2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayahs 2:102–103

وَاتَّبَعُوْا مَا تَتْلُوا الشَّیٰطِیْنُ عَلٰی مُلْكِ سُلَیْمٰنَ ۚ— وَمَا كَفَرَ سُلَیْمٰنُ وَلٰكِنَّ الشَّیٰطِیْنَ كَفَرُوْا یُعَلِّمُوْنَ النَّاسَ السِّحْرَ ۗ— وَمَاۤ اُنْزِلَ عَلَی الْمَلَكَیْنِ بِبَابِلَ هَارُوْتَ وَمَارُوْتَ ؕ— وَمَا یُعَلِّمٰنِ مِنْ اَحَدٍ حَتّٰی یَقُوْلَاۤ اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ ؕ— فَیَتَعَلَّمُوْنَ مِنْهُمَا مَا یُفَرِّقُوْنَ بِهٖ بَیْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهٖ ؕ— وَمَا هُمْ بِضَآرِّیْنَ بِهٖ مِنْ اَحَدٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ ؕ— وَیَتَعَلَّمُوْنَ مَا یَضُرُّهُمْ وَلَا یَنْفَعُهُمْ ؕ— وَلَقَدْ عَلِمُوْا لَمَنِ اشْتَرٰىهُ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ ؕ۫— وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهٖۤ اَنْفُسَهُمْ ؕ— لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ ۟وَاتَّبَعُوۡا مَا تَتۡلُوا الشَّيٰطِيۡنُ عَلٰى مُلۡكِ سُلَيۡمٰنَ‌‌ۚ وَمَا کَفَرَ سُلَيۡمٰنُ وَلٰـكِنَّ الشَّيٰـطِيۡنَ كَفَرُوۡا يُعَلِّمُوۡنَ النَّاسَ السِّحۡرَ وَمَآ اُنۡزِلَ عَلَى الۡمَلَـکَيۡنِ بِبَابِلَ هَارُوۡتَ وَمَارُوۡتَ‌ؕ وَمَا يُعَلِّمٰنِ مِنۡ اَحَدٍ حَتّٰى يَقُوۡلَاۤ اِنَّمَا نَحۡنُ فِتۡنَةٌ فَلَا تَكۡفُرۡؕ‌ فَيَتَعَلَّمُوۡنَ مِنۡهُمَا مَا يُفَرِّقُوۡنَ بِهٖ بَيۡنَ الۡمَرۡءِ وَ زَوۡجِهٖ‌ؕ وَمَا هُمۡ بِضَآرِّيۡنَ بِهٖ مِنۡ اَحَدٍ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰهِ‌ؕ وَيَتَعَلَّمُوۡنَ مَا يَضُرُّهُمۡ وَلَا يَنۡفَعُهُمۡ‌ؕ وَلَقَدۡ عَلِمُوۡا لَمَنِ اشۡتَرٰٮهُ مَا لَهٗ فِى الۡاٰخِرَةِ مِنۡ خَلَاقٍ‌ؕ وَلَبِئۡسَ مَا شَرَوۡا بِهٖۤ اَنۡفُسَهُمۡ‌ؕ لَوۡ کَانُوۡا يَعۡلَمُوۡنَ Open ayah 2:102 in the Quran reader

اور انہوں نے اس چیز کا اتباع کیا جسے سلیمان کے عہد حکومت میں شیاطین پڑھتے تھے۔ اور نہیں کفر کیا سلیمان نے لیکن شیاطین نے کفر اختیار کیا۔ وہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔ اور انہوں نے اس کا بھی اتباع کیا جو نازل ہوا دو فرشتوں پر بابل میں۔ یہ دو فرشتے ہاروت اور ماروت تھے اور یہ دونوں نہیں سکھاتے تھے کسی کو جب تک یوں نہ کہہ دیتے کہ ہمارا وجود ایک فتنہ ہے لہٰذا تو کفر اختیار نہ کر، پس یہ لوگ ان سے وہ چیز سیکھ لیتے تھے جس کے ذریعہ مرد اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی کردیتے تھے۔ اور وہ لوگ اس کے ذریعہ کسی کو کچھ بھی کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتے مگر اللہ کے حکم سے، اور وہ لوگ وہ چیز سیکھتے ہیں جو ان کو ضرر دینے والی ہے اور نفع دینے والی نہیں۔ اور البتہ تحقیق انہوں نے یہ بات جان لی کہ جس نے اس کو خریدا ہے اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ اور بیشک وہ بری چیز ہے جس کے ذریعہ انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ دیا اگر وہ جانتے ہوتے

وَلَوْ اَنَّهُمْ اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَمَثُوْبَةٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ خَیْرٌ ؕ— لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ ۟۠وَلَوۡ اَنَّهُمۡ اٰمَنُوۡا وَاتَّقَوۡا لَمَثُوۡبَةٌ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ خَيۡرٌ ؕ‌ لَوۡ كَانُوۡا يَعۡلَمُوۡنَ Open ayah 2:103 in the Quran reader

اور اگر وہ ایمان لاتے اور تقوی اختیار کرتے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا ثواب بہتر تھا اگر وہ جانتے ہوتے۔

بابل میں جادوگروں کا زور اور یہود کا جادو کے پیچھے لگنا جادو گری کا سلسلہ پرانا ہے۔ ہوتا تو سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم اور ارادہ ہی سے ہے۔ اسباب جو بھی ہوں، جادو بھی ایک سبب ہے جس سے احوال میں کچھ تغیر ہوجاتا ہے اور جس پر جادو کیا جائے اس کو تکلیف پہنچ جاتی ہے۔ حضرت ہود (علیہ السلام) کو ان کی امت کے لوگوں نے کہا (اِنَّمَا اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَ ) (کہ تم تو انہیں لوگوں میں سے ہو جن پر جادو کردیا گیا ہو) اور یہی بات حضرت شعیب (علیہ السلام) کے بارے میں ان کی امت کے افراد نے کہی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا جادو گروں سے مقابلہ سو مشہور ہی ہے اور یہ جادوگری کا سلسلہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے زمانہ تک تھا اور اس کے بعد بھی رہا ایک یہودی نے حضرت سرور عالم ﷺ پر جادو کردیا تھا جس کا ذکر بخاری شریف میں موجود ہے (ص 858 ج 2) اور اب بھی جادوگر دنیا میں موجود ہیں اور جادوگری دنیا میں رواج پائے ہوئے ہے۔ اول تو یہود کی شکایت فرمائی کہ اللہ کی کتاب انہوں نے پس پشت ڈال دی پھر فرمایا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے عہد حکومت میں جو شیاطین پڑھتے تھے یعنی جادو کرتے تھے اور اس میں مشغول رہتے تھے انہوں نے اس کا اتباع کیا۔ مفسرین نے اس طرح کے واقعات لکھے ہیں کہ عارضی طور پر چند دن کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی حکومت جاتی رہی تھی اس زمانے میں شیاطین نے ان کی کرسی کے نیچے جادو کی چیزیں دفن کردی تھیں اور جب ان کی وفات ہوگئی تو ان کو کھود کر نکالا اور لوگوں میں مشہور کردیا کہ سلیمان (علیہ السلام) نبی نہیں تھے بلکہ جادو کے زور پر حکومت چلاتے تھے علماء بنی اسرائیل نے تو اس بات کو نہیں مانا لیکن ان کے عوام نے اس بات کو مان لیا اور کہنے لگے کہ یہ جادو ہی سلیمان (علیہ السلام) کا علم ہے اور اس کے سیکھنے سکھانے میں لگ گئے اور انبیاء کرام (علیہ السلام) کی کتابوں کو چھوڑ بیٹھے، جب حضور سرور عالم ﷺ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ وہ اللہ کے پیغمبروں میں سے تھے تو یہودیوں نے کہا کہ محمد (e) یہ کہتے ہیں کہ سلیمان بن داؤد ( علیہ السلام) نبی تھے حالانکہ وہ صرف ایک جادوگر تھے۔ اللہ جل شانہ نے یہ آیت نازل کی اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی سحر سے برأت نازل فرمائی اور صاف فرمایا : (وَ مَا کَفَرَ سُلَیْمَانُ وَلٰکِنَّ الشَّیٰطِیْنَ کَفَرُوْا) (یعنی سلیمان نے کفر نہیں کیا لیکن شیاطین نے کفر اختیار کیا) ۔ شیاطین کا یہ مشغلہ تھا کہ لوگوں کو جادوسکھاتے تھے۔ (من القرطبی وابن کثیر) ہاروت ماروت کے ذریعہ امتحان : ارشاد ربانی ہے : (وَ مَآ اُنْزِلَ عَلَی الْمَلَکَیْنِ بِبَابِلَ ھَارُوْتَ وَ مَارُوْتَ ) ” یہود نے اس کا بھی اتباع کیا جو دونوں فرشتوں ہاروت و ماروت پر بابل شہر میں اتارا گیا۔ “ کسی زمانہ میں جادو کا بہت چرچا تھا خاص کر شہر بابل میں جو عراق میں واقع ہے، جادو کے اثرات کو دیکھ کر لوگ اس سے بہت متاثر ہوئے اور جادو گروں کو مقدس سمجھنے لگے۔ اللہ جل شانہ نے جادو کا ضرر اور اس کی مذمت ظاہر فرمانے کے لیے دو فرشتوں کو بھیجا جن کا نام ہاروت اور ماروت 1 ؂ تھا تاکہ وہ سحر کی حقیقت واضح کریں اور معجزہ اور سحر میں فرق ظاہر ہوجائے۔ اس میں لوگوں کا امتحان بھی مقصود تھا کہ دیکھا جائے کہ کون ایمان اور خیر کو اور کون کفر اور شر کو اختیار کرتا ہے۔ جب ان فرشتوں نے اپنا کام شروع کیا تو لوگ ان کے پاس آنے جانے لگے اور کہنے لگے کہ ہم کو بھی جادو کے اصول و فروع بتادیں۔ وہ دونوں فرشتے جب ان کو جادو کی کوئی چیز بتاتے تو پہلے یہ ظاہر کردیتے تھے کہ دیکھواللہ تعالیٰ نے ہم کو اپنے بندوں کی آزمائش کا ذریعہ بنایا ہے کہ ان چیزوں کو جان کر کون شخص اپنے دین کی حفاظت کرتا ہے اور شر سے بچتا ہے اور کون شخص اپنے دین کو برباد کرتا ہے اور اپنے لیے شر کو اختیار کرتا ہے۔ وہ فرشتے کہتے تھے کہ ہم تم کو نصیحت کرتے ہیں کہ اگر تم حاصل کرنا چاہتے ہو تو اچھی نیت سے حاصل کرو کہ شر سے محفوظ رہو گے، پھر اسی نیت پر قائم رہنا، شر کے لیے معلوم نہ کرو اور اس کو شر میں استعمال نہ کرنا ورنہ اس میں لگ کر ایمان برباد کرلو گے جو شخص ان سے اس طرح کا عہد و پیمان کرلیتا تھا وہ اسے جادو کے اصول و فروع بتا دیتے تھے اس کے بعد جو کوئی اپنے عہد پر قائم نہ رہتا اور اس جادو کو مخلوق کی ایذا رسانی کا ذریعہ بنا لیتا تو وہ اس کا اپنا عمل تھا۔ صاحب روح المعانی فرماتے ہیں : و ھذان الملکان أنزلا لتعلیم السحر ابتلاء من اللّٰہ تعالیٰ للناس، فمن تعلم و عمل بہ کفر۔ و 1 ؂ ومما یقضی منہ العجب ماقالہ الامام القرطبی ان ھاروت و ماروت بدل من الشیاطین علی قراء ۃ التشدید و ما فی (وما أنزل) نافیۃ والمراد من الملکین جبرائیل و میکائیل لأن الیھود زعموا أن اللّٰہ تعالیٰ أنزلھما و فی الکلام تقدیم و تاخیر، والتقدیر (و ما کفر سلیمان) (و ما أنزل علی الملکین) (ولکن الشیاطین) (ھاروت و ماروت) (کفروا یعلمون الناس السحر) (بابل) وعلیہ فالبدل اما بدل بعض من کل و نص علیھما بالذکر لتمردھما، ولکونھما رأسأ فی التعلیم، أوبدل کل من کل اما بناءً علی أن الجمع یطلق علی الاثنین او علی أنھما عبارتان عن قبیلتین من الشیاطین لم یکن غیر ھما بھذہ الصفۃ، واعجب من قولہ ھذا قولہ : وھذا أولی ماحملت علیہ الاٰیۃ من التاویل وأصح ما قیل فیھا۔ ولا یلتفت الی ما سواہ، ولا یخفی لدی کل منصف أنہ لاینبغی لمؤمن حمل کلام اللّٰہ تعالیٰ ، وھو فی اعلی مراتب البلاغۃ والفصاحۃ علی ماھو ادنی من ذلک، و ما ھو الامسخ للکتاب اللّٰہ تعالیٰ عزشانہٗ واھباط لہ عن شاواہ۔ (روح المعانی ص 343 ج 1) من تعلم و توقی عملہ ثبت علی الایمان، وللّٰہ تعالیٰ أن یمتحن عبادہ بما شاء کما امتحن قوم طالوت بالنھر و تمییزا بینہ و بین المعجزۃ حیث أنہ کثر فی ذلک الزمان، و اظھر السحرۃ اموراً غریبۃً وقع الشک بھا فی النبوۃ فبعث اللّٰہ تعالیٰ الملکین لتعلیم أبواب السحر حتی یزیلا الشبہ و یمیطا الأذی عن الطریق قیل کان ذلک فی زمن ادریس (علیہ السلام) (ص 340 ج 1 و مثلہ فی تفسیر ابن کثیر ص 137 ج 1) حضرت حکیم الامت تھا نوی قدس سرہ تحریر فرماتے ہیں کہ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص کسی عالم باعمل کے پاس جائے کہ مجھ کو فلسفہ قدیمہ یا جدیدہ پڑھا دیجئے تاکہ خود بھی شبہات سے محفوظ رہوں اور مخالفین کو جواب دے سکوں اور اس عالم کو یہ احتمال ہو کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مجھ کو مثلاً دھوکہ دے کر پڑھ لے پھر خود بھی تقویت باطل میں اس کا استعمال کرنے لگے اور اس احتمال کی وجہ سے اس کو نصیحت کرے کہ ایسا مت کرنا اور وہ وعدہ کرے اور اس لیے اس کو پڑھا دیا جائے۔ لیکن پھر وہ شخص درحقیقت قصداً اسی سوء استعمال محتمل میں مبتلا ہوجائے، سو ظاہر ہے کہ اس کے سوء استعمال سے اس معلم پر کوئی ملامت یا قبح عائد نہیں ہوسکتا اسی طرح اس اطلاع سحر سے ان فرشتوں پر کسی شبہہ و وسوسہ کی گنجائش نہیں۔ (بیان القرآن) جادو کے بعض اثرات : پھر فرمایا : (فَیَتَعَلَّمُوْنَ مِنْھُمَا مَا یُفَرِّقُونَ بِہٖ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ زَوْجِہٖ ) (یعنی وہ لوگ ان دونوں فرشتوں سے وہ چیز سیکھ لیتے تھے جس کے ذریعہ میاں بیوی میں جدائی کردیتے تھے) اس سے معلوم ہوا کہ جادو کے اثر سے دو محبت والوں میں بغض پیدا ہوسکتا ہے اور میل محبت والوں میں جدائی ہوسکتی ہے جادو کے ذریعہ اس زمانہ کے لوگ کیا کیا حرکتیں کرتے ہوں گے کیا کیا ایذائیں دیتے ہوں گے ان میں سے صرف ایک ایسی چیز کا ذکر فرمایا ہے جو اللہ تعالیٰ کو بہت ہی مبغوض اور شیطان کو بہت محبوب ہے اور وہ ہے میاں بیوی کے درمیان جدائی کردینا۔ حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ ابلیس اپنا تخت پانی پر بچھاتا ہے پھر اپنی جماعتوں کو بھیجتا ہے اس کی جماعتوں کے افراد لوگوں کو فتنہ میں دالتے ہیں ابلیس کا سب سے بڑا مقرب ان میں سے وہ ہوتا ہے جو فتنہ ڈالنے میں سب سے بڑا ہو (فتنوں میں مبتلا کرکے اس کے نمائندے اس کے پاس آتے رہتے ہیں اور اپنا اپنا کمال ظاہر کرتے ہیں) ان میں سے ایک آکر کہتا ہے کہ میں نے ایسا ایسا کیا تو ابلیس کہتا ہے کہ تو نے کچھ بھی نہیں کیا۔ پھر ان میں سے ایک آتا ہے وہ کہتا ہے کہ فلاں شخص کے پیچھے اتنا لگا کہ اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان میں نے جدائی کردی اس کی یہ بات سن کر ابلیس اسے قریب کرلیتا ہے اور کہتا ہے کہ ہاں تو نے کام کیا ہے۔ حضرت اعمش (راوی حدیث) فرماتے ہیں کہ مجھے جہاں تک یاد ہے اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ ابلیس اس کو چمٹا لیتا ہے، جس نے میاں بیوی میں جدائی کرا دی۔ (صحیح مسلم ص 376 ج 2) جادو کا اثر باذن اللہ ہوتا ہے : پھر فرمایا (وَ مَا ھُمْ بِضَآرِّیْنَ بِہٖ مِنْ اَحَدٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰہِ ) (یہ لوگ جادو کے ذریعہ کسی کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے مگر اللہ کے حکم سے) اس میں یہ بات واضح طور پر بتادی کہ جادو کے زور سے جو کچھ ہوتا ہے وہ بھی اللہ کی مشیت اور ارادہ سے ہی ہوتا ہے جو ظاہری اسباب لوگوں کے سامنے ہیں مثلاً آگ سے جل جانا اور چاقو چھری سے زخمی ہوجانا اور بعض مشہور دواؤں کے کھانے سے اسہال ہوجانا اور روٹی سے پیٹ بھر جانا اور پانی سے سیراب ہوجانا اس طرح کی چیزیں چونکہ روزانہ مشاہدہ میں آتی ہیں اس لیے ان کو کچھ عجیب نہیں سمجھا جاتا اور یہ سب اللہ تعالیٰ کی مشیت اور ارادہ سے ہوتا ہے اللہ تعالیٰ چاہے تو آگ نہ جلائے (جیسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر آگ نے کچھ اثر نہیں کیا) اور اللہ تعالیٰ چاہے تو خوب زیادہ کھانے سے بھی پیٹ نہ بھرے (جیسا کہ جوع البقر کا مریض کھاتا ہی رہتا ہے اور اس کا پیٹ نہیں بھرتا۔ اور جیسا کہ استسقاء کا مریض پیتا ہی رہتا ہے مگر پیاس نہیں بجھتی) جادو کے ذریعہ جو کچھ ہوتا ہے اس کے اسباب ہوتے ہیں لیکن وہ اسباب پوشیدہ ہوتے ہیں، نظروں کے سامنے نہیں ہوتے اس لیے جادو کے اثر سے ظاہر ہونے والی چیزوں کو لوگ تعجب سے دیکھتے ہیں اور کم علم اور کم فہم جادو گروں کے بہت زیادہ معتقد ہوجاتے ہیں اور بہت سے جاہل پیر تھوڑا بہت جادو یا مسمریزم کا کام سیکھ کر جاہلوں کو معتقد بنانے کا کاروبار بھی کرلیتے ہیں جادو کا اثر بھی جبھی ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ کی مشیت ہو پھر جب اللہ چاہتا ہے تو جادو کٹ بھی جاتا ہے۔ جب جادوگر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ میں آئے تو انہوں نے فرمایا : (مَا جِءْتُمْ بِہِ السِّحْرُ اِنَّ اللّٰہَ سَیُبْطِلُہٗ ) (تم کچھ لائے ہو وہ جادو ہے بیشک اللہ تعالیٰ عنقریب اس کو نیست و نابود کر دے گا) بڑے بڑے جادو گروں کا عمل (سورۃ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ ) اور (سورۃ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ ) کے ذریعہ ختم ہوجاتا ہے۔ جادو کے اسباب خفیہ : جادو کے پوشیدہ اسباب کئی طرح کے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ شیاطین سے مدد حاصل کرنے کے لیے ان کو خوش کیا جاتا ہے اور اس کے لیے کبھی ایسے الفاظ اور کلمات پڑھے جاتے ہیں جو کفر و شرک کے کلمات ہوں اور جن میں شیاطین کی تعریف کی گئی ہو اور کبھی ستاروں کی عبادت کی جاتی ہے کبھی ایسے اعمال اختیار کئے جاتے ہیں جو شیطان کو پسند ہیں مثلاً کسی کو ناحق قتل کرکے اس کا خون استعمال کرنا یا جنابت کی حالت میں رہنا اور نجاست میں ملوث رہنا اسی لیے زیادہ کامیاب جادو ان لوگوں کا ہوتا ہے جو گندے اور نجس رہتے ہیں اور جو طہارت سے اور اللہ تعالیٰ کے نام سے دور بھاگتے ہیں اور ان کی خبیث کاموں کی عادت ہوتی ہے، جادوگر عورتیں حیض کے زمانہ میں جادو کرتی ہیں جو زیادہ موثر ہوتا ہے عموماً خبیث شیاطین جادو گروں کے مددطلب کرنے سے کام کردیتے ہیں دیکھنے والا سمجھتا ہے کہ یہ جادوگر کے کسی کرتب سے ایسا ہوگیا۔ جس طرح فرشتے ان حضرات کی مدد کرتے ہیں جو متقی ہوں اور طہارت اور پاکیزگی کو اختیار کرتے ہوں اور بدبو اور نجاست سے دور رہتے ہوں اللہ کے ذکر اور اعمال خیر میں لگے رہتے ہوں اسی طرح شیاطین ان لوگوں کے مددگار ہوتے ہیں جو قول اور فعل اور اعتقاد کے اعتبار سے خباثت اور نجاست میں شیاطین کی طرح ہوتے ہوں۔ کیونکہ تعاون کے لیے تناسب ضروری ہے۔ (من روح المعانی ص 338 ج 1) سحرۂ فرعون کا عمل : مفسر ابن کثیر نے ابو عبداللہ رازی سے سحر کی آٹھ قسمیں نقل کی ہیں۔ ان میں سے قوت خیالیہ کا اثر اور نظر بندی اور شعبدہ اور دواؤں کا استعمال کرنا بھی ذکر کیا ہے ان میں جو شعبدہ اور ہاتھ کی صفائی یا قوت خیالیہ یا دواؤں کا استعمال ہے اس کو مجازاً جادو کہہ دیا گیا ہے نظر بندی کو بطور مثال ایسا سمجھ لیا جائے جیسے ریل میں بیٹھے ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ زمین بھی ساتھ ساتھ جا رہی ہے جیسے پلیٹ فارم پر وہ گاڑی چل رہی ہو جس میں ہم بیٹھے ہیں تو نظر کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ برابر کی گاڑی چل رہی ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں جو جادوگر آئے تھے ان کے بارے میں ارشاد ہے۔ (یُخَیَّلُ اِلَیْہِ مِنْ سِحْرِھِمْ اَنَّھَا تَسْعٰی) (کہ ان کے جادو کی وجہ سے موسیٰ (علیہ السلام) کے خیال میں یوں معلوم ہو رہا تھا کہ یہ رسیاں اور لاٹھیاں دوڑ رہی ہیں) یہ سورة طہ میں ہے۔ اور سورة اعراف میں ارشاد ہے (فَلَمَّآ اَلْقَوْا سَحَرُوْٓا اَعْیُنَ النَّاسِ وَ اسْتَرْھَبُوْ ھُمْ وَ جَآءُ وْ بِسِحْرٍ عَظِیْمٍ ) (کہ جب انہوں نے اپنی لاٹھیاں اور رسیاں ڈالیں تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا اور ان پر ہیبت غالب کردی اور بڑا جادو لے کر آئے) اور اس سے صاف ظاہر ہے کہ جادو گروں نے اپنے جادو سے لوگوں کی نظر بندی کردی تھی جس کے اثر سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بھی ان لاٹھیوں اور رسیوں کو سانپ سمجھنے گے۔ اور ان کے دل میں تھوڑا سا خوف بھی آگیا۔ سورة طہ میں ہے کہ (فَاَوْجَسَ فِیْ نَفْسِہٖ خِیْفَۃً مُّوْسٰی) (موسیٰ نے اپنے جی میں خوف محسوس کیا) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوا کہ : (لَا تَخَفْ اِنَّکَ اَنْتَ الْاَعْلٰی وَاَلْقِ مَا فِیْ یَمِیْنِکَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوْا اِنَّمَا صَنَعُوْا کَیْدُ سٰحِرٍ وَ لَا یُفْلِحُ السَّاحِرُ حَیْثُ اَتٰی) کیا ہے اس کو تمہاری لاٹھی نگل جائے گی۔ انہوں نے جو کچھ بنایا ہے یہ صرف جادو کا مکر ہے۔ اور جادوگر جہاں بھی ہو کامیاب نہیں ہوتا) ۔ معجزہ اور سحر میں فرق : جیسا کہ پہلے ہم نے عرض کیا کہ سحر کا اثر بھی اسباب کے تحت ہوتا ہے وہ اسباب عام لوگوں کے سامنے نہیں ہوتے اور جادو گروں کو ان پوشیدہ اسباب کا پتہ ہوتا ہے۔ اب رہا حضرات انبیاء کرام کا معجزہ تو اس میں کوئی سبب ظاہر یا پوشیدہ نہیں ہوتا اس میں بلا واسطہ اللہ تعالیٰ شانہ کا فعل حقیقۃً موثر ہوتا ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے آگ کا ٹھنڈا ہوجانا اور موسیٰ (علیہ السلام) کے لاٹھی مارنے سے سمندر کا پھٹ جانا اور پتھر سے چشموں کا بہہ جانا۔ حضور اقدس ﷺ کے ایک مٹھی خاک پھینک دینے سے کافروں کی آنکھوں میں پہنچ جانا، مبارک انگلیوں سے پانی کا جاری ہوجانا اور تھوڑی چیز کا زیادہ ہوجانا، تھوڑے سے آٹے کی روٹیاں کئی سو آدمیوں کے لیے کافی ہوجانا وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب کسی سبب کے تحت نہیں تھا ختم نبوت کے بعد ایک مسلمان کو یہ عقیدہ رکھنا کہ اب کوئی نبی نہیں آسکتا ہر مدعی نبوت ساحر کے کرتبوں کی عقیدت سے اسے محفوظ رکھ سکتا ہے۔ اور اوپر جو معجزہ اور سحر کا فرق ظاہر ہوگیا اس کے علاوہ دونوں میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ سحر گندے اور ناپاک لوگوں سے ظاہر ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کے نبی طاہرین اور صالحین بندے تھے۔ اس لیے بھی دونوں میں اشتباہ نہیں ہوسکتا۔ اور صاحب المعانی نے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی جادوگر کو یہ طاقت نہیں دی کہ دریا کو پھاڑ دے، یا مردوں کو زندہ کر دے یا جمادات سے بات کرا دے۔ اور ان کے علاوہ بھی ان میں سے کسی کو ایسی چیز پر قدرت نہیں دی جو حضرات انبیا کرام (علیہ السلام) کے معجزات تھے۔ (ص 239 ج 1) نیز صاحب روح المعانی نے یہ بھی لکھا ہے کہ بعض محققین نے سحر اور معجزہ کے درمیان یوں فرق بتایا ہے کہ معجزہ تحدی کے ساتھ ہوتا تھا یعنی صاحب نبوت کے ہاتھ پر جو کوئی معجزہ ظاہر ہوتا اس کی طرف سے نبوت کا دعویٰ ہوتا تھا اور جو معجزہ اس سے ظاہر ہوتا تھا، وہ اس کے مقابلہ میں اس طرح کی چیز پیش کرنے کا چیلنج بھی کرتا تھا اور یہ صورت کسی جادوگر اور جھوٹے مدعی نبوت کے ہاتھ پر ظاہر نہیں ہوسکتی۔ اللہ تعالیٰ کی عادت مستمرہ یوں ہی رہی ہے۔ (ص 339 ج 1) اور اب تو محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد نبوت ہی ختم ہے۔ بہتیرے جھوٹے مدعی نبوت پیدا ہوئے اگر کسی نے کوئی کرتب دکھایا بھی تو شعبدہ تھا اور سب جھوٹے اپنے کیفر کردار کو پہنچے۔ جادوگر تحدی یعنی چیلنج نہیں کرسکتے وہ تو مقابلہ سے ڈرتے رہتے ہیں اور ایک جادوگر دوسرے جادوگر کا کاٹ کردیتا ہے اور تماشا دکھانے والے جادو گروں کو دیکھا کہ بانسری بجتے بجتے اس کی آواز ختم ہوجاتی ہے اور مجمع میں کھڑا ہوا دوسرا جادوگر اس کی آواز بند کردیتا ہے۔ کسی نبی کے کسی معجزہ کے موافق کوئی کرکے نہیں دکھا سکا اور نہ اس کی کاٹ کرسکا۔ تاریخ اس کی شاہد ہے۔ کرامت اور سحر میں فرق : بہت سے اولیاء اللہ سے کرامت بھی ظاہر ہوجاتی ہے۔ حسب تحقیق صوفیاء کرام اس کرامت سے تقرب الی اللہ میں اور رفع درجات کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔ اور بہت مرتبہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ صاحب کرامت کو اپنی کرامت کا پتہ بھی نہیں چلتا اس لیے محقق صوفیہ کے نزدیک کرامت کی کوئی اہمیت نہیں۔ شاید کسی کو یہ اشکال ہو کہ معجزہ اور سحر میں فرق ظاہر ہوگیا اب نبوت باقی بھی نہیں رہی تاکہ کسی کو دھوکہ ہو سکے لیکن اولیاء اللہ تو ہوتے ہیں اور ان سے کرامت کا صدور ہونا ممکن ہے۔ پھر کرامت اور جادو میں فرق ظاہر کرنے کا کیا طریقہ ہے ؟ سمجھ لینا چاہئے کہ کرامت اللہ تعالیٰ کے صالح بندوں سے ظاہر ہوتی ہے جو عبادت میں اور ذکر اللہ میں اور اطاعت اور فرمانبرداری میں مشغول رہتے ہیں۔ پاک صاف ہوتے ہیں نجاست سے بچتے ہیں۔ جنابت ہوجانے پر جلدی غسل کرلیتے ہیں اور جادو ان لوگوں کا کام ہے جو گندے اور ناپاک ہوتے ہیں جنہیں اللہ کے نام سے بیر ہوتا ہے اور جو اللہ کی عبادت سے دور بھاگتے ہیں۔ نجاست اور خباثت اور جنابت میں متلوث اور متلبس رہنا ان کا مزاج بن چکا ہوتا ہے جو شخص یہ کہے کہ میں ولی صاحب کرامت ہوں اور اس کا حال وہ ہو جو شیاطین اور اس کے دوستوں کا ہوتا ہے یعنی طاعت و عبادت اور ذکر اللہ سے دور اور نجاست و جنابت اور خباثت سے بھر پور ہو اس کے ولی ہونے کا خیال کسی مسلمان کو نہیں ہوسکتا اور نہ اس کے کرتب کو کرامت کہا جاسکتا ہے۔ سحر فسق بھی ہے اور کفر بھی : صاحب بیان القرآن لکھتے ہیں کہ سحر کے فسق یا کفر وغیرہ ہونے میں تفصیل یہ ہے کہ اگر اس کے کلمات کفریہ ہوں مثل استعانت بہ شاطین یا کو اکب وغیرہ، تب تو کفر ہے۔ خواہ اس سے کسی کو ضرور پہنچایا جائے۔ یا نفع پہنچایا جائے۔ اور اگر کلمات مباح ہوں تو اگر کسی کو خلاف اذن شرعی کسی قسم کا ضرر پہنچایا جائے یا اور کسی غرض ناجائز میں استعمال کیا جائے تو اس کو عرف میں سحر نہیں کہتے بلکہ عمل یا عزیمت یا تعویذ گنڈہ کہتے ہیں اور وہ مباح ہے۔ البتہ لغت میں لفظ سحر اس کو بھی شامل ہے کہ ہر تصرف عجیب کو کہا جاتا ہے اور اگر کلمات مفہوم نہ ہوں تو وہ بوجہ احتمال کفر ہونے کے واجب الاحتراز ہے۔ اور یہی تفصیل ہے تمام تعویذ گنڈوں اور نقش وغیرہ میں کہ غیر مفہوم نہ ہوں اور غیر مشروع نہ ہوں اور غرض ناجائز میں استعمال نہ ہوں، اتنی شرطوں سے جائز ہیں۔ ورنہ ناجائز، اور کفر عملی کا اطلاق ہر ناجائز پر صحیح ہے۔ پھر فرمایا (وَ یَتَعَلَّمُوْنَ مَا یَضُرُّ ھُمْ وَلاَ یَنْفَعُھُمْ ) (کہ وہ لوگ ایسی چیز سیکھتے تھے جو ان کو ضرر دینے والی تھی نفع دینے والی نہ تھی) علامہ قرطبی فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آخرت میں جادو کی وجہ سے نقصان پہنچے گا۔ اگرچہ دنیا میں ذرا بہت نفع کما لیں بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ دنیا میں بھی ان کے لیے ضرر ہے کیونکہ جادو کا ضررجادوگر کو پہنچ جاتا ہے۔ حکومت اسلام اس کو سزا دے گی اور جادو گری کی بدبختی اس کو لاحق ہوگی۔ 1 ھ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ (وَلاَ یَنْفَعُھُمْ ) ماقبل پر معطوف ہے۔ اور اس میں یہ بتایا ہے کہ جادوخالص شر ہے اور ضررمحض ہے ایسا نہیں کہ جیسی بعض ضرر والی چیزیں نفع بھی دے جاتی ہیں۔ (جیسے زہرکا کشتہ اور وہ دوا میں مفید ہوجاتا ہے) اس لیے کہ جادوگر جادو سیکھ کر جادو گری کی باتوں سے محفوظ رہنے کا ارادہ نہیں کرتا تاکہ فی الجملہ کوئی نفع متصورہو سکے۔ اور یہ بھی تحریر فرمایا ہے کہ سیاق آیت سے یہ ظاہر ہے کہ وہ دونوں جہان میں غیر نافع ہے کیونکہ اس کا تعلق نہ امورمعاش سے ہے اور نہ معاد سے اور آیت میں جادو سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔ 1 ھ اگر کوئی شخص کبھی کوئی نفع جادو کے ذریعہ کسی مسلمان کو اس طرح کا پہنچا دے کہ مسلمانوں سے دفع ضرر کردے تو گویا ایک نفع ہے لیکن چونکہ ایسا بہت کم ہوتا ہے اور عام طور پر جادوگر بےدین ہی ہوتے ہیں اس لیے عمومی طور پر جادو مطلقاً ضرر دینے والی چیز ہوئی۔ کوئی بھی جادوگر ایسا نہیں دیکھا گیا جس نے جادو کے زور پر دنیا جمع کرلی ہو، جائیداد حاصل کرلی ہو یا حکومت پر قابض ہوگیا ہو۔ ان لوگوں کو ہمیشہ بد حالی میں دیکھا جاتا ہے دین اور اعمال دین سے اور طہارت اور ذکر و عبادت سے تو دور ہوتے ہی ہیں دنیاوی اعتبار سے بھی میلے کچیلے اور پھٹے پرانے کپڑوں میں رہتے ہیں۔ تماشے دکھا کر یا لوگوں کے کہنے سے دوسروں پر جادو کر کے تھوڑے بہت پیسے وصول کرنے سے زندگی گزارتے ہیں اور چند پیسوں کے لیے دوسروں پر جادو کردیتے ہیں ان کی دنیا و آخرت کی تباہی نظروں کے سامنے ہے۔ اس کے بعد فرمایا : (وَلَقَدْ عَلِمُوْا لَمَنِ اشْتَرَاہُ مَالَہٗ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنْ خَلَاقٍ ) ” یعنی کتاب اللہ کو چھوڑ کر جو یہودی جادو کے کے پیچھے لگے انہیں معلوم ہے کہ جس نے جادو حاصل کیا اور کتاب اللہ کو چھوڑا اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ یہ سب جاننے کے باو جود انہوں نے جادو اختیار کرکے کفر مول لیا۔ “ پھر فرمایا (وَ لَبِءْسَ مَا شَرَوْابِہٖٓ اَنْفُسَھُمْ لَوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ ) کہ انہوں نے اپنی جانوں کو جو بیچ دیا یعنی جانوں کے بدلے جادو اور کفر خرید لیا اور اپنی جانوں کو دنیا اور آخرت کی نعمتوں سے محروم کر کے مبتلائے عذاب کردیا۔ یہ بہت برا سودا کیا۔ اگر وہ اس کو جانتے تو ایسا نہ کرتے۔ فی روح المعانی لو کانو یعلمون ای مذمومیۃ الشراء المذکور لامتنعوا عنہ (ص 346 ج 1) و فی معالم التنزیل باعوا بہ أنفسھم (ای) حظ انفسھم حیث اختاروا السحر والکفر علی الدین والحق (ص 102 ج 1) ۔ مفسرین نے اشکال کیا ہے کہ پہلے تو (وَلَقَدْ عَلِمُوْا) فرمایا پھر (لَوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ ) فرمایا اس میں بظاہر تعارض ہے۔ پھر اس کے دو تین جواب دئیے جن میں سے ایک جواب یہ ہے کہ ان کا جاننا نہ جاننے کے درجہ میں ہے۔ جب ضرر جانتے ہوئے کسی چیز کو اختیار کیا اور ایمان سے منہ موڑا گویا کہ وہ جاننے کے باوجود نہیں جانتے۔ روح المعانی میں یہ بھی لکھا ہے کہ انہوں نے عتاب اور عذاب کو تو جانا لیکن اس کی حقیقت اور شدت کو نہیں جانا گویا لَوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَکا مفعول محذوف ہے۔ پھر فرمایا (وَلَوْ اَنَّھُمْ اٰمَنُوْا وَ اتَّقُوْا) (الایۃ) یعنی یہ لوگ اگر اللہ کے پیغمبروں پر ایمان لاتے (جس میں خاتم النبیین ﷺ پر ایمان لانا بھی شامل ہے) اور کفر و معاصی سے بچتے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں اس کی جزا دی جاتی۔ جو اس سے بہتر ہے۔ جس کے بدلہ انہوں نے اپنے نفسوں کو بیچا۔ اگر وہ جانتے ہوتے تو آخرت کے ثواب کو ہاتھ سے نہ جانے دیتے اور خیر کی طرف بڑھتے۔ آخرت کا تھوڑا سا ثواب بھی فانی دنیا کے بہت بڑے نفع سے بھی بہتر ہے۔ باقی اور فانی کا فرق خود سمجھ لینا چاہئے۔ جادوگر کی کیا سزا ہے اس کے بارے میں تفصیل ہے۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ حضرت امام ابوحنیفہ (رح) سے یہ منقول و مشہور ہے کہ جادوگر علی الاطلاق قتل کیا جائے۔ جب یہ معلوم ہوا کہ جادوگر ہے اس کو یہ کہنا کہ میں اب سے جادو نہ کروں گا توبہ کرتا ہوں قبول نہیں کیا جائے گا۔ (ص 339 ج 1) ملا علی قاری (رح) تکملہ شرح فقہ اکبر میں لکھتے ہیں کہ جو سحر کفر ہے اس کا اختیار کرنے والامرد مرتد ہوجانے کی وجہ سے قتل کیا جائے گا اور جادوگر عورت قتل نہیں کی جائے گی اس لیے کہ مرتدہ کو قتل نہیں کیا جاتا (وہ ہمیشہ قید میں رہے گی الا أن تتوب) اور جو سحر فسق کے درجے میں ہو اس میں سحر کی وجہ سے قتل نہ ہوگا لیکن اگر کوئی ایسا کام ہو جس سے کسی انسان کی ہلاکت ہوگئی یا مریض ہوگیا یا میاں بیوی میں جدائی کرا دی ہو تو زمین میں فساد کرنے کی وجہ سے قتل کیا جائے گا۔ اور اس صورت میں ساحر اور ساحرہ دونوں قتل کئے جائیں گے کیونکہ اس کی علت ارتدار نہیں بلکہ فساد فی الارض ہے 1 ھ۔ حضرت جندب بن کعب صحابی ؓ نے دیکھا کہ ایک آدمی کھیل کر رہا ہے اس نے ایک شخص کو ذبح کردیا اور اس کا سر جدا کردیا پھر اس کا سر واپس جوڑ دیا۔ لوگوں نے دیکھا تو چیخ اٹھے اور کہنے لگے کہ سبحان اللہ مردوں کو زندہ کرتا ہے۔ حضرت جندب نے تلوار نکالی اور اس جادوگر کی گردن مار دی اور فرمایا اگر یہ سچا ہے تو اپنے نفس کو زندہ کرے۔ حضرت جندب کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ : یضرب ضربۃً فیکون امۃ واحدۃ کہ یہ ایک ایسی تلوار مارے گا جس کی وجہ سے یہ تنہا ایک امت کے برابر درجہ پالے گا۔ (الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ ج 1 ص 250) چونکہ اس جادوگر کے عمل سے لوگ متاثر ہو کر یوں سمجھ رہے تھے کہ یہ شخص مردوں کو زندہ کرتا ہے اس لیے رفع فساد کی وجہ سے اس کا قتل ضروری ہوا۔ تفسیر قرطبی میں اس قصے کو اس طرح لکھا ہے کہ ولید بن عقبہ (امیر عراق) کے پاس ایک شخص رسی پر چل رہا تھا اور گدھے کے پیچھے سے اس کے دم میں داخل ہوتا تھا اور اس کے منہ سے نکل جاتا تھا۔ حضرت جندب نے اس کو قتل کردیا۔ آنحضرت سرور عالم ﷺ نے فرمایا تھا کہ میری امت میں وہ شخص ہوگا جس کو جندب کہا جائے گا وہ ایک مرتبہ ایسی تلوار مارے گا جس سے حق اور باطل کے درمیان تفریق کر دے گا۔ (ج 2 ص 47) مسئلہ : اگر قرآن و حدیث کے کلمات ہی سے عمل کیا جائے مگر ناجائز مقصد کے لیے استعمال کریں تو وہ بھی جائز نہیں۔ مثلاً کسی کو ناحق ضرر پہنچانے کے لیے کوئی تعویذ کیا جائے یا وظیفہ پڑھا جائے، اگرچہ وظیفہ اسماء الہیہ، یا آیات قرآنیہ ہی کا ہو وہ بھی حرام ہے۔ (معارف القرآن) مسئلہ : تعویذ گنڈے وغیرہ جو عامل کرتے ہیں ان میں بھی اگر جنات و شیاطین سے استمداد ہو تو بحکم سحر ہیں اور حرام ہیں اور اگر الفاظ مشتبہ ہوں معنی معلوم نہ ہوں اور شیاطین اور بتوں سے استمداد کا احتمال ہو تو بھی حرام ہے۔ فائدہ : عام طور پر عوام میں ایک قصہ مشہور ہے جو ہاروت ماروت اور زہرہ کے بارے میں ہے کہ ان دونوں فرشتوں کو قوت شہوانیہ دے دی گئی تھی، اور زمین میں اتار دئیے گئے تھے۔ وہ زمین میں آئے تو زہرہ سے شہوت والی مطلب براری کا ارادہ کیا اور اس کو آمادہ کرنے کی کوشش کی اس پر اس نے ان سے اسم اعظم پوچھ لیا جس کے ذریعہ وہ آسمان پر چلی گئی اور وہاں ستارہ بن گئی۔ ان دونوں فرشتوں سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ دنیا کا عذاب چاہتے ہو یا آخرت کا۔ تو انہوں نے دنیا کے عذاب کو آخرت کے عذاب پر ترجیح دی اور وہ بابل کے کنویں میں الٹے لٹکے ہوئے ہیں اور قیامت تک عذاب ہوگا۔ اس قصہ کو علامہ ابن جوزی نے دو طریق سے نقل کیا ہے۔ علامہ قرطبی اور صاحب روح المعانی نے بھی اس قصہ کی تردید کی ہے۔ قال القرطبی أنہ قول تدفعہ الاصول فی الملائکۃ ھم أمناء اللّٰہ علی وحیہ و سفراء ہ الی رسلہ لاَ یَعْصُوْنَ اللّٰہَ مَآ اَمُرَھُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ ، بَلْ عِبَادٌ مُّکْرَمُوْنَ لاَ یَسْبِقُوْنَہٗ بالْقَوْلِ وَھُمْ بِاَمْرِہٖ یَعْمَلُوْنَ ، یُسَبِّحُوْنَ الَّیْلَ وَ النَّھَارَ لاَ یَفْتُرُوْنَ وَ أما العقل فلا ینکر وقوع المعصیۃ من الملائکۃ و ان یوجد منھم خلاف ما کلفوہ و یخلق فیھم الشھوات اذ فی قدرۃ اللّٰہ تعالیٰ کل موھوم و من ھذا خوف الانبیاء و الاولیاء الفضلاء العلماء لکن وقوع ھذا الجائز لایدرک الا بالسمع ولم یصح (ص 52 ج 2) صاحب روح المعانی فرماتے ہیں : قد أنکرہ جماعۃ منھم القاضی عیاض، و ذکر أن ماذکرہ أھل الاخبار و نقلہ المفسرون فی قصۃ ھاروت و ماروت لم یزدمنہ شیء لا سقیم ولا صحیح عن رسول اللّٰہ ﷺ ۔ و لیس ھو شیئا یوخذ بالقیاس، و ذکر فی البحر أن جمیع ذلک لا یصح منہ شیء، ولم یصح أن رسول اللّٰہ ﷺ کان یلعن الزھرۃ۔ ولا ابن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنھما خلافا لمن رواہٗ و قال الامام الرازی بعد أن ذکر الروایۃ فی ذلک ان ھذہ الروایۃ فاسدۃ مردودۃ غیر مقبولۃ و نص الشھاب العراقی : علی ان من اعتقد فی ھاروت و ماروت أنھما ملکان یعذبان علی خطیئتھما مع الزھرۃ فھو کافر باللّٰہ تعالیٰ العظیم فان الملائکۃ معصومون (لاَ یَعْصُوْنَ اللّٰہَ مَآ اَمَرَھُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ ۔ لاَ یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِہٖ وَ لاَ یَسْتَحْسِرُوْنَ یُسَبِّحُوْنَ الَّیْلَ وَ النَّھَارَ لاَ یَفْتُرُوْنَ ) والزھرۃ کانت یوم خلق اللّٰہ تعالیٰ السمٰوت والارض والقول بأنھا تمثلت لھما فکان ما کان وردت الی مکانھا غیر معقول ولا مقبول۔ و اعترض الامام السیوطی علی من أنکر القصۃُ بان الامام احمد و ابن حبان و البیھقی وغیرھم رو وھا مرفوعۃ وموقوفۃ علی علی و ابن عباس و ابن عمر و ابن مسعود ؓ باسانید صحیحۃ یکاد الواقف علیھا یقطع بصحتھا لکثرتھا و قوۃ مخرجیھا و ذھب بعض المحققین : ان ماروی مروی حکایۃ لما قالہ الیھود و ھو باطل فی نفسہ و بطلانہ فی نفسہ لایتا فی صحۃ الروایۃ ولا یرد ما قالہ الامام السیوطی علیہ انما یرد علی المنکرین بالکلیۃ۔ (ج 1 ص 341) اقول صحۃ السند لا تستلزم صحۃ الروایۃ فان من لوازم الصحۃ اشیاء اخر غیر صحۃ السند ذکرھا العلماء فی کتب الاصول، فلو صح بعض الاسانید علی رای الامام السیوطی لا یستلزم منہ قبول الروایۃ۔
Ayah 2:104

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَقُوْلُوا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوْا ؕ— وَلِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ ۟يٰٓاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَقُوۡلُوۡا رَاعِنَا وَ قُوۡلُوا انۡظُرۡنَا وَاسۡمَعُوۡا ‌ؕ وَلِلۡڪٰفِرِيۡنَ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ Open ayah 2:104 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تم لفظ راعِنَا نہ کہو اور لفظ اُنْظُرْنَا کہو، اور سنو ! اور کافروں کے لیے درد ناک عذاب ہے

رَاعِنَا کہنے کی ممانعت اور یہود کی شرارت یہودیوں کی بہت سی شرارتوں میں سے ایک یہ بات تھی کہ آنحضرت سرور عالم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے تو لفظ راعِنَا کہتے تھے۔ یہ عربی زبان کا لفظ بھی ہے اور عبرانی زبان میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ عربی میں اس کے معنی یہ ہیں کہ ہماری رعایت کیجیے۔ اور عبرانی زبان میں یہ لفظ بد دعا کے معنی میں ہے۔ یہ لوگ شرارت سے اور بد دعا دینے کی نیت سے اس لفظ کو استعمال کرتے تھے تاکہ حضور اقدس ﷺ اور دوسرے سننے والے یہ سمجھیں کہ یہ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ ہماری رعایت فرمائیے اور ہماری طرف توجہ فرمائیے۔ اور اندر سے دل میں برے معنی کی نیت کرتے تھے۔ سورة نساء میں فرمایا (وَ یَقُوْلُوْنَ سَمِعْنَاوَ عَصَیْنَا وَاسْمَعْ غَیْرَ مُسْمعٍ وَّ رَاعِنَا لَیًّا بِاَلْسِنَتِھِمْ وَ طَعْنًا فِی الدِّیْنِ ) مسلمان عربی زبان کے اعتبار سے راعِنَا یَا مُحَمَّدْ کہتے تھے۔ حضرت سعد بن معاذ ؓ یہودیوں کی زبان جانتے تھے انہوں نے محسوس کرلیا کہ یہودی راعِنَا یا مُحَمَّدْ کہتے ہیں اور آپس میں ہنستے ہیں۔ لہٰذا انہوں نے یہودیوں سے کہا کہ آئندہ تم میں سے کسی نے یہ لفظ بولا تو میں گردن مار دوں گا۔ وہ کہنے لگے کہ تم لوگ بھی تو کہتے ہو اس پر یہ آیت اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی کہ اے مسلمانو ! تم راعِنَا نہ کہو۔ اس کے بجائے لفظ اُنْظُرْنَا کہو اس کا معنی بھی وہی ہے کہ ہماری طرف دیکھئے اور توجہ فرمائیے۔ لہٰذا وہ لفظ بولنا چاہیے جس کے معنی میں دوسرے معنی کا اشتباہ نہ ہو سکے اور یہودی یہ نہ کہہ سکیں کہ تم بھی لفظ راعنا بولتے ہو تو ہم نے بھی بول دیا۔ غیر مسلمانوں سے خطاب ہوا کہ تم بات کو سنو اور اطاعت کرو اور یہ بھی فرمایا کہ کافروں کے لیے عذاب الیم ہے وہ آخرت میں اپنی حرکتوں کی درد ناک سزا پالیں گے۔ ( من معالم التنزیل ص 102 ج 1) بیان القرآن میں لکھا ہے کہ اس حکم سے یہ مسئلہ معلوم ہوا کہ اگر اپنے کسی فعل مباح سے کسی کو گنجائش گناہ کرنے کی ملے تو وہ فعل خود اس کے حق میں مباح نہیں رہتا جیسے مثلاً عالم کے کسی فعل سے کوئی جاہل سند لے کر خلاف شرع کام کرنے لگے تو اگر وہ فعل ضروری نہ ہوگا تو خود اس عالم کے لیے بھی منع ہوجائے گا۔ لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا سے استنباط احکام : اور ابوبکر حبصاص احکام القرآن میں اس آیت کے ذیل میں لکھتے ہیں کہ اس میں دلالت ہے اس بات پر کہ جس لفظ میں احتمال خیر و شر دونوں کا ہو اس کا بولنا جائز نہیں جب تک کوئی ایسی چیز اس کے ساتھ نہ ملالی جائے جس سے وہ خیر ہی کے لیے متعین ہوجائے، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی کی ہنسی کرنا، مذاق اڑانا ممنوع ہے اور ہر وہ لفظ ممنوع ہے جس میں احتمال مذاق اڑانے کا ہو (چونکہ یہودی لفظ راعنا کہہ کر ہنستے تھے اور مذاق بناتے تھے اس لیے جصاص نے اس آیت کے ذیل میں یہ بات لکھی ہے) ۔ مفسر ابن کثیر فرماتے ہیں کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مومنین کو کافروں کی مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایا قول میں بھی اور فعل میں بھی۔ اس کے بعد مسند احمد اور سنن ابی داود سے حدیث نقل کی ہے۔ من تشبہ بقوم فھو منھم (کہ جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرتا ہے وہ انہی میں سے ہے) اس کے بعد لکھتے ہیں کہ اس میں دلالت ہے اس بات پر کہ کافروں کے ساتھ ان کے اقوال اور افعال اور لباس اور تہوار اور عبادات وغیرہ میں مشابہت اختیار کرنا سخت ممنوع ہے، اور مشابہت کرنے والوں کے لیے تہدید اور وعید ہے۔ (ص 148 ج 1) متعدد احادیث میں اس کا حکم دیا گیا ہے کہ خطاب اور گفتگو میں اچھے الفاظ استعمال کیے جائیں اور ان الفاظ سے بچیں جو برے اور نامناسب معنی پر دلالت کرتے ہیں۔ اس لیے کسی کو ملک الاملاک یعنی شہنشاہ کہنے سے منع فرمایا۔ ( کیونکہ سب بادشاہوں کا بادشاہ اللہ تعالیٰ ہی ہے) ایک لڑکی کا نام عاصیہ (گنہگار) تھا۔ آنحضرت ﷺ نے اس کا نام جمیلہ رکھ دیا۔ ایک حدیث میں ہے کہ تم میں سے کوئی شخص اپنے غلام اور باندی کو عبدی اور امتی نہ کہے۔ تم سب اللہ کے بندے اور تمہاری سب عورتیں اللہ کی بندیاں ہیں۔ عَبْدیْ اور اَمَتِیْ کی بجائے غُلَامی اور جارِیَتِیْ کہا جائے۔ (یہ سب احادیث مشکوٰۃ المصابیح باب الاسامی میں مذکور ہیں)
Ayah 2:105

مَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَلَا الْمُشْرِكِیْنَ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْكُمْ مِّنْ خَیْرٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ ؕ— وَاللّٰهُ یَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ ؕ— وَاللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ ۟مَا يَوَدُّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ وَلَا الۡمُشۡرِكِيۡنَ اَنۡ يُّنَزَّلَ عَلَيۡڪُمۡ مِّنۡ خَيۡرٍ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ‌ؕ وَاللّٰهُ يَخۡتَصُّ بِرَحۡمَتِهٖ مَنۡ يَّشَآءُ ‌ؕ وَاللّٰهُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِيۡمِ Open ayah 2:105 in the Quran reader

اہل کتاب میں سے جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور مشرکین یہ پسند نہیں کرتے کہ نازل کی جائے تمہارے اوپر تمہارے رب کی طرف سے کوئی خیر۔ اور اللہ تعالیٰ مخصوص فرمائے اپنی رحمت سے جس کو چاہے اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل والا ہے۔

یہودیوں اور مشرکوں کو یہ گوارا نہیں کہ مسلمانوں پر کوئی خیر نازل ہو جب مسلمان یہودیوں سے کہتے تھے کہ تم اسلام قبول کرو محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان لاؤ تو وہ کہتے تھے کہ تم جس دین کی طرف بلاتے ہو ہمارے دین سے بہتر نہیں ہے اور ہماری خواہش ہے کہ تمہارا دین بہتر ہوتا تو ہم اس کا اتباع کرلیتے ان کی تردید میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور بتایا کہ اے مسلمانو ! ان کو یہ پسند نہیں ہے کہ تم کو کسی طرح کی خیر نصیب ہو، یہودی تو اس حسد میں مرے جا رہے ہیں کہ نبی آخر الزماں ﷺ حضرت اسماعیل کی اولاد میں سے کیوں آیا اور حضرت اسحاق کی اولاد میں سے کیوں نہ ہوا اور مشرکین اس لیے ناراض ہیں کہ حضرت سرور عالم ﷺ نے جو دین پیش فرمایا وہ ان کی خواہشوں کے خلاف ہے ان کو توحید پسند نہیں۔ اپنے بنائے ہوئے معبودوں سے محبت ہے جب ان کی تردید کی جاتی ہے تو انہیں برا معلوم ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ شانہ نے یہود اور مشرکین کی تردید فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے خیالات کا پابند نہیں وہ جسے چاہے اپنی رحمت کے ساتھ خاص کر دے، وہ جسے چاہے نبوت سے سرفراز فرمائے اور جسے چاہے ہدایت دے۔ اس میں کسی کو اعتراض کرنے اور حسد کرنے کا کوئی حق نہیں۔ (من معالم التنزیل ص 103 ص 1، روح المعانی ص 350 ج 1) مفسر ابن کثیر فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت شریفہ میں اہل کتاب اور مشرکین کی سخت دشمنی کا ذکر فرمایا ہے تاکہ اہل ایمان اور اہل کفر کے درمیان مودت اور محبت بالکل منقطع ہوجائے اور اس میں اللہ تعالیٰ نے اس انعام کو بیان فرمایا جو محمد رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ مومنین کو عطا فرمایا یعنی شریعت کاملہ عطا فرمائی (مَنْ یَّشَاءُ ) کا عموم خود آنحضرت سرور عالم ﷺ اور آپ کے متبعین سب کو شامل ہے۔
Ayahs 2:106–107

مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰیَةٍ اَوْ نُنْسِهَا نَاْتِ بِخَیْرٍ مِّنْهَاۤ اَوْ مِثْلِهَا ؕ— اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰی كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ۟مَا نَنۡسَخۡ مِنۡ اٰيَةٍ اَوۡ نُنۡسِهَا نَاۡتِ بِخَيۡرٍ مِّنۡهَآ اَوۡ مِثۡلِهَا ‌ؕ اَلَمۡ تَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ Open ayah 2:106 in the Quran reader

ہم جس کسی آیت کو منسوخ کرتے ہیں یا بھلا دیتے ہیں تو ہم اس سے بہتر یا اس جیسی آیت لے آتے ہیں۔ کیا تو نے نہیں جانا کہ بلاشبہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ؕ— وَمَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّلَا نَصِیْرٍ ۟اَلَمۡ تَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ‌ؕ وَمَا لَـکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ وَّلِىٍّ وَّلَا نَصِيۡرٍ Open ayah 2:107 in the Quran reader

کیا تو نے نہیں جانا کہ بیشک اللہ کے لیے آسمان اور زمین کا ملک ہے اور تمہارے لیے اللہ کے سوا کوئی ولی اور مددگار نہیں۔

نسخ آیات کی حکمت قرآن مجید کے بعض احکام اللہ تعالیٰ منسوخ فرما دیتے تھے۔ کبھی ایک حکم دیا پھر اس سے منع فرما دیا اور اس کے خلاف حکم دے دیا کبھی ایک حکم کے بجائے دوسرا حکم نازل فرما دیا اس کو دیکھ کر مشرکین نے کہا کہ محمد ﷺ آج ایک بات کہتے ہیں اور کل کو اس سے رجوع کرلیتے ہیں، اگر یہ قرآن اللہ تعالیٰ کے پاس سے ہوتا تو اس میں منسوخیت والی بات کیوں ہوتی معلوم ہوا کہ یہ سب کچھ محمد ﷺ اپنے پاس سے کہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت کرتے ہیں۔ سورة نحل میں ان دشمنوں کی بات کو اس طرح بیان فرمایا :۔ (وَ اِذَا بَدَّلْنَآ اٰیَۃً مَّکَانَ اٰیَۃٍ وَّ اللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا یُنَزِّلُ قَالُوْٓا اِنَّمَآ اَنْتَ مُفْتَرٍ ) ” اور جب ہم کسی آیت کو ایک آیت کی جگہ بدل دیتے ہیں اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ نازل فرماتا ہے تو وہ لوگ کہتے کہ بس تو افتراء ہی کرنے والا ہے۔ “ اللہ جل شانہ نے اس آیت شریفہ میں ان کی جہالت والی بات کی تردید فرمائی اور فرمایا کہ ہم جس کسی آیت کو منسوخ کرتے ہیں یا بھلا دیتے ہیں تو اس سے بہتر یا اس جیسی آیت لے آتے ہیں۔ منسوخ کرنے میں حکمت ہوتی ہے اور بندوں کا اس میں فائدہ ہوتا ہے یا تو ان کے لیے دوسرا حکم انفع اور اسہل ہوتا ہے یا اس میں منفعت اور ثواب پہلی جیسی آیت کی طرح ہوتا ہے۔ سخت حکم کو آسان کردیا گیا تو بندوں کے لیے یہ بھی بہتر ہے کہ اس میں عمل کے لیے آسانی ہوگئی اور اگر آسانی کی بجائے کوئی سخت حکم آگیا تو یہ بھی بہتر ہے کیونکہ عمل جس قدر مشکل ہوگا اسی قدر ثواب زیادہ ہوگا۔ منسوخ ہونے کی کئی صورتیں ہیں۔ ایک صورت یہ ہے کہ عبارت قرآنیہ باقی رہے اور اس کا حکم منسوخ ہوجائے اس کو منسوخ الحکم کہتے ہیں۔ جیسے عورت کے لیے شوہر کی وفات پر عدت ایک سال تک رکھی گئی تھی بعد میں چار مہینے دس دن کردی گئی۔ اور جس آیت میں ایک سال کا ذکر ہے وہ بھی مصحف میں باقی ہے۔ (مَتَاعًا اِلَی الْحَوْلِ غَیْرَ اِخْرَاجٍ ) اور نسخ کی ایک صورت یہ ہے کہ اس کی تلاوت منسوخ ہوجائے اور حکم باقی رہے۔ اس کو منسوخ التلاوۃ کہتے ہیں۔ اس کی مثال میں آیت رجم کو پیش کیا جاتا ہے اور منسوخ کی ایک صورت یہ ہے کہ پہلا حکم منسوخ ہوجائے اور اس کی جگہ دوسرا حکم آجائے جیسے بیت المقدس کی طرف نماز پڑھنا منسوخ کیا گیا اور اس کی بجائے نماز میں استقبال کعبہ کا حکم ہوا اور جیسے پہلے اقارب کے لیے وصیت کرنا واجب تھا پھر وہ آیت میراث سے منسوخ ہوئی۔ اور بعض سورتیں ایسی ہیں جن میں امر اوّل منسوخ ہوگیا اور اس کی جگہ دوسرا حکم نافذ نہیں کیا گیا جیسے سورة ممتحنہ میں (اذَا جَآءَ کُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُھَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوْھُنَّ ) منسوخ کردیا گیا اور اس کے بجائے دوسرا حکم نازل نہیں ہوا۔ نَنْسَسَخْ کے ساتھ نُنْسِھَا بھی فرمایا جس کا ترجمہ بھلا دینے کا ہے۔ بعض آیات ایسی تھی جن کو بالکل ہی مصاحف سے اور ذہنوں سے بھلا دیا گیا تھا۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ سورة احزاب سورة بقرہ جتنی تھی۔ اس کا اکثر حصہ اٹھا لیا گیا نہ تلاوت باقی رہی نہ حکم باقی رہا۔ (درمنثور ص 105 ج 1) میں ہے کہ حضرت سہل بن حنیف سے مروی ہے کہ ایک رات ایک صحابی تہجد پڑھنے کھڑے ہوئے انہیں ایک سورت یاد تھی۔ انہوں نے اسے نماز میں پڑھنا چاہا تو (بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ) کے علاوہ کچھ نہ پڑھ سکے اور اس رات میں چند صحابہ کے ساتھ ایسا ہی واقعہ پیش آیا صبح کو جب بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ سورت گزشتہ رات منسوخ ہوگئی جو لوگوں کے سینوں سے اور ہر اس جگہ سے محو کردی گئی جہاں جہاں لکھی ہوئی تھی۔ و أما علی قراء ۃ ننسأھا بفتح النون الاوّل و فتح السین مھموذا فمعناہ تؤ خرھا و فلا نبدلھا أونرفع تلاوتھا و نؤخر حکمھا أونؤخرھا و نترکھا فی اللوح المحفوظ فلا ننزل (معالم التنزیل ص 104 ج 1) پھر فرمایا کہ اے مخاطب کیا تجھے یہ معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ اسے حکم باقی رکھنے پر بھی قدرت ہے منسوخ کرنے پر بھی قدرت ہے ذہنوں سے بھلاد ینے پر بھی قدرت ہے۔ وہ حکمت کے مطابق جو چاہے کرے جس حکم کو چاہے باقی رکھے جس کو چاہے منسوخ فرمائے۔ کسی کو کیا اعتراض ہے اگر کوئی اللہ پر اعتراض کرے گا تو اس کی سزا بھگت لے گا آسمان و زمین میں اسی کی بادشاہت ہے جب وہ کافروں پر عذاب بھیجے گا تو ان کو کوئی یار اور مددگار اور دوست اور رشتہ دار اور کار ساز نہیں ملے گا۔ قال ابن کثیر یرشد عبادہ تعالیٰ بھذا الی أنہ المتصرف فی خلقہ بما یشاء فلہ الخلق والأمروھو المتصرف فکما خلقھم کما یشاء یسعد من یشآء و یشقی من یشاء و یصحح من یشاء و یمرض من یشاء و یو فق من یشاء ویخذل من یشاء کذالک یحکم فی عبادہ بمایشاء فیحل مایشا و یحرم مایشاء ویبیع مایشاء ویحرم مایشاء وھو الذی یحکم مایرید لا معقب لحکمہ ولا یسئل عما یفعل وھم یسئلون ویختبر عبادہ و طاعتھم لرسلہ بالنسخ فیامر بالشیء لما فیہ من المصلحۃ التی یعلمھا تعالیٰ ثم ینھی عنہ لما یعلمہ تعالیٰ فالطاعۃ کل الطاعۃ فی امتثال أمرہ و اتباع رسلہ فی تصدیق ما أخبروا و امتثال ما أمروا و ترک ماعنہ زجروا۔ (ص 150 ج 1)
Ayah 2:108

اَمْ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَسْـَٔلُوْا رَسُوْلَكُمْ كَمَا سُىِٕلَ مُوْسٰی مِنْ قَبْلُ ؕ— وَمَنْ یَّتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ ۟اَمۡ تُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ تَسۡئَـلُوۡا رَسُوۡلَـكُمۡ كَمَا سُئِلَ مُوۡسٰى مِنۡ قَبۡلُ‌ؕ وَمَنۡ يَّتَبَدَّلِ الۡکُفۡرَ بِالۡاِيۡمَانِ فَقَدۡ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِيۡلِ Open ayah 2:108 in the Quran reader

کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے رسول سے سوال کرو جیسا کہ اس سے پہلے موسیٰ سے سوال کئے گئے اور جو شخص ایمان کے بدلہ کفر کو اختیار کرے سو وہ سیدھے راستہ سے بھٹک گیا۔

بےجا سوالات کی ممانعت معالم التنزیل میں اس آیت شریفہ کے دو شان نزول لکھے ہیں۔ اوّل تو یہ کہ یہودیوں نے یوں کہا کہ اے محمد ﷺ تم آسمان سے اسی طرح پوری کتاب بیک وقت لا کر پیش کرو، جیسے موسیٰ (علیہ السلام) توریت شریف لائے تھے اور دوسرا یہ کہ مشرکین مکہ نے کہا کہ ہم تمہاری بات نہیں مانیں گے یہاں تک کہ اللہ کو اور فرشتوں کو ہمارے سامنے نہ لے آؤ، ممکن ہے دونوں باتوں کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی ہو اللہ جل شانہٗ نے تنبیہ فرمائی کہ ایسے سوالات نہ کرو جیسے موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے سوالات کئے گئے بنی اسرائیل نے ان سے کہا (اَرِنَا اللّٰہَ جَھْرَۃً ) کہ ہمیں اللہ پاک کو آمنے سامنے دکھا دو ، دلائل واضحہ سامنے ہیں عقل مند کے لیے کافی ہیں تکے بےت کے سوالات کی کوئی ضرورت نہیں اور جن کو اعتراض ہی کرنا مقصود ہے وہ تو ہر فرمائش پوری ہوجانے پر بھی ماننے والے نہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تو پوری کتاب بیک وقت لائے تھے۔ پھر بھی ظالموں نے اسے کہاں مانا۔۔ ؟ سورۃ قصص میں ہے : (فَلَمَّا جَآءَ ھُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْا لَوْ لَآ اُوْتِیَ مِثْلَ مَآ اُوْتِیَ مُوْسٰی اَوَ لَمْ یَکْفُرُوْا بِمَآ اُوْتِیَ مُوْسٰی مِنْ قَبْلُ قَالُوْا سِحْرٰنِ تَظٰھَرَا وَ قَالُوْٓا اِنَّا بِکُلٍّ کٰفِرُوْنَ ) ” سو جب ہماری طرف سے ان لوگوں کے پاس حق پہنچا تو کہنے لگے ان کو ایسی کتاب کیوں نہ ملی جیسی موسیٰ کو ملی تھی کیا جو کتاب موسیٰ کو ملی تھی اس سے قبل یہ لوگ اس کے منکر نہیں ہوئے۔ ان لوگوں نے کہا یہ دونوں جادو ہیں جو ایک دوسرے کے مددگار ہیں اور یوں بھی کہتے تھے کہ ہم تو ہر ایک کے منکر ہیں۔ “ صحیح مسلم میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اے لوگو ! تم پر حج فرض کیا گیا لہٰذا حج کرو اس پر ایک آدمی نے سوال کیا یا رسول اللہ ! کیا ہر سال حج کرنا فرض ہے۔ اس پر آپ خاموش رہے۔ یہاں تک کہ سائل نے تین بار سوال کیا، پھر آپ نے فرمایا اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال حج کرنا فرض ہوجاتا اور تم اس کو نہیں کرسکتے تھے پھر فرمایا کہ میں جب تک تم کو چھوڑے رکھوں (یعنی کوئی حکم نہ بتاؤں) تم بھی مجھے چھوڑے رکھو (یعنی سوالات نہ کرو) کیونکہ تم سے پہلے لوگ اس وجہ سے ہلاک ہوگئے کہ سوالات زیادہ کرتے تھے اور اپنے نبیوں کے خلاف چلتے تھے سو میں جب کسی چیز کا حکم کروں تو جہاں تک ممکن ہو اس پر عمل کرو اور اگر میں کسی چیز سے منع کر دوں تو اسے چھوڑ دو ۔ (ص 432 ج 1) ایک اور حدیث میں ہے جو حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے قیل و قال اور کثرت سوال اور اضاعت المال کو ناپسندیدہ قرار دیا۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 419 از بخاری و مسلم) آیت کا شان نزول خواہ وہی ہو جو معالم التنزیل سے نقل کیا گیا لیکن اس میں مسلمانوں کو بھی یہ نصیحت مل گئی کہ جو احکام ہیں۔ ان میں لگیں تکے بےت کے سوال نہ کریں۔ قیل و قال میں وقت ضائع نہ کریں اور ضرورت کی بات پوچھیں۔
Ayahs 2:109–110

وَدَّ كَثِیْرٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ یَرُدُّوْنَكُمْ مِّنْ بَعْدِ اِیْمَانِكُمْ كُفَّارًا ۖۚ— حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِهِمْ مِّنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ ۚ— فَاعْفُوْا وَاصْفَحُوْا حَتّٰی یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ ؕ— اِنَّ اللّٰهَ عَلٰی كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ۟وَدَّ کَثِيۡرٌ مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ لَوۡ يَرُدُّوۡنَكُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ اِيۡمَانِكُمۡ كُفَّارًا ۖۚ حَسَدًا مِّنۡ عِنۡدِ اَنۡفُسِهِمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الۡحَـقُّ‌ ۚ فَاعۡفُوۡا وَاصۡفَحُوۡا حَتّٰى يَاۡتِىَ اللّٰهُ بِاَمۡرِهٖ ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى کُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ Open ayah 2:109 in the Quran reader

اہل کتاب میں سے بہت سے لوگ دل سے یہ چاہتے ہیں کہ کاش تم کو تمہارے ایمان کے بعد پھر کفر کی طرف لوٹا لیں اپنے دلوں کے حسد کے باعث، بعد اس کے کہ ان کے لئے حق ظاہر ہوگیا ہے، سو تم معاف کرو اور درگزر کرو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا حکم بھیج دے، بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ ؕ— وَمَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ ؕ— اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ ۟وَاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّکٰوةَ  ‌ؕ وَمَا تُقَدِّمُوۡا لِاَنۡفُسِكُمۡ مِّنۡ خَيۡرٍ تَجِدُوۡهُ عِنۡدَ اللّٰهِ ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ Open ayah 2:110 in the Quran reader

اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور جو کچھ پہلے سے بھیج دو گے اپنی جانوں کے لئے کوئی خیر اسے اللہ کے پاس پالو گے، بیشک اللہ ان کاموں کا دیکھنے والا ہے جن کو تم کرتے ہو

کفار چاہتے ہیں کہ تمہیں کافر بنا لیں یہودیوں کو یہ تو خوب واضح طریقے پر معلوم ہوگیا تھا کہ نبی عربی محمد رسول اللہ ﷺ واقعی اللہ کے نبی ہیں لیکن ان کو حسد کھا گیا خود تو مسلمان ہوتے ہی نہ تھے (الا قلیلا منھم) اور طرح طرح کی کوششیں کرتے تھے کہ عرب بھی مسلمان نہ ہوں اور جو لوگ مسلمان ہوچکے ان کو واپس کرلیں، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان کے قلبی ارادوں سے مطلع فرمایا تاکہ ان سے بچتے رہیں اور ان کی چکنی چپڑی باتوں میں نہ آئیں اور ان کی جھوٹی ہمدردی کو کوئی حیثیت نہ دیں۔ چونکہ مسلمان اور یہودی ایک ہی شہر یعنی مدینہ منورہ میں رہتے تھے اور اس وقت تک ظاہری اسباب کے اعتبار سے مسلمانوں کے غلبہ کی صورت ظاہر نہ ہوئی تھی اس لیے مسلمانوں سے فرمایا کہ تم معاف اور درگزر کرتے رہو اور اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کرتے رہو۔ اللہ تعالیٰ کو سب کچھ قدرت ہے منجملہ اس قدرت کے یہ بھی ہے کہ وہ تم کو ان پر غلبہ دے دے چناچہ اس کے بعد وہ دن آیا کہ قبیلہ بنی نضیر کو مسلمانوں نے خیبر کی طرف جلا وطن کردیا اور یہود کے دوسرے قبیلہ بنو قریظہ کے مرد قتل کئے گئے۔ ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ نمازیں قائم کرتے رہو اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو اور جو کچھ اپنی جانوں کے لیے کوئی بھلائی پہلے سے بھیج دو گے اسے اللہ کے پاس پالو گے۔ اس میں اعمال صالحہ میں مشغول رہنے اور جانی و مالی عبادت ادا کرتے رہنے کا حکم دیا جیسا کہ (فَاعْفُوْا وَ اصْفَحُوْا) میں صبر کا حکم دیا۔ صبر اور صلاۃ اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں جیسا کہ (وَ اسْتَعِیْنُوْا بالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوۃِ ) میں یہ بات واضح طور پر بتادی گئی ہے۔ اعمال صالحہ میں یہ بھی تاثیر ہے کہ دشمن پر غالب ہونے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ دنیا میں بھی ان سے فلاح اور کامیابی حاصل ہوتی ہے اور آخرت میں بھی ان کا بدلہ ملے گا یہاں سے جو کوئی خیر بھیجیں گے اللہ تعالیٰ کے ہاں جمع رہے گی وہاں جائیں گے تو پالیں گے۔ آخر میں فرمایا کہ (اِنَّ اللّٰہَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ) (اللہ تعالیٰ تمہارے سب کاموں کو دیکھتا ہے) ہر خیرو شر کا اسے علم ہے۔ جو شخص خیر یا شر لے کر پہنچے اس کے مطابق جزا اور سزا کا مستحق ہوگا۔ قال ابن کثیر و ھذا الکلام و ان کان قد خرج مخرج الخبر فان فیہ وعداً ووعیداً و أمراً و زجراً و ذلک أنہ علم القوم أنہ بصیر بجمیع أعمالھم لیجد وا فی طاعتہ اذکان ذلک مذخوراً لھم عندہ حتی یثیبھم علیہ (ص 154 ج 1) حضرت ابو ہریرۃ ؓ سے روایت ہے کہ ارشاد فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جو شخص ایک کھجور کے برابر حلال کمائی سے صدقہ کر دے اور اللہ تعالیٰ حلال ہی کو قبول فرماتے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ اس کو قبول فرما لیتا ہے پھر اس کی تربیت فرماتا ہے (یعنی اس کو بڑھاتا رہتا ہے (جیسے تم میں سے کوئی شخص اپنے گھوڑے کے بچہ کو تربیت کرتا رہتا ہے) بڑھتے بڑھتے وہ بہت زیادہ ہوگا۔ یہاں تک کہ پہاڑ کے برابر ہوجائے گا۔ (صحیح بخاری ص 189 ج 1) جب قیامت کے دن ثواب ملنے لگے گا تو کھجور کے برابر جو چیز دی تھی اس کا ثواب اتنا زیادہ ملے گا جیسے اس نے اللہ کی راہ میں پہاڑ خرچ کردیا ہو۔
Ayah 2:111

وَقَالُوْا لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّةَ اِلَّا مَنْ كَانَ هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰی ؕ— تِلْكَ اَمَانِیُّهُمْ ؕ— قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۟وَقَالُوۡا لَنۡ يَّدۡخُلَ الۡجَـنَّةَ اِلَّا مَنۡ كَانَ هُوۡدًا اَوۡ نَصٰرٰى‌ؕ تِلۡكَ اَمَانِيُّهُمۡ‌ؕ قُلۡ هَاتُوۡا بُرۡهَانَکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ Open ayah 2:111 in the Quran reader

اور انہوں نے کہا کہ ہرگز کوئی شخص جنت میں داخل نہ ہوگا سوائے اس کے جو یہودی ہو یا نصرانی ہو، یہ ان کی آرزوئیں ہیں، آپ فرمادیجیے کہ لے آؤ اپنی دلیل اگر تم سچے ہو

یہود و نصاریٰ کا قول کہ جنت میں ہم ہی جائیں گے اور اس کی تردید اس آیت شریفہ میں یہود و نصاریٰ کا یہ دعویٰ ذکر فرمایا ہے کہ جنت میں یہود و نصاریٰ کے علاوہ ہرگز کوئی داخل نہ ہوگا۔ مطلب یہ ہے کہ یہودیوں نے اپنے بارے میں یہ کہا کہ صرف ہم جنتی ہیں اور نصاریٰ نے اپنے بارے میں یہی کہا دونوں فریق باوجودیکہ اللہ تعالیٰ کی کتابوں میں تحریف کر بیٹھے اور اللہ کے رسول حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے دین میں شرک داخل کردیا۔ اس سب کے باوجود دونوں جماعتوں کو یہ غرور تھا اور اب بھی ہے کہ صرف ہم ہی جنتی ہیں۔ کفر اختیار کریں پھر بھی جنتی ہوں یہ ان کی سراپا جہالت حماقت اور سفاہت ہے۔ اور ان کا یہ دعویٰ بالکل بےبنیاد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ (تِلْکَ اَمَانِیُّھُمْ ) کہ یہ ان کی آرزوئیں ہیں۔ صرف آرزو سے کچھ نہیں ہوتا جب تک ایمان نہ ہو نجات نہیں ہوسکتی۔ پھر فرمایا (قُلْ ھَا تُوْا بُرْھَا نَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ) ” آپ ان سے فرما دیجیے کہ اگر اپنی آرزوؤں میں سچے ہو تو اس کی دلیل پیش کرو۔ “ دعویٰ بلا دلیل، بلا سند، بلا حجت کیسے مانا جائے گا ؟ یہود و نصاریٰ کو بڑا غرور تھا وہ سمجھتے تھے کہ ہم مقربان الٰہی ہیں سورة مائدۃ میں ہے کہ انہوں نے کہا :۔ (نَحْنُ اَبْنَآء اللّٰہِ وَ اَحِبَّاءُہٗ ) ” کہ ہم اللہ کے بیٹے ہیں اور اس کے محبوب ہیں۔ “ اولاد تو اس کی ہے ہی نہیں، یہ عقیدہ شرکیہ ہے کہ اس کی اولاد ہو، شرکیہ عقیدہ رکھنے والا اور اللہ کے رسولوں کو جھٹلانے والا اللہ تعالیٰ کا محبوب اور مقرب کیسے ہوسکتا ہے ؟ اپنی حماقت سے اور اپنے مذہبی پیشواؤں کے بہکانے سے وہ یہ باطل خیال جمائے ہوئے ہیں کہ صرف ہماری ہی نجات ہوگی اور صرف ہم ہی جنتی ہیں، یہودیوں کا دین تو خاندانی دین ہے وہ اپنے خاص خاندان کے باہر اپنے دین کی تبلیغ کرتے ہی نہیں اس کا معنی یہ ہے کہ ان کے نزدیک ساری دنیائے انسانیت کے لیے اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا کوئی دین نہیں ہے صرف اپنے خیال سے اپنی نجات کا یقین کر بیٹھنا اور یہ سمجھ لینا کہ ہم ہی جنتی ہیں اور باقی سارے انسانوں کے بارے میں یہ عقیدہ رکھنا کہ ان کے لیے خالق ومالک کی طرف سے کوئی ہدایت نہیں، جسے اختیار کر کے وہ مستحق جنت بنیں، سرا سر خود فریبی ہے۔ نصاریٰ سیدنا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ماننے والے سمجھے جاتے ہیں انہیں معلوم ہے کہ ہم جس دین پر ہیں وہ دین نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو دے کر بھیجا تھا، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے یہ فرمایا ہو کہ میں اللہ کا بیٹا ہوں یا یہ فرمایا ہو کہ میری اور میری والدہ کی عبادت کرو، یا یہ فرمایا ہو کہ لوگ مجھے قتل کردیں گے اور میرے قتل کے بعد جو شخص یہ عقیدہ رکھے گا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کو قتل کرا کر ان سب لوگوں کے گناہوں کا کفارہ کردیا جو ان کو اللہ کا بیٹا مانیں، ایسا ہرگز نہیں ہے۔ یہ سب باتیں نصاریٰ کی خودتراشیدہ ہیں سیدنا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان میں سے کوئی بات بھی نہیں فرمائی انہوں نے تو صرف اللہ کی عبادت کرنے کی تبلیغ کی اور نصاریٰ جو کچھ کہتے ہیں ان کے پاس اس امر کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ یہ باتیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے بتائی ہیں۔ یہ باتیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے آسمان پر تشریف لے جانے کے بعد ان کے جھوٹے ماننے والوں نے کئی سو سال کے بعد تجویز کیں کیونکہ اس میں تن آسانی ہے اور پورے گناہ کرتے ہوئے مغفرت اور نجات کی گارنٹی ہے اس لیے نصاریٰ نے ان باتوں کو بغیر تحقیق کے قبول کر رکھا ہے اتوار کے دن پادری کہہ دیتا ہے کہ میں نے اس ہفتہ کے سب گناہ معاف کردیے۔ یہ کیسی خلاف عقل بات ہے کہ نافرمانی کی ہے خدائے پاک کی اور معاف کر رہی ہے مخلوق۔ ان پادریوں کو گناہ کے معاف کرنے میں خداوند تعالیٰ کا نائب مانتے ہیں۔ ان کو یہ نیابت کہاں سے ملی کس نے ان کو نائب بنایا ؟ ہر عقلمند کے سامنے یہ سوالات آتے ہیں۔ یہ سب کچھ نصاریٰ کا اپنا بنایا ہوا دین ہے، اور اوپر سے اس دھوکہ اور آرزو میں پڑے ہوئے ہیں کہ صرف ہماری ہی نجات ہوگی اور ہم ہی جنتی ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ کوئی بات بلا دلیل قبول نہیں ہوتی اور دنیا میں سب اسی قانون پر چلتے ہیں، لیکن آخرت کے بارے میں جہاں دوزخ کے دائمی عذاب سے نجات پانے کی ضرورت ہوگی۔ صرف خوش فہمی اور گمان اور خیالات اور اوھام اور آرزوؤں پر اکتفاء کئے ہوئے ہیں۔ ھد اھم اللہ تعالیٰ ۔ یہود و نصاریٰ کے علاوہ کفار کی دوسری قومیں بھی اپنے بارے میں خوش فہمیوں میں مبتلا ہیں اور ان سب نے محض جھوٹی آرزوؤں کا سہارا لے رکھا ہے۔ ان کے پاس ان کے دین کے حق ہونے کی اور اس بات کی کہ ان کا دین یوم آخرت میں ذریعہ نجات بنے گا کوئی دلیل نہیں ہے اور مشرکوں کی بیوقوفی دیکھو کہ پیدا کیا اللہ نے اور کھانے کو وہی دیتا ہے اور انسانوں کی ضرورت کا ہر سامان اسی نے پیدا فرمایا ہے لیکن پر ستش اور پوجا اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کی کرتے ہیں اور اس میں نجات سمجھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سب کو سمجھ دے۔