Ayah 2:223وطی فی الدبر کی حرمت اور یہود کی ایک بات کی تردید
صحیح بخاری ص 649 ج 2 میں ہے کہ حضرت جابر ؓ نے فرمایا کہ یہودی یوں کہتے تھے کہ جو کوئی مرد عورت کی سامنے کی شرم گاہ میں پیچھے کی جانب سے جماع کرے تو بچہ بھینگا پیدا ہوگا۔ ان کے اس خیال کی تردید میں یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں لہٰذا تم اپنی کھیتی میں آجاؤ جیسے چاہو۔ اس میں اول تو عورتوں کو کھیتی فرمایا اور مرد عورت کے میل ملاپ کی ضرورت اور فائدہ کو واضح طور پر بیان فرمایا کہ اس کی ضرورت اور مشروعیت اولاد طلب کرنے کے لیے ہے جیسا کہ سورة بقرہ ( کے رکوع 22) میں (وَابْتَغُوْا مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَکُمْ ) فرمایا ہے، نکاح کرنے میں جہاں نفس و نظر کی حفاظت ہے، وہاں طلب ولد بھی مطلوب ہے۔
حضرت معقل بن یسار ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ایسی عورت سے نکاح کرو جو محبت رکھنے والی ہو اور اس سے اولاد زیادہ پیدا ہونے والی ہو ( جس کا اندازہ خاندانی عورتوں کے احوال سے ہوجاتا ہے) کیونکہ میں (قیامت کے دن) تمہاری کثرت پر فخر کروں گا۔ (سنن ابو داؤد ص 280 ج 1)
اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ اولاد کی پیدائش پر کوئی پابندی لگانا یا اولاد کی کثرت کے خلاف منصوبے بنانا شریعت اسلامیہ کے مقصد اور مزاج کے خلاف ہے۔
پھر یہ فرمایا کہ تم اپنی کھیتیوں میں آجاؤ جس طرح ہو کر چاہو آجاؤ اس میں یہ بتادیا کہ عورت کے پاس مرد کے آنے کا راستہ صرف ایک ہی ہے، یعنی وہ راستہ جسے اختیار کرنے سے اولاد پیدا ہوتی ہے۔ اس میں اس بات کی بھی ممانعت فرمائی کہ کوئی شخص اپنی بیوی سے پیچھے کے راستہ سے شہوت پوری کرے۔ کیونکہ وہ راستہ کھیتی کا نہیں ہے بلکہ اس کی گندگی حیض والی گندگی سے زیادہ ہے۔ پہلے تو فرمایا : (فَاْتُوْھُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَکُمُ اللّٰہُ )
پھر فرمایا : (اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَھِّرِیْنَ )
پھر فرمایا : (فَاْتُوْا حَرْثَکُمْ اَنّٰی شِءْتُمْ ) اس میں ایک ہی سیاق میں تین اسلوب اختیار فرما کر عورت کے پیچھے والے راستہ سے شہوت پوری کرنے کی ممانعت فرما دی بعض اکابر نے فرمایا کہ غالباً صریح الفاظ میں اس کا ذکر نہ فرمانا اس لیے ہے کہ صراحتہً ایسے خبیث و بد ترین فعل کا تذکرہ بصورت نفی یا بصورت نہی بھی گوارا نہیں فرمایا گیا۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ارشاد فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جس شخص نے کسی حیض والی عورت سے شہوت پوری کی یا کسی عورت کے پیچھے والے راستہ میں شہوت والا کام کیا، یا کسی ایسے شخص کے پاس آیا جو غیب کی خبریں بتاتا ہو تو وہ اس دین کا منکر ہوگیا جو محمد ﷺ پر نازل کیا گیا۔ (مشکوۃ المصابیح ص 56)
تفسیر درمنثور ص 264 ج 1 میں بحوالہ ابو داؤد والنسائی رسول اللہ ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے کہ جس شخص نے کسی مرد یا کسی عورت کے پیچھے والے راستہ میں شہوت کا کام کیا وہ ملعون ہے اور حضرت ابو الدرداء ؓ سے سوال کیا گیا کہ کوئی شخص اپنی بیوی کے پیچھے والے راستہ میں شہوت کا کام کرے اس کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا ایسا کام کافر ہی کرسکتا ہے (در منثور) معلوم ہوا اغلام کرنا بیوی کے ساتھ بھی حرام ہے اور اہل کفر کا طریقہ ہے۔ أعاذ اللّٰہ منہ کل مؤمن۔
یہ جو فرمایا : (فَاْتُوْا حَرْثَکُمْ اَنّٰی شِءْتُمْ ) (کہ تم اپنی کھیتی میں آؤ جیسا چاہو) اس کا مطلب یہ ہے کہ کھڑے ہوئے بیٹھے ہوئے، سامنے سے پیچھے سے اپنی بیویوں سے لذت حاصل کرو، بشرطیکہ کھیتی کی جگہ پر آؤ۔
حضرت ابن عباس ؓ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ پر آیت جو (نِسَآؤُکُمْ حَرْثٌ لَّکُمْ فَاْتُوْا حَرْثَکُمْ ) (آخر تک) نازل ہوئی ہے۔ اس میں اس بات کی اجازت دی گئی ہے کہ عورتوں سے جو خاص تعلق ہے اس کے لیے آگے سے آؤ یا پیچھے سے آؤ (دونوں طرح اختیار ہے) اور دبر میں (یعنی پیچھے کے راستے میں) اور حیض کے زمانہ میں جماع کرنے کی ممانعت فرما دی ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس کی طرف (رحمت کی نظر سے) نہیں دیکھے گا جس نے کسی مرد یا عورت کے پیچھے والے راستہ میں شہوت کا کام کیا۔ (رواہ الترمذی)
پھر فرمایا : (وَ قَدِّمُوْا لِاَنْفُسِکُمْ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ) (کہ اپنی جانوں کے لیے خیر آگے بھیج دو ، اور اللہ سے ڈرو) ۔۔ اس میں ہر خیر کا حکم آگیا اور ہر شر سے بچنے کی تاکید آگئی۔ (وَاتَّقُوا اللّٰہَ ) کے عموم میں تمام گناہوں کے چھوڑنے کا حکم فرمایا۔ چھوٹے ہوں یا بڑے، پھر تقویٰ حاصل کرنے کا طریقہ بتادیا اور فرمایا (وَ اعْلَمُوْٓا اَنَّکُمْ مُّلٰقُوْہُ ) (کہ تم جان لو کہ بیشک تم اللہ سے ملاقات کرنے والے ہو) جو شخص یوم القیامہ کی حاضری، اور خداوند قدوس کی بارگاہ میں پیشی کا یقین رکھے گا اور بار بار اس کا استحضار کرے گا اسے انشاء اللہ تعالیٰ صفت تقویٰ حاصل ہوگی۔
آخر میں فرمایا (وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ ) (کہ مومن بندوں کو کامیابیوں کی اور نعمتوں کی بشارت دے دیجیے)
Ayah 2:224اپنی قسموں کو نیکی اور تقویٰ سے بچنے کا ذریعہ نہ بناؤ
اسباب النزول ص 72 میں ہے کہ یہ آیت شریفہ حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ کے بارے میں نازل ہوئی، ان کے بہنوئی اور بہن کے درمیان کچھ ناراضگی ہوگئی تھی انہوں نے قسم کھائی کہ اس کے پاس کبھی بھی نہیں جائیں گے اور نہ اس سے بات کریں گے اور نہ میاں بیوی کے درمیان صلح کرائیں گے وہ کہتے تھے کہ میں نے تو قسم کھا رکھی ہے۔ اب میں اس کی خلاف روزی کیسے کروں۔ اس پر اللہ جل شانہ نے آیت بالانازل فرمائی۔
تفسیر درمنثور ص 268 ج 1 میں ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ بعض مرتبہ کوئی شخص قسم کھا لیتا تھا کہ فلاں نیکی اور تقویٰ کا کام نہیں کرونگا اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا۔
اگر کوئی شخص قسم کھائے تو خیر کی قسم کھائے یعنی نیک کام کے ارادہ کو موکد کرنے کے لیے قسم کھائی جاسکتی ہے۔ لیکن نیکی نہ کرنے پر قسم کھانا اور گناہ کرنے پر قسم کھانا شرعاً ممنوع ہے بعض لوگ جو قسم کھالیتے تھے کہ میں فلاں عزیز کے گھر نہیں جاؤں گا یا فلاں مسلمان بھائی کی دعوت قبول نہیں کروں گا یا جماعت سے نماز نہیں پڑھوں گا یا فلاں گناہ کروں گا ایسے لوگوں کو آیت بالا میں ہدایت دی گئی ہے اور فرمایا کہ اللہ کے نام کو نیکیوں سے بچنے اور تقویٰ چھوڑنے کا ذریعہ مت بناؤ، قسم کھا بیٹھے اب کہتے ہیں کہ قسم کے خلاف کیسے کریں ؟ حالانکہ قسم اس لیے نہیں ہے کہ اس کو خیر سے بچنے کا ذریعہ بنایا جائے، اگر کوئی شخص گناہ کی قسم کھالے تو قطع رحمی کی یا کسی بھی قسم کے گناہ کی قسم کھالے تو اس پر لازم ہے کہ قسم توڑ دے اور اس کے خلاف کرلے، اور قسم کا کفارہ دیدے۔
حضرت عوف بن مالک ؓ کا بیان ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں اپنے چچا کے پاس جاتا ہوں اس سے کچھ سوال کرتا ہوں ہو وہ مجھے نہیں دیتا اور صلہ رحمی نہیں کرتا، پھر اسے حاجت در پیش ہوجاتی ہے تو مجھ سے آکر سوال کرنے لگتا ہے حالا ن کہ میں نے قسم کھا رکھی ہے کہ اسے کچھ نہ دوں گا اور صلہ رحمی نہیں کرونگا، اس کے بارے میں آپ کا کیا ارشاد ہے آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں وہ کام کروں جو خیر ہو اور قسم کا کفارہ دیدوں۔ (مشکوۃ المصابیح ص 297)
سورة نور میں ارشاد فرمایا : (وَلاَ یَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْکُمْ وَالسَّعَۃِ اَنْ یُّؤْتُوْٓا اُولِی الْقُرْبٰی وَالْمَسَاکِیْنَ وَالْمُہَاجِرِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَلْیَعْفُوْا وَلْیَصْفَحُوْا اَلاَ تُحِبُّونَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰہُ لَکُمْ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ) ” اور جو لوگ تم میں بزرگی اور وسعت والے ہیں وہ اہل قرابت کو اور مساکین کو اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو دینے سے قسم نہ کھا بیٹھیں اور چاہئے کہ معاف کردیں اور درگزر کریں۔ کیا تم یہ بات نہیں چاہتے کہ اللہ تعالیٰ تمہارا قصور معاف کردے۔ بیشک اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔ “
حضرت ابوبکر صدیق ؓ اپنے ایک بھانجہ پر خرچ کیا کرتے تھے اس سے ایک ایسی حرکت سرزد ہوگئی جس کی وجہ سے حضرت ابوبکر ؓ کو بہت ناراضگی ہوئی اور انہوں نے قسم کھالی کہ میں اب اس پر خرچ نہیں کیا کرونگا۔ اس پر سورة نور کی مذکورہ آیت نازل ہوئی۔ حضرت عبداللہ بن سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ : جب تو کوئی قسم کھالے پھر تو دیکھے کہ جس چیز پر قسم کھائی ہے دوسری چیز اس سے بہتر ہے (جو اس کے مقابل ہے) تو اس بہتر صورت کو اختیار کرلے (اور اس کے اختیار کرنے سے جو قسم ٹوٹ گئی) اس کا کفارہ دیدے۔ (رواہ البخاری و مسلم کمافی المشکوۃ ص 296) ۔
Ayah 2:225قسموں کی قسموں کا بیان اور ان کے احکام
جو قسم کھائی جائے اس کی تین صورتیں ہیں ایک یہ کہ گزشتہ کسی فعل پر جھوٹی قسم کھائی جائے، جو کام نہیں کیا تھا اس کے بارے میں قسم کھالے کہ میں نے کیا، یا جو کام کیا تھا اس کے بارے میں قسم کھالی کہ یہ میں نے نہیں کیا۔ اس کو یمین غموس کہا جاتا ہے اس کا بہت بڑا گناہ ہے، صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بڑے گناہ یہ ہیں، اللہ کے ساتھ شریک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، کسی جان کو قتل کرنا اور یمین غموس۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 17)
یہ لفظ غمس سے لیا گیا ہے جس کا معنی ہے کسی چیز کو پوری طرح کسی دوسری چیز میں داخل کردیا جائے۔ علماء نے لکھا ہے کہ جھوٹی قسم کو یمین غموس اس لیے کہا گیا کہ یہ اولاً گناہ میں پھر دوزخ میں داخل کردیتی ہے۔
دوسری صورت یہ ہے کہ آئندہ کسی کام کے بارے میں قسم کھائے، مثلاً یوں کہے کہ اللہ کی قسم یہ کام ضرور کروں گا، یا اللہ کی قسم فلاں کام نہیں کروں گا، اس کو یمین منعقدہ کہا جاتا ہے، اس کی خلاف ورزی کرنے پر کفارہ واجب ہوتا ہے۔ جو سورة مائدہ کے رکوع نمبر 12 میں مذکور ہے کفارہ قسم کی تفصیلات انشاء اللہ تعالیٰ وہیں بیان ہو نگی۔
تیسری صورت یہ ہے کہ کسی گزشتہ کام پر قسم کھالی اور یہ سمجھ کر قسم کھالی کہ میں سچ بول رہا ہوں سچی قسم کھا رہا ہوں، حالانکہ حقیقت میں ایسا نہ تھا جیسا اس نے سمجھا تھا اپنے خیال میں اس نے سچی قسم کھائی لیکن اصل واقعہ اس کے خلاف تھا۔ اس قسم کا نام یمین لغو ہے، اس کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس پر مواخذہ نہیں فرمائے گا، یمین لغو کی دوسری تفسیر حضرت عائشہ ؓ سے یوں منقول ہے کہ باتوں باتوں میں قسم کی نیت کے بغیر جو زبان سے لاو اللہ اور بلیٰ واللہ نکل جاتا ہے یہ یمین لغو ہے۔ (رواہ البخاری ص 986 ج 2)
یمین لغو میں کیونکہ ارادہ نہیں ہوتا اس لیے اس پر مواخذہ نہیں ہے۔ آیت کے ختم پر فرمایا (وَ اللّٰہُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ) کہ اللہ تعالیٰ بخشنے والا ہے جو یمین لغو پر مواخذہ نہیں فرمائے گا۔ اور بردبار بھی ہے سزا دینے میں جلدی نہیں فرماتا۔
Ayahs 2:226–227بیوی کے پاس نہ جانے کی قسم کا بیان
جو کوئی شخص یہ قسم کھالے کہ میں اپنی بیوی سے جماع نہیں کروں گا۔ اس کے لیے شریعت میں کچھ احکام ہیں۔ اگر قسم کھا کر یوں کہا کہ اپنی بیوی سے جماع نہیں کروں گا لیکن کوئی مدت مقرر نہیں کی، یا یوں کہا کہ چار ماہ تک اس سے جماع نہیں کروں گا یا چار ماہ سے زیادہ کا ذکر کردیا (جس میں ہمیشہ کے لیے قسم کھانا بھی شامل ہے) یا چار مہینہ سے کم مدت مقرر کردی۔ تو ان سب صورتوں میں پہلی تین صورتوں کو ایلاء کہا جاتا ہے۔ ان تینوں صورتوں میں اگر چار مہینے گزر گئے اور اس نے قسم نہیں توڑی یعنی اس میں بیوی سے جماع نہیں کیا تو اس سے ایک بائن طلاق واقع ہوجائے گی۔ جس کا حکم یہ ہے کہ اب بلا نکاح ثانی کے رجوع نہیں ہوسکتا۔ آپس کی رضا مندی سے دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے۔ اور مذکورہ بالاتینوں صورتوں میں اگر چار ماہ کے اندر اس نے بیوی سے جماع کرلیا جس سے ایلاء کیا تھا تو قسم ٹوٹ گئی۔ اور اس صورت میں بیوی تو نکاح سے نہیں نکلی لیکن قسم ٹوٹ جانے کی وجہ سے قسم توڑ نے کا کفارہ واجب ہوگا جو سورة مائدہ میں مذکور ہے۔ اب رہ گئی چوتھی صورت جس میں چار مہینہ سے کم کی مدت مقرر کر کے بیوی سے جماع نہ کرنے کی قسم کھائی تھی اس میں اگر مدت مقررہ کے اندر جماع کرلیا تو قسم توڑنے کا کفارہ واجب ہوگا اور بیوی نکاح سے نہیں نکلے گی، اور اگر مدت مقررہ پوری کرلی تو قسم پوری ہوگئی جس کا کوئی کفارہ نہیں اور نکاح بھی اپنی حالت پر باقی رہا۔ قسم کھانے کے بعد رجوع کرنے کو فیئی کہتے ہیں۔ عربی زبان میں یہ لفظ بھی رجوع کے معنی میں آتا ہے۔
فائدہ اولیٰ : ایلاء کی صورت میں حکم ایلاء اسی وقت ختم ہوگا جبکہ چار مہینہ کے اندر جماع کرلے، یہ رجوع بالعمل ہے لیکن اگر کوئی ایسی مجبوری ہو کہ جماع نہیں کرسکتا مثلاً یہ کہ عورت مریض ہے جماع کے قابل نہیں یا کم عمر ہے تو اس صورت میں رجوع بالقول بھی ہوسکتا ہے۔ وہ یہ کہ مدت ایلاء میں زبان سے کہہ دے فِءْتُ اِلَیْھَا۔ (یعنی میں نے اپنی بیوی کی طرف رجوع کرلیا) لیکن اگر ایلاء کے اندر پھر جماع پر قادر ہوگیا تو یہ رجوع باللسان باطل ہوجائے گا اور اب لازم ہوگا کہ رجوع بالعمل کرے، یعنی جماع کرلے، اگر جماع نہ کیا اور چار مہینے گزر گئے۔ تو حسب قانون طلاق بائن واقع ہوجائے گی۔
فائدہ ثانیہ : اگر یوں قسم کھائی تھی کہ کبھی بھی اس سے جماع نہیں کروں گا اور چار مہینہ تک جماع نہیں کیا تو ایک طلاق بائن ہوجائے گی اور قسم باقی رہے گی، جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اگر پھر اس سے نکاح کرلیا تو قسم باقی رہنے کی وجہ سے ایلاء کا حکم نافذ ہوگا۔ اگر اس دوسرے نکاح کے بعد چار مہینے کے اندر قسم ٹوٹ گئی، جس کا کفارہ واجب ہوگا اور بیوی پر طلاق واقع نہ ہوگی، لیکن اگر نکاح ثانی کی ابتداء سے لے کر چار ماہ پورے ہوجانے تک جماع نہ کیا تو پھر طلاق بائن واقع ہوجائے گی پھر اگر تیسرے نکاح کے بعد سے لے کر چارماہ گزر جانے تک جماع نہیں کیا تو تیسری طلاق واقع ہوجائے گی، اور اگر اس مدت کے اندر جماع کرلیا تو طلاق واقع نہ ہوگی لیکن قسم ٹوٹ جائے گی اس کا کفارہ دینا ہوگا۔ (من الہدایہ)
فائدہ ثالثہ : یہ چار ماہ جن کا بار بار ذکر ہوا چاند کے حساب سے معتبر ہوں گے۔ اس میں شمسی مہینوں کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔
اسباب النزول ص 72 میں ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اہل جاہلیت کا ایلاء سال دو سال اور اس سے زیادہ بھی جاری رہتا تھا۔ اللہ جل شانہ نے چار مہینہ کی میعاد مقرر فرما دی۔ لہٰذا چار مہینے سے کم پر جو قسم کھائے گا تو وہ ایلاء نہ ہوگا (اگرچہ خلاف روزی کرنے پر قسم کا کفارہ دینا لازم ہوگا) اور چار ماہ یا اس سے زیادہ کی قسم کھانے پر چار مہینے تک فئی نہ کرے گا تو طلاق واقع ہو جائیگی (مطلق قسم چونکہ چار ماہ کو بھی شامل ہے اس لیے وہ بھی ایلا ہوگی) ۔
حضرت سعید بن المسیب ؓ نے فرمایا کہ زمانہ جاہلیت میں لوگوں نے عورتوں کو تکلیف پہنچانے کے لیے ایلاء کا طریقہ اختیار کر رکھا تھا۔ جو شخص اپنی بیوی کو نہیں چاہتا تھا اور ساتھ یہ بھی پسند نہیں کرتا تھا کہ کسی دوسرے شخص سے نکاح کرے تو یہ قسم کھا لیتا تھا کہ کبھی بھی اس کے پاس نہیں جائے گا پھر اس کو اسی حال پر چھوڑے رکھتا تھا اور عورت کی زندگی اس طرح گزرتی تھی کہ نہ وہ شوہر والی ہے اور نہ بےشوہر والی ہے۔ اللہ جل شانہ نے ایلاء کی ایک مدت مقرر فرمادی ...... اور آیت شریفہ (لِلَّذِیْنَ یُؤْلُوْنَ مِنْ نِّسَآءِھِمْ ) (آخر تک) نازل فرما دی۔ (معالم التنزیل ص 202 ج 1)
Ayah 2:228مطلقہ عورتوں کی عدت کا بیان
مرد عورت آپس میں ایک دوسرے کے محتاج ہیں، اس حاجت کے انتظام کے لیے اللہ تعالیٰ نے نکاح کا قانون مشروع فرمایا ہے۔ اور نکاح اس لیے ہے کہ دونوں اطمینان اور سکون کے ساتھ اچھی زندگی گزاریں اور مل جل کر حسن سلوک کے ساتھ رہیں اور زندگی بھر نباہنے کی کوشش کریں، آپس میں کوئی ناگوار بات ہوجائے تو اس سے درگزر کرتے رہیں، لیکن کبھی ایسے حالات بن جاتے ہیں کہ ساتھ رہنا دشوار ہوجاتا ہے۔ ایک طرف سے یا دونوں طرف سے طبیعت کا جوڑ نہیں کھاتا اور باہمی میل جول کی خوبصورتی کے ساتھ کوئی صورت نہیں بنتی تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے طلاق اور خلع کا قانون مشروع فرما دیا، بہت سی قوموں میں نکاح تو ہے لیکن طلاق نہیں ہے۔ یہ لوگ پہلے اسلام پر اعتراض کیا کرتے تھے لیکن جب حالات نے مجبور کیا تو خود طلاق کا قانون بنا کر اپنے دین میں داخل کر رہے ہیں۔ چونکہ ان کا دین اپناہی بنایا ہوا ہے اس لیے اس میں کمی بیشی بھی کرتے رہتے ہیں۔
ہر چند کہ اسلام میں میاں بیوی کا آپس میں نباہ بہت زیادہ محبوب و مرغوب ہے لیکن اس قدر مجبور بھی نہیں کہ باہمی ساتھ رہنے میں اچھے طریقہ پر زندگی نہ گزار سکیں تو خواہ مخواہ بددلی کے ساتھ نباہتے رہیں اور ایک دوسرے کے لیے سوہان روح بنے رہیں۔
اسلام میں جو طلاق کا قانون ہے اس کے کچھ احکام بھی ہیں۔ ان احکام میں ایک یہ بھی ہے کہ عورت طلاق کے بعد کچھ ایسی مدت گزارے گی۔ جس میں کسی دوسرے مرد سے نکاح نہیں کرسکے گی۔ اس مدت کے گزرنے کو عدت کہتے ہیں۔ عدت لغت میں شمار کرنے کے معنی میں آتا ہے، چونکہ عورت کو یہ مدت گزارنے کے لیے مہینے یا حیض شمار کرنے پڑتے ہیں اس لیے اس کو عدت کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے، عدت کے بعد احکام یہاں آیت بالا میں مذکور ہیں اور بعض احکام سورة طلاق کے پہلے رکوع میں ذکر فرمائے ہیں۔ جس عورت کو اس کا شوہر طلاق دیدے تو دیکھا جائے گا کہ اس کو حمل ہے یا نہیں، اگر اس کو حمل ہے تو اس کی عدت و ضع حمل یعنی ولادت ہوجانے پر ختم ہوجائے گی، سورة الطلاق میں فرمایا ہے :
(وَاُوْلاَتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَہُنَّ ) ” اور حمل والی عورتوں کی اجل یعنی ختم عدت یہ ہے کہ وضع حمل ہوجائے۔ “
اور مطلقہ اگر حمل والی عورت نہیں ہے نا بالغ ہے یا بالغ تو ہے لیکن اسے اب تک حیض آیا ہی نہیں یا وہ کبھی حیض والی تھی بوڑھی ہوچکی ہے اور حیض آنے سے ناامید ہوچکی ہے تو ان تینوں قسم کی عورتوں کی عدت طلاق یہ ہے کہ تین ماہ گزار دیں، ان کو سورة طلاق میں یوں ارشاد فرمایا ہے : (وَاللَّاءِیْ یَءِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَاءِکُمْ اِِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلاَثَۃُ اَشْہُرٍ وَّاللَّاءِیْ لَمْ یَحِضْنَ ) ” اور جو عورتیں حیض آنے سے ناامید ہوچکی ہیں تمہاری عورتوں میں سے اگر تم شک میں پڑو تو ان کی عدت تین ماہ ہے اور جن کو حیض نہیں آیا ان کی عدت بھی یہی ہے۔ “
اب ان عورتوں کا حکم جاننا چاہئے جو حمل والی نہیں ہیں اور ان کو حیض آتا ہے ایسی عورتوں کو طلاق ہوجائے تو ان کی عدت یہ ہے کہ طلاق کے بعد تین حیض گزاریں۔ جب شرعی اصول کے مطابق تین حیض گزر جائیں گے تو عدت پوری ہوجائے گی۔ خواہ کتنے ہی مہینے میں تین حیض آئیں، آیت بالا میں انہیں عورتوں کی عدت بیان فرمائی ہے جن کو حیض آتا ہے، زمانہ حیض میں طلاق دینا ممنوع ہے جب کسی شخص نے طہر میں یعنی ایسے زمانہ میں طلاق دی جو پاکی کا زمانہ ہے حیض کا زمانہ نہیں تو یہ عورت ایک حیض گزارے پھر ایک طہر گزارے پھر ایک حیض گزارے پھر ایک طہر گزارے پھر ایک حیض گزارے۔ جب تیسرا حیض ختم ہوجائے تو عدت ختم ہوجائے گی۔
ابھی بیان کیا گیا کہ جس عورت کو حمل ہو اس کی عدت وضع حمل تک ہے۔ حمل اور حیض یہ دونوں ایسی چیزیں ہیں جن کا تعلق خود عورت کی ذات سے ہے وہ جانتی ہے کہ مجھے حیض ہے یا دونوں میں سے کچھ بھی نہیں، اب یہاں عورت کی دیانت پر مسئلہ موقوف ہوجاتا ہے۔ عورت سمجھتی ہے کہ وضع حمل میں تو کئی مہینے لگیں گے لہٰذا میں یوں بیان کر دوں کہ مجھے حمل نہیں ہے اور حیض والی بھی نہیں ہوں۔ اس طرح عدت مہینوں پر آجائے گی اور تین ماہ گزر جانے پر میرے بارے میں عدت کا فیصلہ کردیا جائے گا کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بعض مہینوں میں طہر کا زمانہ لمبا ہوگیا کئی ماہ سے حیض نہیں آ رہا لیکن عدت کا فیصلہ جلد ہوجانے کی وجہ سے دو تین ماہ میں کہہ دیتی ہے کہ مجھے تین حیض آ چکے ہیں حالانکہ ابھی تین حیض نہیں آئے اس طرح کی غلط بیانی کرنا حرام ہے، اس بات کو ان الفاظ میں بیان فرمایا : (وَ لَا یَحِلُّ لَھُنَّ اَنْ یَّکْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ فِیْٓ اَرْحَامِھِنَّ اِنْ کُنَّ یُؤْمِنَّ باللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرْ ) (اور ان کے لیے یہ حلال نہیں ہے کہ جو کچھ اللہ نے ان کے رحموں میں پیدا فرمایا ہے اسے چھپائیں اگر اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہیں)
جو کوئی شخص اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور آخرت کے دن کی پیشی کا اعتقاد رکھتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ کوئی نہیں جانتا تو اللہ تو جانتا ہے ایسا شخص امانت و دیانت کی صفت سے متصف ہوجاتا ہے پھر وہ جھوٹ نہیں بول سکتا اور غلط بیانی نہیں کرسکتا۔
پھر فرمایا : ( وَ بُعُوْلَتُھُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّھِنَّ فِیْ ذٰلِکَ اِنْ اَرَادُوْٓا اِصْلَاحًا) (اور ان کے شوہر ان کے لوٹانے کے زیادہ حقدار ہیں۔ اس مدت کے اندر اگر وہ اصلاح کا ارادہ کریں)
اس میں طلاق رجعی سے متعلق ایک مسئلہ بیان فرمایا ہے جب کوئی شخص اپنی بیوی کو صاف صریح لفظوں میں ایک یا دو طلاق دیدے تو یہ طلاق رجعی ہوتی ہے جس کا حکم یہ ہے کہ عدت کے اندر اندر نکاح ثانی کے بغیر شوہر رجوع کرسکتا ہے اگر عدت گزر جائے تو یہ طلاق رجعی بائن ہوجاتی ہے جس کے بعد رجوع کا حق نہیں رہتا۔
یہ اس صورت میں ہے کہ جب نکاح کے بعد جماع بھی ہوا ہو، اگر نکاح ہوا ہو اور اس کے بعد جماع نہ ہوا اور طلاق دیدے تو یہ طلاق رجعی نہیں بلکہ طلاق بائن ہوگی۔ طلاق رجعی جس کے بعد شوہر کو رجوع کا حق ہے اس طلاق کے بعد عدت کے اندر شوہر رجوع کرنا چاہے تو عورت کے رشتہ دار یا کوئی بھی شخص بلکہ خود عورت بھی اس کو برا نہ مانے اور کوئی شخص ایسی صورت حال پیدا نہ کر دے جس سے کہ وہ رجوع کے ارادے کو موقوف کر دے، بلکہ جوڑ لگانے کی اور تعلق استوار ہوجانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ شوہر اگر رجوع کرلے تو عورت اور عورت کے رشتہ داروں کی مرضی کے بغیر رجوع تو ہو ہی جائے گا۔ لیکن سب کی خوشی اور رضا مندی سے ہو اور آپس کے تعاون کے ساتھ ہو تو زیادہ مستحسن اور مبارک ہوگا۔
جس طرح عورت اور اس کے رشتہ داروں کو چاہئے کہ رجوع کی فضا بن جائے تو اس میں آڑے نہ آئیں اور ایسی باتیں نہ کریں جن سے شوہر کا دل کھٹا ہوجائے۔ اسی طرح سے شوہر کو بھی لازم ہے کہ اصلاح کی نیت سے رجوع کرے۔ اس کو (اِنْ اَرَادُوْٓا اِصْلَاحًا) میں بیان فرما دیا ہے۔
شوہر اگر یہ سمجھتا ہے کہ آئندہ میں خوش اسلوبی اور حسن معاشرت اور حسن اخلاق کے ساتھ نباہ کرسکوں گا تو رجوع کرلے، ضرر دینے کا ارادہ نہ کرے۔ بہت سے لوگ جہالت کی وجہ سے اور نفس کی بھڑ اس نکالنے کے لیے رجوع کرلیتے ہیں اور پھر حسن سلوک سے پیش نہیں آتے بلکہ صاف کہہ دیتے ہیں تو یوں ہی پڑی رہے گی۔ نہ تیرا حق ادا کروں گا۔ نہ نکاح سے خارج کرونگا اور بہت سے لوگ رجوع کرکے پھر طلاق دیتے ہیں جس سے عدت لمبی ہوتی جاتی ہے، یہ بھی ضرر پہنچانے کا ایک پہلو ہے۔ یہ سب طریقے غیر اسلامی ہیں۔ اصلاح مقصود ہو تو رجوع کرے ورنہ عدت گزرنے دے، عدت گزرتے ہی رجعی طلاق بائن ہوجائے گی، پھر وہ جہاں چاہے اپنی مرضی سے مناسب جگہ نکاح کرلے گی، جب نباہ کرنا نہیں ہے تو رجوع کر کے تکلیف دینا سمجھداری اور دینداری کی بات نہیں ہے۔ بلکہ ظلم ہے۔
اسلام میں عورت کی حیثیت :
پھر فرمایا (وَ لَھُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْھِنَّ بالْمَعْرُوْفِ ) (اور عورتوں کے لیے اس جیسا حق ہے جو ان کے اوپر ہے اچھے طریقہ پر) اس میں یہ بتایا ہے کہ صرف یہی بات نہیں ہے کہ مردوں ہی کے حقوق عورتوں پر ہیں بلکہ جس طرح مردوں کے عورتوں پر حقوق ہیں اسی طرح مردوں پر بھی عورتوں کے حقوق ہیں۔ عورت کو خدمت گزار سمجھنا اور اس کے حقوق اور حاجات کا دھیان نہ رکھنا، شریعت اسلامیہ سراسر خلاف ہے۔
زمانہ اسلام سے پہلے دنیا کی اقوام میں عورت کی بہت بری گت بنائی جاتی تھی۔ اب باو جود یکہ زمانہ کافی آگے بڑھ چکا ہے۔ پھر بھی اسلام کے علاوہ کسی دین یا قانون میں عورت کو وہ مقام حاصل نہیں جو شریعت اسلامیہ نے اس کو دیا ہے۔ ہندوستان کے مشرکین میں تو یہ دستور تھا کہ مرد مرجاتا تھا تو عورت کو اس کے ساتھ زندہ جلنا پڑتا تھا اور عورتوں کا میراث میں کسی بھی مذہب اور قانون میں حصہ نہیں ہے۔ زمانہ جاہلیت میں یہ دستور تھا کہ عورت کی حیثیت ایک استعمالی چیز سے زیادہ نہ تھی، عورت مردوں کی ملکیت تصور کی جاتی تھی، عورت کسی چیز کی مالک نہ تھی، جب اس کا شوہر مرجاتا تھا تو شوہر کے خاندان والے ہی اس پر قابض ہوجاتے تھے اور اس کی اجازت کے بغیر جہاں چاہتے جبراً نکاح کردیتے تھے بلکہ شوہر کی اولاد ہی اپنی سوتیلی ماں سے نکاح کرلیتی تھی۔ عرب کے جاہل لڑکیوں کو زندہ درگور بھی کردیتے تھے اور پیدا ہوتے ہی قتل کردیتے تھے اسلام نے عورت کو اس کا صحیح مقام عطا فرمایا جو اس کی شان کے لائق ہے۔ ایسا بھی نہیں کہ اس کو عورت سے نکال کر مردوں کی صف میں کھڑا کر دیاہو اور ایسا بھی نہیں کہ وہ محض ایک استعمال کی چیز بن کر رہ جائے نہ اس کا کوئی حق تسلیم کیا جائے اور نہ اس کی کوئی حیثیت مانی جائے۔
اسلام میں عورت گھر کی ملکہ ہے اپنی اولاد کی محترم والدہ ہے اپنے شوہر کی چہیتی بیوی ہے باپ ماں شوہر اور اولاد کے مال کی حسب قوانین وارث ہے اور اپنے مال میں تصرف کرنے کا اسے پورا اختیار ہے جس میں شوہر کی ممانعت کا کوئی حق نہیں ہے۔ بشرطیکہ خلاف شرع کا موں میں خرچ نہ کرے۔ عورت کا ایک طرف میراث میں حصہ ہے دوسری طرف شوہروں پر مہر لازم ہوتا ہے، اور یہ مہر عورتوں کی مرضی سے مقرر ہوتا ہے۔ کمی بیشی کرنا ان کا اپنا حق ہے، وہ چاہیں اپنی مرضی سے معاف کریں اور چاہیں تو پورا وصول کریں۔ اسلام نے صلہ رحمی کی بھی تعلیم دی ہے ایک عورت کسی کی والدہ ہے کسی کی بہن ہے۔ کسی کی خالہ ہے۔ کسی کی پھوپھی ہے۔ صلہ رحمی کے اصول پر سب کو اس کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ شوہر بھی حسن معاشرت سے پیش آئے، نان نفقہ کا خیال کرے اور اس کی حاجات پوری کرے اولاد بھی اکرام و احترام سے پیش آئے۔ اس طرح عورت کی برتری ظاہر ہوگی اور معاشرہ میں اس کا مرتبہ اونچا ہوگا۔ اور عزت و اکرام کے ساتھ اس کی زندگی گزرے گی۔
یورپین اقوام میں عورت کی بےآبروئی :
یورپین اقوام نے عورت کو بالکل ہی بےآبرو کرکے چھوڑ دیا ہے، ان کے یہاں عورت مرد کی نفسانی خواہش پوری کرنے کا محض ایک آلہ ہے۔ ان کے معاشرہ میں اس سے زیادہ عورت کی کوئی حیثیت نہیں۔ میراث میں اسے کوئی حصہ نہیں ملتا۔ مہر کا بھی کوئی معاملہ نہیں، بلکہ سرے سے نکاح ہی کو ان کے یہاں عیب سمجھا جاتا ہے۔ دوستانہ طریقہ پر برسوں زندگی گزارتے ہیں اور نفسانی خواہشات پوری کرتے ہیں۔ بعد میں کبھی رسمی نکاح بھی کرلیتے ہیں۔ اس لیے ان میں اولاد بھی ثابت النسب نہیں ہے۔ اولاد کی ولدیت میں ماں کے نام لکھے جاتے ہیں اور عورتوں کے اخراجات کی ذمہ داری عموماً چونکہ کسی پر نہیں ہے اس لیے انہیں اپنی آبرو کھو کر ملازمتیں کرنی پڑتی ہیں راہ گیر کے جوتوں پر پالش کرتی ہیں۔ دکانوں میں مال فروخت کرنے پر ملازمت کرتی ہیں۔ ننگا لباس پہن کر شوروموں کے پاس کھڑی رہتی ہیں تاکہ گاہک متوجہ ہو اور آنے والوں کا نفس ان کی طرف مائل ہو جس سے زیادہ خریداری ہو سکے۔
اس آزادی نسواں کو دیکھ کر بہت سے نام نہاد مسلمان بھی اپنی عورتوں کو یورپین اقوام کی طرح دیکھنا چاہتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ عورتیں بازاروں میں کاروبار کریں۔ بےپردہ ہو کر رہیں۔ عورتیں ناقص العقل تو ہیں ہی وہ سمجھتی ہیں کہ ہمیں حق دلائے جا رہے ہیں، اور بےپردہ گھومنے اور ننگا لباس پہننے اور دوست تلاش کرنے کی آزادی کو اپنے لیے ہنر اور فخر کی بات سمجھتی ہیں۔ افسوس کہ دور حاضر میں عورت کو یہ گوارا نہیں کہ گھر کی ملکہ بن کر گھر میں بیٹھے، گھر کے سب لوگ اس کا احترام و اکرام کریں اپنے شوہر سے بھی مال ملے۔ میراث میں بھی حصہ ملے اور نفس و نظر کا تعلق صرف شوہر سے رہے اور اپنے مال میں جیسے چاہے تصرف کرے، وہ شیطانوں اور ملعونوں اور ملحدوں اور زندیقوں سے متاثر ہو کر گھر سے باہر نکلنے اور خود کما کر اپنا خرچ اٹھانے پر اپنے حقوق کی ادائیگی سمجھتی ہیں۔
یورپ کے رواجی طریقوں میں جب عورت کا کسی پر کوئی حق ہی نہیں ہے تو کوئی شخص ان کا کیا حق ادا کرے گا ؟ درحقیقت عورت کی یہ کوئی زندگی نہیں ہے جو مذہب اسلام کے علاوہ دوسرے مذاہب اور قوانین میں ہے۔ دنیا میں ایسے ممالک بھی ہیں جہاں زنا کی کثرت ہے جو بچے پیدا ہوتے ہیں حکومت ان کی پرورش کرتی ہے ...... نہ کوئی ماں ہے نہ باپ نہ چچا ہے، نہ ماموں، نہ خالہ، نہ پھوپھی، نہ صلہ رحمی ہے، نہ نکاح ہے نہ مہر ہے۔ اس سے زیادہ انسانیت کی مٹی اور کیا پلید ہوگی، ان لوگوں کی ناسمجھی کی کہاں تک داد دی جائے جو انسانیت و نسوانیت کا خون کر رہے ہیں اور دعویٰ ان کا یہ ہے کہ وہ حقوق انسانی کے محافظ ہیں، اور عورتوں کو ان کے حقوق دلا رہے ہیں۔
مردوں کو عورتوں پر فوقیت ہے :
پھر فرمایا (وَ للرِّجَالِ عَلَیْھِنَّ دَرَجَۃٌ) (اور مردوں کو ان پر فضیلت ہے) اس میں یہ بتایا کہ اگرچہ میاں بیوی کے آپس میں ایک دوسرے پر حق ہیں (اور ہر ایک دوسرے کا حق ادا کرے) لیکن مردوں کو عورتوں پر ایک طرح کی برتری اور فضیلت حاصل ہے۔ سورة النساء میں فرمایا ہے (اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَی النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰہُ بَعْضَھُمْ عَلٰی بَعْضٍ وَّ بِمَآاَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِھِمْ )
” مرد حاکم ہیں عورتوں پر اس سبب سے کہ اللہ تعالیٰ نے بعضوں کو بعضوں پر فضیلت دی ہے اور اس سبب سے کہ مردوں نے اپنے مال خرچ کیے ہیں۔ “
اللہ تعالیٰ نے مردوں کے ذمہ عورتوں کا خرچہ مقرر فرمایا ہے اور مردوں کو ان پر فضیلت دی ہے وہ ان پر حکمران ہیں امور خانہ داری میں اور دینی پابندی کرانے میں اور عورت کو اس کے ماں باپ کے یہاں آنے جانے میں اور بہت سے امور میں مرد کے حکموں کی فرما نبرداری کرنا لازم ہے اس کے بغیر گھر کا نظام ٹھیک نہیں بیٹھتا، اگر مرد کی برتری عورتوں پر بالکل ہی نہ رہے، تو شریعت اسلامیہ کے مطابق زندگی کا نظام نہیں چل سکتا، البتہ مردوں کے لیے بھی اس کی اجازت نہیں ہے کہ سردار بن گئے تو ظلم کیا کریں اور اس کے حقوق ادا نہ کریں اور اس کا مال برباد کردیں۔ عورت یہ سمجھ کر چلے کہ یہ میرا سردار ہے اور مرد یہ سمجھے کہ اللہ تعالیٰ نے میری ضروریات پوری کرنے کے لیے یہ نعمت مجھے عطا فرمائی ہے مجھے خیر و خوبی کے ساتھ نبا ہنا چاہئے۔ ایسا کریں گے تو ماں باپ اور اولاد سب کی زندگی انشاء اللہ تعالیٰ عمدہ طریقہ پر گزرے گی۔ سورة النساء میں فرمایا : (وَعَاشِرُوْھُنَّ بالْمَعْرُوْفِ ) (کہ خوش اسلوبی کے ساتھ عورتوں کے ساتھ زندگی گزارو) اس میں ہر طرح کی خیر و خوبی ہمدردی اور حقوق کی ادائیگی اور مراعات کا حکم فرما دیا۔
مردوں کو چونکہ سرداری اور بڑائی دی گئی ہے اس لیے وہ اپنے مقام اور مرتبہ کا خیال کریں اور عورتوں کی لغزشوں اور کوتاہیوں پر صبر کریں اور برداشت کریں، اگر برداشت نہ کیا تو بڑائی ہی کیا رہی ؟ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مومن مرد کسی مومن عورت سے (یعنی ایمان والی بیوی) سے بغض نہ رکھے۔ اگر اس کی ایک بات ناپسند ہوگی تو دوسری بات پسند آجائے گی۔ (مسلم ص 475 ج 1) حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہو اور میں اپنے گھر والوں کے لیے تم سب میں بہتر ہوں۔ (رواہ ابن ماجہ ص 142)
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سب سے زیادہ کامل ایمان والوں میں وہ لوگ بھی ہیں جن کے اخلاق سب سے اچھے ہیں۔ اور جو اپنے گھر والوں کے لیے سب سے زیادہ مہربان ہیں۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 284 ج 2)
آخر میں فرمایا : (وَ اللّٰہُ عَزٍیْزٌ حَکِیْمٌ) (اللہ زبردست ہے حکمت والا ہے) اس میں یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی اگر کسی نے کی تو وہ یہ نہ سمجھے کہ میرا کوئی مواخذہ نہیں۔ اللہ نے احکام بھیجے ہیں اور عمل پیرا ہونے کا حکم فرمایا ہے۔ جو خلاف ورزی کرے گا اس کی گرفت ہونے لگے تو بچ نہیں سکتا۔ کیونکہ حکم دینے والا عزیز اور غالب ہے۔ اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ اس نے جو احکام دیئے ہیں وہ سب حکمتوں پر مبنی ہیں ان میں بندوں کی رعایتیں ملحوظ ہیں بندوں کے لیے اس نظام سے بہتر کوئی نظام نہیں جو ان کے خالق نے ان کے لیے حکمت کے مطابق تجویز فرمایا ہے۔
Ayahs 2:229–230طلاق اور خلع کے چند احکام
ان دونوں آیتوں میں طلاق کے متعدد مسائل اور متعدد تنبیہات مذکور ہیں جو زن و شوہر سے متعلق ہیں، طلاق رجعی طلاق بائن، طلاق مغلظہ اور خلع کے مسائل اجمالی طور پر بیان فرمائے ہیں۔
اگر کوئی شخص طلاق دینے کی ضرورت محسوس کرے تو احسن طریقہ یہ ہے کہ کسی ایسے طہر میں (یعنی پاکی کے زمانے میں) ایک طلاق دے دے جس میں جماع نہ کیا ہو پھر عورت کو اپنی حالت پر چھوڑ دے۔ قانون شرعی کے مطابق یہ طلاق رجعی ہوگی (بشرطیکہ عورت سے نکاح کے بعد جماع بھی کرچکا ہو، اگر صرف نکاح ہوا تھا تو یہ طلاق بائن ہوگی) جب پاکی کے زمانہ میں طلاق رجعی دے دی اور عورت کو اپنے حال پر چھوڑ دیا حتیٰ کہ عدت گزر گئی (جس کی تفصیل پہلے رکوع میں گزر چکی ہے) تو یہی رجعی طلاق بائن طلاق ہو جائیگی۔ عدت سے پہلے پہلے رجوع کرنے کا حق تھا۔ جب طلاق بائن بن گئی تو اب رجوع کا حق ختم ہوگیا۔ اگر عدت کے اندر ایک طلاق اور دیدی تو یہ بھی طلاق رجعی ہوگی اور اس کے بعد بھی عدت ختم ہونے تک رجوع کا اختیار رہے گا۔ عدت ختم ہوجانے پر دونوں طلاقیں بائن ہوجائیں گی اور رجوع کا حق ختم ہوجائیگا۔
طلاق بائن کے بعد آپس کی رضا مندی سے دو بارہ نکاح ہوسکتا ہے۔ شوہر نے عدت کے اندر تیسری طلاق بھی دیدی تو اب یہ طلاق مغلظ ہوگئی جس کا حکم یہ ہے کہ اب آپس کی رضا مندی سے بھی دونوں کا آپس میں نکاح نہیں ہوسکتا۔ اب دو بارہ آپس میں نکاح ہونے کی یہی صورت ہے کہ کسی دوسرے مرد سے اس عورت کا نکاح ہو پھر وہ مرد اس سے جماع کرے پھر طلاق دے یا وفات پا جائے اور پھر اس کی عدت گزر جائے اگر دوسرا شوہر جماع کیے بغیر طلاق دیدے تو پھر پہلے شوہر کے لیے حلال نہیں ہوگی جس کی تصریح حدیث شریف میں موجود ہے۔ اور یہ طے کرکے کسی سے نکاح کردینا کہ تو جماع کر کے طلاق دے دینا مکروہ تحریمی ہے اس پر حدیث شریف میں لعنت آئی ہے۔ عن علی ؓ قال لعن رسول اللّٰہ ﷺ المحلل والمحلل لہ۔ (رواہ ابن ماجہ و رواہ الحاکم فی المستدرک ص 199 ج 2 ہ صححہ و اقرہ الذھبی)
اللہ جل شانہ نے بندوں کی مصلحتوں کی کس قدر رعایت رکھی ہے اول تو حلال چیزوں میں طلاق کو مبغوض ترین چیز قرار دیا (کما قال النبی ﷺ ابغض الحلال الی اللّٰہ عزوجل الطلاق رواہ ابوداود ص 296 ج 2) پھر حالت حیض میں طلاق دینے سے منع فرمایا ہے کیونکہ یہ بےرغبتی کا زمانہ ہوتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی تھی تو حضور اکرم ﷺ نے حضرت عمر ؓ سے فرمایا کہ ان کو حکم دو کہ رجوع کرلیں پھر حالت طہر یا حمل میں طلاق دیں۔ (رواہ مسلم ص 6 47 ج 1)
صحیح بخاری ص 803 ج 2 میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ان کو حکم دیا کہ زمانہ حیض میں جو طلاق دی ہے اس سے رجوع کرلیں اس کے بعد یہ حیض گزر جائے پھر ایک طہر گزر جائے پھر ایک حیض اور گزر جائے اس کے بعد جو طہر یعنی پاکی کا زمانہ آئے چاہے تو اس میں طلاق دے دے اور یہ طلاق جماع کرنے سے پہلے ہو۔ اگر طلاق دے تو اچھی طرح غور کرلے اگر طلاق کی ضرورت محسوس کرے تو پاکی کے زمانہ میں طلاق دے دے اور ایک طلاق دے کر چھوڑ دے۔ (اگر نکاح کے بعد جماع کیا تو یہ طلاق رجعی ہوگی) عدت گزر جانے سے پہلے ایک طلاق اور دیدی تو وہ بھی رجعی ہوگی۔ اگر عدت کے اندر رجوع نہ کیا تو دونوں طلاقیں بائن ہوجائیں گی۔ لیکن باہمی رضا مندی سے دو بارہ نکاح ہو سکے گا۔ اس تفصیل کو سامنے رکھ کر غور کرلیا جائے کہ شریعت اسلامیہ میں مرد و عورت کی مصلحتوں کی کس قدر رعایت ملحوظ رکھی گئی ہے۔ اگر شوہر تین طلاقیں دیدے خواہ متفرق اوقات میں دے یا بیک وقت تینوں طلاقیں دے تو اس سے طلاق مغلظہ ہوجاتی ہے جس کا حکم اوپر بیان ہوا۔ جب شریعت کی دی ہوئی رعایتوں کی پاسداری نہ کی تو اب یہ سزا دی گئی کہ اب دوسرے شوہر سے نکاح اور جماع کیے بغیر پہلے شوہر سے دو بارہ نکاح نہیں ہوسکتا۔
مرد کو طلاق کا اختیار دیا گیا ہے لیکن عورت کو بھی مرد کے نکاح سے نکلنے کے حق سے محروم نہیں کیا گیا ہے اگر کوئی صورت نباہ کی نہ رہے تو وہ مرد سے خلع کرسکتی ہے خلع کا معنی یہ ہے کہ وہ مرد سے یوں کہے کہ میں اپنے مہر کے عوض یا اپنے مال کے عوض آپ سے خلع کرتی ہوں مرد اسے منظور کرلے تو عورت پر ایک طلاق بائن واقع ہوجائے گی اور جو مال دینا طے ہوا ہے وہ عورت پر ادا کرنا واجب ہوگا۔
خلع کا یہ مطلب نہیں کہ عورت مرد کو خود سے چھوڑ کر علیحدہ ہوجائے یا حاکم کے یہاں دعویٰ کرکے بغیر کسی شرعی سبب کے جدائی کا فیصلہ کرالے، حاکم سے نکاح فسخ کرانے کے کچھ اصول اور قوانین ہیں بعض صورتوں میں قاضی کو شرائط فسخ ملحوظ رکھتے ہوئے نکاح فسخ کردینے کا اختیار ہوتا ہے جس کی تفصیلات فقہ کی کتابوں میں مذکور ہیں اور جن صورتوں میں حاکم کو نکاح فسخ کرنے کا اختیار ہے ان میں یہ بھی ضروری ہے کہ حاکم مسلمان ہو غیر مسلم حاکموں کے فسخ کرنے سے مسلمان عورت کا نکاح فسخ نہیں ہوگا خواہ کیسی ہی مجبوری ہو۔
میاں بیوی دونوں جہاں تک ممکن ہو آپس میں نباہ کی کوشش کریں لیکن اگر دونوں کو اس بات کا ڈر ہو کہ اللہ کے حدود کو قائم نہ رکھ سکیں گے تو اس میں کچھ حرج نہیں کہ عورت مال دے کر اپنی جان چھڑالے، اور اگر عورت کی طرف سے زیادتی اور نافرمانی ہو تب بھی مرد اتنا ہی لے جتنا مہر اسے دے چکا ہے اس سے زیادہ نہ لے۔ اور اگر زیادہ لے لیا تو قضاءً جائز تو ہوگا لیکن مکروہ ہوگا۔ حضرت ثابت بن قیس ؓ کی بیوی آنحضرت سرور عالم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ مجھے ثابت بن قیس ؓ کی عادت اور خصلت اور دینداری کے بارے میں کوئی ناراضگی نہیں ہے لیکن میں مسلمان ہوتے ہوئے ناشکری کو پسند نہیں کرتی (میرا ان سے دل نہیں ملتا لہٰذا علیحدگی کی کوئی صورت ہوجائے) آپ نے فرمایا کہ کیا تم ان کا باغیچہ واپس کر دو گی (جو مہر میں دیا تھا) عرض کیا ہاں میں واپس کر دوں گی، آپ نے حضرت ثابت بن قیس سے فرمایا کہ اپنا باغیچہ قبول کرلو اور اس کو طلاق دے دو ۔ (رواہ البخاری ص 794 ج 2)
اس حدیث سے خلع کا جواز معلوم ہوا، اور آیت شریفہ (فَاِنْ خَفْتُمْ اَنْ لاَّ یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰہِ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْھِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِہٖ ) کے سیاق سے معلوم ہوا کہ نباہ کی صورت نہ رہے اور حدود اللہ قائم نہ کرسکیں تو خلع کرلینے میں کوئی گناہ نہیں ہے۔ خواہ مخواہ بلا وجہ خلع کرنا اور چھوٹ چھٹاؤ کے درپے ہونا محمود نہیں ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ چھوٹ چھٹاؤ کا مطالبہ کرنے والی اور خلع چاہنے والی عورتیں نفاق والی عورتیں ہیں۔ (رواہ النسائی ص 107 ج 2 والترمذی ص 191 ج 1)
مسئلہ : لفظ خلع سے خلع ہوجاتی ہے یعنی شوہر کے قبول کرنے پر عورت پر طلاق واقع ہوجاتی ہے اس کے بعد وہ عدت گزار کر دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے اور چونکہ طلاق مغلظہ نہیں ہے اس لیے دو بارہ شوہر اول سے بھی نکاح ہوسکتا ہے۔ خلع کے علاوہ ایک ” طلاق بالمال “ بھی ہے اور وہ اس طرح سے ہے کہ مرد یوں کہے کہ میں تجھے اتنے مال کے عوض طلاق دیتا ہوں۔ اگر عورت قبول کرلے تو طلاق بائن واقع ہوجائے گی، اور عورت کو مقررہ مال دینا لازم ہوگا۔
فائدہ : مذکورہ بالا دونوں آیتوں میں اول دو رجعی طلاقوں کا ذکر ہے اس کے بعد خلع کا مسئلہ بیان فرمایا ہے۔ اس کے بعد تیسری طلاق کا ذکر ہے۔ (فَاِنْ طَلَّقَھَا فَلاَ تَحِلُّ لَہٗ مِنْم بَعْدُ ) میں چوتھی طلاق مذکور نہیں ہے بلکہ دو طلاق کے بعد بطور جملہ معترضہ کے خلع کا مسئلہ بیان کرنے کے بعد تیسری طلاق کو ذکر فرمایا ہے۔
Ayah 2:231مطلقہ عورتوں کو ضرر پہنچانے کی ممانعت
اس آیت میں چند باتوں پر تنبیہ فرمائی۔ اول یہ کہ جو لوگ اپنی عورتوں کو طلاق رجعی دے دیں اگر انہیں رغبت نہیں ہے۔ اور اب بیوی بنا کر رکھنا گوارا نہیں ہے تو خوش اسلوبی کے ساتھ اسے چھوڑ دیں۔ جب عدت گزرنے کے قریب ہوجائے تو رجوع کیے بغیر عدت ختم ہونے دیں تاکہ عدت ختم ہوتے ہی طلاق بائن ہوجائے اور عورت کسی دوسری جگہ اپنا نکاح کرسکے، ایسا نہ کریں کہ جب عدت گزرنے کے قریب ہو تو رجوع کرلیں اور اس کے بعد پھر طلاق دے دیں اور جب عدت گزرنے کے قریب ہو پھر لوٹا لیں، ایسا کرنے سے خواہ مخواہ عورت کو تکلیف ہوگی اور ضرر پہنچے گی۔ تفسیر روح المعانی ص 142 ج 2 میں ہے کہ انصار میں سے ایک شخص نے اپنی بیوی کے ساتھ یہی معاملہ کیا حتیٰ کہ اسی طرح نو مہینے گزر گئے، اللہ جل شانہ نے آیت بالا نازل فرمائی اور فرمایا : (فَاَمْسِکُوْھُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ سَرِّحُوْھُنَّ بِمَعْرُوْفٍ ) ان کو اگر اپنے نکاح میں رکھنا ہے تو اچھے طریقہ پر روک لو، اور نکاح میں نہیں رکھنا تو خوبی کے ساتھ اسے چھوڑ دو ، اور صرف اسی پر اکتفا نہیں فرمایا بلکہ مزید فرمایا (وَ لَا تُمْسِکُوْھُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوْا) کہ ان کو ضرر پہنچانے اور دکھ دینے کے لیے روک کر نہ رکھو تاکہ ان پر ظلم کرو۔
اور مزید فرمایا : (وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَہٗ ) کہ جو شخص ایسا کرے گا اس نے اپنی جان پر ظلم کیا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی کرکے ایک مومن عورت کو ضرر پہنچانے کی نیت کرکے اپنی جان کو آخرت کے عذاب کے لیے پیش کردیا اور اللہ کے حکم کی فرماں برداری پر جو ثواب مل سکتا تھا اس سے محروم ہوگیا، کسی بھی مومن کو ضرر پہنچانا حلال نہیں ہے حدیث شریف میں ہے۔ (مَلْعُوْنٌ مَنْ ضَارَّ مُؤْمِنًاأَوْمَکَرَبِہٖ ) (یعنی وہ شخص ملعون ہے جو کسی مومن کو نقصان پہنچائے یا اس کے ساتھ مکر کرے) ۔ (رواہ الترمذی)
اللہ کی آیات کا مذاق بنانے کی ممانعت :
دوسری تنبیہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا : (وَلاَتَتَّخِذُوْٓا اٰیَات اللّٰہِ ھُزُوًا) کہ اللہ کی آیات کو اور اس کے احکام کو کھیل اور مذاق مخول ٹھٹھا نہ بناؤ۔ ایسا نہ کرو کہ جی چاہا عمل کیا چاہا نہ کیا اور احکام کی رعایت کا دھیان نہ رکھا۔ بلکہ آیات قرآنیہ میں جو احکام بیان کیے گئے ہیں ان کی پابندی کرو اور عزم و ہمت و ارادہ کے ساتھ عمل پیرا ہو۔ حضرت محمود بن لبید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو ایک شخص کے بارے میں خبر دی گئی کہ اس نے اپنی بیوی کو ایک ساتھ تین طلاقیں دے دیں۔ آنحضرت سرور عالم ﷺ غصہ میں کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ اللہ عزوجل کی کتاب کے ساتھ کھیل کیا جائے گا حالانکہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں۔ آپ کا غصہ دیکھ کر ایک شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! کیا میں اس شخص کو قتل نہ کر دوں۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 184 ج) اکٹھی تین طلاقیں دینا شرعاً مذموم ہے۔ ایک سے زیادہ طلاق دے تو الگ الگ کر کے دے، اور ہر طہر میں (پاکی کے زمانے میں) ایک ایک طلاق دے۔ کیونکہ اس شخص نے اکٹھی تین طلاقیں دے دیں۔ اس لیے آنحضرت ﷺ کو سخت ناگواری ہوئی۔ موطا امام مالک میں ہے کہ ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو سو طلاقیں دے دیں اس بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا تیری بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوگئیں اور ستانوے طلاقوں کے ذریعہ تو نے اللہ کی آیات کا مذاق بنایا۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 282)
اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو :
تیسری بات یہ فرمائی کہ اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو اور جو کچھ اس نے تمہارے اوپر کتاب اور حکمت نازل فرمائی ہے اس کو بھی یاد کرو۔ یاد کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کا شکر ادا کرو نعمتوں کے ذریعہ گناہ نہ کرو۔ اور آیات قرآنیہ پر عمل کرو۔ اللہ کے احکام میں بڑی بڑی حکمتیں ہیں۔ ان میں خیر سمجھو۔
پھر فرمایا : یَعِظُکُمْ بِہٖیہ جو کچھ اللہ نے نازل فرمایا وہ اس کے ذریعہ تم کو نصیحت فرماتا ہے۔ خلاف ورزی کرکے نصیحت سے منہ موڑ نے والے نہ بنو۔
پھر فرمایا : (وَ اتَّقُوا اللّٰہَ وَ اعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیْ ءٍ عَلِیْمٌ) ” اور اللہ سے ڈرو اور یہ جان لو کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جانتا ہے۔ “
سب کے اعمال کو وہ جانتا ہے ان کے مطابق جزا و سزا دے گا اور جن چیزوں میں تمہارے لیے مصلحت ہے ان کو بھی جانتا ہے، اس کے حکموں میں تمہاری مصلحت مضمر ہے۔ مخالفت کرکے اپنے لیے خرابی کا راستہ اختیار نہ کرو۔
مسئلہ : اگر کوئی شخص مذاق میں طلاق دے دے تو اس سے بھی طلاق ہوجاتی ہے جیسا کہ اس کی تصریح حدیث شریف میں موجود ہے۔ فقد روی أبو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ عن النبی ﷺ ثَلاَثٌ جِدُّھُنَّ جَدٌّ وَھَذْلُھُنَّ جِدٌّ، اَلنِّکَاحُ وَ الطَّلاَقُ وَالرَّجْعَۃُ ۔ (رواہ الترمذی ص 191 ج 1 وحسنہ و أخرجہ الحاکم ایضا فی المستدرک ص 198 ج 2 و صححہ)
فائدہ : ارشاد باری تعالیٰ (لَا تَتَّخِذُوْٓا اٰیٰتِ اللّٰہِ ھُزُوًا) اگرچہ مسائل طلاق کے ذیل میں وارد ہوا ہے لیکن الفاظ کا عموم اس بات کو بتارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات اور احکام کا مذاق بنانا بدترین گناہ ہے بلکہ قصداً وارادۃً اگر آیات و احکام کا مذاق بنایا جائے تو کفر ہے۔ سورة مائدہ میں مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا :
(یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَکُمْ ھُزُوًا وَّ لَعِبًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَ الْکُفَّارَ اَوْلِیَآءَ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۔ وَ اِذَا نَادَیْتُمْ اِلَی الصَّلٰوۃِ اتَّخَذُوْھَا ھُزُوًا وَّ لَعِبًا ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَ ) ” اے ایمان والو ! ان لوگوں کو دوست نہ بناؤ جنہوں نے تمہارے دین کو مذاق اور کھیل بنا لیا، یعنی وہ لوگ جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی اور ان کے علاوہ دوسرے کافروں کو بھی دوست نہ بناؤ، اور اللہ سے ڈرو، اگر تم مومن ہو، اور جب تم نماز کی طرف بلاتے ہو تو نماز کا مذاق اور کھیل بنا لیتے ہیں یہ اس لیے کہ وہ لوگ سمجھتے نہیں۔ “
سورۃ الجاثیہ میں اہل دوزخ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (ذٰلِکُمْ بِاَنَّکُمُ اتَّخَذْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰہِ ھُزُوًا وَّغَرَّتْکُمُ الْحَیَاۃُ الدُّنْیَا) ” یہ عذاب اس لیے ہے کہ تم نے اللہ کی آیات کو مذاق بنا لیا تھا۔ اور تم کو دنیا والی زندگی نے دھوکہ میں ڈالا تھا۔ “
بہت سے لوگ مسلمان ہونے کے دعویدار ہیں لیکن قرآن اور احادیث شریفہ اور رسول اللہ ﷺ کی سنتوں کا مذاق بناتے ہیں ایسے لوگ اگرچہ مدعی اسلام ہوں لیکن اسلام سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے، بہت سے لوگ حج کے احکام و افعال کو فلماتے ہیں اور سینما میں لہو و لعب کے پردہ پر دکھاتے ہیں اور دیکھنے والے دیکھتے ہیں کعبۃ اللہ شریف کے چاروں طرف جو نماز ہوتی ہے اس کے فوٹو لیے جاتے ہیں۔ حجر اسود کا استلام کرتے ہوئے فوٹو لیے جاتے ہیں۔ منیٰ میں تصویر کشی ہے۔ عرفات میں کیمرے لیے کھڑے ہیں۔ فوٹو کھینچے جا رہے ہیں۔ نیک کام کو معصیت کیساتھ مکدر کیا جا رہا ہے۔ حضرات صحابہ کرام ؓ کے ...... ٹیلیویژن میں ڈرامے آ رہے ہیں۔ ان اکابر دین کی داڑھیاں منڈی اور مونچھیں خوب زیادہ بڑھی ہوئی دکھائی جا رہی ہیں۔ ان حضرات کے علم و عمل کو لہو و لعب اور تماشہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ سب دین اور دینیات کے ساتھ استہزاء اور تمسخر ہے جو لہو و لعب میں شامل ہے۔ عوام الناس نے یہ خیال کر رکھا ہے کہ اس سے دین کی تبلیغ ہوگی حالانکہ اس کی حیثیت لہو و لعب سے زیادہ نہیں ہے۔ قرأت قرآن کی مجلسیں ہیں۔ قاریوں کی تصویریں کھینچی جا رہی ہیں اور اخبارات میں چھپ رہی ہیں۔ قرآن کے نام پر اجتماعات ہیں۔ فوٹو گرافی ہو رہی ہے۔ فلمیں دکھائی جا رہی ہیں۔ کالج یونیورسٹی میں اسلامیات کی کلاسیں ہیں۔ لڑکیاں لڑکوں کے ساتھ بےپردہ بیٹھی ہوتی ہیں۔ عین اسلامی عنوان کے پریڈ میں احکام قرآن کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، سودی لین دین ہے بینک کا نام اسلامی ہے۔ حرام مال سے ایصال ثواب کیا جا رہا ہے اسی سے حج وعمرہ ہو رہا ہے۔ داڑھی مونڈنے کی دکانیں ہیں۔ اسلامی صالون یا صالون الحرمین کا نام دیا جا رہا ہے۔ یہ سب اعمال و افعال ایسے ہیں جن سے احکام اسلام کی توہین اور تضحیک ہوتی ہے، اسلام کے نام پر مذاق ہے۔ گناہ کرنا بہت بڑی بدبختی ہے جس کا لوگوں کو بالکل احساس نہیں، داڑھیوں کا، داڑھی رکھنے والوں کا تمسخر ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی سنتوں پر چلنے والوں پر پھبتیاں ہیں، اور یہ سب کچھ ان لوگوں سے صادر ہورہا ہے جو مسلمان ہونے کے مدعی ہیں۔ اللہ تعالیٰ شانہ سب کو صحیح سمجھ دے۔