2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayahs 2:249–252

فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوْتُ بِالْجُنُوْدِ ۙ— قَالَ اِنَّ اللّٰهَ مُبْتَلِیْكُمْ بِنَهَرٍ ۚ— فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَیْسَ مِنِّیْ ۚ— وَمَنْ لَّمْ یَطْعَمْهُ فَاِنَّهٗ مِنِّیْۤ اِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَةً بِیَدِهٖ ۚ— فَشَرِبُوْا مِنْهُ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ ؕ— فَلَمَّا جَاوَزَهٗ هُوَ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ ۙ— قَالُوْا لَا طَاقَةَ لَنَا الْیَوْمَ بِجَالُوْتَ وَجُنُوْدِهٖ ؕ— قَالَ الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوا اللّٰهِ ۙ— كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِیْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِیْرَةً بِاِذْنِ اللّٰهِ ؕ— وَاللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ ۟فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوۡتُ بِالۡجُـنُوۡدِۙ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ مُبۡتَلِيۡکُمۡ بِنَهَرٍ‌ۚ فَمَنۡ شَرِبَ مِنۡهُ فَلَيۡسَ مِنِّىۡ‌ۚ وَمَنۡ لَّمۡ يَطۡعَمۡهُ فَاِنَّهٗ مِنِّىۡٓ اِلَّا مَنِ اغۡتَرَفَ غُرۡفَةً ۢ بِيَدِهٖ‌‌ۚ فَشَرِبُوۡا مِنۡهُ اِلَّا قَلِيۡلًا مِّنۡهُمۡ‌ؕ فَلَمَّا جَاوَزَهٗ هُوَ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ ۙ قَالُوۡا لَا طَاقَةَ لَنَا الۡيَوۡمَ بِجَالُوۡتَ وَجُنُوۡدِهٖ‌ؕ قَالَ الَّذِيۡنَ يَظُنُّوۡنَ اَنَّهُمۡ مُّلٰقُوا اللّٰهِۙ کَمۡ مِّنۡ فِئَةٍ قَلِيۡلَةٍ غَلَبَتۡ فِئَةً کَثِيۡرَةً ۢ بِاِذۡنِ اللّٰهِ‌ؕ وَاللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِيۡنَ Open ayah 2:249 in the Quran reader

طالوت لشکروں کے ساتھ روانہ ہوئے تو انہوں نے کہا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمہیں ایک نہر کے ذریعہ آزمانے والا ہے، سو جس نے اس میں سے پی لیا وہ مجھ سے نہیں ہے اور جس نے اس میں سے نہ پیا تو وہ مجھ سے ہے سوائے اس شخص کے جس نے اپنے ہاتھ سے ایک چلو پی لیا، پھر تھوڑے سے افراد کے علاوہ سب نے اس میں سے پی لیا پھر جب آگے بڑھے طالوت اور وہ لوگ جو ان کے ساتھ ایمان لائے تھے تو کہنے لگے کہ آج ہمیں جالوت اور اس کے لشکروں سے لڑنے کی طاقت نہیں ہے، جو لوگ اللہ کی ملاقات کا یقین رکھتے تھے وہ کہنے لگے کتنی ہی کم تعداد جماعتیں اللہ کے حکم سے بھاری تعداد والی جماعتوں پر غالب ہوچکی ہیں اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

وَلَمَّا بَرَزُوْا لِجَالُوْتَ وَجُنُوْدِهٖ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ ۟ؕوَلَمَّا بَرَزُوۡا لِجَـالُوۡتَ وَجُنُوۡدِهٖ قَالُوۡا رَبَّنَآ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا وَّثَبِّتۡ اَقۡدَامَنَا وَانۡصُرۡنَا عَلَى الۡقَوۡمِ الۡکٰفِرِيۡنَؕ Open ayah 2:250 in the Quran reader

اور جب یہ لوگ جالوت اور اس کے لشکروں کے مقابلہ کے لیے نکلے تو عرض کیا کہ اے ہمارے رب ہم پر صبر ڈال دے اور ہمیں ثابت قدم رکھ، اور کافروں کے مقابلہ میں ہماری مدد فرما۔

فَهَزَمُوْهُمْ بِاِذْنِ اللّٰهِ ۙ۫— وَقَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ وَاٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمَهٗ مِمَّا یَشَآءُ ؕ— وَلَوْلَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ ۙ— لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ ۟فَهَزَمُوۡهُمۡ بِاِذۡنِ اللّٰهِ ۙ وَقَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوۡتَ وَاٰتٰٮهُ اللّٰهُ الۡمُلۡكَ وَالۡحِکۡمَةَ وَعَلَّمَهٗ مِمَّا يَشَآءُ ‌ؕ وَلَوۡلَا دَفۡعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعۡضَهُمۡ بِبَعۡضٍ لَّفَسَدَتِ الۡاَرۡضُ وَلٰـکِنَّ اللّٰهَ ذُوۡ فَضۡلٍ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ Open ayah 2:251 in the Quran reader

سو ان کو شکست دے دی اللہ کے حکم سے اور قتل کردیا داؤد نے جالوت کو اور اللہ نے ان کو ملک دے دیا اور حکمت عطا فرما دی، اور ان کو جو کچھ چاہا علم دے دیا اور اگر نہ ہوتا اللہ کا دفع فرمانا لوگوں کو بعض کو بعض کے ذریعہ تو زمین میں فساد ہوجا تا اور لیکن اللہ جہانوں پر فضل فرمانے والا ہے۔

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ ؕ— وَاِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ ۟تِلۡكَ اٰيٰتُ اللّٰهِ نَـتۡلُوۡهَا عَلَيۡكَ بِالۡحَـقِّ‌ؕ وَاِنَّكَ لَمِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ Open ayah 2:252 in the Quran reader

یہ اللہ کی آیات ہیں جنہیں ہم آپ پر تلاوت کرتے ہیں اور بلاشبہ آپ پیغمبروں میں سے ہیں۔

طالوت کے لشکر کا عمالقہ پر غالب ہونا اور جالوت کا مقتول ہونا جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت طالوت کو بنی اسرائیل کا حکمران مقرر کردیا گیا اور ان کے نبی کی خبر کے مطابق مذکورہ تابوت فرشتے لے کر آگئے تو اب بنی اسرائیل کے لیے کوئی حجت باقی نہ رہی، اور جہاد کرنے کے لیے نکلنا پڑا۔ جب دشمن سے جنگ کرنے کے لیے روانہ ہوئے تو حضرت طالوت نے اپنے لشکروں سے فرمایا کہ تم لوگوں کا امتحان ہونے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ تم کو مبتلا فرمائے گا اور یہ ابتلا اور امتحان ایک پانی کی نہر کے ذریعہ ہوگا، چونکہ گرمی سخت تھی اور پیاس سے بےتاب ہو رہے تھے اس لیے اکثر افراد امتحان میں نا کام ہوگئے۔ مفسرین نے لکھا ہے یہ نہر فلسطین تھی اور بعض حضرات کا قول ہے کہ اردن اور فلسطین کے درمیان کوئی نہر تھی جس کا پانی میٹھا تھا، حضرت طالوت نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ دیکھو اس میں چلو بھر پانی پینے تک تو بات ٹھیک ہے جس نے چلو بھر پانی پی لیا وہ تو میرا ساتھی ہے میرے آدمیوں میں ہے اور جس نے زیادہ پانی پی لیا وہ مجھ سے نہیں ہے میری جماعت میں اس کا شمار نہیں، چونکہ اکثر افراد نے خوب پانی پی لیا تھا اس لیے ان کے حوصلے پست ہوگئے اور جی چھوڑ بیٹھے اور ہمت ہار گئے اور کہنے لگے ہم تو آج اپنے دشمن جالوت اور اس کے لشکر کا مقابلہ کرنے سے عاجز ہیں۔ ہماری بساط نہیں کہ ہم ان سے لڑ سکیں۔ مفسرین نے لکھا ہے جو لوگ طالوت کے ساتھ روانہ ہوئے تھے وہ ستر یا اسی ہزار تھے ان میں سے تھوڑے ہی رہ گئے جنہوں نے پانی نہیں پیا، جن لوگوں نے پانی نہیں پیا تھا ان کی تعداد تین سو تیرہ لکھی ہے۔ یہ تھوڑا سا ایک چلو پانی جن لوگوں نے پیا اللہ نے اتنے ہی پانی کو ان کے لیے کافی فرمادیا ان کی پیاسیں اس سے بجھ گئیں اور جن لوگوں نے ڈٹ کے پانی پی لیا تھا وہ وہیں نہر کے کنارے پھیل گئے اور بزدل ہو کر گرپڑے، جو لوگ حضرت طالوت کے ساتھ آگے بڑھے اور دشمن کی طرف پیش قدمی کی وہ دشمن کے مقابلے میں بہت تھوڑے تھے لیکن انہیں یقین تھا کہ ہمیں اللہ کے پاس جانا ہے۔ میدان جہاد سے بھاگنا مؤمن کا شیوہ نہیں۔ ہمیں جہاد کرنا ہی کرنا ہے۔ رہا ہماری جماعت کا کم تعداد ہونا تو اللہ کی مدد کی امید رکھنے والوں کے لیے یہ بات سوچنے کی نہیں ہے۔ بہت سی کم تعداد جماعتیں بڑی بھاری تعداد والی جماعتوں پر اللہ کے حکم سے غالب ہوچکی ہیں، صبر و ثابت قدمی اللہ کی مدد کو لانے والی ہے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ جب حضرت طالوت کا لشکر دشمن سے جہاد کرنے کے لیے جا رہا تھا تو حضرت داؤد (علیہ السلام) نے اپنے ایک تھیلے میں چند پتھر رکھ لیے تھے جب دونوں فریق مقابل ہوئے تو جالوت نے کہا تم لوگ اپنے میں سے ایک شخص نکالو جو مجھ سے جنگ کرے اگر اس نے مجھے قتل کردیا تو میرا ملک تمہارا ہوجائے گا۔ اور میں نے قتل کردیا تو تمہارا ملک میرے ملک میں شامل ہوجائے گا۔ حضرت طالوت نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کو جالوت کے مقابلہ کے لیے روانہ کرنا چاہا اور ان کو ہتھیار پہنا دئیے، حضرت داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا کہ مجھے اس سے جنگ کرنے کے لیے ہتھیار پہننا منظور نہیں ہے۔ اصل اللہ کی مدد ہے اگر اللہ نے مدد نہ فرمائی تو کوئی ہتھیار کام نہیں دے سکتا۔ یہ کہہ کر جالوت سے مقابلہ کرنے کے لیے نکلے۔ جالوت نے کہا کہ تم مجھ سے مقابلہ کرو گے انہوں نے فرمایا کہ ہاں، جالوت نے کہا تم تو یہ پتھر اور غلیل لے آئے ہو جس سے کتے کو مارا جاتا ہے، حضرت داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تو اللہ کا دشمن ہے کتے سے بھی بدتر ہے یہ کہہ کر اپنی غلیل سے ایک پتھر مارا جو اس کی آنکھوں کے درمیان لگا اور دماغ میں گھس گیا۔ اس سے جالوت کا کام تمام ہوا اور اس کے لشکر نے شکست کھائی۔ جالوت جو ان کا دشمن تھا اور قوم عمالقہ کا بادشاہ تھا اس سے اور اس کے لشکروں سے آمنا سامنا ہوا، دونوں فریق صف آرا ہوئے تو حضرت طالوت کے ساتھیوں نے اللہ تعالیٰ سے صبر کی اور ثابت قدمی کی اور کافروں کے مقابلہ میں فتح یاب ہونے کی دعا کی، جنگ ہوئی جس کے نتیجہ میں جالوت اور اس کے لشکروں کو شکست ہوئی، اس جہاد میں حضرت داؤد (علیہ السلام) بھی شریک تھے۔ ان کے ہاتھ سے جالوت قتل ہوا۔ جیسا کہ اوپر بیان ہوا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کو حکومت عطا فرما دی جس کا ذکر سورة صٓ کے پہلے رکوع میں فرمایا ہے۔ حضرات مفسرین نے فرمایا ہے کہ ملک سے حکومت اور حکمت سے نبوت مراد ہے اللہ تعالیٰ شانہ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کو دونوں سے سر فراز فرمایا، صاحب روح المعانی ص 173 ج 2 لکھتے ہیں کہ ان کے زمانہ کے جو نبی تھے ان کی وفات کے بعد اور طالوت کی وفات کے بعد ان کو نبوت اور بادشاہت دی۔ جس کا اجمالی طور پر (وَعَلَّمَہٗ مِمَّا یَشَآءُ ) میں تذکرہ فرمایا ہے۔ مذکورہ قصہ جہاد بیان فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا (وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعْضُھُمْ بِبَعْضٍ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ ) (کہ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعہ دفع نہ فرماتا تو زمین فساد والی ہوجاتی اور لیکن اللہ تعالیٰ جہانوں پر فضل فرمانے والا ہے) وہ قوت اور شوکت والوں کی طاقت کو دوسرے لوگوں کے ذریعہ دفع فرماتا رہتا ہے اور ظالمین تباہ ہوتے رہتے ہیں۔ اگر کسی ایک ہی علاقہ یا ایک ہی قوم کی قوت و شوکت ہمیشہ رہتی تو وہ ساری دنیا کو مصیبت میں ڈال دیتے اور سب کو مقہور و مجبور بنا لیتے اور ہمیشہ طغیانی سرکشی کرتے رہتے۔ آخر میں فرمایا ” کہ یہ اللہ کی آیات ہیں جنہیں ہم حق کے ساتھ آپ پر تلاوت کرتے ہیں اور بلاشبہ آپ پیغمبروں میں سے ہیں۔ “ چونکہ آنحضرت ﷺ نے نہ کتابیں پڑھیں تھیں، نہ پرانی تاریخیں سنی تھیں۔ اس لیے ان واقعات کا علم ہوجانا اور لوگوں کو بتانا اس امر کی واضح دلیل ہے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو بتایا گیا ہے۔ قال صاحب الروح قولہ (وانک لمن المرسلین) حیث تخبر بتلک الآیات و القرون الماضیۃ علی ماھی علیہ من غیر مطالعۃ کتاب ولا اجتماع بأحد یخبر بذلک۔ (ص 175 ج 2)
Ayah 2:253

تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰی بَعْضٍ ۘ— مِنْهُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجٰتٍ ؕ— وَاٰتَیْنَا عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَاَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ ؕ— وَلَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِیْنَ مِنْ بَعْدِهِمْ مِّنْ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ وَلٰكِنِ اخْتَلَفُوْا فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ وَمِنْهُمْ مَّنْ كَفَرَ ؕ— وَلَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلُوْا ۫— وَلٰكِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ ۟۠تِلۡكَ الرُّسُلُ فَضَّلۡنَا بَعۡضَهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ‌ۘ مِنۡهُمۡ مَّنۡ كَلَّمَ اللّٰهُ‌ وَرَفَعَ بَعۡضَهُمۡ دَرَجٰتٍ‌ؕ وَاٰتَيۡنَا عِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ الۡبَيِّنٰتِ وَاَيَّدۡنٰهُ بِرُوۡحِ الۡقُدُسِ‌ؕ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقۡتَتَلَ الَّذِيۡنَ مِنۡۢ بَعۡدِهِمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡهُمُ الۡبَيِّنٰتُ وَلٰـكِنِ اخۡتَلَفُوۡا فَمِنۡهُمۡ مَّنۡ اٰمَنَ وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ كَفَرَ‌ؕ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقۡتَتَلُوۡا وَلٰـكِنَّ اللّٰهَ يَفۡعَلُ مَا يُرِيۡدُ Open ayah 2:253 in the Quran reader

یہ رسول ہیں ہم نے فضیلت دی ان میں بعض کو بعض پر، ان میں بعض سے اللہ نے کلام فرمایا اور بعض کو درجات کے اعتبار سے بلند فرمایا، اور ہم نے دئیے عیسیٰ بن مریم کو کھلے کھلے معجزات، اور ہم نے ان کی تائید کی روح القدس کے ذریعہ، اور اگر اللہ چاہتا تو وہ لوگ آپس میں جنگ نہ کرتے جو ان کے بعد تھے، اس کے بعد کہ آئے ان کے پاس کھلے ہوئے معجزات، لیکن انہوں نے آپس میں اختلاف کیا سو ان میں سے بعض وہ تھے جو ایمان لائے اور بعض وہ تھے جنہوں نے کفر کیا، اور اگر اللہ چاہتا تو وہ لوگ آپس میں جنگ نہ کرتے لیکن اللہ کرتا ہے جو چاہتا ہے۔

حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کے درمیان فرق مراتب لفظ تلک اسم اشارہ ہے اس کا مشار الیہ المرسلین ہے، یعنی یہ پیغمبر جن کا ذکر ابھی ابھی ہوا، ان کو ہم نے آپس میں ایک دوسرے پر فضیلت دی کہ بعض کو ایسی منقبت سے متصف فرما دیا جو بعض دوسروں میں نہیں تھی اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے تفصیل بالشرائع مراد ہے۔ ان میں سے بعض کو مستقل شریعت دی تھی اور بعض کو سابق نبی ہی کی شریعت کا مؤید و مبلغ بنایا، صاحب روح المعانی لکھتے ہیں (ص 2 ج 2) ، پہلے قول کی تائید (مِنْھُمْ مَّنْ کَلَّمَ اللّٰہُ ) سے ہوتی ہے۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) میں سے بعض ایسے حضرات تھے جن سے اللہ تعالیٰ نے کلام فرمایا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تو سب ہی کلیم اللہ کے نام سے جانتے ہیں۔ سورة النساء میں فرمایا (وَ کَلَّمَ اللّٰہُ مُوْسٰی تَکْلِیْمًا) اور اس کلام سے بلا واسطہ کلام مراد ہے جس میں فرشتے کا واسطہ نہیں تھا۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ حضرت آدم (علیہ السلام) ان حضرات میں شامل ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے بلا واسطہ کلام فرمایا۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) کی ایک دوسرے پر فضیلت بیان کرتے ہوئے (وَ رَفَعَ بَعْضَھُمْ دَرَجٰتٍ ) بھی فرمایا یعنی بعض انبیاء کے درجات دوسرے بعض انبیاء کے مقابلہ میں زیادہ بلند فرمائے۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ یہاں بَعْضُھُمْ سے سرور عالم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ مراد ہیں۔ اللہ تعالیٰ شانہ، نے آپ کو وہ وہ خواص علمیہ و عملیہ عطا فرمائے کہ زبانیں ان کو پوری طرح کر کرنے سے عاجز ہیں، آپ رحمۃ للعالمین ہیں، صاحب الخلق العظیم آپ کی صفت خاص ہے۔ آپ پر قرآن کریم نازل ہوا جو پوری طرح محفوظ ہے۔ آپ کا دین ہمیشہ باقی رہنے والا ہے جو معجزات کے ذریعے مؤید ہے۔ مقام محمود اور شفاعت عظمیٰ کے ذریعہ آپ کو رفعت دی گئی ہے اور آپ کے فضائل اور مناقب اتنے زیادہ ہیں جن کا شمار کرنا بندوں کے بس سے باہر ہے، حضرات علماء کرام نے آپ کے معجزات اور مناقب اور خصائص پر مستقل کتابیں تالیف کی ہیں، حافظ جلال الدین سیوطی کی کتاب الخصائص الکبریٰ ، اور امام بیہقی کی کتاب دلائل النبوۃ کا مطالعہ کیا جائے، آخر الذکر کتاب سات جلدوں میں ہے جو کئی ہزار صفحات پر مشتمل ہے۔ پھر ارشاد فرمایا : (وَ اٰتَیْنَا عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰہُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ ) کہ ہم نے عیسیٰ بن مریم کو واضح معجزات عطا کیے اور روح القدس (یعنی جبرائیل (علیہ السلام) کے ذریعہ ان کی تائید کی، اس کی تفسیر و تشریح سورة البقرہ کے رکوع 12 میں گزر چکی ہے۔ پھر ارشاد فرمایا : (وَ لَوْ شَآء اللّٰہُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِیْنَ مِنْ بَعْدِھِمْ مِّنْ بَعْدِ مَا جَآءَ تْھُمُ الْبَیِّنٰتُ ) اگر اللہ چاہتا تو وہ لوگ آپس میں جنگ اور قتل و قتال نہ کرتے۔ جو حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کے تشریف لیجانے کے بعد آپس میں مختلف ہوگئے۔ حضرات انبیاء (علیہ السلام) کی امتیں آپس میں اختلاف کرتی رہیں اور ان میں لڑائیاں ہوتی رہیں حالانکہ ان کے پاس کھلے ہوئے دلائل موجود تھے۔ اگر ان کو سامنے رکھتے تو نہ مختلف ہوتے نہ جنگ کرتے ان میں بہت سے لوگ ایسے تھے جنہوں نے ایمان قبول کیا اور انبیاء (علیہ السلام) کے متبع بنے اور بہت سے لوگوں نے کفر اختیار کیا اللہ تعالیٰ کی مشیت ہوتی تو ان کا آپس میں قتل و قتال نہ ہوتا لیکن اللہ تعالیٰ قادر مطلق اور فاعل ہے وہ چاہے کرلے اس پر کسی کا اعتراض ہو نہیں سکتا۔
Ayah 2:254

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَلَا خُلَّةٌ وَّلَا شَفَاعَةٌ ؕ— وَالْكٰفِرُوْنَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ ۟يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡفِقُوۡا مِمَّا رَزَقۡنٰكُمۡ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّاۡتِىَ يَوۡمٌ لَّا بَيۡعٌ فِيۡهِ وَلَا خُلَّةٌ وَّلَا شَفَاعَةٌ ‌ ؕ وَالۡكٰفِرُوۡنَ هُمُ الظّٰلِمُوۡنَ Open ayah 2:254 in the Quran reader

اے ایمان والو، اس میں سے خرچ کرو جو ہم نے تمہیں دیا ہے اس سے پہلے کہ وہ دن آئے کہ جس میں نہ بیع ہوگی نہ دوستی اور نہ سفارش اور جو کافر ہیں وہ ظلم کرنے والے ہیں

روز قیامت آنے سے پہلے پہلے اللہ کے لیے خرچ کرلو اس آیت شریفہ میں مال خرچ کرنے کا حکم فرمایا ہے اور لفظ رَزَقْنَاکُمْ میں یہ بتادیا کہ یہ مال ہمارا ہی دیا ہوا ہے جس نے مال دیا اس کو پورا پورا حق ہے کہ مال خرچ کرنے کا حکم فرمائے نیک کاموں میں فرائض واجبات کے مصارف بھی ہیں اور مستحب و نفلی صدقات بھی اور جس طرح بدنی عبادات (نماز روزہ) آخرت کے عذاب سے بچانے کا ذریعہ ہیں۔ اسی طرح مالی عبادات بھی اس کا سبب ہیں۔ صحیح بخاری ص 191 ج 1 میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا (اِتَّقُوا النَّار وَلَوْ بَشَقِّ تَمْرَۃٍ ) (دوزخ سے بچو اگرچہ آدھی ہی کھجور کا صدقہ کر دو ) قیامت کا دن بہت سخت ہوگا نفسا نفسی کا عالم ہوگا۔ ایمان اور اعمال صالحہ ہی کام دیں گے۔ اس دن نہ بیع ہوگی، نہ دوستی نہ سفارش، لہٰذا اس دن نجات پانے اور عذاب سے بچنے کے لیے اعمال صالحہ کرتے رہنا چاہئے۔ اعمال صالحہ میں اللہ کی رضا کے لیے مال خرچ کرنا بھی شامل ہے۔ یہ جو فرمایا کہ ” اس دن بیع نہیں ہوگی۔ “ اس کے بارے میں حضرات مفسرین لکھتے ہیں کہ اس سے فدیہ یعنی جان کا بدلہ مراد ہے، مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن کوئی جان کسی جان کے بدلہ عذاب بھگتنے کے لیے تیار نہیں ہوگی جیسا کہ سورة البقرہ کے چھٹے رکوع میں فرمایا (لَا تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَیْءًا) اور فدیہ کی صورت میں کیونکہ مبادلہ ہوتا ہے اس لیے اسے بیع سے تعبیر فرمایا۔ اور یہ جو فرمایا وَ لَا خُلَّۃٌاس میں دوستی کی نفی فرمائی مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن دنیا کی کوئی دوستی کسی کو کام نہ دے گی یہاں جو محبتیں ہیں اور دوستی کے مظاہرے ہیں یہ وہاں بالکل نہ رہیں گے بلکہ دوست دشمن ہوجائیں گے۔ کوئی دوست کسی کی مدد نہ کرسکے گا۔ یہ اہل کفر اور اہل فسق کے بارے میں ہے۔ متقی حضرات کی محبتیں باقی رہیں گی جیسا کہ سورة الزخرف میں ارشاد فرمایا : (اَلْاَخِلَّاءُ یَوْمَءِذٍ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِِلَّا الْمُتَّقِیْنَ ) (کہ اس دن دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے۔ سوائے ان لوگوں کے جو صفت تقویٰ سے متصف تھے) ۔ (وَلَا شَفَاعَۃٌ) فرما کر شفاعت یعنی سفارش کی نفی فرما دی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کافروں کے لیے اس دن کوئی شفاعت نہ ہوگی۔ جیسا کہ سورة المؤمن میں فرمایا : (مَا للظّٰلِمِیْنَ مِنْ حَمِیْمٍ وَّلاَ شَفِیْعٍ یُّطَاعُ ) (کہ ظالموں کے لیے نہ کوئی دوست ہوگا نہ سفارش کرنے والا ہوگا جس کی بات مانی جائے۔ اہل ایمان کے لیے جو شفاعت ہوگی اس میں اس کی نفی نہیں ہے جس کو سفارش کرنے کی اجازت ہوگی وہی سفارش کرسکے گا اور جس کے لیے سفارش کرنے کی اجازت ہوگی اس کے لیے سفارش ہو سکے گی۔ آیت کے ختم پر فرمایا (وَ الْکٰفِرُوْنَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ ) (کفر کرنے والے ظالم ہی ہیں) انہوں نے معبود حق سے منہ موڑا اور خالق ومالک سے منحرف ہوگئے۔ ایسے لوگوں کی نجات کا کوئی راستہ نہیں۔
Ayah 2:255

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۚ— اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ ۚ۬— لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّلَا نَوْمٌ ؕ— لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ؕ— مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖ ؕ— یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ ۚ— وَلَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ ۚ— وَسِعَ كُرْسِیُّهُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ۚ— وَلَا یَـُٔوْدُهٗ حِفْظُهُمَا ۚ— وَهُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ ۟اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الۡحَـىُّ الۡقَيُّوۡمُۚ  لَا تَاۡخُذُهٗ سِنَةٌ وَّلَا نَوۡمٌ‌ؕ لَهٗ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَمَا فِى الۡاَرۡضِ‌ؕ مَنۡ ذَا الَّذِىۡ يَشۡفَعُ عِنۡدَهٗۤ اِلَّا بِاِذۡنِهٖ‌ؕ يَعۡلَمُ مَا بَيۡنَ اَيۡدِيۡهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُمۡ‌ۚ وَلَا يُحِيۡطُوۡنَ بِشَىۡءٍ مِّنۡ عِلۡمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ ۚ وَسِعَ كُرۡسِيُّهُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ‌‌ۚ وَلَا يَــئُوۡدُهٗ حِفۡظُهُمَا ‌ۚ وَ هُوَ الۡعَلِىُّ الۡعَظِيۡمُ Open ayah 2:255 in the Quran reader

اللہ ایسا ہے کہ کوئی معبود نہیں مگر وہی، وہ زندہ ہے، قائم رکھنے والا ہے، اس کو نہیں پکڑتی اونگھ اور نہ نیند، اسی کے لیے ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے، کون ہے جو سفارش کرے اس کے پاس مگر اس کی اجازت کے ساتھ، وہ جانتا ہے جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے، اور وہ احاطہ نہیں کرتے اس کی معلومات میں سے کسی چیز کا مگر جو وہ چاہے، گنجائش ہے اس کی کرسی میں آسمانوں کی، اور زمین کی اور اسے بھاری نہیں ہے ان دونوں کی حفاظت، اور وہ برتر ہے، عظمت والا ہے۔

اللہ جل شانہ، کی صفات جلیلہ کا بیان یہ آیت کریمہ آیۃ الکرسی ہے احادیث شریفہ میں اس کی بہت فضیلت وارد ہوئی ہے۔ حضرت ابی بن کعب ؓ نے بیان فرمایا کہ کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اے ابو المنذر (یہ ان کی کنیت ہے) کیا تم جانتے ہو اللہ کی کتاب میں وہ کون سی آیت تمہارے پاس ہے جو اعظم ہے (سب سے بڑی عظمت والی ہے) میں نے عرض کیا کہ وہ آیت (اَللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ ) ہے، آپ نے میرے سینہ پر ہاتھ مار کر فرمایا کہ اے ابو المنذر، تمہیں علم مبارک ہو۔ (رواہ مسلم ص 271 ج 1) بعض احادیث میں اس آیت کو قرآن مجید کی تمام آیات کی سردار بتایا ہے۔ (الدر المنثور ص 324 ج 1) چونکہ اس آیت شریفہ میں کرسی کا ذکر ہے اس لیے عوام و خواص سب ہی اسے آیۃ الکرسی کے نام سے جانتے اور پہچانتے ہیں، خود روایات حدیث میں اسے آیۃ الکرسی کے نام سے ذکر فرمایا ہے۔ آیۃ الکرسی میں اللہ جل شانہ، نے اپنی صفات جلیلہ بیان فرمائی ہیں۔ اول تو یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ معبود برحق ہے، وہی معبود حقیقی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، وہ وحدہٗ لا شریک ہے۔ صفت الوہیت میں منفرد ہے۔ پھر ارشاد فرمایا (اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ ) لفظ حیّ عربی زبان میں زندہ کے لیے بولا جاتا ہے۔ اللہ جل شانہ زندہ ہے ہمیشہ سے ہے ہمیشہ رہے گا۔ اس کی ذات وصفات ازلی و ابدی ہیں جن کو کبھی بھی زوال نہیں، اور قَیُّوْمُ مبالغہ کا صیغہ ہے، قائم خود قائم رہنے والا اور قیوم قائم رکھنے والا، ساری کائنات اللہ تعالیٰ شانہ کی مخلوق ہے اور اس نے ان سب کو وجود دیا ہے اور اسی کے اذن و مشیت سے سب کا وجود قائم ہے، کائنات کے سب احوال اسی کی مشیت اور قدرت سے متغیر و متبدل ہوتے ہیں اور وہ جس کو جس حال میں چاہے رکھتا ہے۔ صحیح بخاری ص 151 ج 1 میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ رات کو جب تہجد کے لیے بیدار ہوتے تھے، تو بار گاہ خداوندی میں جو معروض پیش کرتے تھے۔ اس میں یہ بھی تھا : (اَللّٰھُمَّ لَکَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَیِّمُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَمَنْ فِیْھِنَّ ) (اے اللہ، آپ ہی کے لیے سب حمد ہے۔ آپ تمام آسمانوں کے اور زمینوں کے اور جو کچھ ان میں ہے ان سب کے قائم رکھنے والے ہیں) ۔ پھر فرمایا : (لَا تَاْخُذُہٗ سِنَۃٌ وَّ لَا نَوْمٌ) (اس کو نہیں پکڑتی ہے اونگھ اور نہ نیند) سِنَۃٌ ہلکی نیند کو کہتے ہیں جس کا ترجمہ اونگھ سے کیا گیا ہے۔ اور نوم سو جانے کو کہا جاتا ہے جس میں ہوش و حواس بالکل ہی قائم نہیں رہتے۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ اونگھ اور نیند دونوں سے برتر اور بالا ہے، مخلوق کو تھکن دور کرنے اور آرام پانے کے لیے نیند کی ضرورت ہوتی ہے۔ اللہ جل شانہٗ کو کسی طرح کی کوئی بھی تھکن نہیں ہوتی اور نہ ہوسکتی ہے۔ نیز نیند اور اونگھ میں انفعال ہوتا ہے اور تغیر حال ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ انفعال اور تغیر حال سے پاک ہے لہٰذا اسے نہ نیند آسکتی ہے نہ آتی ہے۔ مخلوق کا یہ حال ہے کہ کام کرتے کرتے تھک جائیں تو نیند غالب ہوجاتی ہے، سونا نہ چاہیں تب بھی نیند دبا لیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نہ اپنے اختیار سے سوتا ہے نہ اسے نیند کا غلبہ ہوتا ہے۔ لفظ لاتَاْخُذُہٗ میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ پر نیند غلبہ نہیں پاسکتی۔ جب ہلکی نیند یعنی اونگھ بھی اسے نہیں پکڑ سکتی تو بڑی نیند کیسے غلبہ پائے گی۔ نیند مخلوق کی صفت ہے جو خالق کائنات کے حق میں عیب و نقص ہے اسی لیے حدیث شریف میں فرمایا : (اِنَّ اللّٰہَ لَا یَنَامُ وَلَا یَنْبَغِیْ لَہٗ اَنْ یَّنَامَ ) (رواہ مسلم ص 99 ج 1) ” یعنی اللہ نہیں سوتا اور نہ یہ اس کی ذات کے شایان شان ہے کہ وہ سوئے۔ “ پھر فرمایا : (لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ) (اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے) سب اسی کے بندے ہیں اور ہر چیز اس کی ملکیت ہے سب کو اسی نے پیدا فرمایا ہے وہ فاعل مختار ہے جس طرح چاہے اپنی مخلوق میں تصرف فرمائے پھر فرمایا : (مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہٗٓ اِلَّا بِاِذْنِہٖ ) (کون ہے جو اس کی بار گاہ میں سفارش کرے مگر اس کی اجازت سے) اس میں یہ بتایا کہ کسی کی ایسی حیثیت نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں سفارش کرسکے، ہاں اس کا یہ کرم اور فضل ہے کہ جس کو چاہے سفارش کرنے کی اجازت دیدے اور جس کے لیے اجازت دیدے اسی کی سفارش ہوسکتی ہے۔ قیامت کا دن جو مخلوق کے لیے بہت کٹھن ہوگا۔ اس وقت لوگ متعدد انبیاء کرام (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوں گے جب سب عاجزی ظاہر کردیں گے تو فخر الاولین وا لآخرین سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے کہ آپ ہماری سفارش فرمائیں۔ آپ نے فرمایا کہ میں روانہ ہوجاؤں گا۔ اور عرش کے نیچے آکر اپنے رب کے لیے سجدہ میں پڑجاؤں گا۔ پھر اللہ تعالیٰ مجھ پر اپنی وہ تعریفیں اور وہ بہترین ثنا منکشف فرمائیں گے جو مجھ سے پہلے کسی پر منکشف نہ فرمائی تھیں۔ پھر ارشاد ربی ہوگا کہ اے محمد سر اٹھاؤ اور مانگو تمہارا سوال پورا کیا جائے گا۔ سفارش کرو تمہاری سفارش پوری کی جائے گی (اس کے بعد آپ سفارش فرمائیں گے۔ جس کا مفصل واقعہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں مذکور ہے) ۔ سورۂ طہٰ میں ارشاد فرمایا : (یَوْمَءِذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَۃُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَہُ الرَّحْمٰنُ وَ رَضِیَ لَہٗ قَوْلًا) (اس روز سفارش نفع نہ دے گی مگر ایسے شخص کو جس کے واسطے رحمن نے اجازت دی ہو اور جس کے لیے بات کرنا پسند فرمایا ہو) سورة الانبیاء میں فرشتوں کے بارے میں ارشاد فرمایا : (یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَ مَا خَلْفَھُمْ وَ لَا یَشْفَعُوْنَ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰی وَ ھُمْ مِّنْ خَشْیَتِہٖ مُشْفِقُوْنَ ) (اللہ جانتا ہے ان کے اگلے پچھلے احوال کو اور وہ سفارش نہیں کرسکتے مگر اس کے لیے جس کے لیے خدا تعالیٰ راضی ہو، اور وہ سب اللہ کی ہیبت سے ڈرتے ہیں) سورة نجم میں فرمایا : (وَکَمْ مِّنْ مَّلَکٍ فِی السَّمٰوٰتِ لاَ تُغْنِیْ شَفَاعَتُہُمْ شَیْءًا اِِلَّا مِنْ بَعْدِ اَنْ یَّاْذَنَ اللّٰہُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَیَرْضٰی) (اور بہت سے فرشتے آسمانوں میں موجود ہیں جن کی سفارش ذرا بھی کام نہیں آسکتی مگر بعد اس کے کہ اللہ تعالیٰ جس کے لیے چاہیں اجازت دیدیں۔ اور راضی ہوجائیں۔ ) پھر فرمایا : (یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَ مَا خَلْفَھُمْ ) (اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ مخلوقات کے آگے اور پیچھے ہے) یعنی ان کے امور دنیویہ واخرویہ کا اس کو پوری طرح علم ہے۔ بعض مفسرین نے اس کی تفسیر میں لکھا ہے کہ عمل کرنے والوں کے جو اعمال اچھے برے سامنے ہیں وہ ان کو بھی جانتا ہے اور جو پہلے کرچکے ہیں ان کو بھی جانتا ہے، غرض کہ اس کا علم پوری مخلوق کو اور مخلوق کے احوال و اعمال و افعال سب کو پوری طرح محیط ہے۔ پھر فرمایا : (وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِہٖٓ اِلَّا بِمَا شَآءَ ) (اور بندوں کو اللہ کی معلومات میں سے بس اسی قدر علم ہے جتنا اس نے چاہا) جس کسی مخلوق کو جتنا بھی علم ہے وہ اللہ تعالیٰ کے عطا فرمانے سے ملا ہے۔ ان میں سے کسی کا کوئی علم ذاتی نہیں ہے اور نہ کسی کا علم ساری معلومات الہٰیہ تک محیط ہے۔ پھر فرمایا : (وَسِعَ کُرْسِیُّہُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ) (کہ گنجائش ہے اس کی کرسی میں آسمانوں کی اور زمینوں کی) اس میں کرسی کی وسعت بتائی ہے اور یہ فرمایا ہے کہ اس کی کرسی میں آسمان اور زمین سب سما سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نشست و برخاست سے اور جگہ و مکان سے بالاتر ہے۔ اور منزہ ہے۔ اس طرح کی آیات کو علماء کرام متشا بہات میں شمار فرماتے ہیں جن کا حکم یہ ہے کہ ان کے اس معنی و مفہوم پر ایمان لائیں کہ ان کا جو مطلب اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہے میں اس پر ایمان لاتا ہوں اور اللہ تعالیٰ کو مخلوق پر قیاس بھی نہ کریں، عرش اور کرسی دونوں کا ذکر قرآن مجید میں وارد ہوا ہے صاحب روح المعانی ص 9 ج 3 نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل فرمایا ہے کہ اگر ساتوں آسمان اور ساتوں زمینوں کو الگ الگ پھیلا دیا جائے تو کرسی کے مقابلہ میں سب مل کر ایسی ہوں گی جیسے جنگل میں کوئی چھوٹی سی گول چیز پڑی ہو، پھر صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ کرسی عرش کے علاوہ ہے۔ اور کرسی عرش کے سامنے اتنی چھوٹی ہے جیسے چھوٹی سی گول چیز میدان میں پڑی ہو۔ یہ روایت انہوں نے بحوالہ ابن جریر حضرت ابوذر ؓ سے مرفوعاً نقل کی ہے۔ یعنی حضور اقدس ﷺ کا ارشاد بتایا ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ عرش اور کرسی ایک ہی چیز ہے۔ کرسی کے بارے میں اور بھی چند اقوال مفسرین نے نقل فرمائے ہیں۔ پھر فرمایا : (وَ لَا یَءُوْدُہٗ حِفْظُھُمَا) (کہ اللہ تعالیٰ کو آسمان و زمین کی حفاظت بھاری نہیں ہے۔ ) چونکہ وہ خالق ہے اور مالک ہے اس لیے اس کی کوئی بھی مخلوق خواہ آسمان ہو خواہ زمین اس کے علم سے اور اس کی حفاظت سے باہر نہیں۔ مخلوق عاجز ہے وہ اپنی جیسی مخلوق کی حفاظت سے بھی عاجز ہے اللہ تعالیٰ خالق ومالک ہے وہ اپنی ساری مخلوق کا نگران و نگہبان ہے۔ آخر میں فرمایا : (وَ ھُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ ) (کہ اللہ تعالیٰ برتر ہے اور عظمت والا ہے) صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ اس آیت شریفہ میں اللہ تعالیٰ شانہ کی صفات عالیہ الوہیت، وحدانیت، حیات علم، ملک، قدرت، ارادہ، جمع فرما دی ہیں : و نطقت بأنہ سبحانہ موجود، منفرد فی الوھیتہ، حیّ واجب الوجود، لذاتہٖ ، مُوجِد الغیرہ، منزہ عن التحیز والحلول، مبرا عن التغیر و الفتور، لا مناسبۃ بینہ و بین الأشباہ لا یحل بساحۃ جلالہ ما یعرض النفوس والأرواح، مالک الملوک و الملکوت، و مبدع الاصول و الفروع، ذوالبطش الشدید، العالم وحدہ بجلی الأشیاء و خفیھا، و کلّیھا و جزیءھا، واسع الملک و القدرۃ لکل ما من شأنہ أن یملک و یقدر علیہ، لا یشق علیہ شاق ولا یثقل شیء لدیہ، متعالٍ عن کل ما لا یلیق بجنابہ عظیم لا یستطیع طیر الفکر أن یحوم فی بیدار صفات قامت بہٖ ۔ (روح المعانی ص 11 ج 3) فائدہ : حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص ہر نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھ لیا کرے تو جنت کے داخل ہونے میں اس کے لیے صرف موت ہی آڑ بنی ہوئی ہے۔ اور جس نے آیۃ الکر سی لیٹتے وقت پڑھ لی اللہ تعالیٰ اس کے گھر کو اور اس کے پڑوسی کے گھر کو اور آس پاس کے چند گھروں کو امن سے رکھے گا۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 89) اور ایک حدیث میں ہے کہ جس شخص نے رات کو اپنے بستر پر پہنچ کر آیت الکرسی پڑھ لی۔ صبح ہونے تک اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نگران مقرر رہے گا، اور شیطان قریب نہ آئے گا۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 185 عن البخاری فی قصۃ اسیرابی ہریرہ ؓ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ارشاد فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جس نے صبح کو سورة حم (یعنی سورة مومن جسے سورة غافر بھی کہتے ہیں) (اِلَیْہِ الْمَصِیْرُ ) تک پڑھی اور اس کے ساتھ آیۃ الکرسی بھی پڑھ لی تو شام ہونے تک ان دونوں کی وجہ سے محفوظ رہے گا اور جس نے ان دونوں کو شام کو پڑھ لیا تو صبح ہونے تک محفوظ رہے گا۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 187 عن الترمذی)
Ayah 2:256

لَاۤ اِكْرَاهَ فِی الدِّیْنِ ۙ۫— قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ ۚ— فَمَنْ یَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَیُؤْمِنْ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰی ۗ— لَا انْفِصَامَ لَهَا ؕ— وَاللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ ۟لَاۤ اِكۡرَاهَ فِى الدِّيۡنِ‌ۙ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشۡدُ مِنَ الۡغَىِّ‌ۚ فَمَنۡ يَّكۡفُرۡ بِالطَّاغُوۡتِ وَيُؤۡمِنۡۢ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسۡتَمۡسَكَ بِالۡعُرۡوَةِ الۡوُثۡقٰى لَا انْفِصَامَ لَهَا‌‌ ؕ وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ Open ayah 2:256 in the Quran reader

نہیں ہے زبردستی دین میں، ظاہر ہوچکی ہے ہدایت گمراہی سے ممتاز ہو کر، سو جو شخص منکر ہو طاغوت کا اور ایمان لائے اللہ پر تو بیشک اس نے مضبوط حلقہ پکڑ لیا۔ جو ٹوٹنے والا نہیں ہے اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔

دین میں زبردستی نہیں ہے لباب النقول میں اس آیت کا سبب بتاتے ہوئے بحوالہ ابو داؤد و نسائی و ابن حبان، حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ زمانہء اسلام سے پہلے جس عورت کا بچہ مرجاتا تھا وہ یہ نذر مان لیتی تھی کہ اگر میرا بچہ زندہ رہا تو اسے یہودی بنا دوں گی (العیاذ اللہ) جب یہود کا قبیلہ بنونضیر مدینہ منورہ سے جلا وطن کیا گیا تو ان میں انصار کے قبیلوں کے وہ لڑکے بھی تھے جو دین یہودیت پر تھے۔ یہودی مدینہ منورہ سے جانے لگے تو ان لڑکوں کے خاندان والوں نے کہا کہ ہم ان کو نہیں جانے دیں گے۔ اس پر اللہ نے آیت کریمہ (لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ ) نازل فرمائی۔ نیز لباب النقول میں بحوالہ ابن جریر حضرت ابن عباس ؓ سے یہ بھی نقل کیا ہے کہ آیت کریمہ (لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ ) ایک انصاری کے بارے میں نازل ہوئی جو قبیلہ بنی سالم میں سے تھے اور جن کا نام حصین تھا۔ ان کے دو بیٹے نصرانی تھے اور وہ خود اسلام قبول کرچکے تھے انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ یہ دونوں نصرانیت چھوڑنے کو تیار نہیں ہیں، کیا میں ان پر زبردستی نہ کروں (تاکہ وہ دونوں مسلمان ہوجائیں) اس پر اللہ جل شانہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ آیت شریفہ میں واضح طور پر ارشاد فرمایا کہ دین میں زبردستی نہیں ہے، اگر کوئی شخص دین اسلام قبول نہیں کرتا تو اس پر زبردستی نہیں کی جائے گی کہ تو اسلام قبول کرلے ورنہ تجھے قتل کردیں گے، شاید حکم جہاد کی وجہ سے کسی کو اس کا وہم اور وسوسہ ہو کہ زبردستی نہیں ہے تو جہاد کیوں شروع کیا گیا جن لوگوں کو جہاد کی حقیقت معلوم ہے وہ جانتے ہیں کہ جہاد کا قانون یہ ہے کہ جب کافروں کی کسی جماعت سے مقابلہ ہو تو اول ان کو اسلام کی دعوت دی جائے اور یہ دعوت ان کو آخرت کے عذاب سے بچانے کے لیے ہے اگر وہ اسلام قبول کرنے پر راضی ہوں تو ان سے کہا جائے گا کہ تم جزیہ دو ، جب وہ جزیہ دینے لگیں گے تو ان کا دارالاسلام اور اہل اسلام سے ایک خاص تعلق پیدا ہوجائے گا جس سے آپس میں ملنا جلنا ہوگا۔ اہل کفر اسلام سے قریب ہوں گے اس کے سمجھنے کے مواقع فراہم ہوں گے۔ اللہ کی کتاب ان کے کانوں میں پڑے گی۔ اسلام کی سچائی کے دلائل واضحہ ان کے سامنے آئیں گے۔ اور اہل ایمان کے اخلاق حسنہ اور اعمال صالحہ دیکھیں گے تو اقرب ہے کہ کفر سے باز آجائیں اور اسلام قبول کرلیں، اگر اسلام کے دلائل واضحہ سامنے آنے کے بعد بھی کوئی شخص اسلام کو قبول نہیں کرتا تو اس کی حماقت ہے کہ کفر پر جمنے ہی کو اختیار کیے ہوئے ہے۔ اسلام کے عہد اول سے لے کر آج تک مسلمان ممالک میں کروڑوں کافروں نے زندگی گزاری ہے کسی امیر یا خلیفہ یا بادشاہ نے انہیں اسلام پر مجبور نہیں کیا، اور جن قوموں نے اسلام قبول کیا وہ اہل اللہ کی محنتوں و کوششوں سے اسلام کے آغوش میں آئی ہیں، کسی نے سر پر تلوار رکھ کر یا سینہ پر بندوق رکھ کر کسی کو اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا۔ فقہاء نے واضح طور پر لکھا ہے کہ میدان جہاد میں عورتوں، بوڑھوں، اپاہجوں، اور گرجوں میں رہنے والوں کو قتل نہ کیا جائے، حالانکہ ان لوگوں کو تلوار کے ذریعہ بہ آسانی اسلام میں داخل کیا جاسکتا ہے۔ تفسیر درمنثور ص 320 ج 1 میں ہے کہ حضرت عمر ؓ نے ایک نصرانی بڑھیا کو اسلام کی دعوت دی اور فرمایا (اَسْلِمِیْ تَسْلَمِیْ ) (یعنی تو اسلام قبول کرلے۔ عذاب سے بچ جائے گی) اس نے انکار کیا تو حضرت عمر ؓ نے اللہ پاک کے حضور میں عرض کیا اللّٰھم اشھد (کہ اے اللہ آپ گواہ رہیں میں نے دعوت دے دی ہے) اس کے بعد انہوں نے یہی آیت (لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ ) تلاوت کی ...... البتہ اتنی بات ضرور سمجھ لینا چاہئے کہ کفر خالق ومالک کی سب سے بڑی بغاوت ہے۔ باغی کی سزا تو سب کو معلوم ہی ہے۔ ان باغیوں کی بہت بڑی اور سب سے بڑی دائمی سزا تو ان کو آخرت میں ہوگی لیکن دنیا میں بھی اس بات کی ضرورت ہے کہ ان کی سرکوبی ہوتی رہے۔ اور کفر کا اثر جس قدر بھی کم ہو اچھا ہے اگر جہاد و قتال نہ ہو تو کافر اہل ایمان پر چڑھ جائیں گے اور اہل ایمان تھوڑے رہ جائیں اور ان کا جینا دو بھر ہوجائے گا۔ لہٰذا ضروری ہوا کہ اگر جزیہ بھی دینا منظور نہیں کرتے تو ان سے قتال کیا جائے، اور یہ بھی سمجھ لینا چاہئے کہ کفر جو خداوند تعالیٰ کی بغاوت ہے اس کی سزا میں قتل کردینا اور بات ہے (اور جو لوگ باغیوں کا قانون جانتے ہیں وہ اس پر کوئی اعتراض بھی نہیں کرسکتے) اور سر پر تلوار رکھ کر یہ کہنا کہ اسلام قبول کر ورنہ قتل کردیں گے یہ دوسری بات ہے اس دوسری بات کو اکراہ کہا جاتا ہے اور جہاد کے موقعہ پر اکراہ نہیں کیا جاتا اور یہ بات بھی ہے کہ ایمان قبول کرنے پر زبردستی کا کوئی فائدہ ہے بھی نہیں کیونکہ اگر کوئی شخص جبر واکراہ کی وجہ سے ظاہری طور پر اسلام قبول کر بھی لے اور دل سے مسلمان نہ ہو تو نہ تو اس کے حق میں مفید فی الآخرۃ ہوگا اور نہ جھوٹی زبان سے اسلام قبول کرنے والے سے مسلمانوں کو کوئی نفع پہنچے گا۔ جیسا کہ منافقین ظاہر میں مسلمان تھے اور اندر سے کافر تھے اور مسلمانوں کو نقصان پہنچاتے رہتے تھے۔ اسلام کی حقانیت اور اس کی سچائی کے دلائل روز روشن کی طرح واضح ہیں دنیا بھر کی زبانوں میں قرآن مجید کا ترجمہ چھپ چکا ہے گھر گھر اسلام کا کلمہ پہنچ چکا ہے۔ آلات جدیدہ نے دنیا کے ہر گوشہ میں اسلام کی دعوت پہنچا دی ہے اس کو حق جانتے ہوئے بھی جو لوگ اس کو قبول نہیں کرتے، وہ اپنے کو عذاب میں دھکیلنے کے خود ذمہ دار ہیں۔ ہدایت ظاہر ہوچکی ہے، گمراہی کو لوگ سمجھ چکے ہیں، دونوں میں کوئی التباس و اشتباہ نہیں ہے اب اگر کوئی شخص ہدایت قبول نہیں کرتا اور جانتا ہے کہ یہ ہدایت ہے، دنیاوی مصلحتوں نے جائیدادوں کے خیال نے رشتہ داریوں کے فکر نے عہدوں کے چھن جانے کے خوف نے ہدایت قبول کرنے سے روک رکھا ہے اور چند روزہ دنیاوی زندگی کے منافع و مصالح کی وجہ سے آخرت کے دائمی عذاب کے لیے تیار ہے اور اس طرح اپنی جان کا دشمن بنا ہوا ہے، تو اس کا علاج ہم کیا کرسکتے ہیں ؟ ہداھم اللہ تعالیٰ ۔ لفظ طاغوت لام واوی ہے جس کا ماضی مضارع طغٰی یطغٰی ہے یہ لفظ سرکشی کے معنی پر دلالت کرتا ہے اہل لغت کا فرمانا ہے کہ اس میں قلب مکانی ہوا ہے اصل کلمہ طغو وت ہے۔ لام کلمہ کو مقدم کردیا گیا اور عین کلمہ کو مؤخر کردیا گیا، پھر حرف علت کو الف سے بدل دیا گیا، یہ تو لفظی تحقیق ہوئی معنوی اعتبار سے اس میں متعدد اقوال ہیں۔ حضرت عمر اور حسین بن علی ؓ نے فرمایا کہ اس سے شیطان مراد ہے، مجاہد اور قتادہ کا بھی یہی قول ہے۔ حضرت امام مالک (رح) نے فرمایا کہ کل ما عبد من دون اللّٰہ فھو طاغوت۔ (یعنی اللہ کے سوا جس کسی کی بھی عبادت کی گئی وہ طاغوت ہے) اور بعض حضرات کا قول ہے کہ اس سے اصنام یعنی بت مراد ہیں، یہ سب اقوال لکھنے کے بعد صاحب روح المعانی لکھتے ہیں ص 13 ج 3 و الأولیٰ أن یقال بعمومہ (یعنی اس کا عمومی معنی مراد لینا زیادہ بہتر ہے) اور اس کے مفہوم میں وہ سب معانی داخل ہیں جو اوپر بیان ہوئے، درحقیقت شیطان اور اس کی مددگار تمام طاغوتی طاقتیں انسان کو اسلام سے روکتی ہیں۔ جس کسی نے بھی ان طاقتوں کو نہ گردانا اور ان سے رشتہ توڑا اور ان سب سے منہ موڑا اور اللہ پر ایمان لایا اس نے بہت مضبوط حلقہ اور بڑی قوت والا کڑا پکڑ لیا، یہ کڑا ایسا ہے جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں جس نے اللہ تعالیٰ کو مان لیا اور اس کے دین کو تسلیم کرلیا اور اس کے رسولوں اور کتابوں پر ایمان لے آیا اس نے سب سے بڑی طاقت کا سہارا لے لیا اور یقین کی دولت سے مالا مال ہوگیا نہ اس قوت کو شکستگی ہے نہ زوال ہے، آخر میں فرمایا کہ اللہ سننے والا جاننے والا ہے، وہ سب کے اقوال کو سنتا ہے۔ سب کے اعمال کو جانتا ہے جو صرف زبان سے مسلمان ہو اسے اس کا بھی علم ہے اور جس نے جھوٹی زبان سے کلمہ پڑھا وہ اس سے بھی باخبر ہے۔ صاحب بیان القرآن لکھتے ہیں اسلام کو مضبوط پکڑنے والا چونکہ ہلاکت اور خسر ان سے محفوظ رہتا ہے اس لیے اس کو ایسے شخص سے تشبیہ دی جو کسی مضبوط رسی کا حلقہ ہاتھ میں مضبوط تھام کر گرنے سے مامون ہوجائے اور جس طرح ایسی رسی کے ٹوٹ کر گرنے کا خطرہ نہیں (اور یوں کوئی رسی ہی چھوڑ دے تو اور بات ہے) اسی طرح اسلام میں بطلان کا احتمال نہیں جو مفضی الی الھلاک ہو، اور خود کوئی اسلام ہی کو چھوڑ دے وہ اور بات ہے، اور مقصود آیت کا اسلام کی خوبی کا واضح و ثابت بالدلیل ہونا ہے جس کو اس عنوان خاص سے بیان فرمایا گیا۔
Ayah 2:257

اَللّٰهُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ۙ— یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ ؕ۬— وَالَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْلِیٰٓـُٔهُمُ الطَّاغُوْتُ ۙ— یُخْرِجُوْنَهُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَی الظُّلُمٰتِ ؕ— اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ— هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ ۟۠اَللّٰهُ وَلِىُّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا يُخۡرِجُهُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوۡرِ‌ؕ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اَوۡلِيٰٓــئُهُمُ الطَّاغُوۡتُۙ يُخۡرِجُوۡنَهُمۡ مِّنَ النُّوۡرِ اِلَى الظُّلُمٰتِ‌ؕ اُولٰٓئِكَ اَصۡحٰبُ النَّارِ‌‌ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰلِدُوۡنَ Open ayah 2:257 in the Quran reader

اللہ ولی ہے ان لوگوں کا جو ایمان لائے، وہ ان کو نکالتا ہے اندھیروں سے نور کی طرف، اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ان کے اولیاء شیاطین ہیں وہ ان کو نکالتے ہیں نور سے اندھیروں کی طرف، یہ لوگ دوزخ والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے ولی ہیں اور کافروں کے اولیاء شیاطین ہیں ولی مددگار کار ساز اور دوست کو کہتے ہیں، اس آیت شریفہ میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کا ولی ہے وہ ایمان والوں کو کفر و شرک کی اندھیریوں سے نکالتا ہے ان کو اسلام کی روشنی میں لاتا ہے ان کو نور پر ثابت قدم رکھتا ہے اور اندھیریوں سے بچاتا ہے۔ اور جن کے لیے ایمان مقدر ہے ان کو کفر و شرک کی تاریکیوں سے نکال کر نور ایمان عطا فرماتا ہے برخلاف کافروں کے کہ ان کے اولیاء یعنی دوست شیاطین ہیں۔ شیاطین ان کو ایمان قبول کرنے نہیں دیتے اور ان کو کفر کی تاریکیوں ہی میں رکھنا چاہتے ہیں تاکہ وہ کفر پر مریں شیاطین خود دوزخ والے ہیں وہ اپنے ماننے والوں کو بھی دوزخ میں لے جانا چاہتے ہیں۔ یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں سب دوزخی ہیں اور ہمیشہ دوزخ میں رہنے والے ہیں۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ اہل ایمان کے بارے میں جو فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو تاریکیوں سے نور کی طرف نکالتا ہے اس کے عام معنی مراد لیے جائیں تو زیادہ بہتر ہے اور اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو کفر کی تاریکیوں سے اور گناہوں کی تاریکیوں سے محفوظ رکھتا ہے اور نور کو عام لیا جائے تو تمام اعمال صالحہ کے نور کو بھی اس کا شمول ہوگا والأ ولی أن یحمل الظلمات علی المعنی الذی یعم سائر انواعھا ویحمل النور أیضا علی مایعم سائر انواعہ، و یجعل فی مقابلۃ کل ظلمۃ مخرج منھا نور مخرج الیہ۔ (ص 14 ج 3) صاحب روح المعانی یہ بھی لکھتے ہیں کہ نور کو مفرد اور ظلمات کو جمع لایا گیا ہے۔ کیونکہ حق ایک ہی ہے جسے نور سے تعبیر فرمایا ہے اور تاریکیاں چونکہ بہت ساری ہیں اور طرح طرح کی ہیں (کیونکہ گمراہی کے راستے بہت سے ہیں) اس لیے اس کے لیے لفظ جمع یعنی ظلمات لایا گیا ہے۔ اہل کفرکا ذکر فرماتے ہوئے جو (یُخْرِجُوْنَھُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَی الظُّلُمٰتِ ) فرمایا اس کے بارے میں صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ اس سے یا تو وہ نور فطری مراد ہے جس پر تمام انسان پیدا کیے گئے (و ھو المراد بقولہ ﷺ کل مولود یولد علی الفطرۃ، الحدیث) اور نور بینات بھی مراد ہوسکتا ہے کھلے کھلے دلائل کے ذریعہ جو حق واضح ہوچکا ہے وہ سراپا نور ہے شیاطین اپنے ماننے والوں کو اس سے بچاتے ہیں اور کفر و شرک کے فائدے ان کو سمجھاتے ہیں اور حق قبول کرنے نہیں دیتے۔
Ayah 2:258

اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْ حَآجَّ اِبْرٰهٖمَ فِیْ رَبِّهٖۤ اَنْ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ ۘ— اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّیَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَیُمِیْتُ ۙ— قَالَ اَنَا اُحْیٖ وَاُمِیْتُ ؕ— قَالَ اِبْرٰهٖمُ فَاِنَّ اللّٰهَ یَاْتِیْ بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَاْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِیْ كَفَرَ ؕ— وَاللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ ۟ۚاَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِىۡ حَآجَّ اِبۡرٰهٖمَ فِىۡ رَبِّهٖۤ اَنۡ اٰتٰٮهُ اللّٰهُ الۡمُلۡكَ‌ۘ اِذۡ قَالَ اِبۡرٰهٖمُ رَبِّىَ الَّذِىۡ يُحۡىٖ وَيُمِيۡتُۙ قَالَ اَنَا اُحۡىٖ وَاُمِيۡتُ‌ؕ قَالَ اِبۡرٰهٖمُ فَاِنَّ اللّٰهَ يَاۡتِىۡ بِالشَّمۡسِ مِنَ الۡمَشۡرِقِ فَاۡتِ بِهَا مِنَ الۡمَغۡرِبِ فَبُهِتَ الَّذِىۡ كَفَرَ‌ؕ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِى الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ‌ۚ Open ayah 2:258 in the Quran reader

کیا آپ نے اس شخص کو نہیں دیکھا جس نے ابراہیم (علیہ السلام) سے حجت بازی کی ان کے رب کے بارے میں اس وجہ سے کہ اللہ نے اس کو حکومت دی تھی، جب ابراہیم (u) نے کہا میرا رب وہ ہے جو زندہ فرماتا ہے اور موت دیتا ہے، اس نے کہا میں زندہ کرتا ہوں اور موت دیتا ہوں، ابراہیم (u) نے کہا سو بلاشبہ اللہ لاتا ہے سورج کو پورب سے تو اس کو لے آ پچھم سے، پس حیرانی میں پڑگیا وہ شخص جو کفر اختیار کیے ہوئے تھا اور اللہ قوم ظالمین کو ہدایت نہیں دیتا۔

ایک کافر بادشاہ سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا مباحثہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا پیدائشی وطن شہر بابل کے آس پاس تھا ان کے زمانہ کا بادشاہ نمرود تھا جو اس علاقہ پر حکمران تھا۔ دنیا میں کفر و شرک پھیلا ہو تھا، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا باپ بھی بت پرست تھا جس کا تذکرہ سورة الانعام (ع 8) اور سورة مریم (ع 3) میں فرمایا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب توحید کی دعوت دی اور پوری قوم کو بتایا کہ تم گمراہی پر ہو تو سب کو برا لگا، نمرود بھی کافر تھا نہ صرف کافر تھا بلکہ داعی کفر تھا اور اپنے آپ کو معبود بتاتا تھا، جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے توحید کی دعوت دی تو وہ کٹ حجتی کرنے لگا اور کہنے لگا کہ میرے خیال میں تو میرے سوا اور کوئی معبود نہیں ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے ملک اور مال دیا تھا اسی لیے اس کے گھمنڈ میں اس نے ایسی بات کہی، اور حضرت ابراہیم نبیناو (علیہ السلام) سے دلیل مانگی کہ آپ جس رب کی توحید کی دعوت دیتے ہیں اس کے وجود پر کیا دلیل ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ارشاد فرمایا (رَبِّیَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ ) کہ میرا رب وہ ہے جو زندہ فرماتا ہے۔ اور موت دیتا ہے۔ درحقیقت یہ بہت بڑی دلیل تھی۔ جتنے بھی خدائی کے دعوے دار ہوتے ہیں اور جتنے ان کے ماننے والے ہیں سب کو معلوم ہے کہ زندہ کرنے اور موت دینے کا کام ان میں سے کسی کے بس کا بھی نہیں ہے لا محالہ کوئی ذات ہے جس کے تصرف میں ساری مخلوق ہے اور جلانا اور موت دینا اسی کا کام ہے۔ جو خدائی کے دعوے دار ہوئے وہ اپنی جان کو تو بچا ہی نہیں سکے وہ کسی دوسرے کو کیا زندہ کرتے، ایسی واضح موٹی بات نمرود نے یا تو بےعقل ہونے کی وجہ سے نہ سمجھی یا بطور کٹ حجتی کے یوں ہی بحث جاری رکھنے کے لیے اس نے جواب میں یوں کہہ دیا کہ (اَنَا اُحْیٖ وَ اُمِیْتُ ) کہ میں بھی زندہ کرتا ہوں اور مارتا ہوں۔ اپنی بات کی دلیل کے لیے اس نے یہ کیا کہ دو آدمیوں کو بلایا جن کے قتل کا حکم ہوچکا تھا ان میں سے ایک کو قتل کر وا دیا، اور ایک کو چھوڑ دیا، اس کی جہالت کا جواب تو یہ تھا کہ تو یہ بتا کہ جسے تو نے قتل کیا ہے اس میں جان کس نے ڈالی تھی اور جسے تو نے چھوڑ دیا یہ موت کے بعد زندہ کرنا ہوا یا زندہ کو چھوڑ دینا ہوا لیکن سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے اس کے عناد اور سفاہت و جہالت کو پیش نظر رکھتے ہوئے خالق کائنات جل مجدہ کے وجود پر اور کائنات میں اس کے تصرفات پر دوسری دلیل دیدی اور فرمایا : (فَاِنَّ اللّٰہَ یَاْتِیْ بالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَاْتِ بِھَا مِنَ الْمَغْرِبِ ) کہ اللہ تعالیٰ روزانہ سورج کو مشرق سے نکالتا ہے تو اگر معبود ہونے کا مدعی ہے تو سورج کو پچھم سے لا کر دکھا دے، میرے رب کے حکم سے روزانہ سورج پچھم کی جانب غروب ہوجاتا ہے تو اسی جانب سے اسے واپس کر دے یہ سنتے ہی خدائی کا دعویٰ دار نمرود مبہوت اور حیران رہ گیا اور بالکل ہی گونگا بن گیا، آگے ایک کلمہ بھی نہ بول سکا۔ پھر فرمایا : (وَ اللّٰہُ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ ) کہ اللہ تعالیٰ ظالموں کی رہبری نہیں فرماتا وہ کسی نبی یا نبی کے نائبین کے سامنے حجت اور دلیل سے نہیں جیت سکتے۔ سورۃ شوریٰ میں فرمایا : (وَالَّذِیْنَ یُحَاجُّوْنَ فِی اللّٰہِ مِنْم بَعْدِ مَا اسْتُجِیْبَ لَہٗ حُجَّتُہُمْ دَاحِضَۃٌ عِنْدَ رَبِّہِمْ وَعَلَیْہِمْ غَضَبٌ وَّلَہُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ) (اور جو لوگ جھگڑتے ہیں اللہ کے بارے میں اس کے بعد کہ اس کا معبود ہونا تسلیم کرلیا گیا ہے (یعنی اصحاب علم و فہم اس پر ایمان لا چکے ہیں) ان لوگوں کی حجت ان کے رب کے نزدیک باطل ہے، اور ان پر غضب ہے اور ان کے لیے سخت عذاب ہے۔ ) بعض علماء تفسیر نے فرمایا ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میرا رب سورج مشرق سے لاتا ہے تو مغرب سے لا کر دکھا دے تو وہ کہہ سکتا تھا کہ میں مشرق سے لاتا ہوں تو اپنے رب سے کہہ کہ وہ مغرب سے لائے لیکن وہ ابراہیم کے جواب سے ایسا مبہوت و متحیر ہوچکا تھا کہ اس کی سمجھ میں اور کچھ نہ آیا۔ اہل حق کے مقابلہ میں اہل باطل دلیل کے ساتھ چل ہی نہیں سکتے۔ بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ یہ ممکن ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ جو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سورج کو مشرق سے نکالتا ہے تو مغرب سے نکال کرلے آ، اس کی وجہ سے اس کو یہ یقین ہوگیا کہ واقعی اس پوری دنیا کا کوئی خالق ومالک متصرف ضرور ہے اور یہ شخص جو برملا مجھ سے سوال و جواب کر رہا ہے ضرور اسی ذات پاک کا پیغمبر ہے جو ہر چیز کا خالق ومالک ہے اور جس کے تصرف میں ساری مخلوق ہے اور اس کی یہ دلیل بہت زیادہ وزن دار ہے اگر میں یہ کہہ دوں کہ میں مشرق سے سورج لاتا ہوں تو اپنے رب سے کہہ کر مغرب سے لے آ، تو حاضرین میں سے کوئی اس کو نہیں مانے گا اور جو میرے ماننے والے ہیں وہ اس کی طرف ہوجائیں گے۔ تھوڑی سی جو جھوٹی سلطنت ہے وہ بھی جاتی رہے گی اس لیے اس نے دم بخود ہوجانا ہی مناسب جانا۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
Ayah 2:259

اَوْ كَالَّذِیْ مَرَّ عَلٰی قَرْیَةٍ وَّهِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰی عُرُوْشِهَا ۚ— قَالَ اَنّٰی یُحْیٖ هٰذِهِ اللّٰهُ بَعْدَ مَوْتِهَا ۚ— فَاَمَاتَهُ اللّٰهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهٗ ؕ— قَالَ كَمْ لَبِثْتَ ؕ— قَالَ لَبِثْتُ یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ ؕ— قَالَ بَلْ لَّبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانْظُرْ اِلٰی طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمْ یَتَسَنَّهْ ۚ— وَانْظُرْ اِلٰی حِمَارِكَ۫— وَلِنَجْعَلَكَ اٰیَةً لِّلنَّاسِ وَانْظُرْ اِلَی الْعِظَامِ كَیْفَ نُنْشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوْهَا لَحْمًا ؕ— فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهٗ ۙ— قَالَ اَعْلَمُ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰی كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ۟اَوۡ كَالَّذِىۡ مَرَّ عَلٰى قَرۡيَةٍ وَّ هِىَ خَاوِيَةٌ عَلٰى عُرُوۡشِهَا ‌ۚ قَالَ اَنّٰى يُحۡىٖ هٰذِهِ اللّٰهُ بَعۡدَ مَوۡتِهَا ‌ۚ فَاَمَاتَهُ اللّٰهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهٗ ‌ؕ قَالَ كَمۡ لَبِثۡتَ‌ؕ قَالَ لَبِثۡتُ يَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ يَوۡمٍ‌ؕ قَالَ بَلۡ لَّبِثۡتَ مِائَةَ عَامٍ فَانۡظُرۡ اِلٰى طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمۡ يَتَسَنَّهۡ‌ۚ وَانْظُرۡ اِلٰى حِمَارِكَ وَلِنَجۡعَلَكَ اٰيَةً لِّلنَّاسِ‌ وَانْظُرۡ اِلَى الۡعِظَامِ كَيۡفَ نُـنۡشِزُهَا ثُمَّ نَكۡسُوۡهَا لَحۡمًا ‌ؕ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗ ۙ قَالَ اَعۡلَمُ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ Open ayah 2:259 in the Quran reader

یا اس شخص کی طرح سے جو گزرا ایک بستی پر اور وہ اس حال میں تھی کہ چھتوں پر اس کی دیواریں گری پڑی تھی، یہ شخص کہنے لگا کہ اللہ کیو نکر زندہ فرمائے گا اس بستی کو اس کی موت کے بعد، پس اللہ تعالیٰ نے اس کو سو سال تک مردہ رکھا پھر اسے اٹھا دیا، اس سے سوال فرمایا کہ تو کتنے عرصہ تک ٹھہرا رہا۔ اس نے کہا کہ میں ایک دن یا ایک دن سے کم ٹھہرا ہوں، فرمایا بلکہ تو سو سال تک ٹھہرا رہا ہے، سو تو دیکھ لے اپنے کھانے کو اور پینے کی چیز کو وہ سٹری گلی نہیں ہے اور دیکھ لے اپنے گدھے کو، اور تاکہ ہم تجھے نشانی بنا دیں لوگوں کے لیے اور دیکھ ہڈیوں کی طرف ہم ان کو کیسے جوڑ دیتے ہیں پھر ان پر گوشت پہنا دیتے ہیں، سو جب اس پر یہ سب کچھ ظاہر ہوگیا تو کہنے لگا کہ میں جانتا ہوں کہ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

مردہ کو زندہ فرمانے کا ایک واقعہ یہ آیت پہلی آیت پر معطوف ہے اور تقدیر عبارت اس طرح سے ہے۔ (الم تر الی الذی حاج ابراھیم فی ربہٖ و ھل رایت کالذی مر علی قریۃ) حضرات مفسرین کرام نے فرمایا ہے کہ حضرت علی، حضرت ابن عباس، حضرت عبداللہ بن سلام، حضرت قتادہ اور حضرت عکرمہ وغیر ہم بہت سے حضرات نے فرمایا ہے کہ جس شخصیت کا اس آیت میں ذکر ہے وہ حضرت عزیر بن شرخیا تھا اور بعض حضرات نے ارمیابن خلقیا بھی بتایا ہے اور اس بارے میں دیگر اقوال بھی ہیں لیکن پہلا قول زیادہ مشہور ہے، بہر صورت قرآن کریم نے موت کے بعد زندہ ہونے کا مشاہدہ کرنے والے شخص کا واقعہ ذکر فرمایا ہے۔ یہ حضرت عزیر (علیہ السلام) ہوں یا کوئی بھی شخصیت ہو، ایک بستی پر ان کا گزر ہوا جس کی سب آبادی ختم ہوچکی تھی۔ اور بستی کے در و دیوار بھی منہدم تھے چھتیں گرگئی تھیں پھر چھتوں پر دیواریں گرگئی تھیں اس بستی کا یہ حال دیکھ کر ان کے منہ سے بطور تعجب یہ نکلا کہ اللہ اس بستی کو اس کی موت کے بعد کیسے زندہ فرمائے گا۔ ؟ خدا تعالیٰ شانہ کی قدرت کا انکار کرنا مقصود نہ تھا بلکہ انسان کے مزاج میں جو ایسی چیزوں میں ایک استبعاد کی شان ہے اس کے اظہار کے طور پر منہ سے ایسے الفاظ بےساختہ نکل گئے جیسے حضرت زکریا (علیہ السلام) نے یہ یقین کرتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ بوڑھے کو بھی اولاد دے سکتا ہے خدا تعالیٰ سے اپنے بیٹے کی دعا کی پھر جب فرشتے بیٹے کی خوشنجری لے کر آئے تو بطور تعجب یوں کہنے لگے (رَبِّ اَنّٰی یَکُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ قَدْ بَلَغَنِیَ الْکِبَرُ وَ امْرَاَتِیْ عَاقِرٌ) (کہ اے میرے رب کیسے ہوگا میرے لڑکا حالانکہ میں بڑھاپے کو پہنچ گیا اور میری بیوی بانجھ ہے) جس نے سوال کیا ہو وہی کیسے قدرت الہٰیہ کا منکر ہوسکتا ہے لیکن بطور تعجب سوال کر بیٹھے، جس واقعہ کا یہاں ذکر ہے اس میں بھی اسی طرح کی بات ہے، جب انہوں نے یہ کہا کہ اللہ کیسے زندہ فرمائے گا اس بستی کو (جس میں تعجب بھی تھا اور کیفیت کا سوال بھی) تو اللہ تعالیٰ نے اس بات کے کہنے والے ہی کو موت دے دی اور سو (100) سال تک اسی حال میں رکھا پھر سو (100) سال کے بعد زندہ فرما کر اٹھا دیا اور سوال فرمایا کہ تم کتنے وقت اسی حالت میں ٹھہرے رہے (جو زندگی کی حالت نہ تھی) تو انہوں نے جواب میں عرض کردیا کہ میں اس حالت میں ایک دن یا ایک دن کا کچھ حصہ رہا ہوں، مفسرین نے بیان کیا ہے کہ چاشت کے وقت ان کو موت آئی تھی اور سو (100) سال گزرنے کے بعد جب ان کو اللہ تعالیٰ نے اٹھایا تو غروب سے کچھ پہلے کا وقت تھا۔ سورج پر نظر ڈالی تو نظر آیا کہ وہ غروب ہونے والا ہے لہٰذا انہوں نے جواب میں کہا کہ ایک دن ایسی حالت میں رہا ہوں اور جب یوں غور کیا کہ ابھی تو سورج چھپا بھی نہیں تو کہنے لگے کہ ایک دن بھی نہیں بلکہ دن کا کچھ حصہ رہا ہوں، اللہ جل شانہ نے فرمایا کہ تمہارا یہ بیان کرنا صحیح نہیں بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ تم سو (100) سال تک اسی حالت میں رہے ہو سو سال تک وہ مردہ رہے لیکن چونکہ جسم اسی طرح صحیح سالم ترو تازہ باقی رہا۔ جیسا کہ زندگی میں تھا تو ان کو اس سے مزید تعجب ہوا، اللہ نے اپنی قدرت کاملہ کا ایک اور نمونہ ان کو دکھایا اور فرمایا کہ تو اپنے کھانے پینے کی چیز کو دیکھ لے وہ ابھی گلی سڑی نہیں ہے۔ جس طرح یہ کھانا اپنی حالت پر سو (100) سال باقی رہ گیا اس طرح بغیر روح کے تیرا جسم بھی صحیح سالم ترو تازہ رہا، قال فی الروح (ص 22 ج 3) و استشکل تفرع فانظر علی لبث الماءۃ بالفاء وھو یقتضی التغیر، و أجیب بأن المفرع علیہ لیس لبث الماءۃ بل لبث الماءۃ من تغیر فی جسمہ حتی ظنہ زمانا قلیلا ففرع علیہ ما ھو أظھر منہ و ھو عدم تغیر الطعام والشراب وبقاء الحیوان حیا من غیر غذاء پھر اللہ جل شانہ نے ان کے سامنے ان کے مردہ گدھے کو زندہ کر کے دکھایا۔ باری تعالیٰ کا ارشاد ہوا کہ تم اپنے گدھے کو دیکھو اور ہڈیوں پر نظر ڈالو۔ گدھے کی ہڈیاں پڑی ہوئی تھیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا دیکھو ہم ان کو کس طرح ترکیب دیتے ہیں پھر ان پر گوشت چڑھاتے ہیں، ان کے سامنے وہ ہڈیاں ترتیب کے ساتھ جمع ہوئیں پھر ان پر گوشت چڑھا اور گدھا زندہ ہو کر کھڑا ہوگیا۔ جب یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا تو بےاختیار بول اٹھے کہ میں جانتا ہوں کہ بلاشبہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ یقین تو پہلے ہی سے تھا کیونکہ مؤمن آدمی تھے۔ لیکن عینی مشاہدہ بھی کرلیا، درمیان میں یہ جو فرمایا کہ (وَ لِنَجْعَلَکَ اٰیَۃً لِّلنَّاسِ ) اس کے بارے میں مفسرین فرماتے ہیں کہ یہ محذوف پر معطوف ہے صاحب روح المعانی ص 23 ج 3 میں لکھتے ہیں کہ یہاں عبارت مقدر ہے۔ (ای و فعلنا ذلک لنجعلک) یعنی ہم نے تمہیں مردہ کرکے زندہ کردیا تاکہ ہم تمہاری ذات کو لوگوں کے لیے نشانی بنا دیں، تمہیں دیکھ کر اور تمہارا واقعہ معلوم کرکے لوگوں کو ہدایت ہوگی اور موت کے بعد اٹھائے جانے پر یقین کرنے میں ہچکچاہٹ کرنے کا موقعہ نہ رہے گا۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ (اُنْظُرْ الیٰ حِمَارِکَ ) جو حکم تھا وہ مدت دراز تک موت کی حالت میں رہنے کو ظاہر کرنے کے لیے تھا اور (وَانْظُرْ اِلَی الْعِظَامِ ) میں جو حکم ہوا وہ مردہ کو زندہ ہوتے ہوئے دیکھنے کے لیے تھا۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
Ayah 2:260

وَاِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اَرِنِیْ كَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰی ؕ— قَالَ اَوَلَمْ تُؤْمِنْ ؕ— قَالَ بَلٰی وَلٰكِنْ لِّیَطْمَىِٕنَّ قَلْبِیْ ؕ— قَالَ فَخُذْ اَرْبَعَةً مِّنَ الطَّیْرِ فَصُرْهُنَّ اِلَیْكَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلٰی كُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ یَاْتِیْنَكَ سَعْیًا ؕ— وَاعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ ۟۠وَاِذۡ قَالَ اِبۡرٰهٖمُ رَبِّ اَرِنِىۡ كَيۡفَ تُحۡىِ الۡمَوۡتٰى ؕ قَالَ اَوَلَمۡ تُؤۡمِنۡ‌ؕ قَالَ بَلٰى وَلٰـكِنۡ لِّيَطۡمَئِنَّ قَلۡبِىۡ‌ؕ قَالَ فَخُذۡ اَرۡبَعَةً مِّنَ الطَّيۡرِ فَصُرۡهُنَّ اِلَيۡكَ ثُمَّ اجۡعَلۡ عَلٰى كُلِّ جَبَلٍ مِّنۡهُنَّ جُزۡءًا ثُمَّ ادۡعُهُنَّ يَاۡتِيۡنَكَ سَعۡيًا ‌ؕ وَاعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ Open ayah 2:260 in the Quran reader

اور جب کہا ابراہیم نے کہ اے میرے رب آپ مجھے دکھا دیجیے کہ مردوں کو کس طرح زندہ فرماتے ہیں، فرمایا کیا تم کو یقین نہیں ہے ؟ عرض کیا یقین ہے لیکن اس غرض سے سوال کرتا ہوں کہ میرا قلب مطمئن ہوجائے، فرمایا سو تم لے لو چار پرندے پھر ان کو اپنے سے ہلا لو پھر ہر پہاڑ پر ان میں سے ایک ایک حصہ رکھ دو پھر ان کو بلاؤ وہ تمہارے پاس دوڑتے ہوئے چلے آئیں گے اور جان لو کہ بلاشبہ اللہ عزیز ہے حکیم ہے۔

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے سوال پر پرندوں کا زندہ ہونا اس آیت شریفہ میں حضرت ابراہیم خلیل اللہ علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام کا ایک سوال اور پھر خداوند قدوس کی طرف سے عینی مشاہدہ کرا کر ان کے سوال کا جواب ذکر فرمایا ہے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بہت بڑے موحد تھے حشر و نشربعث بعد الموت کے قائل تھے پھر بھی انہوں نے نظروں سے دیکھنے کے لیے اللہ جل شانہ سے سوال کیا کہ آپ مجھے دکھا دیجیے کہ آپ مردوں کو کس طرح زندہ کریں گے، اللہ جل شانہٗ نے فرمایا کیا تمہیں اس کا یقین نہیں ہے کہ میں مردوں کو زندہ کردونگا انہوں نے عرض کیا کہ یقین ضرور ہے پھر بھی میں چاہتا ہوں کہ علم الیقین سے آگے مجھے عین الیقین کا مرتبہ حاصل ہوجائے۔ اور اپنی آنکھوں سے مردوں کو زندہ ہوتے دیکھ لوں تاکہ طبعی طور پر انسان کو جو اطمینان دیکھنے سے حاصل ہوجاتا ہے وہ مجھے بھی حاصل ہوجائے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور بعض دیگر حضرات سے منقول ہے کہ جب فرشتہ نے ان کو خبر دی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنا خلیل بنا لیا ہے اور اللہ تعالیٰ آپ کی دعا قبول فرمائے گا اور آپ کی دعا سے مردوں کو زندہ فرمائے گا تو اس پر انہوں نے یہ سوال کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم چار پرندے لے لو اور پہلے ان کو اپنے پاس رکھو اور مانوس کرلو اور ہلالو، جب وہ تم سے مانوس ہوجائیں اور ہل جائیں تو ان چاروں کو ذبح کرنا اور ان کے گوشت کو اور پروں کو ایک ساتھ ملا دینا اور ان کا ایک ایک حصہ پہاڑ پر رکھ دینا پھر ان کو پکارنا وہ پرندے تمہارے پاس دوڑتے ہوئے آجائیں گے، چناچہ حسب الحکم انہوں نے ایسا ہی کیا اور وہ پرندے زندہ ہو کر ان کی آواز پر دوڑتے ہوئے چلے آئے، پرندے ہونے کے باوجود وہ اڑ کر نہ آئے بلکہ پیروں سے چل کر آئے کیونکہ نظروں کے سامنے اس کا ظہور بدرجہ اتم ہے۔ آخر میں فرمایا (وَ اعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ) (کہ اللہ غالب ہے اور حکمت والا ہے) اسباب عادیہ وغیر عادیہ سب اس کے قبضہ میں ہیں۔ اس کے سب کاموں میں حکمت ہے۔ (من روح المعانی، ص 26 تا 31، ج 3 )