Ayahs 2:45–47صبر اور صلوٰۃ کے ذریعہ مدد حاصل کرو
اس آیت شریفہ میں صبر اور نماز کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنے کا طریقہ بتایا ہے، لفظ صبر تین معنی میں آتا ہے۔ (اوّل) طاعات پر جما رہنا، خاص کر فرائض اور واجبات کو پابندی سے ادا کرنا۔ (دوم) گناہوں سے پوری طرح اہتمام کے ساتھ بچنا۔ (سوم) جو مصائب اور مشکلات در پیش ہوں ان پر صبر کرنا۔
عام طور سے لوگوں میں یہ تیسرا معنی ہی زیادہ معروف ہے۔ تینوں قسم کا صبر اللہ تعالیٰ کی مدد کو لانے والا ہے۔ زندگی میں عموماً صبر کے مواقع پیش آتے رہتے ہیں۔ عبادات بھی صبر ہی سے ادا ہوتی ہیں۔ نفس عبادت کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ اگر تیار ہوتا ہے تو صحیح طریقہ سے ادا کرنے سے بچتا ہے۔ روزہ اور جہاد تو سراپا صبر ہی ہے۔ نماز سب سے بڑی عبادت ہے اس میں بھی صبر کا مظاہرہ ہے۔ نمازی کا ظاہر اور باطن عبادت ہی میں مشغول ہوجاتا ہے جو نفس پر شاق ہوتا ہے۔ صبر اور صلوٰۃ کے ذریعہ مدد طلب کرنے کا حکم فرمایا، یہ دونوں چیزیں اللہ تعالیٰ کی مدد لانے میں بڑا دخل رکھتی ہیں۔
حضرت حذیفہ ؓ روایت فرماتے ہیں کہ لیلۃ الاحزاب میں (غزوۂ خندق کے موقعہ پر) میں رسول اللہ ﷺ کے پاس واپس آیا (اُن کو ایک کام کے لیے بھیجا تھا) تو آپ چادر اوڑھے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے اور آپ کی عادت تھی کہ جب کوئی مشکل در پیش ہوتی تھی تو نماز پڑھنے لگتے تھے۔ حضرت علی ؓ نے بیان فرمایا کہ میں نے غزوہ بدر کی رات میں یہ دیکھا کہ سوائے رسول اللہ ﷺ کے سب لوگ سوئے ہوئے تھے آپ برابر نماز میں مشغول رہے اور صبح ہونے تک دعا کرتے رہے۔ (ابن کثیر ص 87 ج 1) ۔ اس سلسلہ کا کچھ مضمون انشاء اللہ آیت کریمہ (یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ وَاسْتَعِیْنُوْا بالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ ) کے ذیل میں آئے گا۔
مفسر ابن کثیر نے ابن جریر طبری سے نقل کیا ہے کہ (وَاسْتَعِیْنُوْا بالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ ) میں علماء یہود سے خطاب فرمایا ہے (وہ لوگ تحصیل دنیا کے لیے اور ریاست اور جاہ باقی رکھنے کے لیے حق چھپاتے تھے اور اسلام نہ خود قبول کرتے تھے اور نہ دوسروں کو قبول کرنے دیتے تھے ان کو حکم ہوا کہ حق قبول کرو، اسلام لاؤ، اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری میں لگو، صبر اور صلوٰۃ کے ذریعہ اللہ کی مدد حاصل کرو جو اللہ سے نزدیک کرے گی اور برائیوں سے روکے گی، اسلام قبول کرنے پر جو کچھ تکلیف پہنچ جائے، مال اور ریاست میں کمی آجائے اسے صبر کے ساتھ برداشت کرو) ۔
پھر ابن کثیر فرماتے ہیں کہ آیت کا خطاب اگرچہ بنی اسرائیل کے انذار اور تحذیر کے سیاق میں وارد ہوا ہے لیکن علی سبیل التخصیص صرف یہود مخاطب نہیں ہیں بلکہ صبر اور صلوٰۃ کے ذریعہ مدد حاصل کرنے کا حکم یہود اور غیر یہود سب ہی کیلئے ہے۔ (ص 88 ج 1)
نماز کی اہمیت :
نماز میں ظاہر اور باطن سب عبادت میں لگ جاتا ہے۔ یہ ظاہری طہارت اور باطنی تزکیہ دونوں کو شامل ہے کچھ نہ کچھ مال بھی خرچ ہوتا ہے (مثلاً وضو اور غسل کے لیے پانی حاصل کرنا پڑتا ہے اور ستر عورت کے لیے کپڑوں کا انتظام کرنا پڑتا ہے) اگر صحیح طریقہ پر نماز پڑھی جائے تو دل اور اعضاء نماز کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں، اس میں شیطان سے مقابلہ ہے اور حق تعالیٰ شانہٗ سے مناجات ہے تلاوت قرآن ہے توحید اور رسالت کی گواہی ہے، نفس کو اس کے تقاضوں سے روکنا ہے اس میں چلنا پھرنا، کھانا پینا اور بات کرنا ممنوع ہے۔ نماز کے بہت سے فضائل اور فوائد ہیں۔ اگر نماز کو ٹھیک طرح سے پڑھا جائے، فرائض کی پابندی کی جائے، سنتوں کا اہتمام کیا جائے، نوافل کی طرف دھیان دیا جائے تو ضرور اللہ تعالیٰ کی مدد آتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمتیں بندہ کی طرف متوجہ ہوتی ہیں۔
خشوع کی ضرورت :
پھر فرمایا کہ نماز ضرور دشوار ہے مگر خشوع والوں پر دشوار نہیں۔ خشوع دل کے جھکاؤ اور عاجزی اور فروتنی کو کہا جاتا ہے۔ جب دل میں خشوع ہوتا ہے تو اعضاء میں بھی اس کی کیفیت ظاہر ہوتی ہے جو لوگ خشوع کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں ان کی نماز واقعی نماز ہوتی ہے، نماز میں ان کا دل لگتا ہے، نماز چھوڑنے کو جی نہیں چاہتا۔ مسجد سے جائیں تو مسجد میں واپسی کے لیے دل اٹکا رہتا ہے۔ جسے نماز کا خشوع حاصل ہوگیا اسے ساری کامیابیاں حاصل ہوگئیں۔ سورة مؤمنون میں فرمایا کہ (قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ ھُمْ فِیْ صَلاَتِہِمْ خَاشِعُوْنَ ) (بےشک وہ کامیاب ہوگئے جو اپنی نماز میں خشوع کرنے والے ہیں) ۔
دنیا میں لوگوں کو دیکھا جاتا ہے کہ طلب دنیا کے لیے بڑی محنتیں کرتے ہیں۔ پہاڑ توڑتے ہیں، پتھر پھوڑتے ہیں بہت سے لوگ اٹھارہ گھنٹے روزانہ محنت کرتے ہیں لیکن دو رکعت پڑھنا، ان کے لیے مصیبت بن جاتا ہے۔ اگر نماز شروع کردیں تو اس میں بھی اپنے دنیاوی مشاغل کا ہی دھیان رکھتے ہیں، خشوع نہیں ہوتا اس لیے دو رکعت پڑھنا بھی بھاری پڑجاتا ہے۔
خشوع والے کون ہیں ؟
پھر فرمایا کہ خشوع والے وہ ہیں جو یقین رکھتے ہیں کہ وہ بیشک اپنے رب سے ملاقات کرنے والے ہیں اور یہ کہ وہ اس کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ اس میں یہ بتایا ہے کہ خشوع ان لوگوں کو حاصل ہوتا ہے جنہیں اس بات کا یقین ہے کہ ان کو موت کے بعد جی اٹھنا ہے اور میدان قیامت میں حاضر ہونا ہے اور بارگاہ خداوندی میں پیشی ہونی ہے۔ اور اپنے پروردگار کی طرف لوٹنا ہے، جس کو ان باتوں کا یقین ہوگا وہ نما زقضا بھی نہ کرے گا، بےوقت بھی نہ پڑھے گا اچھی نماز بھی پڑھے گا۔ اس کو خشوع کی کیفیت بھی حاصل ہوگی۔ رکوع سجدہ بھی ٹھیک کرے گا۔ اس کی تلاوت بھی صحیح ہوگی۔ (قال ابن کثیر ای یعلمون انھم محشورون الیہ یوم القیامۃ معروضون علیہ وانھم الیہ راجعون ای امورھم راجعۃ الی مشیئتہ فلھذا لما ایقنوا بالمعاد و الجزاء سھل علیھم فعل الطاعات و ترک المنکرات) ۔ (ص 88 ج 1)
درحقیقت جسے یہ یقین ہو کہ یہ نماز آخرت میں نجات کا ذریعہ بنے گی اور نماز قبول ہوئی اور نیکیاں بھی قبول ہوں گی۔ یہ رد ہوئی تو دوسرے اعمال بھی رد ہوجائیں گے ( جیسا کہ ایک حدیث میں وارد ہوا ہے) اور یہ کہ میری نماز کا ثواب مجھی کو ملنا ہے اور اس کی وجہ سے بڑے بڑے انعامات نصیب ہوتے ہیں تو ایسا شخص بےوقت نماز کیوں پڑھے گا۔ جلدی جلدی کیوں پڑھے گا۔ اور رکوع سجدہ میں کمی کیوں کرے گا ؟ در حقیقت آخرت کی پیشی اور وہاں کے عذاب وثواب کا فکر ہو تو یہ دین کے بڑے بڑے کام کروا سکتا ہے۔ یہ نہ ہو تو صحیح طریقے پر دو رکعت نماز پڑھنا بھی بھاری ہوجاتا ہے۔ حضرت عمار بن یاسر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بیشک انسان نماز سے فارغ ہوتا ہے اور اس کے لیے نماز کا دسواں یا نواں یا آٹھواں یا ساتواں یا چھٹا یا پانچواں یا چوتھائی یا تہائی یا آدھا حصہ لکھا جاتا ہے (رواہ ابو داؤد و النسائی و ابن حبان فی صحیحہ کما فی الترغیب ص 341 ج 2) یہ ثواب کی کمی اور کٹوتی خود نمازی کے اپنے اخلاص، عمل اور خشوع کی کمی اور کوتاہی کی وجہ سے ہوتی ہے۔
Ayah 2:48قیامت کے دن نفسا نفسی
ان دونوں آیتوں میں بھی بنی اسرائیل کو خطاب فرمایا، اور مکرر اپنی نعمتوں کی یاد دہانی فرمائی۔ ان میں سے بہت سی نعمتوں کا تذکرہ آئندہ آیات میں آنے والا ہے۔ یہ جو فرمایا : (وَ اَنِّیْ فَضَّلْتُکُمْ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ ) (کہ میں نے تم کو فضیلت دی جہانوں پر) اس سے ان کے آباء و اجداد مراد ہیں۔ جن میں انبیاء کرام (علیہ السلام) بھی تھے اور وہ علماء صلحا بھی تھے جنہوں نے اللہ کے دین کو مضبوطی سے تھاما تھا اور جنہوں نے دین خداوندی میں کسی قسم کی تحریف اور تغییر نہیں کی تھی۔ ایمان اور اعمال صالحہ سے متصف تھے اور جن پر فضیلت دینے کا ذکر ہے، ان سے ان کے زمانے کے لوگ مراد ہیں۔ تمام عالم کے انسان اگلی پچھلی اقوام و افراد مراد نہیں ہیں۔
حضرت سرور عالم ﷺ تمام انبیاء ومرسلین سے افضل ہیں اور آپ کی امت ساری امتوں سے افضل ہے جس کی تصریح (کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ للنَّاسِ ) میں اور (وَ کَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا) میں فرمائی ہے۔
اپنے زمانہ میں بنی اسرائیل کو دوسری اقوام پر فضیلت اور برتری حاصل تھی۔ کیونکہ ان میں حضرت انبیاء کرام (علیہ السلام) ہوتے تھے اور ان کے ماننے والے بھی ہوتے تھے اور اعمال صالحہ والے بھی موجود تھے۔ سیدنا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور سیدنا خاتم النّبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے درمیان جو فترت کا زمانہ ہے (اور یہ زمانہ چھ سو سال کے لگ بھگ تھا) اس میں علماء یہود نے توریت شریف میں تحریف کردی اور دین خداوندی کو بدل دیا پھر جب حضرت خاتم النبیین ﷺ کی بعثت ہوئی اور علماء یہود نے پہچان بھی لیا کہ آپ وہی نبی ہیں جن کے آنے کا ہمیں انتظار تھا تو آپ کی نبوت اور رسالت کے منکر ہوگئے۔ تحریف و تغییر و انکار نبوت نبی آخر الزمان ﷺ کی وجہ سے اپنی ہر طرح کی فضیلت کھو بیٹھے، اور اب نہ صرف یہ کہ کفر اختیار کرنے والے بن گئے، بلکہ دین اسلام کے دشمن بن کر مستقل طریقہ پر مغضوب علیہم کی سند لے لی۔ حضرات انبیاء ( علیہ السلام) کی نسل سے ہیں مگر کفر کے ساتھ نسب کوئی کام نہیں دے سکتا۔ اللہ تعالیٰ بڑا بےنیاز ہے۔ وہ ہر کافر کو دوزخ میں بھیج دے گا کسی کی بھی اولاد ہو۔
یہودیوں کی دنیا طلبی، حب مال، حب جاہ اور اس بات کا حسد کہ نبی ہم میں سے کیوں نہ آیا، عربوں میں سے کیوں آیا ان چیزوں نے ان کو برباد کردیا۔ قرآن مجید نے خطاب کر کے ان سے فرمایا کہ دنیا کو نہ دیکھو، آخرت پر نظر کرو۔ اموال و اولاد اور قوم اور قبیلہ قیامت کے دل بالکل کام نہیں آسکتا، وہاں نہ کوئی جان کسی کی طرف سے کوئی حق ادا کرسکے گی ( یہ نہ ہو سکے گا کہ کوئی شخص کسی کی طرف سے قرضہ دے دے یا کسی طرح کا کوئی اور حق چکا دے، اور یہ نہ ہو سکے گا کہ کوئی کسی کی طرف سے عذاب بھگت لے۔ )
جن کی شفاعت کی اجازت ہوگی وہی سفارش کرسکیں گے :
کوئی سفارش قبول نہ کی جائے گی، بلکہ کوئی شخص کسی کے لیے سفارش کر ہی نہ سکے گا۔ سوائے ان لوگوں کے جن حضرات کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سفارش کرنے کی اجازت ہوگی اور جن کے حق میں سفارش کرنے کی اجازت ہوگی، انہی کے بارے میں قبول ہوگی۔ اور کافروں کے لیے کوئی سفارش کرنے والا نہ ہوگا اور نہ ان کے لیے سفارش کی اجازت ہوگی۔
(قال اللّٰہ تعالیٰ شانہ) فَمَا تَنْفَعُہُمْ شَفَاعَۃُ الشَّافِعِیْنَ (و قال اللّٰہ تعالٰی) مَا للظّٰلِمِیْنَ مِنْ حَمِیْمٍ وَّلاَ شَفِیعٍ یُّطَاعُ (و قال تعالٰی) یَوْمَءِذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَۃُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَہُ الرَّحْمٰنُ وَ رَضِیَ لَہٗ قَوْلًا (و قال تعالٰی) مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہٗٓ اِلَّا بِاِذْنِہٖ ) وہاں عذاب سے جان چھڑانے کے لیے کوئی معاوضہ یا فدیہ بھی قبول نہیں کیا جائے گا۔ اول تو وہاں کسی کے پاس کچھ ہوگا ہی نہیں جو جان کا بدلہ دے کر عذاب سے جان چھڑائے اور بالفرض کوئی دینا بھی چاہے تو قبول نہیں کیا جائے گا۔ اور جس کے لیے عذاب کا فیصلہ ہوگیا اسے عذاب ہی میں رہنا ہوگا۔
سورۂ آل عمران میں فرمایا : (اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ ھُمْ کُفَّارٌ فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْ اَحَدِھِمْ مِّلْ ءُ الْاَرْضِ ذَھَبً وَّلَوِ افْتَدٰی بِہٖ اُولٰٓءِکَ لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ وَّ مَا لَھُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ ) ” جو لوگ کافر ہوئے اور مرگئے کافر ہی، تو ہرگز قبول نہ ہوگا کسی ایسے شخص سے زمین بھر کر سونا۔ اگرچہ فدیہ دے اس قدر سونے کا، ان کیلئے عذاب درد ناک ہے اور کوئی نہیں ہوگا، ان کا مدد گار۔ “
اور سورة مائدہ میں فرمایا : (اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْ اَنَّ لَھُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَہٗ مَعَہٗ لِیَفْتَدُوْا بِہٖ مِنْ عَذَابِ یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ مَا تُقُبِّلَ مِنْھُمْ وَ لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ) ” جو لوگ کافر ہیں اگر ان کے پاس جو کچھ زمین میں ہے وہ سب ہو اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور ہوتا کہ بدلہ میں دیں قیامت کے عذاب سے بچنے کے لیے تو ان سے قبول نہ ہوگا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ “
آخر میں فرمایا (وَ لاَ ھُمْ یُنْصَرُوْنَ ) اور روز قیامت ان لوگوں کی مدد نہ کی جائے گی۔ اول اس بات کی نفی کی گئی کہ کوئی کسی کے کام آئے۔ پھر سفارش کی نفی کی گئی پھر جان کا بدلہ قبول کئے جانے کی نفی کی گئی پھر ہر طرح کی مدد کی نفی کردی گئی۔
Ayah 2:49مصر میں بنی اسرائیل کی مظلومیت
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر اپنے ایک بہت بڑے انعام کا تذکرہ فرمایا ہے۔ پہلے گزر چکا ہے کہ بنی اسرائیل کے تمام قبیلے مصر میں رہتے تھے۔ غیر ملکی ہونے کی وجہ سے مصر کے لوگ (فرعون اور فرعون کی قوم) ان پر بری طرح مسلط تھے، ان کی زندگی غلاموں سے بھی بدتر تھی، ان سے بڑی بڑی بیگاریں لیتے تھے اور ایسی بدترین غلامی میں بنی اسرائیل مبتلا تھے کہ مصری لوگ ان کے بیٹوں کو ذبح کردیتے تھے تو یہ ذرا چوں بھی نہیں کرسکتے تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں پیدا فرمایا، پھر ان کو اور ان کے بھائی ہارون ( علیہ السلام) کو نبوت عطا فرمائی، فرعون سے ان کا مقابلہ اور مناظرہ ہوا، فرعون نے مقابلہ کے لیے جادو گر بلائے معجزہ کے سامنے وہ لوگ نہ ٹھہر سکے اور اپنی ہار مان کر انہوں نے اسلام قبول کرلیا۔ اس کی وجہ سے بنی اسرائیل پر فرعون اور اس کی قوم کی اور زیادہ سختیاں بڑھ گئیں۔ اللہ جل شانہٗ کا موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ تم بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے نکل کھڑے ہو اور راتوں رات روانہ ہوجاؤ۔ چناچہ یہ لوگ ملک مصر سے نکل اور فرعون اور اس کے لشکروں سے نجات پائی۔ اہل تاریخ نے لکھا ہے کہ یہ لوگ مصر میں چار سو سال سے رہ رہے تھے۔ عرصہ دراز کی بد ترین غلامی سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نجات دی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے۔ آیت کے آخیر میں جو بَلَاءٌ ہے اس کے دو معنی مفسرین نے لکھے ہیں۔ عربی زبان میں آزمائش اور امتحان کو بھی بلاء کہتے ہیں۔ اگر یہ معنی لیے جائیں تو ترجمہ اور مطلب یہ ہوگا کہ تم ایسی سخت تکلیفوں میں مبتلا تھے اس میں تم بڑے امتحان میں تھے، اور بَلَاءٌ کا دوسرا معنی انعام کا ہے اگر یہ معنی لیے جائیں تو ترجمہ اور مطلب یہ ہوگا کہ ایسی تکلیفوں سے اور غلامی سے نجات دینے میں تم پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام ہے۔ فرعون اور اس کا لشکر بنی اسرائیل کے لڑکوں کو کیوں ذبح کرتے تھے اس کے بارے میں مفسرین نے لکھا ہے کہ فرعون نے خواب میں دیکھا تھا یا اسے کاہنوں نے بتایا تھا کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہوگا جو تیرے ملک کو ختم کرنے کا ذریعہ بنے گا۔ اللہ جل شانہٗ کی قضا و قدر غالب آئی، ان کی تدبیریوں ہی دھری رہ گئی، خدا جانے کتنے لڑکوں کو قتل کردیا۔ اسی زمانہء قتل میں موسیٰ (علیہ السلام) پیدا بھی ہوئے، پلے بڑھے جوان ہوئے اور فرعون ہی کے محل میں پرورش پائی پھر اس کی اور اس کی حکومت کی تباہی کا ذریعہ بنے۔
Ayah 2:50بنی اسرائیل کا سمندر پار کر کے نجات پانا اور آل فرعون کا غرق ہونا
اس آیت شریفہ میں اجمالی طور پر مصریوں سے بنی اسرائیل کی نجات اور آل فرعون کی بربادی اور ہلاکت کا ذکر ہے اللہ جل شانہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ تم راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر مصر کی آبادیوں سے نکل جاؤ اس وقت مصر میں فرعون کی حکومت تھی فرعون مصر کے ہر فرمانروا کو کہا جاتا تھا اور اس فرعون کا نام جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے میں تھا بعض مفسرین نے ولید بتایا ہے۔ بعض لوگوں نے کہا کہ اس کا نام بھی موسیٰ تھا۔ اس کا تعلق قوم عاد سے بتاتے ہیں۔ یہ بڑا سرکش بادشاہ تھا اپنے آپ کو سب سے اونچا معبود منواتا تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم بنی اسرائیل کو رات کو لے کر مصر کی آبادی سے نکل گئے اور سمندر کے کنارے پہنچ گئے ان کے نکلنے کی جب فرعون اور آل فرعون کو خبر لگی تو فرعون نے اپنے لشکروں کے ساتھ ان کا پیچھا کیا۔ بنی اسرائیل دریا کے کنارے پہنچ چکے تھے سورج نکل چکا تھا فرعون جو اپنے لشکروں کے ساتھ پیچھے سے پہنچا تو بنی اسرائیل گھبرا گئے اور انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ (اِنَّا لَمُدْرَکُوْنَ ) (کہ ہم تو دھر لئے گئے) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : (کَلَّا اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَھْدِیْنِ ) (ہرگز نہیں بیشک میرے ساتھ میرا رب ہے اور وہ ضرور مجھے راہ بتائے گا) اللہ جل شانہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو وحی بھیجی کہ تم اپنی لاٹھی سمندر میں مارو ! انہوں نے سمندر میں لاٹھی ماری تو سمندر پھٹ گیا اور پہاڑوں کے برابر اس کے ٹکڑے ہوگئے ان پانی کے پہاڑوں کے درمیان زمین خشک ہوگئی اور بنی اسرائیل کے قبیلے ان پہاڑوں کے درمیان سے گزر گئے۔ فرعون نے بھی اپنی جماعتوں اور لشکروں کے ساتھ ان کا پیچھا کیا اور یہ لوگ بھی سمندر میں داخل ہوگئے بنی اسرائیل کا پار ہونا تھا اور فرعون اور اس کے لشکر کا سمندر میں داخل ہونا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے سمندر کو ملا دیا اور فرعون اپنے لشکروں اور جماعتوں سمیت ڈوب گیا ان کے ڈوبنے کے اس منظر کو بنی اسرائیل اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے جس کو اس آیت میں (وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ ) سے تعبیر فرمایا ہے۔ فرعون جب ڈوبنے لگا تو کہنے لگا کہ میں بھی ایمان لاتا ہوں کہ اس ذات کے علاوہ کوئی معبود نہیں جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے۔ اور میں فرمانبرداروں میں سے ہوں۔ ارشاد ہوا (اآلْءٰنَ وَ قَدْ عَصَیْتَ قَبْلُ وَ کُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ ) (کیا اب ایمان لاتا ہے حالانکہ اس سے پہلے نافرمانی کرتا رہا اور تو فساد کرنے والوں میں سے تھا) ۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا، فرعون غرق ہو کر ہلاک تو ہوا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کی نعش کو محفوظ رکھا تاکہ بعد میں آنے والوں کو عبرت ہو جیسا کہ سورة یونس میں فرمایا ہے (فَالْیَوْمَ نُنَجِّیْکَ بِبَدَنِکَ لِتَکُوْنَ لِمَنْ خَلْفَکَ اٰٰیَۃً )
(سو آج ہم تیری لاش کو نجات دیں گے تاکہ تیری ذات ان لوگوں کے لیے عبرت ہوجائے جو تیرے بعد میں آنے والے ہیں) ۔ فرعون اور اس کے لشکروں کے غرق ہونے اور بنی اسرائیل کے نجات پانے کا واقعہ سورة طٰہٰ (رکوع 4) میں اور سورة شعراء (رکوع 4) میں اور سورة دخان (رکوع 1) میں بھی مذکور ہے۔
Ayahs 2:51–52حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا طور پر جانا اور بنی اسرائیل کا بچھڑے کی عبادت کرنا
جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو لے کر سمندر پار ہوگئے تو ایک میدان میں پہنچ گئے۔ یہاں سے ان کو اپنے وطن فلسطین جانا تھا لیکن چالیس سال کے بعد وہاں پہنچ سکے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی وفات کے بعد ان کے علاقے میں ان کو جانا نصیب ہوا ان کی وفات اسی میدان میں ہوگئی۔ اور اسی عرصہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو توریت شریف عطا فرمائی۔ طور پہاڑ اسی میدان میں ہے۔ اللہ جل شانہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو وہاں بلایا ایک مہینہ اعتکاف کرنے اور روزے رکھنے کا حکم ہوا تھا۔ لیکن تیس راتیں گزرنے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مسواک کرلی جس سے وہ خاص قسم کی رائحہ دور ہوگئی جو روزہ رکھنے سے منہ میں پیدا ہوجاتی ہے اس کو حدیث میں (خَلُوْفُ فَمِّ الصَّاءِمِ ) سے تعبیر فرمایا ہے اور فرمایا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ عمدہ ہے۔ (کما فی صحیح البخاری)
جب یہ رائحہ دور ہوگئی تو دس دن مزید روزہ رکھنے کا حکم ہوا۔ لہٰذا چالیس دن کوہ طور پر گزارے۔ مدت مذکورہ گزر جانے کے بعد توریت شریف عطا فرمائی۔ سورة بقرہ میں چالیس راتوں کا ذکر ہے۔ اور سورة اعراف میں تفصیل بیان فرمائی کہ تیس راتوں میں دس راتیں اور بڑھا دی گئیں۔ لہٰذا چالیس راتیں پوری ہوئیں۔ (وَ اَتْمَمْنٰھَا بعَشْرٍ فَتَمَّ مِیْقَاتُ رَبِّہٖ اَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً )
سامری سنار کا زیورات سے بچھڑا بنانا اور بنی اسرائیل کا اس کو معبود بنا لینا :
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) طور پر تشریف لے گئے اور وہاں چالیس دن لگ گئے۔ ادھر ان کے پیچھے ان کی قوم بنی اسرائیل نے بچھڑنے کی پر ستش شروع کردی جس کا واقعہ یہ ہے کہ جب بنی اسرائیل مصر سے نکلنے والے تھے۔ تو انہوں نے قبطی قوم کے لوگوں سے ( جو مصر کے اصل باشندے تھے) زیورات مانگ لئے تھے۔ یہ زیورات ان لوگوں کے پاس تھے ان میں ایک آدمی سامری نام کا تھا جو سنار کا کام کرتا تھا اس نے ان زیوروں کو جمع کر کے گائے کے بچھڑے کی شکل بنا دی اور اس کے منہ میں مٹی ڈال دی۔ یہ وہ مٹی تھی جو اس نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے گھوڑے کے پاؤں کے نیچے سے اٹھا لی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس مٹی میں ایسا اثر ڈالا کہ اس مجسمہ سے گائے کے بچہ کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل مصر میں بت پرستی دیکھ آئے تھے۔ جب اس کی آواز سنی تو کہنے لگے۔ ھٰذَآ اِلٰھُکُمْ وَ اِلٰہُ مُوْسٰی فَنَسِیَ ۔
(یعنی یہ تمہارا معبود ہے اور موسیٰ کا بھی معبود ہے سو وہ بھول گئے جو طور پر خدا تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کے لیے گئے۔ معبود تو العیاذ باللہ یہاں موجود ہے) ۔ حضرت ہارون (علیہ السلام) جن کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پیچھے چھوڑ گئے تھے انہوں نے بنی اسرائیل کو سمجھایا اور بتایا کہ تم فتنے میں پڑگئے ہو تمہارا رب رحمن ہے میری اتباع کرو۔ میری اطاعت کرو۔ اسی پر بنی اسرائیل نے کہا کہ ہم برابر اس بچھڑے کے آگے پیچھے لگے رہیں گے۔ یہاں تک کہ موسیٰ (علیہ السلام) واپس آجائیں۔
سامری کو بد دعا اور بچھڑے کا انجام :
جب موسیٰ (علیہ السلام) توریت شریف کی تختیاں لے کر تشریف لائے تو انہوں نے یہ ماجرا دیکھا، بہت غصہ ہوئے اور پوری صورتحال معلوم فرمائی پتہ چلا کہ سامری نے یہ حرکت کی ہے۔ اس سے بھی سوال جواب فرمایا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے سامری کو بددعا دے دی اور فرمایا :
(فَاذْھَبْ فَاِنَّ لَکَ فِی الْحَیٰوۃِ اَنْ تَقُوْلَ لَا مِسَاسَ ) (تو جا تیرے لیے زندگی بھر یہ بات طے کردی گئی کہ تو جسے دیکھے گا اس سے کہے گا کہ مجھے نہ چھونا) ۔ لہٰذا وہ حیران پریشان جنگل میں پھرتا رہتا تھا جب وہ کسی کو چھو لیتا تھا یا کوئی شخص اس کو چھو لیتا تو دونوں کو بخار چڑھ جاتا تھا پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے اس بچھڑے کو جلا دیا اور راکھ کو سمندر میں بہا دیا اور فرمایا (اِنَّمَآ اِلٰھُکُمُ اللّٰہُ الَّذِیْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ وَسِعَ کُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا) (تمہارا معبود صرف اللہ ہی ہے جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں اس کا علم ہر چیز پر حاوی ہے) یہ جو فرمایا کہ ہم نے تم سے درگزر کردیا۔ یہ ان کی توبہ کرنے کے بعد کی بات ہے۔ ان کی توبہ کا ذکر ابھی ایک آیت کے بعد آئے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔
Ayah 2:53توریت شریف عطا فرمانے کا انعام
اس آیت میں توریت شریف عطا فرمانے کا ذکر ہے بنی اسرائیل پر جو اللہ تعالیٰ کے بڑے بڑے انعامات ہوئے ان میں سے ایک یہ ہے کہ ان کو ایک جامع کتاب دی گئی جو احکام پر مشتمل تھی اس میں احکام دینیہ پوری طرح واضح طور پر بیان فرما دیئے گئے تھے سورة انعام میں فرمایا : (ثُمَّ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ تَمَامًا عَلَی الَّذِیْٓ اَحْسَنَ وَ تَفْصِیْلًا لِّکُلِّ شَیْءٍ وَّ ھُدًی وَّ رَحْمَۃً لَّعَلَّھُمْ بِلِقَآءِ رَبِّھِمْ یُؤْمِنُوْنَ ) ” پھر ہم نے موسیٰ کو کتاب دی جس سے اچھی طرح عمل کرنے والوں پر نعمت پوری ہوجائے اور سب احکام کی تفصیل معلوم ہوجائے۔ اور رہنمائی ہو اور رحمت ہوتا کہ وہ لوگ اپنے رب کے ملنے پر ایمان لائیں۔ “
توریت شریف کو فرقان یعنی حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے والی۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ اس کے معنی ہے حلال و حرام کے درمیان فرق کرنے والی۔ یہ دونوں باتیں ٹھیک ہیں۔ اللہ کی کتاب کی یہ سب صفات ہیں۔ حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے والی اور حلال و حرام کے درمیان بھی۔
بعض مفسرین نے فرمایا کہ الفرقان سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات مراد ہیں۔ سیاق کلام سے یہ بھی بعید نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو توریت شریف بھی دی اور معجزات بھی دیئے۔ جو ان کے دعوائے نبوت اور رسالت کو ثابت کرنے والے تھے۔ جو انعامات موسیٰ (علیہ السلام) پر ہوئے وہ سب بنی اسرائیل پر بھی ہیں۔ کیونکہ بنی اسرائیل ان کی امت میں سے تھے۔ بنی اسرائیل نے اللہ کی ساری نعمتوں کی ناقدری کی اور بجائے شکر گزار ہونے کے، ناشکرے ثابت ہوئے اور ہدایت کے بجائے گمراہی اختیار کی جس کا تذکرہ آئندہ آیات میں آ رہا ہے۔
Ayah 2:54گؤ سالہ پرستی کرنے والوں کی توبہ اور اس بارے میں جانوں کو قتل کرنا
جب موسیٰ (علیہ السلام) توریت شریف لے کر واپس بنی اسرائیل کے پاس تشریف لائے تو دیکھا کہ بہت بڑی تعداد میں یہ لوگ گؤسالہ پرستی یعنی بچھڑے کی عبادت میں منہمک ہوچکے ہیں اس پر انہیں بہت زیادہ غصہ آیا اور ان کو بت پرستی سے توبہ کرنے پر متوجہ فرمایا۔ ان لوگوں کو بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے توجہ دلانے سے اپنی گمراہی کا احساس ہوگیا جیسا کہ سورة اعراف میں فرمایا :
(وَ لَمَّا سُقِطَ فِیْٓ اَیْدِیْھِمْ وَ رَاَوْا اَنَّھُمْ قَدْ ضَلُّوْا قَالُوْا لَءِنْ لَّمْ یَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَ یَغْفِرْلَنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ) ” اور جب نادم ہوئے اور معلوم ہوا کہ واقعی وہ لوگ گمراہی میں پڑگئے تو کہنے لگے کہ اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہ کرے اور ہمیں معاف نہ کرے تو ہم بالکل نقصان میں پڑجانے والے ہوں گے۔ “
ان لوگوں کی توبہ کا طریقہ اللہ تعالیٰ نے یہ متعین فرمایا تھا کہ وہ مقتول ہوجائیں۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ یوں حکم ہوا تھا کہ جن لوگوں نے بچھڑے کی عبادت نہیں کی تھی وہ ان لوگوں کو قتل کردیں۔ جنہوں نے بچھڑے کی عبادت کی۔ مفسرین نے یہ بھی لکھا ہے کہ جب قتل کرنا شروع کیا تو قاتلین کے سامنے بچھڑنے کی عبادت کرنے والوں میں وہ لوگ بھی سامنے آجاتے تھے جو ان کے رشتہ دار اور عزیز قریب تھے لہٰذا وہ قتل کرنے سے ہچکچاتے تھے اللہ تعالیٰ نے سیاہ بادل بھیج دیے تاکہ ایک دوسرے کو نہ دیکھیں اور صبح سے شام تک قتل کا سلسلہ چلتا رہا حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) نے دعا کی بادل ہٹا دیا گیا اور توبہ نازل ہوگئی اس وقت تک ستر ہزار آدمی قتل کیے جا چکے تھے مفسرین کے انداز بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ جنہوں نے بچھڑے کی عبادت کی تھی وہ سب ہی مقتول نہیں ہوئے بلکہ ستر ہزار کے قتل ہونے پر سب کی توبہ قبول ہوگئی۔ (بیضاوی و ابن کثیر)
آیت کریمہ میں یہ جو فرمایا کہ (فَتُوْبُوْٓا الٰی بَارِءِکُمْ ) (کہ تم اپنے پیدا کرنے والے کے حضور میں توبہ کرو) اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ مستحق عبادت وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا اسے چھوڑ کر تم ایسی چیز کی پرستش میں لگ گئے جس کی شکل و صورت تمہارے آدمی نے خود بنائی۔ شرک کی سزا دوزخ کا دائمی عذاب ہے اس سے بچنے کے لئے توبہ کرلو اور توبہ کی قبولیت کے لیے یہ شرط لگائی کہ آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرو۔ اور فرمایا کہ یہ تمہارے لیے بہتر ہے یہ ایک وقتی تکلیف ہے۔ جس کا سہہ لینا دوزخ کے دائمی عذاب کے مقابلہ میں بہت زیادہ سہل ہے۔ اور اس عذاب سے بچنا تمہارے لیے بہت بہتر ہے۔ امت محمدیہ پر اللہ جل شانہٗ کا بہت بڑا فضل و کرم ہے اس کی توبہ ندامت سے اور آئندہ گناہ کے نہ کرنے کا فیصلہ کرلینے پر اور حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے سے قبول ہوجاتی ہے۔ کوئی کیسا ہی کتنا بڑا گناہ کرے، کفر اختیار کرے، شرک کا کام کرے اس کے لیے توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔ سچے دل سے اسلام قبول کرے توحید و رسالت پر ایمان لائے اس کی توبہ قبول ہے۔
Ayahs 2:55–56بنی اسرائیل کی بیجا جسارت اور دنیا میں اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کا سوال
جب موسیٰ نبینا (علیہ السلام) توریت شریف لے کر تشریف لائے تو بنی اسرائیل کو پایا کہ ان میں سے بہت سے لوگ بچھڑے کی عبادت کرچکے ہیں بچھڑے اور اس کی عبادت کرنے والوں کا انجام اوپر بیان ہوچکا ہے۔ بنی اسرائیل نے گؤ سالہ پرستی کے علاوہ ایک اور اڑ لگائی۔ اور انہوں نے کہا کہ آپ جو فرما رہے ہیں کہ یہ اللہ کی کتاب ہے۔ ہمارے پاس اس کی کیا دلیل ہے۔ ہم تو اس کو جب مانیں گے جب اللہ تعالیٰ ہم سے خود فرمائیں کہ یہ میری کتاب ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا چلو یہ بھی سہی تم لوگ اپنے نمائندے تیار کرلو اور جو لوگ میرے ساتھ چلیں وہ روزہ رکھیں اور پاک صاف ہو کر چلیں جس دن ان کو خداوند قدوس سے ہم کلامی سے مشرف ہونے کا موقعہ آیا (جس کے لیے پہلے سے اجازت لی ہوئی تھی اور وقت مقرر فرما دیا تھا) تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان ستر آدمیوں کو بھی ساتھ لے گئے۔ اللہ تعالیٰ کا کلام سن کر یہ لوگ مطمئن نہ ہوئے اور دوسری کروٹ بدلی اور کہنے لگے کہ ہم تمہاری بات جب مانیں گے جب ہم اللہ تعالیٰ کو علانیہ طور پر اپنے آمنے سامنے دیکھ لیں۔ ان کا یہ کہا تھا کہ ان کو بجلی کی کڑک نے پکڑ لیا اور وہ دیکھتے ہی دیکھتے لقمہ اجل بن گئے۔ جب یہ ماجرا ہوا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو فکر لاحق ہوئی کہ پہلے ہی بنی اسرائیل مجھے متہم کرتے تھے اور طرح طرح کی باتیں کرتے تھے اب اتنے آدمی ہلاک ہوگئے تو میں جب یہ بیان کروں گا کہ وہ لوگ بجلی کی کڑک سے مرگئے تو خدا جانے کیا کیا باتیں بنائیں گے اور کیسے اتہام دھریں گے لہٰذا انہوں نے بارگاہ خداوندی میں دعاء کی جس کی وجہ سے دوبارہ زندہ کردیے گئے۔ اس نعمت کا شکر ان زندہ ہونے والوں پر اور ساری قوم پر واجب ہوا۔ (ابن کثیر ص 1/ 93‘ 94‘ البیضاوی : 1/ 75)
Ayah 2:57میدان تیہ میں بنی اسرائیل پر بادلوں کا سایہ کرنا اور من وسلوی نازل ہونا
جب بنی اسرائیل مصر سے سے نکلے اور دریا پار کرکے ایک بیابان جنگل میں پہنچے جہاں سے ان کو اپنے وطن کنعان جانا تھا اور وہاں پہنچنے میں چالیس سال لگ گئے صبح کو جہاں سے چلتے تھے شام کو وہیں موجود ہوتے تھے۔ (ذکرہ البیضاوی فی تفسیر قولہ تعالیٰ یَتِیْھُوْنَ فِی الْاَرْضِ ) ۔ دھوپ اور گرمی میں چلنا اور روزانہ چلنا نہایت تکلیف دہ تھا انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے عرض کیا کہ ہمارے لیے کچھ سایہ کا انتظام ہونا چاہیے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے بارگاہ خداوندی میں دعاء کی جس کی وجہ سے ان کے لیے بادل بھیج دئیے گئے دن میں جب وہ سفر کرتے تھے تو بادل ان پر سایہ کرتے تھے اس سایہ میں ان کا سفر طے ہوتا تھا چونکہ روزانہ سفر ہی سفر تھا کسی طرح کی تجارت یا صنعت و حرفت یا زراعت کا موقع نہیں تھا اور کھانے کی ضرورت بدستور موجود تھی جس کا ہر انسان محتاج ہے تو ان کی اس حاجت کے پورا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے من اور سلوی نازل فرمائے۔
من :
من کے بارے میں علماء تفسیر کے بہت سے اقوال ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہ ایسی چیز تھی جو درختوں پر نازل ہوجاتی تھی۔ صبح جا کر اس میں سے جس قدر چاہتے کھالیتے تھے۔ حضرت مجاہد نے فرمایا کہ یہ ایک قسم کا گوند تھا۔ حضرت عکرمہ نے فرمایا کہ وہ کوئی چیز تھی جو گاڑھے گودے کے مشابہ تھی۔ حضرت قتادہ کا قول ہے کہ یہ لوگ جہاں مقیم ہوتے وہیں برف کی طرح ان کی جگہوں میں من کا نزول ہوجاتا تھا جو دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہوتا تھا۔ اور یہ طلوع فجر سے طلوع شمس تک نازل ہوتا تھا لیکن ایک دن کی ضرورت کے بقدر ہر شخص کو لینے کی اجازت تھی اس سے زیادہ کوئی لے لیتا تو وہ خراب ہوجاتا تھا۔ البتہ جمعہ کے دن جمعہ اور سنیچر دونوں دنوں کے لیے لے لیتے تھے۔ (تفسیر ابن کثیر)
رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ عجوہ (مدینہ منورہ کی کھجوروں کی ایک قسم) جنت سے ہے اور اس میں زہر سے شفا ہے اور کھمبی من سے ہے اور اس کا پانی آنکھوں کے لیے شفا ہے۔
(اخرجہ الترمذی ابواب الطب ؛ وھو فی البخاری ص 643 ج 2 من غیر ذکر العجوۃ)
اس سے معلوم ہوا کہ یہ جو کھمبی کبھی کبھی زمین پر نظر آجاتی ہے۔ یہ اس من کا بقیہ ہے جو بنی اسرائیل پر نازل ہوا تھا۔ راوی حدیث حضرت ابوہریرہ ؓ نے بیان فرمایا کہ میری ایک باندی چندھی تھی میں نے کھمبی کا پانی لیکر اس کی آنکھ میں ڈالا تو وہ ٹھیک ہوگئی۔
سلویٰ :
یہ کیا چیز تھی ؟ یہ کوئی پرندہ تھا جو بٹیرے سے مشابہ تھا اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کے پاس خوب زیادہ تعداد میں پرندے بھیج دیتا تھا جو ہوا کے ذریعہ آجاتے تھے وہ لوگ ان کو ذبح کردیتے تھے اس بارے میں بھی حکم تھا کہ بقدر ضرورت لیں اور ذخیرہ بناکر نہ رکھیں لیکن انہوں نے اس بات پر عمل نہ کیا۔ من اور سلویٰ دونوں کا ذخیرہ بنا لیا اور جب دوسرے دن اسے دیکھا تاکہ کھائیں تو اس میں بدبو آچکی تھی اور خراب ہوچکا تھا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے تو گوشت میں تغیر نہ آتا اور بدبو دار نہ ہوتا اور اگر حوا نہ ہوتیں تو کوئی عورت کبھی بھی اپنے شوہر کی خیانت نہ کرتی (صحیح بخاری ص 469 ج 1) مطلب یہ ہے کہ بنی اسرائیل نے اللہ پر بھروسہ نہ کیا ان کے لیے حکم تھا کہ من وسلوی اٹھا کر نہ رکھیں لیکن وہ نہ مانے، اٹھا کر رکھا تو اس میں بدبو آگئی۔ خراب ہوگیا لہٰذا گوشت کے خراب ہونے کی ابتداء ان لوگوں سے ہوئی اور ان کی حرکت بد کی وجہ سے ہوئی۔ اسی طرح سے حضرت حوا نے حضرت آدم کو جنت کا وہ درخت کھانے پر آمادہ کیا جس کے کھانے سے منع کیا گیا تھا پھر دونوں نے کھالیا اور دونوں دنیا میں بھیج دئیے گئے۔ شوہر کی خیانت کی ابتداء سیدہ حوا سے ہوئی ‘ لہٰذا ان کی نسل میں بھی یہ بات باقی رہ گئی۔ (مرقاۃ شرح مشکوۃ کتاب النکاح باب عشرۃ النساء)
Ayahs 2:58–59ایک بستی میں خشوع کے ساتھ داخل ہونے کا حکم اور بنی اسرائیل کی شرارت اور اس پر عذاب آنا
یہ کون سی بستی ہے جس میں داخل ہونے کا یہاں اس آیت شریفہ میں ذکر فرمایا ہے۔ بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس سے بیت المقدس مراد ہے۔ اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ یہ اریحا بستی تھی جس میں داخل ہونے کا حکم ہوا تھا۔ مفسرابن کثیر لکھتے ہیں کہ پہلا قول ہی صحیح ہے۔ کیونکہ یہ مصر سے آکر اپنے علاقہ ارض مقدسہ میں جا رہے تھے اور اریحا ان کے راستہ میں نہیں پڑتا تھا اور پھر لکھتے ہیں کہ یہ واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ کا نہیں ہے بلکہ جب بنی اسرائیل چالیس سال میدان میں حیران و سرگرداں پھرتے رہے تو حضرت یوشع بن نون (علیہ السلام) کی معیت میں ان کو بیت المقدس میں داخل ہونا نصیب ہوا۔ ان کے علاقہ میں (جسے یہ چھوڑ کر مصر چلے گئے تھے) قوم عمالقہ آباد تھی۔ وہ بڑے قدآور اور قوت و شوکت والے لوگ تھے۔ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے جب بنی اسرائیل سے فرمایا کہ چلو اس سر زمین میں داخل ہوجاؤ جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے لکھ دی ہے تو ان لوگوں نے کہا کہ اس میں تو بڑے جابر قسم کے لوگ آباد ہیں۔ ہمارے بس کا نہیں جو ان سے مقابلہ کریں تم جاؤ اور تمہارا رب جائے دونوں وہاں جا کر قتال کرلیں۔ ان کی حرکت پر چالیس سال کے لیے بیت المقدس کی سر زمین ان پر حرام کردی گئی پھر یوشع (علیہ السلام) کی سر کردگی میں بیت المقدس فتح ہوا۔ جب بیت المقدس میں داخل ہونے لگے تو حکم ہوا کہ اللہ جل شانہ کا شکر ادا کرتے ہوئے داخل ہوں کہ اس نے ان کا علاقہ ان کو واپس فرمایا اور اس میں فتح یابی نصیب فرمائی اور ان کو میدان تیہ کی حیرانی اور پریشانی سے نجات دی اور اس شکر کے اظہار کے لیے عملی طور پر یہ تجویز فرمایا کہ جھکے ہوئے داخل ہوں تو اضع کا طریقہ اختیار کریں غرور اور تکبرکو پاس نہ آنے دیں۔ اور ایسی کوئی صورت اختیار نہ کریں جس سے استہزاء کی کیفیت ظاہرہو اور ان کو یہ حکم دیا تھا کہ حِطَّۃٌ کہتے ہوئے داخل ہوں جس کا معنی یہ ہے کہ اللہ ہم گناہوں کی بخشش کا سوال کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا تھا کہ ایسا کرو گے تو ہم تمہاری خطائیں معاف کردیں گے اور جو لوگ اچھے کام کرنے والے ہیں ان کے ثواب میں اور اضافہ کردیں گے۔ حکم کیا ہوا تھا اور حرکت کیا کی ؟ اسی کو فرمایا کہ ظالموں نے اس کو بدل دیا جس کا حکم دیا تھا، عمل کو تو اس طرح بدلا کہ جھکے ہوتے داخل ہونے کی بجائے بچوں کی طرح اپنے دھڑوں پر گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے جس میں ایک طرح کا استہزاء ہے۔ اور جو معافی مانگنے کا حکم ہوا تھا اس میں اس طرح ادل بدل کیا کہ حِطَّۃٌ کی بجائے (حَبَّۃٌ فِیْ شَعِیْرَۃٍ ) کہتے ہوئے داخل ہوئے۔ (کما فی صحیح البخاری 2/643)
جب انہوں نے ایسی حرکت کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے فاسقانہ کرتوتوں کی وجہ سے ان پر عذاب نازل فرما دیا۔ یہ عذاب جو بنی اسرائیل پر نازل ہوا تھا اس کو ” رجز “ سے تعبیر فرمایا ہے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ ان لوگوں پر طاعون بھیج دیا گیا تھا جس کی وجہ سے کثیر تعداد میں بنی اسرائیل کی موتیں ہوئیں۔ علماء تفسیر نے یہاں حضور اقدس ﷺ کا یہ ارشاد بھی نقل کیا ہے کہ : (اَلطَّاعُوْنُ رِجْزٌ عَذَابٌ بِہٖ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ )
(یعنی طاعون رجز ہے عذاب ہے جس کے ذریعہ تم سے پہلی امتوں کو عذاب دیا گیا) ۔ (ذکرہ ابن کثیر، عن ابن ابی حاتم)
معالم التنزیل میں لکھا ہے کہ طاعون کی وجہ سے بنی اسرائیل کے ستر ہزار آدمی ایک ہی ساعت میں ہلاکت ہوگئے۔ مومن بندوں کو ہر حال میں اپنے خالق ومالک ہی کی طرف متوجہ رہنا چاہئے جب اللہ تعالیٰ فتح اور کامرانی دے تو خصوصیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ شانہ کی طرف متوجہ ہوں عاجزی اور فروتنی کو اختیار کریں سید عالم ﷺ فتح مکہ کے دن مکہ معظمہ میں خشوع خضوع کے ساتھ داخل ہوئے فتح مکہ کے بعد ام ھانی کے گھر میں آٹھ رکعات نماز پڑھی یہ چاشت کا وقت تھا، مفسر ابن کثیر لکھتے ہیں کہ بعض علماء نے اس کو صلاۃ الضحیٰ اور بعض حضرات نے صلاۃ الفتح سے تعبیر کیا ہے جب امیر لشکر کسی شہر کو فتح کرلے تو اس کے لیے مستحب ہے کہ اول مرتبہ جب داخل ہو تو آٹھ رکعت نفل پڑھے حضرت سعدبن ابی وقاص ؓ نے جب فارس فتح کیا اور ایوان کسریٰ میں داخل ہوئے تو انہوں نے بھی آٹھ رکعت نماز پڑھی۔ (ابن کثیرص 99 ج 1)
Ayah 2:60میدان تیہ میں بنی اسرائیل کے لیے پتھر سے پانی کے چشمے پھوٹنا
یہ بھی میدان تیہ کا قصہ ہے۔ اس میدان میں جب بنی اسرائیل کو پیاس لگی اور پانی کی ضرورت محسوس ہوئی تو انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے پانی کا سوال کیا جب موسیٰ (علیہ السلام) نے بارگاہ خداوندی میں پانی کی درخواست کی تو اللہ جل شانہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم فرمایا کہ اپنی لاٹھی کو پتھر پر مارو چناچہ انہوں نے ایسا ہی کیا لاٹھی کا پتھر پر مارنا تھا کہ اس پتھر سے بارہ چشمے پھوٹ پڑے۔ علامہ بغوی نے معالم التنزیل میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ جس پتھر میں لاٹھی مارنے سے چشمے جاری ہوئے تھے یہ ایک ہلکا سا پتھر تھا جو چوکور تھا۔ سیدنا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے تھیلے میں رہتا تھا۔ جب پانی کی حاجت ہوتی تو اسے زمین پر رکھ کر لاٹھی مار دیتے تھے جس سے چشمے جاری ہوجاتے تھے۔
جب بنی اسرائیل پانی سے سیراب ہوجاتے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس کو اٹھا کر تھیلے میں رکھ لیتے تھے اور جب پانی پینا چاہتے تھے تو پھر اس میں لاٹھی مار دیتے تھے۔ جس سے پانی نکلتا، روزانہ چھ لاکھ آدمی اس سے سیراب ہوتے تھے۔ بنی اسرائیل سے بارہ قبیلے تھے ہر قبیلے کے لیے پتھر سے چشمہ پھوٹتا تھا اور ہر قبیلہ اپنے چشمے سے سیراب ہوتا تھا۔
لق و دق میدان میں اللہ جل شانہ، نے بنی اسرائیل کے کھانے کے لیے من وسلوی عطا فرمایا اور ان کے پینے کے لیے پتھر سے چشمے جاری فرمائے یہ اللہ تعالیٰ کا بنی اسرائیل پر بہت بڑا انعام تھا۔ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا بہت بڑا معجزہ بھی تھا اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
(کُلُوْا وَ اشْرَبُوْا مِنْ رِّزْقِ اللّٰہِ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ )
” کہ اللہ تعالیٰ کے رزق سے کھاؤ اور پیو اور زمین میں فساد کرنے والے نہ بنو۔ “
(لاَ تَعْثَوْا) عثٰی سے مشتق ہے جو خوب زیادہ بڑا فساد کرنے کے معنی میں آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی آپس کا قتل و قتال اور ایک دوسرے پر ظلم کرنا بہت بڑا فساد ہے۔ نعمتوں کی ناشکری کرنے سے نعمتوں سے محرومی ہوجاتی ہے۔ سب کو معلوم ہے کہ نعمتوں کے مقابلہ میں ناشکری اور نافرمانی شرعاً و عقلاً بہت بڑی جہالت اور باعث ہلاکت ہے۔
Ayah 2:61بنی اسرائیل کا کہنا کہ ہم ایک کھانے پر صبر نہیں کرسکتے، ہمیں پیاز، لہسن چاہئے !
میدان تیہ میں بنی اسرائیل کو دونوں وقت کھانے کے لیے من وسلوی ملتا تھا۔ انسان کا کچھ ایسا مزاج ہے کہ وہ ایک قسم کا کھانا کھاتے کھاتے بددل ہوجاتا ہے۔ اور اس کی طبیعت کا تقاضا ہوتا ہے کہ مختلف قسم کے کھانے کھائے بنی اسرائیل من وسلوی کھاتے کھاتے اکتا گئے لیکن انہوں نے طبعی اکتاہٹ کو دیکھا اور اس بات کو نہ دیکھا کہ ہم ایسی بد ترین غلامی سے نکل کر آئے ہیں جہاں ہمارے بچے ذبح کر دئیے جاتے تھے اور اف نہ کرسکتے تھے ایسے بڑے دشمن کا ہلاک اور برباد ہونا اور اس سے نجات پانا یہ اللہ تعالیٰ کی اتنی بڑی نعمت ہے کہ اس کے سامنے کھانے کی طبعی اکتاہٹ پر صبر کرلینا معمولی بات ہے لیکن انہوں نے صبر کرنے سے انکار کردیا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ آپ اپنے رب سے دعا کریں کہ وہ ہمارے لیے زمین سے نکلنے والی چیزیں پیدا فرمائے ہمیں سبزیاں چاہئیں، کھیرا چاہئے، گیہوں چاہئے، مسور کی دال چاہئے اور پیاز چاہئے۔ اور طرز سوال بھی عجیب ہے وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہہ رہے ہیں آپ اپنے رب سے دعا کریں یہ نہیں کہتے کہ ہم سب مل کر اپنے رب سے مانگیں، گویا اپنا کوئی تعلق ہی اپنے رب سے نہیں ہے اور گویا موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو مصر سے لا کر ایک طرح کے کھانے کی مصیبت میں ڈالا ہے لہذا وہ دعا کریں اور وہی مصیبت حل کریں۔ ان کا شکریہ تو کجا کہ ان کی محنتوں کوششوں اور قربانیوں سے بدترین غلامی سے نجات پائی، شکریہ کی بجائے ان کو مطعون کر رہے ہیں کہ تم نے ہم کو مصیبت میں ڈالا، جب مذاق بگڑ جاتا ہے تو انسان عزت اور رفعت کی قدر نہیں کرتا وہ اپنے پست ذہن کی وجہ سے پستی کو ہی پسند کرتا ہے اور ذلت کا خوگر ہوجاتا ہے اس کی طبیعت ذلیل ہو کر رہنے ہی کو پسند کرتی ہے، وہ صرف یہ چاہتا ہے کہ طبیعت کی خواہشوں کے مطابق جیتارہوں، چاہے جوتے ہی پڑتے رہیں۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ناراضگی :
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بنی اسرائیل کی یہ ادا پسند نہ آئی اور فرمایا کہ تمہارے پاس عمدہ کھانا بغیر کسب معاش اور بغیر محنت مشقت کے پہنچ جاتا ہے تم اس عمدہ چیز کو چھوڑ کر گھٹیا چیزیں طلب کر رہے ہو، یہ طریقہ صحیح نہیں ہے اگر تم کو سبزیاں ترکاریاں، دال اور پیاز چاہئے تو کسی شہر میں چلے جاؤ۔ یہ چیزیں وہیں ملیں گی۔
لفظ ” فوم “ کا معنی تفسیر کی کتابوں میں گیہوں بھی لکھا ہے۔ اور لہسن بھی، دونوں ہی معنی یہاں مراد ہوسکتے ہیں۔ حضرت ابن عباس سے منقول ہے کہ بنی ہاشم کی زبان میں فوم گیہوں کو کہا جاتا تھا۔ حضرت مجاہد نے اس کا ترجمہ لہسن کیا اور حضرت ابن عباس سے ایک قول یہ بھی منقول ہے۔ حضرت امام بخاری نے بعض حضرات کا قول نقل کیا ہے کہ ” الحبوب التی توکل کلھا فوم “ یعنی تمام غلے جو کھائے جاتے ہیں وہ سب فوم کا مصداق ہیں۔ (راجع ابن کثیر ص 101 ج 1)
یہودیوں پر ذلت اور مسکنت مار دی گئی :
پھر فرمایا کہ یہود پر ذلت اور مسکنت مار دی گئی۔ یعنی ان کے ساتھ لازم کردی گئی۔ وہ برابر ذلیل رہیں گے۔ جس میں دوسری قوموں کا ماتحت ہونا، جزیہ دینا مال کا حریص ہونا، بہت زیادہ مال ہوتے ہوئے بھی مال کی طلب میں لگنا اور جان کھپانا یہ سب ذلت میں داخل ہے۔ صاحب معالم التنریل ص 78 ج 1 لکھتے ہیں :
فتری الیھود و ان کانوا میسا سیر کأنھم فقراءٌ و قیل الذلۃ ھی فقر القلب فلا تری فی أھل الملل اذل و احرص علی المال من الیھود
(یہود پر چونکہ ذلت اور مسکنت مار دی گئی اور ان کی جانوں کے ساتھ لگا دی گئی اس لیے تم ان کو دیکھو گے کہ مالدار ہوتے ہوئے بھی فقیر ہیں۔ اور بعض حضرات نے فرمایا کہ ذلت سے دل کا فقیر ہونا مراد ہے۔ اسی لیے تمام اہل مذاہب میں یہودیوں سے بڑھ کر کوئی قوم زیادہ ذلیل اور مال کی حریص نہیں ہے۔ )
صاحب معالم التنزیل نے سچ فرمایا کہ مالدار ہوتے ہوئے بھی لیچڑ ہونا اور پیسے کے لیے جان دینا اور تھوڑا سا نقصان ہوجانے پر بیمار پڑجانا یا دل کا دورہ پڑجانا یا اچانک مرجانا، یہ باتیں قلبی فقر کو ظاہر کرتی ہیں اور اس کے نمونے اگر دیکھنے ہوں تو ہندوستان کے بنیوں میں دیکھے جاسکتے ہیں۔
یہود نے انبیاء کرام (علیہ السلام) کو قتل کیا اس لیے غضب الٰہی کے مستحق ہوگئے :
پھر فرمایا کہ، وہ غضب الٰہی کے مستحق ہوگئے اور ذلت اور مسکنت کا ان کے ساتھ لازم ہوجانا اور غضب الٰہی کا مستحق ہوجانا اس وجہ سے ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے تھے اور اس لیے کہ انہوں نے نافرمانی کی اور اللہ تعالیٰ کی حدود سے آگے بڑھ جاتے تھے۔ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کا قتل تو ناحق ہی ہوتا ہے لیکن بغیر الحق کی تصریح اس لیے فرمائی کہ ان کے نزدیک بھی ان کو قتل کرنا ناحق تھا پھر یہ کہ ان حضرات کے قتل کرنے پر کوئی ندامت نہیں ہوتی تھی۔ مفسر ابن کثیر نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے نقل کیا ہے کہ بنی اسرائیل نے شروع دن میں تین سو نبیوں کو قتل کردیا (علیہم الصلوۃ والسلام) پھر شام کو اپنے بازاروں میں سبزیوں کا کاروبار شروع کردیا۔ بنی اسرائیل نے جن انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کو قتل کیا ان میں حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ ( علیہ السلام) کے اسماء گرامی زیادہ مشہور ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ارشاد فرمایا نبی کریم ﷺ نے کہ قیامت کے دن لوگوں میں سب سے زیادہ سخت عذاب والاوہ شخص ہوگا جس نے کسی نبی کو قتل کیا یا جسے کسی نبی نے قتل کیا یا جس نے اپنے والدین میں سے کسی کو قتل کیا اور تصویر بنانے والوں کو بھی سب سے زیادہ سخت عذاب ہوگا اور اس عالم کو بھی جس سے اپنے علم سے نفع حاصل نہیں کیا۔ (مشکوۃ المصابیح ص 1378 زبیہقی فی شعب الایمان)
یہودیوں کی حکومت سے متعلق ایک سوال :
جب سے یہودیوں کی حکومت قائم ہوئی ہے تو کم علم یہ اشکال پیش کرنے لگے ہیں کہ قرآن مجید میں پیشین گوئی تھی کہ ان کی حکومت کبھی قائم نہ ہوگی اس پیشین گوئی کے خلاف کیسے ہوگیا ؟ یہ سوال کوئی وزنی نہیں ہے کیونکہ قرآن مجید میں ایسی کوئی تصریح نہیں ہے بلکہ سورة آل عمران میں اس طرف اشارہ ہے کہ ذلت ان پر ماردی گئی ہے بعض حالات میں وہ نہ رہے گی چناچہ ارشاد ہے :
(ضُرِبَتْ عَلَیْھِمُ الذِّلَّۃُ اَیْنَ مَا ثُقِفُوْٓا اِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰہِ وَ حَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ ) ” یعنی ان پر ذلت جما دی گئی وہ جہاں کہیں پائے جائیں مگر اللہ کے کسی قانون کے ذریعے سے یا آدمیوں کے ذریعہ سے۔ “
اللہ کے قانون کا مطلب تو یہ ہے کہ کوئی یہودی بوڑھا ہو یا عبادت میں لگا ہو مسلمانوں سے جنگ نہ کرتا ہو تو وہ قتل نہ کیا جائے گا۔ اگرچہ اس کی عبادت آخرت میں نفع دینے والی نہیں ہے۔ اور آدمیوں کے ذریعہ اس کی ذلت رک جانے کا مطلب یہ ہے کہ کسی قوم سے ان کی صلح ہوجائے یا کوئی قوم ان کو قوت پہنچانے لگے یا ان کی مدد کرنے لگے جس سے ان کو تھوڑی سی عارضی عزت مل جائے۔ ظاہر ہے کہ یہودیوں کی جواب حکومت قائم ہے وہ بعض دوسری حکومتوں کی وجہ سے ہے اگر وہ ان کی مدد اور معاونت چھوڑ دیں تو ایک دن بھی ان کی حکومت باقی نہیں رہ سکتی۔