2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 2:275

اَلَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُهُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ ؕ— ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْۤا اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا ۘ— وَاَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا ؕ— فَمَنْ جَآءَهٗ مَوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ فَانْتَهٰی فَلَهٗ مَا سَلَفَ ؕ— وَاَمْرُهٗۤ اِلَی اللّٰهِ ؕ— وَمَنْ عَادَ فَاُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ— هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ ۟اَلَّذِيۡنَ يَاۡكُلُوۡنَ الرِّبٰوا لَا يَقُوۡمُوۡنَ اِلَّا كَمَا يَقُوۡمُ الَّذِىۡ يَتَخَبَّطُهُ الشَّيۡطٰنُ مِنَ الۡمَسِّ‌ؕ ذٰ لِكَ بِاَنَّهُمۡ قَالُوۡۤا اِنَّمَا الۡبَيۡعُ مِثۡلُ الرِّبٰوا‌ ۘ‌ وَاَحَلَّ اللّٰهُ الۡبَيۡعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا‌ ؕ فَمَنۡ جَآءَهٗ مَوۡعِظَةٌ مِّنۡ رَّبِّهٖ فَانۡتَهٰى فَلَهٗ مَا سَلَفَؕ وَاَمۡرُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ‌ؕ وَمَنۡ عَادَ فَاُولٰٓئِكَ اَصۡحٰبُ النَّارِ‌ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰلِدُوۡنَ Open ayah 2:275 in the Quran reader

جو لوگ کھاتے ہیں سود وہ نہیں کھڑے ہوں گے مگر جیسے کہ کھڑا ہوتا ہے وہ شخص جسے شیطان لپٹ کر مخبوط بنا دے، یہ اس لیے کہ انہوں نے کہا کہ بیع تو سود ہی کی طرح سے ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے بیع کو حلال قرار دیا اور سود کو حرام قرار دیا، سو جس کے پاس آگئی نصیحت اس کے رب کی طرف سے پھر وہ باز آگیا تو اس کے لیے وہ ہے جو گزر چکا، اور اس کا معاملہ اللہ کی طرف ہے، اور جو شخص پھر عود کرے سو یہ لوگ دوزخ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

سود خوروں کی مذمت ان آیات میں سود خوروں کی مذمت بیان فرمائی ہے اور ان کا حال بیان فرمایا ہے جو قیامت کے دن ان کو پیش آئے گا یعنی وہ قیامت کے دن قبروں سے اس طرح حیران اور مدہوش کھڑے ہوں گے جیسے کسی کو شیطان لپٹ چپٹ جائے اور وہ اس کی وجہ سے مخبوط ہوجائے یعنی اس کے ہوش خطا ہوجائیں، مبہوت ہوجائے۔ بہکی بہکی باتیں کرے اس کا دل اور دماغ کام نہ کرسکے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس رات مجھے معراج کرائی گئی میں ایسے لوگوں پر گزرا جس کے پیٹ بیوت یعنی گھروں کی طرح سے تھے ان میں سانپ بھرے ہوئے تھے جو ان کے پیٹوں کے باہر سے نظر آ رہے تھے۔ میں نے کہا، اے جبریل یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ یہ سود کھانے والے ہیں۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 246 بحوالہ احمد و ابن ماجہ) جس کے سامنے ایک سانپ ہو اس کی حیرانی اور پریشانی کا تصور کرو، پھر یہ سوچو کہ اگر کسی کے پیٹ میں ایک سانپ ہو تو اس کا کیا حال ہوگا اور اس کے بعد یہ غور کرو کہ جس کا پیٹ گھر کے برابر ہو اور اس میں سانپ بھرے ہوئے ہوں اس کا کیا حال ہوگا اور کیا ہوش برقرار رہے گا۔ سود خوروں کی قیامت کے دن کی حالت بتا کر یہ بتایا کہ یہ لوگ سود کو حلال قرار دینے کے لیے یوں کہتے ہیں کہ سود میں اور بیع میں فرق کیا ہے کاروبار کرنے میں بھی زیادہ مال ملتا ہے۔ اور سود کے لین دین میں بھی زیادہ مال ملتا ہے۔ لہٰذا بیع کی طرح سود لینا بھی صحیح ہوا۔ اس بات کو سود لینے والے مختلف الفاظ میں ادا کرتے ہیں۔ بعض لوگ اس کو نفع کے نام سے کھا جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ہمارے پیسے کا نفع ہے حالانکہ کسی چیز کا نام بدلنے سے حقیقت نہیں بدل جاتی اور حرام حلال نہیں ہوجاتا۔ اللہ تعالیٰ نے سود کو حرام قرار دیا ہے وہ ہمیشہ حرام ہی رہے گا، جب سے بینکوں کا نظام جاری ہوا ہے لوگوں کو سود لینے کی عادت ہوگئی ہے اور جب تک سود نہ کھائیں ان کے نفس کو تسلی ہی نہیں ہوتی اور علماء کو خصوصیت کے ساتھ ہدف ملامت بناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مولویوں نے قوم کو سود لینے سے اور سودی کاروبار سے روک دیا جس کی وجہ سے قوم بہت نیچے چلی گئی اور دوسری قومیں سودی کار و بار کرکے بام عروج پر پہنچ گئیں۔ بھلا مولوی کی کیا مجال ہے کہ وہ اپنے پاس سے خود کچھ کہے۔ وہ تو حکم سنانے والا ہے۔ حلال چیز کو حرام قرار دینا اس کے عہدہ میں کب ہے۔ ؟ جن لوگوں کو حرام کا ذوق ہے وہ اللہ پر اور اس کے رسول ﷺ پر اعتراض کرتے ہیں کہ بیع اور سود میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَ اَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا) کہ اللہ نے بیع کو حلال قرار دیا اور سود کو حرام قرار دیا پھر کیسے فرق نہیں ہے ؟ ایک چیز حلال ہے دوسری چیز حرام ہے یہ بہت بڑا فرق ہے اور بیع اور سود کی حقیقت میں بھی فرق ہے۔ بیع تو مال سے مال کے مبادلہ کو کہا جاتا ہے پوری قیمت کے بدلہ مال آجاتا ہے اور سود میں یہ ہوتا ہے کہ جتنا قرض دیا وہ پورا وصول کرلیا جاتا ہے اور اس کے سوا الگ سے بھی زائد رقم لی جاتی ہے، فقہاء نے لکھا ہے کہ ہر وہ قرض جو ذرا سا بھی زائد کچھ لے کر آئے تو وہ سود ہے۔ (کل قرض جرنفعا فھو ربوا) حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص کسی کو کچھ قرض دے پھر قرض لینے والا کچھ ہدیہ دے یا اپنے جانور پر سوار کرلے تو نہ سوار ہو نہ ہدیہ قبول کرے۔ ہاں اگر ان کے درمیان اس سے پہلے ہدیہ لینے دینے کا تعلق تھا تو وہ اور بات ہے۔ (رواہ ابن ماجہ البیہقی فی شعب الایمان کمافی المشکوٰۃ ص 246) حضرت ابو بردہ ؓ نے بیان فرمایا کہ میں مدینہ منورہ میں حاضر ہوا۔ حضرت عبداللہ بن سلام ؓ سے ملاقات کی انہوں نے فرمایا کہ تم ایسی سر زمین میں رہتے ہو جہاں سود کا لین دین رواج پائے ہوئے ہے جب کسی پر کچھ قرض ہو پھر وہ تمہیں بھوسہ کی ایک گٹھڑی یا جو کی گٹھڑی یا رسی میں بندھی ہوئی سبزی بھی دینا چاہے تو اس کو مت لینا کیونکہ وہ سود ہے۔ (رواہ البخاری) حضرت امام ابوحنیفہ (رح) کی احتیاط کا تو یہ عالم تھا کہ جب کسی قرضدار سے تقاضا کرنے کے لیے تشریف لے جاتے تھے تو اس کی دیوار کے سایہ میں کھڑے نہ ہوتے تھے تاکہ قرضدار کی کسی چیز سے انتفاع نہ ہو جس کو قرض دیا ہو اس سے ہدیہ لینے کی ممانعت سے اس بات کا جواب بھی نکل آیا کہ جو شخص سود دیتا ہے۔ وہ اپنی خوشی سے دیتا ہے پھر اس کے لینے پر کیوں پابندی ہے ؟ ہدیہ لینے کی ممانعت سے معلوم ہوا کہ خوشی سے دینے پر بھی سود لینا حلال نہیں ہے۔ جبکہ قرضدار سے ہدیہ لینا بھی حلال نہیں ہے تو سود کے نام سے اور سود کے عنوان سے جو کچھ طے کر کے لیا جائے اس کے حلال ہونے کا ذکر ہی کیا ہے ؟ باہمی رضا مندی سے نہ سود حلال ہے نہ رشوت حلال ہے نہ زنا حلال ہے۔ سود کا لین دین پرانی امتوں میں بھی حرام تھا۔ سورة نساء میں فرمایا : (فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِیْنَ ھَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَیْھِمْ طَیِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَھُمْ وَ بِصَدِّھِمْ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ کَثِیْرًا وَّ اَخْذِھِمُ الرِّبٰوا وَ قَدْ نُھُوْا عَنْہُ وَ اَکْلِھِمْ اَمْوَال النَّاس بالْبَاطِلِ وَ اَعْتَدْنَا لِلْکٰفِرِیْنَ مِنْھُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا) (سو یہودیوں کے ظلم کی وجہ سے ہم نے ان پر پاکیزہ چیزیں حرام کردیں جو ان کے لیے حلال تھیں اور اس وجہ سے کہ وہ کثرت سے اللہ کے راستہ سے روکنے کا کام کرتے تھے اور ان کے سود لینے کی وجہ سے حالانکہ ان کو اس سے روکا گیا تھا، اور باطل طریقوں سے لوگوں کے مال کھانے کی وجہ سے، اور ہم نے ان کے لیے جو ان میں سے کفر پر ثابت رہے، درد ناک عذاب تیار کیا ہے) چونکہ سودی لین دین میں غریبوں پر ظلم ہوتا ہے۔ اور مہاجن لوگ گھر بیٹھے ہوئے عوام کا خون چوستے ہیں اس لیے سود کھانے کی وہ سزا جو عالم برزخ میں ہے رسول اللہ ﷺ کو ایک خواب میں یوں دکھائی گئی کہ ایک شخص خون کی نہر میں کھڑا ہے اور نہر کے کنارے ایک آدمی ہے جس کے سامنے پتھر ہیں جو شخص نہر میں ہے وہ نکلنا چاہتا ہے تو یہ شخص اس کے منہ پر پتھر مار دیتا ہے جس کی وجہ سے وہ اسی جگہ چلا جاتا ہے جہاں پہلے تھا جب بھی وہ شخص نکلنا چاہتا ہے تو یہ شخص اس کے منہ پر پتھر مار دیتا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنی جگہ چلا جاتا ہے، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے دونوں ساتھیوں سے پوچھا جن میں ایک جبریل اور دوسرے میکائیل تھے ( علیہ السلام) کہ یہ کیا ماجرا ہے ؟ ان دونوں نے بتایا کہ یہ شخص جو نہر کے اندر ہے سود کھانے والا ہے۔ (صحیح بخاری ص 185 ج 1) کیونکہ سود کا لین دین بہت ہی بڑا گناہ ہے اس لیے سود سے متعلق ہر شخص پر لعنت کی گئی ہے۔ حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے لعنت بھیجی ہے سود کھانے والے پر اور سود کھلانے والے پر اور اس کی لکھا پڑھی کرنے والے پر اور اس کے گواہوں پر، اور فرمایا کہ یہ لوگ گناہ میں سب برابر ہیں۔ (رواہ مسلم ص 27 ج 1) جو لوگ سودی کاغذات لکھتے ہیں اس کی فائلیں بنا کر رکھتے ہیں سودی لین دین کی فرموں اور کمپنیوں اور بینکوں میں کام کرتے ہیں اور جو سود لیتے ہیں اور سود دیتے ہیں وہ اپنے بارے میں غور کرلیں کہ لعنت کے کام میں مشغول ہیں۔ گناہ کی مدد بھی حرام ہے اور جس نوکری میں گناہ کرنا پڑے وہ بھی حرام ہے اور اس کی تنخواہ بھی حرام ہے۔ سود کا لین دین کرنے والوں اور زیادہ آمدنی کی خواہش رکھنے والوں کو مفتیوں کی بات ناگوار تو لگتی ہے مگر حق تو کہنا ہی پڑتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن حنظلہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سود کا ایک درہم جو انسان کھالے اور وہ جانتا ہو کہ یہ سود کا ہے تو یہ چھتیس (36) مرتبہ زنا کرنے سے بھی زیادہ سخت ہے۔ (رواہ احمد والدار قطنی مشکوٰۃ ص 246) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سود کے ستر حصے ہیں ان میں سب سے ہلکا یہ ہے کہ جیسے کوئی شخص اپنی ماں کے ساتھ برا کام کرے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 246) بیع کی حلت اور سود کی حرمت بیان فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا : (فَمَنْ جَآءَ ہٗ مَوْعِظَۃٌ مِّنْ رَّبِّہٖ فَانْتَہٰی فَلَہٗ مَا سَلَفَ ) کہ جس کے پاس اس کے رب کی طرف سے نصیحت آگئی سو جو کچھ گزر چکا وہ اسی کے لیے ہے یعنی اب تک جو سود لیا اس پر مؤاخذہ نہ ہوگا قال النسفی فی مدارک التنزیل ص 138 ج 1 فلا یؤاخذ بما معنی منہ لأنہ اخذ قبل نزول التحریم یعنی گزشتہ عمل پر اس کا مؤاخذہ نہ ہوگا کیونکہ اس نے حرمت نازل ہونے سے پہلے لیا ہے۔ صاحب روح المعانی ص 51 ج 3 لکھتے ہیں کہ یہ سود واپس نہ کروایا جائے گا کیونکہ حرمت نازل ہونے سے پہلے حرمت کا قانون نافذ نہیں تھا۔ لہٰذا معاف کردیا گیا۔ پھر فرمایا (وَ اَمْرُہٗٓ اِلَی اللّٰہِ ) کہ نصیحت اور موعظت کے بعد جس نے توبہ کرلی اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔ اگر سچے دل سے توبہ کی ہے تو اللہ کے یہاں قبول ہوگی۔ اور جھوٹی توبہ کی ہے تو نفع نہیں دے گی، ظاہری توبہ کے بعد بندوں کو بدگمانی کا کوئی موقع نہیں۔ اور جس نے پہلی بات کی طرف عود کیا یعنی سود کو حلال بنایا اور یوں کہا کہ وہ توبیع کی طرح سے ہے تو ایسا کہنے والے دوزخ والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ تفسیر مدارک و روح المعانی کی تصریح سے معلوم ہوا کہ فَلَہٗ مَا سَلَفَ نزول تحریم سے پہلے جو سود لیا تھا اس سے متعلق ہے۔ بعد تحریم کے بعد جو شخص سود لے گا وہ واپس ہوگا۔
Ayah 2:276

یَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَیُرْبِی الصَّدَقٰتِ ؕ— وَاللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ اَثِیْمٍ ۟يَمۡحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَيُرۡبِى الصَّدَقٰتِ‌ؕ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ اَثِيۡمٍ Open ayah 2:276 in the Quran reader

اللہ مٹاتا ہے سود کو اور بڑھاتا ہے صدقات کو، اور اللہ دوست نہیں رکھتا کسی کفر کرنے والے، گناہ کرنے والے کو

صدقات کی برکات اور سود کی بربادی سود خوروں کی مذمت بیان فرمانے کے بعد اس آیت شریفہ میں سود اور صدقات کے درمیان ایک فرق عظیم بتایا ہے اور وہ یہ کہ صدقات کو اللہ تعالیٰ بڑھاتا ہے اور سود کے مال کو بےبرکت کردیتا ہے اور اس کو برباد اور تلف فرما دیتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ سود اگرچہ بہت ہوجائے اس کا انجام کمی کی طرف ہوجائے گا۔ (رواہ ابن ماجہ والبیہقی فی شعب الایمان و احمد کما فی المشکوٰۃ ص 246) دنیا میں سودی مالوں کی بےبرکتی تو سب کی نظروں کے سامنے ہے، سود خور ہمیشہ ایک کے دس کرنے ہی کے فکر میں رہتا ہے اور پیسہ ہی اس کی زندگی بن جاتا ہے۔ خدائے پاک کی رضا کے لیے کوئی کام کرے اس سے تو اس کا ذہن فارغ ہی رہتا ہے اس میں بےرحمی بھی پیدا ہوجاتی ہے۔ حاجت مند کی حاجت دیکھتا ہے اور اس کی مجبوری سے مال حاصل کرنے کا راستہ نکالتا ہے اور مجبور اور بےکس کو سود پر قرض دے دیتا ہے اور خیر کے کاموں میں اس کا مال خرچ ہونے کا تو ذکر ہی کیا ہے ؟ پھر سود سے جو مال جمع ہوتا ہے اس سے اسباب معیشت تو جمع ہوجاتے ہیں لیکن سکون و اطمینان سلب ہوجاتا ہے۔ اسباب راحت ہیں۔ راحت نہیں، پھر یہ سودی اموال ہلاک ہوجاتے ہیں مالوں سے بھرے ہوئے جہاز ڈوب جاتے ہیں اور بینک دیوالیے ہوتے رہتے ہیں، یہ سب باتیں نظروں کے سامنے ہیں اگر کسی سود خود کا مال دنیا میں ہلاک اور برباد نہ ہوا تو آخرت میں لے جانے کا ذریعہ بنے گا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو بھی کوئی شخص حرام مال کما کر صدقہ کرے گا تو وہ قبول نہ ہوگا اور جو کچھ اس میں سے خرچ کرے گا تو اس میں برکت نہ ہوگی۔ اور اپنے پیچھے چھوڑ کر جائے گا تو وہ اس کے لیے دوزخ کی آگ میں لیجانے والا توشہ بنے گا۔ (رواہ احمد کمافی المشکوٰۃ ص 242) پھر جو حرام مال آل و اولاد پر زندگی میں خرچ ہوتا ہے اور جو موت کے بعد ان کو پہنچے گا اور ان پر خرچ ہوگا وہ ان کے لیے بھی و بال ہوگا۔ حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو گوشت حرام سے بڑھا ہو، جنت میں داخل نہ ہوگا اور جو گوشت حرام سے بڑھا دوزخ کی آگ اس کی زیادہ مستحق ہوگی۔ (احمد و دارمی، مشکوٰۃ ص 242) اس مال کی کثرت کس کام کی جو صاحب مال کے لیے اور اس کی اولاد کے لیے دوزخ میں جانے کا ذریعہ بنے اور دنیا میں بےبرکت ہو اور اس کی وجہ سے آرام و چین مفقود ہو، بر خلاف حلال مال کے کہ وہ خواہ تھوڑا ہی ہو اس میں برکت ہوتی ہے۔ اس میں سے جو صدقہ کردیا جائے وہ اللہ تعالیٰ کے یہاں مقبول ہوتا ہے اور تھوڑا مال بھی اللہ کی راہ میں خرچ کردیا جائے تو بہت زیادہ چند در چند مضاعف کردیا جاتا ہے جس کا بےانتہا ثواب آخرت میں ملے گا۔ پھر فرمایا (وَ اللّٰہُ لَا یُحِبُّ کُلَّ کَفَّارٍ اَثِیْمٍ ) یعنی جو شخص سود کی حرمت کا قائل نہ ہو اس کو حلال سمجھے اور کفر اختیار کرے اور سود کھا کھاکر خدائے پاک کی نافرمانی کرے اللہ تعالیٰ کو ایسا شخص پسند نہیں ہے وہ شخص اللہ کا مبغوض ہے۔
Ayahs 2:277–278

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۚ— وَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَلَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ ۟اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ لَهُمۡ اَجۡرُهُمۡ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ‌ۚ وَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ Open ayah 2:277 in the Quran reader

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کیے اور نماز قائم کی اور زکوٰۃ ادا کی سو ان کے لیے ان کا ثواب ہے ان کے رب کے پاس نہ وہ خوفزدہ ہوں گے اور نہ غمگین ہوں گے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۟يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَذَرُوۡا مَا بَقِىَ مِنَ الرِّبٰٓوا اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ Open ayah 2:278 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور سود میں سے جو کچھ باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو ۔ اگر تم ایمان والے ہو

مومنوں، نمازیوں اور زکوٰۃ دینے والوں کا اجر وثواب ابھی سود کے بارے میں بعض احکام کا بیان باقی ہے۔ درمیان میں اہل ایمان کی فضیلت اور ان کا اجر وثواب بیان فرما دیا، اور ان کے بعض اعمال خاصہ کا تذکرہ فرمایا یعنی نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ دینا اور فرمایا کہ بروز قیامت ان لوگوں پر کوئی خوف نہ ہوگا اور رنجیدہ نہ ہوں گے بر خلاف سود لینے والوں کے کہ وہ وہاں دیوانوں کی طرح کھڑے ہوں گے مخبوط الحواس ہوں گے۔ اموال دنیا میں چھوڑ چکے ہوں گے اور وہاں ان اموال کے حاصل کرنے اور خرچ کرنے کی وجہ سے عذاب میں ڈالے جائیں گے۔ اول تو مال حرام والے نیک کاموں میں پیسے خرچ کرتے ہی نہیں اور اگر خرچ کر بھی دیں تو آخرت میں ان کا کچھ اجر نہیں نمازوں اور زکوٰۃ اور صدقات والے وہاں آرام اور چین سے ہوں گے کوئی خوف ان کو لاحق نہ ہوگا اور سود خوروں کا برا حال ہوگا، جیسا کہ پہلی آیت میں مذکور ہوا۔
Ayah 2:279

فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ۚ— وَاِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْ ۚ— لَا تَظْلِمُوْنَ وَلَا تُظْلَمُوْنَ ۟فَاِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلُوۡا فَاۡذَنُوۡا بِحَرۡبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ‌ۚ وَاِنۡ تُبۡتُمۡ فَلَـكُمۡ رُءُوۡسُ اَمۡوَالِكُمۡ‌ۚ لَا تَظۡلِمُوۡنَ وَلَا تُظۡلَمُوۡنَ Open ayah 2:279 in the Quran reader

پس اگر تم نہ کرو تو جنگ کا اعلان سن لو اللہ کی طرف سے اور اس کے رسول کی طرف سے، اور اگر تم توبہ کرلو تو تمہارے لیے اصل مال ہیں نہ تم ظلم کرو گے نہ تم پر ظلم کیا جائے گا۔

سود خوروں کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان جنگ اس آیت کا سبب نزول بیان کرتے ہوئے علماء تفسیر نے نقل کیا ہے کہ قبیلہ بنی ثقیف کے چار آدمی جو آپس میں بھائی بھائی تھے بنی مغیرہ سے سود کا معاملہ کرتے تھے یعنی بنی مغیرہ کو سود پر قرض دیتے تھے۔ جب طائف پر رسول اللہ ﷺ کا غلبہ ہوگیا (اور طائف اسلامی علاقہ میں داخل ہوگیا) تو یہ چاروں بھائی بھی مسلمان ہوگئے، انہوں نے بنی مغیرہ سے اپنا سود طلب کیا تو بنی مغیرہ نے کہا کہ اللہ کی قسم ہم اسلام قبول کرنے کے بعد سود نہیں دیں گے جبکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو ختم فرما دیا ہے، یہ قضیہ حضرت عتاب بن اسید ؓ کی خدمت میں پیش ہو جو مکہ معظمہ پر رسول اللہ ﷺ کی طرف سے عامل یعنی حاکم تھے۔ انہوں نے پورا واقعہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لکھ کر بھیج دیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ شانہ نے آیت نازل فرمائی، سودی مال بہت زیادہ تھا۔ آیت شریفہ سن کر ان لوگوں نے اپنا سود چھوڑ دیا۔ آیت شریفہ میں باقی سود چھوڑنے کا حکم فرمایا اور یہ بھی فرمایا کہ تم اصلی مال لے سکتے ہو، نیز یہ بھی فرمایا کہ اگر تم سود چھوڑنے کو تیار نہیں ہو تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان جنگ سن لو، یہ بات سن کر لوگوں نے کہا کہ ہمیں اللہ سے مقابلہ کی کہاں طاقت ہے ؟ کس کے بس کی بات ہے جو اللہ سے جنگ کرے ؟ ہم اپنا سود چھوڑتے ہیں۔ آیت کا سبب نزول ہم نے اس لیے ذکر کیا کہ کوئی ایسا شخص جو مسلمان ہے اور اس نے سود پر قرضے دے رکھے ہیں اور بہت سے سود وصول بھی کر رکھے ہیں وہ آیت کا مطلب یہ نہ نکال لے کہ جو سود میں نے اب تک لیا ہے وہ میرے لیے حلال ہے باقی سود چھوڑ دیتا ہوں اور اصل مال لے لیتا ہوں، آیت میں ان لوگوں کا ذکر ہے جن لوگوں نے زمانہ کفر میں سود پر قرضے دئیے تھے اور بہت سا سود قرض داروں سے وصول کرچکے تھے، وہ اسلام قبول کرنے کے بعد بھی باقی سود وصول کرنا چاہتے تھے ان کو حکم فرمایا کہ جو سود باقی ہے اس کو چھوڑ دو ۔ جو کوئی مسلمان سود پر قرضے دے کر سود وصول کرچکا ہو اس کا حکم اس آیت میں مذکور نہیں ہے، اگر کسی مسلمان نے سود لیا ہے اگرچہ سود دینے والے نے خوشی سے دیا ہے تو اس کا واپس کردینا واجب ہے، اگر یاد نہ رہا ہو کہ کس کس سے لیا ہے تو جتنا مال سود کا وصول کیا تھا اس کا صدقہ کردینا واجب ہے، جن لوگوں نے سودی قرضے دے رکھے ہیں وہ تو بہ کریں کہ سود وصول نہ کریں گے اگر توبہ نہیں کرتے تو اپنا انجام سوچ لیں کیونکہ اللہ تعالیٰ سے جنگ کرنا ہے اور اس کی گرفت و عذاب سے نڈر ہوجانا ہے جو اموال سود کے طور پر لے چکے ہیں ان کو واپس کریں جن سے سود لیا ہے البتہ اپنا حاصل مال وصول کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ سود لے کر ظلم نہ کریں، اور جن لوگوں پر قرضے ہیں وہ اصل مال روک کر قرض دینے والوں پر ظلم نہ کریں۔ بنکوں میں جو رقمیں رکھتے ہیں اور ان پر سود لیتے ہیں یہ سخت حرام ہے اگرچہ ان کا نام نفع رکھ لیں۔ توبہ کریں اور وہاں سے اپنا اصلی مال لے لیں، نام رکھنے سے حقیقت نہیں بدل جاتی اور سود کا نام نفع رکھنے سے نفع نہیں ہوجاتا، جو لوگ سود کا نام نفع رکھ لیتے ہیں اور پھر سود لیتے رہتے ہیں ان کا قول انہی لوگوں کے قول کے مطابق ہوجاتا ہے جنہوں نے (اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبوٰ ) کہ تھا۔ اللہ پاک نے ان کی تردید فرمائی اور (وَ اَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا) فرمایا، جب کسی چیز کا رواج ہوجاتا ہے وہ خواہ کیسی ہی بری چیز ہو اس کی قباحت اور شناعت دلوں سے اٹھ جاتی ہے۔ جب سے بینکوں کا سلسلہ چلا ہے لوگ بینکوں سے سود لینے کے خوگر ہوگئے ہیں اور اس کی قباحت دلوں سے جاتی رہی ہے اور سود کو حلال کرنے کے لیے کہتے ہیں کہ صاحب بینک والے ہمارے پیسوں سے تجارت کرتے ہیں نفع کماتے ہیں ہمیں بھی انہوں نے اگر نفع میں شریک کرلیا تو کیا ہوا ؟ یہ ان کی جہالت و گمراہی کی بات ہے۔ وہ بینک تجارت تو کرتا ہے، اور تمہارے پیسوں سے کرتا ہے لیکن تم نے بینک کو مال مضاربت کے اصول پر نہیں دیا، تمہیں فی صد ایک متعین رقم مل جاتی ہے۔ شرعی اصول سے یہ سود ہے، باتوں کی ہیرا پھیری سے سود حلال نہ ہوگا۔ فائدہ : جو شخص سود نہ چھوڑے اس کے لیے اللہ پاک نے اپنی طرف سے اور اپنے رسول ﷺ کی طرف سے اعلان جنگ فرمایا، اس طرح کا مضمون ان لوگوں کے بارے میں بھی آیا ہے جو اللہ کے دوستوں سے دشمنی کریں، صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : (اِنَّ اللّٰہ تَعَالیٰ قَالَ مَنْ عَادٰی لِیْ وَلِیًّا فَقَدْ اَذَنْتُہٗ بالْحَرْبِ ) (کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص میرے کسی دوست سے دشمنی کرے تو اس سے میں جنگ کا علان کرتا ہوں) ۔ اور ایک حدیث میں ارشاد ہے۔ من عادٰی للّٰہ ولیا فقد بارز اللّٰہ بالمحاربۃ (مشکوٰۃ المصابیح ص 455 ازابن ماجہ والبیہقی فی شعب الایمان) یعنی جس نے اللہ کے کسی ولی سے دشمنی کی وہ اللہ سے جنگ کرنے کے لیے میدان میں آگیا، شراح حدیث نے لکھا ہے کہ یہی دو گناہ ایسے ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں ان کا ارتکاب کرنے والوں سے اعلان جنگ کرتا ہوں اور یہ دونوں گناہ ایسے ہیں جو آج کل بہت زیادہ رواج پا گئے ہیں۔ سود کا لین دین بھی بہت ہو رہا ہے۔ اور جو اولیاء اللہ ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہوتے ہیں۔ عبادت و تلاوت میں لگے رہتے ہیں قرآن و حدیث کے علوم پڑھتے ہیں۔ دینی علوم و اعمال کی طرف بلاتے ہیں دین کے لیے محنتیں کرتے ہیں۔ ان لوگوں سے دشمنی کی جاتی ہے۔ ان حالات میں اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے امید وار بھی ہیں جس سے لڑائی ہے اس سے امید رحمت کیسی ناسمجھی کی بات ہے۔
Ayah 2:280

وَاِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰی مَیْسَرَةٍ ؕ— وَاَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ۟وَاِنۡ كَانَ ذُوۡ عُسۡرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَيۡسَرَةٍ ‌ؕ وَاَنۡ تَصَدَّقُوۡا خَيۡرٌ لَّـكُمۡ‌ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ Open ayah 2:280 in the Quran reader

اور اگر تنگ دست ہو تو مہلت دینا ہے آسودہ ہوجانے تک، اور یہ بات کہ تم صدقہ کر دو تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو

تنگدست قرضدار کو مہلت دینا اس آیت میں تنگ دست قرض دار کو مہلت دینے کی ترغیب دی ہے کہ جب تک مال میسر نہ ہو اس کو مہلت دیدو، اور یہ بھی فرمایا کہ اگر اس پر صدقہ کر دو یعنی اپنا قرض بالکل ہی معاف کر دو تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے۔ سود خوروں کا یہ طریقہ ہوتا ہے کہ ادھار کی وجہ سے اصل مال پر زائد رقم لیتے ہیں اور جب قرضدار وقت پر ادا نہ کرسکے تو دل سے خوش ہوتے ہیں اور سود کی رقم کو اصل کے ساتھ ملا کر مزید سود لگا دیتے ہیں، اللہ جل شانہ نے اس کے خلاف حکم دیا کہ اول تو اصل رقم سے زائد نہ ٹھہراؤ (غریب کی حاجت پوری کرنے کے لیے قرض دے دو ) پھر جب دیکھو کہ باو جود مقررہ اجل پورا ہونے کے وہ ادائیگی پر قادر نہیں تو اس کو مہلت دیدو، اور اگر بالکل معاف ہی کر دو تو یہ اور زیادہ بہتر ہے۔ معاف کرنے کو صدقہ سے تعبیر فرمایا جس میں اس طرف اشارہ ہے کہ جس طرح صدقہ دینے سے مال بڑھتا ہے اور مال میں برکت ہوتی ہے اسی طرح قرضدار کا قرضہ معاف کردینے میں بھی وہی برکات حاصل ہوں گی جو صدقہ دینے کی برکات ہیں۔ تنگ دست قرض دار کو مہلت دے دینے اور قرضہ معاف کردینے کی احادیث شریفہ میں بڑی فضیلت آئی ہے، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ایک تاجر لوگوں سے قرضوں کا لین دین کیا کرتا تھا قرضے وصول کرنے پر جو غلام اس نے مقرر کر رکھے تھے ان سے کہتا تھا کہ جب کسی تنگ دست کے پاس پہنچو تو اس سے درگزر کردینا امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے بھی درگزر فرمائے گا۔ چناچہ موت کے بعد جب وہ بار گاہ خداوندی میں حاضر ہوا تو خداوند تعالیٰ شانہ نے اس سے درگزر فرما دیا۔ حضرت ابو قتادۃ ؓ نے بیان فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس کو اس بات کی خوشی ہو کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کی بےچینیوں سے نجات دے تو تنگدست (قرضداروں) کو مہلت دیدے یا معاف کر دے۔ (رواہ البخاری ص 279 ج 1 و مسلم ص 18 ج 2) حضرت ابو یسر ؓ نے بیان فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ جس نے کسی تنگدست کو مہلت دے دی یا قرضہ معاف کردیا تو اللہ تعالیٰ اسے (قیامت کے دن) اپنے سایہ میں رکھے گا۔ (رواہ مسلم ص 416 ج 2) قرض دینا بھی ایک طرح کا صدقہ ہے اگرچہ بعد میں وصول ہوجائے اور مہلت دینا بھی صدقہ کرنے میں شامل ہے۔ تفسیر ابن کثیر میں بحوالہ مسند احمد رسول اللہ ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے کہ جس نے کسی تنگدست کو مہلت دیدی تو اس کو روزانہ اسی قدر صدقہ دینے کا ثواب ہوگا جتنا قرض اس نے کسی کو دیا ہے یہ ثواب ادائیگی دین کا مقررہ وقت آنے سے پہلے ملتا ہے پھر مقررہ وقت آنے کے بعد مہلت دے تو روزانہ اتنے مال کا دو گنا صدقہ کرنے کا ثواب ملتا ہے جتنا اس نے قرض دیا ہے۔ (ص 131 ج 1)
Ayah 2:281

وَاتَّقُوْا یَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِیْهِ اِلَی اللّٰهِ ۫ۗ— ثُمَّ تُوَفّٰی كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ ۟۠وَاتَّقُوۡا يَوۡمًا تُرۡجَعُوۡنَ فِيۡهِ اِلَى اللّٰهِ ۖ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفۡسٍ مَّا كَسَبَتۡ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُوۡنَ Open ayah 2:281 in the Quran reader

اور ڈرو تم اس دن سے جس میں لوٹائے جاؤ گے اللہ کی طرف، پھر ہر جان کو اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا جو کچھ اس نے کسب کیا، اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔

آخر میں ارشاد ہے : (وَ اتَّقُوْا یَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِیْہِ اِلَی اللّٰہِ ) (الآیۃ) سود اور قرض سے متعلقہ احکام بیان فرمانے کے بعد قیامت کے دن کی حاضری کی طرف متوجہ فرمایا اور یوم الحساب کی حاضری کا مراقبہ کرنے کا حکم دیا جس دن ہر شخص اپنے پورے پورے اعمال کی فہرست پر مطلع ہوگا اور اپنے اپنے کیے ہوئے کا بدلہ ملے گا۔ جسے فکر آخرت ہو موت کے بعد کے حالات کا یقین ہو اور بار گاہ خداوندی میں اعمال کا حساب دینے کا استحضار ہو وہ وہاں کی نجات اور اجر وثواب کے لیے ہر طرح کے حرام مال کو بآسانی چھوڑ سکتا ہے اور اس کے لیے نفس کو راضی کرسکتا ہے۔
Ayah 2:282

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَدَایَنْتُمْ بِدَیْنٍ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی فَاكْتُبُوْهُ ؕ— وَلْیَكْتُبْ بَّیْنَكُمْ كَاتِبٌ بِالْعَدْلِ ۪— وَلَا یَاْبَ كَاتِبٌ اَنْ یَّكْتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ اللّٰهُ فَلْیَكْتُبْ ۚ— وَلْیُمْلِلِ الَّذِیْ عَلَیْهِ الْحَقُّ وَلْیَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ وَلَا یَبْخَسْ مِنْهُ شَیْـًٔا ؕ— فَاِنْ كَانَ الَّذِیْ عَلَیْهِ الْحَقُّ سَفِیْهًا اَوْ ضَعِیْفًا اَوْ لَا یَسْتَطِیْعُ اَنْ یُّمِلَّ هُوَ فَلْیُمْلِلْ وَلِیُّهٗ بِالْعَدْلِ ؕ— وَاسْتَشْهِدُوْا شَهِیْدَیْنِ مِنْ رِّجَالِكُمْ ۚ— فَاِنْ لَّمْ یَكُوْنَا رَجُلَیْنِ فَرَجُلٌ وَّامْرَاَتٰنِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَآءِ اَنْ تَضِلَّ اِحْدٰىهُمَا فَتُذَكِّرَ اِحْدٰىهُمَا الْاُخْرٰی ؕ— وَلَا یَاْبَ الشُّهَدَآءُ اِذَا مَا دُعُوْا ؕ— وَلَا تَسْـَٔمُوْۤا اَنْ تَكْتُبُوْهُ صَغِیْرًا اَوْ كَبِیْرًا اِلٰۤی اَجَلِهٖ ؕ— ذٰلِكُمْ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ وَاَقْوَمُ لِلشَّهَادَةِ وَاَدْنٰۤی اَلَّا تَرْتَابُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً حَاضِرَةً تُدِیْرُوْنَهَا بَیْنَكُمْ فَلَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَلَّا تَكْتُبُوْهَا ؕ— وَاَشْهِدُوْۤا اِذَا تَبَایَعْتُمْ ۪— وَلَا یُضَآرَّ كَاتِبٌ وَّلَا شَهِیْدٌ ؕ۬— وَاِنْ تَفْعَلُوْا فَاِنَّهٗ فُسُوْقٌ بِكُمْ ؕ— وَاتَّقُوا اللّٰهَ ؕ— وَیُعَلِّمُكُمُ اللّٰهُ ؕ— وَاللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ ۟يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا تَدَايَنۡتُمۡ بِدَيۡنٍ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكۡتُبُوۡهُ ‌ؕ وَلۡيَكۡتُب بَّيۡنَكُمۡ كَاتِبٌۢ بِالۡعَدۡلِ‌ ۚ وَلَا يَاۡبَ كَاتِبٌ اَنۡ يَّكۡتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ اللّٰهُ‌ فَلۡيَكۡتُبۡ ‌ۚوَلۡيُمۡلِلِ الَّذِىۡ عَلَيۡهِ الۡحَـقُّ وَلۡيَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ وَلَا يَبۡخَسۡ مِنۡهُ شَيۡــئًا ‌ؕ فَاِنۡ كَانَ الَّذِىۡ عَلَيۡهِ الۡحَـقُّ سَفِيۡهًا اَوۡ ضَعِيۡفًا اَوۡ لَا يَسۡتَطِيۡعُ اَنۡ يُّمِلَّ هُوَ فَلۡيُمۡلِلۡ وَلِيُّهٗ بِالۡعَدۡلِ‌ؕ وَاسۡتَشۡهِدُوۡا شَهِيۡدَيۡنِ مِنۡ رِّجَالِكُمۡ‌ۚ فَاِنۡ لَّمۡ يَكُوۡنَا رَجُلَيۡنِ فَرَجُلٌ وَّامۡرَاَتٰنِ مِمَّنۡ تَرۡضَوۡنَ مِنَ الشُّهَدَآءِ اَنۡ تَضِلَّ اِحۡدٰٮهُمَا فَتُذَكِّرَ اِحۡدٰٮهُمَا الۡاُخۡرٰى‌ؕ وَ لَا يَاۡبَ الشُّهَدَآءُ اِذَا مَا دُعُوۡا ‌ؕ وَلَا تَسۡــئَمُوۡۤا اَنۡ تَكۡتُبُوۡهُ صَغِيۡرًا اَوۡ كَبِيۡرًا اِلٰٓى اَجَلِهٖ‌ؕ ذٰ لِكُمۡ اَقۡسَطُ عِنۡدَ اللّٰهِ وَاَقۡوَمُ لِلشَّهَادَةِ وَاَدۡنٰۤى اَلَّا تَرۡتَابُوۡٓا اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ تِجَارَةً حَاضِرَةً تُدِيۡرُوۡنَهَا بَيۡنَكُمۡ فَلَيۡسَ عَلَيۡكُمۡ جُنَاحٌ اَلَّا تَكۡتُبُوۡهَا ‌ؕ وَاَشۡهِدُوۡۤا اِذَا تَبَايَعۡتُمۡ ۖ وَلَا يُضَآرَّ كَاتِبٌ وَّلَا شَهِيۡدٌ ؕ وَاِنۡ تَفۡعَلُوۡا فَاِنَّهٗ فُسُوۡقٌ ۢ بِكُمۡ ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ‌ ؕ وَيُعَلِّمُكُمُ اللّٰهُ‌ ؕ وَاللّٰهُ بِكُلِّ شَىۡءٍ عَلِيۡمٌ Open ayah 2:282 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جب تم مقررہ مدت تک ادھار لینے دینے کا معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو، اور چاہئے کہ جو شخص تمہارے درمیان لکھنے والا ہو وہ انصاف کے ساتھ لکھے، اور کوئی لکھنے والا لکھنے سے انکار نہ کرے جیسا کہ اللہ نے اسے سکھایا ہے۔ سو چاہئے کہ لکھ دیا کرے، اور جس کے اوپر حق ہے اسے چاہئے کہ لکھوا دے اور اللہ سے ڈرے جو اس کا رب ہے۔ اور اس میں سے کچھ بھی کم نہ کرے، سو اگر وہ شخص کم سمجھ ہو جس پر حق ہے یا ضعیف ہو یا املا کرانے پر قدرت نہ رکھتا ہو تو اس کا ولی انصاف کے ساتھ لکھوا دے، اور اپنے مردوں میں سے دو آدمیوں کو گواہ بنا لیا کرو، پس اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں ہوں ان گواہوں میں سے جنہیں تم پسند کرتے ہو تاکہ ان دو عورتوں میں سے اگر ایک بھٹک جائے تو ایک دوسری کو یاد دلا دے، اور نہ انکار کریں گواہ جب ان کو بلایا جائے، اور قرضے کے معاملہ میں لکھنے سے مت اکتاؤ، چھوٹا ہو یا بڑا ہو اس کی مدت مقررہ تک یہ اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف کی بات ہے اور گواہی کو زیادہ درست رکھنے والی ہے اور اس سے زیادہ قریب ہے کہ تم شک میں نہ پڑو، مگر یہ کہ کوئی تجارت ہو جس میں لینا دینا دست بدست ہو جس کا تم آپس میں معاملہ کر رہے ہو سو تم پر اس بات کا کوئی گناہ نہیں کہ لکھا پڑھی نہ کرو، اور گواہ بنا لیا کرو جب کہ تم آپس میں خریدو فروخت کا معاملہ کرو، اور نہ ضرر دیا جائے کاتب کو، اور نہ گواہ کو، اور اگر تم ایسا کرو تو بلاشبہ اس میں گناہ گاری ہے تمہارے لیے، اور اللہ سے ڈرو اللہ تمہیں سکھاتا ہے۔ اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔

مداینت اور کتابت اور شہادت کے ضروری مسائل یہ کلمات اور حروف کے اعتبار سے قرآن مجید کی سب سے بڑی آیت ہے جو متعدد احکام پر مشتمل ہے۔ شروع آیت میں فرمایا کہ جب تم آپس میں قرض کا لین دین کرو جس کی میعاد مقرر ہو تو اسے لکھ لیا کرو۔ اس سے ایک تو قرض کے لین دین کا جواز معلوم ہوا۔ دوسرے اس بات کا تاکیدی حکم معلوم ہوا کہ قرض کے لین دین کو لکھ لیا کرو۔ اس لکھنے میں قرض کی مقدار بھی آ جائیگی اور جس وقت ادا کرنا طے کیا ہو وہ وقت تحریری طور پر متعین ہوجائے گا۔ دونوں باتیں مفید ہوں گی۔ کیونکہ خدا نخواستہ آپس میں کوئی اختلاف ہوگیا تو تحریر سامنے ہوگی جس سے اختلاف رفع ہوجائے گا۔ لفظ اَجَل کے ساتھ جو مسمّیٰ بڑھایا ہے اس میں یہ بتایا کہ ادائیگی کا وقت اس طرح مقرر کریں جسے واقعی مقررہ وقت کہا جاسکے۔ مثلاً کسی مہینہ کی تاریخ مقرر کردیں، اگر یوں کہا کہ جب میرا باغ پکے گا تو دے دوں گا یا کھیت کٹے گا تو دیدوں گا یا میرا بیٹا یا باپ سفر سے آئے گا تو ادا کردوں گا تو یہ اجل مسمّیٰ نہیں ہے۔ قرض کے لین دین کے لکھنے کا تاکیدی حکم فرمایا ہے علماء کرام نے اس کو فرض یا واجب پر محمول نہیں کیا بلکہ یہ ایک مستحب عمل ہے اور استحباب مؤکد ہے تاکہ کوئی اختلاف واقع ہوجائے یا بھول چوک ہوجائے تو تحریر کے ذریعہ رفع ہو سکے۔ جہاں دین (قرض) کی لکھا پڑھی کا حکم ہوا اسی کے ساتھ ان لوگوں کو بھی پابند کیا جو لکھنا جانتے ہیں کہ انصاف کے ساتھ لکھیں، کچھ رد و بدل نہ کردیں اور یہ بھی فرمایا کہ جو لکھنا جانتا ہو وہ اللہ کی نعمت کی قدر دانی کرے اللہ نے اسے کتابت کی نعمت دی ہے اور لکھنے کے لائق بنایا ہے تو اللہ کی مخلوق کے کام آئے اور جب اس سے لکھنے کے لیے کہا جائے تو لکھ دیا کرے۔ پھر فرمایا : (وَلْیُمْلِلِ الَّذِیْ عَلَیْہِ الْحَقُّ وَلْیَتَّقِ اللّٰہَ رَبَّہٗ ) یعنی جس شخص کے ذمہ حق ہے وہ املا کرائے اور کاتب کو بتائے کہ یہ لکھ دو اور عبارت لکھوانے میں اللہ سے ڈرے، صحیح بات لکھوائے، پورا حق لکھوائے، حق واجب میں سے ذرا سی کمی بھی نہ کرے۔ تحریر کرانے میں اس کو خطاب فرمایا جس پر حق ہے کیونکہ جس پر حق ہے اس کا لکھوانا ایک قسم کا اقرار بھی ہے اور چونکہ اسی کو ادا کرنا ہے اس لیے حق واجب سے زیادہ تو لکھوا ہی نہیں سکتا۔ البتہ صاحب حق کی غفلت یا کم سمجھی یا محاورات نہ جاننے یا کاتبوں کی اصطلاحات نہ سمجھنے کے باعث اصل حق سے کم نہ لکھوا دے۔ اگر کوئی شخص ایسا ہے کہ وہ کم سمجھ اور خفیف العقل ہے یا کسی بھی اعتبار سے ضعیف ہے (جس میں کم سن نابالغ بچہ ہونا اور بہت زیادہ بوڑھا ہونا بھی شامل ہے جو کاتب تک نہیں پہنچ سکتا یا اس پر خطاء و نسیان غالب ہے) یا املاء کرانے لکھوانے پر قدرت نہیں رکھتا (مثلاً غیر ملکی ہے یا گونگا ہے یا بےپڑھا ہے۔ عبارت بنانے اور بولنے پر قدرت نہیں رکھتا یا جو عبارت دستاویز میں لکھی جاتی ہے وہ نہیں جانتا بات کے الٹ پلٹ ہونے کا اندیشہ ہے) تو اس کا ولی (جس کے ذمہ اس کے اعمال و اموال کی دیکھ بھال ہے) انصاف کے ساتھ املا کرا دے، کتابت کرانے کے حکم کے ساتھ گواہ بنا لینے کا بھی حکم فرمایا اور فرمایا کہ (وَاسْتَشْھِدُوْا شَھِیْدَیْنِ مِنْ رِّجَالِکُمْ ) جس کا مطلب ہے کہ کتابت کے ساتھ دو گواہ بھی بنا لو، دونوں گواہ مرد ہوں اگر کوئی ایسا واقعہ پیش آجائے کہ دو (2) مرد نہ ملیں تو ایک مرد اور دو عورتوں کو گواہ بنا لیں، عورتیں چونکہ حافظہ کے اعتبار سے اور ادائیگی مفہوم کے اعتبار سے کمزور ہوتی ہیں اس لیے ایک مرد کی جگہ دو عورتوں کی گواہی رکھی گئی ہے۔ اس بات کو (اَنْ تَضِلَّ اِحْدٰھُمَا فَتُذَکِّرَ اِحْدٰھُمَا الْاُخْرٰی) میں بیان فرمایا کہ ایک عورت بھٹک جائے تو دوسری عورت اسے یاد دلا دے گی۔ قانون چونکہ عمومی احوال کے اعتبار سے وضع کیا جاتا ہے اس لیے شاذ و نادر احوال اور افراد کو سامنے نہیں رکھا جاتا اس سے یہ اشکال رفع ہوگیا کہ بعض عورتیں بعض مردوں سے زیادہ فہیم ہوتی ہیں اور حافظہ میں بڑھی ہوئی ہوتی ہیں اور بات پیش کرنے کا سلیقہ زیادہ رکھتی ہیں۔ گواہ عاقل بالغ ہوں، مسلم ہوں یہ (مِنْ رِّجَالِکُمْ ) سے مفہوم ہو رہا ہے اور (مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّھَدَآءِ ) جو فرمایا اس سے واضح ہو رہا ہے کہ گواہ صالح عادل ہونے چاہئیں جن پر بھروسہ ہو اور جن پر دونوں فریق کا اعتماد ہو، اور ان میں سے کسی کے بارے میں جانب داری اور غلط بیانی کا احتمال نہ ہو۔ پھر فرمایا : (وَ لَا یَاْبَ الشُّھَدَآءُ اِذَا مَا دُعُوْا) کہ جن لوگوں کے سامنے معاملہ ہوا ہے ان کو معاملہ کی صحیح خبر ہے اب جب ضرورت کے وقت ان کو بلایا جائے کہ گواہی دے دو تو ان کا انکار کرنا جائز نہیں ہے وہ جا کر حاکم کے یہاں یا جہاں بلائے جائیں جا کر گواہی دے دیں، اگر کسی کا حق مارا جاتا ہو اور گواہ کی گواہی سے اس کا حق زندہ ہوسکتا ہو تو گواہوں پر واجب ہے کہ گواہی دیں حق جانتے ہوئے گواہی کو چھپائیں گے تو گناہ گار ہوں گے جس کا ذکر آئندہ آیت میں آ رہا ہے۔ بعض مرتبہ آپس کے اعتماد یا ہجوم اشغال کی وجہ سے کتابت کرانے میں تنگی محسوس کرتے ہیں اس کے بارے میں تنبیہ فرمائی کہ (وَ لَا تَسْءَمُوْآ اَنْ یَّکْتُبُوْہُ صَغِیْرًا اَوْ کَبِیْرًا اِلٰیٓ اَجَلِہٖ ) کہ چھوٹا قرضہ ہو یا بڑا اس کے لکھنے میں بد دلی اختیار نہ کرو، یہ لکھ لینا اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف کی چیز ہے اور ٹھیک طرح گواہی کی ادائیگی کے لیے بھی بہت زیادہ قائم رکھنے والی ہے اور اس میں ہر قسم کے شک و شبہ سے بچنے اور دور رہنے کا فائدہ ہے البتہ ایک صورت میں کتابت کرنے کی تاکید نہیں ہے جسے یوں بیان فرمایا : (اِلَّآ اَنْ تَکُوْنَ تِجَارَۃً حَاضِرَۃً تُدِیْرُوْنَھَا بَیْنَکُمْ فَلَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَلاَّ تَکْتُبُوْھَا) کہ اگر ایسی تجارت ہو جس کا لین دین نقد اسی وقت ہو رہا ہو اس کی اگر لکھا پڑھی نہ کی تو اس میں کوئی گناہ ہے۔ لفظ (لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ) سے معلوم ہوا کہ صورت مذکورہ میں نہ لکھنے کی اجازت تو ہے لیکن اگر لکھ لیا تو وہ بھی کوئی ممنوع چیز نہیں ہے جیسا کہ دور حاضر میں خریدتے وقت کیش میمو نقد کاٹ کر دے دیتے ہیں اور اس میں یہ فائدہ ہوتا ہے کہ جس کا نام کیش میمو میں لکھ دیا گیا ہو اس پر خود دکان دار جس سے خریدا ہے یا دوسرا شخص غصب کرنے یا چرانے کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔ پھر فرمایا : (وَ اَشْھِدُوْآ اِذَا تَبَایَعْتُمْ ) (اور جب تم خریدو فروخت کا معاملہ کرو تو گواہ بنا لیا کرو) گواہ بنانے میں بہت سے فائدے ہیں آپس میں کوئی اختلاف ہوجائے گا تو گواہوں کے ذریعہ رفع ہوگا۔ مثلاً فریقین کے دل میں کوئی خیانت کا جذبہ پیدا ہوجائے یا بھول کر کسی بات کا انکار کردیں مثلاً بیچنے والا کہنے لگے کہ مجھے قیمت وصول نہیں ہوئی (حالانکہ خریدار کا دعویٰ ہے کہ میں قیمت ادا کرچکا ہوں) یا بیچنے والا سرے سے بیع ہی کا انکار کر دے یا یوں کہہ دے کہ میں نے ہر عیب سے برأت کرلی تھی یا خریدار کہنے لگے کہ میں نے خریدا ہی نہیں، یا یوں کہہ دے کہ قیمت تو میں نے دے دی ہے لیکن سامان مجھے نہیں ملا، یا یوں کہنے لگے کہ میں نے اپنے لیے واپسی کا اختیار بھی رکھا تھا جسے بائع نے مان لیا تھا وغیرہ وغیرہ۔ بیع کا معاملہ کرتے وقت اور قیمت لیتے وقت اور مال دیتے وقت گواہ بنانے کی صورت میں اس طرح کے انکار اور نزاع کا دفعیہ ہو سکے گا، گواہ ہوں گے تو صحیح بات کی گواہی دے دیں گے، بھول اور خیانت سب کا دفاع ہوجائے گا۔ پھر فرمایا : (وَ لَا یُضَآرَّ کَاتِبٌ وَّ لَا شَہِیْدٌ) (کہ کسی کاتب کو اور گواہ کو نقصان نہ پہنچایا جائے) پہلے کاتب کو حکم دیا کہ انصاف کے ساتھ کتابت کر دے اور لکھنے سے انکار نہ کرے اور اللہ کی اس نعمت کی قدر کرے کہ اس نے اسے لکھنا سکھایا ہے اور گواہوں کو حکم دیا کہ گواہی کو نہ چھپائیں (جیسا کہ آئندہ آیت میں مذکور ہے) کاتب اور گواہ دونوں کو ان سے متعلقہ کام کی تاکید کے ساتھ ان لوگوں کو ہدایت فرمائی جو کاتب سے کتابت کروائیں اور جو گواہوں کی گواہی دینے کے لیے بلائیں کہ کتابت کرانے والے ایسا نہ کریں کہ کاتب کو کسی طرح کی کوئی تکلیف یا نقصان پہنچائیں اس میں یہ بھی داخل ہے کہ اگر کاتب کتابت کرنے پر اجرت مانگے تو اس کو اجرت دے دی جائے اور مفت لکھنے پر مجبور نہ کیا جائے، اسی طرح جب گواہ کو بلائیں اور اس کو آنے جانے میں زحمت ہو یا جگہ دور ہو سواری طلب کرتا ہو تو اس کے لیے سواری کا انتظام کردینا واجب ہے، اور جب وہ گواہی دے چکے تو اس کے واپس گھر پہنچانے کا بھی انتظام کردیں ایسا نہ کریں کہ اب تو ہمارا کام نکل ہی گیا ہے اب خیر وخبر کا خیال نہ کیا تو کیا حرج ہے۔ البتہ گواہی دینا چونکہ فرض ہے اس لیے اس کی اجرت لینا جائز نہیں ہے۔ جب سچی گواہی کی اجرت لینا جائز نہیں تو جھوٹی گواہی کی اجرت لینا جس کا عام رواج ہوگیا ہے کیونکر جائز ہوسکتا ہے۔ یوں تو ہر مسلمان کو ضرر پہنچانا حرام ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے : ملعون من ضارَّ مؤمنا او مکربہٖ (رواہ الترمذی) وہ شخص ملعون ہے جو کسی مومن کو ضرر پہنچائے یا اس کے ساتھ مکر کرے، کاتب اور شہید کو ضرر نہ پہنچانے کی تاکید فرمائی اور مزید تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا (وَ اِنْ تَفْعَلُوْا فَاِنَّہٗ فُسُوْقٌم بِکُمْ ) کہ اگر تم ایسا کرو گے تو یہ تمہارے گناہ گار ہونے کی بات ہے۔ آخر میں فرمایا (وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ط وَ یُعَلِّمُکُمُ اللّٰہُ ط وَاللّٰہُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ) (کہ اللہ سے ڈرو اللہ تعالیٰ کا احسان مانو، وہ تمہیں احکام کی تعلیم دیتا ہے اور وہ ہر چیز کو جانتا ہے، کوئی گناہ صغیرہ یا کبیرہ کرو گے تو اسے اس کا علم ہوگا، دنیا میں کسی کا حق مار لیا یا کسی کو ضرر پہنچایا یا تکلیف دے دی تو یہ نہ سمجھنا کہ یہیں پر ختم ہوگیا بلکہ وہ سب محفوظ ہے۔ اللہ کے علم میں ہے۔ یوم آخرت میں پیش ہونے کا یقین رکھو اور وہاں کے مؤاخذہ اور محاسبہ سے ڈرو۔
Ayahs 2:283–285

وَاِنْ كُنْتُمْ عَلٰی سَفَرٍ وَّلَمْ تَجِدُوْا كَاتِبًا فَرِهٰنٌ مَّقْبُوْضَةٌ ؕ— فَاِنْ اَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا فَلْیُؤَدِّ الَّذِی اؤْتُمِنَ اَمَانَتَهٗ وَلْیَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ ؕ— وَلَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ ؕ— وَمَنْ یَّكْتُمْهَا فَاِنَّهٗۤ اٰثِمٌ قَلْبُهٗ ؕ— وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ ۟۠وَاِنۡ كُنۡتُمۡ عَلٰى سَفَرٍ وَّلَمۡ تَجِدُوۡا كَاتِبًا فَرِهٰنٌ مَّقۡبُوۡضَةٌ ‌ ؕ فَاِنۡ اَمِنَ بَعۡضُكُمۡ بَعۡضًا فَلۡيُؤَدِّ الَّذِى اؤۡتُمِنَ اَمَانَـتَهٗ وَلۡيَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ‌ؕ وَلَا تَكۡتُمُوا الشَّهَادَةَ ‌ ؕ وَمَنۡ يَّكۡتُمۡهَا فَاِنَّهٗۤ اٰثِمٌ قَلۡبُهٗ‌ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ عَلِيۡمٌ Open ayah 2:283 in the Quran reader

اور اگر تم سفر میں ہو اور حال یہ ہو کہ نہ پاؤ کسی کاتب کو تو رہن کی چیزیں قبضہ میں دے دی جائیں۔ سو اگر تم میں سے ایک دوسرے پر اطمینان کرے تو جس کو امانت دار سمجھا گیا ہے صاحب امانت کو امانت ادا کر دے اور اللہ سے ڈرے جو اس کا رب ہے اور گواہی کو مت چھپاؤ، اور جو شخص گواہی کو چھپائے گا تو اس کا دل گناہگار ہے، اور اللہ ان کاموں کو جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔

لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ؕ— وَاِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ یُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُ ؕ— فَیَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَیُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ ؕ— وَاللّٰهُ عَلٰی كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ۟لِلّٰهِ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَمَا فِى الۡاَرۡضِ‌ؕ وَاِنۡ تُبۡدُوۡا مَا فِىۡۤ اَنۡفُسِكُمۡ اَوۡ تُخۡفُوۡهُ يُحَاسِبۡكُمۡ بِهِ اللّٰهُ‌ؕ فَيَـغۡفِرُ لِمَنۡ يَّشَآءُ وَيُعَذِّبُ مَنۡ يَّشَآءُ‌ ؕ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ Open ayah 2:284 in the Quran reader

اللہ ہی کے لیے ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور اگر تم ظاہر کرو جو کچھ تمہارے نفسوں میں ہے یا اس کو پوشیدہ رکھو اللہ اس کا محاسبہ فرمائے گا۔ پھر جس کو چاہے بخش دے اور جس کو چاہے عذاب دے، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے

اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ؕ— كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَمَلٰٓىِٕكَتِهٖ وَكُتُبِهٖ وَرُسُلِهٖ ۫— لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ ۫— وَقَالُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا ؗۗ— غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَاِلَیْكَ الْمَصِیْرُ ۟اٰمَنَ الرَّسُوۡلُ بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡهِ مِنۡ رَّبِّهٖ وَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ‌ؕ كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَمَلٰٓئِكَتِهٖ وَكُتُبِهٖ وَرُسُلِهٖ ۚ لَا نُفَرِّقُ بَيۡنَ اَحَدٍ مِّنۡ رُّسُلِهٖ‌ ۚ وَقَالُوۡا سَمِعۡنَا وَاَطَعۡنَا‌ ۖ غُفۡرَانَكَ رَبَّنَا وَاِلَيۡكَ الۡمَصِيۡرُ Open ayah 2:285 in the Quran reader

ایمان لایا رسول اس پر جو اس کی طرف نازل کیا گیا اس کے رب کی طرف سے، اور مؤمنین بھی ایمان لائے، سب ایمان لائے اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر، وہ کہتے ہیں کہ ہم اس کے پیغمبروں میں سے کسی میں تفریق نہیں کرتے اور انہوں نے کہا کہ ہم نے سن لیا اور مان لیا، ہم آپ کی بخشش کا سوال کرتے ہیں، اے ہمارے رب تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے

رہن کا حکم اور گواہی چھپانے کی مذمت اس آیت کریمہ میں اول تو رہن کا قانون مشروع فرمایا، اور فرمایا کہ تم اگر کہیں سفر میں ہو اور کوئی کاتب معاملہ لکھنے والا نہ ملے تو جس کے ذمہ قرض ہو وہ دوسرے فریق کو اطمینان دلانے کے لیے بطور رہن کے کوئی چیز دے دے جس پر وہ قبضہ کرلے اور اسے اطمینان ہوجائے کہ میرا حق واجب مارا نہیں جائے گا۔ سفر کی قید احترازی نہیں ہے اور رہن رکھنے کو بھی کوئی چیز نہیں اور اس سب کے باوجود جس کا حق ہے وہ اس شخص پر بھروسہ کرتا ہے جس کے ذمہ قرض ہے اور ادھار دے دیتا ہے تو جس پر بھروسہ کیا گیا ہے اس پر لازم ہے کہ امانت کو پوری طرح صحیح طریقہ پر مدت مقررہ کے مطابق ادا کر دے نفس یا شیطان کے سمجھانے سے حق مارنے کا ارادہ نہ کرلے اور یہ نہ سوچے کہ نہ تحریر ہے نہ گواہ ہیں نہ میں نے کوئی چیز رہن رکھی ہے اگر میں مکر ہی جاؤں تو یہ کیا کرے گا ؟ یوں تو سب کے حقوق مالیہ ادا کرنا فرض ہے لیکن جس نے اطمینان کیا اور بھروسہ کیا اس کے حق کی ادائیگی کا فکر کرنا تو اور زیادہ لازم ہے، اور شرافت کا یہ ہی تقاضا ہے۔ اگر کوئی گواہ یا تحریری سند نہ ہونے کی وجہ سے دنیا والے صاحب حق کا حق نہ دلا سکیں تو اس سے چھٹکارہ نہیں ہوسکتا۔ سامنے آخرت ہے یوم الحساب ہے اس دن سب کے حقوق ادا کرنے ہوں گے۔ قاضی روز جزا جل مجدہ حساب لے گا، اور ذرہ ذرہ کا محاسبہ ہوگا اور اموال کی جگہ اعمال صالحہ دینے ہوں گے اعمال صالحہ نہ ہوئے تو حقوق والوں کے گناہ سر ڈال دیے جائیں گے۔ دنیاوی حکام کچھ نہیں کرسکتے تو احکم الحاکمین کو تو سب کچھ معلوم ہے جب وہاں پیشی ہوگی تو چھٹکارے کا کوئی راستہ نہ ہوگا اسی کو ارشاد فرمایا (وَلْیَتَّقِ اللّٰہَ رَبَّہٗ ) کہ اللہ سے ڈرے جو اس کا رب ہے۔ پھر فرمایا : (وَ لَا تَکْتُمُوا الشَّھَادَۃَ وَ مَنْ یَّکْتُمْھَا فَاِنَّہٗٓ اٰثِمٌقَلْبُہٗ ) ” یعنی گواہی کو مت چھپاؤ اور جو شخص گواہی کو چھپائے گا تو اس کا دل گنہگار ہے۔ “ اس سے معلوم ہوا کہ گواہی کا چھپانا حرام ہے جب کسی کا کوئی حق مارا جا رہا ہو اور ایک شخص کو معلوم ہے کہ واقعی اس کا حق فلاں شخص پر ہے تو اس کے لیے حرام ہے کہ گواہی کو چھپائے۔ بشرطیکہ صاحب حق اس سے درخواست کرے کہ تم چل کر گواہی دے دو اگر وہ درخواست نہ کرے تو گواہی کے لیے جانا واجب نہیں۔ گواہی چھپانے والے کے بارے میں فرمایا کہ اس کا دل گنہگار ہے اس میں یہ بتایا کہ گواہی کے لیے نہ جانا صرف اعضاء ظاہرہ ہی کا گناہ نہیں دل کا گناہ بھی ہے۔ مسئلہ : شہادت پر اجرت لینا جائز نہیں ہے۔ البتہ گواہ آمد و رفت کا کرایہ لے سکتا ہے جیسا کہ پہلے مذکور ہوا۔ آخر میں فرمایا (وَ اللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ) کہ اللہ تعالیٰ کو تمہارے سب اعمال کی خبر ہے حق نہ دینے والا اور گواہی کو چھپانے والا اور ہر شخص اس بات کا یقین کرے کہ اللہ تعالیٰ کو سب کچھ معلوم ہے اور اس کی بارگاہ میں پیش ہونا ہے۔