2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 2:124

وَاِذِ ابْتَلٰۤی اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَمَّهُنَّ ؕ— قَالَ اِنِّیْ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا ؕ— قَالَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْ ؕ— قَالَ لَا یَنَالُ عَهْدِی الظّٰلِمِیْنَ ۟وَاِذِ ابۡتَلٰٓى اِبۡرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَمَّهُنَّ ‌ؕ قَالَ اِنِّىۡ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا ‌ؕ قَالَ وَمِنۡ ذُرِّيَّتِىۡ ‌ؕ قَالَ لَا يَنَالُ عَهۡدِى الظّٰلِمِيۡنَ Open ayah 2:124 in the Quran reader

اور جب آزمایا ابراہیم کو ان کے رب نے چند کلمات کے ذریعہ تو انہوں نے ان کی پورا کیا۔ ان کے رب نے فرمایا کہ میں تم کو لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں۔ انہوں نے عرض کیا اور میری اولاد میں سے، ان کے رب نے فرمایا کہ میرا عہد ظلم کرنے والوں کو نہ ملے گا۔

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا آزمائشوں میں پورا اترنا اور ان کی امامت کا اعلان فرمانا اس آیت میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی آزمائش کا پھر اس میں ان کے پورا اترنے کا ذکر فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم نے ان کو چند کلمات کے ذریعہ آزمایا۔ کلمات کی تشریح اور توضیح جن کے ذریعہ آزمایا گیا : ان کلمات سے کیا مراد ہے۔ اس کے بارے میں مفسرین کرام نے بہت کچھ لکھا ہے۔ کلمات جمع ہے کلمۃ کی اور کلمہ لفظ مفرد بامعنی کو کہا جاتا ہے اور کلام کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ یہاں کلمات سے احکام شرعیہ مراد ہیں جن کا ابراہیم (علیہ السلام) کو مکلف بنایا گیا تھا۔ جو احکام ان کو دیے گئے انہوں نے ان کو پورا کیا اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ان احکام کے انجام دینے پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تعریف فرمائی۔ یہاں فرمایا : (فَاَتَمَّھُمنَّ ای قام بھن کلھن) یعنی (جتنے بھی احکام کا حکم دیا گیا ان کو پورا فرمایا) اور سورة النجم میں فرمایا : (وَ اِبْرَاھِیْمَ الَّذِیْ وَفّٰی) (اور وہ ابراہیم جس نے احکام کی پوری بجا آوری کی) یہ کون سے احکام تھے جن کا ان کو حکم دیا گیا اور وہ ان پر پوری طرح قائم رہے۔ اس کے بارے میں مفسرین نے متعدد اقوال نقل کیے۔ خود حضرت ابن عباس ؓ ہی کے متعدد اقوال ہیں جو تفسیر کی کتابوں میں مذکور ہیں ان کا ایک قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو مناسک حج کا حکم دیا جس کو انہوں نے پورا فرمایا۔ اور ایک قول یہ ہے کہ طہارت اور نظافت سے متعلق ان کو احکام دیے تھے اور یہ دس احکام ہیں جن میں پانچ سر سے متعلق اور پانچ باقی جسم سے متعلق ہیں۔ جو سرے متعلق تھے وہ یہ ہیں۔ 1۔ مونچھیں کاٹنا، 2۔ کلی کرنا، 3۔ سانس کے ساتھ ناک میں پانی لے کر ناک صاف کرنا جیسا کہ وضو اور غسل میں کرتے ہیں۔ احادیث میں اس کو استنشاق سے تعبیر فرمایا ہے۔ 4۔ مسواک کرنا 5۔ سر کے بالوں میں مانگ نکالنا اور باقی جسم کے احکام یہ ہیں۔ 6۔ ناخن کاٹنا، 7۔ ناف کے نیچے بال صاف کرنا، 8۔ ختنہ کرنا، 9۔ بغلوں کے بال اکھاڑنا، 10۔ پیشاب اور پاخانہ کر کے پانی سے استنجا کرنا۔ صحیح بخاری (ص 473) میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ نبی ابراہیم (علیہ السلام) نے اسی سال کی عمر میں مقام قدوم میں اپنی ختنہ کی، حضرت سعید بن المسیب سے منقول ہے۔ کہ ابراہیم خلیل الرحمن سب سے پہلے وہ شخص ہیں جنہوں نے مہمان کی مہمان نوازی کی۔ اور سب سے پہلے وہ شخص ہیں جنہوں نے اپنی ختنہ کی۔ اور وہ سب سے پہلے شخص ہیں جنہوں نے اپنی مونچھیں تراشیں اور وہ سب سے پہلے شخص ہیں جن کے چہرے پر سفید بال نظر آئے۔ انہوں نے عرض کیا کہ اے میرے رب یہ کیا ہے ؟ رب تبارک و تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ وقار ہے (یعنی متانت اور سنجیدگی کی چیز ہے) اس پر انہوں نے عرض کیا کہ اے میرے رب میرا وقار اور بڑھا دیجیے (مؤطا مالک) حضرت ابن عباس سے تیسرا قول یہ منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جن احکام کے ذریعہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی آزمائش فرمائی ان میں سے چھ چیزیں انسان کے اندر ہیں اور چار احکام حج کے متعلق ہیں جسم انسانی کے متعلق چھ عدد یہ ہیں۔ 1۔ ناف کے نیچے بال صاف کرنا اور باقی چار جو احکام حج سے متعلق ہیں۔ وہ یہ ہیں، 1۔ طواف کرنا، 2۔ صفا مروہ کے درمیان سعی کرنا، 3۔ جمرات پر کنکریاں مارنا، 4۔ طواف زیارت کرنا۔ حضرت ابن عباس سے چوتھا قول یہ منقول ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو جن چیزوں کا حکم دیا اور انہوں نے ان کو پورا کیا وہ تیس چیزیں ہیں ان میں سے دس سورة برأت کی آیت (اَلتَّآءِبُوْنَ الْعَابِدُوْنَ ) (الٰی آخر الآیۃ) میں اور دس سورة مومنون کے اول میں اور سورة معارج ( کے پہلے رکوع میں) اور دس سورة احزاب کی آیت (اِنَّ الْمُسْلِمیْنَ وَ الْمُسْلِمَاتِ ) میں مذکور ہیں۔ مکررات کو چھوڑ کر ان سب کا شمار اس طرح سے ہے۔ 1۔ توبہ کرنا، 2۔ عبادت کرنا، 3۔ اللہ کی حمد کرنا، 4۔ روزہ رکھنا، 5۔ رکوع کرنا، 6۔ سجدہ کرنا، 7۔ امر بالمعروف کرنا، 8۔ نہی عن المنکر کی انجام دہی کرنا۔ 9۔ اللہ کی حدود کی حفاظت کرنا۔ اس آیت میں نو چیزیں مذکور ہیں۔ لیکن مفسر ابن کثیر نے حضرت ابن عباس سے نقل کرتے ہوئے یہی کہا ہے کہ سورة برأت میں دس ہیں۔ احقر کے خیال میں یوں آتا ہے کہ حضرت ابن عباس نے وہ آیت بھی ساتھ ملائی ہوگی جو آیت مذکورہ سے پہلے ہے۔ یعنی (اِنَّ اللّٰہَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَھُمْ وَ اَمْوَالَھُمْ بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّۃَ ) اس آیت میں قتال اور جہاد مذکور ہے اس کو ملا کر دس صفات ہوجاتی ہیں۔ سورة مومنون میں یہ احکام مذکور ہیں۔ 1۔ نماز میں خشوع کرنا، 2۔ لغو سے اعراض کرنا، 3۔ زکوٰۃ ادا کرنا، 4۔ شرم کی جگہ کو حرام سے محفوظ رکھنا، 5۔ امانتوں کی نگہداشت رکھنا، 6۔ عہد کی پابندی کرنا، 7۔ نمازوں کی پابندی کرنا۔ یہ چیزیں سورة مومنوں کے پہلے رکوع میں مذکور ہیں۔ سورة معارج میں بھی ان چیزوں کا تذکرہ ہے۔ اس میں یہ چیزیں زائد ہیں، 8۔ اپنے مالوں میں سائل اور محروم کا حصہ رکھنا، 9۔ اپنے رب کے عذاب سے ڈرنا، 10۔ گواہیوں کو ٹھیک ٹھیک ادا کرنا۔ سورۂ احزاب میں یہ چیزیں مذکور ہیں۔ 1۔ اسلام کے کام کرنا، 2۔ دل سے مومن ہونا، 3۔ فرمانبرداری کرنا 4۔ قول و عمل میں سچائی اختیار کرنا، 5۔ طاعات کی ادائیگی میں اور مصائب کے آنے پر صبر اختیار کرنا۔ 6۔ خشوع اختیار کرنا، 7۔ مال کی خیرات کرنا، 8۔ روزہ رکھنا، 9۔ شرم کی جگہوں کی حفاظت کرنا، 10۔ بہت زیادہ اللہ کا ذکر کرنا۔ یہ دس چیزیں ہیں لیکن اس میں بعض چیزیں وہ ہیں جو سورة مومنین کی آیت میں بھی مذکور ہیں اور یہاں اگر خشوع سے مراد مطلق خشوع لیا جائے (نماز میں اور غیر نماز میں) جس کا معنی ہے قلب کا جھکاؤ ہونا تو اس سے خشوع فی الاعمال اور خشوع فی المعاملات بھی مراد ہوسکتا ہے جس کا مطلب یہ ہوگا کہ تکبر اختیار نہ کرے اور قلب وجوارح کو عناد سے اور ہر ایسی چیز سے بچائے جو قلب اور اعضاء وجوارح کے جھکاؤ کے خلاف ہو۔ سورة برأت میں جو السَّآءِحُوْنَ ہے اس کا ترجمہ بھی روزہ دار کا کیا گیا ہے۔ سورة احزاب میں بھی الصَّآءِمِیْنَ مذکور ہے۔ لیکن حضرت عطاء نے السَّآءِحُوْنَ کا ترجمہ الغزاۃ المجاھدون فی سبیل اللہ بتایا ہے۔ اور حضرت عکرمہ نے فرمایا ہے کہ (اَلسَّاءِھُوْنَ ھُمْ طَلَبَۃُ الْعِلْمِ ) (کما فی معالم التنزیل) اگر ان میں سے کوئی معنی لیا جائے تو مستقل ایک صفت کا ذکر آجاتا ہے اور تکرار ختم ہوجاتی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے پانچواں قول یہ منقول ہے کہ جن کلمات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو مبتلا فرمایا اور ان کو آزمایا۔ وہ یہ ہیں۔ (ا) اپنی قوم سے جدا ہوجانا اور اللہ کے لیے مفارقت اختیار کرنا۔ (2) نمرود سے اللہ کی توحید کے بارے میں مباحثہ کرنا اور جان کا خطرہ ہوتے ہوئے ایک جابر کے سامنے کلمہ حق کہہ دینا۔ (3) پھر آگ میں ڈالا جانا اور اس کے باوجود حق پر قائم رہنا۔ (4) اپنا وطن چھوڑ کر اللہ کے لیے ہجرت کرنا اور دوسری جگہ (ملک شام) چلا جانا۔ (5) اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کی ضیافت کے لیے مامور ہوجانا اور اپنی جان و مال سے اس پر ثابت قدم رہنا (6) بیٹے کے ذبح کرنے کا حکم ہونا پھر اس کے لیے نہ صرف یہ کہ آمادہ ہوجانا بلکہ اس کے گلے پر چھری پھیر دینا (انہوں نے تو چھری پھیر ہی دی، آگے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد ہوئی اور بیٹا ذبح نہ ہوا۔ یہ دوسری بات ہے) جب یہ سب کام کر گزرے اور امتحان میں پورے اتر گئے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اَسْلِمْ (فرما نبردار ہوجاؤ) انہوں نے عرض کیا (اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِیْنَ ) (میں رب العالمین کا فرمانبردار ہوں) مفسر ابن کثیر نے حضرت ابن عباس کے یہ اقوال نقل کیے ہیں ہم نے تشریح میں بعض روایات کا اضافہ کردیا ہے۔ اور آیات مذکورہ میں جو احکام ہیں ان کی تعداد میں جو کلام ہے وہ بھی ذکر کردیا ہے۔ اس کے بعد مفسر ابن کثیر نے کلمات کی تفسیر میں حضرت حسن بصری کے اقوال نقل کیے ہیں پھر ابن عباس سے یہ بھی نقل کیا ہے کہ کلمات سے مراد وہ چیزیں ہیں جو آیت میں اور اس کے بعد والی آیات میں مذکور ہیں۔ حضرت مجاہد سے بھی ایسا ہی منقول ہے اس کے بعد حافظ ابن کثیر مفسر ابن جریر سے نقل فرماتے ہیں کہ کلمات کی تفسیر میں جتنے بھی اقوال ہیں۔ ان میں جو کچھ مذکور ہے کلمات سے یہ سب مراد ہوں یہ بھی جائز ہے۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ ان میں سے بعض چیزیں مراد ہوں اور کسی بھی چیز کے بارے میں متعین طریقہ پر اسی وقت یقین کیا جاسکتا ہے کہ جب کہ اس بارے میں کوئی صحیح حدیث یا اجماع امت ہو لیکن صحیح حدیث یا اجماع سے ان میں سے کوئی چیز کلمات کی تفسیر میں ثابت نہیں ہے۔ اس کے بعد ابن جریر سے نقل کیا ہے کہ حضرت مجاہد نے جو کلمات کی تفسیر کی ہے وہ زیادہ ٹھیک معلوم ہوتی ہے۔ لیکن ابن کثیر فرماتے ہیں کہ تمام اقوال میں جو مذکور ہیں ان سب کو مراد لینا زیادہ قوی ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی امامت : اس کے بعد ارشاد ہے (قَالَ اِنّیْ جَاعِلُکَ للنَّاسِ اِمَامًا) (اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بلاشبہ میں تم کو لوگوں کا پیشوا بناؤں گا) علماء تفسیر نے فرمایا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو احکام دے کر آزمایا اور انہوں نے احکام کی پورے طور پر بجا آوری کردی تو بطور صلہ اور انعام اللہ تعالیٰ شانہ نے ان کو لوگوں کا پیشوا بنا دیا۔ اور جن احکام میں ان کو مبتلا فرمایا تھا ان کے پورا کروانے کا مقصد بھی یہی تھا کہ اعمال اور اخلاق کے اعتبار سے ان کی پوری طرح تربیت ہوجائے تاکہ وہ امامت کے لائق ہوجائیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس طرح پیشوا بنایا کہ اول تو ان کو نبوت سے سرفراز فرمایا ان پر صحیفے نازل فرمائے اور پھر ان کی نسل اور ذریت میں امامت کو جاری فرمایا یعنی ان کے بعد جتنے بھی نبی آئے ہیں وہ سب انہیں کی نسل میں سے تھے اور سب اس بات کے مامور تھے کہ ابراہیم خلیل (علیہ السلام) کی ملت کا اتباع کریں۔ حتیٰ کہ نبی عربی سیدنا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ بھی ان کی نسل میں سے تھے۔ اور ان کو بھی حکم ہوا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت کا اتباع کریں۔ کما قال تعالیٰ (ثُمَّ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ اَنِ اتَّبِعْ مِلَّۃَ اِبْرَاھِیْمَ حَنِیْفًا) گو پوری طرح سے ان کی ملت کے احکام ان کے بعد آنے والے انبیاء کرام (علیہ السلام) کی ملت میں نہ تھے لیکن اکثریا بعض احکام ان کے بعد کے شرائع میں ان کی ملت کے موافق اور مطابق تھے۔ یہ تقریر اس صورت میں ہے جبکہ ابراہیم (علیہ السلام) کی امامت دوامی لی جائے اور اگر یہ مطلب ہو کہ اپنے زمانے کے لوگوں کے پیشوا تھے تو یہ بھی بعید نہیں ہے۔ روح المعانی میں دونوں باتیں لکھی ہیں۔ لیکن امامت سے نبوت مراد لینے کی صورت میں کلمات کی تفسیر میں جو بعض باتیں بیان کی گئی ہیں وہ نہیں آسکتیں جب کہ پیشوا ہونے کا اظہار تمام کلمات کے بعد مراد ہو کیونکہ لڑکے کا ذبح اور بعض دیگر امور جو کلمات کی تفسیر میں بیان ہوئے ہیں وہ نبوت کے بعد ہی ظہور پذیر ہوئے ہیں۔ (ذکرہ فی الروح ص 375 ج 1) لیکن ان میں سے جو کوئی ظالم ہوگا وہ اس مرتبہ پر فائز نہیں ہوسکتا، مفسرین نے لکھا ہے کہ یہاں عہد سے مراد امامت ہے اور متعین طور پر اس سے نبوت مراد ہے اور ظالموں سے کافر مراد ہیں۔ کما قال تعالیٰ (وَ الْکَافِرُوْنَ ھُمُ الظَّالِمُوْنَ ) آیت سے معلوم ہوا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ذریت میں ظالم بھی ہوں گے اور ظالم کو نبوت نہیں مل سکتی اور نبوت کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو نسلی تعلق کی وجہ سے ملتی چلی جائے وہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جس کو چاہا اللہ تعالیٰ نے نبی بنا دیا اور جب چاہا سلسلہ نبوت ختم فرما دیا۔ قال فی الروح و عبر عنھا بالعھد للاشارۃ الی انھا امانۃ اللّٰہ تعالیٰ و عھدہ الذی لا یقوم بہ الا من شاء اللہ تعالیٰ من عبادہ و آثر النیل علی الجعل ایماء الی ان امامۃ الانبیاء من ذریتہ علیھم السلام لیست بجعل مستقل بلھی حاصلۃ فی ضمن امامتہ تنال کلا منھم فی وقتہ المقدر لہ۔ (ص 377 ج 1)
Ayah 2:125

وَاِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَاَمْنًا ؕ— وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّی ؕ— وَعَهِدْنَاۤ اِلٰۤی اِبْرٰهٖمَ وَاِسْمٰعِیْلَ اَنْ طَهِّرَا بَیْتِیَ لِلطَّآىِٕفِیْنَ وَالْعٰكِفِیْنَ وَالرُّكَّعِ السُّجُوْدِ ۟وَاِذۡ جَعَلۡنَا الۡبَيۡتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَاَمۡنًا ؕ وَاتَّخِذُوۡا مِنۡ مَّقَامِ اِبۡرٰهٖمَ مُصَلًّى‌ ؕ وَعَهِدۡنَآ اِلٰٓى اِبۡرٰهٖمَ وَاِسۡمٰعِيۡلَ اَنۡ طَهِّرَا بَيۡتِىَ لِلطَّآئِفِيۡنَ وَالۡعٰكِفِيۡنَ وَالرُّکَّعِ السُّجُوۡدِ Open ayah 2:125 in the Quran reader

اور جب ہم نے بنایا خانہ کعبہ کو لوگوں کے جمع ہونے کی جگہ اور امن، اور بنا لو مقام ابراہیم کو نماز پڑھنے کی جگہ، اور ہم نے ابراہیم اور اسمعٰیل کو حکم بھیجا کہ تم دونوں میرے گھر کو پاک کرو طواف کرنے والوں اور قیام کرنے والوں اور رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لیے۔

کعبہ شریف کو مرجع اور جائے امن بنایا حضرت ابراہیم علی نبینا (علیہ الصلوۃ والسلام) اپنے وطن سے ہجرت فرما کر ملک شام چلے گئے تھے۔ ان کی ایک بیوی حضرت سارہ تھی اور ان سے جو اولاد تھی وہ سب وہیں رہتے تھے۔ دوسری بیوی حضرت ہاجرہ تھی، جن سے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) پیدا ہوئے تھے۔ ان کو، اور ان کے بیٹے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو بحکم خدا آپ مکہ معظمہ میں چھوڑ گئے، جو اس وقت سنسان اور چٹیل میدان تھا جس کا واقعہ انشاء اللہ سورة ابراہیم کی تفسیر کے ذیل میں بیان ہوگا جب اسماعیل (علیہ السلام) بڑے ہوگئے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کے ذبح کرنے کا حکم ہوا جس کی بجا آوری میں کامیاب ہوگئے۔ نیز دونوں کو کعبہ شریف بنانے کا حکم ہوا۔ دونوں باپ بیٹوں نے مل کر کعبہ بنایا جس کا ذکر ابھی آ رہا ہے (انشاء اللہ تعالیٰ ) ۔ اس آیت شریفہ میں کعبہ شریف کو اول تو مثابہ فرمایا جو ثاب یَثوْبُ سے ظرف کا صیغہ ہے جس کا معنی ہے لوٹنے کی جگہ، حضرت ابن عباس اور متعدد تابعین سے مروی ہے کہ اس کو مشابہ اس لیے فرمایا کہ لوگ بار بار اس کی طرف آتے ہیں طواف کرتے ہیں اور اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں پھر واپس آتے ہیں، اس کی حاضری دینے سے طواف کرنے سے دل نہیں بھرتا۔ دنیا کے مختلف شہروں کے لوگ اس کی طرف بار بار رجوع کرتے ہیں۔ حضرت عکرمہ، قتادہ، اور عطا خراسانی نے اس کا ترجمہ مجمع سے کیا یعنی جمع ہونے کی جگہ، مآل اس کا بھی وہی ہے جو دوسرے حضرات نے فرمایا۔ کیونکہ جب ہر طرف سے لوگ آتے ہیں تو وہاں جمع ہونے کی صورت پیدا ہوجاتی ہے۔ پھر فرمایا واَمْنًا (کہ ہم نے کعبہ شریف کو امن کی جگہ بنایا) سورة آل عمران میں فرمایا (وَ مَنْ دَخَلَہٗ کَانَ اٰمِنًا) (اور جو شخص اس میں داخل ہوگا امن والا ہوگا) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، بانی کعبہ ہی کے وقت سے کعبہ شریف کی حرمت ذہنوں میں چلی آرہی ہے۔ درمیان میں مشرکین بھی کعبہ شریف کے متولی رہے ہیں اور وہ بھی اس کی عظمت اور حرمت کے قائل تھے اور سارے عرب میں یہ بات مشہور تھی کہ یہ امن کی جگہ ہے۔ زمانہ جاہلیت میں عرب کے لوگ آپس میں لڑتے رہتے تھے ایک قبیلہ دوسرے قبیلہ پر غارت گری کردیتا تھا اور جنگ کرنا ان کا ضروری مشغلہ تھا لیکن مکہ معظمہ کے رہنے والوں پر کوئی قبیلہ حملہ آور نہیں ہوتا تھا۔ اللہ جل شانہ نے سورة عنکبوت میں اہل مکہ پر اپنا انعام ظاہر فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا (اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّ یُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِھِمْ اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَۃِ اللّٰہِ یَکْفُرُوْنَ ) (کیا انہیں معلوم نہیں کہ ہم نے بنا دیا حرم کو امن کی جگہ اور ان کے گردو پیش میں لوگوں کو اچک لیا جاتا ہے۔ یہ لوگ باطل پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کرتے ہیں) چونکہ حرم مکہ امن کی جگہ قرار دے دی گئی۔ اس لیے اس میں قتل و قتال جائز نہیں ہے۔ حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے کسی کے لیے یہ حلال نہیں کہ مکہ میں ہتھیار ساتھ لیے پھرے۔ (صحیح مسلم ص 439 ج 1) اور حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے اس میں قتال کرنا حلال قرار نہیں دیا گیا اور میرے لیے حلال نہیں کیا گیا مگر دن کے تھوڑے سے حصہ میں پس مکہ معظمہ حرام ہے (یعنی اس کی حرمت برابر قائم ہے) کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کے لیے اس کی حرمت باقی رکھی ہے۔ (بخاری) یہ جو آپ نے فرمایا کہ میرے لیے اس میں تھوڑی دیر کے لیے قتال حلال کیا گیا اس سے فتح مکہ کا دن مراد ہے۔ حضرت امام ابوحنیفہ ؓ نے فرمایا کہ جو شخص حرم کے باہر حل میں کسی کو قتل کر کے حرم میں پناہ لے لے اس کو حرم میں قتل نہ کیا جائے بلکہ اس کے ساتھ اٹھا بیٹھا نہ جائے خریدو فروخت نہ کی جائے کھانے پینے کو کچھ نہ دیا جائے تاکہ مجبور ہو کر حرم سے باہر آجائے پھر اسے خارج حرم حل میں قتل کردیا جائے۔ (روح المعانی ص 378 ج 1) حرم مکہ میں جیسا کہ قتل و قتال جائز نہیں ہے اسی طرح سے اس میں شکار کرنا، شکار کے جانوروں کو بھگانا دوڑانا بھی ممنوع ہے۔ حرم مکہ سے گھاس اور درخت کاٹنا اور وہاں کے کانٹے کاٹنا بھی ممنوع ہے جس کی تصریح بخاری و مسلم کی احادیث میں موجود ہے۔ اور کتب فقہ میں تفصیل لکھی ہے پھر فرمایا : (وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰھٖمَ مُصَلًّی) (اور مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بنا لو) مقام ابراہیم سے کیا مراد ہے اس بارے میں متعدد اقوال مشہور ہیں اور معتمد قول یہ ہے جسے عام مفسرین نے اختیار کیا ہے (اور احادیث شریفہ سے اس کی تائید ہوتی ہے کہ) اس سے وہ پتھر مراد ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کعبہ شریف تعمیر فرماتے تھے یہ پتھر زینہ کا کام دیتا تھا۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اینٹیں اور چونہ وغیرہ دیتے جاتے تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان سے لے کر تعمیر فرماتے تھے۔ جب کعبہ شریف کی تعمیر سے فارغ ہوگئے تو جس جانب کعبہ شریف کا دروازہ ہے اسی طرف دیوار سے ملا ہوا اس کو چھوڑ دیا۔ سالہا سال وہ وہیں تھا حضور اقدس ﷺ کے زمانہ میں بھی اسی جگہ رہا حضرت ابوبکر ؓ کے زمانہ خلافت میں بھی وہیں تھا پھر جب حضرت عمر ؓ کا زمانہ آیا تو انہوں نے وہاں سے ہٹا کر اس جگہ رکھ دیا جہاں اب ہے۔ اور بعض روایات میں ہے کہ ایک مرتبہ سیلاب آگیا تھا جو اس کو بہا کرلے گیا۔ حضرت عمر ؓ نے اسے لے کر وہاں رکھ دیا جہاں اب ہے۔ حضرات صحابہ کے سامنے اس کی جگہ بدلی، کسی نے کوئی نکیر نہیں کی اور ساری امت نے اس کا اس جگہ ہونا تسلیم کرلیا جہاں حضرت عمر نے رکھ دیا تھا۔ حضرت عمر ؓ خلفاء راشدین میں سے ہیں جن کے طریقے پر چلنے کا حضور ﷺ نے حکم دیا۔ (علیکم بسنتی و سنۃ الخلفاء الراشدین) اور ان کے بارے میں یہ بھی فرمایا : اقتدوا بالذین من بعدی ابی بکر و عمر (رواہ الترمذی) (یعنی میرے بعد ان کا اتباع کرنا جو میرے بعد ہوں گے۔ یعنی ابوبکر و عمر) اور اس کو پہلی جگہ سے ہٹانے میں حکمت بھی ہے کیونکہ اب طواف کرنے والوں اور طواف کی رکعتیں پڑھنے والوں کی زیادہ کثرت ہے اگر اپنی جگہ ہوتا اور طواف کرنے والے اسی کے پیچھے طواف کی رکعتیں پڑھتے تو طواف کرنے والوں کو کعبہ شریف کے قریب سے گزرنے کا راستہ نہ ملتا۔ ایک زمانہ تک مقام ابراہیم ایک چار دیواری کے اندر تھا جو مسقف تھی اور قفل پڑا رہتا تھا۔ موجودہ حکومت نے وہ مسقف عمارت ختم کر کے مقام ابراہیم کو بلوری شیشہ میں رکھ دیا ہے۔ باہر سے مقام ابراہیم دکھائی دیتا ہے جس میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قدم مبارک کے نشانات صاف نظر آتے ہیں۔ صحیح مسلم ص 395 ج 1 میں ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ ﷺ طواف کرنے کے بعد مقام ابراہیم کی طرف بڑھے اور قرآن مجید کے یہ الفاظ تلاوت فرمائے۔ (وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰھٖمَ مُصَلًّی) اور وہاں دو رکعتیں اس طرح پڑھیں کہ مقام ابراہیم کو اپنے اور کعبہ شریف کے درمیان کرلیا۔ ان دو رکعتوں میں سورة (قُلْ یٰٓاَ یُّھَا الْکَافِرُوْنَ ) اور سورة (قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ) پڑھی۔ حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بنا لیتے تو اچھا تھا تو اس پر آیت (وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰھٖمَ مُصَلًّی) نازل ہوئی (صحیح بخاری ص 644 ج 2) طواف کے بعد جو دو رکعتیں پڑھنا واجب ہے ان کو مسجد حرام میں کسی بھی جگہ پڑھ سکتے ہیں لیکن مقام ابراہیم کے پیچھے پڑھنا افضل ہے۔ بیت اللہ کو پاک کرنے کا حکم : پھر فرمایا (وَ عَھِدْنَآ اِلٰیٓ اِبْرٰھٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ اَنْ طَھِّرَا بَیْتِیَ لِطَّآءِفِیْنَ وَ الْعٰکِفِیْنَ وَ الرُّکَّعِ السُّجُوْدِ ) (اور ہم نے حکم بھیجا ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) کی طرف کہ پاک کرو میرے گھر کو طواف کرنے والوں کے لیے اور وہاں کے مقیمین کے لیے اور رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لیے) اس میں کعبہ شریف کو پاک رکھنے کا حکم ہے اور کعبہ شریف کے ساتھ مسجد حرام کے پاک رکھنے کا بھی حکم ہوگیا کیونکہ طواف اور نماز کی ادائیگی اسی میں ہوتی ہے۔ اور پاک کرنے میں سب کچھ داخل ہے۔ باطنی ناپاکی شرک و کفر اور بت پرستی سے اور گندی باتوں سے جھوٹ سے، فریب سے، بدعملی سے اور ظاہری ناپاکی سے اسے پاک رکھیں۔ طواف ایک ایسی عبادت ہے جو صرف مسجد حرام ہی میں ہوسکتی ہے جو کعبہ شریف کے چاروں طرف ہے۔ آیت شریفہ میں جو لفظ اَلْعَاکِفِیْنَ آیا ہے اس کے بارے میں حضرت سعید بن جبیر کا قول ہے کہ اس سے مکہ معظمہ کے رہنے والے مراد ہیں اور حضرت عطاء نے فرمایا کہ اس سے وہ لوگ مراد ہیں جو دوسرے شہروں سے آتے ہیں اور مسجد حرام میں قیام کرلیتے ہیں۔ اور حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ ہم جب بھی مسجد حرام میں بیٹھ گئے تو عاکفین میں شمار ہوگئے۔ اور اس کے عموم میں وہ لوگ بھی داخل ہیں جو مسجد حرام میں اعتکاف کریں۔ کیونکہ لفظ عکوف ان پر بھی صادق آتا ہے۔ اور (اَلرُّکَّعِ السُّجُوْدِ ) (رکوع اور سجدہ کرنے والے) سے نمازی مراد ہیں۔ مسجد حرام میں جس قدر بھی طواف اور نماز کا اہتمام ہو سکے، غنیمت جانے ان دونوں کی بہت بڑی فضیلت ہے۔ طواف کا ثواب : سنن ترمذی میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے اس گھر کا طواف کرتے ہوئے سات چکر لگائے اور ٹھیک طرح سے شمار کیا اسے ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ہوگا اور آپ نے یہ بھی فرمایا کہ طواف کرنے والا جو بھی قدم رکھے گا اور اٹھائے گا تو ہر قدم پر اللہ تعالیٰ اس کا ایک گناہ معاف فرما دیں گے اور ایک نیکی اس کے اعمال نامہ میں لکھ دیں گے۔ مسجد حرام میں نماز کا ثواب : مسجد حرام میں نماز پڑھنے کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میری مسجد (یعنی مسجد نبوی) میں ایک نماز دوسری نمازوں کے مقابلہ میں ہزاروں نمازوں سے افضل ہے مگر مسجد حرام اس سے مستثنیٰ ہے (کیونکہ اس کا ثواب مسجد نبوی میں نماز پڑھنے سے زیادہ ہے) مسجد حرام میں ایک نماز دوسری نمازوں کے مقابلہ میں ایک لاکھ نمازوں سے افضل ہے۔ (رواہ احمد وابن ماجہ باسنا دین صحیحین کما فی الترغیب لحافظ المنذری ص 214 ج 2) ۔
Ayah 2:126

وَاِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا وَّارْزُقْ اَهْلَهٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ مَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ بِاللّٰهِ وَالْیَوْمِ الْاَخِرِ ؕ— قَالَ وَمَنْ كَفَرَ فَاُمَتِّعُهٗ قَلِیْلًا ثُمَّ اَضْطَرُّهٗۤ اِلٰی عَذَابِ النَّارِ ؕ— وَبِئْسَ الْمَصِیْرُ ۟وَاِذۡ قَالَ اِبۡرٰهٖمُ رَبِّ اجۡعَلۡ هٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا وَّارۡزُقۡ اَهۡلَهٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ مَنۡ اٰمَنَ مِنۡهُمۡ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ‌ؕ قَالَ وَمَنۡ كَفَرَ فَاُمَتِّعُهٗ قَلِيۡلًا ثُمَّ اَضۡطَرُّهٗۤ اِلٰى عَذَابِ النَّارِ‌ؕ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ‏ Open ayah 2:126 in the Quran reader

اور جب کہا ابراہیم (علیہ السلام) نے اے میرے رب بنادے اس شہر کو امن والا، اور رزق دے یہاں کے رہنے والوں کو پھلوں سے جو ان میں سے ایمان لائے اللہ پر اور یوم آخرت پر، اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور جو شخص کفر اختیار کرے گا سو میں اسے تھوڑا سا نفع پہنچاؤں گا۔ پھر اسے دوزخ کے عذاب کی طرف جبراً پہنچاؤں گا۔ اور وہ بری جگہ ہے۔

اہل مکہ کے لیے حضرات ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ مکرمہ کے لیے اللہ جل شانہ سے درخواست کی کہ اس کو امن والا شہر بنا دیجیے، اللہ جل شانہ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور اس کو بلد امین قرار دیا جس کے متعلق بعض احکام گزشتہ آیت کی تفسیر کے ذیل میں بیان ہوچکے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ بھی دعا کی کہ اس شہر کے رہنے والوں کو جو بھی ان میں سے اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو رزق دیا جائے جو طرح طرح کے پھلوں سے ہو۔ چونکہ انہوں نے پہلے لاَ یَناَلُ عَھْدِی الظَّالِمِیْنَ کا اعلان سن لیا تھا اس لیے دعا میں اہل ایمان کی تخصیص کردی اور عرض کیا پھلوں کا انعام اللہ تعالیٰ پر اور آخرت پر ایمان رکھنے والوں کو دیا جائے، چونکہ اللہ تعالیٰ دنیا میں سبھی کو دیتے ہیں اور رزق دنیاوی مومن اور کافر سبھی کو ملتا ہے اس لیے اللہ پاک کی طرف سے اعلان ہوا کہ رزق تو سبھی کو ملے گا اس میں ایمان والوں کی تخصیص نہیں ہے مومن اور کافر سبھی کھائیں گے لیکن آخرت کا رزق صرف مومنین کے لیے مخصوص ہے کافروں کو بھی دنیا میں رزق ملتا رہے گا۔ جتنی جس کی زندگی ہوگی اتنے دن دنیا میں اپنا رزق کھا سکے گا۔ اور دنیا میں جتنی بھی بڑی زندگی ہو آخرت کے مقابلہ میں تھوڑی سی ہی ہے۔ اہل کفر دنیا میں کھا پی لیں گے دنیا سے نفع اٹھا لیں گے لیکن آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں وہاں ان کو دوزخ میں جانے کے لیے مجبور ہونا پڑے گا اور دوزخ کے عذاب سے انہیں کسی بھی طرح اور کبھی بھی کوئی چھٹکارا نہ ملے گا اور دوزخ بہت بڑی عذاب کی جگہ ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل میں جب تک اللہ نے چاہا اہل ایمان رہے اور مکہ معظمہ میں بستے رہے جو حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے۔ پھر اہل مکہ مشرک ہوگئے۔ کعبہ شریف تک میں انہوں نے بت رکھ لیے اور لات و عزیٰ اور منات کی پوجا کرنے لگے اگر ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ دعا قبول ہوجاتی کہ جو اہل ایمان ہیں انہیں رزق ملے تو اہل مکہ نے جب کفر اختیار کیا تھا اسی وقت سے پھلوں سے محروم ہوجاتے لیکن اللہ جل شانہ نے اہل مکہ کو ہمیشہ رزق دیا مومنوں کو بھی اور کافروں کو بھی۔ مکہ معظمہ میں دنیا بھر کے پھل : اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا ایسی قبول فرمائی کہ دنیا بھر سے مکہ معظمہ میں پھل آتے ہیں اور وہاں کے مقامی حضرات اور حجاج و زائرین سب کھاتے ہیں اور ان سے منتفع اور متمتع ہوتے ہیں۔ سورة قصص میں فرمایا (اَوَ لَمْ نُمَکِّنْ لَّھُمْ حَرَمًا اٰمِنًا یُّجْبٰٓی اِلَیْہِ ثَمَرٰتُ کُلِّ شَیْءٍ رِّزْقًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ لٰکِنَّ اَکْثَرَھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ) (کیا ہم نے ان کو امن وامان والے حرم میں جگہ نہیں دی جہاں ہر قسم کے پھل کھچے چلے آتے ہیں جو ہمارے پاس سے کھانے کو ملتے ہیں لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے) ۔ مکہ معظمہ کے قریب ہی شہر طائف آباد ہے اور وہ سرسبز و شاداب علاقہ ہے ہمیشہ وہاں سے طرح طرح کے پھل مکہ معظمہ پہنچتے رہے ہیں اور دنیا کے تمام اطراف و اکناف سے مکہ معظمہ میں طرح طرح کے پھل آ رہے ہیں۔ شاید دنیا کا کوئی پھل ایسا نہ بچا ہو جو مکہ معظمہ نہ پہنچا ہو بعض حضرات کا یہ فرمانا ہے کہ ثمرات کے عموم میں درختوں کے پھلوں کے علاوہ مشینوں کی پیداوار اور دستکاریوں سے حاصل ہونے والا سامان بھی داخل ہے۔ مکہ کی سر زمین میں نہ کاشت ہے نہ شجر کاری ہے اور نہ صنعتکاری لیکن پھر بھی اس میں دنیا بھر کے ثمرات اور طرح طرح کی مصنوعات ملتی ہیں۔ مدینہ منورہ کے لیے سید المرسلین ﷺ کی دعا : حضرت ابراہیم خلیل اللہ ( علیہ السلام) نے مکہ معظمہ کے لیے دعا کی تھی اور حضرت حبیب اللہ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ کے لیے دعا کی۔ صحیح مسلم ص 442 ج 1 میں حضرت ابو ہریرۃ ؓ سے مروی ہے کہ اہل مدینہ کا یہ طریقہ تھا کہ جب پہلا پھل آتا تھا تو نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں لے آتے تھے آپ اسے لے کر یوں دعا کرتے تھے اے اللہ تو ہمارے لیے ہمارے پھلوں میں برکت دے اور ہمارے لیے ہمارے شہر میں برکت دے اور ہمارے لیے ہمارے صاع میں برکت دے اور ہمارے لیے ہمارے مد میں برکت دے (صاع اور مد اس زمانہ کے پیمانے تھے) اے اللہ ! بیشک ابراہیم (علیہ السلام) تیرے بندے اور تیرے خلیل اور تیرے نبی تھے اور میں تیرا بندہ اور تیرا نبی ہوں اور ابراہیم (u) نے آپ سے مکہ کے لیے دعا کی تھی اور میں آپ سے مدینہ کے لیے دعا کرتا ہوں جو کچھ ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ کے لیے مانگا میں اسی قدر اور اس کے ساتھ اس جیسا مزید آپ سے طلب کرتا ہوں۔ اس کے بعد اپنے کسی سب سے چھوٹے بچہ کو بلا کر وہ پھل دے دیتے تھے اور حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے یوں دعا کی : اللھم اجعل بالمدینۃ ضعفی ما بمکۃ من البرکۃ (اے اللہ مدینہ میں اس سے دو گنی برکت کر دے جو مکہ میں ہے۔ ( صحیح مسلم 442 ج 1) حضور سرور عالم ﷺ کی دعا بھی منقول ہے۔ مدینہ منورہ میں بھی پورے عالم سے طرح طرح کے ثمرات و مصنوعات منتجات کھچ کر آتے ہیں اور کھلی آنکھوں مکہ معظمہ سے دو چند برکات دیکھنے میں آتی ہیں۔
Ayah 2:127

وَاِذْ یَرْفَعُ اِبْرٰهٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَاِسْمٰعِیْلُ ؕ— رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ؕ— اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ۟وَاِذۡ يَرۡفَعُ اِبۡرٰهٖمُ الۡقَوَاعِدَ مِنَ الۡبَيۡتِ وَاِسۡمٰعِيۡلُؕ رَبَّنَا تَقَبَّلۡ مِنَّا ‌ؕ اِنَّكَ اَنۡتَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ Open ayah 2:127 in the Quran reader

اور جب اٹھا رہے تھے ابراہیم (علیہ السلام) کعبہ کی بنیادیں اور اسماعیل (علیہ السلام) بھی اے ہمارے رب قبول فرمالے ہم سے بیشک تو ہی خوب سننے والا جاننے والا ہے۔

حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل ( علیہ السلام) کا کعبہ شریف تعمیر کرنا کعبہ شریف پہلے فرشتوں نے پھر حضرت آدم (علیہ السلام) نے بنایا پھر عرصہ دراز کے بعد جب طوفان نوح کی وجہ سے اس کی دیواریں مسمار ہوگئیں اور عمارت کا ظاہری پتہ تک نہ رہا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے اسماعیل (علیہ السلام) کو ساتھ لے کر کعبہ شریف کی بنیادیں اٹھائیں اور کعبہ بنایا (کما ذکرہ الازرقی) چونکہ جگہ معلوم نہ تھی اس لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو متعین کر کے اس کی جگہ بتادی گئی جس کا ذکر سورة حج کی آیت کریمہ (وَ اِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرَاھِیْمَ مَکَانَ الْبَیْتِ ) میں فرمایا ہے۔ بنائے ابراہیمی میں حطیم کا حصہ کعبہ شریف میں داخل تھا قریش مکہ نے حضور سرور عالم ﷺ کی بعثت سے پانچ سال پہلے جب کعبہ شریف بنایا۔ تو ان کے پاس خرچہ پورا نہ ہونے کی وجہ سے کعبہ شریف کا کچھ حصہ باہر چھوڑ دیا جسے حطیم کہا جاتا ہے اس حصہ میں میز اب رحمت کا پانی گرتا ہے اور نصف قد کے برابر دیواریں بنی ہوئی ہیں اس پر چھت نہیں ہے صحیح مسلم ص 429 ج 1 میں ہے کہ حضرت رسول اکرم ﷺ نے عائشہ ؓ سے فرمایا کہ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ تیری قوم کے لوگ نئے نئے مسلمان ہوئے ہیں تو میں کعبہ شریف کو توڑ دیتا اور اسے ابراہیم (علیہ السلام) کی بنیادوں پر بنا دیتا اور اس کا دروازہ زمین پر کردیتا اور حجر یعنی حطیم کو اس میں داخل کردیتا دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اس کے لیے دو دروازے بنا دیتا۔ آنحضرت ﷺ نے تو کعبہ شریف اسی حال میں رہنے دیا۔ جس طرح قریش مکہ نے بنایا تھا پھر حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ نے قواعد ابراہیمیہ پر بنایا تھا اور حطیم کو کعبہ شریف میں داخل کردیا تھا اور دروازے بنا دئیے تھے۔ ایک داخل ہونے کا ایک خارج ہونے کا اور بالکل زمین کے برابر کردیا تھا۔ اندر جانے کے لیے زینہ کی ضرورت نہ تھی پھر حجاج بن یوسف نے اسی طرح بنا دیا جیسا قریش نے بنایا تھا۔ حضرت امام مالک ؓ سے حجاج کے بعد ہارون الرشید بادشاہ نے پوچھا کہ ہم پھر سے اسی طرح بنادیں جیسا حضرت عبداللہ بن زبیر نے بنایا تھا تو انہوں نے فرمایا کہ اے امیر المومنین اس کو بادشاہوں کا کھلونانہ بنائیے، جو بھی آئے گا اسے توڑا کرے گا، اور بنایا کرے گا۔ اس طرح سے لوگوں کے دلوں سے اس کی ہیبت جاتی رہے گی (ذکرہ النووی فی شرح مسلم ص 429 ج 1، صحیح بخاری 476 ج 1 میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے اسماعیل (علیہ السلام) سے فرمایا کہ بیشک مجھے اللہ تعالیٰ نے ایک کام کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے عرض کیا کہ آپ اپنے رب کے حکم کی فرمانبرداری کیجئے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا میری مدد کرنا، عرض کیا کہ میں آپ کی مدد کرونگا۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ یہاں ایک گھر بناؤں اور ایک اونچے ٹیلے کی طرف اشارہ کیا اس کے بعد دونوں نے بیت اللہ کی بنیادیں اٹھانا شروع کیں۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) پتھر لاتے تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تعمیر کرتے جاتے تھے۔ یہاں تک کہ جب دیواریں اونچی ہوگئیں تو یہ پتھر (یعنی مقام ابراہیم) لے آئے جس پر کھڑے ہو کر تعمیر کرتے تھے۔ یہ پتھر زینہ کا کام دیتا تھا۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ان کو پتھر دیتے تھے اور دونوں یہ دعا کرتے جاتے تھے۔ اے ہمارے رب ! اور بھیج دے ان میں ایک رسول ان میں سے، جو تلاوت کرے ان پر تیری آیات، اور سکھائے ان کو کتاب اور حکمت، اور ان کا تزکیہ کرے، بیشک تو ہی عزیز ہے، حکیم ہے۔ (رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ) یہ بات کس قدر ذہن میں بٹھانے کے لائق ہے کہ اللہ کے دو پیارے اللہ کے دونوں پیغمبر خلیل اللہ اور ذبیح اللہ، اللہ کا گھر اللہ کے حکم سے بنا رہے ہیں۔ ان کے اخلاص میں ذرا بھی شبہ نہیں پھر بھی وہ دونوں اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں یوں عرض کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم سے قبول فرمائیے، اس سے معلوم ہوا کہ کوئی شخص کیسا ہی مخلص ہو اور کیسا ہی عمل صالح کرے اسے اللہ تعالیٰ سے قبولیت کی دعا کرتے رہنا چاہیے اس بات سے ڈرتا رہے کہ کہیں خود پسندی اور عجب نفس میں مبتلا نہ ہوجائے درحقیقت اہل اخلاص کا یہی طریقہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے رضا کے لیے کام کرتے جاتے ہیں اور ڈرتے جاتے ہیں کہ ہمارا یہ عمل قبول ہوتا ہے۔ یا نہیں ؟ کما قال اللہ تبارک و تعالیٰ (وَالَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَا اَتَوْا وَقُلُوْبُہُمْ وَجِلَۃٌ اَنَّہُمْ اِِلٰی رَبِّہِمْ رَاجِعُوْنَ ) مفسر ابن کثیر ص 175 ج 1 نے بحوالہ ابن ابی حاتم وہیب بن الورد سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے آیت (یَرْفَعُ اِبْرٰھٖمُ الْقَوَاعِدَ ) (الایۃ) پڑھی پھر رونے لگے اور کہنے لگے کہ اے رحمن کے دوست آپ بیت الرحمن کی بنیادیں اٹھا رہے ہیں اور اس بات سے ڈر رہے ہیں کہ قبول نہ ہو، حضرت ابراہیم و اسماعیل ( علیہ السلام) نے کعبہ شریف بناتے ہوئے یہ دعا بھی کی کہ اے ہمارے رب تو ہمیں اپنا فرمانبر دار بنائے رکھ اور ہماری ذریت میں سے بھی ایک امت بنادے جو تیری فرمانبردار ہو، اس میں اول تو وہی خوف و خشیت والی بات کا مظاہرہ کیا کہ مسلم اور فرمانبر دار ہوتے ہوئے بھی اپنے بارے میں دعا کی اللہ تعالیٰ ہمیں اپنا فرمانبر دار ہی رکھے۔ مومن کو چاہیے کہ ڈرتا رہے اور ایمان و اسلام کی دولت کے لیے اللہ تعالیٰ کا ہمیشہ شکر گزار رہے اور اس کو محض اللہ کی توفیق سمجھے اور اس نعمت کے بقا اور دوام کی دعا کرتا رہے۔
Ayah 2:128

رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِنَاۤ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ ۪— وَاَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَیْنَا ۚ— اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ ۟رَبَّنَا وَاجۡعَلۡنَا مُسۡلِمَيۡنِ لَـكَ وَ مِنۡ ذُرِّيَّتِنَآ اُمَّةً مُّسۡلِمَةً لَّكَ وَاَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبۡ عَلَيۡنَا ۚ اِنَّكَ اَنۡتَ التَّوَّابُ الرَّحِيۡمُ Open ayah 2:128 in the Quran reader

اے ہمارے رب اور بنا دے ہم کو تو اپنا فرمانبردار، اور بنادے ہماری اولاد میں سے ایک امت جو تیری فرمانبردار ہو، اور ہمیں بتادے ہمارے حج کے احکام، اور ہماری توبہ قبول فرما۔ بیشک تو ہی توبہ قبول فرمانے والا مہربان ہے۔

امت مسلمہ کے لیے دعا اور اس کی قبولیت : حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل ( علیہ السلام) نے اپنی ذریت میں سے امت مسلمہ کے پیدا ہونے کی دعا بھی کی۔ مفسرین نے فرمایا ہے کہ چونکہ ارشاد خداوندی (لاَ یَنَالُ عَھْدِی الظّٰلِمِیْنَ ) سے یہ معلوم ہوچکا تھا کہ ان کی ساری ذریت مومن نہ ہوگی اس لیے انہوں نے یوں عرض کیا کہ اے ہمارے رب ہماری ذریت میں سے امت مسلمہ بنا دینا بعض حضرات کا فرمانا ہے کہ اس سے عرب مراد ہیں، جو حضرت اسماعیل اور حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کی اولاد ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ مومن بندوں کو اپنے دین و ایمان کی فکر رکھتے ہوئے اپنی نسل اور ذریت کے دین و ایمان کے لیے بھی فکر مند ہونا چاہیے کہ ہماری نسل میں موحدین، مومنین، مخلصین، متقین باقی رہیں۔ سورة فرقان میں مومنین کی صفات بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (وَالَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ ھَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّیّٰتِنَا قُرَّۃَ اَعْیُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِِمَامًا) (اور وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے ہمیں آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں متقیوں کا پیشوا بنا دے) ۔ اور سورة تحریم میں فرمایا ہے ( ٰٓیاََیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْا اَنْفُسَکُمْ وَاَھْلِیکُمْ نَارًا) (اے ایمان والو بچاؤ اپنی جانوں کو اور اپنے اہل و عیال کو دوزخ سے) اہل و عیال کے دین و ایمان کے لیے دعا بھی کرنا چاہیے اور فکر بھی کرنا چاہیے۔ مناسک حج جاننے کے لیے دعا : کعبہ شریف بناتے ہوئے حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل ( علیہ السلام) نے یہ دعا بھی کی کہ اے اللہ ہمیں مناسک یعنی احکام حج سکھا دے تفسیر ابن کثیر 183 ج 1 میں ہے کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے کعبہ شریف کی تعمیر مکمل کردی تو حضرت جبریل (علیہ السلام) تشریف لائے اور ان کا ہاتھ پکڑ کر صفا اور مروہ پر لے گئے کہ یہ اللہ کے شعائر میں سے ہیں پھر ان کو منیٰ لے گئے پھر مزدلفہ میں لے گئے اور فرمایا یہ المشعر الحرام ہے۔ پھر ان کو عرفات میں لے گئے اور ان کو احکام حج سکھا دئیے۔ جب عرفات میں لے گئے تو پوچھا کہ میں نے جو کچھ تم کو بتایا ہے تم نے پہچان لیا اور تین بار پوچھا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ہاں پہچان لیا۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ ( علیہ السلام) کو حضرت جبریل (علیہ السلام) نے حج کے احکام بتائے انہوں نے حج کا اعلان عام کردیا جس کا ذکر سورة حج میں ان الفاظ میں ہے۔ (وَ اَذِّنْ فی النَّاسِ بِا لْحَجِّ ) ” اور لوگوں میں حج کا اعلان کر دو ۔ “ ان کے بعد موحدین برابر حج کرتے رہے اور ان کے حجوں میں توحید کا مظاہرہ ہوتا رہا۔ جب ان ہی کی نسل اور ذریت میں مشرکین پیدا ہوگئے اور وہی کعبہ شریف کے متولی بنے تو ان لوگوں نے حج میں شرک کی آمیزش کردی اور حج کے احکام بدل دئیے، حج کا مہینہ بھی بدل دیتے تھے۔ عرفات ہی میں نہیں جاتے تھے مزدلفہ سے واپس آجاتے تھے۔ بیت اللہ شریف کا ننگے طواف کرتے تھے جب حضور اقدس ﷺ نے مکہ فتح کیا اور مکہ سے مشرکین کا تسلط ختم ہوا تو آپ نے اعلان کروا دیا کہ آئندہ کوئی شخص بیت اللہ کا ننگے طواف نہ کرے اور کوئی مشرک حج نہ کرے۔ پھر آپ نے 9 ہجری میں حج کیا جسے حجۃ الوداع کہتے ہیں اور اس میں پوری طرح حج کے احکام سکھائے اور بتائے اور حکم فرمایا کہ (خُذُوْا عَنّیِ مَنَاسِکَکُمْ ) (یعنی تم مجھ سے احکام حج سیکھ لو) اور یہ بھی فرمایا : قفوا علی مشاعرکم فانکم علی ارث من ارث ابیکم ابراھیم۔ (کہ تم لوگ انہیں جگہوں میں وقوف کرو جو پرانی جگہیں معروف ہیں کیونکہ تم اپنے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کی میراث پر ہو) ۔ (رواہ التر مذی وابوداؤ دو النسائی وابن ماجہ کمافی مشکوٰۃ ص 228) جس کسی کو بھی حج یا عمرہ کرنا ہو اس کو لازم ہے کہ حج اور عمرہ کے احکام معلوم کرے۔ افسوس ہے کہ بہت سے لوگ حج اور عمرہ کے لیے چل دیتے ہیں اور ذرا بھی ان کے احکام معلوم نہیں کرتے تلبیہ تک نہیں جانتے، فرائض و واجبات تک چھوڑ دیتے ہیں اور جب کوئی عالم بتانے لگتا ہے تو اس کا بتانا ناگوار ہوتا ہے۔ نعوذ باللّٰہ من الجھل و السفاھۃ و الحمق والضلالۃ :۔
Ayah 2:129

رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِكَ وَیُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَیُزَكِّیْهِمْ ؕ— اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ ۟۠رَبَّنَا وَابۡعَثۡ فِيۡهِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡهُمۡ يَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ وَ يُزَكِّيۡهِمۡ‌ؕ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ Open ayah 2:129 in the Quran reader

اے ہمارے رب اور بھیج دے ان میں ایک رسول ان میں سے، جو تلاوت کرے ان پر تیری آیات، اور سکھائے ان کو کتاب اور حکمت، اور ان کا تزکیہ کرے، بیشک تو ہی عزیز ہے حکیم ہے۔

اہل مکہ میں سے ایک رسول بھیجنے کی درخواست اور اس کی مقبولیت اس آیت میں بھی حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل ( علیہ السلام) کی دعا کا تذکرہ ہے کعبہ شریف بناتے ہوئے جو دعائیں ان دونوں حضرات نے کی تھیں ان میں سے ایک یہ دعا بھی ہے کہ اے ہمارے رب ان میں سے ایک رسول مبعوث فرما۔ اس رسول سے خاتم النّبیین حضرت محمد رسول اللہ ﷺ مراد ہیں جو عربی بھی تھے اور مکی بھی اور حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل ( علیہ السلام) دونوں کی نسل میں سے تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد جتنے بھی انبیاء (علیہ السلام) مبعوث ہوئے سب انہی کی نسل میں سے تھے۔ اور حضرت سرورعالم خاتم النّبیین ﷺ کے علاوہ سب بنی اسحاق تھے اور صرف آپ ہی بنی اسماعیل میں سے ہیں۔ مفسر ابن کثیر نے ص 183 ج 1 مسند امام احمد سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت ابو امامہ ؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ آپ کا ابتدائی تذکرہ اولاً کیسے شروع ہوا آپ نے فرمایا کہ میں اپنے باپ ابراہیم کی دعا ہوں اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی بشارت ہوں اور میری والدہ نے جو خواب دیکھا کہ ان کے اندر سے ایک نور نکلا ہے جس نے شام کے محلات کو روشن کردیا۔ میں اس خواب کا مظہر ہوں یہ حدیث صاحب مشکوٰۃ نے بھی ص 513 شرح السنہ سے نقل کی ہے اس میں یوں ہے کہ میں اپنی والدہ کے خواب کا مظہر ہوں جنہوں نے وضع حمل کے وقت دیکھا تھا ان کے لیے ایک نور روشن ہوا جس سے شام کے محل روشن ہوگئے) ۔ ...... حدیث نقل کرکے حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ مطلب یہ کہ سب سے پہلے جنہوں نے میرا تذکرہ کیا اور لوگوں میں مجھے مشہور کیا وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں۔ یہ تذکرہ دعا کی صورت میں تھا۔ ذکر مشہور ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ انبیاء بنی اسرائیل میں سے جو آخری نبی تھے یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) انہوں نے آپ کا نام لیکر بشارت دی اور بنی اسرائیل کو خطاب کرکے فرمایا (یَا بَنِیْ اِِسْرَآءِیْلَ اِِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِِلَیْکُمْ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرَاۃِ وَمُبَشِّرًام بِرَسُوْلٍ یَاْتِیْ مِنْم بَعْدِی اسْمُہُ اَحْمَدُ ) (کہ اے بنی اسرائیل بلاشبہ میں تمہاری طرف بھیجا ہوا اللہ کا رسول ہوں۔ تمہارے سامنے جو توراۃ ہے اس کی تصدیق کرنے والا ہوں۔ اور ایک ایسے رسول کی بشارت دینے والا ہوں جو میرے بعد آئے گا۔ اس کا نام احمد ہوگا۔ ) زمانہ حمل میں آپ کی والدہ نے خواب دیکھا تھا کہ ان کے اندر سے ایک نور نکلا جس کی وجہ سے شام کے محلات روشن ہوگئے۔ انہوں نے اپنا خواب اپنی قوم کو سنایا۔ جو لوگوں میں مشہور ہوگیا اور یہ آپ کی تشریف آوری کے لیے ایک بہت بڑی تمہید تھی۔ آخر زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنا آخری نبی مبعوث فرمایا جس کے لیے ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا کی تھی اور عیسیٰ (علیہ السلام) نے جن کی بشارت دی تھی۔ آپ کا نام احمد بھی ہے اور محمد بھی۔ آپ پر اللہ تعالیٰ نے نبوت اور رسالت ختم فرما دی اور سارے عالم کے انسانوں کے لیے رہتی دنیا تک آپ کو نبی اور رسول بنا کر بھیج دیا اور سورة احزاب میں آپ کے خاتم النّبیین ہونے کا اعلان فرما دیا۔ اور آپ نے لا نبی بعدی (میرے بعد کوئی نبی نہیں) اور ختم بی النبیون (مجھ پر نبیوں کی آمد ختم ہوگئی) اور ان الرسالۃ والنبوۃ قد انقطعت فلا رسول بعدی ولا نبی۔ 1 ؂ (سنن ترمذی) اعلان فرمایا۔ آپ کی نبوت اور رسالت عامہ کا اعلان فرمانے کے لیے سورة اعراف میں یوں ارشاد فرمایا (قُلْ یٰٓاَ یُّھَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعًا) (آپ فرما دیجیے کہ اے لوگو ! بیشک میں تم سب کی طرف بھیجا ہوا اللہ کا رسول ہوں) ۔ جس رسول کے آنے کی دعا کی اس کی صفات : حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل ( علیہ السلام) نے اپنی نسل میں سے جس رسول کے مبعوث ہونے کے لیے دعا کی تھی اس کی صفات میں (یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِکَ ) اور (یُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَ الْحِکْمَۃَ وَ یُزَکِّیْھِمْ ) فرمایا تھا۔ سورة آل عمران (ع 18) میں بھی آپ کی یہ صفات مذکور ہیں اور سورة جمعہ میں بھی آپ کی یہ صفات بیان کی گئی ہیں۔ یہ کام اللہ تعالیٰ نے آپ کے سپرد فرمائے تھے۔ آپ نے ان کو پوری طرح سے انجام دیا۔ تلاوت کتاب : رسول اللہ ﷺ کے مقاصد بعثت میں سورة بقرہ میں اول تو یہ فرمایا کہ (یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِکَ ) کہ وہ نبی لوگوں کے سامنے اللہ کی آیات تلاوت فرمائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید اللہ کا کلام بھی ہے اور اللہ کی کتاب بھی اس کے الفاظ کا پڑھنا، پڑھانا اور سننا اور سنانا تلاوت کرنا صحیح طریقہ پر ادا کرنا بھی مطلوب اور مقصود ہے۔ بہت سے جاہل جو تلاوت کا انکار کرتے ہیں اور بچوں کو قرآن مجید حفظ کرانے سے روکتے ہیں اور کہتے ہیں کہ طوطے کی طرح رٹنے سے کیا فائدہ ؟ یہ لوگ کلام الٰہی کا مرتبہ اور مقام نہیں سمجھتے دشمنوں کی باتوں سے متاثر ہوجاتے ہیں۔ قرآن مجید کو لوگوں کے آپس کے خطوط پر اور انسانوں کی لکھی ہوئی کتابوں پر قیاس کرتے ہیں اور اپنی جہالت سے یوں کہتے ہیں کہ قرآن کے معانی اور مفاہیم کا سمجھنا کافی ہے۔ اس کا پڑھنا اور یاد کرنا ضروری نہیں (العیاذ باللہ) یہ لوگ یہ نہیں جانتے کہ قرآن مجید کے الفاظ کو محفوظ رکھنا فرض کفایہ ہے۔ صحیفوں پر اعتماد کئے بغیر سینوں میں یاد رکھنا لازم ہے تاکہ اگر مطبوعہ مصاحف (العیاذ باللہ) معدوم ہوجائیں تب بھی قرآن شریف 1 ؂ بلاشبہ نبوت ختم ہوگئی اب میرے بعد نہ کوئی رسول ہے نہ نبی ہے۔ اپنی تمام قراءتوں کے ساتھ محفوظ رہ سکے۔ تلاوت قرآن کے فضائل : نیز قرآن مجید کی تلاوت میں بہت بڑا ثواب ہے، سمجھ کر پڑھے یا بےسمجھے پڑھے۔ تلاوت پر اجر عظیم ملتا ہے۔ حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ رب تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جسے قرآن نے میرے ذکر سے اور مجھ سے مانگنے سے مشغول کرلیا میں اسے اس سے افضل عطیہ دوں گا جو مانگنے والوں کو دیتا ہوں اور کلام اللہ کی فضیلت دوسرے تمام کلاموں پر ایسی ہے جیسی اللہ کی فضیلت اس کی مخلوق پر ہے۔ (رواہ التر مذی و قال حدیث حسن) اور حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے اللہ کی کتاب سے ایک حرف پڑھا اس کے بدلہ میں ایک نیکی ہے اور ایک نیکی دس گنی ہو کر ملتی ہے میں یہ نہیں کہتا کہ ا آم ایک حرف ہے (بلکہ) الف ایک حرف ہے لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے (صرف الم کا تلفظ کرنے سے تیس نیکیاں مل جائیں گی) ۔ (رواہ الترمذی وقال حسن صحیح) معلوم ہوا کہ تلاوت قرآن کو طوطے کی طرح رٹنے سے تشبیہ دینا سخت گمراہی ہے۔ جس کی تلاوت کرنے سے ہر حرف پر ایک نیکی ملتی ہو اور ہر نیکی کی دس نیکیاں بن جاتی ہوں اس کی تلاوت طوطے کی طرح رٹا لگانے کے برابر کیسے ہوئی۔ در حقیقت قرآن کی تلاوت مستقل کام ہے اس کے الفاظ کو محفوظ رکھنا مستقل ذمہ داری ہے اور اس کی تفسیر کو صحابہ اور تابعین کے طریقے پر محفوظ رکھنا اور بیان کرنا مستقل کام ہے اور اس کے معنی و مفاہیم کو سمجھنا اور اس سے احکام کا استنباط کرنا مستقل عمل ہے۔ یہ سب چیزیں ضروری ہیں امت ان کی مکلف ہے۔ جو لوگ اس پر زور دیتے ہیں کہ الفاظ کے پڑھنے اور یاد رکھنے کی ضرورت نہیں یہ لوگ نصارٰی اور یہود سے بھی عبرت نہیں لیتے ان لوگوں نے اپنی کتابوں کے الفاظ کو محفوظ نہ رکھا تو اپنی کتابوں سے محروم ہوگئے۔ ان کی کتابوں کے ترجمے تو دنیا کی زبانوں میں ملتے ہیں مگر اصل کتاب مفقود ہے۔ ترجمہ صحیح ہے یا غلط اس کے جانچنے کے لیے ان کے پاس اصل کتاب نہیں ہے اور یہیں سے ان کے یہاں تحریف کا راستہ بھی نکل آیا۔ جب اصل کتاب موجود نہیں تو جس کا جو جی چاہے ترجمہ کرسکتا ہے۔ مسجد نبوی ﷺ میں ایک صاحب سے احقر کی ملاقات ہوئی اور انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے بچہ کو قرآن مجید حفظ کرنے میں لگایا ہے لیکن میرے ایک استاد آئے تھے انہوں نے کہا کہ اب قرآن حفظ کرنے کی کیا ضرورت ہے جبکہ قرآن مجید کمپیوٹر میں آگیا ہے۔ احقر نے ان سے کہا کہ تراویح میں قرآن مجید سنانے کے لیے کیا کمپیوٹر محرابوں میں رکھ دیا جائے گا ؟ اور دنیا بھر کے دیہاتوں میں ایک ایک گاؤں میں پانچ چھ سات مسجدیں ہیں کیا گاؤں والے ہر مسجد کے لیے کمپیوٹر خریدیں گے اور کمپیوٹر سیکھنے کے لیے اپنے دیہاتی آدمیوں کو سکھانے والوں کے پاس بھیجیں گے ؟ حفظ کی ضرورت صرف اسی لیے نہیں ہے کہ یہ معلوم کرلیا جائے کہ فلانی آیت کس سورت میں ہے اور پوری آیت کس طرح سے ہے۔ قرآن کا تلاوت کرنا اور سننا اور سنانا اپنی زبان اور کانوں کو اس میں مشغول رکھنا بہت بڑا عمل صالح ہے جو تقرب الی اللہ کا ذریعہ ہے۔ جو لوگ قرآن مجید اور حدیث شریف کو نہیں جانتے اور ایمانی تقاضوں سے ناواقف ہوتے ہیں وہ مشرکین اور یہود و نصارٰی کی باتوں سے متاثر ہو کر الفاظ قرآنیہ سے محروم ہونے کا سبق دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو ایمانی سمجھ دے اور اہل شر کے شر سے بچائے۔ کتاب اور حکمت کی تعلیم : رسول اللہ ﷺ کا دوسرا کام ذکر کرتے ہوئے (وَ یُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَ الْحِکْمَۃَ ) ارشاد فرمایا جس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا یہ بھی فریضہ ہے کہ لوگوں کو اللہ کی کتاب کی تعلیم دیں۔ کتاب اللہ کے الفاظ بھی سکھائیں اور معانی بھی سمجھائیں۔ عربی زبان جاننا قرآن کے سمجھنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ قرآن کی تفسیر وہی معتبر ہے جو رسول اللہ ﷺ نے بتائی اور جو حضرات صحابہ کرام نے سیکھی پھر ان سے تابعین اور تبع تابعین اور سلف صالحین سے ہوتے ہوئے امت تک پہنچی۔ سورة نحل میں فرمایا (اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ للنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْھِمْ ) (اور ہم نے آپ کی طرف ذکر نازل کیا تاکہ آپ لوگوں کے لیے وہ بیان کریں جو ان کی طرف تھوڑا تھوڑا کرکے اتارا گیا) آج کل بہت سے لوگ ایسے ہیں جو تھوڑی بہت عربی جان کر قرآن شریف کے معانی اور مفاہیم اپنی طرف سے بتانے لگے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیم و تفسیر سے بےنیاز ہو کر گمراہ ہو رہے ہیں اور گمراہ کر رہے ہیں۔ یہ لوگ اپنی جہالت اور گمراہی سے کہتے ہیں کہ قرآن اللہ کا خط ہے۔ جو مخلوق کی طرف بھیجا گیا اور رسول کی حیثیت محض ایک ڈاکیے کی ہے۔ ڈاکیے کا کام خط پہنچا دینا ہے۔ خط پڑھ کر سنانا، سمجھانا اس کا کام نہیں۔ قرآن مجید نے تو اپنے بارے یہ کہیں نہیں فرمایا کہ یہ اللہ کا خط ہے جو مخلوق کی طرف آیا ہے اس کو خود ہی سمجھ لینا اور اس کے لانے والے سے مت سمجھنا، بلکہ قرآن نے تو رسول اللہ ﷺ کے فرائض میں کتاب و حکمت کی تعلیم دینا بتایا ہے اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اور اتباع کا حکم دیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کو درمیان سے نکال کر قرآن سمجھنا کفر کی دعوت اور اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ امت مرحومہ کو ان لوگوں کے فریب سے محفوظ فرمائے۔ آیت شریفہ میں الکتاب اور الحکمۃ دو لفظ مذکور ہیں اور دونوں کی تعلیم دینا رسول اللہ ﷺ کے منصب رسالت کے فرائض میں شمار فرمایا ہے۔ مفسر بغوی معالم التنزیل ص 116 ج 1 میں لکھتے ہیں کہ الکتاب سے قرآن مجید مراد ہے اور الحکمت سے مجاہد کی تفسیر کے مطابق فہم القرآن مراد ہے اور بعض حضرات نے اس سے احکام قضا مراد لئے ہیں۔ اور بعض حضرات نے حکمت کی تفسیر العلم والعمل سے کی ہے۔ صاحب روح المعانی نے ص 387 ج 1 بعض مفسرین کا یہ قول نقل کیا ہے کہ الحکمۃ سے کتاب اللہ کے حقائق و دقائق اور وہ سب چیزیں مراد ہیں جن پر قرآن مجید مشتمل ہے اس صورت میں تعلیم کتاب سے مراد اس کے الفاظ کا سمجھنا اور اس کی کیفیت ادا بیان کرنا مراد ہے اور تعلیم الحکمۃ سے اس کے معانی اور اسرار اور جو کچھ اس میں ہے اس سے واقف کرانا مراد ہے اور بعض حضرات نے حکمت کی تفسیر یوں کی ہے۔ ما تکمل بہ النفوس من المعارف والاحکام یعنی وہ تمام معارف اور احکام جن سے نفوس کی تکمیل ہوتی ہے۔ حکمت سے وہ سب مراد ہیں۔ درحقیقت حکمت کے جو معانی حضرات مفسرین نے بتائے ہیں وہ ایک دوسرے کے معارض اور منافی نہیں ہیں مجموعی حیثیت سے ان سب کو مراد لیا جاسکتا ہے۔ تزکیہ نفوس : رسول اللہ ﷺ کا تیسرا فرض منصبی وَ یُزَکِّیْھِمْ بیان فرمایا۔ لفظ یُزَکِّیْ تزکیہ سے مضارع کا صیغہ ہے۔ تزکیہ لغت میں پاک صاف کرنے کو کہتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کا کام صرف کتاب اللہ کا پڑھا دینا اور سمجھا دینا ہی نہیں دیا تھا بلکہ نفوس کا تزکیہ بھی آپ کے فرض منصبی میں داخل تھا۔ (یُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَ الْحِکْمَۃَ ) میں تحلیۃ النفوس بالفضائل اور یُزَکِّیْھِمْ میں تخلیۃ النفوس عن الرزائل کا ذکر ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو توحید خداوندی سے آراستہ کیا اور کفر اور شرک کی نجاست سے پاک کیا۔ ایمان اور یقین دیا۔ شک سے بچایا۔ گناہوں کی گندگی سے دور کیا۔ نفوس کے رزائل دور کئے۔ اخلاق عالیہ اور اعمال صالحہ بتائے اور عمل کرکے دکھایا۔ گناہوں کی تفصیل بتائی ان کے اثرات ظاہرہ باطنہ دنیویہ اخرویہ سے باخبر فرمایا۔ نیکیوں کی تفصیلی فہرست بتائی اور ان کے منافع دنیویہ واخرویہ سے مطلع کر فرمایا۔ حسد، بخل، کینہ، تکبر، حرص، لالچ، حب جاہ کی مذمت فرمائی۔ حب فی اللہ اور تواضع اور فروتنی، صلہ رحمی، سخاوت، ضعیف کی مدد، بڑوں کی خدمت، یتیم کے ساتھ رحمدلی، تقویٰ ، اخلاص، اکرام اہل ایمان، نرمی، حسن الجور، غصہ پی جانا وغیرہ وغیرہ کی تعلیم دی۔ انسان کو انسان بنایا حیوانیت اور بہیمیت سے بچایا۔ آپ نے فرمایا ہے کہ بعثت لاتمم حسن الاخلاق (کہ میں اچھے اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہوں) رواہ مالک فی الموطا۔ نفوس کا تزکیہ صرف زبانی طور پر بتادینے سے نہیں ہوجاتا اس کے لیے صحبت کی ضرورت ہوتی ہے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی تعلیم و تربیت اور تزکیہ کے لیے انسانوں ہی میں سے انبیاء اور رسول مبعوث فرمائے تاکہ وہ عملی طور پر ان کا تزکیہ کرسکیں اور تاکہ ان کی صحبت سے انسانوں کے نفوس خیر کی طرف پلٹ سکیں اور اعمال صالحہ کے خوگر ہوجائیں اور نفوس کی شرارتوں کو سمجھ سکیں اور ان سے بچ سکیں۔ سورة توبہ میں ارشاد ہے (یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ کُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ ) (اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو ! اور سچوں کے ساتھ ہوجاؤ) اس آیت شریفہ میں سچوں کے ساتھ ہونے کی تعلیم فرمائی ہے جو لوگ اپنے اخلاص اور عمل میں سچے ہیں ان کے ساتھ رہنے سے طبیعت اعمال صالحہ کی طرف راغب ہوتی ہے اور نفس و شیطان کی مکاریوں سے واقفیت حاصل ہوتی ہے پھر ان کا توڑ بھی سمجھ میں آجاتا ہے جس کسی کی صحبت اختیار کرے پہلے دیکھ لے کہ وہ متبع سنت ہے یا نہیں ؟ اس میں فکر آخرت کتنی ہے ؟ اور حب دنیا اور جلب زر کے لیے تو مرشد بن کر نہیں بیٹھا جس کسی کو متبع سنت اور آخرت کا فکر مند پائے اس کی صحبت اٹھائے، مال و جاہ کا حریص مصلح اور مرشد نہیں ہوسکتا اس کی صحبت میں رہنا زہر قاتل ہے۔