2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 2:261

مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ ؕ— وَاللّٰهُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُ ؕ— وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ ۟مَثَلُ الَّذِيۡنَ يُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَهُمۡ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنۡۢبَتَتۡ سَبۡعَ سَنَابِلَ فِىۡ كُلِّ سُنۡۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ‌ؕ وَاللّٰهُ يُضٰعِفُ لِمَنۡ يَّشَآءُ‌ ؕ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيۡمٌ Open ayah 2:261 in the Quran reader

مثال ان لوگوں کی جو اپنے مالوں کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ایسی ہے جیسے ایک دانہ ہو اس نے اگائیں سات بالیں، ہر بال میں ہیں سو دانے، اور اللہ چند در چند کردیتا ہے جس کے لیے چاہے۔ اور اللہ وسعت والا ہے علم والا ہے۔

فی سبیل اللہ خرچ کرنے والوں کا اجر وثواب آیت شریفہ میں فی سبیل اللہ خرچ کرنے کی فضیلت بیان فرمائی۔ اللہ کی رضا کے لیے جو بھی مال خرچ کیا جائے وہ سب فی سبیل اللہ ہے۔ اور عام طور سے یہ لفظ جہاد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے بہر صورت جہاد میں خرچ کرے یا غیر جہاد میں خرچ کرے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کی فضیلت بہت ہے اور یہ تو عام قانون ہے کہ (مَنْ جَآء بالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُ اَمْثَالِھَا) (جو کوئی شخص ایک نیکی کرے اس کے لیے اس کا دس گنا ہے) ایک نیکی کی دس نیکی یہ تو کم سے کم ہے اور اس کے علاوہ اللہ جل شانہٗ اس سے زیادہ جتنا جس کو بڑھا چڑھا کر عنایت فرمائے وہ مزید انعام و اکرام ہے۔ اس آیت شریفہ میں اللہ کی راہ میں خرچ کرنیوالوں کے بارے میں ایک مثال بیان فرمائی ہے اور وہ یہ کہ جیسے کوئی دانہ زمین میں گرجائے پھر اس سے ایک درخت نکل آئے اس درخت میں سات بالیں ہوں اور ہر بالی میں سو سو دانے ہوں اس طرح سے ایک دانہ کے سات سو دانے بن گئے، اللہ تعالیٰ شانہٗ ایک درہم یا ایک دینار یا ایک روپیہ یا ایک پیسہ خرچ کرنے پر اس کے عوض ثواب میں سات سو گنا عطا فرماتے ہیں اور سات سو پر بھی کوئی منحصر نہیں ہے اس سے زیادہ بھی عطا فرمادیتے ہیں جس کو (وَ اللّٰہُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُ ) میں بیان فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ بہت بڑی وسعت والا ہے وہ جس کو جتنا چاہے دے سکتا ہے اور وہ علم والا بھی ہے کسی کی کوئی نیکی اس کے علم سے باہر نہیں اس کی رضا کے لیے جو بھی کوئی بدنی یا مالی عبادت انجام دے گا اس کے ضائع ہونے کا کوئی خطرہ نہیں، آخرت میں اس کا ثواب چند درچند پالے گا۔ سنن ابن ماجہ ص 198 میں متعدد صحابہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے کہ جس نے اللہ کی راہ میں (یعنی جہاد میں) خرچ کرنے کے لیے مال بھیج دیا اور خود گھر ہی میں رہا تو اسے ہر درہم کے عوض سات سو درہم (کا ثواب) ملے گا اور جس شخص نے اپنی جان سے شریک ہو کر اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور اللہ کی خوشنودی کے لیے مال خرچ کیا تو اس کے لیے ہر درہم کے عوض سات لاکھ درہم ہوں گے، یہ فرما کر آنحضرت سرور عالم ﷺ نے (وَ اللّٰہُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُ ) کی تلاوت فرمائی۔ تفسیر درمنثور ص 326 ؍ ج 1 میں بحوالہ طبرانی حضرت معاذ بن جبل ؓ سے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد نقل فرمایا ہے کہ اس کے لیے بہت بڑی خوبی ہے جو فی سبیل اللہ جہاد میں مشغول ہوتے ہوئے اللہ کے ذکر کی کثرت کرے کیونکہ اسے ہر کلمہ کے عوض ستر ہزار نیکیاں ملیں گی جن میں سے ہر نیکی دس گنی کرکے ملے گی اس کے علاوہ جو اس کے لیے اللہ کے نزدیک ہے وہ مزید ہے۔ عرض کیا گیا یا رسول اللہ فی سبیل اللہ خرچ کرنے کا کیا ثواب ہے آپ نے فرمایا وہ بھی اس قدر ہے۔ حضرت معاذ بن جبل کے شاگرد نے عرض کیا کہ میں نے یہ سنا ہے کہ فی سبیل اللہ خرچ کرنے کا ثواب سات سو گنا ہے انہوں نے فرمایا کہ تو کم سمجھ آدمی ہے۔ یہ سات سو گنا اس وقت ہے جب اپنے گھروں میں رہتے ہوئے جہاد میں خرچ کرنے کے لیے بھیج دیں اور خود جہاد میں شریک نہ ہوں اور جب خود جہاد میں شریک ہوں اور اس وقت خرچ کریں تو اللہ تعالیٰ نے اپنے خزانوں میں ان کے لیے جو کچھ پوشیدہ رکھا ہے وہاں تک بندوں کے علم کی رسائی نہیں ہے اور بندے اس کی کیفیت کے جاننے سے عاجز ہیں۔ یہ لوگ حزب اللہ (اللہ کی جماعت) ہیں اور اللہ کی جماعت غالب ہونے والی ہے۔ حضرت بریدہ اور حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ حج و جہاد کا خرچ یکساں ہے ایک درہم خرچ کرنا سات ہر درہم خرچ کرنے کے برابر ہے (درمنثور ص 337 ج 1) اللہ تعالیٰ کے یہاں کسی کے ثواب میں کوئی کمی نہیں فضل ہی فضل ہے، عطا ہی عطا۔ تھوڑے پر بہت ملتا ہے۔ نیت اللہ کی رضا کی کرنی لازم ہے، آیت بالا میں بھی لفظ فی سبیل اللہ فرما کر اخلاص کی طرف متوجہ فرمایا ہے اور آئندہ آنے والی آیات میں خرچ کرنے کے آداب بتاتے ہوئے ریا کاری کے طور پر خرچ کرنے کی مذمت فرمائی ہے۔
Ayahs 2:262–264

اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّلَاۤ اَذًی ۙ— لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۚ— وَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَلَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ ۟اَلَّذِيۡنَ يُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَهُمۡ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا يُتۡبِعُوۡنَ مَاۤ اَنۡفَقُوۡا مَنًّا وَّلَاۤ اَذًى‌ۙ لَّهُمۡ اَجۡرُهُمۡ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ‌ۚ وَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ Open ayah 2:262 in the Quran reader

جو لوگ خرچ کرتے ہیں اپنے مالوں کو اللہ کی راہ میں پھر خرچ کرنے کے بعد احسان نہیں دھرتے اور ایذاء نہیں پہنچاتے ان کے لیے ثواب ہے ان کے رب کے پاس، اور نہ ان پر کوئی خوف ہے اور نہ وہ رنجیدہ ہوں گے۔

قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ وَّمَغْفِرَةٌ خَیْرٌ مِّنْ صَدَقَةٍ یَّتْبَعُهَاۤ اَذًی ؕ— وَاللّٰهُ غَنِیٌّ حَلِیْمٌ ۟قَوۡلٌ مَّعۡرُوۡفٌ وَّمَغۡفِرَةٌ خَيۡرٌ مِّنۡ صَدَقَةٍ يَّتۡبَعُهَاۤ اَذًى‌ؕ وَاللّٰهُ غَنِىٌّ حَلِيۡمٌ Open ayah 2:263 in the Quran reader

بھلی بات کہہ دینا اور درگزر کردینا ایسے صدقہ سے بہتر ہے جس کے بعد تکلیف پہنچائی جائے اور اللہ غنی ہے حلیم ہے،

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَالْاَذٰی ۙ— كَالَّذِیْ یُنْفِقُ مَالَهٗ رِئَآءَ النَّاسِ وَلَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ؕ— فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَیْهِ تُرَابٌ فَاَصَابَهٗ وَابِلٌ فَتَرَكَهٗ صَلْدًا ؕ— لَا یَقْدِرُوْنَ عَلٰی شَیْءٍ مِّمَّا كَسَبُوْا ؕ— وَاللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ ۟يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُبۡطِلُوۡا صَدَقٰتِكُمۡ بِالۡمَنِّ وَالۡاَذٰىۙ كَالَّذِىۡ يُنۡفِقُ مَالَهٗ رِئَآءَ النَّاسِ وَلَا يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ‌ؕ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ صَفۡوَانٍ عَلَيۡهِ تُرَابٌ فَاَصَابَهٗ وَابِلٌ فَتَرَكَهٗ صَلۡدًا ‌ؕ لَا يَقۡدِرُوۡنَ عَلٰى شَىۡءٍ مِّمَّا كَسَبُوۡا ‌ؕ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِى الۡقَوۡمَ الۡـكٰفِرِيۡنَ Open ayah 2:264 in the Quran reader

اے ایمان والو ! مت باطل کرو اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور تکلیف پہنچا کر اس شخص کی طرح سے جو اپنا مال خرچ کرتا ہے لوگوں کو دکھانے کے لیے اور ایمان نہیں لاتا اللہ پر اور یوم آخرت پر، سو اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی چکنا پتھر ہو جس پر ذرا سی مٹی ہو پھر پہنچ گئی اس کو زور دار بارش سو کر چھوڑا اس کو بالکل ہی صاف، یہ لوگ اپنی کمائی میں سے کسی چیز پر قادر نہ ہوں گے، اور اللہ کافر قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔

فی سبیل اللہ خرچ کرنے کے آداب اور ریا کاروں کے صدقات کی مثال ان آیات میں اول تو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی فضیلت بتائی ہے کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کے لیے اجر وثواب ہے نہ ان پر کوئی خوف ہے نہ وہ رنجیدہ ہوں گے، اور ساتھ ہی دو باتوں پر تنبیہ فرمائی ہے، اول یہ کہ جس کسی کو مال دیں اس پر احسان نہ دھریں اور اسے تکلیف نہ پہنچائیں، ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ صدقہ دینے کے بعد احسان جتانے اور تکلیف پہنچانے سے صدقہ باطل ہوجاتا ہے، بہت سے لوگوں کی جو یہ عادت ہوتی ہے کہ تھوڑا بہت صدقہ دے کر ان لوگوں پر احسان دھرتے ہیں جن لوگوں کو کچھ دیا۔ اور خاص کر ان لوگوں پر جو رشتہ دار ہیں یا اپنے شہر کے رہنے والے ہیں ایسے لوگ احسان دھرنے سے اپناثواب باطل کردیتے ہیں جس پر احسان دھرا جائے اسے احسان کے الفاظ سننے سے یا احسان دھرنے کی طرح برتاؤ کرنے سے تکلیف ہوتی ہی ہے اور بعض مرتبہ یہ بھی ہوتا ہے کہ ان کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں یا ان پر خرچ کرنے کی وجہ سے بیگاریں لیتے ہیں، اس لیے لفظ مَنّ (احسان جتانے) سے ساتھ لفظ اَذٰی بھی ذکر فرمایا کہ اللہ کے لیے خرچ کریں اور احسان بھی نہ دھریں اور کسی قسم کی کوئی تکلیف بھی نہ پہنچائیں تب ثواب کے مستحق ہوں گے، اگر کسی نے سوال کیا اور اسے نہ دیا اور خوبصورتی کے ساتھ اچھے الفاظ میں جواب دے دیا اور سائل کی بد تمیزی پر اور تنگ کرنے پر جو غصہ آیا اس سے درگزر کردیا تو یہ اس سے بہتر ہے کہ کچھ دیدے پھر احسان دھرے یا کسی طرح سے تکلیف پہنچائے۔ اس کو فرمایا (قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ وَّ مَغْفِرَۃٌ خَیْرٌ مِّنْ صَدَقَۃٍ یَّتْبَعُھَآ اَذًی) جو لوگ صدقہ کرکے احسان جتاتے ہیں یا ایذاء پہنچاتے ہیں ان کے بارے میں فرمایا کہ ان لوگوں کا ایسا حال ہے جیسے کوئی شخص لوگوں کو دکھانے کے لیے مال خرچ کرے اور اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان نہ رکھتا ہو ایسے شخص کے خرچ کرنے کی مثال دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جیسے کوئی چکنا پتھر ہو اس پر تھوڑی سی مٹی پڑی ہو اور اوپر سے زور دار بارش پڑجائے جو اس ذرا سی مٹی کو بہا کرلے جائے اور پتھر کو بالکل چکنا سپاٹ چھوڑ دے، اول تو پتھر چکنا پھر اس پر مٹی بھی ذرا سی اور جو بارش برسی تو وہ بھی زور دار، ظاہر ہے کہ اس حالت میں پتھر صاف ہو کر چکنا نہ رہ جائے گا تو اور کیا ہوگا۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہ منافق کے خرچ کرنے کی مثال ہے کیونکہ وہ اللہ اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتا۔ مسلمانوں میں شریک ہو کر جو کسی نیک کام میں تھوڑا بہت خرچ کیا تو ایسا ہوا جیسے چکنے پتھر پر ذرا سی مٹی آجائے اور چونکہ اس خرچ کا اسے کوئی ثواب نہ ملے گا اس لیے یہ خرچ کرنا اس کے حق میں بالکل ہی بےفائدہ ہے جیسا کہ اس ذرا سی مٹی پر خوب تیز بارش برس جائے اور اسے دھو ڈالے۔ یہ لوگ اپنی کمائی پر ذرا بھی قادر نہ ہوں گے کیونکہ انہوں نے جو کچھ کمایا اور خرچ کیا حالت فکر میں تھا اور دکھاوے کے لیے تھا اس کا ثواب انہیں ذرا نہ ملے گا، آخرت میں ان کا کمانا بھی ضائع ہے اور خرچ کرنا بھی، اور جب ایمان نہیں اور اخلاص نہیں تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن انہیں جنت کا راستہ بھی نہ دکھائے گا۔ اوپر منافق ریا کار کا ذکر ہے جو مومن مخلص کے مقابلہ میں آیا ہے۔ اگر کوئی شخص مسلمان ہو اور ریا کاری سے کوئی ایسا کام کرے جو فی نفسہ نیک ہو، خواہ مالی عبادت ہو یا جانی عبادت، ریا کاری کی وجہ سے وہ بھی ثواب سے محروم رہے گا بلکہ ریا کاری اس کے لیے و بال ہوگی اور آخرت میں مستحق عذاب ہوگا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سب سے پہلے جن لوگوں کے بارے میں سزا کا فیصلہ ہوگا ان میں ایک شخص وہ ہوگا جو بظاہر شہید ہوگیا تھا لیکن اس کی نیت یہ تھی کہ بہادری میں اس کا نام ہو، اور ایک وہ شخص ہوگا جس نے علم پڑھا اور پڑھایا اور قرآن شریف پڑھا۔ علم حاصل کرنے سے اس کی نیت یہ تھی کہ اس کو عالم کہا جائے اور قرآن پڑھنے سے اس کی نیت یہ تھی کہ اس کو قاری کہا جائے۔ اور ایک وہ شخص ہوگا جسے اللہ تعالیٰ نے ہر طرح کا مال دیا تھا وہ اللہ پاک کے حضور میں کہے گا کہ جو بھی کوئی خرچ کرنے کی سبیل مجھے ملی جس میں خرچ کرنا آپ کے نزدیک مجبوب تھا اس میں میں نے آپ کے لیے خرچ کیا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا کہ تو جھوٹ کہتا ہے تو نے یہ اس لیے کیا کہ تجھے سخی کہا جائے۔ تینوں آدمیوں سے اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ تمہاری جو خواہش تھی وہ پوری ہوچکی اور جو تم چاہتے تھے وہ کہا جا چکا لہٰذا ان تینوں کو منہ کے بل گھسیٹ کر دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ جن کے ذریعہ سب سے پہلے دوزخ کو دھکا یا جائے گا یہ تین آدمی ہوں گے۔ (الترغیب و الترہیب ص 62 ج 1) حضرت شداد بن اوس ؓ نے بیان کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ جس نے ریا کاری کرتے ہوئے نماز پڑھی اس نے شرک کیا، اور جس نے روزہ رکھ کر ریا کاری کی اس نے شرک کیا اور جس نے صدقہ دے کر ریا کاری کی اس نے شرک کیا۔ (مشکوٰۃ ص 455 ج 3)
Ayah 2:265

وَمَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ وَتَثْبِیْتًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍ بِرَبْوَةٍ اَصَابَهَا وَابِلٌ فَاٰتَتْ اُكُلَهَا ضِعْفَیْنِ ۚ— فَاِنْ لَّمْ یُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ ؕ— وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ ۟وَمَثَلُ الَّذِيۡنَ يُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَهُمُ ابۡتِغَآءَ مَرۡضَاتِ اللّٰهِ وَ تَثۡبِيۡتًا مِّنۡ اَنۡفُسِهِمۡ كَمَثَلِ جَنَّةٍۢ بِرَبۡوَةٍ اَصَابَهَا وَابِلٌ فَاٰتَتۡ اُكُلَهَا ضِعۡفَيۡنِ‌ۚ فَاِنۡ لَّمۡ يُصِبۡهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ‌ؕ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ Open ayah 2:265 in the Quran reader

اور مثال ان لوگوں کی جو خرچ کرتے ہیں اپنے مالوں کو اللہ کی رضا جوئی کے لیے اور نفسوں کو پختہ کرنے کے لیے ایسی مثال ہے جیسے ایک باغ ہو کسی ٹیلہ پر جس کو پہنچ جائے زور دار بارش پھر وہ دوگنا پھل لایا ہو، پس اگر زور دار بارش نہ پہنچی تو ہلکی بوندا باندی بھی اسے کافی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں کو دیکھتا ہے۔

اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرنیوالوں کی مثال اس آیت شریفہ میں مؤمنین صالحین مخلصین کے مال خرچ کرنے کی ایک مثال بتائی ہے اور اس مثال میں ان کے ثواب کی کثرت اور عنداللہ مقبولیت ظاہر فرمائی ہے، ارشاد فرمایا کہ جو لوگ اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے اپنے مالوں کو خرچ کرتے ہیں اور اس خرچ کرنے میں ان کی یہ بھی نیت ہے کہ ان کے نفس اس نیکی کرنے میں پختہ ہوجائیں تاکہ نفس خرچ کرنے کے خوگر رہیں اور کنجوسی کو پاس نہ آنے دیں تو ایسے لوگوں کے خرچ کرنے کی ثواب کے اعتبار سے ایسی مثال ہے جیسے کسی ٹیلے پر ایک باغیچہ ہو (ٹیلوں کی آب و ہوا باغوں کے لیے نہایت مناسب ہوتی ہے) پھر اوپر سے زور داربارش بھی ہوجائے تو زمین کو اور زیادہ قوت و طاقت پہنچ جائے جس کی وجہ سے دو گنے پھل آجائیں چونکہ یہ باغیچہ اونچے ٹیلہ پر ہے اس لیے زور دار بارش نہ ہو تو تھوڑا بہت چھینٹا بھی اس کے لیے کافی ہوجاتا ہے جس طرح اس باغیچہ میں پھل خوب کثیر مقدار میں آئیں گے اہل ایمان اخلاص کے ساتھ اللہ کی رضا کے لیے جو مال خرچ کریں گے اسی طرح ان کے خرچ کرنے کا ثواب بھی بہت زیادہ ملے گا۔ آخر میں فرمایا (وَ اللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ) یعنی جو بھی کوئی کسی طرح کا عمل کرتا ہے اچھا ہو یا برا، اللہ تعالیٰ سب کو دیکھتا ہے ہر عمل کا بدلہ اللہ کے یہاں سے ملے گا۔ ریا کار کو بھی اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور مخلص کو بھی، اپنے عمل کی ہر ایک کو نگرانی کرنا لازم ہے کہ اخلاص ہے یا نہیں صاحب بیان القرآن لکھتے ہیں کہ اس تشبیہ میں جو دو (2) طرح کی بارش فرض کی گئی ہے اس سے مقصود تفاوت مراتب اخلاص کا بیان کرنا ہے کہ چونکہ انفاق ایمان کے ساتھ مقرون ہے مَنّ و أذیٰ ورِیَا اس میں مفقود ہے اخلاص اس میں موجود ہے تو ضروری ہے مقبول ہو کر موجب تضاعف اجر وثواب ہوجاتا ہے۔ خواہ اخلاص اعلی درجہ کا ہو یا اوسط یا ادنی کا ہو، نفس قبول و تضاعف کے لیے ہر حال میں کافی ہے گوتفاوت مراتب اخلاص سے مراتب قبول و تضاعف میں بھی تفاوت ہوجائے گا۔
Ayah 2:266

اَیَوَدُّ اَحَدُكُمْ اَنْ تَكُوْنَ لَهٗ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّاَعْنَابٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ ۙ— لَهٗ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ ۙ— وَاَصَابَهُ الْكِبَرُ وَلَهٗ ذُرِّیَّةٌ ضُعَفَآءُ ۪ۖ— فَاَصَابَهَاۤ اِعْصَارٌ فِیْهِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ ؕ— كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَ ۟۠اَيَوَدُّ اَحَدُكُمۡ اَنۡ تَكُوۡنَ لَهٗ جَنَّةٌ مِّنۡ نَّخِيۡلٍ وَّاَعۡنَابٍ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُۙ لَهٗ فِيۡهَا مِنۡ كُلِّ الثَّمَرٰتِۙ وَاَصَابَهُ الۡكِبَرُ وَلَهٗ ذُرِّيَّةٌ ضُعَفَآءُ ۖۚ فَاَصَابَهَاۤ اِعۡصَارٌ فِيۡهِ نَارٌ فَاحۡتَرَقَتۡ‌ؕ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَـكُمُ الۡاٰيٰتِ لَعَلَّكُمۡ تَتَفَكَّرُوۡنَ Open ayah 2:266 in the Quran reader

کیا تم میں سے کسی کو یہ بات پسند ہے کہ اس کا ایک باغ ہو کھجوروں اور انگوروں کا اس کے نیچے جاری ہوں نہریں اس میں اس کے لیے ہر طرح کے پھل ہوں اور اس کو بڑھاپا آجائے اور اس کی ضعیف آل و اولاد ہو پھر پہنچ گئی اس کو سخت تیز آندھی جس میں آگ ہو، سو وہ باغ جل جائے، ایسے ہی اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے تمہارے لیے آیات تاکہ تم فکر کرو

عبادات اور طاعات کو باطل کردینے والوں کی مثال اس آیت شریفہ میں ان لوگوں کے بارے میں ایک مثال بیان فرمائی ہے۔ جو اعمال صالحہ انجام دیتے ہیں لیکن ان کو ریا کاری یا مَنّ و اذیٰ کی وجہ سے یا کسی ایسے عمل کے کرنے سے جو حبط اعمال کا سبب ہو برباد کردیتے ہیں، ارشاد فرمایا کہ کسی شخص کا باغ ہو جس میں کھجوروں اور انگوروں کے درخت ہوں اور ان کے علاوہ بھی ہر قسم کے پھل ہوں اس کے درختوں کے نیچے نہریں جاری ہوں وہ خود بوڑھا ہوگیا ہو اور اس کے اہل و اولاد ضعیف ہوں۔ خود بھی کچھ نہیں کرسکتا اور اولاد بھی کسی قابل نہیں، گزارہ کا راستہ صرف یہی باغ ہے اپنا خرچ بھی اسی سے ہے اور بال بچوں کا سہارا بھی یہی باغ ہے۔ ایسی حالت میں ایک تیز آندھی آئی اس آندھی میں آگ تھی اس آگ نے سارے باغ کو جلا کر خاکستر کردیا، عین حاجت کے وقت جبکہ اس باغ کی بہت زیادہ ضرورت تھی کچھ بھی نہ بچا سارا ہی جل کر راکھ ہوگیا، اس مثال کو سامنے رکھ کر سمجھ لیں کہ جو اعمال صالحہ انجام دئیے جاتے ہیں ان کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ آخرت میں ان کا ثواب ملے۔ وہاں حاجتیں پوری ہوں اور عذاب سے حفاظت ہو لیکن اخلاص نہ ہونے کے باعث جب بہت بڑی اور سب سے بڑی حاجت کا وقت آیا تو جو اعمال کیے تھے انہوں نے کچھ بھی کام نہ دیا کیونکہ اللہ کی رضا کے لیے نہیں بلکہ بندوں کو دکھانے کے لیے اعمال کیے تھے جو بظاہر نیک تھے لیکن ریا کاری نے ان کی نیکی ختم کردی تھی نماز پڑھی دکھاوے کے لیے، حج کیا نام و نمود کے لیے، صدقہ دیا شہرت کے لیے جہاد کیا بہادری ظاہر کرنے کے لیے، صدقہ دیا شہرت کے لیے اور شہرت کے خیال سے نہ تھا تو جن کو دیا تھا ان پر احسان دھر کر اور تکلیف پہنچا کر اکارت کردیا آخرت میں پیشی ہے اعمال صالحہ کی ضرورت ہے اور اعمال کا ثواب مل نہیں رہا ایسے وقت میں جو بد حالی ہوگی اس کا کچھ اندازہ مذکورہ بالا باغ والے آدمی کی حیرت اور پریشانی سے کرلیا جائے۔ اللہ تعالیٰ فکر مند بنانے کے لیے طرح طرح کی مثالیں بیان فرماتے ہیں۔
Ayah 2:267

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّاۤ اَخْرَجْنَا لَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ ۪— وَلَا تَیَمَّمُوا الْخَبِیْثَ مِنْهُ تُنْفِقُوْنَ وَلَسْتُمْ بِاٰخِذِیْهِ اِلَّاۤ اَنْ تُغْمِضُوْا فِیْهِ ؕ— وَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ ۟يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡفِقُوۡا مِنۡ طَيِّبٰتِ مَا كَسَبۡتُمۡ وَمِمَّاۤ اَخۡرَجۡنَا لَـكُمۡ مِّنَ الۡاَرۡضِ ۖ وَلَا تَيَمَّمُوا الۡخَبِيۡثَ مِنۡهُ تُنۡفِقُوۡنَ وَلَسۡتُمۡ بِاٰخِذِيۡهِ اِلَّاۤ اَنۡ تُغۡمِضُوۡا فِيۡهِ‌ؕ وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ غَنِىٌّ حَمِيۡدٌ Open ayah 2:267 in the Quran reader

اے ایمان والو ! خرچ کرو اپنی کمائی میں سے پاکیزہ چیزوں کو، اور اس میں سے جو ہم نے نکالا تمہارے لیے زمین میں سے، اور مت ارادہ کرو ردی چیزوں کا کہ اس میں سے خرچ کرو، اور تم خود اس کے لینے والے نہیں ہو مگر اس صورت میں کہ چشم پوشی کر جاؤ، اور جان لو کہ بلاشبہ اللہ غنی ہے اور حمید ہے۔

اللہ کی رضا کے لیے عمدہ مال خرچ کرنے کا حکم گزشتہ آیات میں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کا ثواب ذکر فرمایا ہے اور خرچ کرنے کے آداب بتائے ہیں اس آیت میں اپنے کمائے ہوئے مالوں میں سے طیب عمدہ حلال اور اچھی چیزیں خرچ کرنے کا حکم فرمایا، حرام کمانا تو حرام ہے جو حلال مال ہے اس میں سے بھی عمدہ چیز کو اللہ کی راہ میں دینا چاہئے۔ اسباب النزول صفحہ 82 میں اس آیت کا سبب نزول بتاتے ہوئے حضرت براء بن عازب ؓ سے نقل کیا ہے کہ یہ آیت انصار کے بارے میں نازل ہوئی، جب فصل پر کھجوروں کے پھل کاٹتے تھے تو کھجوروں کے خوشے رسول اللہ ﷺ کی مسجد میں ستونوں کے درمیان بندھی ہوئی رسی پر لا کر ٹانگ دیتے تھے جس میں سے فقراء مہاجرین کھالیتے تھے ان میں سوکھے ہوئے خوشے بھی ہوتے تھے ان کے بارے میں ارشاد فرمایا : (وَلَا تَیَمَّمُوا الْخَبِیْثَ مِنْہُ تُنْفِقُوْنَ ) (کہ تم ردی چیز کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا ارادہ نہ کرو۔ ) لباب النقول میں بحوالہ حاکم حضرت جابر ؓ سے نقل کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے صدقۃ الفطر ادا فرمانے کا حکم فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ کھجور کا ایک صاع صدقہ میں دیا جائے اس پر ایک شخص رد ی کھجوریں لے آیا لہٰذا آیت کریمہ (یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْفِقُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا کَسَبْتُمْ ) نازل ہوئی۔ یہ جو فرمایا (وَ لَسْتُمْ بِاٰخِذِیْہِ اِلَّآ اَنْ تُغْمِضُوْا فِیْہِ ) اس میں تنبیہ فرمائی کہ تم اللہ کی راہ میں گھٹیا مال خرچ کرنے کو تیار ہو لیکن ویسا ہی گھٹیا مال تمہیں کوئی دے تو تم خود اسے لینے کو تیار نہ ہو گے۔ تمہارا کسی پر قرضہ ہے قرضہ کی ادائیگی کے سلسلہ میں تمہیں کوئی خراب کھجوریں یا دوسرا کوئی گھٹیا مال دینے لگے تو تم اسے قبول نہ کرو گے ہاں یہ اور بات ہے کہ موقع دیکھ کر آنکھیں میچ لو اور یہ سمجھ کر رکھ لو کہ اس آدمی سے عمدہ مال کبھی بھی نہیں ملے گا چلو جو ہاتھ آتا ہے یہ ہی سہی، یہ مسامحت والی بات دوسری ہے رضا اور رغبت اور دل کی خوشی کے ساتھ تم ردی چیز قبول نہیں کرسکتے۔ عمومی طور پر مال طیب اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ : (وَ مِمَّآ اَخْرَجْنَا لَکُمْ مِّنَ الْاَرْضِ ) (کہ ہم نے زمین سے جو کچھ تمہارے لیے نکالا ہے اس میں سے خرچ کرو۔ حضرات فقہاء کرام نے اس سے یہ ثابت کیا ہے کہ زمین کی پیداوار پر بھی زکوٰۃ ہے اور احادیث شریفہ میں بھی پیداوار کی زکوٰۃ ثابت ہے۔ فقہاء کی اصطلاح میں اس کو عشر کہا جاتا ہے۔ حضرت امام ابوحنیفہ (رح) نے آیت کے عموم سے استدلال کیا ہے کہ زمین سے جو بھی کچھ پیدا ہو (غلہ ہو یا سبزیاں، ترکاریاں ہوں یا پھل) سب کی زکوٰۃ نکالنا فرض ہے۔ البتہ گھاس اور لکڑی ان کے نزدیک اس سے مستثنیٰ ہے۔ پیداوار کی زکوٰۃ کا اصول یہ ہے کہ جو زمین ایسے پانی سے سیراب کی جائے جس کی قیمت ادا کرنی نہ پڑے مثلاً بارش کے پانی سے سیراب کی جائے یا ندی یا دریا کے کنارے پر ترائی میں کوئی چیز پانی دئیے بغیر بو نے سے پیدا ہوجائے تو اس کی کل پیداوار سے دسواں حصہ مستحقین زکوٰۃ کو دینا فرض ہے اور یہ بھی زکوٰۃ ہی ہے مثلاً دس کیلو پیداوار میں سے ایک کیلو دیدے اور اسی طرح باغ میں جو پھل پیدا ہوں ان کا بھی دسواں حصہ زکوٰۃ میں ادا کرے۔ اور اگر پانی کی قیمت دے کر زمین کو سیراب کیا گیا ہے تو ایسی زمین کی پیداوار پر نصف العشر یعنی دسویں کا آدھا زکوٰۃ میں دینا فرض ہوتا ہے جس کو بیسواں حصہ کہا جاتا ہے یعنی دس کیلو پیداوار میں سے آدھا کیلو زکوٰۃ میں دیدے۔ مسئلہ : یہ دسواں یا بیسواں حصہ جو زکوٰۃ میں ادا کرنا فرض ہے۔ اس میں کوئی نصاب نہیں ہے یعنی جس قدر بھی پیداوار ہو اس کا دسواں یا بیسواں حسب تفصیل بالا ادا کرے۔ مسئلہ : کھیتی پر جو مال خرچ ہوا مثلاً بیج ڈالا، مزدوروں سے زمین کھود وائی بیل خریدے، ٹریکٹر چلوایا، کام کرنے والوں کو مزدوری دی، یہ سب اخراجات منہا نہیں ہوں گے جو کچھ بھی پیداوار ہو اس کی زکوٰۃ کا دسواں (10) یا بیسواں (20) حصہ (حسب تفصیل بالا) زکوٰۃ میں ادا کرنا لازم ہے۔ فائدہ : زمینوں کے عشری اور خراجی ہونے میں کچھ تفصیل ہے۔ مختصراً اتنا سمجھ لیا جائے کہ جو کوئی علاقہ کافروں کے قبضہ میں تھا پھر مسلمانوں نے حملہ کرکے وہ علاقہ ان سے چھین لیا اور امیر المومنین نے اس علاقہ کی زمین مسلمانوں میں تقسیم کردی تو یہ زمین عشری ہے اسی طرح سے اگر کسی شہر کے رہنے والے مسلمان ہوجائیں تو ان کی زمین بھی عشری ہوجائے گی۔ آیت کے ختم پر فرمایا : (وَ اعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ) کہ (اللہ تعالیٰ غنی ہے مستحق حمد ہے) اسے تمہارے صدقات کی حاجت نہیں جو کچھ خرچ کرتے ہو آپس میں خود ہی منتفع ہوتے ہو اس نے جو کچھ عطا فرمایا ہے اس کے عطاء فرمانے پر وہ مستحق حمد ہے۔ مستحق شکر ہے۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ حمید بمعنی حامد بھی ہوسکتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ جل شانہ عمدہ چیز قبول فرماتا ہے یعنی خرچ کرنے والے کو ثواب دیتا ہے اور یہ قبول کرنا اور ثواب دینا اس کی طرف سے بندوں کی تعریف ہے۔
Ayahs 2:268–269

اَلشَّیْطٰنُ یَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَیَاْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَآءِ ۚ— وَاللّٰهُ یَعِدُكُمْ مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَفَضْلًا ؕ— وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ ۟ۖۙاَلشَّيۡطٰنُ يَعِدُكُمُ الۡـفَقۡرَ وَيَاۡمُرُكُمۡ بِالۡفَحۡشَآءِ‌ ۚ وَاللّٰهُ يَعِدُكُمۡ مَّغۡفِرَةً مِّنۡهُ وَفَضۡلًا ؕ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيۡمٌۚ Open ayah 2:268 in the Quran reader

شیطان تم کو ڈراتا ہے تنگدستی سے، اور حکم دیتا ہے تمہیں فحش کاموں کا اور اللہ وعدہ فرماتا ہے تم سے اپنی طرف سے مغفرت کا اور فضل کا، اور اللہ وسعت والا ہے۔

یُّؤْتِی الْحِكْمَةَ مَنْ یَّشَآءُ ۚ— وَمَنْ یُّؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا كَثِیْرًا ؕ— وَمَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ ۟يُؤۡتِى الۡحِكۡمَةَ مَنۡ يَّشَآءُ‌‌ ۚ وَمَنۡ يُّؤۡتَ الۡحِكۡمَةَ فَقَدۡ اُوۡتِىَ خَيۡرًا كَثِيۡرًا‌ ؕ وَمَا يَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ Open ayah 2:269 in the Quran reader

خوب جاننے والا ہے، وہ حکمت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے، اور جس کو حکمت دی گئی، اسے خوب زیادہ خیر عطاء کی گئی، اور وہ ہی لوگ نصیحت قبول کرتے ہیں جو عقل والے ہیں۔

شیطان تنگدستی سے ڈراتا ہے اور اللہ تعالیٰ مغفرت اور فضل کا وعدہ فرماتا ہے اس آیت شریفہ میں ہدایت فرمائی ہے کہ شیطان کے بہکانے اور ڈرانے میں نہ آئیں جب تم اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا ارادہ کرو گے تو شیطان تمہارے دل میں وسوسے ڈالے گا۔ اور یوں کہے گا کہ صدقہ دو گے تو مال کم ہوجائے گا۔ تنگدستی آجائے گی اپنی کل کی ضرورت کے لیے مال بچا کر رکھو، بچوں کے کام آئے گا، اگر خرچ کرنے ہی لگو گے تو پھر وہ گھٹیا مال خرچ کرنے کی ترغیب دے گا وہ تنگدستی سے ڈراتا ہے۔ بخل پر ابھارتا ہے اور اس کے علاوہ بےحیائی کے کاموں کا بھی حکم کرتا ہے وہ گناہوں کی ترغیب دیتا ہے، تم اس کے کہنے میں نہ آؤ، اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر یقین رکھو، اس نے تم سے جو مغفرت اور فضل کا وعدہ فرمایا ہے اس کے امید اوار رہو اور یقین جانو کہ وہ اپنے سب وعدے پورے فرمائے گا، اپنے خالق ومالک کے وعدوں کو بھول جانا اور دشمن شیطان کی باتوں میں آجانا سمجھ داری کی بات نہیں ہے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ تھوڑا سا دو گے تو بہت ملے گا آخرت میں تو اجر وثواب ہے ہی دنیا میں بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے بڑے بڑے منافع ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تین چیزیں ایسی ہیں جن پر میں قسم کھاتا ہوں ایک تو یہ ہے کہ صدقہ کرنے سے کسی بندہ کا مال کم نہ ہوگا۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ جس کسی بندہ پر بھی ظلم کیا جائے وہ اس پر صبر کرلے گا تو اللہ اس کی وجہ سے اس کو ضرور عزت عطا فرمائے گا اور تیسری بات یہ ہے کہ جو بھی شخص بندوں سے مانگنے کا دروازہ کھولے گا تو اس کے لیے ضرور تنگدستی کا دروازہ کھل جائے گا۔ (رواہ الترمذی کمافی المشکوٰۃ ص 451 ج 1) زکوٰۃ اور صدقات سے مال گھٹتا نہیں ہے بڑھتا ہی ہے اور اس سے مال کی حفاظت بھی ہوتی ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ اپنے مالوں کو زکوٰۃ ادا کرکے ضائع ہونے سے محفوظ کرو اور اپنے مریضوں کے علاج کے لیے صدقہ دیا کرو (کیونکہ یہ بہت بڑا علاج ہے) اور مصیبت کی موجوں کا مقابلہ دعاء سے اور تضرع وزاری سے کرو۔ (رواہ ابو داؤد فی المراسیل) حضرت ابوہریرہ ؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اے ابن آدم تو (مخلوق پر) خرچ کر میں تجھ پر خرچ کروں گا۔ (صحیح بخاری) حضرت اسماء ؓ سے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم خرچ کرتی رہو اور گن کر مت رکھو ورنہ اللہ تعالیٰ بھی گن کر دے گا اور بند کرکے نہ رکھو ورنہ اللہ تعالیٰ بھی اپنی داد و دہش بند فرما دے گا جو بھی تھوڑا بہت ہو خرچ کرتی رہو۔ (صحیح بخاری ص 193 ج 1) شیطان چاہتا ہے کہ اللہ کے بندے اللہ کی راہ میں خرچ نہ کریں نفس بھی ہچکچاتا ہے کہ خرچ ہوجائے گا تو آگے کیا ہوگا، کہاں سے آئے گا اور ایسے ہی وقت میں صدقہ کرنے کی زیادہ فضیلت ہے جبکہ نفس کنجوسی کی طرف جاتا ہو۔ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ کونسا صدقہ ثواب سے اعتبار سے زیادہ بڑا ہے۔ آپ نے فرمایا ایسا صدقہ کہ صدقہ کرتے وقت تندرست ہو۔ (مرض الموت میں نہ ہو) خرچ کرنے کو دل نہ چاہتا ہو۔ تنگدستی سے ڈرتا ہو اور پیسہ پاس رکھنے کی آرزو رکھتا ہو یہ صدقہ ثواب کے اعتبار سے سب سے بڑا ہے اور خرچ کرنے میں تو دیر نہ لگا یہاں تک کہ جب موت آجائے اور جان حلق کو پہنچ جائے تو کہنے لگے کہ فلاں کو اتنا اور فلاں کو اتنا (اب فلاں کو کیا دلوا رہا ہے) اب تو دوسروں کا ہو ہی چکا۔ (صحیح بخاری ص 191 ج 1) حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردی تو اس کی وجہ سے مال کا شر چلا گیا (یعنی مال کی وجہ سے جس کسی شرکا اندیشہ تھا اس سے حفاظت ہوگئی) ۔ (الترغیب و الترہیب ص 519 ج 1) شیطان انسان کا بہت بڑا دشمن ہے یہی نہیں کہ صرف اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے روکتا ہے بلکہ طرح طرح کی مشکلات سامنے لا کر پریشان کرتا ہے اور ڈراتا ہے اور حق کو جھٹلاتا ہے اور بندوں کے ایمان کو متزلزل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بنی آدم کے دل پر شیطان کی پہنچ بھی ہوتی ہے اور فرشتے کا نزول بھی ہوتا ہے۔ شیطان (تنگدستی وغیرہ سامنے لا کر) ڈراتا ہے اور حق کو جھٹلاتا ہے۔ اور فرشتہ خیر کے واقع ہونے کی امیدیں دلاتا ہے اور حق کی تصدیق کرتا ہے۔ سو تم میں سے جو شخص بھی اسے محسوس کرے تو جان لے کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے لہٰذا اللہ کی حمد کرے اور جو شخص دوسری بات (یعنی شیطان کی سمجھائی ہوئی چیز) محسوس کرے وہ شیطان سے محفوظ رہنے کے لیے اللہ کی پناہ مانگے۔ یہ بات فرماکر آنحضرت سرور عالم ﷺ نے یہ ہی آیت (اَلشَّیْطٰنُ یَعِدُکُمُ الْفَقْرَ وَ یَاْمُرُکُمْ بالْفَحْشَآءِ ) تلاوت فرمائی۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 18 ج 1) آیت کے ختم پر فرمایا : ( وَ اللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ) کہ اللہ تعالیٰ وسیع رحمت وسیع فضل، وسیع علم والا ہے۔ سب کے صدقات کو اور نیتوں کو جانتا ہے۔ وہ خوب زیادہ دے گا پھر فرمایا (یُّؤْتِی الْحِکْمَۃَ مَنْ یَّشَآءُ ) کہ اللہ تعالیٰ حکمت عطا فرماتا ہے جس کو چاہے، لفظ حکمت مضبوط چیز کے معنی میں آتا ہے، علم عمل قول جس میں بھی اتقان ہو وہ سب حکمت ہے یہ لفظ قرآن مجید میں بہت سی جگہ وارد ہوا ہے۔ روح المعانی ص 41 جَ 3 میں تفسیر البحر المحیط سے نقل کیا ہے کہ اس میں حضرات علماء کرام کے انتیس (29) اقوال ہیں اور تقریباً سب کا مرجع ایک ہی ہے، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اس سے فقہ فی القرآن مراد ہے، حضرت قتادہ وغیرہ سے بھی یہی تفسیر منقول ہے، حضرت ابو الدرداء ؓ نے فرمایا کہ قرآن کو پڑھنا اور اس میں فکر کرنا یہ حکمت ہے، انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ حکمت سے وہ علم مراد ہے جس کا نفع بہت بڑا ہو اور فائدہ خوب زیادہ ہو، حضرت عطاء نے فرمایا کہ اللہ کی معرفت کا نام حکمت ہے۔ حضرت ابو عثمان نے فرمایا کہ حکمت ایک نور ہے جس کے ذریعہ وساوس اور الہام صحیح میں فرق ہوتا ہے، جو بھی معنی لیا جائے ہر ایک مناسب معلوم ہوتا ہے، بلکہ سب کا مرجع تقریباً ایک ہی ہے، علم محکم اور علم نافع اور عمل صحیح اور قول صحیح اجمالی طور پر یہ معنی مراد لے لیے جائیں تو آیت کا مفہوم واضح ہوجا تا ہے، اول تو یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہے حکمت عطا فرمائے۔ پھر فرمایا کہ جسے حکمت عطا کی گئی اسے بہت زیادہ خیر عطا کردی گئی، کیونکہ حکمت اس کے لیے دنیا و آخرت کی خیر حاصل ہونے کا ذریعہ بنے گی جس کے اقوال و اعمال ٹھیک ہوں علم محکم کے مطابق ہوں۔ صحیح بخاری ص 17 ج 1 میں حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ رشک کے قابل صرف دو ہی آدمی ہیں ایک وہ جسے اللہ نے مال دیا پھر اسے حق کے کاموں میں خوب زیادہ خرچ کرنے پر مسلط فرمایا دیا، اور دوسرا وہ شخص جسے اللہ نے حکمت دی اور وہ اس کے ذریعہ فیصلے کرتا ہے اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ آیت کے ختم پر فرمایا : (وَ مَا یَذَّکَّرُ اِلَّآ اُولُوا الْاَلْبَابِ ) کہ عقل والے ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں جو اوہام سے اور اتباع ھویٰ کی تاریکیوں سے دور ہیں۔ اللہ کی آیات میں غور و فکر کرتے ہیں، اور یہ غور و فکر ان کے لیے ذریعہ موعظت و نصیحت بنتا ہے۔ (وَ یَتَفَکَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ) (الآیۃ) ۔
Ayah 2:270

وَمَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ نَّفَقَةٍ اَوْ نَذَرْتُمْ مِّنْ نَّذْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُهٗ ؕ— وَمَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ ۟وَمَاۤ اَنۡفَقۡتُمۡ مِّنۡ نَّفَقَةٍ اَوۡ نَذَرۡتُمۡ مِّنۡ نَّذۡرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُهٗ ؕ وَمَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ اَنۡصَارٍ Open ayah 2:270 in the Quran reader

جو کچھ کسی قسم کا خرچ کرتے ہو یا کسی طرح کی نذر مانتے ہو سو بلاشبہ اللہ اس کو جانتا ہے اور ظلم کرنے والوں کے لیے کوئی بھی مددگار نہیں۔

جو کچھ خرچ کرو گے یا نذر مانو گے اللہ تعالیٰ کو اس کا علم ہے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی فضیلت اور ریا اور من و اذیٰ سے بچنے کی تاکید اور مال طیب خرچ کرنے کا حکم فرمانے اور شیطان کے وسوسوں پر عمل نہ کرنے اور خدائی وعدوں کے مطابق اعمال کے ثواب کی امید رکھنے کا حکم دینے کے بعد اب اجمالی طور پر یہ فرمایا ہے کہ تم جو بھی کوئی خرچہ کم یا زیادہ دکھا کر یا پوشیدہ طور پر خرچ کرو گے یا کوئی نذر مانو گے تو اللہ تعالیٰ کو اس کا علم ہے وہ نیت اور عمل سب کو جانتا ہے اسی کے مطابق وہ جزا دے گا۔ یہ ایک اعتبار سے گزشتہ مضامین کی تاکید ہے، نفقہ کے ساتھ نذر کا ذکر بھی فرمایا ہے کوئی شخص اگر نذر مان لے بشرطیکہ گناہ کی نذر نہ ہو تو وہ لازم ہوجاتی ہے نذر مطلق بھی ہوتی ہے اور معلق بھی، مطلق یہ کہ یوں زبان سے کہے کہ اللہ کے لیے ایک روزہ رکھوں گا یا دو (2) رکعت نماز پڑھوں گا یا نفلی صدقہ کروں گا اور نذر معلق یہ ہے کہ یوں کہے کہ میرا بیٹا اچھا ہوجائے تو اتنے نفل پڑھوں گا یا اتنے مسکینوں کو کھانا کھلاؤں گا یا سو (100) روپے صدقہ کرونگا۔ دونوں طرح کی نذر کرنے سے نذر کا پورا کرنا واجب ہوجاتا ہے۔ سورۂ حج میں ارشاد ہے : (وَ لْیُوْفُوْا نُذُوْرَھُمْ ) (کہ اپنی نذروں کو پورا کریں) ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عام طور سے لوگ چونکہ مرض یا خوف یا کسی مصیبت کے دور کرنے کے لیے نذر مانتے ہیں اور عموماً مال خرچ کرنے کی نذر ہوتی ہے اس لیے یہاں نفقہ کے ساتھ اس کا بھی ذکر فرما دیا ہے، نذر کوئی پسندیدہ چیز نہیں ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نذر ماننے سے منع فرمایا اور فرمایا کہ وہ کسی چیز کو دفع نہیں کرسکتی اور ہوتا یہ ہے کہ اس کے ذریعہ بخیل سے کوئی چیز نکال لی جاتی ہے۔ (رواہ البخاری ص 990 ج 2) نذر ماننا مناسب تو نہیں جیسا کہ حدیث سے معلوم ہوا لیکن اگر کوئی شخص نذر مان لے تو اسے پورا کرے۔ البتہ اگر گناہ کی نذر مانی ہو تو اس کو پورا نہ کرے لیکن اس کا کفارہ ادا کرے جو قسم کا کفارہ ہے وہ ہی نذر کی خلاف ورزی کا بھی کفارہ ہے قسم کا کفارہ سورة مائدہ میں ساتویں پارہ کے شروع میں مذکورہ ہے وہاں اس کی تفصیل دیکھ لی جائے۔ مسئلہ : کسی بھی گناہ کی نذر ماننا حرام ہے حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص اللہ کی اطاعت کی نذر مانے وہ اللہ کی اطاعت کرے اور جو شخص معصیت کی نذر مان لے وہ اللہ کی نافرمانی نہ کرے (رواہ البخاری ص 991 ج 2) یعنی گناہ کی نذر ماننے کی وجہ سے یہ نہ سمجھے کہ مجھے گناہ کرنا ہی ہے بلکہ اپنی نذر کی خلاف ورزی کرے اور کفارہ دیدے۔ (کما فی روایۃ ابی داود والترمذی و النسائی مشکوٰۃ المصابیح ص 298) وجوب نذر سے متعلق فقہاء نے چند مسائل لکھے ہیں ان کے لیے کتب فقہ کی مراجعت کی جائے۔ پھر فرمایا : (وَ مَا للظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ ) (کہ ظالموں کے لیے کوئی مددگار نہیں۔ ) ہر معصیت ظلم ہے۔ چھوٹے بڑے جتنے بھی گناہ ہیں اپنے اپنے درجہ کے اعتبار سے ظلم ہیں بہت سے گناہ ایسے ہیں جو دوسروں پر ظلم کرنے کا سبب بنتے ہیں لیکن ہر گناہ، گناہ کرنے والے کی جان پر تو بہر حال ظلم ہے ہی اور سب سے بڑا ظلم کفر و شرک ہے۔
Ayah 2:271

اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا هِیَ ۚ— وَاِنْ تُخْفُوْهَا وَتُؤْتُوْهَا الْفُقَرَآءَ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ ؕ— وَیُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِّنْ سَیِّاٰتِكُمْ ؕ— وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ ۟اِنۡ تُبۡدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا هِىَ‌ۚ وَاِنۡ تُخۡفُوۡهَا وَ تُؤۡتُوۡهَا الۡفُقَرَآءَ فَهُوَ خَيۡرٌ لَّكُمۡ‌ؕ وَيُكَفِّرُ عَنۡكُمۡ مِّنۡ سَيِّاٰتِكُمۡ‌ؕ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ Open ayah 2:271 in the Quran reader

اگر تم صدقات ظاہر کرکے دو تو یہ اچھی بات ہے، اور اگر تم ان کو چھپاؤ اور فقراء کو دو تو وہ زیادہ بہتر ہے تمہارے لیے، اور اللہ تمہارے گناہوں کا کفارہ فرما دے گا۔ اور اللہ کو تمہارے سب کاموں کی خبر ہے۔

صدقات کو ظاہر کر کے یا پوشیدہ طریقہ پر دینا اس آیت شریفہ میں صدقات دینے کے بارے میں ایک بہت اہم بات ذکر فرمائی ہے اور وہ صدقات ظاہر کرکے دینے اور چھپا کردینے کے متعلق ہے اول تو یہ سمجھنا چاہئے کہ ریا کاری جس کا نام ہے وہ خواہ مخواہ چپکتی نہیں پھرتی وہ تو نیت اور ارادہ کا نام ہے، جو کوئی شخص نماز پڑھے یا ذکر کرے یا زکوٰۃ دے یا صدقہ نافلہ دے اور اس کی نیت یہ ہو کہ لوگ مجھے نیک سمجھیں، میرا نام ہو، میری شہرت ہو تو یہ ریا کاری ہوگی اور گناہ ہوگا جس سے اعمال اکارت ہوجائیں گے، لیکن اگر کوئی شخص صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے جانی و مالی عبادت کرے چاہے لوگوں کے سامنے ہی ہو اور اس سے نام و نمود شہرت مقصود نہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں، بلکہ اگر یہ نیت ہو کہ لوگوں کے سامنے عمل کرنے سے دوسروں کو بھی ترغیب ہوگی تو اس نیت کا مستقل ثواب ملے گا، حضرت ابوہریرہ ؓ نے اپنا واقعہ بیان فرمایا کہ میں اپنے گھر کے اندر اپنی نماز کی جگہ نماز پڑھ رہا تھا کہ آدمی داخل ہوا اس نے مجھے دیکھ لیا اس کے آنے سے مجھے یہ بھلا معلوم ہوا کہ اس نے مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے میں نے رسول اللہ ﷺ سے واقعہ عرض کردیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اے ابوہریرہ تجھ پر اللہ کی رحمت ہو اس میں تیرے لیے دو اجر ہیں، پوشیدہ عمل کرنے کا اجر بھی اور ظاہراً عمل کرنے کا اجر بھی۔ (رواہ الترمذی) حضرت ابوہریرہ ؓ نے جو یہ بیان کیا کہ ” مجھے یہ بھلا معلوم ہوا کہ اس نے مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا “ اس کے بیان کرنے میں یا تو ان کا یہ مطلب تھا کہ میرے نفس میں ریا کاری کا وسوسہ آگیا کہ مجھے ایک آدمی نے تنہائی میں نماز پڑھتے دیکھ لیا یا یہ مطلب تھا کہ نفس کو اس بات کی خوشی ہوئی کہ یہ جو آدمی آیا ہے یہ میرا عمل دیکھ کر خود بھی عمل کرے گا۔ بہر حال جو بھی صورت ہو آنحضرت سرور عالم ﷺ نے ان کو دوہرے اجر کی خوشخبری دی۔ اس سے واضح طور پر معلوم ہوگیا کہ ریا لوگوں کے سامنے عمل کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ وہ تو اندر کے اس جذبہ کا نام ہے کہ لوگ میرے معتقد ہوں اور مجھے اچھا کہیں اور عبادت کی وجہ سے میری تعریف ہو۔ اس تمہید کے بعد آیت بالا کی تفسیر ذہن نشین کر لینی چاہئے، اللہ جل شانہ نے فرمایا کہ اگر تم صدقات ظاہر کر کے دے دو تو یہ بھی اچھی بات ہے، جب نیت خالص ہے اور اللہ کی رضا مقصود ہے تو یہ ادائیگی ریا کاری نہ رہی اور اس میں اس فائدہ کی امید ہے کہ دوسروں کو بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی ترغیب ہوگی پھر فرمایا اور اگر تم صدقات کو چھپا کردو تو تو یہ تمہارے لیے ظاہر کرکے دینے سے زیادہ بہتر ہے۔ ظاہر کر کے دینے کو اچھی بات بتایا اور چھپا کردینے کو زیادہ بہتر بتایا، کیونکہ چھپا کردینے میں احتمال ریا کا ختم ہوجاتا ہے اور نفس کے پھولنے کا احتمال باقی نہیں رہتا۔ اور اس میں ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ جس کو صدقہ دیا جائے وہ تنہائی میں لینے سے شرماتا نہیں اور اپنی خفت بھی محسوس نہیں کرتا۔ الفاظ آیت کے عموم سے معلوم ہو رہا ہے کہ چھپا کردینا ہی زیادہ بہتر ہے۔ بعض حالات کے اعتبار سے لوگوں کے سامنے خرچ کرنا زیادہ باعث فضیلت ہوجائے وہ دوسری بات ہے مثلاً کسی جگہ فی سبیل اللہ خرچ کرنے کا رواج نہیں ہے لوگ زکوٰۃ نہیں دیتے ہیں فریضہ زکوٰۃ زندہ کرنے اور اس کا رواج ڈالنے کے لیے لوگوں کے سامنے دے یا کوئی ایسا شخص ہو جس کی اقتداء میں لوگوں کو خرچ کرنے کی طرف توجہ ہوگی تو ایسی صورت میں لوگوں کے سامنے دینے اور خرچ کرنے میں چھپا کردینے سے زیادہ ثواب ہوسکتا ہے اصل چیز اخلاص نیت ہے اور نفس پر قابو پانا چونکہ ہر شخص کے بس کا نہیں ہے اس لیے چھپا کر خرچ کرنے کو زیادہ بہتر اور افضل بتایا ہے، بہت سے لوگ دیتے تو تنہائی میں ہیں لیکن اخبارات کے ذریعے شہرت حاصل کرتے ہیں اور مساجد و مدارس کی روئیدا دوں میں اپنا نام لانے کی کوشش کرتے ہیں اور بڑے بڑے القاب و آداب کے ساتھ اپنا نام چھپنے کے انتظار میں رہتے ہیں۔ تنہائی میں دینے کا کیا فائدہ ہوا ؟ جبکہ دل میں ریا کاری کی موجیں اٹھ رہی ہیں۔ عمل ظاہر میں کرے یا پوشیدہ کرے صرف اللہ کی رضا مقصود ہو اور عمل کی جو خوبی ظاہر میں ہو وہی پوشیدہ حالت میں ہو تو یہ دلیل اخلاص ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بندہ جب لوگوں کے سامنے نماز پڑھتا ہے اور اچھی طرح نماز پڑھتا ہے اور پوشیدہ طور پر نماز پڑھتا ہے تب اچھی نماز پڑھتا ہے تو اللہ جل شانہ فرماتے ہیں کہ واقعی یہ میرا بندہ ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 455) صاحب روح المعانی (ص 44 ج 3) لکھتے ہیں کہ چھپا کر صدقہ کرنے کے بارے میں کثیر تعداد میں احادیث و آثار و ارد ہوئے ہیں پھر مسند احمد سے نقل کیا ہے کہ حضرت ابوذر ؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ کون سا صدقہ افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ جو صدقہ کسی فقیر کو چپکے سے دے دیا جائے یا ایسا شخص صدقہ کر دے جو تنگدست ہوتے ہوئے محنت اور کوشش کر کے مال حاصل کرے اور صدقہ دے دے اس کے بعد آپ نے آیت بالا تلاوت فرمائی۔ صحیح بخاری ص 91 ج 1 میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے حدیث نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سات افراد ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو اس دن اپنے سایہ میں جگہ دے گا جس دن اس کے سایہ کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا، ان سات آدمیوں میں ایک وہ شخص ہے جس نے دائیں ہاتھ سے اس طرح چھپا کر صدقہ دیا کہ اس سے بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہوئی۔
Ayah 2:272

لَیْسَ عَلَیْكَ هُدٰىهُمْ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ ؕ— وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلِاَنْفُسِكُمْ ؕ— وَمَا تُنْفِقُوْنَ اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ اللّٰهِ ؕ— وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ یُّوَفَّ اِلَیْكُمْ وَاَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ ۟لَيۡسَ عَلَيۡكَ هُدٰٮهُمۡ وَلٰـكِنَّ اللّٰهَ يَهۡدِىۡ مَنۡ يَّشَآءُ‌ ؕ وَمَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ خَيۡرٍ فَلِاَنۡفُسِكُمۡ‌ؕ وَمَا تُنۡفِقُوۡنَ اِلَّا ابۡتِغَآءَ وَجۡهِ اللّٰهِ‌ؕ وَمَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ خَيۡرٍ يُّوَفَّ اِلَيۡكُمۡ وَاَنۡـتُمۡ لَا تُظۡلَمُوۡنَ Open ayah 2:272 in the Quran reader

آپ کے ذمہ نہیں ہے ان کی ہدایت، لیکن اللہ ہدایت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور جو کچھ بھی اچھا مال تم خرچ کرتے ہو تو وہ تمہاری جانوں کے لیے ہے، اور تم نہیں خرچ کرتے ہو مگر اللہ کی رضا کے لیے، اور جو کچھ بھی خرچ کرو گے اچھا مال وہ پورا پورا تمہیں دے دیا جائے گا اور تم پر ظلم نہ کیا جائے گا۔

جو کچھ بھی اچھا مال خرچ کرو گے اس کا بدلہ تمہیں مل جائے گا رسول اللہ ﷺ بہت محنت و کوشش فرماتے تھے اور اہل کفر کو حق کی دعوت دیتے تھے۔ وہ لوگ جب قبول نہیں کرتے تھے تو آپ ﷺ کو طبعی طور پر رنج ہوتا تھا، آپ ﷺ کی تسلی کے لیے آیات نازل ہوتی تھیں، ایسی آیات قرآن کریم میں کئی جگہ موجود ہیں انہی میں سے ایک یہ آیت بھی ہے کہ آپ کا کام راہ دکھانا ہے۔ صحیح بات بتانا ہے، حق کا قبول کرانا آپ کی ذمہ داری نہیں ہے، اللہ تعالیٰ ہادی ہے۔ وہ جس کو چاہے۔ ہدایت دے، آپ کو غمگین ہونے کی ضرورت نہیں۔ صاحب روح المعانی (ص 45 ج 3) نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کا سبب نزول یہ نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا تھا کہ ہم صرف اہل اسلام پر خرچ کریں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ نیز حضرت ابن عباس ؓ سے یہ بھی منقول ہے کہ انصار کی رشتہ داریاں تھیں جن میں بعض لوگ مسلمان نہیں ہوئے تھے وہ حضرات ان کو صدقہ دینے سے بچتے تھے اور چاہتے تھے کہ وہ اسلام قبول کرلیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی، سبب نزول کو سامنے رکھنے کے اعتبار سے آیت کا مطلب یہ ہوا کہ ہدایت پر لانا آپ کا کام نہیں ہے کہ صدقہ روک کر لوگوں کو اسلام پر لانے کی صورت پیدا کی جائے صدقات نافلہ غیر مسلم ضرورت مندوں کو دینے میں بھی ثواب ہے اسلام قبول کرنا نہ کرنا ان کا کام ہے۔ پھر فرمایا : (وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلِاَنْفُسِکُمْ ) صاحب روح المعانی اس کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جو مال بھی نیک کاموں میں خرچ کرو گے اس کا نفع تم ہی کو ہوگا۔ لہٰذا من اور اذیٰ اور ریا کاری سے اسے ضائع نہ کرو یا یہ مطلب ہے کہ فقراء کو دے دیا کرو، خواہ وہ کافر ہی ہوں تمہیں ثواب ملنے سے مطلب ہے۔ پھر فرمایا : (وَ مَا تُنْفِقُوْنَ اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْہِ اللّٰہِ ) کہ تم تو صرف اللہ کی رضا ہی کے لیے خرچ کرتے ہو، لہٰذا ان آداب کی رعایت کرو جن سے اللہ کی رضا حاصل ہو اور ان اعمال سے بچو جن سے اللہ کی ناراضگی ہوتی ہو اور جن سے صدقات باطل ہوجاتے ہوں۔ بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہ نفی نہی کے معنی میں ہے یعنی تم نہ خرچ کرو مگر اللہ کی رضا کے لیے۔ پھر فرمایا (وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ یُّوَفَّ اِلَیْکُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ ) یعنی جو مال بھی تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے تمہیں اس کا پورا پورا بدلہ دے دیا جائے گا اور ذرا سی بھی کمی نہ ہوگی اس میں پچھلے جملہ کی تاکید ہے۔ اور بعض مفسرین نے اس کا یہ معنی بتایا ہے کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ تم کو تمہارے خرچ کرنے کے بعد مزید مال عطا فرمائے گا۔ بحکم حدیث اللّٰھم اعط منفقا خلفا یہ معنی لینا بھی بعید نہیں ہے۔ (من روح المعانی ج 3 ص 46) مسئلہ : کافر کو نفلی صدقات دینا جائز ہے اس میں بھی ثواب ہے۔ البتہ کافر کو زکوٰۃ اور صدقات واجبہ دینا جائز نہیں۔
Ayah 2:273

لِلْفُقَرَآءِ الَّذِیْنَ اُحْصِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ضَرْبًا فِی الْاَرْضِ ؗ— یَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِیَآءَ مِنَ التَّعَفُّفِ ۚ— تَعْرِفُهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ ۚ— لَا یَسْـَٔلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا ؕ— وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ ۟۠لِلۡفُقَرَآءِ الَّذِيۡنَ اُحۡصِرُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ لَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ ضَرۡبًا فِى الۡاَرۡضِ يَحۡسَبُهُمُ الۡجَاهِلُ اَغۡنِيَآءَ مِنَ التَّعَفُّفِ‌ۚ تَعۡرِفُهُمۡ بِسِيۡمٰهُمۡ‌ۚ لَا يَسۡــئَلُوۡنَ النَّاسَ اِلۡحَــافًا ‌ؕ وَمَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ خَيۡرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِيۡمٌ Open ayah 2:273 in the Quran reader

صدقات فقراء کے لیے ہیں جو اللہ کی راہ میں روکے ہوئے ہیں وہ زمین میں سفر نہیں کرسکتے۔ سوال سے بچنے کے سبب انجان آدمی انہیں مالدار سمجھتا ہے، تو انہیں پہچان لے گا ان کی نشانی سے، وہ لوگ لپٹ کر لوگوں سے سوال نہیں کرتے، اور جو بھی کچھ تم خرچ کرو گے، اچھا مال سو اللہ اس کو جاننے والا ہے۔

فی سبیل اللہ کام کرنے والوں پر خرچ کرنے کا حکم اس آیت شریفہ میں ان فقراء پر خرچ کرنے کی فضیلت بیان فرمائی جو دینی کاموں میں مشغول ہوں ان کی دینی مشغولیت انہیں کہیں آنے جانے نہیں دیتی اور کسب مال کے مواقع ان کی مشغولیت کی وجہ سے میسر نہیں ہے۔ صاحب روح المعانی نے (ص 46 ج 3) میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ ان سے حضرات اصحاب صفہ مراد ہیں پھر لکھا ہے کہ یہ حضرات تین سو (300) کے لگ بھگ تھے ان کی تعداد میں کمی بیشی بھی ہوتی رہتی تھی یہ فقراء مہاجرین تھے جو مسجد نبوی کے چبوترے پر رہتے تھے جس پر چھپر پڑا ہوا تھا۔ یہ حضرات اپنے اوقات علم دین حاصل کرنے میں اور جہاد میں خرچ کرتے تھے اور جو کوئی جماعت جہاد کے لیے رسول اللہ ﷺ بھیجتے تھے اس میں چلے جاتے تھے۔ حضرت سعید بن جبیر نے فرمایا کہ ان سے وہ حضرات مراد ہیں جن کو جہاد میں زخم آگئے تھے، اور وہ معذور ہوگئے تھے لہٰذا مسلمانوں کے اموال میں ان کا حق مقرر فرما دیا۔ صاحب روح المعانی اس کے بعد لکھتے ہیں کہ دونوں روایتوں کو سامنے رکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آیت کا مفہوم ان حضرات کو اولیت کے اعتبار سے شامل ہے حصر مقصود نہیں ہے کیونکہ ایسے لوگوں پر خرچ کرنے کا حکم قیامت (کے دن تک باقی ہے) جو لوگ اللہ کی راہ میں روکے گئے ہیں ان کی ایک صفت تو یہ بیان فرمائی کہ دینی مشغولیت کی وجہ سے چل پھر کر کسب معاش نہیں کرسکتے اور ان پر خرچ کرنے کا یہ بہت بڑا سبب ہے۔ دوسری صفت یہ بیان فرمائی کہ (یَحْسَبُھُمُ الْجَاھِلُ اَغْنِیَآءَ مِنَ التَّعَفُّفِ ) کہ یہ لوگ مخلوق کے سامنے سوال کرنے سے پرہیز کرتے ہیں اس وجہ سے انجان آدمی جسے ان کا اندرونی حال معلوم نہیں ہے انہیں مالدار سمجھتا ہے اس سے معلوم ہوا کہ جو لوگ دینی کاموں میں لگے ہوئے ہیں جنہیں کمانے کی فرصت نہیں وہ مخلوق سے بالکل بےنیاز ہو کر کام کریں کسی کے سامنے کوئی حاجت نہ رکھیں ایسے بےنیاز ہو کر رہیں کہ جنہیں ان کا حال معلوم نہ ہو وہ ان کی بےنیازی کو دیکھ کر انہیں مالدار سمجھیں۔ ہاں دوسرے مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ خرچ کرنے کی صحیح جگہ پہنچیں اور ایسے حاجت مندوں کا پتہ چلائیں، اور درحقیقت اصل مسکین وہی ہے جو لوگوں سے سوال نہیں کرتا۔ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ وہ مسکین نہیں ہے جو لوگوں کے پاس گھومتا پھرتا ہے اسے ایک لقمہ اور دو لقمے اور ایک کھجور اور دو کھجوریں در بدر پھراتی ہیں لیکن واقعی مسکین وہ ہے جسے اتنا مقدور نہیں جو اسے بےنیاز کر دے اور اس کا پتہ بھی نہیں چلتا تاکہ اس پر خرچ کردیا جائے اور وہ لوگوں سے سوال کرنے کے لیے بھی کھڑا نہیں ہوتا۔ (رواہ البخاری ج 1) ان حضرات کی تیسری صفت یہ بیان فرمائی (تَعْرِفُھُمْ بِسِیْمٰھُمْ ) کہ اے مخاطب ایسے لوگوں کو تو ان کی نشانی سے پہچان لے گا۔ نشانی سے حالت ظاہرہ مراد ہے جسے دیکھ کر ان کی حاجت مندی اور بےچارگی معلوم ہوجائے۔ اس نشانی کے بارے میں بعض حضرات نے لکھا ہے کہ مشقت کے ظاہری آثار جو چہرے سے عیاں ہوں وہ مراد ہیں اور بعض حضرات نے فرمایا کہ بھوک کی وجہ سے جو رنگ زرد ہوگئے ہوں وہ مراد ہیں۔ اور بعض حضرات نے فرمایا کہ کپڑوں کا پھٹا پرانا ہو نامراد ہے۔ صاحب معالم التنزیل ص 259 ج 1 نے یہ اقوال نقل کیے ہیں لیکن درحقیقت ان پر کوئی انحصار نہیں، بھانپنے والے طرح طرح سے بھانپ لیتے ہیں جو فکر مند ہوگا وہ ان کی ظاہری حالت کو دیکھ کر اور ان کے پاس اٹھ بیٹھ کر ان کی حاجت مندی کو پہچان ہی لے گا۔ پھر فرمایا کہ (لَا یَسْءَلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا) یعنی یہ حضرات لوگوں سے لگ لپٹ کر ذمہ ہو کے ضد کرکے سوال نہیں کرتے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ اِلْحَافًا قید احترازی نہیں ہے مطلب یہ ہے کہ وہ بالکل ہی سوال نہیں کرتے اگر سوال کرتے تو دیکھنے والا انہیں مالدار کیوں سمجھتا اور ان کے بارے میں (یَحْسَبُھُمُ الْجَاھِلُ اَغْنِیَآءَ مِنَ التَّعَفُّفِ ) کیوں ارشاد ہوتا۔ آخر میں فرمایا۔ (وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰہَ بِہٖ عَلِیْمٌ) اور جو بھی کچھ تم خیر میں سے خرچ کرو گے تو اللہ تعالیٰ اس کا جاننے والا ہے اس کی قدر فرمائے گا اور اس کی جزا دے گا تمہارا خرچ کیا ہوا ضائع نہ ہوگا۔ صاحب بیان القرآن لکھتے ہیں کہ ہمارے ملک میں اس آیت کے مصداق سب سے زیادہ وہ حضرات ہیں جو علوم دینیہ کی اشاعت میں مشغول ہیں پس اس بنا پر سب سے اچھا مصرف طالب علم ٹھہرے اور ان پر بعض ناتجربہ کاروں کا جو یہ طعن ہے کہ ان سے کمایا نہیں جاتا اس کا جواب قرآن میں دے دیا گیا جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک شخص ایسے دو کام نہیں کرسکتا جن میں سے ایک میں یا دونوں میں پوری مشغولی کی ضرورت ہو اور جس کا علم دین کی خدمت کا کچھ مذاق ہوگا وہ مشاہدہ سے سمجھ سکتا ہے کہ اس میں غایت مشغولی اور انہماک کی حاجت ہے اس کے لیے اس کے ساتھ اکتساب مال کا شغل جمع نہیں ہوسکتا اور اس کے کرنے سے علم دین کی خدمت نا تمام رہ جاتی ہے چناچہ ہزاروں نظائر پیش نظر ہیں۔
Ayah 2:274

اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَّعَلَانِیَةً فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۚ— وَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَلَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ ۟ؔاَلَّذِيۡنَ يُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَهُمۡ بِالَّيۡلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً فَلَهُمۡ اَجۡرُهُمۡ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ‌ۚ وَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ Open ayah 2:274 in the Quran reader

جو لوگ خرچ کرتے ہیں اپنے مالوں کو رات میں اور دن میں پوشیدہ طور پر اور علانیہ طور پر سو ان کے لیے ان کا اجر ہے ان کے رب کے پاس، اور ان پر کوئی خوف نہیں، اور نہ وہ رنجیدہ ہوں گے۔

رات دن مال خرچ کرنے والوں کی فضیلت اور منقبت اس آیت میں رات دن اللہ کی رضا کے لیے مال خرچ کرنے کا تذکرہ ہے۔ جو پوشیدہ طور پر اللہ کی راہ میں مال خرچ کریں گے یا علانیہ طور پر قیامت کے دن ان کا خرچ کیا ہوا مال اجر وثواب کی صورت میں انہیں مل جائے گا۔ وہ وہاں غمگین نہ ہوں گے، جبکہ بہت سے لوگ بدعملی کی وجہ سے یا اپنے مالوں کو گناہوں میں خرچ کرنے کی وجہ سے غمگین ہوں گے۔ اس آیت میں مال خرچ کرنے کے بیان میں سِرًّا وَّ عَلَانِیَۃً فرمایا اس سے معلوم ہوا کہ لوگوں کے سامنے مال خرچ کرنا ریا کاری میں شامل نہیں جس سے گناہ ہو اور خرچ کرنا اکارت ہوجاتا ہو، گو خفیہ طریقہ پر خرچ کرنے کی فضیلت زیادہ ہے لیکن اگر دکھاوا مقصود نہ ہو نام و نمود پیش نظر نہ ہو اور مقصود اللہ تعالیٰ کی رضا ہی ہو تو لوگوں کے سامنے خرچ کرنے سے ریا کاری میں شمار نہ ہوگا، ریا کاری اپنے دل کے جذبہ اور ارادہ کا نام ہے، اگر کوئی شخص تنہائی میں نیک عمل کرے اور مال خرچ کرے اور پھر لوگوں کو معتقد بنانے کے لیے اپنے عمل کو ظاہر کرے یا دل میں یہ تڑپ ہو کہ میرے اعمال لوگوں پر ظاہر ہوں تاکہ میری تعریف ہو تو یہ بھی ریا میں شامل ہوجائے گا بلکہ اس میں دہرا ریا ہے کہ لوگ یوں کہیں گے کہ دیکھو کیسے مخلص ہیں تنہائیوں میں عمل کرتے ہیں۔