Ayah 2:112عنداللہ جنتی کون ہے :
یہود و نصاریٰ کے دعویٰ کی تردید کرنے اور ان سے دلیل طلب کرنے کے بعد حق تعالیٰ شانہٗ نے ارشاد فرمایا :
(بَلٰی مَن اَسْلَمَ وَ جْھَہٗ لِلّٰہِ ) (الایۃ) یعنی دوسرے لوگ کیوں جنت میں داخل نہ ہوں گے ؟
اللہ تعالیٰ کا قانون تو یہ ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار ہو اور اپنی ذات کو اللہ کے احکام کی تعمیل میں جھکادے اور وہ صفت احسان سے متصف بھی ہو تو اس کا اجر اس کے رب کے پاس ضرور ملے گا۔ جو جنت کے داخلے کی صورت میں ہوگا۔ ان لوگوں کے لیے نہ کوئی خوف ہے اور نہ غمگین ہونے کا کوئی موقعہ ہے یہ عمومی قانون ہے جو بھی اس پر عمل کرے گا داخلہ جنگ کا مستحق ہوگا۔ اللہ تعالیٰ سے کسی کی قرابت رشتہ داری نہیں ہے اور نہ کوئی خواہ مخواہ محبوب اور مقرب بن جاتا ہے۔ ایمان پر دخول جنت کا مدار ہے۔
لفظ محسن لفظ احسان سے مشتق ہے جو حسن سے لیا گیا ہے جس کا معنی ہے اچھے طریقے سے کام کرنا اور عمدگی کے ساتھ انجام دینا اس میں احسان عقیدہ اور احسان عمل سب کچھ داخل ہے۔ بعض مفسرین نے محسن کا ترجمہ مخلص سے کیا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ عقیدہ بھی صحیح ہونا لازم ہے اور عمل بھی صحیح ہونا ضروری ہے۔ جس کا عقیدہ رسول اکرم خاتم النبیین ﷺ کے بتائے ہوئے عقیدوں کے خلاف ہو، وہ عقیدہ میں محسن نہیں ہے لہٰذا اس کی نجات نہیں ہے۔ اس نے اپنی ذات کو اللہ کے لیے نہیں جھکایا وہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے رسول کی تکذیب کرتا ہے۔ لہٰذا مستحق نجات نہیں، اور جس شخص کا عمل رسول اللہ ﷺ کے عمل کے موافق نہیں ہے یا نیت میں اخلاص نہیں یعنی اللہ کی رضا مطلوب نہیں اس کا وہ عمل مردود ہے۔ اللہ کی محبت کا دعویٰ ہو اور رسول اللہ ﷺ کا اتباع نہ ہو تو یہ دعویٰ جھوٹا ہے۔ عقیدہ اور عمل دونوں میں اخلاص ضروری ہے منافق عقیدہ میں مخلص نہ تھے اور جو لوگ عقیدہ ٹھیک رکھتے ہیں لیکن عمل اللہ کی رضا کے لیے نہیں کرتے دکھاوے کے لیے اور دنیاوی جاہ و عزت حاصل کرنے کے لیے کرتے ہیں ان کے عمل کا آخرت میں کوئی ثواب نہیں۔ سورة کہف کے آخر میں فرمایا :
(فَمَنْ کَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ رَبِّہٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا یُشْرِکْ بِعِبَادَۃِ رَبِّہٖٓ اَحَدًا) ” سو جو شخص اپنے رب سے ملاقات کی امید رکھتا ہے اسے چاہیے کہ عمل صالح کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو بھی شریک نہ کرے “
کافروں اور مشرکوں میں جو لوگ کوئی عمل کرتے ہیں اگر ان میں اللہ کی رضا مقصود رکھتے ہوں تب بھی وہ معتبر نہیں اور آخرت میں اس کا کوئی ثواب نہیں۔ کیونکہ عقیدہ کے اعتبار سے گمراہ ہیں اور اللہ کے دین پر نہیں ہیں ان کے لیے سورة فرقان میں فرمایا :
(وَقَدِمْنَآ اِِلٰی مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰہُ ھَبَآءً مَّنْثُوْرًا) ” اور ہم ان کے کاموں کی طرف جو وہ کرچکے تھے متوجہ ہوں گے سوا ان کو ایسا کردیں گے جیسے پریشان غبار “
شاید کوئی شخص اپنی جہالت سے یہ سوال کرے کہ آیت میں مسلمان ہونے کی شرط نہیں ہے پھر یہ شرط کہاں سے آگئی اس کا جواب یہ ہے کہ (اَسْلَمَ وَجْھَہٗ اور وَھُوَ مُحْسِنٌ) سے ہی یہ قید ثابت ہوتی ہے اور دوسری آیات بھی پیش نظر رکھنا لازم ہے۔ سورة آل عمران کی آیت (وَ مَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ ) کو پیش نظر رکھیں۔
Ayah 2:113یہود و نصاریٰ کا آپس میں نزاع اور ان کی باتوں کی تردید
تفسیر (درمنثور ص 108 ج 1) میں حضرت ابن عباس سے روایت نقل ہے کہ جب نجران کے نصاریٰ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو یہودیوں کے علماء بھی وہاں پہنچے دونوں فریقوں نے وہیں خدمت عالی میں حاضر ہوتے ہوئے آپس میں مباحثہ شروع کردیا۔ یہودیوں میں ایک شخص رافع بن حریملۃ تھا۔ اس نے نصاریٰ سے کہا کہ کسی چیز سے تمہارا کوئی تعلق نہیں اور نہ کبھی تھا۔ اس طرح انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کا بھی انکار کیا۔۔ اور انجیل کے کتاب اللہ ہونے کے بھی منکر ہوئے نصاریٰ کو جو مقابلہ میں جواب دینے کا جوش آیا تو ان میں سے ایک شخص نے یہودیوں سے کہا کہ تم کسی چیز پر نہیں ہو یعنی تمہارے دین کی کوئی اصلیت اور بنیاد نہیں۔ اللہ کے کسی نبی یا اللہ کی کسی کتاب سے تمہارا کوئی تعلق نہیں اور نہ کبھی تھا۔ اس طرح سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کا انکار کر بیٹھے اور تو رات شریف کے کتاب اللہ ہونے کے منکر ہوگئے۔ اللہ جل شانہ نے آیت بالا نازل فرمائی۔ اور دونوں جماعتوں کے دعویٰ ذکر کر کے فرمایا :
(وَ ھُمْ یَتْلُوْنَ الْکِتَابَ ) ” یعنی ہر فریق اللہ کی کتاب پڑھتا ہے “
حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) کا علم ہوتے ہوئے ان کی رسالت کے منکر ہو رہے ہیں۔ ہر فریق کو دوسرے فریق کے بارے میں معلوم ہے کہ باوجود تحریف کرلینے کے پھر بھی اللہ کی کتاب اور اللہ کے رسول سے ہر ایک کو انتساب ہے۔ گو یہ انتساب ان کے کفر کی وجہ سے ان کی نجات دلانے والا نہیں لیکن فی الجملہ اس کا انکار بھی صحیح نہیں کہ ان کے دین کی ابتداء اللہ کے کسی نبی یا کسی کتاب سے ہے، قال ابن کثیر ولھذا قال تعالیٰ وھم یتلون الکتاب ای وھم یعلمون شریعۃ التوراۃ والانجیل کل منھما کانت مشروعۃ فی وقت ولکنھم تجاحدوا فیما بینھم عنادا و کفرا و مقابلۃ للفاسد بالفاسد۔ (155 ج 1)
پھر فرمایا : (کَذٰلِکَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ مِثْلَ قَوْلِھِمْ ) ” یعنی ایسی ہی بات ان لوگوں نے کہی جو نہیں جانتے “
یعنی یہود و نصاریٰ کے علاوہ جو ان سے پہلے امتیں گزری ہیں وہ بھی ایسی ہی جہالت کی باتیں کرتی رہی ہیں کہ عناد اور تعصب کی وجہ سے حق کو جھٹلایا اور حقیقت واضحہ کو نہ مانا۔ اور اب مشرکین عرب کا یہی حال ہے کہ حضرت رسول اکرم ﷺ کی نبوت اور رسالت کے منکر ہوئے حالانکہ آیات بینات اور دلائل واضح ان کے سامنے ہیں دلوں سے جانتے ہیں کہ آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں لیکن مانتے نہیں۔ واختلف فیمن عنی فی قولہٖ تعالیٰ : الذین لا یعلمون، فقال عطاءٌ امم کانت قبل الیھود و النصاریٰ و قال السدی ھم العرب، قالوا لیس محمد شیء واختار ابن جریر أن الحمل الجمیع اولی۔ (من ابن کثیر ص 155 ج 1)
پھر فرمایا (فَاللّٰہُ یَحْکُمُ بَیْنَھُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فِیْمَا کَانُوْا فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ ) ” کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان سب کو جمع فرمائیں گے اور عدل کے ساتھ ان کے ساتھ ان کے درمیان فیصلے فرمائیں گے۔ اور اس فیصلہ سے سب پر حق ظاہر ہوجائے گا۔ اور باطل کا پتہ چل جائے گا۔ “
سورۃ سبا میں فرمایا : (قُلْ یَجْمَعُ بَیْنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ یَفْتَحُ بَیْنَنَا بالْحَقِّ وَ ھُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِیْمُ ) ” کہہ دیجیے کہ ہمارا رب ہم سب کو جمع فرمائے گا پھر ہمارے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ فرمائے گا اور وہ بڑا فیصلہ کرنے والا جاننے والا ہے۔ “
بیان القرآن میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان سب کے درمیان عملی فیصلہ فرما دیں گے۔ اور وہ عملی فیصلہ یہ ہوگا کہ اہل حق کو جنت میں اور اہل باطل کو جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ عملی فیصلہ کی قید اس لیے لگائی کہ قول اور برھانی فیصلہ تو عقلی اور نقلی دلائل کے ذریعہ دنیا میں بھی ہوچکا ہے۔
Ayah 2:114اللہ کی مسجدوں میں ذکر سے روکنا بہت بڑا ظلم ہے
اس آیت شریفہ میں ان لوگوں کو سب سے بڑا ظالم بتایا ہے جو اللہ کی مسجدوں سے روکیں، ان میں اللہ کا نام لینے اور اللہ کی عبادت کرنے سے منع کریں اور ان کی ویرانی کی کوشش کریں اس کام کے کرنیوالے کون ہیں۔ جن کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ؟ (معالم التنزیل ص 107 ج 1) میں حضرت عطا اور عبدالرحمن بن زید سے نقل کیا ہے کہ یہ آیت مشرکین مکہ کے بارے میں نازل ہوئی، ہجرت کے چھٹے سال رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ ؓ کے ساتھ عمرہ کرنے کے لیے تشریف لے گئے تو مکہ والوں نے آپ کو مقام حدیبیہ میں روک دیا اور عمرہ کے لیے مسجد حرام تک نہ پہنچنے دیا، مساجد کی آبادی یہ ہے کہ ان میں وہ کام کرتے رہیں جن کاموں کے لیے وہ بنائی گئی ہیں۔ نماز، تلاوت، ذکر، اعتکاف وغیرہ اور مسجد حرام کے آباد کرنے میں یہ بات بھی شامل ہے کہ اس میں طواف کیا جائے، جو شخص ان کاموں سے روکے گا وہ ان کی ویرانی کی کوشش کرنے والا ہے۔ مشرکیں مکہ اس وقت مسجد حرام کے متولی تھے لیکن کعبہ شریف میں انہوں نے بت رکھے ہوئے تھے ظاہری تعمیر کی دیکھ بھال ہی کو انہوں نے اس کی آبادی سمجھ لیا اور اس کی حقیقی تعمیر سے غافل تھے۔ توحید کے بجائے شرک کے کام کرتے تھے وہاں نمازیوں کو نماز نہیں پڑھنے دیتے تھے۔ ان کے ظلم اور زیادتی کی وجہ سے آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے پھر جب عمرہ کے لیے تشریف لے گئے تو عمرہ نہ کرنے دیا۔ مشرکین کو سمجھایا بجھایا گیا کہ عمرہ کر کے واپس ہوجائیں گے لیکن وہ ایک نہ مانے اور ضد پر اڑے رہے۔ بالآخر آپ صحابہ کے ساتھ واپس تشریف لے آئے اور آئندہ سال عمرہ کی قضا فرمائی یہ جو فرمایا :
(اُولٰٓءِکَ مَا کَانَ لَھُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْھَآ اِلَّا خَآءِفِیْنَ ) ” اس میں اس بات کی خوشخبری دی کہ مکہ معظمہ فتح ہوگا۔ جب غلبہ اہل اسلام کا ہوجائے گا تو یہ مشرکین اس میں ڈرتے ہوئے داخل ہوں گے چناچہ اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان کرایا کہ خبردار اس سال کے بعد کوئی مشرک ہرگز حج نہ کرے۔ “ (من معالم التنزیل ص 107 ج 1)
بعض مفسروں نے فرمایا ہے کہ آیت شریفہ میں یہود و نصاریٰ کا ذکر ہے کہ انہوں نے مختلف اوقات میں بیت المقدس کی بےحرمتی کی حضرت مجاہد نے فرمایا کہ اس سے نصاریٰ مراد ہیں جو بیت المقدس میں تکلیف دینے والی چیزیں پھینک دیتے تھے اور لوگوں کو نماز پڑھنے سے روکتے تھے۔ اور قتادہ کا قول ہے کہ اس سے رومی لوگ مراد ہیں۔ انہوں نے یہودیوں کے بغض میں بیت المقدس کی بربادی میں بخت نصر مجوسی کی مدد کی اور کعب احبار سے منقول ہے کہ نصاریٰ بیت المقدس پر غالب ہوئے تو انہوں نے اس کو جلادیا جب حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے آیت بالا نازل فرمائی۔ لہٰذا جو بھی کوئی نصرانی اب بیت المقدس میں داخل ہوتا ہے تو خوف کے ساتھ داخل ہوتا ہے۔ (درمنثور ص 108 ج 1)
سبب نزول جو بھی ہو اور نزول آیت کے وقت مساجد اللہ سے روکنے کا مصداق جو بھی کوئی جماعت ہو قرآن مجید کے عمومی بیان سے واضح ہوا کہ مسجدوں میں اللہ کا نام لینے سے روکنا ظلم کی چیز ہے اور یہ بڑے ظلم میں شمار ہے۔ فی روح المعانی و ظاھر الایۃ العموم فی کل مانع و فی کل مسجد و خصوص السبب لا یمنعہ (ص 363 ج 1) ۔۔ نیز وَسَعٰی فِیْ خَرَابِھَا کے عموم میں مسجدوں کو گرا دینا اور معطل کردینا بھی شامل ہے۔ قال صاحب روح المعانی وسعٰی فی خرابھا أی ھدمھا و تعطیلھا۔ اگر کوئی ایسی جماعت یا اس کا کوئی فرد مسجد میں آنا چاہے جو دائرہ اسلام سے خارج ہوں مثلاً کسی نئے مدعی نبوت پر ایمان لانے والے لوگ جس نے ختم نبوت کے بعد نبوت کا دعویٰ کیا ہے تو ان لوگوں کو اپنی مسجد سے روک سکتے ہیں یہ منع کرنا ذکر اللہ سے منع کرنا نہیں بلکہ مسلمانوں کو کفر سے محفوظ رکھنے کے لیے ہوگا۔ اسی طرح کی ایک جماعت کو جب مسلمانوں نے مسجد سے روکا تو انہوں نے مذکورہ بالا آیت پڑھ دی جس پر ایک عالم نے سورة انعام کی یہ آیت پڑھ کر سنائی :
(وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوْ قَالَ اُوْحِیَ اِلَیَّ وَ لَمْ یُوْحَ اِلَیْہِ شَیْءٌ وَّ مَنْ قَالَ سَاُنْزِلُ مِثْلَ اَنْزَلَ اللّٰہُ ) ” اور اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہوگا جو اللہ پر جھوٹی تہمت لگائے یا یوں کہے کہ مجھ پر وحی آتی ہے حالانکہ اس پر کسی بات کی بھی وحی نہیں آئی، اور جو شخص یوں کہے کہ جیسا کلام اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے میں عنقریب ایسا نازل کروں گا۔ “
بعض مفسرین نے فرمایا کہ (اُولٰٓءِکَ مَا کَانَ لَھُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْھَآ اِلَّا خَآءِفِیْنَ ) کا مطلب یہ لکھا ہے ان لوگوں کو تو کبھی بےہیبت اور بےباک ہو کر ان مساجد میں قدم بھی نہ رکھنا چاہیے تھا بلکہ جب جاتے تو نہایت عظمت و حرمت و ادب سے جاتے جب بےباک ہو کر اندر جانے تک کا استحقاق نہیں تو اس کی ہتک حرمت کا کب حق حاصل ہے اسی کو ظلم فرمایا گیا اھ۔ خلاصہ یہ نکلا کہ اس میں مساجد کا ادب بتایا گیا ہے یہ بات سیاق کلام سے دل کو زیادہ لگتی ہے واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
پھر فرمایا : (لَھُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ لَھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ)
کہ دنیا میں ان لوگوں کے لیے رسوائی ہے، اور آخرت میں وہ سب قومیں رسوا ہوں گی جنہوں نے مسجد حرام یا بیت المقدس میں اللہ کے ذکر و عبادت سے روکا اور ان کی ویرانی کی کوشش کی دنیا میں یہ قومیں مغلوب بھی ہوئیں مسلمانوں کی محکوم بھی بنیں اور یہود و نصاریٰ جزیہ دینے پر مجبور ہوئے اور آخرت میں سب کافروں کو جو بڑا عذاب ہوگا۔ بار بار قرآن مجید میں اس کا ذکر ہوچکا ہے اور اس عذاب کی تفصیلات آیات اور احادیث میں مذکور ہیں۔
Ayah 2:115جدھر رخ کرو ادھر اللہ کا رخ ہے
لباب النقول میں تین واقعات لکھے ہیں جن میں اس آیت کے سبب نزول کا ذکر ہے۔ تینوں واقعات میں یہ تذکرہ ہے کہ حضرات صحابہ سفر میں تھے اندھیری رات میں ( اور بعض روایات میں ہے کہ بادل کی وجہ سے) قبلہ کے بارے میں اشتباہ ہوگیا۔ ہر ایک نے اپنے غور و فکر کے مطابق جدھر قبلہ سمجھ میں آیا ادھر نماز پڑھی صبح ہوئی تو غلطی معلوم ہوئی آنحضرت ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے خاموشی اختیار فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے آیت بالا نازل فرمائی، (ان میں سے ایک واقعہ سنن ترمذی (ابواب التفسیر) میں بھی مذکور ہے۔
جہت قبلہ کا قانون :
آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مشرق کا بھی مالک ہے اور مغرب کا بھی مالک ہے (بلکہ تمام جہات کا مالک ہے اس عموم میں جنوب اور شمال بھی آگئے) کما قال تعالیٰ (فَلَآ اُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشٰرِقِ وَالْمَغٰرِبِ اِِنَّا لَقٰدِرُوْنَ ) لہٰذا اسے پورا اختیار ہے کہ جس جہت کو چاہے قبلہ قرار دیدے اور چونکہ معبود وہی ہے اور سب جہات اسی کی مملوک اور مخلوق ہیں اس لیے وہ اپنی عبادت کے لیے جس رخ کا بھی حکم دے اور جس رخ پر بھی عبادت کرنے سے راضی ہوجائے عبادت گزاروں کے لیے وہی جہت قبلہ ہے۔ کسی کو اس میں اعتراض کا کیا حق ہے وہ کعبہ شریف کو قبلہ مقرر فرما دے تو اسے پورا اختیار ہے اور بیت المقدس کو قبلہ بنا دے تو اسے پورا اختیار ہے ان دونوں کے علاوہ اور کسی رخ پر نماز پڑھنے کی اجازت دے دے تو بھی اسے اختیار ہے۔
اللہ تعالیٰ تو اس سے بلند اور بالا ہے کہ اس کا جسم ہو یا وہ کسی جہت میں ہو جدھر بھی رخ کیا جائے اُدھر اللہ کا رخ ہے۔ 1 یعنی حکم خداوندی اور اذن خداوندی کے مطابق جدھر کو بھی نماز پڑھ لیں گے ادھر ہی وہ جہت ہوگی جس کی طرف تمہیں رخ کرنے کا حکم دیا گیا۔ اور اسی طرف نماز پڑھنے میں اس کی رضا ہے۔ (قال فی الروح ای فھناک جھتہ سبحانہ التی امرتم بھا ص 365 ج 1 و فی معالم التنزیل عن مجاھد فی ھذہ الآیۃ فثم وجہ اللہ فثم قبلۃ اللّٰہ والوجہ والوجھۃ والجھۃ القبلۃ وقیل رضا اللّٰہ تعالیٰ ص 108 ج 1)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے فرمایا کہ یہ آیت سفر میں نفل نماز پڑھنے کے بارے میں نازل ہوئی رسول اللہ ﷺ مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ تشریف لا رہے تھے اور اپنی سواری پر نفل نماز پڑھ رہے تھے سواری جدھر بھی متوجہ ہوتی آپ برابر نماز میں مشغول رہے۔ (رواہ الترمذی فی تفسیر سورة البقرۃ)
انس بن سیرین کا بیان ہے کہ ہم نے حضرت انس بن مالک ؓ کا استقبال کیا جبکہ وہ شام سے آ رہے تھے ہم نے دیکھا کہ مقام عین التمر میں اپنی سواری پر نماز پڑھ رہے ہیں اور رخ قبلہ سے ہٹا ہوا ہے جو بائیں جانب کو ہے۔ میں نے کہا میں دیکھ رہا ہوں آپ قبلہ کے رخ کے علاوہ دوسری طرف کو نماز پڑھ رہے ہیں انہوں نے فرمایا کہ اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسا کرتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں ایسا نہ کرتا یہ روایات صحیح مسلم میں مذکور ہیں۔ (ص 244؍ 245 ج 1)
آیت کے آخیر میں فرمایا (اِنَّ اللّٰہَ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ) یعنی وہ بندوں پر ان کے دین میں وسعت عطا فرماتا ہے اور ایسی کسی بات کا حکم نہیں دیتا جو ان کی طاقت سے باہر ہو۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ واسِعٌ سے یہ مراد ہے کہ اس کا علم ہر چیز کو محیط ہے ایسی کوئی چیز نہیں جو اس کے علم سے باہر ہو۔ جیسا کہ سورة طہ میں فرمایا (وَسِع کُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا) اور فراء کا قول یہ ہے کہ واسع بمعنی جواد اور سخی ہے جس کی عطا ہر ایک کو شامل ہے۔ بعض مفسرین نے اس کا معنی واسع المغفرہ بتایا ہے یعنی کوئی بھی گناہ ایسا نہیں جس کا بخشنا اس کے نزدیک مشکل ہو۔ (من القرطبی ص 84 ج 2)
1 قال القرطبی فی تفسیرہ اختلف الناس فی تاویل الوجہ المضاف الی اللّٰہ تعالیٰ فی القرآن والسنۃ فقال الحذاق ذلک راجع الی الوجود و العبارۃ عنہ بالوجہ من مجاز الکلام اذکان الوجہ أظھر الاعضاء فی الشاھد و أجلّھا قدرا، قال ابن عباس الوجہ عبارۃ عنہ عزوجل کما قال و یبقی وجہ ربک ذوالجلال والاکرام، وقال بعض الائمۃ تلک صفۃ ثابتۃ بالسمع زائدہ علی ماتوجبہ العقول من صفات القدیم تعالیٰ قال ابن عطیۃ و ضعف أبو المعالی ھذا القول وھو کذلک ضعیف وانما المراد وجودہ و قیل المراد بالوجہ ھنا الجھۃ التی وجھنا الیھا أی القبلۃ و قیل الوجہ المقصد و قیل المعنی و ثم رضا اللّٰہ و ثوابہ کما قال تعالیٰ انما نطعمکم لوجہ اللّٰہ أی لرضاۂ و طلب ثوابہ و منہ قولہ۔ من بنی مسجدًا یبتغی بہ و جد اللّٰہ بنی اللّٰہ لہ مثلہ فی الجنۃ۔ (ص 83 ج 2)
روح المعانی (ص 365 ج 1) میں ہے۔ انَّ اللّٰہَ وَاسعٌ ای محیط بالاشیاء ملکا اور حمۃ فلھذا وسع علیکم القبلۃ ولم یضیق علیکم۔ علیمٌ بمصالح البعادو اعمالھم فی الاماکن۔
(یعنی اللہ تعالیٰ مالکیت کے اعتبار سے یا رحمت کے اعتبار سے ہر چیز کو محیط ہے اسی لیے اس نے قبلہ کے بارے میں تم پر آسانی فرما دی اور تنگی نہیں فرمائی اور وہ بندوں کی مصلحتوں کو خوب جانتا ہے اور جس جگہ بھی کوئی بھی کوئی عمل کریں وہ اس سے باخبر ہے۔ اھ، لہٰذا وہ سب کو ثواب عطا فرمائے گا۔ وہ قلوب کے احوال بھی جانتا ہے اگر کسی نے اندھیرے میں اپنے غور و فکر کے مطابق قبلہ کی معینہ جہت کے خلاف نماز پڑھی لیکن پڑھی اللہ ہی کے لیے اس کا مقصد اطاعت ہی ہے بغاوت نہیں تو ثواب کا مستحق ہوگا اور اسے اللہ کی خوشنودی حاصل ہوگی۔
قبلہ کے مسائل :
مسئلہ : استقبال قبلہ نماز کی شرائط میں سے ہے غیر قبلہ کو نماز پڑھے تو نماز نہ ہوگی ہاں اگر کوئی شخص خائف ہے قوی دشمن اسے معینہ قبلہ کی طرف نماز نہ پڑھنے دیتا ہو تو جس طرف منہ کر کے پڑھ سکتا ہو اسی طرف پڑھ لے اس وقت یہی اس کا قبلہ ہے۔
مسئلہ : اگر کوئی ایک فرد یا جماعت کسی جگہ موجود ہوں اور قبلہ میں اشتباہ ہوجائے اور وہاں پر کوئی بتانے والا بھی نہ ہو تو ہر شخص اپنے اپنے طور پر خوب غور و فکر کرے۔ جس طرف دل ٹھکے ہر شخص اس طرف کو نماز پڑھ لے۔ اگر غورو فکر کے بعد کسی طرف کو نما زپڑھنی شروع کی اور نماز کے اندر ہی پتہ چل گیا کہ قبلہ دوسری طرف کو ہے۔ تو اسی طرف گھوم جائے۔ پھر سے نماز پڑھنا ضروری نہیں۔
مسئلہ : اگر نماز پڑھنے کے بعد معلوم ہو کہ غلط رخ پر نماز پڑھی گئی تو نماز لوٹانے کی ضرورت نہیں۔
مسئلہ : اندھیری رات میں کسی جگہ چند مسلمان موجود ہیں قبلہ کا علم نہیں ہے۔ ان میں سے ایک شخص امام بن گیا اور امام اور مقتدی سب نے اپنے اپنے غور و فکر سے ایک ایک جہت کو نماز پڑھ لی اور ہر ایک کی جہت مختلف تھی اور مقتدیوں کو یہ علم نہیں کہ امام کا رخ کدھر ہے تو یہ نماز باجماعت صحیح ہوجائے گی۔ ہاں اگر کسی کو یہ پتہ ہے کہ امام کا رخ فلاں جانب ہے اور وہ رخ اس مقتدی کے نزدیک صحیح نہیں ہے تو اس مقتدی کی نماز نہ ہوگی کیونکہ وہ اپنے امام کو غلطی پر سمجھے ہوئے ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص امام سے آگے بڑھ گیا یعنی امام کے آگے کھڑا ہوگیا ( اس طرح سے کہ امام کا چہرہ اس کی پشت کی طرف ہو، تو بھی اقتدا صحیح نہ ہوگی۔ ( من الھدایہ باب شروط الصلاۃ)
مسئلہ : جو شخص آبادی سے باہر ہو اور جانور پر سوار ہو وہ چاہے کہ میں نفل نماز پڑھوں تو وہ بیٹھے بیٹھے اپنی سواری پر نفل نماز پڑھ سکتا ہے۔ اگرچہ سواری کا رخ قبلہ کی جانب نہ ہو جیسا کہ حضور اقدس ﷺ کا اور بعض صحابہ کا عمل بحوالہ صحیح مسلم گزر چکا۔
مسئلہ : فرض نماز غیر قبلہ کی طرف رخ کر کے پڑھی جائے تو صحیح نہ ہوگی الایہ کہ قبلہ معلوم نہ اور کوئی بتانے والا نہ ہو تو اس صورت میں تحری یعنی غور و فکر کر کے نماز پڑھ لے جیسا کہ اوپر مذکور ہوا۔
مسئلہ : ریل میں اور پانی کے جہاز میں نماز آسانی سے قبلہ رخ ہو کر پڑھی جاسکتی ہے۔ بہت سے لوگوں کو دیکھا گیا کہ فرض نماز بھی سفر میں بلا قبلہ پڑھنے کو جائز سمجھتے ہیں۔ اور قبلہ کی طرف رخ کرنے کی قدرت ہوتے ہوئے غیر قبلہ کو نماز پڑھتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ صاحب سفر میں سب معاف ہے۔ یہ ان کی غلطی ہے اور ان کا عمل فقہاء کی تصریحات کے خلاف ہے۔ ان کی نماز نہیں ہوتی۔
حکمت تعیین قبلہ
کسی خاص جانب کو قبلہ قرار دینا بہت سی حکمتوں اور مصلحتوں پر مبنی ہے۔ اگر کسی خاص رخ پر نماز پڑھنے کا حکم نہ دیا جاتا اور ہر شخص کو اختیار ہوتا کہ جدھر کو چاہے رخ کر کے نماز پڑھ لے تو اس میں تشتت اور انتشار کا مظاہرہ ہوتا اور ایک ہی جانب قبلہ معین ہوجانے سے تنظیم اور اتحاد کا جو عملی سبق مل رہا ہے وہ بھی نہ رہتا لہٰذا سارے عالم کا قبلہ ایک ہی چیز کو قرار دیا گیا۔ ہجرت کے بعد ایک سال سے کچھ اوپر بیت المقدس کی طرف نماز پڑھی گئی پھر کعبہ شریف کو قبلہ قرار دیا گیا جیسا کہ دوسرے پارے کے شروع میں قصہ بیان ہوگا انشاء اللہ تعالیٰ ۔ اس تفصیل سے واضح ہوگیا کہ عبادت صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ہوتی ہے۔ بیت اللہ یا بیت المقدس، جس کی طرف بھی حکم خداوندی کے مطابق نماز پڑھی گئی وہ اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت ہے۔ کسی جہت یا کسی گھر کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے سے اس جہت یا اس گھر کی عبادت نہیں ہوتی۔ اس سے بت پرستوں کا یہ اعتراض ساقط ہوجاتا ہے کہ ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں تو تم بھی تو کعبہ کو نماز پڑھتے ہو۔ کیونکہ مسلمان رخ کعبہ کا کرتے ہیں اور عبادت اللہ کی کرتے ہیں اور مشرکین بتوں کی عبادت کرتے ہیں۔ ان کے ذہنوں میں کہیں سے کہیں تک بھی یہ بات نہیں کہ ہم عبادت اللہ کی کر رہے ہیں اور بتوں کو بطور قبلہ سامنے رکھ رکھا ہے۔ اگر مسلمانوں کو دیکھا دیکھی ایسا کہنے بھی لگیں تو یہ ان کی جھوٹی بات ہوگی۔
فائدہ : بیت المقدس کو قبلہ قرار دینے کے بعد کعبہ شریف کو قبلہ قرار دینے سے جہاں یہ بات معلوم ہوئی کہ مقصود صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے۔ بیت المقدس یا کعبہ شریف کو نماز پڑھنا قبلہ کے طور پر ہے ( یعنی حکمت اور مصلحت کی وجہ سے ان میں سے اللہ تعالیٰ نے جس کو جب چاہا قبلہ قرار دے دیا) وہاں یہ بھی معلوم ہوا کہ چاروں جہات میں سے کوئی جہت قبلہ کیلئے معین اور مخصوص نہیں ہے۔ جب کعبہ شریف کو قبلہ قرار دے دیا گیا تو قبلہ کی کوئی جہت معین نہ رہی سارے عالم کے مسلمانوں کو کعبہ شریف کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کا حکم دے دیا گیا اور سب اس پر عمل کرتے ہیں تو چاروں جہات کی طرف نمازوں کا رخ ہوجاتا ہے اس سے فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ کا مفہوم پوری طرح واضح ہوجاتا ہے۔
Ayahs 2:116–117اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کرنے والوں کی گمراہی
اس آیت شریفہ میں مشرکین کا یہ قول نقل فرمایا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کرتے ہیں پھر فوراً ہی سُبْحَانَہٗ فرما کر ان کی تردید کی اور خالق ومالک جل و علیٰ کی تنزیہہ بیان فرمائی، اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کرنے کا شرکیہ عقیدہ یہود میں بھی رہا ہے کیونکہ وہ حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا بتاتے تھے۔ اور نصرانیوں کے بارے میں تو سبھی جانتے ہیں کہ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا بتاتے ہیں۔ سورة توبہ میں ہے :
(وَ قَالَتِ الْیَھُوْدُ عُزَیْرُنِ ابْنُ اللّٰہِ وَ قَالَتِ النَّصٰرَی الْمَسِیْحُ ابْنُ اللّٰہِ ) اور مشرکین عرب کا عقیدہ تھا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ سورة بنی اسرائیل میں فرمایا (اَفَاَصْفٰکُمْ رَبُّکُمْ بالْبَنِیْنَ وَ اتَّخَذَ مِنَ الْمَلآءِکَۃِ اِنَاثًا اِنَّکُمْ لَتَقُوْلُوْنَ قَوْلًا عَظِیْمًا) (کیا تمہارے رب نے تم کو تو بیٹوں کے ساتھ خاص کیا اور خود فرشتوں کو بیٹیاں بنا لیا، بیشک تم بڑی بےجا بات کہتے ہو) ۔ اور سورة زخرف میں فرمایا (وَجَعَلُوا الْمَلآءِکَۃَ الَّذِیْنَ ھُمْ عِبَاد الرَّحْمٰنِ اِِنَاثًا اَشَہِدُوْا خَلْقَہُمْ سَتُکْتَبُ شَہَادَتُہُمْ وَیُسْءَلُوْنَ ) (اور انہوں نے فرشتوں کو جو کہ خدا کے بندے ہیں۔ عورت قرار دے رکھا ہے، کیا ان کی پیدائش کے وقت موجود تھے ان کا یہ دعویٰ لکھ لیا جائے گا اور ان سے باز پرس ہوگی) ۔ قرآن مجید میں جگہ جگہ اس عقیدہ کی تردید فرمائی اور سورة اخلاص میں واضح طور پر فرمایا ہے۔ (وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ) کہ اس نے نہ کسی کو جنا نہ وہ کسی سے جنا گیا اور کوئی بھی اس کے برابر نہیں۔ سورة انعام میں فرمایا :
(وَ جَعَلُوْا لِلّٰہِ شُرَکَآءَ الْجِنَّ وَ خَلَقَھُمْ وَ خَرَقُوْا لَہٗ بَنِیْنَ وَ بَنٰتٍ بِغَیْرِ عِلْمٍ سُبْحٰنَہٗ وَ تَعٰلٰی عَمَّا یَصِفُوْنَ بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اَنّٰی یَکُوْنُ لَہٗ وَلَدٌ وَّ لَمْ تَکُنْ لَّہٗ صَاحِبَۃٌ وَ خَلَقَ کُلَّ شَیْءٍ وَ ھُوَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ)
” اور لوگوں نے جنات کو اللہ کا شریک قرار دے رکھا ہے حالانکہ ان کو خدا نے پیدا کیا اور ان لوگوں نے اللہ کے لیے بیٹے اور بیٹیاں محض بلا سند تراش رکھی ہیں وہ پاک اور برتر ہے ان باتوں سے جن کو یہ لوگ بیان کرتے ہیں وہ آسمان اور زمین کا موجد ہے۔ اللہ کے اولاد کہاں ہوسکتی ہے حالانکہ اس کے کوئی ساتھ والی نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو پیدا کیا اور وہ ہر چیز جانتا ہے۔ “
سورۃ مریم میں فرمایا : (وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا لَقَدْ جِءْتُمْ شَیْءًا اِدًّا تَکَاد السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْہُ وَ تَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَ تَخِرُّ الْجِبَالُ ھَدًّا اَنْ دَعَوْا للرَّحْمٰنِ وَلَدًا وَ مَا یَنْبَغِیْ للرَّحْمٰنِ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًا اِنْ کُلُّ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اِلَّآ اٰتِی الرَّحْمٰنِ عَبْدًا) ” اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اولاد اختیار کی ہے۔ تم بہت زیادہ بری بات لے کر آئے۔ کچھ بعید نہیں کہ آسمان پھٹ پڑیں اور زمین کے ٹکڑے اڑ جائیں اور پہاڑ ٹوٹ کر گرپڑیں اس بات سے کہ یہ لوگ خدا تعالیٰ کی طرف اولاد کی نسبت کرتے ہیں حالانکہ خدا تعالیٰ کے شایان شان نہیں کہ وہ اولاد اختیار کرے جتنے بھی کچھ آسمانوں اور زمین میں ہیں سب خدا تعالیٰ کے رو برو بندے بنے ہوئے حاضر ہوتے ہیں۔ “
حضرت ابو ہریرۃ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انسان نے مجھے جھٹلایا حالانکہ اس کے لیے ایسا کرنا درست نہ تھا اور اس نے مجھے گالی دی حالانکہ اس کے لیے ایسا کرنا درست نہ تھا اس کا جھٹلانا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے کہ میں (موت دے کر) دوبارہ اسے زندہ نہ کروں گا جیسا کہ میں نے اسے شروع میں پیدا کیا اور اس کا گالی دینا یہ ہے کہ وہ یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ صاحب اولاد ہوگیا حالانکہ میں بےنیاز ہوں نہ میں نے کسی کو جنا اور نہ میں جنا گیا اور نہ کوئی میرے برابر ہے۔ ( صحیح بخاری ص 744 ج 2)
ان آیات سے اور حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کرنا اللہ تعالیٰ کو بہت ہی زیادہ ناگوار ہے اور یہ بہت بڑا کفر ہے اور بہت بڑا شرک ہے۔ یہ ایسی چیز ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا حلم نہ ہو اور اس کا مخلوق کے ساتھ مہربانی کا برتاؤ نہ ہو تو اس شرک کی وجہ سے آسمان و زمین کے ٹکڑے ہوجائیں اور پہاڑ گرپڑیں۔
اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی حلیم نہیں :
حضرت ابو موسیٰ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تکلیف دینے والی باتیں سن کر صبر کرنے میں اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی نہیں ہے لوگ اللہ کے لیے اولاد تجویز کرتے ہیں وہ پھر بھی ان کو عافیت دیتا ہے اور رزق عطا فرماتا ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 13 از بخاری و مسلم)
تکلیف تو جسم اور جان کو ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ مخلوق کی مشابہت سے پاک ہے۔ لیکن لوگوں کی باتیں ایسی ہیں جو تکلیف دینے والی ہیں۔ اور ان سے اللہ تعالیٰ کو سخت ناگواری اور بیزاری ہے۔ پھر بھی وہ زندہ رکھتا ہے رزق اور عافیت دیتا ہے اور عذاب دینے میں جلدی نہیں فرماتا۔ اصحاب دنیا میں کسی ذرا سے صاحب اقتدار کو بھی کوئی ناگواری کی بات کہہ دی جائے تو وہ بہت جلد سزا دینے کو تیار ہوجاتا ہے۔ پھر فرمایا (بَلْ لَّہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ کُلُّ لَّہٗ قٰنِتُوْنَ ) کہ جو بھی کچھ آسمانوں میں اور زمین میں موجود ہے یہ سب اللہ کی مخلوق ہے اور مملوک ہے اور سب اس کے بندے ہیں اور سب اس کے فرمانبردار ہیں۔ خالق اور مخلوق کے درمیان اور مالک اور مملوک کے درمیان اور عابد و معبود کے درمیان کوئی نسبی رشتہ نہیں ہوسکتا۔ رشتہ کے لیے ہم جنس ہونا ضروری ہے۔ لہٰذا خالق تعالیٰ شانہٗ کی کوئی اولاد ہونا ہی محال ہے اس کے لیے اولاد تجویز کرنا اس کے لیے عیب تجویز کرنا ہے اور اس کی ذات کو محتاج بتانا ہے اور اس کے لیے برابر کا تجویز کرنا ہے اور وہ ان سب باتوں سے پاک ہے۔ بلند وبالا ہے اسی لیے حدیث شریف میں فرمایا کہ اللہ کے لیے اولاد تجویز کرنا اس کو گالی دینا ہے یعنی اس کی ذات کو ایسی چیز سے متصف کرنا ہے جو اس کے لیے نقص اور عیب کی چیز ہے۔ پھر فرمایا : (بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ) ۔ (الآیۃ) یعنی اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو بلا مثال پیدا فرمایا اور نظام محکم کا ان کو پابند بنایا سب اس کے حکم تکوینی کے پابند ہیں وہ جیسے چاہتا ہے تصرف فرماتا ہے۔ وہ (فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ ) ہے۔ وہ صفت انفعال سے متصف نہیں ہے اور جب کسی کے اولاد ہوتی ہے تو اس میں سے اولاد منفصل یعنی جدا ہوتی ہے اور یہ سراپا صفت انفعال ہے جس سے اللہ جل شانہٗ منزہ اور پاک ہے اور برتر ہے۔ ( من روح المعانی ص 268 ج 1)
پھر فرمایا (وَ اِذَا قَضآی اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ ) (اور جب وہ کسی امر کا فیصلہ فرماتا ہے تو فرما دیتا ہے کہ ہوجا، پس اس کا وجود ہوجاتا ہے۔ ) اس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ملہ کا بیان ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ کسی بھی چیز کے پیدا فرمانے کے لیے اسباب اور آلات کا محتاج نہیں ہے۔ کسی چیز کے وجود میں آنے کے لیے اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہی کافی ہے جس طرح اسے اسباب اور آلات کی ضرورت نہیں۔ اسی طرح معین اور مددگار کی بھی ضرورت نہیں۔ اولاد کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کاموں میں کچھ مدد کرے یا باپ کی موت کے بعد اس کا قائم مقام ہو۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ ازلی اور ابدی ہے۔ اسے کسی اولاد کی ضرورت نہیں۔ جو اس کی جگہ قائم مقام ہو اور اس کی قدرت بھی کامل ہے۔ محض اس کے ارادہ سے سب کچھ ہوجاتا ہے۔
یہ جو فرمایا کہ کسی چیز کے پیدا فرمانے کے لیے اللہ جل شانہٗ کن فرما دیتا ہے۔ اس کے بارے میں بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ یہ کلام حقیقت پر محمول ہے اور واقعتہً اللہ تعالیٰ کلمہ کن فرماتے ہیں جس سے اس چیز کا وجود ہوجاتا ہے جس کے وجود میں لانے کے لیے یہ کلمہ فرماتے ہیں۔ بعض لوگوں نے اس پر یہ اشکال کیا ہے کہ جو چیز ابھی موجود نہیں۔ اس کو کیوں کر خطاب کیا جاتا ہے۔ اس اشکال کی کوئی حیثیت نہیں۔ کیونکہ خطاب کرنے کے لیے اس چیز کا علم ہونا کافی ہے۔۔ اور بعض حضرات نے فرمایا کہ لفظ کن سے لفظ کن مراد نہیں ہے، بلکہ یہ مجاز ہے سرعت تکوین سے اور جلد سے جلد وجود میں آجانے سے۔ قال صاحب الروح والامر محمول علی حقیقتہ کما ذھب الیہ محققو ساداتنا الحنفیۃ، واللّٰہ تعالیٰ قد اجری سنۃ فی تکوین الاشیاء أن یکونھا بھذہ الکلمۃ و ان لم یمتنع تکوینھا بغیرھا۔ والمراد الکلام الازلی لانہ یستحیل قیام اللفظ المرتب بذاتہ تعالیٰ و کثیر من اھل السنۃ الی انہ لیس المرادبہ حقیقۃ الامر والامتثال۔ وانما ھو تمثیل لحصول ما تعلق بہ الارادۃ بلا مھلۃ بطاعۃ المامور المطیع بلا توقف۔ 1
Ayah 2:118جاہلوں کی باتیں کہ اللہ ہم سے بات کیوں نہیں کرتا ؟
حضرت انبیاء کرام (علیہ السلام) کی امتوں کا یہ طریقہ تھا کہ وہ سامنے صریح دلائل اور معجزات کے ہوتے ہوئے اپنے نبیوں کی نبوت کا انکار کرتے تھے اور اپنے پاس سے تجویز کر کے نبوت کی دلیلیں طلب کرتے تھے۔ انہیں میں سے ایک یہ مطالبہ بھی تھا کہ اللہ تعالیٰ ہم سے خود بات کرے تو ہم مانیں، اور کہتے تھے کہ ہم جو معجزہ چاہتے ہیں وہ ہمارے سامنے آنا چاہیے۔ اس آیت میں بقول بعض مفسرین مشرکین عرب کا یہی سوال نقل
1 فی روح المعانی أی ارادشیئا بقرینۃ قولہ تعالیٰ انما امرہ اذا ارادشیئا وَجاء القضاء علی وجوہ ترجع کلھا الی اتمام الشیء قولا أوفعلا واطلاقہ علی الارادۃ مجاز من استعمال اللفظ المسبب فی السبب فان الایجاد الذی ھو اتمام الشی مسبب عن تعلق الارادۃ لانہ یوجبہ۔ (ص 368 ج 1)
فرمایا ہے اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس سے یہود و نصاریٰ مراد ہیں۔ اگر مشرکین عرب مراد ہوں تو ان کے بارے میں (اَلَّذِیْنَ لاَ یَعْلَمُوْنَ ) جو فرمایا ہے اس میں کوئی اشکال ہی نہیں۔ کیونکہ وہ عموماً ان پڑھ تھے اور کسی کتاب کے حامل بھی نہ تھے اور اگر یہود و نصاریٰ مراد ہوں ان کو لاَ یَعْلَمُوْنَ (نہیں جانتے) اس لیے فرمایا کہ انہوں نے جانتے ہوئے انجان ہونے کا کام کیا پھر فرمایا (کَذٰلِکَ قَالَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ مِّثْلَ قَوْلِھِمْ تَشَابَھَتْ قُلُوْبُھُمْ ) (یعنی ان سے پہلے جو لوگ تھے جنہوں نے کفر وعناد اور سر کشی پر کمر باندھی ہوئی تھی انہوں نے بھی اسی طرح کی باتیں کہی تھیں ان کے قلوب اور ان کے قلوب ایک دوسرے کے مشابہ ہوگئے۔ کفرو عناد اور سرکشی میں، انکار حق میں یہ لوگ اور جو ان سے پہلے تھے، ایک ہی جیسے ہوگئے۔
پھر فرمایا (قَدْبَیَّنَّا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ ) (بےشک ہم نے دلائل بیان کردیے، ان لوگوں کے لیے جو یقین کرتے ہیں) ۔ تمام انبیاء سابقین کو معجزات دیے گئے۔ وہ ان کی نبوت اور رسالت ثابت کرنے کے لیے بالکل کافی و وافی تھے۔ اور نبی آخر الزماں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر بھی بڑے بڑے معجزات اور دلائل واضحہ سامنے آ چکے ہیں۔ منکرین اور معاندین کو تو ماننا ہی نہیں ہے۔ جن کے دلوں میں اتباع حق کا جذبہ ہے اور جو حق سامنے آنے کے بعد حق کو تسلیم کرلیتے ہیں اور حق کو حق جان کر مان لیتے ہیں اور ایمان لے آتے ہیں۔ یہ دلائل انہیں کے لیے مفید ہوتے ہیں منکرین کا طریقہ یہ رہا ہے کہ جو بھی کوئی معجزہ ان کے سامنے آیا اس کو جادو بتادیا اور حق کو ٹھکرا دیا جس کو سورة قمر میں یوں بیان فرمایا کہ (وَاِِنْ یَرَوْا اٰیَۃً یُعْرِضُوْا وَیَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ) (اور اگر معجزہ دیکھتے ہیں تو اس سے اعراض کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جادو ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا) ۔ سورة انعام میں فرمایا : (وَ اَقْسَمُوْا باللّٰہِ جَھْدَ اَیْمَانِھِمْ لَءِنْ جَآءَْ ھُمْ اٰیَۃٌ لَّیُؤْمِنُنَّ بِھَا قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰہِ وَ مَا یُشْعِرُکُمْ اَنَّھَآ اِذَا جَآءَتْ لَا یُؤْمِنُوْنَ )
(یعنی انہوں نے خوب زور دار قسمیں کھا کر کہا کہ اگر ہمارے پاس (ایسا) معجزہ آجائے (جس کی ہم فرمائش کرتے ہیں) تو ہم ضرور ضرور ایمان لے آئیں گے۔ آپ فرما دیجیے کہ سب نشانیاں اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ میں ہیں، پھر مسلمانوں سے خطاب فرمایا تم کو اس کی کیا خبر کہ نشانی فرمائش کے مطابق ظاہر ہوجائے تو یہ لوگ اس وقت بھی ایمان نہ لائیں گے ؟ )
اپنی طرف سے تجویز کرکے دلائل و معجزات طلب کرنا ایمان لانے کے لیے نہیں ہے بلکہ محض ضد اور عناد مقصود ہے اسی پر تلے ہوئے ہیں ایمان و یقین کا ارادہ ہی نہیں رکھتے۔
Ayah 2:119حضرت محمد رسول اللہ ﷺ بشیر و نذیر بنا کر بھیجے گئے
اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کو خطاب کر کے یہ فرمایا ہے کہ ہم نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے۔ اور آپ کا عہدہ یہ ہے کہ آپ جنت کی بشارت دیں اور دوزخ سے ڈرائیں بشارت میں وہ اعمال بتانا داخل ہے جود خول جنت کا سبب ہیں جن میں سب سے بڑی چیز ایمان ہے اور ڈرانے کے مفہوم میں ان اعمال سے باخبر کرنا شامل ہے جو دوزخ میں لے جانے والے ہیں جن میں سب سے بڑی چیز کفرو شرک ہے، اور یہ جو فرمایا کہ (وَّ لَا تُسْءَلُ عَنْ اَصْحٰبِ الْجَحِیْمِ ) (کہ آپ سے دوزخ والوں کے بارے میں سوال نہ ہوگا) اس میں آپ کو تسلی دی گئی ہے کہ جو لوگ مسلمان نہ ہوں آپ ان کے بارے میں پریشان نہ ہوں آپ اپنا کام کیے جائیں۔ اللہ کا کلام پہنچائیں حق کو واضح طور پر بیان فرما دیں، آگے ایمان کو قبول کرنا یا نہ کرنا مخاطبین کی ذمہ داری ہے۔ آپ سے کوئی سوال نہ ہوگا کہ کافروں نے اسلام کیوں قبول نہ کیا اور وہ دوزخ کے مستحق کیوں ہوئے۔ زبردستی ایمان قبول کرانا آپ کی ذمہ داری نہیں ہے۔ آپ کا کام پہنچا دینا ہے اور ہمارا کام حساب لینا ہے۔ کما فی سورة الرعد (فَاِنَّمَا عَلَیْکَ الْبَلٰغُ وَ عَلَیْنَا الْحِسَابُ ) سورة غاشیہ میں فرمایا (فَذَکِّرْ اِِنَّمَا اَنْتَ مُذَکِّرٌ لَّسْتَ عَلَیْہِمْ بِمُصَیْطِرٍ ) یعنی آپ حق کی یاد دہانی کرتے رہے آپ تو مُذَکرّ ہی ہیں (یاد دہانی کرنے والے ہیں آپ کو ان پر مسلط نہیں کیا گیا) ۔ اور سورة ق کے آخیر میں فرمایا (نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ وَمَا اَنْتَ عَلَیْہِمْ بِجَبَّارٍ فَذَکِّرْ بالْقُرْاٰنِ مَنْ یَّخَافُ وَعِیْدِ ) (یعنی ہم ان باتوں کو خوب جانتے ہیں جو وہ کہتے ہیں اور آپ ان پر جبر کرنے والے نہیں ہیں سو آپ ان کو قرآن کے ذریعے نصیحت فرماتے رہیں جو میری وعید سے ڈرتا ہے۔ ) قال صاحب الروح والایۃ اعتراض لتسلیۃ الرسول ﷺ یضیق صدرہ لاصرارھم علی الکفر (الی ان قال) ای ارسلنک غیر مسؤل عن اصحاب الجحیم ما لھم لم یومنوا بعد ان بلغت ما ارسلت بہ والزمت الحجۃ علیھم۔
Ayah 2:120یہود و نصاریٰ راضی نہیں ہوسکتے جب تک ان کے دین کا اتباع نہ کیا جائے
تفسیر معالم التنزیل ص 110 ج 1 میں ہے کہ یہود و نصاریٰ نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ آپس میں کچھ صلح کرلیں (یعنی بعض چیزوں میں آپ نیچے اتر جائیں اور کچھ ڈھیل دے دیں تو ہم آپ کا دین قبول کرلیں گے۔ اس پر آیت بالا نازل ہوئی۔ تفسیر قرطبی ص 93 ج 2 میں آیت بالا کی تفسیر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اے محمد ﷺ ان کا اپنے تجویز کردہ دلائل و معجزات کا مطالبہ اس لیے نہیں ہے کہ ان کے کہنے کے مطابق معجزات ظاہر ہوجائیں تو یہ واقعی ایمان لے آئیں گے حقیقتہً بات یہ ہے کہ آپ ان کے سامنے وہ معجزات لے آئیں جن کا یہ سوال کرتے ہیں تب بھی آپ سے ہرگز راضی نہ ہوں گے۔ ان کا مقصد تو یہ ہے کہ آپ اپنے دین اسلام کو چھوڑ دیں اور ان کا پورا پورا اتباع کرلیں۔ جب تک آپ ان کے دین کا اتباع نہ کریں گے یہ کبھی آپ سے راضی ہونے والے نہیں۔
پھر فرمایا (قُلْ اِنَّ ھُدَی اللّٰہِ ھُوَ الْھُدٰی) کہ بلاشبہ اللہ کی ہدایت ہی ہدایت ہے۔ اس کے سوا کوئی ہدایت نہیں۔ اس کے خلاف جو کچھ ہے وہ غلط ہے۔ گمراہی اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول نہیں ہے لوگوں نے اپنے اپنے طور پر اپنی خواہش سے مذاہب بنا لیے ہیں۔ ان کا دین اختیار کرنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور اگر آپ نے ان کی خواہش کا اتباع کیا جبکہ آپ کے پاس علم آچکا ہے تو آپ اللہ کی گرفت میں آجائیں گے اور اس وقت اللہ کی گرفت سے بچانے والا کوئی حامی اور مددگار نہ ہوگا۔ کما فی سورة الرعد (وَ لَءِنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَآءَ ھُمْ بَعْدَ مَا جَآءَ کَ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَکَ مِنَ اللّٰہِ مِنْ وَّ لِیٍّ وَّ لَا وَاقٍ )
علامہ قرطبی فرماتے ہیں کہ یہ خطاب یا تو حقیقتاً رسول اللہ ﷺ کو ہے اور یا بظاہر آپ کو خطاب کیا ہے اور مراد اس سے آپ کی امت ہے۔ اگر پہلی صورت مراد لی جائے تب بھی اس میں امت کیلئے تادیب ہے۔ کیونکہ امت کا مرتبہ رسول اللہ ﷺ کے مرتبہ سے کہیں کم ہے پس جب دوسروں کی خواہشوں کے اتباع سے رسول اللہ ﷺ کا مواخذہ ہوسکتا ہے تو اگر امت ایسا کوئی کام کرے گی جس میں دوسروں کا اتباع ہو وہ کیونکر مواخذہ سے بچے گی۔
مومن کا کام ہے کہ صرف اپنے خالق اور مالک کو راضی رکھے اور اسے راضی رکھنے کے ذیل میں جو راضی ہوتا ہو وہ راضی رہے جو ناراض ہوتا ہو وہ ناراض رہے کوئی اپنا ہو یا پرایا خدا کو ناراض کر کے کسی دوسرے کو راضی کرنے کی کوشش ایمانی تقاضوں کے سراسر خلاف ہے، آج کل ہم دیکھتے ہیں کہ جو لوگ مسلمان ہونے کے دعویدار ہیں۔ وہ اپنے اعمال اور لباس اور وضع قطع اور شکل و صورت میں یہود و نصاریٰ کا اتباع کیے ہوئے ہیں اور ان لوگوں کے سامنے اپنے کو حقیر جانتے ہیں اور انہیں راضی رکھنے کے لیے داڑھی بھی مونڈتے ہیں۔ یورپین لباس بھی پہنتے ہیں عورتوں کو بھی بےپردہ پھراتے ہیں اور غیروں سے ان کے مصافحہ کراتے ہیں ٹائی لگانے کو فخر سمجھتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو یہ دشمنان اسلام طعنے دیں گے اور ہمیں اچھی نظر سے نہ دیکھیں گے۔ افسوس ہے کہ ان کو یہ منظور ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی ہوجائے۔ اللہ کے رسول ﷺ کا اتباع چھوٹ جائے لیکن اہل کفر راضی رہیں اور عزت کی نظر سے دیکھیں چاہے آخرت میں گناہوں کے ارتکاب کی وجہ سے عذاب ہی بھگتنا پڑے، حالانکہ وہ لوگ کسی بھی طرح سے راضی نہیں ہوسکتے وہ تو اسی وقت راضی ہوں گے جب العیاذ باللہ دین اسلام کو چھوڑ کر ان کی ملت و مذہب کا اتباع کرلیا جائے۔
ہمیں کافروں کی طرف دیکھنے کی ضرورت کیا ہے۔ ہماری عزت اس سے زیادہ کیا ہوگی کہ ہم مومن موحد ہیں افضل الانبیاء حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے امتی ہیں ان کا دامن ہمارے ہاتھ میں ہے۔ یہ ہمارے لیے اتنا بڑا فخر ہے کہ اس سے بڑا اور فخر نہیں اور یہی ہماری سب کچھ عزت ہے۔ دشمنوں کے اتباع میں دنیا و آخرت کی ذلت ہی ذلت ہے اور ہلاکت اور بربادی ہے۔ سورة نساء میں فرمایا (اَیَبْتَغُوْنَ عِنْدَھُمُ الْعِزَّۃَ فَاِنَّ الْعِزَّۃَ لِلّٰہِ جَمِیْعًا) (کیا ان کے پاس معزز رہنا چاہتے ہو سو اعزاز تو سارا خدا تعالیٰ کے قبضے میں ہے۔ )
آیت شریفہ میں (حَتّٰی تَتَّبِعَ مِلَّتَھُمْ ) فرمایا حالانکہ ابتداء آیت میں یہود و نصاریٰ دونوں جماعتوں کا ذکر ہے اور ہر ایک کی ملت الگ الگ ہے۔ پھر بھی تثنیہ کا صیغہ نہیں لایا گیا۔ اور یوں نہیں فرمایا کہ آپ سے یہود و نصاریٰ ہرگز راضی نہ ہوں گے جب تک کہ آپ ان کی ملتوں کا اعابار نہ کریں۔ اس سے علماء تفسیر نے یہ بات مستنبط کی ہے کہ کافر اگرچہ مذہبی اعتبار سے اختلاف رکھتے ہوں لیکن کفر میں سب شریک ہیں اس لیے ان سب کی ملت بھی ایک ہی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ ملتیں دنیا میں دو ہیں ایک ملت ایمان اور ایک ملت کفر۔ فقہاء نے اس سے میراث کے بعض مسائل ثابت کیے ہیں اور یہ بات سب پر واضح ہے کہ کافروں کی ساری جماعتیں اسلام اور مسلمانوں کی دشمنی میں ایک ہی ہیں۔ اور سب کی یہ کوشش ہے کہ اسلام نہ پھیلے اور مسلمان دنیا میں عروج نہ پائیں۔ اسلام کے خلاف جو تدبیریں کرتے ہیں ان میں سب ہی کافر مشورے یا مال سے یا دل سے شریک ہوتے ہیں۔ حد یہ ہے کہ بعض وہ فرقے جو اپنے کو مسلمان کہتے ہیں اور عقائد کے اعتبار سے مسلمان نہیں ہیں وہ بھی اسلام دشمنی میں اور مسلمانوں کی حکومتوں کی تباہ کاری میں یہود و نصاریٰ اور مشرکین سے کسی طرح بھی پیچھے نہیں ہیں۔
مسلمانوں کو تنبیہ :
آیت بالا سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسلمانوں کے لیے کوئی صورت نہیں کہ کافروں کے ساتھ اپنے دین میں کوئی مداہنت اور مصالحت کرلیں۔ دین اسلام اللہ کا بھیجا ہوا دین ہے۔ بندوں کا تجویز کیا ہوا نہیں ہے۔ بندوں کو کوئی اختیار نہیں کہ کچھ اونچ نیچ کر کے دینی مسائل اور احکام میں ردو بدل کر کے دشمنوں کے ساتھ زندہ رہنے کے لیے کوئی راستہ نکالیں۔ دشمنان اسلام یہ کرسکتے ہیں کہ اپنے دین کو بدل دیں کیونکہ ان کا دین ان کا اپنا ہی بنایا ہوا ہے۔ اپنی بنائی ہوئی چیز میں ادل بدل کرسکتے ہیں لیکن مسلمان جو اللہ کی کتاب اور اللہ کے رسول ﷺ کے طریقے کے پابند ہیں وہ اپنے دین میں کوئی تبدیلی نہیں لاسکتے اگر چند جاہلوں نے مل کر کسی حکم کو بدل بھی دیا تو ان کا یہ عمل کافرانہ ہوگا۔ اور اسلام میں کوئی تبدیلی نہ آئے گی۔
Ayah 2:121جن کو کتاب ملی ہے وہ اس کی تلاوت کرتے ہیں جیسا کہ تلاوت کا حق ہے
اس آیت شریفہ میں اہل ایمان کی تعریف فرمائی ہے کہ وہ اللہ کی کتاب کی اس طرح تلاوت کرتے ہیں جیسا کہ اس کی تلاوت کا حق ہے۔ حضرت ابن عباس اور حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ ایسی تلاوت کرنا جیسا کہ تلاوت کا حق ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اللہ کی کتاب میں جن چیزوں کو حلال قرار دیا ہے ان پر عمل کریں اور جن چیزوں کو حرام قرار دیا ہے ان کو اختیار نہ کریں اور قرآن کو اسی طرح پڑھیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا، اس کے کلمات میں تحریف نہ کریں اور اس کے معانی میں کوئی تبدیلی نہ کریں، حضرت حسن بصری ؓ نے فرمایا کہ اس کے محکمات پر عمل کریں اور متشابہات پر ایمان لائیں اور جو کچھ اشکال پیش آئے اس کو اہل علم کے سپرد کریں۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ اس آیت میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو تلاوت کرتے وقت کسی رحمت والی آیت پر پہنچتے ہیں تو اللہ تعالیٰ سے رحمت کا سوال کرتے ہیں اور جب کسی عذاب کی آیت پر پہنچتے ہیں تو اس سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ (ابن کثیر ص 163۔ 164 ج 1)
یہ جو فرمایا کہ اسی طرح تلاوت کریں جیسا کہ نازل ہوا اس میں تجوید کے ساتھ پڑھنا بھی داخل ہے سب کو معلوم ہے کہ قرآن مجید عربی زبان میں ہے۔ عربی ایک مستقل زبان ہے جو 29 حروف پر مشتمل ہے۔ حروف کے مخارج بھی ہیں اور صفات بھی ہیں۔ مخارج اور صفات کا خیال نہ کرنے سے ایک حرف دوسرے حرف سے بدل جاتا ہے۔ جس سے معانی بھی بدل جاتے ہیں اور بعض مرتبہ نماز بھی فاسد ہوجاتی ہے۔ ضروری ہے کہ تلاوت کرنے والے قرآن کو صحیح طریقہ پر مخارج وصفات کی رعایت کے ساتھ پڑھیں اور صحیح ادائیگی کے لیے اصحاب تجوید سے رجوع کریں۔ علامہ جزری فرماتے ہیں۔
والاخذ بالتجوید حتم لازم
من لم یجود القرآن اثم
لانہ بہ الالہ انزلا
وھکذا منہ الینا وصلا
پھر فرمایا (اُولٰٓءِکَ یُوْمِنُوْنَ بِہٖ ) کہ جو لوگ اللہ کی کتاب کی ایسی تلاوت کرتے ہیں جیسا کہ تلاوت کرنے کا حق ہے یہ لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں، معلوم ہوا کہ ایمان کا تقاضا یہی ہے کہ اس کی تلاوت اسی طرح کی جائے جیسا کہ اس کی تلاوت کا حق ہے اور یہ کہ اس کی لفظی یا معنوی تحریف کرنے والے اس پر ایمان والے نہیں۔ آخر میں فرمایا کہ (وَ مَنْ یَّکْفُرْ بِہٖ فَاُولٰءِکَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ ) یعنی جو لوگ اللہ کی کتاب کے منکر ہیں۔ اس پر ایمان نہیں لاتے یہ لوگ بھر پور خسارہ اور نقصان میں ہیں انہوں نے کفر اختیار کیا اور ایمان کے قریب نہ آئے لہٰذا دوزخ کے عذاب کے مستحق ہوئے۔ اعاذ نا اللّٰہ منھا۔
Ayahs 2:122–123بنی اسرائیل کو نعمتوں کی مکرریاد دہانی
یہ دونوں آیتیں سورة بقرہ کے چھٹے رکوع کے شروع میں گزر چکی ہیں۔ دونوں آیتوں میں وہاں ایک طرح کی تمہید تھی جس میں اللہ تعالیٰ نے اجمالی طور پر بنی اسرائیل کو اپنے انعامات یاد دلائے تھے اور انہیں آخرت کے عذاب سے ڈرایا تھا، اس کے بعد تفصیلی طور پر بعض نعمتوں کا تذکرہ فرمایا اور ان کی حرکتوں اور بد عملیوں اور جھوٹی آرزوؤں کا اور بچھڑے کی پرستش کرنے اور جادو کے پیچھے لگنے اور فرشتوں کو اپنا دشمن بتانے اور حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر دبی زبان سے راعِنَا کہنے اور اس کے برے معنی مراد لینے کا اور بعض دیگر امور کا تفصیلی بیان ہوا۔ بیان کے ختم پر اب یہاں پھر انہیں دونوں آیتوں کو دہرایا جو بطور تمہید شروع میں مذکور تھیں۔ البتہ دوسری آیت میں ذرا سا لفظی فرق ہے اولاً وآخراً ان کو اجمالی طور پر اپنے انعامات یاد دلا کر ایمان اور اعمال صالحہ میں لگنے کی طرف متوجہ فرمایا اور قیامت کے دن کے عذاب سے ڈرایا اگر انسان اللہ کی نعمتوں کو سامنے رکھے کہ اللہ نے مجھ پر کیا کیا انعامات فرمائے اور اپنے نفس کا محاسبہ بھی کرے کہ میں نے ان کے مقابلے میں کیا کیا اور ساتھ ہی فکر آخرت بھی ہو تو ایسا شخص ایمان صالح سے دور نہیں رہ سکتا لیکن یہودی ایمان سے بھی گئے اور اعمال صالحہ سے بھی گئے۔