Ayah 2:182آخر میں فرمایا (فَمَنْ خَافَ مِنْ مُّوْصٍ جَنَفًا اَوْ اِثْمًا فَاَصْلَحَ بَیْنَھُمْ فَلَآ اِثْمَ عَلَیْہِ ) (سو جو شخص وصیت کرنے والے کی جانب سے کسی جانبداری کا یا گناہ کا خوف کھائے پھر ان کے درمیان صلح کرا دے تو اس پر گناہ نہیں ہے۔ بعض مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ وصیت کرنیوالا خطاً یا عمداً وصیت میں کوئی ایسا طریقہ اختیار کرلیتا ہے جس میں کسی وارث یا دوسرے کسی رشتہ دار کی طرف میلان ہوجاتا ہے اور وصیت میں عدل باقی نہیں رہتا اگر کوئی ایسی کوئی صورت ہوجائے، اور کسی کو معلوم ہوجائے کہ ایسی وصیت کی ہے یا ایسی وصیت کرنے کا ارادہ کیا ہے اور وہ بیچ میں پڑکر موصی (وصیت کرنے والا) اور موصی لھم (جن کے لیے وصیت کی جائے) کے درمیان اصلاح کر دے اور ان کو صحیح طریقہ بتادے جو شرعاً درست ہو۔ یا صاحب اقتدار اس کو بدل دے تو اس کو بدلنے میں کوئی گناہ نہیں ہے۔ جو شخص ایسا کرے گا اللہ اس کی مغفرت فرمائے گا۔ یہ وہ تبدیلی نہیں ہے جس کی مذمت (فَمَنْ بَدَّلَہٗ ) میں کی گئی ہے۔ جو وصیت عادلانہ نہ ہو اس کی کئی صورتیں مفسرین نے لکھی ہیں۔ اس میں سے ایک یہ ہے کہ دور کے رشتہ داروں کے لیے وصیت کر دے اور قریب کے رشتہ داروں کو چھوڑ دے اور ایک صورت یہ ہے کہ چونکہ بیٹوں کے ہوتے ہوئے پوتوں کو میراث نہیں مل سکتی اور کسی ایک بیٹے کو زیادہ مال پہنچانا چاہتا ہے تو پوتوں کے غیر وارث ہونے کا بہانہ بنا کر پوتوں کے لیے وصیت کر دے تاکہ ان پوتوں کے باپ کو مال زیادہ پہنچ جائے اور ایک صورت یہ ہے کہ کل مال کی وصیت کر دے یا تہائی مال سے زیادہ کی وصیت کردے، جو شخص بھی اس قسم کی وصیت پر واقف ہو کر صحیح طریقہ بتائے گا اور راہ صحیح پر ڈالے گا اس کو تبدیل وصیت کا گناہ نہ ہوگا۔
بعض لوگ بیٹوں کو میراث سے محروم کرنے کے لیے زندگی ہی میں بیٹوں کے نام یا کسی ایک بیٹے کے نام جائیداد کردیتے ہیں تاکہ دوسری اولاد محروم ہوجائے اور بھی طرح طرح کی غیر شرعی وصیتیں کر جاتے ہیں جس سے گنہگار ہوتے ہیں۔ وارث کو میراث سے محروم کرنے کے لیے کسی کو مال ہبہ کردینا جائز نہیں ہے۔ حضرت ابو ہریرۃ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا بلاشبہ کوئی مرد اور کوئی عورت ساٹھ سال تک اللہ کی فرمانبر داری میں لگے رہیں پھر ان کو موت حاضر ہوجائے اور وصیت کرنے میں کسی کو ضرر پہنچانے کا پہلو اختیار کرلیں تو ان کے لیے دوزخ واجب ہوجاتی ہے۔ حدیث بیان کرکے حضرت ابوہریرہ ؓ نے سورة نساء کی آیت (مِنْ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُّوْصٰی بِھَآ اَوْدَیْنٍ غَیْرَ مُضَآرٍّ ) تلاوت کی اور (وَ ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ ) تک پڑھی۔ (رواہ احمد کمافی المشکوٰۃ ص 265 ج 1)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے اپنے وارث کی میراث سے کوئی حصہ کاٹ دیا اللہ تعالیٰ جنت سے اس کا میراث کاٹ دیں گے۔ (سنن ابن ماجہ ص 194)
Ayah 2:183رمضان کے روزوں کی فرضیت اور ان کے ضروری احکام
ان آیات میں رمضان المبارک کے روزوں کی فرضیت کا اعلان اور اظہار فرمایا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے
(1) اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ (حضرت) محمد (مصطفے ٰ ) ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔
(2) نماز قائم کرنا۔ (3) زکوٰۃ ادا کرنا۔ (4) حج کرنا۔ (5) رمضان کے روزے رکھنا۔ (صحیح بخاری ص 6 ج 1)
نماز اور روزہ دونوں بدنی عبادتیں ہیں اور زکوٰۃ مالی عبادت ہے اور حج میں مال بھی خرچ ہوتا ہے۔ بدنی محنت بھی ہوتی ہے اس لیے وہ بدنی عبادت بھی ہے اور مالی عبادت بھی ہے۔ نماز تو نبوت کے پانچویں ہی سال مکہ معظمہ میں فرض ہوگئی تھی جو شب معراج میں عطا کی گئی۔ اور رمضان شریف کے روزے ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں 2 ھ میں فرض ہوئے۔ جس طرح نماز اور زکوٰۃ پہلی امتوں پر فرض تھی اسی طرح سے روزے بھی ان پر فرض تھے۔ (کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ ) میں یہ بتایا ہے کہ روزے کوئی نئی چیز نہیں ہیں یہ پہلی امتوں پر بھی فرض ہوئے تھے انہوں نے بھی روزے رکھے تم بھی رکھو۔
روزہ سے صفت تقویٰ پیدا ہوتی ہے :
پھر روزہ کی حکومت اور فائدہ بتاتے ہوئے فرمایا (لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ ) روزے رکھنے سے نفس کے تقاضوں پر زد پڑتی ہے اور قوی شہوانیہ میں ضعف آتا ہے اور تقویٰ صغیرہ و کبیرہ ظاہرہ اور باطنہ گناہوں سے بچنے کا نام ہے۔ آیت کریمہ میں بتایا کہ روزہ کی فرضیت تقویٰ حاصل کرنے کے لیے ہے۔ بات یہ ہے کہ انسان کے اندر بہیمیت کے جذبات ہیں۔ نفسانی خواہشات ساتھ لگی ہوئی ہیں اور نفس کا ابھار معاصی کی طرف ہوتا رہتا ہے۔ روزہ ایک ایسی عبادت ہے جس سے بہیمیت کے جذبات کمزور ہوتے ہیں اور نفس کا ابھار کم ہوجاتا ہے اور شہوات و لذات کی امنگ گھٹ جاتی ہے۔ پورے رمضان کے روزے رکھنا ہر عاقل بالغ مسلمان پر فرض ہے۔ ایک مہینہ دن میں کھانے پینے اور جنسی تعلقات کے مقتضیٰ پر عمل کرنے سے اگر باز رہے تو باطن کے اندر ایک نکھار اور نفس کے اندر سدھار پیدا ہوجاتا ہے۔ اگر کوئی شخص روزے ان احکام و آداب کی روشنی میں رکھ لے جو احادیث میں وارد ہوئے ہیں تو واقعتہً نفس کا تزکیہ ہوجاتا ہے۔ جو گناہ انسان سے سر زد ہوجاتے ہیں ان میں سب سے زیادہ دو چیزیں گناہ کا باعث بنتی ہیں۔ ایک منہ، دوسری شرمگاہ، حضرت امام ترمذی (رح) نے حضرت ابوہریرہ سے روایت نقل کی ہے کہ حضور ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ سب سے زیادہ کون سی چیز دوزخ میں داخل کرنے کا ذریعہ بنے گی۔ آپ نے جواب دیا : الفمّ والفرج یعنی منہ اور شرمگاہ۔ (ان دونوں کو دوزخ میں داخل کرانے میں زیادہ دخل ہے) ۔ روزہ میں منہ اور شرمگاہ دونوں پر پابندی ہوتی ہے اور مذکورہ دونوں راہوں سے جو گناہ ہوسکتے ہیں روزہ ان سے باز رکھنے کا بہت بڑا ذریعہ ہے اسی لیے تو ایک حدیث میں فرمایا کہ (اَلصِّیَامُ جُنَّۃٌ) یعنی روزہ ڈھال ہے۔ (گناہ سے اور آتش دوزخ سے بچاتا ہے۔ (بخاری ص 254 ج 1) اگر روزہ کو پورے اہتمام اور احکام وآداب کی مکمل رعایت کے ساتھ پورا کیا جائے تو بلاشبہ گناہوں سے محفوظ رہنا آسان ہوجاتا ہے۔ خاص روزہ کے وقت بھی اور اس کے بعد بھی اگر کسی نے روزہ کے آداب کا خیال نہ کیا روزہ کی نیت کرلی کھانے پینے اور خواہش نفسانی سے باز رہا مگر حرام کمانے اور غیبت کرنے میں لگا رہا تو اس سے فرض تو ادا ہوجائے گا مگر روزہ کی برکات وثمرات سے محرومی رہے گی۔ جیسا کہ سنن نسائی میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا (اَلصِّیَامُ جُنَّۃٌ مَا لَمْ یَخْرِقْھَا) (یعنی روزہ ڈھال ہے جب تک کہ اس کو پھاڑ نہ ڈالے) اور ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ : من لم یدع قول الزور والعمل بہ فلیس للّٰہ حاجۃٌ فی ان یدعہ طعاع و شرابہ۔
جو شخص روزہ رکھ کر جھوٹی بات اور غلط کام نہ چھوڑے تو اللہ کو کچھ حاجت نہیں کہ وہ (گناہوں کو چھوڑے بغیر) محض کھانا پینے چھوڑ دے۔ (بخاری ص 255 ج 1)
معلوم ہوا کہ کھانا پینا اور جنسی تعلقات چھوڑ نے ہی سے روزہ کامل نہیں ہوتا بلکہ روزہ کو فواحش و منکرات اور ہر طرح کے گناہوں سے محفوظ رکھنا لازم ہے روزہ منہ میں ہو اور آدمی بد کلامی کرے یہ اس کے لیے زیب نہیں دیتا۔ اسی لیے سرور عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا (وَ اِذَا کَانَ یَوْمُ صَوْمْ اَحَدِکُمْ فَلَا یَرْفَثْ وَلاَ یَصْخَبْ فَاِنْ سَابَّہٗ اَحَدٌ اَوْ قَاتلَہٗ فَلْیَقُلْ اِنِّیْ اِمْرَءٌ صَاءِمٌ) (یعنی جب تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو گندی باتیں نہ کرے۔ شور نہ مچائے، اگر کوئی شخص گالی گلوچ یا لڑائی جھگڑا کرنے لگے تو (اس کو گالی گلوچ سے جواب نہ دے بلکہ) یوں کہہ دے کہ میں روزہ دار آدمی ہوں۔ (گالی گلوچ کرنا یا لڑائی کرنا میرا کام نہیں) ۔ (بخاری ص 255 ج 1)
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ فرمایا فخر بنی آدم ﷺ نے بہت سے روزہ دار ایسے ہیں جن کے لیے (حرام کھانے یا حرام کرنے یا غیبت کرنے کی وجہ سے) پیاس کے علاوہ کچھ نہیں اور بہت سے تہجد گزار ایسے ہیں جن کے لیے (ریا کاری کی وجہ سے) جاگنے کے سوا کچھ نہیں۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 177)
Ayah 2:184(ایَّامًا مَّعْدُوْدَاتٍ ) فرما کر یہ بتایا کہ یہ چند دن کے روزے ہیں۔ ان روزوں کو رکھ لینا کوئی ایسی مشکل بات نہیں ہے۔ اس کے بعد مریض اور مسافر کے لیے آسانی بیان فرمائی کہ وہ اپنے مرض اور ایام سفر میں روزہ نہ رکھیں تو رمضان گزر جانے کے بعد دوسرے دنوں میں اتنی ہی گنتی کرکے روزے رکھ لیں۔ یعنی چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا کرلیں۔ اس کی تو ضیح آئندہ آیت کے ذیل میں آئے گی۔ انشاء اللہ !
یہ جو فرمایا (وَ عَلَی الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَہٗ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیْنٍ ) (کہ جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہیں ان پر فدیہ ہے ایک مسکین کے کھانے کا) یہ ابتدائی حکم تھا۔ سنن ابو داؤد میں ص 74 ج 1 پر ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو (ہر ماہ) تین دن کے روزے رکھنے کا حکم فرمایا پھر رمضان کے روزوں کا حکم نازل ہوگیا۔ لوگوں کو روزہ رکھنے کی عادت نہ تھی۔ اور روزہ رکھنا ان کے لیے بھاری کام تھا۔ لہٰذا یہ اجازت تھی کہ طاقت ہوتے ہوئے بھی جو شخص روزہ نہ رکھے ہو وہ ہر روزہ کے بدلہ ایک مسکین کو کھانا کھلا دے۔ پھر آیت کریمہ (فَمَنْ شَھِدَ مِنْکُمُ الشَّھْرَ فَلْیَصُمْہُ ) نازل ہوئی اور طاقت ہوتے ہوئے روزہ نہ رکھے کی اجازت منسوخ ہوگئی اور سب کو روزہ رکھنے کا حکم ہوا۔ البتہ مریض اور مسافر کے لیے اجازت باقی رہی کہ وہ رمضان میں روزہ نہ رکھیں اور بعد میں روزہ رکھ لیں۔ مسند امام احمد ج 5 ص 246 حضرت معاذ بن جبل ؓ سے طویل حدیث نقل کی جس میں یہ ہے۔
روزوں کے احکام میں تین انقلاب :
کہ نماز کے احکام میں تین چیزوں میں نقلاب ہوا ہے اور روزوں کے احکام میں تین چیزوں میں انقلاب ہوا ہے۔ اس کے بعد نماز کے تین انقلاب ذکر کرنے کے بعد روزہ کے تین انقلاب یوں ذکر کیے۔
(1) رسول اللہ ﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو ہر ماہ تین دن کے روزے رکھتے تھے اور عاشورہ کے دن کا روزہ بھی رکھتے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے رمضان کے روزے فرض فرما دیئے اور آیت کریمہ (یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ ) نازل فرمائی جس میں رمضان کے روزوں کی فرضیت کا حکم بھی ہے اور یہ بھی ہے کہ جو لوگ روزہ رکھ سکتے ہوں انہیں اختیار ہے کہ چاہیں تو روزہ رکھ لیں اور چاہیں تو ایک روزہ کے بدلے میں ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں، یہ کھانا کھلا دینا روزہ رکھنے کے عوض کفایت کرے گا۔
(2) پھر اللہ تعالیٰ شانہ نے اس کے بعد والی آیت (شَھْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْٓ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ ) (آخرتک) نازل فرمائی اس آیت میں یہ بھی ہے کہ (فَمَنْ شَھِدَ مِنْکُمُ الشَّھْرَ فَلْیَصُمْہُ ) (کہ تم میں سے جو شخص ماہ رمضان میں موجود ہو اس کا روزہ رکھے اس آیت سے مقیم اور تندرست پر روزہ رکھنا فرض کردیا گیا اور طاقت رکھنے والے کو روزہ نہ رکھ کر فدیہ دینے کی جو اجازت تھی وہ منسوخ کردی گئی) اور مریض اور مسافر کے لیے رخصت باقی رہی (کہ وہ رمضان میں روزہ رکھ کر چھوڑ سکتے ہیں بعد میں روزہ رکھ لیں) اور روزہ نہ رکھ کر فدیہ دینے کا حکم ایسے بوڑھے کے لیے باقی رہا جو روزہ رکھنے سے عاجز ہو۔
(3) روزے کی راتوں میں کھاتے پیتے تھے اور عورتوں کے پاس جاتے تھے، جب تک کہ سو نہ جائیں۔ اگر کوئی شخص سو گیا (اگرچہ رات باقی ہوتی) تو ان کاموں میں سے کوئی کام کرنا جائز نہ تھا۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ ایک انصاری صحابی جن کا نام صرمہ تھا وہ روزہ کی حالت میں دن بھر کام کرتے رہے شام کو گھر آئے تو عشاء پڑھ کر سو گئے۔ اور اب سونے کی وجہ سے کچھ کھا پی نہ سکے کیونکہ سو جانے والے کو اجازت نہ تھی کہ باقی رات میں کھائے پیئے ان کو اسی حال میں صبح ہوگئی اور روزہ بھی رکھ لیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کو دیکھا کہ ان کے جسم میں تکلیف کے آثار محسوس ہو رہے ہیں آپ نے فرمایا کیا بات ہے میں تمہیں سخت تکلیف میں دیکھ رہا ہوں۔ انہوں نے اپنا سارا واقعہ سنایا اور ایک یہ واقعہ پیش آیا کہ حضرت عمر ؓ نے سو جانے کے بعد آنکھ کھلنے پر کسی باندی سے یا بیوی سے جماع کرلیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنا واقعہ سنایا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت شریف (اُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَام الرَّفَثُ اِلٰی نِسَآءِکُمْ ) نازل فرمائی۔ جس صحابی نے نیند آجانے کی وجہ سے کھائے پیئے بغیر دوسرے دن روزہ رکھ لیا تھا۔ ان کا واقعہ صحیح بخاری ج 1 صفحہ 256 میں بھی ہے۔
صحیح بخاری ج 1 صفحہ 261 میں حضرت ابی لیلی تابعی سے نقل کیا ہے کہ حضرت سرور عالم محمد رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نے ہم سے بیان کیا کہ رمضان کے روزے نازل ہوئے تو روزہ رکھنا ان پر شاق گزرا۔ لہٰذا جو شخص روزانہ ایک مسکین کو کھانا کھلا دیتا وہ باو جود طاقت ہونے کے روزہ چھوڑ دیتا تھا اور ان کو اس کی اجازت دی گئی تھی، پھر اس حکم کو (وَ اَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَّکُمْ ) نے منسوخ کردیا، اور سب کو روزے رکھنے کا حکم دیا گیا۔ حضرت ابن عمر نے بھی (فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیْنٍ ) کی تلاوت کی اور فرمایا کہ یہ اجازت منسوخ ہوچکی ہے۔ ان روایات سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ روزہ رکھنے کی طاقت ہوتے ہوئے بھی روزہ نہ رکھ کر فدیہ دینے کی اجازت منسوخ ہے۔ اب تو روزہ رکھنا ہی ہوگا۔ اور اس میں تکلیف اور مشقت ہوگی وہ برداشت کرنی ہوگی۔ البتہ جو شخص بالکل ہی عاجز ہو جو روزہ رکھ ہی نہیں سکتا اس کے لیے فدیہ کا حکم باقی ہے اور احادیث شریفہ کی تصریحات کے بعد اب اس تاویل کی ضرورت نہیں رہی کہ یُطِیْقُوْن سے قبل حرف نفی ” لا “ مقدر ہے۔ یا یہ کہ باب افعال کا ہمزہ سلب مأخذ کے لیے ہے۔ پھر فرمایا : (فَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَھُوَ خَیْرٌ لَّہٗ ) (کہ جو بھی شخص اپنی خوشی سے کوئی نیک کام کرے گا تو یہ اس کے لیے بہتر ہے) ۔
اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ پورے ماہ رمضان کے روزے فرض کیے گئے ہیں۔ ان فرض روزوں کے علاوہ اگر کوئی شخص اپنی خوشی سے نفل روزے رکھ لے تو یہ اس کے لیے بہتر ہے جیسا کہ صحیح بخاری ج 1 ص 254 میں ہے کہ جب ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے اسلام کے بارے میں پوچھا تو آپ نے اس کے لیے پانچ نمازوں کی فرضیت بتادی اس پر اس نے کہا کیا اس کے علاوہ بھی مجھ پر کچھ ہے آپ نے فرمایا کہ ان کے علاوہ اور کوئی نماز فرض نہیں الاّیہ کہ اپنی خوشی سے نفل نمازیں پڑھ لو۔ پھر آپ نے رمضان کے روزوں کی فرضیت ذکر فرمائی اس نے وہی سوال کیا، کیا ان کے علاوہ مجھ پر اور روزے بھی ہیں۔ آپ نے فرمایا ان کے علاوہ اور کوئی روزہ فرض نہیں الایہ کہ اپنی خوشی سے نفلی روزے رکھ لو۔ الفاظ کے عموم میں ہر نیک کام کی ترغیب ہے۔ ایک نماز روزہ ہی کیا جو بھی کوئی شخص اپنی خوشی سے نیک کام کرے گا۔ نفلی عبادات میں لگے گا۔ وہ اس کا صلہ پائے گا اور اجر وثواب کا مستحق ہوگا۔ جو اس کی آخرت کے لیے بہتر ہوگا ...... اور دوسرا مطلب علمائے تفسیر نے یہ لکھا ہے کہ ایک روزہ کا فدیہ ایک مسکین کو کھانا دینا ہے گر کوئی شخص اپنی خوشی سے زائد دیدے تو وہ بہتر ہے۔
آیت کے آخر میں فرمایا : (وَ اَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ )
علامہ ابوبکر جصاص فرماتے ہیں کہ اس کا تعلق ان لوگوں سے ہے جن کو شروع میں تندرست اور گھر پر مقیم ہوتے ہوئے روزہ نہ رکھنے اور اس کی جگہ فدیہ دینے کی اجازت دی گئی تھی۔ باوجود روزہ نہ رکھنے اور فدیہ دینے کی اجازت کے یہ فرمایا کہ روزہ رکھنا بہتر ہے۔ روزے کی جو خیر و برکت ہے اور اس کا جو روحانی نفع ہے۔ روزہ نہ رکھ کر فدیہ دینے میں وہ نفع نہیں ہے۔ علامہ جصاص فرماتے ہیں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کا تعلق (اَلَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَ ) سے بھی ہو اور مسافروں سے بھی ہو کیونکہ اس سے پہلے یہ بھی ذکر آچکا ہے کہ مسافر اور مریض رمضان میں روزہ نہ رکھ کر بعد میں قضا کرسکتے ہیں ان کے لیے بھی فرمایا کہ وہ بھی رمضان ہی میں روزہ رکھ لیں تو بہتر ہے۔ کیونکہ عموماً مسافروں کو بغیر کسی ضرر کے روزہ رکھنے کی طاقت ہوتی ہے۔ اور اس سے واضح طور پر معلوم ہوگیا کہ سفر میں روزہ رکھنا نہ رکھنے سے بہتر ہے۔ علامہ جصاص نے اس سے ایک اور دقیق مسئلہ کا استنباط کیا ہے اور وہ یہ کہ جب ایک روزہ کے عوض ایک مسکین کو کھانا دینے کی اجازت دی گئی تھی (اور یہ ایک مسکین کا کھانا نصف صاع کے برابر ہوتا ہے) تو اس سے معلوم ہوگیا کہ ایک نفلی روزہ نصف صاع صدقہ کرنے سے افضل ہے۔ (ج 1 ص 180)
Ayah 2:185قرآن مجید رمضان المبارک میں نازل کیا گیا
اس آیت شریفہ میں ان دنوں کی تعیین فرما دی گئی جن میں روزہ رکھنا فرض ہے۔ پہلی آیت میں (اَیَّامًا مَّعْدُوْدَاتٍ ) فرمایا اور اس آیت میں ماہ رمضان کا صاف نام لے کر بیان فرما دیا کہ جو شخص اس ماہ میں موجود ہو وہ روزے رکھے اور ساتھ ہی رمضان المبارک کی ایک دوسری فضیلت بھی بیان فرما دی اور وہ یہ کہ اس ماہ میں قرآن مجید نازل ہوا۔ اس آیت میں ارشاد فرمایا کہ قرآن مجید ماہ رمضان میں نازل کیا گیا اور سورة قدر میں فرمایا کہ لیلۃ القدر میں نازل فرمایا۔ ان دونوں باتوں میں کوئی تعارض نہیں ہے کیونکہ لیلہ القدر رمضان المبارک میں ہوتی ہے۔ اگر کوئی شخص یہ سوال کرے کہ قرآن مجید تو تھوڑا تھوڑا کر کے تئیس سال میں نازل ہوا۔ پھر اس کا کیا مطلب ہے کہ رمضان المبارک میں نازل ہوا۔
اس کا جواب یہ ہے کہ شب قدر میں لوح محفوظ سے پورا قرآن جملۃ واحدۃ (اکٹھا) آسمان دنیا پر نازل کیا گیا اور بیت العزت میں رکھ دیا گیا۔ پھر وہاں سے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) تھوڑا تھوڑا حسب الحکم لاتے رہے۔ (تفسیر قرطبی ج 2 ص 292)
قرآن کے بارے میں فرمایا کہ وہ لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور اس میں ہدایت کے بارے میں واضح بیانات ہیں اور وہ حق اور باطل میں فرق کرنیوالا ہے۔ قرآن کی یہ صفت ظاہر باہر واضح ہے دوست دشمن سب پر عیاں ہے۔
یہ جو فرمایا (فَمَنْ شَھِدَ مِنْکُمُ الشَّھْرَ فَلْیَصُمْہُ ) اس میں ہر عاقل و بالغ مسلمان مرد عورت پر رمضان کے روزوں کی فرضیت کی تصریح فرمادی۔ البتہ مسافر اور مریض اور حمل والی عورت اور دودھ پلانے والی عورت کو اجازت دی گئی کہ وہ رمضان میں روزہ نہ رکھیں اور بعد میں اس کی قضاء رکھ لیں۔ اور حیض و نفاس والی عورت کو حکم ہے کہ وہ رمضان میں روزے نہ رکھیں اور بعد میں رکھ لیں۔ ان مسائل کی تفصیلات حدیث اور فقہ کی کتابوں میں مذکور ہیں۔ جن میں سے بعض مسائل انشاء اللہ ابھی نقل کریں گے۔
دنیا میں جب سے سلسلہ مواصلات کی آسانی ہوگئی ہے اور تیز رفتار طیارے گھنٹوں میں مہینوں کی مسافت پر پہنچا دیتے ہیں اس وقت سے یہ سوال سامنے آنے لگا کہ کوئی شخص کسی ملک میں تھا وہاں اس نے تیس روزے رکھ لیے پھر وہ کسی ایسے ملک میں پہنچ گیا جہاں ایک دو دن ابھی رمضان کے ختم ہونے میں باقی ہیں تو وہ ان دنوں میں کیا کرے۔ احقر کے نزدیک اس سوال کا جواب یہ ہے کہ وہ جہاں پہنچا ہے وہاں چونکہ رمضان موجود ہے اس لیے ان دنوں کے روزے رکھے۔ آیت (فَمَنْ شَھِدَ مِنْکُمُ الشَّھْرَ فَلْیَصُمْہُ ) کا عموم اسی کو متقاضی ہے اور فقہاء نے یہ جو لکھا ہے کہ رمضان کے دن میں بےروزہ نابالغ، بالغ ہوجائے یا کوئی حیض والی عورت پاک ہوجائے تو وہ رمضان کے احترام میں شام تک نہ کھائے پیئے اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ جو آدمی ایسے علاقہ میں پہنچ گیا جہاں ابھی رمضان باقی ہے وہ رمضان کا احترام کرے احترام کی دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ روزہ نہ رکھے اور کھائے پیئے بھی نہیں اور دوسری صورت یہ ہے کہ روزہ سے رہے۔ اور یہ روزہ رکھنا آیت کے عموم کے مطابق ہے۔ لہٰذا ایسے شخص کو روزہ ہی رکھنا چاہئے۔ مطلق نیت صوم سے روزہ رکھ لینا چاہئے۔ مطلق نیت سے نفل روزہ ادا ہوجاتا ہے اور رمضان کا فرض روزہ بھی۔ لہٰذا اگر مطلق روزہ کی نیت کرلی اور خدائے تعالیٰ کے نزدیک ان دنوں کے روزے فرض ہوئے تو فرض ادا ہوجائے گا۔ ورنہ نفل کا ثواب مل جائے گا اور رمضان کا احترام بھی ہوجائے گا۔
مریض اور مسافر کو روزہ نہ رکھنے کی اجازت اور بعد میں قضا رکھنے کا حکم :
یہ ارشاد فرمانے کے بعد کہ ” جو شخص ماہ رمضان میں موجود ہو اس کے روزے رکھے “ مریض اور مسافر کو روزہ نہ رکھنے کی اجازت دی۔ اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ جتنے دنوں کے روزے رمضان المبارک میں مسافر اور مریض نے نہیں رکھے وہ رمضان کے بعد دوسرے دنوں میں اتنی ہی گنتی کرکے جتنے روزے چھوٹے ان کی قضاء رکھ لے۔ علامہ جصاص فرماتے ہیں کہ چونکہ اللہ تعالیٰ نے مطلقاً اتنے دنوں کی گنتی کرکے قضا کرنے کا حکم فرمایا ہے جتنے دن کے روزے رہ گئے ہیں اور لگاتار قضاء رکھنے کی کوئی قید اور شرط نہیں لگائی اس لیے روزوں کی قضا کرنے والامتفرق طور پر رکھ لے یا لگاتار رکھ لے دنوں طرح درست ہے۔ اور (یُرِیْدُ اللّٰہُ بِکُمُ الْیُسْرَ ) سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے۔ (ج 1 ص 208)
فقہاء نے لکھا ہے کہ اگر دوسرا رمضان آنے تک پہلے رمضان کے قضا روزے نہ رکھے تو اب اس موجود رمضان کے روزے رکھ لے اور گزشتہ رمضان کے روزوں کی قضا بعد میں کرلے البتہ جلد سے جلد قضا رکھ لینا بہتر ہے اس میں مسارعت الی الخیر ہے اور چونکہ موت کا کچھ پتہ نہیں اس لیے ادائیگی فرض کا اہتمام بھی ہے۔
مسئلہ : ہر مریض کو اجازت نہیں ہے کہ بعد میں قضا رکھنے کے لیے رمضان کے روزے چھوڑے بلکہ یہ رخصت و اجازت ایسے مریض کو دی ہے جس کو روزہ رکھنے سے سخت تکلیف میں مبتلا ہونے یا کسی عضو کے تلف ہونے کا قوی اندیشہ ہو، یا ایسے مرض میں مبتلاہو جس میں روزے رکھنے کی وجہ سے مرض کے طول پکڑ جانے کا غالب گمان ہو جو تجربہ سے یا ماہر مسلم معالج کے قول کی بنیاد پر ہو اور یہ ماہر مسلم معالج ایسا ہو جس کا فاسق ہونا معلوم نہ ہو۔ قال فی الدر المختار او مریض خاف الزیادۃ لمرضہ و صحیح خاف المرض بغلبۃ الظن بأمارۃ أوبتجربۃ أوباخبار طبیب حاذق مسلم مستور اھ و فی الشامی أما الکافر فلا یعتمد علی قولہ لاحتمال أن غرضہ افساد العبادۃ (فصل فی العوارض)
اس بارے میں لوگ غلطی کرتے ہیں کہ معمولی سے مرض میں روزہ چھوڑ دیتے ہیں گو اس کے لیے روزہ مضر بھی نہ ہو۔ بلکہ بعض امراض میں روزہ مفید ہوتا ہے پھر بھی مرض کا بہانہ بنا کر روزہ نہیں رکھتے اور بہت سے لوگ ڈاکٹروں کے کہہ دینے سے روزہ چھوڑ دیتے ہیں۔ اس بارے میں ہر ڈاکٹر کا قول معتبر نہیں ڈاکٹر بےدین فاسق بلکہ کافر بھی ہوتے ہیں۔ انہیں نہ مسئلہ کا علم ہوتا ہے نہ روزہ کی قیمت جانتے ہیں اور بہت سے لوگوں کو تو خواہ مخواہ روزہ چھڑوانے میں مزہ آتا ہے اور کافر ڈاکٹر کا قول تو اس بارے میں بالکل ہی معتبر نہیں۔
مریض کو اپنے تجربہ اور اپنی ایمانی صوابدید سے اور کسی ایسے معالج سے روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کا فیصلہ کرنا چاہئے جو مسلمان ہو روزے کی اہمیت سمجھتا ہو اور خوف خدا رکھتا ہے اور مسئلہ شرعیہ سے واقف ہو۔ اور یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بہت سے لوگ بیماری کی وجہ سے رمضان کے روزے چھوڑ دیتے ہیں اور پھر رکھتے ہی نہیں اور بہت بڑی گنہگاری کا بوجھ لے کر قبر میں چلے جاتے ہیں۔ کھانے پینے کی محبت اور آخرت کی بےفکری کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے۔ یہ ان مریضوں کا بیان ہوا جو عموماً تندرست رہتے ہیں اور عارضی طور پر مریض ہوگئے۔ یہ لوگ صحت یاب ہو کر بعد میں قضاء رکھ لیں۔ لیکن ایسا مرد یا عورت جو مستقل مریض ہو جسے روزہ رکھ سکنے کی زندگی بھر امید نہ ہو۔ اور ایسے مرد یا عورت جو بہت بوڑھے ہوں، نہ اب روزہ رکھنے کی طاقت ہے نہ پھر کبھی روزہ رکھ سکنے کی امید ہے تو یہ لوگ روزوں کے بجائے فدیہ دیں۔ لیکن اگر کبھی بعد میں روزہ رکھنے کے قابل ہوگئے تو روزہ رکھنا فرض ہوگا اور فدیہ جو دیا ہے نفلی صدقہ ہوجائے گا۔
جس طرح کہ ہر مریض کو روزہ چھوڑ نے کی اجازت نہیں۔ اسی طرح ہر مسافر کو بھی روزہ چھوڑ نے کی اجازت نہیں۔ رمضان المبارک کا روزہ بعد میں قضا رکھنے کی نیت سے اس مسافر کو روزہ نہ رکھنا جائز ہے جو مسافت قصر کے ارادہ سے اپنے شہر یا بستی سے نکلا ہو۔ جب تک سفر میں رہے گا مرد ہو یا عورت اسے رمضان کا روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے۔ جب گھر آجائے تو روزوں کی قضا کرلے۔ ہاں اگر سفر میں کسی جگہ پر پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت کرلی تو اب شرعاً مسافت کے حکم میں نہیں رہا۔ ان دنوں میں رمضان المبارک ہو تو روزہ رکھنا فرض ہوگا اور نماز میں قصر کرنا جائز نہ ہوگا۔ مسافر قصر 48 میل ہے (کلو میٹر کا حساب کرلیا جائے) اتنی مسافت کے لیے خواہ پیدل سفر کرے یا بس سے یا ہوائی جہاز سے شرعی مسافر مانا جائے گا۔ وہ نمازوں میں قصر بھی کرے اور اسے یہ بھی جائز ہے کہ رمضان شریف کے روزے نہ رکھے اور بعد میں گھر آجائے تو چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا رکھ لے۔
جو شخص مسافت قصر سے کم سفر کے لیے گیا ہو اسے روزہ چھوڑ ناجائز نہیں ہے۔ شرعی مسافر کو (جس کی مسافت سفر اوپر بتادی گئی ہے) سفر میں روزہ چھوڑ نے کی اجازت تو ہے لیکن رمضان میں روزہ رکھ لینا بہتر ہے اور وجہ اس کی یہ ہے کہ اول تو رمضان کی برکت اور نورانیت سے محرومی نہ ہوگی۔ دوسرے سب مسلمانوں کے ساتھ مل کر روزہ رکھنے میں آسانی ہوگی اور بعد میں تنہا روزہ رکھنا مشکل ہے۔
مسئلہ : مسافر اور مریض (جنہیں روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے) وہ اگر اپنے زمانہ عذر ہی میں مرگئے۔ تو چونکہ انہوں نے قضاء رکھنے کا وقت ہی نہیں پایا اس لیے ان پر اپنے چھوٹے ہوئے روزوں طرف سے فدیہ دینے کی وصیت کرنا واجب نہیں۔ اور اگر مریض نے اچھا ہو کر اور مسافر نے گھر آکر روزے نہیں رکھے یا کچھ رکھے اور کچھ نہ رکھے۔ تو جتنے دن مرض اور سفر کے بعد پائے ہیں ان کی طرف فدیہ ادا کرنے کی وصیت کرنا واجب ہے۔ وصیت کے بعد اس کا ولی قرضوں کی ادائیگی کے بعد اس کے تہائی مال سے ہر روزہ کے عوض بقدر صدقہ فطر کے صدقہ کر دے اور اگر اس نے وصیت نہ کی اور اس کے ولی نے اپنی خوشی سے اپنے ذاتی مال سے اس کی طرف سے فدیہ دے دیا تو انشاء اللہ یہ بھی مفید ہوگا۔
مثلاً اگر دس دن کے روزے چھوڑے تھے اور اسی قدر ایام صحت اور ایام اقامت پا لیے اور قضا روزے نہ رکھے اور موت آنے لگی تو پورے دس دن کے روزوں کی طرف سے فدیہ ادا کرنے کی وصیت کرے۔ اور اگر ایام صحت اور ایام اقامت میں صرف پانچ دن ملے تھے اور ان میں قضا روزے نہ رکھے تو صرف پانچ دن کے روزوں کی طرف سے فدیہ ادا کرنے کی وصیت کرے۔ (من الدر المختار)
حاملہ اور مرضعہ کے لیے رخصت :
سنن نسائی ص 318 میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مسافر کے لیے روزہ نہ رکھنے کی اجازت دی ہے اور اس کی نماز کا ایک حصہ معاف فرما دیا ہے (کہ چار رکعات والی فرض نماز کی دو رکعتیں مسافر کے ذمہ رہ جاتی ہیں) اور دودھ پلانے والی عورت اور حمل والی عورت کو بھی رمضان میں روزے نہ رکھنے کی اجازت ہے کہ وہ رمضان المبارک میں روزہ نہ رکھیں اور بعد میں ان روزوں کی قضا رکھ لیں ...... جس حاملہ کو روزہ رکھنے سے تکلیف ہوتی ہو یا زیادہ تکلیف میں پڑجانے یا اپنی جان یا بچے کی جان کا اندیشہ ہو تو وہ عورت رمضان کے روزے چھوڑ کر بعد میں رکھ لے اسی طرح دودھ پلانے والی عورت کے لیے بھی اسی وقت رمضان المبارک کا روزہ چھوڑنا جائز ہے جبکہ روزہ رکھنے سے بچے کو دودھ سے محرومی ہوتی ہو اور بچہ دودھ پلانے والی کے دودھ کے علاوہ دوسری غذا کے ذریعہ گزارہ نہ کرسکتا ہو اوپر کا دودھ پلانے سے (جیسا کہ آج کل رواج ہے) یا دلیہ یا چاول وغیرہ کھانے سے بچہ کی غذا کا کام چل سکتا ہے تو پھر دودھ پلانے والی کو رمضان المبارک کے روزے چھوڑ نے کی اجازت نہیں ہے اور یہ بھی جاننا چاہئے کہ جب بچہ کی عمر دو سال ہوجائے تو اس کو عورت کا دودھ پلانا ہی منع ہے۔ جب بچہ کی عمر دو سال ہوجائے اس کے دودھ پلانے کے لیے روزہ چھوڑ نے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
حیض اور نفاس والی عورت کا حکم :
جس عورت کو رمضان المبارک میں ماہواری کے دن آجائیں یا ولادت کے بعد کا خون آ رہا ہو جسے نفاس کہتے ہیں یہ دونوں عورتیں رمضان المبارک کے روزے نہ رکھیں اگرچہ روزہ رکھنے کی طاقت ہو لیکن بعد میں ان روزوں کی قضا رکھ لیں۔ اور حیض و نفاس کے زمانہ کی نمازیں بالکل معاف ہیں۔ ان دونوں پر ان کی قضا نہیں۔
اللہ نے دین میں آسانی رکھی ہے :
اللہ تعالیٰ شانہ، نے کسی ایسی بات کا حکم نہیں دیا جو بندوں کی طاقت سے باہر ہو قرآن میں کئی جگہ اس کا ذکر ہے آیت بالا میں مریض اور مسافر کا حکم بیان فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا (یُرِیْدُ اللّٰہُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَ ) کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ آسانی کا ارادہ فرماتا ہے اور تمہارے ساتھ مشقت کا ارادہ نہیں فرماتا۔ نمازوں کے بارے میں بھی مریض کے لیے آسانی ہے کہ کھڑے ہو کر لیٹ کر بیٹھ کر رکوع اور سجدہ یا اشارہ کے ساتھ اپنی طاقت کے مطابق جس طرح ممکن ہو نماز پڑھ لے زکوٰۃ میں بھی مطلق مال ہونے پر زکوٰۃ فرض نہیں کی گئی بلکہ صاحب نصاب پر زکوٰۃ فرض ہوتی ہے اور اس کی ادائیگی اس وقت فرض ہے جب نصاب پر چاند کے حساب سے ایک سال گزر جائے اور پھر زکوٰۃ میں جو کچھ واجب ہوتا ہے وہ بہت قلیل ہے۔ یعنی کل مال کا چالیسواں حصہ دینا واجب ہوتا ہے۔ اسی طرح حج ہر شخص پر فرض نہیں بلکہ جو شخص مکہ معظمہ تک سواری پر آنے جانے کی طاقت رکھتا ہو اور ساتھ ہی سفر کا خرچ بھی ہو اور بال بچوں کا ضروری خرچہ پیچھے چھوڑ جانے کے لیے موجود ہو تب حج فرض ہوتا ہے اور وہ بھی زندگی میں صرف ایک بار فرض ہے۔ روزہ رمضان فرض ہونے کے باو جود مریض اور مسافر اور شیخ فانی حاملہ اور دودھ پلانے والی کے لیے جو آسانیاں ہیں وہ اوپر ابھی بیان ہوچکیں دیگر احکام میں جو آسانیاں ہیں وہ بھی عام طور سے معلوم اور مشہور ہیں۔
قولہ تعالیٰ (وَلِتُکْمِلُوا الْعِدَّۃَ ) (الایۃ) اس کے بارے میں صاحب روح المعانی ج 1 ص 6 فرماتے ہیں : ای و شرع لکم جملۃ ما ذکر من امر الشاھد بصوم الشھر و امر المرخص لہ بالقضاء کیف ما کان متواترًا أو متفرقا و بمراعاۃ عدۃ ما افطر من غیر نقصان و من الترخیص المستفاد من قولہ عزّوجل (یرید اللہ بکم الیسر او من قولہ تعالیٰ فعدۃ من ایام اخر) لتکملوا الخ۔
یعنی وَلِتُکْمِلُوْا میں واؤ عاطفہ ہے جو فعل و محذوف پر عطف ہے مطلب یہ کہ تمہارے لیے جو اللہ تعالیٰ نے یہ حکم مشروع فرمایا کہ جو شخص ماہ رمضان میں موجود ہو وہ روزے رکھے اور مریض اور مسافر کو رمضان میں روزے چھوڑ کر بعد میں چھوٹے ہوئے روزوں کی گنتی کے موافق قضا روزے متواتر یا متفرق طریقے پر رکھنے کی جو اجازت دی یہ اس لیے ہے کہ تم ٹھیک اچھی طرح گنتی کا دھیان رکھ کر تکمیل کرو تاکہ اداء و قضاء کوئی روزہ رہ نہ جائے اور تاکہ تم اس پر اللہ کی بڑائی بیان کرو کہ اس نے تمہیں ہدایت دی اور یہ جو فرمایا (وَلِتُکَبِّرُوا اللّٰہَ عَلٰی مَا ھَدَا کُمْ ) اس میں اللہ تعالیٰ کی بڑائی یعنی اس کی حمد وثناء بیان کرنے کا حکم ہے۔ حضرت زید بن اسلم ؓ نے فرمایا کہ اس سے یوم عید کی تکبیریں مراد ہیں اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اس سے چانددیکھنے کے وقت اللہ اکبر کہنا مراد ہے۔
اور (لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ ) میں تسہیل اور تیسیر کی علت بیان فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے حالت سفر اور مرض میں روزہ چھوڑ کر بعد میں قضا رکھنے کی جو آسانی دی ہے یہ اس لیے ہے کہ تم اللہ کا شکر ادا کرو۔ یہ آسانی اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے اس نعمت کی قدر دانی کرو۔
Ayah 2:186دعا کی فضیلت اور آداب
تفسیر درمنثور ج 1 ص 194 میں ذکر کیا ہے کہ ایک شخص حضور انور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ہمارا رب قریب ہے۔ جس سے ہم آہستہ طریقے پر مناجات کریں یاد و رہے جسے ہم زور سے پکاریں۔ اس پر آنحضرت ﷺ نے خامو شی اختیار فرمائی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آیت (وَاِذَا سَأَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ ) آخر تک نازل فرمائی اور حضرت عطاء بن ابی رباح نے بیان فرمایا کہ آیت (وَ قَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِیْٓ اَسْتَجِبْ لَکُمْ ) نازل ہوئی تو صحابہ نے عرض کیا کہ اگر ہمیں معلوم ہوجاتا کہ ہم کس وقت دعا کریں تو اچھا تھا اس پر آیت (وَاِذَا سَأَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ ) اخیر تک نازل ہوئی۔
گزشتہ آیات میں روزے کے احکام بیان ہوئے۔ رمضان المبارک کا مہینہ آخرت کمانے کا سیزن ہے اس میں کمائی بہت زیادہ ہوتی ہیں۔ شیاطین جکڑ دیئے جاتے ہیں اور جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں۔ (صحیح بخاری ج 1 ص 255) اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر رات ایک منا دی ندا دیتا ہے کہ اے خیر کی تلاش کرنے والے آگے بڑھ اور اے شر کے تلاش کرنے والے رک جا (سنن التر مذی ج 1 ص 122) اور اہل ایمان کی طبیعتیں نیکیوں کی طرف بہت زیادہ راغب ہوجاتی ہیں۔ روزے بھی رکھتے ہیں۔ نمازوں کا بھی اہتمام کرتے ہیں۔ فرضوں کے علاوہ مزید نمازیں پڑھتے ہیں ذکر و تلاوت میں لگتے ہیں۔ دعاؤں میں مشغول ہوتے ہیں۔ شب قدر کو زندہ رکھتے ہیں۔ رمضان میں دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ لہٰذا یہ مناسب ہوا کہ احکام رمضان کے درمیان دعا کی قبولیت کا ذکر کردیا جائے۔ آیت بالا میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ قریب ہے وہ سب کی دعا سنتا ہے اور قبول بھی فرماتا ہے۔ اسی لیے اسْمَعُ نہیں فرمایا بلکہ اُجِیب فرمایا تاکہ قلبی دعا کو بھی شامل ہوجائے۔ سورة ق میں فرمایا۔
(وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِِنْسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِہٖ نَفْسُہٗ وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ )
” اور البتہ تحقیق ہم نے انسان کو پیدا کیا اور اس کے نفس میں جو خیالات آتے ہیں ہم ان کو جانتے ہیں اور ہم انسان کے اس قدر قریب ہیں کہ اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ۔ “
صحیح بخاری ج 2 ص 944 میں ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے جب ہم کسی اونچائی پر چڑھتے تو بلند آواز سے اللہ اکبر کہتے تھے آنحضرت سرور عالم ﷺ نے فرمایا کہ اے لوگو ! اپنی جانوں پر رحم کرو کیونکہ تم کسی ایسے کو نہیں پکار رہے ہو جو بہرہ ہے اور غائب ہے۔ تم تو سمیع اور بصیر کو پکار رہے ہو ...... حضرت سلمان فارسی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بیشک تمہارا رب شرمیلا ہے کریم ہے وہ اس بات سے شرماتا ہے کہ بندہ جب اس کی طرف ہاتھ اٹھائے تو وہ ان ہاتھوں کو بغیر کسی خیر کے واپس فرمادے۔
(اخرجہ الترمذی فی ابواب الدعوات وحسنہ واخرجہ الحاکم فی المستدرک وقال علی شرط الشیخین اقرہ الذھبی) ۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تمہاری دعا قبول کی جاتی ہے جب تک کہ دعا کرنے والا جلدی نہ کرے وہ کہتا ہے کہ میں نے دعا کی وہ قبول نہ ہوئی۔ (صحیح بخاری ج 2 صفحہ 938)
ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بندہ کی دعا برابر قبول ہوتی رہتی ہے جب تک کہ گناہ کی اور قطع رحمی کی دعا نہ کرے بشرطیکہ جلدی نہ مچائے عرض کیا گیا کہ جلدی مچانے کا کیا مطلب ہے فرمایا جلدی مچانا یہ ہے کہ یوں کہنے لگے میں نے دعا کی اور لیکن مجھے قبول ہوتی نظر نہیں آتی یہ سمجھ کر تھک کر بیٹھ جائے اور دعا کو چھوڑ دے (صحیح مسلم ج 2 صفحہ 352) دعا برابر کرتے رہیں۔ رغبت کے ساتھ دل کو حاضر کرکے دعا کریں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : لیس شی اکرم علی اللّٰہ من الدعاء کہ اللہ کے نزدیک دعا سے بڑھ کر کوئی چیز فضیلت والی نہیں ہے اور ایک حدیث میں ہے الدعاء مخ العبادۃ کہ دعا عبادت کا مغز ہے اور ایک حدیث میں ہے کہ ارشاد ہے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جس شخص کو یہ خوشی ہو کہ اللہ تعالیٰ سختیوں اور بےچینیوں کے وقت اس کی دعاقبول کرے سو چاہئے کہ وہ اچھے حالات میں کثرت سے دعا کرے۔
دعا قبول ہونے کا کیا مطلب ہے اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو بھی کوئی شخص کوئی دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے سوال کے مطابق اسے عطا فرما دیتا ہے یا اس جیسی آنے والی کسی مصیبت کو روک دیتا ہے جب تک کہ گناہ گاری اور قطع رحمی کی دعا نہ کرے۔
(أخرج الاحادیث الاربعۃ الترمذی فی ابواب الدعوات)
اور مسند احمد میں ایک بات کا اضافہ ہے اور وہ یہ کہ یا اس کی دعا کو اللہ تعالیٰ آخرت کے لیے ذخیرہ بنا کر رکھ دے گا (جو اسے آخرت میں کام دے گی) ۔ (مشکوۃ المصابیح ص 196)
لوگ کہتے ہیں دعا قبول نہیں ہوتی حقیقت میں مانگنے والے ہی نہیں رہے۔ اول تو حضور قلب سے دعا نہیں کرتے۔ دوسرے حرام سے بچنے کا اہتمام نہیں کرتے۔ حدیث شریف میں ہے کہ کوئی شخص لمبے سفر میں ہو۔ اس کے بال بکھرے ہوئے ہوں، جسم پر گرد و غبار اٹا ہوا ہو۔ وہ آسمان کی طرف ہاتھ پھیلاتے ہوئے یارب یارب کہہ کر دعا کرتا ہو اور حال یہ ہے کہ اس کا کھانا حرام ہے پینا حرام ہے اور اس کو حرام سے غذا دی گئی۔ پس ان حالات میں اس کی دعا کیوں کر قبول ہوگی۔ (صحیح مسلم ص 326 ج 1)
سنن ترمذی میں ہے کہ رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دعا ان مصیبتوں کے دور ہونے کے لیے بھی نافع ہے جو نازل ہو چکیں اور ان مصیبتوں کو روکنے کے لیے بھی جو نازل نہیں ہوئیں۔ سو اے اللہ کے بندو ! تم دعا کو لازم پکڑ لو۔ (ابواب الدعوات)
سنن ترمذی میں ہے کہ رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ سے تم اس طرح دعا کرو کہ قبولیت کا یقین ہو اور یہ جان لو کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ غافل اور لاپرواہ دل کی دعا قبول نہیں فرماتا۔ آیت کریمہ کے آخر میں فرمایا :
(فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَ لْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّھُمْ یَرْشُدُوْنَ ) کہ میرے تمام احکام کو قبول کریں اور میری ذات وصفات پر ایمان لائیں مجھ پر یقین اور بھروسہ رکھیں۔ ایسا کریں گے تو ہدایت پر ثابت قدم رہیں گے اور مزید ہدایت پائیں گے۔ قال صاحب الروح أی فلیطلبوا اجابتی لھم اذا دعوتھم للایمان والطاعۃ کما أنی اجیبھم اذا دعونی لحوائجھم (ج 2 ص 64) ۔
وقال القرطبی ج 2 صفحہ 214 قال الھروی الرشد والرشد والرشاد الھدی والاستقامۃ و منہ قولہ تعالیٰ لعلھم یرشدون۔
وقال البیضاوی ج ا صفحۃ 130 فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ اذا دعوتھم للایمان والطاعۃ کما اجیبھم اذا دعونی لمھماتھم وَ لْیُؤْمِنُوْا بِیْ امر بالثبات والمداومۃ علیہ لَعَلَّھُمْ یَرْشُدُوْنَ راجین اصابۃ الرشد وھو اصابۃ الحق۔