Ayah 2:172حلال کھانے اور شکر ادا کرنے کا حکم
اس آیت شریفہ میں بھی پاکیزہ چیزوں کے کھانے کا حکم فرمایا اور اللہ پاک نے جو نعمتیں دی ہیں ان کا شکر ادا کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ اگر تم اللہ کی عبادت کرتے ہو تو اس کا شکر ادا کرو کیونکہ جو عبادت اس کی عظمت و کبریا کی شایان شان ہے وہ شکر کے بغیر کامل نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے جو حلال رزق عطا فرمایا ہے اسے کھاؤ پیو اور شکر کرو۔ سورة سبا میں فرمایا (کُلُوْا مِنْ رِّزْقِ رَبِّکُمْ وَاشْکُرُوْا لَہٗ ) ” اپنے رب کے رزق سے کھاؤ اور اس کا شکر ادا کرو۔ “ نعمتوں کے شکر کا تقاضا یہ ہے کہ صرف اللہ کی اطاعت اور عبادت میں مشغول ہوں۔ اور اس کی نعمتوں کو گناہوں میں خرچ نہ کریں۔ (مِنْ طَیّْبٰتِ مَا رَزَقْنَاکُمْ ) ” میں یہ بھی نکتہ ہے کہ دوسروں کا مال چھین کر یا چرا کر یا خیانت کر کے استعمال نہ کیا جائے کہ اللہ نے جو مال جس کسی کو دیا ہے وہ اگرچہ فی نفسہ اصول شریعت کے مطابق حلال اور طیب ہے۔ لیکن دوسروں کے لیے اسی وقت حلال اور طیب ہوگا جبکہ حلال طریقہ سے صاحب مال سے حاصل کیا ہو۔
حرام کھانے کا وبال :
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ بیشک اللہ پاک ہے اور وہ پاک ہی (مال اور قول و عمل) کو قبول فرماتا ہے۔ (پھر فرمایا کہ) بلاشبہ (حلال کھانے کے بارے میں) اللہ جل شانہ نے پیغمبروں کو جو حکم فرمایا ہے وہی مومنین کو حکم فرمایا ہے چناچہ پیغمبروں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے رسولو ! طیب چیزیں کھاؤ اور نیک کام کرو اور مومنین کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے ایمان والو ! جو پاک چیزیں ہم نے تم کو دی ہیں ان میں سے کھاؤ، اس کے بعد حضور اقدس ﷺ نے ایسے شخص کا ذکر فرمایا کہ جو لمبا سفر کر رہا ہو۔ اس کے بال بکھرے ہوئے ہوں جسم پر گردوغبار اٹا ہو اور آسمان کی طرف ہاتھ پھیلائے یا رب یا رب کہہ کر دعا کرتا ہو یہ شخص دعا تو کر رہا ہے اور حال یہ ہے کہ اس کا کھانا حرام ہے۔ پینا حرام ہے اور پہننا حرام ہے اور اس کو حرام غذا دی گئی ہے پس ان حالات کی وجہ سے اس کی دعا کیو نکر قبول ہوگی۔ (صحیح مسلم ص 326 ج 1)
اس حدیث میں حرام سے پرہیز کرنے اور حلال کھانے کی اہمیت پرزور دیا ہے۔ اور بتایا کہ جو صدقہ حلال مال سے ہوگا وہی قبول ہوگا۔ اللہ پاک ہے اور اس کی بار گاہ میں پاک چیز ہی قبول ہوسکتی ہے حضور اقدس ﷺ نے قرآن مجید کی دو آیتیں تلاوت فرمائیں۔ پہلی آیت میں حضرات انبیاء (علیہ السلام) کو حکم ہے کہ پاک چیزیں کھائیں اور نیک عمل کریں اور دوسری آیت میں ایمان والوں کو حکم ہے کہ اللہ کی پاک عطا کردہ چیزوں میں سے پاک چیزیں کھائیں۔ اللہ جل شانہ، نے جو حکم اپنے پیغمبروں کردیا ہے کہ حلال کھائیں، وہی حکم اپنے مومن بندوں کو دیا ہے۔ حلال کی اہمیت اور ضرورت ظاہر کرنے کے بعد آپ نے ایک ایسے شخص کا ذکر کیا جو لمبے سفر میں ہو اور بدحالی کی وجہ سے اس کے بال بکھرے ہوں۔ جسم پر غبار پڑا ہو اور وہ اپنی اسی بدحالی میں آسمان کی طرف ہاتھ پھیلائے ہوئے یارب یارب کہہ کر خدائے پاک کو پکار رہا ہو اور چاہتا ہو کہ میری دعا قبول ہوجائے اس کی دعا قبول نہ ہوگی کیونکہ اس کا کھانا حرام ہے پینا حرام ہے اور لباس حرام ہے اور اس کو حرام غذا دی گئی ہے، مسافر کا شمار ان لوگوں میں ہے جن کی دعا خصوصیت سے قبول ہوتی ہے اور مضطر و پریشان حال شخص کی بھی دعا قبول و مقبول ہوتی ہے۔ لیکن مسافر اور پریشان حال ہونے کے باو جود ایسے شخص کی دعا قبول نہیں ہوتی جس کا کھانا پینا اور پہننا حرام ہو، آج کل بہت سی دعائیں کی جاتی ہیں لیکن دعائیں قبول نہیں ہوتیں۔ لوگ شکایتیں کرتے پھرتے ہیں کہ دعاؤں کا اس قدر اہتمام کیا اور اتنی بار دعا کی لیکن دعا قبول نہیں ہوتی۔ شکایت کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ اپنا حال دیکھیں اور اپنی زندگی کا جائزہ لیں۔ ہر شخص غور کرے کہ میں حلال کتنا کھاتا ہوں اور حرام کتنا، اور کپڑے جو پہنتا ہوں وہ حلال آمدنی سے ہیں یا حرام سے اگر روزی حرام ہے یا لباس حرام ہے تو اس کو ترک کریں، خوراک اور پوشاک کو حدیث شریف میں بطور مثال ذکر فرمایا ہے۔ اوڑھنا بچھونا رہائش کا مکان آسائش کی چیزیں اگر حرام کی ہوں تو وہ لباس کے حکم میں ہیں ان کا استعمال بھی حرام ہے۔
حرام کی کمائی کی چند صورتیں :
رشوت آج کل بہت عام ہے سب کو معلوم ہے کہ رشوت کا مال حرام ہے۔ رشوت کا نام ہدیہ یا تحفہ رکھ لیا جائے تب بھی حرام ہی رہتا ہے۔ جو لوگ حکومت کے کسی جائز شعبے میں کام کرتے ہیں اور رشوت لیتے ہیں ان کی رشوت تو حرام ہے ہی تنخواہ بھی حلال نہیں اس لیے کہ جس کام کے لیے حکومت نے ان کو دفتر میں بٹھایا ہے وہ کام انہوں نے نہیں کیا رشوت لینے کے لیے ان اصول و قواعد کے خلاف کام کرتے ہیں جو کام کرنے کے لیے مقرر کیے ہیں۔ سود کم ہو یا زیادہ عوام سے لیا جائے یا کسی بھی ادارے سے وہ سب حرام ہے اگرچہ اس کا نام نفع رکھ لیا جائے، ہر وہ ملازمت حرام ہے جس میں گناہ کیا جاتا ہو، چونکہ گناہ کرنا اور گناہ کی مدد کرنا دونوں حرام ہیں۔ اس لیے گناہ کی اجرت بھی حرام ہے اور گناہ پر مدد کرنے کی اجرت بھی حرام ہے۔ حرام چیزوں کی تجارت حرام ہے اور اس پر نفع بھی حرام ہے۔ شراب، خنزیر خون مردار گوشت، تصویریں، مورتیں ان سب چیزوں کی خریدو فروخت حرام ہے اور اس کی تنخواہ بھی حرام ہے۔ بیمہ پالیسی سراسر قمار ہے یعنی جوا ہے زندگی کا بیمہ ہو یا اموال تجارت کا کار خانوں کا یا گاڑیوں کا یہ سب حرام ہے اور ان میں اپنی جمع کر وہ رقم سے زائد جو کچھ ملے وہ سب حرام ہے جتنے بھی قمار کے طریقے ہیں گھوڑ دوڑ وغیرہ ان کی آمدنی سب حرام ہے۔ غصب، چوری، ڈاکہ زنی کے ذریعہ جو کچھ حاصل کیا جائے وہ سب حرام ہے۔ لوگوں کو اغواء کرکے جو ان پر رقم حاصل کی جائے وہ بھی حرام ہے۔ جو لوگ پیری مریدی کا کاروبار کرتے ہیں ان کو اہل حق اور اہل ارشاد سمجھ کر جو کچھ دیا جاتا ہے (حالانکہ وہ حقیقت میں ایسے نہیں ہیں) ان کے لیے وہ سب حرام ہے۔ میراث، شریعت کے مطابق تقسیم نہیں کی جاتی۔ جس وارث کے قبضہ میں جو مال آجاتا ہے وہی اپنا بنا کر بیٹھ جاتا ہے۔ مرنے والے کے بیٹے اپنی بہنوں کو اور ماؤں کو میراث نہیں دیتے۔ اور چونکہ میراث تقسیم نہیں ہوتی اس لیے یتیموں کے حصہ کا مال بھی خورد برد کردیا جاتا ہے۔ شرعاً جو دوسروں کا مال ہے اس کو اپنی ملکیت اور کام میں لاناحرام ہے۔ اور نفس کی خوشی سے جو مال نہ دیا گیا ہو اگرچہ دینے والے نے بظاہر کسی دباؤ میں خاموشی اختیار کرلی ہو وہ مال بھی حرام ہے۔ یہ تھوڑی سی تفصیل زیر قلم آگئی ہے۔ حرام کے شعبے بہت ہیں۔ ہر شخص اپنی آمدنی اور اخراجات کی فکر کرے۔
حرام مال کا و بال :
بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ حرام آمدنی میں سے صدقہ کردیا جائے تو باقی سب مال حلال ہوجاتا ہے۔
حرام سے صدقہ کرنا تو اور گناہ ہے۔ وہ مقبول ہی نہیں ہوتا۔ حدیث شریف میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ صرف پاکیزہ ہی کو قبول فرماتے ہیں جو صدقہ خود ہی قبول نہیں اس کے ذریعہ باقی مال کیسے حلال ہوجائے گا جو صدقہ دیا وہ بھی و بال اور جو باقی مال ہے وہ بھی و بال اور آخرت کے عذاب کا ذریعہ ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد نقل فرماتے ہیں کہ جو بھی کوئی بندہ حرام مال سے کسب کرے گا پھر اس میں سے صدقہ کرے گا تو وہ قبول نہ ہوگا اور اس میں سے خرچ کریگا تو اس کے لیے اس میں برکت نہ ہوگی۔ اور اپنے پیچھے چھوڑ کر جائے گا تو وہ اس کے دوزخ میں جانے کا ذریعہ ہوگا۔ بیشک اللہ تعالیٰ برائی کو برائی کے ذریعہ نہیں مٹاتے لیکن برائی کو نیکی کے ذریعہ مٹاتے ہیں۔ بیشک خبیث، خبیث کو نہیں مٹاتا۔ (رواہ احمد فی المشکوٰۃ ص 242) حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جنت میں وہ گوشت داخل نہ ہوگا جو حرام سے پلا بڑھا اور ہر وہ گوشت جو حرام سے پلا بڑھا ہو دوزخ کی آگ اس کی زیادہ مستحق ہے۔ (ایضاً ) ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جنت میں وہ جسم داخل نہ ہوگا۔ جس کو حرام سے غذا دی گئی۔ (مشکوٰۃ ص 243)
اور ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ جس نے دس درہم کا کپڑا خریدا اور اس میں ایک درہم حرام کا تھا تو اللہ تعالیٰ اس کی کوئی بھی نماز قبول نہ فرمائے گا جب تک کہ وہ کپڑا اس کے بدن پر رہے گا۔ (مشکوٰۃ ص 143)
Ayah 2:173محرمات کا اجمالی بیان اور اضطرار کا حکم
اس آیت شریفہ میں مردہ جانور (جو اپنی موت سے بغیر ذبح کیے مرجائے) اور خون اور خنزیر کا گوشت کھانے کی اور ان جانوروں کے کھانے کی حرمت بیان فرمائی ہے۔ جن پر ذبح کرتے وقت غیر اللہ کا نام پکارا گیا ہو۔ ان چیزوں کے کھانے کا عرب کے مشرکوں میں رواج تھا۔ اور ان کے علاوہ حلال چیزیں بھی کھاتے تھے۔ ان کے رواج میں کئی چیزوں میں جو چیزیں حرام تھیں اصولی طور پر ان کی حرمت بیان فرمائی اور لفظ اِنَّمَا سے جو حصر معلوم ہو رہا ہے یہ حصر اضافی ہے۔ جو چیزیں یہاں مذکور ہیں ان کے علاوہ بھی حرام چیزیں ہیں جن کا ذکر دیگر آیات میں اور احادیث میں وارد ہوا ہے۔
سورۂ مائدہ میں مزید چند حرام چیزوں کا بیان ہے۔ ہم انشاء اللہ تعالیٰ پوری تفصیل سورة مائدہ ہی کی تفسیر میں لکھیں گے یہاں یہ جو فرمایا کہ (فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لاَ عَادٍ فَلَآ اِثْمَ عَلَیْہِ ) اس کا یہ مطلب ہے کہ جو شخص بھوک سے ایسا دو چار ہو رہا ہو کہ جان پر بن رہی ہو اور اس کے پاس حلال چیزوں میں سے کھانے کو کچھ بھی نہ ہو تو وہ حرام چیزوں میں سے اپنی جان بچانے کے لیے اتنا سا کھالے جس سے موت سے بچ جائے۔ صرف اتنا ہی کھائے جس سے جان بچ جائے۔ اس سے آگے نہ بڑھے اور لذت کا طالب بھی نہ ہو۔ مثلاً اگر بھوک سے جان جا رہی ہو تو شراب پینے اور سور کھانے کی اجازت کو بہانہ بنا کر یہ نہ سوچے کہ آج اجازت مل گئی ہے۔ خوب مزے سے کھاؤں پیوں گا۔ خم کے خم چڑھا لوں گا اور پیٹ بھر کر خنزیر کا گوشت کھا لوں گا۔ پھر کبھی موقع ملے یا نہ ملے، ایسا آدمی باغی اور عادی یعنی حد سے بڑھنے والا ہے۔ اگر طلب لذت کے لیے کھائے گا یا ضروری مقدار سے زیادہ کھائے گا تو گنہگار ہوگا۔ اور (لَآ اِثْمَ عَلَیْہِ ) فرما کر یہ بتایا کہ جان بچانے کی مجبوری میں تھوڑا سا کھانے کی جو اجازت ہے وہ درجہ معافی میں ہے یوں نہ کہا جائے گا کہ یہ چیز حلال ہوگئی۔ یوں کہیں گے کہ اس کا کھانا حلال ہوگیا۔ حرام اپنی جگہ حرام ہی ہے۔ بہت سے لوگ یورپ امریکہ اور آسٹریلیا میں بلا تکلف شراب پیتے ہیں، اور خنزیر کھاتے ہیں۔ اور ان جانوروں کا گوشت کھاتے ہیں جو شرعی طریقے پر حلال نہیں کیے گئے اور جب ان سے بات ہوتی ہے تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم مجبور ہیں۔ اور لفظ فَمَنِ اضْطُرَّ کا سہارا لیتے ہیں۔ حالانکہ اضطرار اور مجبوری ان کو کہیں سے کہیں تک بھی نہیں ہے۔ ان ملکوں میں سینکڑوں قسم کی چیزیں ملتی ہیں۔ مچھلی بھی ہے۔ انڈے بھی ہیں۔ دودھ بھی ہے اور انتظام کرنے سے حلال گوشت بھی مل جاتا ہے۔ ایسی حالت میں حرام کھانا پینا کسی طرح بھی حلال نہیں ہے اور بالفرض واقعی کوئی شخص مجبور ہو جس کی جان ہی جا رہی ہو کھانے کو کچھ بھی نہ مل رہا ہو وہ جان بچانے کے لیے ذرا سا کھا سکتا ہے۔ یہ پیٹ بھر بھر کر روزانہ حرام کھانا اور پینا اس کے حرام ہونے میں کوئی شک نہیں، بعض لوگوں نے بتایا کہ ہم تو سورکا گوشت بسم اللہ پڑھ کر کھالیتے ہیں، العیاذ باللہ، بسم اللہ پڑھنے سے حرام حلال نہیں ہوجا تا بلکہ حرام پر بسم اللہ پڑھنے سے ایمان سلب ہوجانے کا خطرہ ہے۔ پھر یہ بات بھی غور کرنے کی ہے کہ مسلمان کو کسی ایسے ملک میں رہنے کی کیا مصیبت ہے جہاں حلال نہ ملتا ہو۔ حرام ہی کھانا پڑتا ہو طلب دنیا کے جذبات ہی ایسے ملکوں میں لے جاتے ہیں اور حرام کھلاتے ہیں۔
Ayahs 2:174–176کتاب اللہ کی تحریف کرنے والوں کا انجام
ان آیات میں اللہ کی نازل فرمودہ کتاب کو چھپانے اور اس میں تحریف و تبدیل کرنے اور غلط تفسیر بتانے اور پھر اس کو دنیاوی معاوضہ کا ذریعہ بنانے کی مذمت کی گئی ہے۔ اسباب النزول میں (ص 44) علامہ واحدی نے حضرت ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ یہ آیت یہودیوں کے رؤسا اور علماء کے بارے میں نازل ہوئی جو اپنے نیچے کے لوگوں سے ہدایا و صول کرتے تھے اور وہ یہ امید باندھے ہوئے تھے کہ نبی آخر الزماں ﷺ ان میں سے ہوں گے۔ لیکن جب نبی آخر الزماں ﷺ کی بعثت ہوگئی جو ان کے قبائل میں سے نہیں ہیں تو ان کی صفات کو بدل دیا جو توریت میں پاتے تھے اور دوسری صفات بتادیں جو توریت میں نہیں تھیں تاکہ ان کے عوام نبی آخر الزماں ﷺ پر ایمان نہ لائیں اور ان کی ریاست باقی رہے اور رشوت ملتی رہے۔ اس سے پہلے بھی اللہ کی کتاب کے مضامین کو چھپانے پر و عید مذکور ہوئی تھی۔ یہود کے علماء میں یہ مرض بہت زیادہ تھا۔ دو بارہ اس مضمون کا اعادہ فرمایا اور ان کو توجہ دلائی کہ حقیر دنیا کے حقیر مال کے لیے جو حرکتیں کرتے ہو آخرت میں اس کا نتیجہ بہت برا ہوگا۔ یہ حرکتیں دوزخ میں لے جانے والی ہیں۔ جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ گو اس دنیا میں کھانے پینے کی چیزوں سے پیٹ بھرتے ہیں لیکن یہ پیٹ بھرنا دوزخ کی آگ کے انگارے پیٹ میں بھرے کا ذریعہ بنے گا۔ یہ لوگ دنیاوی غذائیں نہیں کھا رہے ہیں بلکہ اپنے پیٹوں میں دوزخ کے انگارے بھر رہے ہیں۔ ان پر اللہ تعالیٰ کا غصہ بہت زیادہ ہے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان سے مہر بانی کے ساتھ بات بھی نہ فرمائے گا اور ان کو پاک بھی نہ کرے گا۔
Ayah 2:177اعمال حسنہ اور اخلاق عالیہ کا بیان
یہ آیت کریمہ ان آیات میں سے ہے جن میں بہت سے اعمال حسنہ اور اخلاق عالیہ کو ایک ہی جگہ جمع فرما دیا ہے۔ لباب النقول ص 23 میں بحوالہ مصنف عبدالرزاق حضرت قتادہ (رح) سے نقل کیا ہے کہ یہودی مغرب کی جانب نماز پڑھتے تھے اور نصاریٰ مشرق کی طرف (اور اپنے اپنے قبلہ پر جمنے ہی کو سب کچھ سمجھتے تھے اور ایمان قبول نہ کرتے تھے) لہٰذا آیت (لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْھَکُمْ ) (الایۃ) نازل ہوئی۔ حضرت قتادہ (رح) سے یہ بھی نقل کیا ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے نیکی (کی تفصیلات) کے بارے میں سوال کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آپ نے اس شخص کو بلایا اور آیت کریمہ پڑھ کر اسے سنا دی۔
مفسر ابن کثیر لکھتے ہیں (ص 207 ج 1) کہ جب پہلے بیت المقدس کی طرف نماز پڑھنے کا حکم ہوا پھر کعبہ شریف کو قبلہ قرار دے دیا گیا تو اہل کتاب اور بعض مسلمانوں کو شاق گزرا اللہ تعالیٰ نے تحویل قبلہ کی حکمت نازل فرمائی کہ کوئی جہت مقصود بالذات نہیں ہے۔ بندوں کا مقصود یہ کہ اللہ تعالیٰ کی فرمانبر داری کریں اس کے حکموں کو مانیں جدھر رخ کرنے کا حکم ہو ادھر رخ کرلیں۔ بس یہ نیکی اور تقویٰ ہے اور ایمان کامل کا تقاضا ہے کہ اللہ کے حکم کے مطابق عمل ہوجائے، مشرق یا مغرب کو رخ ہو عنداللہ یہ کوئی چیز نہیں۔ حضرت ابن عباس نے اس کی تفسیر میں فرمایا یہ نیکی نہیں ہے کہ نماز پڑھا کرو اور دوسرے احکام پر عمل نہ کرو، اور ضحاک کا یہ قول نقل کیا ہے۔ و لٰکن البرو التقوی أن تودو الفرائض علی وجھھما یعنی نیکی اور تقویٰ یہ ہے کہ تمام فرائض کو حکم کے مطابق صحیح طریقے پر پورا پورا ادا کرو۔
اس آیت میں بہت سے نیک کام مذکور ہیں۔ سب سے پہلے تو ایمان کا ذکر فرمایا اور اصول و عقائد بتا دیئے۔ ایمان وہ چیز ہے جس کے بغیر کوئی نیکی قبول نہیں ہے۔ یہود و نصاریٰ ایمان تو لاتے نہیں تھے اور اپنے اپنے قبلہ کی طرف رخ کرنے ہی کو سب کچھ سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اصلی نیکی اس شخص کی ہے جو اللہ پر ایمان لائے اور آخرت کے دن پر اور فرشتوں پر اور اللہ تعالیٰ کی سب کتابوں پر اور اس کے سب نبیوں پر۔ جو شخص ان چیزوں پر ایمان لائے گا اللہ کی کسی کتاب یا اس کے کسی رسول کی تکذیب نہ کرے گا اور رسولوں کے درمیان تفریق نہ کرے گا وہ مومن ہوگا پھر ایمان کے تقاضوں کے مطابق جو اعمال کرے گا اور جو اموال خرچ کرے گا اور جو اقوال اس سے صادر ہوں گے وہ سب نیکی اور تقویٰ میں شمار ہوں گے۔
اللہ کی رضا کے لیے مال خرچ کرنا :
اصول و عقائد بتانے کے بعد مال خرچ کرنے کی عمومی مدیں ذکر فرمائیں۔ اور مال کی محبت ہوتے ہوئے رشتہ داروں، یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں اور سوال کرنے والوں کو مال دینا نیکی میں شمار فرمایا۔ اور جو ایسے غلام ہیں جن سے ان کے آقاؤں نے کتابت کا معاملہ کرلیا۔ (یعنی ان سے کہہ دیا کہ اتنا مال لا کر دے دو تو آزاد ہو) ان کی گردنوں کے آزاد کرانے میں مال خرچ کرنے کو نیک کاموں میں ذکر فرمایا۔ لفظ (عَلٰی حُبِّہٖ ) میں جو ضمیر مجرور مضاف الیہ ہے اس کا مرجع مفسرین نے مال کو قرار دیا ہے اور بعض حضرات نے یہ بھی احتمال نکالا ہے کہ یہ ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہے جس کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کی محبت کی وجہ سے اپنے مال کو وجوہ خیر میں خرچ کرتے ہیں۔ لیکن پہلا معنی دوسرے معنی کو شامل ہوجاتا ہے۔ کیونکہ جو شخص مال کی محبت ہوتے ہوئے مذکورہ وجوہ میں خرچ کرے گا وہ اللہ تعالیٰ ہی کی محبت میں خرچ کرے گا۔
افضل الصدقہ :
صحیح بخاری ص 191 ج 1 میں ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ کون سا صدقہ ثواب کے اعتبار سے سب سے بڑا ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ کہ تو ایسے وقت میں صدقہ کرے جب تو تندرست ہو اور خرچ کرتے ہوئے نفس کنجوس بن رہا ہو۔ تجھے تنگدستی کا ڈر ہو اور مالداری کی امید لگائے بیٹھا ہو، اور صدقہ کرنے میں تو اتنی دیر نہ لگا کہ جب روح حلق کو پہنچے لگے تو کہنے لگے کہ فلاں کو اتنا دینا اور فلاں کو اتنا دینا (اب تیرے دینے اور اعلان کرنے سے کیا ہوگا) اب تو فلاں کا ہو ہی چکا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ صدقہ کرنے کا سب سے بڑا مرتبہ یہ ہے کہ تندرستی کے وقت (جب کہ مرض الموت میں مبتلا نہیں ہے) اللہ کی راہ میں خرچ کرے۔ اس وقت خرچ کرتا ہے تو نفس یوں کہتا ہے کہ خرچ نہ کرو پھر بھی نفس کے تقاضے کو دبا کر خرچ کرتا ہے۔ نفس کہتا ہے کہ خرچ کرو گے تو تنگدستی آجائے گی۔ اور مالدار بننے میں دیر لگے گی۔ پہلے خوب مالدار ہوجاؤ پھر خرچ کرنا لیکن خرچ کرنے والا نفس کی کوئی بات نہیں مانتا اللہ کی رضا کے لیے وجوہ خیر میں خرچ کرتا چلا جاتا ہے، پھر آپ نے فرمایا کہ موت کے وقت صدقہ کرنا اور یہ کہنا کہ فلاں کو اتنا دینا، فلاں کو اتنا دینا اس کی وہ حیثیت نہیں رہتی جو تندرستی میں خرچ کرنے کی تھی اب دوسروں کو کیا دے رہے ہو اب تو دوسروں کا ہو ہی چکا۔
رشتہ داروں پر خرچ کرنے کی فضیلت :
مال خرچ کرنے کے مصارف خیر بتاتے ہوئے پہلے (ذَوِی الْقُرْبیٰ ) کا ذکر فرمایا، عربی زبان میں ذوی القربیٰ رشتہ داروں کو کہا جاتا ہے۔ سنن الترمذی میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مسکین کو صدقہ دینے میں صرف صدقہ کا ثواب ہے اور جس سے رحم کا رشتہ ہو اس کو صدقہ دینے میں (دو ہرا) ثواب ہے۔ (کیونکہ وہ) صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی ہے۔ رشتہ داروں میں سب سے پہلا اور سب سے بڑا رشتہ ماں باپ کا اور اپنی اولاد کا ہے، ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا جگہ جگہ حکم دیا گیا ہے اور بیوی پر اور اولاد پر خرچ کرنے کی فضیلت بھی وارد ہوئی ہے۔ ان رشتوں کے تعلق سے طبعی تقاضے کے باعث سب ہی خرچ کرتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے نہ صرف والدین اور اولاد بلکہ دور اور نزدیک کے دوسرے رشتہ داروں پر خرچ کرنے میں بھی ثواب رکھا ہے۔ اللہ کی رضا مقصود ہو، ریا کاری نہ ہو، جن پر خرچ کرے ان پر احسان نہ جتائے۔ طعن وتشنیع نہ کرے۔ حضرت ثوبان ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سب سے افضل خرچ کرنا اس دینار کا ہے جو تو اپنے گھر والوں پر خرچ کرے اور وہ دینار جسے تو اپنے ساتھیوں پر جہاد میں خرچ کرے (یعنی سب سے زیادہ افضل صدقہ ہے) ۔ (صحیح مسلم ص 322 ج 1)
حضرت ابو مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مسلمان آدمی کا اپنے گھر والوں پر ثواب سمجھتے ہوئے خرچ کرنا صدقہ ہے۔ (یعنی اس میں بھی ثواب ہے) (صحیح بخاری ص 324 ج 1) بلکہ خرچ کرنے میں ان لوگوں کا سب سے پہلے دھیان رکھنے کا حکم فرمایا جو اپنے عیال میں ہوں۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 170)
یتیموں پر مال خرچ کرنے کی فضیلت :
ذوی القربیٰ کے بعد یتامیٰ پر خرچ کرنے کا ذکر فرمایا۔ یہ یتیم کی جمع ہے۔ یتیم ان نابالغ بچوں کو کہا جاتا ہے جن کا باپ زندہ نہ ہو۔ عموماً ایسے بچے حاجت مند ہوتے ہیں۔ ان پر خرچ کرنے کا خصوصی خیال رکھا جائے۔ اخراجات کے علاوہ دوسرے طریقوں سے بھی ان کی دلداری کی جائے۔ سنن ترمذی میں ہے کہ ارشاد فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جس نے کسی یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرا اور صرف اللہ کی رضا کے لیے ایسا کیا تو ہر بال جس پر اس کا ہاتھ گزرے گا اس کے عوض نیکیاں ملیں گی اور صحیح بخاری ص 888 ج 2 میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں اور یتیم کی کفالت کرنیوالا جنت میں اس طرح ساتھ ہوں گے۔ اس موقع پر آپ نے اپنی انگلیاں (انگوٹھے کے پاس والی اور بیچ والی) ساتھ ملا کردکھائیں۔ آج کل لوگوں میں یہ رواج ہوگیا ہے کہ وہ یتیموں پر اپنا مال تو کیا خرچ کرتے انہیں کا مال کھا جاتے ہیں۔ باپ کی میراث میں سے جو حصہ ان کو ملتا ہے اس کو دبا لیتے ہیں۔ اپنے نام یا اپنی اولاد کے نام کروا لیتے ہیں۔ یتیم کے مال پر قبضہ کرنے سے ذرا نہیں جھجکتے۔
مساکین پر مال خرچ کرنا :
پھر مساکین پر مال خرچ کرنے کا ذکر فرمایا، جن لوگوں کے پاس کچھ بھی نہ ہو ان کو مسکین کہا جاتا ہے۔ ان میں بہت سے وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی حاجت کو کسی پر ظاہر نہیں کرتے، دکھ، تکلیف میں بھوکے پیاسے وقت گزار لیتے ہیں۔ ایسے لوگوں پر خرچ کرنے کا بہت زیادہ ثواب ہے۔ جن کو سوال کرنے کی عادت ہوتی ہے وہ تو سوال کرکے اپنی حاجت پوری کرلیتے ہیں۔ لیکن آبرومند آدمی سوال نہیں کرتا۔ ایسے لوگوں کی تلاش رکھنی چاہیے۔ صحیح بخاری ص 200 ج 1 میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مسکین وہ نہیں ہے جو (سوال کرنے کے لیے) لوگوں کے پاس چکر لگاتا ہے۔ جسے ایک لقمہ اور دو لقمہ یا ایک کھجور اور دو کھجوریں واپس کردیتی ہیں۔ یعنی کوئی دیتا ہے کوئی نہیں دیتا۔ (لیکن واقعی مسکین وہ ہے، جو ایسی چیزیں نہیں پاتا جو اسے بےنیاز کرے اور اس کا پتہ بھی نہیں چلتا تاکہ اس پر صدقہ کیا جائے اور وہ سوال کرنے کے لیے بھی کھڑا نہیں ہوتا۔
سورۂ بلد میں فرمایا (فَلاَ اقْتَحَمَ الْعَقَبَۃَ وَمَا اَدْرٰکَ مَا الْعَقَبَۃُ فَکُّ رَقَبَۃٍ اَوْ اِِطْعَامٌ فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَبَۃٍ یَتِیْمًا ذَا مَقْرَبَۃٍ اَوْمِسْکِیْنًا ذَا مَتْرَبَۃٍ ) ” سو کیوں وہ گھاٹی میں سے ہو کر نہ نکلا اور اے مخاطب تجھے معلوم ہے گھاٹی کیا ہے ؟ گردن کا چھڑانا 1 یا بھوک کے دن میں کسی رشتہ دار یتیم یا کسی خاک نشین کو کھانا کھلانا، اس میں غلاموں کی آزادی میں مدد دینے اور یتیم اور مسکین کو کھانا کھلانے کو گھاٹی کے پار کرنے سے تعبیر فرمایا۔ کیونکہ یہ چیزیں نفس پر شاق ہیں۔
مسافر پر مال خرچ کرنا :
پھر ابن سبیل پر خرچ کرنے کا ذکر فرمایا۔ عربی زبان میں ابن سبیل مسافر کو کہا جاتا ہے۔ بہت مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ مسافر کے پاس سفر میں خرچہ ختم ہوجاتا ہے یا مال چوری ہوجاتا ہے۔ یا جیب تراش کر رقم نکال لی جاتی ہے۔ ایسے لوگوں کا حال معلوم ہوجائے تو ان پر خرچ کرنے کا اہتمام کیا جائے۔ ضروری نہیں کہ یہ لوگ حاجت کا اظہار کریں تب ہی دیا جائے۔ کسی طرح بھی ان کی حاجت معلوم ہوجائے تو ان کی مدد کردی جائے۔ مسافر کے گھر پر جس قدر بھی مال ہو اور اپنے اموال و املاک و جائداد کی وجہ سے غنی ہو لیکن سفر میں حاجتمند ہوگیا تو اس پر خرچ کرکے ثواب لیا جائے۔
سوال کرنے والوں کو دینے کا حکم :
پھر سوال کرنے والوں کو دینے کا ذکر فرمایا۔ ان لوگوں میں کئی قسم کے لوگ ہوتے ہیں ان میں واقعی ضرورت مند بھی ہوتے ہیں۔ ان کو تو دینا ہی چاہیے اور ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے بارے میں یقین تو نہیں کہ وہ حاجت مند ہوگا لیکن اس کے ظاہر حال اور غالب گمان سے ضرورت مند ہونا معلوم ہوتا ہے۔ ان کو بھی دینا درست ہے۔
بھیک مانگنے کا پیشہ اختیار کرنے کی ممانعت :
مجبوری میں بھوک دفع کرنے یا اور کسی حاجت کے پورا کرنے کے لیے کوئی مانگ لے تو گنجائش ہے۔ لیکن اس کو پیشہ بنا لینا کسی طرح بھی درست نہیں۔ جن کو سوال کی عادت ہوتی ہے وہ مانگتے رہتے ہیں۔ مال جمع کرتے رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو نہ دیا جائے۔ دنیا میں تو سوال کرنے والے بن کر بےآبرو ہوتے ہی ہیں۔ قیامت کے دن بھی بےآبروہوں گے۔ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جس نے لوگوں سے ان
1 یعنی غلام آزاد کرنا۔
کے مالوں کا سوال اس لیے کیا کہ مال زیادہ جمع ہوجائے تو وہ آگ کے انگاروں کا سوال کرتا ہے (جو دوزخ میں اسے ملیں گے) اب چاہے کم کرے یا زیادہ کرے۔ (رواہ مسلم ص 333 ج 1) اور رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ انسان دنیا میں برابر سوال کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ قیامت میں اس حال میں آئے گا کہ اس کے چہرہ پر گوشت کی ایک بوٹی بھی نہ ہوگی۔ (صحیح بخاری ص 199 ج 1)
اس کا چہرہ دیکھ کر لوگ سمجھ لیں گے کہ یہ دنیا میں سائل تھا وہاں اپنے چہرے کی آبرو کھوئی تو یہاں بھی اسی کا ظہور ہوا۔ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ غنی کو اور ٹھیک ٹھاک بدن والے قوی آدمی کو سوال کرنا حلال نہیں ہے۔ الایہ کہ ایسا مجبور ہو کہ تنگدستی نے اسے مٹی میں ملا رکھا ہو (یعنی زمین کی مٹی کے سوا اس کے پاس کچھ نہ ہو) یا قرضے میں مبتلا ہوگیا ہو جو ذلیل کرنے والا ہو، اور جس شخص نے مال زیادہ کرنے کے لیے لوگوں سے سوال کیا تو قیامت کے دن اس کا چہرہ چھلا ہوا ہوگا اور یہ مال گرم پتھر بنا ہوگا۔ جس کو جہنم سے لیکر کھاتا ہوگا۔ اب جی چاہے تو کمی کرے اور چاہے تو زیادتی کرلے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 163)
ہر شخص کو اپنی اپنی ذمہ داری بتادی گئی۔ مانگنے والا مانگنے سے پرہیز کرے اور جس سے مانگا جائے وہ موقع دیکھ کر خرچ کرے۔ سائل کو جھڑ کے بھی نہیں۔ کیا معلوم مستحق ہی ہو اور غور و فکر بھی کرے حاجت مندوں کو تلاش بھی کرے۔
مسئلہ : جو شخص مسجد میں سوال کرتا ہو اسے نہ دے۔
غلاموں کی آزادی میں مال خرچ کرنا :
مال خرچ کرنے کے سلسلہ میں سب سے آخر میں (وَ فِی الرِّقَابِ ) فرمایا رقاب، رقبۃ کی جمع ہے۔ رقبہ گردن کو کہتے ہیں۔ مفسر ابن کثیر لکھتے ہیں (ص 208 ج 1) کہ فی الرقاب سے مکاتبوں کے آزاد کرانے میں مدد دینا مراد ہے، جو غلام کسی کی ملکیت میں ہو اور اس کا آقا کہہ دے کہ اتنا مال دے دو تو تم آزاد ہو اس کو مکاتب کہا جاتا ہے۔ ان کو مال دے کر آزاد کرا دینا بھی وجوہ خیر میں سے ہے اور ثواب کا کام ہے۔ مفسر بیضاوی لکھتے ہیں ص 124 ج 1 کہ قیدیوں کی جانوں کا فدیہ دے کر ان کا چھڑا لینا یا غلام خرید کر آزاد کردینا بھی اس کے عموم میں شامل ہے۔ (جب کبھی مسلمان اللہ کے لیے جنگ کرتے تھے اور شریعت کے مطابق جہاد اور قتال ہوتا تھا۔ اس وقت غلام اور باندیوں کے مالک ہوتے تھے۔ اب نہ اللہ کے لیے جہاد ہے نہ غلام ہیں نہ باندیاں ہیں۔ کوئی انسان کسی انسان کا مالک نہیں ہے۔ پھر جب کبھی مسلمان اللہ کے لیے جنگ کریں گے اور اصول شریعت پر لڑیں گے تو پھر غلام باندیاں قبضہ میں آئیں گی) ۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔
نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا :
مال خرچ کرنے کے مواقع ذکر فرما کر فرمایا (وَ اَقَام الصَّلوٰۃَ وَاٰتَی الزَّکوٰۃَ ) یعنی تقویٰ کے کاموں میں یہ بھی ہے کہ فرض نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں۔ نماز اور زکوٰۃ کی فرضیت کا بیان پہلے بھی آچکا ہے۔ اوپر مال کے مصارف خیر بیان فرما کر نماز کے ساتھ زکوٰۃ کو بھی ذکر فرمایا۔ مفسر بیضاوی فرماتے ہیں کہ پہلے مصارف زکوٰۃ بیان کیے اور پھر زکوٰۃ کی ادائیگی پر متوجہ فرمایا پھر لکھتے ہیں کہ یہ بھی ممکن ہے کہ پہلے جو وجوہ خیر بیان کی ہیں ان سے نفلی صدقات مراد ہوں (اور نماز کے ساتھ زکوٰۃ کا ذکر فرمانے میں اس کی فرضیت بتانا مقصود ہو) ۔
عہد پورا کرنا :
نیکی اور تقویٰ کے کام بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا (وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَھْدِھِمْ اِذَا عٰھَدُوْا) (اور اپنے عہدوں کو پورا کرنے والے جبکہ وہ عہد کرلیں) ۔ ایفائے عہد کی شریعت مطہرہ میں بڑی اہمیت ہے۔ حضرت انس ؓ نے بیان فرمایا کہ بہت کم ایسا ہوا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ دیا ہو اور یہ نہ فرمایا ہو کہ (اَلاَ لَا اِیْمَانَ لِمَنْ لاَّ اَمَانَۃَ لَہٗ وَ لَا دِیْنَ لِمَنْ لَّا عَھْدَلَہٗ ) (خبر دار اس کا کوئی ایمان نہیں جو امانت دار نہیں اور اس کا کوئی دین نہیں جو عہد کا پورا نہیں) ۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 15 عن شعب الایمان)
حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص کے اندر چار خصلتیں ہوں گی خالص منافق ہوگا اور جس میں ان میں سے ایک خصلت ہوگی تو یوں مانا جائے گا کہ اس میں نفاق کی ایک خصلت ہے جب تک کہ اسے چھوڑ نہ دے۔
(1) جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔
(2) جب بات کرے تو جھوٹ بولے۔
(3) جب عہد کرے تو دھوکہ دے۔
(4) جب جھگڑا کرے تو گالیاں بکے۔ (صحیح بخاری ص 10 ج 1)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ دھوکہ دینے والے کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا نصب کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کی دھوکہ بازی (کا جھنڈا) ہے اور اس جھنڈے کے ذریعہ اسے پہچانا جائے گا۔ (صحیح بخاری ص 452 ج 1)
حضرت ابو سعید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن ہر دھوکہ دینے والے کے لیے ایک جھنڈا ہوگا جو اس کے پیچھے اس کے دھڑ پر کھڑا ہوگا، اور جتنا بڑا اس کا غدر ہوگا اسی قدر وہ جھنڈا اونچا ہوگا (پھر فرمایا) خبر دار اس سے بڑھ کر بڑا دھوکہ باز کوئی نہیں جو عوام کا امیر ہو، اور عوام کو دھوکہ دے۔ (صحیح مسلم ص 83 ج 2)
حضرت معقل بن یسار ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس کسی بندہ کو اللہ تعالیٰ کسی رعیت کا راعی بنا دے۔ (یعنی صاحب اقتدار بنا کر عوام کی نگرانی اور خیر خواہی اس سے سپرد کر دے) پھر وہ اس کی خیر خواہی نہ کرے تو وہ شخص جنت کی خوشبو بھی نہ سونگھے گا۔ (صحیح بخاری ص 1058 ج 2)
اور ایک روایت میں یوں ہے کہ آنحضرت سرور عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کہ جو شخص مسلمانوں کی کسی جماعت کا والی ہو اور ان کی نگرانی اور نگہداشت اس کے ذمہ ہو پھر وہ اس حال میں مرجائے کہ وہ ان کے ساتھ خیانت کرنے والا ہو تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت حرام فرما دے گا۔ (صحیح بخاری ص 1059 ج 3)
جو لوگ بڑے بڑے وعدے کرکے حکومت حاصل کرتے ہیں یا حکومت کے چھوٹے بڑے عہدوں پر فائز ہوتے ہیں پھر وہ عوام کے ساتھ غدر کرتے ہیں اور سارے عہدو پیمان توڑ دیتے ہیں ان لوگوں کے حق میں یہ کیسی سخت وعیدیں ہیں غور کرلیں۔
مسئلہ : اگر کافروں سے کوئی معاہدہ ہو تو اس کا پورا کرنا بھی لازم ہے جب کسی قوم سے معاہدہ ہو اور ان کی طرف سے خیانت کا ڈر ہو اور اس کے ختم کرنے میں مصلحت ہو تو پہلے یہ بتادیں کہ ہمارا عہد باقی نہیں رہا۔ اس کے بعد کوئی نئی کارروائی کرسکتے ہیں جو معاہدہ کی شرطوں کے خلاف ہو۔ سورة انفال میں ارشاد فرمایا (وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَۃً فَانْبِذْ اِلَیْھِمْ عَلٰی سَوَآءٍ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْخَآءِنِیْنَ ) ” اور اگر آپ کو کسی قوم سے خیانت کا اندیشہ ہو تو آپ وہ عہد ان کو اس طرح واپس کردیجیے کہ آپ اور وہ برابر ہوجائیں۔ بلا شبہ اللہ تعالیٰ خیانت کرنیوالوں کو پسند نہیں فرماتے۔ “ حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے کسی ایسے شخص کو قتل کیا جس سے (امان اور حفاظت جان کا وعدہ تھا) تو وہ جنت کی خوشبو نہ سو نگھے گا۔ (صحیح بخاری ص 448 ج 1)
صابرین کی فضیلت :
پھر صبر والوں کی تعریف فرمائی اور فرمایا (وَ الصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ حِیْنَ الْبَاْسِ ) اس میں سختی اور تکلیف کے زمانہ میں صبر کرنے کو نیکی اور تقویٰ والے کام بتایا ہے اور جنگ کے وقت جب کافروں سے مقابلہ ہو اس وقت جم کر ثابت قدمی کے ساتھ مقابلہ کرنے کو نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں شمار فرمایا ہے۔ سورة انفال میں فرمایا (یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا لَقِیْتُمْ فِءَۃً فَاثْبُتُوْا وَ اذْکُرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ) ” اے ایمان والو ! جب تم کسی جماعت سے مقابلہ کرو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کا خوب کثرت سے ذکر کرو۔ امید ہے کہ تم کامیاب ہوجاؤ۔
سورۃ صف میں فرمایا (اِِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِہٖ صَفًّا کَاَنَّہُمْ بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ) ” بیشک اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو پسند فرماتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح مل کر لڑتے ہیں کہ گویا وہ ایک عمارت ہے جس میں سیسہ پلایا گیا ہو) ۔
آخر میں فرمایا (اُولٰٓءِکَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ اُولٰٓءِکَ ھُمُ الْمُتَّقُوْنَ ) ” کہ یہ حضرات جن کی صفات اوپر مذکور ہوئیں وہ لوگ ہیں جو اپنے ایمان میں سچے ہیں (کیونکہ ایمان قلبی کے ساتھ ایمان کے تقاضوں کو بھی پورا کرتے ہیں) اور یہ لوگ تقویٰ والے بھی ہیں۔ (کیونکہ حرام سے بچتے ہیں، اور گناہوں سے پرہیز کرتے ہیں) ۔ “
Ayah 2:178قصاص اور دیت کے بعض احکام
جب کوئی شخص کسی کو قتل کردے تو اس کی جان کا بدلہ جو جان سے دیا جاتا ہے قرآن و حدیث میں اس کو قصاص کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ قصاص قتل عمد (یعنی قصداً جان کو قتل کرنے) میں ہوتا ہے۔ جس کی تفصیلات کتب فقہ میں مرقوم ہیں۔ لفظ قصاص مماثلت یعنی برابری پر دلالت کرتا ہے چونکہ جان کا بدلہ جان سے رکھا گیا ہے اس لیے اس میں حاکم محکوم صغیر کبیر اور امیر و غریب میں کوئی فرق نہیں اور قبیلوں اور قوموں کے اعتبار سے جو دنیا میں امتیاز سمجھا جاتا ہے قصاص کے قانون میں اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ اگر مقتول کے اولیاء سب یا کوئی ایک وارث جان کے بدلہ مال لینے پر راضی ہوجائے تو اس مال کو دیت (خون بہا) سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی کو خطاً قتل کر دے (جس کی کئی صورتیں ہیں اور جس کے احکام سورة نساء میں مذکور ہیں) تو اس کے عوض مال واجب ہوتا ہے اس مال کو بھی دیت کہا جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی کے اعضاء میں سے کسی عضو کو کاٹ دے تو اس میں بھی بعض صورتوں میں قصاص اور بعض صورتوں میں دیت واجب ہوتی ہے۔ اعضاء کی دیت کو ارش بھی کہا جاتا ہے۔ اعضاء کے قصاص کا ذکر سورة مائدہ میں آئے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔ یہاں قصاص نفس کے بعض احکام ذکر فرمائے ہیں۔ لباب النقول میں حضرت سعید بن جبیر سے نقل کیا ہے کہ زمانہ اسلام سے پہلے زمانہ جاہلیت میں عرب کے دو قبیلے آپس میں برسر پیکار رہتے تھے اور ان میں کشت و خون کی وار داتیں ہوتی تھیں۔ غلام اور عورتوں تک کو قتل کر بیٹھے تھے۔ ابھی تک ان کے آپس کے قصاص یا دیت کے فیصلے نہ ہونے پائے تھے کہ دونوں قبیلوں نے اسلام قبول کرلیا ان میں سے ایک قبیلہ دوسرے کے مقابلہ میں اپنے کو زیادہ صاحب عزت اور رفعت سمجھتا تھا اس لیے انہوں نے قسم کھائی کہ ہم راضی نہ ہوں گے جب تک کہ ہمارے غلام کے بدلہ آزاد کو قتل نہ کیا جائے اور ہماری عورت کے بدلہ دوسرے قبیلہ کا مرد قتل نہ کیا جائے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی، جس میں ارشاد فرمایا کہ آزاد، آزاد کے بدلہ اور غلام، غلام کے بدلہ اور عورت، عورت کے بدلہ قتل کی جائے۔ اس شان نزول سے معلوم ہوگیا کہ (اَلْعَبْدُ بِا لْعَبْدِ ) اور (اَلْاُنْثٰی بالْاُنْثٰی) کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ غلام کے بدلہ آزاد قتل نہ ہو اور عورت کے بدلہ مرد قتل نہ ہو۔ سورة مائدہ میں جو (انَّ النَّفْسَ بالنَّفْسِ ) فرمایا ہے۔ اس میں ہر جان کو دوسری جان کے برابر قرار دیا ہے۔ مفسر ابن کثیر ص 209 ج 1 نے حضرت ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ اہل عرب مرد کو عورت کے بدلہ قتل نہیں کرتے تھے بلکہ مرد کو مرد کے بدلہ اور عورت کو عورت کے بدلہ قتل کرتے تھے۔ جس پر اللہ تعالیٰ نے (اَنَّ النَّفْسَ بالنَّفْسِ وَ الْعَیْنَ بالْعَیْنِ ) کا حکم نازل فرمایا۔
قصاص وارثوں کا حق ہے :
قتل عمد (جس میں قصاص ہے) اس میں قصاص لینا مقتول کے وارثوں کا حق ہے۔ مقتول کے جتنے بھی شرعی وارث ہوں وہ سب قصاص کے مستحق ہیں لیکن چونکہ قصاص قابل تقسیم نہیں ہے اس لیے اگر کوئی بھی ایک وارث اپنا حق قصاص معاف کر دے تو اب دوسرے وارث بھی قصاص نہیں لے سکتے اور اب وہ دیت ہی لے سکتے ہیں۔ اور جس نے قصاص معاف کردیا اب وہ بھی دیت لے گا۔ ہاں اگر اس نے اپنے حصہ کی دیت بھی معاف کردی تو وہ بھی معاف ہوجائے گی۔ ایک جان کی دیت سو اونٹ ہیں۔ جس کی تفصیل انشاء اللہ سورة نساء کی آیت (وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ اَنْ یَّقْتُلَ مُؤْمِنًا الاَّ خَطَءًا) کی تفسیر میں بیان ہوگی۔ اگر قاتل اور مقتول کے ورثاء آپس میں مال کی کسی مقدار معلوم پر صلح کرلیں تب بھی قصاص ساقط ہوجاتا ہے۔ اور جو مال مصالحت یا دیت کے طور پر وصول ہو مقتول کے وارث شرعی میراث کے حصوں کے مطابق اس کے مالک اور وارث ہوں گے۔ یہ دیت کے طور پر مصالحت کے ذریعہ مال لینا فریقین کی رضا مندی سے ہوسکتا ہے۔
قصاص کے عوض مال لینے کی مشروعیت امت محمدیہ کے لیے تخفیف اور رحمت ہے
قتل عمد کی صورت میں باہمی رضا مندی سے قصاص کے عوض مال دے کر قاتل کی جان بچا دینا اور دیت کا حلال ہونا یا بطور مصالحت کے کچھ مال لے لینا یہ امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والتحیہ کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے تخفیف ہے اور خاص رحمت ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ بنی اسرائیل پر قصاص ہی فرض تھا۔ دیت ان کے لیے مشروع نہ تھی۔ حضرت قتادہ (رح) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس امت پر رحم فرمایا کہ ان کو دیت لینے کا حق دیا اور اس امت سے پہلے دیت حلال نہیں تھی۔ اہل توریت پر صرف قصاص فرض تھا اور دیت مشروع نہ تھی اور اہل انجیل کو معاف کردینے ہی کا حکم تھا۔ اس امت کے لیے اللہ تعالیٰ نے قصاص اور معانی اور دیت تینوں چیزیں مشروع فرما دیں۔ (ابن کثیر ص 210 ج 1)
جب کوئی ایک وارث یا سب وارث خون معاف کردیں یا دیت پر راضی ہوجائیں اور دیت کا دینا واجب ہوجائے یا مصالحت کے ذریعہ آپس میں کچھ مال دینا طے ہوجائے تو اب مقتول کے ورثاء کو چاہیے کہ حسن مطالبہ کریں اور سختی اور تشدد سے کام نہ لیں۔ (فَاتِّباَعٌ بالْمَعْرُوْفِ ) میں اسی کا حکم فرمایا ہے اور قاتل پر لازم ہے کہ بغیر ٹال مٹول کے اور بغیر تقاضوں کے وارثوں کو طے شدہ مال ادا کر دے۔ (وَاَدَاءٌ اِلَیْہِ بِاِحْسَانٍ ) میں اسی کا حکم دیا ہے۔ جب آپس میں معاملات طے ہوگئے تو دونوں فریقوں میں سے جو شخص بھی زیادتی کرے گا وہ آخرت میں عذاب الیم میں گرفتار ہوگا۔ اسے سخت عذاب دیا جائے گا۔ مثلاً قاتل اگر دیت پر معاملہ کرکے دیت دینے سے انکاری ہوجائے کہیں چھپ جائے، فرار ہوجائے تو یہ اس کی طرف سے ظلم اور زیادتی ہے اور مثلاً مقتول کے اولیاء دیت لیکر بھی قتل کردیں تو یہ ان کی طرف سے ظلم اور زیادتی ہوگی۔ ہر فریق کے لیے عذاب دوزخ ہے۔ حضرت ابو شریح خزاعی ؓ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ سے میں نے سنا ہے کہ جس شخص کا کوئی خونی نقصان ہوجائے (یعنی اس کا کوئی عزیز عمداً قتل کردیا جائے یا زخم پہنچ جائے تو اسے تین چیزوں کا اختیار ہے۔ قصاص لے لے یا معاف کر دے یا دیت لے لے اس کے سوا اگر کوئی چوتھا کام کرنا چاہے تو اس کے ہاتھ پکڑ لو، ان میں سے کسی چیز کو اختیار کرنے کے بعد زیادتی کرے تو اس کے لیے دوزخ ہے اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 301)
Ayah 2:179قانون قصاص میں بڑی زندگی ہے :
قصاص کا قانون جاری کرنے اور اس کو عملاً نافذ کرنے میں بہت بڑی زندگی ہے۔ اس مضمون کو (وَ لَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوۃٌ) میں بیان فرمایا ہے قصاص میں بظاہر قاتل کی موت ہے لیکن اسے امت کے حق میں بڑی حیات فرمایا کیونکہ جب قصاص کا قانون نافذ ہوگا تو قاتل بھی قتل کرنے سے بچے گا اور ہر شخص کے کنبہ اور قبیلے کے لوگ اس بات کے فکر مند رہیں گے کہ ہمارے کسی فرد سے کوئی شخص قتل نہ ہوجائے۔ مفسر ابن کثیر لکھتے ہیں کہ ائمہ اربعہ اور جمہور کا مذہب یہ ہے کہ اگر ایک شخص کو چند آدمی مل کر قتل کردیں تو ان سب کو اس ایک مقتول کے عوض قتل کیا جائے گا۔ (ص 210 ج 1)
حضرت سعید بن المسیب ؓ نے بیان فرمایا کہ پانچ یا سات آدمیوں نے کسی ایک شخص کو تنہائی میں پوشیدہ طور پر قتل کردیا تھا تو حضرت عمر ؓ نے ان پانچوں یا ساتوں کو ایک شخص کے قصاص میں قتل کردیا اور فرمایا کہ اگر شہر صنعا کے سارے آدمی مل کر بھی شخص واحد کو قتل کرتے تو میں ان سب کو قتل کردیتا۔ (رواہ مالک وروی البخاری عن ابن عمر نحوہ کمافی المشکوٰۃ ص 302)
قصاص عین عدل ہے، اس کو ظلم کہنا ظلم ہے :
قصاص کا قانون نافذ ہونے سے اور اس پر عمل کرنے سے بہت ہی جانیں بچتی ہیں اور لوگ ایک دوسرے کو قتل کرنے سے باز رہتے ہیں اس لیے قصاص کو بڑی حیات کا ذریعہ بتایا۔ بہت سے جاہل قصاص کے قانون کو ظلم سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہ لوگ ظلم کا معنی بھی نہیں جانتے، ظلم کرنے والاتو قاتل ہے جس نے ناحق قصداً و عمداً کسی کو قتل کیا۔ قتل کے بدلہ میں قاتل کو قتل کردینا عین انصاف ہے اس کو ظلم سے تعبیر کردینا جہالت اور حماقت ہے۔ یہ جاہل کہتے ہیں کہ قاتل کو قتل نہ کیا جائے بلکہ جیل میں ڈال دیا جائے اور یہ نہیں سمجھتے کہ اس سے تو اور زیادہ قتل پر جرات ہوجاتی ہے۔ آدمی سمجھتا ہے کہ قتل تو کر دوں، تھوڑی بہت جیل بھگت لوں گا۔ جن کا مزاج قتل اور غارت گری اور ڈکیتی اور فتنہ فساد کا ہے وہ جیل سے بالکل نہیں ڈرتے۔ جیل کی دیواریں پھاند کر اور کھڑکیاں توڑ کر بھاگ جاتے ہیں۔ جن لوگوں کے نزدیک انسانوں کی جانوں کی قیمت نہیں ہے وہ لوگ قصاص کو اچھا نہیں سمجھتے۔ انہیں قاتل پر رحم آتا ہے۔ عامۃ الناس کی جانوں پر رحم نہیں آتا۔ سنن ابو داؤد میں ہے کہ جس نے قصداً قتل کیا تو اس میں قصاص ہے اور جو شخص قصاص نافذ کرنے کے بارے میں آڑے آجائے تو اس پر اللہ کی لعنت ہے اور فرشتوں کی لعنت ہے اور سب انسانوں کی لعنت ہے۔ (آخر حدیث من کتاب الدیات)
قصاص یادیت معاف کرنا سربراہ مملکت کے اختیار میں نہیں ہے
دنیا میں ایک یہ جاہلانہ قانون نافذ ہے کہ ملک کا سربراہ قاتل کی درخواست پر اپنے ذاتی و جماعتی فوائد کو سامنے رکھ کر قاتل کو معاف کردیتا ہے۔ یہ شریعت اسلامیہ کے بالکل خلاف ہے۔ مقتول کے وارثوں کو حق ہے کہ معاف کریں یا قصاص لیں یا دیت لیں، کسی امیر یا وزیر یا صدر یا بادشاہ کو معافی دینے کا اور وارثوں کا حق باطل کرنے کا بالکل اختیار نہیں ہے جو بھی کوئی سربراہ ایسا کرے گا وہ قانون قرآن کا باغی ہوگا۔ اور اس کی سزا کا مستحق ہوگا۔
Ayah 2:180وصیت کے احکام
اس آیت کریمہ میں والدین اور قرابت داروں کے لیے مال کی وصیت کرنا فرض قرار دیا گیا ہے۔ جب کسی کو موت کے آثار معلوم ہونے لگیں تو وہ وصیت کر دے۔ مفسرین نے فرمایا کہ اس وصیت کی فرضیت میراث کے حصے مقرر ہونے کے بعد منسوخ ہوچکی ہے۔ والدین وارثوں میں شامل ہیں۔ جن کے حصے سورة نساء کے دوسرے رکوع میں مذکور ہیں۔ اور وارث کے لیے وصیت جائز نہیں ہے۔ جب تک کہ دوسرے ورثاء کی اجازت نہ ہو۔ لما ورد فی الحدیث ” لآ وصیۃ لوارث “ اخرجہ الترمذی و ابو داؤد۔ اجازت وصیت کرنے والے کی موت کے بعد معتبر ہوگی۔ اگر دوسرے ورثاء اجازت دیں تو کسی وارث کے لیے وصیت نافذ ہوسکتی ہے۔ البتہ غیر وارث رشتہ داروں کے لیے وصیت کرنا جائز ہے بلکہ مستحب ہے لیکن وصیت کا اصول یہ ہے کہ وہ صرف تہائی مال میں نافذ ہوسکتی ہے بہتر یہ ہے کہ مرنے والا تہائی مال سے کم میں وصیت کرے اور بہت سے بہت تہائی مال تک وصیت کرنے کی گنجائش ہے۔ جتنی بھی وصیتیں ہوں گی وہ قرضوں کی ادائیگی کے بعد جو مال بچے اس کے تہائی میں نافذ ہوں گی۔
اگر تہائی سے زیادہ مال کی وصیت ہو تو وہ بھی بالغ ورثاء کی اجازت سے مرنے والے کی موت کے بعد نافذ ہوسکتی ہے۔ اس کی زندگی میں جو کوئی وارث اجازت دے دے وہ معتبر نہیں ہے۔ اگر وارثوں نے اس کی زندگی میں تہائی سے زیادہ مال کی وصیت کی اجازت دے دی تھی تو اس کی موت کے بعد منسوخ کرسکتے ہیں اور وصیت کرنے والا جو کچھ وصیت کر دے وہ بھی اپنی زندگی میں منسوخ کرسکتا ہے۔ صحیح طریقہ یہی ہے کہ انسان اپنی زندگی میں اللہ کے لیے خرچ کرتا ہے۔ اہل و عیال پر بھی خرچ کرے اور دوسرے اعزہ اوراقربا پر بھی اور یتامیٰ اور مساکین پر بھی، مساجد و مدارس کے لیے وقف کرے۔ مسجدیں بنوائے۔ مدرسے کھولے۔
وصیت نافذ کرنے سے پہلے قرضے ادا کیے جائیں گے :
وصیت کے بارے میں اول تو یہ قانون ہے کہ قرضوں کی ادائیگی کے بعد باقی تہائی مال میں نافذ ہوسکتی ہے۔ دوسرے وصیت کے مطابق خرچ کرنے کا تعلق وارثوں سے ہوجاتا ہے۔ وہ دیانتداری سے خرچ کریں یا نہ کریں۔ اس لیے جو کچھ فی سبیل اللہ خرچ کرنا چاہے زندگی میں خرچ کر دے۔ البتہ ایسا نہ ہو کہ گھر والے ضرورت مند ہوں ان کی ضروری حاجتیں رکی رہیں اور یہ باہر خرچ کرتا رہے اور ایسا بھی نہ ہو کہ لوگوں کے قرضے چڑھے ہوئے ہوں اور سخاوت کے جوش میں ثواب کے کاموں میں خرچ کرتا رہے اور قرضوں کی ادائیگی رکی رہے۔ اگر زندگی میں نیک کاموں میں خرچ نہ کرسکا اور موت سے پہلے وصیت کردی کہ فلاں فلاں جگہ اتنا مال خرچ کردیا جائے اور قرض خواہوں کے قرض کا ذکر چھوڑ دیا تب بھی پہلے قرضے ہی ادا کیے جائیں گے۔ اگر اتنا زیادہ قرض ہے کہ جتنا مال ہے وہ سب ان کی ادائیگی میں ختم ہوجاتا ہے تو نہ وصیت نافذ ہوگی نہ میراث میں کسی کو کچھ ملے گا۔
مسئلہ : وصیت کرنے میں پہلے فرائض کو مقدم کیا جائے۔ مثلاً اگر وصیت کرنے والے نے حج فرض نہیں کیا تھا یا اس کے ذمہ زکوٰتیں فرض ہوئی تھیں اور اس نے نہیں دیں یا کفارات واجبہ ہیں جن کی ادائیگی باقی ہے۔ ان چیزوں کی ادائیگی کو وصیت میں مقدم کرے۔ اگر اس نے فرائض اور واجبات کے ساتھ غیر فرض اور غیر واجب کاموں کی وصیت کردی تب بھی ان لوگوں پر لازم ہے جن کے قبضے میں اس کا مال آجائے کہ فرائض اور واجبات کو مقدم کریں۔ اگرچہ اس نے وصیت میں ان کا ذکر بعد میں کیا ہو۔
حج بدل کی وصیت :
جیسا کہ پہلے ذکر ہوا قرضوں کی ادائیگی کے بعد تہائی مال میں وصیت نافذ ہوسکتی ہے۔ (اگرچہ فرائض اور واجبات کی ادائیگی کی وصیت ہو) پس اگر حج بدل کی وصیت کی ہو اور اس کے لیے کسی کو بھیجنا چاہیں اور تہائی مال اس کے لیے کافی نہ ہو اور بالغ ورثاء اپنے پاس سے بقدر ضرورت تہائی سے زائد مال دے دیں تو بہتر ہے لیکن یہ ان پر واجب نہیں ہے۔
مسئلہ : یہ حج مرنے والے کے شہر سے کسی شخص کو بھیج کر کرائیں جو سواری پر جا کر اس کی طرف سے حج کرلے، اگر اس کی وصیت کے مطابق اس کے شہر سے کسی کو بھیج کر حج کرانا چاہیں اور اس کے لیے وصیت کی رقم کافی نہیں ہو رہی ہے اور ورثاء اپنے پاس سے بھی نہیں دیتے تو جس کسی شہر سے بھی آدمی بھیج کر حج کرایا جاسکتا ہو وہیں سے کسی کو بھیج دیا جائے اور وصیت کی رقم اس پر خرچ کردی جائے۔
گناہ کی وصیت کرنا گناہ ہے :
کسی بھی گناہ کی وصیت کرنا حلال نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص گناہوں میں مال خرچ کرنے کی وصیت کر دے تو وہ نافذ نہ ہوگی۔ شرک اور بدعت کے کاموں کے لیے کوئی شخص وصیت کر دے تو وہ بھی نافذ نہ ہوگی۔ اس کے متعلقین اور ورثاء پر لازم ہے کہ اس کی اس طرح کی وصیت کو نافذ نہ کریں۔
وارثوں کے لیے مال چھوڑنا بھی ثواب ہے :
وارثوں کے لیے مال چھوڑ کر جانا بھی ثواب ہے۔ صحیح بخاری ص 383 ج 1 میں ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ نے بیان فرمایا کہ میں فتح مکہ کے سال ایسا مریض ہوا کہ یہ محسوس ہونے لگا کہ ابھی موت آنے والی ہے۔ رسول اللہ ﷺ میری عیادت کے لیے تشریف لائے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میرے پاس بہت سا مال ہے اور (فرائض میراث کے اعتبار سے) صرف میری بیٹی کو میراث کا حصہ پہنچتا ہے تو کیا میں اپنے پورے مال کی وصیت کر دوں۔ آپ نے فرمایا نہیں۔ میں نے عرض کیا دو تہائی مال کی وصیت کر دوں، فرمایا نہیں، میں نے عرض کیا آدھے مال کی وصیت کر دوں۔ آپ نے فرمایا نہیں۔ میں نے عرض کیا تہائی مال کی وصیت کر دوں۔ آپ نے فرمایا ” ہاں “ تہائی مال کی وصیت کرسکتے ہو اور تہائی (بھی) بہت ہے۔ بلاشبہ اگر تم اپنے وارثوں کو (جن کو عصبہ ہونے کے اعتبار سے میراث پہنچتی ہے) مال دار ہونے کی حالت میں چھوڑو تو یہ اس سے بہتر ہے کہ تم انہیں تنگدستی کی حالت میں چھوڑو جو لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلایا کریں اور اس میں شک نہیں کہ تم جو بھی کوئی خرچ کرو گے جس سے اللہ کی رضا مطلوب ہو تمہیں ضرور اس کا ثواب ملے گا۔ یہاں تک کہ ایک لقمہ اٹھا کر اپنی بیوی کے منہ میں میں دے دو گے تو اس کا بھی ثواب ملے گا۔
وصیت میں دیر نہ کی جائے :
انسان دنیا میں رہتا ہے تو لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے کسی سے لینا کسی کو دینا حقوق واجبہ ہوتے ہیں۔ قرضے لیے ہوئے ہوتے ہیں۔ امانتیں رکھی ہوئی ہوتی ہیں اور موت کا کچھ پتہ نہیں کب آجائے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ وصیت لکھی ہوئی ہر وقت تیار رہے جس جس کا جو کچھ حق ہے یا قرضہ ہے یا امانتیں ہیں یا دینی فرائض اور واجبات ہیں جن کی ادائیگی باقی ہے ان سب کو کسی کا پی وغیرہ میں لکھ کر رکھے۔ اور وصیت تیار رہے تاکہ اچانک موت آجائے تو وارثین ان سب کو ادا کردیں۔ حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو بھی کسی مسلمان کے پاس کوئی چیز ہو جس کی وصیت کرنی ہو تو اس کے لیے یہ بات ٹھیک نہیں ہے کہ دو راتیں گزر جائیں اور اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی نہ ہو۔ (صحیح بخاری ص 382 ج 1)
حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص کو وصیت پر موت آئی (یعنی وصیت کر کے مرا) وہ صحیح راستہ پر اور سنت پر مرا اور تقویٰ اور شہادت پر مرا اور بخشا ہوا ہونے کی حالت میں مرا۔ (سنن ابن ماجہ ص 194)
Ayah 2:181وصیت کو بدلنے کا گناہ :
جب وصیت کرنے والا وصیت کرکے وفات پا جائے تو اس کے ورثاء اور جس کو اس نے وصی یا مختار بنایا ہو اسی طرح حاکم اور قاضی ان لوگوں پر ضروری ہے کہ مرنے والے نے جو وصیت کی اس کے مطابق شرعی اصول پر نافذ کردیں۔ وصیت کرنے والا تو دنیا سے چلا گیا اس کے اختیارات ختم ہو گے۔ اب مال دوسروں کے قبضہ میں ہے۔ ان لوگوں پر لازم ہے کہ وصیت کو صحیح طریقہ پر نافذ کریں جس کو جتنا دینا ہے، اس کو دینے سے دریغ نہ کریں۔ فقراء اور مساکین کے لیے وصیت کی ہے انہیں معلوم بھی نہیں کہ ہمارے لیے کوئی وصیت کی گئی ہے۔ اور بعض رشتہ دار جو دور رہتے ہیں ان کے لیے وصیت کی اور انہیں اس کا پتہ نہیں ہے یہ لوگ خود سے تقاضا کریں گے نہیں۔ اب جن کے قبضہ میں مال ہے وہ دیں یا نہ دیں کم دیں زیادہ دیں، نصیحت کو چھپائیں یا ظاہر کریں۔ یہ سب ان کے اختیار میں ہے اب وصیت نافذ کرنے اور مال تقسیم کرنے کی ذمہ داری انہیں پر ہے۔ یہ لوگ آخرت کو سامنے رکھتے ہوئے سارا کام انجام دیں۔ وصیت کو ادل بدل نہ کریں۔ اگر وصیت میں تبدیلی کریں گے تو گنہگار ہوں گے اور آخرت میں باز پرس ہوگی۔ (فَمَنْ بَدَّلَہٗ بَعْدَ مَا سَمِعَہٗ فَاِنَّمَآ اِثْمُہٗ عَلَی الَّذِیْنَ یُبَدِّلُوْنَہٗ ) میں اس مضمون کو بیان فرمایا ہے۔ علامہ ابوبکر جصاص احکام القرآن میں لکھتے ہیں کہ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص وصیت کرکے مرجائے اور ادائیگی کے لیے مال بھی چھوڑا ہو تو اس کی آخرت کی ذمہ داری ختم ہوگئی اب ذمہ داری وارثوں پر آگئی۔ اگر انہوں نے ادائیگی نہ کی تو وہ گنہگار ہوں گے ان کا ادا نہ کرنا تبدیل وصیت کی ایک صورت ہے۔ نیز علامہ جصاص لکھتے ہیں کہ جس کسی پر زکوٰۃ فرض ہوئی اور اس کی ادائیگی کے بغیر مرگیا تو وہ گنہگار ہوگا اور زکوٰۃ روکنے والوں کے حکم میں داخل ہوگا۔ اگر اس نے ادائیگی زکوٰۃ کی وصیت کردی اور ورثاء نے وصیت نافذ نہ کی تو وہ گنہگار سے بری ہوگیا اور اب وصیت بدلنے والے گنہگار ہوں گے۔ علامہ جصاص نے یہ بھی لکھا ہے کہ اگر وصیت میں ظلم کیا گیا ہو (مثلاً پورے مال کی وصیت کردی یا ورثاء کی اجازت کے بغیر تہائی مال سے زائد کی وصیت کردی تو اس کا بدل دینا واجب ہے۔