلق زیادتی ہو تو پھر تجارت کے ذریعے سے جو زیادتی حاصل ہوتی ہے وہ حرام نہیں ہوتی ، حرام وہ زیادتی ہوتی ہے جو خاص صفت کے ساتھ مال مخصوص میں ہو جس کو آپ ﷺ نے بیان فرمایا ، عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ نہ بیچو سونے کو سونے کے بدلے میں اور نہ نمک کو نمک کے بدلے میں مگر برابر سرابر آمنے سامنے ہاتھ در ہاتھ لیکن سونے کو چاندی کے بدلے میں اور چاندی کو سونے کے بدلے میں اور گندم کو جو کے بدلے میں اور جو کو گندم کے بدلے میں یا کھجور کے بدلے میں ہاتھ در ہاتھ جیسا کہ تم چاہو، خواہ ان دونوں اشیاء میں ایک کم ہو ، نمک ، تمر وغیرہ یا زیادہ ہو اور اگر دونوں کی جنس ایک ہو اور اس میں کمی زیادتی ہو تو ربا ہے ، یہ روایت مطرف عن محمد بن سیرین مسلم بن یسار سے روایت کرتے ہیں اور وہ عبداللہ بن عتیک سے اور وہ عبادہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ کا یہ ارشاد چھ اشیاء میں نص ہے ، بعض اہل علم کا اس میں یہ قول ہے کہ ربا کا حکم انہیں اشیاء میں ثابت ہوتا ہے جب یہ اوصاف دوسری چیزوں میں پایا گیا تو وہاں بھی ربوا متحقق ہوگا، پھر آئمہ کرام کا اس کے اوصاف میں اختلاف ہوا ہے بعض اہل علم نے کہا کہ ربوا کا معنی نفع ہے ، لہذا ربوا تمام مالوں میں ثابت ہے ۔
اور اکثر لوگ اس طرف گئے ہیں کہ ربوا صرف دراہم اور دنانیر کے وصف کے ساتھ پایا جائے گا اور وہ ثمنیت ہے اور دوسری اشیاء میں ربوا کی علت طعم ہونا ہے ، اب اس وصف میں آئمہ کا اختلاف ہے ، بعض حضرات کا قول ہے کہ دراہم ودنانیر میں علت نقدی (ثمنیت) ہوتا ہے ، یہ امام مالک (رح) اور امام شافعی (رح) کا قول ہے اور بعض حضرات کے نزدیک ربوا کی علت قدر ہے اور یہی اصحاب الرای کا قول ہے اور اس صورت میں ربوا تمام موزونات میں مثلا لوہا، روئی وغیرہ میں پایا جائے گا اور باقی چاراشیاء میں علت ربوا کیل ہے اور یہی اصحاب الرای کا قول ہے ، ربوا تمام مکیلات میں ہوتا ہے خواہ ان میں طعم پایا جائے یا نہ پایا جائے جیسے چونا ، کوئلہ وغیرہ اور بعض حضرات کے نزدیک طعم کے ساتھ کیل مع الوزن بھی علت ہے ، یعنی جو چیز مطعوم ہو اور کیلی اور وزنی ہو تو اس میں ربوا ہوتا ہے کسی زیادتی کے ساتھ ، ان کے ہاں صرف مکیلی یا موزونی ہونا ربوا کی علت نہیں ہے اور یہ قول سعید بن المسیب (رح) کا ہے ۔ امام شافعی (رح) کا قدیم کا قول ہے اور جدید قول یہ ہے کہ ربوا کہ علت طعم کے ساتھ ہے لہذا تمام مطعومات والی اشیاء میں خواہ وہ پھل ہوں یا سبزیاں ہوں یا کوئی ادویہ ہوں مکیلی ہوں یا موزونی ان میں اگر طعم پایا گیا تو ربوا ہوگا ، جیسا کہ معمر بن عبداللہ ؓ سے مروی ہے کہ میں نے آپ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ کھانے کو کھانے کے بدلے بیچنا ہاتھ در ہاتھ مثل در مثل امام شافعی (رح) کے نزدیک ربوا کی علت طعم ہے ۔
ربوا کی دو قسمیں ہیں ” ربوا الفضل، ربو النسائ “ جب کسی نے مال ربوا اس کی جنس کے ساتھ فروخت کیا برابر سرابر اسی طور پر کہ اس نے ایک نقد کے ساتھ اور ایک ادھار کے ساتھ یا کھانے والی اشیاء اسی جنس کے ساتھ جیسے گندم کو گندم کے بدلے میں اور اسی طرح یہ ربوا کی قسم میں سے ہے یہ جائز نہیں مگر تساوی کے ساتھ اگر وہ موزونی ہو جیسے دراہم ودنانیر مساوات وزن میں شرط ہے اور اگر مکیلی چیزیں ہوں جیسے گندم جو اس کی جنس کے ساتھ بیچے تو اس کے کیلی میں مساوات شرط ہے اور مجلس کے اندر قبضہ کرنا بھی شرط ہے ، اگر جنس مختلف ہو تو پھر دیکھا جائے گا کہ ربوا والاوصف اس کے موافق ہے کہ نہیں ، مثلا کسی نے کھانے کی کوئی چیز نقدی چیزوں کے بدلے میں فروخت کی تو اس میں ربوا نہیں ، یہ ایساہی ہے جیسا کہ کسی نے کوئی چیز بغیر مال کے بیچا ۔ اور اگر ایسی چیز بیچی جس کا وصف ایک ہو مثلا دراہم کو دنانیر کے بدلے میں یاگندم کو جو کے بدلے میں یا طعم والی چیز کو طعم کے ساتھ بغیر جنس کے تو اس میں زیادتی ربوا نہیں ۔ لہذا اس کو تفاضل کے ساتھ اور اندازے کے ساتھ جائز نہیں ۔ ’ ربوا النساء “ میں اور اس کو مجلس میں قبضہ شرط ہے ، آپ ﷺ کا قول کہ نہ بیچو سونے کو سونے کے بدلے سے ۔ آخر حدیث ” الا سواء بسواء “ تک اس حدیث میں مماثلت برابری سرابری واجب ہے اور تفاضل (زیادتی) حرام ہے جب جنس ایک ہو ، اس حدیث میں عین بعین اس میں ادھار کو حرام قرار دیا اور ” یدا بیدا “ سے مطلق تفاضل جب جنس مختلف ہو تو مجلس میں قبضہ واجب ہے ، یہ ” ربوا مبایعہ “ ہے اور جو شخص کسی سے اس شرط پر قرض لے کہ وہ اس سے زیادہ لوٹائے گا تو یہ قرض منفعت کہلائے گا اور ہر وہ قرض جس سے نفع حاصل ہو وہ ربوا ہے، (فمن جاء ہ موعظۃ من ربہ پھر جس شخص کو اس کے پروردگار کی طرف سے نصیحت پہنچے) نصیحت کا پہنچنا خواہ تخویف کے ساتھ ہو یا تذکیر کے ساتھ یہاں پر فعل کو وعظ کی طرف لوٹایا گیا (فانتھی پس وہ رک گیا) سود کھانے سے (فلہ ماسلف تو اس کے لیے جو چکھ ہوچکا وہ اسی کا رہا) گناہوں میں سے جو وہ پہلے کرچکا اس نہی سے پہلے وہ مغفور ہیں (وامرہ الی اللہ اور ان کا معاملہ خدا کے حوالے رہا) سود کی ممانعت کے بعد چاہے تو جو اس سے بچے گا اس کا معاملہ اللہ کے سپرد رہے گا وہ چاہے تو اس کو ثابت قدم رکھے اور چاہے تو اس کو پھسلا دے اور بعض نے کہا کہ اس کا یہ کام اللہ کے سپرد ہے اس چیز کے بارے میں وہ اس کو حکم کرتا ہے یا لوگوں کو روکتا ہے اور جو لوگوں کے لیے اس کو حرام کرتا ہے اور حلال کرتا ہے اور نہیں ہے اس کی طرف کوئی چیز (ومن عاد اور جو شخص لوٹ آئے) سود کے حرام ہونے کے بعد اس کو حلال سمجھتا ہے تو (فاولئک اصحاب النار ھم فیھا خالدون “۔ یہ آگ والے ہیں اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے) ۔۔۔۔
عوف بن ابی جحیفہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے منع فرمایا خون کے ثمن سے ، کتے کی بیع کے ثمن سے، زانی کے ثمن اور لعنت فرمائی سود کھانے والے، کھلانے والے اور گودنے والی ، گدوانے والی اور تصویر بنوانے والے پر ۔
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے فرماتا ہے کہ آپ ﷺ نے لعنت فرمائی سود کھانے والے پر کھلانے والے پر لکھنے والے پر اور حاضر کرنے والے پر اور فرمایا یہ سب حکم میں برابر ہیں ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا سود کے ستر (مفاسد) دروازے ہیں ان میں ادنی اپنی ماں سے زنا کرنا ہے ، (نعوذ باللہ) ۔
Ayah 2:276(تفسیر) 276۔:
(آیت)” ویمحق اللہ الربوا۔۔۔۔۔۔۔ کفار اثیم “۔ (اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتے ہیں) اس کو کم کرتے اور اس کے ذریعے مال کی ہلاکت اور اس کے ذریعے سے برکت ختم ہوجاتی ہے ، ضحاک (رح) حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ (آیت)” یمحق اللہ الربوا “۔ کا معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے نہ صدقہ قبول کرتے ہیں نہ جہاد ، نہ حج اور نہ ہی کوئی صلہ رحمی (ویربی الصدقات اور صدقات کو بڑھاتے ہیں)
اس کے ثمرات اور ان کے لیے دنیا میں برکت اور اس کے لیے دگنا اجر اور آخرت میں ثواب دیا جائے گا (واللہ ۔۔۔۔۔۔۔ کفار) اور اللہ تعالیٰ کسی کفر کرنے والے اور گناہ گار کو پسند نہیں کرتے) اس سے مراد سود ہے ، اثیم اس کے کھانے کے بسبب ۔
Ayah 2:277(تفسیر) 277۔:
(آیت)” (ان الذین ۔۔۔ یحزنون بےوہ لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے نماز کی پابندی کی اور زکوۃ دی ، ان کے لیے ان کو ثواب ہوگا ، ان کے رب کے نزدیک اور ان پر کوئی خطرہ نہیں ہوگا اور نہ وہ مغموم ہوں گے)
Ayah 2:278(تفسیر) 278۔:
(یایھا ۔۔۔۔۔۔۔ من الربوا اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور بقیہ چھوڑ دو ) عطاء (رح) ، و عکرمہ (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت عباس بن عبدالمطلب اور عثمان بن عفان ؓ کے بارے میں نازل ہوئی کہ انہوں نے کچھ خشک کھجوریں بیع سلم کے طور پر خریدی تھیں جب فصل ٹوٹنے کا وقت آیا تو خشک کھجوروں والے نے کہا کہ اگر آپ لوگ اپنا پورا حق لے لیں گے تو میرے بچوں کی ضرورت کے لیے کچھ نہیں بچے گا اس لیے مناسب ہے کہ آپ آدھا واجب الادا حق اس وقت لے لیجئے اور باقی کے لیے مدت مقرر کیجئے ، میں آپ کو دوگنا کرکے دیدوں گا ، دونوں حضرات اس تجویز رضا مند ہوگئے جب مدت مقروہ پوری ہوگئی اور وقت مقررہ آگیا تو زیادتی کا مطالبہ کیا اس کی اطلاع آپ (علیہ السلام) کو ہوئی تو آپ ﷺ نے دونوں کی ممانعت فرما دی ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔
امام سدی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیات عباس اور خالد بن ولید ؓ کے بارے میں نازل ہوئیں کہ یہ دونوں حضرات زمانہ جاہلیت میں قبیلہ بنوثقیف کے بنی عمرو بن عمیر کو سودی قرض دیا کرتا تھا اور یہ دونوں اس کاروبار میں شریک تھے ۔ جب اسلام آیا تو ان کا اس وقت بڑا سودی روپیہ لوگوں پر تھا انہی کے متعلق یہ آیت نازل فرمائی ، چناچہ حجۃ الوداع میں عرمہ کے دن آپ ﷺ نے اپنے خطبہ میں فرمایا خوب سن لو ، جاہلیت کی ہر چیز میرے پاؤں کے نیچے ہے ، جاہلیت کے خون ساقط کردیئے گئے ، اپنے خونوں میں سے سب سے پہلے خون ربیعہ بن حارث کا ساقط کرتا ہوں ، یہ ربیعہ بن حارث کے قبیلہ کے شیر خوار تھے ، بنو ھذیل نے ان کو قتل کردیا، جاہلیت کا سود ساقط کردیا گیا ہے ، سب سے پہلے میں عباس بن عبد المطلب کا سود ساقط کرتا ہوں ، عباس کا سب سود چھوڑ دیا گیا۔
مقاتل ؓ فرماتے ہیں کہ اس آیت کا نزول قبیلہ ثقیف کے چار آدمیوں کے متعلق ہوا ، مسعود عبد یا لیل حبیب اور ربیعہ یہ چاروں عمرو بن عمیر بن عوف ثقفی کے بیٹے تھے کہ یہ لوگ بنو مغیرہ بن عبداللہ بن عمیر بن مخزوم سے قرض لیا کرتے تھے اور یہ اس پر سود لیتے تھے ، جب یہ لوگ طائف میں اسلام لے آئے تو انہوں نے بنو مغیرہ سے سود طلب کیا ، اس پر بنومغیرہ نے کہا کہ اللہ کی قسم ہم لوگ اسلام میں سود نہیں دیتے ، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے سود کو مٹا دیا ہے پس یہ جھگڑا عتاب بن اسید کے پاس چلا گیا یہ آپ ﷺ کی طرف سے مکہ میں عامل تھے ، حضرت عتاب بن اسید ؓ نے یہ قصہ آپ ﷺ کے پاس بھیج دیا اور ان کے پاس بہت کثیر مال تھا اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔
Ayah 2:279(تفسیر)” 279۔:
(آیت)” فان لم تفعلوا “ پھر اگر تم نہ کرو گے یعنی اگر تم سود سے نہیں بچو کے (آیت)” فاذنوا بحرب من اللہ ورسولہ “ تو آگاہ ہوجاؤ اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کی طرف سے جنگ)
” فاذنوا “ حضرت حمزہ (رح) عاصم نے بروایت ابی بکر (رح) مد کے پڑھا ہے ، ” امنوا “ کی طرح مطلب یہ ہے کہ پس تم جان لو کہ تمہارے لیے جنگ کا اعلان ہے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے ” فاذنوا “ یہ اصل میں اذن سے ہے اور بعض دوسرے قراء نے بغیر مد اور ذال کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے کہ جان لو تم اور یقین کرلو اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ سے جنگ کے اعلان کا سعید بن جبیر ؓ اور حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کا اثر نقل کیا ہے کہ قیامت کے دن سود کھانے والے کو کہا جائے گا لڑائی کے لیے اپنے ہتھیار تیار کرلے، اہل معانی نے فرمایا کہ حرب اللہ سے مراد النار ہے یعنی اللہ کی طرف سے جنگ کا اعلان کا مطلب ہے دوزخ تیار کی ہوئی ہے اور حرب رسول اللہ ﷺ سے مراد تلوار ہے کہ آپ ﷺ نے اس کے لیے تلوار تیار کی ہوئی ہے ۔
(وان تبتم اور اگر تم توبہ کرلو گے) تم سود کو حلال سمجھنا چھوڑ دو گے اور اس سے رجوع کرلو گے (فلکم رؤس اموالکم لا تظلمون تو تم کو تمہارے اصل اموال مل جائیں گے ، نہ تم کسی پر ظلم کرنے پاؤ گے) کسی سے زیادہ مال طلب کر کے اس پر ظلم نہ کرو (اور نہ تم پر ظلم کیا جائے گا) یعنی اس کے بدلے میں تمہیں نقصان نہیں دیا جائے گا ، بنو عمروثقفی سود کا کاروبار کرتا تھا جب یہ آیت نازل ہوئی تو انہوں نے کہا کہ ہم اللہ سے توبہ کرتے ہیں ہم کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ سے لڑنے کی طاقت نہیں ، چناچہ سب لوگ اپنا اصل مال لینے پر راضی ہوگئے ، اس پر بنو مغیرہ نے اپنی تنگ دستی کی شکایت کی اور فصل توڑنے تک مہلت کے خواہش مند ہوئے لیکن قرض خواہوں نے مہلت دینے سے انکار کردیا اس پر یہ آیات نازل ہوئیں ۔
Ayah 2:280(تفسیر) 280۔:
(آیت)” وان کان ذواعسرۃ “۔ اگر کوئی تنگ دست ہو ) اگر کوئی تنگدسست قرض ہو ” کان “ کی خبر یہاں ذکر نہیں کی گئی کیونکہ اگر اسم نکرۃ ہو تو خبر کو ذکر نہ کرنا جائز ہے ، جیسا کہ کہا جاتا ہے ، ” ان کان رجلا صالحا فاکرمہ “ اور بعض نے کہا کہ ” کان بمعنی ” وقع “ کے ہے اس صورت میں کان خبر کا محتاج ہوگا ۔ ابو جعفر (رح) عسرۃ سین کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے (فنظرۃ پس مہلت دے) یہ مبتداء مؤخر ہے اور عبارت محذوف ہے ۔ ” فعلیہ نظرۃ “ (الی میسرۃ کشادگی تک) نافع نے سین کے ضمہ کے ساتھ ” میسرۃ “ اور دوسرے قراء نے سین کے زیر کے ساتھ پڑھا ہے ، امام مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ سین کے ضمہ کے ساتھ ” میسرۃ “ اضافت کی وجہ سے اس کا معنی ” یسار وسعۃ “ ہے یعنی قرض خواہ پر وسعت اور کشادگی کرے (وان تصدقوا اور اگر تم معاف کر دو گے) تم قرض خواہ پر اصل مال معاف کر دو گے ، اس کی تنگی کی بناء پر (خیرلکم ان کنتم تعلمون “۔ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم کو خبر ہو) عاصم نے ” تصدقوا “ میں بغیر تشدید کے پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے صاد کی تشدید کے ساتھ پڑھا ہے ۔
تنگ دست کو ادائے قرض میں مہلت دینے کی فضیلت :
حضرت ابوقتادہ ؓ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ آپ کسی شخص سے قرض کا مطالبہ کر رہے تھے وہ شخص چھپ گیا حضرت ابو قتادہ ؓ نے اس سے پوچھا کہ تم نے ایسا کیوں کیا ؟ تو اس شخص نے کہا تنگ دستی کی وجہ سے حضرت ابوقتادہ ؓ نے اس سے تنگدستی ہونے کی قسم لی تو اس نے قسم کھالی ، آپ نے چیک منگوا کر اس کر دے دیا اور فرمایا رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ جو شخص تنگدست کو مہلت دے یا اس کے قرض کو معاف کر دے اللہ قیامت کے دن اس کو سختیوں سے محفوظ رکھے گا حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ فرشتوں نے پہلی امتوں میں سے کسی شخص کی روح قبض کی اور اس سے پوچھا کہ کبھی تو نے کوئی نیک کام کیا ہے اس نے جواب دیا نہیں ، ملائکہ نے کہا کہ یاد کر ، اس نے کہا کہ میں نے کوئی نیکی نہیں کی ، ہاں اتنی بات ہے کہ جن لوگوں کو میں قرض دیا کرتا تھا اور میں نے اپنے کارندوں سے کہہ دیا تھا کہ تنگدست کو معاف کردیا کرو اور فراخدست کو مہلت دیا کرو ، اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا کہ تم بھی اس شخص سے درگزر کرو۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے آپ ﷺ سے جھگڑا کیا حتی کہ اس نے جھگڑے میں مزید شدت اختیار کی تو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے اس کو گھورنا پکڑنا چاہا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اس کو چھوڑ دو اس بھائی کا حق مجھ پر ہے اس کے لیے ایک اونٹ خریدو اور اس کو عطا کر دو تو وہ کہنے لگا کہ میں اس سے افضل اونٹ لوں گا ، آپ ﷺ نے فرمایا ایسا ہی خرید کر دو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے ایسا ہی خرید کردیا اور فرمایا تم میں سے بہتر وہ ہے جو ادائیگی میں اچھا ہو۔
قرض ادا کرنے ٹال مٹول کرنا ظلم ہے :
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ غنی کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے ۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں مؤمن کا دل قرض کے ساتھ لٹکا ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ اس کو ادا نہ کر دے ، حضرت عبداللہ بن ابی قتادہ ؓ انصاری اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسول ﷺ جو شخص اللہ کے راستے میں شہید ہوجائے (ثابت قدمی پر) صبر کرتے ہوئے اور جہاد کے میدان میں پیٹھ بھی نہ پھیرے تو کیا اللہ تعالیٰ اس کے سب گناہ معاف فرما دیں گے ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا جی ہاں جب وہ شخص چلا گیا تو آپ ﷺ نے اس کو دوبارہ بلوایا یا بلوانے کا حکم دیا پھر اس کو آواز دی گئی جب وہ شخص آگیا تو آپ ﷺ نے اس سے پوچھا کہ میں نے کیسے کہا اس بات دو دوبارہ لوٹاؤ ، پھر اس کی بات مکمل ہونے کے بعد ارشاد فرمایا جی ہاں ! سب کچھ معاف ہوجائے گا مگر دین (قرض) معاف نہیں ہوگا ، اسی طرح جبرئیل (علیہ السلام) وحی لے کر آئے تھے۔