2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 2:62

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِیْنَ هَادُوْا وَالنَّصٰرٰی وَالصّٰبِـِٕیْنَ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۪ۚ— وَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَلَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ ۟اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَالَّذِيۡنَ هَادُوۡا وَالنَّصٰرٰى وَالصّٰبِئِـيۡنَ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًـا فَلَهُمۡ اَجۡرُهُمۡ عِنۡدَ رَبِّهِمۡۚ وَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ Open ayah 2:62 in the Quran reader

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے یہودیت اختیار کی، اور نصاری، صابئین، ان میں سے جو بھی اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے سو ان کے لیے اجر ہے، ان کے رب کے پاس اور ان لوگوں پر کوئی خوف نہیں اور نہ رنجیدہ ہوں گے

صرف ایمان اور عمل صالح ہی مدار نجات ہے گزشتہ آیت میں ارشاد فرمایا تھا، کہ یہودیوں پر ذلت اور مسکنت لازم کردی گئی اور وہ غضب الہی کے مستحق ہوئے اور اس کا سبب یہ بتایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے تھے اور حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کو قتل کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں لگتے اور حدود سے آگے بڑھتے تھے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی وجہ سے مطرود اور مردود ہونا کوئی یہودی قوم ہی کے ساتھ مخصوص نہیں ہے اسی طرح سے اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں مقبول ہونا اور مستحق اجر وثواب ہونا اور قیامت میں بےخوف اور بےغم ہونا کسی خاص قوم کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔ جو بھی شخص ایمان کی صفت سے متصف ہوگا وہ اپنے رب کے نزدیک مستحق اجر وثواب اور بےخوف و بےغم ہوگا۔ یہ ایمان کی صفت ہر قوم کے اپنے اپنے زمانہ کے اعتبار سے تھی۔ یہودیوں کا ایمان یہ تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر اور تورات شریف پر ایمان لائیں۔ اور ہر اس عقیدہ کو مانیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بتایا۔ پھر جب عیسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت ہوئی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر اور انجیل پر ایمان لانا اور ان کی شریعت کو پوری طرح سے ماننا اور جو کچھ انہوں نے بتایا اس کو تسلیم کرنا یہ ان کے زمانہ کے لوگوں کا ایمان تھا جو اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول تھا جو لوگ ان پر ایمان نہ لائے یا ایمان تو لائے لیکن بعد میں ان کی شریعت کو بدل دیا اور ان کے دین میں شرک داخل کردیا، وہ لوگ مومن نہ رہے۔ یہودیوں نے جب ان کی نبوت اور رسالت سے انکار کیا تو ان میں جواب تک مومن تھے وہ بھی کافر ہوگئے۔ خاتم النّبیین ﷺ کی بعثت عامہ : پھر جب خاتم النّبیین سرور عالم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت ہوئی جن کی آمد کی خبر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے دی تھی (مُبَشِّرًام بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْم بَعْدِی اسْمُہٗٓ اَحْمَدٌ) اور جن کا تذکرہ توریت انجیل میں پاتے تھے (یَجِدُوْنَہٗ مَکْتُوْبًا عِنْدَھُمْ فِی التَّوْرٰیۃِ وَ الْاِنْجِیْلِ ) تو اب ایمان یہ ہوگیا کہ حضرت سرور عالم ﷺ پر ایمان لائیں اور آپ کی ہر بات تسلیم کریں۔ اسی لیے سورة آل عمران میں فرمایا (وَ مَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ ) (یعنی جو شخص بھی اسلام کے علاوہ کوئی دین چاہے گا سو وہ اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا) ۔ جتنی قومیں بھی دنیا میں بستی ہیں اور جتنے اہل مذاہب آنحضرت سرور عالم محمد ﷺ کی بعث کے وقت دنیا میں موجود تھے یا اب موجود ہیں خواہ وہ کسی نبی کے ماننے اور پیرو ہونے کے مدعی ہوں اور خواہ کسی بھی دین پر ہوں ان سب پر فرض ہے کہ آنحضرت سرور عالم ﷺ پر ایمان لائیں اور ہر وہ عقیدہ تسلیم کریں اور مانیں جو آپ نے بتایا۔ قیامت تک کے لیے ہر قوم ہر جماعت ہر فرد ہر علاقہ کے انسان آپ کی امت دعوت میں شامل ہیں۔ سورۃ اعراف میں فرمایا : (قُلْ یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعًا) ” آپ فرما دیجیے اے لوگو ! بیشک میں اللہ کا پیغمبر ہوں تم سب کی طرف۔ “ اور سورة سبا میں ارشاد فرمایا : (وَ مَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا وَّ لٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ ) ” اور ہم نے نہیں بھیجا آپ کو مگر تمام انسانوں کے لیے پیغمبر بناکر خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا۔ لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے۔ “ لہٰذا جب سے آپ کی بعثت ہوئی ہے یہودی، نصرانی، فرقہ صابئین اور ہر قوم اور ہر اہل مذہب کے لیے معیار نجات صرف سیدنا حضرت محمد رسول ﷺ کی ذات گرامی ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اور کسی قوم کا کوئی ایمان معتبر نہیں صرف یہی ایمان معتبر ہے کہ آنحضرت سرور عالم ﷺ پر ایمان لائے اور آپ نے جو کچھ بتایا ہے اس کو دل سے مانے اور تسلیم کرے۔ ان سب تصریحات کو سمجھ لینے کے بعد اب آیت کا ترجمہ اور مطلب سمجھ لیں کہ جو لوگ ایمان لائے یعنی سیدنا حضرت محمد رسول ﷺ کی نبوت اور رسالت کے اقراری ہوتے ہوئے آپ کو دل سے نبی اور رسول مانا اور یہودی اور نصرانی اور صابئین میں سے جو کوئی اللہ پر ایمان لائیگا اور یوم آخرت کو مانے گا۔ اور عمل صالح کرے گا۔ اور یہ ایمان باللہ اور ایمان بالیوم الآخر اور عمل صالح حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے بتائے ہوئے ایمان کے مطابق اور عمل صالح آپ کے بتائے ہوئے طریقے کے موافق ہوگا تو ایسے لوگ قیامت کے دن بےخوف اور بےغم ہوں گے۔ وحدت ادیان کا فتنہ اور اس کی تردید : اتنی بڑی تفصیل ہم نے دور حاضر کے ملحدین اور زنادقہ کی تردید کرنے کے لیے لکھی ہے۔ دور حاضر کے فتنوں میں وحدت ادیان کا فتنہ بھی ہے۔ بہت سے اہل باطل یہ کہتے ہیں کہ نجات اخروی کے لیے اللہ پر اور آخرت پر ایمان لاناکافی ہے۔ دین اسلام میں داخل ہونے کی ضرورت نہیں (العیاذ باللہ) یہ لوگ اپنی گمراہی کو پھیلانے کے لیے آیت بالا کو پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس میں صرف من اٰمن باللّٰہ و الیوم الاٰخر مذکور ہے۔ ایمان بالرسول کا ذکر نہیں ہے۔ یہ لوگ جاہلوں کو دھوکہ دینے کے لیے ان آیات کو سامنے نہیں رکھتے جو ہم نے اوپر ذکر کی ہیں۔ ایمان باللہ کا مطلب صرف اتنا سا نہیں ہے کہ اللہ کے وجود کا اقرار کرلے اور انسانوں کے خود ساختہ طریقوں سے عبادت کرلیا کرے، اللہ پر ایمان لانے کا کیا مطلب ہے اس کے جاننے کا ذریعہ محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی کے علاوہ کوئی نہیں ہے۔ یہ کیسا ایمان باللہ ہے کہ بتوں کی پوجا کریں۔ اور اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کریں۔ اور یہ کیسا یوم آخرت پر ایمان ہے کہ تناسخ یعنی آوا گون کے قائل ہوں اور جنت دوزخ کے منکر ہوں۔ آیت شریفہ میں اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سے صرف اہل اسلام مراد ہیں۔ یہود کی وجہ تسمیہ : اور (اَلَّذِیْنَ ھَادُوْا) سے یہود مراد ہیں۔ ھاد یھود توبہ کرنے کے معنی میں آتا ہے چونکہ ان لوگوں نے گائے کے بچھڑے کی عبادت سے توبہ کی تھی اس لیے ان کو ان لفظوں میں یاد کیا جاتا ہے۔ ان کا مشہور نام یہود ہے۔ جماعت کو یہود اور ایک شخص کو یہودی کہتے ہیں۔ بعض حضرات نے یہ فرمایا ہے کہ یہ لوگ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے سب سے بڑے بیٹے یہودا کی طرف منسوب ہیں۔ اس لیے ان کو یہودی کہا جاتا ہے۔ بعض حضرات نے یہ فرمایا کہ یہ لفظ تہود سے مشتق ہے جو تحرک یعنی حرکت کرنے کے معنی میں ہے۔ چونکہ یہ لوگ توریت شریف پڑھتے ہوئے حرکت کرتے تھے اور اس طرح ان کا یہ لقب پڑگیا۔ (قالہ ابو عمروبن العلاء) النصارٰی : ” النصارٰی “ سے وہ لوگ مراد ہیں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے دین کو ماننے کے مدعی ہیں۔ بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ یہ لفظ نصرت سے مشتق ہے۔ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے (مَنْ اَنْصَارِیْٓ اِلَی اللّٰہِ ) فرمایا تو ان کے حواریین نے (نَحْنُ اَنْصَار اللّٰہِ ) کہا جیسا کہ سورة صف میں مذکور ہے۔ لفظ نصاریٰ کو جمع نصران کی بھی بتایا گیا ہے، جیسا کہ سکران کی جمع سکاریٰ ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ ان لوگوں نے ایک بستی میں سکونت اختیار کی تھی جس کو ناصرہ کہا جاتا تھا اس کی وجہ سے ان کو نصاری کہا گیا۔ بہر حال وجہ تسمیہ جو بھی ہو نصاری سے وہ لوگ مراد ہیں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ماننے کے مدعی ہیں۔ ان دعویداروں میں وہ بھی تھے جو ان کے واقعی اصلی دین پر تھے اور ان کے دین میں کسی طرح کی تغییر و تبدیلی نہیں کی اور وہ لوگ بھی ہیں جنہوں نے ان کا دین بدل دیا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا تعالیٰ کا بیٹا بنا دیا پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ کو بھی معبود ماننے لگے۔ قرآن مجید نے ان کو کسی جگہ عیسائی نہیں فرمایا یعنی حضرت عیسیٰ کی طرف نسبت نہیں کی۔ مشرک ان کی طرف منسوب نہیں ہوسکتا۔ قرآن نے ان کے لیے لفظ نصاری استعمال فرمایا ہے۔ الصابئین : یہ (صَبَاَ ، یَصْبَؤُ ) سے اسم فاعل کا صیغہ ہے۔ زمانہ نزول قرآن میں اس فرقہ کا وجود تھا۔ ان لوگوں کا دین کیا تھا، اس کے بارے میں حضرات مفسرین نے بہت سے اقوال نقل فرمائے ہیں، حضرت مجاہد نے فرمایا کہ یہ لوگ مجوسیت، یہودیت اور نصرایت کے درمیان تھے۔ ان کا مستقل کوئی دین نہ تھا۔ حضرت حسن بصری نے فرمایا کہ یہ لوگ فرشتوں کی عبادت کرتے تھے۔ ابن ابی الزناد نے اپنے والد سے نقل کیا کہ یہ وہ لوگ تھے جو عراق کے قریب رہتے تھے اور تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) پر ایمان لاتے تھے اور سال بھر میں تیس روزے رکھ لیتے تھے اور یمن کی طرف رخ کر کے نمازیں پڑھتے تھے۔ عبدالرحمن بن زید نے کہا کہ یہ لوگ موصل کے جزیرہ میں تھے صرف لاَ اِلٰہَ الاَّ اللّٰہُ کہتے تھے۔ خلیل کا قول ہے کہ ان کا دین نصاریٰ کے دین سے ملتا جلتا تھا۔ ان کا قبلہ جنوبی ہوا کی طرف تھا۔ یہ لوگ سمجھتے تھے کہ ہم نوح (علیہ السلام) کے دین پر ہیں۔ وہب بن منبہ کا قول ہے کہ یہ لوگ نہ دین یہودیت پر تھے نہ نصرانیت پر نہ مجوسیت پر اور مشرک بھی نہ تھے۔ یہ فطرت پر باقی تھے۔ ان کا کوئی مقرر دین نہ تھا جس کا اتباع کرتے اور بعض علماء کا قول ہے کہ صابئین وہ لوگ ہیں جن کو کسی نبی کی دعوت نہیں پہنچی۔ (آیت کی تفسیر اور توضیح کے لیے ہم نے تفسیر ابن کثیر کو سامنے رکھا ہے اہل علم اس کی مراجعت فرما لیں) ۔ فائدہ : صاحب بیان القرآن لکھتے ہیں کہ حاصل قانون کا یہ ہے کہ ہمارے دربار میں کسی کی تخصیص نہیں جو شخص پوری اطاعت اعتقاد اور اعمال میں اختیار کرے گا خواہ وہ پہلے سے کیسا ہی ہو ہمارے یہاں مقبول اور اس کی خدمت مشکور ہے اور ظاہر ہے کہ بعد نزول قرآن کے پوری اطاعت مسلمان ہونے میں منحصر ہے مطلب یہ ہوا کہ جو مسلمان ہوجائے گا مستحق اجر و نجات اخروی ہوگا۔ اور اس قانون میں مسلمانوں کے ذکر کی ظاہر میں ضرورت نہیں کیونکہ وہ تو مسلمان ہیں ہی لیکن اس سے کلام میں ایک خاص بلاغت اور مضمون میں ایک خاص وقعت پیدا ہوگئی اس کی ایسی مثال ہے کہ کوئی حاکم یا بادشاہ کسی ایسے ہی موقع پر یوں کہے کہ ہمارا قانون عام ہے خواہ کوئی موافق ہو یا مخالف جو شخص اطاعت کرے گا وہ مورد عنایت ہوگا اب ظاہر ہے کہ موافق تو اطاعت کر ہی رہا ہے، سنانا ہے اصل میں مخالف کو، لیکن اس میں نکتہ یہ ہوتا ہے کہ ہم کو جو موافقین پر عنایت ہے سو اس کی علت ان سے کوئی ذاتی خصوصیت نہیں بلکہ ان کی صفت موافقت مدار ہے ہماری عنایت کا سو مخالف بھی اگر اختیار کرلے وہ بھی اس موافق کے برابر ہوجائے گا اس لیے مخالف کے ساتھ موافق کو بھی ذکر کردیا گیا۔
Ayahs 2:63–64

وَاِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ ؕ— خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّاذْكُرُوْا مَا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ ۟وَاِذۡ اَخَذۡنَا مِيۡثَاقَكُمۡ وَرَفَعۡنَا فَوۡقَكُمُ الطُّوۡرَؕ خُذُوۡا مَآ اٰتَيۡنٰكُمۡ بِقُوَّةٍ وَّ اذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ Open ayah 2:63 in the Quran reader

اور جب ہم نے لے لیا تمہارا عہد اور اٹھا دیا تمہارے اوپر طور کو، لے لو قوت کے ساتھ جو کچھ ہم نے تم کو دیا اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم متقی بن جاؤ۔

ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ مِّنْ بَعْدِ ذٰلِكَ ۚ— فَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَرَحْمَتُهٗ لَكُنْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ ۟ثُمَّ تَوَلَّيۡتُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِكَ‌‌ۚ فَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ لَـكُنۡتُمۡ مِّنَ الۡخٰسِرِيۡنَ‏ Open ayah 2:64 in the Quran reader

پھر اس کے بعد تم نے روگردانی کی، سو اگر نہ ہوتا تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تو ضرور تم تباہ کاروں میں سے ہوجاتے۔

بنی اسرائیل سے پختہ عہد لینا پھر ان کا منحرف ہوجانا جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) توریت شریف لے کر آئے اور مستقل شریعت بنی اسرائیل کو دی گئی تو بنی اسرائیل سے عہد لیا گیا کہ اللہ وحدہ لا شریک لہ کی کتاب پر ایمان لائیں گے اور اس کے رسول کا اتباع کریں گے اور اس کی شریعت پر عمل کریں گے۔ جب انہوں نے سخت احکام دیکھے تو عمل کرنے سے انکاری ہوگئے۔ لہٰذا للہ تعالیٰ نے پہاڑ طور کو اس کی جگہ سے اکھاڑ کر ان کے اوپر کھڑا کردیا اور فرمایا کہ ہم نے جو کچھ دیا ہے اسے قوت کے ساتھ لے لو اور جو کچھ اس میں ہے اسے یاد کرو۔ سورة اعراف میں اور زیادہ واضح طریقے سے اس کو یوں بیان فرمایا : (وَ اِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَھُمْ کَاَنَّہٗ ظُلَّۃٌ وَّ ظَنُّوْٓا اَنَّہٗ وَاقِعٌ بِھِمْ خُذُوْا مَآ اٰتَیْنٰکُمْ بِقُوَّۃٍ وَّ اذْکُرُوْا مَا فِیْہِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ ) ” اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب ہم نے پہاڑ کو اٹھا کر سائبان کی طرح ان کے اوپر معلق کردیا اور ان کو یقین ہوگیا کہ اب ان پر گرا اور ہم نے کہا کہ لے لو قوت کے ساتھ جو ہم نے تم کو دیا ہے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم متقی ہوجاؤ۔ “ جب انہوں نے دیکھا کہ واقعی پہاڑ گرنے کو ہے تو اس وقت مان لیا لیکن بعد میں اس میثاق عظیم کو توڑ دیا اور اقرار سے پھرگئے اللہ تعالیٰ نے ان کو توبہ کرنے کی توفیق دی اور ان کو باقی رکھا اور حضرات انبیاء کرام ان کی طرف آتے رہے اور ان کو ہدایات دیتے رہے اللہ کا فضل نہ ہوتا اور اس کی رحمت شامل حال نہ ہوتی تو دنیا و آخرت میں برباد ہوجاتے۔ (عن ابن کثیر) شاید کسی کے دل میں یہ وسوسہ آئے کہ دین میں تو زبر دستی نہیں ہے جیسا کہ لاَ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْن میں بتایا ہے پھر پہاڑ سروں پر اٹھا کر بنی اسرائیل سے کیوں قول وقرار لیا گیا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اسلام قبول کرانے کے لیے زبردستی نہیں ہے، اگر کوئی قوم مسلمان نہ ہو جزیہ دے کر رہنا چاہیے اس سے جزیہ قبول کرلیا جائے گا جس نے اسلام قبول کرلیا اس سے احکام پر زبر دستی عمل کرانے کی نفی (لاَ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ ) میں نہیں ہے اس لیے ذمی کو قتل نہیں کیا جاتا اور جو شخص اسلام کو چھوڑ کر دوسرا دین اختیار کرلے اسے تین دن کی مہلت دی جائے گی اگر تین دن کے بعد اسلام میں واپس نہ آئے تو قتل کردیا جائے گا۔
Ayahs 2:65–66

وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِیْنَ اعْتَدَوْا مِنْكُمْ فِی السَّبْتِ فَقُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِـِٕیْنَ ۟ۚوَلَقَدۡ عَلِمۡتُمُ الَّذِيۡنَ اعۡتَدَوۡا مِنۡكُمۡ فِىۡ السَّبۡتِ فَقُلۡنَا لَهُمۡ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خَاسِئِـيۡنَ ‌ۚ‏ Open ayah 2:65 in the Quran reader

اور البتہ تحقیق تم نے ان لوگوں کو جان لیا جنہوں نے سنیچر کے دن میں زیادتی کی، سو ہم نے کہا ہوجاؤ بندر ذلیل !

فَجَعَلْنٰهَا نَكَالًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهَا وَمَا خَلْفَهَا وَمَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَ ۟فَجَعَلۡنٰهَا نَكٰلاً لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهَا وَمَا خَلۡفَهَا وَمَوۡعِظَةً لِّلۡمُتَّقِيۡنَ‏ Open ayah 2:66 in the Quran reader

پھر ہم نے اس کو عبرت بنا دیا ان لوگوں کے لیے جو اس وقت موجود تھے اور جو بعد میں آنے والے تھے۔ اور نصیحت بنا دیا ڈرنے والوں کے لیے

یہودیوں کا سنیچر کے دن میں زیادتی کرنا اور بندر بنا دیا جانا جیسے مسلمانوں کے لیے جمعہ کا دن معظم قرار دیا گیا ہے اسی طرح سے یہود کے لیے سنیچر کے دن کو معظم قرار دیا گیا تھا۔ اور اس کی تعظیم کے لیے یہ حکم بھی تھا کہ اس دن مچھلی کا شکار نہ کریں ایک طرف تو یہ حکم تھا اور دوسری طرف ان کا امتحان تھا اور وہ امتحان اس طرح تھا کہ دوسرے دنوں میں مچھلیاں عام حالات کے مطابق پانی میں اندر ہی رہتی تھیں اور سنیچر کے دن خوب ابھر ابھر کر پانی پر آجاتی تھیں جس کا تذکرہ سورة اعراف کی آیت (وَسْءَلْھُمْ عَنِ الْقَرْیَۃِ الَّتِیْ کَانَتْ حَاضِرَۃَ الْبَحْرِ ) میں فرمایا ہے چونکہ سنیچر کے دن مچھلیاں خوب ابھر کر سامنے آجاتی تھیں اس لیے ان لوگوں نے ان کو پکڑنے کے لیے حیلے نکالے اور یہ کہا کہ سنیچر کا دن آنے سے پہلے جال اور مچھلی پکڑنے کے کانٹے پہلے سے پانی میں ڈال دیتے تھے۔ چناچہ وہ ان میں پھنس کر رہ جاتی تھیں جب سنیچر کا دن گزر جاتا تھا تو ان کو پکڑ لیتے تھے اور اپنے نفسوں کو سمجھا لیتے تھے کہ ہم نے سنیچر کے دن ایک مچھلی بھی نہیں پکڑی وہ تو خود سے جالوں میں اور کانٹوں میں آگئیں اور یہ جال اور کانٹے ہم نے جمعہ کے دن ڈالے تھے ان کو منع کرنے والوں نے منع کیا تو نہ مانے لہٰذا اللہ پاک کی طرف سے ان پر یہ عذاب آیا کہ ان کو بندر بنا دیا گیا۔ جب یہ لوگ بندر بنا دیے گئے تو بندروں کی طرح آوازیں نکالتے تھے ان کی دمیں بھی پیدا ہوگئیں جو لوگ ان کو منع کرتے تھے وہ ان کے پاس گئے اور کہا کہ کیا ہم نے تم کو منع نہیں کیا تھا تو وہ سر ہلا کر جواب دیتے تھے۔ سورۃ مائدہ میں فرمایا (وَ جَعَلَ مِنْھُمُ الْقِرَدَۃَ وَ الْخَنَازِیْرَ ) اس میں بتایا ہے کہ بندر اور خنزیر بنا دیے گئے یہ خنزیر بنا دینے کا واقعہ اسی واقعہ سے متعلق ہے جبکہ سنیچر کے دن مچھلیاں پکڑنے کے جرم میں بندر بنا دیے گئے تھے یا اور کسی موقعہ سے متعلق ہے۔ یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جاسکتا کیونکہ اس بارے میں کوئی صحیح روایت نہیں ملی۔ البتہ تفسیر ابن کثیر میں آیت بالا (وَ لَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِیْنَ اعْتَدَوْا مِنْکُمْ فِی السَّبْتِ ) کے ذیل میں حضرت ابن عباس نے نقل کیا ہے کہ سنیچر کے دن زیادتی کرنے والے بندر بنا دیے گئے اور خنزیر بھی، ان میں جو جوان تھے وہ بندر ہوگئے اور جو بوڑھے تھے وہ خنزیر بنا دیے گئے۔ حضرت ابن عباس سے یہ بھی منقول ہے کہ جو قوم مسخ ہوئی ہے وہ مسخ شدہ حالت میں تین دن سے زیادہ نہیں رہی ان تین دنوں میں انہوں نے کچھ کھایا پیا نہیں اور ان کی نسل بھی نہیں چلی۔ یہ جو بندروں اور خنزیروں کی نسلیں ہیں مسخ شدہ قوموں کی نسلیں نہیں ہیں بلکہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی مستقل مخلوق ہے۔ الجامع الصغیر میں بروایت حضرت ام سلمہ ؓ حضور اقدس ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے۔ مَا مسخ اللّٰہ تعالیٰ من شیء فکان لہ عقب و لا نسل رمزلہ السیوطی بالحسن قال الھیثمی فیہ لیث بن سلیم مدلس و بقیۃ رجالہ رجال الصحیح۔ (کما فی فیض القدیر ص 466 ج 5) اس واقعہ کی مزید تفصیل انشاء اللہ تعالیٰ سورة اعراف میں بیان ہوگی اللہ تعالیٰ کی طرف سے معاصی کی وجہ سے کئی طرح سے عذاب آتا رہا ہے ان میں سے ایک طریقہ صورتیں مسخ کر کے ہلاک کرنے کا بھی تھا امت محمدیہ علی صاحبھا الصلوٰۃ والتحیۃ اب تک مسخ کے عذاب سے محفوظ چلی آرہی ہے لیکن قرب قیامت میں مسخ ہوگا۔ جیسا کہ سنن الترمذی کتاب الفتن میں حدیث اذا اتخذ الفئی دولا کے آخر میں تصریح ہے اور صحیح بخاری کی ایک حدیث میں بھی مسخ کیے جانے کا ذکر ہے (مشکوٰۃ ص 456) ؛ جتنے بھی عذاب آئے سب میں عبرت ہے ان لوگوں کے لیے بھی جو عذاب کے وقت موجود تھے اور ان کے لیے بھی جو بعد میں آنے والے ہیں اور ان عذابوں میں نصیحت بھی ہے اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے خاص کر یہ مسخ کا عذاب تو بہت ہی زیادہ عبرت ناک ہے ہلاک تو ہو ہی گئے لیکن ہلاکت سے پہلے تین دن جو بندر رہے اس میں سب کے لیے بہت بڑی عبرت اور نصیحت ہے اسی لیے فرمایا کہ ہم نے اس کو عبرت بنا دیا ان لوگوں کے لیے جو اس وقت موجود تھے اور جو بعد میں آنے والے ہیں اور نصیحت بنا دیا ڈرنے والوں کے لیے فَجَعَلْنٰھَا کی ضمیر عقوبت کی طرف یا قریٰ کی طرف راجع ہے جس سے اہل قریٰ مراد ہیں (لِمَا بَیْنَ یَدَیْھَا وَمَا خَلْفَھَا) کی تفسیر کرتے ہوئے مفسر بیضاوی لکھتے ہیں کہ جس زمانہ میں ان کو مسخ کرنے کی سزا دی گئی اس زمانہ کے لوگوں کے لیے اور ان کے بعد آنے والوں کے لیے عبرت ہوجائے اور ایک معنی یہ لکھا ہے کہ جہاں یہ واقعہ پیش آیا وہاں کے قریب کی بستیوں اور دور کی بستیوں کے لیے عبرت ہوجائے۔ حضرت ابن عباس سے بھی یہ دوسرا معنی منقول ہے۔ تفسیر ابن کثیر میں ہے۔ عن ابن عباس لما بین یدھا من القری و ما خلفھا من القری۔ اس کے بعد حضرت ابو العالیہ کا قول نقل کیا ہے۔ و ما خلفھا لما بقی ما بعد ھم من الناس من بنی اسرائیل ان یعملوا مثل عملھم۔ یعنی ماخلفھا سے وہ بنی اسرائیل مراد ہیں جو اس عبرت ناک واقعہ کے بعد باقی رہے یہ واقعہ ان کے لیے عبرت ہے تاکہ اپنے اسلاف جیسا عمل نہ کریں۔ حضرت حسن اور قتادہ ؓ نے مَوْعِظَۃً لِّلْمُتَّقِیْنَ کے بارے میں فرمایا کہ ان لوگوں کے بعد میں جو آنے والے ہیں ان کے لیے نصیحت ہے وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈریں گے اور خوف کھائیں گے اور عطیہ عوفی نے کہا ہے کہ المتقین سے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی امت مراد ہے۔ مفسر ابن کثیر نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ان چیزوں کا ارتکاب نہ کرو جن کا یہودیوں نے ارتکاب کیا حیلوں کے ذریعہ اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال مت کرلو۔ (وہذا اسناد جید) یہود نے ایک اور بھی حیلہ کیا اور وہ یہ کہ ان پر چربی حرام کردی گئی تھی۔ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ اس کو انہوں نے اچھی صورت میں بنا کر بیچ دیا۔ (بخاری و مسلم کما فی مشکوۃ ص 241) شراح حدیث نے اچھی صورت میں بنانے کا مطلب یہ لکھا ہے کہ چربی کو انہوں نے پگھلا دیا اور اس میں کچھ ملا کر دوسرا کوئی نام رکھ کر اس کو بیچ دیا۔ اور اس کی قیمت کھا گئے۔ امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والتحیہ میں اس طرح کے حیلے رواج پا گئے ہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ لوگ شراب کو حلال کرلیں گے عرض کیا وہ کیسے ہوگا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی حرمت واضح طور پر نازل فرمائی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ یسمونھا بغیر اسمھا فیستحلونھا یعنی وہ شراب کا دوسرا نام رکھ لیں گے اور اس طرح اس کو حلال کرلیں گے۔ (رواہ الدارمی مشکوۃ ص 461) چنانچہ آج کل ایسی باتیں سننے میں آرہی ہیں، شراب پیتے ہیں، نام دوسرا رکھ لیا ہے۔ سود لیتے ہیں اس کا نام نفع رکھ لیا ہے۔ زکوٰۃ کی ادائیگی سے بچنے کیلئے تدبیریں کرلیتے ہیں۔ تصویریں اور مورتیاں حلال کرنے کے لیے حیلے تراشتے ہیں۔ ڈاڑھی مونڈنے کے جواز کے لیے حجتیں نکالتے ہیں۔ ایسے حیلوں اور بہانوں کی تفصیلات بہت ہیں۔
Ayahs 2:67–71

وَاِذْ قَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِهٖۤ اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تَذْبَحُوْا بَقَرَةً ؕ— قَالُوْۤا اَتَتَّخِذُنَا هُزُوًا ؕ— قَالَ اَعُوْذُ بِاللّٰهِ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ ۟وَاِذۡ قَالَ مُوۡسٰى لِقَوۡمِهٖۤ اِنَّ اللّٰهَ يَاۡمُرُكُمۡ اَنۡ تَذۡبَحُوۡا بَقَرَةً ‌ ؕ قَالُوۡآ اَتَتَّخِذُنَا هُزُوًۡا ‌ؕ قَالَ اَعُوۡذُ بِاللّٰهِ اَنۡ اَكُوۡنَ مِنَ الۡجٰـهِلِيۡنَ Open ayah 2:67 in the Quran reader

اور جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے بیشک اللہ تم کو حکم فرماتا ہے کہ تم ایک بیل ذبح کرو، وہ کہنے لگے کیا تو ہمارا مذاق بناتا ہے ؟ موسیٰ نے کہا کہ میں اس بات سے اللہ کی پناہ لیتا ہوں کہ جاہلوں میں سے ہوجاؤں

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا هِیَ ؕ— قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا فَارِضٌ وَّلَا بِكْرٌ ؕ— عَوَانٌ بَیْنَ ذٰلِكَ ؕ— فَافْعَلُوْا مَا تُؤْمَرُوْنَ ۟قَالُوا ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّنۡ لَّنَا مَا هِىَ‌ؕ قَالَ اِنَّهٗ يَقُوۡلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا فَارِضٌ وَّلَا بِكۡرٌؕ عَوَانٌۢ بَيۡنَ ذٰلِكَ‌ؕ فَافۡعَلُوۡا مَا تُؤۡمَرُوۡنَ Open ayah 2:68 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ تو اپنے رب سے دعا کر ہمارے لیے بیان کر دے کہ وہ بیل کیسا ہو، موسیٰ نے کہا بیشک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ ایسا بیل ہو جو بوڑھا نہ ہو اور بالکل جوان بھی نہ ہو ان دونوں کے درمیان ہو، سو تم اس پر عمل کرلو جس کا تم کو حکم دیا جا رہا ہے

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا لَوْنُهَا ؕ— قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ صَفْرَآءُ ۙ— فَاقِعٌ لَّوْنُهَا تَسُرُّ النّٰظِرِیْنَ ۟قَالُوا ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّنۡ لَّنَا مَا لَوۡنُهَا ‌ؕ قَالَ اِنَّهٗ يَقُوۡلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ صَفۡرَآءُۙ فَاقِعٌ لَّوۡنُهَا تَسُرُّ النّٰظِرِيۡنَ Open ayah 2:69 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ تو اپنے رب سے دعاء کر ہمارے لیے بیان فرما دے کہ اس بیل کا رنگ کیسا ہو، موسیٰ نے کہا کہ بیشک وہ فرماتا ہے کہ وہ تیز رنگ کا پیلا بیل ہو جو دیکھنے والوں کو خوش کرتا ہو

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا هِیَ ۙ— اِنَّ الْبَقَرَ تَشٰبَهَ عَلَیْنَا ؕ— وَاِنَّاۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ لَمُهْتَدُوْنَ ۟قَالُوا ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّنۡ لَّنَا مَا هِىَۙ اِنَّ الۡبَقَرَ تَشٰبَهَ عَلَيۡنَا ؕ وَاِنَّـآ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ لَمُهۡتَدُوۡنَ Open ayah 2:70 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ تو اپنے رب سے ہمارے لیے دعاء کر کہ ہمارے لیے بیان فرما دے کہ اس بیل کی پوری کیا حقیقت ہے ؟ بیشک بیلوں کے بارے میں ہم کو اشتباہ ہو رہا ہے اور اللہ نے چاہا تو ہم ضرور راہ پالیں گے

قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا ذَلُوْلٌ تُثِیْرُ الْاَرْضَ وَلَا تَسْقِی الْحَرْثَ ۚ— مُسَلَّمَةٌ لَّا شِیَةَ فِیْهَا ؕ— قَالُوا الْـٰٔنَ جِئْتَ بِالْحَقِّ ؕ— فَذَبَحُوْهَا وَمَا كَادُوْا یَفْعَلُوْنَ ۟۠قَالَ اِنَّهٗ يَقُوۡلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا ذَلُوۡلٌ تُثِيۡرُ الۡاَرۡضَ وَلَا تَسۡقِى الۡحَـرۡثَ ‌ۚ مُسَلَّمَةٌ لَّا شِيَةَ فِيۡهَا ‌ؕ قَالُوا الۡــٴٰــنَ جِئۡتَ بِالۡحَـقِّ‌ؕ فَذَبَحُوۡهَا وَمَا كَادُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ Open ayah 2:71 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا بیشک وہ فرماتا ہے کہ وہ ایسا بیل ہو جو صحیح سالم ہو نکما نہ ہوگیا ہو۔ وہ نہ زمین کو پھاڑتا ہو اور نہ کھیتی کو سیراب کرتا ہو اس میں ذرا کوئی دھبہ نہ ہو، وہ کہنے لگے کہ اب تم نے ٹھیک طرح بیان کیا ہے۔ لہٰذا انہوں نے وہ بیل ذبح کردیا اور حال یہ ہے کہ وہ ایسا کرنیوالے نہ تھے۔

ذبح بقرہ کا قصہ، یہود کی کج بحثی ان آیات میں ذبح بقرہ کا واقعہ ذکر فرمایا ہے۔ بقرہ عربی زبان میں گائے اور بیل دونوں کے لیے مستعمل ہوتا ہے یعنی حضرات نے اس کا ترجمہ بیل کیا ہے اور ان کا فرمانا ہے کہ قصہ کے آخر میں یہ فرمایا ہے کہ وہ بقرہ ایسا ہو جو ہل جوتنے میں استعمال نہ کیا ہو اور کھیتی کی آبپاشی میں اس کو نہ لگایا گیا ہو۔ یہ کام چونکہ بیل ہی سے ہوتا ہے اس لیے بقرہ سے بیل مراد ہے دوسرے حضرات نے اس کا ترجمہ گائے سے کیا ہے۔ چونکہ بقرہ اسم جنس ہے اس لیے گائے کا ترجمہ کرنے کی بھی گنجائش ہے۔ لیکن پہلا قول زیادہ وزن دار ہے کیونکہ قرآن کے الفاظ سے اسی کی تائید ہوتی ہے۔ یہ واقعہ کیوں پیش آیا ؟ اس کے بارے میں قرآن مجید کی اگلی آیات سے معلوم ہو رہا ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص مقتول ہوگیا تھا اور قاتل کا پتہ نہیں چل رہا تھا لہٰذا قاتل کا پتہ چلانے کے لیے اللہ جل شانہ کی طرف سے یہ ارشاد ہوا کہ ایک بیل ذبح کرو اور اس بیل کے گوشت کا ایک ٹکڑا مقتول کے جسم میں مارو چناچہ بڑی حجتوں کے بعد بنی اسرائیل نے ایک بیل ذبح کیا اور ذبح شدہ بیل کا ایک ٹکڑا مقتول کے جسم میں مار دیا۔ چناچہ وہ مقتول زندہ ہوگیا (اور اپنا قاتل بتا کر اسی وقت دوبارہ مرگیا) واقعہ کی تفصیل تفسیر کی کتابوں میں کئی طرح سے لکھی ہے۔ تفسیر ابن کثیر میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں بنی اسرائیل میں ایک بوڑھا آدمی تھا جس کی کوئی اولاد نہ تھی اور اور مالدار بہت تھا اور اس کے بھائی کے لڑکے تنگدست تھے۔ اور ان کو چچا کی میراث بھی پہنچتی تھی۔ یہ لوگ چچا کی موت کا انتظار کرتے تھے لیکن اس کی زندگی لمبی ہوتی چلی گئی۔ لہٰذا شیطان نے ان کو یہ سمجھایا کہ تم اپنے چچا کو قتل کرو تم اس کے مال کے وارث بھی ہوجاؤ گے اور اس کی دیت (خون بہا) بھی حاصل کرلو گے۔ جس جگہ کا یہ واقعہ ہے وہاں دو بستیاں تھیں۔ جب کوئی مقتول دونوں بستیوں کے درمیان پڑا ہوا ملتا تھا تو جس بستی سے قریب تر ہوتا اس پر دیت ڈال دی جاتی تھی۔ شیطان نے ان لوگوں کو سمجھایا کہ تم قتل کر کے دوسری بستی کے قریب ڈال دینا۔ جس میں تمہاری سکونت نہیں ہے۔ چناچہ ان لوگوں نے چچا کو رات کو قتل کر کے دوسری بستی کے قریب ڈال دیا پھر جب صبح ہوئی تو یہی قاتلین دعویدار ہوگئے اور اس بستی والوں پر دعویٰ کردیا جس کے قریب نعش کو ڈال دیا تھا۔ اور ان سے کہا کہ تمہاری بستی کے دروازے پر ہمارا چچا مقتول ملا ہے۔ ہم تم سے اس کی دیت ضرور لے کر چھوڑیں گے اس بستی کے لوگ قسم کھانے لگے اور انہوں نے کہا کہ ہم نے نہیں قتل کیا اور نہ ہی ہمیں اس کے قاتل کا علم ہے۔ ہم نے شام سے لے کر صبح تک اپنی بستی کا دروازہ ہی نہیں کھولا، لہٰذا ہمارے ذمہ اس کے قتل کا الزام لگا دینا صحیح نہیں اور کوئی دیت لازم نہیں۔ مفسر سدی نے واقعہ اس طرح بیان کیا کہ بنی اسرائیل میں سے ایک شخص بہت مالدار تھا۔ اس کی ایک لڑکی تھی اور اس کے بھائی کا بیٹا تھا جو غریب تھا۔ اس نے اپنے چچا کو پیغام دیا کہ اپنی لڑکی سے میرا نکاح کر دو ، چچا نے انکار کیا تو وہ غصہ ہوگیا اور اس نے چچا کے قتل کا خیال دل میں جما لیا اور اپنے دل میں کہا کہ چچا کو قتل بھی کروں گا اور اس کا مال بھی لوں گا اور اس کی بیٹی سے نکاح بھی کروں گا اور اس کی دیت بھی کھا جاؤں گا۔ لہٰذا وہ چچا کے پاس آیا اور رات کو اپنے چچا کو ایک کاروباری ضرورت بتا کر اپنے ساتھ لے گیا۔ اور کسی جگہ جا کر قتل کردیا۔ جب صبح ہوئی تو اس انداز میں باتیں کر رہا ہے کہ خدا جانے میرے چچا کہاں گئے ؟ جس جگہ قتل کیا گیا تھا وہاں پہنچا دیکھا کہ وہاں کے لوگ اس کی نعش کے قریب جمع ہو رہے ہیں۔ ان لوگوں کو اس نے پکڑ لیا اور کہا تم نے میرے چچا کو قتل کیا ہے لہٰذا اس کی دیت ادا کرو۔ وہ دیت کا مطالبہ کر رہا تھا اور رو رہا تھا اور سر پر مٹی ڈال رہا تھا اور ہائے ہائے چچا کی آوازیں لگا رہا تھا۔ واقعہ کی صورت جو بھی ہو قاتل کا پتہ چلانے کے لیے بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف رجوع کیا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے قاتل کا پتہ چلانے کے لیے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ ایک بیل ذبح کرو اور اس کے گوشت کا ایک ٹکڑا مقتول کے جسم پر مار دو ۔ بات سننے کے ساتھ ہی ان کو چاہیے تھا کہ کوئی بھی ایک بیل ذبح کر کے مقتول پر مار دیتے۔ لیکن اول تو انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بات کو مذاق اور مخول بتایا۔ کہنے لگے کہ کہاں بیل کے گوشت کا ٹکڑا مقتول کے جسم کو مارنا اور کہاں مقتول کا زندہ ہو کر نام بتانا یہ بےجوڑ بات ہے آپ تو ہم لوگوں کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ ان جاہلوں نے یہ نہ سوچا کہ ہمیں اللہ کا نبی ایک بات بتارہا ہے۔ جو اللہ کی طرف سے ہے۔ اس میں مذاق اور مخول کا وہم بھی نہیں ہوسکتا۔ لیکن وہ اپنی جہالت اور حماقت سے ایسی بات کہہ بیٹھے، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بہت ناگوار ہوا اور انہوں نے فرمایا کہ (اَعُوْذُ باللّٰہِ اَنْ اَکُوْنَ مِنَ الْجَاھِلِیْنَ ) (کہ میں اس بات سے اللہ کی پناہ لیتا ہوں کہ جاہلوں میں سے ہوجاؤں) ایک ادنیٰ مسلمان سے یہ امید نہیں کی جاسکتی کہ وہ اللہ کے حکم کو مخول اور ٹھٹھا مذاق بنائے۔ یہ تو جہالت کی بات ہے پھر اللہ کا نبی کیسے اللہ کی طرف کسی ایسے حکم کی طرف نسبت کرسکتا ہے جو مذاق اور مخول ہو۔ پھر جب بیل ذبح کرنے پر راضی ہوگئے تو طرح طرح کے سوالات کرتے گئے اور ان سوالات کے ذریعہ بندشوں اور قیدوں میں بندھتے چلے گئے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ وہ کوئی بھی بقرہ ذبح کردیتے تو ان کا کام چل جاتا لیکن انہوں نے سختی کا راستہ اختیار کیا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بےت کے سوالات کرتے رہے لہٰذا اللہ تعالیٰ نے بھی ان پر حکم میں سختی فرما دی۔ وہ کہنے لگے کہ اے موسیٰ آپ ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کریں جو ہمیں یہ بتادے کہ وہ بیل کیسا ہے یعنی اس کی عمر کتنی ہو۔ اس کے جواب میں حضرت موسیٰ نے فرمایا کہ اللہ جل شانہ کا ارشاد ہے کہ وہ بوڑھا جانور بھی نہ ہو اور بالکل کم عمر بچھڑا بھی نہ ہو۔ ان دونوں کی درمیانی عمر کا ہو اور فرمایا کہ جو تم کو حکم ہو رہا ہے اس کو کر گزرو۔ لیکن ان لوگوں کو الٹی چڑھی ہوئی تھی، پھر سوال اٹھایا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہنے لگے کہ اپنے رب سے ہمارے لیے یہ دعا کردیجیے کہ وہ ہمیں اس کا رنگ بتادے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ایسا بیل ہو جس کا رنگ پیلا خالص گہرا تیز ہو جس سے دیکھنے والوں کی طبیعت خوش ہوتی ہو۔ ان لوگوں نے پھر سوال اٹھایا کہ ہماری سمجھ میں تو پوری طرح بات نہیں آئی اپنے رب سے ہمارے لیے دعا کیجیے کہ وہ ہمیں خوب واضح طور پر بتادے کہ وہ بیل کیسا ہو بیل بہت سارے ہیں طرح طرح کے ہیں ہمیں اشکال ہو رہا ہے کہ کونسا بیل ذبح کریں اب کی مرتبہ بیان ہوجانے پر انشاء اللہ ہم ضرور راہ پاجائیں گے۔ حدیث شریف میں ہے کہ اگر وہ انشاء اللہ نہ کہتے تو کبھی بھی ان کو پوری طرح اس بیل کا حال بیان نہ کیا جاتا جس کے ذبح کرنے کا حکم ہوا تھا۔ (درمنثور میں اس کو حدیث مرفوع بتایا ہے) لیکن مفسر ابن کثیر فرماتے ہیں کہ یہ بظاہر حضرت ابوہریرہ ؓ کا کلام ہے۔ بہر حال تیسری بار جب انہوں نے سوال کیا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا کہ وہ ایسا بیل نہ ہو جسے کام کاج میں استعمال کر کے نکما کردیا گیا ہو یعنی اس نے نہ تو کھیتوں میں ہل چلایا ہو اور نہ آبپاشی کے لیے اسے کنویں سے پانی نکالنے میں استعمال کیا گیا ہو۔ اور ساتھ ہی یہ فرمایا کہ اس کا جو رنگ بتایا گیا ہے پورا بیل اسی رنگ کا ہو۔ اس میں کسی قسم کے دوسرے رنگ کا نشان داغ دھبہ نہ ہو۔ اور وہ جانور جسمانی طور پر صحیح سالم ہو اس کے اعضاء میں کمی اور خرابی نہ ہو مثلاً لنگڑا، کانا، اندھا نہ ہو۔ جب بیل کے حالات بیان ہوگئے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہنے لگے کہ ہاں اب آپ نے پوری طرح ٹھیک اور واضح بات کی ہے۔ لہٰذا اب اس قسم کا جانور تلاش کرنے لگے جیسا بیان کیا گیا تھا اور جو ان کے سوالات کے جوابات کے بعد اپنی خاص صفات کے اعتبار سے متعین ہوچکا تھا۔ تفسیر کی کتابوں میں لکھا ہے ( جو اسرائیلی روایات سے منقول ہے) کہ وہ جانور ان کو بہت زیادہ مہنگا ملا۔ ایک روایت میں ہے کہ وہ لوگ انہیں مخصوص صفات کا بیل تلاش کر رہے تھے اسی ثناء میں ایک شخص کے پاس سے گزرے جس کے پاس مذکورہ صفات کا بیل تھا اس سے کہا کہ یہ ہمیں بیچ دے۔ یہ لوگ قیمت لگاتے رہے اور وہ قیمت بڑھاتا رہا حتیٰ کہ اس بیل کے وزن کا دس گنا سونا دینے پر معاملہ ہوا، چناچہ وہ سونا اس نے قیمت کے طور پر لے لیا۔ یہ تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے۔ در منثور میں حضرت ابن عباس سے یوں نقل کیا ہے کہ انہوں نے اس بیل کی کھال دیناروں سے بھر کردینے پر سودا کیا۔ اور اس بیل کے مالک نے اس قدر دینار لے کر وہ بیل ان کے حوالے کیا۔ بہر حال خدا خدا کر کے وہ لوگ ذبح کرنے پر آمادہ ہوئے اور اس بیل کو انہوں نے ذبح کردیا حالانکہ ان کا ڈھنگ ایسا تھا کہ وہ یہ کام کرنے والے نہیں تھے۔
Ayahs 2:72–73

وَاِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا فَادّٰرَءْتُمْ فِیْهَا ؕ— وَاللّٰهُ مُخْرِجٌ مَّا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ ۟ۚوَ اِذۡ قَتَلۡتُمۡ نَفۡسًا فَادّٰرَءۡتُمۡ فِيۡهَا ‌ؕ وَاللّٰهُ مُخۡرِجٌ مَّا كُنۡتُمۡ تَكۡتُمُوۡنَۚ Open ayah 2:72 in the Quran reader

اور جب تم نے ایک جان کو قتل کردیا پھر اس کے بارے میں ایک دوسرے پر ڈالنے لگے اور اللہ تعالیٰ کو منظور تھا کہ اسکو ظاہر فرمائے جس کو تم چھپا رہے ہو

فَقُلْنَا اضْرِبُوْهُ بِبَعْضِهَا ؕ— كَذٰلِكَ یُحْیِ اللّٰهُ الْمَوْتٰی ۙ— وَیُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ ۟فَقُلۡنَا اضۡرِبُوۡهُ بِبَعۡضِهَا ‌ؕ كَذٰلِكَ يُحۡىِ اللّٰهُ الۡمَوۡتٰى ۙ وَيُرِيۡکُمۡ اٰيٰتِهٖ لَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ Open ayah 2:73 in the Quran reader

پس ہم نے حکم دیا کہ اس کا ایک حصہ اس میں مارو، ایسے ہی اللہ تعالیٰ زندہ فرماتا ہے مردوں کو، اور دکھلاتا ہے تم کو اپنی نشانیاں تاکہ تم عقل سے کام لو۔

مردہ زندہ ہونے کا ایک واقعہ اور قصہ سابقہ کا تکملہ ان آیات میں سابقہ قصہ کا تتمہ بیان فرمایا ہے اور یہ بھی بیان فرمایا ہے کہ ذبح بقرہ کا حکم کیوں ہوا تھا۔ ارشاد فرمایا کہ تم نے ایک خون کردیا تھا اور اس خون کو ایک دوسرے پر ڈال رہے تھے۔ قاتل اقراری نہیں تھا اور ہمیں منظور تھا کہ اس کے قاتل کا لوگوں کو علم ہوجائے لہٰذا ہم نے یہ طریقہ بتایا کہ جو بیل ذبح کیا ہے اس کا ٹکڑا مقتول کی لاش سے لگا دو ۔ تفسیر کی کتابوں میں لکھا ہے کہ ان لوگوں نے اس بیل کا ایک ٹکڑا لیکر مقتول کے مونڈھوں کے درمیان لگا دیا چناچہ وہ زندہ ہوگیا اس سے پوچھا کہ تجھے کس نے قتل کیا ہے تو اس نے کہا کہ مجھے میرے بھائی کے بیٹے نے قتل کیا۔ جس کا مقصد یہ تھا کہ وہ میرا مال لے لے اور میری بیٹی سے نکاح کرلے۔ یہ بات بیان کر کے وہ شخص دوبارہ مرگیا۔ اور قصاص میں قاتل کو قتل کردیا گیا۔ یہاں یہ سوال اٹھانا بےجا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یوں بھی قدرت ہے کہ جس مردہ کو چاہے زندہ فرمائے پھر اس کے لیے بیل کا ذبح ہونا اور مقتول کو اس کے گوشت کا ٹکڑا ماراجانا کیوں مشروط کیا گیا ؟ درحقیقت اللہ تعالیٰ کی حکمتوں کو سمجھنا مخلوق کے بس کا کام نہیں۔ اور نہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی تکوین اور تشریع میں جو حکمتیں ہیں ان میں سے کوئی سمجھ میں آجاتی ہے کبھی سمجھ میں نہیں آتی۔ مومن بندہ کا کام ماننا اور عمل کرنا ہے۔ ذبح بقرہ سے متعلق ایک حکمت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ بنی اسرائیل کی ...... حجت بازی اور کج روی کا حال عام لوگوں کو اور ان کے بعد آنے والی نسلوں کو معلوم ہوجائے تاکہ وہ ایسا نہ کریں۔ اس کے بعد اللہ جل شانہ نے ارشاد فرمایا : (کَذٰلِکَ یُحْیِ اللّٰہُ الْمَوْتیٰ وَیُرِیْکُمْ اٰیٰتِہٖ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ ) ” ایسے ہی اللہ تعالیٰ زندہ فرماتا ہے مردوں کو اور دکھاتا ہے تم کو اپنی نشانیاں تاکہ تم عقل سے کام لو۔ موت کے بعد زندہ کرنا اور حساب و کتاب کے لیے قبروں سے اٹھایا جانا قرآن و حدیث میں جگہ جگہ مذکور ہے۔ اس بات کے تسلیم کرنے سے بہت سے لوگوں کو انکار رہا ہے کہ موت کے بعد زندہ ہوں گے ان کے اشکالات قرآن مجید میں دور کئے گئے ہیں اور بعض مرتبہ اللہ تعالیٰ نے مردوں کو زندہ کر کے دکھایا ہے ان مواقع میں سے ایک موقعہ یہ بھی تھا کہ مقتول نے بحکم خدا زندہ ہو کر قاتل کا نام بتادیا اور یہ واقعہ حاضرین کے سامنے ہوا، سب نے دیکھ لیا کہ مردہ زندہ ہوا۔ اور تواتر کے ساتھ یہ قصہ لوگوں تک پہنچ گیا۔ تو اب موت کے بعد زندہ ہونے کا انکار کرنے کی گنجائش نہیں رہی۔ عقلاً بھی یہ بات ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ کو مردوں کے زندہ کرنے پر قدرت ہے۔ اور بعض مواقع میں حاضرین نے اپنی آنکھوں سے مردوں کو زندہ ہوتا دیکھا ہے، عقل کو کام میں لائیں تو انکار کی کوئی وجہ نہیں۔
Ayah 2:74

ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُكُمْ مِّنْ بَعْدِ ذٰلِكَ فَهِیَ كَالْحِجَارَةِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً ؕ— وَاِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا یَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْاَنْهٰرُ ؕ— وَاِنَّ مِنْهَا لَمَا یَشَّقَّقُ فَیَخْرُجُ مِنْهُ الْمَآءُ ؕ— وَاِنَّ مِنْهَا لَمَا یَهْبِطُ مِنْ خَشْیَةِ اللّٰهِ ؕ— وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ ۟ثُمَّ قَسَتۡ قُلُوۡبُكُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِكَ فَهِىَ كَالۡحِجَارَةِ اَوۡ اَشَدُّ قَسۡوَةً ‌ ؕ وَاِنَّ مِنَ الۡحِجَارَةِ لَمَا يَتَفَجَّرُ مِنۡهُ الۡاَنۡهٰرُ‌ؕ وَاِنَّ مِنۡهَا لَمَا يَشَّقَّقُ فَيَخۡرُجُ مِنۡهُ الۡمَآءُ‌ؕ وَاِنَّ مِنۡهَا لَمَا يَهۡبِطُ مِنۡ خَشۡيَةِ اللّٰهِ‌ؕ وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ Open ayah 2:74 in the Quran reader

پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہوئے، سو وہ ایسے ہوگئے جیسے پتھر ہوں یا ان سے بھی زیادہ سخت، اور بلاشبہ بعض پتھر ایسے ہیں جن سے نہریں جاری ہوجاتی ہیں اور بلاشبہ ان میں بعض ایسے ہیں جو پھٹ جاتے ہیں پھر ان سے پانی نکلتا ہے اور بلاشبہ ان میں بعض ایسے ہیں جو اللہ کے ڈر سے گر پڑ تے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ ان کاموں سے بیخبر نہیں ہیں جن کو تم کرتے ہو۔

یہودیوں کی قلبی قساوت کا تذکرہ اس آیت کریمہ میں یہودیوں کے قلوب کی قساوت اور سختی بیان فرمائی ہے اور فرمایا ہے کہ تمہارے دل پتھروں کی طرح سخت ہوگئے بلکہ پتھروں سے بھی زیادہ ان میں سختی آگئی۔ دلائل قدرت بھی دیکھتے ہیں اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے دلائل نبوت بھی دیکھتے ہیں ان کے دلوں میں ذرا خدا کا خوف نہیں ہے اور حق قبول کرنے کے لیے ذرا بھی آمادہ نہیں۔ پتھروں میں تو یہ بات ہے کہ ان میں سے بعض ایسے ہیں جن سے نہریں جاری ہوتی ہیں اور بعض پھٹ پڑتے ہیں تو ان میں پانی نکل آتا ہے۔ اور بعض ان میں ایسے ہیں جو اللہ کے خوف سے گرپڑتے ہیں۔ پہلے ان کے دلوں کو سختی میں پتھروں سے تشبیہ دی جو اس اعتبار سے لوہے سے بھی سخت ہیں کہ لوہے کو بھٹی میں ڈالا جائے تو پگھل جاتا ہے لیکن کیسی ہی آگ ہو اس سے پتھر پگھلتا نہیں۔ پھر فرمایا کہ تمہارے دل پتھروں سے بھی زیادہ سخت ہیں کیونکہ بعض پتھروں سے تو نہریں جاری ہوجاتی ہیں اور جب پھٹتے ہیں تو ان میں سے پانی نکل آتا ہے اگر تمہارے دل نرم ہوتے تو نافرمانیوں کی وجہ سے خوب زیادہ روتے (یہ مثال ہے نہریں جاری ہونے کی) اور کچھ بھی نہیں تو تھوڑا بہت ہی روتے (یہ مثال ہے فیخرج منہ الماء کی) اور آنکھوں سے آنسو نہ نکلتے تو کم سے کم دل ہی روتا (یہ مثال ہے یھبط من خشیۃ اللّٰہ کی) ۔ (من ابن کثیر) آیت کے آخر میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے بیخبر نہیں جو کچھ جانتا ہے اس سب کی سزا پاؤ گے دنیا کی کچھ دن کی زندگی کے دھو کے میں نہ آؤ۔ اہل کتاب کے دلوں کی سختی کا قرآن مجید میں اور جگہ بھی تذکرہ فرمایا ہے۔ سورة مائدہ میں فرمایا : (فَبِمَا نَقْضِھِمْ مِّیْثَا قَھُمْ لَعَنّٰھُمْ وَ جَعَلْنَا قُلُوْبَھُمْ قَاسِیَۃً ) ” پھر ان کے میثاق توڑنے کے باعث ہم نے ان کو ملعون قرار دے دیا اور ہم نے ان کے دلوں کو سخت کردیا۔ “ امت محمدیہ کو حکم کہ قاسی القلب نہ بنیں : امت محمدیہ علی صاحبھا الصلوٰۃ والتحیہ کو حکم ہے کہ تم اہل کتاب کی طرح سخت دل مت بن جاؤ۔ سورة حدید میں ارشاد ہے : (اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُہُمْ لِذِکْرِ اللّٰہِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ وَلاَ یَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَیْہِمُ الْاَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوْبُہُمْ وَکَثِیْرٌ مِّنْہُمْ فٰسِقُوْنَ ) ” کیا ایمان والوں کے لیے اس بات کا وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے لیے اور جو دین حق نازل ہوا ہے اس کے لیے جھک جائیں اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جن کو ان سے قبل کتاب ملی تھی پھر ان پر ایک زمانہ دراز گزر گیا پھر ان کے دل سخت ہوگئے اور بہت سے آدمی ان میں سے فاسق ہیں “ اپنے گناہوں کو یاد کرنا اور اللہ سے مغفرت چاہنا اور اللہ کے خوف سے رونا، یہ کسی کو حاصل ہوجائے تو بہت بڑی نعمت ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص اللہ کے ڈر سے رویا وہ دوزخ میں داخل نہ ہوگا۔ یہاں تک کہ دودھ تھنوں میں واپس ہوجائے (جس طرح دودھ تھنوں میں واپس نہیں جاتا اسی طرح یہ شخص دوزخ میں داخل نہ ہوگا) ۔ (الترغیب والترہیب) حضرت عقبہ بن عامر ؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ نجات کس چیز میں ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اپنی زبان کو قابو میں رکھ کر تجھے نقصان نہ پہنچا دے اور تیرے گھر میں تیری گنجائش رہے (یعنی بلا ضرورت گھر سے باہر نہ جا) اور اپنے گناہوں پر رویا کرو۔ (اخرجہ التر مذی فی ابواب الزہد) ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ چار چیزیں بدبختی کی ہیں۔ (1) آنکھوں کا جامد ہونا (یعنی ان سے آنسو نہ نکلنا) اور (2) دل کا سخت ہونا (3) لمبی لمبی آرزوئیں رکھنا (4) اور دنیا کی حرص رکھنا۔ (الترغیب ص 245 ج 4 عن البزار) ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ اے لوگو ! روؤ اور رونانہ آئے تو بتکلف رونے کی کوشش کرو کیونکہ دوزخ والے دوزخ میں اتناروئیں گے کہ ان کے چہروں پر اس طرح جاری ہوں گے جیسے چھوٹی چھوٹی نہروں میں پانی جاری ہوتا ہے روتے روتے آنسو ختم ہوجائیں گے تو خون بہنے لگیں گے جس سے آنکھوں میں زخم ہوجائیں گے اور اس قدر کثرت سے خون اور آنسو جمع ہوجائیں گے کہ اگر ان میں کشتیاں چلائی جائیں تو جاری ہوجائیں۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 504 عن شرح السنۃ) اگر کوئی شخص قبر دوزخ اور حشر کے حالات کا مراقبہ کیا کرے تو آسانی سے سخت دلی دور ہوسکتی ہے اور رونے کی شان پیدا ہوسکتی ہے۔ ایک آدمی نے عرض کیا کہ یارسول اللہ میرا دل سخت ہے آپ نے فرمایا کہ یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرا کر اور مسکین کو کھانا کھلایا کر۔ (مشکوٰۃ ص 504) کثرت ذکر سے دل نرم ہوتا ہے اور زیادہ بولنے سے سختی آتی ہے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کے ذکر کے علاوہ زیادہ بات نہ کیا کرو کیونکہ ذکر اللہ کے علاوہ بات کرنا دل کی سختی کا سبب ہے اور بلاشبہ لوگوں میں سب سے زیادہ اللہ سے دور وہ شخص ہے جس کا دل سخت ہو۔ (رواہ التر مذی) غیر ذی روح میں حیات ہے سب چیزیں اللہ کی تسبیح میں مشغول رہتی ہیں : اس آیت میں پتھروں سے پانی نکلنا اور ان سے نہریں جاری ہونا مذکور ہے اور یہ ایسی بات ہے جو نظروں کے سامنے ہے دنیا میں چشمے ہیں، جھرنے ہیں پہاڑوں سے پانی نکل رہے ہیں عموماً لوگ اس کو جانتے اور پہچانتے ہیں۔ اور یہ جو فرمایا کہ بعض پتھر اللہ کے خوف سے گرپڑتے ہیں۔ اس بارے میں کسی کوتاہ عمل کو شبہ ہوسکتا ہے کہ ان میں عقل و ادراک نہیں ہے پھر وہ کیسے ڈرتے ہیں اور ڈر کر گرپڑتے ہیں ؟ اصل بات یہ ہے کہ پتھروں میں اور دوسری جمادات میں ہمارے خیال میں ادراک اور شعور نہیں ہے کیونکہ وہ ہم سے بات نہیں کرتے اور ہمیں وہ احوال معلوم نہیں جو ان پر گزرتے ہیں اور ان کا اپنے خالق سے مخلوق اور مملوک اور عبادت گزار ہونے کا جو تعلق ہے انسان اس سے واقف نہیں ہے۔ قرآن شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ ان سب چیزوں میں ادراک ہے۔ سورة بنی اسرائیل میں فرمایا : (تُسَبِّحُ لَہُ السَّمٰوٰتُ السَّبْعُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْھِنَّ وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ وَ لٰکِنْ لَّا تَفْقَھُوْنَ تَسْبِیْحَھُمْ اِنَّہٗ کَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا) ” تمام ساتوں آسمان اور زمین اور جو ان میں ہیں اس کی پاکی بیان کرتے ہیں اور کوئی چیز ایسی نہیں جو تعریف کے ساتھ اس کی پاکی بیان نہ کرتی ہو۔ لیکن تم لوگ ان کے پاکی بیان کرنے کو سمجھتے نہیں بلاشبہ وہ حلیم ہے غفور ہے۔ “ اور سورة نور میں فرمایا : (اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یُسَبِّحُ لَہٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالطَّیْرُ صَافَّاتٍ کُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلاَتَہٗ وَتَسْبِیحَہٗ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌم بِمَا یَفْعَلُوْنَ ) ” کیا تجھ کو معلوم نہیں اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں وہ سب جو آسمانوں میں اور زمین میں ہیں اور پرندے جو پر پھیلائے ہوئے ہیں سب کو اپنی اپنی دعا اور اپنی اپنی تسبیح معلوم ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کو لوگوں کے سب افعال کا پورا علم ہے۔ “ صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ احد ایسا پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ (ص 585 ج 2) حضرت جابر بن سمرہ ؓ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ مکہ مکرمہ میں ایک پتھر ہے میں اسے پہچانتا ہوں جن دنوں میں میری بعثت ہوئی وہ مجھے سلام کیا کرتا تھا۔ (صحیح مسلم ص 425 ج 2) حضرت علی ؓ نے بیان فرمایا کہ میں مکہ مکرمہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھا ہم ایک دن بعض اطراف مکہ کی طرف نکلے جو بھی درخت یا پہاڑ آنحضرت ﷺ کے سامنے آتا تھا وہ السلام علیکم یا رسول اللہ کہتا تھا۔ (رواہ التر مذی فی ابواب المناقب وقال حسن غریب) حضرت ابوذر ؓ نے بیان فرمایا کہ ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ نے سات یا نو کنکریاں لیں ان کنکریوں نے آپ کے ہاتھ میں تسبیح پڑھی یہاں تک کہ میں نے ان کی ایسی آواز سنی جیسی شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ ہوتی ہے پھر آپ نے ان کو رکھ دیا تو ان کی گویائی ختم ہوگئی۔ پھر آپ نے ان کنکریوں کو حضرت ابوبکر کے ہاتھ میں رکھ دیا تو ان کے ہاتھ میں بھی ان کنکریوں نے تسبیح پڑھی پھر حضرت عمر کے ہاتھ میں رکھ دیا تو ان کے ہاتھ میں بھی ان کنکریوں نے تسبیح پڑھی پھر حضرت عثمان کے ہاتھ میں رکھ دیا تو ان کے ہاتھ میں بھی ان کنکریوں نے تسبیح پڑھی اور ہر مرتبہ میں نے شہد کی مکھیوں جیسی بھنبھناہٹ سنی۔ (جمع الفوائد : ذکر کلام الحیوانات والجمادات) حضرت ابن مسعود ؓ سے کسی نے دریافت کیا کہ جب جنات بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر قرآن سننے لگے تو آنحضرت ﷺ کو کس نے بتایا کہ جنات حاضر ہیں حضرت ابن مسعود نے جواب دیا کہ وہاں جو ایک درخت تھا اس نے آپ کو بتایا۔ (للشیخین کمافی جمع الفوائد) اسطوانہ حنانہ کا قصہ تو مشہور و معروف ہی ہے کہ جب مسجد نبوی کے لیے منبر تیار کردیا گیا تو آنحضرت سرور عالم ﷺ اس پر خطبہ دینے کے لیے تشریف فرما ہوئے اس سے پہلے مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون سے ٹیک لگا کر خطبہ دیتے تھے یہ ستون کھجور کا تنا تھا۔ جب آپ منبر پر تشریف لے گئے تو کھجور کا یہ تنا چیخنے لگا جیسے بچہ چیختا ہے آپ منبر سے اترے اور اس تنے کو چمٹا لیا اور اس سے ایسی آواز نکلنے لگی جیسے بچہ کی آواز ہوتی ہے جب اسے چپ کرایا جاتا ہے۔ یہ تنا جو اللہ کا ذکر سنا کرتا تھا اس سے محروم ہوجانے کے باعث بچہ کی طرح چیخنے لگا۔ (رواہ فتح الباری ص 506 ج 1) حضور ﷺ جہاد کے لیے خیبر تشریف لے گئے وہاں ایک یہودی عورت نے بکری کا ایک ہاتھ بھون کر پیش کیا آنحضرت ﷺ نے اس میں سے تناول فرمایا اور آپ کے بعض صحابہ نے بھی اس میں سے کھایا پھر آپ نے فرمایا آپ لوگ ہاتھ اٹھا لیں اور اس یہودی عورت کو بلا کر فرمایا تو نے بکری میں زہر ملایا ہے۔ وہ کہنے لگی آپ کو کس نے بتایا آپ نے فرمایا مجھے بکری کے اس ہاتھ نے بتایا جو میرے ہاتھ میں ہے۔ کہنے لگی ہاں واقعی میں نے زہر ملایا ہے۔ (جمع الفوائد عن ابی داؤد) حصن حصین میں بحوالہ طبرانی نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایک پہاڑ دوسرے پہاڑ کا نام لیکر آواز دیتا ہے اور دریافت کرتا ہے کہ اے فلاں کیا تجھ پر کوئی ایسا شخص گزرا ہے جس نے اللہ کا ذکر کیا ہو۔ وہ دوسرا پہاڑ جواب دیتا ہے کہ ہاں ایک شخص اللہ کا ذکر کرنے والا میرے اوپر گزرا ہے تو وہ سوال کرنے والا پہاڑ خوش ہوتا ہے۔ ان سب روایات اور واقعات سے معلوم ہوا کہ ہم جن چیزوں کے بارے میں یہ سمجھتے ہیں کہ ان میں ادراک اور احساس و شعور نہیں ہے اس کی وجہ سے یہ ہے کہ ہمیں ان کے اس احساس و ادراک کا پتہ نہیں ورنہ ان میں احساس اور شعور ہے۔ وہ اللہ کے ذکر میں مشغول رہتی ہیں اور اللہ کا ذکر سن کر خوش ہوتی ہیں۔ اور جب اللہ کی مشیت ہوتی ہے تو ان کو بولنے کی قوت دے دی جاتی ہے۔ قال العارف الرومی آب و باد و خاک و آتش بندہ اند بامن و تو مردہ باحق زندہ اند
Ayah 2:75

اَفَتَطْمَعُوْنَ اَنْ یُّؤْمِنُوْا لَكُمْ وَقَدْ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ یَسْمَعُوْنَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ یُحَرِّفُوْنَهٗ مِنْ بَعْدِ مَا عَقَلُوْهُ وَهُمْ یَعْلَمُوْنَ ۟اَفَتَطۡمَعُوۡنَ اَنۡ يُّؤۡمِنُوۡا لَـكُمۡ وَقَدۡ كَانَ فَرِيۡقٌ مِّنۡهُمۡ يَسۡمَعُوۡنَ کَلَامَ اللّٰهِ ثُمَّ يُحَرِّفُوۡنَهٗ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا عَقَلُوۡهُ وَهُمۡ يَعۡلَمُوۡنَ‏ Open ayah 2:75 in the Quran reader

کیا تم لوگ یہ امید رکھتے ہو کہ یہودی تمہارے کہنے سے ایمان لے آئیں گے اور حال یہ ہے ان میں سے کچھ لوگ ایسے تھے جو اللہ کا کلام سنتے رہے ہیں۔ پھر اس میں تحریف کرتے رہے ہیں۔ اس کے بعد کہ وہ اس کو سمجھتے تھے اور جانتے تھے۔

یہودیوں میں عناد ہے ان سے ایمان قبول کرنے کی امید نہ رکھی جائے اس آیت کریمہ میں مسلمانوں کی یہ امید اور آرزو ختم فرمادی کہ یہودی ایمان لائیں گے اور فرمایا کہ ان کے اسلاف کا یہ حال تھا کہ اللہ کا کلام سنتے تھے۔ پر جانتے بوجھتے اور سمجھتے ہوئے اس میں تحریف کردیتے تھے اور یہ لوگ ان پر اب تک کوئی نکیر نہیں کرتے اور طریقہ کار کو غلط نہیں بتاتے بلکہ ان سے محبت اور تعلق میں بہت آگے ہیں۔ اور جس طرح ان لوگوں نے اپنے اپنے زمانہ میں آیات بینات کا کھلا مشاہدہ کیا پھر بھی اپنے نبیوں کی تکذیب کی اور اللہ کے کلام کی تکذیب کی اسی طرح یہ لوگ بھی معجزات اور دلائل اور شواہد دیکھتے ہیں لیکن ٹس سے مس نہیں ہوتے اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان نہیں لاتے۔ اس آیت شریفہ میں جو اللہ تعالیٰ کا کلام سن کر اس میں تحریف کرنے کا ذکر ہے اس کے بارے میں حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ اس میں اس واقعہ کا ذکر ہے جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ستر آدمیوں کو اپنے ساتھ لے گئے۔ وہاں انہوں نے اللہ تعالیٰ کا کلام سن لیا تھا۔ لیکن جب قوم کے پاس واپس آئے تو انہوں نے اس کے خلاف بیان دیاجو وہاں سن کر آئے تھے۔ دوسرے حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے توریت شریف کی تحریف کرنا مراد ہے۔ علماء یہود رشوت لیکر حلال کو حرام اور حرام کو حلال کردیتے تھے اگر کوئی شخص رشوت لے آیاتو اس کے مطابق مسئلہ بتادیا۔ اور جو شخص کچھ بھی نہ لایا اس کو صحیح اور حق بات بتادی۔ یہ لوگ جو ایسی حرکت کرتے تھے جانتے بوجھتے ہوئے کرتے تھے اور یہ جانتے تھے کہ ہم گناہ کر رہے ہیں۔ پھر بھی اس کو کرتے چلے جاتے تھے۔ اسی تحریف میں یہ بات بھی تھی کہ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی صفات اور علامات جو توریت شریف میں بیان کی گئی تھیں، ان کو بدل دیا۔ اس میں وہ لوگ بھی مبتلا تھے جو آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں تھے جو لوگ خود مبتلائے تحریف ہوں اور دوسروں کو ایمان لانے سے روک رہے ہوں وہ خود کیا ایمان لائیں گے ؟
Ayahs 2:76–77

وَاِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّا ۖۚ— وَاِذَا خَلَا بَعْضُهُمْ اِلٰی بَعْضٍ قَالُوْۤا اَتُحَدِّثُوْنَهُمْ بِمَا فَتَحَ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ لِیُحَآجُّوْكُمْ بِهٖ عِنْدَ رَبِّكُمْ ؕ— اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ۟وَاِذَا لَـقُوۡا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا قَالُوۡآ اٰمَنَّا  ۖۚ وَاِذَا خَلَا بَعۡضُهُمۡ اِلٰى بَعۡضٍ قَالُوۡآ اَ تُحَدِّثُوۡنَهُمۡ بِمَا فَتَحَ اللّٰهُ عَلَيۡكُمۡ لِيُحَآجُّوۡكُمۡ بِهٖ عِنۡدَ رَبِّكُمۡ‌ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ Open ayah 2:76 in the Quran reader

اور جب ملاقات کرتے ہیں ان لوگوں سے جو ایمان لائے تو کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے ہیں اور جب آپس میں ایک دوسرے کے پاس تنہائی میں ہوتے ہیں تو کہتے ہیں کیا تم ان کو وہ چیزیں بتاتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے تم پر کھولی ہیں تاکہ یہ لوگ ان کے ذریعے اللہ کے پاس حجت میں تم کو مغلوب کردیں۔ کیا تم سمجھ نہیں رکھتے ہو ؟

اَوَلَا یَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَمَا یُعْلِنُوْنَ ۟اَوَلَا يَعۡلَمُوۡنَ اَنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ مَا يُسِرُّوۡنَ وَمَا يُعۡلِنُوۡنَ Open ayah 2:77 in the Quran reader

کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ بلا شبہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ جو کچھ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں

یہودیوں کی منافقت عام منافقین کا طریقہ تھا کہ مسلمانوں کے سامنے کہتے تھے کہ ہم مسلمان ہیں اور تنہائیوں میں اپنے سرغنوں سے کہتے تھے کہ ہم تو تمہارے ساتھ ہیں۔ اسی طرح یہودی منافق بھی مسلمانوں کے سامنے یہ ظاہر کردیتے تھے کہ ہم ایمان لے آئے اور اسی ظاہر کرنے میں یہ بھی کہہ جاتے تھے کہ تورات شریف میں ایسا ایسا لکھا ہے اور اس میں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت کی بشارت اور آپ کی علامات اور صفات موجود ہیں اور ان علامات اور صفات سے صاف ظاہر ہے کہ آپ واقعی اللہ کے سچے نبی اور رسول ہیں۔ بعض مفسرین نے یہ بھی لکھا ہے کہ جب اہل مدینہ (اوس اور خزرج) نے یہود مدینہ سے مشورہ کیا کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے ہماری ملاقات ہوئی ہے اور ہم لوگ ان پر ایمان لائے ہیں اور وہ ہجرت فرماکر مدینہ منورہ تشریف لا رہے ہیں، ان کے بارے میں تم لوگوں کا کیا خیال ہے تو سادہ دل یہودیوں نے کہہ دیا کہ ہاں ان پر ایمان لاؤ وہ نبی ہیں۔ پھر جب تنہائیوں میں ایک دوسرے سے ملتے تو آپس میں کہتے کہ تم لوگ عجیب ہو مسلمانوں کے سامنے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت کا اقرار کرتے ہو اور ان کو یہ بھی بتاتے ہو کہ ان کا ذکر اور نعت و صفت تورات شریف میں موجود ہے یہ تو تم اپنے اوپر حجت قائم کر رہے ہو جب قیامت کا دن ہوگا تو مسلمان اللہ پاک کے حضور میں تم پر حجت قائم کردیں گے اور خود تم اپنے اقرار سے پکڑے جاؤ گے کہ تم نے ان سے تو کہا کہ واقعی نبی ہیں اور خود ان کی نبوت کو نہ مانا تمہارا اقرارخود تم پر حجت ہوگا لہٰذا ایسی باتیں کیوں کرتے ہو جو تمہارے خلاف حجت بنیں تم اتنی بھی سمجھ نہیں رکھتے خود اپنے اقرار کی چھری سے خود اپنے ذبح کا انتظام کر رہے ہو۔ (درمنثورص 81 ج 1 ومعالم التنزیل ص 87 ج 1) یہ کیسی بیوقوفی کی بات ہے کہ مسلمانوں پر حق ظاہر کرکے خود اس کے خلاف کرو گے تو قیامت کے دن مسلمان تم پر حجت قائم کریں گے اور دلیل سے مغلوب کردیں گے۔ یہ نہیں سمجھتے کہ مواخذہ کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے وہ سب کچھ جانتا ہے جو دلوں میں ہے اسے اس کا بھی پتہ ہے اور جو کچھ ظاہر کر رہے ہیں وہ اس سے بھی باخبر ہے۔ اگر مسلمانوں سے حق کو چھپایا تو اللہ پاک کے حضور میں اس وجہ سے کفر کے عذاب سے کیونکر خلاصی ہوگی کہ ہم نے مسلمانوں کو صحیح بات نہ بتائی تھی۔ جب شقاوت کسی کو گھیر لیتی ہے تو وہ جان بوجھ کر اسی کا راستہ اختیار کرتا ہے۔
Ayah 2:78

وَمِنْهُمْ اُمِّیُّوْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ الْكِتٰبَ اِلَّاۤ اَمَانِیَّ وَاِنْ هُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ ۟وَ مِنۡهُمۡ اُمِّيُّوۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ الۡكِتٰبَ اِلَّاۤ اَمَانِىَّ وَاِنۡ هُمۡ اِلَّا يَظُنُّوۡنَ Open ayah 2:78 in the Quran reader

اور ان میں ایسے ہیں جو ان پڑھ ہیں کتاب کا علم نہیں رکھتے۔ سوائے آرزوؤں کے اور وہ لوگ صرف گمانوں میں پڑے ہوئے ہیں

یہودیوں کی جھوٹی آرزوئیں اس آیت میں یہودی جاہل ان پڑھ عوام کا تذکرہ فرمایا ہے یہ لوگ نہ توریت شریف پڑھ سکتے تھے نہ اور کسی طرح کا علم رکھتے تھے البتہ جھوٹی آرزوؤں میں الجھے ہوئے تھے۔ یہ لوگ سمجھتے تھے کہ ہمیں جنت میں ضرور جانا ہے اگر عذاب بھی ہوا تو تھوڑے سے دن دوزخ میں رہیں گے اور ہم انبیاء کرام (علیہ السلام) کی نسل سے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے محبوب اور مقرب ہیں اس کی اولاد ہیں اور نبوت صرف ہمارے ہی اندر رہ سکتی ہے۔ وغیرہ وغیرہ اور بہت سی جھوٹی آرزوؤں میں مبتلا تھے خیالات کی دنیا میں پڑے ہوئے تھے اور اپنی نجات اور اللہ کے ہاں محبوب ہونے کے خیالی پلاؤ پکا رکھے تھے۔ ان کے خیال میں نہ اللہ کے نبی محمد رسول اللہ ﷺ کے جھٹلانے سے ان کے محبوب عنداللہ ہونے میں فرق آتا تھا اور نہ سود کھانے سے ان کی دینداری کو بٹہ لگتا تھا نہ کسی طرح کے کسی بھی برے عمل سے ان کو آخرت کا فکر لاحق ہوتا تھا۔ اپنے بارے میں جو جھوٹی آرزوئیں لیے بیٹھے تھے اور جو خوش کن گمانوں کی دنیا بسائے ہوئے تھے اسی میں مست تھے۔
Ayah 2:79

فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ یَكْتُبُوْنَ الْكِتٰبَ بِاَیْدِیْهِمْ ۗ— ثُمَّ یَقُوْلُوْنَ هٰذَا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ لِیَشْتَرُوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا ؕ— فَوَیْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا كَتَبَتْ اَیْدِیْهِمْ وَوَیْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا یَكْسِبُوْنَ ۟فَوَيۡلٌ لِّلَّذِيۡنَ يَكۡتُبُوۡنَ الۡكِتٰبَ بِاَيۡدِيۡهِمۡ ثُمَّ يَقُوۡلُوۡنَ هٰذَا مِنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ لِيَشۡتَرُوۡا بِهٖ ثَمَنًا قَلِيۡلًا ؕ فَوَيۡلٌ لَّهُمۡ مِّمَّا کَتَبَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ وَوَيۡلٌ لَّهُمۡ مِّمَّا يَكۡسِبُوۡنَ Open ayah 2:79 in the Quran reader

سو بڑی خرابی ہے ان لوگوں کے لیے جو کتاب کو لکھتے ہیں اپنے ہاتھوں سے پھر کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے تاکہ اس کے ذریعہ خرید لیں تھوڑی سی قیمت، سو بڑی ہلاکت ہے ان کے لیے بوجہ اس کے جو ان کے ہاتھوں نے لکھا ہے۔ اور بڑی ہلاکت ہے ان کے لیے اس کی وجہ سے جسے وہ کسب کرتے ہیں۔

علمائے یہود کا غلط مسائل بتانا اور رشوت لینا اس آیت شریفہ میں یہودی علماء کی بد عملی اور دھاندلی اور حب دنیا کی وجہ سے ان کی بربادی کا تذکرہ فرمایا ہے عوام جب علماء کے پاس جاتے تھے اور ان سے مسائل معلوم کرتے تھے اور ساتھ ہی رشوت بھی دیتے تھے تو وہ لوگ سائل کی رضا جوئی کے لیے اس کی مرضی کے مطابق مسئلہ بتادیتے تھے، خود اپنے ہاتھ سے مسئلہ لکھ دیتے تھے اور عوام کو باور کراتے تھے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور توریت شریف میں یوں ہی نازل ہوا ہے جو شخص رشوت نہ لاتا اس کے لیے مسئلہ میں ادل بدل نہیں کرتے تھے۔ ان کے علماء تحریف کتاب اللہ کے مجرم بھی تھے اور رشوت خوری کے گناہ میں بھی مبتلا تھے۔ اللہ جل شانہ، نے ان کا حال بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ ان کے لیے دونوں وجہ سے ہلاکت اور بربادی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں تحریف کی وجہ سے بھی اور اس وجہ سے بھی کہ وہ حرام مال کماتے ہیں۔ اور باقی رہنے والی آخرت کی نعمتوں کے مقابلہ میں حقیر دنیا کی کچھ نقدی لینے پر راضی ہیں۔ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان لاتے اپنے عوام کو بھی اسلام قبول کرنے پر آمادہ کرتے آنحضرت ﷺ کی نعت اور صفت جو توریت شریف میں موجود پاتے تھے اسے واضح طور پر بتاتے تو اس میں ممکن تھا کہ ظاہری دنیا میں کمی ہوجاتی لیکن آخرت کے ثواب سے مالا مال ہوجاتے لیکن انہوں نے حقیر دنیا کو ترجیح دی۔ اور تھوڑے سے فانی کے مقابلہ میں آخرت کی ہمیشہ رہنے والی نعمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور مستحق عذاب ہوئے۔ ان کے عوام میں اگرچہ بےپڑھے لوگ بھی تھے لیکن اتنا تو ہر عقلمند سمجھتا ہے کہ جو شخص پیسہ لے کر ایک بات بتایا ہے اور جو پیسہ نہ دے اسے دوسری بات بتاتا ہے ایسا شخص کیسے اہل حق ہوسکتا ہے ایسے شخص پر دین میں اعتماد کرنا سراسر حماقت ہے جس میں سراسر ہلاکت ہے۔