2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 2:154

وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌ ؕ— بَلْ اَحْیَآءٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ ۟وَلَا تَقُوۡلُوۡا لِمَنۡ يُّقۡتَلُ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ اَمۡوَاتٌ ؕ بَلۡ اَحۡيَآءٌ وَّلٰـكِنۡ لَّا تَشۡعُرُوۡنَ Open ayah 2:154 in the Quran reader

اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے جاتے ہیں ان کے بارے میں یوں نہ کہو کہ وہ مردہ ہیں بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تم اس کا ادراک نہیں کرتے۔

شہداء کے فضائل علامہ واحدی اسباب النزول (ص 40) میں لکھتے ہیں کہ یہ آیت بدر میں شہید ہو جانیوالے مسلمانوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ جن میں آٹھ حضرات انصار میں سے اور چھ حضرات مہاجرین میں سے تھے۔ شہید ہوجانے والوں کے بارے میں بعض لوگوں نے یوں کہا کہ فلاں مرگیا اور دنیا میں لذت اور نعمت اس سے فوت ہوگئی تو آیات بالا کا نزول ہوا۔ 1 ھ اللہ کے دین کے پھیلانے اور حق کے آگے بڑھنے میں جو لوگ آڑے آتے ہیں ان سے نبٹنے کے لیے جہاد اور قتال کرنا پڑتا ہے جب جہاد کرتے ہیں تو ضروری نہیں کہ سب کافر ہی مقتول ہوں اس میں بہت سے مسلمان بھی مقتول ہوجاتے ہیں ان مقتول مسلمانوں کو شہداء کا معزز خطاب دیا گیا ہے۔ شہیدوں کے بڑے مرتبے ہیں ان سے بلند درجات کے وعدے ہیں ان کی برزخی زندگی بھی دوسروں سے ممتاز ہے اسی لیے ارشاد فرمایا کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے جاتے ہیں ان کے بارے میں یوں نہ کہو کہ وہ مردہ ہیں بلکہ وہ زندہ ہیں ان پر موت طاری ہوئی ہے۔ لیکن برزخی زندگی میں ان کو امتیازی مرتبہ حاصل ہے۔ تم لوگ ان کی اس حیات کا ادراک نہیں کرسکتے۔ سورة آل عمران میں شہدا کے بارے میں ارشاد فرمایا (وَ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتًا بَلْ اَحْیَآءٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ یُرْزَقُوْنَ فَرِحِیْنَ بِمَآ اٰتٰھُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ ) (اور ان لوگوں کے بارے میں جو اللہ کی راہ میں قتل کئے گئے ہرگز یہ گمان نہ کرو کہ وہ مردہ ہیں بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس رزق پاتے ہیں، اللہ نے جو کچھ ان کو اپنے فضل سے عطا فرمایا اس پر خوش ہیں) ۔ حیات برزخیہ میں سب سے زیادہ قوی تر حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی حیات ہے۔ ان کے اجسام کو زمین نہیں کھاتی۔ حدیث شریف میں ہے۔ ان اللّٰہ حرّم علی الارض ان تاکل اجساد الانبیاء (رواہ ابوداؤد ص 150 ج 1) اور ان کی حیات برزخیہ اس قدر ممتاز ہے کہ اس کے بعض آثار و احکام دنیا میں بھی بعض امور میں ظاہر ہیں مثلاً ان کی میراث کا تقسیم نہ ہونا اور ازواج مطہرات کا ان کی وفات کے بعد دوسروں سے نکاح جائز نہ ہونا۔ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی ممتاز اور قوی ترحیات برزخیہ کے بعد شہداء کی حیات کا درجہ ہے جس کا آیت بالا میں اور سورة آل عمران کی آیت میں تذکرہ ہے۔ ان کے بعد دوسرے لوگوں کی حیات ہے جس کے ذریعہ قبر میں عذاب ہوتا یا آرام ملتا ہے۔ ان کی تفصیلات احادیث شریفہ میں موجود ہیں۔ شہید چونکہ اپنا جان ومال لے کر حاضر ہوجاتا ہے اور اللہ کی راہ میں سب کچھ قربان کردیتا ہے اس لیے اس کا اللہ تعالیٰ کے یہاں بہت بڑا مرتبہ ہے۔ ان کا جو وہاں اکرام ہوتا ہے وہ اتنا زیادہ ہے کہ دنیاوی زندگی اس کے سامنے ہیچ در ہیچ ہے۔ حضرت مسروق تابعی نے بیان فرمایا کہ ہم نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے آیت کریمہ (وَ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتًا بَلْ اَحْیَآءٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ یُرْزَقُوْنَ ) (الآیۃ) کے بارے میں معلوم کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم نے اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا تھا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ شہیداء کی روحیں سبز پرندوں کے پوٹوں میں ہیں ان کے لیے قندیل ہیں جو عرش کے نیچے لٹکے ہوئے ہیں یہ پرندے جنت میں جہاں چاہتے ہیں چلتے پھرتے ہیں۔ پھر ان قندیلوں میں آجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ان سے فرمایا کہ تم کچھ خواہش رکھتے ہو انہوں نے کہا ہم کیا خواہش کریں۔ (اس سے زیادہ کیا ہوگا کہ) ہم جنت میں جہاں چاہیں پھرتے ہیں اور کھاتے پیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ شانہ، نے تین مرتبہ ان سے یہی سوال فرمایا جب انہوں نے دیکھا کہ سوال ہوتا ہی رہے گا کچھ نہ کچھ جواب دینا ہی ہے تو عرض کیا اے رب ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہماری روحیں دوبارہ جسموں میں واپس کردی جائیں تاکہ ہم پھر تیری راہ میں مقتول ہوجائیں۔ جب انہوں نے کسی اور حاحت کا سوال نہ کیا (اور وہاں سے واپسی کا قانون نہیں ہے) تو ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا۔ (رواہ مسلم ص 135 ج 2) حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو بھی کوئی بندہ وفات پا جاتا ہے جس کے لیے اللہ کے پاس خیر ہو (یعنی عذاب سے نجات ہو اور وہاں کی نعمتوں سے متمتع ہو رہا ہو) اسے یہ خوشی نہیں ہوتی کہ دنیا میں واپس آجائے۔ اگرچہ دنیا اور دنیا میں جو کچھ ہے وہ سب اسے مل جائے سوائے شہید کے، شہید کو اس بات کی خوشی ہوتی ہے کہ دنیا میں دوبارہ آجائے اور پھر اللہ کی راہ میں قتل ہوجائے کیونکہ وہ (وہاں پہنچ کر) شہادت کی فضیلت دیکھ لیتا ہے۔ (بخاری ص 392 ج 1) حضرت ابوہریرۃ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ ضرور میری یہ خواہش ہے کہ میں اللہ کی راہ میں قتل کر دیاجاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر قتل کیا جاؤں۔ (بخاری ص 392 ج 1) نبوت کا مرتبہ تو ہر مرتبہ سے فائق ہے اور برتر ہے پھر بھی آنحضرت ﷺ نے اللہ کی راہ میں بار بار شہید ہونے کی تمنا ظاہر فرمائی۔ اللہ تعالیٰ کی بہت سی حکمتیں ہیں بار بار قتل ہونے اور زندہ ہونے کی تمنا تو پوری نہ فرمائی لیکن آپ کو درجہ شہادت اس طرح سے عطا فرما دیا کہ غزوہ خیبر میں جو ایک یہودی عورت نے بکری کے بھنے ہوئے دست میں زہر ملا کردیا تھا اس کا اثر وقتی طور پر رک گیا تھا لیکن وفات کے وقت اس نے اثر کیا اور وہ آپ کی وفات کا ذریعہ بن گیا۔ حقوق العباد کے علاوہ شہید کا سب کچھ معاف ہے : شہید کی بہت بڑی فضیلت ہے جیسا کہ اوپر بیان ہوا لیکن فی سبیل اللہ قتل ہوجانے سے حقوق العباد معاف نہیں ہوتے۔ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے یغفر للشھید کل ذنب الا الدین۔ (کہ شہید کا ہر گناہ معاف کردیا جاتا ہے قرض کے علاوہ) ۔ (صحیح مسلم ص 135 ج 2) جہاد میں اخلاص کی ضرورت : شہادت کا درجہ ملنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ صرف اللہ کی رضا کے لیے دشمنان دین سے جنگ کی ہو اور اس میں مقتول ہوا ہو اور اللہ کی بات اونچی کرنے کے لیے لڑا ہو۔ حضرت ابو موسیٰ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ ایک شخص غنیمت کے لیے جنگ کرتا ہے ایک شخص اپنی شہرت کے لیے لڑتا ہے اور ایک شخص اس لیے لڑتا ہے کہ بہادری میں اس کا مقام اور مرتبہ مشہور ہوجائے۔ سو ان میں اللہ کی راہ میں کون سا ہے آپ نے فرمایا جو اس لیے جنگ کرے کہ اللہ کی بات بلند ہو وہ اللہ کی راہ میں ہے۔ (صحیح بخاری ص 394 ج 1 و صحیح مسلم 139 ج 2) دوسری روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص بہادری ظاہر کرنے کے لیے جنگ کرتا ہے اور ایک شخص، (قوم یا وطن) کی حمیت کی وجہ سے جنگ کرتا ہے اور ایک شخص ریا کاری کے لیے جنگ کرتا ہے۔ سو ان میں اللہ کی راہ میں کون ہے ؟ آپ نے فرمایا جو اس لیے جنگ کرتا ہے کہ اللہ کی بات بلند ہو وہ اللہ کی راہ میں ہے۔ (صحیح مسلم ص 140 ج 2) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس کسی بھی شخص کو اللہ کی راہ میں زخم پہنچ جائے اور اللہ ہی کو معلوم ہے کہ اس راہ میں کس کو زخم پہنچا تو وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے زخم سے خون جاری ہوگا۔ رنگ خون کا ہوگا، اور خوشبو مشک کی ہوگی۔ (صحیح مسلم ص 133 ج 2) اس میں یہ جو فرمایا کہ ” اللہ ہی کو معلوم ہے جو اللہ کی راہ میں زخمی ہوا۔ “ اس میں اسی اخلاص کی طرف اشارہ ہے جس کی ہر عبادت میں ضرورت ہے۔ بندے ظاہری اعمال تو دیکھتے ہیں لیکن اصل معاملہ اللہ سے ہے اگر اللہ کے نزدیک اس کی نیت یہ ہے کہ میرا اللہ مجھ سے راضی ہوجائے تو عمل کا ثواب ملتا ہے اور وہ فضیلتیں حاصل ہوتی ہیں جن کا وعدہ کیا گیا ہے اور اگر کسی عمل سے ریا اور شہرت مقصود ہو تو اس سے ثواب کیا ملتا۔ وہ تو آخرت میں و بال بن جائے گا۔ اور آخرت میں دوزخ میں داخل کرانے کا ذریعہ ہوگا۔ وطنی اور قومی جنگ میں قتل ہونے والے شہید نہیں ہیں : آج کل بھی دنیا میں جنگ وجدال اور قتل و قتال جاری ہے۔ لوگ برابر مر رہے ہیں۔ قتل ہو رہے ہیں۔ لیکن عموماً قومی، وطنی، لسانی، صوبائی عصبیت کی وجہ سے لڑائیاں ہو رہی ہیں۔ اللہ کی رضا کا کہیں سے کہیں تک بھی خیال نہیں۔ پھر ان لڑائیوں میں جو کوئی مارا جاتا ہے اس کو شہید بھی کہتے ہیں حالانکہ شہید وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک شہید ہو اور اب تو شہید وطن اور شہید قوم کے الفاظ بھی زبانوں پر جاری رہیں اور صحیفوں جریدوں میں آ رہے ہیں۔ حد یہ ہے کہ کافروں اور ملحدوں کے لیے شہید کا لفظ استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ سب جہالت اور الحاد اور بےدینی کی باتیں ہیں۔ حفظنا اللہ من الضلال
Ayah 2:155

وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ ؕ— وَبَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَ ۟ۙوَلَـنَبۡلُوَنَّكُمۡ بِشَىۡءٍ مِّنَ الۡخَـوۡفِ وَالۡجُـوۡعِ وَنَقۡصٍ مِّنَ الۡاَمۡوَالِ وَالۡاَنۡفُسِ وَالثَّمَرٰتِؕ وَبَشِّرِ الصّٰبِرِيۡنَۙ Open ayah 2:155 in the Quran reader

اور ضرور ضرور ہم تم کو آزمائیں گے کچھ خوف سے اور کچھ بھوک سے اور کچھ مالوں میں اور جانوں اور پھلوں میں کمی کر کے، اور خوشخبری سنا دیجیے صبر کرنے والوں کو

مختلف طریقوں سے آزمائش ہوگی یہ دنیا دارالا بتلاء اور دارالامتحان ہے۔ موت اور حیات کی تخلیق ہی ابتلاء اور امتحان کے لیے ہے۔ جیسا کہ سورة ملک میں فرمایا (تَبَارَکَ الَّذِیْ بِیَدِہِ الْمُلْکُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُنِ الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیَاۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا) (بابرکت ہے وہ ذات جس کے قبضہ قدرت میں پورا ملک ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ جس نے پیدا فرمایا موت کو اور زندگی کو تاکہ وہ آزمائے کہ تم میں کون عمل کے اعتبار سے زیادہ اچھا ہے۔ ) سورة محمد ﷺ میں فرمایا (وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ حَتّٰی نَعْلَمَ الْمُجَاہِدِیْنَ مِنْکُمْ وَالصَّابِرِیْنَ وَنَبْلُوَ اَخْبَارَکُمْ ) (اور البتہ ہم تم کو ضرور جانچیں گے تاکہ معلوم کرلیں جو تم میں سے جہاد کرنے والے ہیں اور جو صبر کرنے والے ہیں اور تاکہ ہم جانچ لیں تمہاری خبریں) ۔ مذکورہ بالا آیت میں بھی ابتلاء و امتحان کا ذکر فرمایا اور لام تاکید اور نون ثقیلہ کے ساتھ موکد کرکے فرمایا کہ ہم تم کو ضرور ضرور جانچ میں ڈالیں گے اور امتحان کریں گے۔ کبھی خوف ہوگا۔ کبھی بھوک سے دو چار ہوں گے۔ مال کم ہوگا، جانیں بھی کم ہوں گی۔ اعزاء و اقرباء اولاد اور احباب فوت ہوں گے پھلوں میں کمی ہوگی اس میں تمام امہات المصائب کا تذکرہ آگیا، دنیا میں دشمنوں کا خوف قحط سالی، سیلاب اور زلزلے، تجارتوں میں نقصان، مکانات کا گرجانا۔ اموال کا چوری ہونا، کہیں دفن کرکے بھول جانا۔ رکھے ہوئے مالوں کا تلف ہوجانا۔ کار خانوں کا بند ہوجانا۔ مشینوں کا خراب ہوجانا، بجلی کا بند ہوجانا، اعزہ و اقربا اور احباب کی موتیں ہونا، وبائی امراض کا پھیل جانا۔ باغوں میں پھل کا آنا یا بہت زیادہ پھل آکر آندھی سے گر جانا۔ کھیتوں میں کیڑا لگ جانا ٹڈی آجانا وغیرہ وغیرہ۔ ان سب امور کی طرف اشارہ ہوگیا۔ مومن بندے صبر سے کام لیتے ہیں جس طرح کی بھی کوئی مصیبت در پیش ہو اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے سمجھتے ہیں اور اللہ کی قضا و قدر پر راضی رہتے ہیں اور ثواب کی امید رکھتے ہیں جو مصیبتیں درپیش ہوتی ہیں وہ گناہوں کی سزا کے طور پر بھی پیش آتی ہیں اور کفارہ سیئات کے لیے بھی ہوتی ہیں۔ امتحان کے لیے بھی ہوتی ہیں اور رفع درجات کے لیے بھی قرآن مجید سے اور احادیث شریفہ سے یہ باتیں واضح طور پر معلوم ہوتی ہیں۔ مومن بندوں کو مصائب کا فائدہ : سورة نساء میں فرمایا (مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءً یُّجْزَبِہٖ ) (جو شخص بھی کوئی برائی کرے گا اس کا بدلہ دیا جائے گا) تفسیر اور حدیث کی کتابوں میں یہ بات نقل کی گئی ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد کیا اب کامیابی کی صورت ہے جبکہ ہر بدی کا بدلہ ملنا ضروری ہے آپ نے فرمایا اے ابوبکر اللہ تمہاری مغفرت فرمائے۔ کیا تم مریض نہیں ہوتے ہو، کیا تمہیں تکلیف نہیں پہنچتی۔ کیا تم رنجیدہ نہیں ہوتے، کیا تم کو کوئی مصیبت در پیش نہیں ہوتی عرض کیا ہاں یہ چیزیں تو پیش آتی ہیں، آپ نے فرمایا ان چیزوں کے ذریعہ گناہوں کا بدلہ ہوجاتا ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا اے ابوبکر تم اور تمہارے اصحاب مومنین دنیا میں گناہوں کا بدلہ پالیں گے یہاں تک کہ اللہ سے اس حال میں ملاقات کریں گے کہ کوئی گناہ باقی نہ ہوگا۔ لیکن دوسرے لوگ (یعنی کافر) ان کے سب گناہ جمع کئے جائیں گے۔ یہاں تک کہ ان سب کی سزا ان کو قیامت کے دن ملے گی۔ (ابن کثیر ص 557۔ 558 ج 1) سورۃ شوریٰ میں فرمایا (وَمَا اَصَابَکُمْ مِّنْ مُّصِیْبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْکُمْ وَیَعْفُوْا عَنْ کَثِیْرٍ ) (اور جو کوئی مصیبت تم کو پہنچے سو وہ بدلہ ہے اس کا جو کمایا ہے تمہارے ہاتھوں نے اور اللہ معاف فرما دیتا ہے بہت سے گناہ) ۔ حضرت ابو موسیٰ اشعریٰ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس کسی بندے کو کوئی تھوڑی یا زیادہ تکلیف پہنچتی ہے وہ گناہ کی وجہ سے ہوتی ہے اور جو اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتے ہیں وہ بہت زیادہ ہے۔ پھر آپ نے آیت کریمہ (وَمَا اَصَابَکُمْ مِّنْ مُّصِیْبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْکُمْ وَیَعْفُوْا عَنْ کَثِیْرٍ ) تلاوت فرمائی۔ (رواہ الترمذی) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتے ہیں اسے تکلیف میں مبتلا فرمادیتے ہیں۔ (صحیح بخاری ص 843 ج 2) ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت سرور عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا بلا شبہ جب بندے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی درجہ مقرر کردیا گیا جس درجہ میں وہ اپنے عمل کی وجہ سے نہ پہنچ سکتا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو جسم یا مال میں یا اولاد میں (تکلیفوں کے ساتھ) مبتلا فرما دیتے ہیں پھر اس پر اس کو صبر دے دیتے ہیں یہاں تک کہ اسے اسی درجہ میں پہنچا دیتے ہیں جو پہلے سے اس کے لیے طے فرما دیا تھا۔ (رواہ احمد و ابوداؤد کمافی المشکوٰۃ ص 137) نیز حضرت ابو ہریرۃ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مسلمان کو جو بھی کوئی تکلیف، مرض، فکر، رنج، اذیت غم پہنچ جائے یہاں تک کہ اگر کانٹا بھی لگ جائے تو اللہ تعالیٰ شانہ اس کے ذریعہ اس کے گناہوں کا کفارہ فرمادیتے ہیں۔ (صحیح بخاری ص 843 ج 2) ام السائب ایک صحابیہ تھیں۔ آنحضرت سرور عالم ﷺ ان کے پاس تشریف لے گئے وہ کپکپا رہی تھیں آپ نے فرمایا کیا بات ہے کیوں کپکپا رہی ہو ؟ انہوں نے کہا اس کا برا ہو بخار چڑھ گیا۔ آپ نے فرمایا بخار کو برا نہ کہو کیونکہ وہ بنی آدم کی خطاؤں کو اس طرح ختم کردیتا ہے جیسے بھٹی لوہے کے میل کچیل کو ختم کردیتی ہے۔ (صحیح مسلم ص 319 ج 2) حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتے ہیں تو اس کو دنیا ہی میں سزا دے دیتے ہیں اور جب اللہ تعالیٰ کسی بندہ کے ساتھ شر کا ارادہ فرماتے ہیں تو اس کے گناہوں کی سزا کو روکے رکھتے ہیں یہاں تک کہ اس کو قیامت کے دن پوری سزا دے دیں گے۔ (رواہ التر مذی فی ابواب الزہد) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مومن مرد اور مومن عورت کو جان مال اور اولاد میں برابر تکلیف پہنچتی رہتی ہے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کریگا کہ اس کا کوئی گناہ بھی باقی نہ رہا ہوگا۔ (رواہ التر مذی فی ابواب الزہد) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس کسی بھی مسلمان کے تین بچے فوت ہوگئے ہوں جو بالغ نہیں ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ ان بچوں پر رحمت فرمانے کی وجہ سے اس مسلمان کو (یعنی ان کے والدین کو) جنت میں داخل فرما دیں گے۔ (بخاری ص 167 ج 1) حضرت ابو سعید خدری ؓ نے بیان فرمایا کہ ایک مرتبہ عورتیں جمع ہوئیں۔ آنحضرت ﷺ نے ان کے سامنے وعظ و نصیحت کی باتیں فرمائیں اور یہ بھی فرمایا کہ جس کسی کے تین بچے فوت ہوگئے وہ اس کے لیے دوزخ سے بچانے کے لیے آڑ بن جائیں گے ایک عورت نے کہا کہ اگر کسی کے دو بچے فوت ہوئے ہوں تو آپ نے فرمایا کہ اگر کسی کے دو بچے فوت ہوئے ہوں تو اس کا بھی یہی حکم ہے (بخاری ص 167 ج 1) حضرت معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دو مسلمان (میاں بیوی) جن کے تین بچے فوت ہوجائیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو جنت میں داخل فرما دے گا اپنی رحمت اور فضل سے صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ اگر دو بچے فوت ہوئے ہوں ؟ فرمایا دو کا بھی یہی حکم ہے عرض کیا اگر ایک بچہ فوت ہوا ہو۔ فرمایا ایک کا بھی یہی حکم ہے۔ پھر فرمایا قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے بلاشبہ ادھورا بچہ اپنی ماں کو اپنی ناف کے ذریعہ کھینچتا ہوا لے جائے گا۔ یہاں تک کہ اس کو جنت میں داخل کر دے گا۔ اگر اس کی ماں نے اس کی موت پر ثواب کی پختہ امید رکھی ہو۔ (مشکوٰۃ ص 153) مومن بندوں کے لیے تکالیف اور مصائب کوئی گھبرانے اور پریشان ہونے کی چیزیں نہیں ہیں۔ یہ تو اس کے لیے خیر ہی خیر ہے۔ فانی دنیا میں تھوڑی بہت تکلیفیں پہنچ گئیں اور آخرت کے مواخذہ سے بچ گیا اور وہاں کی نعمتوں سے مالامال ہوگیا تو اس کے حق میں یہ سراسر بہترہی بہتر ہے۔ اور نفع کا سودا ہے بس صبر کرے۔ ثواب کی امید رکھے۔ اللہ کی قضا اور قدر پر راضی رہے۔ اس کا معنی یہ نہیں ہے کہ مصیبت اور تکلیف دور ہونے کی دعا نہ کرے کیونکہ دعا بھی سنت ہے اور ہمیشہ اللہ سے عافیت کا سوال کرے مصیبت تکلیف اور مرض کا سوال بھی نہ کرے، آجائے تو صبر کرے۔
Ayah 2:156

الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌ ۙ— قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ ۟ؕالَّذِيۡنَ اِذَآ اَصَابَتۡهُمۡ مُّصِيۡبَةٌ  ۙ قَالُوۡٓا اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّـآ اِلَيۡهِ رٰجِعُوۡنَؕ Open ayah 2:156 in the Quran reader

جن کی صفت یہ ہے کہ جب پہنچے ان کو کوئی مصیبت تو وہ کہتے ہیں کہ بیشک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور بیشک ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔

صابرین کی ایک خاص صفت : یہ فرمانے کے بعد کہ ہم تم کو ضرور ضرور آزمائیں گے۔ صابرین کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ (وَبَشِّرِ الصَّابِرِیْنَ ) (صبر کرنے والوں کو بشارت دے دو ) پھر ان کی صفت بیان فرمائی (الَّذِیْنَ اِذَآ اَصَابَتْھُمْ مُّصِیْبَۃٌ قَالُوْ ٓا اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ ) (وہ ایسے لوگ ہیں کہ جب ان کو مصیبت پہنچتی ہے تو وہ ( اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ ) کہتے ہیں۔ ) یہ کلمہ بہت سے حقائق کو اپنے اندر سموئے ہوئے اور اس میں بہت بڑی تسلی ہے۔ اس میں اول تو زبان اور دل سے اس بات کا اقرار ہے کہ ہم اللہ ہی کے لیے ہیں جب ہم اللہ ہی کے بندے ہیں۔ اس کی مخلوق ہیں اس کے مملوک ہیں تو ہمیں پوری طرح اپنے خالق ومالک کے فیصلے پر راضی ہونا ضروری ہے۔ ہم بھی اللہ ہی کے ہیں اور جو جان و مال اس نے لے لیا وہ بھی اللہ ہی کا ہے۔ اس نے جو کچھ کیا اپنی مخلوق اور مملوک میں تصرف کیا۔ کسی کو بولنے، اعتراض کرنے، دل اور زبان سے ناراض ہونے کا کوئی حق نہیں ہے۔ ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی ایک صاحبزادی کا بچہ جان کنی کے عالم میں تھا۔ انہوں نے آپ کی خدمت میں خبر بھیجی اور تشریف لانے کی گزارش کی۔ آپ نے ان کو سلام کہلوایا اور فرمایا (اِنَّ لِلّٰہِ مَا اَخَذَ وَلہٗ مَا اَعْطٰی وَ کُلٌّ عِنْدَہٗ بِاَجَلٍ مُّسَمًّی فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ ) (کہ بلاشبہ اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ اس نے لیا اور اس کے لیے ہے جو اس نے عطا فرمایا اور ہر ایک کی اس کے نزدیک اجل مقرر ہے۔ لہٰذا صبر کرے اور اللہ سے ثواب کی امید رکھے۔ (بخاری ص 171 ج 2) دوسرے اس بات کا اعلان اور اقرار ہے کہ ہم کو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے پاس پہنچیں گے تو ہم کو ہر ضائع اور فوت شدہ چیز کا ثواب مل جائے گا۔ اور یہ ثواب دنیا کی حقیر چیزوں سے کہیں اعلیٰ و افضل ہے جن کے چلے جانے پر رنج ہوتا ہے۔ اپنے اعزہ و اقرباء آل اولاد جو فوت ہوگئے ان سے بھی عارضی جدائی ہے جہاں وہ گئے وہیں ہم کو جانا ہے۔ وہاں دارالنعیم میں انشاء اللہ تعالیٰ ان سے ملاقاتیں ہوجائیں گی۔ سنن ترمذی ص 166 ج 1 میں ہے کہ جب بندہ کا کوئی بچہ فوت ہوجائے تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرماتے ہیں کہ تم نے میرے بندہ کے بچے کو قبض کرلیا وہ کہتے ہیں کہ ہاں، پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تم نے اس کے دل کے پھل کو قبض کرلیا وہ کہتے ہیں کہ ہاں ! اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میرے بندہ نے کیا کہا۔ وہ عرض کرتے ہیں کہ اس نے آپ کی تعریف کی اور ( اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ ) پڑھا اس پر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میرے بندہ کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دو اور اس کا نام بیت الحمد رکھ دو ۔ ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ مسلمان مرد یا عورت کو جو بھی تکلیف پہنچ جائے اور اس کو بعد میں یاد کرے اگرچہ اس کو عرصہ دراز گزر چکاہو اور اس وقت پھر ( اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ ) پڑھے تو اللہ تبارک و تعالیٰ اس کو پھر اسی جیسا اجر عطا فرماتے ہیں جیسا کہ اس دن عطا فرمایا تھا جس دن اس کو مصیبت پہنچی تھی۔ (رواہ احمد و البیہقی فی شعب الایمان کمافی المشکوٰۃ ص 53 ج 1) حضرت ابو ہریرۃ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کی جوتی کا تسمہ ٹوٹ جائے تب بھی ( اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ ) پڑھے۔ کیونکہ یہ بھی مصیبتوں میں سے ایک مصیبت ہے۔ (مشکوٰۃ عن شعب الایمان) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ جس نے مصیبت کے وقت ( اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ ) پڑھا تو اللہ تعالیٰ اس کی مصیبت کی تلافی فرمادیں گے اور اس کی آخرت اچھی کریں گے اور اسے ضائع شدہ چیز کے بدلہ اچھی چیز عطا فرمائیں گے۔ (درمنثور)
Ayah 2:157

اُولٰٓىِٕكَ عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ ۫— وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ ۟اُولٰٓئِكَ عَلَيۡهِمۡ صَلَوٰتٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَرَحۡمَةٌ‌ وَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُهۡتَدُوۡنَ Open ayah 2:157 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے عام رحمتیں ہیں اور خاص رحمت بھی ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جو ہدایت پانے والے ہیں۔

صَلَوٰتٌ رَّبِّھِمْ وَ رَحْمَۃٌ: صابرین کی صفت بیان فرمانے کے بعد (کہ جب ان کو مصیبت پہنچتی ہے تو ( اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ ) کہتے ہیں) ان کے لیے جو بشارت ہے اس کا ذکر فرمایا اور وہ یہ کہ (اُولٰٓءِکَ عَلَیْھِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّھِمْ وَ رَحْمَۃٌ وَ اُولٰٓءِکَ ھُمُ الْمُھْتَدُوْنَ ) لفظ صلوات صلاۃ کی جمع ہے صلاۃ رحمت کو کہتے ہیں اور صلوٰت کے ساتھ لفظ رحمت بھی مذکور ہے۔ بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ لفظ رحمت بطور تاکید کے لایا گیا ہے۔ وکرّر الرحمۃ لما اختلف اللفظ تاکیدا اشباعا للمعنی۔ (قرطبی ص 77 ا ج 2) مفسر بیضاوی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف لفظ صلاۃ کی نسبت ہو تو اس سے تزکیہ اور مغفرت مراد ہوتی ہے اور اس کی جمع لانے میں اس کی کثرت پر اور اس کی مختلف انواع پر تنبیہ فرمائی اور رحمت سے مراد لطف اور احسان ہے۔ (ص 117 ج 1) بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ صلاۃ سے عام مہربانیاں اور رحمت سے خاص رحمت مراد ہے۔ رحمتوں کا انعام ذکر کرنے کے بعد فرمایا (وَ اُولٰٓءِکَ ھُمُ الْمُھْتَدُوْنَ ) کہ صابرین جو مصیبت کے وقت ( اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ ) پڑھتے ہیں یہ لوگ اللہ کی قضا پر دل اور زبان سے رضا مندی ظاہر کر کے اور ( اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ ) پڑھ کر حق اور ثواب کی راہ پانے والے ہیں۔ (بیضاوی ص 118 ج 2) حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ صابرین کے لیے صلوات اور رحمت کے وعدہ کے ساتھ ہی جو ان کو ہدایت یافتہ بتایا اور ان کی شان میں المھتدون فرمایا یہ زائد چیز بھی بہت عمدہ ہے۔ رحمتوں کا وعدہ بھی اور ہدایت پر ہونے کا اعلان بھی یہ سب کچھ نفع ہی نفع ہے اور خیر ہی خیر ہے۔ صبر سے متعلق چند فوائد فائدہ : (1) اس دنیا کا یہ مزاج ہے کہ دکھ تکلیف کا ہر ایک کو سامنا کرتا پڑتا ہے۔ اور نہ آرام ہمیشہ رہتا ہے اور نہ تکلیف ہمیشہ رہتی ہے۔ مومن بندے صبر اور شکر کو اختیار کرتے ہیں جو لوگ صبر نہیں کرتے اجر سے محروم ہوتے ہیں۔ شدہ شدہ کچھ دن کے بعد ان کو بھی صبر آہی جاتا ہے اور مصیبت کو بھول جاتے ہیں لیکن اس صبر کا کوئی اعتبار نہیں اجر وثواب اور فضیلت اسی صبر کے متعلق ہے جو عین مصیبت کے وقت ہو۔ حضرت ابو امامۃ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اے ابن آدم اگر تو صدمہ اولیٰ کے وقت صبر کرے اور ثواب کی امید باندھے تو میں تیرے لیے جنت کے علاوہ کسی دوسرے ثواب سے راضی نہ ہوں گا۔ (یعنی تیرے صبر اور احتساب کا بدلہ جنت ہی ہے) ۔ (رواہ ابن ماجہ ص 144 ج 1) (صحیح بخاری ص 171 ج 1 اور صحیح مسلم ص 302 ج 1) میں ایک قصہ لکھا ہے جو حضرت انس ؓ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اکرم ﷺ کا ایک عورت پر گزر ہوا وہ ایک قبر کے پاس رو رہی تھی آپ نے اس سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے ڈر اور صبر کر، اس عورت نے آپ کو پہچانا نہیں، کہنے لگی کہ ہٹو مجھے چھوڑ دو کیونکہ تمہیں وہ مصیبت نہیں پہنچی ہے جو مجھے پہنچی ہے (اگر تمہیں ایسی مصیبت پہنچتی تو پتہ چلتا کیسی مصیبت ہے۔ اس کے بعد آپ تشریف لے گئے) اس عورت سے کسی نے کہا کہ (تجھے معلوم ہے کہ کس کو تو نے بےڈھنگا جواب دیا ہے) آپ نبی کریم ﷺ تھے۔ یہ سن کر وہ عورت بار گاہ رسالت میں حاضر ہوئی دروازہ پر پہنچی تو وہاں دربان (چوکیدار) نہ پائے (حالانکہ) اس کو خیال تھا کہ آپ بہت ٹھاٹ باٹ سے رہتے ہوں گے اور آپ کے دروازہ پر بادشاہوں کی طرح دربان ہوں گے یہ دیکھ کر حیرت میں رہ گئی کہ سید الخلائق ﷺ کی کیسی سادہ زندگی ہے، کہنے لگی یا رسول اللہ میں آپ کو پہچانی نہیں (اس لیے ایسا جواب دیا) آپ نے فرمایا اصلی صبر وہی ہے جو تازہ تازہ مصیبت کے موقع پر ہو (کیو ن کہ وقت گزر جانے پر خود ہی صبر آجاتا ہے) ۔ اس حدیث میں اسی خاص نکتہ کی طرف توجہ دلائی ہے کہ قرآن و حدیث میں جو صبر کی فضیلتیں وارد ہوئی ہیں اس سے وہ صبر مراد ہے جو عین مصیبت اور تکلیف کے وقت ہو نیانیا حادثہ ہے ابھی ابھی کسی کی موت ہوئی ہے یا رقم کھو گئی ہے دل رنجیدہ ہے اس وقت اگر ہم نے صبر کرلیا تو اس صبر کی بہت بڑی قیمت ہے اور بہت بڑی فضیلت ہے بلکہ حقیقت میں صبر ہی وہ ہے جو دل دکھا ہوا ہونے کے وقت ہو کیونکہ جیسے جیسے وقت گزرتا جاتا ہے مصیبت کا احساس طبعی طور پر کم ہوتا چلا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ کچھ دن کے بعد تکلیف کا بالکل احساس نہیں رہتا۔ وقت گزر جانے پر جب مصیبت بھول بھلیاں ہوگئی تو یہ نہ صبر ہے اور نہ اس کی کوئی فضیلت ہے اس میں مومن کافر سب برابر ہیں۔ جس صبر پر مومنین سے اجر کا وعدہ ہے اس سے وہی صبر مراد ہے جو اس وقت ہو جبکہ رنج تازہ ہو، دل بےچین ہو۔ طبیعت بےقرار ہو۔ برے برے وسوسے آ رہے ہوں۔ زبان اللہ پاک پر اعتراض کرنے کے لیے کھلنا چاہتی ہو۔ نفس خلاف شرع کاموں پر ابھارتا ہو۔ ایسی حالت میں صبر کرنا باعث اجر ہے۔ فائدہ : (2) کسی کی موت پر دل کا رنجیدہ ہونا یا آنکھوں سے آنسو آجانا یا زبان سے رنج اور تکلیف کا اظہار کردینا یہ بےصبری نہیں ہے۔ صحیح بخاری میں ص 174 ج 1) ہے کہ حضور اقدس ﷺ اپنے صاحبزادہ حضرت ابراہیم ؓ کی جانکنی کے وقت تشریف لائے اس وقت آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ (عام لوگ تو بچوں کی موت پر روتے ہی ہیں) بھلا آپ بھی رونے لگے آپ نے فرمایا یہ طبعی رحمت ہے (جو اللہ پاک نے دل میں رکھی ہے) پھر فرمایا کہ بیشک آنکھوں سے آنسو جاری ہیں اور دل غم زدہ ہے اور زبان سے ہم وہی کہتے ہیں جس سے ہمارا رب راضی ہو پھر فرمایا اے ابراہیم تمہاری جدائی سے ہم کو رنج ہے۔ اور ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ آنکھوں کے آنسوؤں اور دل کے رنج پر عذاب نہیں دیتا، لیکن وہ زبان کی وجہ سے عذاب دیتا ہے یا رحم فرماتا ہے۔ (ص 174 ج 1) یعنی زبان سے برے کلمات کہنے اور اللہ تعالیٰ پر اعتراض کرنے پر گرفت اور عذاب ہے۔ اور اگر یوں کہا کہ میں اللہ کی قضا اور قدر پر راضی ہوں اس نے جو کچھ کیا بہتر ہے تو اسکی وجہ سے اللہ تعالیٰ رحم فرماتا ہے۔ فائدہ : (3) جس طرح زبان سے برے کلمات نکالنا ممنوع ہے اور بےصبری ہے اسی طرح عمل سے کوئی ایسی حرکت کرنا جو صبر کے خلاف ہے یا غیر مسلموں کا طریقہ ہے اس کو اختیار کرنا بھی سخت ممنوع ہے۔ لوگوں کی عادت ہے کہ مصیبت، دکھ تکلیف کے وقت خاص کر جب کوئی بچہ فوت ہوجائے اپنے چہرے پر طمانچے مارتے ہیں۔ دیوار پر سر دے کر مارتے ہیں گریبان پھاڑتے ہیں۔ جاہلانہ الفاظ زبان سے نکالتے ہیں اور کہتے ہیں میرا ہی بچہ رہ گیا تھا جو اسے اللہ نے موت دی یہ سب جہالت ہے اور اللہ تعالیٰ پر اعتراض کرنا کفر ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ وہ ہم میں سے نہیں ہے جو رخساروں پر طمانچے مارے اور گریبان پھاڑے اور جاہلیت کی دہائی دے۔ (صحیح مسلم ص 70 ج 1) بعض علاقوں میں مرنے والے کے سوگ میں بال منڈا دیتے ہیں اور خاص کر عورتیں تو بہت ہی چیختی ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں اس سے بری ہوں جو (کسی کی موت پر) سرمونڈے آوازیں بلند کرے اور کپڑے پھاڑے۔ (صحیح مسلم ص 70 ج 1) عورتوں کی عادت ہوتی ہے کہ عزیزوں کی موت پر چیختی ہیں اور چلاتی ہیں، گھر سے باہر آوازیں جاتی ہیں اور برس چھ مہینے تک جو بھی کوئی مہمان آئے اس کے سامنے زبردستی کا رونا لے کر بیٹھ جاتی ہیں اور نوحہ کرنا ان کی ایک خاص عادت ہے۔ میت کو خطاب کرکے کہتی ہیں اے میرے پیارے اے میرے جوان اے بیٹا تو کہاں گیا۔ مجھے کس پر چھوڑا تو ایسا تھا ویسا تھا، اور اس طرح کی بہت سی باتیں پکار پکار کر بیان کرتی ہیں اور رونا پیٹنا مہینوں تک کے لیے ان کا مشغلہ بن جاتا ہے۔ باو جود منع کرنے کے اور شرعی ممانعت کے جاننے کے نوحہ کرتی رہتی ہیں حدیث شریف میں ہے لعن اللّٰہ النائحۃ والمسمعۃ کہ اللہ کی لعنت ہو نوحہ کرنے والی پر اور اس کا نوحہ سننے والی پر (رواہ ابو داؤد) حضور اقدس ﷺ نے نوحہ کرنے والی پر لعنت فرمائی اور ساتھ ہی نوحہ سننے والی پر بھی (کیونکہ نوحہ کرنے والی کا نوحہ سننے جو عورتیں جمع ہوں وہ بھی نوحہ کا سبب بنتی ہیں۔ عموماً نوحہ کرنے والی عورت تنہائی میں نوحہ نہیں کرتی) صحیح مسلم ص 303 میں ہے کہ نوحہ کرنے والی موت سے پہلے توبہ نہ کرے گی تو قیامت کے دن اس حال میں کھڑی کی جائے گی کہ اس کے بدن پر ایک کرتہ قطران کا ہوگا اور ایک کرتہ کھجلی کا ہوگا۔ عرب میں قطران ایک درخت کا پانی ہوتا تھا جس کو کھجلی والے بدن پر لگاتے تھے اس کی خاصیت تیزاب جیسی تھی اس سے کھجلی جل جاتی تھی اور کھجلی جل کر آرام ہوجاتا نوحہ کرنے والی کے جسم پر قیامت کے دن اول تو کھجلی مسلط کی جائے گی۔ گویا کرتے کی جگہ کھجلی کا لباس ہوگا پھر اس کھجلی پر قطران لگا ہوا ہوگا جس کی وجہ سے مزید تکلیف ہوگی۔ دنیا میں رواج ہے کہ جب کسی کو ایگزیما اور داد ہوجاتا ہے تو اس پر تیزاب لگا دیتے ہیں۔ اس سے جو تکلیف ہوتی ہے بیان سے باہر ہے اور یہ تکلیف دنیا میں ہوتی ہے آخرت کی تکلیف دنیا کی تکلیفوں سے کہیں زیادہ ہے (العیاذ باللہ) پھر دنیا میں جو تیزاب لگاتے ہو اس سے ایگزیما اور داداچھا ہوجاتا ہے لیکن آخرت میں چونکہ عذاب دینا مقصود ہوگا۔ اس لیے قطران لگا ہوا ہونے سے کھجلی نہیں جائے گی بلکہ اور شدید تکلیف ہوتی رہے گی۔ فائدہ : (4) (اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ ) کے ساتھ ایک اور دعا بھی حدیث شریف میں وار ہوئی ہے۔ ام المومنین حضرت ام سلمہ ؓ نے بیان فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ جس کسی مسلمان کو کوئی مصیبت پہنچ جائے اور وہ اللہ جل شانہ کے فرمان کے مطابق (اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ ) پڑھے اور ساتھ ہی یہ بھی پڑھے : (اَللّٰھُمَّ اٰجِرْنِیْ فِیْ مُصِیْبَتِیْ وَاخْلُفْ لِیْ خَیْرًا مِّنْھَا) ” اے اللہ میری مصیبت میں اجر عطا فرما اور اس کے بدلہ مجھے اس سے بہتر عنایت فرما۔ “ تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کو اس سے بہتر عطا فرمائے گا۔ جب ابو سلمہ کی وفات ہوگئی تو میں نے (دل میں) کہا کہ ابو سلمہ سے بہتر کون سا مسلمان ہوگا ؟ اس کا گھرانہ پہلا گھرانہ ہے جس نے رسول اللہ ﷺ کی طرف ہجرت کی۔ پھر بھی میں نے مذکورہ دعا پڑھ لی لہٰذا مجھے اللہ تعالیٰ نے ابو سلمہ کے بدلہ رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی عطا فرما دی۔ (یعنی آپ سے نکاح ہوگیا اور آپ ابو سلمہ سے بہتر ہیں۔ (صحیح مسلم ص 300 ج 1) فائدہ : (5) یہاں تک جو متعدد احادیث کا ترجمہ لکھا گیا اس سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کے لیے دنیاوی تکالیف اور مصائب، امراض و آلام سب نعمت ہیں ان کے ذریعہ گناہ معاف ہوتے ہیں۔ درجات بلند ہوتے ہیں اور گناہوں کا کفارہ ہوجانے کی وجہ سے برزخ اور روز قیامت کے عذاب سے حفاظت ہوجاتی ہے۔ مومن بندوں پر لازم ہے کہ صبر و شکر کے ساتھ ہر حال کو برداشت کرتے چلیں اور اللہ تعالیٰ سے ثواب کی بہت زیادہ پختہ امید رکھیں اور یقین جانیں کہ ہمارے لیے صحت و عافیت بھی خیر ہے اور دکھ تکلیف بھی بہتر ہے۔ اصل تکلیف تو کافر کی تکلیف ہے۔ اسے تکلیف بھی پہنچی اور ثواب بھی نہ ملا۔ مومن کی تکلیف، تکلیف نہیں ہے۔ اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ مصیبت و تکلیف اور مرض کی دعا کیا کریں یا شفاء کی دعانہ مانگیں۔ کیونکہ جس طرح صبر میں ثواب ہے۔ شکر میں بھی ثواب ہے۔ سوال تو عافیت ہی کا کریں اور کرتے رہیں اور تکلیف پہنچ جائے تو صبر کریں۔ فائدہ : (6) بہت سے لوگ جو آرام و راحت اور دکھ تکلیف کی حکمت اور اس بارے میں قانون الٰہی کو نہیں جانتے بہت سی بےتکی باتیں کہہ جاتے ہیں کہ جہان کی ساری مصیبتیں مسلمانوں پر ہی آپڑی ہیں، کبھی کہتے ہیں کہ کافروں کو محلات اور قصور اور مسلمانوں کو صرف وعدہ حور، کبھی کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے غیروں کو خوب نوازا ہے اور اپنوں کو فقر و فاقہ اور دوسری مصیبتوں میں مبتلا کر رکھا ہے۔ یہ جاہل اتنی بات نہیں جانتے کہ اپنا ہونے ہی کی وجہ سے تو مسلمانوں کو تکلیفوں میں مبتلا فرمایا جاتا ہے تاکہ ان کے گناہ معاف ہوں۔ درجات بلند ہوں۔ اور آخرت میں گناہوں پر سزا نہ ہو۔ درحقیقت یہ بہت بڑی مہربانی ہے کہ دنیا کی تھوڑی بہت تکلیف میں مبتلا فرما کر آخرت کے شدید عذاب سے بچا دیا جاتا ہے اور کافروں کو چونکہ آخرت میں کوئی نعمت نہیں ملنی۔ کوئی آرام نصیب نہیں ہونا بلکہ ان کے لیے صرف عذاب ہی عذاب ہے۔ اس لیے ان کو دنیا زیادہ دے دی جاتی ہے اور ان پر مصیبتیں کم آتی ہیں۔ اگر کسی کافر نے خدمت خلق وغیرہ کا کوئی کام کیا تو اس کا عوض اس دنیا میں دے دیا جاتا ہے۔ لیکن آخرت میں اسے ذراسی بھی خیر اور معمولی سا بھی آرام نہ ملے گا۔ اور ابد الآباد تک دوزخ میں رہے گا۔ صحیح بخاری میں حضرت عمر ؓ سے مروی ہے۔ انہوں نے بیان فرمایا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا کیا دیکھتا ہوں کہ آپ ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے ہیں۔ چٹائی اور آپ کے جسم کے درمیان کوئی بستر نہیں ہے۔ چٹائی کی بناوٹ نے آپ کے مبارک پہلوؤں میں نشان ڈال دئیے ہیں۔ آپ ایسے تکیہ سے ٹیک لگائے ہوئے ہیں جو چمڑے کا ہے۔ جس کے اندر کھجور کی چھال بھری ہوئی ہے۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ اللہ سے دعا کیجیے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی امت کو خوب مال دیدے۔ کیونکہ فارس اور روم کے لوگوں کو وسعت دی گئی ہے اور وہ اللہ کی عبادت بھی نہیں کرتے۔ آپ نے فرمایا کہ اے ابن خطاب کیا تم (ابھی تک) اسی (سوچ بچار) میں پڑے ہو (تمہیں معلوم نہیں) کہ ان لوگوں کو عمدہ چیزیں اس دنیا میں دے دی گئی ہیں۔ (آخرت میں ان کو کچھ نہیں ملنا) ایک روایت میں ہے کہ آپ نے یوں فرمایا کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ ان کے لیے دنیا ہو اور ہمارے لیے آخرت ہو۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 447)
Ayah 2:158

اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَآىِٕرِ اللّٰهِ ۚ— فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِهِمَا ؕ— وَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا ۙ— فَاِنَّ اللّٰهَ شَاكِرٌ عَلِیْمٌ ۟اِنَّ الصَّفَا وَالۡمَرۡوَةَ مِنۡ شَعَآئِرِ اللّٰهِۚ فَمَنۡ حَجَّ الۡبَيۡتَ اَوِ اعۡتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡهِ اَنۡ يَّطَّوَّفَ بِهِمَا ؕ وَمَنۡ تَطَوَّعَ خَيۡرًا ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ شَاكِرٌ عَلِيۡمٌ Open ayah 2:158 in the Quran reader

بیشک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ سو جو شخص بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے اس پر اس بات میں ذرا بھی گناہ نہیں کہ ان دونوں کے درمیان آنا جانا کرے اور جو شخص خوشی سے کوئی کام کرے تو اللہ تعالیٰ قدر دان ہے جاننے والا ہے

حج وعمرہ میں صفا مروہ کے درمیان سعی کرنے کی مشروعیت اور اس کی ابتداء شعائر شعیرۃ کی جمع ہے جس کے معنی علامت کے ہیں صفا اور مروہ مکہ معظمہ میں دو پہاڑیاں ہیں جو کعبہ شریف سے تھوڑے سے فاصلے پر واقع ہیں ان میں صفابہ نسبت مروہ کے کعبہ شریف سے زیادہ قریب ہے۔ حج اور عمرہ میں سات مرتبہ ان دونوں پر آنا جانا ہوتا ہے۔ اس کو سعی کہا جاتا ہے۔ یہ حج اور عمرہ دونوں میں واجب ہے اللہ تعالیٰ شانہ نے صفا اور مروہ کو شعائر اللہ میں سے فرمایا جس کا معنی یہ ہے کہ یہ دونوں اللہ کے دین کی نشانیوں میں سے ہیں۔ ان کے درمیان سعی کی جاتی ہے۔ جو مناسک حج میں سے ہے اور حج اسلام کے پانچ ارکان میں سے ہے اس اعتبار سے دین اسلام میں ان دونوں کی بڑی اہمیت ہے۔ ان دونوں پہاڑوں کے درمیان آنے جانے کی ابتداء کس طرح ہوئی اس کا واقعہ حضرت ابن عباس ؓ سے صحیح بخاری ص 474 ج 1 میں اس طرح نقل کیا ہے کہ بحکم خداوندی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بیٹے اسماعیل کو مکہ معظمہ میں چھوڑ کر تشریف لے گئے (جو اس وقت چٹیل میدان تھا) ان کے پاس ایک تھیلہ میں کچھ کھجوریں اور مشکیزہ میں پانی رکھ دیا، جب واپس ہونے لگے تو حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی والدہ ان کے پیچھے ہو لیں اور کہنے لگیں کہ اے ابراہیم ہمیں یہاں چھوڑ کر آپ کہاں جا رہے ہیں ؟ یہاں نہ کوئی انسان ہے نہ اور کوئی چیز ہے۔ کئی بار انہوں نے یہی سوال کیا وہ سوال کر رہی تھیں اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان کی طرف توجہ نہیں فرما رہے تھے۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی والدہ نے سوال کیا کہ کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں، وہ کہنے لگیں بس تو اللہ ہمیں ضائع نہیں فرمائے گا۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تشریف لے گئے۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی والدہ اپنے بچہ اسماعیل کو دودھ پلاتی رہیں اور جو پانی موجود تھا اس میں سے پیتی رہیں، مشکیزہ میں جو پانی تھا جب وہ ختم ہوگیا تو خود بھی پیاسی ہوگئیں اور بچہ بھی پیاسا ہوگیا، وہ بچہ کو تڑپتا ہوا دیکھ رہی تھیں۔ جب اس کی حالت نہ دیکھی جاسکی تو صفا پہاڑی پر چڑھ گئیں تاکہ بچہ پر نظر نہ پڑے۔ صفا پر کھڑے ہو کر نظر ڈالی کہ کوئی شخص نظر آتا ہے یا نہیں، وہاں کوئی نظر نہ آیاتو صفا سے اتر کر مروہ کی طرف چلیں، درمیان میں نشیب تھا وہاں پہنچیں تو تیزی کے ساتھ دوڑ کر گزر گئیں۔ مروہ پر پہنچ کر پھر نظریں ڈالیں کہ کوئی شخص نظر آتا ہے یا نہیں، وہاں بھی کوئی نظر نہ آیا۔ سات مرتبہ ایسا ہی کیا (کبھی صفا پر جاتیں کبھی مروہ پر) حضرت ابن عباس ؓ نے یہاں تک پہنچ کر رسول اللہ ﷺ کا ارشاد نقل کیا کہ اسی وجہ سے لوگ صفا مروہ کے درمیان سعی کرتے ہیں۔ (یعنی یہ سعی کی ابتداء ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی والدہ کے عمل کو حج وعمرہ کی عبادت کا جزو بنا دیا) جب آخری مرتبہ مروہ پر تھیں تو انہوں نے ایک آواز سنی، آواز سن کر اپنے نفس کو خطاب کرکے کہنے لگیں کہ مطمئن ہوجا۔ اس کے بعد انہوں نے کان لگایا تو پھر آواز سنی، آواز سن کر کہنے لگیں (کہ اے بولنے والے) تو نے آواز تو سنادی اگر تیرے پاس کوئی مدد کی صورت ہے تو ہماری مدد کر دے، اچانک کیا دیکھتی ہیں کہ جس جگہ زمزم ہے وہاں فرشتہ نے اپنی ایڑی سے تھوڑی سی زمین کریدی۔ یہاں تک کہ زمین پر پانی ظاہر ہوگیا۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی والدہ نے وہاں حوض کی صورت بنانی شروع کردی اور اس میں سے اپنے مشکیزہ میں پانی بھر لیا، مشکیزہ میں بھرنے کے بعد بھی پانی جوش مار رہا تھا، حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ رحم فرمائے اسماعیل کی والدہ پر اگر وہ زمزم کو (اپنے حال پر) چھوڑ دیتیں تو زمزم (زمین پر) جاری ہونے والا چشمہ ہوتا، اب انہوں نے اس میں سے پانی پیا اور بچہ کو دودھ پلایا اور فرشتے نے ان سے کہا کہ تم ضائع ہونے سے نہیں ڈرنا کیونکہ یہاں بیت اللہ ہے جسے یہ لڑکا اور اس کا والد دونوں مل کر تعمیر کریں گے، فرشتہ نے یہ بھی کہا بلاشبہ اللہ اپنوں کو ضائع نہیں فرماتا، (اس کے بعد بخاری شریف میں وہاں بنی جرھم کے آباد ہونے اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اسی قبیلہ میں شادی ہونے کا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے تشریف لانے کا اور کعبہ شریف تعمیر کرنے کا ذکر ہے) اللہ تعالیٰ کو حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی والدہ کا صفا مروہ کے درمیان آنا جانا ایسا پسند آیا کہ حج عمرہ کرنے والوں کے لیے اس کو احکام حج وعمرہ میں داخل فرما دیا۔ اللہ کی راہ میں قربانی دینے والوں کی عجیب شان ہوتی ہے۔ زمانہ جاہلیت میں صفا مروہ کی سعی : صحیح بخاری ص 646 ج 2 میں حضرت عاصم بن سلیمان سے نقل کیا ہے کہ ہم نے حضرت انس ؓ سے صفا مروہ کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم لوگ ان پر آنے جانے کو جاہلیت کے کاموں میں سے سمجھتے تھے۔ جب اسلام آیا تو ہم ان پر جانے سے رک گئے۔ اللہ تعالیٰ نے آیت (اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ ) (الایۃ) نازل فرمائی۔ صحیح مسلم ص 414 ج 1 میں اس بارے میں متعدد روایات درج ہیں ایک روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ زمانہ جاہلیت میں انصار منات کے لیے احرام باندھتے تھے (جو ایک مشہور و معروف بت تھا) جب اس کے لیے احرام باندھتے تو صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنے کو حلال نہیں سمجھتے تھے جب حضور اقدس ﷺ کے ساتھ حج کے لیے آئے تو انہوں نے آپ سے اس کا ذکر کیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ نازل فرمائی۔ یہ بیان فرما کر حضرت عائشہ نے فرمایا کہ اللہ اس کا حج پورا نہیں کرے گا جس نے صفا مروہ کے درمیان سعی نہ کی، صحیح بخاری ص 222 ج 1 میں ابوبکر بن عبدالرحمن کا بیان نقل کیا ہے کہ میں نے متعدد اہل علم سے سنا ہے کہ عام طور پر زمانہ جاہلیت میں لوگ صفا مروہ کی سعی کیا کرتے تھے سوائے ان لوگوں کے جن کا حضرت عائشہ ؓ نے ذکر فرمایا (کہ جو لوگ منات کے لیے احرام باندھتے تھے۔ وہ صفا مروہ پر آنے جانے سے بچتے تھے) جب قرآن مجید میں طواف بیت اللہ کا حکم آیا (جو سورة حج میں ہے) اور صفا مروہ کا ذکر نہیں آیا تو لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ہم صفا مروہ پر آیا جایا کرتے تھے اور یہ جاہلیت کے زمانہ کی بات تھی۔ اللہ تعالیٰ نے طواف کے بارے میں حکم نازل فرمایا ہے اور صفا مروہ کا ذکر نہیں فرمایا تو کیا اس بات میں کچھ حرج ہے کہ ہم صفا مروہ پر آنا جانا کریں، اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت (اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَآءِرِ اللّٰہِ ) (آخر تک) نازل فرمائی۔ اس کے بعد ابوبکر بن عبدالرحمن نے فرمایا کہ آیت بالا دونوں فریقین کے بارے میں نازل ہوئی جو لوگ زمانہ جاہلیت میں صفا مروہ پر نہیں جاتے تھے ان کے بارے میں بھی اور جو لوگ زمانہ جاہلیت میں صفا مروہ پر جاتے تھے پھر زمانہ اسلام میں جانے کو پسند نہ کیا ان کے بارے میں بھی۔ حافظ ابن حجر ؓ نے فتح الباری ص 500 ج 3 میں اس بارے میں لمبی بحث کی ہے اور روایات میں تطبیق دینے کی کوشش فرمائی اور نسائی سے نقل کیا ہے کہ صفا مروہ پر تانبہ کے دو بت تھے۔ ایک کا نام اساف تھا اور دوسرے کا نام نائلہ تھا۔ مشرکین (حج یا عمرہ میں صفا مروہ پر جاتے تھے تو ان کو ہاتھ لگاتے تھے) ۔ حضرت شعبی سے منقول ہے کہ ایک بت صفا پر تھا جس کا نام اساف تھا اور ایک بہت مروہ پر تھا جس کو نائلہ کہا جاتا تھا۔ زمانہ جاہلیت میں لوگ صفا مروہ کے درمیان سعی کرتے تھے۔ جب اسلام کا زمانہ آیا تو ان دونوں کو پھینک دیا گیا اب مسلمان کہنے لگے کہ صفا مروہ پر آنا جانا جاہلیت والوں کا کام ہے جو اپنے بتوں کی وجہ سے ان پر آتے جاتے تھے۔ لہٰذا ان دونوں کے درمیان سعی کرنے سے رک گئے اس پر آیت کریمہ نازل ہوئی۔ حضرت عائشہ ؓ کا علمی جواب : حضرت عائشہ ؓ کے بھانجے حضرت عروہ نے حضرت عائشہ ؓ سے سوال کیا کہ یہ جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ (فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِھِمَا) اس میں لفظ لاَ جُنَاحَ سے معلوم ہو رہا ہے کہ جو شخص صفامروہ کی سعی نہ کرے تو کچھ حرج نہیں۔ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ اے میری بہن کے بیٹے اگر بات اس طرح ہوتی جیسے تم کہہ رہے ہو تو آیت کے الفاظ یوں ہوتے (لَا جُنَاحَ عَلَیْہِ اَنْ لا یَطَّوَّفَ بِھِمَا) (یعنی اس پر کوئی گناہ نہیں جو صفا مروہ پر آنا جانا نہ کرے) ۔ آیت میں تو یوں ہے کہ اس پر کوئی گناہ نہیں جو صفا مروہ پر آنا جانا کرے، پھر حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ یہ آیت انصار کے بارے میں نازل ہوئی جو صفا مروہ پر جانے سے رک گئے تھے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اب صفا مروہ پر جائیں یا نہ جائیں تو اس پر یہ آیت (اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَآءِرِ اللّٰہِ ) اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی۔ (مطلب یہ ہے کہ صفامروہ پر جانے میں کچھ حرج نہیں ہے) پھر حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ صفا مروہ کی سعی کو رسول اللہ ﷺ نے مشروع فرمایا ہے۔ کسی کے لیے جائز نہیں ہے کہ ان دونوں کے درمیان سعی چھوڑ دے۔ (صحیح بخاری ص 222 ج 1) سعی کے مسائل : مسئلہ : صفا مروہ کی سعی طواف کے بغیر معتبر نہیں ہے۔ حج کی سعی طواف قدوم کے بعد بھی ہوسکتی ہے اور طواف زیارت کے بعد بھی اور طواف زیارت کے بعد سعی کرنا افضل ہے۔ البتہ جس کا حج قرآن ہو اسے طواف قدوم کے بعد کرنا افضل ہے۔ مسئلہ : پہلے زمانہ میں صفا مروہ کے درمیان ایک جگہ نشیب تھا۔ حضرت اسماعیل کی والدہ وہاں سے دوڑ کر گزری تھیں اس لیے حج وعمرہ میں سعی کرنے والے بھی اس جگہ دوڑ کر گزرتے ہیں۔ اب نشیب نہیں ہے۔ زمین برابر ہموار ہے۔ اوپر چھت پڑی ہوئی ہے اس جگہ کی نشانی کے لیے ہرے ستون بنا دئیے گئے ہیں ایک ہرے ستون سے دوسرے ہرے ستون تک دوڑ کر چلنا مسنون ہے۔ مسئلہ : سعی کے صرف سات چکر ہیں صفا سے مروہ تک ایک ایک چکر اور مروہ سے صفا تک دوسرا چکر ہوتا ہے اسی طرح سات چکر پورے کئے جائیں۔ صفا سے شروع کرکے مروہ پر سعی ختم کی جائے۔ مسئلہ : سعی خود کرنا واجب ہے اس میں نیا بت نہیں ہوسکتی۔ (الایہ کہ کوئی شخص احرام سے پہلے بےہوش ہوجائے تو دوسرا شخص اس کی طرف سے احرام باندھ لے اور مکہ معظمہ پہنچ کر اس کی طرف سے طواف قدوم اور سعی کرے تو یہ صحیح ہے بشرطیکہ اس سے پہلے اسے ہوش نہ آیا ہو۔ مسئلہ : سعی پیدل کرنا لازم ہے۔ اگر کسی نے بلاعذر سواری پر سعی کی اور پھر اعادہ نہیں کیا یعنی دوبارہ نہیں کی تو دم واجب ہوگا۔ مسئلہ : اگر کوئی شخص سعی چھوڑ کر مکہ معظمہ سے چلا گیا تو اس کی تلافی کے لیے ایک دم واجب ہوگا۔ مسئلہ : ہرے ستونوں کے درمیان تیزی سے چلنا صرف مردوں کے لیے ہے عورتوں کے لیے نہیں (کیونکہ ان کی طرف سے ان کی جنس کی ایک عورت یہ کام کرچکی اور اسی کے عمل کی تو یہ نقل ہے جو حج اور عمرہ کا جزو بنا دی گئی ہے) ۔ آیت کے اخیر میں فرمایا (وَ مَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَاِنَّ اللّٰہَ شَاکِرٌ عَلِیْمٌ) کہ جو بھی شخص کوئی اچھا کام اپنیخوشی سے کر دے (جو اس پر فرض واجب نہ ہو) تو اللہ تعالیٰ اس کا بھی ثواب دیں گے۔ اللہ تعالیٰ اعمال صالحہ کی قدر دانی فرماتے ہیں اور جو شخص کوئی عمل کرتا ہے اللہ تعالیٰ کو اس کی پوری طرح خبر ہے۔ خیر و شر کا کوئی ذرہ اس کے علم سے باہر نہیں ہے۔
Ayah 2:159

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَالْهُدٰی مِنْ بَعْدِ مَا بَیَّنّٰهُ لِلنَّاسِ فِی الْكِتٰبِ ۙ— اُولٰٓىِٕكَ یَلْعَنُهُمُ اللّٰهُ وَیَلْعَنُهُمُ اللّٰعِنُوْنَ ۟ۙاِنَّ الَّذِيۡنَ يَكۡتُمُوۡنَ مَآ اَنۡزَلۡنَا مِنَ الۡبَيِّنٰتِ وَالۡهُدٰى مِنۡۢ بَعۡدِ مَا بَيَّنّٰهُ لِلنَّاسِ فِى الۡكِتٰبِۙ اُولٰٓئِكَ يَلۡعَنُهُمُ اللّٰهُ وَ يَلۡعَنُهُمُ اللّٰعِنُوۡنَۙ Open ayah 2:159 in the Quran reader

بیشک جو لوگ چھپاتے ہیں ان چیزوں کو جو ہم نے نازل کیں جو واضح چیزیں ہیں اور ہدایت کی باتیں ہیں بعد اسکے کہ ہم نے اسکو لوگوں کیلئے کتاب میں بیان کیا یہ چھپانے والے وہ لوگ ہیں جن پر اللہ لعنت فرماتا ہے اور ان پر لعنت بھیجتے ہیں لعنت کرنے والے

حق چھپانے والوں کی سزا علامہ واحدی نے اسباب النزول ص 43 ج 1 میں لکھا ہے کہ یہ آیت علماء اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی۔ جنہوں نے آیت رجم کو چھپایا اور آنحضرت ﷺ کی صفات کو (جو توریت شریف میں پڑھتے آئے تھے) پوشیدہ رکھا۔ تفسیر درمنثور میں ہے کہ حضرت معاذ بن جبل اور بعض دیگر انصار نے بعض علماء یہود سے توریت کی بعض باتیں دریافت کیں تو انہوں نے بتانے سے انکار کردیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے مذکورہ بالا آیت نازل فرمائی (ص 161 ج 1) نیز درمنثور ص 162 ج 1 میں یہ بھی ہے کہ حضرت ابو العالیہ نے فرمایا کہ اس آیت میں اہل کتاب کا ذکر ہے جنہوں نے حسد کی وجہ سے سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی اور آپ کی نعت کا کتمان کیا (یعنی اس بات کو بھی چھپایا کہ توریت شریف میں آپ کی بعثت کا ذکر ہے اور آپ کی نعت اور صفت جو توریت شریف میں مذکور تھی اس کو بھی پوشیدہ رکھا) حالانکہ وہ یہ سب کچھ اپنے پاس لکھا ہوا پاتے تھے۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) پر جو کھلی آیات واضحہ اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی تھیں جن میں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا تذکرہ بھی تھا اس کو اہل کتاب نے چھپا یا اور پوشیدہ رکھا، پھر فرماتے ہیں کہ الھدی کا عطف ہے البینات پر اور اس سے عمومی طور پر ہدایت کی سب چیزیں مراد ہیں۔ جن میں حضرت خاتم النّبیین پر ایمان لانا اور آپ کا اتباع کرنا بھی شامل ہے۔ اور آیات اگرچہ اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئیں لیکن ان کا حکم سب کے لیے عام ہے یعنی علم دین کا چھپانا ہر جاننے والے کے لیے گناہ ہے۔ (ص 26۔ 27 ج 2) صحیح بخاری ص 22 ج 1 میں ہے کہ حضرت ابو ہریرۃ ؓ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں اگر دو آیتیں نہ ہوتی (جن میں علم چھپانے کی وعید مذکور ہے) تو میں ایک حدیث بھی بیان نہ کرتا پھر انہوں نے مذکورہ بالاآیات تلاوت فرمائیں اور سنن ابن ماجہ ص 23 میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے کوئی ایسا علم چھپایا جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ دینی معاملہ میں نفع پہنچاتا ہے تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کے منہ میں آگ کی لگام لگائے گا۔ اللہ تعالیٰ کی نازل فرمودہ آیات بینات اور ہدایت کے چھپانے والوں کے بارے میں فرمایا : (اُولٰٓءِکَ یَلْعَنُھُمُ اللّٰہُ وَ یَلْعَنُھُمُ اللّٰعِنُوْنَ ) (کہ اللہ تعالیٰ ان پر لعنت فرماتا ہے اور دوسرے لعنت کرنے والے بھی ان پر لعنت بھیجتے ہیں۔ لعنت کا معنی ہے رحمت سے دور کردینا، اللہ تعالیٰ ان کو اپنی رحمت سے دور فرمایا ہے اور دوسرے لعنت کرنے والے بھی ان کے لیے بد دعا کرتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں۔ تفسیر درمنثور ص 162 ج 1 میں حضرت عطاء سے نقل کیا ہے کہ لعنت کرنے والوں سے جنات اور انسان اور زمین پر چلنے والے تمام جاندار مراد ہیں پھر فرمایا (اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ بَیَّنُوْا) (الایۃ) یعنی جن لوگوں نے توبہ کرلی اور اصلاح کرلی اور بیان کردیا تو میں ان کی توبہ قبول کرلوں گا۔